ماہنامہ انوار مدینہ <br> جلد : ٣٤ شوال المکرم ١٤٤٧ھ / اپریل ٢٠٢٦ء شمارہ : ٤ <br> ٭٭٭ <br> بیاد : قطب الاقطاب عالم ربانی محدث کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں <br> فیضانِ نظر : محمود الملّة و الدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں <br> مولانا نعیم الدین صاحب ( مدیر اعلیٰ ) <br> مولانا محمد عابد صاحب ( نائب مدیر) مولانا عکاشہ میاں صاحب(مدیر مسئول) <br> ڈاکٹر محمد امجد صاحب (مدیر منتظم) <br> ٭٭٭ <br> <br> <br> <br> <br> بدلِ اشتراک <br> ٭٭٭ <br> پاکستان فی پرچہ 50 روپے ....... سالانہ 600 روپے <br> سعودی عرب،متحدہ عرب امارات..... سالانہ 90 ریال <br> برطانیہ،افریقہ ........................ سالانہ 20 ڈالر <br> امریکہ .................................. سالانہ 30 ڈالر <br> <br> <br> <br> <br> جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ اور ای میل ایڈ ریس <br> ٭٭٭ <br> www.jamiamadniajadeed.org <br> jmj786_56@hotmail.com <br> Whatsapp : +92 333 4249302 <br> <br> <br> <br> <br> ترسیل ِزر و رابطہ کے لیے <br> ٭٭٭ <br> '' جامعہ مدنیہ جدید'' محمد آباد19 کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور <br> موبائل : 33342493010 <br> موبائل : 33342493020 <br> موبائل : 32342500270 <br> جازکیش نمبر : 30445877510 <br> <br> <br> <br> <br> دارُالافتاء کا ای میل ایڈ ریس اور وٹس ایپ نمبر <br> ٭٭٭ <br> darulifta@jamiamadniajadeed.org <br> Whatsapp : +92 321 4790560 <br> <br> <br> <br> <br> مولاناسیّد رشید میاں صاحب طابع وناشر نے شرکت پرنٹنگ پریس لاہور سے چھپواکر دفتر ماہنامہ ''انوارِ مدینہ '' نزد جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور سے شائع کیا <br> <br> <br> <br> <br> اس شمارے میں <br> ٭٭٭ <br> حرفِ آغاز ٤ <br> قنوتِ نازلہ (دعائِ مصیبت) حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ٧ <br> درسِ حدیث حضرت اقدس مولانا سیدحامد میاں صاحب ١١ <br> سیرتِ مبارکہ ..... قُصَیّ کے جانشین حضرت اقدس مولانا سید محمد میاں صاحب ١٥ <br> مقالاتِ حامدیہ ..... مجاہدین اسلام کے لیے خاص دعائیں حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ٢٦ <br> خطبات سید محمود میاں ... تین آدمی ، دُگنا ثواب حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ٣٠ <br> فضیلت کی راتیں (قسط :٤ ، آخری) حضرت مولانا نعیم الدین صاحب ٣٧ <br> درسِ حدیث ... بین الاقوامی سفارتی قوانین حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ٤٦ <br> اخبار الجامعہ ٦٢ <br> وفیات ٦٤ <br> اہم اعلان ٦٥ <br> <br> <br> <br> <br> دعائِ صحت کی اپیل <br> ٭٭٭ <br> حضرت مولانا سید رشید میاں صاحب مدظلہم (مہتمم جامعہ مدنیہ لاہور) بوجہ عارضہ قلب بیمار ہیں ،قارئین کرام سے ان کی مکمل صحت یابی کے لیے دعائِ صحت کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ حضرت صاحب کی عمر میں برکت عطاء فرماکر صحت و سلامتی عطافرمائے آمین جامعہ اور خانقاہ حامدیہ میں ان کی صحت کے لیے خصوصی دعا کی گئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے <br> <br> <br> <br> <br> موجودہ عالمی جنگ اور پاکستان کی ذمہ داریاں <br> ٭٭٭ <br> نَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْدُ ! <br> دنیا اس وقت ایک نہایت نازک اور کشیدہ دور سے گزر رہی ہے اگرچہ بظاہر کوئی باقاعدہ عالمی جنگ (World War)شروع نہیں ہوئی، لیکن مختلف خطوں میں جاری جنگیں ، بڑی طاقتوں کی پراکسی لڑائیاں ، معاشی پابندیاں ، اسلحہ کی دوڑ اور سفارتی کشیدگیاں ایسی فضا پیدا کر چکی ہیں جسے ماہرین ''نئی عالمی سرد جنگ '' یا ''تیسری عالمی جنگ ''کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں ! <br> موجودہ عالمی کشیدگی کی بڑی وجوہات میں چند اہم تنازعات شامل ہیں : <br> (١) روس اور یوکرین کی جنگ : اس جنگ نے دنیا کو دو بڑے بلاکس میں تقسیم کر دیاہے،ایک طرف امریکہ اور یورپی ممالک ہیں تو دوسری طرف روس، چین اور اُن کے اتحادی ممالک ! <br> (٢) اسرائیل اور فلسطین (غزہ)کی جنگ : اس جنگ نے صورتِ حال کو مزید خطرناک بنا دیا ہے کیونکہ اس میں براہ ِراست یا بالواسطہ طور پر کئی ممالک شامل ہو چکے ہیں ! <br> روس،یوکرین،اسرائیل،فلسطین،ایران،امریکہ یہ ممالک براہِ راست اس جنگ میں شریک ممالک شمار ہورہے ہیں جبکہ نیٹو ممالک،خلیجی ممالک،یمن، شام، عراق (پراکسی جنگوں کی وجہ سے) بالواسطہ اس جنگ میں شریک ممالک شمار کیے جارہے ہیں ! ! <br> (٣) امریکہ اور چین کی بڑھتی ہوئی کشیدگی (٤) مشرق وسطی میں ایران اور اسرائیل کی کشیدگی <br> (٥) شام، یمن اور لیبیا کی خانہ جنگیاں <br> حقیقت یہ ہے کہ اس موجودہ جاری جنگ سے تقریباً پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے خصوصاً پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، افریقی ممالک اور چندیورپی ممالک ! <br> اگر یہ عالمی کشیدگی اسی طرح جاری رہی تو اس کے خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں مثلاً دنیا میں گندم، تیل اور دیگر اجناس کی قلت پیدا ہوگی اور مہنگائی، بے روزگاری اور غربت میں بھی اضافہ ہوگا <br> اگر بڑی طاقتیں براہِ راست جنگ میں آ گئیں تو ایٹمی جنگ کا خطرہ موجود ہے جو پوری انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا ! دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو رہی ہے ، ایک بلاک امریکہ و یورپ، دوسرا بلاک روس و چین بنتا جارہاہے اس سے نئی سرد جنگ شروع ہو سکتی ہے ! چونکہ زیادہ تر جنگیں مسلم ممالک میں ہو رہی ہیں اس لیے سب سے بڑھ کر ان جنگوں سے مسلم دنیا مزید کمزور ہو رہی ہے ! ! <br> پاکستان نے اس عالمی کشیدگی میں اب تک براہِ راست کسی جنگ میں حصہ نہیں لیا بلکہ اس نے زیادہ تر سفارتی اور مصالحتی کردار ادا کیا ہے ! پاکستان کے اہم کردار پر نظر ڈالیں تو <br> (١) روس اور یوکرین جنگ میں پاکستان نے غیر جانبدارانہ پالیسی اختیار کی (٢) پاکستان نے فلسطین کے مسئلے پر کھل کر آواز اٹھائی اور انسانی امداد بھی بھیجی (٣) پاکستان نے اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کی کوشش کی (٤) پاکستان نے امن مذاکرات اور جنگ بندی کی حمایت کی (٥) پاکستان خود بھی معاشی طور پر اس جنگ سے متاثر ہوا <br> پاکستان کی پالیسی کو عموماً(Balanced Foreign Policy) کہا جارہا ہے یعنی کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے توازن قائم رکھنا ! ! <br> ایک مسلمان اور ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم امن کے لیے دعا کریں ،باہمی اتفاق و اتحاد پیدا کریں ،فرقہ واریت سے بچیں ،معاشی طور پر خود کو مضبوط کریں ، تعلیم اور ٹیکنالوجی پر توجہ دیں ،امت ِمسلمہ کے مسائل کاادراک اور اس کے حل کا شعور پیدا کریں ! ! <br> موجودہ عالمی حالات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ دنیا ایک بڑے عالمی تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے ! اگر عالمی طاقتوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو یہ کشیدگی ایک بڑی عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے ! ایسے حالات میں پاکستان کو نہایت دانشمندانہ، متوازن اور امن پر مبنی پالیسی اختیار کرنی چاہیے کیونکہ پاکستان کا استحکام ہی خطے کے استحکام کی ضمانت ہے ! ! <br> موجودہ دور فکری انتشار، سیاسی کشمکش اور عالمی بے چینی کا دور ہے، ایسے حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمِ اسلام اتفاق و اتحاد اور معیشت و ٹیکنالوجی کے میدان میں مضبوط ہو،جب تک ایسا نہیں ہوگا اس وقت تک وہ دنیا میں موثر کردار ادا نہیں کر سکے گا ! ! <br> یہ سطور اسی احساس کو اُجاگر کرنے کی ایک کوشش ہے کہ ہم اپنی دینی، اخلاقی اور عالمی ذمہ داریوں کو پہچانیں اور امت ِمسلمہ نیز تمام انسانیت کی بھلائی کے لیے اپنا کردار ادا کریں ! ! <br> ٭ <br> سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان حفظہ اللہ کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مبینہ نامناسب ریمارکس کو ہم نہ صرف ایک فرد کی توہین جانتے ہیں بلکہ اسے عالمِ اسلام کے وقار کے خلاف بھی سمجھتے ہیں ، کسی بھی عالمی رہنما کو ایسے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے جو قوموں اور مذاہب کے درمیان فاصلے بڑھانے کا سبب بنیں ! مہذب ہونے کی دعویدار دنیا کی قیادت کا تقاضا یہ ہے کہ گفتگو میں شائستگی، باہمی احترام اور انسانی اقدار کا لحاظ رکھا جائے ! اگر عالمی طاقتوں کے سربراہان ہی اخلاقی حدود کو پامال کریں گے تو دنیا میں امن، رواداری اور انصاف کی امید کیسے قائم رہ سکتی ہے ! موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ مسلم ممالک باہمی اتحاد و یگانگت کا عملی مظاہرہ کریں اور ایک مشترکہ حکمت ِعملی کے ساتھ عالمی منظرنامے میں اپنا مثبت اور باوقار کردار ادا کریں ! وقت کا تقاضا ہے کہ اسلامی دنیا محض جذباتی ردِ عمل تک محدود نہ رہے بلکہ ایک مضبوط اور متحد بلاک کی صورت میں اپنے سیاسی، معاشی اور تہذیبی مفادات کا دانشمندانہ انداز میں تحفظ کرے تاکہ عالمِ اسلام اپنے وقار اور خودمختاری کو قائم رکھتے ہوئے عالمی سطح پر اپنے مفادات کا مؤثر دفاع کر سکے ! <br> وَمَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِیْن <br> محمد عابد <br> ١٠ شوال المکرم ھ/ ٣٠ مارچ٢٠٢٦ء <br> <br> <br> <br> <br> قنوتِ نازلہ (دعائِ مصیبت) <br> ( شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ) <br> ٭٭٭ <br> حوادث ومصائب اور خاص جنگو ں کے وقت رسولِ کریم صلی اللہ عليہ وسلم نے نماز ِصبح کی آخری رکعت میں قنوت پڑھی اور صحابہ کرام نے بھی خاص خاص حالات میں قنوتِ نازلہ پڑھی ہے اُمت مسلمہ کو اس وقت جو مشکلات درپیش ہیں ان کے پیش ِنظر ہمیں چاہیے کہ پابندی سے جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں ! <br> صبح کے فرضوں کی آخری رکعت میں رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑ کر اس دعا کو امام آواز سے پڑھے اور مقتدی آہستہ آہستہ آمین کہتے رہیں ، دعا کے بعد اللہ اکبر کہہ کر سجدہ میں چلے جائیں <br> اس دعا کے الفاظ موجود ہ حالات میں جو مناسب ہیں وہ درج ذیل ہیں ان میں اگر کسی کلمہ کی تکرار کرنی چاہیں تو کر سکتے ہیں یا بغرضِ اختصار ان کلمات میں اگر کوئی کمی کرنا چاہیں تو کمی بھی کی جا سکتی ہے ! اگر خدا نخواستہ زیادہ شدید حالات ہوں تو قنوت سب جہری نمازوں میں بھی پڑھی جاسکتی ہے۔ (حضرت مولانا سیّد )حامد میاں غفرلہ (رحمہ اللہ ) (جمادی الاخری ١٣٩١ھ/ستمبر ١٩٧١ئ) <br> اَللّٰھُمَّ اھْدِنَا فِیْمَنْ ھَدَیْتَ وَعَافِنَا فِیْمَنْ عَافَیْتَ وَتَوَلَّنَا فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ وَبَارِکْ لَنَا فِیْمَا اَعْطَیْتَ وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَیْتَ فَاِنَّکَ تَقْضِیْ وَلَا یُقْضٰی عَلَیْکَ وَاِنَّہ لَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ وَلَایَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ اِلَیْکَ ، اَللّٰھُمَّ انْصُرِ الْاِسْلَامَ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَاَنْجِزْ وَعْدَ وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤمِنِیْنَ ، اَللّٰھُمَّ اَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِھِمْ وَاَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ وَانْصُرْھُمْ عَلٰی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّھِمْ اَللّٰھُمَّ الْعَنِ الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُنَافِقِیْنَ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ اَوْلِیَائَ کَ وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِکَ وَیُکَذِّبُوْنَ رُسُلُک وَیَمْنَعُوْنَ مَسَاجِدَ کَ اَنْ یُّذْکَرَ فِیْھَا اسْمُکَ وَیَسْعَوْنَ فِیْ خَرَابِھَا ، اَللّٰھُمَّ دَمِّرْ دِےَارَھُمْ اَللّٰھُمَّ خَالِفْ بَیْنَ کَلِمَتِھِمْ وَ فَرِّقْ جَمْعَھُمْ وَشَتِّتْ شَمْلَھُمْ وَزَلْزِلْ اَقْدَامَھُمْ وَاھْزِمْ جُنْدَھُمْ وَاَلْقِ فِیْ قُلُوْبِھِمْ الرُّعْبَ وَالْفَشْلَ ، اَللّٰھُمَّ عَلَیْکَ بِاَشِدَّآئِھِمْ وَخُذْھُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ ، اَللّٰھُمَّ انْصُرْ عَسَاکِرَ الْمُسْلِمِیْنَ فِیْ جَزِیْرَةِ الْعَرَبِ وَ الشَّامِ وَ الْیَمَنِ وَ الْخُرَاسَانِ وَ اَفْغَانِسْتَانِ وَ فَلَسْطِیْنَ وَ کَشْمِیْرٍ وَّ سَآئِرِ بَاکِسْتَان وَ فِیْ جَمِیْعِ الْعَالَمِ بِحَقِّ فُقَرَائِ الْمُھَاجِرِیْنَ وَاشْدُدْ وَطْأَتَکَ عَلٰی مَنْ قَاتَلَھُمْ مِنَ الْیَھُوْدِ وَالنَّصَارٰی وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُنَافِقِیْنَ وَالظَّالِمِیْنَ الْمُفْسِدِیْنَ وَاَنْزِلْ بِھِمْ بَأْسَکَ الَّذِیْ لَا تَرُدُّہ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ ، اَللّٰھُمَّ لَا تُعَامِلْنَا بِمَا نَحْنُ اَھْلُہ وَعَامِلْنَا بِمَا اَنْتَ اَھْلُہ اَنْتَ اَھْلُ التَّقْوٰی وَاَھْلُ الْمَغْفِرَةِ وَالْمَنِّ وَالْفَضْلِ وَالْاِحْسَانِ ۔ <br> وَصَلِّ عَلٰی اَحَبِّ خَلْقِکَ اِلَیْکَ وَاَکْرَمِھِمْ لَدَیْکَ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّآلِہ وَاَصْحَابِہ کَمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی عَدَدَ مَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی <br> ''اے اللہ ! جنہیں تو نے ہدایت بخشی اُن میں ہمیں بھی(شامل کرکے)ہدایت پر(قائم رکھ) اور جنہیں تو نے عافیت سے نوازا اُن میں ہمیں بھی کر دے اور جن کا تو کارساز و والی ہوا اُن میں (ہمیں شامل کرکے)ہمارا کار ساز ہوجا اور جو تونے عطا فرمایا ہے اس میں ہمیں برکت دے اور ہمیں اپنی قضاء کے برے انجام و فیصلہ سے بچائے رکھ کیونکہ تیرا فیصلہ سب پر نافذ ہوتا ہے تجھ پر کسی کا فیصلہ نہیں چلتا اور جس سے تو دشمنی کا معاملہ فرمائے اُسے کوئی عزت نہیں بخش سکتا اور جس کا تو کارساز ہو اُسے کوئی ذلیل نہیں کر سکتا ! <br> اے ہمارے پروردگار ! تو بڑی برکتوں اور بلندیوں والا ہے ہم تجھ سے استغفار و توبہ کرتے ہیں ! <br> اے اللہ ! تو اسلام اور مسلمانوں کی مدد فرما اور جو تونے ( وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ ) ١ کا وعدہ فرما رکھا ہے وہ پورا فرما <br> اے اللہ ! مسلمانوں کے آپس کے تعلقات اچھے کردے ان میں دلی محبت پیدا فرما دے انہیں تو ان کے اور اپنے دشمنوں پر کامیابی عطا فرما ! <br> اے اللہ ! یہود ونصارٰی ،مشرکین اور منافقین پر اپنی لعنت فرما جو تیرے دوستوں سے جنگ کرتے ہیں اور تیرے راستہ (پر آنے)سے (لوگوں کو روکتے اور) ہٹاتے ہیں تیرے انبیا ء کو جھٹلاتے ہیں اور تیری مساجد میں تیرے ذکر کو روکتے ہیں اور ان کی بربادی پر تلے ہوئے ہیں ! <br> اے اللہ ! ان کے شہروں کو برباد کر دے ! <br> اے اللہ ! ان کی باتوں میں اختلاف پیدا کردے ان کی یگانگت میں تفریق ڈال دے ان کا شیرازہ منتشر کردے ان کے پائوں ڈگمگا دے ان کے لشکر کو شکست دے اور ان کے دلوں میں رُعب اور بزدلی ڈال دے ! <br> اے اللہ ! جو اِن میں سب سے زیادہ شدت پسند ہیں اُن کی گرفت فرما اور ان کی غلبہ اور قدرت والی پکڑ کر ! <br> ١ یعنی قرآنِ پاک میں تیرا وعدہ ہے کہ '' مومنین کی مدد ہمارے ذمہ ہے '' <br> اے اللہ ! مسلمانوں کے لشکروں کی جزیرة العرب،شام ،یمن اور خراسان، افغانستان ، فلسطین ، کشمیر، پاکستان اور سارے عالَم میں فقرائِ مہاجرین ١ کے وسیلہ سے مدد فرما اور ان سے جو یہود و نصارٰی ، مشرک ، منافقین اور ظالمین ومفسدین لڑیں ان کو شدت سے روند ڈال اور ان پر اپنا خوف و ہیبت طاری فرما دے کہ جو تو مجرموں سے نہیں ہٹایا کرتا (اور اُن کے دلوں پر طاری رکھتا ہے) <br> اے اللہ ! ہمارے ساتھ وہ معاملہ نہ فرما جس کے ہم لائق ہیں (بلکہ)وہ معاملہ کر جس کے تو لائق ہے ، تیری ذات اس لائق ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور(جب ڈرنے والا ڈرتا ہے تو تیری ذات)معاف کرنے کے لائق ہے (بلکہ) اچھائی احسان اور مزید عطا فرمانے والی ہے ! <br> اور اپنی رحمت ِکاملہ نازل فرما اُن پر جو تیری مخلوق میں تجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں تیری سب مخلوق سے زیادہ تیرے نزدیک مکرم ہیں (یعنی)ہمارے سردار اور آقا حضرت محمد صلی اللہ عليہ وسلم پر اور ان کی آل و اصحاب پر جس طرح تو چاہے اور راضی ہو اور جتنی مرتبہ تو چاہے اور تیری رضا ہو ! '' <br> شائع کردہ : (حضرت مولانا )سید محمود میاں (رحمة اللہ علیہ) <br> ٢٣ شعبان المعظم ١٤٤٥ھ / ٥ مارچ ٢٠٢٤ء <br> ''خانقا ہ حامدیہ '' نزد جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد ١٩ کلو میٹر شارع رائیونڈ لاہور پاکستان <br> ١ وہ صحابہ کرام جنہوں نے دین کی خاطر ہجرت فرمائی <br> <br> <br> <br> <br> درس حدیث <br> ٭٭٭ <br> قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ <br> کا مجلس ِذکر کے بعد درسِ حدیث ''خانقاہِ حامدیہ چشتیہ'' شارع رائیونڈ لاہور کے زیرِانتظام ماہنامہ '' انوارِ مدینہ'' کے ذریعہ ہر ماہ حضرت اقدس کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کے اس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے،آمین۔ (ادارہ) <br> ٭٭٭ <br> لوگوں نے اسلام جبر سے نہیں بلکہ خوشی سے قبول کیا <br> (درسِ حدیث نمبر٢٥ ١٨ ربیع الاول ١٤٠٢ھ/١٥ جنوری ١٩٨٢ئ) <br> ٭٭٭ <br> اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا <br> مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ ! <br> جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ایک گھڑ سوار صحابۂ کرام کا دستہ بھیجا وہ جس کام گئے تھے اُس میں کامیاب ہوئے لیکن ایک چیز اور ذکر کی گئی ہے اس کے علاوہ کہ وہ ایک شخص کو پکڑلائے، وہ بنی حنیفہ کا آدمی تھا اُس کا نام تھا ثُمَامَةُ بْنِ اُثَالْ ، یہ معمولی آدمی نہیں تھا بلکہ سَیِّدُ اھلِ الیَمَامَةِ سردار تھا یمامہ والوں کا، کسی طرح موقع مل گیا یہ ان کے ہاتھ لگ گیا اور اس کو پکڑکے وہ لے آئے ! لاکے قید کردیا اور قید جو کیا ہے وہ بھی الگ قید خانہ بنا ہوا نہیں تھا اُس وقت تک تو مسجد میں باندھ دیا ستون سے ! ! <br> جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم تشریف لائے، ان سے باتیں کیں ، پوچھا کیا رائے ہے تمہاری، کیا حال ہے تمہارا ؟ اُنہوں نے کہا عِنْدِیْ یَا مُحَمَّدُ خَیْر میرے پاس کوئی برائی نہیں ہے ٹھیک ہی بات ہے، بہتری ہے، پر ہر ملاقات پر جب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم ملے ہیں تو اُس نے یہ جملہ استعمال کیا ہے اِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ اگر آپ مجھے ماریں گے تو بڑے قیمتی خون کے آدمی کو ماریں گے کیونکہ سردار تھے وَ اِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلٰی شَاکِرٍ اور اگر انعام کریں گے یعنی نہ ماریں گے تو پھر یہ ہے کہ میں شکر گزار رہوں گا تیسری صورت یہ ہے کہ آپ روپیہ لے لیں اور چھوڑدیں وَاِنْ کُنْتَ تُرِیْدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْہُ مَا شِئْتَ جو آپ کو چاہیے وہ میں مہیا کروں گا، جتنا آپ چاہیں میرا ''فِدَائْ'' آزاد کرنے کا، چھوڑنے کا بدلہ وہ میں دُوں گا ! تو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے یہ باتیں سنیں اور تشریف لے گئے ! <br>اگلے دن پھر اسی طرح سے گفتگو ہوئی، پھر اُس نے یہی جواب دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے اُسے اسی حال پر چھوڑے رکھا یعنی قید ہی میں ! <br> تیسرے دن پھر دریافت کیا پھر اُس نے یہی جواب دیا تو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ اَطْلِقُوْا ثُمَامَةَ ان کو چھوڑدو ایسے ہی یعنی ان سے نہ کچھ لیا جائے، نہ انہیں جان سے مارا جائے بلکہ انہیں چھوڑدیا جائے، یہ رائے ہوئی جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی ! <br> اسلام جبر سے نہیں پھیلا : <br> وہ چلے گئے قریب میں کھجور کا باغ تھا اُس میں پانی بھی تھا وہاں غسل کیا (اور واپس)مسجد میں آئے اور پھر مسلمان ہوگئے اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلَّا اللَّہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ وَرَسُوْلُہ <br> ان سے بعد میں لوگوں نے پوچھا تھا کہ جب تم نے مسلمان ہونا تھا تو اُسی وقت کیوں نہیں ہوگئے تو اُنہوں نے کہا کہ میں اس لیے مسلمان نہیں ہوا تھا کہ لوگ یہ کہتے کہ ڈر میں مسلمان ہوگیا، بعد میں میں آیا ہوں اور اپنی خوشی سے آیا ہوں تو اَب یہ بات کوئی نہیں کہنے کا ! <br> اور وہ (رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے بارے میں ) عرض کرنے لگے کہ دُنیا میں مجھے یہ سب سے زیادہ مبغوض تھے، ناپسند تھے، ان سے مجھے عداوت تھی، خود رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم سے وہ کہہ رہے ہیں لیکن اب مجھے سب سے زیادہ آپ محبوب ہیں ! <br> اور کوئی دین اتنا ناپسند اور مبغوص نہیں تھا جتنا آپ کا دین مگر اب سب سے زیادہ محبوب آپ کا دین ہے ! <br> اور کوئی جگہ کوئی شہر اِس سے زیادہ برا نہیں لگتا تھا جتنا آپ کا شہر مگر(اب) یہ سب سے زیادہ مجھے محبوب ہے ! <br> بے وجہ کسی کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا : <br> تو پہلے تو لڑتے رہے ہیں ان کی جنگ چھڑی ہوئی تھی، جنگ کی حالت میں ہی گرفتاریاں ہوا کرتی ہیں اسلام میں ، ویسے نہیں ، زبردستی نہیں کوئی گرفتار کرسکتا کسی کو، بلکہ بہت سخت سزا آئی ہے نہایت عذاب آیا ہے، اگر کوئی کسی کو ویسے ہی پکڑکے غلام بنالے تو یہ ٹھیک نہیں ،اس کا بہت بڑا عذاب آیا ہے ! اور اُس زمانے میں لڑائی میں ایک دوسرے کو قید کرلیتے تھے اور گرفتار کرنے کے بعد غلام بنالیتے تھے بیچ دیتے تھے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ان کوویسے ہی چھوڑدیا ! ! <br> متاثرہونے کی وجوہات : <br> تو بات یہ ہے کہ اتنے دنوں انہوں نے دیکھا مسجد میں کہ مسلمان آتے ہیں ، نماز پڑھتے ہیں ، خدا کی یاد کرتے ہیں ، آپس میں محبت ہے، تعلق ہے، سچ بولتے ہیں اور کوئی تفاوت ان میں نہیں ہے، بڑے چھوٹے سب برابر ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے معاملات ، انصاف اور عبادات دونوں چیزیں سامنے آگئیں اس کی وجہ سے طبیعت میں یہ اِنقلاب آیا اور رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی شاید یہی حکمت ہو اِس میں ! ہوتا تو وہ تھا جو اللہ کی طرف سے قلب ِمبارک میں ڈالا جاتا مگر اِس میں شاید یہ حکمت بھی ہو کہ ایک دن نہیں بلکہ دو دن بلکہ تین دن اتنی گویا غذا اُنہیں پہنچنی چاہیے کہ اُن کے دل سے نفرت ہٹ جائے اور ساری چیزیں ٹھیک ہوجائیں اور جو جو شکوک اور شبہات (ہیں ،وہ ختم ہوجائیں ) <br> عمرہ کے لیے جانا اور اہلِ مکہ سے مکالمہ : <br> پھر وہ کہنے لگے وَاِنَّ خَیْلَکَ اَخَذَتْنِیْ وَاَنَا اُرِیْدُ الْعُمْرَةَ آپ کے یہ جو گھڑ سوار ہیں جو مجھے گرفتار کرکے لائے ہیں تو اُنہوں نے جب پکڑا مجھے تو میں عمرے کے لیے روانہ ہورہا تھا، تو مجھے بتلائیے کہ کیا کروں میں اب ؟ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ان کو بشارت دی اچھے کلمات ان کے لیے استعمال فرمائے اور یہ فرمایا کہ جائو عمرہ کرلو ! اب یہ گئے عمرے کے لیے تو اُس وقت تک تو مکہ فتح نہیں ہوا تھا، یہ اپنے(قبیلہ اور) علاقے کے زور پر چلے گئے کیونکہ یہ اپنے علاقے کے سردار تھے ! <br> لوگوں میں سے ایک بولنے لگا اَصَبَوْتَ آپ اپنے دین سے نکل گئے ؟ کیونکہ اُن کا جو پرانا (دین) تھا وہ بت پرستی کا تھا، تو اُنہوں نے کہا کہ دین سے نکل گئے ؟ قَالَ لَا ۔ اُنہوں نے کہا کہ دین سے نہیں نکلا بلکہ اسلام میں داخل ہوگیا وَلٰکِنِّیْ اَسْلَمْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ <br> سیاسی دھمکی : <br> اور پھر اُنہوں نے ایک دبائو بھی دیا سیاسی اور دینی قوت کا، کہنے لگے کہ وَلَا وَاللّٰہِ لَا یَأْتِیْکُمْ مِّنَ الْیَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ ١ اب تمہارے پاس ایک دانہ بھی گیہوں کا نہیں آئے گا ہمارے علاقے میں سے حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم اجازت دیں ، وہ اجازت دیں گے تو ہم بھیجیں گے تمہیں ورنہ تمہارے پاس گیہوں بھی نہیں سپلائی کیا کریں گے ، کسی اور کے ہاتھ بیچ دیں گے ! ! گویا رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی عظمت ذہن نشین کرائی تاکہ آگے کو گستاخی اُن کے ذہن سے نکلے اور ان کی جو بڑائی اور تکبر ہے اُس کو زِک پہنچے اُس میں کمی آئے ! اس بناء پر اُنہوں نے یہ جملہ بھی کہہ دیا ساتھ ہی کہ تم یہ سمجھو اب کہ وہ علاقہ جو ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کا ہوگیا تاکہ یہ سوچیں اور رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی بات سنیں اسلام کی طرف مائل ہوں ! یہی طریقے ہیں ،پہلے آدمی مائل ہوتا ہے پھر بات سنتا ہے پھر اَثر ہوتا ہے تو جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کا دین پھیلانا اور تبلیغ فرمانا اُس کے مختلف طریقے رہے ہیں مگر تبلیغ زیادہ پیش ِنظر رہی ہے ،خون ریزی بہت کم ہے ! ! ! <br> اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسلام پر استقامت نصیب فرمائے، آمین۔ <br> اختتامی دُعا.............................. <br> ( مطبوعہ ماہنامہ انوارِ مدینہ اپریل ١٩٩٥ ) <br> ١ مشکوٰة المصابیح کتاب الجہاد رقم الحدیث ٣٩٦٤ <br> ٭٭٭ <br> <br> <br> <br> <br> قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ <br> کے سلسلہ وار مطبوعہ مضامین و دروس جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ پر پڑھے اور سنے جا سکتے ہیں <br> http://www.jamiamadniajadeed.org <br> <br> <br> <br> <br> سیرتِ مبارکہ <br> قُصَیّ کے جانشین <br> ٭٭٭ <br> کشمکش احلاف مطیَّبین واحلاف لعقة الدم اور مفاہمت <br> سیّد الملة و مؤرخ الملة حضرت مولانا سیّد محمد میاں صاحب کی تصنیفِ لطیف <br> سیرتِ مبارکہ '' محمد رسول اللّٰہ '' صلی اللہ عليہ وسلم کے چند اوراق <br> ٭٭٭ <br> قصی کہا کرتا تھا : میرے چار لڑکے ہوئے، دو کے نام میں نے اپنے دیوتاؤں کے نام پر رکھے عبد مناف اور عبدالعزیٰ ایک کا نام دار کے نام پر عبدالدار اور ایک کا نام عبدالقصی رکھا عبدالقصی کو عبد بن قصی بھی کہتے تھے، دو لڑکیاں تھیں تخمر، برہ ١ <br> عبدالدار سب سے بڑا تھا باپ کی خدمت میں رہتا تھا کچھ کرتا کراتا نہیں تھا ! اور لڑکوں نے باپ سے الگ ہوکر اپنا اپنا مقام پیدا کرلیا تھا ! قصی نے اپنے بعد عبدالدار کو جانشین کردیا اور جو شعبے قصی کے پاس تھے وہ سب عبدالدار کے حوالے کردیے ! ممکن ہے قصی کا منشا یہ ہو کہ باپ کے بعد سب سے بڑے بیٹے کی جانشینی کا قاعدہ رائج کردے مگر اس کایہ منشاء پورا نہ ہوسکا۔ بیشک قصی کے بیٹے باپ کے فیصلے کے پابند رہے مگر پوتوں کا دور آیا تو یہ بحث شروع ہوگئی کہ ان سب شعبوں پر ایک بیٹے کی اولاد کا قبضہ کیوں رہے جبکہ دادا کے سب پوتے استحقاق میں برابر ہیں اور قابلیت اور صلاحیت میں بڑھے ہوئے ہیں ،اب قصی کے پوتوں کی دو پارٹیاں ہوگئیں اور ہر ایک کے ساتھ اور قبیلے بھی ہوگئے ! اولادِ عبدالدار کے حامی بنو مخزوم ، بنو سلیم ، بنوجمح ، بنوعدی <br> اور اولاد عبدالمناف کے حمایتی بنو اسد ، بنو زہرہ ، بنو تیم ، بنو الحارث <br> ہر ایک فریق کے حامیوں نے حلف اٹھائے اور عہد کیے۔ عبدمناف کے لڑکوں نے ایک طشت یا(تشلے) میں عطر بھر کر خانہ کعبہ کے سامنے رکھ دیا ان کے تمام حامیوں نے عطر میں ہاتھ ڈال کر عہد کیا : <br> ١ ابن سعد ج ١ ص ٣٩ <br> ''ہم نہ مدد چھوڑیں گے، نہ کسی ساتھی کو دشمن کے حوالے کریں گے جب تک سمندر میں یہ صلاحیت باقی ہے کہ وہ اُون کو بھگو سکے'' <br> حلف کے وقت کسی مقدس کتاب کو ہاتھ میں لینے کے بجائے وہ خانہ کعبہ کی دیوار پر ہاتھ رکھتے تھے اور عہد کے الفاظ ادا کرتے تھے چونکہ انہوں نے عہد کے وقت خوشبو سے کام لیا تھا تو ان کو ''مطیّبین'' کہا گیا ! ! <br> عبدالدار کے لڑکوں نے عطر کے بجاے تشلے میں خون بھرا اور اسی طرح حلف لیا ! خون کی نسبت سے ان کو ''احلاف لعقة الدم'' کہاگیا ! لیکن یہ تیاریاں تیاری کی حد سے آگے نہ بڑھیں کیونکہ بااثر امن پسند سرداروں نے بیچ میں پڑ کر طے کرا دیا کہ جنگ کے بجائے گفت و شنید سے معاملات طے کیے جائیں اور یہ شعبے دونوں ٹولیوں میں تقسیم کردیے جائیں چنانچہ باہمی گفتگو سے شعبوں کی تقسیم اس طرح کردی گئی کہ <br> بنو عبد مناف کو رفادہ اور سقایہ دے دیا گیا اورباقی شعبے بنو عبد الدار کے پاس باقی رکھے گئے ١ <br> قیادت : <br> اس تقسیم میں قیادت کا ذکر نہیں ہے لیکن مورخ علامہ ازرقی کا بیان ہے کہ منصب قیادت بھی عبد مناف کے حوالہ کیا گیا۔عبد منافکے بعد اس کا بیٹا عبد شمس، عبد شمس کے بعد اس کا بیٹا اُمیہ۔ اس کے بعد حرب بن اُمیہ اس منصب پر فائز ہوا ! قریش کی سب سے زیادہ مشہور لڑائیوں میں قائد حرب بن اُمیہ ہی رہا ! پہلے جنگ ''ذات نکیف'' میں قیادت کی جو قریش اور بنی بکر کے درمیان ہوئی تھی، اطرافِ مکہ کے دو اعرابی جن کو احابیش کہا جاتا تھا اس وقت بنو بکر کے ساتھ تھے ! غزوہ حدیبیہ کے موقع پر قریش نے ان کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا (بخاری باب غزوة الحدیبیہ ص ٦٠٠) <br> ١ ابن سعد ج ١ ص ٤٤ ، ابن ہشام ج١ ص ٨٣ ، البدیة و النھایة ج ٢ ص ٢٠٩ <br> پھر قریش اور قیس عیلان کی جنگ میں جو یوم عکاظ کے نام سے مشہور ہے اس کے بعد پہلی اور دوسری جنگ فجار میں حرب بن اُمیہ ہی قائد رہا۔ حرب کے بعد اس کا بیٹا ابوسفیان قائد بنایا گیا ! غزوہ بدر کے موقع پر یہ مکہ میں نہیں تھا اس لیے عتبہ بن ربیعہ قائد بنایاگیا مگر اس کے بعد جنگ ِ احد اور جنگ ِ احزاب میں قائد اعظم یہی ابوسفیان تھا۔ (اخبار مکہ ج١ ص ١١٥) <br> عبدمناف کے بلند حوصلہ فرزند : <br> فرزندانِ عبد مناف کی حوصلہ مندی کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ ان چار بھائیوں میں سے صرف عبد شمس مکہ میں مرا، باقی ہاشم کا انتقال شام کے علاقہ ''غزہ'' میں ہوا ،مُطَّلب کا انتقال یمن کے علاقہ ''ردان'' میں اور نوفل کی وفات ''سلمان'' میں ہوئی جو عراق میں تھا۔ ١ <br> کارنامہ : <br> قصی نے اگرچہ بادشاہت کا دعویٰ نہیں کیا مگر قریش پر اور قریش کے ذریعہ پورے عرب پر اس کا اقتدار کسی بادشاہ سے کم نہیں تھا اور اس لحاظ سے اس کی اولاد کی حیثیت وہی تھی جو شہزادوں اور راج کماروں کی ہوا کرتی تھی۔ <br> عبد مناف کی اولاد نے اپنی شخصیت اوراپنی اس حیثیت کو پہچانا اور اس سے کام لیا چنانچہ انہوں نے پڑوسی ممالک کے بادشاہوں اور شہنشاہوں سے تعلقات پیدا کیے اور ان کو بڑھایا اور قابلِ قدر بات یہ ہے کہ ان تعلقات کے فوائد کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا بلکہ ان تعلقات سے کام لے کر اپنی قوم کے لیے تجارتی مراعات اور سفروں میں آسانیاں پیدا کیں چنانچہ مُطّلب نے جو سب سے بڑا تھا شاہ حبش نجاشی اور یمن کے ملوک (ملوک حمیر) سے ہاشم ٢ نے باز نطینی شہنشا ''ہرقل'' سے <br> ١ سیرة ابن ہشام ج١ ص ٨٧ ٢ عبد شمس کے کسی کارنامہ کا تذکرہ نہیں ہے یہاں ایک تاریخی لطیفہ قابلِ تذکرہ ہے ،کہتے ہیں ہاشم اور عبد شمس جڑواں پیدا ہوئے تھے اس طرح کہ ہاشم کا پیر عبد شمس کے سر سے چپکا ہوا تھا اس کو الگ کیاگیا تو خون نکلا ! اس پر اس زمانہ میں لوگوں نے کہا تھا کہ ان کی اولاد میں آپس میں خون ریزی ہوگی ! بنو عباس اور بنو امیہ کی جنگ جو ١٣٠ھ میں ہوئی جس نے بنو اُمیہ ( اولاد شمس) کو نہ صرف عرب، بلکہ ایشیا سے بھی باہر نکال دیا اس کو اس پیشین گوئی کا مصداق کہا جا سکتا ہے ( البدایة والنہایة ج٢ ص ٢٥٣ ) <br> اور نوفل نے شہنشاہ ایران ''کسریٰ'' سے اپنی قوم کے لیے آزاد تجارت کے فرامین حاصل کر لیے کہ قریشی تاجر جو ان کے ملکوں میں جائیں گے ان سے کوئی محصول یا ٹیکس نہیں لیا جائے گا ١ ظاہر ہے تجارت پیشہ قوم کے لیے اس سے بڑی نعمت کیا ہوسکتی ہے اسی لیے ان کو ''مجیرون'' کہا جاتا تھا ٢ <br> بلند حوصلہ ہاشم بن عبدمناف : <br> رفادہ اور سقایہ سب سے اہم شعبے تھے جن کے لیے دولت کی ضرورت بھی تھی اور محنت کی بھی ! یہ اگرچہ عبد مناف کے چاروں بیٹوں کے سپرد ہوئے تھے مگر ان میں پیش پیش ہاشم رہا ، یہ سب بھائیوں میں سب سے زیادہ بلند حوصلہ، با سلیقہ، صاحب الرائے اور رسا آدمی تھا ! رفادہ اور سقایہ کو جس قدر رقم کی ضرورت تھی ہاشم کا حوصلہ اس سے بہت زیادہ بلند تھا۔ <br> پہلے گزر چکا ہے قصی نے قریش کو سمجھایا تھا کہ زائرین (جو حج کو آتے ہیں ) وہ قریش کے مہمان ہونے چاہئیں ۔ قریش نے اس فلسفہ کو بخوشی تسلیم کر کے ایک ٹیکس بھی مقرر کرلیا تھا جس کو ہر ایک امیر اور غریب اپنے اپنے حوصلہ اور ہمت کے بموجب عقیدت مندی سے ادا کیا کرتا تھا بعض عطیے سو سو ''مثقال ہرقلی'' ٣ کے ہوتے تھے مگر ہاشم کے عطیے کی کوئی حد نہیں تھی، جو کچھ کمی رہتی وہ اپنی جیب سے پوری کیا کرتا تھا۔ اب تک رفادہ کے سلسلہ میں کھجور دیے جاتے تھے جو عرب خصوصاً بدوؤں کی عام غذا تھی اور رفادہ کے اس فیض سے ضرورت مند ہی فیضیاب ہوتے تھے مگر ہاشم نے رفادہ کو پر تکلف دعوت کی صورت دے دی، ہر ایک حاجی مدعو ہوتا تھا اور عرب کا سب سے بڑھیا کھانا یعنی ''ثرید'' پیش کیا جاتا تھا ٤ <br> ١ طبقات ابن سعد ج١ ص ٤٣ ، البدایة والنہایة ج٢ ص ٢٥٣ ٢ ایضًا <br> ٣ ایک مثقال ساڑھے چار ماشہ کا، سو مثقال ٣٨ تولہ آٹھ ماشے کے، تقریباً ٣٩ تولہ سونا۔ <br> ٤ کسی کھانے کے اجزاء ترکیبی بتادینے سے کھانے کی پوری صفت سامنے نہیں آتی مثلاً بریانی کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ ایک کھانا ہے گوشت کی یخنی پکاکر اس میں چاول ڈال دیتے ہیں اس سے بریانی کی پوری صفت سامنے نہیں آتی یہی صورت ثرید کی ہے اگرچہ اس کی حقیقت یہی ہے کہ شوربے میں روٹی ڈالی جاتی ہے مگر شور با اس طرح بنایا جاتا ہے اور پھر روٹی کے ٹکڑے اس میں اس طرح ڈالے جاتے ہیں اور اس طرح پکائے جاتے ہیں کہ نہایت لذیذ اور زود ہضم کھانا ہوجاتا ہے۔ <br> ثرید کبھی گوشت کا ہوتا تھا یعنی قورمے میں چوری ہوئی روٹی اور کبھی روٹی گھی میں چوری جاتی تھی اور گھی روٹی کا ثرید پیش کیا جاتا تھا اس کے علاوہ شربت، ستو، کھجور، وغیرہ دعوتوں کا یہ سلسلہ ٧ ذی الحجہ (یوم الترویہ سے ایک دن پہلے سے) شروع ہوکر ١٤ ذی الحجہ تک رہتا تھا عرفات ، منی اور مزدلفہ جہاں جہاں حاجی جاتے تھے یہ دعوتیں ١ ہوتی تھیں ۔ ٢ <br> ہاشم کا ذریعہ آمدنی تجارت تھی ! شہنشاہ روم (ہرقل)سے تعلقات بہت اچھے تھے ایسے ہی شاہانِ ایران و یمن اور حبش سے تعلقات تھے اس نے ان تمام فرامین کی تجدید کرائی جو پہلے ہوچکے تھے اور ( رِحْلَةَ الشِّتَآئِ وَ الصَّیْفِ ) ٣ کا طریقہ اسی نے ایجاد کیا کہ قریش کا تجارتی قافلہ سردیوں میں یمن اور حبش جاتا تھا اور گرمیوں میں شام سے غزہ تک اور کبھی انقرہ تک پہنچ جاتا تھا یہاں کے بادشاہ اور اُمراء ان قافلوں کا اعزاز کرتے تھے ٤ <br> وجہ خطاب : <br> کہتے ہیں اصل نام عمرو تھا، ہاشم خطاب تھا اس خطاب کی وجہ یہ ہوئی کہ ایک مرتبہ قحط کے زمانہ میں جب مکہ میں غلہ کا نام و نشان نہیں رہا تھا تو ہاشم شام گیا اور وہاں سے سینکڑوں من ''کیک'' بوروں میں بھرواکر لے آیا، واپس آکر جن اونٹوں پر وہ کیک لایا تھا، ان کو ذبح کراکر قورمہ بنوایا اور کیک <br> ١ ابن سعد ج١ ص ٤٥ وکان یطعمھم اول ما یطعم قبل یوم الترویة بیوم بمکة ویمنی وجمع وعرفة وکان یثرد لھم الخبر واللحم والخبر والسمن والسویق والتمر ابن سعد ج١ ص ٤٥ <br> ٢ ابن اسحاق کی شہادت یہ ہے کہ دعوتوں کا یہ طریقہ جو ہاشم نے جاری کیا تھا آج تک قائم ہے چنانچہ سلطان کی طرف منی میں دعوت ہوتی ہے۔( جلد ١ ص ٨٢ ) <br> حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ابن اسحاق کے زمانہ کے بعد سلسلہ ختم ہوگیا۔ البدایہ والنہایہ ج٢ ص ٢٠٨ ازرق کی شہادت یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے ٩ھ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو انتظام حج کے لیے بھیجا۔ تو حجاج کے مصارف طعام کے لیے بھی آپ نے حضرت ابوبکر کو رقم عنایت فرمائی (اخبار مکہ ج ١ ص ١١٢ ) <br> ٣ سورة القریش : ٢ ٤ ابن سعد ج١ ص ٤٣ <br> اس میں چور کر ان کو باقاعدہ ثرید کی طرح پکاکر تمام مکہ والوں کو بڑی افراط سے ثرید کھلایا تب سے ہاشم خطاب ہوگیا یعنی روٹی چور کر کھلانے والا ہشم کے معنی ہیں چورنا ١ <br> کہتے ہیں ہاشم کے برا در زادہ اُمیہ بن عبد شمس نے بھی ہاشم کی طرح نام پیدا کرنا چاہا مگر وہ بے چارہ حوصلہ سے محروم تھا لہٰذا مقابلہ میں تو شکست کھائی البتہ اس نے ایک عناد دل میں ضرور بٹھالیا، یہیں سے بنو ہاشم اور بنو امیہ میں مخالفت کا آغاز ہوا ٢ <br> شیبہ عرف عبدالمطلب بن ہاشم : <br> ہاشم کا زیادہ وقت سفروں میں گزرتا تھا ایک مرتبہ شام جارہا تھا راستہ میں یثرب میں قیام ہوا (جس نے بعد میں مدینة النبی صلی اللہ عليہ وسلم کے نام سے غیر فانی شہرت پائی ) وہاں ایک میلہ لگ رہا تھا، ہاشم نے بھی اس میلہ سے فائدہ اٹھایا میلہ میں ایک عورت کو دیکھا، بڑے اچھے موقع پر اس کی بہت بڑی دوکان تھی، وہ تمام کام کی نگرانی نہایت ہوشیاری اور سلیقہ مندی سے خود کر رہی تھی ، شریف صورت، صاحب ِ جمال، اس کی سلیقہ مندی اور سمجھ بوجھ سے ہاشم متاثر ہوئے ! دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ قبیلۂ نجار کی یہ خاتون ہے سلمٰی نام ہے (بنت عمرو بن زید) شوہر کا نام احیحہ تھااس سے چھوٹ چھٹا ہوچکا ہے اب اگر کوئی نکاح کا پیغام بھجتا ہے تو یہ شرط لگاتی ہے کہ اس کو طلاق کا اختیار ہوگا وہ جب چاہے گی جدا ہوجائے گی ! اس عورت سے ہاشم اتنے متاثر ہوچکے تھے کہ انہوں نے بھی اپناپیغام بھیج دیا سلمٰی واقعی ہوشیار تھی وہ ہاشم بن عبدمناف کو جانتی تھی کہ قریش کا نگ ہے ،مکہ کا بے تاج بادشاہ، پورے عرب میں اس کی طوطی بول رہی ہے ! <br> سلمٰی نے یہ رشتہ منظور کرلیا نکاح ہوا، ہاشم نے شاندار ولیمہ کیا،کچھ عرصہ مدینہ میں قیام کیا پھر وہ شام روانہ ہوگیا۔ ہاشم کا اسی سفر میں بمقام غزہ انتقال ہوگیا، وہیں اس کو دفن کردیا گیا، یہاں سلمٰی کے لڑکا پیدا ہوا، سر کے بال سفید تھے اس لیے اس کا نام ''شیبہ'' رکھا گیا ! <br> ہاشم نے اپنے بھائی مُطلب کو اپنی اولاد کی نگرانی کی وصیت کی تھی، مُطلب نے بھائی کی وصیت <br> ١ ابن سعد ج١ ص ٤٣ ٢ ابن سعد ج١ ص ٤٤ <br> کا پورا خیال رکھا ١ وہ مدینہ آیا شیبہ ہوشیار ہوگیاتھااس نے شیبہ کو مکہ لے جاکر جانا چاہا، اولاً ماں اور ماموں راضی نہیں ہوئے، سختی سے انکار کیا مگر جبمُطلب نے ان کو سمجھایا کہ یثرب میں اس بچہ کی زندگی خراب ہوگی یہاں ترقی کا موقع نہیں ملے گا، مکہ میں اپنے خاندان کی بڑی عزت ہے، ہاشم کے قدر دان بھی ابھی موجود ہیں ، وہاں شیبہ کو ترقی کا موقع ملے گا، یہ بات ان کی سمجھ میں آگئی انہوں نے شیبہ کو مُطلبکے حوالے کردیا۔ <br> مُطلب نے شیبہ کو اپنے ہی اونٹ پر پیچھے بٹھا لیا، اسی صورت سے وہ مکہ میں داخل ہوا لوگوں نے سمجھا کہ یہ غلام ہے ، مُطلبخرید کر لائے ہیں تو اس کو عبدالمُطلب کہنا شروع کردیا مُطلبنے بتایا کہ غلام نہیں برادر زادہ ہے مگر عبدالمُطلب کا لفظ چل چکاتھا یہ ایسا چلا کہ یہی نام ہوگیا ! <br> مُطلب ہاشم سے بڑے تھے، ہاشم کے بعد رفادہ اور سقایہ ان ہی کے سپرد رہا مگر یہ زیادہ عرصہ زندہ نہ رہے، کچھ دنوں بعد یمن گئے وہیں ''ردان'' میں ان کا انتقال ہوگیا ٢ مُطلب کے بعد عبدالمُطلب جانشین ہوئے،یہ ان کی خداداد صلاحیت تھی کہ ہاشم کے صحیح جانشین ثابت ہوئے اور چند کام ایسے کیے جن سے نہ صرف قریش یا عرب کی تاریخ متاثر ہوئی بلکہ تاریخ اسلام بھی ان سے متاثر ہے مثلاً (١) چاہ زمزم کی برآمدگی (٢) خزاعہ سے معاہدہ (٣) دیت کے اونٹوں کی تعداد میں اضافہ (٤) اصحابِ فیل کے واقعہ میں اہلِ مکہ کو محفوظ کر لینا جس کا ذکر ''قریش کے ہمہ گیر اثرورسوخ'' کے سلسلہ میں آگے آئے گا ان شاء اللّٰہ <br> چاہ زمزم کا ظہور : <br> زمزم جو ایک چشمہ تھا، جب آبادی کی سطح بلند ہونے لگی تو''بنو جرہم'' نے جو مکہ پر قابض تھے اس کو کنوئیں کی شکل دے دی تھی یہ چشمہ اس کنویں کا ایک سونت ہوگیا تھا اور اسی وجہ سے اس کا پانی <br> ١ یہی تعلق تھا جس کی بناپر ہاشم اور مُطلب کی اولاد میں اتحاد رہا۔ کانوا کید واحدة اور ان کے بالمقابل عبدشمس اور نوفل کی اولاد ایک ہاتھ کی انگلیوں کی طرح متحد رہی۔ ( ابن سعد ص ٤٦ ) <br> ٢ ابن سعد ج١ ص ٤٥ و ٤٦ ، ابن ہشام ج١ ص ٨٦ <br> کبھی ٹوٹتا نہیں تھا مگر خزاعہ نے مکہ پر حملہ کیا اور بنو جرہم کو شکست کھاکر مکہ سے نکلنا پڑا تو انہوں نے خزانہ کعبہ کی قیمتی چیزیں مثلاً سونے کے ہرن، سونے کی تختیاں اور سات تلواریں جو بہت عمدہ اور قیمتی تھیں وہ چاہ زمزم میں ڈالیں اور کنوئیں کو پات کر اس طرح زمین کے برابر کردیا کہ وہ لاپتہ ہوگیا۔ <br> بنوخزاعہ کی خاندانی روایات کا کوئی تعلق زمزم سے نہیں تھا لہٰذا ان کو اس سے کوئی دلچسپی بھی نہیں تھی، پھر ان کا عقیدہ یہ بھی تھا کہ کعبہ کے قریب سونا بے ادبی ہے وہ یہاں مکان بنانا بھی بے ادبی سمجھتے تھے چنانچہ وہ حرم سے فاصلہ پر آباد ہوئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ علاقہ ویران ہوگیا اور آبادی کے بجائے یہاں کیکروں اور جھڑبیریوں کا جنگل آباد ہوگیا۔ <br> بنوخزاعہ کو شکست دینے کے بعد جب قصی نے اس جنگل کو کٹوایا، حرم کعبہ کو صاف کیا اور نئے نقشہ پر مکہ کو دوبارہ آباد کیا تو زمزم کا نام و نشان نہیں تھا اور اس کئی صدی کے عرصہ میں ایسے آدمی بھی باقی نہیں رہے تھے جو اس کا پتہ بتا سکیں البتہ سینہ بہ سینہ خاندانی روایات کا ذخیرہ ان کے پاس تھا جس کی بناپر زمزم سے ان کی عقیدت قائم تھی اور ذہنوں میں جستجو کا جذبہ تھا اور ہر سال حج کے موقع پرمکہ کے مختلف کنوؤں سے پانی فراہم کرنے کی جو پریشانی پیش آتی تھی وہ جذبہ جستجو میں نئی حرکت پیدا کردیتی تھی قصی کے پڑپوتے عبدالمُطلب کی قدرت نے مدد کی وہ تین روز تک ایک ہی خواب دیکھتا رہا، الفاظ میں فرق تھا کہ پہلے دن کہاگیا احفر طیبہ (طیبہ کو کھودو) ١ دوسرے روز کہا گیا احفر برہ (برہ کو کھودو) تیسرے روز کہا گیا احفر المضنونة (نہایت قیمتی چیز کو کھودو) اور چوتھے روز اس کو بتایا گیاکہ کھود کر زمزم کو برآمد کرو اور اس کا پتہ یہ بتایا گیا ٢ گوبر اور خون کے بیچ میں جہاں سفید پنچوں والا کو ا ٣ ٹھونگ مارے وہاں کھودو ! ! <br> ١ طیبہ ( پاکیزہ) برہ( نیک) المضنونہ( نہایت قیمتی چیز جس کے حق میں لوگ بخیل ہوں کسی کو بخشتے نہ ہوں ) <br> ٢ وہی بین الفرث والدم عند فرقة الغراب الاعصم ۔ ( ابن سعد ص ٤٩ ) والغراب الاعصم ہو ابیض الجناحین وقیل ابیض الرجلین ( مجمع البحار ) <br> ٣ عربی لفظ غراب اعصم ہے جس کے معنی سفید پنجے والا کوا یا سفید ڈینوں والا کوا <br> عبدالمُطلب نے اس مقدس خدمت کو خود ہی انجام دینا چاہا۔ صرف بڑے لڑکے حارث کو ساتھ لیا اور کھودنا شروع کردیا۔ تین روز بعد ان کو کنوئیں کی من نظر آئی جو کامیابی کی بشارت تھی پھر تلواریں ، سونے کی تختیاں اور سونے کے ہرن بھی نکل آئے عبدالمطلب نے ان سب چیزوں کو خانہ کعبہ ہی میں آراستہ کردیا ١ <br> کم و بیش پانچ سو برس بعد چاہ زمزم برآمد ہوا تو سقایہ میں سہولت ہوگئی۔ اب زائرین کے لیے زمزم کا پانی ہوتا تھا مکہ کے کنوؤں سے فراہم کرنے کی ضرورت نہ رہی بلکہ عرفات ومنی وغیرہ میں یہی پانی پہچایا جاتا تھا جہاں چمڑے کے بڑے حوضوں میں جمع کردیا جاتا تھا ٢ <br> بنوخزاعہ سے معاہدہ : <br> بنو خزاعہ اگرچہ اپنی شکست کا قریش سے انتقام نہ لے سکے مگر درپے انتقام رہنا ایک قدرتی امر تھا ! عبدالمُطلب نے بغض وعداوت کی فضا کو ختم کیا ۔ دارالندوہ میں ایک اجتماع ہوا، تناصر ومواسات (باہمی تعاون اور خیر سگالی) کا عہد نامہ لکھا گیا اور اس کو خانہ کعبہ میں آویزاں کر دیا گیا ۔ عبدالمُطلب کے بھائی (فرزندانِ ہاشم) اور مُطلب کے وارث اس معاہدہ میں شریک ہوئے <br> عبد شمس اور نوفل کے اخلاف اس معاہدہ میں شریک نہیں ہوئے ٣ <br> دیت : <br> عبدالمُطلب نے جب غیبی اشارہ کی بنا پر چاہ زمزم کے برآمد کرنے کے لیے زمین کھودنی شروع کی تو یہ منت مان لی تھی کہ میرے دس لڑکے ہوجائیں گے تو ایک لڑکے کو خدا کے نام پر ذبح کردوں گا ! خدا کا فضل و کرم تھاکہ عبدالمُطلب کے دس لڑکے ہوئے عبدالمُطلب نے اپنی منت پوری کرنے کے لیے قرعہ ڈالا، قرعہ میں عبداللہ کا نام نکلا۔عبدالمُطلب نے چھری ہاتھ میں لی اور <br> ١ ابن سعد ج١ ص ٤٩ ٢ ایضاً ٣ ابن سعد ص ٥١ صلح حدیبیہ کے موقع پر بھی یہی صورت ہوئی کہ بنوخزاعہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کے حلیف ہوگئے آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم اس وقت آل ہاشم اور آلِ مطلب کے واحد نمائندہ تھے اس وقت بھی عبد شمس اور نوفل کی اولاد فریق ِمخالف کے ساتھ تھی۔ <br> عبداللہ کو مذبح کی طرف لے جانے لگے تو عبداللہ کی بہنوں نے شور مچایا۔عبدالمُطلب کے دوست احباب بھی آڑے آئے، بہ مشکل تمام عبدالمُطلب کو اس پر آمادہ کیا کہ عبداللہ کے فدیہ میں اونٹ ذبح کردیے جائیں ، طے یہ ہوا کہ فال نکالنے کے قاعدہ کے بموجب دس اونٹ اور عبداللہ کے ناموں میں قرعہ ڈالا جائے اگر پہلی مرتبہ اونٹوں کے نام پر قرعہ نہ نکلے تودس اونٹ اور بڑھائے جائیں اور اس طرح دس دس اونٹ بڑھائے جاتے رہیں یہاں تک کہ قرعہ اونٹوں کے نام پر نکلے تو جس تعداد پر قرعہ اونٹوں کے نام پر نکلے اونٹوں کی اتنی ہی تعداد بطورِفدیہ ذبح کی جائے۔ اس قرارداد پر عمل کیا گیا اور اتفاق ایسا ہواکہ جب سو اونٹ اور عبداللہ کے درمیان قرعہ ڈالا گیا تو اونٹوں کے نام کا قرعہ نکل آیا عبدالمُطلب نے فوراً تعمیل کی۔ سو اونٹ بطورِ فدیہ صفا اور مروہ کے درمیان ذبح کردیے ١ <br> استسقاء : <br> کئی سال گزر گئے مکہ میں بارش نہ ہوئی، کنوئیں خشک ہونے لگے مکہ کے باشندے سخت پریشان تھے مخزمہ بن نوفل زہری کا بیان ہے کہ ان کی والدہ رقیقہ بنت ابی صیفی بن ہاشم جو عبدالمُطلب کی بھتیجی تھیں اور ہم عمر بھی تھیں ،انہوں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص کہہ رہا ہے کہ نبی آخر الزماں (صلی اللہ عليہ وسلم) کی ولادت ہوچکی ہے پھر اس نے ایک شخص کا حیلہ بتایا اور کہا کہ اس حیلہ کا جو آدمی تمہارے یہاں ہو اس سے کہو کہ وہ مکہ کے ہر ایک خاندان کے ایک ایک آدمی کو ساتھ لے اور یہ سب لوگ نہا دھوکر صاف ستھرے کپڑے پہن کر پہلے حرم میں جائیں ، وہاں حجر اسود کو بوسہ دیں پھر کوہ ابو قبیس کی چوٹی پر پہنچ کر دعا مانگیں ،یہ شخص دعا مانگے سب آدمی آمین کہیں ۔ <br> رقیقہ کا بیان ہے کہ عبدالمُطلب کا یہی حلیہ تھا جو خواب میں بتایا گیا لہٰذا عبدالمُطلب کو بتایا گیا کہ وہ خواب کے اشارہ کی تعمیل کریں ،عبدالمُطلب نے پورے اہتمام سے تعمیل کی اور اپنے پوتے (محمد صلی اللہ عليہ وسلم) کو بھی ساتھ لیا ٢ ابو قبیس پر پہنچ کر دعا مانگی ابھی یہ دعا مانگ رہے تھے کہ بادل آسمان پر چھاگئے پھر زور کی بارش برسی ،سر زمینِ مکہ جل تھل ہوگئی ٣ <br> ١ ابن سعد ص ٥٣ ٢ خواجہ ابو طالب نے اپنے قصیدہ میں آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے اس کی تفصیل حصہ سیرت میں آئے گی ان شاء اللّٰہ ٣ ابن سعد ج١ ص ٥٤ <br> عبدالمُطّلب کے بعد خواجہ ابوطالب اور حق ِسقایہ : <br> آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کی عمر تقریباً آٹھ سال تھی جب عبدالمُطلب کا انتقال ہوا عبدالمُطلب کے جانشین ابوطالب قرار دیے گئے۔ خدمت ِسقایہ ان کے سپرد ہوئی ابوطالب اخلاق اور کمالات میں سب بھائیوں سے ممتاز تھے مگر دولت میں کم تھے، حج کا زمانہ آیا تو ہاتھ خالی تھے اور خدمت ِسقایہ کے لیے دس ہزار کی ضرورت تھی انہوں نے یہ رقم اپنے بھائی عباسسے ایک سال کے وعدہ پر قرض لی، دوسرا سال آگیا قرض ادا نہ ہوسکا اور مزید خرچ کی ضرورت پیش آگئی تو بھائی عباس سے پھر ایک سال کے لیے چودہ ہزار قرض لیے مگر اس مرتبہ عباس نے یہ طے کر لیا کہ اگر آئندہ سال تک یہ رقم ادا نہ ہوسکے تو آپ خدمت ِسقایہ میرے حوالہ کردیں ۔ خواجہ ابو طالب نے یہ شرط منظور کر لی پھر یہ اتفاق ہوا کہ ابوطالب ادائیگی قرض کا انتظام نہ کر سکے تو حسب ِوعدہ خدمت ِ سقایہ عباس کے حوالے کردی ١ (جاری ہے ) <br> ( ماخوذ از سیرتِ مبارکہ '' محمد رسول اللّٰہ '' صلی اللہ عليہ وسلم ص١٣١ تا ١٤٢ ناشر کتابستان دہلی ) <br> ١ البدایة والنہایة ج١ ص ٢٤٧ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے اس کا احترام فرمایا چنانچہ فتح مکہ کے بعد بھی یہ خدمت ِسقایہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے نام پر ہی باقی رکھی (صحاح) <br> ٭٭٭ <br> <br> <br> <br> <br> جامعہ مدنیہ جدید کے فوری توجہ طلب ترجیحی اُمور <br> ٭٭٭ <br> (١) مسجد حامد کی تکمیل <br> (٢) طلباء کے لیے دارُالاقامہ (ہوسٹل) اور دَرسگاہیں <br> (٣) کتب خانہ اور کتابیں <br> (٤) پانی کی ٹنکی <br> ثواب جاریہ کے لیے سبقت لینے والوں کے لیے زیادہ اجر ہے ۔ (ادارہ) <br> <br> <br> <br> <br> مقالاتِ حامدیہ <br> مجاہدین ِاسلام کے لیے خاص دعائیں <br> ٭٭٭ <br> قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں <br> عنوانات و تزئین ، حاشیہ و نظر ثانی بتغیرِ یسیر : حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب <br> ٭٭٭ <br> حضرت شریح بن عبید الحضرمی فرماتے ہیں کہ انہوں نے زبیر بن ولید کو یہ بتلاتے ہوئے سنا کہ انہوں نے عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما سے سنا کہ جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم جب جہاد یا سفر پر تشریف لے جاتے اور رات کا وقت ہوجاتا تو یہ دعا پڑھتے <br> '' یَا اَرْضُ رَبِّیْ وَرَبُّکِ اللّٰہُ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّکِ وَشَرِّ مَا فِیْکِ وَشَرِّ مَا دَبَّ عَلَیْکِ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ کُلِّ اَسَدٍ وَ اَسْوَدَ وَحَیَّةٍ وَعَقْرَبٍ وَمِنْ شَرِّ سَاکِنِ الْبَلَدِ <br> وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ '' ١ ( تھذیب الکمال فی الزبیر بن ولید الشامی ج ٢ ص ٢١٥ ) <br> ابو القاسم نے فرمایا '' وَمَا وَلَدَ '' سے مراد '' ابلیس'' ہے اور ابو القاسم حدیث کے راویوں میں سے ایک ہیں <br> بہر حال اللہ پاک کی طرف توجہ کرنا اور ایسی دعاؤں کا پڑھتے رہنا کہ جن میں بڑی تاثیرات دیکھی گئی ہوں بہت بڑے نفع کا حامل ہے لہٰذا چند دعائیں تحریر کیے دیتا ہوں کیونکہ ان میں کثیر نفع کی امید ہے چنانچہ کتب میں مذکور ہے کہ ابن حاتم روایت کرتے ہیں کہ جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے معرکہ ٔ بدر کے موقع پر '' شَاھَتِ الْوُجُوْہُ اَللّٰھُمَّ اَرْعِبْ قُلُوْبَھُمْ وَزَلْزِلْ اَقْدَامَھُمْ '' ٢ پڑھا <br> ١ ترجمہ : ''اے زمین میرا رب اور تیرا رب اللہ ہے میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تیرے شر سے اور تیرے اندر کی چیزوں کے شر سے اور تجھ پر رینگنے والوں کے شر سے ، میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ہر شیر کے شر سے اور ہر بڑے چھوٹے سانپ اور بچھو کے شر سے اور بستی میں رہنے والے کے شر سے اور ہر جننے والے اور جو کچھ اس نے جنا اس کے شر سے '' <br> ٢ ترجمہ : ''چہرے بگڑ جائیں اے اللہ ان کے دلوں میں رعب ڈال دے اور ان کے قدم اکھیڑ دے '' <br> اور سنگریزے اٹھا کر دشمن کے لشکر کی دائیں بائیں اور پشت کی جانب ڈال دیے پس دشمن کے دفعیہ اور شکست میں اس کے عظیم اثرات نمودار ہوئے ! ! حق تعالیٰ نے کلامِ مجید میں ارشاد فرمایا ہے <br> ( وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی ) ١ یعنی '' آپ نے نہیں مارا بلکہ اللہ تعالیٰ نے مارا'' <br> اور جبکہ مجاہدین اسلام پوری طرح راہ ِ حق میں اس کے دین ِ متین کی خاطر سر ہتھیلی پر رکھ کر باری تعالیٰ کے حضور حاضر ہیں تو مناسب ہوگا کہ اس طرح کر لیں کہ(مذکورہ بالا) آیت ِ مبارکہ <br> ( وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی ) چند بار بعددِ طاق پڑھ لیں کہ یہ آیت ِ مبارکہ سے توسل ہوگا اور تبرک بھی پھر (مذکورہ بالا) شَاھَتِ الْوُجُوْہُ اَللّٰھُمَّ اَرْعِبْ قُلُوْبَھُمْ وَزَلْزِلْ اَقْدَامَھُمْ پڑھیں اور مسنون طریقہ کے مطابق عمل کر کے فائر کا آغاز کریں <br> (٢) ریڈیائی (ایٹمی) اثرات اور زہریلی گیسوں کے ضرر سے حفاظت کے لیے ہر نماز کے بعد تین بار یہ دعا پڑھ لیا کریں <br> '' بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہ شَیْیٔ فِی الاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآئِ وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ '' <br> نیز اس مبارک دعا کے فوائد میں ایک واقعہ سیف من سیوف اللّٰہ حضرت خالد بن ولید رضی اللّٰہ عنہ <br> کی طرف بھی منسوب ہے ٢ <br> ١ سورة الانفال : ١٧ <br> ٢ عراق میں حیرہ کے مقام پر ایاس بن قُبَیْصَةْ اور عَمرو بن عبدالمسیح (عیسائی) حضرت خالد کی خدمت میں حاضر ہوئے عَمرو بن عبدالمسیح کی عمر کئی سو سال تھی عَمرو بن عبدالمسیح کے خادم کے ساتھ ایک تھیلی تھی آپ نے دریافت فرمایا یہ کیا ہے ؟ بولا سُمُّ سَاعَةْ (فی الفور ہلاک کردینے والا زہر سائی نائٹ ) ہے ! ! <br> آپ نے اس سے زہر لے کر یہ دعا پڑھی <br> '' بِسْمِ اللّٰہِ خَیْرِ الاَسْمَائِ وَ رَبِّ الاَرْضِ وَ السَّمَائِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہ دَائ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ '' <br> اور زہر نگل لیا کچھ بھی نہ ہوا ( البدایة و النہایة ج ٣ ص ٤٠٣ ، الکامل فی التاریخ ج ٢ ص ٢٩٩ ) <br> (٣) آگ خاص طور پر نیپام بم وغیرہ کے نقصانات سے تحفظ کے لیے مندرجہ ذیل آیات ِ مبارکہ ہر روز ایک بار یا ہر نماز کے بعد پڑھ لیا کریں علامہ کمال الدین محمد بن موسٰی الدمیری نے حیاة الحیوان میں ذکرِشاة کے ذیل میں ابو زُرعة رازی رحمہ اللّٰہ سے ایک قصہ ٔ عجیبہ نقل کیا ہے (جس کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں ہے) <br> '' ذَالِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْم ۔ وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُوْمِنُوْنَ۔ وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظَّالِمُوْنَ ۔ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا۔ وَقَضٰی رَبُّکَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوْا اِلَّا اِیَّاہُ۔ تَنْزِیْلاً مِّمَّنْ خَلَقَ الاَرْضَ وَالسَّمٰوَاتِ الْعُلٰی اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَی لَہ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا وَمَا تَحْتَ الثَّرٰی یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَال وَّلَا بَنُوْنَ اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ۔ اِئْتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْھًا قَالَتَا اَتَیْنَا طَائِعِیْنَ ۔ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ مَا اُرِیْدُ مِنْھُمْ مِنْ رِّزْقٍ وَّمَا اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ ۔ وَفِی السَّمَآئِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ فَوَ رَبِّ السَّمآئِ وَالاَرْضِ اِنَّہُ لَحَقّ مِّثْلَ مَا اَنَّکُمْ تَنْطِقُوْنَ '' <br> (٤) ہر قسم کی حفاظت کے لیے یہ دعا ہر روز ایک با ر یا ہر نماز کے بعد پڑھیں <br> علامہ دَمِیْرِی نے ذکرِ شاة میں اس کی عجیب تاثیرات ذکر فرمائی ہیں <br> '' وَلَا یَؤُوْدُہ حِفْظُھُمَا وَھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ ۔ وَھُوَ الْقَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہ وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَةً ۔ وَلَا تَضُرُّوْنَہ شَیْئًا اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی کُلِّ شَیْیٍٔ حَفِیْظ ۔ فَاللّٰہُ خَیْر حَافِظًا وَّھُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ ۔ لَہ مُعَقِّبَات مِّنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہ یَحْفَظُوْنَہ مِنْ اَمْرِاللّٰہِ ۔ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہ لَحَافِظُوْنَ ۔ وَحَفِظْنَاھَا مِنْ کُلِّ شَیْطَانِ رَّجِیْمٍ ۔ وَجَعَلْنَا السَّمَآئَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا ۔ وَکُنَّا لَھُمْ حٰفِظِیْنَ <br> وَحِفْظًا مِّنْ کُلِّ شَیْطَانٍٍ مَّارِدٍ ۔ وَحِفْظًا ذَالِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ <br> وَرَبُّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْیًٔ حَفِیْظ ۔ اَللّٰہُ حَفِیْظ عَلَیْھِمْ وَمَا اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْل وَعِنْدَنَا کِتَاب حَفِیْظ وَاِنَّ عَلَیْکُمْ لَحَافِظِیْنَ کِرَامًا کَاتِبِیْنَ یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ اِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْھَا حَافِظ ۔ اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْد اِنَّہ ھُوَ یُبْدِیُٔ وَیُعِیْدُ وَھُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُ ذُوالْعَرْشِ الْمَجِیْدُ فَعَّال لِّمَا یُرِیْدُ ھَلْ اَتَاکَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِ فِرْعَوْنَ وَ ثَمُوْدَ بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ تَکْذِیْبٍ وَّاللّٰہُ مِنْ وَّرَآئِھِمْ مُحِیْط <br> بَلْ ھُوَ قُرْآن مَّجِیْد فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ '' <br> (٥) حَشَرَاتُ الاَرْضْ (کیڑے مکوڑوں ) سے حفاظت کے لیے یہ دعا صبح و شام پڑھیں <br> اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَاخَلَقَ ١ <br> حدیث شریف میں آتا ہے کہ یہ دعاء بچھو سے حفاظت کے لیے ہے چونکہ کلماتِ دعا عام ہیں <br> لہٰذا اللہ پاک سے عام نفع کا طلبگار رہنا چاہیے کہ حق تعالیٰ ہر شر سے محفوظ رکھیں ، ان شاء اللّٰہ بقدرِ نیت اس کی برکات کا مشاہدہ کریں گے جو بھی راہِ حق میں بر سرِ پیکار ہے حق تعالیٰ اس کا حامی و ناصر ہو، آمین <br> <br> <br> <br> <br> قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ کے سلسلہ وار مطبوعہ مضامین جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ پر پڑھے جا سکتے ہیں <br> http://www.jamiamadniajadeed.org/maqalat <br> <br> <br> <br> <br> خطبات سید محمودمیاں <br> (٤) <br> ٭٭٭ <br> محمود الملة والدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب <br> جامعہ مدنیہ جدید کی مسجد حامد میں جمعہ کا بیان فرمایا کرتے تھے جن کی ریکارڈنگ جامعہ کے استاذ مفتی محمد فہیم صاحب کرتے تھے، ان بیانات کی افادیت کے پیش نظر انہیں ماہنامہ انوارِ مدینہ کے ذریعہ ہر ماہ حضرت کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچانے کا اہتمام کیا جارہا ہے اللہ تعالیٰ حضرت کے اس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے،آمین۔ (ادارہ) <br> ٭٭٭ <br> تین آدمی جن کا ثواب دُگنا ہوتا ہے <br> ( افادات : شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ) <br> عنوانات و نظر ثانی : ڈاکٹر محمد امجد <br> ( ٦ ربیع الثانی ١٤٣٥ھ / ٧ فروری ٢٠١٤ ء ) <br> ٭٭٭ <br> اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا <br> مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ ! <br> آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا ہے تین آدمی ایسے ہیں جن کو دُگنا ثواب ملتا ہے، اللہ تعالیٰ ان کو ڈبل اجر اور ثواب دیتے ہیں ، ان میں ایک آدمی وہ ہے الرَّجُلُ تَکُوْنُ لَہُ الَٔامَةُ کہ اس کی باندی ہو ،پہلے زمانے میں باندیوں کا رواج تھا، غلاموں کا رواج تھا اسلام سے بھی پہلے، کافروں کے یہاں اور مسلمانوں کے یہاں بھی اسلام کے آنے سے پہلے جو پہلے نبیوں کی اُمتیں تھیں ان میں بھی تھا اور کافروں میں تو بہت پہلے سے کئی ہزار سال سے غلام بنانے کا اور باندی بنانے کا رواج چلا آرہا ہے <br> غلام اور باندی پر وہ لوگ بہت ظلم کرتے تھے جیسے گھوڑے گدھے ہوتے ہیں اس سے بھی برا سلوک اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ جانور ہیں ہمارے چوپائے ہیں ان سے کام جانوروں کی طرح لینا ہے ، کھانے کو ملا دے دیا ، نہیں تو نہیں اور سوکھے ٹکڑے ڈال دیے ،یہ چلتا تھا ! یہ صدیوں سے چلا آرہا تھا <br> جب نبی علیہ السلام تشریف لائے ہیں تو یہ رواج عرب میں بھی تھا یہ رواج روم میں بھی تھا یہ رواج ایران میں بھی تھا ہندوستان میں بھی تھا چین میں بھی تھا پوری دنیا میں تھا اس وقت، نبی علیہ السلام نے آکر غلاموں کے ساتھ ظلم اور زیادتی، اور باندیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کو ختم کیا اور غلام بنانے کے رواج کو بھی ختم کرنے کی کوشش شروع فرما دی، جب تک یہ رواج ختم نہیں ہوتا اس وقت تک ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، کوشش شروع کردی آہستہ آہستہ، اب آپ دیکھیں کہ یہ رواج دنیا میں نہیں ہے ، مسلمانوں کے یہاں بالکل نہیں ہے یہ نبی علیہ السلام کی اس مہم کی برکت سے ختم ہو گیا جو آپ نے چلائی تھی ! <br> (غلام اور باندیاں بنانے کا رواج )شروع انہوں نے کیا تھا کافروں نے تو جب آپ نے یہ مہم چلائی تو اس میں پھر یہ باتیں ارشاد فرمائیں کہ ایک آدمی وہ ہے کہ جس کے پاس باندی ہو فَیُعَلِّمُھَا فَیُحْسِنُ تَعْلِیْمَھَا او کما قال علیہ السلام کہ اس کو تعلیم دلائے باندی کو تعلیم دلائے ! جب باندی کو تعلیم دینے کی نبی علیہ السلام تحریض فرمارہے ہیں اور اُبھار رہے ہیں کہ دلائو تو آزاد عورتوں اور لڑکیوں کو تعلیم دلوانا کتنی ضروری ہے ؟ <br> اسلام عورتوں کو تعلیم سے نہیں روکتا : <br> یہ جو کہتے ہیں کہ اسلام عورتوں کو تعلیم سے روکتا ہے علم سے روکتا ہے، یہ جہالت کی باتیں ہیں جو لوگ اسلام کے دشمن ہیں وہ ایسی باتیں کرتے ہیں ، اسلام نے اگر روکا ہوتا تو نبی علیہ السلام یہ بات ارشاد نہ فرماتے ! تو جب باندی جیسی عورت کو آپ تعلیم کی ترغیب دے رہے ہیں تو آزاد عورتوں کے لیے توتعلیم اور بھی ضروری ہے ، جب ایک آدمی اپنی باندی کو تعلیم دلائے گا تو کیا اپنی بیٹی یابہن کو نہیں دلائے گا، اپنی بیوی کو جاہل رکھنا پسند کرے گا، ظاہر ہے وہ ان کو تعلیم دلاتا ہے اسی لیے نبی علیہ السلام فرما رہے ہیں جیسے انہیں تعلیم دلاتے ہو تو ایسے ہی باندیوں کو بھی تعلیم دلائو ،اس کو بھی برابر کرو اونچا کرو اس کو ذلیل گرا پڑا جیسے سمجھا جاتا تھا کہ نہ اسے سکھایا نہ پڑھایا نہ لکھایا نہ کھانے کے آداب نہ پہننے کے نہ اوڑھنے کے کچھ نہیں ، بس ایک جانور کی طرح ا ن سے سلوک کرتے تھے ایسے ہی وہ پل پل کر مر مرا جاتی تھی، اب بس ! نہیں ایسے نہیں کرنا ،فرمایا مالک اس کو بھی تعلیم دلائے ! <br> باندیوں کو بھی اعلیٰ تعلیم دلائو : <br> اور ایسی تعلیم دلائے جیسی اپنی بچیوں کو دلاتا ہے کیونکہ آگے فرمایا فَیُحْسِنُ تَعْلِیْمَھَا اعلیٰ تعلیم دلائے ، جوتعلیم اس کی زندگی میں اور اس کی آخرت میں دونوں میں کام دے اُے علم کے زیور سے آراستہ کرے کیونکہ صرف دنیاوی تعلیم وہ تو کافر بھی دیتے ہیں اپنی عورتوں کو ،وہ تو کمال نہیں ہے کہ بڑے بڑے سکول اور کالجوں پڑھا لو تواس سے دنیا کا تو فائدہ ہو گا لیکن آخرت کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا نہ دین کا فائدہ ہو گا وہ تو کافر بھی دلاتے تھے ! روم کے بادشاہ بھی دلاتے تھے، مصر کے بادشاہ بھی دلاتے تھے، ایران کے بادشاہ بھی اپنی عورتوں کو پڑھاتے لکھا تے تھے لیکن وہ تعلیم اسلامی تعلیم کے مقابلے میں نیچے تھی ، اس کا فائدہ اور اس کا مفاد ما دّی تھا ،روحانی فائدہ اس تعلیم میں نہیں تھا اور صرف دنیا میں تھی بس ! ! موت کے بعد آخرت میں اس کا کوئی فائدہ نہیں تھا ، اس میں نماز نہیں سکھاتے ، اس میں پاکی ناپاکی نہیں سکھائی جاتی ،اس میں حلال اور حرام کی تمیز نہیں سکھائی جاتی ، اس میں حقوق نہیں بتائے جاتے کہ ماں باپ کا کیا حق ہے اور چھوٹوں کا کیا حق ہے ؟ <br> آپ کاکیا خیال ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی جو انگلینڈ میں ہے اور امریکہ کی جو بڑی بڑی یونیورسٹیاں ہیں ان میں ماں باپ کے بارے میں تعلیم اور ادب سکھایا جاتا ہے ؟ پتا ہی نہیں ہوتا، وہاں کے پروفیسرز کو بھی نہیں پتا ہوتا کیونکہ وہاں کے پروفیسرکوئی سکھ ہے کوئی ہندو ہے کوئی یہودی ہے تو کوئی عیسائی ہے کئی مسلمان بھی ہیں ، ان کا یہاں استاد رکھنے کا معیار کچھ اور ہے ،نہ اسے ما ں کی تمیز ، نہ باپ کی ، نہ بڑے کی ، نہ چھوٹے کی، کوئی آداب ا نہیں معلوم نہیں ،تو یہ بہت ادھوری تعلیم ہے ان کی ، جو علوم اس وقت بھی پڑھائے جاتے تھے اسلام نے ان کو بھی اپنایا اور ان کے ساتھ یہ اضافہ کیا کہ روحانی تعلیم بھی دو ! صرف دنیاوی اور مادّی نہیں بلکہ اُخروی اور روحانی تعلیم کا اضافہ کر دیا تاکہ دونوں طر ح کا فائدہ ہو ! ! <br> تو نبی علیہ السلام ان دونوں فائدوں کی تعلیم دے رہے ہیں کہ باندی کو بھی یہ دونوں چیزیں سکھائے جو بھی اعلیٰ تعلیم جس کو کہتے ہیں وہ اس کو دلائے جیسے اپنی بیٹی کو دلاتا ہے چنانچہ صحابہ نے اس پر عمل کیا ،صحابہ میں خود ایسے بہت سے تھے جو غلام تھے، بعض صحابہ ایسے ہیں جو خود غلام تھے ان کو اسلام نے آزادی دلائی لیکن جس طرح ہم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ادب اور احترام کرتے ہیں ایسے ہی اُس صحابی کا بھی کرتے ہیں جو پہلے غلام تھے کوئی فرق نہیں کرتے ، اگر کوئی اس صحابی کی گستاخی کر ے گا تو جاہل آدمی بھی اس کے سر پر اینٹ مارے گا، جو صحابی غلام تھے اور وہ آزاد ہوئے اور صحابی ہیں ان کی بھی توہین کوئی ادنیٰ مسلمان برداشت نہیں کرے گا ! اگر کوئی دوسرا توہین کرے گا تو اس کے سر پر اینٹ مار کے پھاڑ دے گا جیسے اسے غصہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی توہین پر آتا ہے ایسے ہی اس کو غلا م صحابی کی توہین پر بھی غصہ آتا ہے ! <br> صحابہ کے نام پر اپنے بچوں کے نام رکھنا : <br> حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے کتنی محبت ہے لوگوں کے دلوں میں ان کا نام پر لوگ اپنے بچوں کا نام بلال رکھتے ہیں ! جاہل لوگ بھی رکھتے ہیں اور اتنی محبت کرتے ہیں غلام صحابی سے ! حضرت زید رضی اللہ عنہ غلام تھے ان کے نام پر دنیا اپنے بچوں کے نام رکھتی ہے اور فخر کرتے ہیں سعادت سمجھتی ہے ، اسلام نے اتنی عزت دی اتنی عزت دی کہ ان پر سے غلامی کا دھبہ مٹاکررکھ دیا کہ خبردار اِن کو اس نظریے سے کوئی نہ دیکھے، اس آنکھ سے انہیں کوئی نہ دیکھے چنانچہ ان(غلام) صحابہ کو اور (دوسرے) صحابہ کے برابر درجہ ملا ! ! <br> اسلامی یونیورسٹی کا معیار : <br> '' صفہ'' جو آپ نے یونیورسٹی قائم کی مدینہ منورہ میں اور دوسری ''دارِ ارقم''مکہ مکرمہ میں ، ان دونوں میں آزاد بھی تھے کیونکہ بین الاقوامی یونیورسٹی تھی اس میں روم کے طالب علم بھی تھے اس میں عجم کے بھی تھے اس میں یمن کے بھی تھے اس میں مصر کے بھی تھے ! اورسب کو پڑھاتے تھے، اس میں آزاد اور غلام دونوں تھے ،یہ نہیں تھا کہ اس جگہ آزاد بیٹھیں گے اور وہاں غلام بیٹھیں گے نیچے ، دو نوں ایک ساتھ بیٹھتے تھے، دونوں کو تعلیم دی تو بہت بڑا معیار قائم کیا ! <br> باندیوں کو بھی اعلیٰ ادب سکھائو : <br> تو فرمایا کہ جس کے گھر میں کوئی باندی ہو اُسے صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم دے، فرمایا فَیُحْسِنُ تَعْلِیْمَھَا پھر فرمایا وَیُؤَدِّبُھَا فَیُحْسِنُ أَدَبَھَا اعلیٰ ادب سکھائے، آداب بھی سکھائے، گھر کی صفائی کیسے ہوتی ہے ؟ گھر میں اوڑھنا پہننا کیسے ہے ؟ اُٹھنا بیٹھنا کیسے ہے ؟ لباس پوشاک کیسی ہے ؟ باورچی خانہ کیسے رکھنا ہے ؟ گھر کیسے سنبھالنا ہے ؟ اندر کے کام کس طرح کرانے ہیں ؟ باہر کے کام کیسے کرانے ہیں ؟ اور فرمایا ان کو اعلیٰ تعلیم دی ادب کی ،بڑے چھوٹے کا ادب بھی سکھایا ،اُٹھنا بیٹھنا بھی سکھا یا جیسے اپنی بیٹیاں گھر میں ہیں ایسے ہی انہیں بھی کر دیا پتہ ہی نہیں چلتا، اُٹھنے بیٹھنے میں سنورنے میں ان جیسی لگتی ہیں ! اکنامک کالج میں ان کو پڑھا یا کیونکہ میری بیٹی یا میری بہن جاتی تو اس کو بھی پڑھائوں ،کوئی بڑا مہنگا کالج ہے وہاں لڑکیوں کو بہت ہنرسکھاجاتا ہے سینا پرونا او ر یہ دستکاریاں بہت مہنگی اس کی فیسیں تیس تیس چالیس چالیس ہزار ہوتی ہیں اور اس کے جو اور خرچے ہوتے ہیں وہ اس کے علاوہ ملاکر، مالدارلوگ پڑھا سکتے ہیں ہر آدمی نہیں پڑھا سکتا اس میں ،لیکن بہت ہنر سیکھتی ہیں اس میں لڑکیاں بڑی ماہرہو تی ہیں ! تو فرمایا اگرضرورت پڑے تمہاری بچیاں اس کالج میں پڑھتی ہیں تو اس باندی کو بھی اسی میں پڑھانا ہے ،نبی علیہ السلام ہمیں یہ ترغیب دے ر ہے ہیں ! <br> اب جب اسے سب کچھ سکھا دیا تو آپ آج کے دور میں اس حساب سے سوچیں اگر اعلیٰ تعلیم دلائی توپانچ سال دس سال جتنا عرصہ بھی دلائی لاکھوں روپیہ خرچ ہو چکا ہو گا یا نہیں ہو گا ؟ اور پھر اس کو کڑھائی سلائی سکھائی اس پر بھی بہت خرچ ہوگا کیونکہ وہ کالج والے کہتے ہیں یا سکول والے کہ آج فلاں کپڑا لانا ہے آج اس طرح کا لانا ہے آج اس طرح کا لانا ہے تو وہ لانا پڑتا ہے تو مالدار کے علاوہ عام آدمی پڑھا بھی نہیں سکتا ان کالجوں میں بچیوں کو ، اب اس میں جب پڑھائے گااور اگر اس کی بچیوں نے میڈیکل کیا اور اس نے اس باندی کو بھی میڈیکل کروایا تو کتنا روپیہ خرچ ہوگا ؟ اتنا کچھ خرچ کرو باندی پر جیسے اپنے پر خرچ کرتے ہو اپنی بیٹی پر یا بہن پر، یہ ترغیب دے رہے ہیں رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم پھر جب خرچ کر دیا تو اب لاکھوں روپے خرچ ہو گیا گھر میں ایک بہت ہنر مند سلیقہ مند عورت موجود ہے ! <br> باندیوں کو آزاد کردو : <br> پھر فرمایا ثُمَّ یُعْتِقُھَا ١ یہ سب کچھ سکھانے کے بعد اس کو آزاد کردو ! اب دنیا کے ماہر جو ہیں <br> ماہر اقتصادیات اکانومکس کے ماہر وہ تو اس مشورے کو نہیں مانتے نہ تسلیم کرتے ہیں ، وہ یہ کہیں گے کہ جب آپ نے اس کو اتنا پڑھایا اتنا لکھا یا اتنا سکھا یا اتنا پیسہ خرچ کیا تو اب اسے آزاد کرنا یہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا یہ تو گھاٹا ہی گھاٹاہے ! آزاد ہی کرنا تھا تو پہلے دن کر دیتے ، اتنا لکھا پڑھا کر پیسہ خرچ کر کے ، گاڑی بھی گئی پٹرول بھی پھونکا سب کچھ کیا اسے کالج سے لائے لے گئے سب کچھ کیا ،جس وین میں تمہارے بچے آتے جاتے تھے اسی میں یہ بھی آئی گئی سب کچھ کیا ،اب اسے آزاد کرتے ہو تو ہمارے نقطہ نظر سے جو ہم نے اسکولوں میں کالجوں میں اعلیٰ تعلیم پڑھی ہے اور وزیر خزانہ پاکستان اسحاق ڈار بھی یہ کہے گا میری سمجھ میں یہ فلسفہ نہیں آیا اسے اب کیوں آزاد کررہے ہو ؟ اتنا پیسہ خرچ کرنے کے بعد آزاد کون کرتا ہے اسے تو رکھنا چا ہیے ! تو یہ وہی کہہ رہا ہے جو اس نے یہودیوں اور عیسائیوں کے سکولوں اور کالجوں میں پڑھا ہے وہ یہی کہیں گے کہ اسے چھوڑنا تو حماقت ہے بیوقوفی ہے ، اتنا پیسہ لگادیا ، یا تو لگاتے ہی نہ اور اگر آزاد ہی کرنا تھا تو شروع میں کردیتے اتنا خرچ کر کے آزاد کیوں کر رہے ہو ؟ تو دنیاوی نقطہ نظر سے تویہ بات بالکل صحیح ہے یہ مشورہ بھی صحیح ہے، چارٹرڈاکائونٹنٹ جو آپ کے ہوں گے آپ رکھیں بڑا اگر آپ کا صنعتی کاروبار ہو کچھ ہو تو وہ بھی آپ کو یہی مشورہ دے گا کہ نہیں ، یہ تو آپ کا خسارہ ہی خسارہ ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم فرماتے ہیں انہیں آزاد کردو ! ! <br> ١ صحیح البخاری کتاب الجھاد و السیر رقم الحدیث ٣٠١١ <br> رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی دور اندیشی : <br> کیونکہ یہاں بہت دور کی نگاہ ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی دور اندیشی ان کی نگاہ سے بہت آگے ہے جس کا فائدہ بہت بڑا ہے اور وہ کیا فائدہ ہے ؟ وقت بھی پورا ہو گیا ہے بلکہ ایک دو منٹ اوپر ہو گئے ہیں وہ ان شا ء اللّٰہ اللہ نے چا ہا تو آئندہ بتائیں گے، اللہ ہمیں دین کی سمجھ بھی دے اور عقل بھی دے ،عمل کی توفیق بھی دے اور ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے اور آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی شفاعت اور ان کا ساتھ نصیب فرمائے <br> وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ <br> <br> <br> <br> <br> قسط : ٤ ، آخری <br> فضیلت کی راتیں <br> ( حضرت مولانا نعیم الدین صاحب ،اُستاذ الحدیث جامعہ مدنیہ لاہور ) <br> ٭٭٭ <br> شب ِجمعہ کی فضیلت : <br> (١) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی علیہ الصلٰوة والسلام فرماتے تھے : <br> لَیْلَةُ الْجُمُعَةِ لَیْلَة غَرَّائُ وَیَوْمُ الْجُمُعَةِ یَوْم اَزْھَرُ ١ <br> ''جمعہ کی رات روشن رات ہے اور جمعہ کا دن چمکتا دن ہے '' <br> (٢) حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : <br> خَمْسُ لَیَالٍ لَا یُرَدُّ فِیْھِنَّ الدُّعَائُ لَیْلَةُ الْجُمُعَةِ وَاَوَّلُ لَیْلَةٍ مِنْ رَجَبٍ وَلَیْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ وَلَیْلَتَا الْعِیْدِ۔ ٢ <br> ''پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں کی جانے والی دعا رد نہیں ہوتی : (١)شب ِ جمعہ (٢) رجب کی پہلی رات (٣) شعبان کی پندرہویں شب (٤) عید الفطر کی رات (٥) عید الاضحی کی رات '' <br> ٭ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : <br> بَلَغَنَا اَنَّہ کَانَ یُقَالُ اِنَّ الدُّعَائَ یُسْتَجَابُ فِیْ خَمْسِ لَیَالٍ فِیْ لَیْلَةِ الْجُمُعَةِ وَلَیْلَةِ الْاَضْحٰی وَلَیْلَةِ الْفِطْرِ وَ اَوَّلِ لَیْلَةٍ مِنْ رَجِبٍ وَلَیْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ ۔ ٣ <br> ١ شعب الایمان ج ٣ ص ٣٧٥ ، فضائل الاوقات للامام البیہقی ص ١٠٥ ، مشکوة ص ١٢١ <br> ٢ شعب الایمان ج ٣ ص ٣٤٢ فضائل الاوقات ص ٣١٢ ، مصنف عبدالرزاق ج ٤ ص ٣١٧ <br> ٣ شعب الایمان ج ٣ ص ٣٤٢ ، سُننِ کبریٰ ج ٣ ص ٤١٩ ، لطائف المعارف ابن رجب الحنبلی ص١٤٤ <br> ''ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ یوں کہا جاتا تھا کہ پانچ راتوں میں دعا قبول ہوتی ہے (١) شب ِ جمعہ (٢) عید الاضحی کی رات (٣) عید الفطر کی رات (٤) رجب کی پہلی رات (٥) اور شعبان کی پندرہویں شب '' <br> مذکورہ احادیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ شب ِ جمعہ اور رجب کی پہلی رات اس لحاظ سے فضیلت کی حامل ہیں کہ ان میں کی جانے والی دعائیں قبول ہوتی ہیں لہٰذا جو لوگ شب زندہ دار ہوں اُنہیں چاہیے کہ وہ ان راتوں میں خلوص کے ساتھ دعا میں مشغول ہوں البتہ چونکہ صحیح احادیث میں ان راتوں کی کوئی مخصوص و متعین عبادت نہیں آئی اس لیے اپنی طرف سے کسی خاص عبادت کااِن راتوں میں معمول نہ بنائیں ! ! ! <br> شب ِ جمعہ کی ایک خاص فضیلت : <br> جمعہ کی اس فضیلت کے ساتھ ساتھ کہ یہ ایک روشن رات ہے اور اس میں دعائیں قبول ہوتی ہیں ایک دوسری فضیلت اور بھی ہے وہ یہ کہ جو مسلمان اس رات فوت ہوتا ہے وہ ایک تو منکر و نکیر کے سوال و جواب سے محفوظ رہتاہے دوسرے وہ عذاب ِ قبر سے مامون ہوجاتا ہے اُسے عذاب ِ قبر نہیں ہوتا چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : <br> مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَّمُوْتُ یَوْمَ الْجُمُعَةِ اَوْ لَیْلَةَ الْجُمُعَةِ اِلَّا وَقَاہُ اللّٰہُ فِتْنَةَ الْقَبْرِ۔ ١ <br> ''جو کوئی مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی شب فوت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اُسے قبر کے فتنہ سے محفوظ فرمادیتے ہیں '' <br> ٭ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : <br> مَنْ مَّاتَ یَوْمَ الْجُمُعَةِ اَوْ لَیْلَةَ الْجُمُعَةِ اُجِیْرَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَجَائَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلَیْہِ طَابِعُ الشُّھَدَائِ۔ ٢ <br> ١ سُنن ترمذی ج ١ ص ١٠٥ باب ماجاء فی من یموت یوم الجمعة ، مُسند احمد ج٢ ص ١٦٩ ، مشکوة المصابیح ص ١٢١ ٢ شرح الصدور ص ٢٠٩ باب مَنْ لَّا یَسْئَلُ فِی الْقَبْرِ <br> ''جومسلمان جمعہ کے دن یا شب ِجمعہ میں فوت ہو جاتا ہے اُسے عذابِ قبر سے پناہ دے دی جاتی ہے اور وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اُس پرشہیدوں کی مہر ہوگی '' <br> ٭ حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : <br> مَا مِنْ مُّسْلِمٍ اَوْمُسْلِمَةٍ یَّمُوْتُ لَیْلَةَ الْجُمُعَةِ اَوْ یَوْمَ الْجُمُعَةِ اِلَّا وُقِیَ عَذَابَ الْقَبْرِ وَفِتْنَةَ الْقَبْرِ وَلَقِیَ اللّٰہَ وَلَا حِسَابَ عَلَیْہِ وَجَائَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَمَعَہ شُھُوْد یَّشْھَدُوْنَ لَہ بِالْجَنَّةِ اَوْطَابِع۔ ١ <br> ''جومسلمان مرد یا عورت شب ِ جمعہ میں یا جمعہ کے دن فوت ہوتا ہے وہ عذابِ قبر اور فتنۂ قبرسے محفوظ کردیا جاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے اِس حال میں ملے گا کہ اُس پرکسی قسم کا حساب نہیں ہوگا اور قیامت کے دن اِس حال میں آئے گا کہ اُس کے ساتھ گواہ ہوں گے جواُس کے لیے جنت کی گواہی دیں گے یا مہر ہوگی '' <br> شب ِجمعہ کی یہ فضیلت جمعہ کے دن اور رمضان المبارک میں فوت ہوجانے والے شخص کے لیے بھی ثابت ہے چنانچہ جو مسلمان جمعہ کے دن یا رمضان المبارک میں فوت ہوجائے اُسے بھی عذابِ قبر نہیں ہوتا ! مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر پیش آنے والے بعض سوالوں کا جواب بھی ذکر کردیاجائے۔ <br> (1) سوال : شب ِ جمعہ، جمعہ کے دن اور رمضان المبارک میں مرنے والے کوصرف ان ایام میں عذاب نہیں ہوتا یا قیامت تک معافی مل جاتی ہے ؟ ؟ <br> جواب : مومن کو قیامت تک معافی مل جاتی ہے ! <br> (2) سوال : ان ایام میں تو سود خور شرابی اور بدکار بھی مرتے ہیں کیا اُن سے بھی عذابِ قبر مرتفع ہوجاتا ہے ؟ <br> ١ شرح الصدور ص ٢٠٩ <br> جواب : اس سوال کے مندرجہ ذیل جواب ہو سکتے ہیں : <br> (ا) دوسری نصوص کے پیش ِ نظر اِس حدیث میں اِجتناب عن الکبائر کی قید ہے لہٰذا جو کبائر سے بچتا ہوگا وہی عذابِ قبر سے بچے گا ! <br> (ب) بعض بدکار بلا حساب بھی جنت میں جائیں گے جن کے لیے یہ سعادت مقدر ہے اِن ایام میں صرف اُن ہی کی موت واقع ہوتی ہے ! <br> (ج) ان ایام میں موت سے صرف عذابِ قبر معاف ہے عذابِ آخرت نہیں ! اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ان ایام کی برکت کے سوا کسی اور عمل کی بدولت عذابِ قبر سے بچ گیا تو آئندہ منازل سہل ہوں گی ! ! ! <br> (3) سوال : ان ایام میں تو کافر بھی مرتے ہیں توکیا وہ بھی عذابِ قبر سے محفوظ ہوجاتے ہیں ؟ <br> جواب : ان ایام میں اگر کافر مر جائے تو اُسے صرف ان ایام میں عذابِ قبر نہیں ہوتا ان کے بعد شروع ہو جاتا ہے ! ! ! <br> (4) سوال : اگر کوئی فوت تو جمعرات کے دن میں ہوا اور اُس کی تدفین جمعہ یا جمعہ کے دن عمل میں آئی تو کیا اُس سے بھی عذابِ قبر مرتفع ہوجائے گا ؟ <br> جواب : یہ وعدہ جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات میں موت پر ہے دفن پر نہیں البتہ عذابِ قبر چونکہ دفن کے بعد شروع ہوتا ہے اور مسلم میت پر شب ِ جمعہ سے حشر تک عذاب مرتفع ہوجاتا ہے اس لیے ایسا شخص عذابِ قبر سے محفوظ رہے گا ! ! <br> ٭ ابن البزار رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں : <br> اَلسُّوَالُ فِیْمَا یَسْتَقِرُّ فِیْہِ الْمَیِّتُ حَتّٰی لَوْ اَکَلَہ سَبُع فَالسُّوَالُ فِیْ بَطْنِہ فَاِنْ جُعِلَ فِیْ تَابُوْتٍ اَیَّامًا لِنَقْلِہ اِلٰی مَکَانٍ آخَرَ لَا یُسْئَلُ مَا لَمْ یُدْفَنْ ۔ <br> ''میت سے سوال و جواب اُسی جگہ ہوتا ہے جو جگہ میت کا مستقر بنتی ہے یہی وجہ ہے کہ اگر کسی کو کسی درندے نے کھا لیا تو اُس سے سوال وجواب اُس درندے کے پیٹ میں ہوگا اور اگر کسی میت کو چند دن تابوت میں رکھا گیا کسی دوسری جگہ لے جانے کے لیے تو جب تک اُس میت کو دفنا نہیں دیا جائے گا اُس سے سوال و جواب نہیں ہوگا '' ١ <br> حضرت یعقوب علیہ السلام نے طلب ِ استغفار کو شب ِ جمعہ پر موقوف رکھا : <br> مفسرین ِکرام لکھتے ہیں کہ برادرانِ یوسف نے اخیر میں جب اپنی خطاؤں کا اقرار کر کے اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام سے عرض کیا کہ ہماری خطائوں کی بخشش کی دعا کر دیجئے تو آپ نے فرمایا تھا : ( سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّیْ)''عنقریب میں تمہارے لیے اپنے رب سے مغفرت طلب کروں گا'' گویا آپ نے فورًا ہی مغفرت طلب نہیں کی تھی بلکہ وعدہ کر لیا تھا کہ عنقریب کروں گا۔ <br> سوال ہوتا ہے کہ آپ نے برادرانِ یوسف کے لیے مغفرت کب طلب کی ؟ <br> اس سلسلہ میں نبی کریم علیہ الصلٰوة والسلام سے دو وقت منقول ہیں : <br> (١) ایک یہ کہ آپ نے طلب ِ مغفرت وقت ِسحر کی کہ یہ قبولیت ِ دعا کا وقت ہے ! <br> (٢) دوسرے یہ کہ آپ نے طلب ِ مغفرت شب ِ جمعہ پر موقف رکھی، جب شب ِ جمعہ آئی تو آپ نے صاحبزادوں کے لیے مغفرت طلب کی ٢ <br> حضرت عکرمہ رحمہ اللہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ( سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّیْ ) (عنقریب میں تمہارے لیے اپنے رب سے مغفرت طلب کروں گا) کی تفسیر میں نقل کرتے ہیں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا مطلب یہ تھا کہ شب ِ جمعہ میں مغفرت طلب کروں گا ٣ <br> حضرت وہب بن مُنبہ رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام بیس برس سے بھی زیادہ عرصہ تک ہر شب ِ جمعہ صاحبزادوں کے لیے مغفرت طلب کرتے رہے ٤ <br> ١ اس سوال و جواب کی تفصیل کے لیے احسن الفتاوٰی ج ٣ ص ١٩٧ تا ١٩٩ ملا حظہ فرمائیں ، یہ معمولی تغیر کے ساتھ اسی سے ماخوذ ہیں ٢ روح المعانی ج٥ ص ٥٥ ٣ تفسیر مظہری ج٥ ص ٢٠٠ ٤ ایضاً <br> حضرت طاؤس رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے دعائِ مغفرت کو شب ِ جمعہ کے وقت ِ سحر پر مؤخر کیے رکھا پھر ایسا اتفاق ہوا کہ اسی شب ِ جمعہ دسویں محرم کی رات بھی ہوئی ١ <br> حفظ ِقرآن کے لیے شب ِجمعہ میں کیا جانے والا ایک خاص عمل : <br> ''حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ علی بھی آگئے اور آکر عرض کرنے لگے کہ (یا رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم ) میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوجائیں قرآنِ پاک میرے سینے سے نکلا جاتاہے جو یاد کرتاہوں وہ محفوظ نہیں رہتا، رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے آپ سے فرمایا اے ابو الحسن (حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دُوں کہ جن کے ذریعہ اللہ تمہیں بھی نفع دے گا اور جنہیں تم وہ کلمات سکھاؤ گے اُنہیں بھی نفع دے گا اور جو تم سیکھوگے وہ تمہارے سینے میں محفوظ رہے گا، (حضرت)علی ( رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا کہ جی ہاں یا رسول اللہ (صلی اللہ عليہ وسلم ضرور سکھلا دیجئے ) چنانچہ آپ نے مجھے بتلایا کہ جب شب ِجمعہ آئے اور تم رات کے آخری تہائی حصے میں اُٹھ سکو تو یہ بہت ہی اچھا ہے کہ یہ وقت ملائکہ کے نازل ہونے کاہے اور دعا اس میں خاص طور سے قبول ہوتی ہے، اسی وقت کے انتظار میں میرے بھائی یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا (سَوْفَ اَسْتَغْفِرُلَکُمْ رَبِّیْ) (عنقریب میں تمہارے لیے اپنے رب سے مغفرت طلب کروں گا) آپ کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ شب جمعہ آنے دو پھر استغفار کروں گا ! اگر اس وقت جاگنا دُشوار ہو تو آدھی رات کے وقت، اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو شروع رات ہی میں کھڑے ہو کر چار رکعت نفل اس طرح پڑھو کہ پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ یٰسین پڑھو، دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ دخان پڑھو، <br> ١ التفسیر المظہری ج ٥ ص ٢٠٠ <br> تیسری رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ الم سجدہ پڑھو اور چوتھی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ ملک پڑھو، جب التحیات سے فارغ ہو جاؤ تو اوّل حق تعالیٰ شانہ کی خوب خوب حمدو ثنا کرو پھر مجھ پر اور تمام انبیائِ کرام پردرود بھیجو پھر تمام مومن مرد و عورت کے لیے نیز اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے جو مرچکے ہیں استغفار کرو اور اس کے بعد یہ دعا پڑھو : <br> اَللّٰھُمَّ ارْحَمْنِی بِتَرْکِ الْمَعَاصِیْ اَبَدًا مَّا اَبْقَیْتَنِیْ وَارْحَمْنِیْ اَنْ اَتَکَلَّفَ مَا لَا یَعْنِیْنِیْ وَارْزُقْنِیْ حُسْنَ النَّظْرِ فِیْمَا یُرْضِیْکَ عَنِّیْ ، اَللّٰھُمَّ بَدِیْعَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ذَالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ وَالْعِزَّةِ الَّتِیْ لَا تُرَامُ اَسْئَلُکَ یَااَللّٰہُ یَارَحْمٰنُ بِجَلاَلِکَ وَنُوْرِ وَجْھِکَ اَنْ تُلْزِمَ قَلْبِیْ حِفْظَ کِتَابِکَ کَمَا عَلَّمْتَنِیْ وَارْزُقْنِیْ اَنْ اَتْلُوَہ عَلَی النَّحْوِ الَّذِیْ یُرْضِیْکَ عَنِّیْ ، اَللّٰھُمَّ بَدِیْعَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ذَالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ وَالْعِزَّةِ الَّتِیْ لَا تُرَامُ اَسْئَلُکَ یَا اَللّٰہُ یَا رَحْمٰنُ بِجَلاَلِکَ وَنُوْرِ وَجْھِکَ اَنْ تُنَوِّرَ بِکَتَابِکَ بَصَرِیْ وَاَنْ تُطْلِقَ بِہ لِسَانِیْ وَاَنْ تُفَرِّجَ بِہ عَنْ قَلْبِیْ وَاَنْ تَشْرَحَ بِہ صَدْرِیْ وَاَنْ تَغْسِلَ بِہ بَدَنِیْ فَاِنَّہ لَا یُعِیْنُنِیْ عَلَی الْحَقِّ غَیْرُکَ وَلَا یُؤْتِیْہِ اِلَّا اَنْتَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ ۔ <br> ''اے اِلٰہ العالمین مجھ پر رحم فرما کہ جب تک میں زندہ رہوں گناہوں سے بچتا رہوں اور مجھ پر رحم فرما کہ میں بیکار چیزوں میں کلفت نہ اُٹھاؤں اور اپنی مرضیات میں خوش نظری مرحمت فرما ! اے اللہ اے زمین و آسمانوں کے بے نمونہ پیدا کرنے والے،اے عظمت اور بزرگی والے اور اُس غلبہ باعزت کے مالک جس کے حصول کا اِرادہ بھی نا ممکن ہے، اے اللہ اے رحمن میں تیری بزرگی اور تیری ذات کے نور کے طفیل تجھ سے مانگتا ہوں کہ جس طرح تونے اپنی کلامِ پاک مجھے سکھادی اسی طرح اِس کی یاد بھی میرے دل سے چسپاں کردے اور مجھے توفیق عطا فرماکہ میں اس کو اِس طرح پڑھوں جس سے تو راضی ہو جاوے ! <br> اے اللہ زمین اور آسمانوں کے بے نمونہ پیداکرنے والے، اے عظمت اور بزرگی والے اور اس غلبہ یا عزت کے مالک جس کے حصول کا اِرادہ بھی ناممکن ہے، اے اللہ اے رحمن میں تیری بزرگی اور تیری ذات کے نور کے طفیل تجھ سے مانگتا ہوں کہ تومیری نظر کو اپنی کتاب کے نور سے منور کردے اور میری زبان کو اس پر جاری کردے اور اس کی برکت سے میرے جسم کے گناہوں کا میل دھودے کہ حق پر تیرے سوا میرا کوئی مددگار نہیں اور تیرے سوا میری یہ آرزو کوئی پوری نہیں کر سکتا اور گناہوں سے بچنا یاعبادت پر قدرت نہیں ہو سکتی مگر اللہ برتر و بزرگی والے کی مدد سے '' <br> پھر آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابُوالحسن (علی) اس عمل کو تین جمعہ یا پانچ جمعہ یا سات جمعہ کرو، اللہ کے حکم سے دُعا ضرور قبول ہوگی، قسم ہے اُس ذاتِ پاک کی جس نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے کسی مومن سے بھی قبولیت ِ دُعا نہ چوکے گی ! حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ (حضرت) علی (رضی اللہ عنہ) کو پانچ یا سات جمعے ہی گزرے ہوں گے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی اسی جیسی مجلس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم پہلے میں تقریبًا چار آیتیں پڑھتا تھا وہ بھی مجھے یاد نہیں ہوتی تھیں اور اب تقریبًا چالیس آیتیں پڑھتا ہوں اور ایسی اَز بر ہو جاتی ہیں کہ گویا قرآنِ پاک میرے سامنے کھلا ہوا رکھا ہے اور پہلے میں حدیث سنتا تھا اور جب اُس کو دوبارہ کہتا تھا تو ذہن میں نہیں رہتی تھی اور اب احادیث سنتا ہوں اور جب دوسروں سے نقل کرتا ہوں تو ایک لفظ بھی نہیں چھوٹتا آپ نے اس موقع پر فرمایا : رب ِ کعبہ کی قسم ابو الحسن (علی) مومن ہے'' ١ <br> ١ جامع ترمذی ج ٢ ص ١٩٧ باب فی دعاء الحفظ رقم الحدیث ٣٥٧٠ طبع ایچ ایم سعید اینڈ کمپنی کراچی امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے ، مستدرک حاکم ج١ ص ٤٦١ <br> شب ِ جمعہ میں مزارات پر جانا : <br> اکثر لوگ مرد ہوں یا عورتیں جمعہ کی رات اولیاء کرام کے مزارات پر حاضری کو ضروری سمجھتے ہیں چنانچہ دُور دُور سے لوگ اس غرض کے لیے آتے ہیں اور منکرات و مناہی کا ارتکاب کرتے ہیں انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ اوّل تو اِس رات میں مزارات پر جانے کو ضروری سمجھنا نا جائز ہے کیونکہ شرعًا اس کا کوئی ثبوت نہیں ! دوسرے عورتوں کو مزارات پر جانا جائز نہیں جیسا کہ کتب ِ فقہ وفتاوی میں تفصیلاً مذکور ہے ! اس لیے نہ تو اس شب میں مزارات پر حاضری کو ضروری خیال کرنا چاہیے اور نہ ہی عورتوں کو مزارات پر جانا چاہیے ! <br> شب ِ جمعہ کی ناقدری : <br> شب ِ جمعہ کے جو فضائل بیان ہوئے ہیں اُن کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے اللہ کو راضی کیا جائے اور اُس سے خیرو برکت، مغفرت و عافیت، صحت و سلامتی کی دعائیں مانگی جائیں تاکہ اِس رات کی برکت سے وہ دعائیں قبول ہوں لیکن ہو یہ رہا ہے کہ اس رات کی انتہائی ناقدری کرتے ہوئے لوگ اسے لہو و لعب کی نذر کر رہے ہیں ، اکثر لوگ ساری ساری رات ٹیلیویژن اور انٹر نیٹ پر گندی و غلیظ فلمیں دیکھتے رہتے ہیں بہت سے لوگ کیرم ، شطرنج اور دیگر کھیل تماشوں میں ساری رات گزار دیتے ہیں ! نو جوان نسل جگہ جگہ فلڈلائٹیں لگا کر ساری رات میچ کھیلتی رہتی ہے جس سے اپنا وقت تو ضائع کرتے ہی ہیں دوسروں کا راحت وآرام بھی برباد کرتے ہیں ! ساری رات اس طرح گزرتی ہے صبح سحر کے وقت غفلت کی نیند سو جاتے ہیں ! ! ! اس طرح اس رات کی برکات سے محروم رہنے کے ساتھ ساتھ گناہوں کا بوجھ بھی سروں پر لادتے ہیں خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ یہ بڑے ہی نقصان اور گھاٹے کا سودا ہے ! مرنے کے بعد احساس ہوگا وہاں پتہ چلے گا کہ کرنا کیا تھا اور کر کیا آئے ؟ ! <br> اللہ تعالیٰ سمجھ اور عمل کی توفیق عطا فرمائے،آمین <br> ٭٭٭ <br> <br> <br> <br> <br> درسِ حدیث <br> (٤) <br> ٭٭٭ <br> محمود الملة والدّین شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب <br> جامعہ مدنیہ جدید کی مسجد حامد میں ''خانقاہ حامدیہ چشتیہ '' کے تحت ہونے والی مجلس ذکر کے بعد ہر اتوار بعد نمازِ مغرب درس حدیث دیاکرتے تھے جن کی ریکارڈنگ جامعہ کے استاذ مفتی محمد فہیم صاحب کرتے تھے، ان دروس کی افادیت کے پیش نظراِن دروس کو ماہنامہ انوارِ مدینہ کے ذریعہ ہر ماہ حضرت کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچانے کا اہتمام کیا جارہا ہے، اللہ تعالیٰ حضرت کے اس فیض کو تاقیامت جاری و مقبول فرمائے،آمین (ادارہ) <br> ٭٭٭ <br> بین الاقوامی سفارتی قوانین(حصہ دوم) <br> ( افادات : شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ) <br> عنوانات و نظر ثانی : ڈاکٹر محمد امجد <br> ( ٢٤ ربیع الاوّل ١٤٣٥ھ / ٢٦ جنوری ٢٠١٤ ء ) <br> ٭٭٭ <br> اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا <br> مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّا بَعْدُ ! <br> گزشتہ درس میں امام محمد رَحْمَةُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کی کتاب ( اَلسِّیرُ الکبِیْر )سے فوجی قوانین کی بات ہوئی تھی کہ فوج کے افسران کو جو کمان کرتے ہیں ان کو جو قوانین بتائے اور سکھائے گئے ہیں انہیں یہ قوانین ازبر ہوتے ہیں معلوم ہوتے ہیں ! انہیں فوجی لاز ، مارشل لاز ، مارشل قوانین جو چاہے کہہ لیں اور یہ بین الاقوامی قوانین بھی ہیں کیونکہ فوج کو لڑائی کے دوران دو قسم کے واسطے پڑتے ہیں ایک اپنی اندرونی فوج کے ساتھ اور ایک دشمن فوج کے ساتھ ، ظاہر ہے وہ دوسرے ملک کی ہے تو بین الاقوامی مسئلہ ہو گیا ، گویا دونوں چیزیں اس میں آگئی ہیں لیکن ہیں فوج سے متعلق عسکری امور سے متعلق ! ! <br> امیرِ لشکر کے لیے ہدیہ لینا مکروہ ہے : <br> اس میں ایک ضابطہ امام محمد رحمة اللّٰہ علیہ '' باب صلة المشرک '' کے تحت فرماتے ہیں یُکْرَہُ لِاَمِیْرِ الْجَیْشِ اَنْ یَّقْبَلَ ہَدَایَاہُمْ جو جیش کا سربراہ ہے جو محاذ پر فوجی دستہ گیا ہوا ہے اس لشکر کے سربراہ کے لیے یہ بات مکروہ ہے ٹھیک نہیں ہے کہ ادھر سے فوج کا ہم پلہ ہم منصب جو ہے وہ یا اس کے علاوہ کوئی اور اگر اس کو ہدیہ دے تو اس کو قبول کرے ! یہ ضابطہ ہے یہ ایک عسکری قانون آگیا کہ لشکر کے جیش کا جو امیر ہے سالار ہے بریگیڈیئر ہے یا میجر جنرل ، لیفٹیننٹ جنرل ، کور کمانڈر جو بھی ہو، جتنا بڑا لشکر ہوتا ہے اتنا بڑا کمانڈر ہوتا ہے، یہ ان کا ہدیہ قبول نہیں کرے گا ، مکروہ ہے اس کے لیے ! ! <br> لیکن اگر لے لیا قبول کر لیا ہدیہ ، کسی وجہ سے کوئی مصلحت تھی ،لے لیا ، تو اب کیا ہوگا ؟ قانون کیا کہتا ہے ؟ اس کا مالک کون ہے ؟ خود یہ کور کمانڈر یا اس محاذ کا جو بھی جرنل کرنل بنا ہوا ہے ، اس وقت پورے محاذ کا وہ لیڈر ہے ؟ <br> (امام محمد)کہتے ہیں نہیں وہ مالک نہیں ہے فَلْیَجْعَلْھَا فِیْئًا لِلْمُسْلِمِیْنَ جو مسلمان فوجی لشکر موجود ہے ان سب کے حصے میں جمع ہو جائے گا مالِ غنیمت کے طور پر، معرکہ کے بعد اگر اللہ نے فتح دی اور مال ملا تو اس کو مالِ غنیمت میں شامل کیا جائے گا یہ خالص اس کا نہیں ہوگا ! ! <br> نقلی دلیل کا مطلب : <br> اب اس کے بارے میں کچھ تفصیلی بحث کررہے ہیں اس ضابطے کو بیان کیا اس کے بارے میں مزید جزئیات ہیں وہ بیان ہوں گی بلکہ اسی کی تشریح اور توضیح ہے فَقِیْلَ ھٰذَا لَیْسَ بِکَرَاھَةِ التَّحْرِیْمِ یہ بھی امام محمد نے فرمایا کہ مکروہ ہے لینا ۔تو فرما رہے ہیں اس مکروہ سے مراد حرام نہیں ہے یعنی یہ اتنا برا نہیں ہے کہ اس کے لیے یہ لینا حرام ہو جائے ،لیکن مراد اس سے وَلٰکِنْ مُرَادُہُ التَّنْزِیْہُ لِاَنَّہُ اِذَا قَبِلَ ہَدَایَاہُمْ وجہ بتا رہے ہیں اس کی ، عقلی وجہ بھی دیتے ہیں جب ایک بات بتا دی تو اس کے ساتھ بہت جگہوں پر دو دلیلیں دیتے ہیں ، ایک عقلی دلیل اور ایک نقلی دلیل ، دونوں دے دیتے ہیں ساتھ بہت جگہوں پر، ساری ہدایة جوآپ نے پڑھی ہے ہمارے قانون کی کتاب جو طلباء دو سال میں پڑھتے ہیں کئی سو صفحوں کی کتاب ہے اس میں آپ نے پڑھا ہے کہ اس میں صاحب ِ ہدایہ ہر بات کی دو دلیلیں دیتے ہیں ایک عقلی دلیل اور ایک منطقی دلیل جیسے آج کل اخباروں میں آتا ہے منطقی انجام ، عقلی انجام ، فکری انجام بھی کہہ دیتے ہیں اس کو ، وہ دلیل دیتے ہیں اور ایک نقلی دلیل بھی دیتے ہیں نقلی دلیل کہ اس کی تائید قرآن کی یا حدیث کی کس چیز سے ہو رہی ہے ، نقل کے معنی جو چیز منقول ہوتی چلی آئی ہے قرآن سے یا نبی عَلَیْہِ السَّلَامْ سے ! ! <br> ''نقلی ''کا مطلب جعلی نہیں ہے جیسے نقلی گھی ملتا ہے یہاں پر ڈالڈا ،آپ کہیں نقلی سے وہ سمجھیں وہ نقلی مراد نہیں ہے بلکہ نقلی سے مراد منقول جو شریعت مطہرہ سے ثابت ہو ، وہ مراد ہے ! ! <br> ہدیہ کی تاثیر : <br> تو عقلی دلیل دے رہے ہیں ، کہتے ہیں کہ اگر وہ ان کے ہدیے قبول کرے گا لاَ یَأْمَنُ اَنْ یَّتَأَ لَّفَہُمْ تو خود بخود دل میں ایک نرمی آتی ہے، ہدیہ کی ایک تاثیر ہوتی ہے تو اس بات کا اطمینان نہیں ہوسکتا کہ وہ ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرے ،بنا ہے جیش کا سردار ، لشکر کا سردار بنا ہے، لشکر میں تو مار دھاڑ ، جنگ ، ضرورت پڑنے پر قربان ،مارنا اور مرنا ( یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ ) ١ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں فَیَقْتُلُوْنَ قتل کرتے ہیں وَیُقْتَلُوْنْ خود بھی قتل کر دیے جاتے ہیں ، ضرورت پڑے تو اپنی جان بھی پیش کرتے ہیں وہاں تو اس لیے گیا تھا وہاں جانے کے لیے تو دل مضبوط چاہیے ،نرم تھوڑی چاہیے ! تو اس لیے فرما رہے ہیں کہ یہ ہدیہ نہ لے کیونکہ اس سے اندیشہ ہے کہ اس کے دل میں نرمی آجائے عَلٰی مَا جَائَ فِی الْحَدِیْثِ حدیث میں آتا ہے ،نرمی کیوں آئے گی ؟ کہتے ہیں حدیث میں یہ بات آتی ہے کہ اَلْہَدِیَّةُ تُذْہِبُ وَحَرَّ الصَّدْرِ ہدیہ جو ہوتا ہے یہ سینہ میں جو ایک غیض ہوتا ہے غضب ہوتا ہے جوش کہہ لیں اس میں نرمی آ جائے گی ! <br> رشتہ داروں میں تلخی ہو گئی کہیں آپ نے دے دیا ہدیہ تو دیکھیں اس کی تاثیر دیکھیں کیسی ہو گی ؟ وہ ضرور نرمی کر لے گا ،گالی بھی دے گا تو کم دے گا، پہلے اس نے سوچا ہو گا موٹی گالی دوں گا ہدیہ کے بعد <br> ١ سورة التوبة : ١١١ <br> ہلکی گالی دے گا ،فرق ضرور آئے گا ،یہ نہیں آپ کہہ سکتے کہ اس کو تو میں نے ہدیہ دیا تھا گالی پھر بھی مل گئی حدیث میں تو آتا ہے ! ہدیہ اگر نہ دیتا تو گالی اور موٹی دینی تھی یہ تو نرم گالی دے دی شکر کرو ہدیہ کی وجہ سے ،اثر کیا ہے ہدیہ نے ،یہ نہیں کہ اثر نہ کرے ! <br> تو فرماتے کہ اس سے دل میں نرمی آسکتی ہے حَرَّ الصَّدْرِ جو ہے اس کو لے جاتا ہے حالانکہ ہمیں حکم دیا گیا ہے وَقَدْ اُمِرْنَا بِالْغِلْظَةِ عَلَیْہِمْ کہ ان کے ساتھ جب جہاد اور لڑائی کا معاملہ ہو تو پھر ماتھے پر شکن ہونی چاہیے غلظت ہونی چاہیے بات میں رعب ، دبدبہ ہو ، آواز میں گرج ہو، ماتھے پر شکن ہو اور وہ سمجھے کہ یہ ایسا ویسا آدمی نہیں ہے ، کیوں ؟ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ( وَلْیَجِدُوْا فِیْکُمْ غِلْظَةً ) ١ اور پاؤ تم اپنے اندر غلظت ، تمہارا دل خوب سخت ہو مضبوط ہو اور اس سے جب بات کرو تو گرج دار آواز میں کرو کیونکہ موقع ہی ایسا ہوتا ہے رعب اور دبدبے کا ، تو یہ ہونا چاہیے ! ! <br> اب یہ ساری باتیں آئیں لیکن دونوں کے لیے قرآن اور حدیث سے دلیل آگئی تو معلوم ہوا قرآن اور حدیث نے تمام امور کا احاطہ کر رکھا ہے لشکری امور ہیں ، عسکری امور ہیں ، ملکی امور ہیں ، بین الاقوامی امور ہیں ! اس لیے اس کو ہدیہ لینا نا پسند کیا گیا کہ مت لے اور اگر لے لیا تو وہ اس کا نہیں ہو گا بلکہ ساری جماعت کا ہو گا جو لڑنے کے لیے ساتھ آئے ہیں ! ! <br> اسلام میں عسکری قوانین : <br> یہ وہ اصول ہیں جو ہماری فوج کے جرنیلوں کو پتا ہونے چاہییں ازبر ہونے چاہییں لیکن انہیں نہیں پتا ، انہیں معلوم ہی نہیں ہے قرآن کا ، جو انگریز نے بنا رکھے ہیں قوانین وہ انہیں یاد ہیں ، ہم اگر بنائیں گے تو یہ قانون پڑھائے جائیں گے ،فوج میں بھی پڑھائے جائیں گے ان کے بڑے بڑے کالج ہیں ، بڑی محنت کرتے ہیں پڑھتے ہیں اور محنت سے پڑھتے ہیں ، مقابلے کے امتحان ہوتے ہیں لیکن محنت غلط چیزوں پر ہو رہی ہے ، یہودیوں کے قوانین ، عیسائیوں کے قوانین ، ان ہی کے حوالے دے کر بات کرتے ہیں ، ان( اسلامی )قوانین کو نہیں مانتے ! ! <br> ١ سورة التوبة : ١٢٣ <br> ہدیہ قبول کرنے کی جائز صورت : <br> بہرحال امام محمد نے فرمایا کہ امیر لشکر کے لیے ہدیہ لینا مکروہ ہے وَقِیْلَ : اَلْمُرَادُ لَا یَحِلُّ لَہ اَن یَّقْبَلَہَا عَلٰی اَن یَّخْتَصَّ بِہَا لیکن بعض کہتے ہیں نہیں ، لے بھی سکتا ہے، یہ جو حلال نہ ہونا ہے یہ اس صورت میں ہے جب اس کی اپنی خصوصیت ہو، اس کے لیے خصوصی ہو تو حلال ہے ! امام محمد کی اس بات سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے لیے اگر دیا جائے تو وہ مکروہ ہے اور وَلٰکِنَّہُ یَقْبَلُہَا عَلٰی اَنْ یَّجْعَلَہَا فِیْ فَئیئِ الْمُسْلِمِیْنَ مالِ غنیمت میں اگر جمع کرا دے پھر لینا مکروہ نہیں ہے لے سکتا ہے ! ایک قول یہ بھی آرہا ہے کہ اگر مسلمانوں کے پورے لشکر کے لیے لے لیا تو پھر کراہت بھی نہیں ہے ! ! <br> اب مسلمانوں کے لیے کیوں ہو گا ، اس کے لیے کیوں نہیں ہو گا ،خاص اس کے لیے ؟ تو کہتے ہیں اس کہ وجہ یہ ہے کہ یہ جو ہدیہ دے رہے ہیں ،کیا یہ اس کا رشتہ دار لگتا ہے ، اس لیے دے رہے ہیں ؟ خالہ زاد بھائی ، چچا زاد بھائی اس لیے تو نہیں دے رہے وہ ، بلکہ اس لیے دے رہے ہیں کہ ان کے دل میں اس کا رعب اور دبدبہ پڑا ہے کہ محاذ پر فوجیں آئی ہوئی ہیں تو ایک دبدبہ ہے مرعوبیت ہے اس لیے تو دے رہے ہیں رعب اور دبدبے کی وجہ سے ! ! <br> لشکر کے رُعب اور دبدبہ کا اثر : <br> اب یہ رعب اور دبدبہ جو ہے یہ تو اس لشکر کی وجہ سے ہے جو اس کے ساتھ ہے وہ اکیلا جا کر دیکھے محاذ پر کہ رعب اور دبدبہ اس جرنل کا ہے یا نہیں ؟ اکیلا جائے بغیر کچھ لیے ، تو پھرکچھ بھی نہیں ، ان کا ایک عام فوجی اٹھا کر یوں اس کو پٹخے گا ، یہ جو رعب اور دبدبہ ہے یہ تو پورے لشکر کی وجہ سے ہوتا ہے اس کے ساتھ ہوتا ہے کہ اتنے سو لوگ ہیں ، مسلح ہیں ، لڑاکا ہیں ، جانباز ہیں اس کی وجہ سے اس سالار کا دبدبہ ہے اس وجہ سے یہ ہدیہ اس کے لیے نہیں ہو سکتا یہ سب کا ہو گا کیونکہ اس لشکر کی وجہ سے رعب اور دبدبہ قائم ہوا ہے ، اصطلاح میں اسے مَنَعَةْ کہتے ہیں ، اسے دشمن پر جو رعب اور دبدبہ حاصل ہے، ایک قوت اور ان کی ایک شوکت جو ہے اسے مَنَعَةْ کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں ، کہتے ہیں لِاَنَّہُمْ اَہْدُوْا اِلَیْہِ لِمَنَعَتِہِ اس کے دبدبے کی وجہ سے انہوں نے اس کو ہدیہ دیا ہے وَمَنَعَتُہُ بِالْمُسْلِمِیْنْ لَا بِنَفْسِہ اور یہ دبدبہ اسے جو مسلمان فوجی ساتھ ہیں ان کی وجہ سے آیا ہے لَا بِنَفْسِہ تنہا اس کی وجہ سے نہیں ہے اس لیے یہ ہدیہ سارے لشکر کا ہوگا ،تنہا اس کا نہیں ہوگا ! ! <br> قائدین کو دیا گیا ہدیہ سرکاری خزانہ میں جمع ہوگا : <br> وَکَذٰلِکَ اِذَا اَہْدُوْا اِلیٰ قَائِدٍ مِّنْ قُوَّادِ الْمُسْلِمِیْن مسلمانوں کے قائدین میں سے اگر کسی کو ہدیہ دے دیا تو بھی یہی حکم ہے ! سیاسی لیڈر وہ تو اور اونچی قیادت ہوتی ہے وہ تو کور کمانڈر ، میجر ، جنرل ، جرنیل سب سے اونچا،اور سیاستدان جو ہے اس کا عہدہ اس سے بھی بڑا ہوتا ہے کیونکہ ان کے فیصلے اور حکم پر فوج نے چلنا ہوتا ہے ، فوج کے فیصلے اور حکم پر سیاستدان نہیں چلتے بلکہ ان (سیاستدان)کے فیصلے پر فوج کو چلنا ہوتا ہے ، ساری دنیا میں یہی ہورہا ہے ! امریکہ میں بھی امریکی فوج کا سربراہ اور جرنیل آرڈر نہیں دے سکتا اوباما کو ١ بلکہ اوباما کی حکومت کے فیصلہ پر امریکی فوج عمل کرے گی ! ! <br> ہندوستان میں بھی منموہن سنگھ یا حکومت فیصلہ کر کے فوج کو حکم دے گی وہ اسے تسلیم کرنا واجب ہے ؟ نہیں مانیں گے تو کیا ہو جائے گا ؟ بغاوت ہوجائے گی ! یہی آج چین میں ہے یہی روس میں ہے یہی اسلامی ملکوں میں بھی ہے سوائے ہمارے ملک کے کہ یہاں پر ہماری بدنصیبی ہے پاکستان ہے بنگلہ دیش ہے ، یہ دو ملک ایسے ہیں جو فوج کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں ، جب چاہے مارشل لاء آ جاتا ہے، ساٹھ سالہ عرصہ میں تھوڑا سا عرصہ ہے ورنہ مارشل لاء ! <br> وجہ یہی ہے کہ جس قیادت کو اوپر ہونا چاہیے وہ نیچے آ جاتی ہے تو کام خراب ہو جاتا ہے اور یہ بات ایسی ہے کہ فوج والے بھی مانتے ہیں فوج کے جو انصاف پسند جرنیل ہیں وہ بھی مانتے ہیں لیکن انہیں یہ انصاف ریٹائر ہونے کے بعد یاد آتا ہے بدقسمتی سے ، جب ریٹائر ہوں گے تو انہیں انصاف یاد آجائے گا حق یاد آجاتا ہے ، ڈیوٹی کے دوران نہیں آتا، اسی طرح ججوں کا حال بھی ہے ساری زندگی اللہ اور رسول کے خلاف عدالتوں میں فیصلے دیتے رہیں گے، ریٹائرڈ ہو کر اللہ اور رسول کا قانون یاد آجاتا ہے بس زبانی جمع خرچ، اخباری بیان ہے عملاً کچھ نہیں کرنا یہ بے اصولی ہمارے یہاں چل رہی ہے ! ! <br> ١ اس بیان کے وقت امریکہ میں اوباما کی اور ہندوستان میں منموہن سنگھ کی حکومت قائم تھی (مرتب) <br> تو کہتے ہیں کہ یہ بِنَفْسِہ نہیں ہے ! ہاں اگر ان قائدین میں سے کسی قائد کو دیا مثلاًیہاں سے وزیر خارجہ گیا یا ان کا وزیر خارجہ آیا اس نے ہمارے وزیر خارجہ کو ہدیہ دے دیا ، سیکرٹری دفاع چلا گیا وہاں عہدے پر یا ان کا سیکرٹری دفاع آیا اس نے ان سے بات کی اسی طرح صدر ، وزیراعظم یا ان کے ماتحت عہدے دار ہیں ، وزیر اعلیٰ گیا جیسے پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف ابھی ہندوستان گئے تھے، اب اگر ان کو ہدیہ دیا وَکَذَلِکَ اِذَا اَہْدُوْا اِلیٰ قَائِدٍ مِّنْ قُوَّادِ الْمُسْلِمِیْن تو اس کا بھی یہی حکم ہوگا کہ وہ تنہا اس کا نہیں ہوگا وہ سرکاری خزانے میں جمع ہو کر حکومت کے پاس جائے گا ،اس کا نہیں ہوگا ! ! <br> صدر ، وزیراعظم کو یہاں بھی ہدیہ ملتا ہے ،بڑی بڑی قیمتی چیزیں انہیں ہدیہ میں ملتی ہیں ، انہیں کوئی چھوٹی سی چیز تھوڑی دیتے ہیں ہدیہ ،یہ بھی قیمتی ہدیہ دیتے ہیں وہ بھی قیمتی ہدیہ دیتے ہیں تو وہ آکر پاکستان کے سرکاری خزانہ میں جمع ہو جائے گا ،ہیر پھیر کوئی کر جائے تووہ اور بات ہے لیکن قانون یہ ہے کہ وہ حکومت کی نگرانی میں سرکاری خزانہ میں جمع ہوگا پھر اسے اگر صدر یا وزیراعظم اپنی ذات کے لیے لینا چاہیں تو پھر اس کا ضابطہ مقرر ہے ، کمی بیشی اتنے سستے نہیں کہ وہ اگر اتنے جمع کرا دیں سرکاری خزانے میں تو وہ چیز اسے دے دیں گے ! شاید( آصف علی )زرداری کو بھی کسی نے ایسی کوئی بہت قیمتی کار دی تھی جب وہ کہیں دورے پر گئے تھے تو انہوں نے سرکاری خزانے میں پیسے جمع کرا کے وہ کار لے لی ورنہ وہ سرکاری خزانہ میں جمع ہو گی ! کسی کو بھی ذاتی طور پر نہیں ملے گی یہ شرعی قانون ہے ! اِذَا اَہْدُوْا اِلیٰ قَائِدٍ مِّنْ قُوَّادِ الْمُسْلِمِیْنْ اس کا بھی یہی حکم ہوگا کہ وہ بیت المال میں جمع ہو گی کیونکہ وہ قائد ہے پورے ملک کا نمائندہ ہے اس وجہ سے انہوں نے وہ چیز دی ہے صرف اس کی شخصیت کی وجہ سے نہیں دی ! ! <br> مُبَارِزْ کو دیے گئے ہدیہ کا حکم : <br> ایک اور بات بتا رہے ہیں بِخِلَافِ مَا اِذَا اَہْدُوْا اِلیٰ مُبَارِزٍ پہلے یہ ہوتا تھا لڑائیوں میں کہ ہتھیار ہوتے تھے جب تلواروں سے لڑائی ہوتی تھی تو دشمن صفیں باندھ لیتے تھے وہ بھی صف باندھ کر کھڑے ہو گئے یہ بھی صف باندھ کر وہاں کھڑے ہو گئے ، اب حملہ کرنے سے پہلے اُدھر سے ایک بہادر لڑاکا نکلتا تھا تلوار لہراتا ہوا آتا اور کہتا کون ہے جو میرے مقابلے پر آئے گا ؟ چنانچہ اِدھر سے بہت بڑا جنگجو قسم کا اس کا ہم پلہ آگے بڑھتا تھا کہ میں ہوں تمہارے مقابلے میں وہ آتا تھا پھر ان میں آپس میں تلواروں کا تبادلہ ہوتا ہے ، پھر ان میں کس کا فیصلہ ہوتا ؟ ان میں سے جو ایک کو مار دیتا وہ جیتتا تھا تو بس اس کے فوراً بعد پھر دونوں طرف کی فوجیں بڑھ کر گتھم گتھا ہوجاتی تھیں اور معرکہ شروع ہو جاتا تھا، پہلے یہ ہوتا تھا اب ذرا طریقہ بدل گیا ،آپ نے کھیلوں میں بھی دیکھا ہو گا والی بال کے کھیل میں بھی یہ ہوتا ہے ، فٹ بال میں بھی ہوتا ہے ، ہاکی میں بھی یہ ہوتا ہے کہ پہلے آکر دو کھلاڑی آگے بڑھ کر گیند کو دو چار مرتبہ یوں تبادلہ کر کے پھینک دیتے ہیں پھر سب کھیلنا شروع کردیتے ہیں تو اسی طرح یہاں پر بھی ہوتا ہے ! <br> اب معرکہ اور انداز میں ہو گیا اب وہ نوعیت نہیں رہی لیکن اگر وہ نوعیت اب بھی کہیں پر ہو ایسی صورت میں تو اگر مُبَارِزْ آیا ہے تو وہ تو تنہامقابلے کے لیے آرہا ہے اپنے زورِ بازو پر ،وہ سب ساتھ ہیں اس کے لیکن اپنے زورِ بازو پر آرہا ہے بِخِلَافِ مَا اِذَا اَہْدُوْا اِلیٰ مُبَارِزٍ انہوں نے لڑائی کے بعد مُبَارِزْ کو ہدیہ دے دیا کہ بھائی یہ آپ کا آدمی ہے، فوجی تو آپ کا ہے لیکن یہ لڑا ایسا زبردست تھا کہ ہم اسے انعام دیں گے ، حالانکہ دوسرا ملک ہے لیکن تسلیم کرتے ہیں ! <br> ١٩٦٥ء یا ١٩٧١ء کی جو جنگ ہماری ہوئی تھی ہندوستان اور پاکستان کی، اس میں پاکستانی جرنیل کتاب لکھتے ہیں اور وہ بھی لکھتے ہیں ، یہ باتیں تاریخ کا حصہ بنتی ہیں اس میں جرنیل کچھ نہ کچھ اپنا ذاتی اظہار کرتے ہیں کہ فلاں محاذ پر جو جنگ ہوئی تھی اس میں دشمن کی طرف سے بڑا جان توڑ کر لڑے تھے، انہوں نے بڑا زبردست مقابلہ کیا ، ان میں فلاں نے بہت زبردست بہادری کا مظاہرہ کیا ، مان لیتے ہیں تو یہ باتیں تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں جیسے کسی نے غالباً بش سے پوچھا تھا کہ اُسامہ کے بارے میں آپ کا ذاتی خیال کیا ہے ؟ اس نے کہا انگریزی کے الفاظ تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ بہت شجاع اور انتہائی غیر معمولی دلیر اور بہادر انسان تھے ! اس نے یہ چیز تسلیم کی اسامہ بن لادن کی ذات کے بارے میں ، تو یہ چیزیں مانتے بھی ہیں اور تسلیم بھی کرتے ہیں ! <br> اسی طرح اگر اس نے کوئی انعام دے دیا کہ ہم اس جرنل کو یا اس بریگیڈیئر کو اس کرنل کو اس میجر کو ہم یہ انعام دیتے ہیں ، ہماری طرف سے یہ انعام ہے کیونکہ اس نے بہت زیادہ بہادری کا مظاہرہ کیا تھا ، تو اگر یہ انعام ملا تو یہ صرف اسی کا ہو گا اس میں کوئی اور شریک نہیں ہوگا یہ دیکھیں قوانین آپ کے سامنے ہیں فَاِنَّ عِزَّتَہ بِقُوَّةِ فِیْ نَفْسِہ فَتُسَلَّمُ لَہُ الْھَدِیَّةُ کیونکہ اس کی جو یہ عزت ہو رہی ہے اس کی جو پذیرائی ہورہی ہے انعام دیا جارہا ہے اس قوت کے مقابلے میں دیا جا رہا ہے جو اس کی شخصی قوت تھی اس کی وجہ سے انعام دیا ہے، اس کی اپنی ذاتی بہادری اور جوہر اور صلاحیت کی وجہ سے ہدیہ دیا ہے لہٰذا وہ ہدیہ اسی کو دے دیا جائے گا ! تو یہ تمام اسلامی قوانین ہیں جو ہماری فوج کو پتا ہونے چاہییں ! ! <br> اب تو ہمارے یہ پروگرام انٹرنیٹ پر بھی موجود ہیں ، ہمارے جامعہ کی ''الحامد کمپیوٹر لیب'' نے ہمارے بیانات جامعہ کی ویب سائٹ پر نشر (اپلوڈ)کرنے شروع کردیے ہیں ، میں کہتا ہوں بھائی یہ بیانات فوج والے بھی سن لیا کریں ہمیں تو ثواب لینا ہے ہمیں کوئی فیس تھوڑی لینی ہے، نہ ہمیں فیس لینی ہے ،نہ ہمیں واہ واہ کرانی ہے ، بس وہ سن لیں ،ہمیں تو ثواب ملے گا سنیں گے اور اس پر عمل کریں گے ان شاء اللّٰہ آگے پھر اوروں کو بتائیں گے ! ! <br> تو امیر جیش کی بات ہو گئی کہ اس کے لیے ہو تو کیا ہے ؟ تنہاء مُبَارِزْ ہو تو اس کے لیے کیا ہے ؟ اور سیاسی قیادت یا غیرسیاسی قیادت میں سے جو پورے ملک کے نمائندے کے طور پر جائے اگر اس کو ملے ہدیہ تو کیا ہے ؟ یہ ساری بات ہوگئی ! <br> رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کو دیے گئے ہدیہ کا حکم : <br> اب بات ہو گی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی جو سارے کورکمانڈروں کے بڑے کمانڈر ہیں دنیا کے سارے فیلڈ مارشلوں کے بھی فیلڈ مارشل ہیں ،امام المجاہدین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم ! <br> امام محمد کہتے ہیں وَاَمَّا فِیْ حَقِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم اگر کسی ملک کے بادشاہ نے صدر نے وہاں سے یا کسی معرکہ جنگ کے بڑے ترجمان نے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ بھیجا ہو تو اس کا کیا کرنا ہے ؟ وہ ہدیہ اگر آپ نے قبول فرما لیا تو کیا وہ بھی بیت المال میں جمع ہوگا اور سب کا حصہ ہوگا ؟ امام محمد کہتے ہیں نہیں ! وہ صرف حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے لیے خاص ہے وَاَمَّا فِیْ حَقِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم فَقَدْکَانَتِ الْہَدِیَّةُ لَہ اس میں کوئی شریک نہیں ، کیوں ؟ کہتے ہیں فَاِنَّ عِزَّتَہ وَمَنَعَتَہ لَمْ تَکُنْ بِالْمُسْلِمِیْنَ نبی کو جو عزت ملی ہے جو قوت اور شوکت اور دبدبہ ملا ہے وہ مسلمانوں کی وجہ سے نہیں ملا بلکہ مسلمانوں کو نبی کے صدقہ میں ملا ہے ! کیونکہ نبی کو ان کی وجہ سے نہیں مل رہا بلکہ پوری کائنات کو سب کچھ نبی کے صدقہ میں ملتا ہے ،نبی کو کسی کی وجہ سے صدقے میں نہیں ملتا ! اس وجہ سے وہ نبی کے لیے خاص ہے ! ! <br> ساتھ آیت لے آئے قرآن کی قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی ( وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسْ ) ١ اللہ تعالیٰ آپ کی لوگوں سے حفاظت رکھیں گے کہ لوگوں کو آپ پر غلبہ ہو جائے آپ مغلوب ہو جائیں آپ ماتحت ہو جائیں آپ برابری کے درجے میں آ جائیں ان کے، ایسا نہیں ہے ! اللہ نے آپ کو اوپر کر دیا ہے اب آپ اوپر ہی رہیں گے، جب اوپر ہیں تو اللہ ہی کے کرنے سے ہیں بندوں کا کوئی اس میں عمل دخل نہیں ہے ،ظاہری اسباب میں بھی کچھ نہیں ہے وہ ہدیہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کا ہی ہوگا خاص طور پر آپ کی یہ خصوصیت ہے اس کے علاوہ کسی کے لیے یہ خصوصیت نہیں ہے ! ! <br> بلکہ کہتے ہیں جو کافروں کے حق میں ہے اس میں تو یہ ہے کہ اگر آپ علیہ السلام ان کا ہدیہ قبول کر لیں تو شاید وہ اسلام کی طرف مائل ہو جائیں کیونکہ نبی کاتو ان کی طرف مائل ہونے کا سوال ہی نہیں ہے اَلْعَیَاذُ بِاللّٰہ وہ تو ہو ہی نہیں سکتا لیکن کافروں میں ہوتا ہے کہ میرا ہدیہ قبول کیا ہے ، یہ تو وہ جانتے ہیں کہ یہ بڑے ہیں بڑائی تو وہ بھی مانتے ہیں ان کی، بس کافر آدمی ہٹ دھرمی کر رہا ہے مانتا ہے ، جانتا ہے مگر تسلیم نہیں کرتا ، جانتاوہ بھی ہے ، لیکن تسلیم نہیں کرتا تو اس لیے اس کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ وہ مائل ہو ! اس وجہ سے نبی علیہ السلام کبھی ہدیہ قبول کرتے تھے کبھی نہیں کرتے تھے لیکن کریں گے تو وہ ان کا ہوگا ،پہلے میں نے بتایا تفسیر پچھلے ہفتے آ چکی کہ کہیں آپ نے ہدیہ قبول فرمایا اور کہیں آپ نے رد فرما دیا اس کی حکمت و مصلحت الگ تھی ،کہیں آپ نے سیاسی طور پر مفید جانا قبول فرما لیا سیاسی اعتبار سے مفید نہیں سمجھا تو رد فرما دیا ! ! <br> ١ سورة المائدہ : ٦٧ <br> بعض جگہ رد کرنے میں آپ نے دیکھا حکمت ہے یہ وجہ بھی بتائی کہ اگر میں قبول نہیں کروں گا تو یہ شاید اسلام لے آئے کیونکہ اس کے دل میں یہ ہوگا کیونکہ اندازہ ہوجاتا ہے بعض لوگوں کا کہ یہ شاید اسلام کے قریب آ رہا ہے تو آپ فرما دیتے تھے کہ میں تمہارا ہدیہ نہیں لوں گا ،مطلب یہ کہ وہ مسلمان ہوگا تو لے لوں گا تو وہ اس وجہ سے آپ نہیں لیتے تھے اس مصلحت کی وجہ سے کہ یہ پھر اسلام کی طرف آئے گا اور یہ سوچے گا کہ اگر اسلام لایا ہوتا تو میرا ہدیہ رد نہ ہوتا اس وجہ سے یہ پھر نبی کا معاملہ خاص ہے اور کوئی آپ کے ہم پلہ نہیں ! تو وہاں آپ نے کبھی کسی مصلحت سے قبول فرمایا اور کبھی کسی مصلحت سے رد فرمایا فَلِہَذَا قَبِلَہَا فِیْ بَعْضِ الْاَوْقَاتِ اسی وجہ سے بعض اوقات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ہدایا قبول فرمائے ! <br> ظالم بادشاہ کا ہدیہ ؟ <br> امام محمد آگے مزید اس کی تفصیل میں جب گئے اور مزید آگے بڑھے ،حالات مختلف ہوتے رہتے ہیں تو صحابہ کرام کی آراء کا بھی ذکر کر رہے ہیں کہ بعض معاملات میں صحابہ کرام کی رائے مختلف ہوتی تھی رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ <br> وَاخْتَلَفَتِ الصَّحَابَةُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَمَنْ بَعْدَہُمْ فِیْ جَوَازِ قَبُوْلِ الْہَدِیَّةِ مِنْ أُمَرَائِ الْجَوْرِ یہ تو تھا کافر حکومتوں سے معاملہ ،دشمن کی بات تھی ! اب اپنے ہی ملک کا بادشاہ ہے ، حاکم ہے ، وزیراعلیٰ ہے ، گورنر ہے ، ڈی سی ہے ، ڈپٹی کمشنر ہے ، وزیراعظم ہے ، صدر ہے ، یا جو بھی ہے لیکن ظالم بادشاہ ہے اگر یہ کسی کو ہدیہ بھیج دیں تو اُن کے ہدیوں کا کیا کریں ؟ اب ان کے امور بتا رہے ہیں یہ امور کورٹ کے داخلی امور پر آ گئے داخلی معاملات میں جو لین دین ہوتا ہے آپس میں اس میں کیا کریں گے ؟ کہتے ہیں اس میں صحابہ کی آراء مختلف رہی ہیں ! <br> فَکَانَ ابْنُ عَبَّاسِ وَابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ یَقْبَلَانِ ہَدِیَّةَ الْمُخْتَارِ مختار ثقفی جو فاسق فاجر تھا اس نے بڑے ظلم کیے ، اس نے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہم کو ہدیے بھیجے تو انہوں نے اس کے ہدیے قبول فرمائے تو معلوم ہوا کہ اگر ظالم بادشاہ ہدیہ بھیجے تو بعض صحابہ کے ہاں اسے قبول کرنے کی گنجائش ہے ! مصلحت ہوتی تھی ان کی، لالچ نہیں تھی، لالچ تو نہیں تھی ان لوگوں کو، لالچ میں تو ظالم حکمران کیا اگر عادل حکمران بھی بھیجے تو لینے والا لالچ میں کیوں لے ؟ یہ تو پھر خراب بات ہے غلط بات ہے ! وہ اس کے دل کا معاملہ ہے لالچ تو دل کے اندر ہوتی ہے وہ ظاہر بھی نہیں ہوتی وہ تو وہ جانے اور اللہ جانے ! ! <br> تو بہرحال انہوں نے اس کا ہدیہ قبول فرما لیا ! اس لیے اس سے استدلال کیا کہ ظالم بادشاہ ظالم حاکم کا ہدیہ قبول کیا جا سکتا ہے ! کیونکہ یہ صحابی ہیں دونوں اور صحابی بھی اُسوة ہیں ہمارے لیے اَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ فَبِاَیِّہُمُ اقْتَدَیْتُمْ اِھْتَدَیْتُمْ ١ <br> وَہٰکَذَا نُقِلَ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ النَّخَعِیْ رَحِمَہُ اللّٰہُ ایسے ہی حضرت ابراہیم نخعی رَحْمَةُ اللّٰہُ عَلَیْہِ سے بھی روایت منقول ہے کہ ظالم بادشاہ سے ہدیہ قبول کر سکتے ہیں ! ! <br> حضرت ابوذر اور حضرت ابودرداء رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہم یہ بھی صحابی ہیں ان کا عمل کیا تھا ؟ کہتے ہیں لَا یَجُوِّزَانِ ذٰلِکَ ظالم بادشاہ کا ہدیہ نہیں لے سکتے، واپس کرو قبول نہیں کرسکتے ، وہ اس معاملے میں سخت تھے ! اب ہمارے لیے دونوں طرح کے عمل ہیں ، وہ بھی صحابی یہ بھی صحابی ! ! جس کسی پر بھی عملِ صحابی کی نیت سے کریں گے تو اجر ثواب ملے گا ! اب ہمارے لیے یہ ہے کہ چاہے اس پر عمل کر لیں چاہے اس پر، لیکن دل صاف نیت صاف، طمع لالچ نہ ہو تو جس پر بھی عمل کریں گے ثواب ملے گا ان شاء اللّٰہ ! ! <br> حضرت ابوذر کا واقعہ : <br> روایت کیا گیا ہے کہ اَنَّ اَمِیْرًا اَہْدَی اِلٰی اَبِیْ ذَرٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِائَةَ دِیْنَارٍ کسی امیر نے ایک سو دینار ہدیہ حضرت ابُوذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں بھیجے بڑی رقم ہے ایک سو دینار ! ایک دینار میں دس درہم ہوتے ہیں ، یہ بڑی رقم ہے تو انہوں نے ان سے پوچھا فَجَعَلَ یَقُوْلُ ہَلْ اَہْدَی اِلیٰ کُلِّ مُسْلِمٍ مِثْلَ ہَذَا کیا اس نے اس کی رعیت میں جو مسلمان ہیں ان میں ہر ایک کو ایسا ہی دیا ہے ایک سو دینار ؟ فَقِیْلَ لَا انہیں بتایا گیا کہ نہیں ایسا نہیں ہے ! تو فَرَدَّہَا انہوں نے کہا نہیں ، سب کو بھیجتا <br> ١ مشکوة المصابیح کتاب المناقب باب مناقب الصحابة رقم الحدیث ٦٠١٨ <br> تو ٹھیک تھا میں بھی لے لیتا ، میں بھی رعیت کاایک فردہوں جیسے اور رعیت کے لوگ ہیں لہٰذا واپس کردیا ،واپس فرماکر یہ آیات پڑھیں ( کَلَّا اِنَّہَا لَظَی نَزَّاعَةً لِلشَّوٰی ) ١ ''یہ تو دہکتی ہوئی آگ ہے جہنم کی ، کھال کو ادھیڑ کر اندر سے کلیجہ کھینچ لائے گی '' یہ جہنم کی آگ کا نقشہ لائے ہیں ، فرمایا یہ میں نہیں لوں گا واپس کردیا ،یہ ان کا مسلک تھا انہوں نے اس سے استدلال کیا ! <br> حضرت علی کا فرمان : <br> حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ وَجْہَہ سے روایت آرہی ہے ان کی رائے بڑی وزنی ہے سب سے زیادہ ظاہر ہے ان کا مرتبہ بھی سب سے بڑا ہے علم میں بھی ، تقویٰ میں بھی ، فقاہت میں بھی ، گہرائی میں بھی ، بہت سارے دور دیکھے ہیں انہوں نے، حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ کا دور دیکھا ان کے ساتھ رہے، حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے ساتھ مشیر رہے ،حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے دور میں رہے ساری سلطنت بین الاقوامی سپر طاقت ہوتی تھی اسلام کی مسلمانوں کی ، پھر خود آگئے حکمرانی میں ،بہت جہاں دیدہ بڑا تجربہ اور سب سے وزنی رائے اور بہت معتدل ! <br> حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں وَعَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ لِلسُّلْطَانِ نَصِیْب مِنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ بادشاہ کے پاس جو فنڈ ہوتاہے جو مال ان کے پاس جمع ہوتا ہے بیت المال میں ، جسے تصرف کا اختیار ہوتا ہے جو کر رہا ہے ، اس میں دو نوں طرح کا مال ہوتا ہے حلال بھی ہوتا ہے حرام بھی ہوتا ہے، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے پاس بھی مال آتا تھا لیکن وہ حلال ہوتا تھا، بعد کے بادشاہ کے پاس جو فاسق و فاجر بھی ہوتے ہیں اس میں مال حرام ہے تو حلال بھی ہے ، کئی احباب کی آمدنی ہے جو ملک کے معمول رولز اور قانون کے مطابق ہورہی ہے وہ حلال ہے جو اس سے ہٹ کر ہورہی ہے وہ حرام ہے ! تو حلال اور حرام دونوں قسم کا ہوتا ہے فَاِذَا اَعْطَاکَ شَیْئًا فَخُذْہُ جب اس میں سے کسی کوبادشاہ کچھ دے تو لے لیں فَاِنَّ مَا یُعْطِیْہِ حَلَال لَکَ کیونکہ اس نے جو تجھے دیا ہے وہ حلال ہے یہ حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ وَجْہَہُ کا فتویٰ آرہا ہے ! <br> ١ سورة المعارج : ١٥ ، ١٦ <br> خلاصہ کلام : <br> وَحَاصِلُ الْمَذْہَبِ ان ساری آراء ان سارے مسلک کا خلاصہ بتا رہے ہیں اس میں یہ بتارہے ہیں کہ اَنَّہُ اِنْ کَانَ اَکْثَرُ مَالِہ مِنَ الرِّشْوَةِ وَالْحَرَامِ اس میں دیکھو کہ اس کے مال میں ، آمدنی میں ، اکثر مال کی جو بڑی مقدار ہے وہ کیسی ہے وہ حلال ہے یا حرام ہے ؟ اَنَّہُ اِنْ کَانَ اَکْثَرُ مَالِہ مِنَ الرِّشْوَةِ وَالْحَرَامِ لَمْ یَحِلَّ قَبُوْلُ الْجَائِزَةِ مِنْہُ مَا لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ ذٰلِکَ لَہُ مِنْ وَجْہٍ حَلَالٍ کہتے ہیں کہ اگر ان کی آمدنی کا اکثر حصہ رشوت کا یا حرام ذرائع کے ذریعے سے آیا ہے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ اس کا انعام جو وہ دے رہا ہے وہ قبول کرے ! نہیں لے سکتا جب تک کہ یہ نہ جان لے کہ اَنَّ ذٰلِکَ لَہُ مِنْ وَجْہٍ حَلَالٍ جب تک یہ پتا نہ ہو کہ مجھے جو یہ پیسے دے رہا ہے یا یہ چیز دے رہا ہے یہ حلال ہی ہے پھر لے گا ورنہ نہیں لے گا ! ! <br> اگر اس کی آمدنی کے ذرائع حلال اور حرام دونوں طرح کے تھے اور غالب اور اکثر آمدنی حرام کی ہے تو نہیں لے گا ،سوائے اس صورت کے جس کا پتہ ہو کہ یہ پیسے ابھی ابھی جو اِس کے آئے ہیں اس کی فلاں دُکان کا کرایہ ہے وہ تو حلال ہے، یہ اس میں سے مجھے دے رہا ہے یہ لے گا تو اب یہ چیز حلال ہے ، باقی رشوت والا ہے حرام ہے ! ! اور اگر یہ پتہ نہ چلے یا یہ یقینی ہو کہ یہ ابھی ابھی جو رشوت آئی ہے اسی میں سے دے رہا ہے تو یہ تو ہے ہی حرام، یہ بالکل حرام ہے ! ! <br> بانی جامعہ کا ایک واقعہ : <br> ایک صاحب ڈیرہ اسماعیل خان کے بڑے مالدار تاجر تھے حضرت رحمة اللہ علیہ سے بیعت تھے ١ ایک دفعہ آئے حضرت والد صاحب آرام فرما رہے تھے توانہوں نے کچھ پھل دیے ، وہ پھل بڑے نفیس تھے، کیلے تھے ،مجھے آج بھی یاد ہے بہت اعلیٰ بہت نفیس کیلے وہ بھی بہت عمدہ اور اس میں کچھ سیب ہوں گے کیا ہوں گے اب یاد نہیں ، ہمارے ہاں دستور تھا کہ حضرت اگر آرام فرما رہے ہیں سو رہے ہیں تو وہ چیز رکھ دی جاتی تھی اسے استعمال نہیں کیاجاتا تھا جب تک وہ اُٹھ کر دیکھ نہ لیں پھر جو وہ کہیں پھر <br> ١ قطب الاقطاب محدث کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں صاحب <br> اس پر عمل کرتے تھے، قبول کرتے ہیں یا نہیں کرتے یا کسی اور کو دیتے ہیں اس کے بعد پھر استعمال میں آتی تھی ورنہ وہ چیز رکھ دی جاتی تھی ! حضرت جب اٹھے ان کو بتا دیا یہ آئے ہیں ، میں نے خود بتایا تو وہ جو تھے وہ سینما کے مالک تھے یعنی ان کا سینما تھا ڈیرہ اسماعیل خان میں اس زمانے میں ، اب تو سینما ہیں ہی نہیں کیونکہ ہر گھر سینما بن گیا اب سینما ئوں کی کیا ضرورت ہے، اللہ تعالیٰ ان عذاب سے ہمیں بچائے ! <br> تو اس وقت وہ سینما کے مالک تھے اب حضرت فرمانے لگے کہ بھائی میں نے کہا کہ یہ وہی لائے ہیں ان کا تو سینما ہے، کہنے لگے کہ ابھی رکھ لو ،ہم نے ان کی تواضع تو کرنی ہے تو یہی رکھ دینا ان کے سامنے تواضع میں ، مہمان ہیں ان ہی کے سامنے یہی رکھ دو چنانچہ وہ آئے حضرت سے ملاقات ہوئی ان کے سامنے ہم نے وہی چیز رکھ دی تووہ کھانے لگے اور پھر کہنے لگے کہ یہ تو وہی ہیں جو ہم لائے ہیں تو حضرت نے فرمایا کہ ہا ں وہی ہے لیجیے ناں ،تو خیر وہ پھل کھائے گئے پھر جو بچتا تھا حضرتفرماتے تھے بالکل غریب جو ہیں یا تو اسے دے دو جیسے بھنگی جوآتا تھا ہمارے ہاں کام کرنے کے لیے عیسائی ، کہتے تھے کہ ان کو دے دو تو انہیں دے دیتے تھے ! ! <br> حضرت کی رات کی نشست تو زیادہ لمبی ہوتی تھی رات کو مل بیٹھتے تھے پھر حضرت بات بڑی نرمی سے کرتے تھے سمجھاتے تھے ،حضرت فرمانے لگے کیا آپ کا اس کے علاوہ کوئی اور ذریعہ آمدن بھی ہے ؟ وہ اونچا سنتے تھے کان قریب کرکے سننے لگے ،کہنے لگے جی ہے ،آپ نے پوچھا وہ کیا ؟ کہنے لگے کہ میرا انشورنش کا کام بھی ہے ! ''کریلا اور نیم چڑھا ''والی بات ہوگئی ! وہ اور بھی آگے ! حضرت مسکرائے اور پوچھا کیاکوئی اور بھی ہے ؟ کہنے لگے جی ہے ! پوچھاکیا ہے ؟ وہ کہنے لگے میری زمینیں ہیں ؟ میں زمیندار بھی ہوں ! پھر حضرت فرمانے لگے کہ آئندہ جب بھی آپ آئیں اور آپ کا کوئی چیز لانے کو دل چاہے تو اپنی جو زمین کی آمدنی ہے اس سے لائیں ! اب وہ سمجھ گئے کہ ہمارے سامنے وہ پھل کیوں رکھے گئے تھے، ساری بات ان کو سمجھ میں آگئی ! لیکن بہرحال نرمی سے سمجھایا ، اُٹھا کے ٹوکرا پٹخ دو ، پھینک دو ، بھگا دو ، دوڑا دو ، ایسے اصلاح نہیں ہوتی ! مقصد تو اصلاح ہے ، ہمارا مسلمان بھائی ہے ہمارے پاس آیا ہے تو اسے فائدہ ہو اصلاح ہو ، خود برائی سے بھی بچ جائو اور اس کے لیے اصلاح کا بھی راستہ ہو جائے ایسی کوشش کرنی چاہیے یہی ہمارے بڑوں کا طریقہ ہے ! تو خیر بالکل یہ وہی بات آ گئی کہ اگر کسی کی آمدنی کے ذرائع مختلف ہیں تو اگر پتہ ہے کہ یہ حلال سے دے رہا ہے اور یہ حلال ہی کا ہے پھر تو قبول کر لے ! اور اگر پتا ہے کہ اکثر مال حرام کا ہے تو پھر قبول نہ کرے واپس کر دے ! <br> وَاِنْ کَانَ صَاحِبَ تِجَارَةٍ اَوْ زَرْعٍ اَکْثَرُ مَالِہ مِنْ ذَلِکَ اور اگر وہ تاجر ہے یا زراعت پیشہ ہے اور اکثر مال اس کا اسی آمدنی سے ہے تو فَلَا بَاْسَ بِقَبُوْلِ الْجَائِزَةِ مِنْہُ اس میں کوئی حرج نہیں قبول کر لے اس وقت اکثر آمدنی کا بڑا حصہ حلال کا ہے اگرچہ کچھ حرام بھی ہے تو لے لے ہاں مگر یہ کہ اگر یہ پتا ہو کہ یہ جو مال اس وقت ہاتھ میں ہے یہ حرام ہی کا ہے تو پھر یہ نہیں لے گا ! <br> آگے آرہا ہے وَفِیْ قَبُوْلِ رَسَوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم اَلْہَدِیَّةَ مِنْ بَعْضِ الْمُشْرِکِیْنَ دَلِیْل عَلیٰ مَا ذَکَرْنَا وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ ١ اور نبی عَلَیْہِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ نے جو بعض مشرکین سے ہدیہ قبول فرمایا اس میں وہی دلیلیں ہیں جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں ! ! <br> اللہ تعالیٰ توفیق بھی دے ، سمجھ بھی دے اور اللہ اس دین کو غلبہ بھی عطا فرمائے اور ہماری حکومتوں کو بھی توفیق دے کہ وہ ان مضامین کو سکولوں میں ، کالجوں میں ، فوج کے نصاب میں ، فضائیہ ہے بحریہ ہے ،بری فوج ہے ، ان کے نصاب میں شامل کرے ، انہیں پڑھائے ، انہیں سکھائے تاکہ ہماری فوج صحیح معنی میں مسلمان فوج کہلائے اس کی برکت سے پھر ان شاء اللّٰہ بڑے فوائد مرتب ہوں گے اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق دے <br> وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ <br> ١ شرح کتاب السیر الکبیر باب صلة المشرک ج ١ ص ٧١ - ٧٢ <br> <br> <br> <br> <br> اخبار الجامعہ <br> ( جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد رائیونڈ روڈ لاہور ) <br> ٭٭٭ <br> ٢٩ رمضان المبارک کو جامعہ مدنیہ جدید کی مسجد حامد میں تراویح میں قرآن پاک کی تکمیل ہوئی والحمد للّٰہ اس موقع پر جامعہ کے استاذ الحدیث حضرت مولانا محمد صابر صاحب مدظلہم نے مختصر بیان فرمایا <br> ٣ شوال المکرم ١٤٤٧ھ/٢٣ مارچ ٢٠٢٦ء کو استاذ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب دامت برکاتہم ، ان کے صاحبزادے مولانا محمد اُسامہ صاحب اور حضرت کے خادم خاص مولانا قطب ولی صاحب عمرہ کی سعادت کے لیے حرمین شریفین تشریف لے گئے۔ <br> ٦ شوال المکرم ١٤٤٧ھ/٢٦ مارچ ٢٠٢٦ء کو جامعہ مدنیہ جدید کے شعبہ حفظ کے استاذ مولانا قاری محمد وسیم صاحب مدظلہم عمرہ کی سعادت کے لیے حرمین شریفین تشریف لے گئے۔ <br> ١ ١ شوال المکرم ١٤٤٧ھ/٣١ مارچ ٢٠٢٦ء بروز منگل سے جامعہ مدنیہ جدید میں نئے تعلیمی سال کے داخلے شروع ہوئے اسی روز سے جامعہ میں تعلیم بھی شروع ہوگئی والحمد للّٰہ ! <br> ٭ <br> یکم مارچ ٢٠٢٦ء کو جامعہ مدنیہ جدید کے نائب مہتمم اور شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں کے جانشین مولانا عکاشہ میاں صاحب نے ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ جناب ڈاکٹر اصغر صاحب مسعودی سے ملاقات کی، اس ملاقات میں انہوں نے ایران کے لیڈر آیت اللہ علی حسینی خامنہ ای کی وفات پر بہادر ایرانی قوم سے اپنے گہرے احساسات کا اظہار کیا ۔ <br> ١٠ مارچ کو مولانا عکاشہ میاں صاحب تکمیل قرآن کی تقریب میں شرکت کے لیے مکو روڈ عجوہ گارڈن رائیونڈ تشریف لے گئے جہاں آپ نے فضیلت ِ قرآن کے موضوع پر مختصر بیان فرمایا۔ <br> ١٤ مارچ کو مولانا عکاشہ میاں صاحب قائد ِ جمعیة حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہم کے ہمراہ جناب سید سلمان صاحب گیلانی کی وفات پر ان کے گھر تعزیت کے لیے تشریف لے گئے اور ان کے بیٹے سید اُسامہ سلمان صاحب گیلانی سے تعزیت کی، بعد ازاں ڈپٹی جنرل سیکرٹری جمعیة علماء اسلام حضرت مولانا امجد خان صاحب مدظلہم کے مدرسہ جامعہ رحمانیہ میں ان کی ہمشیرہ کی تعزیت کے لیے تشریف لے گئے، اسی روز جناب سید اُسامہ اجمل صاحب قاسمی کے والد کی تعزیت کے لیے ان کی رہائشگاہ بحریہ ٹائون تشریف لے گئے ۔ <br> ١٦ مارچ کو مولانا عکاشہ میاں صاحب ،ایم این اے جناب ملک سیف الملوک صاحب کھوکھر کے بیٹے حافظ محمد بلاول ایوب کھوکھر کی تکمیل قرآن کی تقریب میں شرکت کے لیے جامع مسجد العمران کھوکھر پیلس جوہر ٹاون تشریف لے گئے جہاں آپ نے مختصر بیان فرمایا ۔ <br> ٢٧ مارچ ٢٠٢٦ء کو جامعہ کے نائب مہتمم مولانا عکاشہ میاں صاحب ، حضرت مولانا مفتی سلیمان یٰسین صاحب مدظلہم کے فرزند مولانا محمد عثمان صاحب کے نکاح میں شرکت کی غرض سے جامعة العلوم الاسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی تشریف لے گئے، نکاح کی تقریب میں جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث و ناظم تعلیمات حضرت مولانا محمد یوسف خان صاحب مدظلہم و دیگر علماء کرام بھی موجود تھے ۔ <br> ٢٨ مارچ کو مولانا محمد عثمان صاحب کے ولیمہ میں شرکت کی اور کراچی کے دیگر علماء کرام سے ملاقات ہوئی، بعد ازاں جامعہ بنوری ٹاؤن کے نائب مہتمم حضرت مولانا محمد احمد صاحب بنوری سے بھی ملاقات ہوئی ، <br> ٢٩ مارچ صبح نو بجے کراچی سے لاہور کے لیے روانہ ہوئے اور دن کے بارہ بجے واپس جامعہ تشریف لے آئے والحمد للہ ! <br> <br> <br> <br> <br> وفیات <br> ٭٭٭ <br> ٭ ٢٠ رمضان المبارک ١٤٤٧ھ/١٠ مارچ ٢٠٢٦ء کو خطیب اسلام حضرت مولانا اجمل خان صاحب کی صاحبزادی اور ڈپٹی جنرل سیکرٹری جمعیة علماء اسلام حضرت مولانا امجد خان صاحب مدظلہم کی ہمشیرہ صاحبہ انتقال فرماگئیں ۔ <br> ٭ ٢٨ رمضان المبارک ١٤٤٧ھ/١٨ مارچ ٢٠٢٦ء کو بانی دارالعلوم اسلامیہ کامران بلاک حضرت مولانا قاری سراج احمد صاحب کے پوتے حاجی لطافت علی صاحب(لیاقت علی صاحب کے بھائی) لاہور میں انتقال فرماگئے۔ <br> ٭ ٢٩ رمضان المبارک ١٤٤٧ھ /١٩ مارچ ٢٠٢٦ء کو جامعہ مدنیہ لاہور کریم پارک کے قدیم محلہ دار ومخلص خیر خواہ جناب محمد خالد شفیع صاحب کی خوشدامن صاحبہ شاہدرہ میں وفات پاگئیں ۔ <br> ٭ ٣٠ رمضان المبارک ١٤٤٧ھ/١٩ مارچ ٢٠٢٦ء کو جامعہ مدنیہ جدید کے ناظم ڈاکٹر محمد امجد صاحب کے خالہ زاد بہنوئی جناب محمد زید صاحب بعد نمازِ مغرب مختصر علالت کے بعد لاہور میں وفات پاگئے۔ <br> ٭ ٣٠ رمضان المبارک ١٤٤٧ھ /٢٠ مارچ ٢٠٢٦ء کو سابق خطیب مکی مسجد انارکلی حضرت مولانا قاری محمد زبیر صاحب کی اہلیہ محترمہ لاہور میں انتقال فرماگئیں ۔ <br> اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ <br> اللہ تعالیٰ جملہ مرحومین کی مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق نصیب ہو ! جامعہ مدنیہ جدید اور خانقاہِ حامدیہ میں مرحومین کے لیے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت کرائی گئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ، آمین ! <br> <br> <br> <br> <br> اہم اعلان <br> ٭٭٭ <br> شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب نور اللہ مرقدہ کی شخصیت و خدمات پر انوار مدینہ کی ایک خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں معاصرین ، تلامذہ ، متعلقین ومحبین حضرات کے تاثرات بھی شامل ہوں گے ! جو حضرات اپنے مضامین و مقالات ، تاثرات ، تعزیتی پیغامات یا منظوم کلام ارسال فرمانا چاہیں ، جلد از جلد درج ذیل پتے ، ای میل یا واٹس ایپ نمبر پر ارسال فرما دیں <br> علاوہ ازیں اگر کسی کے پاس شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب کے ہاتھ کا لکھا ہوا مکتوب یا تحریر موجود ہو تو اسے بھی ارسال فرما دیں ! <br> جو حضرات اپنے تاثرات زبانی بتانا چاہیں ، وہ اپنے نام ، پتے اور مکمل تعارف کے ساتھ درج ذیل نمبر پر صوتی پیغام (وائس میسج ) بھی ارسال فرما سکتے ہیں <br> اگر مضمون ، مقالہ ، مکتوب یا تاثرات کمپوز شدہ ہوں تو ان کی کمپیوٹر فائل بھی ای میل یا واٹس ایپ فرمادیں تو نوازش اور ادارے کے ساتھ دوہرا تعاون ہوگا <br> رابطہ : ڈاکٹر محمد امجدغفرلہ <br> جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد ١٩ کلومیٹر شارع رائیونڈ لاہور <br> jmj786_56@hotmail.com <br> dramjad71@gmail.com <br> 923334249302+ <br> 923044587751+ <br> ٭٭٭ <br>
Email us your queries on jamiamadniajadeed@gmail.com you will be answered in less than 24 hours or Give us a call directly at +92 333 4249302, +92 333 4249 301.