بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

Anwar-e-Madina

ماہنامہ انوار مدینہ

اپریل 2019

jamiamadnijadeed

ماہنامہ انوار مدینہ <br> جلد : ٢٧ شعبان المعظم ١٤٤٠ھ / اپریل ٢٠١٩ء شمارہ : ٤ <br> سیّد محمود میاں مُدیر اعلٰی <br> سیّد مسعود میاں نائب مُدیر <br> بدلِ اشتراک <br> پاکستان فی پرچہ 25 روپے ....... سالانہ 300 روپے <br> سعودی عرب،متحدہ عرب امارات..... سالانہ 50 ریال <br> بھارت ،بنگلہ دیش ........... سالانہ 13 امریکی ڈالر <br> برطانیہ،اَفریقہ ....................... سالانہ 13 ڈالر <br> اَمریکہ ............................... سالانہ 16 ڈالر <br> جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ اور اِی میل ایڈ ریس <br> www.jamiamadniajadeed.org <br> E-mail: jmj786_56@hotmail.com <br> ترسیلِ زر و رابطہ کے لیے <br> '' جامعہ مدنیہ جدید'' محمد آباد 19 کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور <br> اکاؤنٹ نمبر انوارِ مدینہ <br> 0095402010079142 <br> مسلم کمرشل بنک کريم پارک برانچ راوي روڈ لاہور (آن لائن) <br> رابطہ نمبر : 03334249302 <br> جامعہ مدنيہ جديد : 04235399051 <br> خانقاہِ حامديہ : 04235399052 <br> موبائل : 03334249301 <br> مولاناسیّد رشید میاں صاحب طابع وناشر نے شرکت پرنٹنگ پریس لاہور سے چھپواکر دفتر ماہنامہ ''انوارِ مدینہ '' نزد جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور سے شائع کیا <br> اس شمارے میں <br> حرفِ آغاز ٤ <br> درسِ حدیث حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ٧ <br> تذکرہ سیّدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حضرت اقدس مولانا سیّد محمد میاں صاحب ١٦ <br> حضرت مولانا سیّد محمد میاں صاحب رحمہ اللہ حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ٢٤ <br> ماضی کی جھلک حضرت اقدس مولانا سیّد محمود میاں صاحب ٣٦ <br> شب ِ براء ت ...... فضائل و مسائل حضرت مولانا نعیم الدین صاحب ٥٢ <br> جامعہ مدنیہ جدید میں تقریب تکمیلِ بخاری شریف جناب مولانا محمد حسین صاحب ٥٨ <br> اخبار الجامعہ ٦١ <br> وفیات ٦٤ <br> قارئین اَنوارِمدینہ کی خدمت میں اپیل <br> ماہنامہ اَنوارِ مدینہ کے ممبر حضرات جن کو مستقل طورپر رسالہ اِرسال کیا جارہا ہے لیکن عرصہ سے اُن کے واجبات موصول نہیں ہوئے اُن کی خدمت میں گزارش ہے کہ اَنوارِ مدینہ ایک دینی رسالہ ہے جو ایک دینی اِدارہ سے وابستہ ہے اِس کا فائدہ طرفین کا فائدہ ہے اور اِس کا نقصان طرفین کا نقصان ہے اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ اس رسالہ کی سرپرستی فرماتے ہوئے اپنا چندہ بھی اِرسال فرمادیں اوردیگر اَحباب کوبھی اِس کی خریداری کی طرف متوجہ فرمائیں تاکہ جہاں اس سے اِدارہ کو فائدہ ہو وہاں آپ کے لیے بھی صدقہ جاریہ بن سکے۔(اِدارہ) <br> حرفِ آغاز <br> نَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْدُ ! <br> گذشتہ ماہ پاکستان کے سرکاری دورے پر آئے ملائیشیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے ٢٢ مارچ کو اسلام آباد میں پاکستان ملائیشیا سرمایہ کاری کانفرنس سے طویل خطاب کیا سما ٹی وی پر براہِ راست نشر ہونے والے اس بیان میں ملائیشیا کے وزیر اعظم نے فرمایا کہ : <br> ''ملائیشیا کا کوئی دشمن نہیں ہے سوائے اسرائیل کے ! ہم نے اسرائیل سے کبھی تعلقات نہیں رکھے ! ! یہ اِس لیے نہیں ہے کہ ہم یہودیوں کے خلاف ہیں بلکہ اس کی وجہ اسرائیل کے مظالم ہیں دوسروں کے ملک پر قبضہ کرنا ڈاکوؤں کا کام ہے ہم اسرائیل سے کبھی تعلقات نہیں رکھیں گے ! ! ! '' <br> ملائیشیا کے وزیر ِ اعظم نے پاکستان کے دارُالخلافہ اسلام آباد میں اسرائیل کے ساتھ ماضی حال واستقبال میں کسی بھی قسم کے تعلقات کے امکانات کی قطعی نفی کرتے ہوئے اس کی وجوہات بھی ذکر کردیں کہ وہ ایک عالمی ڈاکو اور چور ہے اور ایک طویل عرصہ سے مسلمانوں پر ظلم کر رہا ہے ! ظالم اور ڈاکو سے تعلقات توڑے جاتے ہیں جوڑے نہیں جاتے ! ! <br> پاکستان کے یہودی نواز وزیر اعظم کی موجودگی میں مہاتیر محمد کا جرأتمندانہ خطاب ایسا آئینہ ٔجہاں نماہے کہ جس نے سیاہ و سفید کی چھانٹی کردی، یہ خطاب اُس طبقہ کے منہ پر کالک ہے جو دن رات اسرائیل دوستی کا راگ الاپتے نہیں تھکتا۔ <br> مہاتیر محمد کی اسرائیل بیزار پالیسی کے تسلسل سے یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی ہے کہ ملائیشیا جوکہ اپنی آزادی کے وقت ایک غریب ملک تھا یہود نواز پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے بھی ترقی کرسکتا ہے اور اپنی محنت سے ملک میں صنعتوں کا جال بچھا کر ایک آزاد اور باوقار قوم کی حیثیت سے اپنا سکہ منواسکتا ہے پاکستان کی متقدر قوتوں کی آنکھیں بھی کھل جانی چاہئیں اور یہ جان لینا چاہیے کہ جب تک ہم اپنی سیاسی، عسکری، خارجی اور تعلیمی پالیسیاں ایک آزاد قوم کی حیثیت سے انجام نہیں دیں گے اور اپنے مذہبی اور قومی تقاضوں کو مقدم نہیں رکھیں گے تب تک نہ ترقی کر سکیں گے اور نہ ہی غربت کا خاتمہ ہوسکے گا۔ <br> افسوس کا مقام ہے کہ مہاتیر محمد کے اسرائیل سے متعلق بیان کے اس اہم حصہ کو ہمارے ملک کے یہودی وظیفوں پر پلنے والے میڈیا نے نظر انداز کرتے ہوئے مکمل طور پر حذف کرنے کی پوری کوشش کی ہے جو ملک و مذہب کے مفادات سے انحراف کے مترادف ہے۔ <br> اللہ تعالیٰ یہودو نصاریٰ کی سازشوں سے عالم ِاسلام کی حفاظت فرمائے،آمین۔ <br> ٭ <br> ١٥ مارچ کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مسجد میں جمعہ کے نمازیوں پرعیسائی دہشت گردی کے نتیجہ میں ٤٩ نمازی شہید اور٤٨ زخمی ہوئے۔ اس بدترین عالمی دہشت گردی میں پاکستان کے بھی نو باشندے شہید ہوئے اللہ تعالیٰ تمام شہداء کی مغفرت فرماکر قبولیت کے اعلیٰ درجات نصیب فرمائے ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطافرمائے اور تمام مجروحین کو شفاء ِ کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے اہلِ ادارہ بلکہ پوری قوم اُن کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں ۔ <br> ٭ <br> ٢٢ مارچ کو کراچی میں حضرت مولانا مفتی محمد تقی صاحب عثمانی مدظلہم اور اُن کے رفقاء پر دہشت گردوں نے قاتلانہ حملہ کیا اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا کو محفوظ رکھا جبکہ اُن کا محافظ شہید ہوا دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا اور تمام اہلِ حق کی حفاظت فرمائے اور اہلِ باطل کو اُن کے ناپاک عزائم میں نامراد فرمائے۔ <br> ٭ <br> مؤرخہ ٨ مارچ کو عورتوں کے حوالہ سے پاکستان کے مختلف شہروں میں حکومت کی زیر سرپرستی ''عورت ڈے'' منایا گیا جس میں گنتی کے انتہائی بے غیرت قسم کے احمدی بے دین اور ملحد عورت مرد شریک ہوئے اور ایسے شرمناک مطالبات کیے جو دین ومذہب کے خلاف اور اساسِ پاکستان کے منافی تھے اس قسم کے مظاہرے اور وہ بھی سرکاری سرپرستی میں سمجھ سے بالا ہیں اور ملک میں انتشار پھیلانے کی سازش ہے جس کی ہر ذی عقل مذمت کرتا ہے۔ <br> جامعہ مدنیہ جدید کے فوری توجہ طلب ترجیحی اُمور <br> (١) مسجد حامد کی تکمیل <br> (٢) طلباء کے لیے دارُالاقامہ (ہوسٹل) اور دَرسگاہیں <br> (٣) کتب خانہ اور کتابیں <br> (٤) پانی کی ٹنکی <br> ثواب جاریہ کے لیے سبقت لینے والوں کے لیے زیادہ اجر ہے ۔ (اِدارہ) <br> حضرت اقدس پیر و مرشد مولانا سیّد حامد میاں صاحب کا مجلسِ ذکر کے بعد درسِ حدیث ''خانقاہِ حامدیہ چشتیہ'' رائیونڈ روڈ لاہور کے زیرِانتظام ماہنامہ '' انوارِ مدینہ'' کے ذریعہ ہرماہ حضرت اقدس کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ حضرتِ اقدس کے اِس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے،آمین۔ <br> اسلامی فتوحات تین نسلوں تک جاری رہیں ۔''اِحسان ''کی دو صورتیں <br> دُعائے مغفرت کا فائدہ ۔ تمام جزئیات کا حتمی علم صرف اللہ کو ہے <br> ( تخریج و تزئین : شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب ) <br> (درس نمبر 4 کیسٹ نمبر 68 سا ئیڈB 03 - 05 - 1987 ) <br> اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ ! <br> ''اسلام ''اور'' ایمان'' میں ایک فرق یہ بھی کیا گیا ہے کہ'' اسلام'' تو نام ہے زبان سے اقرار کر لینے کا اور'' ایمان'' نام ہے اُن باتوں کا ذہن میں دل میں رچ جانے کا، اگر وہ باتیں ابھی دل میں رچی نہیں راسخ نہیں ہوئیں تو وہ آدمی ابھی'' مسلمان'' ہوا ہے'' مومن'' نہیں ہوا قرآنِ پاک میں ہے ( قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْآ اَسْلَمْنَا ) یہ دیہاتی آدمی جو آتے ہیں یہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایمان قبول کیا ہم صاحب ِایمان ہو گئے تو آپ اُنہیں یہ بتلا دیجئے کہ ابھی تم صاحب ِایمان نہیں ہوئے تمہیں یہ کہنا چاہیے کہ ہم مسلمان ہوگئے ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان نہیں داخل ہوا ہے ( وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ) تو ایمان اگر دل میں رچ جائے تو پھر مومن ہے اور اگر زبان سے کہہ رہا ہے اللہ کو ایک مان رہا ہے جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کو اللہ کا سچا رسول مان رہا ہے تو ابھی وہ ایمان کے درجہ میں نہیں پہنچا اسلام کے درجہ میں پہنچا ہے ۔ <br> مسلمان ہونے والوں کی قسمیں : <br> بعض ایسے ہیں کہ بیٹھے سوچتے ہی رہتے ہیں مطالعہ کرتے رہتے ہیں اور پھر ایمان قبول کرتے ہیں تو اُن کا یہ نہیں ہے اُن کو یہ نہیں کہا جائے گابلکہ وہ بالکل صحیح معنی میں مسلمان ہیں ! <br> اور ایک یہ ہے کہ غلبہ دیکھ کر گمان کر کے کہ یہ ضرور اللہ کے سچے رسول لگتے ہیں وہ اسلام میں داخل ہورہا ہے ، اور کوئی اس لیے بھی آتے تھے مسلمان ہونے کے لیے کہ مارے نہ جائیں اسلام میں داخل ہوجاؤ تاکہ پھر ہماری لڑائی ان سے نہ رہے ورنہ اختلاف چل رہا ہے کسی بھی وقت مقابلہ ہو سکتا ہے تو پھر نقصان ہوگا ! اور بعض اس لیے آرہے تھے اور مسلمان ہوتے تھے کہ مالِ غنیمت ہاتھ لگے ! ! <br> اسلامی فتوحات تین نسلوں تک جاری رہی ہیں : <br> کیونکہ مسلمان برابر فتوحات حاصل کرتے ہی جارہے تھے مسلمانوں کی فتوحات رُکی بھی نہیں ہیں بہت بعد تک جاری رہی ہیں تین نسلوں تک جاری رہی ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ <br> ایک دور وہ آئے گا جس میں یہ پوچھا جائے گا کہ لشکر میں کوئی صحابی ہیں ؟ ؟ <br> تو جب یہ کہا جائے گا کہ ہیں صحابی ! تو فتح حاصل ہوجائے گی ! ! <br> پھر دور آئے گا جس میں پوچھا جائے گا کہ کوئی ایسا ہے جو صحابی کو دیکھے ہوئے ہو ؟ ؟ <br> توکہا جائے گا کہ ہے ! تو بھی فتح ہوجائے گی ! ! <br> پھر ایسا دور آئے گا کہ کہا جائے گا کہ کوئی ایسا ہے آدمی کہ جس نے صحابہ کو دیکھنے والوں کو دیکھا ہو ؟ توکہاجائے گا کہ ہے ! تو بھی فتح ہوجائے گی ! ! ! <br> تو یہ تین دور تو ایسے ہیں کہ اس میں جس طرف بھی مسلمان گئے بالکل آقا ئے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم کے ارشاد کے مطابق فتح ہوتی ہی رہی ، افریقہ کی طرف گئے ہیں پرلے سرے تک پہنچ گئے اُس سے بھی اُوپر یورپ میں داخل ہوئے جبرالٹر یہ جبل الطارق وغیرہ کے راستہ تو اسپین تک پہنچ گئے یہ سب مشہور معروف ہیں تو فتوحات بکثرت ہورہی تھیں تو بعض لوگ اس خیال سے مسلمان ہوجاتے تھے کہ چلو فائدہ رہے گا اس میں ، تو اُن کو فرمایاگیا کہ ابھی یہ بات نہیں ہے ابھی تو اِس درجہ کا نام اسلام ہے اللہ کی رحمت حاصل ہوگی ضرور بقدر ِاسلام ،اللہ کا اور آپ کا معاملہ بقدرِ اسلام ہے ۔اور ایمان جس کا نام ہے وہ بڑی چیز ہے وہ اس کے دل میں آہستہ آہستہ جب راسخ ہوجائے گی پھر یہ ایمان والا یا مومن کہلا سکے گا۔ <br> ''احسان'' و '' تصوف'' : <br> یہاں آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم سے اُس آنے والے نے یہ سوال کیا فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِحْسَانْ ''احسان'' کے بارے میں مجھے بتلایئے کہ احسان کسے کہتے ہیں ؟ اب قرآنِ پاک میں بھی آیا ہے (یَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہ ) ( لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَ زِیَادَة ) ( اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ) <br> تو احسان کرنے والو اچھائی کرنے والو ، تو یہ بات تو صحابہ کرا م جانتے تھے مگر آنے والے جو صاحب تھے اُنہوں نے جو دریافت کیا وہ اور الفاظ سے دریافت کر رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ بتلائیے احسان کسے کہتے ہیں یہ بھی میں پوچھنا چاہتاہوں تو آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم نے اُس کا جواب دیا اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ خدا کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو۔ لیکن یہ تصور بہت مشکل ہے کہ اللہ کو ہم دیکھ رہے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ پاک ہے بہت زیادہ بلند و بالا ہے ہمارے تصورات سے ،اللہ تعالیٰ شکل سے منزہ ہے اور تمام خوبیوں سے متصف ہے تمام عیبوں سے پاک ہے اجمالاً تصور کیا جاسکتا ہے اور کچھ اس کو صوفیائے کرام بتلاتے ہیں سکھلاتے ہیں جیسے اَنبیائے کرام سے اُنہیں پہنچا اور اُسی کو وہ تصوف کی تعلیم کا آخری درجہ(اور سبق گردانتے ہیں ) ۔ <br> اللہ کی عنایات کی کوئی حد مقرر نہیں : <br> اور (دُوسری طرف)خداکی عنایات کا تو کوئی درجہ ہی نہیں مقرر کیا جا سکتا وہ تو چلتی رہتی ہیں عمر بھر، یہ(تصوف) تو ایسے ہے جیسے کوئی نصاب ہو، کوئی کورس پڑھا جائے اُس کی تعلیم کا آخری درجہ یہ (احسان)ہے اُس کے بعد وہ اپنے علم کو کتنا بڑھاتا ہے یا خداوندی عنایات کتنی اُس پر ہوتی ہیں یہ الگ چیز ہے۔ <br> ''احسان ''کی پہلی صورت : <br> تو سرورِکائنات علیہ الصلٰوة والسلام نے ارشاد فرمایا اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ کہ اللہ کی ایسے عبادت کرو کہ گویا تم اُسے دیکھ رہے ہو ،یہ نہیں فرمایا کہ دیکھ رہے ہو ١ حضرت مجدد صاحب کا ایک جملہ ملتا ہے اُن کے مکتوبات میں ،بڑا اچھا ہے ! وہ یہ کہ حق تعالیٰ کی ذاتِ پاک جو ہے وہ ''وَراء ُالوراء ''ہے جو بھی تصور کر لیں آپ وہ آپ کا تصور کہلا ئے گا اللہ تعالیٰ کی ذاتِ پاک کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ اس سے بھی آگے ہے پاکیزگی میں مقدس ہونے میں برتر وبالا ہونے میں جہاں تک انسان کا خیال پہنچ سکتا ہے وہ پہنچالے بس ،باقی انسان محدود، خیال محدود، طاقت محدود، معلومات محدود، وہ نہیں پہنچ سکتا، آگے عاجزی ہے اور اعتراف ہے اُس کی پاکیزگی کا جیسے <br> (سُبْحَانَ اللّٰہْ ) (سُبْحَانَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ) ( فَسُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ) <br> تصوف کی تعلیم اور تلقین یہ موجود ہے دُنیا میں اور اَنبیائے کرام علیہم الصلٰوة والسلام سے چلی ہیں اور صحیح صوفیائے کرام سے یہ چلی آرہی ہے اور آگے تک چلتی چلی جائے گی، اِنشاء اللہ۔ <br> ''احسان ''کی دُوسری صورت : <br> دُوسرا درجہ اور ہے فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہ یَرَاکَ یہ اگر خیال مشکل ہو جمانا کہ میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں کیونکہ جب یہ خیال کریں گے تو کوئی چیز خیال میں لانی پڑے گی اور جب کوئی چیز خیال میں لائیں گے تو پھر وہ یہ چیز ہو گی وہ پھرمنع ہوجائے گی اُس کی نفی کرنی پڑے گی کیونکہ (قرآنِ پاک میں ہے) ( لَیْسَ کَمِثْلِہ شَیْیٔ )اللہ تعالیٰ کی ذاتِ پاک اور اُس کی صفات جیسی کوئی چیز نہیں ہے تو اُس میں مشکل پڑے گی وہ بغیر(شیخ کامل کی) تلقین کے، بغیر مشق کے نہیں ہو سکے گا تو یہ دُوسرا خیال کرلیں آپ کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہے ہیں ۔آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم نے اِرشاد فرمایا کہ جو عبادت اس طرح ادا کی جائے کہ گویا اللہ تعالیٰ مجھ کو دیکھ رہے ہیں از اَوّل تا آخر یہ خیال رہا تو پھر وہ عبادت احسان کے ساتھ ادا ہو ئی <br> ١ بلکہ گویا کہ دیکھ رہے ہو یعنی فرض کرنا ہے کہ جیسے دیکھ رہے ہیں کیونکہ ذاتِ باری کی حقیقی رؤیت ناممکن ہے۔ محمود میاں غفرلہ <br> وہ عبادت صحیح طرح اداہوئی وہ ایمان بھی اسلام بھی معرفت بھی یعنی احسان بھی اُس میں آگیا۔ <br> قیامت کے بارے میں سوال و جواب : <br> آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم سے (وہ صاحب)پھر آگے اور سوال کرتے ہیں کہ فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ السَّاعَةِ قیامت کے بارے میں مجھے بتلائیے ! اس پر آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم نے یہ جواب دیا کہ مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْھَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ کہ جتنا تم جانتے ہو بس اُتنا ہی میں بھی جانتا ہوں جو مجھ سے سوال کر رہا ہے جتنا وہ جانتا ہے بس اُتنا ہی میں بھی جانتا ہوں اور قرآنِ پاک میں بھی ہے (اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَة اَکَادُ اُخْفِیْھَا ) قیامت آنے والی ہے میں اُس کوبالکل ہی چھپا نا چاہتا ہوں ۔ <br> قیامت کیوں آئے گی ؟ <br> آنے والی کیوں ہے ؟ ( لِتُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعٰی) تاکہ ہر آدمی کو وہ مِلے جس کے لیے وہ کرتا رہا ہے جدو جہد یا عمل کرتا رہا ہے، نیک عمل کرتا رہا ہے اگر، تو اُس کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے، کسی نے حافظ بنایا اپنی اولاد کو آگے اُس نے اپنی اولاد کو حافظ بنایا یا آگے اُس نے پڑھایا اور اُس سے سینکڑوں نے فائدہ حاصل کیا تو اب یہ اِس آدمی کا عمل بھی چل رہا ہے اِس کی اولاد کا بھی چل رہا ہے یہ نیکیاں چل رہی ہیں کب تک چلیں گی یہ نیکیاں ، جب تک قیامت نہ آجائے ۔ <br> اسی طرح برائیوں کا بھی حساب ہے کسی نے برائی ایجاد کی ایک برائی خود ایجاد کر کے کی دُوسرے اُس کے بعد دیکھنے والوں نے یا جنہیں اُس نے سکھایا ہے وہ برائی کا کھاتہ اُس کا الگ چلتا تھا جیسے کہ قرآنِ پاک میں آیا ہے کہ سب سے پہلا قتل جو ہوا ہے وہ حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں میں جو آپس میں ایک نے دُوسرے کو مارا تھا اور شہید کردیا تھا تو یہ سب سے پہلا قتل ہے اور حدیث میں ارشاد ہوتا ہے کہ اِلَّاکَانَ عَلَی ابْنِ آدَمَ الْاَوَّلِ کِفْل مِّنْ دَمِھَا جو بھی دُنیا میں ناحق قتل ہوتا ہے اُس کا ایک حصہ گناہ کا جس نے سب سے قتل پہلے کیا ہے اُس کو اِس گناہ میں حصہ پہنچ رہا ہے لِاَنَّہ اَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ ٢ <br> ١ مشکوة شریف کتاب الایمان رقم الحدیث ٢ <br> ٢ بخاری شریف کتاب الانبیاء رقم الحدیث ٣٣٣٥ <br> کیونکہ اُس نے سب سے پہلے بنیاد رکھی ہے اس کا م کی، قتل کے طریقے کی کہ دُوسرے کو مار دیا جائے تو جس نے کوئی برائی کا کام شروع کیا ہے بنیاد ڈالی ہے وہ بھی چلے گا اور گناہ میں وہ شامل رہے گا جیسے کہ نیکیوں میں ۔ <br> جو کچھ آپ آج کر رہے ہیں اب بیٹھے ہوئے سن رہے ہیں نماز پڑھی ہے جو بھی کچھ کر رہے ہیں یہ جتنا کچھ آپ کو مِل رہا ہے ثواب اتنا خود بخود سب کو مِل رہا ہے اُوپر تک اور رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کو مِل رہا ہے جو کچھ آپ کر رہے ہیں سب کا ثواب اُتنا ہی اُن کو مِل رہا ہے اور جن جن کے ذریعے جو جو تعلیم پہنچی ہے اُن کو بھی مِل رہا ہے بغیر اس کے کہ کم ہو یعنی یہ اللہ کے دینے کا ایک طریقہ ہے یہ نہیں ہے کہ یہ حساب ہے کوئی بلکہ بِلا حساب ہے، دینے کا ایک طریقہ ہے بس ! ! <br> اورگناہ کا بھی یہ ہے کہ وہ سبب بنتا ہے ایک دُوسرے کو دیکھ کر گناہ کرتے ہیں نقل کرتے ہیں سیکھتے ہیں آمادہ ہوتے ہیں تو وہ بمنزلِ اُستاذ شاگرد کے ہوتے جا رہے ہیں اُن میں بھی یہ چلے گا تو یہ کھاتے کُھلے ہوئے ہیں اگر چہ اُس کو مرے ہوئے کئی ہزار سال ہو گئے ہیں جس نے پہلا قتل کیا تھا اور اُس کے علاوہ جنہوں نے نیکیوں کی بنیادیں رکھی ہیں اُنہیں بھی ہزاروں سال ہوگئے ہیں لیکن نیکی والوں کو نیکی کا برائیوں والوں کو برائی کا(حصہ) مِل رہا ہے تو حق تعالیٰ اس سارے حساب کو جو مسجد اب بناگئے جنہوں نے یہ مسجد بنائی ہے جو پڑھ رہے ہیں نماز جب تک مسجد ہے اور مسجد قیامت تک ہے تو ثواب بھی قیامت تک رہے گا ! ! اب اس کو ختم کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ رکھ دیا ہے کہ قیامت آجائے گی سب چیزیں ختم اور سب حسابات رُک گئے پھر دوبارہ اُٹھا کر(زندہ کر کے) اُسی کے مطابق (کھاتہ)اُس کے ساتھ کر دیا جائے گا ! ! ! <br> دُعائے مغفرت کا فائدہ : <br>اور یہ بات کہ خود کچھ نہ کیا ہو یا کم کیا ہو اور اَجر بہت ملے اُسے خدا کے یہاں ، جب اُس کا حساب ہو رہا ہے قبر میں تو نیکیاں زیادہ نہیں ہیں لیکن جب اُٹھتا ہے قیامت کے دن تو بہت نیکیاں ہوتی ہیں ایسی مثالیں حدیث شریف میں آئی ہیں ۔ پوچھے گا خدا وند کریم مجھے اتنا زیادہ ثواب کہاں سے مِل گیا یعنی یہ اُس کے اَنداز سے زیادہ ہے جو اُس نے کیا تھا تو جواب یہ ہوگا کہ بِاِسْتِغْفَارِ وَلَدِکَ لَکَ ١ یہ تمہارے بچے جو تھے بیٹا جو تھا وہ تمہارے لیے استغفار کرتا رہا ہے اُس سے اتنا مِل گیا ! ! ! <br> نیکیاں بڑھانے کے طریقے : <br> ایک ہے خرچ کرنا اور اُس کا ثواب بخش دینا، نماز پڑھنا اُس کا ثواب بخش دینا، روزے نفلی رکھنا اُن کا ثوب بخش دینا اِس سے تو نیکیاں اور بھی زیادہ ہو جاتی ہیں ۔ اور ایک ہے فقط استغفار کرنا جیسے قرآنِ پاک میں طریقہ بتا دیا گیا قرآنِ پاک میں یہ دُعائیں آگئیں ( رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ )اس طرح کے اور بھی کلمات ہیں ۔ تو اولاد بھی نیکی میں زیادتی کا سبب بن جاتی ہے اِن کا اُس کے لیے دُعائے مغفرت کرنا رفع درجات کا سبب بن رہا ہے بلندی درجات کا ذریعہ بن رہا ہے۔ تو حق تعالیٰ نے اِس کھاتے کو ختم کرنے کے لیے کہ جس کی جتنی نیکی ہے وہ بھی رُک جائے اور جو برائی ہے وہ بھی رُک جائے یہ قیامت قائم فرمانی ہے اُ س کے بعد دوبارہ اُٹھیں گے تو بہت کچھ مِلے گا جو کچھ کسی نے کیا ہے ( لِتُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعٰی )ہر آدمی کو وہ جزا ملے گی جو وہ کرتا رہا اور اگر جزا سزا کے بغیررہ جائیں یوں ہی لوگ تو یہ اِنصاف سے بعید ہے ۔ ایک آدمی نے دُنیا میں مصائب بہت جھیلی ہیں اُن کا بدل وہ نہیں پا سکا تو اُن کا بدل نہ مِلنا یہ اللہ کی رحمت اور فضل سے بعید ہے۔ <br> صحابہ کرام کا مجاہدہ اور آپ کے آنسو : <br> اور اِس کی مثالیں موجود ہیں صحابہ کرام نے ایسے ہی کیا اُنہوں نے ایمان لانے کے بعد سے وفات تک بالکل بے آرامی کی زندگی گزاری اور بخوشی گزاری حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو بہت یاد کرتے تھے بڑے بڑے حضرات ،حضرت عبدالرحمن ابن عوف رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں ہیں <br> ١ سُنن ابن ماجہ باب بر الوالدین رقم الحدیث ٣٦٦٠ <br> وہ یاد کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے اُن کا پہلا زمانہ دیکھا تھا ریشمی کپڑے ہوتے تھے ریشمی بستر ہوتا تھا ریشم تھا اوڑھنا بچھونا اور مدینہ طیبہ میں جب وہ آگئے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم سے پہلے آگئے تھے تبلیغ کرتے رہے ایمان کی دعوت دیتے رہے لوگ مسلمان ہوتے چلے گئے جب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم بھی مدینہ منورہ پہنچے ہیں ہجرت فرما کر تو ایک دن اُن کو دیکھا کہ اُن کے کپڑوں میں چمڑے کا پیوند ہے ! کپڑے کا نہیں ! ! تو چمڑا ہر ایک کو ہرجگہ مِل سکتا ہے وہ راستہ میں پڑا ہوا بھی مِل جاتا ہے کسی بھی جانور کا ہو سکتا ہے اُس کا ہی کپڑے میں لگا لیا تو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم برداشت نہیں کر سکے اور مبارک آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے انہوں نے ہی پوچھا کیا وجہ ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا پہلا زمانہ جو تھا اور اب یہ دور جو ہے اِس کا موازنہ اِس کا تفاوت اور یہ کہ تم کتنی مشکلات میں اب گزر رہے ہو یہ خیال کر کے مجھے آنسو آگئے ! ! تو انہوں نے عرض کیا لیکن میں اس حالت میں زیادہ خوش ہوں ! ! یہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کو خوش کرنے کے لیے بھی کہا اور حقیقت بھی یہی تھی کہ اُس حالت کی بہ نسبت اِس حالت میں انہوں نے کہا میں زیادہ خوش ہوں اِسی حالت پر رہے کہ ایک لڑائی ہو گئی بدر کی، دُوسری لڑائی ہو گئی اُحد کی، دُوسرے سال اُحد کی لڑائی میں وہ شہید ہو ئے جب شہید ہوگئے تو اتنا کپڑا میسر نہیں تھا کہ جو پورا کفن ہوسکے سر ڈھانپتے تھے تو پاؤں کھل جاتے تھے پاؤں ڈھانپتے تھے توسر کھل جاتا تھا ! ! رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ سر تو ڈھانپ دو کپڑے سے پاؤں ڈھانپ دو گھاس سے اِس طرح سے دفن ہو ئے ١ تو اِنہوں نے کوئی دن (ظاہری)عیش و آرام والا تو پایا ہی نہیں اسلام سے لے کر شہادت کے دور تک (البتہ رُوحانی و قلبی اور ضمیر کے اطمینان کی وجہ سے خوش رہتے تھے)۔ <br> اور اب بھی اِن دو حضرات کی قبر یں وہاں نمایاں ہیں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور اُن کے برابر حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی اور باقی جو شہدائے اُحد ہیں اُن کی قبریں الگ الگ نمایاں نہیں رہیں وہ سب ایک ہیں ایک چبوترا ہے بنا ہوا بس اُس میں ایک سی زمین ہے لیکن ان دو حضرات کی قبریں اللہ کی شان ہے کہ ممتاز ہیں ابھی تک موجود ہیں اُن کی نشانیاں علامتیں ہیں ۔ <br> ١ بخاری شریف کتاب الجنائز رقم الحدیث ١٢٧٦ <br> قیامت اور تمام جزئیات کا حتمی علم صرف اللہ کے پاس ہے : <br> تو اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے یہ کہ قیامت آئے لیکن کب آئے گی ؟ یہ اُس نے نہیں بتایا ! سب کچھ بتادیا اس طرح آئے گی یہ ہوگا یہ ہوگا یہ ہوگا ایسے گزرے گی، کیفیت یہ ہوگی شکل یہ ہوگی اُس کے لیے فرشتہ الگ ہے وغیرہ وغیرہ سب بتادیا وقت نہیں بتایا کہ وقت کیا ہوگا اُس کا ! ! تو (جو صاحب سوال کرنے والے تھے ) اُنہوں نے قیامت کے متعلق پوچھا تو اُس کا آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم نے یہ جواب دیا مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْھَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ جتنا پوچھنے والا جانتا ہے اُتنا ہی میں بھی جانتا ہوں اُس سے زیادہ نہیں جان سکتا یہ خداوند کریم کی حکمت ہے کہ اُس کا علم اُس نے اپنے پاس ہی رکھا ہے البتہ ''علم بالجزئیات'' یعنی کسی کی جزئیات کا علم بذریعہ کشف ہو جانا ایسا ہوتا آیا ہے بزرگانِ دین میں لیکن تمام جزئیات کا علم کسی کو حاصل ہو قطعی طور پر یہ نہیں ہو سکتاایسا علم صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے کہ تمام مخلوقات کیڑوں سمیت جو برسات میں خود بخود پیدا ہوجاتے ہیں اور خود بخود فنا ہوجاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اُن کے لیے اس طرح کا ایک مادّہ رکھا ہے کہ اُس قسم کی آب وہوا جب آئے گی تو وہ پیدا ہوجائیں گے بے حساب ،اُن سب کا کھانا پینا رہنا سہنا جو شمار سے باہر ہے پیمانہ ہی نہیں ،عدد ہی کوئی نہیں اُس کا ،وہ سب پتہ اللہ کو ہے وہ خالق ہے اُن کا ،وہ رازِق ہے اُن کا، مُحْیِ ہے مُمِیْت ہے یہ سب چیزیں صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں ! باقی اور کوئی نہیں جان سکتا کیونکہ اور کوئی رب تو ہے بھی نہیں ! ! ہیں تو سب مخلوقات ہی ،یا رب کی طرف راہ دکھانے والے رب کے فرستادہ ہیں رب کے مقرب ہیں رب نہیں ہیں ! ! اللہ تعالیٰ کی ذات پاک جو ہے رب العالمین ہے پروردگار ہے پالنے والی ہے خالق ہے مصوِّر ہے ( لَہُ الْاَسْمائُ الْحُسْنٰی) تو اللہ تعالیٰ کی ذاتِ پاک کے ساتھ یہ خاص ہے یہ آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم نے جواب دیا اور پھر علامات آرہی ہیں کہ علامات یہ ہیں قیامت کی۔ <br> اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح عقائد پر قائم رکھے اور آخرت میں رسولِ کریم علیہ الصلٰوة والسلام کے ساتھ محشور فرمائے ،ہمارے اعمال کو شرف ِ قبو لیت عطا ء فرمائے۔ <br> وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اِختتامی دُعاء ............. <br> علمی مضامین سلسلہ نمبر١٧ ، قسط : ٤ <br> ''خانقاہِ حامدیہ''نزد جامعہ مدنیہ جدید کی جانب سے محدث ، فقیہ، مؤرخ، مجاہد فی سبیل اللہ، مؤلف کتب کثیرہ شیخ الحدیث حضرت اقدس مولانا سیّد محمد میاں صاحب رحمة اللہ علیہ کے بعض اہم مضامین جو تاحال طبع نہیں ہوسکے اُنہیں سلسلہ وار شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے جبکہ اُن کی نوع بنوع خصوصیات اِس بات کی متقاضی ہیں کہ اِفادۂ عام کی خاطر اُن کو شائع کردیا جائے، اِسی سلسلہ میں بعض وہ مضامین بھی شائع کیے جائیں گے جو بعض جرا ئد و اَخبارات میں مختلف مواقع پر شائع ہو چکے ہیں تاکہ ایک ہی لڑی میں تمام مضامین مرتب و یکجا محفوظ ہو جائیں ۔ (اِدارہ) <br> تذکرہ سیّدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ <br> مؤرخ ملت حضرت مولانا سیّد محمد میاں صاحب <br> نظر ثانی شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد حامد میاں صاحب <br> حضرت ابوبکر کس طرح خلیفہ ہوئے ؟ <br> صحابہ کرام میں سے کسی کے ذہن میں یہ بات بھی نہیں تھی کہ حضور صلی اللہ عليہ وسلم اتنی جلدی وفات پائیں گے اور ہمیں ماہی بے آب کی طرح تڑپتا چھوڑ جائیں گے اسی وجہ سے بعض حضرات کو آپ کی وفات کا یقین نہ آیا چنانچہ آپ کی وفات سے لوگوں میں اضطراب وانتشار کی لہر دوڑ گئی اور یہ سوچنے لگے اب کیا ہوگا ؟ یہود اور دشمنانِ اسلام کے یہاں شادیانے بجنے لگے اور یہ سمجھنے لگے کہ اب تو ہم مسلمانوں کو تر نوالہ کی طرح کھا کر ختم کر دیں گے۔ <br> سقیفہ ٔ بنی ساعدہ میں اجتماع : <br> اسی اضطراب وانتشار کے عالم میں مدینہ منورہ کی مشہور جگہ ''سقیفہ ٔ بنی ساعدہ'' ١ میں بعض صحابہ کا اجتماع ہوا کہ اب کیا کیا جائے ؟ <br> ١ ''سقیفہ'' جیسے حجرہ یا ڈیرہ پختونوں اور پنجاب میں بولا جاتا ہے۔ محمود میاں غفرلہ <br> ٭ کسی کا مشورہ تھا کسی انصاری کو خلیفہ بنا لیا جائے ٭ کسی کی رائے تھی کسی مہاجر کو خلیفہ بنا یا جائے <br> ٭ بعض حضرات نے یہ تجویز پیش کی ایک خلیفہ مہاجرین میں سے اور دوسرا انصار میں سے یعنی دو خلیفہ مقرر کر لیے جائیں تاکہ کسی کو شکایت کا موقع نہ رہے مگر اس مسئلہ میں مزید خلفشار کی صورت پیدا ہوگئی ! <br> جب حالات خراب ہونے لگے تو بعض صحابہ دوڑے ہوئے مسجد نبوی میں حضرت ابوبکر و حضرت عمر کے پاس پہنچے جو حضور صلی اللہ عليہ وسلم کی تجہیز و تکفین کے بندو بست میں مصروف تھے ان صحابہ نے دونوں حضرات کو بتلایا کہ <br> ''سقیفہ ٔ بنی ساعدہ میں لوگ جمع ہیں اور مسئلہ خلافت پر اختلاف بڑھتا جا رہا ہے آپ حضرات چل کر اِس قضیہ ٔ نامر ضیہ کو نمٹائیں ۔'' <br> دونوں حضرات جلدی جلدی وہاں پہنچے دیکھا تو واقعی معاملہ دگر گوں اور حالات قبضہ سے باہر ہوتے جارہے ہیں ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے جذبات دیکھے اور کھڑے ہو کر تقریر فرمائی اور فرمایا : '' اے میرے بھائی مہاجرین وانصار ! یہ نازک وقت ہے، آپس میں لڑنے جھگڑنے کا وقت نہیں '' <br> حضرت ابوبکر کی تقریر کے بعد حضرت زید بن ثابت اور حضرت بشیر بن سعد انصاری حضرات نے کھڑے ہو کر کہا کہ <br> '' حضور صلی اللہ عليہ وسلم بھی مہاجر تھے اس لیے خلیفہ بھی مہاجرین میں سے ہونا چاہیے۔'' <br> ان دونوں حضرات کے بعد دوبارہ حضرت ابوبکر کھڑے ہوئے اور فرمایا : <br> ''اس مجمع میں حضرت عمر فاروق اور حضرت ابوعبیدہ دو بزرگ صحابہ موجود ہیں ، میری خواہش ہے آپ حضرات ان دونوں میں سے کسی کو مسلمانوں کا خلیفہ مقرر کرلیں ۔'' <br> یہ سن کر حضرت عمر اور ابوعبیدہ دونوں نے قسم کھاتے ہوئے کہا کہ <br> ''آپ کے ہوتے ہوئے ہماری حیثیت کیا ہے آپ ہجرت کے سفر میں حضور صلی اللہ عليہ وسلم کے رفیق ِ سفر اور رفیق ِ غار رہے، مرض الوفات میں نبی صلی اللہ عليہ وسلم کے حکم سے مسجد ِ نبوی میں امامت فرمائی۔'' <br> اس کے بعد حضرت عمر نے آگے بڑھ کر سب سے پہلے خود حضرت صدیق کے ہاتھ پر بیعت کر کے لوگوں کی رہنمائی فرمائی ! اس کے بعد صحابہ کرام بیعت کے لیے ٹوٹ پڑے ! ! اگرچہ حضرت صدیق اخیر وقت تک یہ ذمہ داری قبول کرنے سے انکار ہی کرتے رہے ! ! ! <br> مختصر یہ کہ حضرت عمر فاروق کی فراست سے کشت و خون کا بازار گرم ہونے کا جو خطرہ پیداہوگیا تھا وہ ذراسی دیر میں ختم ہوگیا اور دشمن ہاتھ ملتے رہ گئے ! ! ! ! <br> تاریخ ِ خلافت : <br> حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت ابن عمر اور حضرت سعید بن مسیب کی روایت کے مطابق حضور صلی اللہ عليہ وسلم کی وفات کے بعد اُسی دن ١٢ ربیع الاوّل ١١ھ یوم دوشنبہ (پیر) کو ہوئی، خلافت کے وقت آپ کی عمر٦١ سال تھی۔ (تاریخ الخلفائ) <br> بیعت ِ خاصہ و عامہ دونوں ہوئیں : <br> یہ'' بیعت خاصہ'' تھی کیونکہ یہاں تمام صحابہ موجود نہ تھے جو تھے اُنہوں نے بیعت کر لی اس کے بعد مسجد ِ نبوی میں عام لوگوں نے بیعت کی اس کو ''بیعت ِ عامہ'' کہتے ہیں ۔ <br> وفات ِ رسول صلی اللہ عليہ وسلم کے بعد سب سے پہلا اختلاف : <br> اسلام میں خلافت اور خلیفۂ اسلام کی بڑی اہمیت اور اُونچا مقام ہے اسی لیے صحابہ کرام نے وفاتِ رسول صلی اللہ عليہ وسلم کے بعد سب سے پہلے اس مسئلہ پر توجہ دی تاکہ آئندہ پیش آنے والے واقعات میں رہنمائی حاصل کرتے رہیں جیسا کہ آگے بیان ہونے والے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے خلیفہ بننے کے بعد حضرت صدیق کو سب سے پہلے اس مسئلہ سے واسطہ پڑا کہ <br> حضور صلی اللہ عليہ وسلم کو کہاں دفن کیا جائے ؟ ؟ ؟ <br> ٭ بعض حضرات کہتے تھے کہ آپ کی جائے ولادت یعنی مکہ معظمہ لے جاکر دفن کیا جائے۔ <br> ٭ بعض کہتے تھے کہ مسجد نبوی میں ہی دفن کیا جائے ۔ <br> ٭ بعض حضرات کی رائے تھی کہ مدینہ منورہ کے گورستان یعنی جنت البقیع میں دفن کیا جائے۔ <br> آپ کی طرف سے رہنمائی : <br> خلیفة المومنین نے لوگوں کے سامنے انکشاف کیا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم سے خود سنا ہے کہ ''پیغمبر کی جس جگہ وفات ہوتی ہے اُسی جگہ دفن کیا جاتا ہے۔ ''(ترمذی ، ابن ماجہ) <br> خلیفة المومنین سے یہ فرمان سن کر سب اِس بات پر متفق ہوگئے کہ وفات کی جگہ پر ہی دفن کیا جائے، غور کیجئے ! ! اگر صدیقِ اکبر خلیفة المسلمین نے اس مسئلہ میں رہنمائی نہ فرمائی ہوتی تو یہی ایک مسئلہ خلفشار کا سبب بن جاتااور دنیا یہ کہتی کہ نبی کے جاں نثار اور فدا کاروں نے اپنے نبی کی آنکھ بند ہوتے ہی سب احترام ختم کردیا ! ! ! <br> '' غسل '' ا ور قدرت کی رہنمائی : <br> مدفن کا مسئلہ طے ہوجانے کے بعد سوال پیدا ہوا کہ آپ کو غسل دیا جائے یا نہ دیا جائے ؟ ٭ بعض حضرات کہتے تھے آپ تو مجسم طیب و طاہر ہیں اس لیے غسل کی ضرورت ہی نہیں ۔ <br> ٭ لیکن اکثریت غسل کے حق میں تھی ............... مگر اِس میں اختلاف تھا کہ <br> ٭ آپ کو غسل کپڑے اُتار کر دیا جائے ..... یا .... پہنے پہنے ؟ <br> یہ اختلاف چل ہی رہا تھا کہ تمام حاضرین پر غنودگی طاری ہوگئی اور تمام لوگوں کے کانوں میں ایک غیبی آواز آئی کہ '' حضور صلی اللہ عليہ وسلم کو کپڑوں سمیت غسل دیا جائے '' <br> نمازِ جنازہ اور اُس کا طریقہ و ترتیب : <br> غسل کے فیصلہ کے بعد لوگوں نے خلیفة المومنین سے سوال کیا کیا آپ کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی ؟ ؟ ؟ آپ نے فرمایا ....... <br> ہاں پڑھی جائے گی مگر امام کوئی نہ ہوگا کیونکہ جیسے زندگی میں آپ ہمارے امام تھے اسی طرح وفات کے بعد بھی آپ ہمارے امام ہیں ! ! ! <br> اس کے بعد آپ کے جسم ِ مبارک کو ایک تخت پر لٹاکر حجرہ ٔ عائشہ میں رکھ دیا گیا، سب سے پہلے حضرات ِاہلِ بیت نے ! پھر مہاجرین نے ! پھر انصار نے ! پھر عام مسلمانوں نے ! پھر عورتوں نے ! پھر بچوں نے ترتیب وار نماز ادا کی ! اس نماز میں مخصوص دعا لوگوں کو پڑھنے کے لیے بتلادی گئی تھی ! ! <br> چونکہ حجرہ ٔ عائشہ چھوٹا تھا اس لیے جتنی گنجائش تھی اُتنے لوگ اندر جا کر دعا پڑھ کر باہر آجاتے پھر دوسرے لوگ چلے جاتے۔ غرض یہ کہ یہ سب کا م خلیفة المسلمین کے حکم کے مطابق ہوتے رہے، خلیفہ مقرر ہونے کے بعد آپ کا یہ سب سے اہم کارنامہ تھا جس نے صحابہ کرام کے زخمی دلوں پر مرہم کا کام کیا۔ <br> داخلی فتنوں کی سرکوبی : <br> اگرچہ آپ کی مدتِ خلافت صرف دو سال تین ماہ نو دن ہے جو اُنگلیوں پر شمار کرتے کرتے ختم ہوجاتی ہے لیکن اس مختصر سی مدت میں داخلی اور خارجی فتنوں نے چین سے نہیں بیٹھنے دیا اور یہ آپ ہی کی ہستی تھی کہ اِن مسائل و فتن کا اُولو العزمی و مستقل مزاجی سے کامیاب مقابلہ کیا اور یہ خداداد صلاحیت و کرامت تھی۔ <br> جیش ِاُسامہ کو روک لینے کا مشورہ : <br> رسولِ خدا صلی اللہ عليہ وسلم کی وفات کے بعد ایک دم یہ خبریں آنی شروع ہوگئیں کہ قرب وجوار کے بہت سے عیسائی اور یہودی جو مسلمان ہوگئے تھے مرتد ہونے شروع ہوگئے ہیں اور یہ لوگ مدینہ پر حملہ کی تیاریاں کر رہے ہیں ، ان وحشت ناک خبروں سے متاثر ہوکر حضرت عمر، حضرت علی اور بہت سے دوسرے صحابہ حضرت ابوبکر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ابھی جیش ِ اُسامہ کو چند روز کے لیے روک لیں ، جب حالات درست ہوجائیں تب بھیج دیں کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن مدینہ خالی سمجھ کر حملہ کردیں ۔ <br> خلیفة المومنین کا جواب : <br> آپ نے جواب دیا جس لشکر کو بھیجنے کا حکم میرے آقا حضور صلی اللہ عليہ وسلم نے دیا تھا میں اُس کو ہرگز نہ روکوں گا، حضور نے اپنی وفات سے چند روز قبل حضرت اُسامہ (جن کی عمر سترہ سال تھی) کی سرگردگی میں ایک لشکر شام کی طرف حملہ کے لیے روانہ کرنے کا حکم دیا تھا مگر یہ لشکر آپ کی بیماری کی وجہ سے جُرف (چھاؤنی) میں جاکر رُک گیا تھا اتنے میں آپ کی وفات کا سانحہ پیش آگیا۔ <br> اس کے بعد امیر لشکر حضرت اُسامہ رضی اللہ عنہ کو کچھ ہدایات دے کر رُخصت کردیا، حضرت اُسامہ گھوڑے پر سوار اور خلیفة المومنین اُن کے ساتھ پیدل رخصت کرنے گئے حضرت اُسامہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے خلیفہ ٔ رسول میں سواری سے اُترجاتا ہوں آپ سوار ہوجائیں ! آپ نے فرمایا نہ میں سوار ہوں گا اور نہ تمہیں سواری سے اُترنے دوں گا ! ! خدا نے کیا چالیس دن میں یہ لشکر دشمن پر فتح حاصل کر کے واپس آگیا، اس فتح کا نتیجہ یہ ہوا کہ کفار کے حوصلے پست ہوگئے اور مسلمانوں کے خلاف تمام منصوبے خاک میں مل گئے۔ (تاریخ الخلفائ) <br> مرتدین سے جنگ : <br> تاریخ الخلفاء میں ہے حضرت اُسامہ رضی اللہ عنہ جس طرف سے گزرتے تھے جو قبیلہ اُس راستہ میں آباد مرتد ہونے کا ارادہ رکھتا تھا تو وہ خوف زدہ ہو کر کہنے لگتا، معلوم ہوتا ہے مسلمان اب بھی طاقتور ہیں ! ورنہ ایسے وقت میں تو کسی دوسرے ملک پر حملہ کی بجائے اپنے ملک کے بچاؤ کا فکر کرنا چاہیے تھا ! ! مختصر یہ ہے کہ جب یہ لشکر شام کی سرحد میں داخل ہوا تو طرفین میں مقابلہ ہوا اور مسلمان خدا کے فضل سے کامیاب رہے ! ! ! <br> حضرت عروہ کا بیان ہے کہ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ مہاجرین وانصار کے ساتھ مرتدین سے جنگ کرنے کے لیے نکلے اور نجد کے قریب پہنچ کر مرتدین کو شکست ِفاش دی، لوگوں نے آپ سے عرض کیا آپ مکان واپس تشریف لے جائیے اور لشکر پر کسی اور کو امیر بنادیجیے، جب لوگوں کا اصرار بڑھا تو آپ واپس ہوئے اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امیر مقرر فرماکر ہدایت دی کہ اگر لوگ اسلام لے آئیں (یعنی دوبارہ اسلام لے آئیں اور زکوة ادا کردیں ) تو واپس آجاؤ۔ <br> مانعین ِزکوة سے جہاد : <br> جیساکہ ابھی بیان کیا گیا کہ آپ کی وفات کے بعد بعض مسلمانوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ نبی کی وفات کے بعد زکوة دینے کی ضرورت نہیں بس نماز پڑھ لیا کریں گے۔ <br> حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے انتقال کے بعد بعض لوگ مرتد ہوگئے اور بعض کہنے لگے کہ ہم تو نماز پڑھیں گے مگر زکوة نہیں دیں گے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلیفة المومنین حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا، اے خلیفۂ رسول اللہ ! یہ وقت بڑا نازک ہے اس لیے اس وقت سختی کے بجائے نرمی سے کام لیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ بات سن کر آپ کو غصہ آگیا اور فرمایا : یَا عُمَرُ ! اَجَبَّار فِی الْجَاھِلِیَّةِ وَ خَوَّار فِی الْاِسْلَامِ ١ <br> حضرت عمرنے قسم کھاکر فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق کا شرح صدر فرمادیا تھا پھر میں نے سمجھ لیا کہ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ حق پرہیں اور آپ نے مانعین ِزکوٰة سے ایسے ہی جہاد کیا جیسے کافرسے۔ آپ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو امیر بنا کر مانعین ِ زکوة کی سرکوبی کے لیے بھیجا تو آپ نے ہدایت فرمائی جو شخص ارکانِ اسلام میں سے ایک کا بھی انکار کرے اُس سے مقابلہ کرنا اور اُن سے ایسے ہی لڑنا جیسے تمام (پانچوں ) ارکان کے منکر سے لڑا جاتا ہے۔ <br> حضرت خالد رضی اللہ عنہ کا بنی اسد اور قبیلۂ غطفان سے مقابلہ ہوا جس میں بہت سے مرتدین قتل ہوئے بہت سے گرفتار کر لیے گئے باقی دوبارہ تائب ہوکر اسلام میں واپس آگئے۔ <br> اسی طرح عرب کا ایک مشہور قبیلہ بنو تمیم تھا جس نے زکوة دینے سے انکار کردیا تو خلیفة المومنین نے اس کی سرکوبی کے لیے بھی حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو بھیجا جب ان لوگوں کو حضرت خالد کی آمد کا معلوم ہوا تو بڑے گھبرائے اور باطل خیال سے توبہ کر کے اسلام میں واپس آگئے کچھ لوگ اپنی بات پر جمے رہے وہ مقابلہ میں مارے گئے۔ <br> جھوٹے نبیوں کا فتنہ اور اُن کی سرکوبی : <br> ابھی آپ مرتدین اور مانعینِ زکوة کی سرکوبی میں مصروف تھے کہ مدعیانِ نبوت کا فتنہ کھڑا ہوگیا چنانچہ طلیحہ یہ بنی اسد قبیلہ کا سردار تھا یہ شخص اپنے آپ کو نبی کہتا تھا اور اِس نے بڑا فتنہ پیدا کر رکھا تھا حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کی سرکوبی کے لیے حضرت خالد بن ولید کو بھیجا، ان کے مقابلہ میں شکست کھا کر اِدھر اُدھر جان بچانے کے لیے بھاگتا پھرا آخر تنگ آکر مدینہ پہنچا اور اسلام قبول کر لیا۔ <br> ١ اے عمر افسوس ! زمانہ ٔ جاہلیت میں تو تم اتنے سخت تھے اور اسلام لانے کے بعد اتنے نرم اور پست ہمت ہوگئے <br> مسیلمہ کذاب : <br> یمامہ کے علاقہ میں اِس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اس کے ساتھ چالیس ہزار معتقدین کی فوج تھی، حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے طلیحہ کو شکست دینے کے بعد اِس سے جنگ لڑی اور بڑی سخت جنگ ہوئی، آخر بھاگ کر ایک باغ میں گھس کر دروازہ بند کر کے بیٹھ گیا، حضرت انس بن مالک کے بھائی حضرت براء بن مالک حضرت خالد کے لشکر میں تھے اِنہوں نے بڑھ کر اپنے ساتھیوں سے کہا مجھے کسی طرح اُٹھا کر باغ کی دیوار تک پہنچا دو ساتھیوں نے سہارا دے کر دیوار تک پہنچادیا، مسیلمہ علیہ اللعنة کے فوجی تیر برساتے رہے، حضرت برائ تیروں کی بارش میں اندر کود پڑے اور جاکر دروازہ کھول دیا ! دروازہ کھلتے ہی اسلامی فوج اندر داخل ہوگئی ! ! مسیلمہ کی فوج کے پاؤں اُکھڑگئے ! ! ! فوج کے پاؤں اُکھڑتے دیکھ کر مسیلمہ گھبرا گیا اور جان بچانے کے لیے اِدھر اُدھر بھاگنے لگا اتنے میں وحشی ١ نے موقع پاکر ایسا بھرپور حملہ کیا کہ مسیلمہ نیچے گرا اور تڑپ تڑپ کر وہیں ختم ہوکر جہنم واصل ہوا، اُس وقت اِس کی عمر ڈیڑھ سو سال تھی۔ (تاریخ الخلفائ) <br> سجاح : <br> یہ ایک عورت تھی ! مسیلمہ کذاب کے زمانہ میں اِس نے نبوت کا دعوی کیا اور کہتی تھی میں نبیہ ہوں ! ! مسیلمہ کو فکر ہوا کہ یہ میری نبوت میں رخنہ پیدا کرنے آگئی اس نے بڑی چالاکی سے اس سے نکاح کر کے اس کے دم خم ختم کردیے ! ! ! (جاری ہے) <br> ١ انہوں نے ہی غزوۂ اُحد میں حضرت حمزہ کو شہید کیا تھا لیکن پھر بعد میں مسلمان ہوگئے تھے۔ <br> قسط : ٢ <br> حضرت مولانا سیّد محمد میاں صاحب رحمہ اللہ <br> ( شیخ الحدیث حضرت مولانا سےّد حامد میاں صاحب ) <br> نظر ثانی و عنوانات : حضرت مولانا سےّد محمود میاں صاحب <br> زیر نظر مفصل مضمون حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب رحمة اللہ علیہ کا ہے جو آپ نے اپنے والد ماجد مؤرخ ملت حضرت مولانا سیّد محمد میاں صاحب رحمة اللہ علیہ کی حیات و خدمات پر ١٣٩٦ھ سے قبل لکھا تھا اسے ہندوستان میں ١٦دسمبر ٢٠١٨ء کو حضرت سیّد الملت پر منعقد ہونے والے سمینار کے لیے پیش کیا گیا تھا ،قارئین کرام ملاحظہ فرمائیں ۔(ادارہ) <br> قید وبند : <br> ١٩٣٤ء میں جیل جانا ہوا ،رہائی کے بعد مراد آباد میں کرایہ پر مکان لیا اور سب اہلِ خانہ کو محترم دادا جان اور دادی صاحبہ سمیت دیوبند سے بُلا لیا ۔میں نے دیوبند میں جناب مولانا قاری اصغر علی صاحب رحمةاللہ علیہ سے الف با کا قاعدہ شروع کیا تھا ،مراد آباد آنے پر قرآنِ کریم شروع کیا۔ <br> والد صاحب رحمة اللہ علیہ کا حافظہ بہت قوی تھا، غیر متعلق کتابیں بھی یاد تھیں ،میں نے ان سے صرف ایک کتاب پڑھی ہے ''مقامات حریری ''ورنہ ادب کی تعلیم حضرت مولانا عبدالحق صاحب مدنی ١ رحمة اللہ علیہ سے حاصل کی ہے لیکن اگر میں والد صاحب سے مقامات نہ پڑھتا تو لغت میں دقتِ نظر جو ہمارے ہندوپاک کا خصوصی حصہ چلا آرہا ہے نہ پیداہوتی۔ <br> ١ حضرت والد ماجد کی پہلی اہلیہ صاحبہ کے والد محترم ہیں اس اعتبار سے حضرت والد صاحب کے خسر ہوئے جبکہ آپکی اہلیہ محترمہ حضرت والد صاحب کی خوشدامن ہوئیں جوحضرت شیخ الہندمولانا محمود حسن صاحب کی سگی بھتیجی تھیں ان کے والد ماجد کا اسم گرامی حامد حسن تھا آپ حضرت شیخ الہند سے عمر میں چھوٹے تھے۔ محمود میاں غفرلہ <br> ''مقامات ''پر والدصاحب کی تعلیقات ہیں جو بیشتر فِقْہُ اللُّغَةِ لِلثَّعَالِبِیْ سے لی گئی ہیں لیکن یہ سب ان کواتنی یاد تھیں کہ مطالعہ کے لیے صرف ایک نظر ڈالاکرتے تھے اور اثناء درس تمام تفاصیل دُہرا دیا کرتے تھے جو اَزبر تھیں اسی طرح اور بھی درسی کتب پر تعلیقات ہیں جو انہوں نے پڑھائی ہیں ، ان کے علاوہ کافی کافی ضخیم نوٹ بکیں علیحدہ ہیں ،یہ سارا علمی ذخیرہ غیر مطبوعہ ہے ۔ <br> دوپہر کے وقت گھر جانے کے بجائے جو محلہ مغل پورہ مراد آباد میں تھا مدرسہ ہی میں وقت گزارتے اور افتا ء کا کام انجام دیتے ۔میں گھر سے کھانا لے آتا تھا ،کھانے کا وقت بھی ڈبل کاموں میں صرف فرماتے تھے کہ ظہر کے بعد کے اسباق کا مطالعہ ساتھ ساتھ فرماتے انہیں شام کے سبق پڑھانے کے لیے اتنا مطالعہ کافی ہوتاتھا اور صبح کے وقت کے اسباق کا مطالعہ نماز فجر کے بعد تلاوت و ذکر بارہ تسبیح سے فراغت کے بعد چائے پیتے وقت فرماتے تھے ۔ <br> میں نے والد صاحب رحمة اللہ علیہ سے کبھی کبھی مختلف کتابوں کے مقامات بھی حل کیے ہیں جنہیں وہ بلا مطالعہ ہی زبانی حل کرادیتے تھے اوروہ اُستاذِ کتاب سے بہتر طرح حل ہوتاتھا ۔ <br> میں نے بھی تقریباً تمام ہی کتابیں جامعہ قاسمیہ مراد آباد میں پڑھی ہیں شمس بازغہ ،شرح چغمینی، شرح عقائد دوّانی، توضیح و تلویح حضرت مولانا عجب نورصاحب رحمة اللہ علیہ ١ سے پڑھنے کا موقع ملا البتہ آخری دو سال سے کچھ زیادہ دارُالعلوم دیوبند میں پڑھتا رہاہوں ۔ <br> جیل خانے یا عبادت گاہیں ،ان حضرات کے مشاغل کی ایک جھلک : <br> ١٩٢٨ء سے١٩٤٤ء تک والدماجد رحمة اللہ علیہ چار مرتبہ مراد آباد سے اور ایک مرتبہ دہلی سے گرفتار ہوئے بامشقت سزا بھی دی گئی ! ! جیل ہی میں حفظ قرآن پاک شروع کیا سولہ پارے متعدد جیلوں میں یاد کیے ! ! ! <br> ١ حضرت مولانا عجب نور صاحب بن مولانا صلاح الدین صاحب ١٨٨٧ء میں بوزہ خیل سوارنی بنوں میں پیدا ہوئے ،٩ مارچ ١٩٦٦ء میں بوزہ خیل بنوں میں وفات پائی ۔ محمود میاں غفرلہ <br> ٨اگست ١٩٤٤ء کو وہ تحریک شروع ہوئی جس کا نام ''کوئیٹ انڈیا '' ''ہندوستان چھوڑ دو'' والی تحریک مشہور ہوا حسنِ اتفاق کہ اس میں گرفتار شدگان اکابر سب ہی مرادآباد جیل میں جمع ہو گئے ۔ <br> حضرت اقدس مولانا مدنی رحمة اللہ علیہ حسن پور ضلع مراد آباد میں ایک تقریر کی وجہ سے پہلے ہی گرفتار کر لیے گئے تھے والد صاحب اس وقت باہر تھے اس دوران حضرت مدنی کے جو گرامی نامے والد صاحب رحمة اللہ علیہ کے نام صادر ہوتے رہے وہ'' گورنر'' یا'' صوبہ دار'' کے عنوان سے معنون ١ آتے رہے جیسے کہ مکتوباتِ شیخ الاسلام کے مطالعہ سے معلوم ہوگا۔ <br> حضرت اقدس مولانا حسین احمد مدنی ،مولانا حفظ الرحمن صاحب ،مولانا محمد اسمٰعیل صاحب سنبھلی (جو اِس قید کے بعد حضرت مدنی کی خلافت سے مشرف ہوئے) حضرت مولانا الحافظ القاری المقری محمد عبداللہ صاحب تھانوی ٢ اور حافظ محمد ابراہیم صاحب سب ہی اسی جیل میں تھے ،چند روز بعد رمضان شریف آگیا تو جیل خانہ کی پارک تراویح گاہ بن گئی ! ! <br> ١ یعنی گورنر یا صوبہ دار کے نام سے آتے رہے ۔ محمود میاں غفرلہ <br> ٢ آپ کاوطن تھانہ بھون تھا نیکی پارسائی ،علمی او ر سیاسی بصیرت انتہا درجہ کی خدانے بخشی تھی حضرت اقدس مولاناتھانوی قدس سرہ نے اپنے فتاوٰی میں مسئلہ ''ضاد'' پر اشکالات کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے حتی کہ عزیزی قاری عبداللہ آئے ........... پھر اُن سے گفتگو کے بعد رفع اشکالات کا ذکر فرمایاتھا۔ حضرت مولانا مفتی محمود صاحب نے قرأتِ عشرہ اِن ہی سے پڑھی ہیں ، جولائی ١٩٤٤ء میں جیل سے آنے کے بعد وفات پائی آپ کی وفات کے عرصہ بعد قبر بیٹھ گئی جسم مبارک سالم نکلا ،آپ کی ذات بہت چھوٹی تھی لیکن میں سوچتا ہوں کہ اپنے آپ کو سیّد صدیقی فاروقی اور عثمانی وغیرہ کہلا کر خوش ہوجانے والے حضرات کو عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ کل قیامت کے دن جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے قریب وہ ہوں گے یا آپ کا وہ اُمتی ہوگا جو عمل ورع او ر تقویٰ او ر اتباعِ سنت سے مزین رہا ہو چاہے وہ حضرت قاری صاحب ہوں یا مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب ہوں رحمہا اللہ ورفع درجاتہا۔آمین۔ <br> (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر) <br> شیخ الاسلام رحمة اللہ علیہ تراویح پڑھاتے تھے او ر مولانا حافظ قاری عبداللہ صاحب سماعت کیا کرتے تھے ! ! ! رحمہم اللّٰہ رحمة واسعة۔ <br> اکتوبر میں والد صاحب رحمة اللہ علیہ بھی(گرفتار ہوکر) ان میں شامل ہوگئے تھے وہاں شیخ الاسلام سے درسِ قرآن پاک کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا مگر یہ درس ایک ہفتہ ہونے پایا تھا ١ کہ حضرت شیخ الاسلام قدس سرہ العزیز کو مراد آباد سے نینی جیل (الٰہ آباد) منتقل کردیا گیا،یہ حضرات جن کے لیے یہ جیل خانہ ایک عبادت گاہ اور درس گاہ بن گئی تھی حضرت اقدس کی مفارقت پر تڑپتے رہ گئے۔ <br> کچھ عرصہ بعد والد صاحب اور حضرت مولانا حفظ الرحمن صاحب کوبھی بریلی سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا او ر دوسرے بقیہ حضرات کوبھی مختلف مقامات پر۔ والد صاحب جیل ہی میں تھے کہ دادا جان رحمة اللہ علیہ کی وفات ہوئی،داداجان رحمة اللہ علیہ کوتنفس(دمہ) کا عارضہ تھا ۔ ١٩٣٤ء کے بعد ایک دفعہ جب والد صاحب رحمة اللہ علیہ اسیر تھے ایک دن میں کچھ اشعار پڑھ رہا تھا دادا جان مرحوم پر اِن کا بہت اثر ہوا ! ! اب مجھے اس نظم کے صرف تین مصرعے یاد ہیں یہ نظم مخمس کے طرزپر تھی ۔ <br> بلبلِ بے خانما اب تو چمن سے دور ہے گردشِ تقدیر سے لاچار ہے مجبور ہے <br> اس کا چھٹا مصرعہ یہ تھا : <br> کیوں میرا نورِ نظر آنکھوں سے میری دُور ہے <br> (بقیہ حاشیہ ص ٢٦ ) حضرت مولانا مفتی محمود صاحب مدظلہم ایک بار اس بات پر اظہارِ افسوس فرمارہے تھے کہ فتاوٰی کے نئے ایڈیشن میں حضرت اقدس تھانوی قدس سرہ العزیز کی اس تمہیدی عبارت کو حذف کرد یا گیا ہے جس میں حضرت مولانا عبداللہ صاحب کا ذکر حضرت نے فرمایا تھا، حضرت مفتی صاحب حضرت قاری صاحب کے حالات پر عجب انداز میں روشنی ڈالتے ہیں ! کیا اچھا ہو کہ وہ حالات ضبط ِتحریر میں آجائیں ! ! ! <br> ١ والد ماجد نور اللہ مرقدہ نے یہ دروس تحریر فرمائے تھے جو کتابی شکل میں شائع ہو چکے ہیں اس کا نام ہم نے ''مجالس ِسبعہ'' رکھا ہے کیونکہ سات ہی مجلسیں ہونے پائی تھیں یہاں اس کا فوٹو لے کر طبع کرادی ہے۔حامد میاں غفرلہ <br> اُس زمانے میں متعدد بار ایسا ہوا کہ دادا جان رحمة اللہ علیہ یہ نظم رات کو مجھ سے سنتے اور ہر دفعہ اُن پر اس کاشدید اثر ہوتا لیکن وہ نہایت متحمل مزاج اور صابر تھے کبھی اثر بھی ظاہر نہیں ہوتا تھا حتی کہ والد صاحب سے بھی ان کے جیل آنے یاجانے پر کسی قسم کی بیتابی وغیرہ کا کبھی اظہار نہیں ہوا نہ کبھی انہیں سیاست سے روکا۔ <br> جب ١٩٤٤ء میں والد صاحب جیل میں گئے تو دادا جان رحمہ اللہ کی علالت بڑھی حتی کہ آپ نے وفات پائی ہماری رہائش محلہ مغلپورہ میں تھی،مغل خاندان کے حضرات ان کا بزرگوں کی طرح اکرام کرتے رہے او ر ہم سے رشتہ داروں کی طرح ملتے رہے ان ہی حضرات کی ایک مسجد ہے اس کے گرد اُن کے خاندان کے لوگ مدفون ہیں ان ہی میں صحنِ مسجد کے مشرقی حصہ سے متصل ان کی قبر مبارک ہے مکتوبات شیخ الاسلام جلد چہارم میں مکتوب نمبر١٠٠ میں ان کی وفات پر تعزیت فرمائی گئی ہے یہ واقعہ ربیع الاوّل ١٣٦٣ھ جون یا جولائی ١٩٤٤ء کا ہے ۔ <br> ٢٦اگست ١٩٤٤ء ٦رمضان ١٣٦٣ ھ کو حضرت شیخ الاسلام قدس سرہ کی رہائی ہوئی، فوری آرڈر دیا گیا کہ وہ نینی جیل سے باہر تشریف لے جائیں ،انگریز کی طاقت بھی جنگ کے اثرات سے مضمحل ہو گئی تھی وہ ہندوستان سے اپنی گرفت ڈھیلی کرنا چاہتا تھا۔ <br> جمعیة علمائِ ہند کی نظامت : <br> سہارنپور میں جمعیة علماء ہند کا اجلاس ١١جمادی الاوّل ١٣٦٤ھ ٤مئی تا ٧مئی ١٩٤٥ء کو رکھا گیا جس میں مولانا حفظ الرحمن صاحب کو ''ناظم اعلیٰ ''اور والد صاحب کو'' ناظم جمعیة علماء ہند'' چنا گیا۔ مولانا حفظ الرحمن صاحب نے عہدہ قبول کرنے کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ والد صاحب ناظم بنیں اور حضرت اقدس مدنی رحمة اللہ علیہ کا ایسا حکم والد صاحب کے لیے دُوسری بار تھا نظامت کے فرائض بہت تھے اس لیے رفتہ رفتہ مراد آباد کو خیر باد کہنا پڑا۔ <br> ١٩٤٧ء کے بعد حالات اور خدمات : <br> ١٩٤٨ء میں کرایہ پر مکان لے کر ا ہلِ خانہ کو مرادآباد سے دہلی بلا لیا اور مستقل طورپر دہلی رہنے لگے ،درس و تدریس کا مشغلہ چھوڑناپڑا ۔ <br> لیکن اس وقت ملک میں مسلمانوں کی حالت ناگفتنی تھی مشرقی پنجاب اور ہماچل میں مسلمان ہند وانہ وضع یا سکھوں کی وضع اختیار کرکے زندگی گزار رہے تھے جہاں تباہ شدہ مسلمانوں کی تعداد ایک فی ہزار رہ گئی تھی ۔ <br> جمعیة علمائِ ہند کے حضرات نے وہاں دورے کیے ،حوصلے دلائے شبینہ مکاتب (نائٹ کلاسیں ) شروع کیے مسلمان جو چھپے ہوئے تھے برآمد ہونے لگے ۔ <br> اس کے لیے والد ماجد رحمة اللہ علیہ نے آٹھویں جماعت تک دینیات کا بارہ رسائل پر مشتمل ایک نصاب تحریر فرمایااس کے لیے معاون تعلیمی چارٹ بھی بنوائے ،میں نے دیکھا ہے کہ وہ یہ رسائل باوضو تحریر فرمایا کرتے تھے،رسائل دینیہ کا یہ نصاب ہندوستان بھر میں مقبول ہوا ۔ <br> ازہر شاہ صاحب قیصر مدظلہم ابن حضرت مولانا انور شاہ صاحب رحمة اللہ علیہ رسالہ ''دارالعلوم''کے ایک تعزیتی نوٹ میں جو اُنہوں نے دسمبر١٩٧٥ء کے پرچہ میں لکھا تھا تحریر فرماتے ہیں : <br> ''جمعیة کی سیاسی خدمات سے دنیا کو متعارف کرانے والے مولانا موصوف ہی تھے، دسیوں کتابیں آپ نے لکھیں اور بڑی محنت و جانفشانی سے لکھیں ،سیاسی علماء پر مولانا کے جواحسانا ت ہیں وہ بُھلا ئے نہیں جاسکتے ۔مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن صاحب رحمہم اللہ کے دورِ نظامت میں آپ نے ''دینی تعلیم کا رسالہ'' سات حصوں میں چھوٹے بچوں کے لیے لکھا اور اسے اپنے اہتمام میں عمدہ کتابت و طباعت سے شائع کرایا اور بحیثیت مصنف اس پر اپنا نام درج نہیں کیا ،یہ مولانا کے اخلاص کا نتیجہ تھا کہ دینی تعلیم کا رسالہ پورے ملک میں بہت مقبول ہوا ! ! <br> اس سے پہلے آپ نے بچوں کے لیے ''تاریخ الا سلام'' نام کا رسالہ تین حصوں میں لکھا تھا ،کہا جا سکتا ہے کہ آج کوئی بچے والا گھراِن رسالوں سے خالی نہیں ! ! ! میرا اندازہ ہے کہ چھوٹی بڑی کوئی پچاس کتابوں کے آپ مصنف ہیں ''۔ ١ <br> یہ رسالے اور ان کے معاون عمد ہ چارٹ ایک نہایت عمدہ تعلیمی سیٹ ہے اور اب یہ رسالے گیارہ حصوں میں ہیں ۔بچوں کے لیے ابتداء سے آٹھویں جماعت تک کے لیے ان میں آداب واخلاق، عقائد وعبادات اور ضروری مسائل سب دلچسپ پیرایہ میں ہیں ۔ <br> ٭ ''علمائِ حق اور اُن کے مجاہدانہ کارنامے''دو حصوں میں ہیں : <br> پہلے حصے میں ١٨٥٧ء سے حضرت شیخ الہند قدس اللہ سرہ العزیز کے دور تک کے حالات ہیں ۔ <br> دوسرا حصہ زیادہ ضخیم ہے اس میں ان علماء کے حالات ہیں جنہوں نے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں یا اُن کے معاون رہے ،یہ کتاب اسی نقطۂ نظر سے شاندا رماضی کی طرح لکھی گئی ہے اس میں ١٩٤٧ء تک کے حالات ہیں ۔ <br> ٭ ''جمعیة علمائِ ہند کیا ہے ؟ '' اور <br> ٭ ''مختصر تذکرہ خدماتِ جمعیة علماء ہند ''دوحصوں میں تحریر فرمائیں ، یہ بھی اسی طرح کی کتابیں ہیں ۔ <br> ١٩٤٧ ء کے بعد ایک طرف تو یہ تھا کہ(خوف زدہ چھپے ہوئے) مسلمانوں کو برآمدکیا جائے دوسری طرف ان کی تصانیف سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی نظر اس چیز پرمنعطف ہو کر رہ گئی تھی کہ مسلمانوں کو اسلام پر کیسے قائم رکھا جائے ۔ <br> آخر عمر میں آپ نے پھر پڑھانا بھی شروع کر دیا تھامدرسہ امینیہ میں شیخ الحدیث و صدرمفتی کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ اپنے نقطۂ نظر سے بلند پایہ محققانہ تصانیف کا کام انجام دیتے رہے۔ <br> ١ ویسے درحقیقت تقریباً اسّی کتابیں لکھی ہیں ۔ حامد میاں غفرلہ <br> مجھ سے ایک مرتبہ گفتگو فرمارہے تھے تو یہ جملہ ارشاد فرمایا کہ <br> ''مجھے دوبار ہند و مسلم لیڈروں نے متفقہ طورپر بلا مقابلہ ممبرمنتخب ہو جانے کی پیشکش کی لیکن میں نے اسے پسند نہیں کیا ۔'' <br> میں نے عرض کیا کہ ضرور قبول کر لینی چاہیے تھی بہت سے کام ہو سکتے تھے۔ <br> اس پر ذرا خفگی سے جواب دیا کہ ''تم بھی ایسی باتیں کرتے ہو ! ! ! '' <br> مطلب یہی تھا کہ ان کا ذہن اس طرف رواں تھا کہ ایسی تحریرات سامنے آنی چاہئیں جو مسلمانوں کی بقاء اور ترویجِ اسلام کا ذریعہ بنیں او رممبر ہونے کے بعد آدمی اور کاموں میں پھنس جاتاہے۔ سیّد محبوب صاحب رضوی لکھتے ہیں : <br> ''مولانا سیّد محمد میاں علم وعمل کا پیکر اور مشہور عالم ہیں بہار اور پھر مراد آباد میں عرصہ تک درس وتدریس کا مشغلہ رہا ۔پھر مرکزی جمعیة علماء ہند کی نظامت کے فرائض انجام دیتے رہے ۔ <br> علماء کی سیاسی خدمات سے عوام کو روشناس کرانے میں آپ نے زبردست تصنیفی کارنامہ انجام دیاہے۔ <br> ٭ جمعیة علماء کی سیاسی تاریخ اور اس کے ریکارڈکے آپ تنہامصنف ہیں ۔ <br> ٭ تاریخ اسلام ٭ علمائِ ہند کا شاندار ماضی ٭ علمائِ حق کے مجاہدانہ کارنامے وغیرہ کتابیں ان کی گراں قدر تصانیف ہیں ۔ <br> ٭ جمعیة علمائِ ہند کا تعلیمی نصاب بھی آپ ہی کے قلم کا رہین ِمنت ہے ۔ <br> ٭ بچوں کے لیے نصابی کتابیں ان کی نفسیات کے مطابق لکھنے کااُن کو خاص ملکہ ہے ان کی تصانیف کو قبولِ عام حاصل ہے۔ <br> اس وقت مدرسہ امینیہ کے شیخ الحدیث اور ادارۂ مباحث فقہیہ کے معتمد ہیں ۔'' ١ <br> ١ سیّد محبوب رضوی تذکرہ سادات رضویہ دیوبند ١٩٧٤ء ص٢١ <br> ١٩٤٧ء کے بعد پیش آنے والے حالات کے ضمن میں : <br> ایک جگہ والد صاحب رحمة اللہ علیہ نے تحریر فرمایا ہے : <br> '' ١٥اگست ١٩٤٧ ء کے بعد فرقہ واریت کے وہ ہنگامے شروع ہو گئے جوآج تک ختم نہیں ہوئے ان کی داستان طویل بھی ہے اور درد ناک بھی ،ان ہنگاموں نے خدمات کا ایک نیاباب قائم کیاجس کا عنوان''ریلیف '' ١ ہے یعنی کُشتگانِ ستم ٢ کو دفنانا ،مجروحوں کے جسم پر دواکی پٹیاں باندھنا اور زخمی دلوں پر تسکین اور دلداری کا مرہم لگانا ،اُجڑے ہُووں کو بسانا ۔'' <br> جدید دفترجمعیة علماء ہند : <br> آپ نے متعدد مساجدواگزار کرائی تھیں جن میں ایک مسجد'' عبدالنبی'' تھی جو نئی دہلی میں ہے اس سے ملحق کافی جگہ تھی وہاں آپ کی خواہش تھی کہ جمعیة علمائِ ہند کا مرکزی دفتر بنائیں جواَب بحمداللہ بن گیا ہے۔ <br> ایک شاہی دور کی وسیع مسجد جو تقریباً مسجد فتح پوری کے برابر ہوگی سنگِ سرخ کی بنی ہوئی ہے لب ِدریائے جمنا ہے اس کا نام غالباً حسنِ منظری کے باعث ''گھٹا مسجد'' پڑا ہے انہیں بہت پسند تھی اس کے گرد مکانات بنے ہوئے تھے جن پر'' شرنارتھیوں '' ٣ کا قبضہ تھا وہ مسجد بھی واگزار کرائی وہاں ایک سہ ماہی تربیتی کورس فضلا ء مدارس کے لیے شروع کیا تھا اور خود ہی پڑھاتے تھے۔ <br> آخری دور کی تصانیف : <br> انہوں نے ہرموضوع پر ایسی کتابیں تحریر فرمائیں جن سے مسلمانوں کو علمی مواد فراہم ہو جائے اور غیرمسلموں کو اسلام کی دعوت بھی ہو۔ <br> ٭ ''اسلام کے اقتصادی او ر سیاسی مسائل'' کے نام سے اقتصادیات پر ایک کتاب تحریر فرمائی <br> ٭ ''آنے والے انقلاب کی تصویر '' ١٩٣٨ء میں یہ ایک رسالہ تحریر فرمایا تھا اس میں جو ١ سہولتیں ٢ ظلمًا قتل ہونے والے ٣ بے وطن ہندو معلومات جمع کی گئی ہیں اور خاکہ مرتب کیا ہے وہ اس دور میں اُن کی نگاہِ دوربین کاشاہکار ہے یہ کتاب اگر چہ زمانہ تحریر کے اعتبار سے پرانی ہے مگر مضمون کے لحاظ سے جدید ہے۔ <br> ٭ ''سیرتِ مبارکہ '' کے نام سے ایک ضخیم کتاب سیرت پر لکھی ۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب غیر مسلموں کو دعوت دینے ہی کے لیے لکھی ہے اسی لیے اسے سب سے پہلے ''انسان''کے عنوان سے شروع کیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ عجیب معلومات سے پُر ہے،اس کے بارے میں عبدالماجد دریابادی لکھتے ہیں : <br> ''کتاب جس قدر لوازمِ ظاہر کے لحاظ سے خوشنما اور دلفریب ہے اسی قدر معنوی حیثیت سے قابلِ داد اور اعلیٰ ہے ،سیرتِ مبارکہ پر بڑی چھوٹی کتابیں اب تک اُردو میں بے شمار لکھی جا چکی ہیں اور بعض بڑی بلند پایہ ہیں (مثلاً شبلی وسلیمان کی سیرت النبی)لیکن یہ سب سے نرالی سب سے انوکھی سب سے البیلی ہے ،فاضلانہ مگر خشک مطلق نہیں ، مختصر مگر مجمل کہیں سے نہیں ،مفصل مگر بارِخاطر کہیں سے بھی بننے والی نہیں ،عام پسند مگر عامیانہ ہونے کے شائبہ سے بھی پاک، نُدرت سے لبریز مگر غَرَابت واجنبیت سے سراپا پرہیز وگریز ،اسلوبِ بیان ایسا کہ بغیر دیکھے اور پڑھے اس کا ذہن میں آنا دُشوار ہے ۔کتاب تمام تر بیسیوں صدی کے ناظرین کو پیشِ نظر رکھ کر لکھی گئی ہے۔ الخ'' <br> ٭ ''عہد ِزریں '' مغازی رسا لتمآب ١ صلی اللہ عليہ وسلم پر ایک بیش قیمت کتاب تصنیف فرمائی اس میں صحابہ کرام کے احوال مبارکہ بھی ہیں اس کی دونوں جلدیں سیرت مبارکہ کی جلد دوم وسوم کا درجہ رکھتی ہیں ، یہ کتاب ''ازا لة الخَفاء ''مصنفہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی رحمة اللہ علیہ کے طرز پر لکھی گئی ہے اوراس میں اُس کے مضامین کی تشریح بھی ہے عام فہم ہے اور علماء میں بہت مقبول ۔ <br> ١ آپ علیہ السلام کے جہادی معرکے <br> ٭ '' شواہد تقدس'' ١ سیّدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ پرمودودی صاحب کے اعتراضات کے جوابات میں تحریر فرمائی تھی ۔ <br> ٭ '' مشکٰوة الآثار '' احادیث کی ایک کتاب جو دارُالعلوم دیوبند کے نصاب میں داخل ہے۔ <br> ٭ ''ترجمہ نورالایضاح''فقہ میں ۔ <br> ٭ ''ہمارے پیغمبر '' اور <br> ٭ '' تاریخ اسلام '' بچوں کے رسائل میں بہت پہلے کی تصانیف ہیں ۔ <br> ٭ ''اسیرانِ مالٹا ''مالٹا میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے حضرات کے احوال پر مشتمل ایک کتاب۔ <br> ١٩٧٤ء میں والد صاحب رحمة اللہ علیہ نے مجھے تحریر فرمایا تھا کہ جب حضرت مدنی نوراللہ مرقدہ نے خود نوشت سوانح حیات تحریر فرمائی تو میں نے دیکھ کر عرض کیا کہ یہ سوانح حیات تو نہیں نقشِ حیات ہے معلوم ہوتاہے کہ حضرت اقدس کو اِن کا یہ جملہ پسند آیا تو آپ نے اس کانام ''نقشِ حیات ''رکھ دیا، اسی گرامی نامہ میں یہ اطلاع بھی تھی کہ اب آپ (١٩٧٥ئ) میں حضرت مدنی رحہمااللہ تعالیٰ کی سوانح حیات تحریر فرمارہے ہیں جو غالباً مفصل ہوتی لیکن اس کے بارے میں پھر کچھ علم نہیں ہوسکا ۔ <br> ٭ ''تحریکِ شیخ الہند '' ١٩٧٥ء ہی میں آپ نے انڈیا آفس لائبریری کی سی آئی ڈی کی رپورٹوں سے ایک کتاب مرتب فرمائی جس کا افتتاح غالباً ٥جولائی ١٩٧٥ء کو صدرجمہوریۂ ہند نے اپنے قصر صدارت میں کیا جس میں تقریباً تمام وزراء مع وزیر اعظم ،ارکانِ اسمبلی ومعززین سب ہی کو بڑی تعداد میں مدعو کیا گیا تھا ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں حضرت شیخ الہند قدس سرہ سے بہت عقیدت تھی اور شاید اسی بنا ء پر ہندوستان کے صدر فخرالدین علی احمد صاحب نے اس کا افتتاح اس بڑے پیمانہ پر کیا نیز یہ منشاء بھی ہوگا کہ حقیقتاً قربانی دینے والے حضرات کے احوال سامنے آنے چاہئیں ، <br> ١ شاندار ماضی کی طرح ''شواہد تقدس'' بھی طبع ہو چکی ہے ''سیرة مبارکہ'' اور'' عہدِ زریں '' بھی ہم یہاں طبع کرانے والے ہیں اِنشاء اللہ العزیز الحکیم۔ حامد میاں غفرلہ <br> حقیقتاً جدوجہد ِ آزادی شروع کرنے والے اور اِسے پروان چڑھانے والے حضرات میں خصوصاً طبقۂ علماء ہی تھا، نہ کہ نواب، جاگیردار اور سَر وغیرہ کے خطابات حاصل کرنے والے لوگ یہ لوگ تو خال خال ہی ہوں گے جنہوں نے جدوجہد آزادی میں حصہ لیا ہو۔ <br> زُہد و للہیت : <br> کیونکہ والد ماجد جدوجہد آزادی میں پانچ مرتبہ گرفتار ہوئے تھے اس لیے ١٩٧٥ء میں آپ کو حکومت ہند کی طرف سے وظیفہ اور مکان کی سہولتوں وغیرہ کی پیشکش کی گئی ''تا نبر پتر '' ١ بھی دیا گیا جس پر کارنامے کندہ ہوتے ہیں اور وزیر اعظم کے دستخط ثبت ہوتے ہیں ۔ <br> تانبر پترانہوں نے رکھ لیااوریہ فرماکر رکھا کہ یہ میں اس لیے لے رہاہوں کہ جہاد آزادی میں مسلمانوں کی شمار میں اس سے اضافہ ہوگاباقی چیزیں قبول نہیں کیں ۔ <br> حضرت اقدس مدنی رحمة اللہ علیہ کو بھی یہ چیزیں اورسرکاری لقب پیش کیا گیا تھا اُنہوں نے بھی یہ تختی رکھ لی تھی باقی چیزیں قبول نہیں فرمائی تھیں ،اسی طرح والد صاحب رحمة اللہ علیہ نے کیا ۔ <br> (جاری ہے) <br> شیخ المشائخ محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب رحمة اللہ علیہ کے سلسلہ وار مطبوعہ مضامین جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ پر پڑھے جا سکتے ہیں <br> http://www.jamiamadniajadeed.org/maqalat <br> ١ شیلڈ <br> ماضی کی جھلک <br> ( مرتب : حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب مدظلہم، معاون اُم عکاشہ حفظہا اللہ ) <br> تقریبًا پچیس برس کی یاد داشتوں پر مشتمل والد ماجد حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ کے دست ِمبارک سے لکھی ہوئی اُن کی بیاض جو کہ اہم تاریخی، اجتماعی، انفرادی و شخصی واقعات نیز اندرون و بیرونِ ملک کی اہم شخصیات اور وفود کی جامعہ مدنیہ میں آمدو رفت کے ہجری و شمسی تاریخ وار تذکرہ پر مشتمل ہے اور گزرے دور کی انتہائی مستند تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے ! <br> اب خانقاہِ حامدیہ کے زیر اہتمام ہر ماہ ایک برس کی یاد داشتیں ''ماضی کی جھلک'' کے زیر عنوان شائع کیے جانے کا اہتمام کیا جا رہا ہے ،سرِ دست ابتداء سے شروع کرنے کے بجائے جنوری ١٩٨١ء سے مارچ ١٩٨٨ء سات برس اور دوماہ تک کی یاد داشتیں مرتب کی جائیں گی جوکہ حضرت کا سالِ رحلت ہے، بعد ازاں بالکل ابتداء سے ١٩٨٠ء تک کی یاد داشتیں ضروری وضاحتوں اور ملاحظات کے ساتھ مرتب کر کے اس کی تکمیل عمل میں لائی جائے گی، انشاء اللہ ۔ محمود میاں غفرلہ <br> ( ١٤٠٥۔١٤٠٤ھ /١٩٨٤ء ) <br> ٭ ٢٦ ربیع الاوّل /یکم جنوری : آج بعد عصر جناب مولانا قاری امیر علی صاحب مراد آباد ١ سے تشریف لائے۔ <br> ٭ ٢٧ ربیع الاوّل /٢ جنوری : آج شام اظہار صاحب سہارنپوری تشریف لائے۔ <br> ١ مراد آباد کی جامع مسجد کے امام اور بہت عمدہ قرآنِ پاک پڑھنے والوں میں ان کا شمار تھا نیک اور پارسا بزرگ تھے تقریبًا تیس پینتیس برس پہلے ان کی وفات ہوئی ۔ محمود میاں غفرلہ <br> کل پشاور میں دوسو زلزلہ کے جھٹکے آئے مختلف مقامات پر بائیس آدمی شہید ہوئے۔ <br> ٭ ٢٩ ربیع الاوّل /٤ جنوری : اخبارات میں آیا ہے کہ پشاور میں زلزلہ کے تین سو سے زائد جھٹکے آئے۔ <br> ٭ یکم ربیع الثانی / ٦ جنوری : پشاور میں کل اور آج شدید زلزلہ آیا۔ <br> ٭ ٤ ربیع الثانی /٩ جنوری : خان عبدالقیوم خان ١ کے ١٩٥٠ء کے خلاف ایک مقدمہ کا فیصلہ اب سنایا گیا ہے۔ جنگ آخری صفحہ کالم نمبر ٨ مؤرخہ ٩ جنوری۔ <br> ٭ ٥ ربیع الثانی /١٠ جنوری : شام بعد عشاء اجمل قادری(آئے)۔ شب ِگزشتہ بے نظیر بھٹو کو زیورچ سوئزرلینڈ بھیج دیا گیا۔ <br> ٭ ٦ ربیع الثانی /١١ جنوری : آج عباس عابدی لاہور آئے(جامعہ کے طالب علم اور جمعیة کے سرگرم کارکن) <br> ٭ ٧ ربیع الثانی /١٢ جنوری : بیگم لغاری ٢ صاحبہ وغیرہا (آئیں ) ۔ صبح ڈاکٹر پھنوار ٣ <br> ٭ ١١ ربیع الثانی /١٦ جنوری : آج دوپہر بارہ بجے کے قریب جناب معز الدین صاحب ٤ کی <br> وفات ہوئی شام عشاء بعد دس بجے میانی صاحب کے قبرستان میں تدفین ہوئی اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ <br> رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی وَغَفَرَلَنَا وَلَہ ۔ آمین ۔جمعہ کے دن صبح سینہ میں درد ہوا جو ہاتھ میں بھی محسوس ہوتا تھا <br> پھر افاقہ ہوا پھر وفات ہوئی۔ <br> ٭ ١٢ ربیع الثانی /١٧ جنوری : آج (ایڈووکیٹ)حافظ یوسف صاحب عصر بعد ملنے آئے وہ کل رہا ہوئے(جمعیة لاہور کے سرگرم ممبر )۔ <br> ٭ ١٥ ربیع الثانی /٢٠ جنوری : آج صبح دس بجے مولانا (تاج)محمود صاحب کا فیصل آباد میں <br> ١ سابق وزیر اعلیٰ سرحد، مسلم لیگ قیوم گروپ، بھٹو دور میں وزیر داخلہ <br> ٢ محمود خان لغاری کی اہلیہ ،سابق صدرِ پاکستان فاروق لغاری کی چچی ٣ جمعیة طلباء اسلام سندھ <br> ٤ والد گرامی حضرت مولانا نعیم الدین صاحب فاضل و مدرس جامعہ مدنیہ لاہور <br> دل کے دورہ میں انتقال ہوگیا اُنہیں ایک سال سے دل کی تکلیف تھی آج صبح چار بجے سے پھر ہوئی <br> فیصل آباد ریلوے کالونی کے چالیس سال سے خطیب تھے اور ہفت روزہ'' لولاک'' کے مالک اور ایڈیٹر تھے اگلے دن گیارہ بجے تدفین ہوئی۔ <br> ٭ ١٨ ربیع الثانی /٢٣ جنوری : آج عشاء بعد مولانا (محمد شاہ صاحب) امروٹی تشریف لائے <br> ٭ ١٩ ربیع الثانی /٢٤ جنوری : آج شام مولانا پشاور کے لیے عشاء بعد روانہ ہوئے۔ <br> ٭ ٢٠ ربیع الثانی /٢٥ جنوری : شیخ عبداللہ مرحوم سابق وزیر اعلیٰ مقبوضہ کشمیر نے بیس سال جیل کاٹی تھی بی بی سی چار دن قبل ۔ <br> ٭ ٢٢ ربیع الثانی /٢٧ جنوری : کیرالہ سے آسام تک دوہزار ایک سو اَسی میل ہے۔ <br> راولپنڈی اور اسلام میں ٢ اور ٣ فروری کی درمیانی رات سے ان ٹیلیفون نمبروں سے پہلے ٨ کے ہندسہ کا اضافہ کیا جارہا ہے جو دو چار اورپانچ سے شروع ہوتے ہیں ۔ جنگ ٢٦ جنوری١٩٨٤ئ <br> ٭ ٢٣ ربیع الثانی /٢٨ جنوری : آج اشتیاق حسین ١ ابوظہبی سے آئے۔ <br> ٭ ٢٤ ربیع الثانی /٢٩ جنوری : ٢٥ کی شام کو اور آج شام مولانا عبدالواحد صاحب نقشبندی تشریف لائے۔ <br> ٭ ٢٨ ربیع الثانی /٢ فروری : آج قاری سعید عالم صاحب اور ہمشیرہ(دیوبند ہند سے آئے) <br> ٭ ٤ جمادی الاولیٰ /٧ فروری : میاں آصف صاحب( آئے)۔ ٢ <br> آج شام امیر حسین شاہ صاحب گیلانی (آئے) ۔ <br> ٭ ٧جمادی الاولیٰ/١٠ فروری : آج خبر آئی کہ اندروپوف صدر رُوس کل رُوسی وقت کے مطابق پانچ بجنے میں دس منٹ تھے کہ انتقال کرگئے۔ چوبیس گھنٹے بعد ماسکو نے خبردی یہ پندرہ ماہ صدر رہے اور پندرہ سال کے جی بی کے سربراہ رہے تھے(یوری آف روپوف تھا) <br> ١ برادرِ نسبتی مولانا عبدالحفیظ صاحب ،فاضل جامعہ مدنیہ وخطیب جامع مسجد جانی شاہ مزنگ لاہور <br> ٢ سابق ممبر قومی اسمبلی ، مسلم لیگ (جونیجو گروپ) سے تعلق تھا۔ <br> ٭ ٨ جمادی الاولیٰ/١١ فروری : آج مولانا رشید الدین صاحب ١ (ہندوستان سے) تشریف لائے <br> آج شام پروفیسر یوسف سلیم صاحب(چشتی) کی وفات ہوئی ٢ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔ <br> ٭ ١٠جمادی الاولیٰ/١٣ فروری : آج بھائی سعید عالم صاحب وغیرہ ۔ <br> ٭ ١٤جمادی الاولیٰ /١٧ فروری : شب ِگزشتہ دس بجکر اُنیس منٹ کچھ سیکنڈ پر زلزلہ آنا شروع ہوا <br> جو تین منٹ جاری رہا یا چار منٹ اَللّٰہُمَّ احْفَظْنَا (زلزلہ ٥.٦ درجے کی شدت کا تھا) <br> ٭ ١٧ جمادی الاولیٰ/٢٠ فروری : جناب شبیر احمد صاحب حیدر آبادی(آئے)۔ <br> ٭ ١٨ جمادی الاولیٰ /٢١ فروری : آج صبح مولانا امروٹی تشریف لائے۔ <br> حکیم سردار(علی) صاحب شام(آئے) <br> ٭ ١٩ جمادی الاولیٰ /٢٢ فروری : (آج) پولیس اور سی آئی ڈی رہی۔ <br> ٭ ٢٠ جمادی الاولیٰ /٢٣ فروری : حکیم سردار علی صاحب <br> ٭ ٢٣ جمادی الاولیٰ /٢٦ فروری : آج ابراہیم صاحب افریقی اور حکیم احمد حسن صاحب تشریف لائے <br> ٭ ٢٨ جمادی الاولیٰ/٢ مارچ : آج شام بھائی سلیم صاحب آئے ۔حاجی اصل خاں اور اُن کے صاحبزادے آئے۔ <br> ٭ ٢٩جمادی الاولیٰ /٣ مارچ : آج رائیونڈ کے مدرسہ میں بجلی کا میٹر لگا۔ <br> ٭ ٣٠ جمادی الاولیٰ /٤ مارچ : آج شام عشاء بعد مولانا عبدالرؤف زبیر صاحب ٣ تشریف لائے اور حضرت مولاناخان محمد صاحب (تشریف لائے ) <br> ١ حضرت اقدس مولانا سیّد حسین احمد مدنی کے داماد و مہتمم مدرسہ شاہی مراد آباد ہندوستان <br> ٢ کسی زمانہ میں حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی رحمة اللہ علیہ کے بہت مخالف تھے پھر نادم ہوئے ایک مضمون ''اعترافِ تقصیر'' کے عنوان سے لکھا جو ماہنامہ انوار مدینہ صفر ١٣٩٢ھ/اپریل ١٩٧٢ء میں شائع ہوچکا ہے پھر اپنی توبہ کی تکمیل کے طور پر حضرت اقدس والد صاحب کے دست ِمبارک پر بیعت کی۔ محمود میاں غفرلہ <br> ٣ اسیرِ مالٹا حضرت مولانا عزیر گل صاحب کے بڑے صاحبزادے <br> ٭ ٤ جمادی الثانیہ /٨ مارچ : آج شام عبدل خیل میں مولانا فضل الرحمن صاحب کی نظر بندی ختم کردی گئی۔ <br> ٭ ٥ جمادی الثانیہ /٩ مارچ : پاک افغان سرحد چودہ سو میل لمبی ہے اور اس میں دو سو تیس درّے ہیں <br> ٭ ٧ جمادی الثانیہ /١١ مارچ : آج عشاء بعد سمیع اللہ صاحب اور منیر مغل صاحب(سابق جج ہائی کورٹ ) آئے۔ <br> ٭ ٩ جمادی الثانیہ /١٣ مارچ : آج شام مولانا فضل الرحمن صاحب کا ٹیلیفون آیا جس میں مصالحت کی خوشخبری تھی۔ <br> ٭ ١٢ جمادی الثانیہ /١٦ مارچ : آج مولانا سعید احمد صاحب اکبر آبادی(ہندوستان سے) آئے ١ <br> اور روز نامہ جنگ کے لیے انٹرویو دیا۔ <br> ٭ ١٣ جمادی الثانیہ /١٧ مارچ : آج شام مولانا رشید الدین صاحب پشاور گئے۔ <br> ٭ ١٤ جمادی الثانیہ /١٨ مارچ : صبح ولی محمد صاحب ماڑی مرل۔ <br> شام نشست مولانا معراج صاحب ٢ اور اکبر آبادی۔ <br> ٭ ١٥جمادی الثانیہ /١٩مارچ : عصر بعد مولانا سعید احمد صاحب(اکبر آبادی) اور مولانا معراج الحق صاحب(کے ہمراہ نشست)۔ <br> ٭ ١٦جمادی الثانیہ /٢٠مارچ : روس میں ٤.٩ کا زلزلہ آیا جبکہ کل پیمانہ ١٢ کا ہوتا ہے۔ <br> آج ظہر اور عشاء بعد دارُ العلوم (دیوبند)کی گفتگو رہی ٣ عشاء بعد مولانا رشیدالدین صاحب ڈیرہ (اسماعیل خان)سے واپس آئے اور مجلس میں کافی لوگ آئے۔ <br> ٭ ٢٠جمادی الثانیہ /٢٤مارچ : آج قبل دوپہر مولانا رشید الدین صاحب(ہندوستان) واپس ہوئے <br> ١ مدیر ماہنامہ ''برہان'' انڈیا، خسر پروفیسر محمد اسلم صاحب شعبہ تاریخ پنجاب یونیورسٹی لاہور <br> ٢ حضرت کے ماموں تھے اور دارُالعلوم دیوبند کے تاحیات صدر مدرس رہے متوفیٰ : ٢٢جولائی ١٩٩١ئ <br> ٣ یعنی دارُالعلوم دیوبند کے کشیدہ حالات پر۔ <br> ٭ ٢١جمادی الثانیہ /٢٥مارچ : مولانا سعید صاحب (اکبر آبادی)اور مولانا معراج صاحب آج شام اشتیاق صاحب ملنے آئے وہ کل صبح ابو ظہبی چلے جائیں گے۔ <br> ٭ ٢٣ جمادی الثانیہ /٢٧مارچ : آج گنی کے صدر احمد سکو تورے کا امریکہ میں دل کے آپریشن کے دوران انتقال ہوا وہ١٩٥٨ء سے صدر چلے آرہے تھے۔ <br> ٭ ٢٨ جمادی الثانیہ /یکم اپریل : آج عصر کے وقت مولانا فضل الرحمن صاحب آئے۔ <br> ٭ ٢٩جمادی الثانیہ /٢ اپریل : آج دوپہر مولانا فضل الرحمن صاحب کو پھر صوبہ بدر کردیا گیا۔ <br> ٭ ٣٠جمادی الثانیہ /٣ اپریل : آج شام تین بجے امریکی کونسلر جنرل اور اُس کے نائب مسٹر برائز آئے۔ آج ماسٹر امین صاحب(اوکاڑوی،مشہور مناظر ) سے ملاقات ہوئی۔ <br> ٭ یکم رجب /٤ اپریل : آج شام قاری سعید عالم صاحب آئے۔ <br> ٭ ٢ رجب /٥ اپریل : آج شام عشاء بعد(شاعر سیّد) سلمان گیلانی پھر فصیح الدین وردگ آئے ١ <br> ٭ ٣ رجب /٦ اپریل : آج حکیم احمد حسن صاحب تشریف لائے ۔ <br> ٭ ٥ رجب /٨ اپریل : آج جناب عبدالعلام صاحب(تاجر مدینہ منورہ) آئے۔ <br> ٭ ٦ رجب /٩ اپریل : شب ِگزشتہ اور دن میں خوب ٹھنڈ رہی۔ آج شام عصر بعد سردار عبدالقیوم صاحب کشمیری آئے (سابق صدر آزاد کشمیر )۔شب ِگزشتہ مولانا معراج صاحب پشاور سے پنڈی ہوتے ہوئے واپس آئے معلوم ہوا کہ مولانا سعید صاحب اکبر آبادی جمعرات کے دن پنڈی سے ہوائی جہاز سے کراچی چلے گئے ۔ <br> ٭ ٧ رجب /١٠ اپریل : آج بھائی سعید عالم صاحب وغیرہ انڈیا واپس ہوئے اور مولانا معراج صاحب کراچی(تشریف لے گئے)۔ <br> ٭ ٩ رجب /١٢ اپریل : آج صبح ساڑھے دس بجے بزنجو صاحب (میر غوث بخش) ٢ تشریف لائے <br> ١ تحریک استقلال کے عہدیدار ٢ سابق گورنر بلوچستان،صدر پاکستان نیشنل پارٹی ، متعدد بار حضرت کے پاس تشریف لائے انہیں ٹیبل ٹاک کا ماہر تصور کیا جاتا تھا۔ محمود میاں غفرلہ <br> وہ سنی حنفی ہیں ۔ آج (مدرسہ)حزب الاحناف(نزد اُردو بازار لاہور) میں یا رسول اللہ کانفرنس ہوئی <br> ٭ ١٠ رجب /١٣ اپریل : آج شام عین غین کراروی ١ آئے۔ <br> ٭ ١١ رجب /١٤ اپریل : آج نوابزادہ نصر اللہ خاں صاحب تین سال سے زیادہ عرصہ نظر بند رہنے کے بعد رہا ہوئے۔ <br> ٭ ١٥ رجب /١٨ اپریل : آج دوپہر بحمد اللہ بخاری جلد اوّل ختم ہوئی۔ <br> ٭ ٢٠ رجب /٢٣ اپریل : آج شام امیر علی صاحب کراچی(سے آئے) بھائی طاہر(خسر مولانا سیّد رشید میاں صاحب) دہلی (سے آئے) اور جہانگیر بدر صاحب ٢ وغیرہ آئے۔ <br> ٭ ٢٣ رجب /٢٦ اپریل : آج دوپہر بحمد اللہ بخاری شریف (جلد ثانی)ختم ہوئی۔ <br> ٭ ٢٤ رجب /٢٧ اپریل : آج تیزگام سے نوابزادہ نصر اللہ خاں صاحب لاہور پہنچے۔ <br> ٭ ٢٧ رجب /٣٠ اپریل : آج شام عشاء کے وقت نوابزادہ نصر اللہ خاں صاحب تشریف لائے <br> سوا گیارہ بجے واپس ہوئے اُنہوں نے بتلایا کہ اُنہیں پینتالیس سال سے پیچش ہے اب کسی وقت بلڈپریشر لو ہو جاتا ہے۔ <br> ٭ ٤ شعبان /٦مئی : آج صبح ساڑھے سات بجے خواجہ خیر الدین صاحب ٣ شام مغرب کی نماز <br> میں فاروق لغاری ٤ آئے پھر پختونخواہ نیپ کے جنرل سیکرٹری وغیرہ ( بلوچستان سے) آئے <br> ١ اِن کا نام علی غضنفر کراروی تھا اہلِ تشیع میں سے تھے اور سرکاری ملازم تھے چوبرجی کوارٹر کے رہائشی تھے مفتی محمود صاحب کے پاس ایک بار آئے تو اُنہوں نے مزاحاًاِن سے فرمایا کیا آپ کا نام عثمانِ غنی ہے ؟ تو مسکرا کر خاموش ہوگئے ،اس واقعہ کے حافظ اطہر عزیز صاحب ناقل ہیں ٢ پاکستان پیپلز پارٹی(PPP) کے سرگرم لوگوں میں تھے١٩٨٨ء میں ممبر قومی اسمبلی رہے، سابق وفاقی وزیر پٹرولیم و سنیٹر ۔ محمود میاں غفرلہ <br> ٣ مسلم لیگ خواجہ خیر الدین گروپ <br> ٤ پاکستان کے سابق صدر(١٤ نومبر١٩٩٣ء تا ٢ دسمبر١٩٩٧ئ)اور پیپلز پارٹی کے غالباًنائب صدر <br> ٭ ٥ شعبان /٧مئی : انڈیا بنگلہ دیش کی سر حدبتیس سو کلو میٹر ہے۔ ایورسٹ کی بلندی آٹھ ہزار آٹھ سو اَڑتالیس میٹر ہے ۔ انڈیا اور برما کی سرحد بارہ سو کلو میٹر ہے۔ <br> ٭ ٦ شعبان /٨مئی : آج شام مولانا امیر حسین شاہ صاحب کو بلڈپریشر کی شدید تکلیف رہی <br> اورپھر دل کا دورہ ہوا لیکن وہ اسی حالت میں اوکاڑہ چلے گئے۔ <br> آج شام آٹھ بجے ایم آر ڈی کے اجلاس ختم ہوئے۔ <br> ٭ ٨ شعبان /١٠مئی : آج عشاء بعد ساڑھے بارہ بجے منظور چنیوٹی صاحب، اللہ وسایا صاحب (مبلغین ِختم نبوت )اور ریاض الحسن صاحب گنگوہی ڈیرہ اسماعیل خان والے آئے۔ <br> ٭ ١٠ شعبان /١٢مئی : آج شام بعد مغرب جھنگ سے مولانا حق نواز صاحب(جھنگوی شہید آئے) <br> ٭ ١٢ شعبان /١٤مئی : شب ِگزشتہ( مولانا) اصغر علی صاحب (عباسی) ١ وغیرہ آئے۔ <br> ٭ ١٤ شعبان /١٦مئی : آج عصر بعد مولانا معراج الحق صاحب آئے کل وہ انڈیا جا رہے ہیں ۔ <br> ٭ ١٦ شعبان /١٨مئی : امریکی ایم ایکس میزائل نو جوہری بم لے کر ساڑھے ساتھ ہزار میل تک جاتا ہے اور اکثر ٹھیک نشانے پر لگتا ہے۔ <br> ٭ ١٧ شعبان /١٩مئی : آج عشاء بعد گیارہ بجے مولانا عبدالقادر صاحب آزاد ٢ وغیرہم آئے <br> ٭ ١٩ شعبان /٢١مئی : آج بادشاہی مسجد پر بریلویوں نے حملہ کیا۔ ٣ <br> ٭ ٢٣ شعبان /٢٥مئی : آج بادشاہی مسجد میں دیوبندی حضرات جمع ہوئے۔ <br> ٭ ٢٤ شعبان /٢٦مئی : شام بھائی طاہر صاحب (ذکر گزر گیا)۔حضرت مولانا خان محمد صاحب <br> مدظلہم اور صوفی اقبال صاحب ٤ تشریف لائے، ڈاکٹر فاروق اور طفیل بھی۔ <br> ١ خطیب جامع مسجد نیلا گنبد ، یہ حضرت کے شاگرد بھی تھے غالباً، تاریخ وفات : ٢٦ جنوری ٢٠١٩ئ <br> ٢ خطیب بادشاہی مسجد لاہور ،تاریخ وفات : ١٦جنوری ٢٠٠٣ئ <br> ٣ یہ لوگ بادشاہی مسجد پر قبضہ کرکے مولانا آزاد صاحب کو امامت و خطابت سے ہٹانا چاہتے تھے۔ <br> ٤ مقیم مدینہ منورہ بغرض اصلاح و اِسترشاد حضرت کی خدمت میں تشریف لاتے رہتے تھے۔ محمود میاں غفرلہ <br> ٭ ٢٩ شعبان /٣١مئی : انڈیا میں بمبئی میں نہایت سخت ہندو مسلم فسادات کا سلسلہ چل رہا ہے <br> مسلمان بڑی تعداد میں شہید ہوئے۔ <br> ٭ ٢ رمضان /٢ جون : آج سے مشرقی پنجاب میں مارشل لاء نافذ ہوا خبروں پر سنسر اورریلیں بند کردی گئیں ۔ ١ <br> ٭ ٤ رمضان /٤ جون : آج رشید میاں سلمہ کی رہائی ہوئی والحمد للہ ٢ <br> آج ہی دوپہر قاری شیرافضل صاحب بھی کراچی میں رہا ہوئے۔ <br> ٭ ٥ رمضان /٥ جون : آج شام مولانا حنیف صاحب، راؤ رشید صاحب، شیخ تاج دین صاحب (پیپلز پارٹی لاہور کے صدر ) اور بہاولنگر کے حضرات آئے۔ <br> ٭ ٧ رمضان /٧ جون : آج کراچی سے شوکت عمر آئے۔ سکھ رہنما سنت جرنیل سنگھ بھندرانوالہ کی لاش (امرتسر کے)گردوارہ سے ملی انکے ساتھ ایک نوجوان محافظ اور ریٹائر میجر جنرل کی لاش بھی ملی <br> ٭ ١٢ رمضان /١٢ جون : آج اُوپر کا لینٹر مکمل ہوا۔ <br> ٭ ١٤ رمضان /١٤ جون : آج رات قاضی حسین احمد صاحب آئے (امیر جماعت ِاسلامی پاکستان) <br> ٭ یکم شوال /٣٠ جون : ٢٠ شوال کے خط سے معلوم ہوا کہ سعودی عرب میں رات گئے عید کا چاند ہونیکااعلان کیا گیا ،عید جمعہ کی کی گئی اور ایک روزہ قضا کرنے کا حکم دیا گیا لیکن بحرین میں عید ہفتہ کی منائی گئی۔ <br> ٭ ٥ شوال/٤جولائی : آج صبح مولوی محمد بنوری آئے۔ <br> ٭ ٦شوال /٥ جولائی : ڈاکٹر مشتاق صاحب ہری پور والے رائیونڈ سے آئے۔ ڈیرہ سے گل شیر آئے۔ <br> ١ ہندوستان کی وزیر اعظم اِندرا گاندھی نے مشرقی پنجاب میں مارشل لاء لگانے کے بعد سکھوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی کی ان کے مقدس گردوارہ پر حملہ کردیا جس میں لا تعداد ہلاکتیں ہوئیں ۔ محمود میاں غفرلہ <br> <br> ٢ چھ ماہ بعد کوٹ لکھپت جیل سے <br> ٭ ٨شوال /٧ جولائی : آج جاپانی آئے(اُس وقت کے تبلیغی ذمہ داران کے ہمراہ اسلام سے آگاہی کے لیے آئے نو مسلم تھے یا اسلام لانا چاہتے تھے واللہ اعلم ) <br> ٭ ١٠شوال /٩ جولائی : آج شام عشاء بعد دس بجے ڈاکٹر حامد علی خاں صاحب کی چند روز علالت ِ قلبی کے بعد وفات ہوگئی ١ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلَہ ۔ <br> ٭ ١٢شوال /١٠ جولائی : آج جناب ظہیر صاحب کراچی سے تشریف لائے۔ <br> ٭ ١٤شوال /١٣ جولائی : آج شام امتیاز (عثمانی عرف)ہِٹو سعودی عرب سے آئے۔ (عزیز داروں میں تھے) <br> ٭ ١٥شوال /١٤ جولائی : مغربی جرمنی میں گیند کے برابر اولے پڑے بہت سی کاریں وغیرہ ٹوٹ گئیں <br> دس جیٹ طیارے تباہ ہوگئے وہاں یہ واقعہ منگل کے دن ہوا۔ <br> ٭ ١٦شوال /١٥ جولائی : آج شام امیر حسین شاہ صاحب آئے (اوکاڑہ والے)۔ <br> ٭ ١٧شوال /١٦ جولائی : آج شام مولانا فضل الرحمن صاحب آئے۔ <br> ٭ ١٩شوال /١٨ جولائی : آج دوپہر نواب زادہ نصر اللہ خاں صاحب آئے۔ <br> ٭ ٢٢شوال /٢١ جولائی : آج دوپہر امان اللہ خاں آئے (حضرت کے متوسلین میں سے لکی مروت کے) اور راؤ تاج محمد خاں (سابقہ بھائی پھیرو ،موجودہ پھول نگر سے آئے) <br> ٭ ٢٦شوال /٢٥ جولائی : شب ِ گزشتہ حضرت مولانا خان محمد صاحب تشریف لائے اور دیر تک بیٹھے رہے رات دو بجے واپس تشریف لے گئے۔ <br> ٭ ٢٧شوال /٢٦ جولائی : عشاء بعد آج مولانا فضل الرحمن صاحب کو ملتان سے پنجاب بدر کردیا گیا <br> ١ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن صاحب دیوبندی رحمہ اللہ کے شاگرد حضرت مولانا شریف اللہ خان صاحب (متوفی : ٨شوال ١٣٩٩ھ/٣١اگست ١٩٧٩ئ)جو کہ جامعہ مدنیہ میں مدرس تھے اور احقر کے اساتذہ میں تھے ڈاکٹر صاحب مرحوم ان کے صاحبزادے ہیں فارسی میں پی ایچ ڈی تھے اور گورنمنٹ کالج لاہور میں شعبہ پرشین کے سربراہ تھے۔ محمود میاں غفرلہ <br> ٭ ٢٨شوال /٢٧ جولائی : آج صبح گیارہ بجے(جامعہ مدنیہ کے ) مفتی عبدالحمید صاحب کی اہلیہ کی وفات ہوئی عشاء بعد نمازِ جنازہ اور تدفین ہوئی رَحِمَہُا اللّٰہْ ۔ <br> ٭ ٢٩شوال /٢٨ جولائی : آج شام بی بی سی نے مولانا فضل الرحمن کی ملتان واپسی کا ذکر کیا کہ وہ پنجاب کی سرحد سے نکالنے والے سپاہیوں کی واپسی کے بعد خود ملتان واپس ہوں گے۔ <br> ٭ ٣٠شوال /٢٩ جولائی : آج دارُالعلوم دیوبند کی مسجد کے امام (مولانا عبدالرئوف صاحب ) غزنوی آئے۔ <br> ٭ یکم ذو القعدہ /٣٠ جولائی : آج عبدالحلیم ملتان سے آئے (حضرت مفتی محمود صاحب کے ڈرائیور) <br> ٭ ٢ ذو القعدہ /٣١ جولائی : (جامعہ مدنیہ کے)منشی عبدالقدیر خاں ہفتہ کی شام یہاں سے گھر گئے اتوار کے دن بارش کی وجہ سے نہیں آسکے پیر کے دن جس وقت مدرسہ آنے لگے اُس وقت دل میں درد شروع ہوا گنگا رام ہسپتال جاکر آرام آیا شام کو پانچ بجے ہلکی سے چبھن رہ گئی تھی اور گھر واپس آنے کا اِرادہ کر رہے تھے کہ دوبارہ دل میں شدید تکلیف ہوئی آکسیجن لگایا گیا لیکن جانبر نہ ہوسکے مغرب کے وقت وفات ہوگئی اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلَہ صبح نوبجے جنازہ لے جایا گیا، علم الدین غازی کے قریب تدفین ہوئی۔ <br> ٭ ٤ ذو القعدہ /٢ اگست : آج جمعیة کی صوبائی میٹنگ ہوئی ، آفتاب مغل صاحب آئے (راولپنڈی سے)۔ <br> ٭ ٩ ذو القعدہ /٧ اگست : امانت کی رقم مولانا عزیر گل صاحب(اسیر مالٹا) ادائیگی بنام اہلیہ منشی صاحب مرحوم 300روپے <br> ٭ ١١ ذو القعدہ /٩ اگست : آج شام حضرت مولانا خان محمد صاحب عشاء بعد تشریف لائے۔ <br> ٭ ١٩ ذو القعدہ /١٧ اگست : (خان) زمان خان صاحب (اچکزئی)بلوچستان سے آئے۔ <br> ٭ ٢٠ ذو القعدہ /١٨ اگست : (خان) زمان خان صاحب (اچکزئی) <br> ٭ ٢٢ ذو القعدہ /٢٠ اگست : آ ج شام ڈاکٹر مستنصر صاحب (آئے)۔ ١ <br> ٭ ٢٧ ذو القعدہ /٢٥ اگست : آج صبح نوبجے بھارتی طیارہ اغوار کرکے سکھ لاہور لے آئے یہ چھٹاانڈین طیارہ ہے جو پاکستان لایا گیا۔ <br> ٭ ٣٠ ذو القعدہ /٢٨ اگست : کل سے پھر سب ٹیلیفون خراب ہیں ایک دن اطلاع آئی تھی کہ وہ ٹیلیفون کا خراب پرزہ بدلے گا مگر کوئی نہیں آیا۔ <br> ٭ ٧ ذی الحجہ /٤ ستمبر : آج حج ہوا ہے۔ <br> ٭ ٤ا ذی الحجہ /١١ ستمبر : آج(مولانا) غلام مصطفی صاحب بہاولپوری آئے۔ ٢ <br> ٭ ٢٣ ذی الحجہ /٢٠ ستمبر : آج شام عطاء الرحمن برادر فضل الرحمن صاحب(آئے) ۔ <br> انقرہ(ترکی)میں ایک عورت کے چھ بچے ہوئے۔ <br> ٭ ٢٤ ذی الحجہ /٢١ ستمبر : آج شام شورکوٹ سے لوگ آئے(جماعتی حضرات)۔ <br> ٭ ٢٦ ذی الحجہ /٢٣ ستمبر : معلوم ہوا کہ بھائی نثار صاحب(عثمانی) کی لندن میں وفات ہوگئی اور کل دس بجے تک لاہور لاش آئے گی اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ <br> گردے پھیپھڑے دل سب بیکار ہوگئے تھے ۔ ٣ <br> ١ ڈاکٹر سعید مستنصر صاحب، بابو عبدالغفور صاحب مرحوم کے داماد تھے جو کہ خواتین کا ماہنامہ 'حور'' لاہور سے شائع کیا کرتے تھے اور حضرت کے اوّلین رُفقاء میں تھے، ڈاکٹر صاحب ١٣ رجب ١٤٤٠ھ /٢١مارچ ٢٠١٩ء کو طویل علالت کے بعد لاہور میں انتقال فرما گئے۔ محمود میاں غفرلہ <br> ٢ دارُالعلوم مدنیہ بہاولپور کے ناظم اعلیٰ اور ہاں کی جمعیة کے فعال حضرات میں تھے، ١٩٩٧ء میں وفات ہوئی <br> ٣ یہ جامعہ اشرفیہ مسلم ٹائون لاہور کے تا حیات ناظم رہے جامعہ ہی میں ان کی قیامگاہ تھی مرحوم قاری افتخار صاحب سابق مہتمم دارُالعلوم اسلامیہ کامران بلاک اقبال ٹائون لاہور ان کے چھوٹے بھائی تھے۔ مہتمم دارُالعلوم دیوبند حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا محمد سالم صاحب سے ان کی ہمشیرہ منسوب تھیں اس قرابت کی وجہ سے جامعہ اشرفیہ میں (باقی حاشیہ اگلے صفحہ پر) <br> ٭ ٢٧ ذی الحجہ /٢٤ ستمبر : قاری نثار صاحب کی لاش سوا آٹھ بجے کے جہاز سے لاہور آئی، تدفین دارُ العلوم اسلامیہ کے پاس ہوئی اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَنَا ۔ آج عصر بعد ڈاکٹر اسرار احمد صاحب آئے۔ <br> قطب شمال میں واقع جزیرہ نما بیرکس میں تین ماہ کی طویل قطبی رات کے بعد سورج طلوع ہوا ہے اس میں روس کا ایک تحقیقی مرکز و سکایا قائم ہے اُس میں ٣٢ سائنسدان قدرتی عوامل کی تحقیقات کررہے ہیں ۔ جنگ ص ١ کالم ٤ <br> ٭ ٢٨ ذی الحجہ /٢٥ ستمبر : آج رائیونڈ کی بعض زمینوں کی بولی ہوئی۔ ١ <br> ٭ یکم محرم الحرام /٢٧ ستمبر : رشید کی طبیعت خراب رہی۔ <br> ٭ ٣ محرم /٢٩ ستمبر : آج شام عشاء سے قبل نوابزادہ صاحب اور پھر(بحری فوج کے) کمانڈر (سجاد)صاحب آئے۔ <br> ٭ ٦ محرم /٢ اکتوبر : شب ِگزشتہ اصغر خاں رہا ہو گیا۔ ٢ <br> ٭ ١٠ محرم /٦ اکتوبر : کراچی میں شیعہ سنی فساد ہوا جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کو شیعوں نے آگ لگانے کا پروگرام بنایا لیکن خدا نے بچا لیا ساڑھے گیارہ بجے سے ساڑھے تین تک نہ پولیس آئی نہ فوج آئی جی سندھ کا سیکرٹری اُن کے جلوس کی قیادت کر رہا تھا بہت سی دکانیں اسٹور پٹرول پمپ جلا ڈالے اور پندرہ آدمی شہید کیے۔ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰہْ ۔ <br> ٭ ٢٤ محرم /٢٠ اکتوبر : معلوم ہوا کہ کراچی شیعہ سنی فساد میں سوسے زیادہ آدمی مارے گئے۔ <br> ٭ ٤ صفر /٣٠ اکتوبر : آج(حضرت رائے پوری کے سلسلہ کے بزرگ) حضرت پیر جی عبدالعزیز صاحب کی وفات ہوئی وفات فیصل آباد میں ہوئی تدفین میاں چنوں میں اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ <br> (بقیہ حاشیہ ص ٤٧)حضرت قاری صاحب ان کی رہائشگاہ پر قیام فرمایا کرتے تھے ہماری بھی حضرت قاری صاحب سے اسی نوعیت کی قرابت داری تھی حضرت والد صاحب کی چھوٹی ہمشیرہ مرحومہ حضرت قاری صاحب کے چھوٹے صاحبزادے حضرت مولانا محمد اسلم صاحب سے منسوب تھیں ۔ محمود میاں غفرلہ <br> ١ جامعہ مدنیہ جدید اور محمد آباد سوسائٹی کے لیے ٢ صدر تحریک ِاستقلال ، فضائیہ کے سابق سربراہ <br> ٭ ٥ صفر /٣١ اکتوبر : آج صبح(ہندوستان کی وزیر اعظم) اِندراگاندھی پر قاتلانہ حملہ ہوا کم از کم نوگولیاں لگیں ڈیڑھ گھنٹہ بعدموت ہوگئی۔ <br> ٭ ٧ صفر /٢ نومبر : آج مولانا فضل الرحمن صاحب آئے۔ <br> ٭ ١١ صفر /٦ نومبر : آج بعد دوپہرمولانا فضل الرحمن صاحب ملتان روانہ ہوئے۔ <br> ٭ ١٤ صفر /٩ نومبر : آج صبح گیارہ بجے مولانا محمد عمر صاحب پالن پوری تشریف لائے۔ <br> آج عشاء بعد ایک دم سردی بڑھ گئی۔ <br> ٭ ١٥ صفر /١٠ نومبر : آج مولانا محمد یونس صاحب شیخ الحدیث مدرسہ مظاہر العلوم (سہارنپور ہندوستان سے) تشریف لائے۔ <br> ٭ ٢١ صفر /١٦ نومبر : آج عقیل ضیاء آئے۔ ١ <br> ٭ ٢٢ صفر /١٧ نومبر : آج انور صاحب اسلام آباد سے حساب کے لیے آئے ۔ ٢ <br> ٭ ٢٣ صفر /١٨ نومبر : آج شام عشاء بعد پونے دس بجے کراچی میں ماموں احسان الحق صاحب (عثمانی)کی وفات ہوئی اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَنَا (یہ ہمارے دادھیالی رشتہ داروں میں شمار ہوتے ہیں ) <br> ٭ ٢٦ صفر /٢١ نومبر : آج شام مولانا فضل الرحمن صاحب آئے اور لاہور کے کارکن جمع ہوئے۔ <br> ٭ ٣ ربیع الاوّل /٢٧ نومبر : آج عشاء بعدسوا دس بجے غلام مصطفی جتوئی صاحب آئے۔ ٣ <br> ٭ ٧ ربیع الاوّل /یکم دسمبر : آج حضرت مولانا اسعد صاحب تشریف لائے براستہ واہگہ (بارڈر) شام کو ہوائی جہاز سے پشاور تشریف لے گئے۔ <br> ٭ ٩ ربیع الاوّل /٣ دسمبر : آج مولانا اسعد صاحب کی صدر(جنرل ضیاء الحق ) صاحب سے ملاقات ہوئی۔ <br> ١ جھنگ جمعیة کے متحرک رکن تھے ۔ شینید ہے کہ مولانا حق نواز صاحب جھنگوی شہید کی مسجد یا مدرسہ کی زمین ان کی وقف کردہ ہے۔ ٢ رائیونڈ محمد آباد سوسائٹی کے متعلق ٣ پاکستان پیپلز پارٹی کے نائب صدر اور بانیوں میں تھے ، وزیر مواصلات بھی رہے اور وزیر اعلیٰ سندھ بھی اور ١٩٩٠ء میں نگران وزیر اعظم بھی رہے۔ <br> ٭ ١٠ ربیع الاوّل /٤ دسمبر : آج صبح مولانا اسعد صاحب (حضرت مفتی محمود صاحب کی آبائی بستی) <br> عبدالخیل پہنچے اور آج مولانا فضل الرحمن صاحب کو گرفتار کر لیا گیا۔ <br> ٭ ١١ ربیع الاوّل /٥ دسمبر : آج شام مرتضیٰ پویا صاحب آئے۔ ١ <br> ٭ ١٤ ربیع الاوّل /٨ دسمبر : آج شام مولانا سراج احمد صاحب دین پوری تشریف لائے۔ <br> ٭ ١٥ ربیع الاوّل /٩ دسمبر : آج مولانا اسعد صاحب مدنی مدظلہم نے جامعہ میں شہریوں کی طرف سے دیے گئے استقبالیہ میں بعد نمازِ ظہر شرکت فرمائی اور (جمعیة علماء اسلام کے باہمی اُمور پر) مصالحت کی بات شروع کی۔ <br> ٭ ١٨ ربیع الاوّل /١٢ دسمبر : آج مولانا اسعد صاحب(ہندوستان) واپس تشریف لے گئے۔ <br> ٭ ٢٥ ربیع الاوّل /١٩ دسمبر : آج صدر ضیاء کا ریفرنڈم ہوا ایک ایک آدمی نے کئی کئی ووٹ ڈالے حتی کہ ایک آدمی نے سولہ ووٹ ڈالے تمام ملازمین سے دو دو دن پہلے ہی ووٹ لے لیے گئے تھے <br> ٭ ٢٦ ربیع الاوّل /٢٠ دسمبر : آج معلوم ہوا کہ ریفرنڈم میں ایک آدمی نے چھبیس ووٹ ڈالے۔ <br> ٭ ٢٧ ربیع الاوّل /٢١ دسمبر : آج شام ٹیپو کی طبیعت پھر خراب ہوئی ٢ اَللّٰہُمَّ احْفَظْنَا وَنَجِّنَا <br> مِنَ الْاٰفَاتْ۔گجرانوالہ میں ایک شخص نے ایک سو ایک ووٹ اور ایک شخص نے چھ سو ووٹ ڈالے <br> سخاکوٹ سے آج شام رشید کی واپسی ہوئی وہاں بھی ووٹ اسی طرح فرضی ڈالے گئے۔ <br> ٭ ٣٠ ربیع الاوّل /٢٤ دسمبر : چہ دلاورست دُز دے کہ بکف چراغ دارد ٣ <br> الیکشن کمیشن : ''غیر رجسٹرڈ افراد کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی'' جنگ ٢٤ دسمبر ص نمبر ١ کالم نمبر ٤ <br> ١ اسلام آباد سے شائع ہونے والے انگریزی روزنامہ The Muslim کے مالک اور تنظیم حزب ِ جہاد کے سربراہ، شیعہ مسلک سے تعلق تھا۔ محمود میاں غفرلہ <br> ٢ ہمارا سب سے چھوٹا بھائی مقصود میاں عرف ٹیپو ،بعد اَزاں مارچ ١٩٩٥ء میں تراویح کے دوران دماغ کی شریان پھٹنے سے اٹھارہ برس کی عمر میں وفات ہوئی اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلَہ۔ وفات کی تفصیلات ماہنامہ انوار مدینہ مئی ١٩٩٥ء میں شائع ہوئیں ۔ محمود میاں غفرلہ ٣ وہ چور کتنا بہادر ہے کہ ہتھیلی میں چراغ لے کر چلتا ہے۔ <br> جمعیة علماء پاکستان، جمعیة اہلِ حدیث اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کو ایم آر ڈی میں بطورِ مبصر شریک کر لیا گیا <br> جنگ ٢٤ دسمبر ص نمبر ١ کالم نمبر ٤ لاہور میں ٢٢ دسمبر کو درجہ حرارت نقطہ انجماد سے ایک درجہ نیچے گر گیا <br> ١٩١٠ء میں ٢٣دسمبر کو لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت منفی دو ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ <br> اب جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ فضاء میں اتنی زیادہ موجود ہے ایک درجہ کم ہونا بڑی بات ہے۔ <br> روزنامہ جنگ ٢٤دسمبر ص ١ کالم ١ و ص ٥ کالم ٢ ۔ <br> ٭ ٤ ربیع الثانی /٢٨ دسمبر : آج دوپہر جناب حکیم محمد رحمن صاحب آئے ۔ <br> ٭ ٦ ربیع الثانی /٣٠ دسمبر : آج ہشام مع والدہ دیوبند واپس ہوئے ١ <br> آج شام عشاء بعد حضرت مولانا خان محمد صاحب مدظلہم تشریف لائے <br> ٭ ٧ ربیع الثانی /٣١ دسمبر : آج امریکی کو نسلر رابرٹ دوپہر کے وقت آئے ڈھائی گھنٹہ یہاں رہے <br> سندھی طلبہ لیڈر بھی ساتھ تھے وغیرہ۔ آج شام عشاء بعد حضرت مولانا خان(محمد صاحب مدظلہم تشریف لائے) <br> چند روز ہوئے ڈاکٹر عبداللہ چغتائی ٢ کی وفات ہوئی رحمة اللہ علیہ (جاری ہے) <br> ١ ہشام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب کے پوتے اور احقر کے پھوپھی زاد بھائی۔ محمود میاں غفرلہ <br> ٢ یہ مرحوم علامہ اقبال کے بہت قریبی اور معتمد لوگوں میں تھے ان کی کتب کے محافظوں میں ان کا شمار ہوتا ہے حضرت والد صاحب کے پاس ایک یا دو دفعہ تشریف لائے باقی دیگر اہم اُمور کے لیے حضرت والد صاحب اور ان کے درمیان حضرت سیّد نفیس الحسینی شاہ صاحب واسطہ رہے احقر حضرت شاہ صاحب کو ہر بار اپنے ہمراہ گاڑی میں ان کی رہائشگاہ واقع گلبرگ میں لاتا لے جاتا رہا اور حضرت شاہ صاحب حضرت والد صاحب کو تمام تفصیلات پیش فرماتے رہے،بعض اہم باتیں ڈاکٹر صاحب نے زبانی ہی بتلائیں اور تحریر میں لانے سے اجتناب کرتے رہے۔ محمود میاں غفرلہ <br> شب ِبرا ء ت ............ فضائل و مسائل <br> ( حضرت مولانا نعیم الدین صاحب ، اُستاذ الحدیث جامعہ مدنیہ لاہور ) <br> ماہِ شعبان کی فضیلت : <br> یوں تو ہردن ہر مہینہ ہر سال ہی محترم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا ہے مگر کچھ دن اور مہینے ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے خاص فضیلت عطا کی ہے اُن میں سے ایک مہینہ شعبان المعظم کا بھی ہے اِس مہینہ کی اَحادیث ِمبارکہ میں بڑی فضیلت آئی ہے حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا '' شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ تعالیٰ کا '' ١ <br> حضرت اَنس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب رجب المرجب کا مہینہ شروع ہوتا تو آپ یوں دُعا فرماتے : یا اللہ رجب اور شعبان کے مہینے میں ہمارے لیے برکت فرما اور خیریت کے ساتھ ہم کو رمضان تک پہنچا۔'' ٢ <br> حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ''جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم (شعبان میں ) اِتنے زیادہ روزے رکھتے کہ ہم کہتے کہ اب آپ اِفطار نہ کریں گے اور کبھی آپ اِفطار کیے جاتے (یعنی روزے ہی نہ رکھتے) یہاں تک کہ ہم کہتے کہ اب آپ روزے نہیں رکھیں گے، ا ور میں نے آپ کو کسی مہینہ میں شعبان کے مہینے سے زیادہ (نفلی)روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔'' ٣ <br> اِس حدیث کے پیش ِنظر کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم شعبان کے مہینے میں کثرت سے روزے کیوں رکھتے تھے ؟ تواِس کی وجہ بھی حدیث میں موجود ہے چنانچہ ایک حدیث میں آتاہے کہ حضرت اُسامہ نے ایک مرتبہ آپ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم میں آپ کو شعبان میں زیادہ روزے رکھتے ہوئے دیکھتا ہوں اِس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ <br> ١ مسند فردوس دیلمی ٢ الدعوات الکبیر ج ٢ ص ١٤٢۔مشکوٰ ة ص ١٢١ ٣ بخاری و مسلم بحوالہ مشکوة ص ١٧٨ <br> ''شعبان ایسا مہینہ ہے جو رجب اور رمضان کے درمیان ہے لوگ اِس کی فضیلت سے غافل ہیں اِس مہینہ میں اللہ رب العالمین کے حضور میں لوگوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں ،میری آرزویہ ہے کہ جب میرے اعمال پیش ہوں تومیرا شمار روزہ داروں میں ہو۔'' ١ <br> شب ِبراء ت کی فضیلت : <br> ماہِ شعبان المعظم میں ایک رات آتی ہے جو بڑی فضیلت والی رات ہے اِس رات کے کئی نام ہیں (١) لَیْلَةُ الْبَرَائَ ةِ یعنی دوزخ سے بَری ہونے کی رات (٢) لَیْلَةُ الصَّکِّ یعنی دستاویز والی رات (٣) لَیْلَةُ الْمُبَارَکَةِ یعنی برکتوں والی رات ۔عُرفِ عام میں اِسے '' شب ِبرا ء ت'' کہتے ہیں ۔ شب کے معنی فارسی زبان میں رات کے ہیں اور براء ٰ ت عربی کا لفظ ہے جس کے معنی بری ہونے اور نجات پانے کے ہیں ،یہ شعبان کی پندرہویں شب کو ہوتی ہے احادیث ِمبارکہ میں اِس شب کی بڑی فضیلت آئی ہے حدیث میں آتاہے ''اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب کو آسمانِ دُنیا پر نزول فرماتے ہیں اور قبیلۂ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ گنہگاروں کی بخشش فرماتے ہیں ۔'' ٢ کہتے ہیں کہ عرب میں اس قبیلہ کے پاس تقریبًا بیس ہزار بکریاں تھیں ، اَندازہ فرمائیے کہ بیس ہزار بکریوں کے کتنے بال ہوں گے ؟ اُن کا شمار کرنا بھی انسان کے بس کی بات نہیں ، اس سے معلوم ہوا کہ اس رات میں اتنے لوگ دوزخ سے بری کیے جاتے ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ <br> ایک دُوسری حدیث میں آتاہے کہ ''جب شعبان کی پندرہویں شب آتی ہے تو(اللہ تعالیٰ کی طرف سے) ایک اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے کہ کیا کوئی بخشش کا طلبگارہے کہ میں اُس کو بخش دُوں ، کیا کوئی رزق مانگنے والا ہے کہ میں اُسے رزق دُوں ،کیا کوئی مصیبت زدہ ہے کہ میں اُسے (تکلیف) سے نجات دُوں ، کیا کوئی ایسا ہے ،کیا کوئی ایسا ہے ؟ غرض تمام رات اسی طرح دربار رہتا ہے اور عام بخشش کی بارش ہوتی رہتی ہے حتی کہ فجر ہو جاتی ہے (اور دربار برخاست ہوجاتاہے) ۔'' ٣ <br> ١ نسائی ج ١ ص ٢٥١ ٢ ترمذی ج ١ ص ١٥٦ و اِبن ما جہ ص ١٠٠ ٣ شعب الایمان ج ٣ ص ٣٨٣ <br> شب ِبرا ء ت میں کیا ہوتا ہے ؟ <br> حضورِ اَنور صلی اللہ عليہ وسلم اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں : <br> ''تمہیں معلوم ہے شعبان کی اس (پندرہویں )شب میں کیا ہوتا ہے ؟ اُنہوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کیا ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا اس رات میں یہ ہوتا ہے کہ اِس سال میں جتنے پیدا ہونیوالے ہیں وہ سب لکھ دیے جاتے ہیں اور جتنے اِس سال مرنے والے ہیں وہ سب بھی اِس رات میں لکھ دیے جاتے ہیں اور اِس رات میں سب بندوں کے اعمال(سارے سال کے) اُٹھائے جاتے ہیں اور اِسی رات میں لوگوں کی (مقررہ) روزی اُترتی ہے۔'' ٢ <br> ایک اعتراض اور اُس کا جواب : <br> یہاں ایک اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ روزی وغیرہ تو پہلے سے لوحِ محفوظ میں لکھی جا چکی ہے پھر اس کا کیامطلب کہ اِس شب میں انسان کو ملنے والی روزی لکھ دی جاتی ہے ؟ اس اعتراض کا جواب علماء نے یہ دیا ہے کہ اِس شب مذکورہ کاموں کی فہرست لوحِ محفوظ سے علیحدہ کرکے اُن فرشتوں کے سُپرد کردی جاتی ہے جن کے ذمہ یہ کام ہیں ۔الغرض اِس رات میں پورے سال کا حال قلم بند ہوتا ہے، رزق ،بیماری ،تنگی ،راحت وآرام، دُکھ،تکلیف حتی کہ ہروہ شخص جو اِس سال پیدا ہونے یا مرنے والا ہو اُس کا وقت بھی اِسی شب میں لکھا جاتا ہے۔ <br> ایک روایت میں ہے حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ اِس مہینے کی پندرہویں شب میں مَلکُ الموت (عزرائیل علیہ السلام) کو ایک رجسٹر دیا جاتا ہے اورحکم دیا جاتاہے کہ پورے سال میں مرنے والوں کے نام اِس رجسٹر سے نقل کرلو ۔کوئی آدمی کھیتی باڑی کرتاہے، کوئی نکاح کرتا ہے ، کوئی کوٹھی اور بلڈنگ بنوانے میں مشغول ہے مگر اُس کویہ بھی معلوم نہیں کہ میرا نام مُردوں کی فہرست میں لکھا جا چکا ہے۔ ٢ <br> ١ الدعوات الکبیر ٢/ ١٤٦ ، مشکوة ١/ ١١٥ ٢ لطائف المعارف ص ١٤٨ ، مصنف عبدالرزاق ٤/ ٣١٧ <br> حضور علیہ الصلٰوة والسلام کا پندرہویں شب میں معمول : <br> حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ : <br> ''ایک رات رسولِ اکرم صلی اللہ عليہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور لباس تبدیل فرمانے لگے لیکن پورا لباس اُتارا نہ تھا کہ پھر کھڑے ہو گئے اور لباس زیب ِتن فرمایا ،اِس پر مجھے سخت رشک آیا اور گمان ہوا کہ آپ میری کسی سوکن کے یہاں جا رہے ہیں ، آپ کی روانگی کے بعد میں بھی پیچھے پیچھے چلی، یہاں تک کہ میں نے آپ کو ''بقیعِ غرقد''(جنت البقیع)میں اِس حالت میں دیکھا کہ آپ مسلمان مردوزَن اور شہداء کے لیے مغفرت طلب فرمارہے ہیں ۔یہ دیکھ کر میں نے دل میں کہا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ! آپ اللہ کے کام میں مشغول ہوں اور میں دُنیاوی کام میں لگی ہوئی ہوں اس کے بعد میں لوٹ کر اپنے حجرہ میں آئی،میں لمبی لمبی سانس لے رہی تھی کہ اتنے میں آپ تشریف فرماہوئے اور فرمایاعائشہ کیا بات ہے سانس کیوں پُھول رہا ہے ؟ میں نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ تشریف لا کر لباس تبدیل فرمانے لگے،ابھی لباس اُتارنے بھی نہ پائے تھے کہ دوبارہ لباس زیبِ ِتن کیا، اِس پر مجھے رشک آیا اور خیال ہوا کہ آپ کسی اور زوجہ کے گھر تشریف لے جارہے ہیں تاآنکہ میں نے آپ کو قبرستان میں دُعا میں مشغول دیکھا ، اِس پر آپ نے اِرشاد فرمایا : ا ے عائشہ ! کیا تمہیں یہ خوف ہے کہ اللہ اور اُس کا رسول تم پر کوئی ظلم وزیادتی کرے گا ؟ <br> واقعہ یہ ہے کہ جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے اُنہوں نے کہا کہ آج شعبان کی پندرہویں شب ہے جس میں قبیلۂ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد کے برابر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مغفرت فرماتے ہیں اور مشرک ،کینہ ور ،قطع تعلقی کرنے والے ، بدسلوک، غرور سے زمین پر لباس گھسیٹ کر چلنے والے، والدین کے نافرمان اورعادی شراب خور کی طرف اِس شب نظرِ کرم نہیں فرماتے اِس کے بعد آپ نے لباس اُتارا اور فرمایا اے عائشہ شب بیداری کی اِجازت ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں میرے ماں باپ آپ پر قربان بصد ِشوق،چنانچہ آپ کھڑے ہوگئے او ر عبادت کرنے لگے، دورانِ نماز ایک بڑا لمبا سجدہ کیا جس پر مجھے آپ کی قبضِ رُوح کا گمان ہوا، میں اُٹھ کر آپ کو دیکھنے بھالنے لگی،میں نے آپ کے تلووں کو ہاتھ لگایا تو اُن میں حرکت تھی، اِس پر مجھے خوشی ہوئی، میں نے آپ کوسجدہ میں یہ دُعا کرتے سُنا : <br> اَعُوْذُ بِعَفْوِکَ مِنْ عِقَابِکَ وَاَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْکَ <br> جَلَّ وَجْہُکَ لَآ اُحْصِیْ ثَنَائً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکْ <br> صبح کو میں نے آپ سے اِن دُعائوں کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا کہ اِن دُعائوں کو یاد کرلو اور دُوسروں کو بھی اِن کی تعلیم دو کیونکہ جبرئیل علیہ السلام نے مجھے یہ دُعائیں سکھائیں اور کہاکہ سجدہ میں یہ مکرر سہ کرر پڑھی جائیں ۔'' (ماثبت بالسنة ص ١٧٣) <br> شب ِبراء ت میں کن لوگوں کی بخشش نہیں ہوتی ؟ : <br> بہت سی حدیثوں میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ کچھ بد نصیب لوگ ایسے ہیں کہ اِس برکت والی رات میں بھی رحمت ِخداوندی سے محروم رہتے ہیں اور اُن پر نظرِ عنایت نہیں ہوتی ۔ذیل میں ایسے بدقسمت لوگوں کی فہرست پیش کی جاتی ہے تاکہ لوگوں کو عبرت حاصل ہو : (١) مُشرک(٢)جادُوگر (٣)کاہن ونجومی(٤ ) بغض اور کینہ رکھنے والا (٥)جلّاد(٦)ظُلم سے ٹیکس وصول کرنے والا (٧)باجا بجانیوالا اور اُن میں مصروف رہنے والا (٨) جُوا کھیلنے والا (٩) ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے والا (١٠) زانی مرد وعورت(١١) والدین کا نافرمان (١٢) شراب پینے والا اور اُس کا عادی (١٣) رشتہ داروں اور مسلمان بھائی سے ناحق قطع تعلقی کرنے والا ۔ <br> یہ وہ بدقسمت لوگ ہیں جن کی اِس بابرکت رات میں بھی بخشش نہیں ہوتی اور رحمت ِخداوندی سے محروم رہتے ہیں اِس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے گریبان میں منہ ڈالے اور غور وفکر کرے کہ کہیں اِن عیبوں میں سے میرے اندر تو کوئی عیب اور بُرائی نہیں ، اگر ہو تو اُس سے توبہ کرے اور حق تعالیٰ کی طرف رُجوع کرے ،یہ خیال نہ کرے کہ میرے اتنے اور ایسے گناہ کیسے معاف ہوں گے، یہ شیطانی خیال ہے ۔ <br> پندرہویں شعبان کے روزہ کا حکم : <br> آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم شعبان میں کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے اور دُوسروں کوبھی اِس کی ترغیب دیتے تھے،خاص طورپر پندرہویں شب کے روزے کے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ سے آپ کا یہ اِرشاد منقول ہے کہ''جب شعبان کی پندرہویں شب آئے تو رات کو قیام کرو (یعنی نمازیں پڑھو) اور (اگلے)دن کا روزہ رکھو۔''(اِبن ماجہ) <br> شب ِبراء ت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کن کاموں سے بچنا چاہیے ؟ <br> (١) اِس رات میں قیام کرنا یعنی نوافل پڑھنا مستحب ہے (٢) قبرستان جانا اور مسلمان مرد وزَن کے لیے ایصالِ ثواب کرنا مستحب ہے(٣) اگلے دن کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔ <br> اِس شب میں صلٰوة التسبیح پڑھیں ،تہجد پڑھیں اور اِس بات کا خاص خیال رکھیں کہ عشاء اور فجر کی نماز ضرور جماعت کے ساتھ اَدا کریں ،ایسا نہ ہو کہ نفلوں میں تو لگے رہیں اور فرائض چھوٹ جائیں ۔ <br> حضور علیہ الصلٰوة والسلام اکیلے قبرستان گئے تھے اِس لیے اکیلے جائیں اور صرف مرد جائیں عورتیں نہ جائیں ، عورتوں کا قبرستان جانا جائز نہیں ۔ <br> بہترہے کہ شعبان کی ١٣، ١٤ اور ١٥ تینوں دن کے روزے رکھ لیے جائیں اِنہیں '' اَیَّامِ بِیْض'' کہتے ہیں اور اِن دنوں میں روزہ رکھنے کا بہت ثواب ہے۔ <br> اِس شب میں آتش بازی ہرگزنہ کی جائے اِس کاسخت گناہ ہے اور یہ ہندوئوں کا کام ہے نہ کہ مسلمانوں کا،چراغاں نہ کیا جائے کیونکہ اوّل تو یہ شریعت سے ثابت نہیں دُوسرے اِس میں اِسراف ہے، بہت سے لوگ اِس شب میں بجائے عبادت کے حلوے مانڈے میں مصروف ہوجاتے ہیں ، شریعت سے اِس شب حلوہ وغیرہ پکانے کا کوئی ثبوت نہیں ، بہت سے لوگ مسجد میں اکٹھے ہو کر شوروغوغا کرتے ہیں اِس سے بچا جائے اِس کا سخت گناہ ہے، بہتر یہ ہے کہ نفلی عبادت خُفیہ کی جائے کہ دُوسرے کو پتہ نہ چلے، آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم اور صحابہ کرام اِس شب میں اِس طرح مسجد میں اکٹھے نہیں ہوتے تھے سب اپنے گھر و ں میں ہی عبادت کرتے تھے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین <br> جامعہ مدنیہ جدید میں تقریب تکمیلِ بخاری شریف <br> ( مولانا محمد حسین صاحب ،مدرس جامعہ مدنیہ جدید ) <br> ''صفہ ''اسلام کا پہلا مدرسہ ہے جس کو ہمارے آقا مدنی کریم صلی اللہ عليہ وسلم نے قائم فرمایا اور اصحابِ صفہ اِس کے پہلے طلبائِ علوم تھے اور حضور اکرم صلی اللہ عليہ وسلم اس کے پہلے معلم۔ ''جامعہ مدنیہ جدید '' کے دارُالحدیث سے بلند ہونے والی صدا قَالَ اللّٰہُ وَقَالَ الرَّسُوْلُ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جامعہ مدنیہ جدید صرف ایک علمی ادارہ نہیں بلکہ کلمہ حق کی بلندی کے لیے ایک علمی اور اصلاحی اسلامی تحریک ہے، ادارہ ہر قسم کے تعصبات سے ہٹ کر قرآن و حدیث کے علوم اور ائمہ فقہ کے فقہی اصولوں کی اشاعت کے ذریعے علم کی روشنی پھیلا رہا ہے۔ <br> حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب رحمة اللہ علیہ نے پینسٹھ برس قبل جامعہ و خانقاہ کی بنیاد رکھی جس کے قیام کا مقصد قرآن و حدیث کے علوم کی اشاعت، فقہی اصولوں کا تعارف ، مسلمان نوجوانوں کو اسلامی تہذیب سے آراستہ کرنا، زندگی کے تمام شعبوں میں ماہر علماء اور مفکرین تیار کرنا جو علیٰ وجہ البصیرت دعوت و تبلیغ اور تحقیق کا کام کر سکیں ۔ <br> جامعہ مدنیہ جدید روزِ اوّل سے ہی تعلیمی، تبلیغی اور تربیتی بنیادوں پر قائم ہے جامعہ سے متصل خانقاہِ حامدیہ میں تعلیم کے ساتھ ساتھ اصلاحی تربیت کا بھی بھرپور اہتمام کیا جاتا ہے جس کے لیے باقاعدہ خانقاہی نظام قائم ہے اس کے علاوہ جدید علوم سے بھرپور اِستفادہ کے لیے بھی مختلف شعبہ جات قائم ہیں جو جامعہ مدنیہ جدید کے مہتمم و شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب دامت برکاتہم کی زیر نگرانی و سربراہی میں خوب کام کر رہے ہیں ، والحمد للہ۔ <br> پچپنویں (٥٥) تکمیل ِبخاری شریف کی تقریب ١٦ رجب ١٤٤٠ھ/٢٤ مارچ ٢٠١٩ء بروز اتوار جامعہ کی مسجد ِ حامد رائیونڈ روڈ لاہور میں منعقد ہوئی ، صرف تیرہ برس میں جامعہ مدنیہ جدید سے گیارہ سو علماء سند ِفضیلت حاصل کر کے ملک و بیرون ملک دینی خدمات میں مصروف ہیں ، والحمد للہ۔ <br> آج حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب دامت برکاتہم کی زیر صدارت دورۂ حدیث شریف کے طلباء کو بخاری شریف کی آخری حدیث پڑھانے کے لیے مسجد حامد میں محفل منعقد کی گئی تھی، طلباء سروں پر عمامے باندھے صحیح بخاری اپنے سامنے تپائیوں پر سجائے اسٹیج کے سامنے موجود تھے مسجد کی غربی جانب اساتذہ اور مشائخ کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا، مسجد کا اندورنی ہال طلباء اور مہمانوں کے اِزدھام کی وجہ سے اپنی تمام تر وسعت کے باوجود تنگ پڑ گیا، لوگوں کی تعداد مزید بڑھنے پر مسجد کے برآمدہ میں بیٹھنے کا انتظام کیا گیا، نظم و ضبط دیدنی تھا، چاق و چوبند طلباء کی ایک جماعت مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے مسجد کے مرکزی دروازہ پر موجود تھی، گاڑیوں کی سلیقہ سے پارکنگ کروانے کے لیے طلباء کی ایک فعال جماعت موجود تھی، مسجد کے داخلی دروازہ پر جامعہ کے شعبہ مالیات اور شعبہ ڈیجیٹل لائبیریری کا سٹال موجود تھا، طلباء کے والدین اور سرپرست حضرات خاص طور پر اس تقریب میں مدعو تھے۔ <br> مسجد کی اندرونی دیواروں پر شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی رحمة اللہ علیہ اور بانی ٔ جامعہ حضرت مولانا سیّدحامد میاں صاحب رحمة اللہ علیہ کے ملفوظات سے مزین فلیکس آویزاں تھے اور بیرونی دیواروں پر طلباء کی طرف سے معزز مہمانوں کے لیے استقبالیہ فلیکس آویزاں تھے۔ <br> تقریب کا آغاز بعد نمازِ ظہر تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، بعد ازاں نعت رسولِ مقبول جامعہ کے طالب علم عمرفاروق اور فاضل ِجامعہ مولوی محمد خبیب نے پیش کیں ، فضلائِ جامعہ مولانا غلام اللہ عرف میواتی برادران نے جامعہ کے بارے میں نظم سنائی اس کے بعد اُستاذ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب مدظلہم کا اصلاحی بیان ہوا اس کے بعد راقم الحروف نے جامعہ مدنیہ جدید کا مختصر تعارف پیش کیا اور احباب کو توجہ دلائی گئی کہ جامعہ مدنیہ جدید و مسجد ِ حامد کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں کہ اِس ادارہ میں الحمد للہ تعلیم اور تعمیر دونوں کام بڑے پیمانے پر جاری ہیں ، جامعہ اور مسجد کی تکمیل محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اہلِ خیر حضرات کی دعاؤں اور تعاون سے ہوگی، اس مبارک کام میں آپ خود بھی خرچ کیجئے اور اپنے عزیز و اَقارب کو بھی ترغیب دیجئے تاکہ صدقہ جاریہ کا سامان ہو۔ <br> شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب مدظلہم نے طلباء کو بخاری شریف کی آخری حدیث پڑھائی اور سیر حاصل تقریر فرمائی جوکہ اگلے ماہ انشاء اللہ شائع ہوگی بعد ازاں تمام اساتذۂ کرام نے طلباء کو دستارِ فضیلت پہنائی، طلباء اور اُن کے والدین و سرپرست حضرات کی خوشی دیدنی تھی۔ <br> جامعہ مدنیہ جدید کی طرف سے سند حاصل کرنے والے طلباء کو کتب تحفہ میں دی گئیں ، انتظامیہ کی طرف سے آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہا گیا، بعد ازاں حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب مدظلہم کی رِقت آمیز دُعا پر مجلس کا اختتام بخیر و خو بی ہوا ۔ <br> شعبہ کمپیوٹر کی جانب سے اس تقریب کی صرف آڈیو سنانے کے لیے براہ ِ راست آن لائن کا انتظام کیا گیا تھا <br> اس مبارک تقریب کی مکمل کار روائی جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ پر ملا حظہ فرما سکتے ہیں <br> www.jamiamadniajadeed.org <br> ( شب ِ براء ت کی مسنون دُعا ) <br> حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کو میں نے شب ِ برا ء ت سجدہ میں یہ دُعا کرتے سُنا <br> اَعُوْذُ بِعَفْوِکَ مِنْ عِقَابِکَ وَاَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْکَ <br> جَلَّ وَجْہُکَ لَآ اُحْصِیْ ثَنَائً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکْ <br> '' اے اللہ ! میں پناہ طلب کرتا ہوں آپ کے عفووکرم کے صدقے آپ کی سزا سے اورمیں پناہ طلب کرتاہوں آپ کی رضا کے صدقے آپ کی ناراضگی سے اور میں پناہ طلب کرتا ہوں آپ کے صدقے آپ کی پکڑ سے ، آپ کی ذات بزرگی والی ہے ، میں آپ کی تعریف کا حق اَدا نہیں کرسکتا آپ تو ایسے ہی ہیں جیسے آپ نے خود اپنی تعریف کی ہے۔ '' <br> صبح کو میں نے آپ سے اِن دُعائوں کا تذکرہ کیا تو فرمایا کہ اِن دُعائوں کو یاد کرلو اور دُوسروں کو بھی اِن کی تعلیم دو کیونکہ جبرئیل علیہ السلام نے مجھے یہ دُعائیں سکھائیں اور کہاکہ سجدہ میں یہ مکرر سہ کرر پڑھی جائیں ''۔ (ما ثبت بالسنة ص ١٧٣) <br> اخبار الجامعہ <br> ( جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد رائیونڈ روڈ لاہور ) <br> ٨ مارچ بروز جمعہ شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب مدظلہم قاضی حمیداللہ جان صاحب کے صاحبزادے مفتی کفایت اللہ صاحب کی دعوت پر تقریب ختم بخاری شریف میں شرکت کے لیے مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ تشریف لے گئے، مدرسہ کے مہتمم مفتی کفایت اللہ صاحب کی خواہش پر نمازِ جمعہ کا خطبہ بھی دیا اور خطبہ میں عصری علوم اور انبیاء اکرام کی فضیلت پر بیان فرمایا ،بعد نمازِ جمعہ تقریب ِ ختم ِ بخاری شریف شروع ہوئی حضرت نے بخاری شریف کی آخری حدیث مبارکہ کا درس دیا اور فارغ التحصیل طلباء کرام کی دستاربندی فرمائی اور اختتامی دُعا کرائی۔ <br> اِسی دن بعد نمازِ مغرب سیالکوٹ میں مشکوة شریف کے پروگرام میں شرکت کرنی تھی اس لیے حضرت نے مدرسہ انوارُالعلوم کے اساتذہ کرام سے اجازت چاہی اور سیالکوٹ کے لیے روانہ ہوئے، بعد نمازِ مغرب جامعہ دارُالعلوم اقبالیہ تلوازہ سیالکوٹ پہنچ گئے حضرت نے مشکوة شریف کی آخری حدیث کا درس دیا اور فارغ ہونے والے طلبائِ کرام میں اسناد تقسیم کیں اور اختتامی دُعا کرائی۔ <br> بعد ازاں جامعہ کے فاضل مولانا انعام الحق صاحب کی خواہش پر کچھ دیر کے لیے اُن کے گھر تشریف لے گئے اور رات دو بجے بخیر و عافیت واپس جامعہ مدنیہ جدید پہنچ گئے۔ <br> ١٠ مارچ بروز اتوار بعد نمازِ عشاء شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب مدظلہم مفتی عمر فاروق صاحب کی دعوت پر تقریب ختم ِبخاری للبنات رنگیل پور،سُندرا سٹیٹ تشریف لے گئے جہاں آپ نے بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیتے ہوئے ایمان کی اہمیت اور فضیلت کے موضوع پر بیان فرمایا۔ <br> ٢٠ مارچ بروز بدھ بعد نمازِ مغرب شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب مدظلہم فاضل جامعہ مولانا سیف اللہ صاحب کی دعوت پر دودہ شریف ضلع سرگودھا تشریف لے گئے جہاں آپ نے مدرسہ آلِ محمد میں تکمیل حفظِ قرآن کی پُروقار تقریب میں قرآنِ مجید کی فضیلت کے موضوع پر بیان فرمایا، بعد ازاں پروگرام کے بعد حضرت کے ہاتھ پر کثیر تعداد میں لوگ بیعت ہوئے۔ <br> ٢١ مارچ بروز جمعرات بعد نمازِ ظہر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمود میاں صاحب مدظلہم فاضل جامعہ مولانا زکریا صاحب کی دعوت پر تقریب ِ ختم بخاری میں شرکت کے لیے کوٹ مہتاب خان ضلع قصور تشریف لے گئے جہاں آپ نے بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیا اور اختتامی دُعا کرائی <br> ٢١ مارچ بروز جمعرات شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب مدظلہم، مفتی رشید صاحب کی دعوت پر تخصص فی الافتاء سے فارغ التحصیل طلباء کرام کی تقریب میں شرکت کی غرض سے اوکاڑہ تشریف لے گئے ،جامع مسجد حق چار یار میں حضرت نے ''علمائے کرام انبیاء کرام کے وارث ہیں '' کو موضع بنا کر دورِحاضر میں علمائِ کرام کی اہمیت پر نہایت مدلل بیان فرمایا، بعد ازاں حضرت نے مفتی صاحب کی خواہش کو مد نظر رکھتے ہوئے طلبائِ کرام کی دستار کی اور اختتامی دُعا کرائی۔ <br> ١٥ رجب المرجب ١٤٤٠ھ/٢٣ مارچ ٢٠١٩ء کوجامعہ مدنیہ جدید میں سالانہ اِمتحانات کا انعقاد ہوا اور ٢١رجب المرجب /٢٩مارچ سے جامعہ میں سالانہ تعطیلات ہو ئیں ۔ <br> ٢٣ مارچ بروز ہفتہ دن کے گیارہ بجے شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب فاضل جامعہ مدنیہ جدید مولانا سعد کلیم صاحب کی دعوت پر مدرسہ خدیجة الکبریٰ للبنات میں تقریب ِ ختم بخاری شریف کے پروگرام میں شرکت کے لیے کیولری گراؤنڈ تشریف لے گئے جہاں آپ نے طالبات کو بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیا اور آسمانی علوم کے موضوع پر بیان فرمایا، وہاں سے حضرت نمازِ ظہر کے بعد مولانا محمود اشرف صاحب کی دعوت پر تکمیل ِ حفاظِ کرام کے پروگرام میں شرکت کے لیے جلیانہ ملتان روڈ تشریف لے گئے جہاں آپ نے انبیاء کرام کی اہمیت اور فضیلت کے موضوع پر بیان فرمایا۔ <br> ١٦ رجب المرجب ١٤٤٠ھ/٢٤ مارچ ٢٠١٩ء بروز اتوار دوپہر دوبجے جامعہ مدنیہ جدید میں تکمیل بخاری شریف کی پُروقار تقریب منعقد ہوئی، شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب مدظلہم نے طلباء کو بخاری شریف کی آخری حدیث پڑھائی اور سیر حاصل تقریر فرمائی ، اس موقع پر اساتذہ نے طلباء کرام کو دستارِ فضیلت سے نوازا،ملک بھر سے فاضلین کے عزیزو اَقارب اور علمائِ کرام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ <br> ٢٥ مارچ بروز پیر شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب ،فاضل ِ جامعہ مدنیہ جدید مولانا ندیم صاحب کی دعوت پر ماڑی کلاں نارنگ منڈی ضلع شیخوپورہ تشریف لے گئے بعد نمازِ مغرب حضرت نے جامعہ حفصہ و جامعہ حیدریہ علی المرتضیٰ میں تقریب ِ حفاظ کرام کے پروگرام میں شرکت فرمائی اوراللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو ،کے موضوع پر بیان فرمایا۔ <br> ٭ <br> ٢٩ رجب ١٤٤٠ھ/٦ اپریل ٢٠١٩ء کو اِمتحانی مرکزجامعہ مدنیہ جدید میں وفاق المدارس کے سالانہ اِمتحانات منعقد ہوکر ٤ شعبان ١٤٤٠ھ/١١ اپریل ٢٠١٩ء کو اختتام ہوگا جس میں جامعہ کے کل168 طلباء شرکت کریں گے ۔ <br> ٦ شعبان المعظم١٤٤٠ھ /١٣اپریل ٢٠١٩ء بروز ہفتہ سے حسب ِسابق جامعہ مدنیہ جدید میں حضرت مولانا محمدحسن صاحب مدظلہم اِنشاء اللہ دورۂ صرف ونحو کرائیں گے،اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ <br> ٦ شعبان المعظم١٤٤٠ھ /١٣اپریل ٢٠١٩ء بروز ہفتہ سے جامعہ مدنیہ جدید میں علماء و طلباء کے لیے جامعہ کے فاضل مولانا ذیشان صاحب چشتی کی زیر نگرانی''21 روزہ کمپیوٹر کورس'' کا آغاز ہوگا اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ <br> وفیات <br> ٣ مارچ کو جامعہ مدنیہ لاہور کے سابق اُستاذالحدیث حضرت مولانا کریم اللہ خان صاحب کے صاحبزادے، جامعہ مدنیہ لاہور کے قدیم فاضل، جامعہ مدنیہ جدید کے اُستاذ الحدیث حضرت مولانا امان اللہ خان صاحب مدظلہم کے بڑے بھائی حضرت مولانا قاری احسان اللہ صاحب طویل علالت کے بعد دامان ضلع اٹک میں انتقال فرماگئے۔ <br> ٢١مارچ کو ڈاکٹر سعید مستنصر صاحب طویل علالت کے بعد انتقال فرما گئے ڈاکٹر صاحب بابو عبدالغفور صاحب مرحوم کے داماد تھے جو کہ خواتین کا ماہنامہ 'حور'' لاہور سے شائع کیا کرتے تھے اور حضرتبانی جامعہ کے اوّلین رفقاء میں تھے۔ <br> ٢٧ مارچ کو مولانا مفتی سیّد مظہر صاحب کے چھوٹے بھائی اور فاضل ِجامعہ مولانا عتیق اصغر صاحب کے ماموں بہاولپور میں وفات پا گئے۔ <br> اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ <br> اللہ تعالیٰ جملہ مرحومین کی مغفرت فرماکر آخرت کے بلند درجات عطا فرمائے اور اُن کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔ <br> جامعہ مدنیہ جدید اور خانقاہِ حامدیہ میں جملہ مرحومین کے لیے ایصالِ ثواب اور دُعائے مغفرت کرائی گئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ، آمین۔ <br> جامعہ مدنیہ جدید و مسجد حامد <br> کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیجیے <br> بانی ٔجامعہ حضرت اَقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب رحمہ اللہ نے جامعہ مدنیہ کی وسیع پیمانے پر ترقی کے لیے محمد آباد موضع پاجیاں (رائیونڈ روڈلاہور نزد چوک تبلیغی جلسہ گاہ) پر برلب ِسڑک جامعہ اور خانقاہ کے لیے تقریباً چوبیس ایکڑ رقبہ ١٩٨١ء میں خرید کیا تھا جہاں الحمد للہ تعلیم اور تعمیر دونوں کام بڑے پیمانہ پر جاری ہیں ۔ جامعہ اور مسجد کی تکمیل محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی طرف سے توفیق عطاء کیے گئے اہلِ خیر حضرات کی دُعائوں اور تعاون سے ہوگی، اِس مبارک کام میں آپ خود بھی خرچ کیجیے اور اپنے عزیزواَقارب کو بھی ترغیب دیجیے۔ ایک اندازے کے مطابق مسجد میں ایک نمازی کی جگہ پر دس ہزار روپے لاگت آئے گی، حسب ِاستطاعت زیادہ سے زیادہ نمازیوں کی جگہ بنوا کر صدقہ ٔ جاریہ کا سامان فرمائیں ۔ <br> منجانب <br> سیّد محمود میاں مہتمم جامعہ مدنیہ جدید و اَراکین اورخدام خانقاہ ِحامدیہ <br> خطوط ،عطیات اور چیک بھیجنے کے پتے <br> سیّد محمود میاں '' جامعہ مدنیہ جدید'' محمد آباد19 کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور <br> فون نمبر : 04235399051 04235399052 <br> موبائل نمبر : 923334249301+ <br> جامعہ مدنیہ جدید کا اکاؤنٹ نمبر (0095402010079150) MCB کریم پارک برانچ لاہور <br> مسجد حامد کا اکاؤنٹ نمبر (0095404010010461) MCB کریم پارک برانچ لاہور <br> انوار مدینہ کا اکاؤنٹ نمبر (0095402010079142) MCB کریم پارک برانچ لاہور <br>

Have a question?

Email us your queries on jamiamadniajadeed@gmail.com you will be answered in less than 24 hours or Give us a call directly at +92 333 4249302, +92 333 4249 301.