ماہنامہ انوار مدينہ
جلد : ٣٣ صفر المظفر ١٤٤٧ھ / اگست ٢٠٢٥ء شمارہ : ٨
بیاد : قطب الاقطاب عالم ربانی محدث کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں
فیضانِ نظر : محمود الملّة و الدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب
٭٭٭
مولانا نعیم الدین صاحب ( مدیر اعلیٰ )
مولانا محمد عابد صاحب ( نائب مدیر)
مولانا عکاشہ میاں صاحب(مدیر مسئول)
ڈاکٹر محمد امجد صاحب (مدیر منتظم)
٭٭٭
بدلِ اشتراک
٭٭٭
پاکستان فی پرچہ 50 روپے ....... سالانہ 600 روپے
سعودی عرب،متحدہ عرب امارات..... سالانہ 90 ریال
برطانیہ،افریقہ ........................ سالانہ 20 ڈالر
امریکہ .................................. سالانہ 30 ڈالر
جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ اور ای میل ایڈ ریس
٭٭٭
www.jamiamadniajadeed.org
jmj786_56@hotmail.com
Whatsapp : +92 333 4249302
ترسیل ِزر و رابطہ کے لیے
٭٭٭
'' جامعہ مدنیہ جدید'' محمد آباد19 کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور
رابطہ نمبر : 923334249302+
موبائل : 923334249301+
موبائل : 923234250027+
جازکیش نمبر : 923044587751+
دارُالافتاء کا ای میل ایڈ ریس اور وٹس ایپ نمبر
٭٭٭
darulifta@jamiamadniajadeed.org
Whatsapp : +92 321 4790560
مولاناسیّد رشید میاں صاحب طابع وناشر نے شرکت پرنٹنگ پریس لاہور سے چھپواکر دفتر ماہنامہ ''انوارِ مدینہ '' نزد جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور سے شائع کیا
اس شمارے میں
٭٭٭
حرفِ آغاز ٤
درسِ حدیث حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ٦
سیرت ِ مبارکہ ... عرب قبلِ اسلام اپنے آئینے میں حضرت اقدس مولانا سید محمد میاں صاحب ٩
مقالاتِ حامدیہ ....... برا نہ مانیے اور غور کیجیے حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ١٨
آہ ! خانوادہِ مؤرخ ملت کا فردِ جلیل حضرت مولانا قاری تنویر احمد صاحب شریفی ٢٩
رحمن کے خاص بندے قسط : ٣٤ حضرت مولانا مفتی محمد سلمان صاحب منصورپوری ٤٤
شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ڈاکٹر محمد امجد صاحب ٤٧
اخبار الجامعہ ڈاکٹر محمد امجد صاحب ٦٢
وفیات ٦٥
قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ
محمود الملّة و الدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں نور اللّٰہ مرقدہ
کے سلسلہ وار مطبوعہ مضامین و دروس جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ پر پڑھے جا سکتے ہیں
http://www.jamiamadniajadeed.org
حرف آغاز
٭٭٭
نَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْدُ !
٧ محرم الحرا م ١٤٤٧ھ / ٢ جولائی ٢٠٢٥ء بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب جامعہ مدنیہ جدید اور متعلقین و منتسبین جامعہ کے لیے انتہائی تاریک شب تھی کیونکہ آج جامعہ مدنیہ (جدید و قدیم )کے بانی و سابق امیر مرکزیہ جمعیة علماء اسلام قطب الاقطاب حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب رحمہ اللہ کے منجھلے صاحبزادے شیخ الحدیث و مہتمم جامعہ مدنیہ جدید، خانقاہ حامدیہ قدوسیہ چشتیہ کے مسند نشین، جمعیة علماء اسلام صوبہ پنجاب کے امیر اور ''الحامد ٹرسٹ'' کے بانی و امیر شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب رحمة اللہ علیہ طویل علالت کے بعد انٹرنیشنل ہسپتال بحریہ ٹائون لاہور میں اپنے ہزاروں تلامذہ و متعلقین اور مریدین و منتسبین کو داغِ مفارقت دے گئے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
اللہ تعالیٰ مولانا رحمہ اللہ کی کامل مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور جملہ پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے ، آمین ثم آمین یارب العالمین ! ! تمام احباب سے مولانا رحمہ اللہ کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائوں کی درخواست ہے ۔
مولانا رحمہ اللہ کے انتقال کی خبر جملہ عشاق پر بجلی بن کر گری اور آناً فاناً ملک و بیرونِ ملک پھیل گئی دور دراز مقامات سے قافلے جامعہ مدنیہ جدید پہنچنے لگے ، صبح سے ہی جامعہ میں واردین و صادرین جمع ہونے لگے ،مولانا کے خاص احباب نے غسل و تکفین کی سعادت حاصل کی بعد ازاں جامعہ مدنیہ جدید کی وسیع و عریض '' مسجد حامد '' کی شمالی جانب زیارت کے لیے چارپائی لائی گئی جہاں ہزاروں افراد نے مولانا کا آخری دیدار کیا ، اس دوران مسجد میں علما ئِ کرام کے بیانات ہوتے رہے، دریں اثناء موجود علما ء و مشائخ نے مسجد میں تمام حاضرین کے سامنے مولانا کے صاحبزادہ مولانا عکاشہ میاں سلّمہ کی دستار بندی فرمائی جن میں سے چند علماء کرام کے نام درج کیے جاتے ہیں :
(١) حضرت مولانا سید رشید میاں صاحب (مہتمم جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور)
(٢)حضرت مولانا عطاء الرحمٰن صاحب سنیٹر (برادر قائد جمعیة حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہم )
(٣) حضرت مولانا محمد یوسف خان صاحب (شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور)
(٤)مفتی اسعد محمود صاحب (ایم این اے و فرزند قائد جمعیة حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہم )
(٥)حضرت مولانا محمد امجد خان صاحب (مرکزی سیکریٹری اطلاعات جمعیة علماء اسلام پاکستان)
(٦)حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب (استاذ الحدیث جامعہ مدنیہ جدید رائے ونڈ روڈ لاہور)
(٧)حضرت مولانا سید عدنان صاحب کاکا خیل (مہتمم البُرھان انسٹیٹیوٹ اسلام آباد)
(٨) محترم قاری محمد عثمان صاحب (نائب امیر جے یو آئی سندھ)
(٩)محترم جمال عبدالناصر صاحب (نائب امیر جے یو آئی پنجاب)
(١٠)حضرت مولانا فصیح الدین صاحب (رہنما جمعیة علماء اسلام )
مولانا کی نمازِ جنازہ بروز جمعرات صبح دس بجے جامعہ مدنیہ جدید میں آپ کے برادرِاکبر حضرت مولانا سید رشید میاں صاحب مدظلہم کی امامت میں ادا کی گئی، بعدازاں آپ کی وصیت کے مطابق جامعہ مدنیہ جدید سے متصل قبرستان میں تدفین عمل میں لائی گئی۔
قارئین کرام سے بانی جامعہ حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں صاحب اور مولانا سید محمود میاں صاحب کے لیے خصوصاً اور جملہ مؤمنین ومؤمنات کے لیے عموماً ایصال ثواب کی درخواست ہے۔
نعیم الدین
٣٠ محرم الحرا م ١٤٤٧ھ /٦ ٢ جولائی ٢٠٢٥ئ
درس حدیث
٭٭٭
قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ
کا مجلس ِذکر کے بعد درسِ حدیث ''خانقاہِ حامدیہ چشتیہ'' شارع رائیونڈ لاہور کے زیرِانتظام ماہنامہ '' انوارِ مدینہ'' کے ذریعہ ہر ماہ حضرت اقدس کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کے اس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے،آمین۔ (ادارہ)
٭٭٭
''دعا '' بھی کوشش بھی ! ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا '' توکل'' نہیں ہے !
(درسِ حدیث نمبر٤٦ ٩ شوال المکرم ١٤٠٢ھ/٣٠ جولائی ١٩٨٢ئ)
٭٭٭
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا
مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ !
ایک صحابی ہیں وہ ہر نماز کے بعد ایک دعا مانگا کرتے تھے ، ان کے بیٹے نے یہ کیا کہ باپ کو جب یہ دعا مانگتے ہوئے دیکھا اور ان سے وہ کلمات سنے تو خود بھی مانگنے لگے وہی دعا ! نماز سے فارغ ہوکر انہوں نے ایک دن وہی کلمات کہے جو والد کہا کرتے تھے، انہوں نے پوچھا کہ یہ کہاں سے تونے سیکھے ؟ بیٹے نے کہا کہ میں نے یہ جناب سے سیکھے ! آپ یہ کلمات ادا کرتے ہیں نماز سے فارغ ہونے کے بعد، میں بھی یہ کہنے لگا تو انہوں نے کہا کہ ہاں جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نماز کے بعد یہ کلمات ادا فرماتے تھے
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ ١
''میں تجھ سے پناہ چاہتا ہوں کفر اور فقر سے اور عذابِ قبر سے''
تین چیزیں ہیں کفر ہے ، فقر ہے ، عذابِ قبر ہے ! ان تین چیزوں سے دعا کی گئی پناہ کی !
١ مشکوة المصابیح کتاب الدعوات رقم الحدیث ٢٤٨٠
ایک حدیث میں اسی طرح کے کلمات اور بھی آتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْکُفْرِ وَالدَّیْنِ ١ کفر اور قرض سے پناہ چاہتا ہوں ! ایک شخص نے عرض کیا کہ کیا کفر اور قرض یہ برابر ہوسکتے ہیں جو یہ ذکر ساتھ ساتھ ہورہا ہے ان کا ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں یعنی کبھی کبھی ایسے ہوجاتا ہے کہ آدمی فقر میں مبتلا ہوکر پریشانیوں میں گھر کر اس طرح خراب ہوجاتا ہے جیسے کفر سے خراب ہوجاتا ہے !
تو ایک حد تک برداشت ہوتی ہے اور اگر برداشت سے زیادہ کوئی چیز ہوجائے تو پھر نتیجے اور ہوتے ہیں اس کے ! تو اللہ تعالیٰ سے آپ نے پناہ چاہی ہے کہ یہ چیزیں اتنی نہ پیش آنے پائیں کہ جو برداشت سے باہر ہوجائیں ! اگرچہ یہ بھی تلقین ہے کہ برداشت کرو، صبر کرو، اللہ سے توقع رکھو، کام جاری رکھو، کوشش جاری رکھو اور خدا پر نظر رکھو یہ حکم ہے اور اس میں مدد ہوگی اللہ کی طرف سے اور ہوتی ہے ! !
کوشش اور اقتصادی حالت :
خالی بیٹھے رہنا اس پر توکل کرکے یہ تو بتایا نہیں شریعت نے، خالی بیٹھ جانا عبادت کے لیے بھی تارک الدنیا ہوکر وہ بھی پسند نہیں فرمایا لَا رَھْبَانِیَّةَ فِی الْاِسْلَامِ ٢ یہ تارک الدنیا ہوکر بیٹھنا یہ اسلام میں نہیں ہے !
تو جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے انسانوں کی اقتصادیات کا بڑا خیال رکھا ہے اور اقتصادیات، معاشیات، رہن سہن، آمدنی یہ جو ہے اس کو پورا کرنا ایک اپنی کوشش سے ہوتا ہے، ایک دعا سے ہوتا ہے تو اپنی کوشش بھی اور خداوند ِ کریم سے دعا بھی ہو ! اور فقر، احتیاج، حاجت مندی یہ انسان کو بڑے بڑے معاصی میں مبتلا کردیتی ہے، اس واسطے اس سے زیادہ پناہ چاہی گئی ہے اور حدیث شریف میں یہ کلمات آگئے، جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے بتلادیے ،امت کو تعلیم فرمادیے ! ! اس سے ایک یہ فائدہ ہوا کہ دعا ہوگئی، خدا سے مانگنے کے لیے وہ کلمات مل گئے جن کلمات سے دعا کی گئی اور دوسرے نظریات مل گئے، تعلیم مل گئی کہ ان حالات میں اس طرح سے ایسے بات کرنی چاہیے یہ کہنا چاہیے ! !
١ مشکوة کتاب الدعوات رقم الحدیث ٢٤٨١ ٢ شرح السنة للبغوی کتاب الصلٰوة رقم الحدیث ٤٨٤
تو اسلام میں تمام تعلیمات ہیں اور جو اسلام میں دعائیں سکھائی گئی ہیں ان دعائوں کے بھی اثرات ہیں اور ان میں بھی ذہن سازی ہے لوگوں کی، ذہن سازی ان میں یہ ہے کہ خدا کی طرف رجوع تو بہرحال ہے چاہے فقر سے پناہ مانگ رہا ہو، کفر سے پناہ مانگ رہا ہو، قرض سے پناہ مانگ رہا ہو، بہرحال خداوند ِ قدوس کی طرف توجہ کرنی لازمی ہے، اللہ کی طرف توجہ رکھے اور زبان سے اچھے کلمات ادا کرے اور معاشی حالت درست کرنے کی جان سے کوشش کرے تو پھر کامیابی ضرور ہوگی اور اس طرح کی پریشانیوں سے جو قابلِ برداشت نہ ہوں انسان ضرور بچا رہے گا ! ! !
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اعمالِ صالحہ کی توفیق نصیب فرمائے،
آمین اختتامی دعا................................
( مطبوعہ ماہنامہ انوارِ مدینہ اکتوبر ١٩٩٦ئ)
جامعہ مدنیہ جدید کے فوری توجہ طلب ترجیحی امور
٭٭٭
(١) مسجد حامد کی تکمیل
(٢) طلباء کے لیے دارالاقامہ (ہوسٹل) اور درسگاہیں
(٣) کتب خانہ اور کتابیں
(٤) پانی کی ٹنکی
ثواب جاریہ کے لیے سبقت لینے والوں کے لیے زیادہ اجر ہے
سیرتِ مبارکہ
عرب قبلِ اسلام اپنے آئینے میں
سیّد الملة و مؤرخ الملة حضرت مولانا سیّد محمد میاں صاحب کی تصنیفِ لطیف
سیرتِ مبارکہ '' محمد رسول اللّٰہ '' صلی اللہ عليہ وسلم کے چند اوراق
٭٭٭
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَکَفٰی وَسَلَام عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی
چشم کائنات نے بے شمار انقلاب دیکھے مگر کوئی انقلاب ایسا نہیں دیکھا کہ ایک قوم جو اپنی تہذیب اور اپنی روایات پر نازاں تھی، اپنی روشن خیالی اور سلیقہ مندی پر فخر کیا کرتی تھی وہ اپنی خوشی سے اپنی مکمل آزادی اور خود مختاری کے باوجود بلا کسی جبرو اکراہ اور بلا کسی دباؤ کے خود اپنے احساس کی بنا پر اپنی تہذیب کو وحشت، اپنے تمدن کو جاہلیت اور اپنی علم کو جہل سمجھنے لگی ہو یہ عجیب وغریب انقلاب اس قوم میں آیا تھا جو سرزمین حجاز میں آباد تھی جو ''عرب'' کہلاتی تھی جس کا مرکز مکہ تھا اور جس کو اپنی نسلی برتری اور اپنے ادب پر اتنا ناز تھا کہ وہ اپنے مقابلہ میں دنیا کی تمام قوموں کو تہذیب سے نا آشنا ، خاندانی عظمت سے محروم ایسی جاہل اور با بلد سمجھتی تھی کہ ان کو بات کرنے کا سلیقہ بھی نہیں ہے یہ قوم اپنے آپ کو ''عرب'' کہتی تھی یعنی خالص النسب، صاف اور واضح کلام کرنے والے اور تمام دنیا کو ''عجم'' کہا کرتی تھی یعنی گونگے جو ما فی الضمیر کو صفائی سے نہ بیان کر سکیں اور ''جمادات'' یعنی مویشیوں کی طرح ہوں ۔
پھر ایسا کیا ہوا کہ اس مغرور اور متکبر قوم نے خود اپنی خوشی سے گردن جھکائی، گردنوں کے ساتھ دل بھی جھک گئے اور ایسے جھکے کہ وہ خود بھی اپنے دورِ ماضی سے نفرت کرنے لگے اور جس تہذیب ادب اور علم پر وہ فخر کیا کرتے تھے اس کو وہشت اورجہل کہنے لگے۔
محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کو اس قوم نے آزمایا اور رتقریباً چالیس سال تک اس کو دیکھتی ، برتتی پرکھتی ور آزماتی رہی اور جب ہرطرح اس کو سچا، کھرا اور پکا ہی پایا تو اس قوم کی انصاف پسندی اور عاقبت اندیشی نے یہ احساس پیدا کردیا کہ اگر دوپہر کے وقت آفتاب کا انکار کیا جا سکتا ہے تو محمد (صلی اللہ عليہ وسلم) کی سچائی اور صداقت کا انکار کرنا بھی ممکن ہے۔
عرب قوم ایک متحرک، فعال، باہمت، مضبوط ارادہ والی قوم تھی جب محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے سامنے جھکی تو اس طرح جھکی کہ صرف اسی کی شخصیت کو شخصیت اور اسی کے ارشاد کو ہدایت اور اسی کے علم کو علم سمجھنے لگی اور اس کے سوا جو کچھ اس کے پاس تھا وہ خود اس کی نظر میں ضلالت ،ظلمت اور جہالت کا انبار معلوم ہونے لگایہاں تک کہ قرآن حکیم نے اس کے پچھلے دور کو جس پر اسے گھمنڈ تھا
''جاھلیة اولٰی'' کہا تو ایک متنفس نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی۔ پوری قوم اس کو ''جاہلیت'' کہنے لگی اس سے نفرت کرنے لگی اور اس کا مذاق بنانے لگی۔
ایک غلط فہمی :
ابوبکر صدیق، عمر فاروق، عثمانِ غنی، سعد بن ابی وقاص، عبدالرحمن بن عوف، ابو عبیدہ بن الجراح، عبداللہ بن سلام، عدی بن حاتم (رضی اللّٰہ عنہم اجمعین) جیسے اصحاب ِعلم و فضل اور اربابِ عزم و ہمت نے جب اپنے سابق دور کو دورِ جاہلیت کہا تو عام تصور یہ ہوگیا کہ جاہلیت سے مراد وحشت اور حیوانیت ہے اور عرب قوم ایک وحشی قوم تھی جو حیوانوں کی طرح تہذیب وتمدن سے نا آشنا اور علم و ہنر سے بے بہرہ تھی، اس میں نہ سنجیدگی تھی نہ شرافت نہ اس کا کوئی خاص سلیقہ تھا نہ اس کا کوئی خاص ادب تھا یہی تصور تھا جس کی بنا پر تاریخ نویسوں خصوصاً مصنفین ِسیرت نے عربوں کی صرف وہی خصلتیں پیش کیں جن سے اس غلط تصور کی تصدیق ہوتی تھی حتی کہ ہندوستان کے ایک مشہور قومی شاعر (علامہ حالی) نے عربوں کے اس دور کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا
عرب جس کا چرچا ہے یہ کچھ وہ کیا تھا جہاں سے الگ ایک جزیرہ نما تھا
زمانہ سے پیوند جس کا جدا تھا نہ کشورستاں تھا نہ کشور کشا تھا
تمدن کا اس پر پڑا تھا نہ سایہ
ترقی کا تھا واں قدم تک نہ آیا
نہ واں مصر کی روشنی جلوہ گر تھی نہ یونان کے علم و فن کی خبر تھی
وہی اپنی فطرت پہ طبع بشر تھی خدا کی زمیں بن حُبّی سر بسر تھی
پہاڑ اور صحرا میں ڈیرا تھا سب کا
تلے آسماں کے بسیرا تھا سب کا
چلن ان کے جتنے تھے سب وحشیانہ ہر ایک لوٹ اور مار میں تھا یگانہ
فسادوں میں کٹتا تھا ان کا زمانہ نہ تھا کوئی قانون کا تازیانہ
وہ تھے قتل و غارت میں چالاک ایسے
درندے ہوں جنگل میں بیباک جیسے
آئینہ عرب :
بدوی قبائل کے متعلق مولانا حالی کے یہ اشعار درست ہیں لیکن ایسے پسماندہ قبائل کسی ملک کی تہذیب کا معیار نہیں مانے جاتے ،چودہ سو سال کے بعد آج کی مہذب دنیا بھی ایسے قبائل سے اپنا دامن نہیں جھاڑ سکی ! موجودہ دور میں جو ممالک دنیا بھر میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور تہذیب وتمدن کا گہوارہ مانے جاتے ہیں ان کے پسماندہ گوشوں میں بھی ایسے قبائل موجود ہیں جو علامہ حالی کے ان اشعار کا مصداق ہیں بدوی قبائل کے علاوہ مکة ، طائف ، دومة الجندل ، تیما دیار بکر، صحار جیسے شہروں کے متعلق یہ تصور سراسر ظلم ہے۔جس زمانہ کا تذکرہ مولانا حالی نے ان اشعار میں کیا ہے اسی زمانہ کا ایک مکالمہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے جو فی الحقیقت اس دور کے عربوں کی تہذیب کا آئینہ ہے اس مکالمہ کے ضروری اقتباسات یہاں پیش کیے جارہے ہیں :
سلطنت ِ ایران اس زمانہ میں کم از کم ایشیا کی سب سے بڑی منظم اور طاقتورشہنشاہیت تھی جس کی شان و شوکت سے رومن شہنشاہیت بھی دم بخود رہتی تھی۔ چھٹی صدی عیسوی کا آخری ربع جو آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کی جوانی کا دور ہے اس شہنشاہیت کا سب سے زیادہ کامیاب دور تھا جب اس کی فوجوں نے رومن شہنشاہیت (باز نطینی ملوکیت) کی فوجوں کو شکست دے کر تقریباً تباہ کردیا تھا خسرو پرویز جس کو عرب'' کسریٰ ''کہا کرتے تھے اس سلطنت کا تاجدار تھا ١ یہ مکالمہ جس کو تاریخ نے پوری احتیاط سے محفوظ رکھا جس کے ضروری اقتباسات یہاں درج کیے جارہے ہیں اسی خسرو پرویز (شہنشاہِ ایران) اور عرب کے ایک رئیس ''نعمان بن منذر '' کے درمیان ہوا تھا ٢
ایران اس جرأت کو کیسے برداشت کر سکتا تھا اس نے عرب پر سخت تنقید کی۔ نعمان بن منذر
١ تاریخ طبری۔ یہی خسروپرویز ہے جس نے نامہ مبارک کو چاک کیا تھا جس کے نتیجہ میں اس کی پوری شہنشاہیت پارہ پارہ بلکہ بے نام و نشان ہوگئی ، یہ نوشیروان عادل کا پوتا تھا باپ کا نام ہرمز تھا۔
٢ نجف اشرف ہمارے زمانہ کا ایک مشہور شہر ہے اسی مقام پر خلیج فارس کے ساحل پر کوفہ سے تین میل ایک شہر تھا جس کو حیرہ کہا جاتا تھا (معجم البلدان) یہ عربوں کی ایک خود مختار ریاست کا مرکز تھا نعمان بن المنذر اسی ریاست کا حکمراں تھا یہ ریاستیں حبش کی یلغار سے تحفظ کے لیے شاہانِ ایران سے اپنا تعلق قائم کیے ہوئے تھیں ، شاہان ایران بھی ان کے معاملات میں کافی دخیل رہتے تھے یہاں تک کہ نعمان کے پر دادا امر القیس نے نو شیران بن قباذ (نوشیروان عادل) کی مدد سے ہی یہاں کی حکومت حاصل کی تھی (معارف ابن قتیبہ ) نعمان کی کنیت ابوقابوس تھی باپ اور دادا دونوں کا ایک ہی نام ہے المنذر ۔ نعمان بن المنذر بن المنذر بن امراء القیس سلسلہ نسب ہے۔ عربی ادب سے دلچسپی رکھنے والے امراء القیس سے پوری طرح واقف ہیں ۔
شعراء عرب میں استاذ الاساتذہ کا درجہ رکھتا تھا عدی بن زید العبادی بہترین ادیب اور بلند پایہ شہنشاہِ ایران ''خسرو پرویز'' (کسریٰ) کا عربی ترجمان اور وزارت ِ خارجہ میں عرب سے متعلق امور کا انچارج تھا نعمان کا دوست تھا اس نے نعمان کی تعریف کسریٰ سے کی جس کی بناپر نعمان کو دربارِ کسریٰ میں باریابی کا موقع ملا پھر تعلقات خراب ہوگئے یہاں تک کہ نعمان نے اپنے اس محسن'' عدی'' کو قتل کرادیا ۔باپ کے بعد اس کا بیٹا زید بن عدی دربار ِایران میں باپ کے منصب پر فائز ہوا، اس نے نعمان سے اپنے باپ کے خون کا بدلہ لیا، کسریٰ کو نعمان سے برہم کردیا یہاں تک کہ کسریٰ نے نعمان کو طلب کیا وہ کچھ دنوں کے لیے غائب ہوگیا (باقی حاشیہ اگلے صفحہ پر)
سے کہا تم ایسی قوم کو فوقیت دینا چاہتے ہو جس کی نہ دنیا درست ہے نہ دین درست، جس کی نہ کوئی مملکت ہے نہ اس کے پاس کوئی دستور اور قانون ہے ، نہ اس کی آبادی باضابطہ ہے، جنگلوں اور پہاڑوں میں وحشی جانوروں کے ساتھ اس کا گزران ہے دنیا کی لذتوں سے ناواقف لباس وپوشاک سے بے بہرہ تمدن سے نا آشناء ،لوٹ مار ذریعہ معاش ہے، کھانے کو نہیں ملتا تو بچوں کو قتل کردیتے ہیں ، زندہ لڑکیوں کو زمین میں دفن کردیتے ہیں ، اونٹ کا گوشت ان کی محبوب غذا ہے مہمانوں کی سب سے بڑی مدارات یہی ہے کہ اونٹ کا گوشت پیش کیا جائے جس کو درندے بھی نہیں کھاتے اور پھر قصائد اور اشعار میں اس پر فخر کیا جاتا ہے۔
نعمان بن منذرکا جواب :
''شہنشاہ ِ عجم آپ کی قوم کو جو عظمت حاصل ہے میں اس کا انکار نہیں کرتا بے شک وہ عقل ودانش اور ضبط و نظم میں ایک خاص درجہ رکھتی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ بحیثیت ِمجموعی دنیا کی کسی قوم کو وہ مقام حاصل نہیں ہے جس کے عرب مالک ہیں ۔
سیاسی عظمت :
بے شک آپ اور آپ کے بزرگ فاتح رہے ہیں بہت سے ملک انہوں نے فتح کیے اور ان کے مضبوط قلعوں پر اپنی عظمت کے پرچم لہرائے لیکن آپ یہ بھی خیال فرمائیں کہ عرب ان ہی فاتح شہنشاہوں کے پڑوسی رہے ہیں مگر کیا کبھی کسی فاتح کی ہمت ہوئی کہ عرب کا رخ کر سکے ! کیونکہ دنیا کی قوموں کی حفاظت ان قلعوں پر موقوف ہے جو چونے کی گٹی اور پتھروں سے تعمیر کیے جاتے ہیں
(بقیہ حاشیہ ص ١٢)
پھر آخرکار حاضر ہوا تو کسریٰ نے گرفتار کر کے ساباط کے جیل خانہ میں ڈلوادیا پھر ہاتھی کے پیروں سے کچلوا کر مروادیا(معارف ابن قتیبة) یہی نعمان بن المنذر ہے جس کے ایک تجارتی قافلہ کی بناپر فجار کا معرکہ ہوا جس کو ''حربِ فجار'' کہا جاتا ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم بھی اپنے اعمام کے ساتھ تشریف لے گئے تھے اس وقت آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کی عمر مبارک دس بارہ سال تھی ( ابن سعد ج ٢ ص ٢١)
یا ان جزیروں پر جو سمندروں کی موجوں میں روپوش ہیں مگر عرب کے قلعے گھوڑوں کی پیٹھ ہیں ، فرش زمین ان کا گہوارہ ،آسمان چھت اور ان کی محافظ ان کی تلوار ہے، ان کی رسد ، ان کا صبرواستقلال، پا مردی اور استقامت، جفاکشی اور سخت کوشی ! ! !
شکل وصورت اور ظاہری وجاہت :
عرب حسن ظاہری، تناسب ِاعضائ، روداری اور وجاہت کا معیار ہیں ، نہ ان کی آنکھیں بھوری یا پتلی، نہ ان کی ناک پھڈی، نہ رخسار چوڑے، نہ ہونٹ موٹے ،نہ چہرے جھلسے ہوئے، نہ سفید فاموں کی طرح کھرچے ہوئے، نہ بالشتی قد، نہ بے ڈول لانبے، نہ نازک بدن ، نہ مرجھائے ہوئے !
نسب :
صرف عرب ہی کو حق ہے کہ خالص النسل اور محفوظ النسب ہونے کا دعویٰ کریں ! ہر ایک پشت ہیں ماہرین ِانساب چھان بین کرتے رہے، خاندانی یا دداشتوں میں اور شعراء کے قصیدوں میں ہر ایک دور کے نسب محفوظ ہوتے رہے چنانچہ ہر ایک عرب کو اپنے مورث ِ اعلیٰ تک کا نسب معلوم ہے پورا نسب نامہ اس کی زبان پر چڑھا ہوا ہے ١ لیکن دنیا کی دوسری قوموں سے اگر دریافت کیا جائے تو اکثر قومیں وہ ہیں کہ دو تین پشتوں سے آگے اپنے بزرگوں کے نام سے بھی وہ واقف نہیں ہیں ! !
سخاوت اور حوصلہ :
ایک معمولی عرب جس کی کل ملکیت ایک اونٹنی ہو، وہی اس کی مزدوری کا ذریعہ اور وہی اس کی زندگی کا سہارا ہو، اگر اس کے یہاں مہمان آجائے تو اگرچہ گوشت کے چند پارچوں اور کسی مشروب سے وہ اس کی خا طر کر سکتا ہے مگر اس کا حوصلہ اس کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اس معمولی مدارات پر کفایت کرے وہ اپنی اونٹنی ذبح کرڈالتا ہے گوشت کے بہترین پارچوں سے اس کی مدارات کرتا ہے اور اگرچہ وہ اپنا سب کچھ قربان کر چکا ہے مگر وہ خوش ہے کہ اس نے مہمان کی خدمت کرنے میں حوصلہ سے کام لیا
١ جس قوم کے یہاں گھوڑوں اور اونٹوں کے نسب بھی محفوظ ہوں ہر ایک کو اپنی گھوڑی اور اپنے اونٹ کا سلسلہ نسب یاد ہو ، کیسے ہوسکتا ہے کہ اس کو خود اپنا نسب نامہ یاد نہ ہو ۔ (محمد میاں )
ادب اور تہذیب :
نظم، نشر، قصیدہ گوئی، خطابت اور تقریرمیں جو غیر معمولی امتیاز عرب کو حاصل ہے دنیا کی کوئی قوم اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی ! جہاں تک تہذیب کا تعلق ہے تو عرب کا لباس سب سے بہتر سب سے زیادہ شاندار ! ان کی عورتیں با عصمت ! ان کی سواریاں وہ عربی گھوڑے جن کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی ان کے اونٹ گویا صحرا کے جہاز ہیں ، سونے اور چاندی کی کانیں زمین کے سینہ میں اور قیمتی ہیرے جواہر ان کے پہاڑوں میں موجود ہیں ! سمندر ان کی بغل میں ہے جس کے سینہ پر ان کے جہاز رینگتے ہیں اور مشرق کی آخری سرحدوں تک ان کو پہنچاتے ہیں ۔
دین اور مذہب :
عرب کا مذہب جانا پہچانا ہے اس کے فرائض اور مراسم معلوم ہیں عرب ان کے پابند ہیں ان کا ایک بیت (کعبہ) ہے جس کا وہ حج کرتے ہیں ! وہاں قربانیاں پیش کرتے ہیں اس کعبہ کا وہ احترام کرتے ہیں جس شہر میں یہ کعبہ ہے اس کا احترام کرتے ہیں ! اس کی کچھ حدود ہیں جن کو حرم کہتے ہیں اس حرم کا وہ احترام کرتے ہیں اس کی مقررہ حدود ہیں ۔
انسان تو کیا کسی جاندار کو بھی وہ ایذا نہیں پہنچا سکتے ،اس کے درخت نہیں کاٹ سکتے، سال میں چار مہینے مقرر ہیں جن کو '' اشہر حرام '' کہتے ہیں وہ ان کا احترام کرتے ہیں یہاں تک کہ ایک بہادر عرب اپنے باپ یا بھائی کے قاتل کو اپنے سامنے دیکھتا ہے وہ اس کے خون کا پیاسا ہے اسے پوری قدرت ہے کہ وہ اس قاتل کا کام تمام کر کے اپنے باپ یا بھائی کا قصاص لے لے اور انتقام کی پیاس بجھا لے مگر اس کا دین ومذہب ہی ہے جو اس کے جذبات کو روکتا ہے اس کے ہاتھ باندھ دیتا ہے وہ خون کے گھونٹ پیتا ہے اور حرمِ مکہ یا حرم کے مہینوں میں اپنے باپ یا بھائی کے قاتل سے قصاص نہیں لے سکتا ! !
قول و عہد کی پابندی :
باقاعدہ عہدوپیمان تو درکنار عہد کی قسم کا اشارہ بھی ہوجاتا ہے تو عرب اس کو ایسی گرہ سمجھتا ہے جو اسی وقت کھل سکتی ہے جب اس کی جان جاتی رہے ! !
ایک عرب کو معلوم ہوتا ہے کہ کسی مصیبت زدہ نے جس کو اس نے کبھی دیکھا بھی نہیں جو اس سے کوسوں دور ہے اس کے نام کی دہائی دی ہے اب اس کی پوری قوت اور تمام وسائل اس کی امداد کے لیے اس عزم کے ساتھ وقف ہوتے ہیں کہ یا ظالم ختم ہوجائے یا وہ اور اس کا پورا قبیلہ فنا ہوجائے گا
ایک اجنبی شخص جس سے نہ تعارف ہے نہ کوئی تعلق پریشان حال پہنچتا ہے اور کسی قبیلہ کی پناہ لے لیتا ہے تو اب اگر یہ اجنبی کوئی جرم کرکے آیا ہے تب بھی اس قبیلہ کی پناہ میں آنے کے بعد محفوظ ہوجاتا ہے ،پناہ دینے والا قبیلہ اپنی جانیں قربان کر سکتا ہے مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ اس کی موجودگی میں اس پناہ لینے والے کو آنچ آجائے ! ! !
لڑکیوں کو قتل کردینا :
بے شک کچھ لوگ یہ جرم کرتے ہیں مگر اس لیے کہ ان کی غیرت اس کی اجازت نہیں دیتی کہ ان کے گھر پر داماد آئے یا لڑکی کوئی ایسی حرکت کر بیٹھے جو ان کے لیے عار ہو ! ! !
اونٹ کا گوشت :
بے شک وہ اونٹ کا گوشت کھاتے ہیں مگر اس لیے کہ وہ سب سے گراں پڑتا ہے مخصوص پارچے مثلاً کوہان کا گوشت ایسا عمدہ اور بہتر ہوتا ہے کہ کوئی گوشت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا خاص طور پر کوہان کا گوشت ہی ضیافتوں میں پیش کیا جاتا ہے ١ اور اسی پر فخر کیا جاتا ہے ٢
١ ایک تصور یہ تھا کہ زندہ اونٹ کا کوہان پہلے کاٹ لیا جائے تو وہ زیادہ لذیذ ہوتا ہے لہٰذا پہلے کوہان کاٹ کر مہمانوں کے لیے اس کے پارچے تل دیتے جاتے تھے یا کباب بنالیے جاتے تھے، باقی اونٹ کا گوشت فقراء کا حصہ ہوتا تھا اسلام نے کسی زندہ جانور کے کسی حصہ کے کاٹ لینے کو ظلم اور اس طرح کے گوشت کو حرام اور ناپاک قرار دیا ! !
٢ جنگ ِ بدر میں قریش کے جو سردار مارے گئے ان کے ہم مسلک شاعر نے ان کے مرثیہ میں ان کی مہمانداری کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ دعوت کے موقع پر کوہان کے پارچے اور کباب پیش کیا کرتے تھے جو آبنوس کی کشتیوں میں سجے ہوئے تھے (بخاری شریف ص ٥٥٨)
خانہ جنگی :
یہ درست ہے قبائل میں جنگ رہتی ہے یہ بھی درست ہے کہ ان کے یہاں کوئی ایسا نظم نہیں ہے کہ سب قبائل کو منسلک کردے ،نہ ان کے یہاں کوئی شہنشاہ ہے !
تو واقعہ یہ ہے کہ سیاسی نظم کا محرک یہ ہوتا ہے کہ ایک گروہ اپنے آپ کو کمزور محسوس کرتا ہے اس کو حملہ آوروں کا خطرہ بھی ہوتا ہے تو وہ دوسرے گروہ کے ساتھ منسلک ہوجاتا ہے یا ایسا ہوتا کہ کسی مملکت میں کوئی ایک خاندان اپنی قوت اور قابلیت سے ایسی عظمت حاصل کر لیتا ہے کہ اہلِ مملکت اس کا لوہا ماننے لگتے ہیں تو وہ اس کو بادشاہ بنادیتے ہیں اور اپنی گردنیں اس کے سامنے جھکادیتے ہیں لیکن عرب کی حالت یہ ہے کہ ہر ایک قبیلہ وہ قابلیت رکھتا ہے کہ بادشاہت کر سکے، وہ کسی سے مرعوب ہونا نہیں جانتا، اپنی قوت پر اس کو اعتماد ہوتا ہے بس ہر قبیلہ اپنی جگہ بادشاہ ہے، نہ کسی کے سامنے گردن جھکانے کو تیار ہوتا ہے نہ یہ برداشت کر سکتا ہے کہ کسی کو خراج یا ٹیکس دے یا کسی کا بیگاری بنے''
نعمان بن منذر کی تقریر کے کچھ حصوں سے اور اس کے بعض خیالات سے اختلاف ہوسکتا ہے مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عربوں کا تصور اپنے متعلق یہی تھا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جو خصلتیں اور جو خصوصیات بیان کیں وہ اپنی جگہ پر صحیح ہیں عرب فی الواقع ان خصوصیات کے حامل تھے کسی قدر تفصیل آئندہ باب میں ملاحظہ فرمائیے۔ (جاری ہے)
( ماخوذ از سیرتِ مبارکہ '' محمد رسول اللّٰہ '' صلی اللہ عليہ وسلم ص ٦٣ تا ٧٢ ناشر کتابستان دہلی )
١ عقد الفرید لابن عبد ربہ جلد اوّل باب الوفود علی الملوک
مقالات حامدیہ
٭٭٭
برا نہ مانیے اور غور کیجیے
٭٭٭
قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں
عنوانات ، حاشیہ و نظر ثانی بتغیرِ یسیر : حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب
٭٭٭
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نَحْمَدُ اللّٰہَ سُبْحَانَہ وَتَعَالٰی وَنُصَلِّی عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّےْطٰنِ الرَّجِےْمِ اَمَّا بَعْدُ
اہلِ سنت والجماعت حنفی :
بھائیو ! جو شخص بھی اپنے آپ کو اہلِ سنت حنفی کہتاہے مسلمان ہے اسے کافر سمجھنا ذلیل نظروں سے دیکھنا گناہ ِکبیرہ ہے ! ١٨٥٧ء میں جب سقوط ِ دہلی کے بعد ہندوستان پر انگریزوں کا تسلط ہوگیا تو اس نے اہلِ سنت والجماعت حنفی مسلمانوں میں جن کی حکومت اس نے چھینی تھی پھوٹ ڈالنی شروع کی ! اس سے پہلے کبھی متبع سنت علماء کو کافر نہیں کہا گیا تھا اور نہ متبع سنت علماء نے بدعتی علماء کو کافر کہا تھا ! یہ صرف سوسال کے اندر اندر انگریز نے انقلاب پیدا کیا ! اس کی پالیسی ہی یہ تھی کہ لڑاؤ اور حکومت کرو ! ! !
اس مقصد میں سب سے زیادہ کار ِ نمایاں فاضل بریلوی احمد رضا خان صاحب نے انجام دیا ! انہوں نے متبعین ِ سنت علماء اہلِ سنت کی تکفیر(کافر قرار دینا) سر گرمی سے شروع کی ! اسی کام میں ان کی ساری عمر کٹی ! لیکن یہ کام ان کے لیے اس وقت تک ممکن نہ تھا جب تک وہ ان حاملین ِفقہ و سنت علماء پر پہلے فرضی جھوٹے الزامات جنہیں بہتان کہا جائے نہ لگالیں ! انہوں نے اس غرض سے ان کے اوپر غلط عقائد رکھنے کا الزام لگایا اور اپنے ماننے والوں کو اتنا برخلاف کیا کہ اگر یہ اکا بر یہ کہیں اور لکھیں بھی کہ ہم پر یہ جھوٹا الزام ہے ،ہمارا تو یہ عقیدہ ہی نہیں ہے تو بھی وہ ان کا اعتبار نہ کریں اور شک کرتے رہ جائیں ! ؟
حالانکہ ان کے عقائد صحیح ہونے کی دلیلیں بھی سامنے ہیں مثلاً یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ سارے اہل ِ سنت حنفی مدارس میں الف با کے قاعدے سے لے کرتفسیر کی آخری کتاب تک حدیث شریف کی تمام ہی کتابیں مشکٰوة شریف اور صحاح ستہ فقہ کی تمام ہی کتابیں ہدایة آخرین تک ، عقائد کی تمام ہی کتابیں پھر فتوؤں کی تمام ہی کتابیں ، غرض الف سے لے کر یاء تک جو اہلِ سنت والجماعت (دیوبندی) حضرات کے یہاں کتابیں پڑھائی جاتی ہیں وہی بدعتی علماء (بریلوی حضرات) کے یہاں بھی پڑھائی جاتی ہیں ! ! اس کو ''درسِ نظامی'' کہتے ہیں ! یہی نہیں بلکہ ہر جگہ ہر دومکتب ِ فکر کے علماء اپنے اپنے فتوؤں میں جن کتابوں کے حوالے دیتے ہیں وہ سب ایک ہیں ! ! اس میں آپ کو کہیں اختلاف نظر نہیں آئے گا ! یہ ہمارا دعوی ہے جو واضح ہے اور مدلل ہے، اگر اس میں ذرا غلط بیانی کا شبہ ہو تو آپ خود خاموشی سے اہلِ سنت دیوبندی اور اہلِ بدعت بریلوی مدارس میں تحقیق کر کے دیکھ لیں سب کے یہاں یہی نصاب ملے گا اور سب کے مفتی عالمگیری ، شامی ، قاضی خاں ، البحرالرائق ، فتح القدیر ، مبسوط وغیرہ سے ہی فتوؤں کے جواب لکھتے نظر آئیں گے ! ! !
اختلاف کا پس منظر :
پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اختلاف کہاں سے آیا ؟ ؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس اختلاف کے بانی فاضل بریلی احمد رضاخاں صاحب ہیں اور چونکہ ان کی کتابوں کے علاوہ کہیں اختلاف تھا ہی نہیں اس لیے انہوں نے اپنے انتقال سے پہلے یہ وصیت کر دی تھی کہ
''میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے اس پر مضبوطی سے قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے ! ! '' (وصایا شریف و صیت نمبر ١٤ ص ١٠ مطبوعہ آگرہ پوپی انڈیا)
یعنی قرآن و حدیث کے احکام تو فرض تھے ہی یہ تو تم سنتے آئے ہو لیکن میرا مذہب کچھ اور ہے وہ میری کتابوں سے ظاہر ہے اس پر قائم رہنا بلکہ مضبوطی سے قائم رہنا اس سے بھی بڑا فرض ہے ! ؟
اور وہ دین و مذہب جو انہوں نے اپنی کتابوں میں بھرا ہے صرف یہ ہے کہ علماء ِ حق پر الزام ر کھ کر انہیں جگہ جگہ کافر کہا ہے ! ان کی کتابیں پڑھی جائیں تو ان میں جگہ جگہ تکفیر ہی دکھائی دے گی یا نئے نئے مسائل جو انہوں نے بنائے ہیں تاکہ جھگڑے کی بنیاد بنیں ! (اس لیے ) وہ(بدعتی حضرات) آج تک ان کے نقش ِ قدم پر چل کر مسلمانوں کی تکفیر کیے جارہے ہیں اور تفریق پھیلا رہے ہیں ! !
انہیں بڑھانے والوں نے صحابہ کرام سے بھی بڑھادیا (اور وہ ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ) :
''زہدو تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ میں نے بعض مشائخ ِ کرام کو یہ کہتے سنا ہے کہ ان کو دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللّٰہ علیہم اجمعین کی زیارت کا شوق کم ہوگیا '' ١
مذکورہ معروضات سے معلوم ہوا کہ فاضل بریلوی کی کتابیں ہی فساد کی جڑ ہیں ! اب آپ ہی سو چیے کہ آپ سنت کی پیروی کرنی چاہتے ہیں یا احمد رضا خاں کی بدعات کی ؟ آپ امام اعظم ابوحنیفة رحمة اللّٰہ علیہ کے مقلد ہیں یا فاضلِ بریلوی احمد رضا خاں صاحب کے ؟
یقینا آپ اہلِ سنت والجماعت ہیں آپ حنفی ہیں ، یقینا عاشقِ رسول ہیں اور سرور کائنات علیہ الصلوٰة والسلام کی سنت پر جو چلے آپ اس کے بھی عاشق ہیں ! ! اس لیے آپ ہر مسئلہ میں بریلوی عالم سے یہ پوچھ لیا کریں کہ حدیث شریف میں اور فقہ امام اعظم میں کیا حکم آیا ہے بس اسی پر عمل کریں اور اپنی آخرت سنواریں ! !
بدعت کی پہچان ؟
پھر اگر بریلوی عالم یہ کہے کہ یوں کر لیا کرو اگر چہ حدیث میں تو نہیں ، تفسیر میں بھی نہیں اور فقہ میں بھی نہیں لیکن یوں ہے ووں ہے اس میں حرج ہی کیا ہے !
تو سمجھ لیا کریں کہ یہ نئی چیز نکال رہا ہے اور اسے ثواب کا کام کہہ رہا ہے اور یہی کہہ کر کہ اس میں حرج ہی کیا ہے ، مُحْدَ ثْ ، بدعت ایجاد کر رہاہے، ایسے مسئلہ میں اس کی بات نہ مانیں (کیونکہ) اسی کو بدعت کہا جاتا ہے ! !
١ وصایا شریف ص ٣٤ مصنفہ حسنین رضاخاں ابن فاضل بریلوی مطبوعہ الیکٹرک ابوالعلائی پریس آگرہ
و انجمن ارشاد المسلمین 6-B شاداب کالونی حمید نظامی روڈ لاہور
سوائے ا س کے کوئی نیا مسئلہ درپیش ہو اور اس پر سب علماء متفق ہوجائیں کوئی اسے بدعت نہ کہے تو ایسامسئلہ اجماع ِامت کے تحت درست ہوگا ورنہ اگر کچھ علماء کہتے ہوں کہ یہ جائز ہے اس میں حرج کیا ہے اس میں یہ فائدہ ہے اور کچھ علماء کہتے ہوں کہ یہ بدعت ہے تووہ بدعت ہی کہلائے گا وہ ثواب اور نیکی نہ بنے گا (امام نووی رحمة اللّٰہ علیہ نے تہذیب الاسماء میں یہ وضاحت فرمائی ہے) !
اور حدیث پاک میں بدعتی کے لیے سخت وعید آئی ہے ! بدعت کی یہ نحوست بتلائی گئی ہے کہ جب کوئی قوم بدعت میں لگ جاتی ہے تو سنت اٹھالی جاتی ہے پھر سنت نہیں لٹائی جاتی ! !
آپ دیکھ لیں کہ بدعتی علماء نئے نئے مسئلے اٹھا کر ان کی پابندی کر رہے ہیں اور اتفاق و اتحاد کے فرض کو مٹا رہے ہیں ، بھائی بھائی میں نفرت و نفاق کا بیچ بو رہے ہیں ! ! !
بدعت کی جو تعریف امام شافعی رحمة اللّٰہ علیہ نے بیان فرمائی ہے وہ بدعت کی ایسی تعریف ہے جسے خود بدعتی علماء نے صحیح تسلیم کیا ہے ! اور فاضل بریلوی کے دورمیں یہ انوارِ ساطعہ اور براہینِ قاطعہ میں ضبط تحریر میں بھی آچکی ہے لیکن انہوں نے کچھ(تعریف) لکھی اور کچھ چھوڑی ہے کیونکہ پوری بات لکھ دیتے تو اسی تعریف کے رُو سے وہ خود بدعتی قرار پاتے ! ؟ پوری عبارت یہ ہے جو علماء اہلِ سنت کے افادہ کے لیے درج کی جاتی ہے !
وَرَوَی الْبَیْھَقِیُّ بِاِسْنَادِہ فِیْ مَنَاقِبِ الشَّافِعِیِّ عَنِ الشَّافِعِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ اَلْمُحْدَثَاتُ مِنَ الْاُمُوْرِ ضَرْبَانِ
اَحَدُھُمَا مَا اُحْدِثَ مِمَّا یُخَالِفُ کِتَابًا اَوْ سُنَّةً اَوْ اَثَرًا اَوْ اِجْمَاعًا فَھٰذِہِ الْبِدْعَةُ الضَّلَالَةُ ! !
وَالثَّانِیَةُ مَا اُحْدِثَ مِنَ الْخَیْرِ لَا خِلَافَ فِیْہِ لِوَاحِدٍ مِّنَ الْعُلَمَائِ
وَھٰذِہ مُحْدَثَة غَیْرُ مَذْمُوْمَةٍ وَقَدْ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ قِیَامِ شَھْرِ رَمَضَانَ نِعْمَةُ الْبِدْعَةِ ھٰذِہ یَعْنِیْ اَنَّھَا مُحْدَثَة ، لَمْ تَکُنْ وَاِذَا کَانَتْ لَیْسَ فِیْھَا رَدّ لِمَا مَضَا
ھٰذَا آخِرُ کَلَامِ الشَّافِعِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ١
١ تَھْذِیْبُ الْاَسْمَائِ وَاللُّغَاتِ لِلْاِمَامِ النَّوَوِیِّ رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی اَلْجُزْئُ الْاَوَّلُ مِنَ الْقِسْمِ الثَّانِیْ حرف الباء ص ٢٢
(یعنی ) امام بیہقی رحمة اللّٰہ علیہ نے امام شافعی رحمة اللّٰہ علیہ سے اپنی سند کے ساتھ اپنی کتاب مناقبِ شافعی میں لکھا ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا ہے کہ دین میں (دین کا کام سمجھ کر)نئی چیزوں کی ایجاد دو قسم کی ہے :
ایک وہ مُحْدَثْ (نئی ایجاد) جو کتاب اللہ اور سنت ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم یا اقوالِ صحابہ یا اجماع کے مخالف ہو تو یہ وہ بدعت ہے جو ضلالت (گمراہی ) ہے !
دوسری قسم وہ ایسی نیکی کی ایجاد ہے جو سب علماء نے مل کر طے کی ہو جس میں کسی ایک بھی عالم نے مخالفت نہ کی ہو یہ وہ مُحْدَث(نئی چیز ہے) جسے برا نہیں بتلا یا گیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رمضان کے مہینے میں قیام(تراویح) کے بارے میں فرمایا تھا کہ یہ بہت اچھی بدعت ہے ! یعنی یہ ایسی ایجادہے جو پہلے رائج نہ تھی اور جب شروع ہوئی تو اس میں کوئی رَدّ و قدح نہیں کیا گیا کیونکہ یہ گزر چکی تھی (یعنی جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے رمضان میں دو دن اس پر عمل فرمایا تھا )
یہ امام شافعی کی گفتگوکا آخری حصہ ہے''
اب جو لوگ کوئی بدعت ، نیکی کہہ کر ایجاد کرتے ہیں تو آپ اسے اس معیار سے جانچ لیا کریں کہ کیا سارے حنفی اہل سنت علماء اس پر متفق ہیں یا نہیں ؟ اگر سب متفق ہوں تو وہ جائز ہوگئی بدعت نہ ہوگی اور اگر اختلاف ہو تو بدعت سمجھیں ! صرف اس نیکی پر عمل کریں جس پرسب علماء کا اتفاق ہو ! !
تازہ بدعت :
تازہ مثال دیکھ لیجیے کہ اذان سے پہلے صلوٰة والسلام کا رواج نہ اسلام کے شروع میں تھا نہ پہلی صدی میں حتی کہ تیرویں صدی گزری ! اور چودھویں صدی میں آکر یہ تقریباً ١٣٩٥ھ/ ١٩٧٥ء میں شروع کیا گیا اور فوراً ہی اسے اسلام کا جزو بنا لیا ! ؟
حالانکہ ١٣٩٥ھ/١٩٧٥ء کے لگ بھگ ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ
''شیعہ اپنی اذان میں اذان کے کلمات کے علاوہ جو کچھ بڑھاتے ہیں وہ سب بے اصل ہے'' !
اذان ان کے مذہب کے اعتبار سے بھی وہی ہے جو ہماری ہے ! مگر انہیں روکتے روکتے ہم نے خود ایک بدعت شروع کردی جس کا کہیں پہلے ثبوت نہیں ہے جسے بعض بدعتی (بریلوی) علماء نے بھی منع کیا اور ان کے فتوے بھی چھپے اور جس پر خود بریلی(ہندوستان) میں بھی پابندی سے عمل نہیں کیا جاتا ! !
اگر اذان کے ساتھ یہ اضافہ شیعوں کے مقابلہ کی نیت سے کیا گیا ہے تو بھی درست نہیں ہے کیونکہ اس سے اذان کی اس شکل میں تبدیلی آتی ہے جو جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے بنا کر دی تھی اور ہر مسلمان پر اس کی حفاظت ضروری تھی کیونکہ دین مسلمانوں کے پاس رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی امانت ہے اسے ویسا ہی رکھنا ضروری ہے جیسا رسالت مآب صلی اللہ عليہ وسلم امت کے سپرد کر کے تشریف لے گئے ہیں ! !
آگے ......... آپ یہ پوچھیے :
آپ یہ پوچھیے کہ اذان کے وقت کیا کرنا چاہیے ؟ جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے کیا بتلایا ہے ؟ بس اسی پر عمل کریں ! حدیث ِپاک میں صاف آتا ہے کہ جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا
''جب مؤذن کو اذان دیتے سنو تو مؤذن کے کلمات تم بھی کہتے رہو ! ثُمَّ صَلُّوْا عَلَیَّ پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت اتار تے ہیں ! پھر میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ کی دعا مانگو وسیلہ جنت میں ایک درجہ ہے جو اللہ کے بندوں میں ایک ہی بندے کے لیے ہوگا اور مجھے امید ہے کہ میں وہ ہوں فَمَنْ سَأَلَ لِیَ الْوَسِیْلَةَ حَلَّتْ عَلَیْہِ الشَّفَاعَةُ
جو میرے لیے وسیلہ کی دعا کرے گا اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگی'' ! ١
یعنی اذان کے بعد درود شریف پڑھے پھر اَللّٰھُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ ....۔ الخ کی دعا پڑھے جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے تعلیم کردہ طریقہ پر عمل کریں اور بس ! !
بدعت کا نقصان :
بریلوی علماء بات بات پر یہ کہہ کر کہ اِس میں حرج ہی کیا ہے بدعات کو فروغ دیتے ہیں
حالانکہ اس سے تو جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی بتلائی ہوئی عبادت کی شکل بدل جائے گی اور دین کی
١ مشکوة شریف ص ٦٤ بحوالہ مسلم شریف
کسی چیز کی شکل بدلنے کا اختیار آقا صلی اللہ عليہ وسلم کو تھا ہم غلاموں کو نہیں ! ہمیں تو صرف آقا صلی اللہ عليہ وسلم کی پیروی کا حکم ہے کہ آنکھ میچ کر صرف اتباعِ سنت کرتے جائیں تو بیڑا پار ہوجائے گا ! !
آخر آپ دیکھیے کہ ظہر، عصر، مغرب، عشاء کی دو رکعتوں کے قعدہ میں التحیات پڑھنے کے بعد درود پڑھنا منع ہے بلکہ اگر کسی نے پڑھ لیا تو امام اعظم ابوحنیفة رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ اس نے غلطی کی اسے سجدہ سہو کرنا ہوگا۔ اگر آپ امام اعظم ابو حنیفہ سے پوچھیں گے کہ اس میں حرج ہی کیا ہے اور کون سی حدیث میں آیا ہے کہ پہلے قعدہ میں درود شریف مت پڑھنا تو امام اعظم یہی جواب دیں گے کہ سرکار ِ دو عالم صلی اللہ عليہ وسلم نے اور صحابہ کرام نے ایسا نہیں کیا اِس لیے میں منع کرتا ہوں ! !
اسی ایک تازہ بدعت کی مثال سے ہی سے آپ نے یہ سمجھ لیا ہوگا کہ افضل شخص وہی ہے جو پرانے طے شدہ مسائل٧ پرعمل کرے اور سنت پر قائم رہے اور دوسروں کو بھی سنت پر عمل کی دعوت دے اور وہی ''اہل سنت و جماعت ِحنفی ''ہے اور جو نئے نئے مسائل پر چلے جو صدیوں بعد ایجاد ہوئے ہیں وہ اہلِ سنت والجماعت میں نہیں ہے بلکہ بدعتی ہے اور جو ان کے لیے جھگڑے بھی وہ پکا بدعتی ہے وہ مرنے کے بعد جناب ِرسالت مآب صلی اللہ عليہ وسلم کو کیا منہ دکھائے گا اور آپ سے کیسے شفاعت چاہے گا ! ؟
بدعت کا ایک اور نقصان :
بدعتی علماء جب ایک دروازہ کھولتے ہیں تو عوام ایسے اور دروازے کھول لیتے ہیں ! بدعتی علماء جس چیز کو مستحب کہتے ہیں عوام اسے واجب بلکہ فرض بلکہ کفر واسلام کا مسئلہ بنا ڈالتے ہیں ! پھر اس پر لڑائی جھگڑے فساد تک کی نوبت آتی ہے !
مثال کے لیے (ماہ)صفر کے آخری چہار شنبہ (بدھ)ہی کولے لیجیے ، بریلوی عالموں نے اسے بے اصل اور غلط لکھا ہے ! احمد رضا خاں صاحب کے شاگرد اور خلیفہ صدر الشریعہ امجد علی صاحب لکھتے ہیں
''ماہِ صفر کا آخری چہار شنبہ ہندوستان میں بہت منایا جاتا ہے لوگ اپنے کاروبار بند کردیتے ہیں سیرو تفریح و شکار کو جاتے ہیں ، پوریاں پکتی ہیں اور نہاتے دھوتے خوشیاں مناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ عليہ وسلم نے اس روز غسلِ صحت فرمایا اور بیرونِ مدینہ طیبہ سیرکے لیے تشریف لے گئے تھے ! یہ سب باتیں بے اصل ہیں بلکہ ان دنوں میں حضورِ اکرم صلی اللہ عليہ وسلم کا مرض شدت کے ساتھ تھا وہ باتیں خلاف ِواقع ہیں ! ! اور بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس روز بلائیں آتی ہیں اور طرح طرح کی باتیں بیان کی جاتی ہے، سب بے ثبوت ہیں بلکہ حدیث کا اِرشاد لَا صَفَرَ یعنی صفر کوئی چیز نہیں ایسے تمام خرافات کو رد کرتا ہے '' ١
لیکن اب اس کے بارے میں کوئی بدعتی عالم زبان نہیں کھولتا ! کوئی نہ روکتا ہے نہ ٹوکتا ہے کیونکہ بدعتی علماء عوام کو دین نہیں سکھاتے ! انہیں سنت ِ رسول صلی اللہ عليہ وسلم کا راستہ نہیں دکھاتے ! ان کا مقصد دین سکھانا نہیں بلکہ ان کا مطلوب دنیا ہے ان کا مقصد خدا کی خوشنودی حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کے منشاء پر چل کر ان کی خوشنودی حاصل کرنا ہے ! اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے اور اللہ ہم سب کو جناب ِ رسول صلی اللہ عليہ وسلم کی سنت پر چلائے اور بدعات سے بچائے، آمین ! !
فاضل بریلوی احمد رضاخاں صاحب کے بدعتی فرقہ کی بنیاد اہل سنت والجماعت پر الزام تراشی اور سب و شتم پر ہے اور ان کے اجتہادی مسائل کی بنیاد ضعیف حدیثوں پر ہے ! انہوں نے ضعیف حدیثوں کو قابل عمل بلکہ حجت قرار دینے کی بہت کوشش کی ہے ! اس موضوع پر انہوں نے اپنے مجموعہ فتاوی میں تقریباً ایک سو پچیس صفحات کا طویل مضمون بھی لکھا ہے ! اس طرح ضعیف حدیثوں سے بھی انہوں نے جو مسئلہ نکالااسے بھی جھگڑے اور تفریق کی بنیاد بنایا ہے ! !
فاضل بریلوی کی فقاہت کی ایک مثال ، نوٹ کی حقیقت :
بہت سے مسائل میں انہوں نے اجتہاد بھی کیا ہے اور اس میں ان سے زبر دست غلطیاں ہوتی رہی ہیں لیکن انہوں نے ہمیشہ اپنی غلطی ماننے کے بجائے اصلاح کرنے والوں کا مذاق اڑایاہے ! !
مثلاً ان کی سمجھ میں یہ آیا کہ نوٹوں میں سود نہ ہونا چاہیے کیونکہ وہ کاغذ ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی
١ بہار ِ شریعت ص ٢٥٧، ٢٥٨ حصہ شاز دہم
اپنا ایک روپیہ کا کاغذایک ہزار میں بیچ دے تو بالکل جائز ہے کیونکہ ہر آدمی کو اپنی چیز کی قیمت لگانے کا اختیار ہے ! ! اس طرح انہوں نے نوٹوں میں سود کے جواز کا فتوی صادر کردیا ! ! ان کے اس اجتہاد پر جب اعتراض ہوا تو انہوں نے ایک لمبا رسالہ لکھ ڈالا اس کا نام '' کِفْلُ الْفَقِیْہِ الْفَاھِمِ فِیْ اَحْکَامِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمِ '' رکھ دیا ! !
اور اس میں ہر اس بزرگ کا مذاق اڑایا جس نے ان کے اس مسئلہ کو غلط کہا اور اپنی مذکورہ بالا دلیل پر جمے رہے ! انہیں فقہ کی عبارتیں بہت یاد تھیں وہ سب لکھ ڈالیں مگروہ فقیہ نہ تھے ! ان کا علم غیر اصولی تھا مطالعہ سے بڑھا تھا اور طبیعت میں بے حد ضد اور عناد تھا ! اس لیے اپنی غلطی پر متنبہ نہ ہوئے !
آپ جانتے ہیں کہ پانچ روپیہ کے نوٹ پر بھی یہ عبارت ہوتی ہے
''بینک دولت پاکستان پانچ روپیہ حاملِ ہذا کو مطالبہ پر ادا کرے گا
حکومت ِ پاکستان کی ضمانت سے جاری ہوا '' ! !
پھر گورنر بینک دولت پاکستان کے دستخط ہوتے ہیں
تو یہ کاغذ وہ کاغذ نہیں جس پر فاضل بریلوی نے قیاس کیا کہ بلا کر اہت اپنے کاغذ کو چاہے ایک ہزار میں بیچ دے اسے اختیار ہے ! یہ حکومت کا کاغذ ہے ،مملکت کا بیت المال (اسٹیٹ بینک) اس کا جاری کرنے والا ہے ! اس کے پانچ کے نوٹ سے پانچ کااور ہزار کے نوٹ سے ہزار ہی کا نفع حاصل کرسکتے ہیں اور جب وہ ضمانت سے انکار کردے ، نوٹ کینسل کردے تو ہزار کے نوٹ بھی بیکار ہوجاتے ہیں ! پانچ روپیہ کا نوٹ ہو یا ایک ارب کے نوٹ ہوں جب کسی بیرونی ملک میں چلے جاتے ہیں تو بین الاقوامی بنک کے ذریعہ اتنے نوٹوں کا سونا چاندی یا مال و اسباب پاکستان کو دینا پڑتا ہے ١
اور اسٹیٹ بینک اتنے ہی نوٹ چھاپتا ہے جتنا اس کے پاس سونا چاندی یا مال و جائید اد و تمسکات ہوں ! اگر نوٹ اس سے زیادہ مثلاً دگنے چھاپ دے تو روپیہ کی قیمت آدھی کرنی پڑجاتی ہے ! !
تو معلوم ہوا کہ نوٹ ایک سرکاری دستاویزی کا غذ ہے حوالہ اور ہُنڈی کی طرح ، اس کا
١ یعنی پاکستان نے ادا کرنا ہوتا ہے (سید محمود میاں )
اصل مال جس کا یہ حوالہ ہے اسٹیٹ بینک میں ہے ! بغرض سہولت انگریز کے چلے جانے کے بعد بھی اس طریقہ کو باقی اور جاری رکھا گیا ہے ، سونا چاندی باہر نہیں لایا گیا ، مقصد یہ ہے کہ اس طرح بیت لمال میں اصل مال محفوظ رہے اور اس (نوٹ)کے حوالے سے لوگ اصل مال کے برابر فائدہ اٹھاتے رہیں اور اسے اصل سونے اور چاندی کے روپیہ اور اشرفی کی طرح چلاتے رہیں عام خریدو فروخت اور بڑی سے بڑی تجارت کرتے رہیں ! ! اس لیے یہ عام کاغذ کی طرح ہر گز نہیں ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص کسی کودس کا نوٹ قرض دے کر یہ کہے کہ مجھے تم ایک ماہ بعد گیارہ روپے کا نوٹ دوگے تو یہ سود ہی ہوگا ! !
فاضل بریلوی کا مسئلہ اور اجتہاد بالکل غلط ہے اور چونکہ نوٹ کی دوسری عرفی رواجی حیثیت بھی ملحوظ رکھنی ضروری ہے کہ اس سے اناج، کپڑااور ہر قسم کا سامان خریدا جاتا ہے حتی کہ سونا چاندی بھی، اس لیے نوٹ پر نقدین یعنی سونا چاندی کا حکم بھی لگے گا اور زکوة فرض ہوگی ! !
فاضل بریلوی کے پیرو کار بدعتی علماء ان کی تعریفوں کے پل باند ھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کا قلم محفوظ عن الخطا تھا ان سے غلطی ہوتی ہی نہ تھی ! ! لیکن یہ میں نے ان کی فقہی لغزش کی ایک مثال دی ہے ! ان کی اس قسم کی لغزشیں ان کی کتابوں میں بے حد وحساب موجود ہیں ! انہوں نے ان کو چھپانے کا یہ سہل طریقہ اختیار کیا کہ دوسرے بڑے بڑے علماء ِ سنت پر الزام تراشی کی اور امت ِ مسلمہ میں تفرقہ کا بیچ بویا اور بر صغیر کے متبعینِ سنت علماء ِ دیوبند کو ''وہابی '' قرار دیا ! !
ہوسکتا ہے کہ یہ لغزش انگریزوں کی(طرف داری اور ) حمایت کا نتیجہ ہو مسلمان نوٹوں پر سود حلال سمجھ کر چاندی کے سکے کے بجائے نوٹ پسند کرنے لگیں اور انگریز ہندوستان سے بے حساب چاندی سمیٹ لے جائیں جس کی انہیں جنگ ِ عظیم اوّل کے بعد شدید ضرورت تھی اور انگریزوں کی (طرف داری اور )حمایت ان کا جدی ورثہ تھی !
مولوی احمد رضاخاں کے پر داداحافظ کاظم علی خاں بریلوی نے انگریزی حکومت کی پولیٹکل خدمات انجام دیں ١ اور احمد رضا خاں صاحب نے انگریزوں کی جو خدمات انجام دیں انگریزوں نے اس کی تعریف کی ! فرانسیسی رابنسن لکھتا ہے
١ بحوالہ حیات اعلیٰ حضرت مصنفہ ظفرالدین بہاری ص ٣ ، اقبال کے ممدوح علماء ص ١٨
''ان کا معمول کا طریقہ کار (انگریز)حکومت کی حمایت تھی اور جنگ ِعظیم اوّل اور تحریک خلافت میں اُنہوں نے مسلسل حکومت کی حمایت جاری رکھی اور ١٩٢١ء میں بریلی میں ترکِ موالات کے مخالف علماء کی ایک کانفرنس منعقد کی ان کاعوام پر خاطر خواہ اثر تھا لیکن مسلمانوں کے پڑھے لکھے طبقے کی حمایت حاصل نہ تھی '' ١
انگریزوں کی حکومت اب ختم ہوگئی ہے اس لیے ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ احمد رضا خاں صاحب کی تمام تحریرات کو ضبط کرے کیونکہ ان کی تمام تحریرات میں فساد کا درس دیا گیا ہے۔
''وہابی '' کسے کہتے ہیں ؟ ؟
حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللّٰہ علیہ کے متبعین (پیروکاروں ) میں جس طرح پوری دنیا میں مشہور روحانی بزرگ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمة اللہ علیہ غوث ِوقت گزرے ہیں اسی طرح ان کے ماننے والوں میں کئی صدی بعد ساری دنیا میں مشہور عالم ابنِ تیمیہ گزرے ہیں پھر ان کے بعد بارہویں تیرہویں صدی میں '' محمد بن عبدالوہاب'' نجد میں گزرے ہیں ، یہ بھی ابنِ تیمیہکی طرح حنبلی عالم تھے ، ان کے ماننے والے سب حنبلی ہیں انہیں ہی ''وہابی'' کہا جاتاہے ! ! حنفی، شافعی اور مالکی کی طرح حنبلی مذہب کا شمار بھی اہلِ سنت والجماعت میں ہوتا ہے ! اور یہاں پاکستان ، افغانستان اور ہندوستان، بنگلہ دیش، برما اورایران کے سنی حضرات سب حنفی ہیں ! بمبئی اور جزائر مالدیب وغیرہ میں کچھ شافعی حضرات بھی ہیں ! !
درحقیقت یہاں کوئی وہابی سرے سے ہے ہی نہیں ! پھر یہاں کے پکے حنفی علماء اہلِ سنت والجماعت کو وہابی کہنا خالص جھوٹ اور الزام ہے جو فاضل بریلوی اور ان کے پیروکاروں نے پروپیگنڈے کے لیے علماء حق کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا او ر اسی پر آنکھ میچ کر چلے جارہے ہیں ! ! !
١ بحوالہ Separatism Among Indian Muslims Page 442 کیمرج یونیورسٹی پریس١٩٧٤ئ
٭٭٭
آہ ! خانوادہِ مؤرخ ملت کا فردِ جلیل
حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب قدس اللہ سرہ العزیز
( حضرت مولانا قاری تنویر احمد صاحب شریفی ، مجلس یادگار شیخ الاسلام پاکستان کراچی )
٭٭٭
٧ محرم الحرام ١٤٤٧ ھ / ٢ جولائی ٢٠٢٥ ء بروز بدھ رات سواگیارہ بجے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب جامعہ مدنیہ جدید رائیونڈ کے مہتمم ، خانقاہ حامدیہ رائیونڈ کے مسند نشین ، جمعیت علماء اسلام پنجاب کے امیر محترم ، سینکڑوں علماء و مشائخ کے استاد محترم حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب تقریباً پانچ ماہ کی طویل اور صبر آزما علالت کو برداشت کرکے اجر عظیم سمیٹتے ہوئے باری تعالیٰ کے حضور پہنچ گئے
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ وَرَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی رَحْمَةً وَّاسِعَةً
حضرت مولانا ، مؤرخ ملت حضرت العلام مولانا سید محمد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ ( صاحب ِعلمائِ ہند کا شاندار ماضی ) کے پوتے اور استاد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب قدس سرہ کے لائق و فائق منجھلے صاحبزادے تھے ،کون مولانا سید حامد میاں ؟
ان کا مقام ان کے شیخ و استاد گرامی شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب مدنی نور اللہ مرقدہ کے قلم سے پڑھ کر اندازہ لگائیے ، فرماتے ہیں :
'' .................. مگر میرا آپ ١ پر سخت اعتراض ہے کہ آپ سال گذشتہ کے ایام کو موصوف ٢ کے لیے اضاعت (بیکار) کے ایام شمار فرماتے ہیں
محترما ! موصوف نے اس مدت میں سلوک میں نہایت بیش بہا ترقی کی ہے جو کہ لوگوں کو سال ہا سال میں حاصل نہیں ہوتی ، اگر وہ اسی رفتار پر رہا تو قریب ہے
١ حضرت شیخ الاسلام یہ مکتوب حضرت مؤرخ ملت کو تحریر فرما رہے ہیں ٢ یعنی حضرت جی مولانا سید حامد میاں صاحب
کہ اس کو اس معیار پر مجاز ہونے کا فخر حاصل ہوجائے جو کہ حضرت گنگوہی قدس اللہ سرہ العزیز کا تھا ١ '' شکر کیجیے کفرانِ نعمت سے بازآیئے وہ اپنے باپ دادا سے بہت بڑھ گیا ہے'' ٢
حضرت مولانا اس بڑے باپ کے بیٹے تھے جن کے متعلق حضرت شیخ اسلام رحمہ اللہ نے یہ تحریر فرمایا تھا
حضرت مولانا کو میں نے اپنے بچپن ہی سے دیکھا ہے حضرت جی ٣کی خدمت اقدس میں میرے جد امجد حضرت مولانا قاری شریف احمد صاحب نور اللہ مرقدہ گاہ بگاہ کراچی سے لاہور تشریف لے جاتے تھے تو مجھے ساتھ لے جاتے آج ان بزرگوں سے واقفیت میرے جد امجد کی مرہونِ منت ہے اس وقت حضرت مولانا تعلیم حاصل کر رہے تھے اور پھر فاضل ہو کر اپنے ہی مدرسے جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور میں مدرس بھی ہوگئے تھے
یہاں حضرت مولانا کے حالات پر مختصر نظر ڈالتے ہیں :
حضرت مولانا کی پیدائش ٢٦ ذیقعدہ ١٣٧٥ھ/ ٥ جولائی ١٩٥٦ ء بروز جمعرات لاہور میں ہوئی
حفظ قرآن کریم جامعہ مدنیہ ہی میں شعبہ حفظ کے استاذ قاری عبدالرشید صاحب سے کیا، حضرت جی کی زندگی میں اور بعد میں بھی جامعہ کی مدینہ مسجد میں ایک سال تراویح میں حضرت مولانا سید رشید میاں صاحب مد ظلہم ( موجودہ مہتمم جامعہ مدنیہ کریم پارک ) اور ایک سال حضرت مولانا سناتے تھے
درس نظامی کی تعلیم جامعہ مدنیہ ہی میں از اوّل تا آخر ( دورہ حدیث شریف تک ) مکمل کی اس تعلیم کا آغاز شوال المکرم ١٣٩٠ ھ/ دسمبر ١٩٧٠ ء میں پندرہ سال کی عمر میں ہوا
حضرت مولانا کے اساتذہ کرام اور ان سے جو کتابیں پڑھیں اس کی تفصیل یہ ہے :
١ یعنی حضرت امام ربانی مولانا رشید احمد گنگوہی ٢ مقالات حامدیہ (قرآنیات) ص ٢٩
٣ حضرت قاری شریف احمد صاحب رحمہ اللہ کے یہاں خانقاہی زبان میں حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب کو ''حضرت جی '' کے لقب سے یاد کیاجاتا ہے۔
(١) حضرت مولانا قاری عبد الرشید صاحب ( فاضل جامعہ مدنیہ لاہور ) سے ترجمہ قرآن کریم ، قصص النبیین ، نفحة العرب ، دیوان حماسہ ، محیط الدائرہ ، ہدایة النحو ، کافیہ ، شرح جامی (بحث فعل ) ، علم الصیغہ ، شرح وقایہ اوّلین ، ہدایہ اوّلین ، سراجی ، مؤطا امام محمد ، شرح معانی الآثار ، مشکوٰة المصابیح اوّل ، اصول الشاشی ، نور الانوار ، توضیح تلویح ، شرح عقائد نسفی ، شرح عقائد جلالی ، تقریر دل پذیر (حضرت نانوتوی ) رشیدیہ ، الفوز الکبیر ، نخبة الفکر
(٢) حضرت مولانا عبد الرشید صاحب کشمیری سے مقامات حریری ، نور الایضاح ، قدوری شریف
(٣) حضرت مولانا مرزا گل صاحب سے ترمذی جلد ثانی ، جلالین جلد ثانی ، تفسیر بیضاوی ،
نحومیر ، شرح مأة عامل
(٤) حضرت مولانا سید غازی شاہ صاحب سے شرح جامی
(٥) حضرت مولانا مفتی عبد الحمید صاحب سیتاپوری (فاضل دارالعلوم دیوبند ) سے صحیح مسلم ،
مشکوٰة المصابیح ثانی ، دیوان متنبی
(٦) حضرت مولانا شریف اللہ خان صاحب سواتی (تلمیذ حضرت شیخ الہند ) سے ہدایة رابع
(حضرت میرے جدامجد حضرت قاری صاحب کے بھی استاذ تھے )
(٧) حضرت مولانا ظہور الحق صاحب سے ابوداود ، ہدایہ ثالث ، جلالین اوّل ، کنزالدقائق ،
مفیدالطالبین
(٨) حضرت مولانا کریم اللہ صاحب دامانی سے ترمذی اوّل ، مختصر المعانی
(٩) والد محترم حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب سے صحیح البخاری
اس طرح شعبان المعظم ١٤٠١ھ/ جولائی ١٩٨١ء میں دورہ حدیث پڑھ کر جامعہ مدنیہ(کریم پارک) ہی سے فارغ التحصیل ہوئے اس وقت حضرت مولانا کی عمر چھبیس سال تھی ۔
شوال المکرم ١٤٠١ھ/ ستمبر ١٩٨١ء سے جامعہ مدنیہ کریم پارک ہی میں تدریسی زندگی شروع ہوئی اور اپنے عظیم والد گرامی رحمہ اللہ تعالیٰ کے زیرنگرانی پڑھانا شروع کیا ۔
تزکیہ نفس کے لیے حضرت جی مولانا سید حامد میاں صاحب کے دست ِحق پرست پر بیعت کی اور سلوک کی منازل طے کرنی شروع کیں ۔
حضرت جی کی وفات ١٣ رجب المرجب ١٤٠٨ھ/ ٣ مارچ ١٩٨٨ء کے بعد حضرت جی کے خلفائے کرام حضرت مولانا قاری شریف احمد صاحب ، حضرت حاجی محمود احمد عارف ہوشیارپوری اور حضرت مولانا غلام محمد صاحب سربازی (ایران) رحمہم اللہ تعالیٰ نے حضرت جی کی طرف سے حضرت مولانا سید رشید میاں صاحب مدظلہم اور حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب رحمہ اللہ کو خلافت عطا فرمائی ۔ حضرت قاری صاحب تحریر فرماتے ہیں :
'' حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ سے جس طرح ہم لوگوں (خلفائ) نے اکتساب فیض کیا ، اس کے بعد حضرت مولانا رحمہ اللہ نے خلافت سے نواز کر چاروں سلسلوں میں بیعت کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی ، اسی طرح ہم خلفاء بھی مولانا مرحوم کے صاحبزادوں مولوی سید رشید میاں اور مولوی سید محمود میاں سلمہا کو بیعت کی اجازت دیتے ہیں ۔ہم خدام ہر دو بھائیوں کے حق میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اتباع سنت اور اپنے والد بزرگوار کے نقش قدم پر چلتے رہنے کی توفیق دے اور دین کی خدمت پوری مستعدی سے کرتے رہیں آمین ! '' ١
حضرت مولانا نے اپنے والدگرامی کے اس سلسلے کو بڑی خوش اسلوبی سے آگے بڑھایا اور سینکڑوں مریدین ان کے حلقے میں شامل ہوئے ! باقاعدہ خانقاہ حامدیہ کی بنیاد جامعہ مدنیہ جدید میں رکھی ہر اتوار کو مجلس ذکر کا حلقہ بھی ہوتا تھا جیسا کہ حضرت جی کے زمانے میں کریم پارک میں ہوتا تھا اللہ کا شکر ہے کہ یہ فیض جاری ہے اور ان کے جانشین عزیزم مولانا عکاشہ میاں صاحب زیدمجدہم سے ہم پُرامیدہیں کہ اس فیض سے وہ دوسروں کو بھی مستفید کریں گے ! مولانا عکاشہ میاں صاحب کو
١ تذکرة الشریف ص ١٧٢
حضرت مولانا کے خلیفہ اجل ڈاکٹر محمد امجد صاحب نے دیگر خلفاء کی معیت میں حضرت ہی کی طرف سے خلافت عطافرمائی ہے اور حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب مدظلہم (استاذ الحدیث جامعہ مدنیہ جدید ) نے حضرت مولانا کے سلسلہ میں بھی اور الگ سے اپنے سلاسل میں بھی موصوف کو مجاز بنایا ہے۔
حضرت مولانا نے دو نکاح کیے ، پہلا نکاح ١٩جون ١٩٨٧ء بروز جمعہ حضرت اقدس مولانا عزیر گل صاحب کاکاخیل (اسیر مالٹا) علیہ الرحمہ کے خاندان میں ہوا، رخصتی اور ولیمہ کی تقریب فروری ١٩٨٨ء میں منعقد ہوئی، اس موقع پر حضرت جی کی دعوت پر پاک وہند کے جید علماء ولیمے میں تشریف لائے تھے حضرت مولانا کے ولیمے کے بارہ دن بعد حضرت جی رحمہ اللہ کی وفات ہوگئی تھی !
دوسرا نکاح ٢٦ جون ١٩٩٦ء میں ہوا لیکن اولاد دونوں سے نہیں ہوئی ،حضرت مولانا سیدمحمود میاں صاحب نے بانی جامعہ حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب کے نواسے اور اپنے بھانجے مولانا عکاشہ میاں بن قاضی توحید عالم صاحب صدیقی کو متبنّیٰ بنالیا تھا ان کی خوب خوب تربیت فرمائی اوراپنی نگرانی میں جامعہ ہی میں تعلیم دلائی، مولاناعکاشہ میاں نے ١٤٤٣ھ/٢٠٢٢ء میں جامعہ مدنیہ جدید سے درس نظامی کی تکمیل کی،اس موقع پر حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہم نے تقریب تکمیل بخاری میں شرکت فرماکر دستاربندی بھی فرمائی تھی ، مولانا عکاشہ میاں کا نام اسی سال کے فضلاء کی فہرست میں اٹھائیسویں نمبر پر درج ہے۔ ١
حضرت جی کی وفات کے اگلے روز ١٤ رجب المرجب ١٤٠٨ھ/ ٤ مارچ ١٩٨٨ء کو جامعہ مدنیہ کی مجلس شوریٰ کا اجلاس ہوا جس میں بانی و امیر جامعہ حضرت مولانا سید حامدمیاں صاحب قدس اللہ سرہ العزیز کی وفات کے بعد جامعہ کے نظم ونسق کے متعلق غوروخوض ہوا اور طے پایا کہ جامعہ مدنیہ لاہور کے سرپرست شیخ طریقت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب (سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں ) امیر مولانا سید رشید میاں صاحب اور نائب امیر مولانا سید محمود میاں صاحب ہوں گے اس فیصلے پر جن کے دستخط ہیں وہ یہ ہیں :
١ ماہنامہ انوار مدینہ ج٣٠ ش ٣ ص٤٥
(١) حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب
(٢) حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب (بھکر)
(٣) حضرت مولانا قاری شریف احمد صاحب (خلیفہ مجاز حضرت جی مولانا سید حامد میاں صاحب )
(٤) محترم ڈاکٹر سید افتخار الدین صاحب
(٥) حضرت مولانا عبد الغنی صاحب (خلیفہ مجاز حضرت جی )
(٦) محترم محمد سلیم صاحب (گندھک والے ، کراچی)
(٧ ) حضرت مولانا سید محمد صاحب بنوری (ابن محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف صاحب بنوری )
(٨ ) حضرت محمود احمد صاحب عارف (خلیفہ ومجاز حضرت جی )
(٩) حضرت مولانا سید رشید میاں صاحب مدظلہم
(١٠) حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب
(١١) محترم حاجی مبین احمد صاحب
جامعہ مدنیہ حضرت جی کی وفات کے بعد تعلیمی میدان میں بحمد اللہ ترقی کرتا رہا حضرت جی کی دیرینہ خواہش تھی کہ جامعہ مدنیہ کے بڑے پیمانے پر توسیع ہو اور اس کے ساتھ خانقاہ بھی ہو اس لیے کہ مدارس میں تعلیم کے ساتھ تزکیہ نفس بہت ضروری ہے اس خواہش کی تکمیل کے لیے ١٤٠١ھ / ١٩٨١ء میں ١٩ کلومیٹر رائیونڈ روڈ پر پچیس ایکڑ جگہ خریدی گئی اور جامعہ کا آغاز حفظ قرآن مجید کی کلاسوں سے ہوا اس جگہ کا نام '' محمد آباد'' رکھا گیا ۔
١٢ شعبان المعظم ١٤٢٠ھ/ ٢٢ نومبر ١٩٩٩ء کو مجلس شوریٰ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جامعہ مدنیہ کو انتظامی و تعلیمی طورپر دو حصوں میں منقسم کر دیا جائے اس لیے قدیم جامعہ کریم پارک میں ہے اور جدید رائیونڈ روڈ پر ۔
تعلیمی نظام کی صحیح دیکھ بھال کے لیے مستقل مہتمم ہر ایک جگہ ہونا ضروری ہے کیونکہ مدرسہ کہیں اور ہو اور مہتمم دوسری جگہ ہو تو پہلے تعلیم اور پھر مدرسہ دونوں برباد ہو جاتے ہیں کراچی کے ایک مہتمم اور ان کے مدرسے کی مثال سامنے تھی جو اندرونِ سندھ تھا اس لیے فیصلہ ہوا کہ قدیم جامعہ کریم پارک حضرت جی کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا سید رشید میاں صاحب مدظلہم کے اہتمام میں جبکہ جامعہ مدنیہ جدید رائیونڈروڈ پر حضرت جی کے منجھلے صاحبزادے حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب (رحمہ اللہ) کے اہتمام میں ہوگا، اس طرح حضرت مولانا جامعہ مدنیہ جدید کے مہتمم تا وقت ِوفات رہے جو ساڑھے چھبیس سال کا عرصہ ہوتا ہے تَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنْہُ ! اللہ تعالیٰ حضرت مولانا کی خدماتِ حدیث اور رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے دین کے علوم کی حفاظت میں جو تن من دھن سے مصروف رہے اسے اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے جامعہ کی حفاظت فرمائے ہر قسم کے شرور وفتن سے محفوظ فرمائے ،محترم مولانا عکاشہ میاں صاحب حامدی زید مجدہم کو حضرت مولانا کا صحیح جانشین بنائے اور انہیں حضرت مولانا کے نقش قدم پر چلائے، آمین۔
حضرت جی اور حضرت مولانا کے متوسلین کا فرض ہے کہ جامعہ مدنیہ قدیم وجدید کے لیے اپنے لمحات میں سے چند لمحے وقف فرما کر اس کی آبیاری اور دین متین کی خدمت کریں اور ان دو اداروں اس کے بانی محترم اس کے کارکنان و خدام کو اپنی خصوصی دعاؤں میں شامل کر یں ۔
حضرت مولانا کے ہم سبق اور ہم عصروں میں آپ کے علاتی بھائی حضرت مولانا سید وحید میاں صاحب (حضرت جی کے صاحبزادے ) ، حضرت مولانا نعیم الدین صاحب مدظلہم ، حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب مدظلہم ، حضرت مولانا خالد محمود صاحب مدظلہم (شیخ الحدیث جامعہ مدنیہ جدید )، حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب مدظلہم (استاذ الحدیث جامعہ دارالتقوٰی ، لاہور)شامل ہیں
جبکہ مشہور تلامذہ میں مولانا مفتی محمد حسن صاحب ، مولانا سید مسعود میاں صاحب،مولانا شاہد ریاض صاحب ،مولانا محمد عرفان صاحب،مولانا معین الدین صاحب ،مولانا محمد زکریا صاحب، مولانا محمد ولید الرشیدی صاحب،مولانا محمد شاہد جاوید صاحب،مولانا حکیم محمد امین صاحب ،مولانا مختار احمد صاحب،مولانا حفیظ الرحمٰن صاحب، مولانا محمد عابد صاحب حامدی ، مولانا محمد عمران رشید صاحب (ابن حضرت مولانا قاری عبدالرشید صاحب )، مولانا محمد عارف صاحب چنیوٹی ،مولانا محمد اعجاز صاحب ،مولانا عبدالواحد صاحب ، مولانا خالد عثمان صاحب،مولانا انعام اللہ صاحب ، مولانا محمد شاہد صاحب ، مولانا محمد سعد کلیم صاحب ، مولانا محمد ابراہیم صاحب برمی، مولانا محمد یونس صاحب، صاحبزادہ مولانا عکاشہ میاں صاحب زید مجدہم وغیرہ شامل ہیں ۔
ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جو حضرت جی نے ١٩٧٠ء میں جاری فرمایا تھا تقریباً پانچ سال تک آب وتاب کے ساتھ شائع ہوتا رہا پھر حالات کی نذر ہوگیا حضرت مولانا نے بعض بزرگوں کے اصرار پر اس سلسلے کو ربیع الثانی ١٤١٣ھ/ اکتوبر ١٩٩٢ء سے پھر شروع فرمایا بحمداللہ تعالیٰ یہ سلسلہ ثانی تاوقت ِتحریر جاری ہے اور اللہ کرے آگے بھی یہ دین کی اشاعت کا ذریعہ بنتا رہے اس نقش ثانی کے دوسرے شمارے جمادی الاولیٰ ١٤١٣ھ/ نومبر ١٩٩٢ء سے حضرت مولانا نے اداریہ تحریر فرمانا شروع کیا پہلے اداریے کا عنوان تھا '' الٰہی ! تیرے نام سے ابتداء کررہا ہوں '' یہ صحافتی سلسلہ حضرت مولانا کو اپنے والد گرامی حضرت جی کے واسطے سے ملا اور حضرت مولانا کے دادا حضور مؤرخ ملت حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب جو حضرت شیخ الاسلام کی نظر میں '' حیوانِ کاتب '' تھے سے حضرت جی کو ملا تھا اس لیے کہ حضرت مؤرخ ملت نے بھی ''ماہنامہ قائد'' مراد آباد سے جاری فرمایا تھا یہ ١٩٤٤ء کی بات ہے پھر ''الجمعیة دہلی ''کے ادارتی شعبے سے بھی وابستہ رہے ،حضرت مولانا نے اپنے عظیم المرتبت والد گرامی اور دادا حضور رحمہم اللہ تعالیٰ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صحافتی زندگی میں بھی قدم رکھا میں امید کرتا ہوں کہ حضرت مولانا محمد عابد صاحب مدظلہم (ناظم تعلیمات جامعہ مدنیہ قدیم ) سے کہ حضرت مولانا کے اداریے اور مقالات و خطبات کو جمع فرمائیں گے تاکہ ہم جیسے طالب علموں کے لیے استفادے کا باعث ہوں !
حضرت مولانا کو سیاست میں آکر قوم کو صحیح سمت کی آگاہی کا جذبہ اپنے دادا حضور اور والد گرامی سے ورثے میں ملا اسی لیے وہ ساری زندگی بڑے اخلاص کے ساتھ جمعیت علماء اسلام سے وابسطہ رہے اور آخر میں جمعیت علماء اسلام صوبہ پنجاب کے امیر تھے ایک مرتبہ میں ان کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا مجھے نصیحت فرماتے ہوئے یہ بات بھی ارشاد فرمائی
'' والد صاحب (یعنی حضرت جی مولانا سید حامد میاں صاحب ) رحمة اللہ علیہ فرماتے تھے کہ میں جمعیت علماء اسلام کا رکن بننے پر اپنے رب کی خوشنودی اور مغفرت کی امید رکھتا ہوں '' اَوْ کَمَا قَالَ !
٢٥ جمادی الاولیٰ ١٤٠٩ھ/ ٣ جنوری ١٩٨٩ء کی بات ہے کہ میں اپنی ہمشیر کی شادی کے سلسلے میں لاہور میں تھا حضرت مولانا کے پاس بھی حاضر ہوا آپ نے ارشاد فرمایا
'' حضرت والد صاحب (حضرت جی ) نے ہمیں تعلیم دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ جب سے بالغ ہوا ہوں اس وقت سے میری کوئی نفل نماز (تہجد ، اشراق ، چاشت ، اوّابین وغیرہ ) کبھی قضا نہیں ہوئی اور اگر بیماری میں کبھی ایسا ہو بھی گیا تو دن رات میں کسی بھی وقت یہ رکعتیں نفلوں میں پوری کرلیتا ہوں '' ١
حضرت مولانا گاڑی بہت عمدہ چلاتے تھے یہ حضرت کا ایک زمانے میں شوق بھی رہا ہے اس پر ایک لطیفہ بھی یاد آیا مارچ ١٩٩٥ء میں حضرت مولانا میرے ولیمے میں کراچی تشریف لائے میرے جد امجد حضرت قاری صاحب نے مجھے ایک صاحب کے ہمراہ کراچی کے ہوائی میدان بھیجا کہ مولانا کو لے آو، جب ہوائی میدان سے چلنے لگے تو حضرت مولانا نے فرمایا کہ گاڑی میں چلاؤں گا گاڑی تھی کھچاڑا سی اس میں ہارن نہیں بج رہا تھا حضرت نے فرمایا اس میں ہارن کے علاوہ سب چیز بج رہی ہے ! !
اس موقع پر مجھے بٹھا کر ایک نصیحت فرمائی کہ تمہاری شادی ہوگئی ہے اب تمہارا یہ بھی فرض ہے کہ موقع بہ موقع اپنی اہلیہ کو سیروسیاحت شرعی حدود کے اندر کرانا لازم ہے، بعض مولوی اس میں بہت بدذوق ہوتے ہیں اور وہ اس شرعی ذمہ داری کو اہمیت نہیں دیتے اس سے معلوم ہوا مولانا خشک مزاج نہیں تھے ! !
ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ '' ورنہ '' کے معنیٰ معلوم ہیں ؟ پھر خود ہی فرمایا کہ غصے میں کہہ
١ یاد ماضی : ج ١ ، ص ١٣ قلمی نسخہ
دیتے ہیں کہ ورنہ ؟ اس پر حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب رحمہ اللہ کا واقعہ سنایا کہ وہ عمرے پر گئے ٹیکسی والا بہت بے توجہی سے چلا رہا تھا علامہ صاحب نے کئی مرتبہ فرمایا کہ جلدی چل ! آخر میں علامہ صاحب نے کہا جلدی چل ورنہ .........ٹیکسی والے نے کہا ورنہ کیا ؟ علامہ صاحب نے فرمایا یہ کہ اسی طرح سستی کے ساتھ تیری ٹیکسی میں جائیں گے ! !
حضرت مولانا کا کراچی کا آخری سفر جمادی الثانی ١٤٤٥ھ/ جنوری ٢٠٢٤ء میں ہوا،اس سفر میں صاحبزادہ محترم مولانا عکاشہ میاں سلّمہ بھی ہمراہ تھے، معہد الخلیل الاسلامی کراچی نے ختم بخاری شریف کے لیے دعوت دی تھی حضرت محترم مولانا مفتی سلمان یٰسین صاحب الخلیلی مدظلہم کے گھر قیام تھا حضرت مفتی صاحب نے رات کے کھانے پر بعض قریبی متعلقین کو جمع کیا تھا اس موقع پر حضرت سے سب نے بے تکلفی سے سے بات چیت کی ، حضرت مولانا نے اس موقع پر فرمایا حضرت مولانا سید عزیر گل صاحب کو صد سالہ اجلاس دیوبند کے لیے بہت اصرار کیا گیا کہ آپ اس میں شرکت فرمائیں اس لیے کہ اس وقت فضلاء دیوبند میں وہ واحد شخصیت تھے جن کی دستار بندی ہوچکی تھی ان کے علاوہ جتنے تھے بشمول حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب (مہتمم دارالعلوم دیوبند) کسی کی بھی دستاربندی نہیں ہوئی تھی اس سلسلے میں جامعہ مدنیہ کریم پارک میں ایک اجلاس ہوا اور مولانا ضیاء القاسمی نے اس وقت اس مد میں کہ حضرت مولانا سید عزیر گل صاحب کو لے جانے پر جو خرچہ آئے پانچ ہزار روپے دیے تھے مجھے حضرت جی نے سخاکوٹ بھیجا حضرت مولانا سے درخواست کی حضرت نے انکار فرما دیا میں نے کہا کہ '' پروگرام '' یہ ہے کہ آپ کو ہیلی کاپٹر سے بھیجا جائے کوئی تکلیف نہیں ہوگی ، فرمایا اچھا ! پروگرام ! ہم ساری عمر انگریز سے لڑتے رہے اور اب تم انگریزی لفظ میرے سامنے بولتے ہو ؟ اور یہ بھی فرمایا کہ
'' میں دیوبند جاؤں گا درودیوار دیکھوں گا حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحب اور حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کو نہیں دیکھوں گا اس کی تاب نہیں ہے''
حضرت مولانا یاسر عبد اللہ صاحب مدظلہ نے سوال کیا کہ آپ کے دادا جان (حضرت مؤرخ ملت ) کی سب کتابیں چھپ گئی ہیں ؟ آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ دادا جان کی کتابیں سب چھپی ہیں لیکن کچھ اب نایاب ہیں اس سلسلے میں اسے (کاتب الحروف کی طرف اشارہ فرمایا) اور عابد (اپنے ہونہار شاگرد بلکہ شاگرد رشید مولانا محمد عابد صاحب مدظلہم) کو مجھ سے زیادہ معلومات ہیں مجھے جب ضرورت ہوتی ہے ان سے رابطہ کرتا ہوں ،کاتب الحروف نے عرض کیا کہ ابھی ایک نایاب کتاب حضرت مؤرخ ملت کی ملی ہے '' طریقہ تقریر '' دو حصوں میں ،فرمانے لگے یہ مجھے ابھی علم ہوا اس کتاب کا
حضرت مولانا مفتی محمد سلمان صاحب الخلیلی مدظلہم نے حضرت سے عرض کیا (کاتب الحروف سے متعلق) کہ ان کا قلم نیزے کا ہے نیزے سے لکھتے ہیں ۔حضرت مولانا نے فرمایا اس وقت تو باتیں فائرنگ کی ہی ہو رہی ہیں (اس لیے اس وقت مجلس نشانہ بازی کی مشق کی باتیں ہورہی تھیں ) حضرت مفتی صاحب نے فرمایا کہ ہم کبھی کبھی ان کے ساتھ گستاخی کر لیتے ہیں ،مولانا نے فرمایا آپ گستاخی کرتے رہا کیجیے تاکہ نیزے کا قلم برقرار رہے (حضرت مفتی صاحب کا نیزے کا قلم کا اشارہ میری تحریرات میں سختی کی طرف تھا)
حضرت مولانا رحمہ اللہ پر کاتب الحروف نے بے ترتیب اور بے ربط چند سطریں لکھی ہیں اس لیے کہ لکھنے کا ملکہ مجھے نہیں ہے اللہ تعالیٰ اسے ہی قبول فرمائے، آمین
اب آخر میں حضرت رحمہ اللہ کے مکاتیب میں سے منتخب خطوط پیش ہیں کاتب الحروف نے حضرت جی نور اللہ مرقدہ پر ایک مختصر سا مضمون لکھا تھا اور وہ روزنامہ جنگ کراچی میں چھپ گیا تھا وہ مضمون میرے جدامجد حضرت قاری صاحب نور اللہ مرقدہ نے اپنے ایک خاص شاگرد جناب آفتاب حسین صاحب (مرحوم)کے ہاتھ حضرت مولانا کو بھیج دیا تھا اس پر حضرت مولانا نے تحریر فرمایا
برادر عزیز تنویر احمد صاحب حفظہ اللہ
سلام مسنون !
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے بھائی آفتاب صاحب کے ہاتھ روزنامہ جنگ میں شائع شدہ مضمون موصول ہوا ،پڑھ کر انتہائی مسرت ہوئی اپنے بڑوں کے ذکر کو زندہ رکھنا اور اس کے لیے دل وجان سے کوشش کرنا ان سے اپنے بے لوث تعلق کے اظہار کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے اللہ تعالیٰ اس تعلق کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہم سب سے اپنے دین متین کی زیادہ سے زیادہ خدمت لیے جائے آمین !
نیز '' علاماتِ قیامت '' کا کیا بنا ؟ مسلسل انتظار ہے خواستگار دعا !
والسلام
محمود میاں غفرلہ
٢٨ جنوری ١٩٩٢ء
٭
'' علاماتِ قیامت '' حضرت جی قدس اللہ سرہ العزیز کی ایک مختصر کتاب تھی حضرت مولانا نے اشاعت کے لیے مرحمت فرمائی تھی وہ جب مکتبہ رشیدیہ کراچی سے شائع ہوگئی تو اس کے چند نسخے حضرت مولانا کو بھیجے اس پر آپ نے تحریر فرمایا
عزیز القدر جناب تنویر احمد صاحب زاد اللّٰہ لطفکم
سلام مسنون !
امید ہے کہ آپ بہ عافیت ہوں گے ۔ آپ کے شوق و محبت کی ایک اور علامت ''علاماتِ قیامت '' کی خوب صورت طباعت کی شکل میں موصول ہوئی اللہ پاک آپ کے اس عمل کو قبول فرمائے اور دنیا وآخرت کی بلندیوں سے نوازے آمین !
رمضان المبارک میں خصوصی دعاؤں کی درخواست ہے والد صاحب وبرادران کی خدمت میں سلام پیش کر دیں ۔
والسلام
محمود میاں غفرلہ
٢ رمضان المبارک ١٤١٢ھ / ٧ مارچ ١٩٩٢ء
٭
برادرمحترم عزیز القدر زاد اللّٰہ لطفکم
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ بخیروعافیت ہوں گے ،یہاں بھی بحمداللہ ہر طرح عافیت ہے
حضرت قاری محمد طیب صاحب رحمة اللہ علیہ کا صرف ایک خط حضرت والد صاحب رحمة اللہ علیہ کے نام میرے پاس ہے اور یہ خط بہت اہم اور تاریخی ہے اس کی فوٹوکاپی ارسال کر رہاہوں اس کا عکس بھی طبع ہوجائے اور اس کے ساتھ کتابت شدہ بھی تو میرے خیال میں زیادہ مفید رہے گا ماہنامہ انوارمدینہ اگست ٢٠٠٠ء میں یہ خط کتابت کرا کر شائع ہوچکا ہے ١
حضرت والد صاحب کے نام حضرت اقدس مدنی کے مکاتیب جناب قاری شریف احمد صاحب مدظلہم نے کتابت کرائے تھے وہ ابھی تک طبع نہیں ہوئے ہیں بہت سارے ہیں میں نے ان کو کچھ زیادہ ہی سنبھال کر رکھ دیا ہے تلاش کر رہا ہوں ابھی تک نہیں ملے اگر قاری صاحب کے پاس ان کی کوئی کاپی ہوتو ان سے آپ بھی لے لیں اور ایک کاپی مجھے بھی ارسال کر دیں تو احسان ہوگا حضرت دادا جان نور اللہ مرقدہ کا کمپوزنگ شدہ مضمون آپ چاہیں تو بھیج سکتے ہیں ان شاء اللہ حسب استطاعت کچھ تحریر کردوں گا
١ کاتب الحروف نے حضرت شیخ الاسلام کے وہ مکاتیب جو ''مکتوبات شیخ الاسلام '' کا حصہ نہیں بن سکے انہیں جمع کرنے کا کام شروع کیا تھا اور اس وقت سے اب تک بہت سے خطوط جمع ہوگئے ہیں ان شاء اللہ العزیز '' مکتوبات جلد پنجم '' کے عنوان سے عنقریب شائع ہوں گے اس طرح حضرت حکیم الاسلام کے مکاتیب جمع کرنے شروع کیے تھے ان کی ترتیب ابھی تک نہیں کرسکا (شریفی)
حضرت قاری صاحب مدظلہم اپنے والد صاحب اور دیگر پرسان حال کی خدمت میں سلام اور دعا کی درخواست کر دیں ۔ خواستگار دعا !
محمود میاں غفرلہ
٢٨ جمادی الاولیٰ ١٤٢٦ھ / ٥ جولائی ٢٠٠٥ئ
٭
محترم ومکرم زاد اللّٰہ اقبالہم السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ بخیروعافیت ہوں گے یہاں بھی بحمداللہ عافیت ہے
جامعہ کے دستور کی کاپی و داخلہ فارم بطورِ نمونہ روانہ کر رہا ہوں کیونکہ بھائی آفتاب صاحب نے اس بارے میں آپ کا پیغام دیا تھا ایک تکلیف آپ کو دے رہا ہوں کہ دارالعلوم کراچی اور بنوری ٹاؤن کے دستور کی کاپیاں اور تنخواہوں کے اسکیل کی تفصیلات فوری درکار ہیں دارالعلوم والوں نے تو تنخواہوں کے اسکیل کا چاٹ بنا رکھا ہے سنا ہے آسانی سے دے دیتے ہیں کوشش کر لیں ممنون ہوں گا
پرسان احوال کی خدمت میں سلام سب بھائی کہتے ہیں
والسلام
محمود میاں غفرلہ
١٠ جولائی ١٩٩٥ئ
٭
کاتب الحروف نے ایک خواب دیکھا تھا وہ میں نے حضرت مولانا کو لکھا خواب یہ تھا کہ قصور شہر یا کوئی اور پنجاب کا شہر ہے قصور زیادہ ذہن میں ہے میں وہاں گیا اور ایک مدرسے کے برابر حویلی نما گھر ہے اس گھر میں غالباً ایک شادی ہے وہاں مہمان بنا معلوم یہ ہوا کہ یہ صدر پرویز مشرف کا گھر ہے اور وہی میزبان ہیں ان کے گھر کی عورتوں نے کافی مہمانی کی، صدر صاحب کے ساتھ بغیر پروٹوکول کے ایک رکشہ میں بیٹھ کر کہیں گیا لیکن جہاں سے رکشہ گیا وہ کراچی کے بہادر آباد کا علاقہ لگتا ہے رکشے والا متشرع تھا ،صدر صاحب سے کچھ مذہبی باتیں ہوئیں جس سے معلوم ہوا کہ ان کا ذہن مذہبی ہے اس کے بعد وہ مدرسہ میں نے دیکھا مدرسہ بھی دیکھا بھالا لگتا تھا اس کے بعد آنکھ کھل گئی لیکن پریشانی یہ ہے کہ مجھ جیسا غریب اور کہاں صدر کا مہمان اور وہ بھی اس جیسے ناہنجار کا ؟
یہ خواب ٢٣ ذوالحجہ ١٤٢٨ھ/ ٣ جنوری ٢٠٠٨ء کو دیکھا تھا حضرت مولانا علیہ الرحمہ نے جواب مرحمت فرمایا
محترم ومکرم سلمہم اللّٰہ تعالیٰ وزاد اللّٰہ محاسنہم
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
بحمداللہ ! بہ خیریت ہوں امید ہے کہ آپ مع افراد خانہ بہ عافیت ہوں گے
اس نوعیت کے خواب بعض دیگر دینی احباب نے بھی دیکھے ہیں ایسا سمجھ میں آتا ہے کہ بڑے صاحب کو اپنے قصور اور کوتاہیوں کا اعتراف ہے اور اب دل سے اپنی جماعتوں کی قدر پیدا ہوئی ہے مگر ذاتی طور پر بہادر ہونے کے باوجود اپنی قدر ومنزلت کھو بیٹھے ہیں اور نوبت چھوٹی چھوٹی جماعتوں کے سہارے کی آگئی مگر رکشہ تو رکشہ ہی ہے واللّٰہ تعالیٰ اعلم !
دو نفل پڑھ کر اہل حق کے لیے خیر کی طلب اور شر سے پناہ چاہ لیں حضرت قاری صاحب مدظلہم اور دیگر پرسان احوال کی خدمت میں سلام اور دعاؤں کی درخواست
جوابی لفافہ بھیجنے کا تکلف کیوں کیا ؟ خواستگار دعا
والسلام
محمود میاں غفرلہ
٥ جنوری ٢٠٠٨ئ
٭٭٭
رحمن کے خاص بندے
قسط : ٣٤
( حضرت مولانا مفتی سید محمد سلمان صاحب منصور پوری، اُستاذ الحدیث دارالعلوم دیوبند )
٭٭٭
توبہ کا اہتمام ، توبہ کے ذریعہ گناہوں کی معافی :
گزشتہ آیات میں چند بڑے بڑے گناہوں (شرک، قتل ِناحق، بدکاری) کا ذکر کیا گیا تھا اور ان پر سخت سزا کی وعید بھی سنائی گئی تھی اب آگے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی شانِ رحمت کا اظہار کرتے ہوئے پُر حکمت انداز میں یہ ترغیب دی ہے کہ جو لوگ برائیوں سے توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں اور پھر اچھے اعمال کرنے لگیں تو اللہ تبارک وتعالیٰ ان کو نیکیوں کی توفیق سے سرفراز فرماتے ہیں اور برائیوں کو مٹادیتے ہیں چنانچہ ارشاد ِ عالی ہے :
( اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولٰئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّئٰتِھِمْ حَسَنٰتٍ وَّکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا وََمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّہ یَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ مَتَابًا) ١
''مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور اچھے اعمال کیے تو اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل دیں گے اور اللہ تعالیٰ بہت ہی بخشنے والے نہایت مہربان ہیں اور جو (مسلمان) توبہ کر لے اور نیک کام کرے تو وہ بھی اللہ کی طرف لوٹ آتا ہے''
اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی شخص سے گناہ کا صدور ہوجائے تو اسے مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ سچی توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے او اچھے اعمال کر کے زیادہ سے زیادہ اپنے نامۂ اعمال میں نیکیاں درج کرانے کی کوشش کرنی چاہیے چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے :
( قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا اِنَّہ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ) ٢
١ سورة الفرقان : ٧٠ ، ٧١ ٢ سورة الزمر : ٥٣
''اے پیغمبر آپ فرمادیجیے کہ اے میرے وہ بندوں جنہوں نے (نافرمانی کر کے) اپنے اوپر زیادتی کر رکھی ہے تم اللہ کی رحمت سے نا امید مت ہو، بلا شبہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب گناہ معاف فرمادیں گے بیشک وہ بہت مغفرت کرنے والے مہربان ہیں ''
سچی توبہ کی تاکید :
انسان بہرحال انسان ہے، وہ کبھی نفسانی یا شیطانی تقاضے سے گناہ میں مبتلا ہو ہی جاتا ہے تو ایسی صورت میں اسے گناہ پر اصرار نہیں کر نا چاہیے بلکہ جلد از جلد سچی توبہ کر کے اپنے رب سے اپنا معاملہ درست کر لینا چاہیے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قابل ِتعریف اہلِ ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے ایک اہم صفت یہ بھی بیان کی :
( وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْظَلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ ذَکَرُوْا اللّٰہَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ وَمَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلاَّ اللّٰہُ وَلَمْ یُصِرُّوْا عَلٰی مَا فَعَلُوْا وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ ) ١
''اور وہ لوگ کہ جب کوئی کھلا گناہ کر بیٹھیں یا اپنے حق میں برا کام کریں تو (فوراً) اللہ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کون گناہوں کو بخش سکتا ہے ؟ اور وہ اپنے (برے ) کاموں پراصرار نہیں کرتے اور وہ جانتے ہیں (کہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والے ہیں ) ''
پھر ان کو یہ بشارت سنائی :
( اُولٰئِکَ جَزَآؤُھُمْ مَّغْفِرَة مِّنْ رَّبِّھِمْ وَجَنّٰت تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھَارُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَاوَنِعْمَ اَجْرُ الْعَامِلِیْنَ) ٢
''ان کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے معافی ہے اور ایسے باغات ہین جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ ہمیشہ ان باغوں میں رہیں گے اور (نیک) عمل کرنے والوں کا کیا ہی بہترین بدلہ ہے''
١ سورة اٰل عمران : ١٣٥ ٢ سورة اٰل عمران : ١٣٦
اور سورۂ تحریم میں تمام اہل ِایمان کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
( یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ تُوْبُوْآ اِلَی اللّٰہِ تَوْبَةً نَصُوْحًا عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّکَفِرَ عَنْکُمْ سَیِّئٰتِکُمْ وَیُدْخِلَکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الاَنْھٰرُ ) ( سورة التحریم : ٨ )
''اے ایمان والو ! اللہ سے سچی توبہ کرو، عنقریب وہ تمہاری خطائیں معاف کردے گا اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ''
دیکھئے ! توبہ کرنے والوں کو کیسی بشارت سنائی گئی کہ ان کے گناہ بھی معاف کیے جائیں گے اور ساتھ میں جنت میں داخلہ کا پروانہ بھی عطا کیا جائے گا ! ! (جاری ہے)
شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب
تذکرہ و خدمات
( ڈاکٹر محمد امجد صاحب، ناظم جامعہ مدنیہ جدید شارع رائیونڈ لاہور )
٭٭٭
ولادت با سعادت :
شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب مدنی قدس اللہ سرہ العزیز کے خلیفہ و مجاز قطب الاقطاب محدث کبیر عالم ربانی حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب قدس اللہ سرہ ایک جید عالم دین اور اپنے وقت کے بہت بڑے شیخ و مرشد تھے حضرت اقدس رحمة اللہ علیہ ١٩٥٠ء میں پاکستان تشریف لائے اور ٧٢۔١٣٧١ ھ / ١٩٥٢ ء میں ''جامع مسجد حنفیہ '' گلی اکھاڑا بوٹامَل لاہور میں ایک مدرسہ ''اِحیائُ العلوم'' کے نام سے قائم فرمایا جہاں شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمودمیاں صاحب نور اللہ مرقدہ ٢٥ ذوالحجہ ١٣٧٥ھ / ٥ جولائی ١٩٥٦ھ بروزجمعرات پیدا ہوئے۔
شجرۂ نسب : حضرت صاحب اور نبی کریم علیہ الصلوة و السلام کے درمیان بیالیس واسطے ہوتے ہیں
(١) سَیِّدُ الاَوَّلِیْنَ وَ الآخِرِیْنَ خَاتَمُ الرُّسُلِ وَ الاَنْبِیَائِ شَافِعُ الْمُذْنِبِیْنَ مُحَمَّد رَّسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم
(٢) سَیِّدَةُ النِّسَائِ فَاطِمَةُ الزَّہْرَائِ زَوْجَةُ عَلِیِّ ابْنِ اَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا
(٣) امام ابوعبداللّٰہ الحسین (٤) امام زین العابدین (٥) امام محمد باقِر
(٦) امام جعفر صادق (٧) اما م موسٰی کاظم (٨) امام موسٰی علی رضا
(٩) امام محمد تقی (١٠) موسٰی المُبَرْقَعْ (١١) ابو عبداللّٰہ احمد (١٢) محمد الاعرج (١٣) موسی (١٤) نظام الدین حسین (١٥) ناصر الدین احمد (١٦) ابو طالب (١٧) علاء الدین (١٨) حسین (١٩) تاج الدین احمد (٢٠) لطف اللّٰہ
(٢١) القاری حسین علی ہادی (٢٢) اسحاق عندلیب المکی (٢٣) ابو العباس (٢٤) عبدالباسط (٢٥) حسین علی (٢٦) سیّد شہاب الدین (٢٧) سیّد احمد کبیر
(٢٨) علاء الدین (٢٩) وجیہ الدین (٣٠) سیّد فرید (٣١) سیّد احمد
(٣٢) سیّد محمود قلندر (٣٣) سیّد سعد اللّٰہ (٣٤) سیّد محمد ابراہیم١
(٣٥) حضرت بندگی محمد اسمٰعیل ٢ (٣٦) سیّد شاہ شبلی (٣٧) سیّد محمد فردوس
(٣٨) سیّد ظہور ولی (٣٩) سیّد محمد علی (٤٠) سیّد یوسف علی
(٤١) سیّد منظور محمد (٤٢) سیّد محمد میاں ٣ (٤٣) سیّد حامد میاں ٤
(٤٤) سیّد محمود میاں رحمہم اللّٰہ تعالٰی رحمة واسعة
( بحوالہ تذکرہ ساداتِ رضویہ دیوبند ص٣وص٢٥ مصنفہ سیّد محبوب رضوی شائع کردہ علمی مرکز دیوبند )
١ دارالعلوم کے شہر دیوبند سے باہر ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک بستی ''سرائے پیر زادگان'' کے نام سے واقع ہے بستی کے کنارے ''دادا پیر کی قبر''ہے یہ ''دادا پیر'' سلسلہ قادریہ کے ایک سیّد خاندان کے بزرگ سیّد محمد ابراہیم ہیں جو گیارہویں صدی ہجری کے اوائل میں (غالباً لکھنؤ سے ہی ترکِ وطن کرکے ) بعض اہل ُ اللہ کے مشورے سے دیوبند تشریف لائے اور تبلیغ ورُشد وہدایت کا کام شروع فرمایا آپ کی شخصیت جانی پہچانی اور مرجع ِخلائق تھی ! آپ کے دادا سیّد محمود قلندر رحمة اللہ علیہ مغل بادشاہ بابر کے زمانہ میں ولایت ِ فرغانہ یا وادیٔ فرغانہ(اُزبکستان ) سے تشریف لاکر لکھنؤ میں مقیم ہوئے تھے لکھنؤ میں ''ٹیلہ والی مسجد'' کے پاس آپ کا مزار ہے ! سیّد ابراہیم کے (دیوبند میں )قیام اور تعلیم کے لیے دہلی کی مرکزی حکومت نے مسجد اور خانقاہ تعمیر کرائی ، بعد میں مغل بادشاہوں شاہجہاں ، جہانگیر اور اورنگزیب کی طرف سے طلباء کے مصارف کے لیے زمینیں دی گئیں جن کی تصریح شاہی فرامین میں موجود ہے( بحوالہ انوارِ مدینہ اگست ٢٠١٩ء ) وادی ٔ فرغانہ نقل مکانی سے قبل سید محمود قلندر کا قیام شام کے شہر حِمص میں تھا ، ولایت ِ فرغانہ اُزبکستان کے دارالحکومت طاشقند سے جانب ِمشرق ٤٢٠ کلومیٹر پرواقع ہے جو وسطی ایشیاکے تین ممالک اُزبکستان، کرغیرستان اور تاجکستان میں منقسم ہے اس کا رقبہ ٦٨٠٠ مربع کلومیٹر پر محیط ہے ۔ (حضرت سید محمود میاں )
٢ حضرت سید صاحب اور بانی اوّل دارالعلوم دیوبند حضرت اقدس حاجی سید محمد عابد صاحب رحمہ اللہ کا سلسلہ نسب اوپر جاکر حضرت بندگی محمد اسماعیل رحمہ اللہ پر ایک ہوجاتا ہے۔
٣ رکن مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند ، ناظم اعلیٰ جمعیة علماء ہند ، مفتی و شیخ الحدیث مدرسہ امینیہ دہلی
تاریخ پیدائش : ١٢ رجب ١٣٢١ھ /٤اکتوبر ١٩٠٣ء دیوبند ، تاریخ وفات : ١٦شوال ١٣٩٥ھ / ٢٢اکتوبر ١٩٧٥ء دہلی
٤ بانی جامعہ مدنیہ جدید و جامعہ مدنیہ قدیم و خانقاہِ حامدیہ قدوسیہ چشتیہ و سابق امیر مرکزیہ جمعیة علماء اسلام پاکستان
تاریخ پیدائش : ١٠جمادی الآخرة ١٣٤٥ھ/١٦دسمبر ١٩٢٦ء مظفر نگر، تاریخ وفات : ١٣ رجب ١٤٠٨ھ/ ٣ مارچ ١٩٨٨ء لاہور
حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب کا نسبی رشتہ ساداتِ رضویہ کے ساتھ ملتاہے آپ مؤرخ ملت حضرت مولانا سیّد محمد میاں صاحب رحمة اللہ علیہ (سابق ناظم جمعیة علماء ہند) کے پوتے تھے !
ابتدائی تعلیم اور درس نظامی :
حضرت اقدس مولانا سیّد حامدمیاں نے آپ کی تعلیم کا آغاز اپنے ہی مدرسہ ''جامعہ مدنیہ'' میں فرمایا آپ نے جامعہ مدنیہ کے شعبہ حفظ کے استاذ حضرت قاری عبدالرشید صاحب سے قرآنِ مجید حفظ کیا ١ حفظ کے بعد جامعہ مدنیہ میں ہی شوال ١٣٩٠ھ/١٩٧٠ء میں درسِ نظامی شروع کیا ! جامعہ میں آپ کے اساتذۂ کرام میں حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب(تلمیذ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی)، حضرت مولانا شریف اللہ خاں صاحب(تلمیذ حضرت شیخ الہند)حضرت مولانا مفتی عبدالحمید صاحب سیتاپوری (تلمیذ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ) ، حضرت مولانا کریم اللہ صاحب دامانی (تلمیذ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی)، حضرت مولانا مرزا گل صاحب بونیری (تلمیذ حضرت مولانا عبدالرحمٰن ہزاروی) ، حضرت مولانا ظہور الحق صاحب دامانی (تلمیذ حضرت مولانا عبدالحق صاحب اکوڑوی)، حضرت مولانا سید غازی شاہ صاحب، حضرت مولانا عبدالرشیدکشمیری صاحب ،حضرت مولانا مفتی قاری عبدالرشید صاحب (تلمیذ حضرت مولانا سیدحامد میاں صاحب ) نمایاں ہیں ۔
حضرت نے از اوّل تا آخر تعلیم جامعہ مدنیہ کریم پارک ہی میں حاصل کی ، درسِ نظامی کی تکمیل ١٤٠١ھ/١٩٨١ء میں کی ، فارغ التحصیل ہونے کے بعد اپنے والد گرامی کی زیر نگرانی اپنے لیے علم و عمل کا میدان بناتے ہوئے جامعہ مدنیہ ہی میں ١٤٠٢ھ/١٩٨٢ء سے تدریس شروع کی ۔
سلوک و طریقت :
تزکیہ نفس کے لیے اپنے والد ماجد حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب کے دست ِحق پرست پر بیعت کی سعادت حاصل کی ،حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب نے بڑے انہماک اور توجہ سے
١ ٢٠ ذیقعدہ ١٣٩٠ھ/ ١٨ جنوری ١٩٧١ء کو حفظ قرآن مکمل ہوا اور جامعہ مدنیہ میں تقریب منعقد ہوئی ، قارئین تقریب کی روداد ماہنامہ انوار مدینہ جنوری ١٩٧١ء و فروری ٢٠٢٠ء میں ملاحظہ فرمائیں (مرتب)
سلوک و طریقت کے اسباق والد ماجد (جو شیخ مکرم کے ساتھ ساتھ استاذ محترم کا درجہ ومقام بھی رکھتے تھے )سے حاصل کیے، حضرت مولاناسید حامدمیاں صاحب براہ ِ راست حضرت اقدس مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ سے مجاز تھے اور سلسلہ حدیث میں بھی براہِ راست تلمیذ و شاگرد تھے،اس طرح حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب سلسلہ حدیث اور سلسلہ تصوف دونوں میں مدنی نسبت کے حامل تھے ، ساری زندگی یہ نسبت اگلی نسل کو منتقل کرتے گزاردی،اس بات کی طرف حضرت مولانا سلمان یٰسین صاحب مدظلہم نے ختم بخاری شریف کی تقریب میں بھی اشارہ فرمایا تھا :
''آپ کے شیخ سلسلہ ٔ شریعت میں علومِ حدیث میں بھی حضرت مدنی کی نسبت رکھنے والے ہماری اصطلاح میں (روحانی) پوتے ہیں اور سلسلہ ٔ طریقت میں بھی حضرت مدنی کے(روحانی) پوتے ہیں
اور حضرت شیخ الاسلام مدنی قدس اللہ تعالیٰ سرہ کا نامِ نامی ایساہے کہ (بقول شاعر اس شعر کا مصداق ہے)
اَعِدْ ذِکْرَ نُعْمَانٍ لَّنَا اَنَّ ذِکْرَہ ھُوَ الْمِسْکُ مَا کَرَّرْتَہ یَتَضَوَّعُ
کہ جتناتذکرہ شیخ مدنی کاکیاجائے گااتنی خوشبو ہوگی کہ اس کو جتنا رگڑو تو اتنی ہی خوشبو مہکتی ہے ! '' ١
حضرت نے دو نکاح کیے ، پہلا نکاح ١٩جون ١٩٨٧ء بروز جمعہ حضرت اقدس مولانا عزیر گل صاحب کاکاخیل (اسیر مالٹا) کے خاندان میں ہوا، دوسرا نکاح ٢٦ جون ١٩٩٦ء میں ہوا لیکن اولاد دونوں سے نہیں ہوئی ،حضرت نے بانی جامعہ حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب کے نواسے اور اپنے بھانجے عکاشہ میاں بن قاضی توحید عالم صاحب صدیقی کو متبنّیٰ بنالیا تھا ان کی اپنی زیر نگرانی جامعہ مدنیہ جدید ہی میں تعلیم دلائی، مولاناعکاشہ میاں نے ١٤٤٣ھ/٢٠٢٢ء میں جامعہ مدنیہ جدید سے درس نظامی کی تکمیل کی ٢ اس موقع پر حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہم نے دستاربندی بھی فرمائی تھی ۔
١ ماہنامہ انوار مدینہ اپریل ٢٠٢٤ء ص٤٧ ٢ ماہنامہ انوار مدینہ مارچ ٢٠٢٢ئ
جامعہ مدنیہ کریم پارک کی ذمہ داری :
١٣ رجب المرجب ١٤٠٨ھ/ ٣ مارچ ١٩٨٨ء کو حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب کی وفات کے بعد اگلے روز جامعہ مدنیہ کی شوریٰ کا اجلاس ہوا جس میں طے پایا گیا کہ جامعہ مدنیہ کے امیر حضرت مولانا سید رشید میاں صاحب اور جامعہ مدنیہ کے نائب امیر حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ہوں گے۔اس طرح حضرات شیخین کی زیر نگرانی جامعہ مدنیہ تعلیمی و تعمیری میدان میں ترقی کرتا رہا۔
حضرت ١٩٩٩ء تک جامعہ مدنیہ کریم پارک میں بطور ِ نائب مہتمم خدمات انجام دیتے رہے۔
جامعہ مدنیہ جدید کا اہتمام :
٢ شعبان المعظم ١٤٢٠ھ/ ٢٢ نومبر ١٩٩٩ء کو جامعہ مدنیہ کی شوریٰ کے فیصلے کے مطابق حضرت مولانا سید رشید میاں صاحب کو جامعہ مدنیہ کریم پارک کا مہتمم اور حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب کو جامعہ مدنیہ جدید رائیونڈ روڈ کا مہتمم بنایا گیا ۔
جامعہ مدنیہ کی وسیع پیمانہ پرترقی :
محدث کبیرحضرت مولانا سید حامد میاں صاحب رحمة اللہ علیہ نے ١٩٨١ء میں جامعہ مدنیہ کی وسیع پیمانے پر ترقی کے لیے رائیونڈ روڈ پر پچیس ایکڑ جگہ خریدی تھی ،جلد ہی اس جگہ پر قرآن پاک کی ناظرہ وحفظ کی جماعت سے تعلیم کا آغاز کردیا گیا تھا۔
جامعہ مدنیہ جدید اورمسجد حامد کی تقریب سنگ ِبنیاد :
حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب رحمة اللہ علیہ کے زیر اہتمام ٧ ربیع الاوّل ١٤٢١ھ / ١١جون٢٠٠٠ء بروز اتوار جامعہ مدنیہ جدید میں تقریب سنگِ بنیاد ہوئی جس میں امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد صاحب مدنی رحمة اللہ علیہ نے ''جامعہ مدنیہ جدید اور مسجد حامد ''کا سنگ بنیاد رکھا ۔
درسِ نظامی کی تعلیم کا آغاز :
١٦شوال ١٤٢٣ھ / ٢١دسمبر ٢٠٠٢ء اتوار کی شب درسِ نظامی کی تعلیم کا آغاز ہوا ، بعد نماز مغرب حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب کا بیان ہوا اور حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب مدظلہم نے ''الصرف العزیز'' سے اسباق کا آغاز فرمایا۔
ہفتہ وار مجلسِ ذکر اور درسِ حدیث کا آغاز :
٢٢ ذیقعدہ ١٤٢٣ھ/ ٢٦جنوری ٢٠٠٣ھ بروز اتوار ظہر بعد سے ''خانقاہ حامدیہ'' کے تحت ہفتہ وار مجلسِ ذکر اور درسِ حدیث کا آغاز فرمایا،کچھ عرصہ بعد یہ مجلس مغرب کی نماز کے بعد شروع فرمائی تاحیات باقاعدگی سے سالکین کے لیے مجلس ذکر اور درس حدیث دیتے رہے ،حسن اتفاق کہ شرکائے غزوۂ بدر کی تعداد کے مطابق یہ دروس ٣١٣ کی تعداد میں ہیں ،حضرت بانی جامعہ کے دروس اور حضرت مولانا سید محمودمیاں صاحب کے تمام دروس جامعہ کی ویب سائٹ پراستفادہ عام کے لیے موجود ہیں ۔
وفاق المدارس سے الحاق :
٢٠ذی الحجہ ١٤٢٤ھ / ١٢ فروری ٢٠٠٤ء بروز جمعرات جامعہ مدنیہ جدید کا وفاق المدارس سے الحاق منظور ہوا والحمد للّٰہ
تقریب تکمیل مشکوة المصابیح :
٢١ رجب ١٤٢٥ھ /٢٩ اگست ٢٠٠٤ء بروز اتوار دن کے گیارہ بجے حدیث کی کتاب ''مشکٰوة المصابیح'' کے ختم کے موقع پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا آخری حدیث حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہم نے پڑھائی ، تقریب کی صدارت حضرت اقدس نفیس الحسینی شاہ صاحب نے فرمائی اور اختتامی دعا حضرت مولانا عبدالرشیدصاحب کشمیری نے فرمائی۔
دورہ ٔ حدیث کا آغاز :
حضرت نے١٩شوال ١٤٢٦ھ /٢٢نومبر ٢٠٠٥ء کو جامعہ مدنیہ جدید میں دورہ ٔ حدیث شریف کا آغاز فرمایا ، بخاری شریف کی تدریس آپ کے ذمہ آئی جسے آپ بحسن و خوبی انجا م دیتے رہے ، تاحیات مسلسل بیس سال بخاری شریف کی تدریس کی سعادت حاصل رہی۔
جامعہ مدنیہ جدید کی چہار دیواری کا کام :
١١ شوال ١٤٢٥ھ/ ٢٤نومبر ٢٠٠٤ء بروز بدھ جامعہ مدنیہ جدید کی مکمل چہاردیواری کا کام شروع ہوا اور ٨ربیع الثانی ١٤٢٦ھ /١٧مئی ٢٠٠٥ء بروز پیر چہار دیواری کاکام ٥ماہ٢٣دن میں مکمل ہوا ، والحمد للّٰہ علی ذلک ۔
''الحامد ٹرسٹ'' کا قیام :
شعبان المعظم ١٤٢٢ھ/نومبر ٢٠٠١ء میں بانی جامعہ حضرت مولانا سید حامدمیاں صاحب کی نسبت سے ''الحامد ٹرسٹ'' قائم فرمایا،یہ ٹرسٹ رفاہی اور امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے
دارالافتاء کا قیام :
جامعہ مدنیہ جدید میں نئے تعلیمی سال ١٤٢٦ھ سے حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب حضرت کی خواہش پر تدریس کے لیے تشریف لائے ، آپ کی زیر نگرانی دارالافتاء کا قیام عمل میں آیا۔
مسجد حامد میں نماز ِجمعہ کا آغاز :
یکم رجب ١٤٢٧ھ/ ٢٨ جولائی ٢٠٠٦ء سے جامعہ مدنیہ جدید کی مسجد حامد میں فتویٰ کی بنیاد پر نماز جمعہ کا آغازفرمایا ، استاذ الحدیث حضرت مولانا امان اللہ خان صاحب نے اذانِ اوّل دی، ناظم تعلیمات حضرت مولانا خالد محمود صاحب مدظلہم نے بیان فرمایا، خطبۂ مسنونہ پڑھا اورامامت بھی کرائی ، بعد ازاں شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب نے خود جمعہ کا بیان شروع فرمادیا حضرت کے تمام بیانات جامعہ کی ویب سائٹ پراستفادہ عام کے لیے موجود ہیں ۔
شعبہ'' تخصص فی علوم الحدیث ''کا اجراء :
حضرت رحمة اللہ علیہ نے ١١ شوال ١٤٢٧ھ / ٤ نومبر ٢٠٠٦ء بروز ہفتہ سے جامعہ مدنیہ جدید میں ''تخصص فی الحدیث'' کی جماعت کا آغاز فرمایا، استاذ الحدیث حضرت مولانا امان اللہ خان صاحب نے اسباق شروع فرمائے۔
شعبہ ''علم الفلکیات '' کا اجراء :
٢٤ ربیع الثانی ١٤٢٨ھ/١٢ مئی ٢٠٠٧ء سے جامعہ مدنیہ جدید میں حضرت رحمہ اللہ کی زیر سرپرستی ''علم الفلکیات'' کا کورس شروع ہوا ،شیخ الحدیث حضرت مولانا خالد محمود صاحب نے اسباق پڑھائے۔
'' مُسْتَشْفٰی اَلْحَامِدْ '' کا قیام :
٢٠ ربیع الثانی١٤٢٨ھ/ ٨ مئی ٢٠٠٧ء بروز منگل سے الحامد ٹرسٹ کے تحت حضرت مولانا کی سرپرستی جامعہ مدنیہ جدید کے طلباء اساتذہ اور دیگر عملہ کے لیے '' مُسْتَشْفٰی اَلْحَامِدْ '' کے نام سے ایک کمرہ میں ڈسپنسری نے کام شروع کر دیا ۔
٢٨ رمضان المبارک ١٤٢٨ھ/١١ اکتوبر ٢٠٠٧ء کو بعد نمازِ مغرب حضرت مولانا رحمہ اللہ نے ''مُسْتَشْفٰی اَلْحَامِدْ '' کے لیے مختص جگہ پر ہسپتال کا سنگ ِ بنیاد رکھا۔ اس تقریب میں جامعہ کے تمام اساتذہ کرام اور طلباء نے شرکت کی۔
عصری علوم کی تعلیم کا آغاز :
٢صفر المظفر١٤٣١ھ/١٨جنوری ٢٠١٠ء بروز پیرجامعہ مدنیہ جدید میں حضرت مولانا رحمہ اللہ نے شعبہ عصری علوم میں کمپیوٹر کی تعلیم کا آغاز فرمایا ۔
دارُالصناع کا قیام :
یکم رجب المرجب١٤٣٢ھ /٤ جون ٢٠١١ء بروز ہفتہ جامعہ مدنیہ جدیدمیں تکمیل بخاری کے موقع پر ایک تقریب کا انعقاد ہوا۔ حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عبدالحلیم صاحب چشتی نے بخاری شریف کی آخری حدیث پڑھاکر مختصر بیان فرمایا اور اختتامی دعا فرمائی۔ بیان میں حضرت چشتی صاحب نے طلباء کو ہنر اور فن سیکھنے کی ترغیب دی ، بیان کے بعد حضرت مولانا رحمہ اللہ کو بھی اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ مدرسہ میں طلباء کو کوئی ہنر سکھائیں آئندہ زندگی میں یہ کام آئے گا ! حضرت مولانا نے حضرت چشتی صاحب سے اس کام کی حامی بھرلی ۔
١٨ذیقعدہ ١٤٣٢ھ/١٧اکتوبر ٢٠١١ء بروز پیر جامعہ مدنیہ جدید میں شعبہ برقیات کے تحت دارُالصناع کا اجراء فرمایا۔جامعہ مدنیہ جدید کے اس بلاک میں باقاعدہ اس چیز کا اہتمام کیا کہ وہاں کمپیوٹر ہارڈ وئیر اور سوفٹ وئیر سکھائے جائیں نیز بجلی کا کام ، مزید بھی کئی چھوٹے چھوٹے ایسے ہنر اور فن سکھائے جائیں جو طلباء کو آئندہ زندگی میں معاون بن سکیں ۔آئندہ سال ٢٠١٢ء میں حضرت چشتی صاحب جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے تو حضرت مولانا رحمہ اللہ نے حضرت چشتی صاحب کو ''دارُالصناع '' کے قیام سے متعلق کارروائی بتائی جس پر حضرت چشتی صاحب نے بہت دعائیں دیں اور خوشی کا اظہار فرمایا
امن عالم کانفرنس :
٧ صفر ١٤٣٥ھ/ ١١دسمبر ٢٠١٣ء کو شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب پاکستان سے جمعیة علمائِ اِسلام کے وفد کے ہمراہ ''امن ِعالم کانفرنس ''میں شرکت کی غرض سے دہلی اور دیوبند (ہندوستان )تشریف لے گئے ،جہاں آپ نے کبار علماء ومشائخ سے ملاقات کی ۔
شعبہ ''تخصص فی الفقہ واصول الفقہ'' کا اجراء :
یکم ذیقعدہ ١٤٣٦ھ /١٧اگست ٢٠١٥ء سے جامعہ مدنیہ جدید میں تخصص فی الفقہ واصول الفقہ کے شعبہ کا قیام فرمایا اور حضرت مہتمم صاحب کی دعاؤں سے تعلیم کا باقاعدہ آغا زہوا۔
میزان الفرائض :
حضرت رحمہ اللہ کی زیر سرپرستی '' الحامد کمپیوٹر لیب'' کی طرف سے میراث اور وراثت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اردو زبان کا دنیا میں پہلا باقاعدہ ونڈوز ڈیکس ٹاپ ایپلیکیشن / سوفٹ وئیر بعنوان ''میزان الفرائض '' حضرت مولانا مفتی محمد فہیم صاحب مدظلہم نے تیار کیا ! مقدور بھر کوشش کی گئی ہے کہ یہ جامع اور باحوالہ ہو ۔
عملی سیاست میں نامزدگی :
یکم صفر ١٤٤٥ھ /١٩ اگست ٢٠٢٣ :حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب کو جمعیة علماء اسلام کے آئندہ جماعتی انتخابات تک بحیثیت ِ صوبائی امیر پنجاب نامزد کیا گیا ۔
٥ صفر ١٤٤٥ھ /٢٣ اگست بروز بدھ جمعیة علماء اسلام صوبہ پنجاب کی مجلس عاملہ کا اجلاس جامعہ مدنیہ جدید میں امیر جمعیة علماء اسلام صوبہ پنجاب شیخ الحدیث مولانا سیّد محمود میاں صاحب کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں جمعیة علماء اسلام پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور صاحب حیدری مدظلہم مہمانِ خصوصی اورمرکزی ناظم مولانا محمد امجد خان صاحب نے شرکت فرمائی، حضرت حیدری صاحب کی افتتاحی گفتگو کے بعد اجلاس میں صوبہ پنجاب کی جماعتی صورتحال کے متعلق اراکین مجلس عاملہ کی مشاورت سے ضروری فیصلے کیے گئے، اجلاس میں صوبہ پنجاب کی سیاسی صورتحال، آئندہ عام انتخابات اور تنظیمی امور پر غور و خوض کیا گیا۔
صوبہ پنجاب کی نئی مجلس عمومی کا اجلاس :
جمعیة علماء اسلام کی صوبائی مجلس عمومی کا اجلاس مؤرخہ ١٤ ربیع الاوّل ١٤٤٦ھ/ ١٩ ستمبر ٢٠٢٤ء بروز جمعرات جامعہ مدنیہ جدید میں منعقد ہوا ، اجلاس کی صدارت امیر پنجاب شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب نے فرمائی اور صوبائی مجلس عمومی کے انتخابی اجلاس کے انتظامات صوبائی ناظم انتخاب جناب محترم محمد نور خان صاحب ہانس ایڈوکیٹ نے کیے اور اجلاس کی نگرانی مرکزی ناظمِ انتخاب مولانا عطاء الحق درویش صاحب جبکہ ان کی مرکزی معاونین مولانا ناصر محمود صاحب مانسہرہ اور حاجی جلیل جان صاحب پشاور نے کی ، صوبائی مجلس ِ عمومی نے آئندہ پانچ سال کے لیے شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب کو بھاری اکثریت سے امیر پنجاب اور مولانا حافظ نصیر احمد صاحب احرار کو ناظمِ عمومی صوبہ پنجاب منتخب کیا ،اجلاس کے اختتام پر جمعیة علماء اسلام پاکستان کے مرکزی ناظمِ انتخابات مولانا عطاء الحق درویش صاحب نے نومنتخب امیر اور جنرل سیکرٹری سے حلف لیا، خواجہ خلیل احمد صاحب خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کے سجادہ نشین کے اختتامی کلمات اور دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا ! !
''ماضی کی جھلک '' کی اشاعت :
حضرت مولانا نے اپنے والد ماجدبانی جامعہ کی یادداشت بعنوان ''ماضی کی جھلک'' جمع فرمائیں اور اپنی ادارت میں طبع ہونے والے ماہنامہ انوار مدینہ میں قسط وار شائع فرمائیں ۔ حضرت نے ''ماضی کی جھلک'' کو علیحدہ کتابی شکل میں ترتیب دینا شروع فرمایا تھا لیکن مصروفیات اور علالت کی وجہ سے تکمیل نہ فرما سکے،ان شاء اللہ جلد مکمل کر کے شائع کریں گے۔
حضرت بانی جامعہ کے دروس حدیث کی اشاعت :
حضرت بانی جامعہ سالکین کے لیے ہر اتوارجامعہ مدنیہ میں مجلس ذکر اور درس حدیث دیتے تھے، حضرت بانی جامعہ کے خلیفۂ اجل الحاج حضرت محمود احمد صاحب عارف کی خواہش پر ان کے مرید ِخاص چارٹرڈاکائونٹنٹ محترم الحاج شاہد اشرف صاحب ادام اللہ اقبالہ بڑی باقاعدگی سے مسلسل آٹھ برس ان دروس کو ٹیپ ریکارڈر کے ذریعہ محفوظ کر لیا ان دروس کی تعداد 284 بنتی ہے ! حضرت بانی جامعہ کی وفات کے بعد ان دروسِ حدیث کی تمام کیسٹیں انہوں نے بڑی ذمہ داری اور فیاضی کے ساتھ حضرت مہتمم صاحب کو عطا فرما دیں ! ! فجزاہ اللّٰہ خیرا
ان کیسٹوں کے علاوہ چالیس دروس ایسے ہیں جو شیخ التفسیر حضرت اقدس مولانا احمد علی صاحب لاہوری کے ہفت روزہ ''خدام الدین'' میں شائع ہوتے رہے جنہیں راقم الحروف نے اپنے برادر خورد مولانا محمد عابد صاحب کے ساتھ مل کر بڑی محنت سے حاصل کر کے حضرت مہتمم صاحب کی خدمت میں پیش کر دیے ،ان تمام دروس پر حضرت مہتمم صاحب نے نظر ثانی فرمائی ،یہ تمام دروس بحمد اللّٰہ ماہنامہ انوار مدینہ میں تاریخ وار ترتیب کے لحاظ سے اکتوبر ١٩٩٢ء تا نومبر٢٠١٨ء (جو کہ چھبیس برس کے طویل عرصہ پر محیط ہیں ) شائع ہوچکے ہیں ،اب ان تمام دروس کی '' مشکوة المصابیح ''کے ابواب کی ترتیب کے لحاظ سے ماہنامہ انوارِ مدینہ میں جنوری ٢٠١٩ ء سے دوبارہ اشاعت ہورہی ہے ۔
جامعہ مدنیہ سے قبل اکھاڑا بوٹا مَل( برانڈرٹھ روڈ)کی مسجد حنفیہ اور مدرسہ احیاء العلوم ، مکی مسجد انارکلی اور مسلم مسجد بیرون لوہاری دروازہ میں ہونے والے جمعہ کے بیانات اور دروس کو محفوظ کرنے کا کچھ خاص اہتمام نہ تھا اور ٹیپ ریکارڈر وغیرہ کا بھی زیادہ رواج نہ تھا افسوس اس طویل عرصہ کے علمی فیوض سے آج ہم محروم ہیں
سانحۂ ارتحال :
مارچ ٢٠٢٥ء سے حضرت مولانا رحمہ اللہ کا فی علیل تھے، ٥ مئی کو پتہ کا کامیاب آپریشن ہوا، علاج معالجہ جاری رہا کہ ٢٧ جون ٢٠٢٥ ء کو بوقت فجر طبیعت بہت زیادہ خراب ہوئی جس کی بناء پر دوبارہ بحریہ انٹرنیشنل ہسپتال میں داخل ہوئے ڈاکٹروں نے آئی سی یو وارڈ میں داخل کیا اور دعائوں کے لیے کہا دو دن مصنوعی سانس دیا گیا ،لیکن تمام تدبیروں پر تقدیر غالب آئی اور آپ ٧ محرم الحرام ١٤٤٧ھ / ٢ جولائی ٢٠٢٥ء بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ساڑھے گیارہ بجے اپنے خالق ِ حقیقی سے جا ملے
اِنَّا لِلِّٰہ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلَہ وَتَغَمَّدَنَا وَاِیَّاہُ بِرَحْمَتِکَ وَرِضْوَانِکَ وَاَدْخِلْہُ الْفِرْدَوْسَ الْاَعْلٰی مِنْ جَنَانِکَ وَاجْعَلْنَا وَاِیَّاہُ مِمَّنْ یَّدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ بِغَیْرِحِسَابْ
اللہ تعالیٰ حضرت رحمة اللہ علیہ کی دینی وملی خدمات جلیلہ شرف قبول عطا فرمائے، اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے ،اور پاکستان اور ہندوستان میں موجود تمام پسماندگان خصوصاً پاکستان میں حضرت کے برادران حضرت مولانا سیّد رشید میاں صاحب مدظلہم، مولانا سیّد مسعود میاں صاحب مدظلہم اور صاحبزادہ محترم مولانا عکاشہ میاں صاحب مدظلہم سمیت تمام پسماندگان ، متعلقین ومحبین اور تلامذہ ومریدین کو اللہ تعالیٰ یہ صدمہ برداشت کرنے اور اس پر اجر کی سعادت عطا فرمائے، آمین !
اَللّٰہُمَّ لاَ تَحْرِمْنَا اَجْرَھُمْ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَھُمْ وَاغْفِرْلَنَا وَلَھُمْ وَاجْمَعْنَا مَعَھُمْ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْم یَا رَبَّ الْعَالَمِیْن
اللہ تعالیٰ حضرت رحمہ اللہ کی مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین !
دل زخم زخم لوگو کوئی ہے جسے دکھائیں کوئی ہم نفس نہیں ہے غمِ جاں کسے سنائیں
اُٹھا سائبانِ شفقت بڑی تیز دھوپ دیکھی نہیں دُور دُور چھائوں کہاں اپنا سر چھپائیں
یکایک جو چھا گئی ہیں غم و درد کی گھٹائیں گیا کون اس جہاں سے کہ بدل گئیں فضائیں
وہ رفاقتوں کی راتیں وہ ہر اک سے مل کے باتیں گئے دور کے وہ قصے ہمیں یاد کیوں نہ آئیں
ہو نصیب جام کوثر یہ نفیس کی دعا ہے مگر اک حسیں تمنا کہ حضور خود پلائیں
٭٭٭
فہرست خلفاء ِ کرام شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب
خانقاہ حامدیہ قدوسیہ چشتیہ ، محمد آباد شارع رائیونڈ لاہور پاکستان
٭٭٭
نمبر شمار نام
١ مولانا عبد الستار صاحب بن محمد شریف صاحب، منڈی مدرسہ تحصیل و ضلع بہاولنگر
٢ ڈاکٹر محمد امجد صاحب بن شیخ نوراحمد صاحب ، موہنی روڈ لاہور
٣ مولانا محمد عکاشہ صاحب بن محمد یوسف صاحب، قصور صوبہ پنجاب
٤ مولانا محمد فرحان خان صاحب بن محمد یوسف خان صاحب ،کینیڈا
٥ مولانا خالد عثمان صاحب بن گل محمد صاحب ،کرک صوبہ سرحد
٦ مولانا انعام اللہ صاحب بن پیر آدم خان صاحب ، ٹانک صوبہ خیبر پختونخواہ
٧ مولانا محمد شاہد صاحب بن محمد حنیف صاحب ،اوکاڑہ صوبہ پنجاب
٨ مولانااشفاق حسین صاحب بن شیر محمد صاحب، ساہیوال صوبہ پنجاب
٩ مولانا خلیل الرحمن صاحب بن محمد قاسم صاحب،ہلوکی ضلع لاہور
١٠ مولانا جہانزیب صاحب بن نعیم خان صاحب ، ضلع شانگلہ خیبر پختونخواہ
١١ مولانا ذبیح اللہ صاحب بن محمد مختار صاحب ،کوہاٹ
١٢ مولانا محمد ارشد صاحب بن جمعہ خان صاحب، چلاس
١٣ مولانا محمد سعد کلیم صاحب بن کلیم اصغر صاحب قریشی،کیولری گرائونڈلاہور کینٹ
١٤ مولانا محمد حسین صاحب بن محمد رفیق رضا صاحب ، بہاولپور
١٥ مولانامفتی محمدحسن صاحب بن محمد قاسم صاحب، ہلوکی ضلع لاہور
١٦ مولانا محمد ابراہیم صاحب برمی (میانمار)
١٧ مولانا گل نواز صاحب بن طاؤس خان صاحب ، ضلع مانسہرہ
١٨ مولانا عمر فاروق صاحب بن اللہ دتہ صاحب، ضلع جھنگ
١٩ مولانا ایاز خان صاحب بن متول خان صاحب ، ضلع کرک
٢٠ مولانا محمد رضوان مبارک صاحب بن مبارک علی صاحب، ضلع لاہور
٢١ مولانا ضیاء الدین صاحب بن محمد شیر خان صاحب ، ضلع ٹانک
٢٢ مولانا حکیم خان صاحب بن تاج محمد صاحب، ضلع بٹگرام
٢٣ مولانا محمد زبیر صاحب بن مولانا عبدالاحد صاحب ، ضلع لاہور
٢٤ مولانا محمد دین صاحب بن نور محمد صاحب ،ضلع نہرین افغانستان
٢٥ مولانا سَید علی صاحب بن عبدالزاق صاحب،تحصیل وضلع قلعہ عبداﷲبلوچستان
٢٦ مولانامحمد ابوبکر صاحب بن عبدالرحیم صاحب،ڈاکخانہ ، تحصیل و ضلع مستونگ
٢٧ مولانا عطاء اللہ صاحب ندیم بن غلام رسول صاحب ، ضلع خضدار بلوچستان
٢٨ مولانا محمد مصعب صاحب بن عبید اللہ صاحب ، ضلع وہاڑی
٢٩ مولانا عبدالستار صاحب بن حاجی اللہ دیوایا صاحب،ملتان
٣٠ مولانا عبدالوحید صاحب بن مفتی عبدالحمید صاحب صاحب ، لٹن روڈ مزنگ لاہور
٣١ مولانا محمد نوید صاحب بن تاج محمد صاحب ، اوگی مانسہرہ
٣٢ مولانا محمد یونس صاحب محمد شاہ صاحب، مارتونگ شانگلہ
٣٣ مولانا محمد یونس صاحب بن شاہ محمد صاحب،تحصیل چونیاں ضلع قصور پنجاب
٣٤ قاری سیّد محمد طیب صاحب بخاری بن سید نور محمد شاہ بخاری ،ضلع گاندربل ، کشمیر ہند
٣٥ مولانا محمد آصف حیات بن محمد حیات ، محلہ اسلام پورہ ضلع خوشاب پنجاب
٣٦ مولانامحمد عبدالواحد خان بن محمد عبدالرحمن خان، حفیظ کالونی ماڈل ٹائون سی بہاولپور
٣٧ مولانا سعید احمد صاحب اسعد بن مولانا محمد اسماعیل صاحب صابر ،بگڑانوالی خوشاب
٣٨ مولانا محمد خالد صاحب بن محمد ایوب صاحب، کنڈہ تحصیل وضلع مانسہرہ
٣٩ مولانا محمد عمران صاحب بن محمد گلاب صاحب، شوہال نجف خان تحصیل بالاکوٹ ضلع مانسہرہ
٤٠ مولانا محمد محسن گلزار صاحب بن گلزار صاحب ، حویلی نتھو والی ، قادی ونڈ، ضلع قصور
٤١ مولانا محمد عیسٰی دائود بن علی مراد ، باسوس ضلع ولسوالی امام صاحب صوبہ کندوز افغانستان
٤٢ صاحبزادہ محترم مولانا عکاشہ میاں صاحب بن قاضی توحید عالم صاحب صدیقی
متبنّٰی شیخ المشائخ حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب رحمہ اللہ( باجازت خلفائ)
( ہدایت از جانشین )
٭٭٭
تربیت پانے والے صاحبان اور جو حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب رحمة اللہ علیہ کے سلسلہ میں بیعت ہونا چاہیں وہ مذکورہ بالا خلفاء کرام میں سے جن کی طرف قلب کا رجحان پائیں ان سے تعلق قائم کرلیں وفقنا اللّٰہ لما یحبہ ویرضاہ
فقط عکاشہ میاں غفرلہ
١٠ محرم الحرام ١٤٤٧ھ/١٤ جولائی ٢٠٢٥ئ
اخبار الجامعہ
( ڈاکٹر محمد امجد صاحب، ناظم اعلیٰ جامعہ مدنیہ جدید شارع رائیونڈ لاہور )
٭٭٭
٧ محرم الحرا م ١٤٤٧ھ / ٢ جولائی ٢٠٢٥ء بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب جامعہ مدنیہ جدید کے بانی و سابق امیر مرکزیہ جمعیة علماء اسلام قطب الاقطاب حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب رحمة اللہ علیہ کے صاحبزادے شیخ الحدیث و مہتمم جامعہ مدنیہ جدید، سجادہ نشین خانقاہ حامدیہ ، امیر جمعیة علماء اسلام پنجاب و امیر الحامد ٹرسٹ پیر طریقت شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب رحمة اللہ علیہ طویل علالت کے بعد انٹرنیشنل ہسپتال بحریہ ٹائون لاہور میں انتقال فرماگئے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے ، آمین ! قارئین کرام سے حضرت اقدس کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائوں کی درخواست ہے حضرت کی نمازِ جنازہ بروز جمعرات صبح دس بجے آپ کے بڑے بھائی حضرت مولانا سید رشید میاں صاحب مدظلہم کی اقتداء میں جامعہ مدنیہ جدید میں ادا کی گئی اور حضرت کی وصیت کے مطابق جامعہ سے متصل قبرستان میں تدفین کی گئی ۔
( مہتمم جامعہ کی تقرری )
٭٭٭
١٤ شوال المکرم ١٤٤٦ھ / ١٣ اپریل ٢٠٢٥ء کو جامعہ مدنیہ جدید کی مجلس شوریٰ کا ہنگامی/ غیر معمولی اجلاس شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب کی زیر صدارت منعقد ہوا تھا جس میں حضرت مہتمم صاحب نے اراکین شورٰی کے مشورہ سے مولانا عکاشہ میاں صاحب کو نائب امیر جامعہ مدنیہ جدید منتخب فریا یا دیا تھا بعد ازاں حضرت مہتمم صاحب کی وفات کے بعد٩ محرم الحرام ١٤٤٧ھ / ٥ جولائی ٢٠٢٥ء بروز ہفتہ جامعہ مدنیہ جدید کی مجلس شوریٰ کا باقاعدہ اجلاس سرپرست جامعہ مدنیہ جدید حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب زید مجدہم کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں اراکین شورٰی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ حضرت مولانا سید رشید میاں صاحب دامت برکاتہم (مہتمم جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور) جامعہ مدنیہ جدیدکے عبوری سرپرست اور مولانا عکاشہ میاں عبوری مہتمم ہوں گے ،جامعہ سے متعلق مزید کئی تعلیمی وتنظیمی امور بھی طے کیے گئے۔
١٩ محرم الحرام ١٤٤٧ھ / ١٥ جولائی ٢٠٢٥ء بروز منگل سرپرست جامعہ اور مہتمم صاحب کے باہمی مشورہ سے درج ذیل امور طے پائے :
(١) شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب رحمة اللہ علیہ نے اپنی علالت کی وجہ سے بخاری شریف کے اسباق حضرت مولانا خالد محمود صاحب مدظلہم (ناظم تعلیمات جامعہ مدنیہ جدید)کے ذمہ لگادیے تھے ، حضرت مہتمم صاحب کے اس فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے حضرت مولانا خالد محمود صاحب ہی نظامت ِتعلیم کے ساتھ ساتھ جامعہ کے نئے شیخ الحدیث کے فرائض انجام دیں گے۔
(٢)سابق مہتمم حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب جامعہ سے متعلق جو اُمور انجام دیتے تھے وہ تمام امور موجودہ مہتمم صاحبزادہ محترم مولانا عکاشہ میاں صاحب انجام دیں گے ۔
(٣)حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ماہنامہ'' انوار مدینہ'' کے مدیر اور ڈاکٹرمحمد امجد صاحب مرتب کی حیثیت سے ذمہ داری انجام دیتے تھے، حضرت کے اسفار یا علالت کی وجہ سے حضرت مولانا نعیم الدین صاحب مدظلہم (داماد حضرت بانی جامعہ و استاذالحدیث جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور) ادارتی ذمہ داری ادا کرتے تھے، حسب ِسابق ان ہی دو افراد کو مقرر کیا گیا ہے جبکہ مولانا محمد عابد صاحب کو نائب مدیر اور مولانا عکاشہ میاں صاحب کو مدیر مسئول کے طور پر مقرر کیا گیاہے۔
حضرت مہتمم صاحب رحمہ اللہ کی تعزیت کے لیے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لانے والوں میں علماء ومشائخ ، ملی وسیاسی زُعماء ،غیرملکی سفیر حضرات مع وفود،وطن عزیز کے مدارس کے مہتمم صاحبان و طلبہ عظام ، جامعہ مدنیہ جدید کے فضلاء کرام سمیت کئی افراد شامل ہیں ،ہنوز تعزیت کے لیے آنے والوں کا سلسلہ جاری ہے۔
جامعہ مدنیہ جدید ، خانقاہ حامدیہ اور جمعیة علماء اسلام سے متعلق حضرات کی آمدکو اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ، حضرت مہتمم صاحب اور جامعہ مدنیہ جدید کے لیے تمام حضرات کی دعائوں کو اپنی بارگاہ میں شرف ِ قبولیت سے نوازے، آمین
٭
١٣ جولائی ٢٠٢٥ء بعد نماز مغرب مولانا عکاشہ صاحب مدظلہم ،مولانا احسان اللہ صاحب کی دعوت پر ''خدمات سید محمود میاں صاحب ''کی تقریب میں شرکت کے لیے جامع مسجد نور مانگا منڈی تشریف لے گئے جہاں آپ نے حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب رحمة اللہ علیہ کے علمی اور روحانی پہلو پر مختصر بیان فرمایا۔
٢٥ جولائی ٢٠٢٥ء کو مہتمم جامعہ مولانا عکاشہ میاں صاحب فاضل جامعہ مولانا محمد سلیم صاحب کی دعوت پر مرکزی جامع مسجد و مدرسہ عربیہ فیضان محمود کوٹ وسن گگہ سرائے نزد پھول نگر تشریف لے گئے بعد از جمعہ مقامی علما ء کرام سے ملاقات ہوئی جن میں حضرت مولانا عبد العزیز صاحب مہتمم جامعہ مظاہر العلوم المدنیہ پھول نگر، حضرت مولانا مفتی عبد الرحمن صاحب نقشبندی اور جامعہ مظاہر العلوم المدنیہ شعبہ حفظ و شعبہ درس نظامی کے جملہ اساتذہ کرام تشریف لائے اور کھانا تناول فرمایا واپسی پر مدرسہ عربیہ فیضان محمود کی کمیٹی کے اہم ممبر راؤ فہیم صدیق صاحب کی والدہ محترمہ، راؤ عبد الحفیظ صاحب کے بھائی صدیق صاحب کی اہلیہ کی ان کے ڈیرہ پر تعزیت فرمائی۔
٢٧ جولائی ٢٠٢٥ ء کو مہتمم جامعہ مولانا عکاشہ میاں صاحب ، حضرت مولانا میاں محمد اجمل صاحب قادری کی دعوت پر'' فلسطین کانفرنس '' میں شرکت کی غرض سے شیرانوالہ تشریف لے گئے جہاں آپ نے مختصر اور جامع بیان فرمایا ۔
وفیات
٭٭٭
خانوادۂ سید حامد میاں کو صدمہ
موت العالِم موت العالَم
٭٭٭
٧ محرم الحرا م ١٤٤٧ھ / ٢ جولائی ٢٠٢٥ء بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب بانی جامعہ مدنیہ جدید و سابق امیر مرکزیہ جمعیة علماء اسلام قطب الاقطاب حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب رحمہ اللہ کے منجھلے صاحبزادے مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ مدنیہ جدید و امیر جمعیة علماء اسلام پنجاب حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب رحمة اللہ علیہ طویل علالت کے بعد انٹرنیشنل ہسپتال بحریہ ٹائون لاہور میں انتقال فرماگئے آپ کی نمازِ جنازہ بروز جمعرات صبح دس بجے آپ کے بڑے بھائی حضرت مولانا سید رشید میاں صاحب کی اقتداء میں جامعہ مدنیہ جدید میں ادا کی گئی اور جامعہ سے ملحق قبرستان میں تدفین کی گئی
اللہ تعالیٰ حضرت کی مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے ، آمین، تمام احباب سے حضرت کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائوں کی درخواست ہے۔
٣ جولائی کو حضرت مولانا نعیم الدین صاحب مدظلہم کے بڑے بھائی حافظ ریاض اختر صاحب اچانک وفات پاگئے۔
٢٨ جولائی کو جامعہ مدنیہ جدید کے ناظم ڈاکٹر محمد امجد صاحب کے خالہ زاد بہنوئی بھائی خالد صاحب اچانک لاہور میں وفات پاگئے ۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
اللہ تعالیٰ جملہ مرحومین کی مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق نصیب ہو، آمین۔ جامعہ مدنیہ جدید اور خانقاہِ حامدیہ میں مرحومین کے لیے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت کرائی گئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ، آمین۔
٭٭٭
Email us your queries on jamiamadniajadeed@gmail.com you will be answered in less than 24 hours or Give us a call directly at +92 333 4249302, +92 333 4249 301.