ماہنامہ انوار مدينہ
جلد : ٣٣ جمادی الثانی ١٤٤٧ھ / دسمبر ٢٠٢٥ء شمارہ : ١٢
بیاد : قطب الاقطاب عالم ربانی محدث کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں
فیضانِ نظر : محمود الملّة و الدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب
مولانا نعیم الدین صاحب ( مدیر اعلیٰ )
مولانا محمد عابد صاحب ( نائب مدیر)
مولانا عکاشہ میاں صاحب(مدیر مسئول)
ڈاکٹر محمد امجد صاحب (مدیر منتظم)
٭٭٭
بدلِ اشتراک
٭٭٭
پاکستان فی پرچہ 50 روپے ....... سالانہ 600 روپے
سعودی عرب،متحدہ عرب امارات..... سالانہ 90 ریال
برطانیہ،افریقہ ........................ سالانہ 20 ڈالر
امریکہ .................................. سالانہ 30 ڈالر
جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ اور ای میل ایڈ ریس
٭٭٭
www.jamiamadniajadeed.org
jmj786_56@hotmail.com
Whatsapp : +92 333 4249302
ترسیل ِزر و رابطہ کے لیے
٭٭٭
'' جامعہ مدنیہ جدید'' محمد آباد19 کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور
موبائل : 03334249301
موبائل : 03234250027
موبائل : 03334249302
جازکیش نمبر : 03044587751
دارُالافتاء کا ای میل ایڈ ریس اور وٹس ایپ نمبر
٭٭٭
darulifta@jamiamadniajadeed.org
Whatsapp : +92 321 4790560
مولاناسیّد رشید میاں صاحب طابع وناشر نے شرکت پرنٹنگ پریس لاہور سے چھپواکر دفتر ماہنامہ ''انوارِ مدینہ '' نزد جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور سے شائع کیا
اس شمارے میں
٭٭٭
حرفِ آغاز حضرت مولانا نعیم الدین صاحب ٤
درسِ حدیث حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ٧
سیرتِ مبارکہ ... مکہ مکرمہ کا محل وقوع اور اہمیت حضرت اقدس مولانا سید محمد میاں صاحب ١٠
فراست ِ مومن قسط : ٢ ، آخری حضرت مولانا اعزاز علی صاحب ١٨
مقالاتِ حامدیہ ... صرف امام اور منفرد ہی کا سورہ ٔفاتحہ پڑھنا اور دنیا بھر میں بیس رکعت تراویح اور اس کے دلائل قسط : ٢ ، آخری حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ٢٦
حضرت مولانا فضل الرحمن کی مرکزی مجلس ِشوری کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ ٣٩
اسلام ، ایمان اور ان میں فرق حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ٤٨
اخبار الجامعہ ٦٢
وفیات ..... خانوادہ سیدمحمد میاں کو صدمہ ٦٤
جامعہ مدنیہ جدید کے فوری توجہ طلب ترجیحی امور
٭٭٭
(١) مسجد حامد کی تکمیل
(٢) طلباء کے لیے دارالاقامہ (ہوسٹل) اور درسگاہیں
(٣) کتب خانہ اور کتابیں
(٤) پانی کی ٹنکی
ثواب جاریہ کے لیے سبقت لینے والوں کے لیے زیادہ اجر ہے
حرفِ آغاز
٭٭٭
نَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْدُ !
گزشتہ شمارہ میں ہم نے اپنے حالات سنوارنے کے بارے میں کچھ باتیں عرض کی تھیں ، اسی بات کو لے کر آگے بڑھتے ہوئے ہم کہتے ہیں :
ہمیں اپنی حالت کو سنوارنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کرنی ہوگی اور اپنے باطن کو گناہوں سے پاک کرنا ہوگا ! اس وقت امت ِمسلمہ کے لیے سب سے پہلا فریضہ رجوع اِلی اللہ ہے تاکہ اللہ کی مدد ہمارے شامل حال ہو،اس ضمن میں ہمیں چند باتوں کا دھیان رکھنا ہو گا :
رجوع اِلی اللہ میں سب سے پہلے فرائض کی پابندی آتی ہے جو اُخروی نجات کااصل راستہ ہے آج بہت سے مسلمان حالات کی خرابی کا شکوہ کرتے ہیں مگر نمازوں میں سستی، زکو ةمیں کوتاہی اور دین کے بنیادی احکام میں غفلت عام ہے رسولِ اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا :
رَأْسُ الْاَمْرِ الْاِسْلَامُ وَ عَمُوْدُہُ الصَّلاَةُ ١ ''دین کی بنیاد اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے''
اگر ہم فرائض کی پابندی اختیار کریں تو اللہ کی مدد خود بخود نازل ہوگی ! ہمیں اپنے گھروں ، اداروں اور معاشرہ میں نماز، روزہ، زکوة اور دیانت کو پھر سے زندہ کرنا ہوگا !
١ سنن ترمذی ابواب الایمان باب ماجاء فی حرمة الصلاة رقم الحدیث : ٢٦١٦
گناہوں کی کثرت دلوں کو اندھا کر دیتی ہے جس کے نتیجہ میں ہم فتنوں میں پڑ جاتے ہیں نیکیوں سے دور اور گناہوں سے قریب ہو جاتے ہیں ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
( وَمَا اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَ یْدِیْکُمْ ) ١
''تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے اعمال کا نتیجہ ہے''
اسی طرح گناہوں کی کثرت قوموں کوبھی کمزورکردیتی ہے لہٰذا آج ہمیں اجتماعی توبہ کی ضرورت ہے، جھوٹ، ظلم، رشوت، فحاشی اور ناانصافی جیسے گناہوں سے بچ کر ہی اللہ کی مدد حاصل ہو سکتی ہے ! !
استغفار، درودِ پاک اور دعا روحانی طاقت کا سرچشمہ ہیں ،ذرا غور کریں
اللہ کے نبی حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا :
( فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ اِنَّہ کَانَ غَفَّارًا ۔ یُّرْسِلِ السَّمَائَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا ) ٢
''اپنے رب سے استغفار کرو، وہ تم پر آسمان سے برکتوں کی بارش نازل کرے گا''
استغفار نہ صرف گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے بلکہ مشکلات کے خاتمے اور رزق میں وسعت کا سبب بھی ہے !
اسی طرح درودِ پاک وہ عمل ہے جس سے دلوں کو سکون ، راحت اور برکت ملتی ہے ! رسولِ اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا :
مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ وَاحِدَةً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ عَشْرًا ٣
''جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں ''
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ روزانہ استغفار اور درود شریف کو اپنی زندگی کا معمول بنائے !
اس طرف بھی توجہ کریں کہ دعا مومن کا ہتھیارہے،مشکل حالات میں سب سے مضبوط سہارا دعا ہے ! دعا مومن کا ہتھیار، دل کا سکون اور اللہ سے رابطے کا ذریعہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
١ سورة الشوریٰ : ٣٠ ٢ سورة نوح : ١٠ ، ١١
٣ صحیح مسلم کتاب الصلاة باب الصلاة علی النبی صلی اللہ عليہ وسلم بعد التشھد رقم الحدیث : ٩١٣
( اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ) ١ ''مجھ سے دعا مانگو ، میں تمہاری دعا قبول کروں گا''
آزمائش کا وقت دراصل اصلاح کا موقع ہوتا ہے ،اگر ہم اس آزمائش اور ابتلاء کے دور میں اللہ کے حضور سچی توبہ اور اعمالِ صالحہ کے ساتھ رجوع کریں تو یہی حالات اللہ کی رحمتوں کا دروازہ بن سکتے ہیں آج ہمیں شکایت کم اور دعا و عمل زیادہ کرنے کی ضرورت ہے ! اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنی چاہیے کہ وہ ہمارے وطنِ عزیز پاکستان کو امن و استحکام عطا فرمائے، ہمارے حکمرانوں کو عدل و دیانت کا پیکر بنائے اور ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی اصلاح کی توفیق دے ! اگر ہم نے اپنی اصلاح کر لی تو حالات خود بدل جائیں گے ورنہ ہم حکومتیں بدلتے رہیں گے مگر تقدیر نہیں بدلے گی !
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی روشنی میں سیاست، معیشت اور معاشرت کے اصول سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین !
آئیے ! ہم سب اجتماعی اور انفرادی طور پر امت ِمسلمہ کے لیے ،اپنے وطن کے لیے اور اپنے دینی اداروں کے استحکام کے لیے دعا کریں !
اللہ تعالیٰ ہمیں استقامت، صبر اور ایمان کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنے، گناہوں سے بچنے اور دعا و درود کے ساتھ اپنی زندگیوں کو منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین
اخوکم فی اللّٰہ
نعیم الدین
٤ جمادَی الاخری ١٤٤٧ ھ / ٢٦ نومبر٢٠٢٥ ئ
١ سورة غافر : ٦٠
درسِ حدیث
٭٭٭
قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ
کا مجلس ِذکر کے بعد درسِ حدیث ''خانقاہِ حامدیہ چشتیہ'' شارع رائیونڈ لاہور کے زیرِانتظام ماہنامہ '' انوارِ مدینہ'' کے ذریعہ ہر ماہ حضرت اقدس کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کے اس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے،آمین۔ (ادارہ)
٭٭٭
گناہ پر نادم ہونے والے کا درجہ ؟ غیبت کی سزا
حقوق اللہ سے متعلق گناہ پر صرف توبہ کرے کسی پر ظاہر نہ کرے !
(درسِ حدیث نمبر٣٠ یکم جمادی الاوّل ١٤٠٢ھ/٢٦ فروری ١٩٨٢ئ)
٭٭٭
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا
مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ !
ایک صحابی سے ایک گناہ ہو گیا اور وہ گناہ ایسا تھا کہ اس پر حد لازم آتی تھی وہ حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا (کہ مجھ سے یہ گناہ ہو گیا ہے) آپ نے فرمایا کہ تمہارا منشا کیا ہے ؟ جب ان کا اصرار ہوا سب ہی چیزیں ہوئیں اور خود اپنے اقرار سے ہوئیں ، ایسی صورت میں حکم یہ ہے کہ بندہ خدا سے استغفار کرے یہ بھی کافی ہے ! لیکن ان کی طبیعت مطمئن نہ ہوئی جب تک مجھے میرے گناہ کی سزا نہ مل جائے میں پاک نہیں ہوں گا ! یہ ذہن میں ان کے رہا تو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے پھر انہیں سزا دے دی اور سزا سنگسارکی دی ہے !
آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم تشریف فرما تھے کہ دو آدمیوں کی گفتگو آپ کے سامنے آئی ،ایک کہہ رہاتھا کہ دیکھو اس آدمی کے اوپر اللہ نے پردہ رکھا اور اس نے جو جرم کیا اس کا پتہ کسی کونہیں تھا لیکن اس کے مزاج کودیکھو کہ اس کے نفس نے خود اسے مجبور کیا حتیٰ کہ وہ ایسے سنگسار کیاگیا جیسے کتے کو کیا جاتا ہے !
رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کسی طرف تشریف لے چلے یا لے جارہے تھے راستے ہی میں ادھر ادھر سے یہ آواز پڑی تو آپ نے کچھ نہیں کہا انہیں ! اور تھوڑے چلنے کے بعد ایک گدھا آگیا مردار پڑا تھا اور وہ ایسے تھا کہ پھول چکا تھا، اس کے پاؤں بھی جیسے پھولنے کی وجہ سے الگ الگ ہوجاتے ہیں ، ٹانگیں ایسے الگ الگ ہوگئیں تھیں وہاں رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے پوچھا کہ فلاں اور فلاں کہاں ہیں ؟ ان کے نام لیے ان دونوں نے کہا کہ ہم موجود ہیں ، ارشاد فرمایا تم اترو اور اترکے یہ جو گدھا ہے اس میں سے کچھ اس کا گوشت کھائو ! اور گدھا جو تھا وہ جس حال میں تھا وہ بھی پتہ ہے سڑچکا تھا، پھول چکا تھا ! انہوں نے عرض کیا کہ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ مَنْ یَّأْکُلُ مِنْ ھٰذَا اس میں سے کون کھاسکتا ہے ؟ قَالَ فَمَا نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ اَخِیْکُمَا اٰنِفًا اَشَدُّ مِنْ اَکْلٍ مِّنْہُ جو تم نے ابھی ابھی کہا ہے وہ اس کے کھانے سے زیادہ بڑا گناہ ہے، زیادہ بڑی چیز ہے ! تم نے محسوس نہیں کی تمہیں پتہ نہیں چلا لیکن خدا کے یہاں جو اس عالَم میں اثر مرتب ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اس سے یہ بہتر ہے کہ آدمی یہ کھالے، اگر یہ سزا دی جائے کسی کو یہ کھالے تو یہ خفی ہوگی بہ نسبت اس کے کہ جو وہاں اسے دی جائے گی ! اور ارشاد فرمایا آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہ اِنَّہُ الْآنَ لَفِیْ اَنْھَارِ الْجَنَّةِ یَنْغَمِسُ فِیْھَا ١ قسم کھاکر ارشاد فرمایا قسم اس ذات کی کہ جس کے قبضے میں میری جان ہے وہ اب اس وقت جنت کی نہروں میں ہے اور اس میں غوطے لگارہا ہے اور تم اس کے بارے میں ایسا خیال کررہے ہو !
حقوق اللہ سے متعلق گناہ کسی سے بیان نہ کرے،ہر زَانی کے لیے سنگسار نہیں :
تو اس میں ایک تو یہی ثبوت ہے کہ حد لگائی گئی ہے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے زمانے میں اور بالغ آدمی بلکہ شادی شدہ آدمی زنا کرے تو اس کی حد سنگسار ہے !
ایک مسئلہ یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی بھی گناہ انسان سے ہوجائے یہ نہیں ہے کہ وہ اسے کسی سے ظاہر کرے بلکہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کو چھپالیا ہے تو اسے بھی چھپائے رکھنا چاہیے ! کیونکہ چھپنا جو ہے کسی بات کا یہ خدا کا انعام ہے ! ! ورنہ نہیں چھپتی پھیلتی چلی جاتی ہے کھل جاتی ہے بات، تو اس کے بجائے کیا کرے ؟ استغفار کرے ! اب ان دونوں صحابیوں کو یہ مسئلہ تو معلوم تھا اور انہوں نے اپنی گفتگو میں یہی بات کہی لیکن ایک جملہ سخت یہ کہہ دیا کہ کتے کی طرح سے اس کو مارا گیا ، پہلی بات
١ مشکوٰة المصابیح کتاب الحدود باب مالا یدعی علی المحدود رقم الحدیث ٣٦٢٧
تو ٹھیک تھی ان کی کہ اس نے یہ غلطی کی ، جب اللہ نے اس کے اوپر پردہ رکھا تھا تو اسے پردہ کھولنے کی ضرورت نہیں تھی، استغفار کرتا رہتا، پچھتاتا رہتا زندگی بھر، تو جتنا پچھتاتا، جتنا استغفار کرتا اللہ کی رحمت اتنی ہی بڑھ جاتی ! مگر ساتھ ساتھ یہ جملہ آگیا تھا کہ ذلیل ہوکے مارا گیا، کتے کی موت ماراگیا ! یہ کتے کی موت مارا گیا جو ہے یہ ایک ایسے شخص کو کہ جس کی موت کی وجہ صرف اس کا ایمان ہوا ہے اسے یہ کہنا یہ بڑی غلط بات ہے ! ! !
تو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کو یہ پسند نہیں آیا کہ جو آدمی اس طرح سے اس قدر شدید سزا کو ترجیح دے رہا ہے آخرت کے عذاب پر تو اس کا یہ بھی تو اندازہ کرو کہ اس کے دل میں ایمان کتنا ہے، کتنا بڑا مومن ہے وہ ؟ اس سے نظر تم نے ہٹالی اور صرف اس چیز پر نظر رکھی کہ یہ اس طرح سے مرا ، تو تم نے جو یہ ذہن میں لاکر زبان سے ادا کیا تو یہ بہت بڑا گناہ بن گیا اور ایسے ہی ہوگیا جیسے زندہ کا گوشت کھاتا ہے ! !
اور یہ غیبت ایسی بری ہے جیسے کسی مرے ہوئے مسلمان بھائی کا گوشت کھارہا ہو ( اَنْ یَّأْکُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا ) اور یہاں یہ ہے کہ اس سے بھی مشکل کھانا ہوا کہ گدھا جو سڑچکا ہے اس کا گوشت گویا کھارہا ہے وہ آدمی جو مردے کی غیبت کررہا ہے، وہ اتنے بڑے گناہ میں مبتلا ہے ! اور پھر جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ان کی توبہ کی فضیلت بتلائی ہے کہ انہیں بلاتاخیر کے جنت میں داخلہ مل گیا ! ممکن ہے کہ بلاحساب ہی داخلہ ہوگیا ہو کیونکہ اس نے بہت تکلیف یہاں اٹھائی اور وہ اقرار کرتا ہی ہوایہاں سے رخصت ہوا ! وہ استغفار کرتا ہوا ہی رخصت ہوا ! ممکن ہے اس کا حساب ہی نہ ہوا ہو اور اس کو اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا ہو اور جو پسند آجائے اللہ کو تو جتنا چاہے اللہ بڑھادے اسے اور جو چاہے اسے عطا فرمادے ! !
توآقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم نے اصلاح فرمائی ہے ان کی کہ ایسے مسئلے کی بات تو ٹھیک ہے کہ آدمی کو چاہیے یہی کرنا(یعنی اپنے گناہ کو ظاہر نہ کرنا) لیکن اگر ایسا موقع ہو اور اس طرح سے کوئی آدمی کررہا ہو اور سزا پارہا ہو اور آخرت میں جارہا ہو اس کے بارے میں بد زبانی کی گنجائش کوئی نہیں رہتی ! اسے برے الفاظ سے یاد نہیں کیا جاسکتا ! ! ! اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی سمجھ اور اس کی حکمتیں اور اس کا علم عطا فرمائے، آمین
اختتامی دعا.................
( مطبوعہ ماہنامہ انوار مدینہ دسمبر١٩٩٥ئ)
سیرتِ مبارکہ
٭٭٭
مکہ مکرمہ ..... محل وقوع ، اہمیت
سیّد الملة و مؤرخ الملة حضرت مولانا سیّد محمد میاں صاحب کی تصنیفِ لطیف
سیرتِ مبارکہ '' محمد رسول اللّٰہ '' صلی اللہ عليہ وسلم کے چند اوراق
٭٭٭
دنیا کے وہ مقام جن کو بین الاقوامی تعلقات کے بارے میں درمیانی کڑی( جنکشن )کی حیثیت حاصل تھی ''مکہ ''ایسے ہی مقامات میں ایک ممتاز مقام تھا ! مکہ شہر بعد میں آباد ہوا مگر اس کے محل وقوع کی حیثیت اس وقت سے تھی جب سے ہند، سندھ ، افغانستان ، ایران ،یمن اور شام کے ممالک تمدن سے آشنا ہوئے تھے اور ابنائِ آدم کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں نے اجناس و مصنوعات کے تبادلہ کا سلسلہ ایجاد کیا تھا !
عرب کا یہ صوبہ جس میں مکہ شہر ہے اس کو ''حجاز''کہا جاتا ہے کیونکہ یہ صحراء اعظم کے ریگ و بالو اور دو سمندروں ( بحر احمر و بحر قلزم) کی موجوں کے درمیان قدرتی آڑ ( حجاب) ہے ١
حجاز نے بے شک سمندر کو صحرا ء عرب اور اس کے شمال مشرقی شہروں سے کئی سو میل دور ہٹا دیا مگر سمندر کا یہ قدرتی احسان ہے کہ اس نے حجاز کے ساتھ علیحدگی پسندی کا سلوک نہیں کیا بلکہ پہلے تو عربوں کو جہازرانی سکھائی پھر ان کے جہازوں کو اپنے سینہ پر چڑھا کر نہ صرف یمن ، سندھ ،مصر، افریقہ اور ایران بلکہ دنیاکے مشرقی کناروں (جزائر شرق الہند تک پہنچایا ،حجاز جس کا قلب ''مکہ'' ہے اس کی یہی اہمیت تھی) جس کی وجہ سے اس پر قبضہ کے لیے تین ہم عصر سلطنتوں میں رقابت چلی آتی تھی (رومی، ایرانی اور حبشی) یہ تینوں اس پر قبضہ کے خواہشمند رہیں ! !
روایت ہے کہ سکندر ذوالقرنین نے ضروری خیال کیا تھا کہ اس شہر کے معبد''خانہ کعبہ'' کی
١ حجاز کے معنی آڑ ہیں
زیارت کرے ١ جدہ جو مکہ سے صرف پچاس میل کے فاصلہ پر حجاز کی بندرگاہ ہے جو فی زمانہ حجاجِ ہند کے استقبال کا عادی ہے کہتے ہیں کہ جب نوع انسان کا گلہ وجود وحیات کی پہلی منزل میں تھا تو جدہ نے حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی اہلیہ محترمہ (حضرت حوا) کا استقبال بھی اسی شان سے کیا تھا جب وہ لنکا سے روانہ ہوکر ہندوستان سے گزرتے ہوئے سرزمین ِ حجاز میں فروکش ہونے کے لیے مکہ جارہے تھے جہاں انہوں نے پہلی بار خانۂ خدا ''کعبہ '' کی بنیاد رکھی ٢
بناء مکہ ، بانی مکہ اور کعبہ :
تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے کی بات ہے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام ٣ نے شام سے آکر علاقہ حجاز کی ایک وادی غیر زرع (بنجر میدان ) میں اپنے جگر گوشہ اسماعیل( علیہ السلام) کو آباد کیا ٤ پھر کچھ عرصہ کے بعد خدا کے گھر کی مٹی ہوئی بنیادیں ابھاریں اس خانہ خدا کا نام ''کعبہ'' ہے اور جو شہر یہاں آباد ہوا وہ'' مکہ'' ہے۔
اس نونہال (حضرت اسماعیل علیہ السلام) کے ساتھ صرف اس کی ماں تھی، وہی اس چشمہ کی مالک تھی جو یہاں ان کی سکونت کے ساتھ ساتھ بر آمد ہوا تھا ٥ یہ چشمہ بر آمد ہوا تو حضرت ہاجرہ سے
١ البدایة والنہایة ج٢ ص ١٠٣ تا ص ١٠٥ ٢ جو طوفانِ نوح میں اٹھا لیا گیا تھا پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان ہی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کیا (تفصیل کے لیے عہد ِ زرّیں جلد اوّل ملا حظہ فرمائیے)
٣ ہندوستان کی جنتا برہم کو پوری عظمت کے ساتھ مانتی ہے مگر یہ نہیں بتا سکتی کہ ''برہم'' کون تھے کوئی انسان تھے تو کہاں کے رہنے والے تھے اور ان کا مذہب ومسلک کیا تھا ؟ مگر بائبل برہام، اور ابرہام کو موجودہ نسل انسانی کا باعظمت انسان ،توحید کا علمبرداراوّل اور ان مذاہب کا ہادیٔ اعظم مانتی ہے جو الہام، وحی اور نبوت ورسالت کے قائل ہیں قرآنِ حکیم نے بھی حضرت ابراہیم کو یہی حیثیت دی ہے ۔ ٤ پوری تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو عہد ِ زریں جلد اوّل
٥ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی اور لخت ِ جگر کو یہاں آباد کیا تو تھوڑے سے کھجور اور پانی کا ایک مشکیزہ توشہ میں دیا تھا ، چند روزبعد پانی ختم ہوگیا ماں سے پہلے بچہ پیاس کی وجہ سے لب ِ دم ہوگیا تو قدرتی طور پر ایک چشمہ برآمد ہوگیا اسی کا نام ''زم زم'' ہے جو اب خانہ کعبہ کے قریب کنویں کی شکل میں ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیے عہد ِ زرّیں جلد اوّل)
اجازت لے کر یہاں قبیلہ جرھم ١ بھی آباد ہوگیا تھا ،حضرت اسماعیل جوان ہوئے تو ان کی شادی بھی اسی قبیلہ میں ہوگئی۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے اولاد ہوئی تو عرب قدیم میں ایک نئی نسل کا اضافہ ہوگیا جس کو عربِ مستعربہ اور بنو اسماعیل کہا گیا ٢
حضرت اسماعیل علیہ السلام یہاں تنہا تھے ایک ماں کے علاوہ نہ ان کا کوئی دادھیالی رشتہ دار تھا نہ ننھیالی ! بنو جرہم سے ان کو مدد ملی۔ ادھر بنو جرھم پر حضرت اسماعیل( علیہ السلام ) کے اخلاق کا یہ اثر ہوا کہ وہ ان کے معتقد ہوگئے ٣ پھر ان کا مسلک قبول کر لیا !
تو ریت کی روایت کے بموجب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر ایک سو سینتیس سال ہوئی ٤ اس عرصہ میں مکہ چند گھر کی آبادی کے بجائے پورا شہر بن چکا تھا اور کعبہ نے بھی مرکزی عبادت گاہ کی حیثیت اختیار کر لی تھی۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام اپنی قوم کے مقتدا بھی تھے اور کعبہ کے متولی بھی ! !
حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارہ لڑکے ہوئے ٥ اگر وہ سب مکہ میں رہتے تو بہت ممکن تھا مکہ میں ان کی اکثریت ہوجاتی مگر یہ صاحبزادگان جو اُولوالعزم نبی کی اولاد تھے ان کا مطمحِ نظر اور نصب العین دعوت اِلی اللہ اور اصلاحِ خلق تھا۔ وہ اسی مقصد کو لے کر مکہ سے نکلے اور ملک کے مختلف علاقوں میں آباد ہوگئے جہاں جہاں وہ پہنچے وہاں اس زمانہ کی گمراہیوں یعنی کواکب پرستی اور اصنام پرستی وغیرہ کے مقابلہ میں خداپرستی کا علم بلند ہوگیا ! ٦
١ اس قبیلہ کا اصل وطن یمن تھا، اب وہ الگ سرزمین اپنی آبادی کے لیے چاہتا تھا یہ میدان اور چشمہ اس کے لیے نعمت ِ غیر مترقبہ تھا جس نے اس قبیلہ کی مراد پوری کردی۔ ٢ یعنی جو پہلے عرب نہیں تھے اب عرب بن گئے ، اور واقعہ بھی یہی ہے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اگرچہ عربوں کی طرح اولاد ِ شام میں سے تھے مگر ان اصل وطن عراق تھا۔
٣ حضرت اسماعیل علیہ السلام خدا کے نبی تھے، نبی کی اخلاقی اور روحانی تربیت خود قدرت کی جانب سے ہوتی ہے اور نظر بظاہر حضرت ابراہیم علیہ السلام مربی تھے وہ یہاں آتے رہتے تھے ۔
٤ توریت (بائبل قدیم) باب پیدائش ب ٢٥ فقرہ ١٦ ، ١٧ ٥ ایضًا
٦ فلما ضاقت مکة علی ولد اسمٰعیل انتشروا فی البلاد فلا ینائلون قوما الا اظھرھم اللّٰہ علیہ بدینھم فوطنوھم (سیرة ابن ہشام ج ١ ص ٧٢)
مکہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے صرف ایک فرزند قیدار قیام پذیر رہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بعد وہی خانہ کعبہ کے متولی ہوئے پھر ان کی اولاد متولی ہوتی رہی اور سیاسی اقتدار ان کے ننھیال ''بنو جرھم'' کو حاصل رہا ! کئی صدی تک یہ سلسلہ جاری رہاپھر وہ وقت آیا کہ بنو جرھم اپنے اقتدار کے نشہ میں ایسے مست ہوئے کہ ان کو اولادِ اسماعیل (علیہ السلام) کی اتنی مداخلت بھی گوارا نہ ہوئی کہ وہ خانہ کعبہ کے متولی رہیں چنانچہ ان کو مکہ سے نکال دیا اور اب مرکز توحید یعنی خانہ کعبہ پر بھی ان ہی کااقتدار ہوگیا مگر جس قوت اور اقتدار کے نشہ میں وہ اپنے مخدوم زادوں کا احترام نہ کر سکے وہ دوسروں کے حقوق کا احترام کب کر سکتے تھے چنانچہ زائرین ِکعبہ کے حق میں بھی ان کا یہ نشہ ستم پرور ہی رہا، انتہا یہ کہ سرزمین ِ پاک (مکہ معظمہ) کا ذرّہ ذرّہ ان کے مظالم سے نالاں ہوگیا !
بنو جرھم اگرچہ اب بھی توحید پرست اور دین ِابراہیمی کے دعویدار تھے مگر صحت عقیدہ اورادو وظائف یا پوجا پاٹ کے منتر سے حکومت اور اقتدار کی حفاظت نہیں کی جاسکتی خصوصاً حرم مکہ کے متعلق عرب کا عقیدہ یہ تھا
اِنَّھَا مَا سُمِّیَتْ بِبَکَّةَ اِلَّا اَنَّھَا کَانَتْ تَبُکُّ اَعْنَاقَ الْجَبَابِرَةِ اِذَا اَحْدَثُوْا فِیْھَا شَیْئًا ١
''اس کا مکہ نام اسی لیے ہواکہ وہ جابر حکمرانوں کی گردنیں توڑ دیتا ہے جب وہ اس سرزمین پر ظلم کرتے ہیں ''
چنانچہ قدرت کے ''کید متین '' ٢ نے قبیلہ بنو خُزاعہ کے مورث کو ان کی سرکوبی کے لیے ان پر مسلط کردیا۔
عَمْرو بْن لُحَیّ ٣ جویمن کا ایک چالاک سردار تھا آگے بڑھا اس نے بنو جرھم کو مکہ سے نکال باہر کیا اور دروبست کا مالک خود بن گیا۔ اسی کے اخلاف بَنُوْ خُزَاعہ تھے جو تقریباً تین سو برس تک مکہ پر حکمر اں رہے۔
١ سیرة ابن ہشام ج١ ص ٧٢ ٢ خفیہ تدبیر سنجیدہ اور مستحکم
٣ بضم لام و فتح حاء و تشدید یاء بصیغہ تصغیر۔ فتح الباری ج ٦ ص ٤٢٧ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیے عہد زریں جلد اوّل
یہی عَمْرو بْن لُحَیّ ہے جو شام گیا تو وہاں ایک بت ہبل کا گرویدہ ہوگیا جس کی صفت یہ بیان کی گئی تھی کہ وہ بارش کا دیوتا ہے اور لڑائیوں میں بھی مدد کرتا ہے ١ عَمْرو بْن لُحَی ایسے دیوتا کو کب چھوڑ سکتا تھا وہ خوشامد کر کے یا کچھ نذرانہ دے کر اس بت کو مکہ معظمہ لے آیا اور خانہ کعبہ ٢ کے وسط میں جو خزانہ کاکنواں تھا اس کے اوپر نصب کردیا۔
قریش اور قُصٰی بن کلاب مصلح قریش
٭٭٭
قریش کا تعارف :
حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں تقریباً بیس پشت کے بعد ایک شخص مُضَر ہوا ہے باپ کا نام '' کنانہ'' ا س کی اولاد کو ' ' قریش'' کہاجاتاہے ٣
مُضَر کی آٹھویں پشت میں ایک شخص ہواجس کا عرفی نام قُصٰی تھا ٤ (اصل نام زید ، باپ کا نام کلاب، ماں کا نام فاطمہ بنت سعد) قُصٰی بن کلاب کو قوم نے مُجَمِّعْ کا خطاب دیا۔ ٥ اب پورا نام مع القاب و خطاب یہ ہوگیا '' زید بن کلاب عرف قُصٰی ، مخاطب بخطاب مُجَمِّعْ ''
قُصٰی اور تولیت ِکعبہ :
قُصٰی ، بچپن ہی میں باپ کے سایہ سے محروم ہوگیا تھا ماں نے قبیلہ بنی عذرا کے ایک شخص سے جس کا نام ربیعہ بن حرام تھا دوسرا نکاح کر لیا۔ بنو عذرہ، شمال عرب کی حدود میں شام کے قریب سُرغ میں آباد تھے۔ ٦
١ یعنی گنیش اور کالی دیوی دونوں کے پورٹ فو لیو(portfolio)کا انچارچ ہے ٢ اس زمانہ میں خانہ کعبہ پر چھت نہیں تھی چاروں طرف صرف دیواریں تھیں اور ان کے بیچ میں کنواں تھا (پختہ گڑھا) اس میں نذرانے ڈالے جاتے تھے
٣ معارف ابن قتیبة ٤ جس کی پانچویں پشت میں فخر موجودات، سید الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کا ظہورِ اقدس ہوا سلسلہ نسب یہ ہے : محمد رسول اللّٰہ صلی اللہ عليہ وسلم بن عبداللّٰہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی
٥ سمی قصی لتقصبیبا بہ الی الشام ( ابن سعد ج١ ص ٣٦ )یعنی چونکہ اس بچہ کو اس کی ماں عرب کے آخری کنارہ میں لے گئی تھی اس لیے اس کو'' قصی'' کہا جانے لگا یعنی آخری کنارہ والا چھوٹا سا بچہ ! ٦ ابن سعد ج١ ص ٣٦
قُصٰی نے ماں کی آغوش میں یہیں پرورش پائی، ہوش سنبھالا تو وطن اور نسل کی جستجو ہوئی، کچھ سراغ لگاتو یہ مکہ پہنچا، وہاں بڑے بھائی سے ملاقات ہوئی جس کا نام'' زہرہ'' تھا جو بوڑھا ہوچکا تھا اس کی بصارت بھی جاتی رہی تھی ١
مکہ پر قبیلہ خزاعہ کا قبضہ تھا، قُصٰی نے یہیں بود وباش شروع کردی اور یہاں تک تعلقات بڑھائے کہ خانہ کعبہ کے متولی نے اپنی لڑکی کا نکاح قُصٰی سے کردیا۔ ٢
اب ایک روایت یہ ہے کہ حلیل نے اپنی وفات کے وقت قُصٰی کو خانہ کعبہ کامتولی بنادیا مگر مشہور روایت یہ ہے کہ حلیل نے لڑکی کو متولی اور ایک شخص ابوغبثان ٣ کو اس کا نائب بنادیا اور کاروبار اس کے سپرد کردیا۔
ابو غبثان شراب کا دھنی تھا، شراب کی بدمستی میں قُصٰی نے اس سے نیابت تولیت منتقل کرنے کا معاملہ کیا اور شراب کے ایک مشکیزہ پر معاملہ طے ہوگیا۔
ابو غبثان کو مشکیزہ شراب ملا اور قصی بن کلاب کو سندِ نیابت اور وہ جملہ اختیارات جو ابوغبثان کو حاصل تھے اس واقعہ سے ایک مثل مشہور ہوگئی گھاٹے کے سودے کے متعلق کہا جانے لگا ''اخسر من صفقہ ابی غبثان '' ابوغبثان کے سودے سے بھی زیادہ خسارہ مند !
قُصٰی کی کامیابی اور قریش کا مکہ پر تسلط :
واقعہ کچھ بھی ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ خزاعہ کے دوسرے سرداروں نے اس کو برداشت نہیں کیا کہ ایک قریش نوجوان خانہ کعبہ کا متولی ہو، انہوں نے اس تولیت نامہ کو بجر منسوخ کرنا چاہا مگر قُصٰی اس کے لیے پہلے سے تیار تھا، وہ قریش کے منتشر اجزاء کو جمع کرکے بنوخزاعہ سے معاملہ کی تیار کر چکا تھا اس نے مزید کمک اپنے ننھیالی قبیلہ بنو قضاعہ سے حاصل کی۔ اپنے حلیف قبائل سے بھی امداد
١ کہتے ہیں زہرہ نے دو علامتوں سے چھوٹے بھائی کو پہچانا ایک تو آواز سے پہچانا، دوسرے یہ کہ جس طرح زہرہ کے بدن پربہت بال تھے ایسے ہی قصی کے بدن پر بھی بال تھے۔ ( ابن سعد ج١ ص ٣٧ )
٢ حلیل بن حبشیة ، خزاعی ، لڑکی کا نام حُبَّی ( البدایة و النہایة ٢ /٢١٠ ) ٣ اصل نام سلیم بن عمرو
طلب کی اور اس طرح ''بنو خزاعہ'' کے مقابلہ پر ایک مضبوط محاذ قائم کرلیاچند بار خونریز معرکے ہوئے فریقین کا کافی نقصان ہوا۔
معاملہ خانہ کعبہ کی تولیت کا تھا جس سے ہر ایک عرب کو دلی تعلق تھا کچھ امن پسند عناصر بھی تھے وہ بیچ میں پڑے اور فریقین کو اس پر راضی کر لیا کہ یہ پورا معاملہ ثالث کے سپرد کردیں ۔
یعمر بن عوف ایک مشہور دانشمند اور صاحب الرائے تھا، فریقین نے اس کو ثالث تسلیم کرلیا اس نے تمام واقعات کی چھان بین کی، فریقین کے دلائل کو پرکھا اس کا فیصلہ یہ ہوا
''تولیت کعبہ اور مکہ کے نظم و نسق کا مستحق قُصٰی ہے بنو خزاعہ کو یہ حق نہیں پہنچتا لہٰذا کعبہ اور مکہ کا نظم و نسق قُصٰی کے حوالہ کیا جائے بنو خزاعہ مکہ کو خالی کردیں ۔ بنو خزاعہ حمہ آور تھے ان کا یہ اقدام غلط تھا لہٰذا جتنے آدمی ان کے اور ان کے حلیفوں کے مارے گئے ان کا کوئی معاوضہ نہیں ہے البتہ قُصٰی اور قُصٰی کے حامیوں کے جتنے آدمی ہلاک ہوئے ہیں ان کی دیت بنو خزاعہ ادا کریں ''
یعمر بن عوف نے اپنے فیصلہ میں بنو خزاعہ کے مقتولین کا شدخ کیا یعنی ان کا کوئی تاوان لازم نہیں کیا اس بناپر یعمر کا لقب شداخ پڑگیا ١ (معاوضہ خون کو ساقط کرنے والا )
قُصٰینے قریش کے انتشار کو ختم کر کے ان کو ایک مرکز جمع کیا اس لیے اس کا لقب ٢ مُجَمِّعْ ہوگیا ٣ قریش کا مکہ پر تسلط تو کئی ہزار سال کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ بنو اسماعیل کو مکہ پر سیاسی اقتدار حاصل ہوا۔
سیاسی رابطہ :
شام کے قریب جو عربی قبائل آباد تھے اگرچہ وہ خود مختار تھے مگر باز نطینی شہنشاہیت (سلطنت روم) کے زیر اثر تھے کچھ قبیلوں نے عیسائی مذہب بھی قبول کر لیا تھا ، قُصٰی اس علاقہ میں بڑھ کر جوان ہوا
١ سیرة ابن ہشام ج١ ص ٧٨ ٢ معارف ابن قتیبة ص ٢٤ ٣ حذافہ بن غانم عدوی نے ابوجہل کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا : ابوکم قصی کان یدعی مجمعا بہ جمع اللّٰہ القبائل من فھر (ابن سعد ج١ ص ٤٠)
تو اس کی بلند پرواز فطرت نے اس کو شاہنشاہِ روم تک پہنچا دیا ! بنو خزاعہکی اس جنگ میں قیصر روم (باز طینی شہنشاہ) کی حمایت بھی قصی کو حاصل تھی اور بقول ابن قتیبہ قیصر روم نے اس کو کمک بھی پہنچائی تھی ١ یہ بھی ایک گٹھ جوڑ تھا !
بین الاقوامی سیاست کبھی بھی پھندوں سے آزاد نہیں رہی ہے بظاہر منشاء یہ بھی تھا کہ عرب کے اندر اپنے اثرات بڑھائے اور ہندوستان سے خشکی کی راہ سے ہونے والی تجارت کے گزر گاہ کو اپنی نگرانی اور حفاظت میں لے لے۔ ٢ (جاری ہے)
( ماخوذ از سیرتِ مبارکہ '' محمد رسول اللّٰہ '' صلی اللہ عليہ وسلم ص ١٠٤ تا ١١٢ ناشر کتابستان دہلی )
١ داعانہ قیصر علیہا ۔ (معارف ابن قتیبة ص ٢١٥ ملوک الشام ٢ عہد نبوی میں نظامِ حکمرانی ص ٣٠
قارئین انوارِمدینہ کی خدمت میں اپیل
٭٭٭
ماہنامہ انوارِ مدینہ کے ممبر حضرات جن کو مستقل طورپر رسالہ ارسال کیا جارہا ہے لیکن عرصہ سے ان کے واجبات موصول نہیں ہوئے ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ انوارِ مدینہ ایک دینی رسالہ ہے جو ایک دینی ادارہ سے وابستہ ہے اس کا فائدہ طرفین کا فائدہ ہے اور اس کا نقصان طرفین کا نقصان ہے اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ اس رسالہ کی سرپرستی فرماتے ہوئے اپنا چندہ بھی ارسال فرمادیں اوردیگر احباب کوبھی اس کی خریداری کی طرف متوجہ فرمائیں تاکہ جہاں اس سے ادارہ کو فائدہ ہو وہاں آپ کے لیے بھی صدقہ جاریہ بن سکے ! (ادارہ)
قسط : ٢ ، آخری
فراست ِ مومن
( شیخ الادب والفقہ حضرت مولانا اعزاز علی صاحب )
٭٭٭
جب نصر بن حجاج کی جلاوطنی کی نوبت پہنچی تو وہ عورت جوکہ مذکورہ بالا اشعار کو گنگنا رہی تھی سخت مضطرب ہوئی کہ جب نصر بن حجاج کو یہ سزادی گئی حالانکہ بظاہر اس کی خطا نہ تھی تو خدا جانے امیر المومنین نے میرے لیے کیا سزا تجویز فرمائی ہوگی ! سزا کا خوف، بدنامی کی غیرت، دنیا میں رسوائی کے خیال نے تمام بدن میں رعشہ ڈال دیا ! امیر المومنین کی خدمت میں سفارش بے سود ہوتی تھی جو شخص ان کے نزدیک شرعی مجرم قرار پا جاتا تھا اس کے لیے یہ تو ممکن تھا کہ وہ اپنی براء ت کے دلائل پیش کرے ،شرعی حدود کی معافی کسی طرح ممکن نہ تھی اس لیے وہ سمجھ گئی کہ اگر امیر المومنین نے مجھ کو قابلِ سزا قرار دے لیا ہے تو بچنا ناممکن ہے اس لیے سفارش بے کار ہے اس خوف و دہشت میں بجز اس کے اور کوئی صورت سمجھ میں نہ آئی کہ ایک پرچہ پر یہ چند شعر لکھے اور امیر المومنین کی خدمت میں پہنچوادیے
قُلْ لِّلْاِمَامِ الَّذِیْ تُخْشٰی بَوَادِرَہ مَالِیْ وَلِلْخَمْرِ اَوَ نَصْرِبْنِ حَجَّاج
اِنِّی عَنَیْتُ اَبَا حَفْصٍ بِغَیْرِھِمَا شُرْبَ الْحَلیْبِ وَطَرْفَ فَاتِرٍ سَاج
اِنَّ الْھَوٰی زَمَّہُ التَّقْوٰی فَحَبَہ حَتّٰی اَقَرَّ بِالْجَامِ وَ اَسْرَاج
وَمَا اُمْنِیَّة لَمْ اَرِبْ فِیْھَا بِضَائِرَة وَالنَّاسُ مِنْ صَادِقٍ فِیْھَا وَمِنْ دَاج
لَا تَجْعَلِ الظَّنَّ حَقًّا اَوْ تَیَقُّنَہ اِنَّ السَّبِیْلَ سَبِیْلُ الْخَائِفِ الرَّاجِیْ
''اے مخاطب امیر المومنین کہ جن کے احکام عالم کے لیے باعث ِخوف ہیں میرا یہ پیام پہنچادے کہ مجھ کو شراب اور نصر بن حجاج سے کیا تعلق ہے ! اے ابو حفص (فاروق اعظم کی کنیت ہے) میں نے شراب اور نصر بن حجاج کہہ کر دو اور چیزیں مراد لی تھیں یعنی دودھ پینا معشوق کی ضعیف اور ساکن نظر مراد لی تھی ،خواہش انسانی کو خدائے قہار کے خوف نے لگام دے رکھی ہے اور اس کو روک لیا ہے، وہ آرزو کہ جس میں متہم نہ کی جاسکے (یعنی جس وسوسہ کا میں نے اعضاء سے ارتکاب نہیں کیا) میرے تقویٰ کو نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے ایسے وقت میں بعض آدمی اس کی تصدیق کرتے ہوں اور بعض تکذیب ،آپ کسی گمان کو یقین نہ بنالیں یہاں تک کہ آپ واقعات سے اس کا یقین کر لیں اس لیے کہ سیدھا راستہ امیدوار اور خائف ہی کا ہے ''
حضرت عمر پران اشعار کا ایک خاص اثر ہوا دیر تک ساکت رہے آخر ضبط نہ ہوسکا اور بے اختیار ہوکر روئے اور فرمایا کہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ حَبَسَ بِالتَّقْوَی الْھَوٰی
خدا کا شکر ہے کہ جس نے تقویٰ کے ذریعہ سے خواہش ِنفس کو مغلوب کر رکھا ہے
نصر بن حجاج کی جلاوطنی کو ایک زمانہ گزر گیا ادھر نازوں میں پرورش یافتہ بچہ ماں کی جدائی میں بے چین اُدھر لخت جگر کی مفارقت میں ماں کا کلیجہ پاش پاش ! آخر کو ضبط نہ ہوسکا ،وقت اور موقع کی منتظر تھیں ایک دن مسجد نبوی میں ایسے وقت تشریف لے آئیں کہ اذان ہوچکی تھی اور تکبیر نہ ہوئی تھی جس وقت امیر المومنین نماز پڑھانے کے لیے اپنی جگہ سے اٹھے سامنے آکھڑی ہوئیں اور جرأت کے ساتھ عرض کیا کہ امیر المومنین میرا اور آپ کا فیصلہ قیامت کے دن احکم الحاکمین کے دربار میں ہوگا اور وہاں میں آپ سے اپنے حق کا مطالبہ کروں گی ! عبداللہ اور عاصم (فاروق اعظم کی اولاد )تو آپ کے پاس رہ کر آپ کا کلیجہ ٹھنڈا کریں اور مجھ میں اور میرے بیٹے میں بڑے بڑے ریگستان اور میدان حائل کردیے گئے ۔
اللہ اکبر ! یہ تھا عدل وانصاف، یہ تھی رعایا کے ساتھ حقیقی مساوات کہ ایک بوڑھیا ایک خودمختار سلطان کے سامنے اس جرأت سے بات کر رہی ہے اور امیر المومنین کے چہرہ پر شکن بھی تو نہیں پڑتی، سزا دینا، غضب ناک ہونا، ڈانٹ دینا، یہ ساری باتیں تو بعد کی تھیں نہایت نرمی کے ساتھ فرمایا کہ اے نصر کی والدہ ! عبداللہ اور عاصم دونوں میرے پاس اس لیے ہیں کہ جوان عورتیں پردوں میں رہنے کے باوجود ان کے حسن کی وجہ سے فتنہ میں نہ پڑتی تھیں اور نصر کی وجہ سے خوف تھا کہ عورتوں میں فتنہ پھیلے اور امیر المومنین کے اس جواب سے وہ مایوس ہوکر واپس تشریف لے گئیں ، کچھ دنوں کے بعد کسی خاص ضرورت کی وجہ سے امیر المومنین نے کسی نامہ برکو والی ٔ بصرہ کے پاس بھیجا جب وہ وہاں سے واپس ہونے لگے تو بصرہ میں شہرت ہوئی کہ فلاں تاریخ نامہ بر مدینہ واپس جاوے گا اہلِ بصرہ میں سے جن جن کو اہلِ مدینہ کے پاس خط روانہ کرنے تھے خطوط کی روانگی کا انتظام کرنے لگے۔
نصر بن حجاج بھی بصرہ میں اقامت پذیر تھے انہوں نے بھی ایک درخواست امیر المومنین کے خط میں تحریر کی جس میں سلام ِمسنون کے بعد تحریر تھا کہ اے امیر المومنین !
لَعَمْرِیْ لَئِنْ سَیَّرَتَنِیْ وَحَرَّمْتَنِیْ فَمَا نِلْتَ مِنْ عِرْضِیْ عَلَیْکَ حَرَام
وَمَالِیْ ذَنْب غَیْرَ ظَنٍّ ظَنَنْتَہ اَلَا بَعْضَ تَصْدِیْقٍ مَظْنُوْنٍ آثَام
لَاِنْ غَنَتِ الدِّلْفَائُ یَوْمًا لِمُنْیَةٍ وَبَعْضُ اَمَانِی النِّسَآئِ غَرَام
ظَنَنْتُ بِیَ الْاَمْرَ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَہ بَقَائ فَمَالِیْ فِی النَّدٰی کَلَام
فَاَصْبَحْتُ مَنْفِیًا عَلٰی غَیْرِ رِیْبَةٍ وَقَدْ کَانَ لِیْ بِالْمَکَّتَیْنِ مَقَام
وَیَمْنَعُنِیْ مِمَّا تَقُوْلُ تَکَبُّرِیْ وَآبَآئُ صِدْقٍ سَابِقُوْنَ کِرَام
وَیَمْنَعُھَا مِمَّا تَقُوْلُ صَلٰوتُھَا وَحَال لَھَا فِیْ قَوْمِھَا وَصِیَام
فَھَاتَانِ حَالَانَا فَاَنْتَ رَاجِعِیْ فَقَدْ جُبَّ مِنَّا غَارِب وَّ سَنَام
''میں اپنی جانِ عزیز کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگرچہ آپ نے میری جلاوطنی کا حکم دے دیا اور مجھ کو زندگی کے عیش سے محروم کردیا تاہم جو کچھ آبرو ریزی آپ نے کی ہے وہ فی الحقیقت حرام ہے !
اور میرے ذمہ کوئی گناہ نہیں ہے بجز اس بدگمانی کے جو آپ کو میری طرف سے پیدا ہوگئی ہے ، واضح رہے کہ بعض گمانوں کو سچا سمجھنا گناہ ہے !
البتہ اگر کسی عورت نے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے میرے بارے میں کچھ اشعار گائے (اور عورتوں کی بعض آرزوئیں شیفتگی ہوتی ہی ہیں ) تو آپ نے میری نسبت وہ خیال پختہ کر لیا جس کے بعد بقا نا ممکن ہے اور نہ بوجہ ذات کے مجالس میں کلام کیا جاسکتا ہے !
اب میں جلاوطن کردیا گیا ہوں بغیر کسی جرم کے حالانکہ میری جائے اقامت مدینہ اور مکہ تھی !
اور جو کچھ وہ کہہ رہی تھی اس کے پورا ہونے سے میرا تقویٰ اور احتیاط محاسن ِجمیلہ والے آباء واَجداد (کہ گزرچکے ہیں اور کریم ہیں ) مانع ہے !
اور جو کچھ وہ کہہ رہی تھی اس سے اس کی نماز اور اس کے وہ حالات جو تمام قوم میں اس کی نسبت مسلم تھے اور اس کے روزہ خود اس عورت کو بھی کسی فعل ِبد کے ارتکاب سے مانع قوی تھے !
ہم دونوں کی یہ حالتیں ہیں جو ہم نے امیر المومنین کی خدمت گزارش کردیں تو اب کیا آپ میری واپسی کا حکم صادر فرما دیں گے اس واسطے کہ اب تو ہمارا کوہان وغیرہ سب کاٹ لیا گیا '' !
جب یہ درخواست فاروق اعظم کی خدمت میں پیش ہوئی تو فرمایا کہ جب تک میرے قبضہ میں خلافت ہے اس وقت تک تو نصر بن حجاج کو مدینہ میں نہ آنے دوں گا ! ہاں یہ ممکن ہے کہ میں اس کو بصرہ میں کوئی مکان آسائش سے بسر کرنے کے لیے دلوادوں اور کچھ جاگیر ان کی مقرر کردوں !
یہ تھی فراست ! صرف ذرا سی بات پر کہ کوئی عورت کسی مرد کا نام لے کر عاشقانہ مضامین کے گیت گا رہی ہے حضرت عمر نے مرد کو جلاوطن کردیا اور باوجود ممکن سے ممکن کوشش کے اس کو واپس نہ بلایا
یہی وہ فراست تھی جو مَلِک الاملاک احکم الحاکمین کے دربار سے اپنے بندوں کو عطا ہوتی ہے اس واقعہ کے انجام پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت فاروق اس نتیجہ پر اس وقت پہنچے ہوئے تھے جس کا ظہور اب سے مدت کے بعد ہونے والا تھا، اسی واسطے ابوبکر خرائطی رحمة اللّٰہ علیہ نے فرمایا اور بالکل سچ فرمایا :
رَحِمَ اللّٰہُ عُمَرَ مَا کَانَ اَنْظَرَہ بِنُوْرِ اللّٰہِ فِیْ ذَاتِ اللّٰہِ وَاَفْرَسَہ کَانَ وَاللّٰہِ کَمَا قَالَ الشَّاعِرْ بَصِیْر بِاَعْقَابِ الاُمُوْرِ بِرَأیِہ کَانَ لَہ فِی الْیَوْمِ عَیْنًا عَلٰی غَد
''فاروقِ اعظم پر خدا کی رحمت ہو وہ خدا کے عطا کردہ نور سے ذاتِ خدا کو کیسی عجیب شان سے دیکھ لیتے تھے اور وہ کس قدر فراست والے تھے خدا کی قسم وہ ایسے تھے جیسے کسی شاعر نے کہا ہے وہ امور کے انجاموں کو اپنی رائے سے معلوم کرکے دیکھ لیتے تھے گویا کہ کل کے معاملہ کو آج آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ''
اس واقعہ کا انجام اس طرح پر ہوا کہ جب نصر بن حجاج کو فاروق اعظم کے حکم سے بصرہ میں اقامت کرنی پڑی تو کچھ دنوں کے بعد ان کا دوستانہ مجاشع بن مسعود سلمی سے ہوگیا تھا اور یہ ربط دن بدن بڑھتا گیا مجاشع مذکور کی بی بی نہایت خوبصورت حسینہ جمیلہ تھی اور اس کا نام خضراء تھامجاشع کو بھی اپنی بی بی سے اس قدر الفت تھی کہ بی بی کے بغیر شکل سے چین آتا تھا۔
حضرت ابوموسٰی اشعری نے مجاشع کو اپنا قائم مقام بنادیا تھا دن کا اکثر حصہ تو معاملاتِ ِحکومت کے انفصال میں گزرتا تھا کبھی کبھی رات کو بھی ملکی ضرورتوں کے باعث گھر سے باہر بھی گزر جایا کرتا تھا اس لیے اس کے قائم مقام ہونے سے پہلے جس قدر گھر میں رہ سکتے تھے اس کا نصف بھی نصیب نہ ہوتا تھا اس لیے معاملات سے فارغ ہونے کے بعد اکثر وقت گھر ہی میں گزرتا تھا لیکن اس میں دشواری پیش آگئی تھی کہ گھرمیں زیادہ وقت گزرنے کے باعث نصر بن حجاج سے ملاقات کا کم وقت ملتا تھا اس لیے یہ طریقہ ایجاد کیا کہ اپنی بی بی کو نصر بن حجاج کی موجودگی میں اپنے پاس بلا لیا اور تینوں نے جمع ہوکر باتیں کرنا شروع کردیں ۔
اس کو عرصہ گزر گیا اتفاقاً مجاشع ان دونوں کی موجودگی میں کسی کام میں مشغول تھے کہ یکایک نظر اوپر کو اُٹھی تو دیکھا کہ نصر بن حجاج زمین پر کچھ لکھ رہا ہے اور مجاشع کی بی بی نے دبی زبان سے یہ لفظ کہے ''خدا کی قسم میں بھی، مجاشع ایسے بچہ تو نہ تھے ...کہ وہ اس قدر دیکھنے اور سننے کے بعد بھی متنبہ نہ ہوتے۔ فوراً تاڑگئے کہ بی بی کے یہ الفاظ جواب میں استعمال کیے گئے ہیں جب مجلس بر خاست ہوئی اور نصر بن حجاج اپنے جائے قیام کو واپس گئے تو مجاشع نے بااصرار تمام بی بی سے دریافت کیا کہ نصر بن حجاج نے تم سے کیا کہا تھا جس کے جواب میں تم نے یہ لفظ کہے ، ایسے وقت پر گھبرا جانا اور وہ بھی عورت کا خصوصاً اس وقت جبکہ شوہر موجود ہو ایک طبعی امرہے ممکن تھا کہ اگر سوچ کر جواب دینے کی کوشش کرتیں تو شاید کوئی مناسب جواب دیتیں لیکن طبیعت کی حد سے متجاوز اضطراب نے بغیر سوچے جلد بولنے پر مجبور کیا، گھبراکر کہنے لگیں
''بات چیت تو کچھ بھی نہ تھی ! نصر بن حجاج نے باتوں باتوں میں یہ کہا تھا کہ
''تمہاری یہ دودھ دینے والی اونٹنی نہایت خوبصورت ہے ''
مجاشع کو اگر اس سے قبل شک تھا تو اب ظن اور غلبہ ظن ہوگیا اور کہنے لگے
''اونٹنی نہایت خوبصورت ہے اور قسم خدا کی میں بھی '' !
ان دونوں جملوں میں کیا ربط ! دوسرا جملہ پہلے جملہ سے کسی طرح کا تعلق نہیں رکھتا ہے خدائے وحدہ لاشریک کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ فی الحقیقت کیا بات تھی ؟
عورت جس اضطراب میں مبتلا ہوگئی تھی وہ محتاجِ بیان نہیں اور سمجھ گئی تھی کہ بے شک یہ دونوں جملے مرتبط نہیں ہوسکتے ہیں اور اپنے اضطراب کو بہت ضبط کرنے کے بعد اب جبکہ آپ نے قسم دے دی تو مجھ کو بھی صاف ہی کہنا پڑا کہ انہوں نے یہ کہا تھا کہ
''تمہاری اونٹنی کے کجاوہ نہایت عمدہ ہیں ''
اب تو مجاشع کے غلبہ ظن اور غلبہ ظن کے بعد غضب کی انتہا نہ رہی اور درشت لہجہ میں لگی
''کجاوہ کے سامان کی عمدگی ! اور خدا کی قسم میں بھی '' !
اب بھی تو ان دونوں میں کسی قسم کا ربط نہیں !
مجاشع اتفاق سے اُمی محض تھے، لکھنا پڑھنا جانتے نہ تھے ،بی بی کو لکھنا بھی آتاتھا اور پڑھنا بھی اسی وقت ایک طشت منگوا کر نصر بن حجاج کے لکھے ہوئے کو اس سے چھپایا اور اپنے میر منشی کو بلواکر نصر بن حجاج کے ہاتھ کی لکھی ہوئی عبارت پڑھوائی ،اس نے اس عبارت کو پڑھ لیا مگر یہ خیال کیا کہ میاں بی بی کا معاملہ ہے، اگر میں نے ان الفاظ کو پڑھ دیا تو خدا جانے کیا بات پیش آوے ! ممکن ہے کہ مجاشع کو غصہ آجاوے اور وہ حکم قتل کا دے دیں یا خود ہی قتل کردیں ! ! تو ناحق اس خون کا ذمہ دار میں بنوں اور اگر یہ قصہ یوں ہی رفع دفع ہوگیا تو ایسا نہ ہو کہ موقع پاکر مجاشع کی بی بی مجھ سے بدلہ لے لے ! !
میر منشی اس تردّد میں تھا کہ مجاشع نے سخت لہجہ میں اس کو اس عبارت کے پڑھنے کا حکم دیا ! اب وہ مجبور ہوگیا اور کہا کہ حضور ! یہ لکھا ہوا ہے کہ
''مجھ کو تجھ سے ایسی محبت ہے کہ اگر وہ محبت تیرے اوپر ہوتی تو وہ تجھ پر سایہ فگن ہوتی ! اور اگر تو اس کے اوپرہوتی تو وہ تیرے بوجھ کو اٹھالیتی''
مجاشع یہ سن کر زور سے بول اٹھے کہ
''بیشک اب اس لکھے اور کان سے سنے ہوئے کا مطلب مرتبط ہوگیا''
بری باتوں کی خبر کسی طرح چھپائے نہیں چھپتی، خصوصاً بڑے گھرانوں میں یہ خبر بجلی کی طرح ادھر اُدھر پہنچ گئی ! نصر بن حجاج کو بھی خبر ہوگئی نصر بن حجاج کو اس افشائے راز کی کچھ ایسی شرم دامن گیر ہوئی کہ مجاشع کے پاس جانا تو بڑی بات گھرسے باہر نکلنا چھوڑ دیا !
وطن کا فراق ہی تکلیف پہنچانے میں کیا کم تھا کہ اب گھر میں محبوس رہنے نے حالت کو اور بھی ابتر کردیا ! شدہ شدہ یہ خبر حضرت ابو موسیٰ اشعری کو بھی پہنچی انہوں نے مجاشع کو بلاکردریافت کیا تو اس افواہ کی تصدیق ہوئی ! اس لیے نصر بن حجاج کو بلا کر فرمایا کہ خدا کی قسم امیر المومنین نے اگر ظاہر ہونے سے قبل ان شنائع کا احساس نہ کر لیا ہوتا تو ہرگز تم کو مدینہ سے جلاوطن نہ کرتے، اب تم یہاں بھی رہنے کے قابل نہیں ہو، تم ملک فارس جاؤ چنانچہ یہ بصرہ سے روانہ ہوکر فارس میں مقیم ہوئے ، یہ وہ زمانہ تھاکہ وہاں کے گورنر حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی تھے کچھ دن وہاں مقیم رہے اور وہاں بھی کسی گاؤں کی کسی رئیس کی عورت سے سلسلہ محبت شروع کردیا یہ خبر بھی چھپ نہ سکی، حضرت عثمان نے ان کو طلب فرمایا کہ امیر المومنین اور ابو موسیٰ نے ان ہی شنائع کی وجہ سے تم کو جلاوطن کیا تھا !
اس واقعہ کو سن لینے کے بعد غالباً اس میں شبہہ نہیں رہ سکتا ہے کہ فراست کے لیے تھوڑی سی تحریک ضروری ہوتی ہے۔ فاروق اعظم نہ اس عورت کے یہ گیت سنتے اور نہ اس طرف توجہ ہوتی لیکن اس معمولی تحریک کے بعد فاروق اعظم کی نظروہاں تک پہنچی جہاں تک ہر شخص کی نظر نہیں پہنچ سکتی، لیکن یہ ضروری نہیں کہ صاحب ِ فراست کے لیے ہر وقت یہ فراست اسی طرح کام دے بلکہ جس طرح مختلف ملکات والے اپنے ملکات سے کسی وقت کام لے سکتے ہیں کسی وقت نہیں ، اسی طرح صاحب ِفراست بھی کسی وقت اس فراست سے بہت دور تک پہنچ جاتا ہے اور بعض اوقات معاملات کے انجام کاوہم تک بھی نہیں ہوتا ہے ! !
٭٭٭
تقریب تکمیل ِبخاری شریف و دستار بندی
٭٭٭
٢١ رجب المرجب ١٤٤٧ھ /١١جنوری ٢٠٢٦ء بروز اتوار جامعہ مدنیہ جدید میں
''تکمیل بخاری شریف و دستار بندی ''کی پر وقار تقریب ان شاء اللّٰہ صبح دس بجے
منعقد ہوگی ! اس مبارک موقع پر شرکت فرماکر برکات سے مستفیض ہوں
اس موقع پر ملک عزیز کے کبار علماء و مشائخ کرام تشریف لا رہے ہیں
قائد جمعیة حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم
بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیں گے ان شاء اللّٰہ
اَلداعی اِلی الخیر
عکاشہ میاں غفرلہ و اراکین و خدام جامعة مدنیة جدید
مقالات حامدیہ قسط : ٢ ، آخری
٭٭٭
صرف امام اور منفرد ہی کاسورہ ٔفاتحہ پڑھنا
اور دنیا بھر میں بیس رکعت تراویح اور اس کے دلائل
قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں
عنوانات و تزئین ، حاشیہ و نظر ثانی بتغیرِ یسیر : حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب
٭٭٭
اب آثارِ صحابہ وتابعین ملاحظہ فرمائیں :
کچھ تو وہ روایات ہیں جو ابنِ تیمیة رحمة اللّٰہ علیہ نے اپنے فتاوٰی میں دی ہیں انہوں نے فرمایا ہے :
امام مالک رحمة اللّٰہ علیہ نے اپنی موطأ میں حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ کی روایت دی ہے انہوں نے فرمایا کہ
'' جس شخص نے کوئی رکعت بغیر(سورہ فاتحہ) پڑھے ادا کی تو اس کی نماز نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے نماز ادا کر رہا ہو''
حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ سے جب دریافت کیا جاتا تھا کہ امام کے پیچھے کوئی نماز پڑھ رہاہو تو کیا وہ پڑھے گا ؟ تووہ فرماتے تھے کہ
'' جب کوئی امام کے پیچھے پڑھتا ہو تو اسے امام کا پڑھنا کا فی ہے اور جب اکیلا پڑھے تو اسے پڑھنا چاہیے''
وہب بن منبہ نے فرمایا کہ ''عبداللّٰہ بن عمر امام کے پیچھے نہیں پڑھا کرتے تھے''
اور امام مسلم رحمة اللّٰہ علیہ نے اپنی صحیح میں عطا ء بن یسار سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللّٰہ عنہ سے امام کے ساتھ نماز میں پڑھنے کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ
'' امام کے پیچھے کسی بھی نماز میں نہ پڑھے''
حضرت ابووائل فرماتے ہیں کہ'' ایک شخص نے حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے امام کے پیچھے پڑھنے کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ
'' قرآن پاک کی طرف خاموشی سے دھیان لگائو کیونکہ نماز میں خاص مشغولیت (توجہ اِلی اللہ)ہونی ضروری ہے اور امام پڑھنے کے لیے کافی ہے''
اور ابن مسعود اور زید بن ثابت دونوں حضرات اہلِ مدینہ اور اہلِ کوفہ کے فقیہ ہیں اور صحابی ہیں ١
آثارِ صحابہ و تابعین میں وہ روایات بھی ہیں جو ابنِ ابی شیبہ رحمة اللّٰہ علیہ نے اپنی عظیم الشان کتاب مُصَنَّفْ میں لکھی ہیں اور ابنِ ابی شیبہ بہت بڑے بڑے ائمہ حدیث میں سے ایک بڑے امام ہیں ان کی قابلِ افتخار چیزجس میں وہ دیگر ائمہ میں ممتاز مقام رکھتے ہیں یہ ہے کہ
وہ امام بخاری ، مسلم ، ابوداود ، ابن ماجہ اور بے شمار علماء کے استاد ہیں
انہوں نے اپنی کتاب مُصَنَّفْ میں ایک مستقل باب قائم کیا ہے جس کا عنوان ہے
''وہ حضرات جنہوں نے امام کے پیچھے پڑھنا مکروہ جانا ہے''
ابو اُکَیمہ رحمہ اللّٰہ نے بتلایا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے سنا ہے انہوں نے فرمایا کہ
'' جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی، گمان یہ کہ یہ صبح کی نماز تھی ، جب آپ نے ادا فرمائی تو دریافت فرمایا کہ تم میں سے کسی نے پڑھا ہے ؟
ایک شخص نے کہا کہ میں نے پڑھا ہے !
آپ نے ارشاد فرمایا : '' (جب ہی تو میں دل میں )کہہ رہا ہوں کیا وجہ ہے جو قرآن پاک ( کے پڑھنے ) میں مجھ سے کھینچا تانی کی جا رہی ہے '' ! !
حضرت عمران بن حصین رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا کہ
''جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی ، جب سلام پھیرا تو دریافت فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی نے سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَ عْلٰی پڑھی ہے ؟
لوگوں میں ایک صاحب نے عرض کیا ،میں نے !
١ فتاوی کبرٰی ابن تیمیہ ج ٢ ص ١٧١
فرمایا : '' میں جان گیا تھا کہ تم میں سے کسی نے میرے پڑھنے میں تشویش پیدا کی ہے''
حضرت عبداللّٰہ رضی اللّٰہ عنہ کے پاس ایک شخص نے آ کر پوچھا کیا میں امام کے پیچھے پڑھوں ؟ اس سے حضرت عبداللّٰہ رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا کہ
''نماز میں (توجہ اِلی اللہ کی) مشغولیت ہوتی ہے ! اوراس (قراء ت ) کے لیے تمہارے واسطے امام کافی ہے '' ١
یہ روایت مصنف عبدالرزاق میں عن منصور عن ابی وائل آئی ہے اوریہ صحیح بخاری کے رجال ہیں اور صحیح السندہے ٢ حضرت سعدرضی اللہ عنہ نے فرمایا :
''میرا جی چاہتا ہے کہ جو امام کے پیچھے پڑھ رہا ہو اس کے منہ میں انگارہ ہو ''
اس روایت کی سند صحیح وجلیل الشان ہے ! !
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا :
''تمہارے لیے امام کا پڑھنا کافی ہے'' یہ روایت مُرسل صحیح السند ہے
حضرت اسود نے فرمایا : ٣
١ مُصَنَّفْ ج٢ ص١٣٨ ٢ سب روایات کے رجال پر عربی عبارت میں تفصیل موجود ہے ۔
٣ ذہبی رحمة اللّٰہ علیہ نے لکھا ہے کہ اسود بن یزید بن قیس ابوعمر والنخعی جو امام ہیں زاہدہیں عابد ہیں عالم ِکوفہ اورعالم ِکوفہ حضرت علقمہ کے بھتیجے ابراھیم النخعی الفقیہ کے ماموں اور عبدالرحمن بن یزید کے بھائی ہیں حضرت معاذ ، ابن مسعود ،حذیفہ ، بلال اور بڑے بڑے حضرات سے روایات لی ہیں ۔ان سے ان کے بیٹے عبدالرحمن اور ابراہیم نے اور ابو اسحق سبیعی اور متعدد حضرات نے روایات لی ہیں !
اور عبادت وحج میں بہت بڑا مقام رکھتے تھے۔ ابوحمزہ نے بیان کیا ہے کہ اسود بن یزید نے اسّی بار سفر حج اور عمرہ کیا ہے حج جدا اور عمرہ جدا ! اسی طرح ان کے بیٹے نے بھی کیا ہے ۔ ان کے بیٹے عبدالرحمن بن اسود ہردن سات سورکعتیں پڑھا کرتے تھے اور لوگ یہ کہتے تھے کہ وہ اپنے اہلِ خانہ میں سب سے کم مجاہدہ کرنے والے ہیں اور اسود رحمة اللّٰہ علیہ کو لوگ کہا کرتے تھے کہ یہ اہلِ جنت میں سے ہیں ! ٧٥ھ میں یا اس کے قریب قریب ان کی وفات ہوئی رحمة اللّٰہ علیہ ( تذکرة الحفاظ ص ٥٠ ج ١ )
''یقینا یہ بات کہ میں انگارہ منہ میں لوں یہ مجھے پسند ہو گا بہ نسبت اس کے کہ میں امام کے پیچھے یہ جانتے ہوئے کہ وہ پڑھ رہا ہے پڑھوں ''
حافظ نیموی رحمة اللّٰہ علیہ نے آثار السنن میں فرمایا ہے کہ یہ روایت صحیح ہے
حافظ ابن حجر رحمة اللّٰہ علیہ نے تہذیب التہذیب میں ان کے اساتذہ میں حضرت عائشہ ، ابوالسنابل بن بعکک ، ابومحذورہ اور ابوموسٰی وغیرہم کے اسماء بھی گنائے ہیں !
لیکن بخاری شریف کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسود رحمة اللّٰہ علیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے بہت ہی قریب تھے ! امام بخاری نے ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ اسود نے فرمایاکہ مجھ سے ابن زبیر نے کہا کہ حضرت عائشہ تم سے ایسی حدیثیں بھی بہت سناتی رہتی تھیں جو دوسرے شاگردوں سے مخفی رکھتی تھیں تو کعبة اللہ کے بارے میں تمہیں انہوں نے کیا بتلایا ہے ؟ میں نے کہا کہ انہوں نے مجھ سے فرمایا تھا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
اے عائشہ اگر ایسا نہ ہوتا کہ تمہاری قوم کا زمانہ...... ابن زبیر درمیان میں بولے ....... کفرکے (قریب نہ ہوتا ) تو میں کعبة اللہ کی عمارت شہید کرکے دو دروازے بنادیتا ایک وہ دروازہ کہ جس سے لوگ داخل ہوں اور ایک وہ کہ جس سے نکلیں ... ! تو ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ایسے ہی کردیا ١
اس سے معلوم ہوا کہ حضرت اسود رحمة اللّٰہ علیہ اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کے علوم کے راز دار شاگرد تھے اورانہوں نے اپنے علم کی صحت و تقویت کے لیے حضرت اسود کا انتخاب کیا !
کعبة اللہ کی عمارت یزید کے لشکرکَشی کے وقت کمزور پڑ گئی تھی ! یزید کی موت کے بعد اس کے لشکر کو شکست ہو گئی تو حضرت ابنِ زبیر رضی اللّٰہ عنہما نے اسے بنانے کا ارادہ کیا تو اس طرح اس کی عمارت اٹھائی جس بنیاد پر جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم بنانی چاہتے تھے یعنی حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام کی بنیاد پر ، جیسے کہ امام بخاری نے باب فضل مکة وبنیانھا ٢ میں روایت بیان فرمائی ہے ! !
١ صحیح البخاری ج ١ ص ٢٤ باب من ترک بعض الاختیار رقم الحدیث ١٢٦
٢ صحیح البخاری ج ١ ص ٢١٥ رقم الحدیث ١٥٨٣
حضرت زید بن ثابت رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا :
'' امام کے پیچھے نہ پڑھے چاہے وہ آواز سے پڑھ رہا ہو یا آہستہ بِلا آواز ''
یہ روایت صحیح السند ہے ، دوسری حدیث میں فرمایا :
'' جو امام کے پیچھے پڑھے اس کی نماز نہیں ہوئی '' یہ روایت صحیح السند ہے
اور امام مسلم نے عطار بن یسار سے روایت فرمائی ہے کہ انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللّٰہ عنہ سے امام کے ساتھ نماز میں قراء ت کا مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ
'' امام کے ساتھ کسی بھی نماز میں پڑھنا نہیں ہوتا ''
حضرت اسود نے فرمایا :
'' میرا دل چاہتا ہے کہ جو امام کے پیچھے پڑھے اس کے منہ میں مٹی بھر دی جائے ''
حافظ نیموی رحمة اللّٰہ علیہ نے آثار السنن میں فرمایا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے
اس روایت کی دوسری سند وہ ہے جو عربی متن میں ہے اور تیسری سند یہ ہے
عبد الرزاق عن الثوری عن الاعمش عن ابراھیم عن الاسود( مصنف عبدالرزاق ص ١٣٨ ، ج ٢)
یہ دونوں سندیں بخاری شریف کی ہیں
ابو بشر نے حضرت سعید بن جبیر سے قراء ت خلف الامام کا مسئلہ پوچھا ،فرمایا :
''امام کے پیچھے پڑھنا نہیں ہوتا ''
آثار السنن میں حافظ نیموینے فرمایا کہ اس روایت کے راوی صحیحین کے رجال ہیں ۔میں عرض کرتاہوں کہ امام بخاری رحمة اللّٰہ علیہ نے اپنی صحیح میں اس سند سے روایت دی ہے ! ( آثار السنن ص٢٤٩ )
حضرت سعید بن المسیب نے فرمایا :
'' امام کے لیے توجہ کے ساتھ خاموش رہو''
حافظ نیموی نے آثار السنن میں فرمایا ہے کہ یہ صحیح السند ہے !
امام محمد بن سیرین نے فرمایا :
'' میں نہیں جانتا کہ امام کے پیچھے پڑھنا سنت ہو''
حافظ نیموی نے اسے صحیح السند فرمایا ہے !
ابراہیم نخعی رحمة اللّٰہ علیہ امام کے پیچھے پڑھنا مکروہ بتلاتے اورفرماتے تھے کہ
'' تمہارے لیے امام کا پڑھنا کافی ہے ''
میں عرض کرتا ہو ں کہ یہ روایت صحیح الاسناد ہے !
ولید بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سوید بن غفلہ ١ سے دریافت کیا : کیا میں امام کے پیچھے ظہر اور عصر میں پڑھا کروں ،فرمایا ''نہیں '' حافظ نیموینے فرمایا یہ صحیح السند ہے
اس قسم کی روایات عبد الرزاقنے بھی لکھی ہیں جو ایک بلند پایہ محدث ہیں ان کی جلالت ِقدر پر سب کا اتفاق ہے انہیں ذہبی رحمة اللّٰہ علیہ نے خزانۂ علم کہا ہے ! ان کے بَحْرِ مَوَّاجْ سے بڑے بڑے ائمہ حدیث سیراب ہوئے ہیں اور فقہائے امت کی ایک جماعت جیسے احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ جو بلند مرتبہ ثقات میں ہیں ! امام بخاری امام مسلم اور سب اصحاب ِ اصول نے ان سے روایات لی ہیں !
وہ اپنی کتاب مُصَنَّفْ عبد الرزاق میں فرماتے ہیں ابواسحاق نے فرمایا کہ
١ حضرت سوید بن غفلة نخعی کوفی جو معمر گزرے ہیں عام فیل میں یا اس سے دو سال بعد پیدا ہوئے مسلمان ہوئے تو بوڑھے ہو چکے تھے مدینہ منورہ کا سفر اختیار کیا تو اس وقت پہنچے کہ جب صحابۂ کرام جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی تدفین سے فارغ ہو چکے تھے ، یرموک کے معرکہ میں شریک ہوئے انہوں نے حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت علی، حضرت اُبی رضی اللہ عنہم سے اور بہت سے صحابۂ کرام سے حدیثیں روایت فرمائی ہیں اور ان سے حضرت ابراہیم نخغی سلمة بن کُھیل، عبدة ابن ابی لبابة اور دیگر حضرات نے روایات اَخذ کی ہیں وہ ثقہ تھے ،نبیل عابد زاہد اور صاحب ِقناعت تھے، بہت تھوڑے پر قناعت فرماتے تھے بڑے عالی مقام بزرگ تھے ان کی کنیت ابو اُمیہ ہے ان کی وفات ٨١ھ میں ہوئی (تذکرة الحفاظ ص٥٣ ج١) ابن حجر رحمة اللّٰہ علیہ نے لکھا ہے کہ ٨٠ھ میں وفات پائی اس وقت ان کی عمرایک سو تیس سال تھی ( تقریب التہذیب ص ١٤١ )
'' حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کے شاگرد امام کے پیچھے نہیں پڑھا کرتے تھے''
اور زید بن اسلم نے فرمایا کہ
'' حضرت عبد اللّٰہ بن عمر امام کے پیچھے پڑھنے سے منع فرمایاکرتے تھے''
ان دونوں روایتوں کی سندیں امام بخاری رحمة اللہ علیہ کی صحیح بخاری کی سندیں ہیں !
ابنِ ذَکوان حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ
''یہ دونوں حضرات قراء ت خلف الامام نہیں کیا کرتے تھے '' یہ روایت صحیح السند ہے !
حضرت عبید اللّٰہ بن مقسم نے فرمایا میں نے حضرت جابربن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ عنہ سے دریافت کیا
'' کیا امام کے پیچھے آپ ظہر اور عصر کی نمازوں میں کچھ پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ''نہیں '' ! یہ سند صحیح ہے۔ اس سند سے امام بخاری رحمة اللّٰہ علیہ نے اپنی صحیح میں ص ٣٧٥ پر روایت دی ہے
انس بن سیرین فرماتے ہیں ''میں نے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ سے دریافت کیا
'' کیا میں امام کے ساتھ پڑھوں ؟ انہوں نے فرمایا تم بڑے موٹے پیٹ کے ہو بس امام کا پڑھنا ہوتا ہے'' ! یہ روایت صحیح السند ہے۔
بیہقی رحمہ اللّٰہ کی روایت میں ہے :
'' تمہارے لیے امام کا پڑھنا کا فی ہے'' کتاب القراء ة ص ١٢٥ اور جیسا کہ فتاویٰ ابن تیمیہ سے منقول عبارت میں گزرا۔
حضرت علقمہ بن قیس نے فرمایا :
''میرا دل چاہتا ہے کہ جو آدمی قراء ة خلف الامام کرتا ہو اس کے منہ میں بھر دی جائے ! میرا خیال ہے انہوں نے فرمایا کہ مٹی یا گرم پتھریاں ''
اس روایت کے سب راوی صحیح بخاری کے ہیں !
آپ غور فرمائیں تو حضرت سعد کی روایت اور حضرت اسود اور علقمہ کی روایات یہ بتلارہی ہیں کہ صحابۂ کرام قراء ة خلف الامام نہیں کیا کرتے تھے اور اس جیسی بات ابن تیمیہ رحمة اللّٰہ علیہ کے فتاوی میں گزری ہے جو زُہری رحمة اللہ علیہ سے روایت نقل کر کے انہوں نے بیان کی تھی !
عبد اللّٰہ ابن ابی لیلیٰ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ وہ اِرشاد فرما تے تھے :
''جو قراء ة خلف الامام کرتا ہے وہ فطری امر (یا اسلامی حکم) میں غلطی کر رہا ہے ''
(''فطرت '' اسلام کے معنی میں بھی آتا ہے)
یہی روایت مصنف ابنِ ابی شیبة میں بھی ہے کہ
'' حضرت عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ نے ہدایت فرمائی کہ'' امام کے پیچھے نہ پڑھا کرو ''
حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے ارشاد فرمایا : فطرت(یا دین ِاسلام) میں یہ بات نہیں ہے کہ امام کے ساتھ پڑھے ! محمد بن عجلان مرسلًا نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا
''جو امام کے ساتھ پڑھے وہ فطرت پر نہیں ہے''
انہوں نے کہا کہ حضرت ابنِ مسعود رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا :
''اس کے منہ میں مٹی بھردی جائے''
اورحضرت عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا :
''جو قراء ة خلف الامام کرتا ہے اس کے منہ میں پتھر ہو'' یہ اثر مرسل جید الاسناد ہے
یہ اس قسم کی باتیں ہیں جیسے کہ ابن تیمیہ سے ہم نے نقل کیا کہ
''یہ سفاہت کی بات ہے شریعت اس سے منزہ ہے''
یہ احادیث ِصحیحہ مرفوعہ اور روایات حنفی حضرات کی دلیلیں ہیں یہ حجت ِبالغہ اور غالب و واضح دلیلیں ہیں ! اسی وجہ سے حنفی حضرات نے مقتدی کو امام کے پیچھے سورہ ٔ فاتحہ پڑھنے سے منع کیا ہے اور اسے مکروہ قرار دیا ہے ! اور ان دلائل کو باطل کرنا قیامت تک ممکن نہیں ! !
٭٭٭
دوسرا مسئلہ ... بیس رکعت تراویح
٭٭٭
ابو خالد صاحب نے پھر یہ فتوی لکھا ہے کہ تروایح آٹھ رکعات ہوتی ہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کی حدیث سے جوبخاری میں آئی ہے انہوں نے استدلال کیا ہے ابوخالد صاحب کو شاید یہ معلوم نہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کی حدیث میں اضطراب ہے (کہیں کچھ منقول ہے اور کہیں کچھ) امام بخارینے ایک حدیث میں ان سے یہ نقل کیا ہے کہ
''جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نہ رمضان میں نہ غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے ! چار رکعات پڑھتے تھے ان کی خوبصورتی اور درا ز ی مت پوچھو پھر چار پڑھتے تھے ان کی خوبی اور درازی مت پوچھو پھر تین پڑھتے تھے''
( بخاری ص١٥٤ج ١ باب قیام النبی صلی اللہ عليہ وسلم بالیل فی رمضان و غیرہ )
اور ان سے ہی روایت ہے کہ
''جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے ان میں وتر اور فجر کی دو رکعتیں شامل ہوتی تھیں '' ١
ان دو حدیثوں سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی نمازِ شب گیارہ رکعتیں ہوتی تھیں اور فجر کی دو رکعتوں سمیت تیرہ ہوتی تھیں ! !
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا ہی سے ایک اور حدیث میں روایت ہے کہ
جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھا کر تے تھے پھر جب اذان سن لیتے تھے تو دو ہلکی رکعتیں پڑھا کرتے تھے'' ٢
اس حدیث سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی رات کی نماز تیرہ رکعت ہوتی تھی اور فجر کی دو رکعات سمیت پندرہ رکعتیں ہوجاتی تھیں ، اسی کا نام ' ' اضطراب '' ہے کیونکہ پہلی حدیث
١ صحیح البخاری ص ١٥٣ بَابُ کَیْفَ کَانَ صَلَاةُ اللَّیْلِ وَکَیْفَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ عليہ وسلم یُصَلِّیْ بِاللَّیْلِ
٢ صحیح البخاری ص ١٥٦ بَابُ تَعَاھُدِ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ وَمَنْ سَمَّاھَا تَطَوُّعًا
کی رُو سے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی نماز تیرہ رکعت تھی اور اس حدیث کی رُو سے پندرہ رکعت ہوتی ہے ! اور یہ روایتیں بخاری ہی میں موجود ہیں جیسے کہ آپ کے سامنے ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی سے ایک اور روایت میں آتا ہے انہوں نے فرمایا کہ
''جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی پھر آٹھ رکعتیں پڑھیں اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھیں اور دو رکعتیں اذان و اقامت کے درمیان پڑھیں اور ان دو رکعتوں کو آپ کبھی بھی نہیں چھوڑا کرتے تھے '' ١
اس حدیث میں بھی حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا نے جو تعداد بتلائی ہے اس سے وتر سمیت پندرہ رکعتیں ہوتی ہیں لہٰذا جس نے بھی حضرت عائشہ کی روایت سے جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی نماز کا آٹھ ہی رکعت میں حصر کیا ہے اس نے غلطی کھائی ہے !
حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہمانے حضرت میمونہ رضی اللّٰہ عنہا کے پاس ان کے مکان میں رات گزاری تو انہوں نے یہ بتلایا ہے کہ
'' جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے دو رکعتیں پھر دو رکعتیں پھر دو رکعتیں پھر دو رکعتیں پھر دو رکعتیں پھر دو رکعتیں پڑھیں پھر وتر ادا کیے، پھر آپ لیٹ گئے حتی کہ مؤذن آیا تو آپ نے کھڑے ہو کر دو خفیف رکعتیں پڑھیں پھر باہر تشریف لے گئے صبح کی نماز ادا فرمائی'' ٢
اس حدیث شریف سے یہ بات معلوم ہو رہی ہے کہ جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فجر کی دو رکعتوں سمیت سترہ رکعتیں پڑھی ہیں !
حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما کی اورخودحضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کی روایت سے صحیح بخاری ہی میں یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم گیارہ رکعتوں سے زیادہ پڑھا
١ صحیح البخاری ص ١٥٥ بَابُ الْمُدَاوَمَةِ عَلٰی رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ
٢ صحیح البخاری ص١٦٠ بَابُ اِسْتِعَانَةِ الْیَدِ فِی الصَّلٰوةِ اِذَاکَانَ مِنْ اَمْرِ الصَّلٰوةِ
کرتے تھے اور یہ حصر کرنا باطل ہوگیا کہ گیارہ ہی رکعتیں پڑھا کرتے تھے ! !
(١) لہٰذا ان روایات کے علاوہ ان دوسری روایات کی طرف رجوع کرنا ضروری ہوگا جنہیں صحابہ کرام اسلاف و تابعین اور فقہائِ محدثین نے لیا ہے اور اس کی چند صورتیں ہیں ان میں سے کوئی صورت اختیار کر لے ! !
(٢) دوسری بات یہ ہے کہ ان کی حدیث میں '' غیر رمضان ''کا جملہ آیا ہے ! یہ جملہ ہی یہ بتلا رہا ہے کہ حدیث میں ان کی مراد ''تہجد ''ہے کیونکہ ''غیر رمضان '' میں جو نماز ہوتی ہے وہ تہجدہی ہوتی ہے اور تراویح صرف رمضان میں ہوتی ہے ! لہٰذا حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کی مذکورہ روایت سے نمازِ تراویح کی رکعتوں پر استد لال کرنا ہی صحیح نہیں ہے ! !
(٣) حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کی روایت پر غیر مقلدوں کا بھی عمل نہیں ہے (جو اپنے آپ کو اہلِ حدیث کہتے ہیں ) کیونکہ وہ آٹھ رکعتیں دو دو رکعت کر کے پڑھتے ہیں نہ کہ چار چار !
نیز وہ اس نماز کو عشاء کی نماز کے ساتھ پڑھ لیتے ہیں پھر اگر وہ تہجدکے وقت تہجد بھی پڑھتے ہیں تو آٹھ کہاں رہیں آٹھ سے بڑھ جائیں گی یہ ان کے اپنے ہی دعوی کے خلاف عمل ہوگا اور ان میں جو تہجد نہیں پڑھتا تو وہ افضل وقت چھوڑ تا ہے آسان راہ اختیار کرتا ہے اور سنت چھوڑ تا ہے ! !
(٤) ان راتوں کی آخری شب جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ
''میں نے جو کچھ تم کرتے رہے ہو دیکھا ہے اور میں سمجھ گیا تھا(لیکن) اے لوگو ! اپنے گھروں میں نماز پڑھو کیونکہ سب سے افضل نماز انسان کی وہ ہے جو وہ گھر میں پڑھے سوائے فرض نماز کے (کہ وہ مسجد میں افضل ہے) '' ١
اس حدیث سے جوبات ظاہراً سمجھ میں آرہی ہے وہ یہ ہے کہ جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ''فَصَلُّوْا'' فرماکر انہیں گھر میں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے اور امر وجوب کے لیے ہوتاہے لہٰذا ان لوگوں پر جو اپنا نام ''اہلِ حدیث'' رکھتے ہیں یہ واجب ہے کہ وہ اپنے گھر میں نماز پڑھیں نہ کہ مسجد میں ! ! !
١ صحیح البخاری ج١ ص ١٠١ بَابُ صَلٰوةِ اللَّیْلِ رقم الحدیث ٧٣١
رہا ہمارے نزدیک تو ہم وہ راہ اختیار کرتے ہیں جو ان صحابہ کرام نے اختیار فرمائی کہ جنہوں نے جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کو دیکھا ہے ساتھ رہے ہیں اور آپ کے ساتھ نماز ادا کی ! !
اور ہم وہ طریقہ اختیار کرتے ہیں جو فقہا ء اور محدثین نے اختیار کیا اور ہم سلف کی پیروی کرتے ہیں ! !
(٥) یہ بھی غور کریں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے حجرہ مبارکہ میں موجود تھیں انہوں نے رد نہیں کیا اور ان کی پوری زندگی میں بیس رکعت تراویح سے ممانعت منقول نہیں ہے حالانکہ صحابہ و تابعین کا مسجدِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم میں بیس رکعت تراویح پڑھنا ان کے نظروں کے سامنے تھا لہٰذا اسی پر عمل کرنا چاہیے کیونکہ یہ وہ عمل ہے جس پر اصحاب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کا اتفاق ہوا ! !
امام ترمذی رحمة اللّٰہ علیہ نے اپنی جامع میں فرمایا ہے :
''قیامِ رمضان کے بارے میں اہلِ علم میں اختلاف ہے بعض حضرات اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ وتر سمیت اکتالیس رکعتیں پڑھے اور یہ اہلِ مدینہ کا قول ہے اور مدینہ شریف میں ان کے یہاں اسی پر عمل کیا جاتا ہے''
اور اکثر اہلِ علم اس مسلک پر ہیں جو حضرت علی اور حضرت عمر اور ان حضرات کے علاوہ جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے دوسرے صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کا عمل بیس رکعت پڑھنے کا رہا ہے ! یہی سفیان ثوری ابن المبارک اور شافعی کا قول ہے ! اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شہر مکہ مکرمہ میں اسلاف کو اسی طرح پایا ہے کہ وہ بیس رکعتیں پڑھتے ہیں ! !
اور امام احمد نے فرمایا : اس مسئلہ میں کئی طرح کی روایات ہیں انہوں نے کوئی فیصلہ نہیں دیا ! اور اسحاق رحمة اللّٰہ علیہ نے فرمایا :
''بلکہ ہم اکتالیس رکعتیں اختیار کرتے ہیں جیسے کہ حضرت اُبی بن کعب رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے'' ١
١ جامع الترمذی ص ٩٩ج ١ بَابُ مَاجَائَ فِیْ قِیَامِ شَہْرِ رَمَضَانَ آخِرُ اَبْوَابِ الصَّوْمِ
غرض بیس رکعت سے کم تعداد کسی کا بھی مسلک نہیں ہے ! آج پوری دنیا میں شرقاً غرباً ایسے لوگوں کا جو صلاح و تقوی میں مصروف ہیں اور ان پر اعتماد کیا جاتا ہے بیس رکعت کا عمل ہے ! اور اسی پر اہلِ حرمین شریفین کا عمل ہے وہ خلفائِ راشدین حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کا اتباع کرتے ہیں !
لہٰذا جو شخص آج ان حضرات کی مخالفت کرتا ہے وہ سارے اہلِ اسلام کے مخالفت کررہا ہے ! ! وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالنے کھڑا ہوا ہے ! وہ مسلمانوں کا اتحاد پارہ پارہ کر کے تفریق پیدا کررہا ہے ! اور ان میں فتنے ڈال رہا ہے، وہ درحقیقت اپنی خواہش ِنفس کی پیروی کر رہا ہے اور اپنی سہولت چاہ رہا ہے صرف اس ایک حدیث کے عنوان سے جو حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے اضطراب کے ساتھ مروی ہے ! ! !
٭٭٭
اہم اعلان
٭٭٭
شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب نور اللہ مرقدہ کی شخصیت و خدمات پر انوار مدینہ کی ایک خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں معاصرین ، تلامذہ ، متعلقین ومحبین حضرات کے تاثرات بھی شامل ہوں گے ! جو حضرات اپنے مضامین و مقالات ، تاثرات ، تعزیتی پیغامات یا منظوم کلام ارسال فرمانا چاہیں ، جلد از جلد درج ذیل پتے ، ای میل یا واٹس ایپ نمبر پر ارسال فرما دیں
علاوہ ازیں اگر کسی کے پاس شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب کے ہاتھ کا لکھا ہوا مکتوب یا تحریر موجود ہو تو اسے بھی ارسال فرما دیں !
جو حضرات اپنے تاثرات زبانی بتانا چاہیں ، وہ اپنے نام ، پتے اور مکمل تعارف کے ساتھ درج ذیل نمبر پر صوتی پیغام (وائس میسج ) بھی ارسال فرما سکتے ہیں
اگر مضمون ، مقالہ ، مکتوب یا تاثرات کمپوز شدہ ہوں تو ان کی کمپیوٹر فائل بھی ای میل یا واٹس ایپ فرمادیں تو نوازش اور ادارے کے ساتھ دوہرا تعاون ہوگا
رابطہ : ڈاکٹر محمد امجدغفرلہ
خادم جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد ١٩ کلومیٹر شارع رائیونڈ لاہور
قائد ملت اسلامیہ حضرت مولانا فضل الرحمن مدظلہم
کی مرکزی مجلس ِشوری کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ
٭٭٭
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
جمعیة علما اسلام پاکستان کی مرکزی مجلس ِشوری کا دو روزہ اجلاس ٢٣اور ٢٤ نومبر کو اسلام آباد میں ہوا ! اس اجلاس میں ستائیسویں آئینی ترمیم اور بعض ایسے قوانین، جو اس دوران پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے یا پاس کیے گئے، اس پر تفصیلی غور کیا گیا۔ جمعیة علماء اسلام نے ستائیسویں آئینی ترمیم کو کلیتاً مسترد کر دیا ہے اور پارلیمنٹ میں ہمارے پارلیمانی اراکین نے اس کی مخالفت کی ! مرکزی مجلس ِشوریٰ نے اپنے پارلیمانی اراکین کے اس فیصلے اور مخالفت کی توثیق کر دی ہے ! !
سب سے پہلے بنیادی مسئلے کو دیکھنا ہے کہ ایک سال قبل چھبیسویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں لائی گئی اور ایک ماہ ایک ہفتہ تک جمعیة علماء اسلام کے ساتھ حکومت کے مذاکرات ہوتے رہے ! پاکستان تحریک انصاف آن بورڈ تھی اور ہم آئینی ترمیم کے حوالے سے ہر پیش رفت سے ان کو آگاہ کرتے رہے، ان کو اعتماد میں لیتے رہے، ان کی تجاویز بھی لیتے رہے اور ان کی تجاویز پر ہم اسٹینڈ بھی لیتے رہے اور حکومت کو وہ مطالبات منوانے پر ہم مجبور بھی کرتے رہے یعنی وہ ترمیم ایک باہمی مشاورت کے مراحل سے گزری اور کہا جا سکتا ہے کہ وہ ترمیم پارلیمنٹ میں متفقہ طور پر منظور ہوئی۔ہماری یہی کوشش رہی کہ آئین میں کوئی ایسی تبدیلی نہ ہو کہ پاکستان کے آئین کا متفقہ ٹائٹل مجروح ہو جائے ! لیکن ستائیسویں ترمیم کے دوران ان کا فرض تھا کہ وہ اپوزیشن سے مشاورت کرتے یا کم از کم جمعیة علماء اسلام کے چھبیسویں ترمیم ہمارے ساتھ ایک عہد و پیمان تھا، انہوں نے ایک فریق کو اس دفعہ مکمل طور پر نظر انداز کیا ! نظر انداز کیوں کیا ؟
اس کی وجوہ بالکل واضح ہیں کہ انہوں نے جبری طور پر ارکان کو توڑا پارٹیوں سے اور ایک جعلی اکثریت بنائی ! یہ پارلیمنٹ کی فطری اور طبعی اکثریت نہ تھی بلکہ یہ دو تہائی اکثریت جبری اور جعلی تھی ! یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہوریت کے اقدار کے خلاف ہوا ،اس سے حکومت کی عزت میں بھی اضافہ نہیں ہوا ! جو قوتیں اس ترمیم کو لانے میں مصر تھیں ان کی عزت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ! اور اس طرح عوام میں حکومت کی مقبولیت بڑی تیزی سے گری ہے ! !
چھبیسویں ترمیم میں جن چیزوں سے حکومت دستبردار ہوئی تھی، ستائیسویں ترمیم میں انہوں نے ارکان کے ہاتھ مروڑ کر دو تہائی اکثریت بنائی اور ایک سال پہلے جس کو حکومت نے کہا کہ یہ غلط ہے ہم دستبردار ہوتے ہیں ، آج وہ چیزیں کس طرح صحیح ہو گئیں ؟ آج وہ کس طرح آئین کا تقاضا بن گئیں ؟ آج وہ کس طرح جمہوری عمل ٹھہر گیا ؟ جبکہ آپ سب جانتے ہیں چھبیسویں ترمیم پر ہر پاکستانی کو حق ہے کہ وہ اختلاف رائے کرے ! !
اگر ان کے ذہن میں اشکال ہے، اگر ان کے ذہن میں ابہام ہے اور وہ عدالت میں جاتا ہے ہم ان کے اس حق کو سلب نہیں کر سکتے چنانچہ لوگ گئے، خاص طور پر اس ترمیم کا جو عدلیہ سے متعلق تھا، اس پر لوگ کورٹ میں گئے اور ابھی تک وہ مقدمہ کورٹ میں زیرِ سماعت تھا اور دوسری ترمیم لاکر اب ایسی پیچیدگیاں پیدا کی گئیں کہ خود عدالت کو بھی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس کے بارے میں کیا رائے قائم کرے ! !
اصولی طور پر جمعیة علماء اسلام آئینی عدالت کے حق میں تھی لیکن پارلیمان کا اتفاقِ رائے حاصل کرنے کے لیے ہم نے عدالتی بینچ پر اکتفا کیا تھا ! ]١٩٧٣ء میں [ جب آئین بھی بن رہا تھا تو اس وقت بھی مختلف معاملات پر مختلف پارٹیوں کے موقف مختلف تھے، اس وقت بھی پاکستان پیپلز پارٹی کی دو تہائی اکثریت تھی لیکن انہوں نے آئین سازی میں پارلیمنٹ کے اتفاقِ رائے کو ترجیح دی، چھوٹے صوبوں کو راضی کیا، ان کے اتفاقِ رائے کے ساتھ آئین بنا ! ! حالانکہ وہاں پر تو کوئی ہارس ٹریڈنگ کی بھی ضرورت نہ تھی، ایک واضح دو تہائی اکثریت تھی لیکن اپوزیشن کو اعتماد میں لینا، چھوٹے صوبوں کو اعتماد میں لینا، ہر مکتبہ فکر کو اعتماد میں لے کر آئین بنانا، اس کو ترجیح دی گئی !
میں نہیں سمجھتا کہ آج پاکستان پیپلز پارٹی کس طرح ذوالفقار علی بھٹو کے روّیوں کے بالکل برعکس جہاں ان سے توقع تھی کہ جن چیزوں پر انہوں نے چھبیسویں ترمیم میں اتفاق کیا تھا، آج یہاں وہ اس کا راستہ روکیں گے ! لیکن وہ راستہ نہیں روک سکے اور انہوں نے بھی جمہوریت کا نعرہ بلند کرنے کے باوجود جمہوریت کی نفی میں اپنا کردار ادا کیا ! !
ہم ان سے ایک دوستانہ شکوہ ضرور رکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی روایات کو برقرار نہیں رکھا اور ایک غیر جمہوری عمل میں حکومت کا ساتھ دے دیا ! آئین ایک قومی امانت ہے، آئین ایک قومی اثاثہ ہے، آئین ایک میثاقِ ملی ہے، یہ پاکستان کی قومی وحدت کی علامت ہے، اگر خدا نہ کرے آئین متنازعہ ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ایک ملک نہیں رکھ سکتی اور پاکستانیوں کو ایک قوم نہیں بناسکتی ! اس آئین پر ہماری کمٹمنٹ ہے، بارہا اس ایوان میں ہم اس آئین کے تحفظ کا حلف اٹھا چکے ہیں ،بعض اہلِ منصب کو تاحیات استثنا دیا گیا ! فوجی حکومت میں آٹھ سال تک زرداری صاحب جیل میں رہے اور ان پر الزامات تھے ، زندگی کا ایک لمبا عرصہ انہوں نے ان الزامات کے دبائو میں گزارا ، عدالتوں میں ان کی پیشیاں ہوتی رہیں ، آج اسی کو کہا جا رہا ہے کہ تاحیات آپ کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہو سکے گا ! !
میرے ان پر کوئی الزامات نہیں ہیں ، لیکن پاکستان، پاکستان کے ادارے، پاکستان کا قانون کیا ان کو دس پندرہ سال مسلسل عدالتوں میں پیش نہیں کرتا رہا ؟ کس بنیاد پر مختلف مقدمات ؟ ! آج وہ یک دم اس منصب پر فائز ہونے کے بعد ایسے معصوم انسان کا روپ اختیار کر گئے کہ اب تاحیات اس کے بارے میں کوئی مقدمہ ہی درج نہیں ہو سکے گا، اس کے بعد پھر وہ جو کچھ کرے اور جیسا کرے، ان کو اتھارٹی دے دی گئی ہے کہ آپ سب کچھ کر سکتے ہیں ! ! فوجی سربراہان، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، ہندوستان کے مقابلے میں ان کے جرأت مندانہ جواب کی ہم نے سب سے پہلے تائید کی ! ہم ان کی بہادری پر ان کو خراجِ تحسین پیش کرتے رہے ہیں لیکن اس کی پاداش میں اس آئینی ترمیم کے ذریعے ان کو جو تاحیات مراعات دی گئی ہیں ، یہ شاید انوکھی قسم کی ایسی مراعات ہیں کہ پاکستان کا جمہوری معاشرہ اس کا بالکل بھی تقاضا نہیں کرتا !
میں تو صدرِ مملکت سے بھی کہنا چاہتا ہوں ، میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اس ترمیم کے تحت دیے ہوئے استثنا یا اس ترمیم کے ذریعے دی گئی مراعات کو از خود مسترد کر دیں اور کہہ دیں کہ ہم یہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ! ہم ایک وفادار عام شہری اور ایک وفادار سپاہی کی طرح سب کے ساتھ برابر کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں ! ورنہ یہ آئین تو طبقاتی نظام پیدا کرے گا، کچھ لوگ آئین سے ماورا ہوں گے اور کچھ پاکستانی آئین کے پابند ہوں گے، قانون کے پابند ہوں گے اور کچھ آئین و قانون سے ماورا ہوں گے ! یہ کیا طبقاتی نظام ہے ملک کے اندر ؟ مساوات کے نعرے لگانا اور اس کے بالکل تضاد کا قانون پاس کرنا میرے خیال میں کسی جمہوریت پسند اور نظریاتی شخص یا جماعت کے لیے شایانِ نشان نہیں ! !
صرف یہ نہیں کہ اس قسم کا عمل معاشرتی لحاظ سے، جمہوری لحاظ سے غلط ہے بلکہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اس آئین میں قرآن و سنت کو اس ملک کی قانون سازی کا اساس قرار دیا گیا ہے تو اسلامی تعلیمات میں بھی یہ مناسب نہیں ! اگر خلفائے راشدین عدالت کے سامنے پیش ہو سکتے تھے، عام شہری انہیں عدالت میں لا کر کٹہرے میں کھڑا کر سکتا تھا تو کیا ہمارے حکمران خلفائے راشدین سے بھی بلند مرتبے کے ہو گئے ہیں ؟ تاریخ ِاسلام میں اسلامی دنیا کے سربراہ عدالتوں میں لائے گئے، عدالتوں میں پیش ہوئے، عدالت کے فیصلے ان کے بارے میں ہوئے لیکن یہاں مساوات کی باتیں ہو رہی ہیں ، قانون کی نظر میں سب برابر ہیں ، تو قائد اعظم کے اصول جو پاکستان کے لیے تھے، یہ تو ان کی بھی نفی ہے ! یہاں پر جب آئینی عدالت بنائی گئی، ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا اور یہاں ابہام موجود ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کون کہلائے گا ؟ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یا آئینی عدالت کے چیف جسٹس ؟ اور یہ کہ وفاقی شرعی عدالت کے کسی بھی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے وابستہ شریعت اپیلیٹ بینچ موجود ہے، آئینی عدالت کے قیام کی صورت میں اگر شریعت بینچ کا فیصلہ یا شریعت کورٹ کا فیصلہ آئین سے متعلق ہوا تو سپریم کورٹ کہے گا میں تو اس کی سماعت نہیں کر سکتا اس لیے کہ یہ آئینی مسئلہ ہے اور آئینی کورٹ کہے گی کہ اس کا دستور میں ہمارے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے ! ! وفاقی شرعی عدالت اور شریعت کے فیصلوں کا کیا بنے گا ؟ پاکستان میں ان کے مستقبل کا سوچا ہی نہیں گیا ! !
ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ فیڈرل شریعت کورٹ اور سپریم کورٹ شریعت اپیلیٹ بینچ کو فعال بنایا جائے فیڈرل شریعت کورٹ ایک لمبے عرصے سے نامکمل ہے، دو علماء کرام ان کے مستقل اراکین ہیں تاکہ شریعت کی رو سے عدالت کی رہنمائی کر سکیں ، لیکن ان دو ججز کا علماء کی صورت میں آج تک انتخاب نہیں ہو رہا، ان کی نامزدگی نہیں ہو رہی ! اس لیے ایک تو شریعت کورٹ کو مکمل کرنے کی ضرورت ہے، اور دوسرا اس بات کو واضح کرنا کہ اگر کسی کیس کا تعلق آئینی معاملات کے ساتھ ہو تو اس کی اپیل کہاں کی جائے ؟ اس کو آئین میں واضح نہیں کیا گیا۔
جمعیة علماء اسلام کی نظر میں ستائیسویں آئینی ترمیم سے نہ تو دستور میں کوئی بہتری آئے گی، نہ عوامی مفاد کا کوئی تقاضا پورا کرے گی اور نہ اسلام کی رُو سے اس کو کوئی جائز قانون قرار دیا جا سکے گا، جس کی بنیاد پر ہم مکمل طور پر ستائیسویں آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہیں ۔ اس پر تو قانونی ماہرین بھی رائے دے رہے ہیں کہ خاص طور پر عدالتوں کو حکومتی کنٹرول میں لانا، اگر تو اس میں پارلیمنٹ کا رول ہے تو پارلیمنٹ کے رول کی حد تک تو بینچ میں بھی ہم نے اس پر اتفاقِ رائے کیا تھا اور ترمیم آئی تھی، لیکن اس میں مزید جو تبدیلیاں کی گئی ہیں اس کے بعد حکومت ان کو ہر لحاظ سے اپنے پنجے میں رکھنا چاہتی ہے، تو آزاد عدلیہ کا تصور کہاں رہے گا ؟ یہ تو ہوا ستائیسویں ترمیم کے حوالے سے ہمارا موقف ! !
اس کے علاوہ کچھ قانون سازیاں ہوئی ہیں ، اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں اور بچیوں کے نکاح کے بارے میں قانون سازی، ٹرانس جینڈر کے حوالے سے قانون سازی، گھریلو تشدد کے حوالے سے قانون سازی !
اٹھارہ سال عمر سے کم کو نابالغ کہنا، کس شریعت میں ، کس مکتبہ فکر نے اس پر یہ بات کی ہے ؟ ؟ اور پھر قانون کو یہاں تک سخت کرنا کہ اگراٹھارہ سال سے پہلے شادی ہوئی، نکاح ہوا تو اس کو جنسی زیادتی کہا جائے گا، اسے ''زنا بالجبر'' سے تعبیر کیا جائے گا اور اس کی سزا دی جائے گی۔
مشرف کے زمانے میں تو'' حقوقِ نسواں '' کے نام سے ایک قانون لایا گیا جس کا خلاصہ یہی تھا کہ زنا کے مرتکب کو سہولت مہیا کی جائے ! اس پاکستان میں زنا کے مرتکب کو سہولت دینے کا قانون پاس کیا گیا ! اس میں بھی پاکستان پیپلز پارٹی نے ووٹ دیا تھا اور آج بھی جائز نکاح کے لیے مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں ، اس پر قدغن لگائی جا رہی ہیں ! !
اب عجیب بات یہ ہے، لطیفہ یہ ہے کہ اٹھارہ سال سے پہلے نکاح کو جنسی زیادتی بھی کہا جائے گا، اسے زنا بالجبر بھی کہا جائے گا اور اگر اس سے اولاد پیدا ہو گئی تو اولاد جائز کہلائے گی ! اور اس کے والد کو پابند کیا جائے گا کہ اس کو نان نفقہ دے اور ان کا خرچہ برداشت کرے ! عقل، دانش، روایت، سب چیخ اٹھتی ہیں کہ یہ کیا بنا دیا گیا ہے ؟
آئین ِپاکستان پارلیمنٹ کو پابند کرتا ہے کہ قانون سازی قرآن و سنت کے تابع ہوگی ! آئین ِپاکستان پارلیمنٹ کو پابند کرتا ہے کہ قرآن و سنت کے منافی قانون سازی نہیں ہوگی ! آئین ِپاکستان اسلام کو پاکستان کا مملکتی مذہب قرار دیتا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کو کل کائنات کا بلا شرکت غیرہ حاکمِ مطلق مانتا ہے ! اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کے مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا وہ ایک مقدس امانت ہے اور مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق جس طرح قرآن پاک اور سنت میں اس کا تعین کیا گیا ہے، ترتیب دے سکیں گے ! یہ ہمارا آئین کہتا ہے ! ! قراردادِ مقاصد کہتی ہے جو آئین کا حصہ ہے: آرٹیکل 2اور آرٹیکل227۔
لیکن ہمارے ان قوانین کے اغراض و مقاصد میں واضح کیا گیا ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے عالمی ایجنڈے کی بنیاد پر ہم یہ قانون پاس کر رہے ہیں اسی کا نام'' غلامی'' ہے ! اب وہ دور ختم ہو گیا کہ دنیا کو آپ کالونی بنا لیں ، لیکن ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کو غلام بنانے کے لیے عالمی سطح کے ادارے اور عالمی معاہدات سیاسی، دفاعی، اقتصادی حوالے سے وہ ہمیں اس طرح غلام بنا رہی ہے کہ اگر اقوام متحدہ، انسانی حقوق کنونشن، عالمی عدالت انصاف، عالمی اقتصادی ادارے، وہ کوئی پالیسی بنائے، قانون بنائے تو ہمارے جیسے ممالک میں ہمارے اپنے ملک کا آئین اور قانون غیر مؤثر ہو جاتا ہے اور ان کے فیصلے ہم پر لاگو ہوتے ہیں اسی کو'' غلامی'' کہتے ہیں جو کالونی سسٹم کے ختم ہونے کے بعد بھی برقرار رکھا گیا ہے ! عالمی سطح پر اور پاکستان کے حکمران بڑی خوشی سے اس غلامی کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوئے ہیں ! !
تو ہمارا تو جہاد غلامی کے خلاف ہے ! ہم نے تو برصغیر میں تین سو سال تک غلامی کے خلاف جنگ لڑی ہے، قربانیاں دی ہیں ،کسی قیمت پر بھی اس طرح کی قانون سازی کو قبول نہیں کیا جا سکتا ! ''ٹرانس جینڈر'' یعنی مرضی کی صنفی شناخت تبدیل کرنا ! اگر تو پیدائشی طور پر یہ واضح نہ ہو کہ یہ مرد ہے یا عورت ؟ اور وہ شناخت کے لیے ہسپتال جاتے ہیں تو وہاں تو کچھ گنجائش ہے۔ لیکن جس کو اللہ تعالیٰ نے مکمل مرد پیدا کیا ہے یا مکمل خاتون پیدا کیا ہے، کیا جواز ہے کہ ہم صرف مغرب کی تقلید میں ، شاید وہاں بھی ان کو اتنی آزادی نہ ہو جو آزادی ہم نے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں دی ہے ! ! میاں شہباز شریف سے ہمیں یہ توقع نہیں تھی، مسلم لیگ سے ہمیں یہ توقع نہیں تھی کہ وہ اس حد تک جائے گی ہم تو سمجھے تھے کہ یہ وہ مسلم لیگ نہیں جو انگریز کی وفادار تھی ! ہم تو یہ سمجھ رہے تھے کہ اب یہ پاکستانی مسلم لیگ ہے ! لیکن ان کے اندر آج بھی غلامی کے دور کے جراثیم زندہ ہیں اور جس کے مظاہر آج ہم اس جماعت کے اندر دیکھ رہے ہیں ، ہمیں ان سے توقع نہیں تھی۔
اس سلسلے میں میں ایک اور بات بھی کہنا چاہوں گا کہ دینی مدارس کے حوالے سے جو رجسٹریشن کا قانون پاس ہوا تھا، نہ اس پر ابھی تک کوئی عمل ہو رہا ہے، نہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو زیرِ بحث لانے کے لیے اس کو پارلیمنٹ میں پیش کرنا، ایک سال ہو گیا ہے ایک سفارش بھی آج تک زیرِ بحث نہیں لائی گئی یعنی عمل درآمد یا تو ہوتا نہیں یا نیتیں اور ارادے اس کے برعکس ہیں ! ! وہ دینی مدارس کے ساتھ بھی، ان کے حوالے سے ہونے والی قانون سازی کے ساتھ بھی، اور اپنے کیے ہوئے قانون سازی کے ساتھ بھی منافقت کر رہے ہیں ! اور وہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے ساتھ بھی منافقت کر رہے ہیں ان کو سیدھی راہ لینی چاہیے ! حکمران پر آئین کی پیروی بہت لازم ہے عام شہری سے غلطی ہو جاتی ہے لیکن حکمران اپنے آپ کو قانون و آئین سے ماورا نہ سمجھیں ! ہم اس سلسلے میں اتحادِ مدارسِ دینیہ، وفاق المدارس العربیہ اور تمام مکاتب ِفکر سے رابطہ کر رہے ہیں ، اور ان شاء اللہ پورے ملک میں سیمینارز منعقد کیے جائیں گے، ایک احتجاجی سلسلہ اس حوالے سے شروع کیا جائے گا اور اس کا شیڈول ان کی مشاورت کے بعد طے کر لیا جائے گا ان شاء اللہ ! !
تو یہ ہمارا موجودہ حالات پر موقف ہے !
سوال و جواب :
صحافی : کیا ہم یہ سمجھیں کہ اس وقت جے یو آئی دوبارہ اس پوائنٹ پر آ گئی ہے کہ تمام دینی سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرے اور ...... ؟
مولانا صاحب : میں ایک گزارش کروں ، یہ میں نے اپنی رائے نہیں دی آپ کو، یہ مرکزی مجلسِ شوری کا بیان ہے اور میرے خیال میں اس کو سوال جواب میں گڑ بڑ نہیں کرنا چاہیے۔ اس کو اسی طریقے سے پبلک کر لینا چاہیے جس طرح میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا ہے۔
صحافی : مولانا صاحب ! ٢٩تاریخ ! مطلب نوٹیفکیشن کی بھی بات ہو رہی ہے ! فیلڈ مارشل یا چیف آف آرمی صاحب کی ! کیا مرکزی مجلسِ شوری میں اس چیز پر بھی بات ہوئی ہے کہ نوٹیفکیشن جاری کرنا چاہیے یا مزید پانچ سال ملنے چاہئیں ؟
مولانا صاحب : حضرت ! جس چیز کو ایک خاص شخص کے لیے مراعات کہا جائے اور زمرے میں تصور کیا جائے، اس سے ملک کو محفوظ رکھنا چاہیے ! ہم اپنی فوج کا احترام کرتے ہیں ، حافظ صاحب ہمارے لیے محترم ہیں ، ہندوستان کے مقابلے میں انہوں نے بھرپور کردار ادا کیا ہے ! ہمیں ان کی اس کارکردگی سے کوئی اختلاف نہیں لیکن ملک کے اندر ایسی نئی روایات نہ ڈالی جائیں جن میں شہریوں کے درمیان تفریق آئے اور قانون کی نظر میں ایک اور طرح ہو اور دوسرا اور طرح ! !
صحافی : ستائیسویں ترمیم پر آپ نے تنقید کی، لیکن اسی ترمیم کو پاس کرنے کے لیے آپ کی پارٹی کے ایک سینیٹر نے ووٹ دیا ! !
مولانا صاحب : تو ہم نے نکال دیا ، بات ختم !
صحافی : مولانا صاحب ! یہ جو ستائیسویں آئینی ترمیم کے جو خدشات ہیں ، آپ سے وقتاً فوقتاً سیاسی جماعتیں اور حکومتیں ملتی رہیں ، تبادلہ خیال ہوتا رہا ! آپ نے منظوری سے قبل اس پر کوئی جملہ نہیں کہا نمبر ون ! اور دوسری بات 30,29,28 ترامیم کی بھی باتیں ہو رہی ہیں ، تو اس کے لیے کیا حکمت ِعملی ہے ؟ ؟
مولانا صاحب : دیکھیں ، میں گزارش کر رہا ہوں ۔ آپ کو پتہ ہے کہ میں بنگلہ دیش کے سفر پر جا رہا تھا اور میں سفر میں تھا کہ جب خبر آئی کہ اس قسم کی چیزیں رکھی جا رہی ہیں ! ہم نے اسی وقت وہیں سے فون کیا کہ میں 22کو پہنچ رہا ہوں پاکستان اور23 کو فوراً اجلاس ہونا چاہیے۔
اب مزید ترامیم آ رہی ہیں تو ابھی تو اس پر کوئی بات نہیں کی جا سکتی کیونکہ آنے سے قبل کچھ کہنا مناسب نہیں ۔
صحافی : آپ نے فرمایا کہ ہمیں توقع نہیں تھی کہ شہباز شریف صاحب اور یہ مسلم لیگ انگریز کے وفادار مسلم لیگ نہیں ہے، تو کیا جو پچھلی مسلم لیگ تھی جس کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ انگریز کی وفادار تھی ؟
مولانا صاحب : آپ خود ہی سمجھتے ہیں ، بہت سی چیزیں ، مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہو بار بار ! !
صحافی : بڑی مہربانی، بہت شکریہ !
گوشہ محمود
٭٭٭
اسلام ، ایمان اور ان میں فرق
( افادات : شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب )
عنوانات و نظر ثانی : ڈاکٹر محمد امجد غفرلہ
٭٭٭
سید علی ہجویری یونیورسٹی گلبرگ لاہور کی انتظامیہ اور ہجویری اسلامک سوسائٹی کے زیر اہتمام ٢١ فروری ٢٠٠١ء کو حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب کو اسلام، ایمان اور اعمالِ صالحہ پر بیان کی دعوت دی گئی تھی جس میں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی، درسِ قرآن کی یہ مبارک اور روح پرور محفل کس قدر جاذب و پر کشش تھی الفاظ اس کی تعبیر سے قاصر ہیں اس کی افادیت کے پیش نظر نذرِ قارئین کیا جارہا ہے اللہ تعالیٰ قبول فرمائے، آمین ۔ (ادارہ )
٭٭٭
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا
مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّا بَعْدُ !
آج کے بیان کے لیے جو موضوع ہمیں دیا گیا ہے وہ ہے ''اسلام، ایمان اور اعمالِ صالحہ'' یہ ایک نشست کے لیے موضوع دیا گیا ہے حالانکہ ان میں سے ہر چیز ایسی ہے کہ جو تین نشستوں میں بیان ہو سکتی ہے ،بہر حال کوشش کریں گے کہ اس مختصر سی نشست میں ان تینوں چیزوں پر کچھ بیان ہو جائے
اسلام کیا ہے ؟
حدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی علیہ الصلٰوة والسلام سے ایک بار سوال کیا گیا
اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِسْلَام کہ مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے ؟
تو آپ نے ارشاد فرمایا اَنْ تَشْھَدَ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اسلام میں سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ تم شہادت دو اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ! ا س میں سب سے پہلی بات یہ آتی ہے کہ اللہ کے بارے میں شہادت دی جائے !
اللہ کیا ہے ؟ واجب الوجود کا کیا مطلب ہے ؟
لیکن خود اللہ اور لفظ اللہ کیا ہے ؟ اللہ کے بارے میں جو لکھا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اَللّٰہُ عَلَم لِذَاتِ الْوَاجِبِ الْوُجُوْدِ الْمُسْتَجْمِعِ لِجَمِیْعِ الصِّفَاتِ الْکَمَالِ لفظ ''اللہ'' نام ہے ایسی ذات کا جس کا وجود واجب ہے جو واجب الوجود ہے۔ واجب الوجود کا مطلب ہے کہ جس کا وجود ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کے لیے ہے ! !
اللہ کے سوا ہر چیز کا وجود عارضی ہے :
اس کے علاوہ کسی بھی چیز کا وجود اس نوعیت کا وجود نہیں ہے ،اللہ کی ذات کے علاوہ کائنات کی جو بھی چیز ہے چھوٹی ہو یا بڑی اس کا وجود تو ہے لیکن اس نوعیت کا نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کے لیے ہے بلکہ وہ عارضی ہے چاہے وہ آسمان ہو، چاہے وہ زمین ہو، اور چاہے آسمان اور زمین پر بسنے والی چھوٹی یا بڑی مخلوق ہو سب کا یہی حال ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے عطا کیے ہوئے عارضی وجود کی وجہ سے زندہ اور باقی ہے ،اس کا اپنا وجود نہیں ہے ! تو جس ذات کا وجوداپنا اور ذاتی ہے وہ صرف اللہ ہے باقی جتنی چیزیں اللہ کے علاوہ ہیں ان کا وجود عارضی ہے نہ ہمیشہ سے تھا اور نہ ہمیشہ کے لیے ہے ! !
اللہ کے سوا ہر چیز کا وجود عارضی ہونے کی دلیل :
بلکہ خود اس وجود والی چیز کو اپنے وجود پر بھی اختیار نہیں ہے یہ سب سے بڑی نشانی ہے اس کے عارضی ہونے کی کہ انسان جس کا اپنا ایک وجود ہے اور اس وجود کے لیے اس کے کچھ حقوق ہیں جو اللہ نے رکھے ہیں ان سب حقوق کے باوجود اپنے اس وجود پر خود اس انسان کو بھی اختیار نہیں وہ بے بس ہوتا ہے ! تو یہ سب سے بڑی نشانی ہے اس بات کی کہ وجود ہمارا اپنا نہیں ہے یہ عارضی طور پر ملا ہوا ہے ،کسی اور جگہ سے ہمیں دیا گیا ہے ،وہ کون ہے ؟ وہ اللہ کی ذات ہے تو اللہ کی تعریف یہ ہوئی کہ اس کا وجود ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کے لیے ہے ! اور آگے ہے اَلْمُسْتَجْمِعِ لِجَمِیْعِ الصِّفَاتِ الْکَمَالِ جتنے کمالات جتنی اچھی صفات ہو سکتی ہیں ان تمام کو وہ گھیرے ہوئے ہے وہ سب اس میں موجود ہیں بس یہ ہے اللہ ! تو ایسی ذات جس میں وجود بھی ذاتی اور تمام خوبیاں بھی اس کے اندر موجود اور عیب کی کوئی چیز نہیں ہے اور وہ پاک اور منزہ ہے تو ظاہر ہے کہ وہی اس بات کے لائق ہے کہ شہادت دی جائے کہ وہ عبادت کے لائق ہے ! !
تو سب سے پہلی بات یہ فرمائی کہ تم اس بات کی شہادت دو کہ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ! اور دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ اس بات کی بھی شہادت دو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم اللہ کے بھیجے ہوئے بندے اور رسول ہیں ! تو اسلام میں ان دونوں چیزوں کی شہادت سب سے پہلے بتلائی گئی !
دو میں سے کسی ایک کے انکار سے کافر ہو جاتا ہے :
اگر ایک چیز کو مانتا ہے اور ایک چیز کو نہیں مانتا تو وہ اسلام میں داخل نہیں ہو گا ،اگر اللہ کے وجود کو مانتا ہے تسلیم کرتا ہے اس کی عبادت بھی کرتا ہے ، نماز بھی پڑھتا ہے، ساری چیزیں کرتا ہے لیکن اس کے دوسرے جز کو نہیں مانتا کہ نبی علیہ الصلٰوة والسلام اللہ کے رسول ہیں اور ہمیشہ کے لیے ہیں اور آخری رسول ہیں یہ ایمان لانا بھی ضروری ہے اگر اس سے انکار کر دیا تو بھی اسلام سے نکل جائے گا اور اگر نبی علیہ الصلٰوة والسلام کا احترام کرتا ہے تعظیم کرتا ہے بڑا آدمی مانتا ہے لیکن اللہ کے بارے میں کہتا ہے کہ مجھے تو پتہ نہیں کہ اللہ ہے بھی یا نہیں ہے، مجھے تو سمجھ میں ہی نہیں آتا تو بھی وہ اسلام سے نکل جائے گا لہٰذا ان دونوں چیزوں کی شہادت دینا ضروری ہوا ! !
نماز کا حکم :
اس کے بعد فرمایا، نماز پڑھے ! پانچوں وقت کی نماز پڑھے جیسا کہ قرآن پاک میں ہے احادیث میں اس کی تفسیر کی گئی ہے کہ پانچ وقت کی نماز بھی پڑھتا ہو تو یہ دوسری چیز فرمائی اسلام کے لیے
زکوٰة کا حکم :
اس کے بعد فرمایا کہ زکٰوة دیتا ہو ! اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو مال دیا اور اتنا مال دیا کہ وہ صاحب ِنصاب ہو گیا، صاحب ِنصاب ہونے کا مطلب ہے کہ اگر صرف سونا ہے تو ساڑھے سات تولے، اور اگر صرف چاندی ہے توساڑھے باون تولے یا اگر اتنا مال اس کے پاس سونے یا چاندی کی شکل میں یا روپے پیسوں کی شکل میں موجود ہے تو وہ نصاب والا ہو گیا اب اس پر مال کا چالیسواں حصہ سال میں دینا فرض ہو گیا !
روزہ کا حکم :
نیز فرمایا وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ سال میں ایک مہینہ آتا ہے جسے ہم رمضان المبارک کہتے ہیں اس کے روزے رکھے ! یہ بھی ہر مسلمان پر فرض ہیں ، چاہے وہ بوڑھا ہو ،چاہے جوان ہو، جب وہ بالغ ہوگیا چاہے عورت ہو یا مرد ، اب اس پر یہ روزے فرض ہو گئے اِلا یہ کہ کوئی شرعی عذر پیش آ جائے تو اس کی تفصیل موجود ہے یہاں اس کے بیان کی گنجائش نہیں ہے !
اسلام یہ ہے کہ شہادت دے کہ اللہ عبادت کے لائق ہے ، نبی علیہ الصلٰوة والسلام کے بارے میں شہادت دے کہ وہ اس کے بندے اور رسول ہیں اور آخری رسول ہیں ان کے بعد کوئی رسول کوئی نبی قیامت تک نہیں آئے گا کسی بھی درجہ میں ، اس بات کی شہادت دے ! نماز پڑھتا ہو، حج کرے، زکوٰة دے او روزے رکھے ! !
حج کا حکم :
نیز ارشاد فرمایا کہ وَتَحُجَّ الْبَیْتَ اِنِ اسْتَطَعْتَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً کہ پھر حج بھی کرے اگر اللہ نے اتنا مال دے دیا ہے کہ آمد و رفت کے اخراجات اور وہاں کے اخراجات اور اس عرصہ میں اپنے گھر والوں کے اخراجات پورے کر سکتا ہے تو پھر اللہ نے اس پر حج فرض کر دیا لہٰذا وہ حج کرے ! !
ایمان کیا ہے ؟
تو سائل نے پھر سوال کیا فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِیْمَانْ یا رسول اللہ مجھے ایمان کے بارے میں بتلائیے ایمان کیا چیز ہے ؟ تو آپ نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر ایمان لائے !
اسلام کے بارے میں فرمایا تھا کہ اللہ کے بارے میں تو شہادت دے زبان سے، ایمان یہ ہے کہ یہ جو زبان سے بات کہہ رہے اس کو تہہ دل سے کہو یعنی دل اور زبان اس معاملہ میں ایک ہوں تو پھر یہ ایمان ہے !
بظاہر مومن اللہ کے نزدیک کافر :
اگر ایک آدمی زبان سے تو کلمہ گو ہے لیکن دل میں اس کے تصدیق نہیں ہے، دل میں وہ اللہ کو معبود نہیں مانتا تو بظاہر تو ہم اسے مسلمان ہی سمجھیں گے کیونکہ ہم کو غیب کا علم نہیں ہے ہم دل کے اندر کسی کے جھانک نہیں سکتے، غیب کی چیزیں اللہ کے علم میں ہیں تو بظاہر وہ مسلمان سمجھا جائے گا لیکن اللہ کے ہاں وہ مومن نہیں ہے ! جیسے منافقین تھے نبی علیہ الصلٰوة والسلام کے زمانے میں ( اور بعد میں بھی ایسے لوگ قیامت تک رہیں گے) کہ بظاہر وہ مسلمانوں کے ساتھ رہتے تھے اور مسلمان سمجھے جاتے تھے نماز پڑھتے تھے اور بڑے بڑے کارنامے انجام دیتے تھے، اور اتنے بڑے بڑے کارنامے انجام دیتے تھے کہ ہمارے ہاں کے بڑے بڑے پختہ ایمان والے بعض اوقات وہ کام نہیں کر سکتے یعنی بعض دفعہ لڑائی میں جانا، جہاد میں شریک ہو جانا ١ اور یہاں تک ہوا کہ اس میں لڑتے جان بھی دے دینا
دنیا میں منافق کا حکم :
کیونکہ وہ غیب کی باتیں ہیں ہمیں پتا نہیں ہیں ہم اسے شہید کہیں گے، ہم اس کا نمازِ جنازہ بھی پڑھیں گے اس کو شہیدوں والے اعزاز کے ساتھ دفنائیں گے بھی لیکن چونکہ اس وقت تک نبی علیہ الصلٰوة والسلام کا وجود مسعود تھا، وحی کا سلسلہ قائم تھا اللہ کی طرف سے غیب کی چیز پر آگاہ کر دیا جاتا تھا اس لیے پتا چل جاتا تھا کہ یہ منافق ہے اور یہ مسلمان ! !
١ مشکٰوة المصابیح ج ٢ ص ٥٣٤ رقم الحدیث ٥٨٩٢ بحوالہ صحیح البخاری ٣٠٦٢
وحی اور کشف میں فرق :
لیکن آپ کی وفات کے بعد وحی کا دروازہ بند ہو گیا اب غیب پر اطلاع کی کوئی صورت نہیں ہے اگر غیب کا کسی درجہ میں کوئی کہتا ہے مجھے علم ہو گیا، کشف ہو گیا، فلاں ہو گیا تو ٹھیک ہے ہوا ہو گا اس کا انکار نہیں لیکن وہ بہر حال ظنی علم ہے حتمی نہیں ہے ،حتمی علم وحی ہے حتمی بات وہ ہے جو نبی کی زبان سے نکل جائے باقی بات حتمی نہیں ہے ظنی ہے، ہو سکتا ہے وہم ہی ہوا ہو، ہو سکتا ہے خیال آیا ہو، ہو سکتا ہے شیطان نے کوئی بات کر دی ہو اس کے کان میں ، شیطان نے یہ بات کہی ہے یہ اسے سمجھ رہا ہے کہ کشف ہو گیا ! چونکہ احتمالات موجود ہیں ان احتمالات کی وجہ سے اس کی حیثیت مشکوک ہو گئی ! ممکن ہے یہ دماغی مریض ہو، دماغی مریضوں کی بعض اوقات ایسی نوعیت ہو جاتی ہے کہ دماغ کو عام حالات میں جو کام کرنا چاہیے اس سے زیادہ رفتار میں کام شروع کر دیتا ہے اور ایک درجہ میں کم و بیش چھٹی حس ہر انسان میں موجود ہوتی ہے بعضوں کی چھٹی حس بہت تیز ہو جاتی ہے لیکن وہ کہلائے گا مریض اسے ایک نارمل انسان نہیں کہا جائے گا تو اس کی بات کو وزن ہی نہیں مل سکتا ! !
نبی دماغی اور دل کی باطنی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے :
صرف نبی ہی ایسی ہستی ہوتی ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ دماغی اور دل کے جو باطنی امراض ہیں ان سے محفوظ رکھتا ہے ! !
مرزا قادیانی اور دماغ کی بیماری :
یہ مرزا غلام احمد قادیانی جو تھا مدعی نبوت جس نے انگریز کے کہنے پر نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا یہ مُراق ایک بیماری ہے دماغ کی اس میں مبتلا تھا اور ا س کے حالات میں لکھا ہے ١ کہ اس کو میٹھا بہت پسند تھا لہٰذا جیب میں گڑ رکھا کرتا تھا اور مٹی کے ڈھیلے بھی جیب میں رکھتا تھا استنجے وغیرہ کے لیے اور یہ بات مشہور ہے کہ وہ گُڑ کی جگہ ڈھیلا استعمال کر لیتا تھا اور ڈھیلے کی جگہ گُڑ استعمال کر لیا کرتا تھا ! کوئی احمق بھی ایسے آدمی کو اپنا امام بنانا پسند نہیں کر سکتا چہ جائیکہ نبوت کا منصب العیاذ باللّٰہ ۔
ا تتمہ براہین ِاحمدیہ ج ١ ص ٦٧ بحوالہ قادیانیت کُش ص ١٣١
مرزا کے پیروکار آنکھیں کھولیں :
قرآن پاک میں آ گیا ( خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَ عَلٰی سَمْعِھِمْ وَ عَلٰی اَبْصَارِھِمْ غِشَاوَة ) ١ جب مہر لگ جائے دل پر اللہ کی طرف سے پھر وہ جس کو چاہے نبی بنالے ، وہ تو پھر پتھر کو بھی سجدہ کرنے والے اس دنیا میں موجود ہیں ، کتنے بڑے بڑے سائنسدان ہیں کتنے بڑے بڑے سیاستدان ہیں کہ ان کو سیاستدان تسلیم کیا گیا ہے، نہرو کو تسلیم کیا گیا، گاندھی کو تسلیم کیا گیا، اندرا گاندھی کو تسلیم کیا گیا، اب بھی ہندو موجود ہیں جنہیں بین الاقوامی سطح پر سیاستدان مانا جاتا ہے لیکن دین کے معاملہ میں جب مُہر لگ گئی تو وہی سمجھدار اور عقلمند انسان پتھر کے سامنے سر جھکا رہا ہے، ایک مورتی کو سجدہ کرتا ہے تو یہ تو عقل پر پردہ پڑ گیا اس کے ! تو جب ایسا پردہ پڑ جائے تو کوئی اس کو ہٹا نہیں سکتا ! !
تو فرمایا کہ تم ایمان لائو دل سے اس بات کی تصدیق کرو پھر صحیح مومن ہوگے ! آخرت میں نجات کے لیے بہت ضروری ہے کہ دنیا میں جو معاملات ہیں ہم دوسرے کو مسلمان سمجھیں اور دوسرا ہمیں مسلمان سمجھے وہ تو آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے اسلام کے جواب میں چیزیں ارشاد فرما دی تھیں وہ تمام چیزیں ظاہری تھیں جو آدمی یہ چیزیں کرے گا شہادت دے گا، روزہ رکھے گا ،نماز پڑھے گا ،حج کرے گا ہم اسے مسلمان ہی کہیں گے ان چیزوں میں سے کسی چیز کا انکار کر دے گا تو کافر کہلائے گا ! اور اگر کہتا ہے کہ میں نے جھوٹ موٹ کہا تھا تو اب اس کا کیا علاج ہے ؟ تو اس کی یہ بات نہیں مانی جائے گی اگر توبہ کرے تو ٹھیک ہے لیکن توبہ بھی نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ یہ میں مذاق کیا کرتا ہوں ،جھوٹ موٹ کہا کرتا ہوں ، تو یا پاگل کہلائے گا یا کافر ہی سمجھا جائے گا بس اور کچھ نہیں ! ہم تو ظاہر کا اعتبار کریں گے ! !
انسان ظاہر کا مکلف ہے یا باطن کا ؟
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ہم ظاہر کے مکلف ہیں ، باطن اللہ کے سپرد ہے وہاں فیصلہ ہو گا ! اللہ تعالیٰ نے آسان نظام بھیج کر انسان کے لیے آسانی کر دی ہے کہ تمہاری رسائی ظاہر تک ہے تو میں نے تمہیں دوسرے کے معاملہ میں صرف ظاہر ہی کا مکلف بنا دیا مگر اپنے معاملے میں
١ سورة البقرة : ٧
انسان ظاہر اور باطن دونوں کا مکلف ہے کہ ظاہراً بھی یہ شہادت دے اور دل میں بھی اس کا یقین ہو، تو اپنی ذات کے بارے میں دونوں چیزوں کا مکلف ہے، غیر کے معاملہ میں صرف ظاہر کا مکلف ہے باطن اللہ کے سپرد تو ہم ظاہر کا اعتبار کریں گے ! ! تو ایمان کا جو تعلق ہے انسان کے باطن اور قلب کے ساتھ ہے ! !
فرشتوں پر ایمان لانا ضروری ہے :
پھر فرمایا وَمَلٰئِکَتِہ اور فرشتوں پر ایمان لائو کہ اللہ کے فرشتے ہیں وہ بھی اللہ کی بنائی ہوئی مخلوق ہے اور وہ گناہوں سے پاک مخلوق ہے گناہ نہیں کرتے گناہ کا مادہ ہی نہیں ان میں ! تو اس پر بھی ایمان لانا ضروری ہے ہر مسلمان کے لیے ! !
اللہ کی اتاری ہوئی سب کتابوں پر ایمان لانا ضروری ہے :
وَ کُتُبِہ اللہ کی جو کتابیں ہیں جو اس نے نازل کی ہیں نبیوں پر جن کا ہمیں علم ہے اور جن کا علم نہیں ہے سب پر ایمان لانا کہ یا اللہ جو بھی تو نے اتاری ہے ہمارا اس پر ایمان ہے کہ وہ صحیح اور سچ تھی یہ بھی ضروری ہے اگر ایمان نہیں لائے گا اوپر سے کہتا ہے کہ اللہ کی کتابیں مانتا ہوں ،ڈر کے مارے کہتا ہو گا یا کسی مصلحت کی وجہ سے لیکن دل میں اس کا اقرار نہیں کرتا تصدیق نہیں کرتا تو وہ اللہ کے ہاں مومن نہیں ہے ! گو ظاہراً ہم اسے مسلمان ہی سمجھیں گے لیکن اللہ کے ہاں نجات نہیں ہو گی اس کی وہ کافر ہے ! تو تمام کتابوں پر ایمان لانا ضروری ہے اور اس پر کہ نبی علیہ الصلٰوة والسلام پر جو کتاب نازل ہوئی وہ حتمی اور آخری ہے ! !
کتابوں پر ایمان کا مطلب ؟
کتابوں پر ایمان کا کیا مطلب ہے ؟ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب ہم تورات کی تلاوت شروع کر دیں ، انجیل کی تلاوت شروع کر دیں ، اس کے احکامات لیں یہ نہیں کیونکہ وہ کتابیں تو اپنی اصل شکل میں موجود ہی نہیں ہیں دنیا میں کہیں ، کسی بڑے سے بڑے پادری کے پاس چلے جائیں اس کے پاس بھی موجود نہیں ہے جبکہ ہمارا مذہب جو ہے وہ ایسا عجیب ہے کہ قرآن تو خیر ہے ہی قرآن پاک نبی علیہ الصلٰوة والسلام کی زبانِ مبارک سے جو بات نکلی ہے اور زندگی کے جس پہلو پر بھی نکلی ہے آج تک حدیثوں میں محفوظ ہے ! !
پوپ کی لاچاری :
چند ماہ قبل موجودہ وفاقی وزیر ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب ١ کا وہاڑی میں بیان سن رہا تھا انہوں نے کہا کہ میں روم میں پوپ کے پاس گیا اس سے میری ملاقات ہوئی میں نے ان سے کہا کہ آپ حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوة والسلام کی کسی معاملے سے متعلق (سند کے ساتھ) مجھے حدیث شریف سنا سکتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ الصلٰوة والسلام نے یہ فرمایا فلاں چیز کے معاملہ میں تو کہنے لگے کہ وہ سوچ میں پڑ گیا او ر سر جھکائے بیٹھا رہا پھر اس نے کہا کہ آپ اپنا سوال پھر دوہرائیں ،کہنے لگے کہ میں نے پھر دوہرایا کہ عیسیٰ علیہ الصلٰوة والسلام کا کوئی ایک جملہ جو ان کی زبان مبارک سے نکلا ہو کسی بھی معاملہ میں وہ جملہ آپ مجھے سنا دیجیے ! تو کہنے لگے کہ وہ پھر سوچنے لگا اور تھوڑی دیر بعد اس نے کہا کہ ''ایسا کوئی جملہ موجود نہیں ہے'' ہمارا جو مذہب ہے اس میں تو اللہ کی کتاب پوری طرح چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی محفوظ ہے نبی علیہ الصلٰوة والسلام کے اقوال چودہ سو سال گزرنے کے بعد حدیث کی شکل میں موجود ہیں اور محدثین نے اس کے باب باندھ دیے، ہزاروں ابواب باندھ رکھے ہیں چیپٹر(Chapter) کہہ لیں ، فصل کہہ لیں ، باب کہہ لیجیے جو باندھ رکھے ہیں زندگی کے ہر شعبے سے متعلق ! !
علماء آپ کے ہر قولی اور فعلی عمل کو زندہ رکھے ہوئے ہیں :
حتی کہ ایک حدیث شریف آتی ہے جس میں یہ بیان ہوتا ہے کہ جب نبی علیہ الصلٰوة والسلام نے کوئی بات بتلائی اور اس کے بات بتلانے کے دوران آپ نے سر مبارک اوپر کیا تو راوی جو صحابی نقل کر رہے تھے انہوں نے اتنا اونچا سر کیا کہ ان کی ٹوپی سر سے گر گئی جو سر پر ٹوپی تھی تو اب بھی
١ صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد ، تاریخ وفات : ٢٦ ستمبر ٢٠١٠ئ
جو استاذ حدیث پڑھاتا ہے شاگردوں کو، اس استاد کی کوشش ہوتی ہے کہ جس وقت یہ حدیث سنا رہا ہو
طالب علموں کو، نقل کر رہا ہوں تو وہ خود بھی کوشش کرتا ہے کہ سر اتنا اونچا اٹھائے بیان کرنے کے دوران کہ اس کی ٹوپی گر جائے چنانچہ بعض محدثین اور علماء اپنی ٹوپی کو قصداً گراتے ہیں تا کہ نبی علیہ الصلٰوة والسلام کی یہ ''فعلی سنت'' فعلی شکل میں زندہ رہے ! تو ہمارے ہاں تو نبی علیہ الصلٰوة والسلام کا یہ عمل بیان کے اعتبار سے بھی محفوظ اور عمل کے اعتبار سے بھی محفوظ چلا آ رہا ہے پھر جتنے طالب علم سنتے ہیں ان میں جن کو توفیق آئندہ پڑھانے کی ہوتی ہے وہ پھر اسی عمل کو زندہ کرتے ہیں تو ہمارا دین تو مکمل محفوظ ہے ! کیونکہ اللہ نے وعدہ کر لیا ہے کہ یہ محفوظ رہے گا جب اللہ نے کہہ دیا اور اپنے ذمہ لے لیا تو اب یہ محفوظ رہے گا ،دنیا کی کوئی طاقت اس کو نہیں مٹا سکتی ! ! جو آیا ہے وہ خود مٹ جاتا ہے تو یہ خصوصیت ہے اس دین کی ! !
تورات اور انجیل پر ایمان لانا ہے مطالعہ نہیں کرنا :
اب اگر کوئی شخص تورات اور انجیل وغیرہ کا مطالعہ شروع کر دے کہ چونکہ میں نے حدیث میں پڑھا ہے یا تقریر میں سنا ہے کہ تمام کتابوں پرایمان لانا ضروری ہے اس لیے میں تورات کا مطالعہ کرتا ہوں تو یہ غلط ہے مطالعہ نہیں کرنا بس ایمان لانا ہے کہ جیسی تھی جس طرح اتاری تھی اللہ بہتر جانتا ہے اس پر میرا ایمان ہے کہ وہ صحیح تھی بس یہ کافی ہے باقی قرآن کا مطالعہ کرنا ہے ! !
ایک دفعہ نبی علیہ الصلٰوة والسلام کے سامنے حضرت عمر رضی اللہ عنہ تورات لے کر بیٹھ گئے پڑھنے کے لیے، آپ کا چہرہ غصہ سے سرخ ہو گیا ان کی چہرہ پر نظر نہیں پڑی ،حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ چہرہ کو دیکھ رہے تھے تو انہوں نے توجہ دلائی کہ تم یہ کیا حرکت کر رہے ہو ذرا چہرہ انور تو دیکھو آپ ناراض ہو رہے ہیں ! تو انہوں نے فوراً بند کر دی اور فرمایا رَضِیْنَا بِاللّٰہِ رَبًّا وَ بِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَّ بِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا ١ کہ میں اللہ سے رب کے طور پر راضی ہوا اور محمد صلی اللہ عليہ وسلم کو نبی کے طور پر تسلیم کرتا ہوں ! انہوں نے فوراً جملے کہے اور تلافی کرنی چاہی ! تو مطالعہ نہیں کرنا ایمان لانا ہے، ایمان ضروری ہے !
١ مشکٰوة المصابیح ج ١ ص ٣٢ رقم الحدیث ١٩٤ بحوالہ دارمی
ایمان بالغیب، ایک سچا واقعہ :
ایک واقعہ ہے میں اس کو قرآنی مجالس میں سنایا کرتا ہوں اور یہ سچا واقعہ اور عجیب و غریب واقعہ ہے ،ہندوستان میں کوئی دیہاتی آدمی تھا اس کی وفات ہو گئی تو اس دیہات کے لوگ بالکل جاہل اور اُجڈ تھے ،مذہب کے بارے میں انہیں معلومات بھی نہیں تھیں انہیں یہ بھی نہیں پتا تھا کہ اسے دفنانا کیسے ہے اور اسے نہلانا کیسے ہے ؟ کچھ معلوم نہیں تھا تو ایک صاحب وہاں سے گزر رہے تھے ان کو انہوں نے روکا اور کہا کہ یہ بابا جی مر گئے ہیں تو اگر تم اس کو غسل وغیرہ دے دو اور تجہیز و تکفین میں ہماری مدد کرو تو تمہارا بڑا احسان ہو گا مدد کر دو ہماری ! تو وہ مسافر جو تھا اس نے کہا کہ ٹھیک ہے بھئی اس میں کیا حرج ہے ؟ مسلمان کے لیے کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے وہ رک گئے اور جتنا انہیں معلوم تھا اس کے مطابق وہ انہیں بتاتے رہے ایسے غسل دو ایسے یہ کرو یہ کرو اور اسے دفنایا اس کے بعد وہ چلے گئے اب جب وہ گئے تو راستے میں انہیں خیال آیا کہ میرے جو کاغذات تھے ضروری جس کے لیے جا رہے تھے وہ نہیں ہیں ! واپس ہو گئے کہ وہ گائوں میں ہوں گے ، ڈھونڈا کہیں نہیں ملے بہت پریشان ہوئے ! اور ان کا سارا کام ہی ان پر موقوف تھا دفتری کاغذات ہوں گے یا کیا ہو گا تو انہوں نے کہا کہ بھئی دیکھو ایک ہی شکل ہے کہ میں قبر میں اُترا تھا تو مجھے یہی شک ہے کہ وہ وہاں گر گئے تو تم مہربانی کرو اس کی قبر کھودو تا کہ میرے کاغذات نکلیں ،میرا تو کام ہی نہیں ہو گا بڑا نقصان ہو جائے گا !
تو ان لوگوں نے کہا کہ بھئی تم نے ہماری مدد کی تھی ہم تمہاری مدد کریں گے چلو ! تو قبر جب کھودی گئی تو قبر میں تو بہت غیرمعمولی چیز دیکھنے میں آئی ، اس میں مہک تھی اور خوشبو تھی ! اور ایسی خوشبو تھی کہ پورا علاقہ مہک اٹھا اس سے اور وہ کاغذات بھی اندر سے نکل آئے ان صاحب کے ! اب سب لوگ حیران کہ بات کیا ہے ؟ وہ خود حیران کہ اُجڈ لوگ جاہل لوگ دین کا پتہ نہیں مذہب کا پتہ نہیں ایسے ہی ان بابا جی کا بھی حال تھا تو کیا ایسی بات تھی کہ اللہ نے ان کے ساتھ ایسا معاملہ کیا ؟ !
اب تحقیق کرتے رہے لوگوں نے کہا کہ کچھ پتہ نہیں ہماری ہی طرح کا تھا کوئی خاص بات بظاہر تو تھی نہیں اس میں ایسی، گھر میں جا کر جب عورت سے پوچھا تو اس کی بیٹی کہنے لگی کہ کرتا تو یہ کچھ نہیں تھا نہ اسے نماز آتی تھی، ہماری ہی طرح تھا بس یہ جو ایک کتاب لٹک رہی ہے دیوار پر، یہ جو کیل پر کتاب لٹک رہی ہے اس کو یہ کھولا کرتا تھا روزانہ اور کھول کر اس کی جو لائنیں ہیں ان پر انگلی پھیرتا رہتا تھا اور کہتا رہتا تھا کہ یو بھی سچ کہا، یو بھی سچ کہا، یو بھی سچ کہا ! بس صرف یہ کہتا رہتا تھا اور بند کر کے رکھ دیتا تھا ،روز کا یہ معمول تھا اس کا کہ یہ بھی سچ کہا ، یہ بھی سچ کہا ، یہ بھی سچ کہا ! تو وہ کہنے لگے کہ بس سمجھ میں آ گئی کہ یہ اس کی ادا اللہ کو پسند آ گئی کہ اس کا آنکھیں بند کر کے اللہ کی ذات پر اور اس کی کتاب پر ایمان تھا، یہی تو مدار ہے نجات کا، اللہ کو اس کا یہ عمل پسند آ گیا ! !
اب اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جس کو قرآن نہیں آتا وہ بھی ایسا ہی کرنے لگے اور کہے کہ بس یوں انگلی رکھ کر میں بھی ایسے ہی کر لوں گا جیسے بابا جی نے کیا تھا کہ یہ بھی سچ کہا، یہ بھی سچ کہا ، یہ نہیں ہے ،یہ اس بابا کے لیے ہے کہ جس کو پڑھنے کے لیے کوئی پڑھانے والا نہیں ملا، دین حاصل کرنے کے وسائل نہیں تھے تو جتنا بس میں تھا اتنا اس نے کر لیا کیونکہ بس سے زیادہ کا انسان مکلف نہیں ہے لیکن ہمارے ہاں تو قرآن بھی موجود، پڑھنے پڑھانے والے بھی موجود، سکھانے والے بھی موجود، مکمل دین بتلانے والے بھی موجود ہیں ، یہاں پر انسان مکلف ہے ہر چیز سیکھنے کا، یہاں بابا جی والا معاملہ نہیں ہو گا ! اس قصہ سے کوئی یہ مطلب اخذ نہ کر لے تو جتنا انسان کر سکتا ہے اس کا مکلف بنا دیا گیا کہ وہ کرے، جو نہیں کر سکتا تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے ( لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا ) ١ جب انسان کے بس میں کھڑے ہو کر نماز نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ پڑھو، بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتا لیٹا ہے مریض ہے تو لیٹ کر پڑھ لو، اشارے سے پڑھو جب تک ہوش میں ہو پڑھتے رہو، جہاد میں ہو میدانِ جنگ میں ہو اور رک نہیں سکتے لڑائی جا ری ہے وہاں تو نہیں کہہ سکتے دشمن سے کہ ہم نے نماز پڑھنی ہے رک جائو وہ تو لڑ رہا ہے تو جدھر رخ ہے ادھر پڑھ لو ! اسی طرف اشارے کر کے نماز پڑھ لو چاہے قبلہ کی طرف رخ ہے، چاہے مغرب کی طرف، چاہے مشرق کی طرف، چاہے شمال کی طرف
١ سورة البقرة : ٢٨٦
چاہے جنوب کی طرف، نمازپڑھی جائے گی کیونکہ اس وقت اتنا ہی بس میں ہے ہمارے، اس سے زیادہ بس میں نہیں ہے تو یہ جو دین اللہ نے بھیجا ہے آسانی والا دین بھیجا ہے سہولت والا دین بھیجا ہے اب پھر بھی اگر ہم اس پر عمل نہ کریں تو یہ تو پھر ہماری محرومی اور بد قسمتی ہے ! !
آخرت کے دن پر ایمان :
اور فرمایا وَالْیَوْمِ الْآخِرِ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے کہ اس دنیا کے بعد ایک اور عالَم موجود ہے جس میں ہمیں جانا ہے اور ہم موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جائیں گے ! !
فرمایا یہ بھی چیز ہے جس پر ایمان لائو یعنی قلب کا فعل ہے زبان سے تصدیق کرنی ہے زبان سے شہادت دینی ہے اور دل سے اس کی تصدیق کرنی ہے دونوں چیزیں جب ملتی ہیں تو انسان کامل مسلمان یا کامل مومن بنتا ے ورنہ ناقص رہے گا ! !
تقدیر پر ایمان :
اور آخر میں فرما یا وَتُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ خَیْرِہ وَ شَرِّہِ کہ تم ایمان لائو تقدیر پر اچھی ہو یا بری ! یہ اللہ کی طرف سے ہے ! اور تقدیر کیاچیز ہے ؟ تقدیر عجیب چیز ہے اور تقدیر پر بیان کا اس وقت موقع بھی نہیں ہے کیونکہ وقت بھی تھوڑا ہے ساری بات بیان نہیں ہو سکتی ! تقدیر پر ایمان لائو بس، اچھی ہو یا بری ! تقدیر کے مسئلہ میں بہت سے لوگوں کو شیطان مغالطے ڈالتا ہے بہت وسوسے آتے ہیں بہت سے بہک جاتے ہیں لیکن مختصراً نبی علیہ الصلٰوة والسلام نے یہ بتلایا کہ بس ایمان لے آئو ! !
مسئلہ تقدیر ، مقامِ شکر :
میں تو کہا کرتا ہوں کہ شکر کرو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تقدیر پر ایمان لے آئو بس بخشش کے لیے کافی ہے ، اگر یہ فرما دیتے کہ تقدیر کا مسئلہ موت سے پہلے حل کر کے میرے پاس آنا ہے تو ایک بھی مسلمان کی بخشش نہ ہوتی کیونکہ مسئلہ تقدیر کوئی حل نہیں کر سکتا یہ تو اللہ کی مہربانی ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کی ہم پر رحمت ہے ،اس پر تو شکر کرنا چاہیے چہ جائیکہ اس پر ہم سوچ و بچار شروع کریں ! !
جس مسئلے کا خطرہ ہے کہ اللہ کے ہاں ہم سے سوال ہو گا اور پوچھ ہو سکتی ہے اس کی تو ہم پروا ہی نہیں کرتے اور جس مسئلے کے بارے میں اطمینان ہے کہ اس پر پوچھ ہی نہیں ہو گی ہم سے اور کچھ سوال نہیں ہو گا اور اللہ تعالیٰ بخش دیں گے ان میں ہم بحث میں پڑ جاتے ہیں تویہ اصل میں شیطان کا دھوکا ہے یہ شیطان اصل جگہ سے ہٹا کر اس طرف لگا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ بھی تو ایمان ہی کی چیز ہے اس سے ایمان میں مزید اضافہ ہو گا ،یہ ہو گا وہ ہو گا، تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جو اصل دین کی ضروریات ہیں اس سے ہٹ کر جب ہم ادھر لگ گئے تو یہ ایمان کی بات نہیں رہی بلکہ یہ شیطان کی طرف سے ایک مغالطہ ہے جو وہ ڈالتا ہے، بس اس پر ایمان لائو کافی ہے، باقی تقدیر کے مسئلہ پر مزید چیزیں ان شاء اللہ زندگی رہی تو پھر کبھی بیان کریں گے ! !
آج کے بیان میں دوچیزیں تو ہو گئیں ایک اسلام کے بارے میں سوال ہوا تھا تو اس کا جواب آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرما دیا ! دوسرا ایمان کے بارے میں سوال ہوا وہ بھی آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا تو مختصر یہ کہ اسلام کا تعلق ہمارے ظاہری افعال و اعمال سے ہے اور ایمان کا تعلق ہمارے قلبی افعال سے ہے، ہمارے دل کی حالت سے ہے ! دونوں چیزیں جب مکمل ہوتی ہیں تو کامل مومن بنتا ہے اور اگر ان میں قصور رہ جائے اور خدانخواستہ تصدیق کے معاملہ میں رہ جائے تو وہ مسلمان ہی نہیں اور اگر ظاہری افعال میں کوتاہی ہے تو وہ تو ہر انسان گناہگار ہے اپنی سی کوشش کرے کہ نیک اعمال کرتا رہے برائیوں سے بچتا رہے تو اللہ تعالیٰ باقیوں سے ان شاء اللہ معاف کر دیں گے ،باقی رہا ''اعمالِ صالحہ'' تو اس پر بھی ان شاء اللہ پھر بیان کریں گے چونکہ اب وقت بھی ہو گیا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے ! !
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن
٭٭٭
اخبار الجامعہ
( جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد شارع رائیونڈ لاہور )
٭٭٭
٣٠ اکتوبر کو جامعہ مدنیہ جدید کے مہتمم مولانا عکاشہ میاں صاحب قائد جمعیة علماء اسلام حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہم سے ملاقات کے لیے حاجی گل محمد صاحب کی رہائشگاہ دمڑ ہاؤس فیصل آباد تشریف لے گئے جہاں قائد جمعیة سے ملاقات فرمائی ،بعد ظہر قائد جمعیة کی معیت میں ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے چناب نگرچنیوٹ تشریف لے گئے ۔
٢ نومبر ٢٠٢٥ء جامعہ کے مہتمم مولانا عکاشہ میاں صاحب نے مشیر وزیر اعظم پاکستان محترم شبیر احمد صاحب عثمانی کی بیٹی کی شادی میں شرکت فرمائی اس موقع پرقاری محمد حنیف صاحب جالندھری ، مولانا طارق جمیل صاحب ،وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان گورنر گلگت بلتستان ، وفاقی وزیر داخلہ جناب محسن نقوی اور دیگر وفاقی وصوبائی وزراء سمیت اہم شخصیات نے بھی شرکت فرمائی ۔
٥ نومبر کوفاضل جامعہ مدنیہ جدید مولانا ساجد صاحب اور مولانا روزی خان صاحب کوئٹہ سے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے جامعہ کے مہتمم مولاناعکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی ،خانقاہ حامدیہ میں رات کا قیام رہا، صبح کا ناشتہ تناول فرماکر واپس تشریف لے گئے۔
٧ نومبر فاضل جامعہ مولانا عزیز اللہ صاحب کوئٹہ سے تشریف لائے تین دن خانقاہ حامدیہ میں قیام فرماکرواپس تشریف لے گئے۔
٨ نومبر کو حضرت مولانا خالد محمود صاحب سومرو شہید کے بھائی مولانا مسعود احمد صاحب سومرو مع رفقاء جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مہتمم صاحب سے ملاقات فرمائی اور خانقاہ حامدیہ میں دوپہر کا کھانا تناول فرمایابعد ازاں واپس تشریف لے گئے۔
٨ نومبر کو جامعہ مدنیہ جدید کے سابق مدرس مولانا اسماعیل صاحب مع رفقاء جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور حضرت مہتمم صاحب ملاقات فرمائی اور خانقاہ حامدیہ میں رات کا کھانا تناول فرمایا ۔
٩ نومبر کو جمعیة علماء اسلام ضلع خوشاب کے امیر و ممبر مرکزی جنرل کونسل جمعیة علماء اسلام حضرت مولانا عبداللہ احمد صاحب خوشاب سے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور جامعہ کے مہتمم مولاناعکاشہ میاں صاحب سے ملاقات فرمائی اور رات کا کھانا تناول فرمایا بعد ازاں واپس تشریف لے گئے
١٠ نومبر کو بھائی رضوان صاحب خوشاب سے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مہتمم صاحب سے ملاقات کی ، صبح کا ناشتہ خانقاہ حامدیہ میں تناول فرمایا بعد ازاں واپس تشریف لے گئے۔
١٣ نومبر وزیر قانون رانا اقبال صاحب کے صاحبزادگان جناب جاوید صاحب جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مہتمم صاحب سے ملاقات فرمائی اور خانقاہ حامدیہ میں کھانا تناول فرمایا۔
١٣ نومبر کو جمعیة علماء اسلام پنجاب کے جنرل سیکرٹری مولانا حافظ نصیراحمد صاحب احرار وفد کے ہمراہ جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے۔
١٤ نومبر کوجمعیة علماء اسلام ضلع ملتان کے امیر نواسہ مفتی محمود مولانا مفتی عامر محمود صاحب جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے تین دن خانقاہ حامدیہ میں قیام فرمایا۔
١٤ نومبر کو چارسدہ اور خانیوال سے مولانا شہزاد صاحب مع رفقاء جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور رات کا کھانا خانقاہ حامدیہ میں تناول فرمایا۔
١٥ نومبر کو بھائی عبید صاحب مع اپنے رفقاء ملتان سے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور دوپہر کا کھانا تناول فرمایا ۔
١٥ نومبر کو مردان اور صوابی سے مولانا امین الرحمن صاحب ، مولانا عبدالرحمن صاحب اور مولانا سعید صاحب مع رفقاء جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے ، رات کا کھانا خانقاہ حامدیہ میں تناول فرمایا
٢٠ نومبر کو لیک سٹی سے جناب محسن صاحب مہتمم جامعہ سے ملاقات کے لیے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے ، خانقاہ حامدیہ میں رات کا کھانا تناول فرمایا بعد ازاں واپس تشریف لے گئے۔
٢١ نومبر کو فاضلِ جامعہ مولانا ابوبکر صاحب جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مہتمم صاحب سے ملاقات کی۔ (باقی صفحہ ٦٥)
وفیات
٭٭٭
خانوادہ سیدمحمد میاں کو صدمہ
٭ ٩ جمادی الاولیٰ ١٤٤٧ھ/ یکم نومبر ٢٠٢٥ء بروز ہفتہ مورخ ملت حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب کے چھوٹے صاحبزادے، حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب(بانی جامعہ مدنیہ قدیم وجدید ، سابق امیر جمعیة علماء اسلام) کے برادر خورد ، حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب کے چچا، حضرت مولانا سید ساجد میاں صاحب دہلی میں انتقال فرماگئے اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
مرحوم جامعہ امینیہ دہلی کے فاضل تھے،انڈین وزارتِ خارجہ کی طرف سے سوڈان میں ایک عرصہ تعینات رہے پھر والد صاحب کی طبیعت کی وجہ سے استعفاء دے کر واپس دہلی آگئے اور دہلی میں سعودی سفارت خانہ میں طویل عرصہ ملازمت اختیار فرمائی ، آپ نہایت نیک طینت ، ملنسار اور متقی وپرہیزگار انسان تھے،والدین کے خوب خدمت گزار تھے،پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے اللہ تعالیٰ حضرت کی جملہ خدمات کو قبول فرماکر آخرت کے بلند درجات نصیب فرمائے
٭٭٭
٭ ١٧ جمادی الاولیٰ ١٤٤٧ھ/٩ نومبر ٢٠٢٥ء کو عامل کامل حضرت مولانا اعجاز احمد صاحب سنگھانوی کراچی میں انتقال فرماگئے۔آپ شیخ العرب والعجم حضرت اقدس مولانا سید حسین احمد صاحب مدنی سے بہت عقیدت رکھتے تھے اور بانی جامعہ حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب سے بھی بہت تعلق رہا ۔ اللہ تعالیٰ حضرت کی علمی وملی خدمات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں مقام عطا فرمائے، آمین
٭ ١١ نومبر کو شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب کے حفظ کے استاذ قاری عبدالرشید صاحب بٹ کے صاحبزادے حافظ محمد خالد بٹ صاحب بوجہ ہارٹ اٹیک لاہور میں وفات پاگئے ۔
٭ ١٢ نومبر ٢٠٢٥ء کو بانی ومہتمم مدرسہ بیت العلم ، بانی وسرپرست البدر ہائیر سیکنڈری اسلامک اسکولنگ سسٹم، بانی سرپرست بیت العلم القرآن ٹرسٹ، منتظم اعلیٰ وسرپرست مکتبہ بیت العلم الوقف کے امیر وسرپرست حضرت مولانا مفتی محمد حنیف صاحب کراچی میں انتقال فرماگئے۔
٭ ٢٢ نومبر کو برکة العصر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کے خلیفہ ومجاز حاجی صغیر احمد صاحب کی اہلیہ، جامعہ احسان القرآن و العلوم النبویہ چوبرجی کے مہتمم حضرت مولانا مفتی انیس احمد صاحب مظاہری کی والدہ ماجدہ،فاضل جامعہ مدنیہ لاہورمولانا محمد معاذ بن حبیب احمدشہید کی دادی لاہور میں انتقال فرماگئیں ۔
٭ ٢٢ نومبر کو جمعیة علماء اسلام اقبال ٹائون لاہور کے سرپرست قاری عبدالعزیز صاحب کے والد اور صوبائی ترجمان جناب حافظ غضنفر عزیز صاحب کے دادا حاجی فیض محمد صاحب لاہور میں انتقال فرماگئے
اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
اللہ تعالیٰ جملہ مرحومین کی مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اُن کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق نصیب ہو، آمین۔ جامعہ مدنیہ جدید اور خانقاہِ حامدیہ میں مرحومین کے لیے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت کرائی گئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ، آمین۔
٭٭٭
بقیہ : اخبار الجامعہ
٭٭٭
٢٢ نومبر کو حضرت مولانا ابوبکر صاحب مقیم مدینہ منورہ جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مہتمم جامعہ مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی ، مغرب بعد چائے نوش فرمائی ۔
٢٣ نومبر کو مہتمم جامعہ مولانا عکاشہ میاں صاحب ، حضرت حاجی صغیر احمد صاحب کی اہلیہ، جامعہ احسان القرآن و العلوم النبویہ چوبرجی کے مہتمم حضرت مولانا انیس احمد صاحب مظاہری کی والدہ کی نماز جنازہ میں شرکت کی غرض سے میانی قبرستان چوبرجی تشریف لے گئے۔
٢٥ نومبر کو جھنگ سے فاضل جامعہ مولانا عمیر صاحب اپنے بھائی کے ہمراہ جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے مہتمم جامعہ مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کی ،کافی دیر تک مختلف امور پر گفتگو ہوتی رہی۔
٭٭٭
Email us your queries on jamiamadniajadeed@gmail.com you will be answered in less than 24 hours or Give us a call directly at +92 333 4249302, +92 333 4249 301.