بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

Anwar-e-Madina

ماہنامہ انوار مدینہ

اگست‬ 2026

jamiamadnijadeed

ماہنامہ انوار مدینہ\n<br>\nجلد : ٣٤ صفر المظفر ١٤٤٨ھ / اگست ٢٠٢٦ء شمارہ : ٨\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nبیاد : قطب الاقطاب عالم ربانی محدث کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں \n<br>\nفیضانِ نظر : محمود الملّة و الدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nمولانا نعیم الدین صاحب ( مدیر اعلیٰ )\n<br>\nمولانا محمد عابد صاحب ( نائب مدیر)\n<br>\nمولانا عکاشہ میاں صاحب(مدیر مسئول)\n<br>\nڈاکٹر محمد امجد صاحب (مدیر منتظم)\n<br>\n٭٭٭\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nبدلِ اشتراک \n<br>\n٭٭٭\n<br>\nپاکستان فی پرچہ 50 روپے ....... سالانہ 600 روپے\n<br>\nسعودی عرب،متحدہ عرب امارات..... سالانہ 90 ریال\n<br>\nبرطانیہ،افریقہ ........................ سالانہ 20 ڈالر\n<br>\nامریکہ .................................. سالانہ 30 ڈالر \n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nجامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ اور ای میل ایڈ ریس\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nwww.jamiamadniajadeed.org\n<br>\njmj786_56@hotmail.com\n<br>\nWhatsapp : +92 333 4249302\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nترسیل ِزر و رابطہ کے لیے\n<br>\n٭٭٭\n<br>\n\'\' جامعہ مدنیہ جدید\'\' محمد آباد19 کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور\n<br>\n موبائل : 923334249301+\n<br>\nموبائل : 923234250027+\n<br>\nموبائل : 923334249302+ \n<br>\nجازکیش نمبر : 923044587751+\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nدارُالافتاء کا ای میل ایڈ ریس اور وٹس ایپ نمبر\n<br>\n٭٭٭\n<br>\ndarulifta@jamiamadniajadeed.org\n<br>\nWhatsapp : +92 321 4790560\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nمولاناسیّد رشید میاں صاحب طابع وناشر نے شرکت پرنٹنگ پریس لاہور سے چھپواکر دفتر ماہنامہ \'\'انوارِ مدینہ \'\' نزد جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور سے شائع کیا\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nاس شمارے میں \n٭٭٭\n<br>\nحرفِ آغاز ٤\n<br>\n درسِ حدیث حضرت مولانا سیدحامد میاں صاحب ٧\n<br>\nولادت با سعادت سیّد الکونین رحمةللعالمین صلی اللہ عليہ وسلم حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب مدنی ١١\n<br>\nلاکھوں سلام حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحب ٢٣\n<br>\nخطبہ جمعہ ...نبی علیہ السلام کی مدینہ منورہ تشریف آوری حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ٢٤\n<br>\nدرسِ حدیث ... فوج کو محاذ پر بھیجتے وقت عسکری ہدایات حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ٣٠\n<br>\nسیاق و سباق کی اہمیت اورمیڈیا کا کردار مولانا محمد عابد صاحب ٤٦\n<br>\nقائد جمعیة کے قصور خطاب پر اعتراضات کی حقیقت حضرت مولانا نعیم الدین صاحب ٥١\n<br>\nاخبار الجامعہ ٦٥\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nقطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ \n<br>\nکے سلسلہ وار مطبوعہ مضامین و دروس جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ پر پڑھے اور سنے جا سکتے ہیں \n<br>\nhttp://www.jamiamadniajadeed.org\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nحرفِ آغاز\n<br>\nدینی تعلیمات اور عصرِ حاضر \n<br>\n٭٭٭\n<br>\nنَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْدُ !\n<br>\nآج ہمارا معاشرہ مختلف آزمائشوں سے گزر رہا ہے ، اپنے گردوپیش پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہر شخص اپنے اپنے حقوق کے مطالبہ کا تقاضا کررہاہے لیکن دوسروں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی برت رہا ہے ! تاجر اپنے لیے منافع چاہتا ہے مگر خریدار کے مفاد کو نظر انداز کر دیتا ہے، ملازم اپنے حقوق کا مطالبہ میں لگا ہوا ہے مگر اپنی ذمہ داریوں میں غفلت برتتاہے، اسی طرح حکمران اور عوام دونوں ایک دوسرے سے توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں مگر اپنی اصلاح کی طرف نظر نہیں کررہے ! یہ امور ایک بیمار معاشرہ کی عکاسی کرتے ہیں جبکہ اسلام ہمیں ایک صحت مند معاشرہ کی تعلیم دیتا ہے اور صحت مند معاشرہ اُسی وقت وجود میں آسکتا ہے جب ہر فرد دوسرے کے لیے بھی وہی خیر اور بھلائی چاہے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے چنانچہ جناب ِرسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :\n<br>\nلَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِاَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنفْسِہ ۔ ١\n<br>\n \'\'تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک (کامل)مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے بھی وہی کچھ پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے\'\'\n<br>\n ١ صحیح البخاری کتاب الایمان باب من الایمان ان یحب لاخیہ ما یحب لنفسہ رقم الحدیث ١٣\n<br>\nآج کے اس مادیت پسند دور میں جبکہ خود غرضی، مفاد پرستی، تعصب اور باہمی نفرتیں معاشرے کو کمزور اور کھوکھلا کر رہی ہیں ، یہ حدیث ہمارے لیے ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتی ہے نیز اسلامی معاشرت کی بنیاد فراہم کرتی ہے ! اس حدیث شریف کا بنیادی مقصدیہ ہے کہ انسان کو دوسروں کے ساتھ اُتنی ہی ہمدردی اور خیر خواہی رکھنی چاہیے جتنی وہ اپنے ساتھ رکھتا ہے، جیسے ہم اپنے لیے عزت، دولت، کامیابی اور بھلائی چاہتے ہیں ویسے ہی دوسروں کی کامیابی اور خوشی کی بھی دلی تمنا کریں اور ان کی عزت ودولت پر حسد نہ کریں ! !\n<br>\nحدیث شریف میں ذکر کردہ ایمان کی نفی کایہ مطلب نہیں کہ ایسا نہ کرنے سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اُس کا ایمان کامل اور مکمل نہیں رہتا ! !\n<br>\nیہ حدیث شریف مسلمانوں کے درمیان حسد، کینہ اور خود غرضی کو ختم کر کے ایک پُرخلوص اور محبت بھرا معاشرہ قائم کرنے کا بہترین اصول سکھاتی ہے ! موجودہ معاشی مشکلات، مہنگائی اور بے روزگاری کے دور میں اس حدیث کا تقاضا ہے کہ صاحب ِحیثیت افراد ضرورت مندوں کی مدد کریں ، تاجر حضرات دیانت داری پیدا کریں اورہم سب معاشرے میں ہمدردی اور تعاون کو فروغ دیں ! ! \n<br>\n اسی طرح سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں افواہیں ، کردار کشی اور نفرت انگیز رویے عام ہو چکے ہیں یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم دوسروں کی عزت، وقار اور حقوق کا اسی طرح خیال رکھیں جس طرح اپنی عزت و آبرو کے تحفظ کے خواہاں ہیں ! !\n<br>\nقومی سطح پر بھی یہ حدیث اتحاد، رواداری اور اخوت کا درس دیتی ہے، اگر ہم ذاتی، گروہی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک و ملت کی بھلائی کو مقدم رکھیں تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہوسکتے ہیں ! !\n<br>\n ہمیں رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی تعلیم کو ہمیشہ پیش ِنظر رکھنا چاہیے،یہی تعلیم باہمی محبت، قومی یکجہتی اور اجتماعی اصلاح کی بنیاد ہے اور یہی تعلیم معاشرتی ہمدردی، اخوت اور انسانیت کے تقاضوں کو اُجاگر کرتی ہے ! ایسے وقت میں جبکہ ہمارا معاشرہ سیاسی، معاشی اور اخلاقی چیلنجز سے دوچار ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حالات کا جائزہ صرف دنیاوی زاویے سے نہیں بلکہ دین ِاسلام کی تعلیمات کی روشنی میں بھی لیں ! !\n<br>\nآج وطن ِعزیز کو جہاں معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری اور امن و امان کے مسائل کا سامنا ہے، وہیں فکری انتشار، اخلاقی کمزوری اور دینی شعور کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے ! قوموں کی ترقی صرف مادی وسائل سے نہیں بلکہ مضبوط کردارو عمل، عدل و انصاف ، امانت و دیانت اور خدا ورسول صلی اللہ عليہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری سے جڑی ہوئی ہے ! ! \n<br>\nمدارسِ دینیہ کا بنیادی فریضہ محض علومِ دینیہ کی تدریس نہیں بلکہ ایسے افراد کی تربیت بھی ہے جو معاشرے میں خیر، اعتدال، اخوت اور اصلاح کا پیغام عام کریں ! !\n<br>\nموجودہ حالات ہم سب کو دعوتِ فکر دیتے ہیں کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کا احساس کریں ، اپنے کردار کا محاسبہ کریں اور معاشرے کی اصلاح میں اپنا حصہ ادا کریں ، اسلامی تعلیمات کا یہی حسن ہے کہ وہ فرد کی اصلاح کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کی تعمیر کا راستہ بھی دکھاتی ہیں ! !\n<br>\nآج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس حدیث کو محض پڑھنے پڑھانے اور سننے سنانے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں ، جب ہر مسلمان اپنے بھائی کے لیے خیر خواہی، محبت اور انصاف کو اختیار کرے گا تو ایک پُرامن، مضبوط اور مثالی معاشرہ وجود میں آئے گا جو اسلامی تعلیمات کا حقیقی عکاس ہوگا ! !\n<br>\n ہماری دعا ہے کہ ہم سب بطور ایک دینی ذمہ دار علم و آگہی کا ذریعہ بنیں اور معاشرے میں خیر و اصلاح کے فروغ میں معاون ثابت ہوں ! اللہ تعالیٰ عالم اسلام کو عموماً اور ہمارے وطن پاکستان کو خصوصاًامن، استحکام اور خوشحالی عطا فرمائے، ہمیں دین ِاسلام کی صحیح سمجھ نصیب فرمائے اوردین ومذہب کے ساتھ ساتھ ملک و ملت کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے ! \n<br>\n آمین ثم آمین یا رب العلمین\n<br>\n محمد عابد\n<br>\n١٤صفر المظفر ١٤٤٨ھ / ٢٩ جولائی ٢٠٢٦ئ\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n درسِ حدیث\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nقطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ \n<br>\n کا مجلس ِذکر کے بعد درسِ حدیث \'\'خانقاہِ حامدیہ چشتیہ\'\' شارع رائیونڈ لاہور کے زیرِانتظام ماہنامہ \'\' انوارِ مدینہ\'\' کے ذریعہ ہر ماہ حضرت اقدس کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کے اس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے،آمین۔ (ادارہ)\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nایمان سب سے بڑی نعمت ہے ! \'\'کامل نعمت \'\' جہنم سے بچ کر جنت میں داخل ہوجانا ہے\n<br>\nاللہ سے \'\'عافیت \'\'طلب کرتے رہنی چاہیے ! \'\'صبر\'\'کی دعا کب مانگنی چاہیے ؟\n<br>\n(درسِ حدیث نمبر٤٠ ١٨ شعبان المعظم ١٤٠٢ھ/١١ جون ١٩٨٢ئ)\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nاَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا\n<br>\nمُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ !\n<br>\nجناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے دعائیں اور دعائوں کے طریقے سب ہی تعلیم فرمائے اور یہ چیزیں ایسی ہیں کہ جو انسان کچھ تو اپنی سمجھ سے نکالتا ہے اور کچھ ایسی ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ ہی کو پسند ہیں اور و ہی نبی کریم علیہ الصلوٰة والسلام کے ذریعے تعلیم فرمائی ہیں اس کے سوا اور کوئی ذریعہ تھا ہی نہیں ! مثال کے طور پر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے فرماتے ہیں کہ جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ایک شخص کو سنا کہ وہ دعا مانگ رہا تھا اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ تَمَامَ النِّعْمَةِ \'\'اے اللہ ! میں تجھ سے مکمل نعمت مانگتا ہوں \'\' تمامِ نعمت، نعمت ِکاملہ مانگتا ہوں ! جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے اس سے پوچھا تَمَامَ النِّعْمَةِ کیا ہے ؟ کہ نعمت بالکل مکمل ہوجائے یہ جو تم نے کلمات کہے تو ان سے مراد کیا ہے ؟ اور تَمَامَ النِّعْمَةِ تمہارے خیال میں کیا چیز تھی ؟ انہوں نے کہا عرض کیا دَعْوَة اَرْجُوْبِھَا خَیْرًا میں نے ایک دعا مانگی تھی اور اس میں مجھے امید تھی کہ مال مل جائے گا یا ایک طرح کا نفع حاصل ہوجائے گا، بھلائی حاصل ہوجائے گی ! ! \'\' خَیْر\'\' مال کو بھی کہتے ہیں اور \'\' خَیْر\'\' بھلائی کو تو کہتے ہی ہیں ، خیر اور شر دو متقابل الفاظ بولے بھی جاتے ہیں !\n<br>\nجناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے انہیں بتلایا اِنَّ مِنْ تَمَامِ النِّعْمَةِ دُخُوْلَ الْجَنَّةِ نعمت کا مکمل ہونا تو جب ہوتا ہے یا مکمل نعمت سے مراد تو یہ ہوسکتی ہے کہ جنت میں انسان داخل ہو اور جہنم سے بچ جائے وَالْفَوْزَ مِنَ النَّارِ جہنم سے بچنے میں کامیاب ہوجائے ،اگر ایسے ہوگیا تو اُس کو نعمت ِکاملہ حاصل ہوگئی ورنہ تمامِ نعمت نعمت ِکاملہ جسے کہا جائے گا وہ نہیں حاصل ہوئی ! !\n<br>\n آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم نے ان کے کلمات ہی جو انہوں نے استعمال کیے تھے سن کر اُن کے معنٰی معین فرمائے کہ اصل مطلب جو اِن کا بن سکتا ہے تو وہ یہ بن سکتا ہے ! !\n<br>\n جناب ِرسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ایک دفعہ سنا ایک شخص کہہ رہا تھا یَاذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ یہ جملہ ان کی زبان سے نکلا، رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا قَدِ اسْتُجِیْبَ لَکَ فَسَلْ تیری دعا قبول کرلی گئی تو مانگ یعنی تو دعا مانگ قبول ہوگی ! اب یہ ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہے، اللہ کی تعریف ہے کہ وہ بڑی عظمت والا ہے، مگر کلمات یہ ہیں ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ اور یہ کلمات شریعت نے بتلائے ہیں جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے بتلائے ہیں ، استعمال صحابی نے کیے ،ان کی زبان پر جاری ہوئے اور پھر آپ نے اس کی تاثیر بتلائی کہ تمہارے ان کلمات کا یہ اثر مرتب ہوا ہے کہ تم دعا مانگو دعا قبول ہوگی ! یہی فرق ہے عام انسانوں کے ذہن کا اور اس ذہن کا جو اللہ کی طرف سے بھیجا گیا تھا یعنی جناب ِرسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم \n<br>\nآپ سکھانے کے لیے بھیجے گئے تھے اور قدرتی بات ہے کہ ایسے قصے بہت ہوتے رہے کوئی پیش آتا اس پرکوئی بات ارشاد فرماتے تو اس کو دیکھنے والے جتنے ہوتے سب وہ محفوظ کرلیتے ! اس طرح سے ہم تک پہنچی ہیں تعلیمات ، ورنہ آپ کسی سے کوئی بات کہتے ہیں دس دفعہ پھر بھی بھول جاتی ہیمگر ایسا نہیں ہوا بلکہ ایک دفعہ بھی جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے کوئی بات فرمائی ہے تو وہ دس آدمیوں نے یاد کرلی، بیس نے یاد کرلی ،جتنے دیکھنے والے ہیں سب نے سمجھ لی اور یاد کرلی، اس طرح سے دین ہم تک پہنچا ہے ! ! \n<br>\n\'\'صبر\'\'کی دعا کب مانگنی چاہیے ؟\n<br>\nرسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے سامنے ایک دفعہ یہ قصہ پیش آیا کہ ایک صحابی کی زبان سے یہ جملہ نکلا اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الصَّبْرَ تو آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا\'\' صبر\'\' تو ہوتا ہے مشکلات پر، مصائب پر، تو\'\' صبر \'\'مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ پہلے تو تم نے مصیبت مانگی کہ مجھ پر مصیبت اُترے پھر صبر نصیب ہو مجھے ،گویا تم نے مصیبت مانگی اللہ سے ! کسی پر مصیبت اُتری ہوئی ہو ،اُس کو اپنے لیے یہ دعا کرنی کہ مجھے اس مصیبت پر صبر دے ! تو یہ الگ بات ہے، یہ صورت نہیں تھی وہاں پر، وہاں تو ویسے ہی ان کی زبان سے یہ جملہ نکلا تو آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا تم نے تو بلا آزمائش مصیبت مانگ لی اللہ تعالیٰ سے، اس کے بجائے تمہیں جب دعا کرنی ہو تو اس سے عافیت چاہو فَاسْئَلْہُ الْعَافِیَةَ ١ خداوند کریم توہم کو بس محفوظ رکھ ! !\n<br>\n \'\'عافیت\'\' کی دعا مانگنی چاہیے :\n<br>\n اور\'\' عافیت \'\'ایسا جملہ ہے کہ حدیث شریف میں آتا ہے ایمان کے بعد سب سے بڑی نعمت جو خدا کی ہے ایک انسان کے لیے ایک بندے کے لیے وہ عافیت ہے ! اور جسمانی عافیت ، روحانی عافیت، مالی عافیت، گھروالوں کی بھی عافیت اور دنیا کی اور آخرت کی عافیت طلب کرنے کو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے بڑا پسند فرمایا ہے اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْعَافِیَةَ فِی الدُّنْیَا وَالاٰخِرَةِ ... ٢ \n<br>\nاور ایسے ہی کلمات اور بھی بتلائے اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَةَ فِیْ دِیْنِیْ وَدُنْیَایَ وَاَھْلِیْ وَمَالِیْ ... ٣ \n<br>\nدین میں ،دنیا میں ، اہل میں ، مال میں ، رشتے داروں میں ، گھر والوں میں اور مال کے بارے میں سب کے بارے میں عافیت، تو سرورِ کائنات علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا کہ\'\' عافیت\'\' سب سے بڑی نعمت ہے خداوند کریم کی ایک بندے کے لیے ایمان کے بعد ! !\n<br>\n ١ مشکٰوة المصابیح کتاب الدعوات رقم الحدیث ٢٤٣٢\n<br>\n ٢ سنن ابوداود کتاب الادب ابواب النوم باب ما یقول اذا اصبح رقم الحدیث ٥٠٧٤\n<br>\n ٣ مشکٰوة المصابیح کتاب الدعوات رقم الحدیث ٢٣٩٧\n<br>\n ایمان سب سے بڑی نعمت ہے :\n<br>\nسب سے بڑی نعمت تو ایمان ہی ہے جس سے انسان اور اللہ کے درمیان تعلق درست ہوتا ہے اور اس کے بعد دوسرے درجے میں جو نعمت ہے وہ عافیت ہے ،اس سے بہتر اور کوئی چیز نہیں ہے ! !\n<br>\n رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کا فرمان حق ہے جو آپ نے فرمایا درست ہے اور تمام چیزوں میں شفقت ہے اور ہر چیز میں آپ نے وہ بتلایا جو بہتر سے بہتر ہوسکتا ہے ! !\n<br>\n اللہ تعالیٰ ہم سب کو آخرت میں آپ کا ساتھ نصیب فرمائے، آمین ! \n<br>\nاختتامی دعا.............\n<br>\n(مطبوعہ ماہنامہ انوار مدینہ فروری ١٩٩٤ئ)\n<br>\n٭٭٭\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nاہم اعلان \n<br>\n٭٭٭\n<br>\n شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب نور اللہ مرقدہ کی شخصیت و خدمات پر انوار مدینہ کی ایک خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں معاصرین ، تلامذہ ، متعلقین ومحبین حضرات کے تاثرات بھی شامل ہوں گے ! جو حضرات اپنے مضامین و مقالات ، تاثرات ، تعزیتی پیغامات یا منظوم کلام ارسال فرمانا چاہیں ، جلد از جلد درج ذیل پتے ، ای میل یا واٹس ایپ نمبر پر ارسال فرما دیں \n<br>\nعلاوہ ازیں اگر کسی کے پاس شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب کے ہاتھ کا لکھا ہوا مکتوب یا تحریر موجود ہو تو اسے بھی ارسال فرما دیں !\n<br>\nجو حضرات اپنے تاثرات زبانی بتانا چاہیں ، وہ اپنے نام ، پتے اور مکمل تعارف کے ساتھ درج ذیل نمبر پر صوتی پیغام (وائس میسج ) بھی ارسال فرما سکتے ہیں \n<br>\nاگر مضمون ، مقالہ ، مکتوب یا تاثرات کمپوز شدہ ہوں تو ان کی کمپیوٹر فائل بھی ای میل یا واٹس ایپ فرمادیں تو نوازش اور ادارے کے ساتھ دوہرا تعاون ہوگا \n<br>\nرابطہ : ڈاکٹر محمد امجدغفرلہ (03334249302) \n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n قسط : ١ \n<br>\n ولادت با سعادت سیّد الکونین رحمةللعالمین صلی اللہ عليہ وسلم \n<br>\nکی یاد کس طرح منائی جائے ؟\n<br>\n( شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد صاحب مد نی ) \n<br>\n٭٭٭\n<br>\nنَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الْکَرِےْمِ وَ عَلٰی اٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ\n اگرچہ یہ مسلَّم بدیہی اور واقعی حقیقت ہے کہ زمانہ کا کوئی ٹکڑا چھوٹا ہو یا بڑا گزر جانے کے بعد لوٹ نہیں سکتا اور اُس کے استحالہ کے لیے کسی استدلال یا تنبیہ کی ضرورت بھی نہیں ہے مگر زمانہ کی دورانی حرکت ہمیشہ ایسے متماثل ٹکرے پیش کرتی رہتی ہے جن سے یہی خیال بندھ جاتا ہے کہ ہو نہ ہو یہ اجزاء موجودہ وہی گزرجانے والے اجزاء ہیں اور پھر اِن اجزاء کا اس عالمِ مشاہدہ میں ان ہی سابقہ اجزاء کی کیفیتوں سے متکیف ہونا اور بھی اس خیال کو قوت دیتا ہے ! !\n<br>\nہر چوبیس گھنٹہ میں گزشتہ اجزاء کے مماثل صبح ،شام، دوپہر، رات، دن، سردی، گرمی، اندھیرے ،اجالے وغیرہ کا اپنے اپنے اوقات پر ہونا ، اسی طرح گزشتہ اجزاء کے لوٹ کر آنے کاخیال پیدا کرتا ہے جس طرح ہر ہفتہ میں دنوں کالوٹ پھیر اور ہرسال میں موسموں کا آنا جانا، فصلوں اور موسموں کا چکر لگانا، یہی نہیں کہ وہ محض عالمِ شہادت اور مادّی انقلابات اور جسمانی صفات کے کرشمے ہیں بلکہ اسی کے مثل یا اس سے زائد عالمِ روحانی کے بھی کوائف اور حالات رو نماہوتے رہتے ہیں ! اگر اخیررات کا حصہ ہمیشہ مطلع برکاتِ رحمانی ہوتا رہتا ہے تو ہر فجر کا وقت مہبط ِفرشتگانِ ربانی بنتا رہتا ہے ( اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْہُوْدًا ) ١ اگر وقت ِاستواء آفتاب مظہر جلال و غضب بن کر جہنم کے جھونکنے اور بھڑکانے کا ذریعہ بنتا رہتا ہے تو وقت ِ طلوع و غروب وسیلہ ٔ انتشار آثارِ شیطانیہ، اگر جمعہ کو رحمات ِالٰہی کی دھواں دھار بارش ہوتی رہتی ہے تو ہر دو شنبہ(پیر) اور جمعرات کو صحائف ِ اعمال کی پیشی ! \n<br>\n ١ سورہ بنی اسرائیل : ٧٨ \n<br>\nاگر رمضان میں طرح طرح کی رحمتیں اور نعمتیں جھڑی کی طرح برستی رہتی ہیں تو ہر ذی الحجہ میں انواع و اقسام کی نوازشیں باعث ِ فلاح و نجاح ہوتی رہتی ہیں ، قوانین ِاحکامِ تشریعہ بھی ان ہی مادّی اور روحانی انقلابات کے تابع ہو کر چکر لگاتے رہتے ہیں ! کون نہیں جانتا کہ ہر فجر اور ظہر اور عصر کے احکام اسی طرح نوبت بنوبت(باری باری) آتے رہتے ہیں جس طرح ہر جمعہ اور رمضان و ذی الحجہ وغیرہ ہفتہ وار اور سالانہ ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں ! !\n<br>\nاحکامِ دنیا میں جہاں گزشتہ اجزاء کا مماثل نمودار ہوا غلامانِ بارگاہ ِصمدیت میں وہی بے چینی پیدا ہو گئی جو پہلے اجزاء میں نمودار ہو چکی ہے، ماہِ شوال نے چہرہ ٔ ہلال نمودار کیا کہ عشاقِ بارگاہِ جمالِ حقیقی میں قلق واضطراب کا دور دورہ نمودار ہو گیا، عشق کی بیتابی اور محبت کی بے قراری نے راحت و آرام سے بیگانہ بنادیا ( اَلْحَجُّ اَشْھُر مَّعْلُوْمٰت )کی صدا اور ( وَاَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَأْتُوْکَ رِجَالًا وَّعَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ) ١ کے روحانی اعلان نے کوچہ محبوب ِ حقیقی یعنی بیت ِعتیق کے گردا گرد اُفتاں وخیزاں چکرلگانے ٢ پرآمادہ کردیا ! دیوانہ وار، دار ود یار ، بیوی بچوں ، زیب و زینت وغیرہ اسبابِ تجمل اور خوبصورتی کو تجے ہوئے ننگے سر، ننگے پیر، کفنی زیب ِبدن کیے ہوئے ،بلبل کی طرح بے قرارانہ نامِ محبوب لیتے ہوئے چیختے چلاتے جائے وعدہ ٔ وصال کی طرف روانہ ہوگئے ! نہ عقل و ہوش کی پروا ہے، نہ نا صح مدعی عقل وتہذیب کا خیال، نہ عزتِ دنیاوی کی فکر ہے ،نہ سردی اور گرمی کا خوف، دل میں محبوب ِ حقیقی اور اس کے کوچہ کا خیال ہے تو زبان پر اس کے نام کا وِرد جاری ہے ! وحشی جانوروں سے رشتہ مودّت ہے اور آبادی ٔ وطن سے نفرت ودُوری پھر بہار آئی چمن میں ، زخمِ دل کھلنے لگے \n<br>\nکہیں مجنونانہ طریقہ پر دوڑ رہے ہیں تو کہیں آستانہ ٔ بارگاہ ِ محبوبی کے بوسے لیتے ہوئے زبانِ حال \n<br>\n یہ اشعار پکار رہے ہیں :\n<br>\nاَمُرُّ عَلَی الدِّیَارِ دِیَارِ لَیْلٰی اُقَبِّلُ ذَاالْجِدَارِ وَ ذَاالْجِدَارٰ\n<br>\n\'\' میں لیلیٰ کے شہروں پر گزرتا ہوا کبھی اس دیوار کو چومتاہوں کبھی اس دیوار کو \'\'\n<br>\n ١ سورہ بنی اسرائیل : ٧٨ ٢ طواف \n<br>\nوَمَا حُبُّ الدِّیَارِ شَغَفْنَ قَلْبِیْ وَلٰکِنْ حُبُّ مَنْ نَزَلَ الدِّیَارٰ\n<br>\n\'\'میرے دل کو ان شہروں اور دیواروں کی محبت نے بے قرا رنہیں کیا بلکہ اس معشوق کی محبت مجھ کو بے قرار کر رہی ہے جواِن شہروں میں ٹھہرا ہوا ہے \'\'\n<br>\n غرضیکہ ہر طریقہ پر مادّی ہو یا روحانی، تکوینی ہو یا تشریعی اور ہر مذہب و ملت ہر قوم و ملک میں گزرنے والے اجزاء زمانہ کے مماثل اجزاء جب ظاہر ہوتے ہیں تو اسی قسم کی یاد اور اسی قسم کی خیرات برکات اسی قسم کے احوال و احکام کم و بیش نمودار ہوتے ہیں جن کاانکار تقریباً آفتاب کا نصف النہار کے وقت انکار کرنا ہوگا ! اور یہی فلسفہ عیدوں اور تہواروں وغیرہ کے سالانہ اور ماہوار ظہور کرنے کا ہے ! !\n<br>\nدریائے رحمت کا جوش :\n<br>\nآج سے تقریباً چودہ سو برس پیشتر ماہ ربیع الاوّل میں دریائے رحمت ِخداوندی کے ایسے جوش و خروش اور ایسے تلاطم اور تموجات کا ظہور ہوا تھا جس کی نظیر نہ زمانہ سابقہ میں پائی جاتی ہے اور نہ آئندہ کو اُمید ہے ،نہ صرف انسانی دنیا کی فلاح و نجات کی صورتیں اُس وقت ارادۂ قدیمہ نے نکالیں بلکہ تمام عوالم ١ کے لیے بہبودی اور ابدی زندگانی کا سامان کر دیا ! اس ناسوتی ٢ دنیا اور عالمِ شہادت میں اپناخاص پیارا اور مخصوص خلیفہ پیدا کیا جس کا ہر قول خباثات سے طہارت کا ذریعہ ہے، اور ہر عمل ترقی درجات اور کفارہ سیئات کا وسیلہ ،اور ہر خلق تزکیہ روحانی اور تقربِ خداوندی کا کفیل، اس کے تابعین ٣ پر رضوانِ الٰہی کا سایہ نچھاور ہوتا ہے، اس کے مددگاروں اور غلاموں کے لیے دونوں جہان میں سر خروئی اور کمال برستا ہے، اس کے معالجہ اور قوانین پر عمل کر نے والوں کے لیے ہر ہر قدم پر شفا اور سربلندی ہے ،اس کے مخالفین اور معاندین کے لیے ہمیشہ کی ذلت اور رُسوائی ہے ! ! \n<br>\nدرِ فیضِ محمد وا ہے ، آئے جس کا جی چاہے \n<br>\nنہ آئے آتشِ دوزخ میں ، جائے جس کا جی چاہے \n<br>\n ١ جہانوں ٢ عالمِ اجسام سے متعلق ٣ پیروی کرنے والوں پر\n<br>\nاُس کے نقش قدم پر چلنے والے لاہوتی ١ چوٹیوں سے سُر ملاتے ہیں ،اس کے طریقہ پر فدا ہونے والے کروبیوں ٢ کے ہمنشین بلکہ اس کے محسود کہلاتے ہیں ،اس آفتابِ ہدایت نے کتاب اللہ کی شعاعوں سے کفرو ضلالت کی تاریکیوں کو ملیامیٹ کردیا اور اس بادشاہ ِ روحانیت نے گزشتہ اشراقیت اور جوگیت کے دفاتر کو افسیانِ بے معنٰی بنادیا ! تمام عالم کے لیے وہ مشعلِ ہدایت لاکر رکھ دی جس کی تمنا مشہور و معروف اسرائیلی مقدس پیغمبر اپنے دل ہی میں لے کر گیا، فاران ٣ کی چوٹیوں سے وہ روشنی ظاہر کی جس نے تمام بر اعظموں ہی کو نہیں بلکہ عوالمِ جن ومَلک وغیرہ کو بھی روشن کردیا ،اگر جملہ ( یٰاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا ) ٤ اس کا شاہد حال ہے تو جملہ ( ھُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰی عَبْدِہ اٰیَاتٍ بَیِّنَاتٍ لِّیُخْرِجَکُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ اِلَی النُّوْرِ اِنَّ اللّٰہ بِکُمْ لَرَئُ وْف رَّحِیْم ) ٥ اس کی رسالت کا کاشف ِاسرار ، اگر جملہ ( وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ) ٦ اس کی رسالت کی حقیقت ِ حائطہ کو ظاہر کر رہا ہے تو جملہ (اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ ) ٧ اور ( فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ ) ٨ اور ( لَعَلَّکَ بَاخِع نَّفْسَکَ عَلٰی اٰثَارِھِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِھٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا) ٩ اس کی روحانی علت ِمادّیہ و صوریہ اور اس کی رحمت ِمجسمہ اور شفقت ِ محضہ ہونے کا برہان، یہ آفتاب ِہدایت اسی مبارک مہینہ میں روحانی دنیا سے منتقل ہو کر جسمانی اور مادّی دنیا میں ظاہر ہوتا ہے اور روزِ ہدایت و خیر کے زمانہ ٔ صبح صادق (چالیس برس) پورے کرکے اُفق ِاُم القری میں غارِحرا سے طلوع کرتا ہے، فاران کی چوٹیوں سے طاغوتی تاریکیوں کومحو کرتا ہوا \n<br>\n ١ عالم فناء فی اللہ ٢ فرشتے ٣ مکہ مکرمہ ٤ اے نبی ہم نے بھیجا ہے آپ کو شاہد (مبصر) بشارت دینے والا اور تنبیہ کرنے والا بنا کر اللہ کی طرف کی دعوت دینے والا اُس کے حکم سے اور سراج منیر ! ٥ وہی ہے جو اپنے بندے (محمد صلی اللہ عليہ وسلم ) پر واضح آیتیں نازل کرتا ہے تاکہ تم کو اندھیروں سے نور کی طرف نکالے بیشک اللہ تم پر بہتر مہربان ہے بہت رحم والا ٦ نہیں بھیجا ہم نے تم کو مگر مہربانی کرنے کے لیے تمام جہانوں پر ! \n<br>\n ٧ بے شک آپ بہت بلند اخلاق کے مالک ہیں ٨ خدا کی کتنی بڑی مہربانی ہے کہ آپ نرم ہیں اُن کے لیے ٩ شاید آپ تو اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے اُن کے پیچھے اگر وہ اِس قرآن پر ایمان نہ لائیں ! !\n<br>\n تمام جزیرہ عرب کو اپنی قوت ِ عزم اور نہ جھکنے والی ہمت سے مصلحانِ عالم کا مر کز اور معدن بنادیتا ہے ! ہر قسم کی روحانی بیماریوں اور جسمانی برائیوں کا عالم انسانی سے اپنے لائے ہوئے کیمیاوی نسخہ کے ذریعہ سے ازالہ کرتا ہوا متبعین کو حیات ِ ابدی عطا کرتا ہے ! !\n<br>\nآج اسی آفتاب ِ ہدایت کی اس دنیائے دوں میں روشنی اور نور پھیلانے کی یاد تازہ کرنے والا زمانہ سایہ گُستر ١ ہو رہا ہے ،ایک جماعت اس یادگار میں موتیوں کو چھوڑ کر حباب ٢ پر ریجھ جاتی ہے اور اُس مجسمہ ٔ ہدایت و رحمت کی تشریف فرمائی کی یادگاری میں مجالس زیب و زینت، سرو ر و روشنی وغیرہ منعقد کرتی ہوئی اُمم غیر اسلامیہ کی تقلیدی تاریکی اختیار کرتی ہے اور فقط اس ظاہری نمود و احتشام اور زبانی کارر وائیوں کو اَدائے حقوق کا ذریعہ سمجھتی ہے ! ع \n<br>\nقَوْم نِیَام تَسَلُّوا عَنْہُ بِالْحِلْمِ\n<br>\n\'\'یہ سونے والے لوگ ہیں کہ محو ِخواب ہو کر بے غم ہوگئے ہیں \'\' ٣ \n<br>\nاربابِ بصیرت اپنی خداداد قابلیت کو کام میں لاتے ہیں اور اس آفتابِ ہدایت کی لائی ہوئی سچی روشنی اور حقیقی ہدایت پر پوری توجہ اور مکمل عنایت صرف کرتے ہوئے اپنی عملی اور ارادی قوتوں کو اَز سر نو فیضیاب اور فائدہ مند ہونے کے لیے تیار کرتے ہیں ! احیائے سنت اور نشرِ علومِ نبویہ کے لیے دوگنی چوگنی قوت صرف کرنے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں جو جو اور جس جس طرح عالمِ انسانی کی خدمتیں اُس حکیمِ روحانی اور مصلحِ حقیقی نے انجام دی ہیں اُن کے لیے ہر قسم کی سر گرمی کو دہرانا ضروری سمجھنے لگتے ہیں ! غرضیکہ یہ مہینہ ہمیشہ ان کے قوائے علمیہ اور عملیہ میں وہ حرارت اور شادابی پیدا کرتا ہے جو مارچ و اپریل درختوں میں اور اساڑھ و ساون کاشت کی زمینوں میں اور فصل بہار بلبلوں کے دل ودماغ میں اور ماہِ رمضان المبارک عالمِ علوی میں ، چونکہ جناب سر ور کائنات علیہ الصلٰوة والسلام کا \n<br>\n مقصد اس عالمِ انسانی میں حکومت کا قائم کرنا، بادشاہت کا حاصل کرنا، دنیاوی رعب ودبدبہ کا پیدا کرنا، خزانوں کا جمع کرنا، دوسری قوموں اور ملکوں کو غلام بنانا، قوموں کی تجارت زراعت صنعت و حرفت پر \n<br>\n ١ مہربان ٢ بلبلہ ٣ درد محبت سے خالی ہوگئے ہیں \n<br>\nقبضہ جمانا وغیرہ وغیرہ نہ تھا بلکہ ایسا مقدس اور برتر مقصد تھا کہ جس سے عالمِ انسانی اور تمام مبعوثِ الیہم ١ کی دینی اور دنیاوی اصلاح ہوجائے، ان کی روحانی اور جسمانی بیماریاں دور ہوجائیں ، ان کے لیے دونوں جہان کی ترقیاں اور راحتیں بہم پہنچ جائیں وہ ہر دو تعلقات ٢ میں پورے پورے مکمل بن جائیں ! ان کی ہر قسم کی کمزوریاں اور تکلیفیں دور ہوجائیں ، ان کی یہ زندگانی اور مستقبل کی زندگانی ٣ نہایت راست وآرام کی ہوجائے ،ان کے لیے وہ کمالات ِ روحانیہ و جسمانیہ جن کی بنا پر وہ نعمت ِخلافتِ عظمیٰ سے تکریم کیا گیا ہے حسب ِاستعداد حاصل ہوجائیں ، اس لیے اس آفتاب ِ ہدایت (علیہ الصلٰوة والسلام) نے ایسے ایسے وسائل و ذرائع لو گوں کی اصلاح وتفہیم کے لیے اختیار کیے جن میں سراسر شفقت و رحمت، ہمدردی و غمخواری، حلم و تحمل ،استقلال و ہمت، صبرو احسان وغیرہ مربیانہ اور حکیمانہ اخلاق بھرے ہوئے تھے ! \n<br>\nاتباعِ رسول صلی اللہ عليہ وسلم :\n<br>\n وہ محض تبلیغ کے لیے پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ ایک بڑا مقصد یہ بھی تھا کہ انسان جو کہ طبعی طورپر مقلد واقع ہوا ہے اُس کو اور اُس کے کارناموں کو بغور دیکھے اور اپنے آپ کو بھی اسی رنگ و رُوپ میں رنگ لے گویا کہ وہ ایک نمونہ ہے جس کی صورت و سیرت پر بن جانا مالک ِ حقیقی عز شانہ کی طرف سے طلب کیا جاتا ہے\n<br>\n( قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ ط وَاللّٰہُ غَفُوْر رَّحِیْم ) ( سورة الِ عمران : ٣١ )\n<br>\n\'\'اے محمد ( صلی اللہ عليہ وسلم ) ان لو گوں سے کہہ دو کہ اگر تم کو خدا کی محبت ہے تو میرے پیچھے چلو (یعنی میرے جیسے بن جاؤ) خدا تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحمت کرنے والا ہے \'\'\n<br>\n ( مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ ) ( سورة النساء : ٨٠ )\n<br>\n\'\' جس نے رسول( علیہ السلام )کی اطاعت کی اُس نے خدا کی اطاعت کی\'\'\n<br>\n ١ جن جن امتوں کی طرف انبیاء بھیجے گئے علیہم السلام ٢ یعنی تعلقِ خَلق باخالق اور تعلقِ خَلق باخَلق\n<br>\n٣ جو کہ اس دارِ فانی کی مفارقت کے بعد شروع ہونے والی ہے\n<br>\n( لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَة حَسَنَة ) ( سورة الاحزاب : ٢١ ) \n<br>\n\'\'تمہارے لیے رسول اللہ میں عمدہ اقتداء ہے\'\' \n<br>\nپھر یہاں تک بھی اکتفا نہیں ہے بلکہ اس مجسمہ ٔ رحمت و ہدایت کی روحِ پاک اپنی تیز و تند قوتوں کے ذریعہ سے لوگوں کے قلبی اور روحانی میل کچیل، نجاست و خباثت کو اُسی طرح دور کرتی تھی جس طرح مادرِ مہربان اپنے ننھے ننھے بچوں کے جسم اور کپڑوں سے ظاہری نجاستوں کو دور کرتی ہے !\n<br>\n اگرچہ یہ جملہ ( یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ ) ١ \'\' پڑھتا ہے بندگانِ خدا پر تیری آیتیں اور اُن کو خدا کی کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے\'\' قرآن شریف کے الفاظ اور اس کے معانی کی تعلیم اور احکامِ شرعیہ کے علل واسباب کی تدریس پر دلالت کرتا ہے ! تو جملہ ( یُزَکِّیْہِمْ ) \'\'اورپاک وصاف ان کو کرتا ہے\'\' اسی باطنی تزکیہ اورروحانی تجلیہ پر شاہد عدل ہے ! اس کے علاوہ اور بھی بہت سے مقاصد ہیں جن پر روشنی ڈالنا مقصود نہیں ہے ! !\n<br>\nقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ عليہ وسلم اِنَّ اللّٰہ اِذَا اَرَادَ رَحْمَةَ اُمَّةٍ مِنْ عِبَادِہ قَبَضَ نَبِیَّہ قَبْلَھَا فَجَعَلَہ لَھَا فَرَطًا وَّسَلَفًا بَیْنَ یَدَیْھَا وَاِذَا اَرَادَ ھَلَکَةَ اُمَّةٍ عَذَّبَھَا وَنَبِیُّھَا حَیّ فَاَھْلَکَھَا وَھُوَ یَنْظُرُ فَاَقَرَّ عَیْنَہ بِھَلَکَتِھَا حِیْنَ کَذَّبُوْہُ وَعَصَوْا اَمْرَہ ۔ ٢\n<br>\n\'\'آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی امت پر اپنے بندوں میں سے رحمت کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے پیغمبر کو امت سے پہلے وفات دے کر اُس کو اُمت کا پیش خیمہ (سامانِ قیام و طعام وغیرہ درست کرنے والا) اور آگے جانے والا بنادیتا ہے ! اور جب کسی قوم کے عذاب کا اِرادہ کرتا ہے تو قوم کو پیغمبر کی زندگی میں ہلاک کر دیتا ہے کہ پیغمبر اُن کو ہلاک ہوتے ہوئے دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے کیونکہ ان لو گوں نے اس کی تکذیب کی تھی اور اس کے احکام و اَوامر کے خلاف کیا تھا\'\' \n<br>\n ١ سورة البقرة : ١٢٩ ٢ صحیح مسلم کتاب الفضائل باب اذا ادا اللّٰہ تعالیٰ رقم الحدیث : ٥٩٦١\n<br>\n سچے متبعین اور اَربابِ عقل وفہم پر(اس خاص مہینہ کے ظہور کرتے ہوئے جو کہ نہ صرف ولادت باسعادت کا مبارک وقت ہے بلکہ ہجرت بھی(جس کے ذریعہ سے شوکت ِ اسلام کا آفتاب روز افزوں ترقی کرتا ہوا نمودار ہوا) اسی مبارک مہینہ میں واقع ہوئی ہے اور وفات مبارک بھی(جو کہ اُمت کے لیے عالمِ برزخ اور بارگاہِ رب العزت میں ذریعہ صد ہزار رحمت و مغفرت ہے) اسی مہینہ میں واقع ہوئی ہے) ! ! جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے مقصد ِ بعثت آپ کے طرزِ عمل اور آپ کی تلقین کا وہی جذبہ منعکس ہوجانا چاہیے جس کا روشن چراغ آپ کے قلب ِمبارک اور رُوحِ پُر فتوح میں ہمیشہ نور افشاں رہا، اُمورِ زائدہ جو دوسروں کی دیکھا دیکھی مسلمانوں میں رو نما ہوگئے ہیں وہ قابلِ اعتبار نہیں ہیں ، ہماری ہمت تمام عالمِ انسانی کی اصلاح اور خیر خواہی کی طرف متوجہ ہونی چاہیے ! ہم کو اِس مبارک مہینہ میں جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی بتلائی ہوئی باتوں ،آپ کی لائی ہوئی شریعت، آپ کے اوصاف ِ حسنہ اور تعلیم وغیرہ پر کاربند ہونے اور جناب کے نمونہ پر بن جانے کے لیے عزمِ مصمم میں نہ صرف تجدید پیدا کرلینا چاہیے بلکہ اس کی عملی کار روائی بھی بڑے پیمانہ پر ہویدا کرنی چاہیے ! !\n<br>\nغرضیکہ ہم تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے نقش ِ قدم پر چلنے کا نشاط اور اُس کی گرمی اور قوتِ عزم اس ماہ میں اُسی طرح پیدا کریں جیسا کہ آپ میں تھی ! اور جیسی ایک سچے فدائی اور مخلص تابعدار میں ہونی چاہیے ! غیروں سے بھی ویسا ہی طرزِ عمل اختیار کریں اور اپنوں سے بھی وہی صورت پیدا کریں ! !\n<br>\nاخلاقِ نبوی :\n<br>\nجنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ان ہی مقاصد ِ عالیہ کی غرض اور تمام عالمِ انسانی کی بہبودیٔ دنیا وآخرت کی وجہ سے ہر قسم کی تکلیفیں اٹھائیں ،اپنی راحت وآرام کو ترک کردیا ، لو گوں کی سخت اور سست باتوں کی پرواہ نہ کی اور سہتے رہے، عزت و ناموسِ ظاہری کو خاک میں ملادیا، اہل و عیال رشتہ ناطہ سب کو خیر باد کہہ دیا مگر اپنے کام اور ارادہ میں فتور نہ آنے دیا ! دشمنوں کی گالیوں کا بدلہ صَفْح جَمِیْل سے دیا ان کے مظالم کا مقابلہ صبر جمیل سے کیا، ان کی خود غرضیوں اور جہالتوں کا عوض ہجر جمیل اور خاموشی کو بنایا، دشمنوں نے ہر قسم کی وحشت و بربریت کواختیار کیا مگر آپ نے انصاف وعدالت وخیر خواہی اور ہمدردی ہی کو سامنے لانا ضروری سمجھا، انہوں نے رشتہ داری کو قطع کیا مگر آپ نے رشتوں کی رعایت اور صلہ رحمی میں سرِ مو فرق نہ آنے دیا ،انہوں نے نت نئے مظالم توڑے وحشت و بربریت کے مظاہرے کیے مگر آپ نے اپنی مروّت، سیر چشمی، عالی حوصلگی، بہادری، انسانیت، اخلاقِ حسنہ کو آخر دم تک نبھایا،\n<br>\nمکارم اخلاق کا وہ عملی گلدستہ پیش کیا کہ وہ وحشی قوم جو اپنی جہالت اور بد اخلاقیوں میں اپنا نظیر نہیں رکھتی تھی مردم آزاری نخوت و غرور وغیرہ میں اس کا پلہ تمام اقوامِ دنیا سے زیادہ بھاری تھا وہ سب کی سب نہایت تھوڑی مدت میں جان و مال عزت اولاد سب کچھ قربان کرنے کے لیے صرف تیار ہی نہیں ہوگئی بلکہ اس نے ایسا ثبوت دے دیا کہ جس کی نظیر ابتدائے دنیا سے آج تک کوئی تاریخ پیش نہیں کر سکتی ! اس کے قلوب واَرواح خدائے وحدہ لاشریک لہ کی محبت اور خوف سے بھر گئے، اس کے ہاتھ پاؤں اور جملہ اعضاء خدا وندی خوشنودی کے بندے بن گئے، ان میں علمی تموج اور اخلاقی انقلاب ایسا رو نما ہو گیا کہ وہ تمام اقوامِ عالم کے معلم اور رہنما ہوگئے، ان میں اصول جہانبانی اور قوانینِ اصلاحِ عالمِ انسانی کے ہر ہر شعبہ نے اس طرح جگہ کرلی کہ نہایت قلیل مدت میں ہجرِ ملائک سے لے کر ہمالیہ کی چوٹیوں تک اور کوہِ ارال ١ سے لے کر صحرائے افریقہ تک امن واَمان ،عدل و انصاف، معرفت اور علم، تمدن وسیاست، عروج و ترقی پھیلا دیا ! اقوام عالم اس صداقت اور حقانیت کو دیکھ کر برضاء رغبت اسلام کی حلقہ بگوش ہوکر ( یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِ یْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا ) کے سماں میں آگئیں اور پھر ان حدود سے بھی متجاوز کرکے بحرالکاہل ٢ اور بحر منجمد شمالی ٣ تک بھی اسلام کا دریا موجیں مارنے لگا ! !\n<br>\nہندوستان میں جو حالت ہم مسلمانوں کے لیے موجودہ حکومت اور برادرانِ وطن کے معاملات کی وجہ سے نزاکت اختیار کرتی جا رہی ہے اس کے لیے بھی ہم کو آج یہ مبارک مہینہ وہی روشنی یاد دلا رہا ہے اور اُسی چمک میں آنے کے لیے بلا رہا ہے ،ہمارے لیے جو شاہراہِ عمل اسلام اور اس کے مقدس بانی نے تیار کردی ہے ،اسی کا اختیار کرنا ہمارے لیے ہر طرح موجب ِفلاح و بہبودی ہو سکتا ہے ! !\n<br>\n ١ Ural Mountains ٢ Pacific Ocean ٣ Arctic Ocean\n<br>\nاسلام کا مقصد اصلاحِ خُلق : \n<br>\nجبکہ اسلام کا نشوو نما اور اُس کا اطرافِ عالم میں پھیلنا محض بیمارانِ عالمِ انسانی کی مداوات کی غرض سے ہوا ہے اس کی اصل غرض اور غایت اور توجہ محض اصلاحِ خُلق ہے ! ملک گیری، خزانوں کا جمع کرنا، اقوامِ عالم کو غلام بنانا، شہنشاہی قائم کرنا، وغیرہ وغیرہ وہ نجس اور منحوس مقاصد نہیں ہیں جو اسکندر، رومی، چنگیز خاں ، ہلاکو خاں ، یورپین طاقتوں وغیرہ کے رہے ہیں وہ اپنی فوجی طاقتوں کا مظاہرہ کرنا نہیں چاہتا، وہ اپنی مالی اور تجارتی قوتوں سے اقوامِ عالم کی اقتصادی قوت اور معیشت کو برباد کرنا نہیں روا رکھتا، وہ کسی قوم اور شخصیت کا بندگانِ خدا کو پرستار بنانا نہیں چاہتا ،وہ کسی رنگ کسی ملک کسی زمین کو انسانی دنیا میں فوقیت دیناگوارا نہیں کرتا، وہ ہر ایک اُس انسانی فرد کو بر تری اور بزرگی کا گرانبہاتمغہ عطاکرتاہے جو اصلاح کو قبول کرتا ہوا متقی اور پر ہیز گار بن جائے خواہ کسی قوم کا ہو کسی رنگ کا ہو کسی زبان کا ہو ! ! \n<br>\n( یٰاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّاخَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا ط اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ اَتْقٰکُمْ) ( سورة الحجرات : ١٣ )\n<br>\n\'\'اے لو گو ! ہم نے تم کو ایک مرد (حضرت آدم علیہ السلام ) اور ایک عورت (حضرت حوا علیہا السلام ) سے پیدا کیا ہے اور تم کو تمیز اور پہچاننے کے لیے مختلف خاندان بنائے ہیں ، اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑائی اور بزرگی تم میں سے زیادہ پرہیزگاروں کی ہے \'\'\n<br>\n( اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَة فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ ) ( سورة الحجرات : ١٠ )\n<br>\n\'\'ایمان لانے والے سب کے سب آپس میں بھائی بھائی ہیں اس لیے تم بھائیوں میں صلح کرائو \'\'\n<br>\nاسلام کو حقیقت میں اقوامِ عالم اور مذاہب ِدنیا کے ساتھ وہی نسبت ہے جو کہ ایک شفیق حکیم کو مریضوں کے ساتھ اور ایک سمجھدار اور مہربان مربی کو اپنے بچوں اور اہلِ خاندان کے ساتھ ہوتی ہے لہٰذا اسلام کو ضرور بالضرور اُن نا سمجھ اور نادان مریضوں اور بچوں اور جاہل بے وقوف اہلِ خاندان سے طرح طرح کی تکلیفوں اور نا انصافیوں کا دوچار ہونا لازم ہے، وہ جو کچھ جو ر و جفا بے عقلی اور بے انصافی کریں ان کی طبعی اور لازمی بات ہوگی اور اس مصلح حکیم کو جس قدر فراخ دلی اور عالی حوصلگی ہمدردی، تحمل وبرداشت وغیرہ کرنا پڑے اُس کا فرضِ منصبی ہوگا ! ہاں جس طرح ایک طبیب ِ حاذق اور شفیق ڈاکٹر کا فرض یہ بھی ہوگا کہ اگر مریض میں مادّہ فاسد نہایت شد و مد سے جا گزیں ہو کر تمام جسم کو خراب کر رہا ہو آئندہ کو اُس سے طرح طرح کے اندیشے ہوں اور کسی صورت سے اس کادبانا اور تحلیل کرنا ممکن نہ ہو تومسہل کے ذریعہ یا نشتر کے وسیلہ سے اس کا اس قدر اخراج کردے کہ جسم کی اصلاح ممکن ہو جائے ، اسی طرح کبھی کبھی مخصوص صورتوں اور احوال میں اسلام کو بھی محض اصلاحِ عالمِ انسانی کی غرض سے تلوار اُٹھا کر شخص اکبر (عالمِ شہادت) کو مسہل دینا اور اس کے دُنبل ١ میں نشتر لگا کر مادّہ فاسد کو نیست و نابود کردینا ضروری ہوگا جس کو\'\' جہاد\'\' کہتے ہیں ! ! ٢ \n<br>\nجب عقلمند اور بے وقوف، متمدن اور وحشی، متبع قانون اور آزاد ٣ ، عالم اور جاہل کا مقابلہ ہوگا تو ہمیشہ صنف ِ اوّل پر اُن اُن مظالم کی بو چھاڑ ہوگی کہ وہ خود اُن کے کرنے سے عاجز ہوگی اس کو عقل و تمدن قانون اور علم میدانِ انتقام میں بے وقوفی، وحشت آزادی اور جہالت کی کار روائیوں سے روکیں گے اور مجبور کریں گے کہ وہ اس جگہ میں انسانیت اور قانون کو ہاتھ سے نہ جانے دے مگر صنف ِ ثانی حق کو چھپائے گی سچائی کو دبائے گی خود غرضی کی داد دے گی اور تعصب پر کار بند ہوگی ،باطل پرستی اپنا شعار بنائے گی ، نہایت شرمناک پرو پیگنڈا کر کے اہلِ حق کو اور صنف ِاوّل کو بدنام کرے گی اور اپنے آپ کو بے قصور دکھلاتی ہوئی ہر قسم کی قوتوں سے کام لے گی ! یہ معاملہ اسلام کے ساتھ دوسری قوتوں اور اغیار کا ہمیشہ سے رہا ہے ،کوئی نئی بات نہیں ہے مگر ہر زمانہ میں مقدس بانی ٔ اسلام \n<br>\n ١ پھوڑا ٢ یعنی تصور یہ ہے کہ پورا عالم انسانی ایک جسم ہے اور یہ اکابر مجرمین فرعون صفت جو راہِ حق میں حائل ہیں جنہوں نے دوسرے انسانوں کو یہاں تک دبا رکھا ہے کہ وہ اپنے متعلق اپنے ضمیر کی آواز پر بھی آزادی سے عمل نہیں کر سکتے، یہ فرعون صفت سر غنہ جسمِ انسانی کا دُنبل ہیں جس کے متعدی اثرات پورے جسم کو فاسد کررہے ہیں پس اِس مادّہ فساد کا آپریشن کر دینا ضروری ہے،جہاد کی حدت و شدت اِسی آپریشن کی حدتک رہتی ہے اوریہی اس کی غرض و غایت ہے ! ٣ آوارہ\n<br>\nاور اس کے متبعین مسلمانوں نے حق وصداقت عدل و تہذیب کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا ،ان کی جہالت و گمراہی کا جواب جہالت و گمراہی سے نہیں دیا \n<br>\n( یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوَّامِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَآئَ بِالْقِسْطِ وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰی اَلَّا تَعْدِلُوْا ط اِعْدِلُوْا ھُوَ اَقرَبُ لِلتَّقْوٰی وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللَّہَ خَبِیْر بِمَا تَعْمَلُوْنَ) ١ \n<br>\n \'\' اے ایمان والو ! ہو جاؤ تم اللہ تعالیٰ کے لیے (اس کی خوشنودی کی غرض سے) پوری پابندی کرنے والے، انصاف کے ساتھ گواہی اداکرنے والے ! اور کسی قوم کی دشمنی تم کو اس پر آمادہ اور بر انگیختہ نہ کرے کہ تم عدل و انصاف نہ کرو ! عدل کیا کرو کہ وہ پر ہیزگاری سے زیادہ قریب ہے ! اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال کی پوری خبر ہے\'\'\n<br>\n( وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ) ( سورة المائدہ : ٢ )\n<br>\n\'\'تم کو کسی قسم کی دشمنی اور بغض اس بنیاد پرکہ انہوں نے تم کو خانہ کعبہ سے روک دیا ہے اس پر بر انگیختہ اور آمادہ نہ کر دے کہ تم حد سے آگے بڑھ جاؤ اور تعدی کرنے لگو اور بھلائی اور پر ہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ و تعدی پر ایک دوسرے کی مدد مت کرو اور خدا سے ڈرتے رہو کیونکہ خداوند کریم سخت بدلہ لینے والا ہے \'\'\n<br>\nان ہی احکام کی بنا پر آنحضرت علیہ السلام اور اسلاف کرام ہمیشہ موافق اور مخالف دشمن اور دوست کو عدل اور انصاف کی نظروں سے دیکھتے رہے، دشمنوں کی جفاکاریوں کو ہمیشہ قانونِ الٰہی کی پابندیوں کی بنا پر اور اپنے ارادہ اور نصیحت و خیرخواہی کی وجہ سے پس ِ پشت ڈالتے رہے ،کبھی عدل وانصاف کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا ! ! (جاری ہے) \n<br>\n ١ سورة المائدة : ٨\n<br>\n٭٭٭\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nخطبات سید محمودمیاں (٨)\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nمحمود الملة والدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب\n<br>\n جامعہ مدنیہ جدید کی مسجد حامد میں جمعہ کا بیان فرمایا کرتے تھے جن کی ریکارڈنگ جامعہ کے استاذ مفتی محمد فہیم صاحب کرتے تھے، ان بیانات کی افادیت کے پیش نظر انہیں ماہنامہ انوارِ مدینہ کے ذریعہ ہر ماہ حضرت کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچانے کا اہتمام کیا جارہا ہے اللہ تعالیٰ حضرت کے اس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے،آمین۔ (ادارہ)\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nنبی علیہ السلام کی مدینہ منورہ تشریف آوری\n<br>\n( افادات : شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب )\n<br>\nعنوانات و نظر ثانی : ڈاکٹر محمد امجد \n<br>\n( ٢٦ جمادی الاولیٰ ١٤٣٥ھ / ٢٨ مارچ ٢٠١٤ ء )\n<br>\n٭٭٭\n<br>\n اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا \n<br>\nمُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ !\n<br>\nگزشتہ جمعہ ہم نے بتلایا تھا کہ اسلام میں جو مشہور اور چھوٹے بڑے جتنے بھی معرکے ہوئے ہیں ،یہ کیوں ہوئے ؟ ان کی وجوہات کیا تھیں ؟ اس سلسلے میں کچھ چیزیں آپ کو پہلے بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے ،آپ نے سب سے پہلے مدینہ منورہ سے پہلے ایک بستی قباء میں چودہ دن قیام فرمایا ، مختلف روایتیں ہیں اور پھر وہاں چودہ دن قیام کے بعد جمعہ کے دن نبی علیہ السلام مدینہ منورہ تشریف لائے !\n<br>\nنبی علیہ السلام کا استقبال :\n<br>\nمدینہ کے لوگ بہت خوش تھے ،تمام قبیلے والوں نے نبی علیہ السلام کا استقبال کر کے آپ کو اپنے اندر گھیر لیا اور قباء سے مدینہ تین چار میل کا فاصلہ بڑے جوش و خروش سے طے کیا ،نبی علیہ السلام اونٹنی پر تشریف فرما تھے اور آپ کے پیچھے حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بیٹھے ہوئے تھے اور باقی سب حضرات ساتھ پیدل چل رہے تھے اور پورے مدینے میں ایک جوش تھا، عورتیں بچے چھتوں پر چڑھے ہوئے تھے اور استقبال اور اکرام اور جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ، جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ کی صدائیں لگ رہی تھیں کہ اللہ کے رسول آگئے ، اللہ کے رسول آگئے صلی اللہ عليہ وسلم ہر ایک کی خواہش تھی کہ ہمارے ہاں ٹھہریں ہمارے محلے میں رک جائیں ہر ایک روکتا تھا کہ یہاں رک جائیے ، یہاں رک جائیے ! آپ نے اونٹنی کی لگام چھوڑ دی اور فرمایا کہ جہاں یہ بیٹھے گی وہی میرا ٹھکانہ ہوگا اللہ کی طرف سے ! چنانچہ آپ چلتے رہے حتی کہ ایک جگہ تھی وہاں جہاں صحابہ کرام پہلے سے نماز بھی پڑھا کرتے تھے اس جگہ بکریاں بھی باندھتے تھے وہاں کچھ اپنا کھیتی باڑی کا کام بھی ہوتا تھا وہاں پر اونٹنی بیٹھ گئی تو نبی علیہ السلام نے فرمایا بس یہی میرا ٹھکانہ ہوگا ! !\n<br>\n مسجد نبوی کی تعمیر :\n<br>\nپھر وہاں پر نبی علیہ السلام نے اس جگہ سے متعلق دریافت فرمایا تو معلوم ہوا کہ یہ یتیم بچوں کی ہے ! ان سے جگہ خریدنے کا کہا تو انہوں نے کہا ہم ایسے ہی دیں گے ! آپ نے فرمایا نہیں ، ایسے نہیں لوں گا پیسوں سے لوں گا خریدوں گا پھر لوں گا ! انہوں نے کہا نہیں ،ایسے ہی ! آپ نے فرمایا نہیں پیسے دے کر خریدوں گا ! بچے بھی تھے یتیم بھی تھے تو نبی علیہ السلامنے وہ جگہ خریدی ، غالباً حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ نے قیمت ادا کی اپنے گرہ سے اور وہاں مسجد قائم ہو گئی ! جگہ صاف کی گئی اس کے ساتھ دو حجرے بنائے گئے نبی علیہ السلام کے قیام کے لیے ، ازواج مطہرات کے رہنے کے لیے ! !\n<br>\nحضرت ابوایوب انصاری کے مکان میں قیام :\n<br>\n لیکن اس میں وقت لگنا تھا تو اس کے قریب حضرت ابو ایوب انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ کا مکان تھا تو انہوں نے پیش کش کی کہ میرے گھر پر قیام فرمائیں قریب بھی تھا ، اس سے پہلے سب کی خواہش تھی قرعہ بھی ڈالا تھا لوگوں نے کہ اللہ کے نبی آنے والے ہیں دیکھیں کس کے گھر ٹھہرتے ہیں اور قرعہ میں ابو ایوب انصاری کا ہی نام نکلا تھا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ تو انہوں نے اپنے مکان کی پیش کش کر دی ،دو منزلہ مکان تھا تو آپ نے فرمایا میں نیچے ٹھہروں گا کیونکہ لوگ آنے جانے والے بہت ہوتے ہیں ملنے والوں کو دِقت ہو گی تو نبی علیہ السلام نیچے کی منزل میں ٹھہرے ! چند ماہ نبی علیہ السلام وہیں ٹھہرے جب مکان اور مسجد کچھ بن گئی اور حجروں کے کمرے تیار ہو گئے تو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم اپنی ازواج کے ساتھ ان حجروں میں منتقل ہو گئے اور ایک معمول کی زندگی شروع ہوگئی ! ١\n<br>\nآسانی کے ساتھ ساتھ مشکلات بھی :\n<br>\n ایک تو آسانی ہجرت سے یہ ہو گئی کہ اللہ کی عبادت آزادی سے کرنے لگ گئے ! نماز ، روزہ قرآن کی تلاوت ، مذہبی جتنے معاملات تھے جن کی وہاں پابندی تھی اس سے آزاد ہو گئے لیکن مشکلات ختم نہیں ہوئیں مشکلات تو اور بڑھ گئیں کیونکہ اپنا دیس چھوڑ کر مہاجرین دوسرے دیس میں آگئے تو اپنے مکان کا عادی آدمی ہو جائے اور کسی ویرانے میں بیٹھنا پڑ جائے اللہ تعالیٰ بچائے آزمائش سے ، کیا گزرتی ہے ؟ کہاں اپنا مکان، اپنے بچے ،اپنی بیوی، اپنا گھر ،اپنا اصطبل ،اپنا گیریج ،سب ختم ! ! تو رہنے کو جگہ نہیں تھی ،کوئی بڑے مہمان خانے بھی نہیں تھے کہ اتنے سارے مہاجرین کو وہاں رکھیں ، مکان بھی فالتو نہیں تھے کہ وہ کرایہ پر لے لیں کہ چلو ہم کرایہ دے دیں گے مزدوری کر کے، انصار سے مکان لے لیں تو ان کے پاس بھی فالتو نہیں تھے فالتو ہو تو کرایہ پر دیں ، جس میں خود رہ رہا ہو آدمی اس مکان کو تو کرایہ پر نہیں دے سکتا تو خود کہاں جائے گا ؟ \n<br>\nمہاجرین اور انصار میں مواخات :\n<br>\nتو نبی علیہ السلام نے اس کا حل یہ کیا کہ مہاجرین اور انصار میں مواخات کرا دی ! \'\'انصار\'\' کا مطلب ہے مددگار کیونکہ مدینہ منورہ کے لوگ مددگار تھے اور\'\' مہاجرین \'\'جو دین کی خاطر اپنا وطن مکہ مکرمہ چھوڑ کر آئے ،ان دونوں میں مواخات کرا دی بھائی بھائی بنا دیا ! ایک صحابی کو اِس کا \n<br>\n ١ صحیح البخاری کتاب مناقب الانصار باب ھجرة النبی صلی اللہ عليہ وسلم رقم الحدیث ٣٩٠٦\n<br>\nاور ایک صحابی کو اُس کا، مہاجر کو فلاں انصاری کا، اب یہ جیسے سگے بھائی ہوتے ہیں ویسے ہو گئے، ایک اللہ نے بنایا ہے سگا بھائی وہ زیادہ مضبوط ہے اللہ کا بنایا ہوا اور ایک حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے بنایا وہ بھی مضبوط تھا لیکن اس سے کم درجے کا لیکن وہ بھی بھائی ہو گئے جس کی وجہ سے مہاجرین انصار کے ترکہ میں حصہ دار ہو گئے ! جو بھائی کا حصہ ہے وہ ان کا ہو گیا تھا کیونکہ اللہ کے رسول نے بھائی بنایا ،ہم ایک دوسرے کو بھائی بنا دیں تو ایسی چیز نہیں ہو گی بس بھائی تو پہلے ہیں ہی مسلمان سارے، مزید ذرا دوستی اور محبت بڑھ جائے گی لیکن وارث نہیں بنے گا ایک دوسرے کا ! لیکن رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے جو بھائی بنایا تووہ سگے بھائیوں کی طرح ہو گئے چنانچہ انصار نے بڑی زبردست مثال دی ! !\n<br>\nمہاجرین کی غیرت :\n<br>\nاُدھر مہاجرین کی غیرت کا یہ حال تھا کہ وہ یہ چاہتے نہیں تھے کہ ہم کسی پر بوجھ بنیں ،ہمارے کھانے کا ذمہ کسی پر آئے اور ہم بیٹھے رہیں ، ہمارے کپڑے کا ، رہنے کا بوجھ ،صحابہ کی غیرت یہ گوارا نہیں کرتی تھی ، عالم ہونا تو دور کی بات ہے جاہل بھی اگر سمجھدار ہو تو اُس کی غیرت بھی اس کو گوارا نہیں کرتی کہ میں کسی پر بوجھ بنو ں ،دیندار اور عالم اور علماء اس چیز کو کبھی گوارا نہیں کرتے کہ وہ کسی پر بوجھ بنیں ، انہیں یہ پسند نہیں تھا ! !\n<br>\n تو نبی علیہ السلام نے بھائی بنا دیا، بھائی بن کر یہ حال ہوا کہ ایک صحابی تھے حضرت سعد نام تھا ان کا ،حضرت عبدالرحمن بن عوف کو ان کا بھائی بنایا بہت مالدار تھے وہ اپنے گھر لے گئے انہیں ، بھائی بن گئے ،پردہ تھا نہیں ، اس وقت تک پردے کے احکام نہیں نازل ہوئے تھے پردہ کا حکم بعد میں نازل ہوا ہے اس لیے پردے کا تو تھا نہیں ،آمدورفت ہوتی تھی عورتیں بھی اسی طرح آتی تھیں باہر جاتی تھیں ، سر پر دوپٹہ رکھ لیتی تھیں بس ، اتنا ہو گیا باقی پردہ نہیں تھا تو انہوں نے انہیں اپنے گھر میں رکھا اور کہا کہ یہ میرا مال آدھا تمہارا آدھا میرا ! مال آدھا کون دے کسی کو ؟ مالدار کا تو مال بھی زیادہ ہوگا ! اور یہ بھی فرمایا کہ دیکھو یہ میری دو بیویاں ہیں ان میں سے جو تمہیں پسند ہو میں اسے طلاق دے دوں گا ! میری پسند نہیں کہا کہ میں اس کو رکھ لوں گا اسے چھوڑ دوں گا ،ان پر چھوڑ دیا جس کو تم پسند کرو اس کو میں طلاق دے دوں گا اس کے بعد تم اس سے نکاح کرلو کیونکہ اللہ کے رسول نے تمہیں بھائی بنا دیا ہے ! اب تم میرے بھائی ہو میرے اوپر تمہارا حق ہے جیسے میں اپنے لیے پسند کروں گا ویسے تمہارے لیے پسند کروں گا ! یہ بہت بڑا ایثار اور قربانی تھی !\n<br>\nصحابہ کرام کا مزاج :\n<br>\n لیکن میں نے عرض کیا ہے کہ صحابہ کا یہ مزاج نہیں تھا کہ وہ کسی پر بوجھ بنیں ،پہلے ہی ان کے احسانات تھے بہت، تو مزید لیں ؟ یہ مثال دی تھی، انہوں نے فرمایا بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ فِیْ مَالِکَ وَ اَھْلِکَ ١ \'\'اللہ تمہارے مال میں بھی برکت دے تمہارے اہل میں بھی برکت دے \'\'مجھے کوئی بازار بتا ئومیں وہاں جا کر محنت مزدوری کرسکوں ایسے نہیں بیٹھوں گا ! اور کوئی ہوتا کہتا یہ تو بڑا اچھا معاملہ ہو گیا میں بیٹھے بیٹھے جاگیردار بھی بن گیا بیوی بھی مل گئی بس ٹھیک ہے ادھر ہی رہیں گے ہم ، انہوں نے کہا نہیں مجھے جگہ بتائو \n<br>\nانہوں نے بتا دیا وہاں کچھ کاروبار ، چنانچہ وہ پھر بازار گئے انہوں نے اس طرح کیا کہ پنیر لے گئے ، پنیر کے بدلے وہاں یہ ہوتا تھا مکھن خرید لیا ،مکھن دے کے پنیر لے لیا ،کھجوریں دے کر گھی لے لیا ، ستو دے کے فلاں چیز خرید لی، اس طرح چلتے تھے بہت سے کاروبار ! درہم دینار بھی چلتے تھے لیکن جس کے پاس کچھ نہ ہو وہ پھر ایسے کر لیتے تھے ،کہیں مزدوری کر لی مزدوری میں پنیر مل گیا ستو لے لیا گھی لے لیا اجرت میں پھر اسے بازار میں بدل دیا پھر اور بڑھا وہ اس طرح کام کرتے رہے ، تھوڑے ہی عرصہ بعد مضبوط ہو گئے اتنے مضبوط ہوئے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ان کو دیکھ کر دریافت فرمایا یہ تمہارے کپڑوں پررنگ کیسا ہے ؟ کوئی رنگ لگا ہوگا کوئی گھر میں سے لگ گیا ہوگا ، کہنے لگے کہ یا رسول اللہ شادی کر لی، فرمایا : اچھا معاش مبارک ہو، بہت اچھی بات ہے یعنی اس قابل ہوگئے کہ وہ شادی کر سکیں وہاں پر، اپنے بازو سے کما کر پھر شادی کی ، پوچھا کیا مہر دیا ؟ کہنے لگے میں نے سونے کی ایک ڈلی مہر میں رکھی، اتنا آگیا مال کہ سونے کی ڈلی کے قابل ہو گئے تو انہوں نے پھر ولیمہ کیا ! فرمایا کہ میں نے یہ کیا تو دیگر صحابہ نے بھی اس طرح کیا ! ! \n<br>\nمواخات میں وراثت کب تک چلی ؟\n<br>\n اور یہ وراثت چلتی رہی غزوہ بدر تک کیونکہ بہت تنگ حالات تھے صحابہ کے ، مہاجرین جو تھے یہ کھیتی باڑی نہیں جانتے تھے ، مکہ میں تو زمین ہی بنجر تھی اس لیے اس فن سے واقف نہیں تھے، کھیتی باڑی کیسے ہوتی ہے ؟ مدینہ منورہ کی زمین ذرخیز تھی یہاں کے لوگ انصار کھیتی باڑی جانتے تھے اور مکہ مکرمہ کے لوگ تاجر تھے تجارت جانتے تھے چنانچہ انہوں نے یہی کہا کہ مجھے بازار بتاؤ ، میں تجارت کروں گا ، تجارت کی انہوں نے ،پھر وہاں پر رہے اور غزوۂ بدر تک یہ بھائی بنے رہے ایک دوسرے کے ! جب بدر کا غزوہ ہوا تو پھر صحابہ کے حالات کچھ تھوڑے سے بہتر ہو گئے تو یہ مواخات تو قائم رہی لیکن وارث بننے کا عمل ختم کر دیا نبی علیہ السلام نے کہ وارث نہیں ہوں گے ! کیونکہ ان کو بھی اللہ نے مضبوط کر دیا ان کے حالات اب بہتر ہو گئے ! !\n<br>\n اس کے بعد نبی علیہ السلام نے یہاں پر کیا کیا ؟ یہاں تشریف لانے کے بعد ایک سال گزرا اور دوسرا سال شروع ہی ہوا کہ بدر کا معرکہ ہوگیا، وہ کیوں پیش آیا ؟ نبی علیہ السلام نے یہاں پر کیا کیا ،کیسے کیا ؟ اس پر اللہ نے چاہا تو اگلے جمعہ بیان کریں گے اللہ تعالیٰ عمل کی اور سمجھ کی توفیق عطا فرمائے ، آمین ! \n<br>\nوَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ \n<br>\n٭٭٭\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n جامعہ مدنیہ جدید کے فوری توجہ طلب ترجیحی امور\n<br>\n٭٭٭\n<br>\n(١) مسجد حامد کی تکمیل\n<br>\n(٢) طلباء کے لیے دارالاقامہ (ہوسٹل) اور درسگاہیں \n<br>\n(٣) کتب خانہ اور کتابیں \n<br>\n(٤) پانی کی ٹنکی\n<br>\nثواب جاریہ کے لیے سبقت لینے والوں کے لیے زیادہ اجر ہے \n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nدرسِ حدیث (٨)\n<br>\nاسلامی مارشل قوانین (حصہ ششم)\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nمحمود الملة والدّین شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب\n<br>\n جامعہ مدنیہ جدید کی مسجد حامد میں \'\'خانقاہ حامدیہ چشتیہ \'\' کے تحت ہونے والی مجلس ذکر کے بعد ہر اتوار بعد نمازِ مغرب درس حدیث دیاکرتے تھے جن کی ریکارڈنگ جامعہ کے استاذ مفتی محمد فہیم صاحب کرتے تھے، ان دروس کی افادیت کے پیش نظراِن دروس کو ماہنامہ انوارِ مدینہ کے ذریعہ ہر ماہ حضرت کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچانے کا اہتمام کیا جارہا ہے، اللہ تعالیٰ حضرت کے اس فیض کو تاقیامت جاری و مقبول فرمائے،آمین (ادارہ)\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nفوج کو محاذ پر بھیجتے وقت عسکری ہدایات\n<br>\n( افادات : شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب )\n<br>\nعنوانات و نظر ثانی : ڈاکٹر محمد امجد غفرلہ\n<br>\n(٧ جمادی الاوّل ١٤٣٥ھ / ٩ مارچ ٢٠١٤ ء )\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nاَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا \n<br>\nمُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ !\n<br>\nامام محمد رحمة اللّٰہ علیہ نے اپنی کتاب اَلسِّیرُ الکبِیْر میں ایک باب باندھا ہے بَابُ وَصَایَا الاُمَرَائِ \'\'امیروں کو ہدایات\'\' یعنی فوج کو کسی محاذ پر بھیجتے وقت کیا کیا خاص ہدایات ہونی چاہییں ؟ اس میں سب سے پہلی روایت ابْنِ بُرَیْدَةَ کی امام ابو حنیفہ رحمة اللّٰہ علیہ سے نقل کی ہے اَنَّ النَّبِیَّ عَلَیْہِ السَّلَامْ کَانَ اِذَا بَعَثَ جَیْشًا اَوْ سَرِیَّةً قَالَ لَہُمْ جب کوئی بڑا یا چھوٹا لشکر کسی مہم پر بھیجتے تو انہیں سب سے پہلی ہدایت یہ فرماتے اُغْزُوْا بِاسْمِ اللّٰہِ کہ جاؤ بڑھو ،جہاد میں آگے قدم بڑھاؤ اللہ کے نام سے ! سب سے پہلے ان کا تعلق اللہ کی ذات سے جوڑتے اور اللہ کی ذات کی طرف متوجہ کرتے کیونکہ اللہ ہی کی طرف سے ہر قسم کی مدد اور نصرت آتی ہے اور ہر شر سے حفاظت سوائے اس کے کسی سے نہیں ہوتی !\n<br>\nاللہ کی مدد اور نصرت :\n<br>\nنبی علیہ السلام یہ بات سمجھا دیتے کہ تمہارے افراد کی تعداد ، تمہارے ہتھیار ، تمہاری جدوجہد ، تمہاری منصوبہ بندی ، جنگی نقشے بنانا یہ سب اُسی وقت کارگر ہوں گے جب اللہ کی مدد اور نصرت شاملِ حال ہوگی ! اس طرف توجہ پھیرتے تھے کیونکہ انسان کی توجہ عام طور پر اُن چیزوں کی طرف زیادہ جمتی ہے اور جلدی جاتی ہے جو نظر آتی ہوں ، سامنے ہوں ، حسی چیزوں پر زیادہ خوش ہو جاتا ہے اور اعتماد کرتا ہے ! تو ان پر ایک حد تک اعتماد تو درست ہے لیکن انحصار اُن پر درست نہیں ہے ! انحصار اور اعتماد سمجھایا گیا کہ اللہ کی ذات پر ہونا چاہیے ! !\n<br>\n یہ وہ بات ہے جو ہر مسلمان جرنیل کو سکھائی جائے، چاہے وہ پاکستانی فوج کا ہو ، چاہے وہ سعودی عرب کی فوج کا ہو ، چاہے بنگلہ دیش کی فوج کا ہو ، جس فوج کا بھی ہو اُنہیں یہ باتیں بتانی ضروری ہیں ! اس کی برکت سے مادّی قوت میں اللہ کی مدد سے طاقت پیدا ہوتی ہے ،معنوی طاقت جو دشمن پر رعب پیدا کرتی ہے ! یہ بات سب سے پہلے نبی علیہ السلام سکھاتے تھے ! !\n<br>\n امام محمد رحمة اللّٰہ علیہ نے اَلسِّیَرُ الصَّغِیْر کو بھی اسی سے شروع کیا ! امام محمد رحمة اللّٰہ علیہ نے ایک حدیث ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کی ذکر کی بَعَثَ اَبُوْبَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَزِیْدَ بْنَ اَبِیْ سُفْیَانَ عَلٰی جَیْشٍ کہ حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے یَزِیْد بِنْ اَبُوْ سُفْیَانَ حضرت ابوسفیان رضی اللّٰہ عنہ کے بیٹے یزید کو بھیجا اور پھر ساتھ چلے اور نصیحت فرمائی ہدایات فرمائیں ! !\n<br>\n\'\'یزید\'\' نام نفرت کی علامت بن گیا :\n<br>\nحضرت ابو سفیان کے ایک بیٹے حضرت معاویہ رضی اللّٰہ عنہ تھے، ان کے ایک بیٹے یزید بھی تھے ، پھر حضرت معاویہ کے اپنے ایک بیٹے کا نام بھی\'\' یزید\'\' تھا ، تاریخ میں یزید تو بہت بڑے بڑے لوگوں کے نام ہوئے ہیں ، اچھے لوگوں کے بھی ہوئے لیکن وہ\'\' یزید\'\' جو تھا اس نے ایسی حرکتیں کیں جس کی وجہ سے قیامت تک امت میں یہ نام لوگوں میں ایک نفرت کی علامت بن گیا ! لوگ اپنے بچوں کا یہ نام بھی نہیں رکھتے، گالی بن گیا ! حضرت حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا ، مدینہ منورہ پر حملہ کیا ، تین دن مدینہ منورہ کو حلال رکھا اور ایسی خرافات اس نے کیں جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کے نام کو گالی بنا دیا ! !\n<br>\nبہرحال حضرت ابو سفیان رضی اللّٰہ عنہ کے بیٹے یزید کو بھیجا اور پھر ساتھ چلے اور نصیحت فرمائی ہدایات فرمائیں ، اس میں معلوم ہو رہا ہے کہ جو فیلڈ مارشل ہو وہ ساتھ بھی چلے ثواب کے لیے ! ! ایک فوجی ضابطہ ہے ، فوجی ضابطے کے لیے اس کا ساتھ چلنا ضروری نہیں ہے ، اسلامی فوج میں دو چیزیں ہیں ،ایک فوجی ضابطے اور ایک اللہ کی مدد اور ثواب ! ! کافروں کی فوج میں ثواب کا تصور نہیں ہے، مسلمانوں کی فوج میں ثواب ، عذاب یہ سب چیزیں آتی ہیں ،جائز ناجائز آئیں گی ،کافروں کے ہاں جائز ناجائز نہیں ہے ، ان کے ہاں رولز آئیں گے جو ہر ملک نے اپنے بنا رکھے ہیں بس اس پر کہتے ہیں کہ یہ قانون ہے ، یہ قانون نہیں ہے ! جبکہ دوسرے ملک نے اس کو غلط کہہ رکھا ہوگا ،وہاں کہیں گے یہ قانون نہیں ، ایک ملک نے قانون بنا رکھے ہیں کہیں گے کہ یہاں کا یہ قانون ہے ! ! \n<br>\nاسلامی قوانین کا معیار :\n<br>\nاسلام کا معیار اور طرح کا ہے اس میں قانون وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے دیے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے اور صحابہ کرام نے اپنے مشورے سے یا اجماعِ امت سے جو طے ہو جائے وہ قانون ہے وہ اٹل قانون ہے ! !\n<br>\nامام محمد فرماتے ہیں کہ چلے اور نصیحت فرمائی ہدایات فرمائیں ان کو اور جب یہ چلنے لگے تو یَزِیْد بِنْ اَبِیْ سُفْیَانَ نے کہا یَا خَلِیْفَةَ رَسُوْلِ اللّٰہْ کہ اے اللہ کے رسول کے خلیفہ اَنَا الرَّاکِبُ وَاَنْتَ الْمَاشِیْ میں تو سوار ہوں آپ پیدل چل رہے ہیں تو یہ مناسب نہیں ہے بے ادبی ہے ! فَاِمَّا اَنْ تَرْکَبَ وَاِمَّا اَنْ اَنْزِلَ یا تو آپ بھی سوار ہو جائیں یا پھر میں بھی اُترتا ہوں ، پیدل چلتا ہوں ! تو حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا مَا اَنَا بِالَّذِیْ اَرْکَبُ وَلَا اَنْتَ بِالَّذِیْ تَنْزِلُ نہ میں سوار ہوں گا، نہ تم اُترو گے اسی طرح چلتے رہو ! تم سواری پر رہو اور میں پیدل ساتھ چلوں گا ! !\n<br>\nاِنِّیْ اَحْتَسِبُ خُطَایَایَ ہٰذِہ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ میں اپنے ان قدموں کا اللہ سے اجر و ثواب کی اُمید رکھتا ہوں ، اس لیے پیدل چل رہا ہوں تھوڑی دیر تاکہ اللہ تعالیٰ سے اس جہادی مہم پر جو تم جا رہے ہو ان کا تو حصہ تھا ہی تھا یہ تو کمان کر رہے تھے ابوبکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ان کا تو ہر چیز میں حصہ ہے جو بھی جو کارروائی جہاں کرے ،لیکن ایک اپنا عملی جذبہ بھی تھا کہ اس مہم پر تم جو جا رہے ہو میں اس میں اللہ تعالیٰ سے اجر اور ثواب کی امید رکھتا ہوں ان قدموں پر جو میں اُٹھا رہا ہوں تمہارے ساتھ ! !\n<br>\nغازیوں کے ساتھ مشایعت :\n<br>\n اس میں امام محمد ایک حدیث نقل کرنے کے بعد بتاتے ہیں فِیْہِ دَلِیْل عَلٰی اَنَّہُ یَنْبَغِیْ لِلْمَرْئِ اَنْ یَّغْتَنِمَ الْمَشْیَ فِیْ تَشْیِیْعِ الْغُزَاةِ غازیوں کے ساتھ کچھ دیر ساتھ رہ کر مناسب ہے آدمی کے لیے کہ اس کو غنیمت جانیں ان کی مشایعت کو کہ یہ اجر و ثواب کا ذریعہ ہے ،پیسے نہیں ملے ، مالِ غنیمت بھی نہیں ملا ، وہ تو لشکر بھیج دیا ، پتہ نہیں فتح ہوتی ہے نہیں ہوتی یہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن ثواب یقینی ملے گا اس لیے اس کو غنیمت جانے اور شریک ہو ،ساتھ دے کچھ دور تک چاہے جانا پڑے اور یہ بھی آتا ہے انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم یَقُوْلُ مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاہُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَجَبَتْ لَہ الْجَنَّةُ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے یہ فرمایا کہ\'\' جس آدمی کے قدم اللہ کے راستے میں غبار آلود ہوں گے اس کے لیے جنت واجب ہے \'\' تو اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لیے ساتھ چلے ! !\n<br>\n حضرت انس سے بھی ایک روایت ہے کہ مَا اجْتَمَعَ غُبَار فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَدُخَانُ جَہَنَّمَ فِیْ جَوْفِ مُسْلِمٍ \'\'مسلمان کے جوف میں ، جسم میں کسی بھی حصے میں ،جو بھی جوف ہے اس کا اندر کا ، اس میں اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہو سکتے \'\' ! یہ اللہ تعالیٰ نے نبی عَلَیْہِ السَّلَامْ کے ذریعے بات بتائی ہے !\n<br>\nحضرت ابوبکر کا عمل :\n<br>\nاس کے بعد امام محمد رحمة اللّٰہ علیہ حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ایک اور روایت سے فرماتے ہیں کہ اَنَّہُ اَتٰی بِرَاحِلَتِہ لِیَرْکَبَ وہ بڑھے اپنی سواری کی طرف تاکہ سوار ہوں لیکن ابھی کچھ دور ہی چلے فَقَالَ بَلْ اَمْشِیْ فرمانے لگے نہیں میں پیدل چلوں گا فَقَادُوْا رَاحِلَتَہُ وَہُوَ یَمْشِیْ خدام ان کی راحلہ ساتھ ساتھ لے کر چلے ، سواری موجود تھی لیکن وہ پیدل چلتے رہے وَخَلَعَ نَعْلَیْہِ پھر ابوبکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے جوتے بھی اُتار دیے وَاَمْسَکَہُمَا بِِاِصْبَعَیْہِ اور اپنی دونوں انگلیوں میں اس طرح اس کو پکڑ لیا جوتوں کو اُٹھا لیا رَغْبَةً اَنْ تَغَبَّرَ قَدَمَاہُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اس جذبے کے تحت کہ ان کے پیر اللہ کے راستے میں غبار میں بھر جائیں غبار آلود ہو جائیں کیونکہ حدیث میں آ گیا کہ جس کے قدم اللہ کے راستے میں غبار آلود ہوں گے اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی ! !\n<br>\n حضرت ابو بکرصدیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے ایسا نبی علیہ السلام کی اقتدا میں کیا وَاِنَّمَا فَعَلَ ذٰلِکَ اَبُوْ بَکَرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ہَذَا اِقْتِدَائً بِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم فَاِنَّہُ حِیْنَ بَعَثَ مُعَاذًا اِلٰی الْیَمَنِ شَیَّعَہُ وَمَشٰی مَعَہُ مِیْلًا اَوْ مِیْلَیْنِ اَوْ ثَلَاثَةَ اَمْیَالٍ نبی علیہ السلام نے حضرت معاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ کو جب یمن کی طرف بھیجا تو نبی علیہ السلام ایک میل دو میل یا تین میل حضرت معاذ کے ساتھ ساتھ چلے پیدل مشایعت میں ، اس لیے ابوبکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اس سنت پر عمل کیا ! !\n<br>\n اب یہ بات ہمارے کسی جرنیل کو نہیں پتا ہو گی ،کسی بریگیڈیئر کو نہیں پتا ، فوج کے سپاہیوں کو نہیں بتائی گئی حالانکہ سکھانی چاہیے ، ان کی تربیت کی جاتی ہے ان پر کروڑوں روپیہ خرچ ہوتا ہے، سپاہی پر بھی لاکھوں روپے سے زیادہ کروڑ خرچ ہو جاتا ہو گا جب تک وہ پورا سپاہی نہیں بن جاتا ! اور ادھر جرنیلوں پر تو بہت زیادہ، لیکن تربیت ان کو وہی دی جاتی ہے جو کتابیں یورپ ، امریکہ ، برطانیہ کی رکھی ہوئی ہیں وہ پڑھائی جاتی ہیں ،وہ کتابیں جن کا تعلق ہتھیاروں سے ہے وہ تو ٹھیک ہے پڑھاؤ لیکن اس کے علاوہ حیثیت اس کے کہ یہ مسلمان فوجی ہیں ایک مسلمان حکومت کا سپاہی ہے یا افسر ہے ، ضروری ہے کہ امام محمد کی یہ کتاب ( اَلسِّیِّرِ الکَبِیْر )پڑھائی جائے اور ان کے سکول ، کالجوں میں ڈیفنس کالج ہے ،(ملٹری کالج )کاکول ہے، نیشنل کالج ہے، فلاں ہے ، فلاں ہے ، اس میں یہ مضامین ہونے چاہییں ، میں کہتا بھی رہتا ہوں ! \n<br>\n اب ہمارے بیان جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ اور جامعہ کے وٹس ایپ گروپ پر بھی چلنے لگ گئے ہیں ! اللہ کرے ان کے کانوں میں بھی یہ باتیں پڑنے لگیں کہ ہم تو چاہتے ہیں کہ یہ باتیں دینی طلبا بھی سیکھیں اور سکول وکالج اور یونیورسٹیوں کا طبقہ بھی یہ باتیں سنے تاکہ انہیں پتہ چلے کہ اسلام اتنا بڑا اور اتنا وسیع مذہب ہے کہ اس میں سفارتی قوانین، بین الاقوامی قوانین ،مارشل رولز ہیں ، ساری کی ساری ،چھ جلدوں کی یہ کتاب امام محمد کی ، یہ تو ایک جلد ہے جو میرے سامنے رکھی ہے ! ایسی مایہ ناز کتاب کسی نے آج تک نہیں لکھی، کافروں میں بھی قوانین کی ایسی کتاب موجود نہیں ہے ! \n<br>\n میں نے پہلے بھی بتایا آپ کو کہ چھ سو سال پہلے ہالینڈ کے ایک آدمی نے ایک کتاب لکھی ہے، کچھ فوجی اور بین الاقوامی قوانین اس میں بھی ہیں ، کچھ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں لیکن ایسی نہیں ، اس پر یورپ بغلیں بجا رہا ہے ،خوش ہوتا ہے فخر کرتا ہے ! اور ہمارے مسلمان کو پتہ نہیں کہ ہمارے پاس اتنا بڑا ذخیرہ موجود ہے اتنا مربوط ! !\n<br>\nحضرت ابوبکر کی جنگی ہدایات :\n<br>\n حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے یزید بن ابی سفیان کوجنگی مہم سے متعلق کچھ ہدایات دیں جو مارشل قوانین بن گئے ! یہ مارشل رولز ہیں جو بتائے جا رہے ہیں ، اس میں انہیں بین الاقوامی قوانین بھی بتائے ہیں کہ فوج ،رعیت اور سول معاملات میں کیا کرے ؟ یہ بتا رہے ہیں ! !\n<br>\n ثُمَّ قَالَ پھر فرمایا اِنِّیْ مُوْصِیْکَ بِعَشْرٍ فَاحْفَظْہُنَّ دیکھو میں تمہیں دس باتوں کی ہدایت کرتا ہوں ان کو یاد رکھنا ایک تو یہ بتائی کہ اِنَّکَ سَتَلْقٰی اَقْوَامًا زَعَمُوْا اَنَّہُمْ قَدْ فَرَّغُوْا اَنْفُسَہُمْ لِلّٰہِ فِیْ الصَّوَامِعِ معلوم ہوتا ہے کہ سربراہِ مملکت کو جب کسی مہم پر بھیجنا ہو تو اس علاقے کے لوگوں کا مزاج ، وہاں کا ماحول ، وہاں کا جغرافیہ ، وہاں کے عوام کا مزاج ، ان کی نفسیات کی پوری معلومات ہونی چاہیے ! !\n<br>\n اس حدیث سے آپ حیران ہوں گے کہ حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ یہاں بیٹھے ہیں ، اور مختصر سا عرصہ خلافت کا ، دو سال بھی پورا نہیں ہوا لیکن انہیں جغرافیہ پر اور پورے عرب اور اس کے اطراف پر کتنی گہری نظر اور کتنی معلومات تھیں ! سب ہدایات دیں ، جب تم اس طرف جا ئوگے تو کچھ لوگ تمہیں ایسے ملیں گے جو تارک ُالدنیا ہیں ،عبادت کر رہے ہیں جیسی بھی عبادت ہے ان کی صحیح ہے یا غلط اس سے بحث نہیں بس ان کا کام عبادت کرنا ہے ،اپنے دین کے مطابق جو ہے اس میں لگے ہوئے ہیں نہ کمانے سے غرض ، نہ شادی ، نہ بیاہ ، کچھ نہیں فَذَرْہُمْ قانون بن گیا کہ چھوڑ دیں ان کو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے یہی ہدایات دے رکھی ہیں ، یہ مارشل قانون بن گیا ہے ہمارے ہاں کہ ان کو چھوڑ دو ، ان کو کچھ مت کہو ، نہ ان کے خلاف کارروائی کرو ، نہ انہیں گرفتار کرو ، نہ جیل میں ڈالو ، انہیں چھوڑ دو ان کے حال پر ! !\n<br>\nوَمَا فَرَغُوْا لَہ اَنْفُسَہُمْ چھوڑ دو جب تک وہ اسی دھندے میں لگے رہیں تم سے تعارض نہ کریں تمہارے خلاف کچھ نہیں کر رہے بس اپنی عبادت سے سروکار ہے، اسی سے کہتے ہیں قانون بن گیا امام ابو یوسف رحمة اللّٰہ علیہ امام محمد رحمہُ اللّٰہ سب نے اس کو اصول بنا لیا اس سے استدلال کیا اور یہ ضابطہ بنا دیا کہ اَنَّ اَصْحَابَ الصَّوَامِعِ لَا یُقْتَلُوْنَ ایسے افراد کو قتل نہیں کیا جائے گا وَہُوَ رِوَایَة عَنْ اَبِیْ حَنِیْفَةَ رَحْمَةُ اللّٰہِ عَلَیْہ اَیْضًا امام ابو حنیفہ رحمة اللّٰہ علیہ سے بھی یہی ایک روایت آتی ہے ! \n<br>\nایک اہم ہدایت :\n<br>\nپھر آگے ابوبکرنے ایک اور ہدایت کی کہ وَسَتَلْقیٰ اَقْوَامًا قَدْ حَلَقُوْا اَوْسَاطَ رَئُ وْسِہِمْ پھر تمہیں وہاں کچھ اور لوگ ملیں گے جنہوں نے اپنے سر کے بیچ میں سے حلق کررکھا ہوگا، وہ اس طرح سے بال چھوڑ دیتے ہیں مینڈیوں کی طرح تو فرماتے ہیں ان کی کھوپڑی میں تلوار مار دینا فَافْلِقُوْہَا بِالسَّیْفِ تلوار سے سر کو پھاڑ دینا ، سخت کارروائی کرنا ،کوئی رعایت ان کے ساتھ نہ کرنا، ایک یہ ہدایت کی وَالْمُرَادُ الشَّمَامِسَةُ یہ شَمَامِسَةُ کون ہیں ؟ وَہُمْ بِمَنْزِلَةِ الْعَلَوِیَّةِ فِیْنَا ہمارے اندر مسلمانوں میں ایک عَلَوِیَّةْ کا جو فرقہ پیدا ہوا وہ اسی طرح کے ہیں ! یہ ہارون علیہ السلام کی اولاد ہیں یَصْدُرُ النَّاسُ عَنْ رَاْیِہِمْ فِی الْقِتَالِ وَیَحُثُّوْنَہُمْ عَلٰی ذٰلِکَ ان کے پاس لوگ آتے جاتے ہیں وہ زیادہ تو کچھ نہیں کرتے لیکن لڑائی جھگڑے میں قتال کے معاملے میں لوگ ان سے رائے لیتے ہیں وہ رائے دیتے ہیں اور قتال پر اُبھارتے ہیں ، یہ ان کی نشانی ہے ، حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو ان کی پوری معلومات تھیں ، جرنیل کو چلتے وقت ساری چیزیں بتائیں ! !\n<br>\nاور فرمانے لگے کہ فَمِنْہُمْ اَئِمَّةُ الْکُفْرِ تو ان میں ائمہ کفر ہیں ، کام نہیں کر رہے ، صف میں نہیں آئے ہوئے لیکن رائے رکھتے ہیں ، رائے دیں گے انہیں ، یوں کرنا ہے ، اب کارروائی کرنی ہے ، اب نہیں کرنی ، یہاں کرنی ہے ، یہاں نہیں کرنی ، ایسے کرنی ہے ، اس طرح نہیں کرنی لیکن وہ ذی رائے ہیں فرمایا ان کو نہیں چھوڑو قَتْلُہُمْ اَوْلٰی مِنْ قَتْلِ غَیْرِہِمْ ان کے علاوہ کسی اور کو قتل کرنے سے بہتر ہوگا ان کو قتل کرنا لہٰذا فوراً کارروائی کرو ، یہ بھی بتایا ! !\n<br>\nاسی لیے ایک جگہ انہوں نے کہا فَاضْرِبُوْا مَقَاعِدَ الشَّیَاطِیْنِ مِنْہَا بِالسُّیُوْفِِ جہاں شیطان بیٹھتے ہیں ان میں اس جگہ پر تلوار سے وار کرنا ،وہ جگہ کون سی ہے جہاں شیطان بیٹھتے ہیں ؟ اَیْ فِیْ اَوْسَاطِ رُئُ وْسِہِمْ الْمَحْلُوْقَةِ وہ گنجے سر جو اِن کے ہیں ان کے بالکل بیچ میں وار کرو ، ختم کر دو ایک ہی وار میں ، کوئی رعایت نہیں کرو ،اب بھی فوج میں جہاں سخت کارروائی کرانی ہوتی ہے تو جرنیل انگریزی میں آرڈر دیتے ہیں جس کا ترجمہ یہ ہوتا ہے کہ سنگدلانہ کارروائی کرو ! اپنے فوجیوں کو کہیں گے سنگدلانہ کاروائی کرو ! حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے یہ جملے قانون بنیں گے ! !\n<br>\nاللہ توفیق دے ہمارے جرنیلوں کو فوجیوں کو ہماری حکومت کو جب یہ سکھائیں گے تو انہیں بجائے منہ موڑ موڑ کے انگریزی کے بول سکھانے کے یہ عربی کلمات سکھائے جائیں گے یہ بولیں گے ماتحت کو حکم دیتے وقت، انگریزی کے لفظ بولتے ہیں ،وہ انگریز آکر ہمیں غلام سمجھتا تھا اور ایسے ہی بولتا تھا جیسے غلاموں سے بات کرتے ہیں ، اب ان سے تربیت لے کر آتے ہیں ہمارے افسران تو یہ بھی اسی طرح بولتے ہیں اپنے ماتحت سے غرا کر جیسے غلام سے بولتے ہیں ، روِش بھی وہی چلی آ رہی ہے زبان بھی وہی چلی آرہی ہے جیسے اُستاد ہوگا شاگرد میں وہی رنگ آئے گا وہی انگریزوں کا چلا آرہا ہے ! \n<br>\n آگے فرماتے ہیں دیکھیں کتنی اہم بات آ رہی ہے کہ وَاللّٰہِ لَاَنْ اَقْتُلَ رَجُلًا مِنْہُمْ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اَقْتُلَ سَبْعِیْنَ مِنْ غَیْرِہِمْ ان میں سے ایک آدمی کو قتل کرو مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ ان کے علاوہ کافروں کے ستر آدمی مارے جائیں ، اتنے خطرناک ہیں ،معلوم ہوتا ہے رائے دینے والا انسان جو ہوتا ہے یہ بڑا خطرناک ہوتا ہے ، لیڈر ، چاہے بوڑھا ہو ، اُٹھا کے اسے چلانا پڑ رہا ہے ، اسے نہیں چھوڑا جائے گا ، اسے ماریں گے قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی ( فَقَاتِلُوْا اَئِمَّةَ الْکُفْرِ اِنَّہُمْ لَا اَیْمَانَ لَہُمْ ) ١\n<br>\nاب یہ قانون ضابطہ بنایا فوجی ضابطہ بتایا یا نہیں بتایا ؟ امام محمد رحمة اللّٰہ علیہ نے مارشل قوانین بنائے لیکن استدلال کہاں سے کر رہے ہیں ؟ قرآن یا حدیث ! ! آگے آیت ( اَئِمَّةَ الْکُفْرِ اِنَّہُمْ لَا اَیْمَانَ لَہُمْ ) وَالْمَُرَادُ بِمَقَاعِدَ الشَّیَاطِیْنِ شَعْرُ رُئُ وْسِہِمْ مختلف حدیثیں آرہی ہیں ! \n<br>\nوَذٰلِکَ یَکُوْنُ فِیْ الرَّاْسِ کَمَا قَالَ اَبُوْبَکْرِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فِیْ اِقَامَةِ الْحَدِّ ایک دفعہ ایک حد قائم کی حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اور فرمایا حد جاری کرتے وقت کہ سر پر مارنا فَاِنَّ الشَّیْطَانَ فِیْ الرَّاْسِ شیطان یہاں سر میں ہی تو آتا ہے ، پھر انہیں سجھاتا ہے شرارتیں کرتے ہیں حرکتیں کرتے ہیں ! !\n<br>\nبچوں کو قتل نہیں کرنا :\n<br>\nحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دیکھو وَلَا تَقْتُلْنَ مَوْلُوْدًا بچے کو ہرگز قتل مت کرنا ! یہ بھی مارشل قانون اسلام کا آگیا کہ بچوں کو نہیں مارا جائے گا ! ! آج اس قانون کو اگرچہ بنا ہوا ہے ، انگریزوں نے بھی بنا رکھا ہے عالمی طور پر فوجوں کے لیے، لیکن اس پر عمل نہیں ہورہا شام میں ہی دیکھ لیں آپ، وہ روس کے ایماء پر اس کی مدد سے\'\' بشار الاسد \'\' مار رہا ہے ٢ کتنے معصوم بچوں کا خون اب تک ہوچکا ہے ؟ اور امریکہ نے کتنا خون افغانستان اور عراق میں بچوں کا کیا ہے ! عورتوں کا کیا ہے معصوم بچوں کا کیا ہے ! اسلام کا ایک قانون ہے بہت اعلیٰ بلند اخلاق کے ساتھ دیکھو ہرگز کسی بچے کو نہیں مارنا ! !\n<br>\n امام محمد فرماتے ہیں وَمَا مِنْ اَحَدٍ اِلَّا وَہُوَ مَوْلُوْد ہر آدمی مولود ہے پھر تو کسی کو بھی نہ مارو ! بھئی آپ مولود ہیں یا نہیں ؟ کوئی ہے آپ میں ایسا جو مولود نہ ہو ؟ ایک طرف تو کہتے ہیں کہ \n<br>\n ١ سورة التوبة : ١٢ ٢ سابق صدر سوریا (١٧ جولائی ٢٠٠٠ء ۔ ٨ دسمبر ٢٠٢٤ئ) \n<br>\nمارو جا کر اور ایک طرف کہتے ہیں مولود کو نہ مارو ! کہتے ہیں لٰکِنَّ الْمُرَادَ ہُوَ الصَّبِِیُّ بچے مراد ہیں بچوں کو نہیں مارنا ! !\n<br>\n عورت کو قتل نہیں کرنا :\n<br>\nآگے فرماتے ہیں وَلَا اِمْرَاَةً عورت کو بھی نہیں مارنا، عورت کو بھی قتل نہیں کرنا ! یہ بھی اسلامی قانون اور ضابطہ آگیا ،یہ بھی اسلامی مارشل قوانین میں سے ہے اور فوج کو بتایا جائے گا کہ عورت کو نہیں مارنا ! ! لیکن یہاں پر عورتوں کا قتل کتنا ہو رہا ہے ؟ \n<br>\nآپ سب کو علم ہے کسی سے چھپا ہوا نہیں کہ عراق میں کیا ہو رہا ہے ؟ افغانستان میں کیا ہورہا ہے ؟ کینیا میں اور کہاں کہاں ؟ امریکہ نے کیا کیا کیا ہے ؟ عورتوں اور بچوں کو مارتے ہیں کہتے ہیں \'\'کارپٹ بمباری \'\' کریں گے یعنی ہم فرش بچھا دیں گے بمبوں کا ، بمباری کر کے فرش بچھا دیں گے ! یہ لفظ ہیں ان کے ،اس میں ہسپتال وغیرہ سب آگئے ، اسلام میں اس کی اجازت نہیں ہے !\n<br>\nبوڑھوں کو قتل نہیں کرنا :\n<br>\nمزید فرماتے ہیں وَلَا شَیْخًا کَبِیْرًا بوڑھے کو بھی نہیں مارنا، یہ بھی ہدایت ہے ایک مارشل قانون آگیا جب جاؤ تو بوڑھے کو نہیں قتل کرنا تم نے، ایک روایت میں ہے کہ شَیْخًا فَانِیًا ایسا آدمی جو بالکل بوڑھا ہے بس کبھی مر جائے گا جس کا آخری وقت ہے ایک سال دو سال چار سال جیے گا اللہ کو پتا ہے باقی بظاہر یہی ہے کہ یہ کسی بھی وقت رخصت ہو سکتا ہے یَعْنِیْ اِذَا کَانَ لَا یُقَاتِلُ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ بوڑھا قتال نہیں کر رہا تو اسے قتل نہیں کرو وَلَا رَأْیَ لَہ فِیْ ذٰلِکَ اور ان معاملوں میں کوئی رائے بھی نہیں رکھتا مشورے بھی نہیں دیتا فَاَمَّا اِذَا کَانَ یُقَاتِلُ اَوْ یَکُوْنُ لَہ رَأْی فِیْ ذٰلِکَ فَاِنَّہ یُقْتَلُ اگر وہ بوڑھا تو ہے لیکن وہ لڑتا ہے یا لڑتا تو نہیں لیکن رائے رکھتا ہے(تو اسے قتل کردیا جائے گا ) ہنری کسنجر ١ کی طرح امریکہ کا وزیر خارجہ ، اب اس کی عمر نوے سال ہو گی لیکن اب بھی اس کا دماغ جوانوں جیسا ہے اب بھی معاملات جب ہوئے ہیں یہ جو معاملہ ہوا تھا کہ امریکہ کی دو عمارتیں جہاز سے گرائیں ، \n<br>\n ١ ہنری کسنجر (٢٧ مئی ١٩٢٣ ء ۔ ٢٩ نومبر ٢٠٢٣ئ)\n<br>\nاس وقت اس نے مشورہ دیا کہ ایٹم بم چلا دو ! اس نے کہا ایٹم بم چلاؤ ! اس کا مشورہ یہ تھا، آج بھی وہ امریکی حکومت کو مشورہ دیتا ہے اور یہ صدر وغیرہ اس سے مشورے لیتے ہیں کیونکہ بہت بیدار دماغ ہے اتنا بوڑھا ہونے کے باوجود بھی یہ وہ آدمی ہے جب ہم بچے تھے اُس وقت اس نے پاکستان میں پل کا کام لیا تھا چین اور امریکہ کی دوستی میں ، اس وقت وزیر خارجہ تھا امریکہ کا ، یہودی ہے ، بہت بڑا دشمن مسلمانوں کا، اب آپ جائیں گے تو دیکھ کے اس پر ترس کھائیں گے ،اتنا بوڑھا ہے کھال لٹک رہی ہے اس کی ،تو ایسے آدمی کو بالکل نہیں چھوڑنا کیونکہ ذی رائے ہے رائے دیتا ہے اور پوری دنیا کا نقشہ اس کے سامنے ہے، اس نے یورپ والوں کو کہا تم ترقی نہیں کر سکتے تم بہت پیچھے ہو ،کہا کیوں ؟ اس نے کہا تمہارا ٹیلی فون نمبر ایک ہے ہی نہیں ،بس اتنی بات کہی ،تمہارا ایک ٹیلی فون نمبر نہیں ہے امریکہ کا ایک ٹیلی فون نمبر ہے ،پورے امریکہ میں ڈائل کرنے کے لیے زیرو کے بعد فلاں نمبر ملاؤ،کال مل جائے گی ، یورپ ڈائل کرنے کے لیے کوڈ نمبر جرمنی کا اور ہے ، فرانس کا اور ہے ، سپین کا اور ہے ، جنیوا کا اور ہے، ہالینڈ کا اور ہے اور برطانیہ کا اور ہے ،اس نے کہا آپ پیچھے ہیں ! آپ کی کرنسی بھی جدا جدا ہے اور آپ کے فون نمبر بھی ایک نہیں ہیں لہٰذا کرنسی تو ایک کر ہی لی انہوں نے، اب لا رہے ہیں آہستہ آہستہ \'\'یورو\'\' آگیا ہے لیکن ابھی تک\'\' پاؤنڈ\'\' نہیں گرا ،پاؤنڈ چل رہا ہے ،باقیوں نے وہ تسلیم کر لیا تو بڑا ذی رائے ہے اب بھی رائے دیتا ہے مشورے دیتا ہے تو اگر ایسا بوڑھا ہو گا جو رائے رکھتا ہو تو فرمایا کہ اسے قتل کیا جائے گا ،کیوں ؟ وہی بات کہ فوجی قانون ہے ! الحمد للہ تمام چیزیں قرآن اور حدیث میں موجود ہیں ! !\n<br>\nفرماتے ہیں عَلٰی مَا رُوِیَ اَنَّ النَّبِیَّ عَلَیْہِ السَّلَامُ اَمَرَ بِقَتْلِ دُرَیْدِ بْنِ الصِّمَّةِ ۔ دُرَیْدِ بْنِ الصِّمَّةِ ایک بڑا دور اندیش بوڑھا ، بہت ہوشیار ، بہت زیادہ بیدار تھا وَکَانَ ذَا رَاْیٍ فِی الْحَرْبِ جنگی مشقوں کا جنگی مہمات کا ماہر تھا فَاَشَارَ عَلَیْہِمْ اس نے انہیں اشارہ کیا ، مشورہ دیا تھا ان سب کو اُس وقت جب نبی علیہ الصلاة و السلام فتح مکہ کے بعد طائف اور حنین کی طرف روانہ ہوئے تو یہ بوڑھا بھی ساتھ ہو گیا اس نے مشورہ دیا تھا طائف والوں کو کہ عورتوں کو کہیں اونچی جگہ بھیج دو جنگ میں ساتھ لے کر مت جانا، بڑے لڑاکا اور تیر انداز تھے ، ٹھیک نشانہ مارنے کے ماہر ، بہادر بھی تھے انہوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم عورتوں سمیت جائیں گے کیونکہ مکہ فتح ہونے کی وجہ سے کفار کی کمر ٹوٹ گئی تھی ہر جگہ چرچا ہو گیا تھا اس وجہ سے ان کے حوصلے پست ہو گئے تو انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم عورتوں کو اس لیے لے کر جائیں گے تاکہ پیچھے بھاگیں ہی نہ، جب بھاگنے لگیں گے اپنے عورتیں بچے میدان میں ہوں گے تو کہاں بھاگ سکتے ہیں ؟ قدم رک جائیں گے تو پھر ہم لڑتے رہیں گے تو کافر عورتیں اپنے بچوں کو لے کر آئیں ، اس نے کہا تھا عورتوں کو مت لے جاؤ ، اُوپر کہیں بھیجو پھر جاکے لڑو، لیکن انہوں نے اس کا مشورہ نہیں مانا ! فَلََمْ یَقْبَلُوْا رَاْیَہُ وَقَاتَلُوْا مَعَ اَہَالِیْہِمْ عورتیں ، بچے ، مال ، مویشی سب میدان میں لائے ! اس لیے تاکہ کسی طرح بھی ہم پیچھے نہ ہٹیں ، اگر پسپا ہونا بھی پڑے تو نہ ہو سکیں ، بچوں کی وجہ سے رکناپڑ جائے گا ! بہادر تو کافر بھی بہت ہوتے ہیں لیکن وَکَانَ ذٰلِکَ سَبَبُ اِنْہِزَامِہِمْ یہی وجہ ان کی ہزیمت(شکست) کا سبب بن گئی ! انہوں نے اس کی رائے پر عمل نہیں کیا ! تو اس میں پھر وہ اشعار نقل کر رہے ہیں : \n<br>\nاَمَرْتُہُمْ اَمْرِیْ بِمُنْعَرِجِِ اللِّوٰی فَلَمْ یَسْتَبِیْنُوا الرُّشْدَ حَتّٰی ضُحَی الْغَد\n<br>\nفَلَمَّا عَصَوْنِیْ کُنْتُ مِنْہُمْ وَقَدْ اَرٰی غَوَایَتَہُمْ وَ اَنَّنِیْ غَیْرُ مُہْتَد\n<br>\n\'\' میں نے انہیں (اپنے قبیلہ کو)\' \' مُنْعَرِجِِ اللِّوٰی \'\'کے مقام پر مشورہ دیا تھا لیکن انہوں نے میری نصیحت پر دھیان نہیں دیا حتی کہ اگلے دن کی صبح ہونے پر سمجھے ،جب انہوں نے میری نافرمانی کی تو میں تب بھی ان کے ساتھ تھا حالانکہ میں ان کی غلطی اور گمراہی کو دیکھ رہا تھا اور میں بھی گمراہوں میں شامل تھا \'\' ( ترجمہ از مرتب)\n<br>\n فَلَمَّا کَانَ ذَا الرَّاْیِ فِی الْحَرْبِ تو جب یہ ذی رائے تھا تو نبی علیہ السلام نے باقاعدہ حکم دیا کہ اس کو قتل کردیا جائے ! غالباًمجھے یاد پڑتا ہے سو یا اس سے اوپر اس کی عمر تھی لیکن نبی علیہ السلام نے خصوصی آرڈر بھیجا ارشاد فرمایا کہ اسے قتل کر دو !\n<br>\n اب بندوق بھی نہیں اٹھتی اس سے ، اتنی جان نہیں ہے اس میں کہ بندوق اٹھا لے، اٹھائے گا تو گر جائے گا لیکن رائے ، رائے تو ایسی چیز ہے کہ پوری فوج تیار کردیتا ہے انسان صرف منصوبہ پیش کرکے ،اس لیے فرمایا اسے مت چھوڑنا تو یہ بھی اصول آ گیا کہ شیخ فانی کو کچھ نہیں کہنا لیکن اگر وہ بڑا سیاست دان ہے، بڑا مدبر ہے ،جنگی امور کا ماہر ہے، پھر اسے نہیں چھوڑنا پھر اسے قتل کرنا ہے ! ! \n<br>\nپھل دار درختوں کو ختم نہیں کرنا :\n<br>\nحضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ پیدل چلتے جا رہے ہیں جوتے ہاتھ میں پکڑ رکھے ہیں اور جرنیل کو ہدایات دے رہے ہیں کہ ان دس چیزوں میں سے ان ان چیزوں کا خیال رکھنا پھر فرمایا وَلَا تَعْقِرَنَّ شَجَرًا بَدَا ثَمَرُہ ایسے درخت کو بھی مت کاٹنا جو پھل دینے پر آ گیا ہو ! ایک یہ اصول فرمایا اور یہ فرمایا کہ وَلَا تَحْرِقَنَّ نَخْلًا اور کھجور کے درختوں کو بھی مت کاٹنا ،اور انگور کی جو بیلیں ہوتی ہیں ان کو بھی مت کاٹنا ! کہتے ہیں اب انہوں نے یہ بات کی تو یہ قانون بن گیا ! امام اوزاعی رحمة اللّٰہ علیہ نے تو یہی اصول بنا دیا کہ جہاں بھی فوجی مہم ہوگی فوج یہ کام نہیں کر سکتی، درخت نہیں کاٹیں گے اور پھل بھی نہیں اور اسی طرح بیلیں خراب نہیں کریں گے ! کیوں ؟ لِاَنَّ ذٰلِکَ فَسَاد وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ یہ تو فساد ہے یہ تو تخریب کاری ہے لہٰذا تخریب کاری نہیں کرنی وَاسْتَدَلَّ بِقَوْلِہ تَعَالٰی ( وَاِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ) ١ \'\' اور جب پیٹھ پھیر کر جاتا ہے تو کوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیت اور مویشی ہلاک کرے اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا \'\' اس میں امام اوزاعی رَحْمَةُ اللّٰہِ عَلَیْہِ قرآن اور حدیث سے استدلال فرما رہے ہیں ! !\n<br>\nایک رائے :\n<br>\nمزید فرماتے ہیں کہ ایک رائے یہ بھی ہے جیسے کہ حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ تعالی عنہ نے فرمایا اسی طرح امام اوزاعی رحمة اللّٰہ علیہ کی رائے ہے اور حضرات نے بھی یہ استدلال کیا رائے میں ، لیکن ہم کہتے ہیں ہمارے ہاں یہ نہیں ہے ہمارے ہاں یہ ہے کہ کاٹ سکتے ہیں ، توڑ دیں گے ، برباد کریں گے ، کیوں ؟ بڑی زبردست دلیل دے رہے ہیں وَلٰکِنَّا نَقُوْلُ لَمَّا جَازَ قَتْلُ النُّفُوْسِ وَہُوَ اَعْظَمُ حُرْمَةً مِّنْ ہٰذِہِ الْاَشْیَائِ جب نفوس کا قتل جائز ہے جو اِن چیزوں کے مقابلے میں بہت اہم چیز ہے ! !\n<br>\n ١ سورة البقرة : ٢٠٥ \n<br>\nکیاانسان کے مقابلے میں درخت قیمتی ہے ؟ ! کیا انگور کا باغ قیمتی ہے ؟ ! کیاکھجور کے درخت قیمتی ہیں ؟ ! ظاہر ہے ، قیمتی نہیں ! تو جب لڑائی میں نفوس کو قتل کیا جائے گا کہ جاؤ قتل کردو اور وہ بھی اعلیٰ نفس جو ذی رائے ہے اسے بھی نہ چھوڑنا ،اسے تو ضرور ہی مارنا ،یہ بھی فرمایا ! !\n<br>\n تو فرما رہے ہیں کہ جب انسانوں کو قتل کرنا جائز ہے لَمَّا جَازَ قَتْلُ النُّفُوْسِ وَہُوَ اَعْظَمُ حُرْمَةً مِّنْ ہَذِہ الْاَشْیَائِ لِکَسْرِ شَوْکَتِہِمْ آج ان کی شوکت برباد ہو جائے ، رعب دبدبہ ختم ہو جائے فَمَا دُوْنَہُ مِنْ تَخْرِیْبِ الْبُنْیَانِ وَقَطْعِ الْاَشْجَارِ لَاَنْ یَّجُوْزَ اَوْلیٰ تو اس سے کم درجے کی چیزیں ، عمارت کو توڑنا ہے ، درختوں کو کاٹنا ہے تو یہ بطریقِ اولیٰ جائز ہے ! مناسب ہے کہ یہ بطریق ِاولیٰ جائز ہو ،جب یہ کام کرسکتے تھے تو یہ بھی کرسکتے ہیں ، یہ بھی ایک رائے بن گئی ائمہ کی ، ایک وہ بن گئی ! ! \n<br>\nقرآن سے استدلال :\n<br>\nاب انہوں نے تو قرآن سے استدلال کیا ، وہ کہتے ہیں ہم نے بھی قرآن سے استدلال کیا ، دلیل سب قرآن اور حدیث سے دیں گے اس سے باہر نہیں جاتے وَبَیَانُ ہَذَا فِیْ قَوْلِہ تَعَالٰی\n<br>\n( وَلَایَطَئُوْنَ مَوْطِئًا یَغِیْظُ الْکُفَّارَ وَلَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَیْلًا اِلَّا کُتِبَ لَہُمْ بِہ عَمَل صَالِح ) ١ یہ آرہا ہے اس سے استدلال کرتے ہیں کہ جہاں بھی جائیں گے کفار کو غیظ میں ڈالیں گے اور اس میں وہ ان کو برباد کرتے ہیں جس سے کافر جلتے ہیں اور ان کی شوکت ختم ہوتی ہے وہ چیزیں ہم کریں گے !\n<br>\n پھر حضرت ابوبکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ کی ہدایات کاکیا کریں گے ؟ اس کا جواب دے رہے ہیں وَتَاْوِیْلُ حَدِیْثِ اَبِیْ بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ مَا اَشَارَ اِلَیْہِ مُحَمَّد رَحِمَہُ اللّٰہُ فِی الْکِتَابِ بَعْدَ ہَذَا \n<br>\nابھی آگے آ رہا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے جو ہدایات دی تھیں اس کی ایک خاص مصلحت تھی، یہ نہیں تھا کہ یہ قانون ہے کہ ایسا کرنا ہی نہیں ، ایک خاص وجہ تھی جس کی وجہ سے انہوں نے ایسا کیا اور وہ آگے آ رہی ہے وہ یہ کہ اَنَّہُ عُلِمَ بِاِخْبَارِ النَّبِیِ عَلَیْہِ السَّلَامُ اَنَّ الشَّامَ تُفْتَحُ وَتَصِیْرُ لِلْمُسْلِمِیْنَ بہت دور کی نگاہ تھی ابوبکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ! وہ جب لشکر بھیج رہے تھے \n<br>\n ١ سورة التوبة : ١٢٠\n<br>\nتونبی علیہ السلام کی حدیثیں سن رکھی تھیں کہ شام فتح ہو گا اور مسلمانوں کے لیے ہو جائے گا ! اب جب شام نے فتح ہونا ہے اور مسلمان وہاں حکمرانی کریں گے ، اگر درخت کاٹ دیں گے تو نقصان مسلمانوں کا ہے ،باغ ختم کریں گے تو نقصان مسلمانوں کا ہے، اس لیے انہوں نے فرمایا تھا کہ ہرگز مت کاٹنا کیونکہ بالآخر جب تمہارا تسلط وہاں ہو گا اور عملداری تمہاری شروع ہو جائے گی تو یہ درخت وغیرہ سب ہمیں کام دیں گے ، فائدے کی چیز ہے ، یہاں نہیں کاٹنے تو کہتے ہیں کہ وہ جانتے تھے ! وَتَصِیْرُ لِلْمُسْلِمِیْنَ فَنَہَاہُمْ عَنِ التَّخْرِیْبِ وَقَطْعِ الْاَشْجَارِ عَلٰی مَا بَیَّنَہُ بَعْدَ ہَذَا وَہُوَ تَاْوِیْلُ الْحَدِیْثِ الْمَرْوِیِّ عَنِ النَّبِیِّ عَلَیْہِ السَّلَامُ اَیْضًا\n<br>\nحدیث کی تاویل :\n<br>\nنبی علیہ السلام سے جو حدیث انہوں نے نقل کی ہے جس میں آپ نے درختوں کو کاٹنے سے منع کیا تھا اس حدیث میں اس کی تاویل یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے مفاد میں تھا اس لیے منع کیا تھا ! ! اَلَا تَرَی اَنَّہ نَصَبَ الْمِنْجَنِیْقَ عَلٰی حِصْنِ ثَقِیْفٍ وَفِیْہِ مِنَ التَّخْرِیْبِ مَا لَا یَخْفٰی کیا تم نہیں دیکھتے کہ نبی عَلَیْہِ السَّلَامُ نے بذاتِ خود وہاں مِنْجَنِیْقْ نصب کرایا اور مِنْجَنِیْقْ جو ہوتا ہے وہ کیا کرتا ہے ؟ عمارتوں کو توڑتا ہے تو عمارت تو درخت سے بھی زیادہ قیمتی ہوتی ہے تو جب نبی علیہ السلام نے توڑوایا اور اس سے گولے پھینکے اور بمباری کروائی اور تخریب کروائی توڑوایا اس کو ، تو معلوم ہوا ضرورت کے وقت ایسی چیز صحیح ہے ، ہاں اگر پتہ ہو کہ یہ قلعہ ویسے ہی ہمارے ہاتھ میں آجائے گا معمولی لڑائی سے ، تیروں سے ، تلواروں سے ، چھوٹی جنگ سے پھر نہ توڑو کیونکہ وہ تمہارے ہاتھ میں آکر فائدہ دے گا ! !\n<br>\n مویشی ذبح نہ کرنا :\n<br>\nآگے فرمایا قَالَ وَلَا تَذْبَحَنَّ بَقَرَةً وَلَا شَاةً نواں اور دسواں قانون آ رہا ہے کہ دیکھو نہ بکری ذبح کرنا ، نہ گائے ذبح کر نا وَلَا مَا سِوَی ذٰلِکَ مِنَ الْمَوَاشِیْ اِلَّا لِاَکْلٍ اس کے علاوہ جتنے جانور ہیں کوئی ذبح مت کرنا قتل کرنا اِلَّا لِاَکْلٍ ہاں کھانے کے لیے فوج کو ضرورت ہے پھر کوئی جانور پھر رہے ہیں ان کو لے کر ذبح کرو اپنے فوجیوں کے لیے وہ تو ٹھیک ہے، اس کے علاوہ مت کاٹنا ! !\n<br>\nکیونکہ وہ جانتے تھے وجہ وہی آ رہی لِمَا رُوِیَ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ عليہ وسلم نَہٰی عَنْ ذَبْحِ الْحَیَوَانِ اِلَّا لِاَکْلِہ وَفِی الْحَدِیْثِ دَلِیْل عَلٰی اَنَّہ یَجُوْزُ لِلْغَانِمِیْنَ تَنَاوُلُ الطَّعَامِ وَالْعَلَفِ فِیْ دَارِ الْحَرَبِ اور اس میں یہ بھی استدلال ہے قانون بن گیا اس حدیث سے فوجی ضابطہ یہ بھی نکل آیا کہ فوجی جوانوں کو کھانا اور چارہ جو دَارُ الْحَرَبْ میں ملتا ہے اسے استعمال کرنا جائز ہے ، مالِ غنیمت میں جمع کرانا اس کا ضروری نہیں ہے اپنی ضرورت کے لیے اسے استعمال کر سکتے ہیں وَاَنَّ ذَبْحَ الْمَاْکُوْلِ لِلْاَکْلِ مِنْ ہٰذِہِ الْجُمْلَةِ \n<br>\n یہ دس قوانین ہیں اور بھی چیزیں آرہی ہیں ، اللہ تعالیٰ اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اس میں آپ نے فوجی قوانین بھی دیکھ لیے ، ہدایات دیکھیں جو بہت مفید ہیں !\n<br>\n اللہ توفیق دے ہماری حکومت کو کہ یہ مضامین فوج کو بھی سکھانا شروع کر دیں ! ہمارے فوجیوں کو تو شرم آئے گی ہماری چٹائیوں پر بیٹھ کر سیکھنے میں ، ہمیں وہاں بلا لو ، پہلے بھی میں نے کہا تھا ، ہمیں وہاں بلا لو ہم وہاں بیان کریں گے فیس بھی نہیں لیں گے ان شاء اللّٰہ جو لیکچر دیں گے اس کی کوئی فیس نہیں لیں گے جبکہ آپ بڑی بڑی فیس لیتے ہیں ایک ایک لیکچر کی فیس، آپ کو فائیو سٹار ، سیون سٹار ہوٹل میں رکھتے ہیں پھر بذریعہ گاڑی بیان کرانے لے جاتے ہیں بہت بڑی گاڑی میں ، ہم تو وہ بھی نہیں لیتے، بس ایسے ہی کرنے کے لیے تیار ہیں ،ہم کیا بلکہ بہت سے علماء تیار ہیں لیکن اللہ کرے انہیں توفیق ملے ،جتنا ہماری فوج کا اخلاق بلند ہوگا جتنا تعلق مع اللہ قائم ہوگا اس کی وجہ سے دشمن پر کتنی ہیبت اور دھاب بیٹھے گی ! اللہ ہمیں سمجھ کی عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ! ! \n<br>\n وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ \n<br>\n٭٭٭\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nمحمود الملّة و الدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں نور اللّٰہ مرقدہ \n<br>\nکے سلسلہ وار مطبوعہ مضامین و دروس جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ پر پڑھے اور سنے جا سکتے ہیں \n<br>\nhttp://www.jamiamadniajadeed.org\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nسیاق و سباق کی اہمیت اورمیڈیا کا کردار\n<br>\n(مولانا محمد عابد صاحب ،ناظم تعلیمات واستاذالحدیث جامعہ مدنیہ لاہور)\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nدورِ حاضر میں ابلاغِ عامہ کے ذرائع نے معلومات کی ترسیل کو بے حد آسان بنا دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک سنگین مسئلہ یہ بھی پیدا ہوگیا ہے کہ تقاریر، بیانات اور مکالمات کے مختصر حصے کاٹ کاٹ کر اس انداز سے پیش کیے جاتے ہیں کہ اصل مراد و مقصود بدل جاتا ہے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو یا چند الفاظ پر مشتمل اقتباس بعض اوقات ایسی فضا پیدا کر دیتا ہے جو پوری تقریر سننے کے بعد باقی نہیں رہتی\n<br>\nایک علمی اصول :\n<br>\n اختلاف ہر معاشرے میں ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے، لیکن اختلاف کی بنیاد تحقیق اور دیانت پر ہونی چاہیے ! اگر ہم اپنے مخالف کی بات کو بھی صحیح سیاق وسباق میں سننے کے عادی ہو جائیں تو بہت سے تنازعات جنم لینے سے پہلے ہی ختم ہو سکتے ہیں ! \n<br>\nموجودہ دور کا المیہ :\n<br>\nتحقیق اور دیانت کی بنیاد پر کیا جانے والااختلاف معاشرہ کا حسن ہوتا ہے، آج کا سب سے بڑا مسئلہ صرف اختلاف نہیں بلکہ منتخب اقتباسات( Selective Quotation) ہے ! کسی ایک جملے کو پورے خطاب سے الگ کرکے نشر کرنا، پھر اسی پر تبصرے، تجزیے اور فیصلے قائم کر دینا ایک ایسا رجحان ہے جس نے معاشرے میں بداعتماد ی پیدا کردی ہے ! اسلامی علمی روایت میں اس طرزِ عمل کی کوئی گنجائش نہیں ملتی۔ محدثین کرام نے ایک ایک حدیث کے ایک ایک لفظ کی تحقیق میں مہینوں سفر کیے، فقہا ء عظام نے ایک ایک عبارت کے مفہوم کے لیے پورے پورے باب کا مطالعہ کیا، اور مفسرین کرام نے ایک ایک آیت کو اس کے سیاق، سبب ِنزول اور دیگر آیات کے ساتھ سمجھا ! جب دین کے فہم میں یہ احتیاط ضروری ہے تو عام افراد کے اقوال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ احتیاط مزید ضروری ہے !\n<br>\nقرآنِ کریم کا اصول :\n<br>\nاسلام ہمیں خبر کی تحقیق کا حکم دیتا ہے ارشادِ باری تعالیٰ ہے :\n<br>\n ( یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِنْ جَائَ کُمْ فَاسِق بِنَبٍَأ فَتَبَیَّنُوْا ( سورة الحجرات: ٦ )\n<br>\n\'\'اے ایمان والو ! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کر لیا کرو\'\'\n<br>\nمفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب (م:١٣٩٦ھ/١٩٧٦ئ) نے معارف القرآن میں سورہ حجرات کی آیت ٦ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے : \n<br>\n\'\'بسا اوقات انسان کسی غلط خبر پر جذبات میں آکر کسی کے مقابلہ میں غلط قدم اُٹھا لیتا ہے پھر جب حقیقت سامنے آتی ہے تو اپنی نادانی اور حماقت پر پچھتانا پڑتا ہے اور ظاہر ہے اس قسم کی باتوں سے مسلمان قوم کی اجتماعی اور انفرادی زندگی مختلف اقسام کی خرابیوں میں پڑ جائے گی ، ہر فتنہ اور شر سے تحفظ کے لیے خدا نے اپنا پیغمبر تمام عالَم کے واسطے ہادی اور رحمت بناکر مبعوث فرما دیا ہے تو پیغمبر خدا کی ہدایت و ارشاد کو لائحہ عمل بنانا چاہیے \'\'\n<br>\nاگرچہ یہ اصول کسی ایک واقعے کے لیے نہیں بلکہ عمومی اسلامی اخلاق کا حصہ ہے، لیکن موجودہ دور کے میڈیا ماحول میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے !\n<br>\nمخالفین کے ساتھ بھی عدل کی تعلیم : \n<br>\nاسلام نہ صرف مسلمانوں کے ساتھ بلکہ مخالفین کے ساتھ بھی عدل کو لازم قرار دیتا ہے چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : \n<br>\n( وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَی اَلاَّ تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوا ہُوَ اَقْرَبَ لِلتَّقْوٰی ) ١\n<br>\n \'\'کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ عدل چھوڑ دو ! عدل کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے\'\' \n<br>\n ١ سورة المائدہ : ٨\n<br>\nحسنِ ظن کی تعلیم :\n<br>\nجناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : اِیَّاکُمْ وَ الظَّنَّ فَاِنَّ الظَّنَّ اَکْذَبُ الْحَدِیْثِ ١\n<br>\n\'\'بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے\'\'\n<br>\nجناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : کَفٰی بِالْمَرئِِ کَذِبًا اَنْ یُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ ٢\n<br>\n \'\'آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کرتا پھرے\'\'\n<br>\n فقہاء کا اصول : \n<br>\nفقہ اسلامی کا معروف قاعدہ ہے اَلْکَلَامُ یُحْمَلُ عَلٰی مُرَادِ الْمُتَکَلِّمِ \'\'کلام کو متکلم کی مراد پر محمول کیا جائے گا\'\' یہ اصول فقہی کتابوں میں مختلف ابواب میں مذکور ہے۔\n<br>\n اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے الفاظ کا فیصلہ اس کی نیت، اس کے مجموعہ کلام اور موقع و محل کو سامنے رکھ کر کیا جائے، نہ کہ کسی الگ کیے گئے ایک جملے کی بنیاد پر ! اہلِ علم و دانش اور فقہاء امت نے قرآن واحادیث کی نصوص سے یہ اصول اخذ کیے ہیں :\n<br>\n(١) جب کسی مسلمان کے کلام کی ایک سے زیادہ توجیہات ممکن ہوں تو حتی الامکان وہ توجیہ اختیار کی جائے جو خیر اور حسنِ نیت پر مبنی ہو !\n<br>\n(٢) کسی شخص کے بیان کو اس کے پورے پس منظر، مقصد اور موقع و محل کے ساتھ سمجھا جائے !\n<br>\n(٣) اختلافِ رائے، سیاسی رقابت یا فکری اختلاف کے باوجود انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے !\n<br>\n اکابرِعلما دیوبند کا منہج اور علمی روایت : \n<br>\nاکابرِعلما ء دیوبند کا منہج اور علمی روایت ہمیشہ اعتدال، تحقیق اور حسنِ ظن کی رہی ہے ! ہمارے \n<br>\n ١ صحیح البخاری کتاب الادب باب ما ینھی عن التحاسد و التدابر رقم الحدیث ٦٠٦٤\n<br>\n٢ صحیح مسلم باب النھی عن الحدیث بکل ما سمع رقم الحدیث ٧ \n<br>\nاکابر نے اس بات پر زور دیا کہ کسی عالم یا مقرر کے کلام کا وہی مفہوم معتبر ہوگا جو خود اس کے مجموعہ کلام سے واضح ہو، نہ کہ کسی الگ کیے گئے جملے سے ! ہمارے اکابر نے متعدد مواقع پر اس اصول کی طرف توجہ دلائی ہے کہ کسی مسلمان کے کلام کو حتی الامکان اچھے معنی پر محمول کیا جائے اور اگر اس کے کلام کی متعدد توجیہات ممکن ہوں تو ایسی توجیہ اختیار کی جائے جو اس کے دین، علم اور سابقہ خدمات کے زیادہ مطابق ہو ! تحقیق کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کیا جائے یہی اصول افراد، جماعتوں اور اداروں کے بارے میں بھی یکساں نافذ ہوتا ہے ! !\n<br>\nبانی دارالعلوم دیوبند حجة الاسلام حضرت مولانامحمد قاسم نانوتوی (م: ١٢٩٧ھ/١٨٨٠ئ) کا امتیاز یہ رہا ہے کہ آپ کے یہاں اختلاف کو ہمیشہ دلیل، تحقیق اور ادب کے ساتھ دیکھا گیا ! آپ کی علمی مجالس میں مخالف آرا کو بھی پورے انہماک سے سنا جاتا تھا ! !\n<br>\nشیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی(م:١٣٣٩ھ/١٩٢٠ئ)کی پوری جدوجہد اس حقیقت کی آئینہ دار ہے کہ قومی اور دینی معاملات میں جلد بازی کے بجائے بصیرت اور حکمت سے کام لیا جائے ! ان کی سیاسی اور دینی حکمت عملی میں یہ اصول نمایاں تھا کہ کسی واقعے پر فیصلہ مکمل صورتِ حال سامنے آنے کے بعد ہی کیا جائے ! !\n<br>\nشیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمد مدنی(م :١٣٧٧ھ/١٩٥٧ء )کی سیاسی زندگی اس حقیقت کی شاہد ہے کہ شدید اختلافات کے باوجود وہ مخالفین کے موقف کو پہلے پوری طرح سمجھنے کی تلقین کرتے تھے ! ان کے نزدیک عدل کا تقاضا یہی تھا کہ کسی کے موقف کو وہی معنی دیے جائیں جن کا وہ خود قائل ہو ! حضرت مدنی کی پوری علمی و سیاسی زندگی اسی اعتدال کی آئینہ دار تھی۔ مسلم معاشرے کی بنیاد تحقیق، حسنِ ظن اور عدل پر قائم رہنی چاہیے ! بے تحقیق الزام، افواہ اور بدگمانی اجتماعی فساد کو جنم دیتی ہے ! حضرت اختلافِ رائے کے باوجود مخالف کی بات کو صحیح تناظر میں سمجھنے پر زور دیتے تھے ان کے نزدیک علمی اختلاف اور کردار کشی دو الگ چیزیں ہیں ! !\n<br>\nسیاق و سباق کیوں ضروری ہے ؟ \n<br>\nعلمِ حدیث کا بنیادی اصول ہے کہ روایت کو اس کے تمام طرق، اسباب اور قرائن کے ساتھ سمجھا جائے ! فقہاء نے بھی نصوص کے فہم میں سیاق اورسباق کو بنیادی حیثیت دی ہے۔ اگر یہ اصول قرآن و حدیث کے فہم میں ضروری ہے تو عام انسانی گفتگو میں اس کی اہمیت مزید ضروری ہے ،کسی مقرر کے ایک جملے کو پوری تقریر سے الگ کرکے اس پر حکم لگانا عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ! !\n<br>\nمیڈیا کا کردار : \n<br>\nآج کل سوشل میڈیا کا دور ہے، چند سیکنڈ کی ویڈیو لاکھوں لوگوں تک فوراً پہنچ جاتی ہے، جبکہ ایک گھنٹے کی مکمل تقریر شاید ہی کوئی سنتا ہو ! یہ صورت حال صرف ایک شخصیت کے ساتھ نہیں بلکہ مختلف مکاتب ِفکر، مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ پیش آتی رہی ہے ،صحافت کے بنیادی اصول بھی یہی کہتے ہیں کہ مکمل بیان دیکھا جائے،اصل ماخذ تک رسائی حاصل کی جائے ، متعلقہ شخصیت کا موقف بھی شامل کیا جائے پھر رائے قائم کی جائے،یہی صحافتی دیانت ہے اور اسلامی معاشرہ کا تقاضا بھی یہی ہے ! !\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nوفیات\n<br>\n٭٭٭\n<br>\n٭ ٦ صفر المظفر١٤٤٨ھ/٢١ جولائی ٢٠٢٦ء کو جامعہ محمدیہ چوبرجی لاہور کے استاذ الحدیث حضرت مولانا محمد افضال صاحب تھانوی بوجہ عارضہ قلب اچانک انتقال فرماگئے !\n<br>\n٭ ١٤ صفر المظفر١٤٤٨ھ/٢٩ جولائی ٢٠٢٦ء کو مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری کے فرزند ،ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب جالندھری انتقال فرماگئے !\n<br>\nاِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ\n<br>\nاللہ تعالیٰ حضرت کی جملہ دینی خدمات کو قبول فرمائے اور مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق نصیب ہو، جامعہ مدنیہ جدید اور خانقاہِ حامدیہ میں حضرت کے لیے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت کرائی گئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ، آمین۔\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nقائد جمعیة کے ضلع قصور میں خطاب پر اعتراضات کی حقیقت \n<br>\nحضرت مولانا نعیم الدین صاحب مدظلہم \n<br>\n استاذ الحدیث جامعہ مدنیہ لاہور و مرکزی رہنما جمعیة علماء اسلام پاکستان\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nقصور کے جلسے کا پس منظر: \n<br>\n١١ جولائی ٢٠٢٦ء کو ضلع قصور میں جمعیة علماء اسلام پنجاب کے زیر اہتمام ایک عوامی اجتماع منعقد ہوا جس میں قائد ِجمعیة حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہم نے ملک کی مجموعی سیاسی، آئینی اور امن و امان کی صورتِ حال پر اظہارِ خیال کیا ! آپ نے اپنے خطاب میں دہشت گردی، ریاستی پالیسیوں ، عوامی مسائل اور سیاسی بے یقینی جیسے موضوعات پر گفتگو کی ! دورانِ گفتگو آپ نے فرمایا :\n<br>\n\'\'اور یہ بات سن لو، دل کے کان کھول کر سن لو، یہ حقائق ہیں ، میں کوئی اسٹیج پر خطابت نہیں دکھا رہا ہوں ! بلوچستان میں بلوچ علاقوں میں بغاوتیں تھیں ، پورا بلوچ علاقہ پاکستان کے اختیار سے نکل چکا تھا، آج بھی وہاں پاکستان حکومت کی کوئی رِٹ موجود نہیں ہے ! لیکن ہم تو بلوچ علاقے کو رو رہے تھے، اب تو پشتون علاقہ بھی خون میں نہا رہا ہے، پشتون علاقے میں ہم نے دو تین دن کے اندر پچاس سے زیادہ لاشیں وصول کی ہیں ، ہم نے بازاروں میں ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے لیے کفن خرید سکیں ، ہم نے صرف ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے جنازے پڑھ سکیں ،یہ کیا پاکستان کے عوام کی قسمت میں ہے کہ ہم نے یہاں خون دے کر وقت گزارنا ہے ؟ نہ میرا بچہ اسکول پڑھنے کے لیے گھر سے باہر نکل سکتا ہے، نہ میرے صوبے کا غریب انسان روزی مزدوری کے لیے گھر سے باہر جاسکتا ہے، اور اگر گھر سے باہر نکلتا ہے تو وہ اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا\'\' ! !\n<br>\nپھر کہتے ہیں : \n<br>\n\'\'ہمارے جوان بھی تو شہید ہو رہے ہیں ! او بابا تیرے جوانوں نے پیٹی اسی لیے باندھی ہے، تنخواہ اسی لیے لے رہے ہیں کہ انہوں نے ملک کی سلامتی کے لیے لڑنا ہے، تم اپنے خون کا میرے اوپر کیا احسان ڈالتے ہو ؟ تم میرے خون پسینے کے ٹیکس سے اسی بات کے لیے تو تنخواہ لے رہے ہو ! لیکن ہمیں کہتے ہو کہ تم لشکر نکالو، تم اسلحہ لے کر مسلح گروہوں کے خلاف لڑو ! میں نے کوئی تنخواہ نہیں لی، میں کوئی لشکر نہیں بنائوں گا ! تم چلے جائو گے، تم میری سرزمین کو آنے والی نسلوں تک ذاتی دشمنیوں کی طرف دھکیل رہے ہو، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قتل و غارت گری کی طرف دھکیل رہے ہو ! یہ سیاست کسی اور کو سمجھائو، یہ ہمیں مت سمجھایا کرو\'\' ! !\n<br>\nبعد ازاں سوشل میڈیا پر تقریر کے چند مختصر حصے الگ کرکے نشر کیے گئے ! ان ہی مختصر کلپس کی بنیاد پر مختلف سیاسی و سماجی حلقوں میں اعتراضات سامنے آئے ! بعض ناقدین نے یہ تاثر دیا کہ مولانا کا بیان ریاستی اداروں یا شہدا ء کے بارے میں غیر مناسب تھا، جبکہ جمعیت علماء اسلام اور مولانا کے قریبی رفقا کا کہنا تھا کہ پوری تقریر سننے سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی گفتگو کا اصل محور ریاستی پالیسیوں پر تنقید اور امن و استحکام کے حوالے سے اپنی رائے پیش کرنا تھا، نہ کہ شہداء یا افواجِ پاکستان کی توہین ! ! !\n<br>\nآپ کی گفتگو کا مقصد شہداء یا افواجِ پاکستان کی قربانیوں کو کم تر ثابت کرنا نہیں تھابلکہ وہ ان پالیسیوں پر سوال اٹھا رہے تھے جن کے نتیجے میں ملک کو مسلسل دہشت گردی اور بدامنی کا سامنا ہے ! انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ جمعیت علماء اسلام خود دہشت گردی کا شکار رہی ہے ! جماعت کے متعدد قائدین، علما ء اور کارکن شہید ہوئے ہیں ، اس لیے کسی بھی صورت یہ تصور درست نہیں کہ جماعت شہداء کی قربانیوں کی قدر نہیں کرتی ! !\n<br>\nقائد جمعیت کے اس خطاب کے بعد بنیادی طور پر تین قسم کے اعتراضات سامنے آئے :\n<br>\nاوّل : بعض ناقدین نے یہ تاثر دیا کہ مولانا کا بیان شہدا ء یا ریاستی اداروں کی قربانیوں کی نفی ہے !\n<br>\nدوم : بعض حلقوں نے کہا کہ اس طرح کے بیانات قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتے ہیں !\n<br>\nسوم : بعض سیاسی شخصیات اور تبصرہ نگاروں نے مطالبہ کیا کہ مولانا اپنے بیان سے معذرت کریں !\n<br>\nیہ تمام اعتراضات زیادہ تر تقریر کے مختصر کلپس کی بنیاد پر کیے گئے جبکہ پوری تقریر نسبتاً کم لوگوں نے ہی سنی\n<br>\nجمعیت علماء اسلام کا موقف :\n<br>\n جمعیت علماء اسلام کے ذمہ داران نے ابتدا ہی سے یہ موقف اختیار کیا :\n<br>\nقائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہم نے دہشت گردی کی مذمت کی ہے انہوں نے ریاستی پالیسیوں اور حکمت ِعملی پر تنقید کی تھی نہ کہ وطن کے دفاع میں جان قربان کرنے والوں کی ! تقریر کے چند جملے الگ کرکے ایسا تاثر دیا گیا جو پوری گفتگو سے مطابقت نہیں رکھتا ! یہ موقف صرف سیاسی دفاع کے طور پر نہیں بلکہ اس اصول کی بنیاد پر پیش کیا گیا کہ کسی بھی تقریر کا فیصلہ مکمل متن سننے کے بعد ہی ہونا چاہیے ! !\n<br>\n٭ محترم مشتاق احمد ڈارصاحب سابق مشیر ریاست جموں کشمیر\'\' حضرت مولانا فضل الرحمن کا موقف ، سیاق وسباق کے تناظر میں \'\'کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں :\n<br>\n\'\' سیاست\'\' معانی، مقاصد، قرائن اور سیاق و سباق کا آئینہ ہے۔ ایک ہی جملہ دلیل بھی بن سکتا ہے، الزام بھی، تعبیر بھی اور تحریف بھی ! اسی لیے اہلِ علم و دانش ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی بھی تقریر، تحریر یا بیان کو اس کے مکمل تناظر سے الگ کرکے نہیں پرکھنا چاہیے ! پاکستان کی واحد سوادِ اعظم دینی جماعت جمعیت علماء اسلام کے سربراہ قائد ملت ِاسلامیہ حضرت مولانا فضل الرحمن دامت برکاتہم العالیہ کی حالیہ تقریر کے ساتھ بھی کم و بیش یہی معاملہ پیش آیا، ان کے خطاب کے چند جملوں کو الگ کرکے معروض پراگندہ نظام میں اس انداز میں پیش کیا گیا کہ گویا انہوں نے ریاستی اداروں ، ان کے اہلکاروں کی تنخواہوں یا مراعات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہو، حالانکہ قائد ملت کی پوری تقریر کا مفہوم اس تاثر کی بالکل بھی تائید نہیں کرتا ! سازش کے تحت جب الفاظ کو سیاق و سباق سے جدا کر دیا جائے تو مفہوم بدل جاتا ہے، نیت مشکوک دکھائی دینے لگتی ہے اور حقیقت پس منظر میں چلی جاتی ہے ! !\n<br>\nمیرے نزدیک قائد ملت اسلامیہ حضرت مولانا فضل الرحمن کا بنیادی نکتہ نہ کسی ادارے کی تنخواہوں پر اعتراض تھا، نہ مراعات پر تنقید ، اور نہ ہی شہدا ء کی عظیم قربانیوں کی اہمیت کو کم کرنا ! ان کا اصل موقف یہ تھا کہ ملک میں امن و امان کا قیام ریاست اور متعلقہ اداروں کی آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے ! ریاست صرف اقتدار کا نام نہیں بلکہ امانت بھی ہے، ذمہ داری بھی، جواب دہی بھی اور عوام سے کیے گئے عہد کی پاسداری بھی ! جب کوئی شہری اپنے شہر، قصبے یا گائوں میں امن کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ کوئی جرم نہیں کرتا بلکہ اپنا آئینی اور قانونی حق مانگتا ہے ! عوام کو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ خود امن قائم کریں ، خود دہشت گردی کا مقابلہ کریں یا ریاست کو ٹیکس دینے کے باوجود اپنے جان و مال کی حفاظت خود کریں ! اگر ریاست اپنی بنیادی ذمہ داری عوام ہی کے سپرد کر دے تو ریاست اور شہری کے درمیان قائم سماجی معاہدے کی روح مجروح ہو جاتی ہے ! پاکستان کا آئین ریاست کو شہریوں کے جان و مال، عزت، آزادی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کا پابند بناتا ہے ! عوام ٹیکس ادا کرتے ہیں ، قانون کی پاسداری کرتے ہیں ، قومی وسائل میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں ،سخت قوانین کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں اور ریاستی نظام کے اخراجات میں شریک ہوتے ہیں ، اس کے بدلے میں ان کا یہ جائز، آئینی اور اخلاقی حق ہے کہ انہیں ایک محفوظ، پُرامن، منصفانہ اور مستحکم ماحول فراہم کیا جائے ! اگر کوئی سیاسی رہنما اسی بنیادی اصول کی یاد دہانی کراتا ہے تو اس کے موقف کو مکمل تناظر میں سمجھنا چاہیے، نہ کہ چند منتخب جملوں کی بنیاد پر اس کے بارے میں فیصلہ صادر کر دیا جائے ! یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ پاکستان کے شہداء پوری قوم کا سرمایہ، وقار، فخر اور اجتماعی شعور کی روشن علامت ہیں ان کی قربانیوں کا احترام ہر محب ِوطن پاکستانی پر لازم ہے ! !\n<br>\n اگر کسی بیان کے بارے میں مختلف تشریحات سامنے آئیں تو انصاف، دیانت اور علمی ذمہ داری کا تقاضا یہی ہے کہ پہلے مکمل خطاب، اس کے پس منظر اور مقرر کے مجموعی موقف کا جائزہ لیا جائے ! چند سیکنڈ کی مخصوص ویڈیو کلپ یا چند جملوں کی بنیاد پر کسی کی نیت، مقصد یا فکر کا فیصلہ کرنا نہ علمی دیانت ہے، نہ سیاسی بلوغت اور نہ ہی جمہوری انصاف ! !\n<br>\nبدقسمتی سے ہمارے سیاسی ماحول میں دلیل کے بجائے ردِعمل، مکالمے کے بجائے محاذ آرائی، تحقیق کے بجائے تشہیر اور حقیقت کے بجائے تاثر کو زیادہ اہمیت دی جانے لگی ہے ! سوشل میڈیا کے اس نازک عہد میں چند لمحوں کی ویڈیو پورے خطاب پر غالب آ جاتی ہے، جبکہ اصل حقیقت اکثر ان ہی حصوں میں پوشیدہ رہ جاتی ہے جو عوام تک پہنچ ہی نہیں پاتے ! !\n<br>\n \'\'جمہوریت\'\' برداشت، مکالمہ، اختلافِ رائے، احتساب اور آئین کی بالادستی کا نام ہے ۔ حکومتوں پر تنقید ، ریاست کو اس کی آئینی ذمہ داریاں یاد دلانا اور عوامی مسائل کی نشاندہی کرنا ہر سیاسی و مذہبی رہنما بلکہ ہر شہری کا جمہوری حق ہے اور فرض ہے ! اختلاف کو دشمنی، سوال کو بغاوت، تنقید کو عداوت اور سیاسی موقف کو ریاست دشمنی قرار دینا کسی بھی بالغ جمہوری معاشرے کے شایانِ شان نہیں اور اس سے قبل بھی ایسے پروپیگنڈوں سے ریاست کو نقصان پہنچا ہے ! !\n<br>\nآج پاکستان کو جعلی نعروں سے زیادہ شعور، جذبات سے زیادہ بصیرت، تقسیم سے زیادہ اتحاد، الزام سے زیادہ انصاف اور محاذ آرائی سے زیادہ قومی مکالمے کی ضرورت ہے ! اگر ہم ہر بیان کو اس کے مکمل سیاق و سباق کے ساتھ سننے، سمجھنے اور پرکھنے کی روایت اختیار کر لیں تو بہت سی غلط فہمیاں خودبخود ختم ہو جائیں گی، کیونکہ الفاظ کی بھی حرمت ہوتی ہے، مفہوم کی بھی، نیت کی بھی اور انصاف کی بھی ! !\n<br>\nقائد ملت اسلامیہ حضرت مولانا فضل الرحمن کی حالیہ تقریر سے اختلاف کسی بھی شخص کا آئینی حق ہے، لیکن اختلاف کی بنیاد بھی مکمل حقائق، اصل الفاظ اور صحیح سیاق و سباق پر ہونی چاہیے ! کسی بھی رہنما کے موقف کا منصفانہ جائزہ اسی وقت ممکن ہے جب اس کی پوری گفتگو دیانت داری سے سنی جائے، نہ کہ چند منتخب جملوں کی بنیاد پر اس کے بارے میں حتمی رائے قائم کر لی جائے ! یہی علمی دیانت، یہی جمہوری روایت، یہی آئینی شعور اور یہی قومی مفاد کا تقاضاہے\'\' ! ! !\n<br>\nقائد ِجمعیت کا وکلاء کنونشن سے خطاب :\n<br>\n١٩جولائی ٢٠٢٦ء کو اسلام آباد میں جمعیة لائرز فورم کے زیرِ اہتمام وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہم نے فرمایا :\n<br>\n\'\'ہم نے کوئی غلط بات نہیں کہی، پاکستان ایک ادارہ جاتی ملک ہے اور پوری دنیا میں ادارے متعین ہیں ، ان کا دائرہ کار متعین ہے، ان کا دائرہ اختیار متعین ہے ! اگر میں نے آپ کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا ہے، اگر میں نے آپ کو ان کے اپنے دائرہ کار اور اس دائرہ کار کے اندر ان کی صلاحیتوں کی طرف متوجہ کیا ہے، تو میں اب بھی کہتا ہوں : پالیسی ساز لوگو ! سپاہی نے تو آپ کا حکم ماننا ہے پالیسی ساز تو آپ بڑے ہیں ،میں آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہا ہوں ، بڑے ادب و احترام کے ساتھ اختلاف کر رہا ہوں ، لیکن آپ میرے بیان کی از خود تشریح کر کے جو میری کردار کشی کرنا چاہتے ہیں ، اور سمجھتے ہیں کہ فضل الرحمن جھک جائے گا، سرنڈر کر جائے گا،یاد رکھو ! مجھے میرے ماں باپ نے سرنڈر ہونے کے لیے نہیں جنا ہے ! اور میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں تک محدود رہنے کی بات کی ہے ! یہ میں نے پہلی مرتبہ نہیں کی ! یہ تو پارلیمنٹ میں اور عام جلسوں میں بھی میں نے بار بار کہی ہے ! قصور والی بات قصور وار ٹھہری\'\' ! !\n<br>\n٢٤ جولائی ٢٠٢٦ء کو قائد جمعیة حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہم نے سینئر صحافی محترم آصف نثار صاحب غیاثی کو موجودہ صورت حال پر انٹرویو دیتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں فرمایا :\n<br>\n\'\' کہتے ہیں نا کہ کب تم پر یہ راز کھلا، انکار سے پہلے یا اقرار کے بعد ؟ آپ میری سالہا سال سے تقاریر سنتے ہیں ، میں اپنی قوم سے کیا کہنا چاہتا ہوں ؟ میں اپنے کارکنوں سے کیا کہنا چاہتا ہوں ؟ اور میں جہاں پر کھڑا ہوں ، اس مناسبت سے بات کرتا ہوں ، اگر میں اپوزیشن میں ہوں تو اپوزیشن مستقل ایک پلیٹ فارم ہے، جمہوری، پارلیمانی، آئینی، قانونی، اور اس پلیٹ فارم سے میری کیا ذمہ داری بنتی ہے، میں قوم کو کیا کہوں ، میں اپنے کارکنوں کو کیا کہوں ، یہ تمام تقریریں میری اسی حوالے سے ہوتی رہی ہیں ! !\n<br>\nاور اب جو ٢٠٢٤ء کا الیکشن ہوا، اور٢٠٢٤ء کے الیکشن میں جو کچھ ہوا، اس پر جو ہم نے ردِعمل دیا، بیش بہا آپ نے میری تقاریر سنی ہیں ، اور میرے خیال میں ان کے مضامین میں ، میرے موقف میں کہیں بھی کوئی ایسی بات نہیں ہے، سوائے اس کے کہ کچھ چیزیں آگے ہوں ، کچھ پیچھے ہوں ، کچھ جملوں ، الفاظ اور تعبیرات میں انیس بیس کا فرق ہو، لیکن میسج ایک ہی ہوتا ہے ! !\n<br>\nاب ظاہر ہے کہ مجھے اس عمر میں آ کر کوئی یہ سمجھائے کہ فوج کیا ہے ؟ وطن اور سرحدات کے لیے ان کی حفاظت کے لیے قربانیاں کیا چیز ہیں ؟ تو یہ طفل ِمکتب مجھے یہ چیزیں سمجھائیں گے ؟ جو کچھ ہوا، اڑتالیس گھنٹے تک کچھ نہیں تھا ! معمول کے مطابق سیاسی عمل ہمارا جاری تھا، اور اس کے بعد یکدم انہوں نے میری ایک گھنٹے کی تقریر میں سے ایک جملہ اٹھا کر پیالی میں طوفان کھڑا کر دیا ! تو یہ بددیانتی ہے ! ! نہ اس میں شہدا کی توہین کا کوئی پہلو ہے، نہ خدا کرے کہ ہم اس قسم کی باتیں سوچنے لگ جائیں ! اور اگر فوج کو یہ دعوی ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں ، تو پبلک میں آپ جائیے، شاید وہاں پر ان کی پالیسیوں اور حکمت ِعملی پر سوال اٹھ رہے ہوں ، لیکن ٢٠٠١ء سے لے کر آج تک پچیس سال پورے ہو رہے ہیں کہ جمعیة علماء اسلام کی پالیسیوں میں جو تسلسل ہے، ملک کے ساتھ کھڑے رہنا ، پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑے رہنا ، آئین کے ساتھ کھڑے رہنا ، ملک کے جمہوری نظام کے ساتھ کھڑے رہنا ، اور جہاں میرے اکابر نے ہمیں چھوڑا تھا ، وہیں سے ہم نے ان کے نقش قدم کو لیا اور آگے بڑھتے رہے ہیں ! تو اس دوران میں جمعیة علماء اسلام پبلک سے کیا بات کہہ دیتے ؟ کیا ہم نے بندوق سے اپنے کارکن کو دور نہیں رکھا ؟ کیا ہم نے بندوق سے اپنی قوم کو دور نہیں رکھا ؟ ہم نے بندوق کی سیاست کو غیر شرعی نہیں کہا ؟ ! پاکستان کے اندر تو علماء کرام کا ایک اجماع ہے اور اس کا تعلق تمام مکاتب ِفکر کے علماء کرام کے ساتھ ہے ! !\n<br>\nوفاق المدارس العربیہ پاکستان، جمعیة علما اسلام، جو علما ء کرام کے سب سے بڑے پلیٹ فارمز ہیں ، وہاں سے جو اجماعی رائے اٹھتی ہے، جمعیة علما ء اسلام پبلک میں اس کی ترجمانی کرتی ہے ! اس پر تو دورائے ہی نہیں ہیں ! اور پھر اس پر آپ خود اندازہ لگائیں کہ گزشتہ چار پانچ سالوں میں خود جمعیة علماء اسلام کے اپنے دو سے ڈھائی سو علماء و اکابر شہید ہوئے ہیں ! اور آپ الزام لگا رہے ہیں کہ تمہیں شہیدوں کی قدر نہیں ؟ جب بات چھڑتی ہے تو پھر بات چھڑتی ہے ! تو ہم نے نہ ان کے الزام کو تسلیم کیا ہے، نہ اس کے سامنے کوئی کمزوری دکھائی ہے ! بڑی خود اعتمادی کے ساتھ میں سیاست کرتا ہوں ، میری جماعت بڑی خود اعتمادی کے ساتھ سیاست کرتی ہے ! اور یہ کون ہوتے ہیں جو ہمیں سیاست سکھلائیں گے، ہمیں وطن کی محبت سکھلائیں گے، اور ہمیں شہدا ء کی قدر سکھلائیں گے ؟ یہ لوگ سکھلائیں گے ؟ مجھے تو حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ہم اتنے گر گئے ہیں کہ اب ہم ان سے متاثر ہو کر سیاست کریں گے، ان سے مرعوب ہو کر سیاست کریں گے ؟ جن کو ہم سیاست سکھانا چاہتے ہیں ، جن کو ہم ملک کی قدر و قیمت سکھانا چاہتے ہیں ، وہ ہمارے بارے میں اس قسم کی باتیں کرتے ہیں ! تعجب ہوتا ہے ! ! \'\'\n<br>\nاختلاف اور احترام :\n<br>\n جمعیة علماء اسلام سمیت ہر سیاسی یا دینی جماعت سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، بلکہ جمہوری معاشرہ میں اختلاف ایک فطری امر ہے ! لیکن اختلاف کی بنیاد حقائق ہوں ، ادھورے اقتباسات نہیں ! اسی طرح اگر کسی مقرر کی وضاحت سامنے آ جائے تو انصاف کا تقاضا ہے کہ اس وضاحت کو بھی اسی اہمیت سے سنا جائے جس اہمیت سے ابتدائی بیان کو سنا گیا تھا ! !\n<br>\nجمعیت علماء اسلام کی سیاسی روایت :\n<br>\nجمعیت علماء اسلام کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اختلافِ رائے کے باوجود اس جماعت نے ہمیشہ آئینی، جمہوری اور پارلیمانی جدوجہد کو اپنا راستہ قرار دیا ہے۔حضرت مولانا احمد علی لاہوری ،حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی،حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی ، حضرت مولانا مفتی محمود، حضرت مولانا عبیداللہ انور،حضرت مولانا سید حامد میاں سے لے کرموجودہ امیر، قائد ِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہم تک جماعت کی پالیسی یہی رہی ہے کہ قومی مسائل کا حل مکالمے، دستور اور عوامی رائے کے ذریعے تلاش کیا جائے ! اسی تناظر میں مولانا فضل الرحمن صاحب کے خطابات کو بھی سمجھنا چاہیے کہ وہ سیاسی اور آئینی تنقید کے دائرے میں اپنی رائے پیش کرتے ہیں جس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر اس رائے کو اس کے اصل سیاق سے الگ کرکے نہیں پرکھا جانا چاہیے ! !\n<br>\nجمعیت علماء اسلام کا تاریخی مزاج :\n<br>\nجمعیت علماء اسلام برصغیر کی ان دینی و سیاسی جماعتوں میں سے ہے جنہوں نے ہر دور میں آئینی جدوجہد، پارلیمانی سیاست اور عوامی رائے کو اپنی جدوجہد کا محور بنایا ! حضرت مولانا احمد علی لاہوری ،حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی،حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی ، حضرت مولانا مفتی محمود، حضرت مولانا عبیداللہ انور،حضرت مولانا سید حامد میاں سے لے کرموجودہ امیرقائد ِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن مدظلہم کی سیاسی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو اختلافِ رائے کے باوجود آئینی اور جمہوری راستے پر اصرار نمایاں نظر آتا ہے ! !\n<br>\nاسی طرح جمعیت علماء اسلام نے دہشت گردی، انتہاپسندی اور بے گناہ انسانوں کے قتل کی مختلف مواقع پر مذمت کی ہے ! جبکہ اس جماعت کے متعدد علماء ، قائدین اور کارکن خود دہشت گردی کا نشانہ بنے ! اس پس منظر کو نظر انداز کرکے کسی ایک بیان کی تعبیر کرنا علمی انصاف کے مطابق نہیں ! !\n<br>\nاختلافِ رائے اور ریاستی ادارے :\n<br>\n یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ کسی ریاستی پالیسی پر تنقید اور ریاست یا اس کے دفاعی اداروں کی نفی، دو الگ الگ چیزیں ہیں ! جمہوری معاشروں میں حکومت، پالیسیوں اور انتظامی فیصلوں پر تنقید کو آئینی حق سمجھا جاتا ہے ! البتہ اس تنقید کا مہذب، ذمہ دار اور حقیقت پر مبنی ہونا ضروری ہے ! اسی طرح ناقدین پر بھی لازم ہے کہ وہ تنقید کا جواب دلیل سے دیں ، نہ کہ کسی شخصیت کے پورے موقف کو چند الفاظ کی بنیاد پر متعین کریں ! !\n<br>\nموجودہ میڈیا کا چیلنج :\n<br>\nڈیجیٹل دور میں شارٹ کلپ کلچر نے ایک نئی صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو کبھی کبھی گھنٹوں پر مشتمل خطاب کا تاثر بدل دیتی ہے ! یہ مسئلہ صرف علماء کے ساتھ نہیں بلکہ سیاست دانوں ، صحافیوں ، ججوں ، اساتذہ اور دانشوروں کے ساتھ بھی پیش آتا رہتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ اصل ویڈیو دیکھی جائے،مکمل تقریر سنی جائے،بعد میں دی گئی وضاحت کو بھی ملحوظ رکھا جائے اور پھر رائے قائم کی جائے ! یہی صحافتی اصول ہے، یہی علمی دیانت ہے اور یہی اسلامی اخلاق بھی ! !\n<br>\nاہلِ قلم کی ذمہ داری :\n<br>\nدینی جرائد، اخبارات اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ اہلِ قلم کی ذمہ داری صرف خبر دینا نہیں بلکہ قوم کی علمی تربیت بھی ہے ! ان کی ذمہ داری ہے کہ تحقیق کو سنسنی پر مقدم رکھیں ،انصاف کو تعصب پر ترجیح دیں ،اختلاف کو تہذیب کے دائرے میں رکھیں ،اور کسی بھی شخصیت کا موقف اس کے اصل الفاظ اور مکمل پس منظر کے ساتھ پیش کریں ! یہی صحافت کی دیانت ہے اور یہی دینی امانت داری بھی ! ! \n<br>\nاس واقعہ سے حاصل ہونے والے سبق :\n<br>\nقصور کے اجتماع کے بعد پیدا ہونے والی بحث ہمیں چند اہم سبق دیتی ہے :\n<br>\n(١) کسی بھی بیان پر رائے قائم کرنے سے پہلے اس کا مکمل متن یا مکمل خطاب سننا چاہیے !\n<br>\n(٢) سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مختصر کلپس کو آخری حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے !\n<br>\n(٣) اختلافِ رائے میں شائستگی اور انصاف کو برقرار رکھنا چاہیے !\n<br>\n(٤) اگر متعلقہ شخصیت اپنی وضاحت پیش کرے تو اسے بھی دیانت داری سے سنا اور نقل کیا جانا چاہیے !\n<br>\n(٥) قومی وحدت اور دینی اقدار دونوں کا تقاضا ہے کہ معاشرے میں تحقیق، عدل اور حسنِ ظن کو فروغ دیا جائے !\n<br>\nقصور کے واقعے نے ایک بار پھر یہ سبق دیا ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں اہلِ علم، صحافیوں ، وکلاء اور عام شہریوں کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے ! ایک غیر محتاط تبصرہ، ایک نامکمل ویڈیو یا ایک غلط تعبیر نہ صرف افراد بلکہ قومی ماحول کو بھی متاثر کر سکتی ہے ! اسلام کا مزاج تحقیق، عدل، حسنِ ظن اور ذمہ داری کا ہے، اگر ہم ان اصولوں کو اپنا لیں تو بہت سے تنازعات خود بخود ختم ہو سکتے ہیں ! !\n<br>\nاسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ انصاف صرف اپنے حامیوں کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے مخالفین کے ساتھ بھی کیا جائے،یہی قرآن کا حکم ہے، یہی سنت ِنبوی کا مزاج ہے اور یہی اکابر دیوبند کی علمی روایت ہے ! !\n<br>\nقصور کے اجتماع کے بعد پیدا ہونے والی بحث کو بھی اسی میزان پر پرکھنے کی ضرورت ہے، اگر کسی بیان سے اختلاف ہو تو دلیل کے ساتھ کیا جائے، اگر وضاحت موجود ہو تو اسے بھی سنا جائے، اور اگر کسی اقتباس کو سیاق و سباق سے الگ کرکے پیش کیا گیا ہو تو اس کی اصلاح بھی علمی ذمہ داری سمجھی جائے ! جمعیت علماء اسلام کی فکری روایت ہمیشہ آئین، جمہوریت، دینی اقدار اور قومی استحکام کے امتزاج کی داعی رہی ہے ! اسی روایت کا تقاضا ہے کہ اختلاف کو دشمنی نہ بنایا جائے، تنقید کو تحقیق سے جدا نہ کیا جائے، اور قومی مسائل کو جذبات کے بجائے علم، حکمت اور انصاف کے ساتھ دیکھا جائے ! !\n<br>\nمحترم حافظ محمودایازمہر صاحب (جیکب آباد)کی تحریر بھی غور کے قابل ہے ! حافظ صاحب \'\'وہ بیانات جن پر اس وقت اتنا پروپیگنڈا نہیں ہوا \'\' کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں :\n<br>\n(١)آصف علی زرداری : تاریخ:١٦جون ٢٠١٥ء مقام: پشاور، پاکستان پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا کے عہدیداروں کی تقریب میں بیان:\'\'ہمیں بھی جنگ لڑنا آتی ہے، آپ کو تین سال رہنا ہے، ہمیں ہمیشہ یہاں رہنا ہے، ہمیں تنگ کرنے کی کوشش کی تو ہم بھی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے ! !\n<br>\n مزید کہا : \'\'تنگ کیا گیا تو جرنیلوں کا کچا چٹھا کھول دوں گا\'\' ! !\n<br>\n(٢) نواز شریف تاریخ : ٢٠ستمبر ٢٠٢٠ء مقام: آل پارٹیز کانفرنس (اسلام آباد) لندن سے ویڈیو لنک خطاب : ہماری جدوجہد عمران خان کے خلاف نہیں بلکہ ان لوگوں کے خلاف ہے جو عمران خان کو اقتدار میں لائے۔نواز شریف نے سیاسی معاملات میں مبینہ مداخلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ \'\'ملک میں جمہوری عمل کو آزاد ہونا چاہیے\'\' ! !\n<br>\n(٣) عمران خان تاریخ: ٢جنوری ٢٠٢٣ء مقام: لاہور، نجی ٹی وی کو انٹرویو : \n<br>\nایک جنرل باجوہ ایکسٹینشن سے پہلے تھے، ایک جنرل باجوہ ایکسٹینشن کے بعد تھے مزید کہا : مجھے جنرل (ر)باجوہ کو ایکسٹینشن نہیں دینی چاہیے تھی ! !\n<br>\n(٤) عمران خان تاریخ : ٢مئی٢٠٢٣ء مقام : لاہور ، نجی ٹی وی کوانٹرویو : \n<br>\nنیب کو قمر جاوید باجوہ کنٹرول کر رہے تھے ! عمران خان نے الزام لگایا کہ حکومتی معاملات میں جنرل (ر)قمر جاوید باجوہ کا اثر و رسوخ موجود تھا ! !\n<br>\n(٥) بلاول بھٹو زرداری تاریخ: ٢٧دسمبر ٢٠٢٢ء مقام : گڑھی خدا بخش، لاڑکانہ (محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی کے جلسہ میں بیان )\n<br>\nبلاول بھٹو نے کہا کہ\'\' اگر ادارے سیاسی معاملات سے دور رہنے کے اپنے اعلان پر قائم رہیں تو ملک میں جمہوری استحکام پیدا ہو سکتا ہے\'\' ! ! انہوں نے ماضی میں سیاسی معاملات میں اداروں کے کردار پر بھی گفتگو کی ! !\n<br>\n(٦) خواجہ آصف تاریخ: ٧مارچ ٢٠٢٣ء مقام: اسلام آباد ، پریس کانفرنس : اسٹیبلشمنٹ کے وینٹی لیٹر کے بغیر عمران خان کی سیاست کی کوئی اوقات نہیں ! خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ عمران خان کی سیاست کو ماضی میں ادارہ جاتی حمایت حاصل رہی ! !\n<br>\n(٧)خواجہ آصف تاریخ:٢٦اکتوبر ٢٠٢٣ء مقام : اسلام آباد ، میڈیا گفتگو : اسٹیبلشمنٹ کو پاکستان کے منظرنامے سے مکمل طور پر بے دخل کرنا ہے تو سب کو مل بیٹھنا ہوگا ! انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر اجتماعی سوچ کی ضرورت ہے ! !\n<br>\n(٨) فاروق ستار : تاریخ : ٢٠١٨ء مقام : کراچی، پریس کانفرنس :\n<br>\nفاروق ستار نے ایم کیو ایم کے اندرونی معاملات میں مبینہ سیاسی دبائو اور انجینئرنگ پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ سیاسی جماعتوں کو آزادانہ فیصلوں کا حق ہونا چاہیے ! !\n<br>\n(٩) شرجیل میمن تاریخ : ٢٠٢٣ء مقام : کراچی ، میڈیا گفتگو :\n<br>\n شرجیل میمن نے کہا کہ\'\' اداروں کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے اور سیاست کا فیصلہ عوام کے ووٹ سے ہونا چاہیے\'\' ! !\n<br>\nسوال یہ ہے :\n<br>\n جب یہ بیانات دیے گئے تو اس وقت اتنا شور، واویلا اور پروپیگنڈا کیوں نہیں ہوا ؟ ! کیا سیاسی بیانات کا معیار شخصیت، وقت اور سیاسی مفاد کے مطابق بدل جاتا ہے ؟ یا پھر ہر دور میں جمہوری اصولوں کو یکساں نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے ؟ !\n<br>\nدعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اہلِ علم، اہلِ سیاست، اہلِ صحافت اور پوری قوم کو حق بات کہنے، حق بات سننے اور انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے وطنِ عزیز پاکستان کو امن، استحکام، اتحاد اور ترقی کی دائمی نعمتوں سے مالامال فرمائے۔آمین \n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nاخبار الجامعہ\n<br>\n( جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد رائیونڈ روڈ لاہور)\n<br>\n٭٭٭\n<br>\n١٢ جولائی کو حضرت مولانا عبدالشکور صاحب نقشبندی، حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نقشبندی اور مولانا عمر صاحب نقشبندی چکوال سے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور جامعہ کے نائب مہتمم مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی ، باہمی امور پر تبادل خیال فرمایا، جامعہ میں ظہرانہ تناول فرمایا بعد ازاں واپس تشریف لے گئے !\n<br>\n١٢ جولائی کو خوشاب سے جناب محمد رضوان صاحب مع رفقاء جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی ،خانقاہ حامدیہ میں کھانا تناول فرمایا !\n<br>\n ١٤ جولائی کو مولانا زکریا جمال صاحب ، مولانا مفتی عابد صاحب اور مولانا سعد صاحب اپنے رفقاء کے ہمراہ کوٹ رادھا کشن سے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات ہوئی، معزز مہمانوں نے جامعہ میں عشائیہ تناول فرمایا ، بعد ازاں واپس تشریف لے گئے !\n<br>\n١٥ جولائی کو باب العلوم کہروڑ پکا سے شیخ الحدیث حضرت مولانا منیر احمد صاحب منور دامت برکاتہم بعد نمازِ عشاء جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور خانقاہ حامدیہ میں مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی ! \n<br>\n١٥ جولائی کو جمعیت علماء اسلام صوبہ پنجاب کے جنرل سیکرٹری حافظ نصیر احرار صاحب اپنے رفقاء نور خان بانس صاحب ، حافظ احسان صاحب اور عبید صاحب کے ہمراہ جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی جس میں باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا چائے نوش فرمائی بعد ازاں واپس تشریف لے گئے !\n<br>\n١٧ جولائی کو جمعیت علماء اسلام ضلع ملتان کے امیر مفتی عامر محمود صاحب جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی اور خانقاہ حامدیہ میں دو دن قیام فرمایا !\n<br>\n٭٭٭\n<br>\n\n

Have a question?

Email us your queries on jamiamadniajadeed@gmail.com you will be answered in less than 24 hours or Give us a call directly at +92 333 4249302, +92 333 4249 301.