Anwar-e-Madina

ماہنامہ انوار مدینہ

جنوری 2026

jamiamadnijadeed

ماہنامہ انوار مدينہ
جلد : ٣٤ رجب المرجب ١٤٤٧ھ / جنوری ٢٠٢٦ء شمارہ : ١
٭٭٭
بیاد : قطب الاقطاب عالم ربانی محدث کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں
فیضانِ نظر : محمود الملّة و الدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب
مولانا نعیم الدین صاحب ( مدیر اعلیٰ )
مولانا محمد عابد صاحب ( نائب مدیر)
مولانا عکاشہ میاں صاحب(مدیر مسئول)
ڈاکٹر محمد امجد صاحب (مدیر منتظم)
٭٭٭




بدلِ اشتراک
٭٭٭
پاکستان فی پرچہ 50 روپے ....... سالانہ 600 روپے
سعودی عرب،متحدہ عرب امارات..... سالانہ 90 ریال
برطانیہ،افریقہ ........................ سالانہ 20 ڈالر
امریکہ .................................. سالانہ 30 ڈالر




جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ اور ای میل ایڈ ریس
٭٭٭
www.jamiamadniajadeed.org
jmj786_56@hotmail.com




ترسیل ِزر و رابطہ کے لیے
٭٭٭
Whatsapp : +92 333 4249302
'' جامعہ مدنیہ جدید'' محمد آباد19 کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور
موبائل : 923334249301+
موبائل : 923234250027+
جازکیش نمبر : 923044587751+




دارُالافتاء کا ای میل ایڈ ریس اور وٹس ایپ نمبر
٭٭٭
darulifta@jamiamadniajadeed.org
Whatsapp : +92 321 4790560




مولاناسیّد رشید میاں صاحب طابع وناشر نے شرکت پرنٹنگ پریس لاہور سے چھپواکر دفتر ماہنامہ ''انوارِ مدینہ '' نزد جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور سے شائع کیا




اس شمارے میں
٭٭٭
حرفِ آغاز ٤
درسِ حدیث حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ١١
سیرتِ مبارکہ ... مکہ مکرمہ کا محل وقوع اور اہمیت حضرت اقدس مولانا سید محمد میاں صاحب ١٥
مقالاتِ حامدیہ ... نفاذِ شریعت کا سیدھا راستہ حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ٢١
خطبات سید محمود میاں ..... مذہبی شناخت حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ٤٤
فضیلت کی راتیں حضرت مولانا نعیم الدین صاحب ٤٩
درس حدیث ... رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی عسکری ہدایات حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ٥٧
اخبار الجامعہ ٦٢
موت العالم موت العالم ! ٦٤




جامعہ مدنیہ جدید کے فوری توجہ طلب ترجیحی اُمور
٭٭٭
(١) مسجد حامد کی تکمیل
(٢) طلباء کے لیے دارُالاقامہ (ہوسٹل) اور درسگاہیں
(٣) کتب خانہ اور کتابیں
(٤) پانی کی ٹنکی
ثواب جاریہ کے لیے سبقت لینے والوں کے لیے زیادہ اجر ہے




حرفِ آغاز
٭٭٭
نَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْدُ !
پاکستان ایک کثیرالمذاہب معاشرہ ہے جہاں آئین تمام شہریوں کو برابر کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے ! ٢دسمبر ٢٠٢٥ء کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں ''قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل '' سامنے آیا مگر اس پر ہونے والی بحث نے واضح کر دیا کہ معاملہ محض قانون سازی کا نہیں بلکہ آئینی توازن، مذہبی حساسیت اور سیاسی اتفاقِ رائے کا بھی ہے !
قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل کیا ہے ؟
قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل پاکستان میں اقلیتوں (مثلاً مسیحی، ہندو، سکھ، پارسی وغیرہ)کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک آزاد اور بااختیار ادارہ قائم کرنے کی کوشش ہے اس بل کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ
(١) اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک، جبر اور تشدد کی نگرانی کی جائے !
(٢) جبری تبدیلی مذہب اور عبادت گاہوں کے تحفظ جیسے حساس معاملات پر نظر رکھی جائے !
(٣) حکومت کو پالیسی اور قانون سازی کے بارے میں سفارشات دی جائیں !
(٤) اقلیتوں کی شکایات سنی جائیں اور ان کے حل کے لیے بااختیار فورم موجود ہو !
(٥) اس سے پہلے اقلیتوں سے متعلق ادارے زیادہ تر حکومتی کنٹرول میں رہے، اس بل کے تحت کمیشن کو نسبتاً خودمختار بنانے کی بات کی گئی !
ذیل میں اس بل کے تین اہم پہلوئوں پر روشنی ڈالی جا رہی ہے
(١) بل کی متنازع شقیں :
اس بل کی سب سے بڑی بحث اس کی چند شقوں پر ہوئی جنہیں بعض حلقوں نے آئینی اور مذہبی معاملات میں مداخلت کے مترادف قرار دیا، خاص طور پر کمیشن کو دیے گئے اختیارات، جبری تبدیلی ِ مذہب کی تشریح اور مذہبی معاملات پر رپورٹنگ کے دائرہ کار پر اعتراضات سامنے آئے !
ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر کمیشن کو عدالتی یا نیم عدالتی اختیارات دیے گئے تو یہ وفاقی و صوبائی دائرہ اختیار میں تصادم کا باعث بن سکتا ہے ! مزید یہ کہ مذہبی معاملات میں کسی بھی مبہم قانون سازی سے معاشرے میں بداعتمادی پیدا ہونے کا خدشہ ہے اس لیے ضروری ہے کہ شقیں واضح، محدود اور آئین کے عین مطابق ہوں تاکہ قانون کا غلط استعمال نہ ہو ! !
(٢) حکومت اور اپوزیشن کے مختلف موقف :
حکومت کا موقف ہے کہ یہ بل بین الاقوامی انسانی حقوق کے تقاضوں اور آئین ِپاکستان کی روح کے مطابق ہے اور اس کا مقصد اقلیتوں کو ایک مؤثر فورم فراہم کرنا ہے جہاں وہ بلا خوف اپنی شکایات درج کرا سکیں ! حکومتی حلقے اسے پاکستان کی عالمی ساکھ بہتر بنانے کی کوشش بھی قرار دیتے ہیں !
دوسری جانب اپوزیشن خصوصاً مذہبی جماعتیں ، اس بات پر زور دیتی ہیں کہ قانون سازی جلد بازی میں نہیں ہونی چاہیے ! قائد جمعیة حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہم اور دیگر رہنمائوں نے واضح کیا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر کسی بھی بل میں ایسی شقیں شامل نہیں ہونی چاہئیں جو اسلامی تشخص یا آئینی حدود سے متصادم ہوں ! اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ترامیم کی جائیں ! !
(٣) اسلامی نقطہ نظر سے اقلیتوں کے حقوق :
اسلامی تعلیمات اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ پر واضح اور دوٹوک موقف رکھتی ہیں ! میثاقِ مدینہ سے لے کر خلفائے راشدین کے ادوار تک غیر مسلم شہریوں کو جان، مال اور عبادت کی مکمل آزادی دی گئی ! اسلام کسی بھی قسم کے جبر، امتیاز ی ناانصافی کی اجازت نہیں دیتا ! !
اسی تناظر میں قائد جمعیة حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہم نے پارلیمانی بحث میں واضح کیا کہ
''قادیانیوں کی چالاکیوں کا وزیر قانون کو شاید پتہ نہیں ، نیا پنڈورا نہ کھولیں ''
آپ نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ نہ صرف آئینی ذمہ داری ہے بلکہ دینی فریضہ بھی ہے مگر ایسا کوئی ادارہ قائم نہیں ہونا چاہیے جو عدالتوں کے اختیارات میں مداخلت کرے، اسلامی نظریاتی کونسل یا وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ کار سے متصادم ہو ! قانون سازی ایسی ہو جو شریعت اور آئین دونوں سے ہم آہنگ ہو، تاکہ نہ تو اقلیتوں کے حقوق متاثر ہوں اور نہ ہی اکثریتی معاشرے میں اضطراب پیدا ہو ! جبری تبدیلی مذہب جیسے حساس معاملات کا فیصلہ موجودہ قوانین اور مجاز عدالتوں کے تحت ہی ہونا چاہیے، نہ کہ کسی انتظامی کمیشن کے ذریعے ! !
حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہم کی جانب سے جو اہم نکتہ اٹھایا گیا اور جس پر بعد میں وسیع تر اتفاقِ رائے پیدا ہوا وہ یہ تھا کہ
'' قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق کو عدالتی یا نیم عدالتی اختیارات نہ دیے جائیں اور اسے کسی بھی طور پر اسلامی قوانین، شرعی عدالتوں یا آئینی اداروں کے متوازی نہ بنایا جائے'' بالفاظ دیگر یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ
'' اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کمیشن ہو،مگر قانون، عدالت اور آئین سے بالاتر کوئی فورم نہ بنایا جائے''
یہی نکتہ اس پوری بحث میں مشترکہ بنیاد بن کر سامنے آیا !
٭
پاکستان اس وقت جن آئینی، اخلاقی اور تہذیبی بحرانوں سے دوچار ہے، ان میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ قومی فیصلوں میں اسلامی تشخص اور دینی اقدار کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے ! ایسے نازک دور میں تمام مکاتب ِفکر کے اکابر علماء کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا اور متفقہ قومی موقف اختیار کرنا، محض ایک اجلاس نہیں بلکہ ملت کے لیے واضح پیغام اور ریاست کے لیے سنجیدہ تنبیہ ہے ! !
٢٢ دسمبر ٢٠٢٥ء کو منعقد ہونے والا'' مجلس اتحادِ امت پاکستان ''کا قومی مشاورتی اجلاس اس حقیقت کا عملی اظہار تھا کہ دینی قیادت نہ صرف ملک کے آئینی ڈھانچے سے باخبر ہے بلکہ اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے بیدار، متحد اور پرعزم بھی ہے ! یہ اجتماع اس الزام کی بھی بھرپور تردید ہے کہ علماء محض اختلاف یا انتشار کی علامت ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ جب بھی ملت کے بنیادی اصول خطرے میں پڑے، علماء صف ِاوّل میں کھڑے نظر آئے ! اس اجلاس میں حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب، مفتی منیب الرحمن صاحب، مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب، صاحبزادہ مولانا ابو الخیر محمد زبیر صاحب، مولانا حنیف جالندھری صاحب، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر صاحب سمیت تمام مکاتب ِفکر کے علماء اور دینی قائدین نے شرکت کی اور درج ذیل امور پر مکمل اتفاقِ رائے کا اظہار کیا :
اوّل : آئین ِپاکستان کی دفعہ227کے تحت یہ امر بالکل واضح ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا ! اسلامی نظریاتی کونسل اپنی سفارشات پہلے ہی مرتب کر چکی ہے، لیکن افسوس کہ ماضی میں انہیں پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا ! یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ نفاذِ شریعت اور اسلامی قوانین سے متعلق سفارشات فوری طور پر پارلیمنٹ میں پیش کر کے قانون سازی کی جائے ! !
دوم : اسلامی قوانین کے تحفظ اور غیر اسلامی قوانین کے خاتمے کے لیے وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کا شریعت اپیلیٹ بنچ بنیادی ادارے ہیں ، لیکن آئینی تقاضوں کے برخلاف ان میں علما ء کی عدم تعیناتی ایک سنگین مسئلہ ہے جس کے باعث عوام شریعت سے متعلق بروقت انصاف سے محروم ہے ! اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ آئین کے مطابق فوری طور پر علما ء کو ان عدالتوں میں تعینات کیا جائے ! !
سوم : سودی نظام کے مکمل خاتمے کے لیے مقررہ مدت٣١دسمبر٢٠٢٧ء کو ختم ہو رہی ہے اور یکم جنوری ٢٠٢٨ء سے اسلامی مالیاتی نظام کے نفاذ کا آئینی تقاضا ہے، لیکن عملی طور پر سود کو برقرار رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں حتی کہ بعض بین الاقوامی معاہدات کی بنیاد پر استثناء دینے کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں ! اجلاس واضح کرتا ہے کہ کوئی بھی معاہدہ قرآن و سنت اور ملکی آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتا، کیونکہ سود اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم سے جنگ کے مترادف ہے لہٰذا سود کے خاتمہ کے مقررہ شیڈول پر بلا تاخیر عمل کیا جائے ! !
چہارم : ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعض پہلو قرآن و سنت اور عدلِ اسلامی کے صریح منافی ہیں ، خصوصاً اعلیٰ ریاستی و عسکری مناصب پر غیر معمولی توسیع کا اختیار ! اسلام شفاف عدل، جواب دہی اور مساوات کا دین ہے جس کی روشن مثالیں عہدِ نبوی صلی اللہ عليہ وسلم اور خلافت ِراشدہ میں ملتی ہیں ! اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ اس ترمیم کو یا تو منسوخ کیا جائے یا وسیع قومی مشاورت کے ذریعے دستور کی روح کے مطابق ڈھالا جائے ! !
پنجم : اسلام آباد کے لیے نافذ کیے گئے حالیہ قانون، جس میں اٹھارہ سال سے کم عمر نکاح کو جرم قرار دیا گیا ہے، کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیتے ہوئے اجلاس نے واضح کیا کہ اسلام میں نکاح کے لیے کوئی مقررہ عمر نہیں ، بلکہ بلوغ اصل معیار ہے ! ایسے قوانین معاشرتی بگاڑ اور فتنہ و فساد کو فروغ دینے کا سبب بن سکتے ہیں ، اس لیے ان قوانین کو منسوخ کیا جائے ! !
ششم : ٹرانس جینڈر ایکٹ ٢٠١٨ء کو وفاقی شرعی عدالت قرآن و سنت کے خلاف قرار دے چکی ہے، تاہم اس فیصلے کے خلاف اپیل زیرِ التوا ہونے کے باعث قانون تاحال نافذ ہے ! اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ شرعی عدالت کے فیصلے کے مطابق اس قانون کا ازسرِنو جائزہ لے کر ضروری ترامیم کی جائیں ! !
مجلس اتحادِ امت پاکستان کا یہ اجلاس اس امر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ اختلافِ رائے کے باوجود مشترکہ نکات پر جمع ہونا ہی سنت ِنبوی صلی اللہ عليہ وسلم اور اسلاف کا طریقہ رہا ہے۔ اگر ہم قرآن و سنت کو مرکز بنا کر باہمی احترام اور برداشت کے ساتھ آگے بڑھیں تو نہ صرف فرقہ واریت کا سدباب ممکن ہے بلکہ امت ایک بار پھر اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کر سکتی ہے ! اب ذمہ داری حکومت اور ریاستی اداروں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس متفقہ دینی آواز کو سنجیدگی سے سنیں ، کیونکہ قوموں کی بقا ء محض طاقت سے نہیں بلکہ عدل، شریعت اور اجتماعی اتفاق سے ہوتی ہے ! !
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس اجلاس میں ہونے والے فیصلے محض بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کی صورت میں سامنے آئیں ! دینی قیادت کے ساتھ ساتھ عوام، مدارس، مساجد اور دینی اداروں کو بھی اتحادِ امت کے اس پیغام کو عام کرنا ہوگا ! !
عوام کیا کریں ؟
مجلس اتحادِ امت پاکستان کے متفقہ فیصلے اس بات کے متقاضی ہیں کہ ذمہ داری صرف علماء یا قیادت تک محدود نہ رہے بلکہ ہر باشعور مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق اپنا کردار ادا کرے ! عوام کے لیے چند بنیادی اور عملی ذمہ داریاں درج ذیل ہیں :
(١) دینی شعور حاصل کریں :
سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ عوام آئین ِپاکستان کی اسلامی دفعات، سود کے مسئلے، خاندانی نظام اور شریعت سے متعلق قوانین کے بارے میں خود آگاہی حاصل کریں ! لاعلمی ہی وہ خلا ہے جسے غیر اسلامی نظریات پُر کرتے ہیں ! !
(٢) علماء کے اجتماعی موقف کا ساتھ دیں :
انفرادی اختلافات سے بالاتر ہو کر علماء کے اس متفقہ اور آئینی موقف کی اخلاقی تائید کی جائے ! سوشل میڈیا، علمی مجالس اور نجی گفتگو میں اتحادِ امت کے پیغام کو مثبت انداز میں عام کیا جائے ! !
(٣) فرقہ واریت اور نفرت سے اجتناب کریں :
عوام کو چاہیے کہ اشتعال انگیز زبان، الزام تراشی اور فرقہ وارانہ مباحث سے مکمل پرہیز کریں ! اتحادِ امت کا تقاضا یہی ہے کہ اختلاف کے باوجود احترام اور برداشت کو ملحوظ رکھا جائے ! !
(٤) دینی اداروں اور مدارس سے ربط رکھیں :
مساجد، مدارس اور معتبر دینی اداروں سے تعلق مضبوط کیا جائے، ان کی علمی و اصلاحی سرگرمیوں میں شرکت کی جائے اور نئی نسل کو دینی ماحول سے جوڑا جائے ! !
(٥) آئینی اور پُرامن جدوجہد کا حصہ بنیں :
کسی بھی دینی مطالبے کے لیے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے آواز بلند کی جائے ! احتجاج ہو یا اظہارِ رائے، وہ شریعت، اخلاق اور ملکی قوانین کے مطابق ہو ! !
(٦) دعائوں کا اہتمام کریں :
امت کے اجتماعی معاملات میں دعا سب سے مؤثر ہتھیار ہے ! علماء کے اتحاد، ملک کے استحکام، عدل کے نفاذ اور فتنوں سے حفاظت کے لیے خصوصی دعائوں کا اہتمام کیا جائے ! !
آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر عوام بیدار ہوں ، سنجیدہ ہوں اور متحد ہوں تو کوئی طاقت ملت کے دینی تشخص کو مٹا نہیں سکتی ! علماء نے راستہ دکھا دیا ہے، اب عوام کی ذمہ داری ہے کہ اس راستے پر استقامت کے ساتھ چلیں ! !
بطور دینی مجلہ ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ ایسی اجتماعی دینی کاوشوں کو اُجاگر کریں جو امت کو جوڑنے، رہنمائی دینے اور آئینی و شرعی راستے کی طرف متوجہ کرنے کا ذریعہ بنیں ! !
ہم حکومت ِوقت، پارلیمنٹ اور ذمہ دار اداروں سے پُر امید ہیں کہ وہ علماء کے اس متفقہ اور سنجیدہ مؤقف کو محض ایک رائے نہیں بلکہ قومی خیر خواہی پر مبنی رہنمائی سمجھتے ہوئے اس پر غور کریں گے !
مجلس اتحادِ امت پاکستان کا یہ متفقہ اجلاس اس حقیقت کا اعلان ہے کہ ملت کے بنیادی، دینی، آئینی اور تہذیبی مسائل پر علماء کی صفوں میں کوئی انتشار نہیں بلکہ اختلافات کے باوجود ایک واضح مشترکہ لائحہ عمل موجود ہے ! ہم سمجھتے ہیں کہ اس اجتماع کی اصل کامیابی اسی وقت مکمل ہو گی جب اس کے فیصلے محض اعلامیوں تک محدود نہ رہیں بلکہ دینی ادارے، مدارس، خطباتِ جمعہ اور عوامی شعور کے ذریعے قوم کے ہر طبقے تک پہنچیں ! !
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس اتحاد کو دوام عطا فرمائے، اخلاص قبول فرمائے اور پاکستان کو حقیقی معنٰی میں اسلام کے عادلانہ اور فلاحی نظام کی طرف گامزن فرمائے، آمین
محمد عابد
١١ رجب المرجب ١٤٤٧ ھ / یکم جنوری ٢٠٢٦ ئ
٭٭٭




قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ
کا مجلس ِذکر کے بعد درسِ حدیث ''خانقاہِ حامدیہ چشتیہ'' شارع رائیونڈ لاہور کے زیرِانتظام ماہنامہ '' انوارِ مدینہ'' کے ذریعہ ہر ماہ حضرت اقدس کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کے اس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے،آمین۔
(ادارہ) ٭٭٭
درسِ حدیث
٭٭٭
''جہاد'' ایک فریضہ ! جہاد کے ثواب کی مختلف شکلیں
جذبۂ جہاد سے عاری ہونا نفاق کی علامت ہے !
درسِ حدیث نمبر٢٦ (٢٥ر بیع الاوّل ١٤٠٢ھ/٢٢ جنوری ١٩٨٢ئ)
٭٭٭
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا
مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ !
جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے جہاد پر بڑا زور دیا ہے اور مسلمان کے لیے اس میں جو ثواب بتلایا ہے وہ بہت زیادہ ہے توثواب بتلاکر ترغیب بھی دی بلکہ اسے ایمان کی کسوٹی بنادیا !
ارشاد فرمایا جو آدمی ایسا ہو کہ کبھی اس کے دل میں خیال نہ آیا ہو کہ میں جہاد فی سبیل اللہ کروں ، نہ کبھی جہاد کیا نہ دل میں خیال آیا تو جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ آدمی ناقص الایمان ہے یہ مکمل ایمان والا ہے ہی نہیں ! نفاق کی ایک قسم ہے اس کے اندر ! اگر وہ اسی طرح رہا تو اس کی موت جو ہوگی وہ گویا ایک قسم کے نفاق کی حالت میں ہوگی ! !
مَنْ مَّاتَ وَلَمْ یَغْزُو وَلَمْ یُحَدِّثْ بِہ نَفْسَہ مَاتَ عَلٰی شُعْبَةٍ مِّنْ نِّفَاقٍ ١
اور جہاد کیا ہے ؟ جہاد کا مطلب محض لڑنا نہیں ہے ! بلکہ کسی خاص غرض سے جہاد ہوتا ہے ایک شخص نے آکر دریافت کیا کہ ایک آدمی لڑتا ہے اور نیت اس کی یہ ہے کہ مجھے مالِ غنیمت ملے،
١ مشکوٰة المصابیح کتاب الجہاد رقم الحدیث ٣٨١٣
ایک اور آدمی ہے بہت عمدہ میدانِ جنگ کا نقشہ بنانا جانتا ہے لڑنا جانتا ہے اس کی (نیت) یہ ہوتی ہے کہ میرا چرچا ہو مشہور ہوجائے یہ اس کے دل میں خواہش ہے !
وَالرَّجُلُ یُقَاتِلُ لِیُرِیَ مَکَانَہ کوئی ایسے بھی ہوتا ہے کہ وہ پیچھے نہیں ہٹتا اور اپنا درجہ کہ میں کس درجہ میں لڑ سکتا ہوں کتنا بہادر ہوں کتنا قوی ہوں وہ دکھانا چاہتا ہے اپنے آپ کو ! رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ آدمی جو اپنی بہادری دکھارہا ہے اور وہ آدمی جس کا یہ منشا ہے کہ میں چاہے رہوں یا مارا جائوں میرا نام تو ہوجائے گا چرچا تو ہوگا اور وہ آدمی جو مالِ غنیمت کے لیے لڑ رہا ہے کہ لڑیں گے جیتیں گے مال حاصل ہوگا حصہ ملے گا !
اس نے پوچھا فَمَنْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ان میں سے کون خدا کی راہ میں لڑ رہا ہے ؟
آپ نے فرمایا حقیقی مجاہد وہ ہے جو اس لیے لڑتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو، اللہ کے دین کو بلندی نصیب ہو، وہ ہے (مجاہد) فی سبیل اللہ مَنْ قَاتَلَ لِتَکُوْنَ کَلِمَةُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا فَھُوَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ١
صرف نیت پر اجر ہے :
اور یہ نیت رکھنی اور دل میں حسرت ہونی اور تمنا ہونی اور (پھر جہاد میں ) نہ جاسکنا اس میں کوئی اجر ہے ؟ جیسے کہ اگر کسی آدمی کے دل میں خیال ہی نہیں کہ میں جہاد کروں ! تواس کے بارے میں آپ نے فرمایا مَاتَ عَلٰی شُعْبَةٍ مِّنْ نِّفَاقٍ ! تو کیا جو آدمی جا نہ سکتا ہو اور جی اس کا چاہتا ہو، اس کے لیے کوئی اجر ہے ؟
تو حضرت انس اس کے راوی ہیں کہ ایک دفعہ ہم راستے میں آرہے تھے جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا اِنَّ بِالْمَدِیْنَةِ اَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَّسِیْرًا وَّلَا قَطَعْتُمْ وَادِیًا اِلَّا کَانُوْا مَعَکُمْ مدینہ میں ایسے لوگ ہیں جہاں بھی تم چل رہے ہو یا وادی قطع کررہے ہو، راستہ طے کررہے ہو، جہاں بھی پہنچ گئے ہو تم گو کہ ہیں وہ لوگ مدینہ میں مگر تمہارے ساتھ ہیں ! ! اور یہ بھی آیا ہے اِلَّا شَرِکُوْکُمْ فِی الْاَجْرِ وہ اجر میں تمہارے ساتھ شریک ہوں گے ! ! قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَھُمْ بِالْمَدِیْنَةِ عرض کیا اجر میں بھی شریک ہیں
١ مشکوٰة المصابیح کتاب الجہاد رقم الحدیث ٣٨١٤
(حالانکہ) وہ یہاں آئے بھی نہیں ،مدینہ ہی میں ہیں ! ؟ ارشاد فرمایا ہاں مدینے میں ہیں وہ اور اجر مل رہا ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ وہ معذور ہیں حَبَسَھُمُ الْعُذْرُ ١ کوئی وجہ ہوگی، پریشانی ہے، کوئی بیماری ہے، جی چاہتا ہے، نہیں جاسکتا، جی چاہتا ہے سواری کا انتظام نہیں ،خرچے کا انتظام نہیں ، توآپ نے ارشاد فرمایا کہ وہ بھی تمہارے ساتھ ہی ہے اور ان کو بھی ثواب اسی طرح مل رہا ہے جیسے کہ تم حاصل کررہے ہو !
رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے جیسے اس شخص کے بارے میں بتلایا کہ جو کبھی جہاد کا خیال نہیں کرتا وہ بہت غلط راہ پر ہے ! اسی طرح (جو صرف نیت رکھتا ہے) اس کو بھی بتایا کہیہ ثواب میں شریک ہے ! کیونکہ اس کے دل میں یہ ہے کہ ایسے کروں ایسے کروں مگر مجبور ہے کہ وہ نہیں کرسکتا، ایسی مجبوری کی حالت میں اللہ تعالیٰ اس کو اجر دیتے ہیں ! !
تو مطلب یہ ہوا کہ ہر آدمی کو جہاد کے لیے تیار رہنا چاہیے اور جہاد کرنا چاہیے ! اور یہ ایک فرض تھا اور فرض ہے ایسا کہ جب اس کام میں امت لگتی ہے تو وہ کامیاب ہوتی ہے، جہاں ایسا موقع ہو اور جہاں ایسی چیز ہو وہاں ان کو اللہ تعالیٰ کامیابی بخشے گا ! آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم نے یہ تمام چیزیں بتلادی ہیں نیتیں بتادی ہیں کس طرح اور کیسے کام کرنا چاہیے ؟ وہ بتادیا ہے ! !
مجاہد کے اہلِ خانہ کی خبر گیری :
یہ بھی ہے اس میں کہ اگر کوئی آدمی نہیں جاسکا اور دوسرے ساتھی گئے تو ان کے گھروالوں کی دیکھ بھال کرنا اور بِخَیْرٍ ( اچھی نیت سے ہو)یعنی بری نیت سے نہ ہو ! اسی نیت سے ہو کہ اللہ راضی ہوجائے ،باقی کوئی اور نیت نہ ہو ! !
سازو سامان کی فراہمی :
مَنْ جَھَّزَ غَازِیًا خود نہیں جاسکا مگر اس نے سفر کا سامان کردیا، یہ بھی ایک شکل ہے جہاد کی ! تو ارشاد فرماتے ہیں کہ اس کو بھی ثواب ملے گا ! !
١ مشکوٰة المصابیح کتاب الجہاد رقم الحدیث ٣٨١٥
جذبۂ جہاد سے عاری ہونا :
لیکن اگر کسی نے نہ یہ کیا نہ یہ کیا تو اَصَابَہُ اللّٰہُ بِقَارِعَةٍ قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَةِ ١ قیامت سے پہلے اس کو اللہ تعالیٰ کسی شدید مصیبت میں گرفتار فرمائیں گے ! تو یہ جہاد ایسی چیز ہے کہ دین کے پھیلنے کا ایک ذریعہ ہے اور اس میں ہوتا یہی ہے کہ اللہ کا دین پھیلانے کی نیت ہوتی ہے اور اگر دین پھیلانے کا جذبہ اس میں نہیں ہے تو ظاہر بات ہے کہ اس کا ایمان کمزور ہوگا (تو یہ چیز نفاق کی علامت ہوئی) ! ! !
اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے، آمین !
اختتامی دعا..................
.(مطبوعہ ماہنامہ انوارِ مدینہ مئی ١٩٩٥ )
١ مشکوٰة المصابیح کتاب الجہاد رقم الحدیث ٣٨٢٠
٭٭٭




تقریب تکمیل ِبخاری شریف و دستار بندی
٭٭٭
٢١ رجب المرجب ١٤٤٧ھ /١١جنوری ٢٠٢٦ء بروز اتوار جامعہ مدنیہ جدید میں
''تکمیل بخاری شریف و دستار بندی ''کی پر وقار تقریب ان شاء اللّٰہ صبح دس بجے
منعقد ہوگی ! اس مبارک موقع پر شرکت فرماکر برکات سے مستفیض ہوں
اس موقع پر ملک عزیز کے کبار علماء و مشائخ کرام تشریف لا رہے ہیں
قائد جمعیة حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم
بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیں گے ان شاء اللّٰہ
اَلداعی اِلی الخیر
عکاشہ میاں غفرلہ و اراکین و خدام جامعة مدنیة جدید




سیرتِ مبارکہ
٭٭٭
مکہ مکرمہ ..... محل وقوع ، اہمیت
سیّد الملة و مؤرخ الملة حضرت مولانا سیّد محمد میاں صاحب کی تصنیفِ لطیف
سیرتِ مبارکہ '' محمد رسول اللّٰہ '' صلی اللہ عليہ وسلم کے چند اوراق
٭٭٭
قصی اور تعمیر مکہ :
مکہ کے باشندے اس کو بے ادبی سمجھتے تھے کہ خانہ کعبہ کے قریب رات کو آرام کریں یا اللہ کے گھر کے برابر اپنا گھر بنائیں ، ضرورت کے وقت وہ خیمے یا چھولداریاں لگا لیتے تھے، مکان یہاں نہیں بناتے تھے اس لیے شہر کی آبادی کعبہ سے کچھ فاصلہ پر نشیبی حصہ میں تھی ١
کعبہ کے قریب جب آبادی نہیں تھی اور اس علاقہ (حرم) میں خود رو درخت کاکاٹنا ممنوع تھا تو قدرتی بات تھی کہ انسانوں کے بجائے درختوں کے ہجوم نے خانہ کعبہ کے احاطہ کو گھیر رکھا تھا سب طرف کیکر کے درخت تھے یا بیروں کی جھاڑیاں ، خود انسانوں کے رہنے کا علاقہ (شہر مکہ) تنگ ہوگیاتھا اس کو توسیع کی ضرورت تھی !
قصی نے مکہ پر قبضہ کیا تو شہر مکہ کی تعمیر جدید کا منصوبہ بھی تیار کیا ! اس جنگل کو صاف کرایا لوگوں کے وہم کو دور کرنے کے لیے سب سے پہلے خود کلہاڑا چلایا اور اعتراض کا جواب یہ دیا کہ ہمارا مقصد آبادی ہے، بربادی مقصود ہو تو بے شک درخت کاٹنے ممنوع ہیں ٢
١ مُسفلہ یہی حصہ ہے اس کے بالمقابل بلند حصہ کو مُعَلَّاتْ کہتے ہیں ، کعبہ اسی حصہ میں تھا مورخین نے مکہ اور بکہ میں یہ فرق کیا ہے کہ بکہ وہ بلند حصہ جس میں ''کعبہ'' ہے اور مکہ پورا شہر یا مکہ کا وہ مقابل حصہ جس میں شہر آباد تھا (معجم البلدان ، لفظ بکہ) اس حصہ کو بکہ اس لیے کہتے تھے کہ یہاں زائرین کا ہجوم رہتا تھا نیز اس لیے کہ عقیدہ یہ تھا کہ یہ جابر اور ظالم طاقتوں کی گردن توڑ دیتا ہے۔ ( سیرة ابن ہشام ج١ ص ٧٢)
٢ وضاق البلد وکان کثیرا الشجر العضاة والمسلم فھابت قریش قطع ذلک فی الحرم فامرھم قصی بقطعہ و قال انما تقطعونہ لمنازلکم و لخططکم و بھلة اللّٰہ علی من اراد فسادا وطع ھو بیدہ واعوانہ۔ ( ابن سعد ج ١ ص٤٠ )
پھر ایک خاص نقشہ کے ساتھ مکہ کو آباد کرنا شروع کیا خالی اراضی کے پلاٹ بنائے اور قریش کے ہر ایک خاندان کو ایک پلاٹ دے دیا یعنی ہر قبیلہ کی الگ کالونی آبادی کردی ١ ان ہی کالونیوں کے محل وقوع کے لحاظ سے قریش ظواہر اور قریش بطاح کی اصطلاحیں ایجاد ہوئیں ! ٢
اس عقیدے کو بھی ختم کیا کہ خانہ کعبہ کے قریب مکان نہ بنائے جائیں بلکہ قریش کے کچھ خاندان یہاں آباد کیے اور کچھ خاندان شہر کے بیرونی حصہ میں ! البتہ یہ ہدایت کردی کہ کعبہ کے قریب دوسری منزل تعمیر نہ کی جائے ٣ اس جدید نقشہ میں خانہ کعبہ وسط میں رہا ! خانہ کعبہ کے گرد بہت وسیع میدان چھوڑ یا گیا، محلوں (کالونیوں ) کے بیچ میں راستے رکھے گئے، یہ راستے (سڑکیں ) خانہ کعبہ کے میدان پر آکر ختم ہوتے تھے، ان میں وہ سڑک بھی تھی جس کو ''طریق ابی شیبہ'' کہا جاتا تھایہ سڑک بہت وسیع اور سب سے زیادہ چالو تھی ! !
ایک سڑک باب صفا سے شروع ہوکر جنوب کی جانب باب احیاء تک جاتی تھی اسی راستہ پر بزازہ تھا ٤ سقیفہ بنی عائذہ بھی اسی راستہ پر تھا، اسی سڑک کے قریب وہ مکان تھا جو آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے کرایہ پر لیا تھا جب آپ نے بعثت سے پہلے سائب بن ابی سائب کی شرکت میں تجارت شروع کی تھی ٥ آباد ہونے والوں کو اجازت دے دی کہ وہ کعبہ کے میدان میں اپنی نشست رکھیں چنانچہ اسی میدان میں الگ الگ محلہ (قبیلہ) والوں کی الگ الگ مجلسیں ہواکرتی تھیں ! !
دارُالندوة : کعبہ کے سامنے قصی نے اپنا مکان بنوایا اس کا صدر دروازہ کعبہ کی طرف رکھا اس کو
١ قطع قصی مکہ ارباعا بین قومہ فانزل کل قوم من قریش منازلھم التی اصبحوا فیھا الیوم (ابن سعد ١/ ٤٠) ابن سعد و ابن ہشام نے قبیلوں اور کالونیوں کو نام بنام بیان کیا ہے ( ابن سعد ج ١ ص ٤٠ ، ٤١ ، سیرة ابن ہشام ج ١ ص ٧٩)
٢ ادخل قصی بطون قریش کلھا الا بطح فسموا قریش البطاح واقام بنو معیص بن عامر بن لوی و بنوتیم وبنو محارب وبنو الحارث بظھر مکہ فھٰؤلاء الظھواھر( ابن سعد ج ١ ص ٤٠)
٣ کما امر بان لا یرفعوا بیوتھم عن الکعبة فتظل مشرفة علیھا (تاریخ مکہ احمد السباعی ص٤٤)
٤ بظاہر پرانی آبادی کو نئی آبادی سے طریق ابی شیبہ ملاتا تھا ٥ تاریخ مکہ لاحمد الباسعی ص ١٦
قومی کاموں کے لیے عام کردیا اور دارُالندوة اس کا نام رکھا (کمیٹی گھر) ١
محب ِ قوم قصی کا سیاسی اور مذہبی مسلک :
وہی قصی جس کا بچپن یتیمی میں گزرا تھا، اس انقلاب کے بعد اپنی قوم کا سب سے بڑا شخص تھا، وہ گویا پوری قوم کا مالک تھا جس کی عظمت دلوں کی گہرائیوں تک پہنچی ہوئی تھی یہاں تک کہ لوگ اس سے برکت حاصل کیاکرتے تھے ٢ قوم کے پاس پہلے سے کوئی دستور العمل یا قانون نہیں تھا تو اسی کا قول قانون ہوتاتھا اور نہ صرف زندگی میں بلکہ بقول ابن سعد اس کے مرنے کے بعد بھی اس کے قول کی ایسی ہی تعظیم کی جاتی تھی جیسے کسی مذہبی حکم کی ٣ مگر
(١) نہایت عجیب اور دورِ حاضر کے سیاست دانوں کے لیے بہت زیادہ قابلِ قدر اور سبق آموز بات یہ ہے کہ اس تمام عظم اور اقتدار کے باوجود قصی نے نہ تاجِ شاہی سر پر رکھا، نہ اپنے آپ کو بادشاہ کہلوانا پسند کیا ! اس نے اپنے رسمی اعزاز اور اپنی وجاہت وعظمت کے مقابلہ میں قوم کی روایات اور ان کے مذاق کا احترام کیا ،حریت اور آزادی اس قوم کا وہ جوہر تھا جس نے کبھی بھی کسی شاہ یا شاہنشاہ کے سامنے اس قوم کی گردن نہیں جھکنے دی تھی، قصی نے تخت ِسلطنت اور تاجِ شاہی کے مقابلہ میں اس جوہر کو محفوظ رکھنے اور ترقی دینے کی کوشش کی ! اس سے بڑھ کر اپنی قوم کے ساتھ اخلاص کیا ہوسکتا ہے کہ اس نے دربار ِشاہی کے بجائے دارُالندوة تعمیر کیا اور اس کا ایسا نظام بنایا جس کے لیے جمہوری کے علاوہ اور کوئی لفظ مناسب نہیں ہوسکتا جس میں فرد یا شخص کی نہیں بلکہ نظام کی تعظیم تھی اور ملوکیت یا شخصی اقتدار سے یہاں تک اجنبیت تھی کہ نہ دارُالندوة کا کوئی صدر (چیر مین) تھا نہ اس جمہوری نظام
میں صدر کا کوئی عہدہ تھا بہت سے فرائض پورٹ فولیو تھے جو مختلف قبائل پر تقسیم کردیے گئے تھے قبیلہ کا سربراہ اس فریضہ کا ذمہ دار ہوتا تھا تفصیل آگے آئے گی اِنْ شَائَ اللّٰہْ یہ قصی کا سیاسی ذوق اور سیاسی مسلک تھا
١ ابن سعد ج١ ص ٣٩ ، سیرة ابن ہشام ج١ ص ٧٩ ٢ تیمنت بہ وبامرہ وشرفتہ قریش وملئکة (ابن سعد ج١ ص ٤٠) تملک علی قومہ واھل مکة فملکوہ ( ابن ہشام ج ١ ص ٧٨ ) فحاز شرف مکہ کلہ (ابن ہشام ج ١ ص ٧٨ ) ٣ ویتبعون امرہ کالدین المتبع لایعمل بغیرہ فی حیاتہ وبعدہ موتہ ( ابن سعد ج ١ ص ٣٩ )
(٢) سیاسی رہنما عموماً مذہب کو سیاست کی حدتک مانا کرتے ہیں قصی کا مذہب بھی تابع سیاست تھا قریش میں اب تک بت پرستی عام نہیں ہوئی تھی مگر توحید پرستی کا جذبہ بھی ٹھنڈا ہوگیا تھا بنو خزاعہ نے جوبت اور مورتیاں خانہ کعبہ میں رکھ دی تھیں قریش نے بھی ان کو بنو خزاعہ کی نظر سے دیکھا اور قصی جیسا فاتح جس کو دین ابراہیمی کا علمبردار ہونا چاہیے تھا وہ مفتوح قوم ( بنو خزاعہ) کا جانشین بن گیا ! بقول حافظ عماد الدین ابن کثیر
''بیت عتیق'' ''خانہ کعبہ'' اس کی تحویل اور تولیت میں آگیا مگر مورتیوں کی پوجا خانہ کعبہ کے گرد نئی نئی مورتیاں استھابت کرنے، بتوں کے نام پر قربانیاں دینے اور چڑھاوا چڑھانے وغیرہ وغیرہ کی ان تمام قبیح رسموں اور بدعتوں کے ساتھ جو بنو خزاعہ یہاں جاری کر چکے تھے ١ اس وقت تقاضائے سیاست یہی تھا کیونکہ بنو خزاعہ کے کئی سوسال کے اقتدار نے عرب کا مذاق یہی بنادیا تھا ! قصی بنو خزاعہ کو شکست دے سکتا تھا مگر پورے عرب سے مقابلہ کے لیے اس کو پیغمبرانہ عزم کی ضرورت تھی جس سے وہ محروم تھا ! !
(٣) حج جس کی ابتداء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعلیم سے ہوئی تھی بنو خزاعہ نے اگرچہ اس میں سڑک کی آمیزش کردی تھی اور اللہ رب العالمین کے بجائے اس کا رخ غیر اللہ کی طرف پھیردیا تھا مگر اس کی ٹیپ ٹاپ اور شان و شوکت میں فرق نہیں آنے دیا تھا ! بنوخزاعہ نے خانہ کعبہ کی مختلف خدمات اورحج کے انتظامات مختلف قبائل کے سپرد کر رکھے تھے قصی کی یہ فراخ حوصلگی اور دانش مندی تھی کہ اس نے ان انتظامات کو بحال رکھاجو خدمت جس خاندان کے سپرد تھی قصی نے اس میں تبدیلی نہیں کی ! اس کی سیاسی مصلحت یہ ہوسکتی ہے کہ اس طرح ان تمام خاندانوں کی حمایت قصی نے حاصل کرلی اور ابن اسحاق کی رائے یہ ہے کہ انہ کان یراہ دنیا فی نفسہ لا ینبغی تغیرہ ٢
یعنی جن روایات کی بنا پر جو خدمت کسی خاندان کے سپرد تھی قصی خود بھی ان کو ایسی روایات مانتا تھا جن میں تبدیلی جائز نہیں ہوتی !
١ البدایة والنہایة ج ١ ص ٢٠٧ ٢ سیرة ابن ہشام ج١ ص ٧٨
(٤) قصی کی طرح قصی کی قوم بھی سیاست داں تھی اس نے اس رائج مذہب پر اتنی شدت سے عمل کیا کہ حمس (کٹرمذہبی)کہلانے لگے !
شہر مکہ کی قدیم تنظیمات : قصی سے پہلے چند نظام یا رسمی ادارے قائم تھے مثلاً
(١) ایک نظام وہ تھا جس کے ذریعہ قصی اور بنوخزاعہ کی جنگ کا خاتمہ ایک ایسے فیصلہ پر ہوا جو بظاہر یکطرفہ اور بنو خزاعہ کے حق میں نہایت سخت تھا مگر وہ فیصلہ ہوا اور وہ نافذ بھی ہوا اس کا جج یعمر بن عوف تھا
(٢) اشہر حرم یعنی وہ مہینے جن میں جنگ ممنوع ہوجاتی تھی، ہتھیار باندھ کر رکھ دیے جاتے تھے اور بطورِ عقیدہ ظلم و فساد کو حرام سمجھا جاتاتھا ! ان مہینوں کے نام اگرچہ مقرر تھے ١ مگر وقت مقرر نہیں تھا نام کے لحاظ سے یہ قمری مہینے ہوتے تھے مگر معاشی ضرورتیں خصوصاً حج کی ضرورت ان کو مجبور کرتی تھی کہ قمری کو شمسی سال کے سانچہ میں ڈھالتے رہیں کیونکہ زائرین اور منتظمین جج دونوں کی سہولت اس میں ہوتی تھی کہ حج کا مہینہ ایسے موسم میں ہوکہ کھجور پک کر ٹوٹنے لگیں ٢
یہ پوری قوم کی مشترک ضرورت تھی ،کبھی جنگی ضرورت کا تقاضا ہوتا تھا کہ ان مہینوں کو آگے پیچھے کردیا جائے ! ہندوستان میں پانڈوں کو یہ حیثیت حاصل ہے کہ وہ لوند کا مہینہ بڑھاتے ہیں
اور یہ طے کرتے ہیں کہ اس سال مثلاً ساون دو ہوں گے، عرب میں ایک مخصوص خاندان تھا جس کے لیے یہ حق پورے عرب میں تسلیم کیا جاتا تھا ٣ اور اسی کے فیصلہ پر پورے عرب میں عمل ہوتا تھا ان کو نُساة
١ ماہ رجب ! پھر تین ماہ کے بعد ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم الحرام، مگر رجب کے بارے میں اختلاف تھا ہم جس کو ماہِ رجب مانتے ہیں جو جمادی لاخریٰ اور شعبان کے بیچ میں ہوتا ہے یہ مضری قبائل کا مسلمہ رجب تھا آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی اور قبائل ربیعہ رمضان کو رجب قرار دیتے تھے یعنی وہ شعبان اور شوال کے بیچ کے مہینہ کو رجب مانتے تھے ( البدایہ والنہایہ ج٢ ص ٢٠٤ ) ٢ جیسے ہمارے علاقہ شمالی ہند میں گیہوں کٹنے کے موسم میں کاشتکاروں کو سہولت ہوتی ہے توعموماً شادی بیاہ اسی موسم میں کیے جاتے ہیں ٣ اس کے مورثِ اعلیٰ کا نام حُذیفہ بن عبد تھا جو قَلْمَسْ کے نام سے مشہور تھا اور ظہور ِاسلام کے وقت اس سلسلہ کا آخری شخص ابوثمامة جنادہ بن عوف تھا (ابن ہشام ص ٢٨و ص ٢٩) قَلْمَسْ کاجو ڑ کیلنڈر سے بھی لگایا گیا ہے یعنی کیلنڈر والا ! ( نظام حکمرانی ص ٤٩)
کہا جاتا تھا کیونکہ وہ نَسِّی ١ (لوند کے مہینہ) کے ذمہ دار تھے اس زائد مہینہ کو (کبیسہ) بھی کہا جاتاتھا جو عموماً قمری سال کے ختم پر یعنی محرم اور ذی الحجہ کے درمیان بڑھایا جاتاتھا !
(٣) ''حج'' ایک مرکب عبادت ہے جو ٨ ذی الحجہ سے ١٣ ذی الحجہ تک پانچ دن میں چند مقامات پر (حرم کعبہ، منی، مزدلفہ، عرفات، صفا مروہ،) مختلف صورتوں میں عمل میں لائی جاتی ہے ! ایک ایسا مجمع جو ہزاروں سے بھی متجاوز ہو جس میں بوڑھے جوان عورتیں اور بچے سب ہی شامل ہوں ، اس انبوہ کثیر کا ان مقامات پرپہنچنا اور وہاں کی عبادتوں یا رسومات کو پورا کرنا کسی نظم کے بغیر ممکن نہیں تھا چنانچہ ایک خاندان( آلِ صفوان ) کی یہ حیثیت تسلیم کرلی گئی تھی کہ اس کے افراد اس مجمع کی قیادت کریں گے اور تمام قبائل ان کے طے کردہ پروگرام کے پابند ہوں گے اس خاندان کے افراد کو'' صوفہ'' کہا جاتا تھا ٢
قصی نے ان تنظیمات کو باقی رکھا اس کے علاوہ تقریباً ایک درجن جدید نظام قائم کیے گئے جن کی تفصیل آگے آئے گی، مگر قریش نے صوفہ کی قیادت حج کے سلسلہ میں تسلیم نہیں کی انہوں نے صوفہ کے نظام سے بغاوت بھی نہیں کی بلکہ اپنے لیے یہ طے کر لیا کہ وہ ان مقامات پر نہیں جائیں گے جہاں صوفہ کی قیادت نمایاں ہوتی تھی جس کی صورت یہ ہوئی کہ قریش نے دعویٰ کیا کہ وہ جَارُ اللّٰہ ہیں (اللہ کے پڑوسی) خانہ خدا کے خاص محافظ اور خصوصی خدام ! !
ان کو حج کے موقع پر حدود حرم سے باہر نہیں جانا چاہیے اس دعوے کی بنا پر ان کو حج کے قواعد میں کچھ ترمیم کرنی پڑی ٣ مگر اس طرح صوفہ کی قیادت سے ان کی عظمت محفوظ ہوگئی۔ (جاری ہے)
( ماخوذ از سیرتِ مبارکہ '' محمد رسول اللّٰہ '' صلی اللہ عليہ وسلم ص ١١٢ تا ١١٩ ناشر کتابستان دہلی )
١ یہ وہی نَسِّی ہے جس کو قرآن حکیم میں ( زِیَادَة فِی الْکُفْرِ ) فرمایا گیا ہے ھو تاخیر بعض الاشھر الحرم الی شھر اٰخر ( المفردات فی غریب القرآن ) ٢ سیرة ابن ہشام ج١ ص ٧٦ ، ٧٧ و ابن سعد ج١ ص ٣٨ و قاموس لفظ صوف۔ ٣ عرفات، حدودِ حرم سے خارج ہے۔ دین ابراہیمی میں یہاں جانا بھی حج کاایک رکن تھا مگر قریش نے اپنے حق میں اس رکن کو ختم کردیا، وہ صرف مزدلفہ جاتے اور وہیں سے واپس آجاتے تھے (بخاری ص٦٤٨ و ٦٢٦ فتح الباری ص ج٣ ص ٤٠٦)
٭٭٭




نفاذِ شریعت کا سیدھا راستہ
(قانونِ اسلامی کی دیگر قوانین پر فوقیت)
قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں
عنوانات ، حاشیہ و نظر ثانی بتغیرِ یسیر : شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب
٭٭٭
آج کل نظامِ شریعت کے نفاذ کا مطالبہ مختلف عنوانات سے ہورہا ہے اور اس کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی کیونکہ آسان اور واضح طریقہ چھوڑکر ایسا مطالبہ کرنے والوں کو لمبے راستہ پر ڈالا گیا ہے ! ! سیدھا سادہ راستہ تو یہ تھا کہ جس نے اسلامی نظام کے نام پر حکومت سنبھالی ١ پھر ایک عرصہ کے بعد ریفرنڈم اسلام ہی کے نام پر کرایا جسے سلطانِ وقت کے اختیارات حاصل رہے اور آج بھی ہیں وہی بیک جنبش ِقلم آرڈر نافذ کرسکتا تھا کہ عدلیہ شریعت کے مطابق فیصلے دیا کرے لیکن اس شخصیت نے پینترا بدل کر یہ ذمہ داری قومی اسمبلی پر ڈال دی اور اب لوگوں کا رُخ اپنی طرف سے ہٹاکر اسمبلی کی طرف کردیا ( یُخَادِعُوْنَ اللّٰہَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ ) ( سورة البقرة : ٩ )
اسی دور میں دینی مسائل پر بے معنٰی بحثیں چھیڑی گئیں ! ایسے مسائل جن پر ہمیشہ سے اتفاقِ امت چلا آرہا تھا موضوع سُخن آرائی بنے حتی کہ اسی دور میں یہ بحث بھی چلی کہ پاکستان کس لیے معرضِ وجود میں آیا ؟ کیا اقتصادی عوامل اس کا سبب تھے یا مذہبی جذبات ؟ غرض طرح طرح کی بولیاں بولی گئیں اور غلط و صحیح اور حق و باطل کی تمیز ہی ختم کردی گئی ! ! !
اصل وجہ :
اس کی اصل وجہ ایک تو انگریز کی ذہنی غلامی ہے کہ اپنی عقل ان پر تنقید کے حق میں استعمال کرنے سے قاصر ہیں ! !
١ پاکستان کے سابق آمر اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ، چھٹے صدر پاکستان، جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم
(مدتِ منصب ِصدارت : ١٦ ستمبر ١٩٧٨ء تا ١٧ اگست ١٩٨٨ئ)
اور ایک وجہ یہ ہے کہ اسلامی قوانین و نظام کے نفاذ کے بعد حکمرانوں کی مطلق العنانی متاثر ہوگی لہٰذا اسلام کا صرف نام ہی لیا جائے اور اس کی عطا کردہ راحت و رحمت کو پس ِ پردہ چھپائے رکھا جائے ! ! ورنہ اسلامی قوانین خود حکمرانوں پر حاوی ہوں گے جبکہ حکمران یہ گوارا نہیں کرسکتے کہ ان پر بھی کوئی اور حاوی ہو ! !
اسمبلی :
یہی حال ہماری مقننہ اسمبلی کا ہے جو آج تک چلا آرہا ہے وہ چاہتی ہے کہ ہم ہی قانون ساز ادارہ رہیں ہم جو مناسب سمجھیں قانون بنادیں ، اسلامی قانون کا وجود ہمیں حسب ِ دل خواہ قانون بنانے سے روکے گا لہٰذا اسے نہ آنے دو ،یہ ہمارے ملک کے ان حالات کا خلاصہ ہے جو نظامِ اسلام میں مانع ہیں ، یہی حال حکمرانِ اعلیٰ اور ان کی ترتیب دادہ بے اختیار شوریٰ اور پھر بے طاقت اسمبلیاں کچھ اپنی خواہش اور کچھ منبع قوت جو فوج کے انقلابی افراد پر مشتمل ہے، کا ہے۔
سیدھا راستہ :
آپ کہیں گے کہ اچھا پھر سیدھا راستہ جس کے ذریعہ اسلام کا نظامِ عدل نفاذ پذیر ہوسکے کیا ہے ؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہمیں اپنے یہاں حکومت کے مسلک کا اعلان کرنا ہوگا کہ مملکت کا قانون فقہ حنفی پر مبنی ہوگا جیسے کہ سعودی عرب میں حکومت کا اعلان یہ ہے کہ وہ فقہ حنبلی پر چلتی ہے ! اور حکومت ِ ایران کا اعلان یہ ہے کہ اس کا مسلک فقہ جعفری ہے ! !
اشکال و جواب :
یہاں یہ سوال ہوسکتا ہے کہ شیعہ حضرات کا مسلک کیا ہوگا کیونکہ وہ اپنے لیے فقہ جعفریہ کا مطالبہ کر رہے ہیں ! !
تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر کہیں شیعہ بستی ہے تو وہاں ان کے لیے ان کے شیعہ مجتہد کو ان کے مسلک کے مطابق فیصلہ دینے کا مجاز حکومت قرار دے دے گی ! !
پھر سوال ہوگا کہ اہلِ حدیث کا کیا ہوگا ؟ کیونکہ وہ کسی امام کے پیروکار نہیں ہیں وہ غیر مقلد ہیں
تو اس کا بھی وہی جواب ہے کہ جہاں ان کی آبادی ہوگی وہاں ان کے کسی پسند کردہ عالم کو ان کے فیصلوں کا حکومت اختیار دے دے گی یہ ایسے اشکالات نہیں ہیں جو حل نہ ہوسکتے ہوں ! !
فقہ حنفی کی خصوصیت :
مجھے ایک عزیز دوست نے بتلایا کہ جنرل نمیری ١ نے اپنے یہاں جب شرعی قوانین کے نفاذ کا اعلان کیا تو انہوں نے فقہ حنفی پر مبنی قوانین نافذ کیے ! وہاں کے حکام سے انہوں نے دریافت کیا کہ یہاں اکثریت مالکی حضرات پر مشتمل ہے مالکی علماء حنفی مسلک پر کیسے فیصلے دیتے ہیں اور اسے کیوں ترجیح دیتے ہیں ؟ ؟
انہوں نے کہا کہ یہاں کے علماء مسلک ِ حنفی پر فیصلوں کے عادی ہیں اور اسے اس لیے ترجیح دیتے ہیں
کہ اس میں موجودہ ( بیسویں ) صدی (عیسوی) کے اوائل تک تمام نئے پیش آنے والے مسائل کا حل موجود ہے ! ! کیونکہ یہ قوانین ١٣٣٠ھ تک جب تک خلافت ِ عثمانیہ ترکیہ رہی ہے، جاری رہے ہیں ! یہ ان کی گفتگو کا خلاصہ ہے ۔
جدید مسائل اور ان کا حل :
پھر یہ ہوا ہے کہ اس کے بعد سے اب تک تمام نئے پیش آنے والے مسائل پر ہمیشہ ہندوپاک کے علماء فتوے مرتب کرتے رہے ہیں ! !
مشینی ذبیحہ درست ہے یا نہیں ؟ اس پر گفتگو ہوئی ،مفتی محمد شفیع صاحب مرحوم نے بیان دیا کہ درست ! مفتی محمود صاحب مرحوم نے بیان دیا کہ درست نہیں اور دلیل واضح کی ! !
اس پر مفتی محمد شفیع صاحب نے اپنے فتوے سے رجوع کا اعلان فرمادیا ! !
حتی کہ غیر سیاسی علماء نے بھی بعض سیاسی امور پر بحث کی اور فتوے دیے ! !
پارلیمانی نظام جائز ہے یا ناجائز ؟
پارلیمانی نظام میں عورت وزیراعظم ہوسکتی ہے یا نہیں ؟
١ سوڈان کے سابق صدر جعفر نمیری (برسر عہدہ : ٢٥ مئی ١٩٦٩ ۔ ٦ اپریل ١٩٨٥ء )
اس پر حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نے بحث فرمائی جو ان کے فتاویٰ کی جلد پنجم میں ہے ! !
مقصد یہ ہے کہ اگرچہ عوام واقف نہ ہوں اور قانون داں حضرات نے توجہ نہ دی ہو لیکن علمائے کرام جدید دور کے حالات و مسائل پر برابر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان مسائل کو حل کرتے چلے جارہے ہیں ! ! اگر آج یہ قانون جاری کیا جائے تو ہمارے پاس آج تک کے مسائل کا حل موجود ہے !
علماء کا طریقہ :
برصغیر کے علماء کا طریقہ یہ رہا ہے کہ بجائے اس کے کہ ہر ایک مجتہد ہونے کا دعویٰ کرتا اور اختلاف پیدا ہوتا ان حنفی علماء نے یہ طریقہ اپنالیا کہ پیش آمدہ مسئلہ پر گفتگو کرکے ایک رائے قائم کرلی جائے !
ایک ریاست کئی مسالک :
میرے اسی قابلِ قدر دوست نے مجھ سے سوال کیا کہ
کیا ایک ریاست میں دو مسلک چل سکتے ہیں ؟ مثلاً کوئی جج یا قاضی شافعی مسلک کا پیروکار ہے تو وہ ہٹادیا جائے گا یا قاضی رہے گا اور اگر قاضی رہے گا تو اپنے مسلک کے مطابق فیصلہ دے گا یا مدعی کے مسلک کے مطابق ؟
میں نے کہا کہ قدیم دور سے یہ دستور چلا آرہا ہے کہ ایک حکومت میں قاضی شافعی بھی رہے ہیں مالکی بھی رہے ہیں اور یہ طے ہے کہ وہ مدعی یا مدعیٰ علیہ کے مسلک کے پابند نہ ہوں گے بلکہ اپنے مسلک کی رو سے فیصلہ دیں گے ! !
انہیں مثال کے طور پر میں نے یہ مسئلہ بتلایا کہ اگر کسی حنفی مرد نے عورت کو کنایةً ایک طلاق دے دی یعنی بجائے لفظِ طلاق کے اس نے کوئی ایسا لفظ استعمال کیا جس کے دونوں معنٰی ہوسکتے ہوں لیکن اس کی مراد طلاق ہی تھی تو ایسی صورت میں ایک طلاق ہوجائے گی وہ آپس میں اگر راضی ہوں تو نکاح دوبارہ کرلیں ! !
لیکن اگر کسی طرح یہ قضیہ ایسے قاضی (جج) کے سامنے پیش کردیا گیا جو شافعی مسلک کا تھا اور اس نے اپنے مسلک کے مطابق یہ فیصلہ دے دیا کہ دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں اور شوہر سے کہا کہ تم رجوع کرلو شوہر نے رجوع کرلیا ! ! تو حنفی مسلک میں یہ فیصلہ واجب التسلیم ہوگا جدید نکاح کی ضرورت نہیں ! !
اس کے برعکس اگر مدعی، مدعیٰ علیہ دونوں شافعی ہوں تو قاضی حنفی مسلک کو بالاتفاق مدعی و مدعیٰ علیہ کے مسلک پر فوقیت حاصل رہے گی ! ! اس اصول کے تحت ہر دور میں ہر مسلک کے جج بلااختلاف و نزاع کام کرتے آئیں ہیں گویا اصل مدار فقہ پر رہا ہے وہ حنفی، مالکی ،شافعی ہو یا حنبلی ! !
پاکستان میں ضرورتًا ان چاروں ائمہ کرام کے ماننے والوں کے علاوہ بھی فقہ جعفریہ ماننے والوں کو اور کسی بھی فقہ کے نہ ماننے والے طبقہ کو ان کے آپس کے پیش آمدہ مسائل حل کرنے کے لیے ان کا قاضی دیا جاسکتا ہے ! ! یہ معروف پرسنل لاء تو نہ ہوگا ( بلکہ ) یہ '' پرائیویٹ لائ'' ایک طبقہ یا گر وہ کا قانون ہوگا ! !
اسلامی نظام تدریجاً ؟
بعض حضرات جن میں سادہ لوح علماء بھی شامل ہیں یہ کہتے ہیں کہ نظامِ شریعت تدریجاً تھوڑا تھوڑا کرکے لایا جائے حالانکہ یہ بات بالکل ہی غلط ہے ! !
اسلامی نظام ایک مکمل ضابطہ ٔحیات ہے جب وہ آئے گا تو ہر شعبۂ زندگی پر اثرانداز ہوگا ! ! اگر آدھا، تہائی لایا گیا تو وہ ان قوانین کی موجودگی میں نہیں چلے گا ! !
آدھی مشین کسی سائز کی ہو اور آدھی کسی اور سائز کی تو کیا انہیں جوڑکر چلایا جاسکتا ہے ؟ جس طرح یہ ممکن نہیں اسی طرح ''قانونِ شرع'' ''قانونِ انگریز ''بلکہ ''تعزیراتِ ہند ''کا جمع ہونا ممکن نہیں ! !
انگریزی قوانین کی بنیاد :
یہ وہ قوانین ہیں جو انگریزوں نے اپنی غلام قوم کے لیے اس غرض سے بنائے تھے کہ ان میں جھگڑے چلتے ہی رہیں ،بیس بیس سال مقدمہ بازی میں صرف کریں ، نسلاً بعد نسل عداوتیں چلتی رہیں ، انصاف اور دادرسی میں عدل و انصاف ہی کے نام پر زیادہ سے زیادہ تاخیر ہو ! ہر ممکن کوشش ہو کہ قانون ہی کے نام پر شکوک پیدا کیے جاسکیں ! فوراً ہی فیصلہ ہرگز نہ ہونے پائے ! !
جبکہ اسلام کے قوانین میں فوری دادرسی اور انصاف دلانا عدلیہ کی ذمہ داری ہے اسی سے امن ہوتا ہے جرائم ختم ہوجاتے ہیں !
فوری سزا :
اسی ماہ (مارچ میں ) جناب حکیم امیر علی قریشی صاحب سے ملاقات ہوئی انہوں نے سعودی حکومت میں اسلامی قوانین کی رو سے فوری داد رسی کی ایک تازہ مثال دی کہ رات چار بجے ایک قتل ہوا اور صبح دس بجے قاتل کو قصاص میں حکومت نے قتل کردیا گویا اس مجرم کو جرم کے بعد صرف چھ گھنٹے زندہ رہنا تھا !
منحوس قوانین :
انگریزی دور کی یادگار تعزیرات پر ہمارے قانون دانوں نے تنقیدی نظر نہیں ڈالی ورنہ اس میں انہیں خامیاں ہی خامیاں نظر آتیں ! ہمارے یہاں یہ روایت چل پڑی ہے کہ ہر انگریزی چیز کو تنقید سے بالا سمجھا جاتا ہے کچھ عرصہ قبل تک تھانوں میں اسٹیشنری کے لیے ماہوار اَلائونس اور جیلوں میں قیدیوں کے لیے یومیہ الائونس کے طور پر اتنی ہی رقم مخصوص تھی جتنی انگریز نے اپنے دور میں مختص کی تھی ! !
کوئی ملزم تھانہ میں چلا جائے تو اسے مارنا پیٹنا گالیاں دینا برا نہیں سمجھا جاتا ! کیونکہ انگریز کے قانون کی رو سے(برصغیر میں ) اس کی رعایا کاہر فرد غلام اور بے عزت تھا ! وہی روِش آج تک جاری ہے ! !
لیکن اسلام میں وہ اصولاً اس کے برعکس اس وقت تک باعزت ہے جب تک اس پر جرم ثابت نہ ہوجائے ! اور جرم ثابت ہوجانے کے بعد وہ فقط اس جرم کی سزا کا مستحق ہے نہ کہ گالی گلوچ یا کسی بھی بے حرمتی کا !
تو جب اصولاً اسلام کے قوانین اور موجودہ قوانین میں بُعد المشرقین ہوگیا ١ تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ موجودہ انگریزی قوانین کو اسلامی قوانین کے ساتھ جوڑدیا جائے !
١ مشرق و مغرب جیسی دوری
اسلامی نظام میں بہت سے مصارف بیت المال کے ذمے ہوتے ہیں !
معذور افراد کے وظائف حتی کہ بے روزگار بھوکے افراد کا انتظام بھی اس کے ذمے ہوتا ہے !
اسلامی نظام میں غریب رشتہ دار کے مصارف امیر رشتہ دار پر ڈال دیے جاتے ہیں !
موروثی عادت :
نیز مسلمانوں میں ہمیشہ انفاق فی سبیل اللہ کا جذبہ رہا ہے اور ان میں ہندئووں کی بہ نسبت خرچ کرنے کی بہت عادت ہے یہ عادت لاشعوری طور پر موروثی ہے عرصہ سے اس کا صحیح استعمال متروک ہے اس لیے لوگ اپنے ہی اوپر عیش و عشرت میں اضافہ پر خرچ کرنے لگے پھر بھی ملک بھر میں دینی ادارے، بے شمار مساجد اسی اِنفاق پر گئی گزری حالت میں بھی چل رہی ہیں ! ! دور اسلام میں ہر آدمی جو متمول ہوتا تھا ہر وقت دوسروں پر خرچ کرتا رہتا تھا حتی کہ خود اس کے پاس اپنے لیے کچھ نہ بچتا تھا ! یہ حال مسلمان نوابوں کا انیسویں صدی تک رہا ہے ! اسی طرح نوابوں سے نیچے درجہ بدرجہ اپنے سے نیچے والوں پر خرچ کرتے تھے !
اسلام اور کمیونزم :
اسی لیے کمیونزم ان علاقوں میں پھیلا ہے جہاں عیسائی، یہودی یا بت پرست آباد تھے ! اس کی زد میں مسلمانوں کے وہ علاقے بھی آگئے جو جغرافیائی محلِ وقوع کے ذیل میں اس کی زد میں آتے تھے جیسے بخارا وغیرہ ! لیکن وہ اپنے پڑوس کے غریب ترین مسلمان ملک افغانستان کو متاثر نہیں کرسکا جس کی وجہ اسلام کی عطاء کردہ سخاوت، فیاضی، مہمان نوازی اور اوپر سے نیچے تک سب میں کسی نہ کسی درجہ میں جذبۂ ایثار کا پایا جانا تھا !
مزید یہ کہ اقتصادی اور معاشرتی قانون جو اسلام میں موجود ہیں ان پر بھی عمل ہوتا رہا ہے اس لیے اسلامی ممالک میں کمیونزم کا فلسفہ ہی پہنچا ہے کمیونزم نہیں ! اقتصادی اور معاشرتی قوانین اور کسی مذہب میں ہیں ہی نہیں ! ! افسوس یہ ہے کہ مسلمانوں کی اس فطری موروثی صلاحیت سے اگرچہ پاکستان میں بالکل کام نہیں لیا گیا حتی کہ اب معاشرہ کی حالت اور انداز فکر ہی بدل گیا ہے ، اکثریت صرف اپنی ذات کی پجاری بن کر رہ گئی ہے !
انکم ٹیکس اسلام میں نہیں :
انگریز کے بناء کردہ انکم ٹیکس وغیرہ سے جو فائدہ حکومت کو پہنچتا ہے اور پھر حکومت سے عوام تک آتا ہے اس سے کہیں زیادہ فائدہ اس صورت میں ہوسکتا تھا کہ مسلمانوں کی فطری صلاحیت کو اجاگر کرلیا جاتا ! اسلام میں انکم ٹیکس نہیں ہے لیکن دفاع کے لیے ٹیکس لگایا جاسکتا ہے بیت المال کے ذرائع آمدنی اور بہت ہیں جن پر اسلامی حکومتیں چلتی رہی ہیں ! مجھے یقین ہے کہ اگر آج بھی اسلام کا مکمل نظام نافذ العمل ہوجائے تو ہمارا ملک مثالی ترقی کرے گا !
مکمل نظام سے میری مراد یہ ہے کہ انگریزی قانون کے بجائے اسلامی قانون کی کتابوں کے تراجم ان ہی مجسٹریٹوں اور ججوں کو مہیا کردیے جائیں کہ فیصلے اس کے مطابق ہوں !
اسی طرح فوج کے متعلق جو فوج میں رائج قانون ہے اسے بھی اسلامی دور کے قوانین کے مطابق بنادیا جائے، انگریز کے ترتیب دادہ قوانین کے بجائے اسلامی قوانین کے مطابق جو تراجم کے ذریعہ فوج کو مہیا کیے جائیں کورٹ مارشل کیا جایا کرے ! اور اقتصادیات بھی ان ہی قوانین کے تابع ہوں
محرومی کا خاتمہ :
ہمارے ملک میں جو صوبائی عصبیت کی ہوائوں کی لپیٹ میں ہے محض اسلام کا نام لینا اور عمل نہ کرنا، قوانین جاری نہ کرنا اب ایک بے کشش فریب ہوگا جس سے یہ بادِ سموم نہ تھم سکے گی ١ البتہ اسلامی اصولِ اقتصادیات اور قوانین پر عمل اسے روک سکتا ہے اس کی رو سے کوئی صوبہ احساسِ محرومی میں مبتلا نہ رہے گا !
آپ پوچھیں گے کہ کیوں ؟
١ زہریلی ہوائیں
تو مختصر جواب یہ ہے کہ آپ کے سامنے اسلام کا تیرہ سو سالہ دور ہے اس طویل ترین عرصہ میں مختلف آب و ہوا مختلف معاشرت اور مختلف زبانوں والے صوبے تو کیا ملک کے ملک یکجا رہے ہیں اور مسلمان عیسائیوں سے بڑی سپرپاور رہے ہیں ! حتی کہ(مسلمان) اسلام کے فرض کردہ احکام سے غفلت میں مبتلا ہوکر مستحق سزا ہوئے
( اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ وَاِذَا اَرَادَ اللّٰہُ بِقَوْمٍ سُوْئً فَلَا مَرَدَّ لَہ ) ١
انہوں نے فریضہ ٔ جہاد میں (آپ صلی اللہ عليہ وسلم کے ارشاد ) اَلْجِھَادُ مَاضٍ کے باوجود کوتاہی کی اور(اللہ تعالیٰ کے حکم) ( اَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ ) ٢ میں حد درجہ تقصیر کی تو کمزور ہوگئے اور کمزوری فطرت کی نظر میں قابلِ سزا جرم ہے ! !
مجھے ایک ذمہ دار ریٹائرڈ افسر ٣ نے اپنے ایک سائنسدان عزیز کا واقعہ بتلایا کہ انہوں نے سہروردی ٤ کے سامنے گائیڈیڈ میزائل کا فارمولا پیش کیا مگر وہ غفلت کی نذر ہوگیا اگر ہم غیر ملکی طاقتوں پر ناجائز حد تک اعتماد نہ رکھتے تو ہم بھی ایجاداتِ حربیہ میں آج ان کے ہم پلہ ہوسکتے تھے !
زوال کا باعث اسلام پر عمل نہ کرنا ہے نہ کہ اسلام ! میں نے سنا ہے کہ فوج میں آج بھی وہ دستہ جس نے سلطان ٹیپو رحمة اللہ علیہ کو شہید کیا تھا اسی طرح اپنے(انگریز) اسلاف کی اس مذموم حرکت کو اپنے لیے باعث ِ فخر قرار دیتا ہے ! مرحوم کے لباس اور تلوار کو مفتوح و مغلوب سے چھینا ہوا سامان جانتا ہے اور اس کی نمائش اس طرح کرتا ہے جیسے وہ آج بھی یونین جیک کے سایہ تلے کھڑا ہے ! حالانکہ اسے مرحوم کی اس تلوار کو چومنا چاہیے تھا اور اسے اپنا نشانِ خاص بنانا چاہیے تھا ! ؟
١ سورة الرعد : ١١ ''بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے اور جب اللہ کسی قوم کی برائی چاہتا ہے پھر اسے کوئی نہیں روک سکتا '' ٢ سورة الانفال : ٦٠
٣ اسکوارڈن لیڈر صوفی ، ریٹائرڈ ہونے کے بعد انہوں نے جامعہ مدنیہ میں باقاعدہ داخلہ لیا اور پہلے درجہ سے تعلیم شروع کی ہمارے ہم سبق رہے۔ ( مولانا سید محمود میاں ) ٤ حسین شہید سہروردی پانچویں سابق وزیراعظم پاکستان
( ١٢ ستمبر ١٩٥٦ ء تا ١٧ اکتوبر ١٩٥٧ء ) تاریخ وفات : ٥ دسمبر ١٩٦٣ء
اگر یہ بات صحیح ہے تو حکومت کا فرض ہے کہ وہ انہیں اپنی تاریخ سے باخبر کرے اور انگریز کی ذہنی غلامی سے نجات دلائے ! یہ بات ہماری قوم کے لیے باعث ِ ذلت ہے کہ وہ چالیس سال بعد بھی اپنی تاریخ سے جاہل رہیں ! !
اسلام میں باندیوں کا تصور ؟
مستشرقین جن کا کام ہی اسلام سے نفرت دلانا ہے طرح طرح کے اعتراضات کرتے رہتے ہیں مجھ سے اسلام میں باندیوں کے رواج کے بارے میں بہت لوگوں نے پوچھا !
لیکن اس کی حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ دراصل یہ قانون کفار کی جوابی کارروائی کی صورت میں عمل پذیر ہوتا ہے ورنہ نہیں یعنی اگر وہ ہمارے جنگی قیدیوں کو باندی اور غلام بنائیں تو ہم بھی بنائیں گے اور اگر وہ انہیں صرف قیدی بناکر رکھیں تو ہمیں حق نہیں کہ ہم ان کے قیدیوں کو غلام بنائیں ہم بھی انہیں قیدی ہی بناکر رکھیں گے !
قدیم سے دستور :
پہلے زمانہ میں یہ دستور تھا کہ جنگی قیدیوں کا بار بجائے اس کے کہ صرف حکومت برداشت کرے اور وہ بھی قید میں وقت گزاریں انہیں پبلک میں تقسیم کردیا جاتا تھا ، لوگ ان سے مختلف کام لیتے رہتے تھے گھروں میں رہنے کو جگہ دیتے تھے، کھانا لباس سب مالک کے ذمہ ہوتا تھا اس طرح شاہی خزانہ پر ان کا بار نہ پڑتا تھا دنیا کے ہر ملک میں یہی طریقہ تھا ! لیکن اسلام نے جب پھیلنا شروع کیا تو یورپ تک کے علاقے زیرِ نگیں آگئے اور قیدی اور باندی غلام غیر مسلم ہی بنتے رہے اس لیے اب آکر یورپ والوں نے یہ شہرت دینی شروع کی ہے کہ اسلام میں باندی اور غلام بنانے کا قاعدہ ساری دنیا سے ہٹ کر ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا بھر کا دستور تھا یورپ میں بھی قیدیوں کو غلام بنایا جاتا تھا حضرت صہیب رضی اللہ عنہ جو رومی کہلاتے تھے اسی طرح رومیوں نے انہیں غلام بنایا تھا ! !
مستشرقین کے اٹھائے ہوئے اور بھی بہت سے اعتراضات ہیں لیکن اگر بنظرِ غائر دیکھا جائے تو وہ سب اسی قسم کے ہیں کہ حقائق کو مسخ کرکے صرف ایک نکتہ کو اٹھایا گیا اور اسے بری شکل دے کر ہدفِ تنقید بنایا گیا ہے۔
گزشتہ چھ سالہ عرصہ میں کمیونسٹ نظام کے داعی اور سوشلسٹ قسم کے لوگوں سے ملاقاتیں رہیں لیکن میں نے انہیں اسلامی نظام سے ناواقف پایا ! جواباً وہ اسلامی نظام کو پسند کرکے ہی جاتے رہے ہیں ! ہمارے حکمرانوں کی قسمت ہی کی بات ہے ورنہ وہ اسے عملی جامہ پہناسکتے ہیں اور اس میں عقلاً بھی کمیونزم و سوشلزم سے زیادہ خوبیاں ہیں اور ملک کی بدقسمتی کا یہ منظر بھی آپ کے سامنے ہے کہ پبلک اسلام چاہتی ہے اور عنانِ اقتدار پر مسلط طبقہ اس کے نفاذ کے خلاف ہے اور مطلب کے لیے اسلام کا نام لیوا ہے نہ معلوم انجام کیا ہو ! ! ؟ ؟
اسی دوران میرے پاس ایک وکیل آئے انہوں نے کہا کہ اسلام میں ٹریفک کے قوانین کہاں ہیں ؟ اس کا جواب اگر وہ عقل کا مثبت استعمال کرتے تو شاید خود ہی دے سکتے تھے کہ سلامتی اور امن کے لیے جس قانون کی ضرورت ہو وہ مُقنّنہ پاس کرسکتی ہے ایسے قوانین سب اسلام کے مطابق ہوں گے اور ان پر عمل باعث ِ اجر بھی ہوگا ! اسلام کا نام لیتے ہی اس کے خلاف باتیں کرڈالنا جائز نہیں ہے، ایسے اشخاص کا یہ فرض ہے کہ وہ اسے کسی عالم سے مل کر حل کرے اور اپنے ایمان کا تحفظ کرے !
اسی دوران ایک عالی دماغ لیڈر سے ملاقات ہوئی ان کا خیال یہ تھا کہ اسلام میں حکومت نہیں ہے کیونکہ اسلام میں مُقنّنہ نہیں ہوتی ١ ! ! ؟
غرض بہت سی باتیں اپنے ذہن سے ناتمام مطالعہ اور اہلِ علم سے رجوع نہ کرنے کے باعث پیدا ہوجاتی ہیں یہ قابلِ علاج ہیں جو مخلص ہیں وہ اصلاح قبول کرتے ہیں مکمل جواب سے ان کی تشفی ہوجاتی ہے !
میری ان گزارشات کا خلاصہ یہ ہوا کہ :
١ قانون ساز ادارہ
٭ اسلامی نظام ، قانون تبدیل ہوگا تو آئے گا اور یہاں (موجودہ) قانون کی جگہ فقہ حنفی پر مرتب قانون بذریعہ تراجم فوراً لایا جائے !
٭ اس کے اثرات امن و سکون کے علاوہ اقتصادیات و معاشیات و اخلاقیات پر فوراً مرتب ہوں گے
٭ ہر شخص موجودہ انگریزی غلامانہ قانون کی رُو سے اپنے آپ کو باعزت ثابت کرے تو وہ باعزت تسلیم کیا جائے گا جبکہ اسلام کی نظر میں اس کے قانون کی رُو سے باعزت ہے ! !
٭ یہ قانون صوبوں سے بڑھ کر علاقوں تک کو ان کے حقوق دلاتا ہے اس کا فوری نفاذ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ! !
٭ یہ قانون مکمل ترین حالت میں موجود ہے یہ موجودہ انگریزی قانون سے بہت زیادہ مکمل ہے !
٭ یہ قانون انگریزوں کے جاری کردہ قوانین کی موجودگی میں آنا ممکن نہیں ہے نہ ہی اسے اس سے جوڑا جاسکتا ہے ،نہ وہ تھوڑا تھوڑا آسکتا ہے وہ جب آئے گا تو مکمل آئے گا آدھا تہائی نہیں ! !
٭ اس قانون کی رُو سے حکمرانوں کے ذمہ رعایا کو ہر طرح کی سہولت پہنچانا فرض ہوتا ہے ! جبکہ انگریز کے متروکہ نظریہ حکومت کی رُو سے جو اس نے برصغیر میں اختیار کیے رکھا حکومت عوام کو کھسوٹتی ہے اور اس کے پیش ِ نظر صرف اپنا خزانہ بھرے رکھنا ہوتا ہے وہ اسی قسم کے قانون بناتی رہتی ہے !
٭ اسمبلی مُقنّنہ رہتی ہے لیکن وہ ایسے قوانین وضع کرے گی جس سے اسلامی اصولوں کو تقویت ہو
٭ اس قانون کے نفاذ سے مذہبی تنازعات ختم ہوجائیں گے فرقہ واریت بڑھنے کے خدشات
توہمات ِباطلہ ہیں ! !
وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ وَھُوَ وَلِیُّ التَّوْفِیْقِ
حامد میاں غفرلہ
یکم شعبان ١٤٠٧ھ / یکم اپریل ١٩٨٧ء
٭٭٭




تکملة '' کلماتِ چند ''
٭٭٭
مسلَّمہ فقہائِ اسلام کی تشریحات :
٭ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلَّمہ فقہائے اسلام تو بہت ہیں جیسے ترمذی شریف میں جابجا سفیان ثوری ، سفیان بن عُیینة ، شعبة ، ابنِ مبارک ، اسحاق وغیرہ کا ذکر ہے ! ترمذی کے علاوہ اور کتابوں میں شام کے مکحول اور اوزاعی ، مصر کے لیث اور ان جیسے بیسیوں اکابرِ امت کے اقوال و تحقیقات کا ذکر ہے ان کے علاوہ تابعین اور تبع تابعین میں ایسے حضرات کی تعداد تو بہت ہی زیادہ ہے !
حاکم نیسابوری نے اپنی مایۂ ناز کتاب ''معرفت علوم الحدیث'' میں یکجا ذکر کرنے کی کوشش کی ہے حاکم ١ نے یہ کہہ کر کہ ان کی حدیثیں لکھی جاتی ہیں ان کا ذکر باعث برکت ہے اور یہ شرقاً غرباً معروف ہیں اپنی اس کتاب میں ص ٢٤٠ پر درج ذیل فہرست دی ہے
اسمائِ علمائِ مدینہ میں چودہ سطریں اہلِ مکہ چھ سطریں
اہلِ مصر پانچ سطریں اہلِ شام بیس سطریں
اہلِ یمن نو سطریں اہلِ یمامہ دو سطریں
اہلِ کوفہ بھتّر سطریں اہلِ جزیرہ دس سطریں
اہلِ بصرہ بائیس سطریں اہلِ واسط چار سطریں
اہلِ خراسان اُنیس سطریں
ہر سطر میں اگر تین نام اوسطا ًرکھے جائیں تو یہ ساڑھے پانچ سو کے قریب علماء بنتے ہیں !
علمائِ کوفہ :
یہاں ذیل میں میں ایک بات کی طرف توجہ دلاتا چلوں کہ صرف کوفہ کے علماء کی بہتّر سطریں اور
١ پیدائش ٣٢١ھ ، وفات ٤٠٥ھ
پوری دنیا کے علماء کی ایک سو گیارہ سطریں بنتی ہیں ! اس طرح صرف کوفہ کے علماء کی تعداد تین سو تینتیس
یہی چیز علمِ حدیث، فقہ، اُصولِ حدیث و فقہ اور علمِ قراء ت کے اعتبار سے پوری دنیا میں مذہب اہلِ کوفہ کے غلبہ کا سبب رہی ہے !
امام بخاری کی کوفہ آمد :
امام بخاری نے فرمایا ہے لَا اُحْصِیْ مَا دَخَلْتُ الْکُوْفَةَ یعنی کوفہ جتنی دفعہ گیا ہوں اس کا شمار نہیں !
(قرآن پاک کی )قراء ت روایت ِحفص آج تک پوری دنیا میں رائج ہے یہ کوفہ ہی کی ہے اور امامِ اعظم ابوحنیفہ النعمان کی بھی ہے !
قراء ت ِ سبعہ :
قراء ت ِ سبعہ متواترہ میں سے تین قاری صرف کوفہ کے ہیں ! !
اور قراء تِ عشرہ متواترہ کے قاریوں میں چار صرف کوفہ کے ہیں ! !
علماء کوفہ کی اسی کثرت سے ان کا علمِ حدیث، علمِ تفسیر اور علمِ فقہ میں تفوق و بلند رتبہ ہونا ظاہر ہورہا ہے !
صرف و نحو :
نیز علاوہ حدیث و فقہ کے لغت اور صرف و نحو میں علمائِ کوفہ اور علمائِ بصرہ کے مذاکرات اور آراء الگ مسلَّم چلی آرہی ہیں اسی لیے قاموس وغیرہ کتب ِ لغت میں بھی کوفہ کو '' قُبَّةُ الْاِسْلَامِ '' لکھتے ہیں !
کوفہ کا اس لقب سے کتب ِ لغت تک میں ذکر کیا جانا بڑی اہم بات ہے اور صاحب ِ قاموس تو مسلکاً بھی شافعی ہیں ! بس اس ذیلی بات کو یہیں ختم کرتا ہوں ۔
ایک سوال :
٭ اور اب میں آپ کے سامنے یہ بات رکھنی چاہتا ہوں کہ شریعت بل کی مذکورہ شق نمبر ٤ کی رُو سے جب کوئی قانون ساز کونسل ایک سرے سے تمام قوانین کا جائزہ لینا شروع کرے گی یا ترتیب و تدوین یا قانون سازی کرے گی تو وہ ان مذکورة الصدر علماء میں سے کس کی تحقیق پر چلے گی ؟ اس کونسل میں شریک ہر فرد کو اختیار ہوگا کہ وہ ان میں سے کسی بھی ایک کی مرجوح و متروک تحقیق لے لے تو متفقہ قانون کیسے بنے گا ؟ ہر ایک اپنی پسند کی رائے یا دلیل کو ترجیح دے گا اور ایک مسئلہ بھی حل نہ ہوسکے گا ! خصوصاً اس دور میں جبکہ تقوے سے لوگ خالی ہیں اور عُجب (خود پسندی) عام ہے ! !
غرض اس طرز پر کام کرنا بے سود بلکہ مضر ہوگا کیونکہ مدتوں پہلے ابتدائے دورِتابعین و تبع تابعین میں یہ(کام مکمل ) ہوچکا ہے اور ہر مسئلہ پر بحث و تمحیص اور علمی مذاکرے ہوچکے ہیں !
مثال سے وضاحت :
اس کو میں حاکم کی اسی کتاب میں درج ایک مثال پیش کرکے واضح کرنا چاہتا ہوں
عبدالوارث بن سعید مکہ مکرمہ پہنچے تو انہیں خرید و فروخت کے معاملات میں ایک مسئلہ پیش آگیا وہاں ابوحنیفہ ، ابنِ ابی لیلیٰ اور ابنِ شُبرمة آئے ہوئے تھے !
انہوں نے پہلے تو ابوحنیفہ سے رجوع کیا کہ ایک شخص نے کوئی چیز فروخت کی اورساتھ ہی شرط بھی لگادی (مثلاً کسی نے قلم بیچا لیکن بیع کے منافی یہ شرط لگادی کہ جب مجھے ضرورت ہوگی تو میں استعمال کروں گا) امام ابوحنیفہ نے جواب دیا کہ بیع بھی باطل ہے اور شرط بھی باطل ہے ! !
عبد الوارث کہتے ہیں کہ پھر میں ابن ِ ابی لیلیٰ کے پاس گیا اور ان سے یہی مسئلہ پوچھا
انہوں نے جواب دیا کہ بیع (سودا) جائز ہے اور شرط باطل ہے ! !
پھر میں ابنِ شُبرمہ کے پاس گیا ان سے یہی مسئلہ دریافت کیا
انہوں نے جواب دیا کہ بیع بھی جائز ہے اور شرط بھی جائز ہے ! !
میں نے کہا سبحان اللہ ! آپ عراق کے تین فقیہ ہیں اور ایک ہی مسئلہ میں آپس میں اتنا اختلاف ! ؟
تو میں ابوحنیفہ کے پاس گیا انہیں یہ بات سنائی انہوں نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ ان دونوں نے کیا جواب دیا لیکن
حَدَّثَنِیْ عَمْرُوبْنُ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَھٰی عَنْ بَیْعٍ وَ شَرْطٍ ۔
''مجھے عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے یہ روایت بیان کی ہے کہ جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے بیع اور شرط سے منع فرمایا ہے''
لہٰذا بیع بھی باطل اور شرط بھی باطل !
پھر میں ابن ِ ابی لیلیٰ کے پاس گیا انہیں میں نے یہ بتلایا تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے نہیں پتہ کہ دونوں نے کیا کہا لیکن
حَدَّثَنِیْ ھِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم اَنْ اَشْتَرِیَ بَرِیْرَةَ فَاَعْتِقَھَا۔
''مجھے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ سے یہ روایت سنائی کہ مجھے جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے حکم فرمایا کہ میں بریرہ کو خرید کرآزاد کردوں (باوجودیکہ ان کے مالک نے بیع کے منافی ایک شرط لگائی تھی)''
لہٰذا بیع تو جائز ہے اور شرط باطل ہے ! !
پھر ابنِ شُبرمہ کے پاس گیا انہیں ساری بات سنائی انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ان دونوں نے کیا کہا ہے لیکن
حَدَّثَنِیْ مِسْعَرُ بْنُ کِدَامٍ عَنْ مَّحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بِعْتُ مِنَ النَّبِیِّ صلی اللہ عليہ وسلم نَاقَةً وَشَرَطَ لِیْ حِمْلَانَھَا اِلَی الْمَدِیْنَةِ ۔ ( معرفة علوم الحدیث ص ١٢٨ )
''مجھے مِسعر بن کدام نے محارب بن دثار سے انہوں نے حضرت جابر سے یہ روایت بیان کی ہے کہ میں نے (سفر میں ) جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے ہاتھ اونٹنی فروخت کی تھی اور آپ نے اس پر مدینہ منورہ تک سفر کی شرط منظور فرمائی تھی''
لہٰذا بیع بھی جائز اور شرط بھی جائز ہے ! !
ایک اور مثال :
اسی طرح ایک اور مثال بھی ملاحظہ فرمالیں جو بخاری شریف سے نقل کررہا ہوں
یہی ابنِ شُبرمہ (قاضی کوفہ) فرماتے ہیں کہ مجھ سے ابوالزِّناد (قاضی مدینہ منورہ و استاذ امام مالک) نے اس مسئلہ میں گفتگو کی کہ
مدعی کے پاس ایک ہی گواہ ہو تو اس سے دوسرے گواہ کے نہ ملنے کی صورت میں بجائے گواہ کے قسم کھلوائی جائے (اور یہی ان کا اور اہلِ مدینہ کا مسلک تھا)
میں نے انہیں جواب دیا کہ قرآن پاک میں مدعی کے پاس دو گواہ نہ ہونے کی صورت میں یہ حکم ہے کہ پھر دو عورتیں ہوں ! اور(قرآن پاک میں بجائے اختصار کے) طویل عبارت اختیار فرمائی گئی :
فَرَجُل وَّامْرَأَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّھَدَآئِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰھُمَا فَتُذَکِّرَ اِحْدٰھُمَا الْاُخْرٰی ۔ ( سُورة البقرة : ٢٨٢ )
'' اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ کر لیا کرو پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ، ان لوگوں میں سے جنہیں تم گواہوں میں سے پسند کرتے ہو ، تاکہ اگر ایک ان میں سے بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلا دے ''
(اب اگر ایک گواہ اور مدعی کی قسم کافی ہوسکتے تو قرآن پاک میں مختصر کلمات میں (صرف اتنا) ارشاد ہوتا فَرَجُل وَیَمِیْن )۔ ( صحیح البخاری ج ١ ص ٣٦٦ )
دین کو کھیل مت بنائو :
غرض اس طرح علماء ِبلاد تک میں بھی سب مسائل پر گفتگو ہوچکی ہے اب اگر کوئی کمیٹی یا بورڈ یہی کام شروع کرے گا تو تیرہ سو سال پیچھے لوٹنے کے مترادف ہوگا اور کم علمی اور تقویٰ کے فقدان کی وجہ سے دین کا کھیل بنانا ہوگا ! خیرالقرون میں مذکورہ بالا طریق پر نہایت بے نفسی کے ساتھ قرآن پاک اور احادیث کی روشنی میں علماء میں بہت بحث و تمحیص ہوتی رہی ہے بہت سے مسائل ایسے تھے کہ جن میں ایک شہر کے علماء کا ایک مؤقف تھا اور دوسرے شہر کے علماء کا دوسرا مؤقف تھا مثلاً وہ مسائل کہ جن میں علمائِ مدینہ اور علمائِ کوفہ کا اختلاف تھا (کیونکہ رفتہ رفتہ ایک ایک شہر کے علماء آپس میں گفتگو کرکے ایک ایک مؤقف پر متفق ہوتے چلے گئے تھے ) !
امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے بخاری شریف میں اس قسم کا ایک مستقل باب رکھا ہے جس کا عنوان ہے مَا اَجْمَعَ عَلَیْہِ الْحَرَمَانِ
چنانچہ ایسے مسائل پر اہم بحثیں کتابوں کی شکل میں آئیں ، ائمہ حدیث و فقہ نے یہ کتابیں لکھیں
امام محمد نے کِتَابُ الْحُجَّةِ عَلٰی اَھْلِ الْمَدِیْنَةِ لکھی
پھر امامِ شافعی نے کِتَابُ الاُمْ لکھی
پھر بعد کے دور میں امام بیہقی نے امام شافعی کی تائید میں سُننِ کُبرٰی لکھی
تو اس پر امام ابن الترکمانینے اَلْجَوْہَرُ النَّقِیُّ لکھی ، اَلْجَوْہَرُ النَّقِیُّ بیہقی پر ایسی چسپاں ہوئی کہ آج تک اس کے ساتھ مستقلاً لگی ہوئی چلی آرہی ہے، اب اس سمیت طبع ہوتی ہے ! !
امام ابویوسف نے اِخْتِلَافُ اَبِیْ حَنِیْفَةَ وَابْنِ اَبِیْ لَیْلٰی اپنے دونوں استادوں کے اختلاف پر لکھی ! (امام ابویوسف و امام محمد تبع تابعین میں ہیں )، امام ابویوسف کی یہ تصنیف اس قسم کے انداز کی پہلی معروف تصنیف ہے !
پھر امام طحاوی نے صحابہ کرام تابعین اور مجتہدین کے اختلاف پر مفصل کتاب لکھی !
ابن ِ ندیم نے لکھا ہے کہ میں نے ان کی اس تصنیف کے ٨٠ اجزاء دیکھے ہیں !
ان کے بعد اس موضوع پر ابنِ منذر اور ابنِ نصر نے کتابیں لکھیں !
پھر امام ابنِ جریر طبری نے ایک ضخیم کتاب لکھی ! یہ کام دوسری اور تیسری صدی میں ہوا !
پھر اس کے بعد ابنِ عبد البر مالکی نے اس موضوع پر لکھا !
انجامِ خیر :
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری دنیا صرف چار مسلکوں پر قائم رہ گئی بلکہ صرف تین پر آگئی ! !
پھر چوتھی صدی میں حنبلی مسلک بھی نمایاں ہونا شروع ہوا ! !
یہ اختلاف اہلِ تقویٰ کا تھا اس لیے چیدہ چیدہ سینکڑوں علماء کی ایک ایک بات پر گفتگو نتیجہ خیز رہی اور دنیائے اسلام سینکڑوں مسالک سے ہٹ کر صرف چار پر آتی گئی ! !
اس وقت سے لے کر ایک ہزار سے زیادہ سال تک اسلامی حکومتیں ان ہی قوانین پر چلتی رہیں !
اور چونکہ اس طویل ترین دور میں علم اور قانونی فیصلے اور فتوے سب شرعی ہوتے رہے اور علم ہی علمِ دین کو کہا جاتا تھا اس لیے بلامبالغہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ فقط حنفی مسلک ہی کی ایک ایک بات کی تائید آج تک ایک کروڑ علماء ورنہ لاکھوں علماء کرتے آئے ہیں کروڑوں علماء و اولیاء اور اربوں مسلمان اس پر عمل پیرا رہے ہیں اور حکومتیں چلتی رہی ہیں ! ! لہٰذا آج فقہ حنفی اور اس پر مبنی قانون وہ ہے جسے امت ِ مسلَّمہ کی اتنی بڑی تعداد کی تائید حاصل ہے !
مسخرہ پن :
آپ حضرات کی یعنی ''شریعت بل'' کی مذکورہ شق لانے والوں کی خواہش یہ ہے کہ وہ ذخیرہ تو ایک طرف لپیٹ کر رکھ دیا جائے اور یہ بورڈ جو آج کی نفس پرست حکومت اپنے دل پسند علماء پر مشتمل کرکے بنا دے، دین کے تمام معاملات میں سیاہ و سفید کی مالک بن بیٹھے اور از سرنو ابوحنیفہ، ابنِ ابی لیلیٰ، ابنِ شبرمہ ، ابنِ ابی الزناد رحمہم اللّٰہ کے دور کی طرح ہر مسئلہ کو اُدھیڑکر بساطِ سخن دراز کی جائے اورسرکاریعلماء کے بورڈ کو مختارِ کل اور شرعی مقدس امور کا منبع قرار دیا جائے ! یہ کہاں کی دیانت وعقل مندی ہوگی اور کوئی مسلمان جس کا آخرت پر ایمان ہوگا اسے کیسے تسلیم کرے گا ؟ دین میں یہ ڈرامہ اور مسخرہ پن نہ چل سکے گا !
رجم زنا کی حد ہے یا نہیں ؟ عورت کی شہادت ، عورت کی دیت پر ہر خود پسند نے ہمہ دانی کا دعویٰ کرکے قلم کی جولانی دکھائی، شرعی مسائل پر اسی طرح کا تماشا پھر لگے گا تو عجب رقصِ شتر کا منظر سامنے آئے گا ١ ! ! اتنا شور مچے گا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے گی ! ! !
خام خیالی :
ممکن ہے شریعت بل والوں کے ذہن میں یہ ہوکہ ہم چاروں اماموں میں سے جس کے بھی
١ اونٹ کا ناچ
مسلک میں آسانی نظر آئے گی اختیار کرلیں گے ! چاروں کی فقہوں کو سامنے رکھ کر ان میں سے آسان آسان چیزیں لے کر '' جدید فقہ'' تیار کرلیں گے ! لیکن ایسا کرنا سب ائمہ کے متبعین کے نزدیک جائز نہیں ہے ! علماء نے اس کا نام '' تَلْفِیْقْ '' رکھا ہے یہ ممنوع ہے ،اگر آپ لوگوں کی خواہش یہ ہے تو اسے اتباعِ حق نہیں کہا جائے گا اسے اتباعِ ہَوَاء کہا جائے گا ، اَہْلِ اَہْوَاء بدعتی شمار کیے گئے ہیں ! !
آپ اس باطل اور غلط بنیاد پر جو عمارت بنائیں گے وہ غلط ہوگی اسے وہی علماء صحیح کہہ سکیں گے جو دین کو دنیا کے عوض بیچنے پر راضی ہوں ! ! !
دینِ اکبر ی ، سبز باغ :
اگر مسلمانوں کو یہ سبز باغ دکھایا جائے کہ اس طرح کی شریعت آج کے تقاضوں پر پوری اترسکے گی تو یہ بھی خام خیالی سے زیادہ کچھ نہیں ! کیونکہ مسالک تو چاروں ہی پرانے ہیں اگر نئے دور تک کوئی مسلک حاوی ہوسکتا ہے تو وہ فقہ حنفی ہی ہے ! ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سب دین سے بھاگنے کی صورتیں ہیں نہ کہ دین پر عمل کی ، اس طرح کی تدابیر سے جو دین معرضِ وجود میں آئے گا وہ '' چھوٹا دینِ اکبری'' ہو گا سود اور جوا جائز قرار دیا جائے گا وغیرہ وغیرہ !
بائیس نکات :
آج کل حامیانِ شریعت بل یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ علماء کے بائیس نکات دین کے نفاذ کے لیے کافی ہیں (اوربعض لوگ تو حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ کا انگریز کافر کے دور کا ١٩٣٥ء کا فتویٰ بھی اس اپنے ناقص شریعت بل کے لیے مسلمان ملک میں دلیل کے طور پر اُٹھاکر لے آئے ہیں لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰہْ
ماہنامہ میثاق :
اور ابھی میں یہ مضمون لکھ ہی رہا تھا کہ مئی کا میثاق موصول ہوا ١ اس میں بھی عجیب باتیں لکھی ہیں !
١ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب مرحوم کا ماہنامہ رسالہ ''میثاق ''
اس میں مقبول الرحیم صاحب مفتی تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت شیخ الہند سے لے کر اب تک ہماری جمعیة نے نفاذِ فقہ حنفی کو اپنا مؤقف نہیں بنایا ، علامہ عثمانی نے بائیس نکات کو مؤقف ٹھہرایا تھا انہوں نے فقہ حنفی کو مؤقف نہیں بنایا تو آپ لوگ کیوں اسے اپنا مؤقف بنارہے ہیں ! ؟
بے وزن بات :
لیکن یہ دلیل بے وزن ہے ، اس کے جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ علامہ عثمانی نے بائیس نکات کو کیوں مؤقف بنایا تھا جبکہ ان کے اسلاف نے بائیس نکات کی کبھی بات نہیں کی تھی ! ؟
اصل بات تو یہ ہے کہ علامہ عثمانی نے یہ تمہید کی تھی یہ نکات شریعت کے نفاذ کے لیے ہی تجویز کیے تھے اور نفاذ قانونِ شریعت اس کے سوا کسی صورت نہیں ہوسکتا کہ عدلیہ کو مرتب شدہ شرعی احکام کے تراجم مہیا کردیے جائیں اور مرتب شدہ احکام فقہ کے سوا اور ہیں ہی کہاں ، اس لیے آج کی صورت حال میں فقہ حنفی کے نفاذ کا انکار شریعت کے نفاذ کے انکار کے مترادف ہے ! ! !
نیز یہ بھی غور کریں کہ علامہ عثمانی جن کی ساری زندگی قرآن و حدیث کی خدمت میں گزری پاکستان بننے کے بعد اپنے دینی جذبات بروئے کار نہیں لاسکے ! اس عظیم صدمہ پر ان کے آنسو بہتے دیکھنے والے تو آج تک زندہ ہیں ! اگرچہ مولانا عِرض محمد ١ اور مولانا عبد الواحد صاحب ٢ خطیب گوجرانوالہ کی وفات ہوگئی جو ان کے براہ راست شاگرد تھے مگر مولانا عبد الواحد صاحب کی طرح ان حضرات کے ساتھ والے علماء بفضلہ تعالیٰ موجود ہیں ، غرض علماء کی خواہش و امنگ اور اجڑکر آنے والے تباہ حال مسلمان عوام کی دلی تمنا تو یہ تھی کہ پاکستان میں اسلامی قوانین ہوں گے !
سیکولر افراد پر مشتمل حکومتی ڈھانچہ :
لیکن خواص کے افکار اور ہی تھے مذہب سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا چنانچہ آزادی کے بعد جو حکومتی ڈھانچہ معرض وجود میں آیا وہ سیکولر یا لامذہب حکومت کا تھا ! ٣
١ خلیفہ مجاز حضرت مولانا احمد علی صاحب لاہوری مولانا عرض محمدصاحب تاریخ وفات : ٣٠ اکتوبر ١٩٧١ء
٢ مہتمم مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ تاریخ وفات : ١١ دسمبر ١٩٨٢ء ٣ جس میں مذہبی امور کا کوئی وزیر نہ تھا
٭ چیف جسٹس کار نیلیس (عیسائی) ٭ وزیر قانون جو گندرناتھ منڈل (ہندو)
٭ وزیرخارجہ ظفر اللہ خاں (قادیانی) ٭ افواج کے سب سربراہ انگریز (عیسائی یا لامذہب)
٭ جنرل میسروی، جنرل گریسی، فضائیہ کے(انگریز) ٭ آرایچ ر ے ،بحریہ کے (انگریز)
٭ رئیر ایڈمرل جیفورڈ ( انگریز) ٭ پنجاب کا گورنر انگریز سرفرانسس موڈی
٭ صوبہ سرحد میں کنگھم اور ڈنڈاس (انگریز اور عیسائی گورنر رہے)
٭ مشرقی پاکستان کا انگریز گورنر فریڈراک بورن ! علامہ (عثمانی)کا تو یہ حال ہوا ہے کہ
ع بس خوں ٹپک پڑا نگۂ انتظار سے
تبدیلی :
بالآخر کچھ تبدیلی آئی ! لیاقت علی خاں کے دور میں مولانا کا کچھ بس چلا تو شیرازہ جمع کیا اور علماء کو ٢٢ نکات پر متفق کیا ! اس کے کچھ ہی بعد ١٣ دسمبر ١٩٤٩ء کو علامہ صاحب وفات پاگئے، رحمہ اللہ تعالیٰ اگر وہ زندہ رہتے تو قانونِ اسلامی کے نفاذ کے لیے اس کے سوا وہ اور کیا کرتے کہ قانون کے لیے حنفی کتب کا ترجمہ کرانے اور عدلیہ کو اس پر چلانے کی کوشش کرتے، قابلِ عمل شکل ہی یہ ہے بس !
جو ان کا اگلا قدم ہوتا وہ ہم اٹھارہے ہیں ! نیز ان ٢٢ نکات میں اور نفاذِ فقہ حنفی و فقہ جعفری اور غیر مقلدوں کے لیے ان کے عالِم کو ان کا جج مان لینے میں تعارض کیا ہے ! ؟ بلکہ آپ کا اس اگلے قدم سے روکنا نفاذِ اسلام کو روکنا ہے بلکہ بالفاظِ دیگر ٢٢ نکات سے انحراف بھی ! مینارِپاکستان پر یہ اعلان تو اب ہوا ہے میں تو ذاتی طور پر اس کے لیے ١٩٧٧ء سے کوشاں ہوں حضرت مفتی محمود صاحب سے عرض کرتا رہا ہوں ! !
(ماہنامہ) میثاق کے اسی پرچہ میں مقبول الرحیم صاحب مفتی نے ڈاکٹر اسرار صاحب کے ٣ اپریل ١٩٨٧ء کے جمعہ کے خطاب کے یہ جملے نقل کیے ہیں :
''قرآن و سنت سے براہ راست استنباط کرتے ہوئے آج کے مسائل کا حل تلاش کرنا بھی اسی طرح درست ہے جس طرح کسی فقہی مسلک کی فقہ کو نافذ کرنا درست ہے''
اگر ڈاکٹر صاحب کے سامنے آج کے حالات میں ایسے حل طلب مسائل ہیں کہ جن کا حل فقہ میں موجود نہیں تو وہ ان کی نشاندہی کریں ! جابجا مدارس میں علماء اور مفتی حضرات موجود ہیں ان سے رجوع فرمائیں مجھے بھی بتلائیں اور اگر خدانخواستہ ڈاکٹر صاحب کا مقصد یہ ہے کہ فقہ حنفی کے نفاذ کا نام نہ لیا جائے اور ہر مسئلہ میں چاہے وہ پہلے سے حل شدہ موجود ہو، اب بلاوجہ بھی اجتہاد کی اجازت کو عام کیا جائے تو یہ غلط ہے اور ضلالت ہے ! میں اس کا شدید مخالف ہوں یہ دین کے لیے سمِ قاتل ہے یہ اندازفکر اور سوچ برخود غلط لوگوں ہی کی ہوسکتی ہے ! !
چھتیس ہزار فتاویٰ :
دارالعلوم دیوبند میں مولانا مفتی عزیر الرحمن صاحب رحمہ اللہ ہی کے حل کردہ چھتیس ہزار فتوے ہیں ! یہ دارالعلوم کے پہلے مفتی تھے ان کے بعد سے اب تک کی تعداد معلوم نہیں !
مولانا مفتی محمود صاحب کے حل کردہ مسائل کے تیس کے قریب رجسٹر قاسم العلوم ملتان میں موجود ہیں ١ ان سب کارناموں پر انگریزی قانون نے پردہ ڈال رکھا ہے !
معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے جو بات کی ہے وہ اپنے ارد گرد لوگوں سے متاثر ہوکر کی ہوگی ! بہرحال اس سے انہیں رجوع کرنا لازم ہے اگرچہ وہ غیر متشدد غیر مقلد ہیں مگر میری مذکورہ بالا تشریح پر غور کرنا چاہیے ! واللّٰہُ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَائُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
حامد میاں غفرلہ
١٦ رمضان ١٤٠٧ھ / ١٤ مئی ١٩٨٧ء پنجشنبہ
١ جو '' فتاویٰ مفتی محمود ''کے نام سے بارہ جلدوں میں شائع ہوچکے ہیں




خطباتِ سید محمودمیاں (١)
٭٭٭
محمود الملة والدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب
جامعہ مدنیہ جدید کی مسجد حامد میں جمعہ کا بیان فرمایا کرتے تھے جن کی ریکارڈنگ جامعہ کے استاذ مفتی محمد فہیم صاحب کرتے تھے، ان بیانات کی افادیت کے پیش نظر انہیں ماہنامہ انوارِ مدینہ کے ذریعہ ہر ماہ حضرت کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچانے کا اہتمام کیا جارہا ہے اللہ تعالیٰ حضرت کے اس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے،آمین۔ (ادارہ)
٭٭٭
مذہبی شناخت : ڈاڑھی بڑھائو ، مونچھیں ترشوائو !
( افادات : شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب )
عنوانات و نظر ثانی : ڈاکٹر محمد امجد غفرلہ
( ٢٣ صفر ١٤٣٥ھ / ٢٧ دسمبر ٢٠١٣ ء )
٭٭٭
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا
مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ !
نبی علیہ السلام نے مسلمانوں کو بہت سی ہدایات دیں ان میں ایک بات یہ بھی بتائی جس کا تعلق داڑھی سے اور مونچھ سے ہے ارشاد فرمایا
اَنْھِکُوا الشَّوَارِبَ وَ اَعْفُوا اللِّحٰی ١ '' مونچھیں کترواؤ اور ڈاڑھیاں بڑھائو ''
مونچھ اگر بہت بڑی ہوجائے تو وہ ہونٹوں کے اوپر آجاتی ہے اور جب وہ ہونٹوں کے اوپر آتی ہے تو انسان کو کھانا پینا بھی مشکل ہوتا ہے ! وہ کھائے گا پیے گا تو کھانے پینے کی چیز میں بال ڈوبیں گے اس کے، ٹکرائیں گے بال لقمے سے نوالے سے ،چائے پیے گا تو چائے میں بال ڈوبیں گے ،دودھ پیے گا تو ڈوبیں گے اور وہ اگر کالے بال ہیں اور ان پر دودھ چپک جائے گا سفید سفید تو بہت برا لگے گا
١ صحیح البخاری کتاب اللباس باب اعفاء اللحٰی رقم الحدیث ٥٨٩٣
مجلس میں ،بہت ہی بدتہذیبی محسوس ہوگی تو نبی علیہ السلام چونکہ باپ کی طرح تھے امت کے لیے تو ان کا ہر اچھا برا انہیں سمجھاتے تھے۔
تو اس سے تم بہت برے لگو گے مجلس میں ، اٹھتے بیٹھتے برے لگو گے ،کھاؤ گے تو، تمہاری چائے پانی دودھ جو پیو گے پہلے مونچھوں سے لگیں گی پھر منہ میں جائے گا تو طبیعت اسے پسند نہیں کرتی ! اگر انسان اچھی طبیعت کا ہو صاف ستھرے مزاج کا ہو تو وہ یہ چیزیں پسند نہیں کرتا ! !
تو فرمایا مونچھوں کو تراشو ، ڈاڑھی کو بڑھاؤ ! کیونکہ ڈاڑھی کا تعلق کھانے پینے سے نہیں ہے، پیالہ منہ سے لگتا ہے ،ڈاڑھی سے نہیں لگتا، کھانا جو ہے وہ منہ میں جائے گا وہ ڈاڑھی سے مس نہیں ہوگا اس کا ڈاڑھی سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے ، وہ ایک مردانہ نشانی اور علامت ہے مردانگی کی ! اس لیے مردوں کو کہا ہے عورتوں کو نہیں فرمایا کیونکہ ان کی ڈاڑھی ہوتی نہیں ! !
فرشتوں کی عبادت :
حدیث میں آتا ہے ایسے فرشتے مقرر ہیں جن کی مختلف تسبیحات ہیں ! ایک فرشتہ ہے اس کی ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ فلاں ذکر کرتا ہے بس وہ کر رہا ہے اللہ کی بڑائی کر رہا ہے اس کی پاکی بیان کررہا ہے ، کوئی فرشتہ کسی قسم کے وظیفے پر لگا ہوا ہے ،کوئی کسی قسم کے وظیفہ پر ! حضرت اسرافیل علیہ السلام صور ہاتھ میں پکڑ کرکھڑے ہوئے ہیں ڈیوٹی دے رہے ہیں جیسے ایک مستعد سپاہی کھڑا ہوتا ہے، آرڈر مل جائے جب فائر کرنے کا تو فائر کرتا ہے، وہ ہر وقت مستعد کھڑا ہوا ہے ادھر ادھر نہیں دیکھے گا بس اس کا دھیان سامنے ہے بندوق کی طرف اور کان اس کے آرڈر کی طرف لگے ہوتے ہیں ، کب کان میں آواز پڑے تو میں فائر کروں ، بس فرشتوں کی بھی یہی حالت ہے ! !
اللہ نے اپنی عظمت اور جاہ و جلال کے لیے مخلوق پیدا کر کے ان کی ایسی ڈیوٹی لگادی جس سے اللہ کی کبریائی عظمت اس کی جبروت ظاہر ہوتی ہے ! تو اسرافیل علیہ السلام اتنے بڑے فرشتے ہیں ان کا وظیفہ کیا ہے ؟ بس وہ صور ہاتھ میں پکڑ کر اور کان اللہ کے دھیان کی طرف لگائے کھڑے ہوئے ہیں بالکل ساکت کھڑے ہیں جب حکم ہوگا اسے پھونک دوں گا ان کی ڈیوٹی یہ ہے ، ان کی عبادت اور ان کا وظیفہ یہ ہے ! نہ رکوع، نہ سجود، نہ وضو، نہ غسل، نہ نماز، نہ روزہ ، ان کا کچھ نہیں ، ان کی یہی عبادت ہے وہ اس میں لگے ہوئے ہیں ! !
انسانوں کی عبادت :
انسان کی اور طرح کی عبادت ہے ،وہ نبیوں کے ذریعے بتائی یہ کرنا ہے چنانچہ بعض فرشتے ہیں ان کا وظیفہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی تعریف ان ہی الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مردوں کو ڈاڑھی سے سجا دیا ان کے چہروں کو اور عورتوں کو زلفوں سے سجا دیا !
عورتوں کی زینت زلفیں سر کے بال ہیں ، مردوں کی زینت ڈاڑھی کے بال ہیں ، پتہ چلتا ہے کہ نرآرہا ہے نر مرد، ڈاڑھی مونڈھا عورتوں جیسا لگتا ہے..... لگے گا جو چاہے کہہ لو، عیسائی بھی مونڈھتے ہیں ، یہودی بھی مونڈھتے ہیں ،بہت سے کافر نہیں مونڈھتے، ان سے کہو تو مرجائیں گے لیکن مونڈھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ،سکھ ساری دنیا سے مقدمہ لڑتے ہیں ان کی ڈاڑھی کو کوئی نہیں چھیڑ سکتا اور نہ ان کی پگڑی کو کوئی چھیڑ سکتا ہے ،دنیا میں اتنے سے ہیں اتنے سے ،سکھ ایک رتی کے برابر پوری دنیا میں لیکن وہ اس چیز کو نہیں چھوڑتے ! !
اور مسلمان دنیا میں بہت بڑی تعداد میں ہیں ، چاہیں تو الٹ دیں سب کو ،چا ہیں گے تو الٹیں گے چاہ ہی نہیں رہے، چاہتے ہی نہیں سو رہے ہیں ، نقل ان کی کررہے ہیں جن کی نقل کریں گے ان کو کیسے الٹیں گے، ان کو تو استاد مان لیا ، ان کو تو بڑا مان لیا ہم نے ،یہودیوں کو عیسائیوں کو کافروں کو اداکاراؤں کو کھلا ڑیوں کو گلی ڈنڈا کھیلنے والوں کو بس ہمارا کام صبح شام کا یہی ہے ، بال ان کی طرح رکھنا، کھانا ان کی طرح کھانا، کنگھی ان کی طرح کرنی، کھڑا ان کی طرح ہوناہے ،گلے میں بستہ ان کی طرح ڈالنا ، اسی ادا سے کھڑا ہونا، اسی ادا سے چلنا ہے، جب یہ بنالیں گے ہم تو دنیا کو نہیں الٹ سکتے کیونکہ ہم ان کی نقل کر رہے ہیں انہیں بڑا بنالیا ہم نے ! !
ڈاڑھی کی مقدار ؟
تو آپ نے فرمایا ڈارھی بڑھاؤ مونچھیں ترشواؤ ! ڈاڑھی بڑھانے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ خوفناک ڈاڑھی بنالو کہ دیکھ کر بچے ہی ڈر جائیں ،منع ہے یہ بھی منع کیا، ایسے بناؤ کہ اچھے لگو ! چنانچہ نبی علیہ السلام نے ایک مشت کے برابر رکھی ! ایسے یوں پکڑ کراس سے زائد کاٹ دو بس اتنا رکھو ، نہ بہت چھوٹی نہ بہت لمبی یہ سنت ہے ! !
تو نبی علیہ السلام کی تعلیمات فطرت کے مطابق ہیں ، ایک فرشتہ یہ وظیفہ کر رہا ہے تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مردوں کو ڈاڑھی سے زینت بخشی اور عورتوں کو گیسو اور زلفوں سے زینت بخشی ! اب کون بیوقوف ہے جو عورت کے بال مونڈوائے، سر مونڈوائے کوئی مونڈواتا ہے ؟ کوئی عورت پسند کرتی ہے ؟ کبھی بھی نہیں کرے گی، زینت ہیں بال ،کتنی خدمت اپنی بالوں کی وہ کرتی ہیں کتنا خیال رکھتی ہیں ! مرد بھی کتنا فکر کرتے ہیں بیٹی کے بال ذرا کم ہوجائیں باپ کو فکر ہوجاتی ہے، اوہو بال کم ہو رہے ہیں ان کا شادی بیاہ بھی کرنا ہے ! یہ تو نہیں ہونا چاہیے،ماں کو فکر ہو رہی ہے چچا ؤں کو فکر ہورہی ہے ، شوہر والی ہے تو شوہر کو فکرہو رہی ہے اوہو اس کے بال گھنے ہونے چاہئیں ٹھیک ہونے چاہئیں اس کے بالوں کی فکر کر رہے ہیں اور اپنے بالوں کی فکر نہیں کرتے ! !
ہمیں اللہ نے مسلمان بنایا اس لیے ہمیں مسلمان بن کر ہی رہنا چاہیے اور مسلمان صحیح معنی میں جب بنیں گے جب ہم نبی علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل کریں گے۔
مسلمانوں کی ظاہری شناخت :
میں جب ہندوستان گیا دو خوبصورت نوجوان گاڑی میں اگلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے، ہماری گاڑی چل رہی تھی مجھے پتہ نہیں چل رہا تھا یہ سکھ ہیں یا ہندو ہیں یا مسلمان ہیں ، مجھے نہیں پتہ چل رہا تھا کیونکہ مسلمانوں کی کوئی نشانی ان میں نہیں تھی، میں نے نام پوچھا تو ایک نے نام مسلمانوں والا بتایا، ایک نے ہندوؤں والا بتایا، اس سے مجھے پتہ چلا کہ یہ ہندو ہے یہ مسلمان ہے ! !
ہم اتنے گر گئے کہ دیکھنے والا ہمیں ہندو بھی کہہ سکتا ہے، دیکھنے والا ہمیں سکھ بھی کہہ سکتا ہے، عیسائی بھی کہہ سکتا ہے، دیکھنے والا ہمیں یہودی بھی کہہ سکتا ہے ،جو چاہے کہہ سکتا ہے کیونکہ ہم نے خود اپنے مذہب کو رسوا کردیا اور اس سے اپنا رشتہ توڑ کر اپنی شناخت کو ختم کردیا جب تک یہ شناخت ہماری نہیں آئے گی اس وقت تک ہماری ٹانگوں میں جان نہیں آئے گی جب ٹانگوں میں جان نہیں آئے گی تو پھر ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے !
اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ کی اور عمل کی توفیق دے اور خاتمہ ایمان پرفرمائے آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی شفاعت اور ان کا ساتھ نصیب فرمائے
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ




اہم اعلان
٭٭٭
شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب نور اللہ مرقدہ کی شخصیت و خدمات پر انوار مدینہ کی ایک خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں معاصرین ، تلامذہ ، متعلقین ومحبین حضرات کے تاثرات بھی شامل ہوں گے ! جو حضرات اپنے مضامین و مقالات ، تاثرات ، تعزیتی پیغامات یا منظوم کلام ارسال فرمانا چاہیں ، جلد از جلد درج ذیل پتے ، ای میل یا واٹس ایپ نمبر پر ارسال فرما دیں
علاوہ ازیں اگر کسی کے پاس شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب کے ہاتھ کا لکھا ہوا مکتوب یا تحریر موجود ہو تو اسے بھی ارسال فرما دیں !
جو حضرات اپنے تاثرات زبانی بتانا چاہیں ، وہ اپنے نام ، پتے اور مکمل تعارف کے ساتھ درج ذیل نمبر پر صوتی پیغام (وائس میسج ) بھی ارسال فرما سکتے ہیں
اگر مضمون ، مقالہ ، مکتوب یا تاثرات کمپوز شدہ ہوں تو ان کی کمپیوٹر فائل بھی ای میل یا واٹس ایپ فرمادیں تو نوازش اور ادارے کے ساتھ دوہرا تعاون ہوگا
رابطہ : ڈاکٹر محمد امجدغفرلہ
خادم جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد ١٩ کلومیٹر شارع رائیونڈ لاہور




قسط : ١ فضیلت کی راتیں
( حضرت مولانا نعیم الدین صاحب ،استاذ الحدیث جامعہ مدنیہ لاہور )
٭٭٭
موجودہ دور میں لوگ تقریبًا ہر چیز ہی میں افراط و تفریط کا شکار ہیں ! خواہ اُس چیز کا تعلق دین سے ہو یا دنیا سے، عقائد سے ہو یا اعمال سے ،کچھ لوگ اس کو بڑھا کر اس کے اصل مرتبہ و مقام سے بھی آگے لے جاتے ہیں اور کچھ لوگ اسے اس کا جائز مقام دینے کوبھی تیار نہیں ہوتے ! ان ہی افراط و تفریط کاشکار چیزوں میں سے چند مخصوص راتیں بھی ہیں کچھ لوگ تو ان راتوں کی فضیلت کا اس قدر زیادہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ سب کچھ ان ہی کو سمجھ بیٹھے ہیں اور کچھ لوگ سر ے سے ان کی فضیلت ہی کے منکر ہیں اور تحریراًو تقریراً ان کے خلاف بر سرِ پیکار ہیں ، شریعت ِ مقدسہ میں افراط و تفریط سے ہٹ کر درمیانی راہ بتلائی گئی ہے اگر اُس پر چلا جائے تو منزل پر پہنچا جا سکتا ہے اور مقصود کو پایا جا سکتا ہے !
راقم الحروف سے بعض احباب نے اس بات کا تقاضا کیا کہ ایک رسالہ ترتیب دیا جائے جس میں ان راتوں کے متعلق افراط و تفریط سے بچتے ہوئے جو فضائل آئے ہیں ان کا تذکرہ کیا جائے اور ان کے متعلق اسلاف کا جو عمل متوارث ہے اسے بیان کیا جائے نیز جو لوگ ان کے متعلق افراط و تفریط کاشکار ہیں ان کی غلط فہمیاں دُور کی جائیں ، خود راقم کابھی عرصہ سے یہ خیال تھا احباب کے تقاضے سے اس کام کا مزید داعیہ پیدا ہوا چنانچہ اللہ کا نام لے کر یہ کام شروع کر دیا گیا ! اس میں ہمارا اسلوب یہ ہوگا کہ
٭ اوّلاً تو اِن راتوں کے متعلق قرآن و احادیث ِمبارکہ میں جو فضائل آئے ہیں وہ ذکر کیے جائیں گے
٭ ثانیاً ان راتوں میں اسلاف کا معمول ذکر کر کے جو منکرات ان میں کیے جاتے ہیں ان کی تردید کی جائے گی
٭ ثالثاً منکرین کے شکوک و شبہات کاجواب دیا جائے گا وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیقْ
حقیقت میں اگر دیکھا جائے تواپنی جگہ ہر رات محترم اور فضیلت کی حامل ہے یہی وجہ ہے کہ احادیث ِ مبارکہ میں رات کے قیام اوراس میں دعا کرنے کی بڑی اہمیت بتلائی گئی ہے چنانچہ
٭ حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا
یُحْشَرُالنَّاسُ فِیْ صَعِیْدٍ وَّاحِدٍ یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ فَیُنَادِیْ مُنَادٍ فَیَقُوْلُ اَیْنَ الَّذِیْنَ کَانَتْ ( تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ ) فَیَقُوْمُوْنَ وَھُمْ قَلِیْل یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ بِغَیْرِ حِسَابٍ ثُمَّ یُؤْمَرُ بِسَائِرِالنَّاسِ اِلَی الْحِسَابِ ۔ ١
''قیامت کے دن سب لوگ (زندہ کیے جانے کے بعد) ایک وسیع اور ہموار میدان میں اکٹھے کیے جائیں گے پھر اللہ کا منادی پکارے گا کہ کہاں ہیں وہ بندے جن کے پہلو راتوں کوبستروں سے الگ رہتے تھے (یعنی اپنے بستر چھوڑ کر جو راتوں کو تہجد پڑھتے تھے) پس وہ اِس پکار پر کھڑے ہو جائیں گے اور ان کی تعداد زیادہ نہ ہوگی پھر وہ اللہ کے حکم سے بغیر حساب وکتاب کے جنت میں چلے جائیں گے اس کے بعد باقی تمام لوگوں کے لیے حکم ہوگا کہ وہ حساب کے لیے حاضر ہوں ''
٭ حضرت عمرو بن عَبْسَہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا
اَقْرَبُ مَا یَکُوْنُ الرَّبُّ مِنَ الْعَبْدِ فِیْ جَوْفِ اللَّیْلِ الْاٰخِرِ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَکُوْنَ مِمَّنْ یَّذْکُرُ اللّٰہَ فِیْ تِلْکَ السَّاعَةِ فَکُنْ۔ ٢
''اللہ تعالیٰ بندے سے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری درمیانی حصے میں ہوتے ہیں ! پس اگر تم سے ہو سکے تو تم ان بندوں میں سے ہو جاؤ جو اس مبارک وقت میں اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو تم ان میں سے ہوجاؤ ''
٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کا ارشاد ہے
یَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی کُلَّ لَیْلَةٍ اِلَی السَّمَآئِ الدُّنْیَا حِیْنَ یَبْقٰی ثُلُثُ اللَّیْلِ الْاٰخِرُ یَقُوْلُ مَنْ یَّدْعُوْنِیْ فَاَسْتَجِیْبَ لَہ مَنْ یَّسْأَلُنِیْ فَاُعْطِیَہ مَنْ یَّسْتَغْفِرُنِیْ فَاَغْفِرَ لَہ ۔ ٣
١ شعب الایمان للبیہقی رقم الحدیث ٢٩٧٤ ٢ سُنن الترمذی رقم الحدیث ٣٥٧٩
٣ صحیح البخاری کتاب التھجد رقم الحدیث ١١٤٥
''ہمارے مالک اور رب تبارک و تعالیٰ ہر رات کو جس وقت آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں ! کون ہے جو مجھ سے مانگے میں اس کو عطا کروں ! کون ہے جو مجھ سے مغفرت اور بخشش چاہے میں اس کو بخش دوں ! ''
ان حادیث ِ مبارکہ کی طرف نظر کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ ہر رات ہی اہمیت کی حامل ہے یہی وجہ ہے کہ بارگاہِ خداوندی کے حاضر باش اور لذتِ عبادت و مناجات سے آشنا شب زندہ دار لوگ بِلا تفریق تمام راتوں کو اپنی عبادات سے معمور رکھتے ہیں اور ہونا بھی یہی چاہیے کہ مقصود ِ اصلی مالک کی رضا ہو اور وہ ہر رات اپنی رضا سے نوازنے کے لیے ندا کر وا رہا ہے کسی نے خوب کہا مَنْ لَّمْ یَعْرِفْ قَدْرَ لَیْلَةٍ لَمْ یَعْرِفْ لَیْلَةَ الْقَدْرِ جس نے ''رات'' کی قدر نہ جانی اسے'' لَیْلَةَ الْقَدْرِ'' کی کیا قدر معلوم ہوگی ! ! !
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمةاللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
بوستان میں حکایت ہے کہ کسی شہزادہ کا ایک ''لعل'' شب کے وقت کسی جگہ گر گیا تھا اس نے حکم دیا کہ اس مقام کی تمام کنکریاں اٹھا کر جمع کریں اس کا سبب پوچھا تو کہا کہ اگر کنکریاں چھانٹ کر جمع کی جاتیں تو ممکن تھا کہ ''لعل'' ان میں نہ آتا اور جب ساری کنکریاں اٹھائی گئی ہیں تو لعل ضرور آگیا ہے، کسی نے اسی جملہ کا ترجمہ خوب کیا ہے
اے خواجہ چہ پرسی ز شب ِقدر نشانی ہر شب شب ِ قدر ست گر قدر بدانی ١
تا ہم اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو ذوقِ عبادت اور لذتِ مناجات سے نا آشنا اور کوتاہ ہمت ہیں ایسے لوگوں کے لیے غنیمت ہے کہ وہ چند مخصوص راتوں ہی میں صحیح طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کر کے اُسے راضی کرلیں ! اسی جذبے کے تحت مخصوص راتوں کے فضائل قلم بند کیے جارہے ہیں اللہ تعالیٰ افراط و تفریط سے بچتے ہوئے صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین !
١ فضائل صوم و صلٰوة ص ٣٧٩
وہ چند مخصوص راتیں جن کی فضیلت قرآن و حدیث میں وارد ہوئی ہے درجِ ذیل ہیں
(١) شب ِ معراج (٤) ذی الحجہ کی ابتدا ئی دس راتیں
(٢) شب ِ براء ت (٥) عید الفطر اور عید الاضحی کی راتیں
(٣) شب ِقدر (٦) شب ِ جمعہ
شب ِ معراج :
مشہور قول کے مطابق بعثت ِ نبوی کے گیارہویں سال رجب المرجب کی ستائیسویں شب آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کے ساتھ واقعہ معراج پیش آیا جس کی تفصیل احادیث و سیر کی کتابوں میں مذکور ہے، اس شب آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ آپ مسجد ِحرام سے مسجد ِاقصیٰ تشریف لے گئے وہاں آپ نے تمام انبیائِ کرام کی نماز میں امامت فرمائی پھر وہاں سے ساتوں آسمانوں اور جنت و جہنم کی سیر کرتے ہوئے آپ بارگاہِ الٰہی میں تشریف لے گئے اور زیارتِ خداوندی نیز ذاتِ باری تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل کیا ! اسی موقع پر آپ کو دن و رات میں پانچ نمازیں ادا کرنے کا حکم ہوا آپ بارگاہِ الٰہی سے یہ عطیہ امت کے پاس لائے، اس لحاظ سے یہ شب انتہائی افضل و مبارک شب ہوئی ! لیکن یہ بات سمجھنے کی ہے کہ یہ افضلیت و شرف صرف اسی ایک شب کو حاصل ہوا جس میں واقعہ معراج پیش آیا تھا نہ کہ ہر سال کے رجب کی ستائیسویں شب کو،لہٰذا ہر سال کے رجب کی ستائیسویں شب کو افضل سمجھنا صحیح نہیں ، شاید یہی وجہ ہے کہ کسی بھی صحیح یا حسن یااَقل درجہ کی ضعیف حدیث میں رجب کی ستائیسویں شب کی فضیلت یا اس کے متعلق کوئی خاص عمل نہیں آیا ١ نہ ہی اسلاف سے اس شب میں کوئی خاص عمل متوارث ہے اس لیے چاہیے تو یہ کہ اپنی طرف سے اس شب میں کسی بھی قسم کا کوئی خاص عمل نہ اپنا یا جائے لیکن دیکھنے میں آرہا ہے کہ بہت سے لوگ اس شب کی فضیلت کا اعتقاد
١ رجب المرجب کی ستائیسویں شب کے متعلق جو احادیث آئی ہیں ان روایات کی جانچ پر کھ علامہ ابن حجر عسقلانی نے '' تبیین العجب بما ورد فی فضل رجب'' میں اور شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے ''ماثبت بالسنة '' میں کی ہے اہلِ علم حضرات وہاں ملا حظہ فرمائیں
رکھتے ہوئے خاص قسم کے اعمال کرتے ہیں ، ذیل میں ان اعمال کو ذکر کر کے ان کا مختصر تجزیہ پیش کیا جاتا ہے
رجبی کا بیان :
حضرت مولانا مفتی سیّد عبد الکریم گمتھلوی خلیفہ مجاز حضرت تھانوی رحمہما اللہ تحریر فرماتے ہیں :
''رجب کی ستائیسویں رات کو معراج شریف کا تذکرہ کیا جاتا ہے اور دھوم دھام سے جلسے ہوتے ہیں جن میں فضول خرچی اور بے جا زینت اور ضرورت سے کہیں بڑھ کر روشنی وغیرہ ہوتی ہے، شریعت میں اس ہئیت ِ متعارفہ کی کوئی اصل نہیں بلکہ فضول خرچی وغیرہ کی صاف طور پر ممانعت اور سخت مذمت وارد ہوئی ہے اور اگر کوئی مجمع ان خرافات سے پورا پر ہیز رکھ کر کیا جاوے تب بھی کم از کم دن کی تعین کا تو گناہ ہے ہی کیونکہ اس تذکرہ کے واسطے شریعت نے کوئی دن معین نہیں فرمایا !
دوسرے قاعدہ ہے کہ اگر کسی غیر ضروری فعل سے دوسرے لوگوں کے عقائد بگڑنے کا اندیشہ ہو تو اُس فعل کوبالکل ترک کردیا جائے گا ! اس واسطے ترکِ منکرات کے باوجود بھی ایسی مجلسوں کی اجازت نہیں ہو سکتی جیسا کہ ہم ربیع الاوّل کے بیان میں مفصل لکھ چکے ہیں ! اور بعض لوگ جو کہہ دیا کرتے ہیں کہ فضیلت کے ایام کا دھیان نہیں رہتا اور نہ فضیلت ذہن نشین ہوتی ہے جب تک کہ موقع پر اس کی تفصیل نہ کی جاوے اِس واسطے جن دنوں میں کوئی فضیلت ہو اُن کا بیان خاص خاص موقعوں پر مفصل سنانے کی ضرورت ہے تاکہ بے خبر لوگوں کو پتہ لگ جائے اور جو پیشتر سے واقف ہیں ان کو یاد دہانی ہو جاوے !
سو اِس کا ایک جواب تو وہی ہے جو ابھی مذکور ہوا یعنی اگر اس یادہانی سے کسی خرابی کا اندیشہ نہ ہوتا اور کوئی امرِ منکر بھی شامل نہ ہوتا تو اس میں فی نفسہ مضائقہ نہ تھا لیکن جب خرابی ٔ عقائد کی نوبت آگئی تو منع کرنا لازم ہے !
دوسرا جواب یہ ہے کہ یاد دہانی کے واسطے نہ کسی دن کو خاص کرنے کی ضرورت نہ کسی ہئیت ِ خاصہ کی حاجت ہے نہ اہتمام ِ مجمع کی، جب موقع ہو اہلِ علم اپنے طور پر وعظ وغیرہ میں ذکر کردیں جیسا کہ شب ِ قدر وغیرہ کے متعلق معمول ہے !
غرض یہ کہ ذکرمعراج شریف تو باعث ِ ثواب ہے اور اس سے حضور صلی اللہ عليہ وسلم کی عظمت اور محبت بڑھتی ہے اور واقعہ معراج سے جو احکام معلوم ہوتے ہیں اور اس میں جوجو حکمتیں ہیں اگر ان کا بیان بھی کیا جاوے تو سونے پر سہاگہ ہو جائے لیکن اس کے واسطے خاص ماہِ رجب کی تخصیص کرنا بلکہ ستائیسویں شب کو لازم قرار دینا حدودِ شرعیہ سے تجاوز اور بد عت ہے وَکُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَة وَّکُلُّ ضَلَالَةٍ فِی النَّارِ اور اگر اس میں ریائ، تفاخر، اسراف وغیرہ شامل ہوجائیں تو '' کر یلا اور نیم چڑھا '' کا مصداق بن جاتا ہے ،خوب سمجھ لو حق تعالیٰ فہم ِسلیم اور اتباعِ سنت کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین '' (بارہ مہینوں کے فضائل و احکام ص ٢٧،٢٨)
ہزاری روزے کا بیان :
عام لوگ رجب کی ستائیسویں تاریخ کو روزہ رکھنے کا ثواب ایک ہزار روزے کے برابر سمجھتے ہیں اسی واسطے اس کو ہزاری روزہ کہتے ہیں مگر یہ فضیلت ثابت نہیں کیونکہ اکثر روایات تو اس بارے میں موضوع ہیں اور بعض جو موضوع نہیں وہ بھی بہت ضعیف ہیں اس لیے اس روزہ کے متعلق سنت ہونے کااعتقاد نہ رکھا جائے ! حضرت عمر فاروق کے زمانے میں ایسا ہواکہ بعض لوگ ستائیس رجب کو روزہ رکھنے لگے جب آپ کو اِس کا علم ہواتو آپ نے ان سے زبر دستی روزے کھلوائے چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ
عَنْ خَرْشَةَ بْنِ الْحُرِّ قَالَ رَاَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَضْرِبُ اَکُفَّ الرِّجَالٍ فِیْ صَوْمِ رَجَبٍ حَتّٰی یَضَعُوْھَا فِی الطَّعَامِ وَ یَقُوْلُ رَجَبْ وَمَا رَجَبْ ؟ شَھْر یُعَظِّمُہُ الْجَاھِلِیَّةُ فَلَمَّاجَآئَ الْاِسْلاَمُ تُرِکَ۔ ١
١ رواہ ابن ابی شیبة و الطبرانی فی الاوسط بحوالہ ماثبت بالسنة ص ٣٤٠
''حضرت خرشہ بن حُررحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے کہ وہ رجب کے روزہ داروں کو پکڑ کر کھانا کھلاتے تھے اور فرماتے تھے یہ رجب، یہ رجب کیا چیز ہے ؟ سنو ! رجب وہ مہینہ ہے جسے ایامِ جاہلیت میں معظم مانا جاتا تھا لیکن اسلام نے آکر اس کو ترک کردیا ''
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اس قول و عمل کی موجودگی میں بہتریہی ہے کہ ستائیسویں رجب کو روزہ نہ رکھا جائے کیونکہ اگر اس کی فضیلت ثابت ہوتی یایہ مسنون ہوتا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس سے منع نہ فرماتے بلکہ خود رکھتے اور دوسروں کو بھی ترغیب دیتے ! ! !
رجب کی ستائیسویں شب میں چراغاں کر نا :
بہت سے لوگ رجب کی ستائیسویں شب کو چراغاں کرتے ہیں چنانچہ کچھ تو چھتوں پر موم بتیاں جلاتے ہیں اور کچھ بجلی کی چھوٹی بتیاں روشن کرتے ہیں اس کام میں جہاں اسراف اور فضول خرچی ہوتی ہے وہیں عقائد بھی خراب ہوتے ہیں !
ایک خاتون سے میں نے پوچھا کہ خالہ آپ یہ موم بتیاں کیوں جلاتی ہیں ؟ وہ بولیں کہ ''اس رات ہمارے نبی کی سواری گزرتی ہے'' ! ! غور کا مقام ہے کہ لوگوں کے عقائد و اعمال میں کہاں تک خرابی آچکی ہے ! ہمیں چاہیے کہ ہم تمام ایسے کام چھوڑ دیں جو شریعت سے ثابت نہیں کیونکہ ایسے کام کرنے سے ثواب ملنا تو بہت دور رہا الٹا گناہ ہوتا ہے ! ! !
تنبیہ :
یہ بات بھی قابلِ لحاظ ہے کہ ہم لوگوں نے تو قطعی اور یقینی طور پر رجب کی ستائیسویں شب ہی کو شب ِ معراج تصور کر رکھا ہے حالانکہ شب ِ معراج کے مہینہ کی تعیین میں علماء کے پانچ اقوال ملتے ہیں :
(١) بعض کے نزدیک شب معراج ربیع الاوّل میں ہوئی ہے (٢) بعض کے نزدیک ربیع الثانی میں ہوئی ہے (٣) بعض کے نزدیک رجب میں ہوئی ہے(٤) بعض کے نزدیک رمضان المبارک میں ہوئی ہے (٥) بعض کے نزدیک شوال میں ہوئی ہے چنانچہ علامہ سیّد محمد زرقانی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں :
( وَلَمَّا کَانَ فِیْ شَھْرِ رَبِیْعِ الْاَوَّلِ) اَواِلْاٰخِرِ اَوْ رَجَبٍ اَوْ رَمَضَانَ اَوْ شَوَّالٍ اَقْوَال خَمْسَة ۔ ( اُسْرِیَ بِرُوْحِہ وَجَسَدِہ یَقْظَةً ) ١
''جب ربیع الاوّل کا مہینہ ہوا،یا ربیع الآخر کا، یا رجب کا، یا رمضان کا،یا شوال کا اس سلسلہ میں یہ پانچ اقوال ہیں تو آپ کو رُوح مع الجسم بیداری کی حالت میں معراج کرائی گئی''
ایسی صورت میں قطعی و یقینی طور پر یہ سمجھ لینا کہ شب ِ معراج رجب المرجب کی ستائیسویں شب ہی ہے انتہائی غلط ہے ! اسی کے ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ واقعہ معراج مشہور قول کے مطابق بعثت کے گیارہویں سال پیش آیا ہے اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم تقریباً بارہ سال حیات رہے ہیں ،کیا آپ نے ان بارہ سالوں میں اس شب میں کوئی خاص عمل کیا ہے یا لوگوں کو ترغیب دی ہے ؟ ؟ !
احادیث وسیر کی کتابوں پر نظر ڈالیے آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ سب کتب اس سلسلہ میں خاموش ہیں ! اسی طرح صحابہ کرام کے سو سالہ دور پر نظر ڈالیے وہاں بھی اس شب کے متعلق کچھ نظر نہیں آتا ! آگے تابعین و تبع تابعین کا دور بھی اس سے خالی نظر آتا ہے ! ! !
الغرض قصہ مختصر یہ ہے کہ چونکہ اس شب کی بابت احادیث ِ مبارکہ میں نہ کوئی خاص نماز آئی اور نہ روزہ رکھنا اور چراغاں کرنا اس لیے ہمیں اس شب کی فضیلت کا اعتقاد رکھتے ہوئے ان امور کی انجام دہی سے گریز کرنا چاہیے اور سلف ِ صالحین کے طریقہ کو اپنا نا چاہیے کہ اسی میں فلاح اور نجات ہے۔ (جاری ہے)
١ الزرقانی شرح المواہب اللدنیة ج ١ ص ٣٥٥




درسِ حدیث (١)
٭٭٭
محمود الملة والدّین شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب
جامعہ مدنیہ جدید کی مسجد حامد میں ''خانقاہ حامدیہ چشتیہ '' کے تحت ہونے والی مجلس ذکر کے بعد ہر اتوار بعد نمازِ مغرب درس حدیث دیاکرتے تھے جن کی ریکارڈنگ جامعہ کے استاذ مفتی محمد فہیم صاحب کرتے تھے، ان دروس کی افادیت کے پیش نظراِن دروس کو ماہنامہ انوارِ مدینہ کے ذریعہ ہر ماہ حضرت کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچانے کا اہتمام کیا جارہا ہے، اللہ تعالیٰ حضرت کے اس فیض کو تاقیامت جاری و مقبول فرمائے،آمین (ادارہ)
٭٭٭
رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی عسکری ہدایات
( افادات : شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب )
( ١٨ صفر ١٤٣٥ھ / ٢٢ دسمبر ٢٠١٣ ء )
عنوانات و نظر ثانی : ڈاکٹر محمد امجد غفرلہ
٭٭٭
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا
مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ !
حضرت سُلیمان بن بُریدة رضی اللّٰہ عنہ اپنے والد سے یہ حدیث روایت کر رہے ہیں ....... نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامْ جو امیر لشکر ہوتا تھا اس کو کچھ قوانین اور ضوابط ارشاد فرمایا کرتے تھے ہمیشہ ، جب بھی روانہ کرتے تو ان کو کچھ قوانین جن کا مقصد اللہ کی طرف رجوع اِلی اللہ ہوتا ہے اور اللہ کی جو مخلوق ہے اس کے حقوق بھی بیان فرماتے، وہ بڑا متقی اور پرہیزگار کمانڈر ہوتا تھا اور اس میں آپ تمام قسم کے ضوابط اور قوانین بتلاتے تھے کہ فوجی ضابطے ، مارشل رولز، قیدیوں کے قوانین کس طرح ہوں گے ؟ اُس مرحلے پر یہ کرنا ہے اِس مرحلے پر یہ کرنا ہے، اس کے متعلق ساری تفصیل گزشتہ دروس میں گزر چکی ہے ،اس حدیث شریف کا کچھ حصہ باقی رہتا تھا جس میں آپ مزید کچھ ہدایات دے رہے ہیں
پہلے فرمایا تھا کہ جب جاؤ تو پہلے جنگ نہیں لڑو ، اُنہیں تین باتیں پیش کرو، سب سے پہلے اسلام کی دعوت دے دو ، اگر اسلام قبول کر لیں تو بہت اچھی بات ہے ، فوجی قانون ہے اور قبول کرنے کے بعد پھر ان کو یہ یہ کہو کہ اسلام لے آئے تو یا تو ہمارے ساتھ چلو مدینہ منورہ دار الخلافہ مرکز میں تاکہ تمام معاملات میں تم ہمارے ساتھ شریک رہو ہم تم سے فائدہ اٹھائیں تم ہم سے فائدہ اٹھائو، وہاں جانے کے لیے تیار ہو تو ٹھیک ہے، نہ تیار ہوں اور اپنے ہی علاقوں میں رہناچاہتے ہوں تو بھی انہیں قوانین بتانے کی ضرورت ہے کہ اس صورت میں یہ یہ قوانین ہوں گے !
اور اگر اسلام نہ لائیں ، یہ کہیں کہ نہیں ہم اسلام نہیں لاتے، تو اسلام میں جبر نہیں ہے، تلوار کے زور پر مسلمان کرنا ،یہ نہیں ہے ! کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر یہ تعلیمات نہ ہوتیں ، کچھ اور ہوتیں ! !
تو فرمایا کہ ان سے کہو کہ تم ہماری عملداری قبول کر لو ،ہماری عملداری میں آجاؤگے اور اتنا جزیہ دیا کرو ،سال کا اتنا ٹیکس فی کس ، ایک آدمی پر یہ ٹیکس دو تو تمام حقوق تمہارے ہمارے ذمہ ہوں گے تمہاری جان مال عزت آبرو جیسے ہماری ہوتی ہے ایسے ہی تمہاری ہوجائے گی جیسے اقلیت رہتی ہیں اس طرح رہو گے اور اقلیتوں کے پورے حقوق تمہیں دیے جائیں گے، عزت کے ساتھ رکھا جائے گا ، یہ ان کو کہو ! یہ راستہ بتلایا جرنیل کو آپ(علیہ السلام) نے کہ اس طرح کرنا ہے ! ! اور اگر اسے مان لیں تو اچھی بات ہے ! !
اگر نہیں مانتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں ............... نہ ہی ہم اسلام لائیں گے اور نہ ہم تمہاری عمل داری میں آئیں گے تو پھر کیا کرو ؟ فرمایا کہ پھر اللہ سے مدد چاہو، اللہ کی طرف رجوع کرو، دھیان اس کی طرف دو اور اس سے مدد چاہو اور پھر اس کے بعد معاملہ کرو ،پھر ان میں تلوار چلاؤ ! پہلے پہل یہ یہ کوششیں کر لو تاکہ بغیر تلوار چلائے معامالات حل ہوجائیں ،یہ کوشش ہوتی تھی اخیر حدتک حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی ! کیونکہ آپ دنیا کو دَارُالاَمَنْ ، دَارُالْامَانْ اور دَارُالْاِسْلَامْ جنت کا نمونہ بنانے کے لیے تشریف لائے تھے ،خون ریزی کے لیے تشریف نہیں لائے تھے ،خون ریزی تو پہلے سے ہورہی تھی ،آپ کے آنے سے پہلے ظلم و ستم اور تاریکی و اندھیر نگری تھی ، آپ کے آنے کی برکت سے خون ریزی ختم ہوئی اور صلح اور محبت کا ماحول پیدا ہوا ،پہلے کوشش ہوتی تھی کہ بغیر تلوار کے یہ چیزیں حل ہوجائیں پھر بھی کوئی حل نہ ہو تو پھر یہ فرمایا ! یہ ترتیب ہر جرنیل کو ہر کمانڈر کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم سکھا رہے ہیں ! !
اب ایک اور چیز ہے جس کے بارے میں آپ بیان فرما رہے ہیں بیت السلام میں جس میں ہدایات مارشل قوانین بتا رہے ہیں اگر یہ ہو جائے پھر تم نے کسی قلعے کا محاصرہ کیا دشمن قلعے میں محصور ہوگیا ........ اب اگر وہ کہیں تم ایسا کرو معاہدہ کرلو ہم سے طے کر لو ، اور اللہ اور رسول کا ذمہ اس کے بیچ میں لاؤ اَنْ تَجْعَلَ لَھُمْ ذِمَّةَ اللّٰہِِ وَذِِمَّةَ نَبِیِّہ نبی عَلَیْہِ السَّلَامْ سکھا رہے ہیں فَلَا تَجْعَلْ لَّھُمْ ذِمَّةَ اللّٰہِِ وَلاَذِِمَّةَ نَبِیِّہ اس میں تم اللہ اور اللہ کے نبی کا ذمہ ہرگز نہ کرنا، کہنا کہ اللہ اور رسول کا جو ذمہ ہے وہ بیچ میں مت لاؤ،ہم جو بات اس وقت سمجھتے ہیں مناسب جو تم سمجھتے ہو اگر ہماری سمجھ میں آئی تو ہم اپنی ذمہ داری پر تم سے معاہدہ کرتے ہیں اللہ اور رسول کے ذمہ پر نہیں ! کیونکہ اللہ اور رسول کا جو ذمہ ہے وہ ہمیں کیا معلوم کیا ہے ؟ وحی کا سلسلہ تو ابھی جاری ہے جب تک رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم حیات ہیں احکامات اترتے رہتے تھے اور بدلتے بھی رہتے تھے تو تم تو دور ہو محاذِ جنگ پر اور میں مدینہ منورہ میں ہوں تو اللہ اور رسول کا ذمہ کیا ہے ؟ یا اس وقت حالات کا تقاضہ کیا ہے ؟ اللہ کیا چاہتا ہے ؟ اللہ کا رسول کیا چاہتا ہے ؟ تم یہ نہیں جان سکتے !
پہلے سے کوئی مسئلہ اگر تمہیں معلوم بھی ہے اور اس پر معاہدہ کر لیا اللہ اور رسول کے ذمہ پر تم نے اور انہوں نے توڑ دیا تو اب کیا کرنا ہے ؟ معاملہ تو اللہ اور رسول کے ذمہ پر ہوا تھا تو اب کیا کرنا ہے ؟ تو میں تمہیں نہیں بتا سکوں گا کیونکہ تم مجھ سے دور ہو، محبطِ وحی دور ہے تم سے جس پر وحی اترتی ہے وہ دور ہے مدینہ منورہ میں ، تم امتحان میں پڑ جاؤ گے تمہارے لیے مشکلات ہو جائیں گی کہ اب ہم کیا کریں ؟ کیونکہ ہم نے اللہ اور رسول کو بیچ میں ڈالا ہے، اللہ اور رسول کا کیا منشاء ہے ؟ اس کے مطابق ہم کیا کریں ؟ وہ تو آزاد ہیں وہ تو کافر ہیں ، وہ چاہے یہ کریں ، چاہے وہ کریں ، انہیں پرواہ نہیں ، تم آزمائش میں پڑ جاؤ گے، تمہارے لیے جنگی مشکلات اور سیاسی دونوں قسم کی مشکلات کسی وقت پیدا ہوجائیں گی اور تم انہیں روکو ، نہیں ابھی ٹھہر جاؤ اللہ اور رسول کا ذمہ معلوم کر کے پھر بتائیں گے تو پھر تمہیں میرے پاس آدمی بھیجنا پڑے گا، نہ معلوم کتنا وقت لگے اس کے آنے میں اور پھر جانے میں ؟ اور پھر دشمن مہلت دے نہ دے ،دسیوں مسائل ہیں
اس لیے فرمایا فَلَا تَجْعَلْ ایسا نہ کرنا ، اپنی ذمہ داری پر معاہدہ کرنا، نہیں بس ہم جو اس وقت مناسب سمجھیں گے تم بتاؤ ان ان پر چیزوں پر ہمارا تمہارا معاہدہ ہے، اب اگر وہ توڑیں گے تو آپ بھی توڑ دیں کیونکہ اللہ اور رسول کا ذمہ نہیں ہے ،تم اپنے ساتھیوں سے مشورہ کر کر جو چاہو فیصلہ کر سکو گے آسانی ہو گی تم پابند نہیں ہوں گے تو یہ سکھا رہے ہیں نبی عَلَیْہِ السَّلَامْ انتہائی باریک نقطہ ان کو سکھایا کہ یہ اس طرح کرنا ہے
تو فرمایا وَلٰکِِنْ اِجْعَلْ لَّھُمْ ذِِمَّتَکَ وِذِمَّةَ اَصْحَابِکَ تو میں اور میرے ساتھی جو بھی جرنیل میرے ساتھ میرے ماتحت ہیں ہر ہر فوجی سے تھوڑا مشورہ کرتے ہیں وہ تو فوجی تو بہت سارے ہوتے ہیں جو چند ہوتے ہیں ان ہی سے مشورہ ہوتا ہے فیصلہ ہوتا ہے باقی سب اطاعت کرتے ہیں ان پر بس مشورہ ہو گیا اور امیر کا حکم آیا بس ختم، ایک ایک سے مشورہ کرو تو پھر تو دس دن میں بھی مسئلہ حل نہیں ہو گا ، تو بس اپنی اور اپنے ساتھیوں کی ذمہ داری پر کوئی معاملہ کرنا، اس لیے کہ اگر کوئی بد عہدی کرنی پڑ گئی کسی وجہ سے تمہیں چاہے ان ہی کے کسی عمل کی وجہ سے تم کہنا چاہو کہ نہیں ہم یہ معاہدہ ختم کرتے ہیں توتمہارے لیے آسانی ہو گی تو تم کہو گے ہم نے کیا تھا ہم ہی ختم کر رہے ہیں ،اللہ اور رسول کا ذمہ بیچ میں نہیں ہے اس لیے اگر معاہدہ کو توڑنا پڑ گیا تو فَاِنَّکُمْ اَنْ تُخْفِرُوْا ذِمَّتَکُمْ وَذِمَمَ اَصْحَابِکُمْ اَھْوَنُ مِنْ اَنْ تُخْفِرُوْا ذِمَّةَ اللّٰہِِ وَذِِمَّةَ رَسُوْلِہ اس لیے کہ اگر معاہدہ ختم کرنا پڑتا ہے کسی وجہ سے تو یہ تمہارے لیے آسان ہو گا بہ نسبت اللہ اور رسول کے ذمہ کو توڑنے کے، اس میں پتا نہیں ہو گا تمہیں کہ اللہ اور رسول کا ذمہ کیا ہے ؟ کیا منشاء ہے ؟ کیا کرنا ہے ہم نے آگے ؟ تو پھر تم آزمائش میں پڑجاؤ گے، اپنی ذمہ داری پر معاہدہ کرو ! بہت اہم نکتہ نبی عَلَیْہِ السَّلَامْ نے ان کو سکھایا اور اہمیت بھی بتا دی کہ اللہ اور رسول کا ذمہ کتنا اہم ہوتا ہے، معمولی بات نہیں ہے !
ارشاد فرمایا اگر اَھْلِ حِصَنْ کا تم محاصرہ کیے ہوئے ہو اور وہ آپ سے یہ تمنا رکھیں توقع کریں مطالبہ کریں کہ ہمیں باہر آنے دو ، نکلنے دو، ہم اتر آتے ہیں لیکن بیچ میں اللہ اور رسول کا ذمہ بناؤ ، فرمایا ہرگز ایسا نہ کرنا، کیا پتا اس کے پیچھے ان کی چال ہو وہ تو اس سے فائدہ اٹھائیں گے اور تم اللہ اور رسول کے ذمہ کی وجہ سے آزمائش میں پڑ جاؤ گے کہ ہم اللہ اور رسول کو ذمہ بنا کر بیچ میں ڈال کر اس چیز کے پابند ہیں ، اب کیا کریں ؟ توڑیں ،نہ توڑیں ؟ ہرگز اس طرح نہیں کرنا، لیکن ان کو کہو کہ اس چیز پر اتر آؤ اپنی ذمہ داری پر عَلَی حُکْمِکَ فَاِنَّکَ لَا تَدْرِیْ ، اَتُصِیْبَ حُکْمَ اللّٰہِ فِیْھِمْ اَمْ لَا ١ کیونکہ تمہیں پتہ ہی نہیں چلے گا کہ اللہ کا حکم تم ان میں جاری کر رہے ہو یا نہیں کر رہے وہ کیا ہے ؟ وہ نہیں پتا چل سکتا تمہیں وہاں پر ایسے موقعوں پر چند جو اہم چیزیں جو آچکی تھیں کُلْیَاتُ الرُّسُوْل وہ تو سکھا دیے کیونکہ اس پر تو چلنا ہے لیکن جزئیات جو پیش آتے ہیں وقتاً فوقتاً اب یہ صورتحال ، اب یہ صورتحال ، اب یہ اور اب یہ ! تو اپنی صوا ب دید پر ساتھیوں کے مشورے سے کرتے رہو تاکہ اس میں ردّوبدل بھی ساتھیوں کے مشورے سے جب چاہو کر لو تو گویا یہ بھی شرعی حکم ہی بن گیا کہ اس چیز میں تمہیں اپنے آپ اور اپنے ساتھیوں سے مشورہ کر کر شریعت نے اختیار دے دیا کہ یہ کام اس طرح انجام دے دو یہ بھی ایک شرعی حکم ہے !
تو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے جرنیل کو ، فوجی کو ، کمانڈر کو یہ فوجی ہدایات سکھلائیں ! یہ سیاسی بھی ہیں اور فوجی بھی ہیں دونوں طرح کی ہیں ، ساری چیزیں اس میں آگئیں ، اس میں سیاسی فائدے بھی ہیں اور فوجی فائدے بھی ہیں بین الاقوامی سرحدوں کے فائدے بھی احکام آگئے کیسے کرنا ہے یہ تمام چیزیں ہمیں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے سکھائی ہیں اور بتلائیں ہیں
اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی سمجھ بھی دے اور عمل کی توفیق بھی دے اور ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے اور آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی شفاعت اور ان کا ساتھ نصیب فرمائے !
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
١ مشکٰوة المصابیح کتاب الجھاد رقم الحدیث ٣٩٢٩
٭٭٭




اخبار الجامعہ
( جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد رائیونڈ روڈ لاہور)
٭٭٭
٣ دسمبر ٢٠٢٥ء کو حضرت مولانا منہاج الحق خان راشد صاحب جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور جامعہ کے مہتمم مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی اور مہتمم صاحب کو بطورِ ہدیہ کتابیں بھی پیش فرمائیں بعد ازاں شیخ الحدیث حضرت مولانا خالد محمود صاحب سے بھی ملاقات فرمائی اورواپس تشریف لے گئے ۔
اسی روز جامعہ مدنیہ جدید کے فاضل مولانا سلیم صاحب پھول نگر والے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مہتمم صاحب سے ملاقات فرمائی ، بعد ازاں واپس تشریف لے گئے ۔
٤ دسمبر کو کراچی سے حاجی نذیر صا حب اور فیصل آباد سے حبیب الرحمن صاحب مع رفقاء جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مہتمم صاحب سے ملاقات کی ، خانقاہِ حامدیہ میں چائے نوش فرمائی بعد ازاں واپس تشریف لے گئے ۔
١٥ دسمبر کو کراچی سے حضرت مولانا سلمان یٰسین صاحب جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مہتمم صاحب سے ملاقات فرمائی اور خانقاہ ِ حامدیہ میں چائے نوش فرمائی ، بعد ازاں واپس تشریف لے گئے
اسی روز برادرِ کبیر جناب شیخ عتیق انور صاحب برادر م مفتی محمد بن جمیل صاحب ومولوی محمد سلمہ جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مہتمم صاحب سے ملاقات فرمائی۔
١٩ دسمبر کو جامعہ مدنیہ جدید کے مہتمم مولانا عکاشہ میاں صاحب ،حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندی صاحب کی تعزیت کے لیے ایگریکس ٹاؤن تشریف لے گئے جہاں حضرت مولانا سہیل عرفان صاحب سے تعزیت کی ، بعد ازاں واپس تشریف لے آئے۔
٢١ دسمبر ٢٠٢٥ء بروز اتوار جامعہ مدنیہ جدید کے مہتمم مولانا عکاشہ میاں صاحب، فاضل جامعہ مولانا محمد سلیم صاحب کی پر خلوص دعوت پر پھول نگر کے گرد و نواح کے دورہ کے لیے تشریف لے گئے ، فاضل جامعہ مدنیہ جدید مولانا محمد عظیم صاحب ، مولانا محمد مبین صاحب اور مفتی محمد سفیان معاویہ صاحب امیر جمعیة علماء اسلام ضلع قصور نے پر تباک استقبال کیا جماعتی حال و احوال پر طویل گفتگو ہوئی ۔
اس کے بعد ڈیرہ جمعیة علماء اسلام تشریف لے گئے اور دعا فرمائی اور کھانا کے بعد گگہ سرائے کی طرف روانہ ہوئے ، ڈیرہ رانا ماسٹر محمد یامین صاحب کے ہاں تشریف لے گئے اور دعائے خیر فرمائی بعد ازاں رانا محمد ارشاد صاحب اور بھائی ذوالقرنین صاحب کے ڈیرے پر تشریف لے گئے اور دعا فرمائی اور مدرسہ عمر بن خطاب میں نماز ظہر ادا کی
بعد ازاں کوٹ وسن مدرسہ عربیہ فیضانِ محمود میں تشریف لے گئے اور نماز عصر ادا کی، بعد ازاں پھول نگر جامعہ مظاہر العلوم المدنیہ میں تشریف لے گئے اور مولانا عبد العزیز صاحب کی رفاقت میں خانکے موڑ حضرت مولانا خالد زبیر صاحب سے ملاقات کی اور نماز مغرب ادا فرمائی ۔ بعد ازاں جمبر کلاں جامعہ رحیمیہ قادریہ میں حضرت مولانا مفتی عبد الرحمن صاحب نقشبندی رحیم یار خان والے خلیفہ و مجاز پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندی اور مہتمم جامعہ حضرت مولانا قاری شبیر احمد صاحب عثمانی مدظلہم سے ملاقات کی، بعدازاں تمام احباب نے شیخ و مرشد حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب نور اللہ مرقدہ کے انتقال کے بعد مولانا عکاشہ میاں صاحب کی تشریف آوری پر خوشی و مسرت کا اظہار فرمایا۔
٭٭٭




قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ
محمود الملّة و الدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں نور اللّٰہ مرقدہ
کے سلسلہ وار مطبوعہ مضامین و دروس جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ پر پڑھے اور سنے جا سکتے ہیں
http://www.jamiamadniajadeed.org




وفیات
موت العالِم موت العالَم
٭٭٭
٭ ٢١ جمادی الثانی ١٤٤٧ھ/١٣ دسمبر ٢٠٢٥ء بروز ہفتہ قطب الاقطاب حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں صاحب کے شاگرد، شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب کے ہم سبق پیر طریقت رہبر شریعت حضرت مولانا صاحبزادہ پیر عبدالرحیم صاحب نقشبندی طویل علالت کے بعد چکوال میں انتقال فرماگئے ، اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے پسماندگان، تلامذة ،متعلقین اور تمام وابستگان کو صبر جمیل کی توفیق نصیب فرمائے، آمین
٭ ٢٢ جمادی الثانی ١٤٤٧ھ/١٤ دسمبر ٢٠٢٥ء بروز اتوار پیر طریقت رہبر شریعت حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندی رحمة اللہ علیہ انتقال فرماگئے ! اللہ تعالیٰ حضرت کی مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے پسماندگان، تلامذة ،متعلقین اور تمام وابستگان کو صبر جمیل کی توفیق نصیب فرمائے ، آمین
٭ ٨ رجب المرجب ١٤٤٧ھ/٢٩ دسمبر ٢٠٢٥ء کو شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب رحمہ اللہ کے خلیفہ و مجازحضرت مولانا پیر سید مختار الدین شاہ صاحب کربوغہ شریف کوہاٹ میں انتقال فرماگئے ، حضرت کی پوری زندگی دین اسلام کی خدمت ، سنت نبوی کے فروغ ، اصلاحِ معاشرہ اور روحانی تربیت کے لیے وقف رہی ، علم و عمل کا حسین امتزاج، اخلاص وتقویٰ اور امت کا درد آپ کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے اللہ تعالیٰ حضرت کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے نیز پسماندگان اور جملہ تمام وابستگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے، آمین
٭ ٢١ دسمبر کو بانی جامعہ حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب کے شاگرد ، قاری نذیر احمد صاحب (فاضل جامعہ مدنیہ واما م مکی مسجد انارکلی )کے چھوٹے بھائی، مکی مسجد انارکلی کے مہتمم مولانا قاری محمد اُسامہ سالم صاحب کے چچا قاری علیم الدین صاحب طویل علالت کے بعد لاہور میں انتقال فرماگئے۔
٭ ٢٣ دسمبر کو جانشین خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سفیان صاحب قاسمی(دارالعلوم دیوبند وقف کے مہتمم) کے بڑے بھائی حضرت مولانا محمد سلمان صاحب قاسمی انتقال فرماگئے، اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ، آمین
٭١٠دسمبر کو جامعہ مدنیہ لاہور کے مہتمم حضرت مولانا سید رشید میاں صاحب مدظلہم کے ربیب مولانا محبوب علی صاحب کے نومولود برخوردار محمد مختصر علالت کے بعد وفات پاگئے ۔
٭ ١١ دسمبر کو جامعہ مدنیہ جدید کے خادم چاچا شان الٰہی کے والد رفیق صاحب مختصر علالت کے بعد وفات پاگئے۔
٭ ١٤دسمبر کو جامعہ مدنیہ لاہور کے مدرس حضرت مولانا مفتی محمد زبیر صاحب مدظلہم کے والد گرامی انتقال فرما گئے ۔
٭ ٢٠ دسمبر کو مکتبہ سید احمد شہید لاہور کے مالک اشفاق خان صاحب کی اہلیہ صاحبہ وفات پاگئیں ۔
٭ ٢٥ دسمبر کو شیخ الحدیث حضرت مولانا نعیم الدین صاحب مدظلہم کے بڑے بھائی حافظ انعام صاحب مرحوم کی اہلیہ وفات پاگئیں ۔
٭ ٣٠ دسمبر کو جامعہ مدنیہ جدید کے ڈرائیور محمد عبداللہ کی خالہ صاحبہ مختصر علالت کے بعد وفات پاگئیں
اللہ تعالیٰ جملہ مرحومین کی مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق نصیب ہو، آمین۔ جامعہ مدنیہ جدید اور خانقاہِ حامدیہ میں مرحومین کے لیے ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کرائی گئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ، آمین۔
٭٭٭

Have a question?

Email us your queries on jamiamadniajadeed@gmail.com you will be answered in less than 24 hours or Give us a call directly at +92 333 4249302, +92 333 4249 301.