Anwar-e-Madina

ماہنامہ انوار مدینہ

جولائی 2025

jamiamadnijadeed

ماہنامہ انوار مدينہ
جلد : ٣٣ محرم الحرام ١٤٤٧ھ / جولائی ٢٠٢٥ء شمارہ : ٧
٭٭٭
سیّد محمود میاں مُدیر اعلٰی
٭٭٭




بدلِ اشتراک
٭٭٭
پاکستان فی پرچہ 50 روپے ....... سالانہ 600 روپے
سعودی عرب،متحدہ عرب امارات..... سالانہ 90 ریال
بھارت ،بنگلہ دیش ........... سالانہ 25 امریکی ڈالر
برطانیہ،افریقہ ........................ سالانہ 20 ڈالر
امریکہ .................................. سالانہ 30 ڈالر




جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ اور ای میل ایڈ ریس
٭٭٭
www.jamiamadniajadeed.org
jmj786_56@hotmail.com
Whatsapp : +92 333 4249302




ترسیل ِزر و رابطہ کے لیے
٭٭٭
'' جامعہ مدنیہ جدید'' محمد آباد19 کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور
رابطہ نمبر : 923334249302+
موبائل نمبر : 923334249301+
موبائل : 923234250027+
موبائل : 923354249302+
جازکیش نمبر : 923044587751+




دارُالافتاء کا ای میل ایڈ ریس اور وٹس ایپ نمبر
٭٭٭
darulifta@jamiamadniajadeed.org
Whatsapp : +92 321 4790560




مولاناسیّد رشید میاں صاحب طابع وناشر نے شرکت پرنٹنگ پریس لاہور سے چھپواکر دفتر ماہنامہ ''انوارِ مدینہ '' نزد جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور سے شائع کیا




اس شمارے میں
٭٭٭
حرفِ آغاز ٤
درسِ حدیث حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ٦
سیرت ِ مبارکہ ....................... حِجُّ الْبَیْت حضرت اقدس مولانا سید محمد میاں صاحب ٨
مقالاتِ حامدیہ ....... آپ سب سے افضل آپ کی امت بھی سب سے افضل حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ٢٠
محرم الحرام کی فضیلت حضرت مولانا مفتی سیّد عبد الکریم صاحب گمتھلوی ٢٤
عصمت ِانبیاء و حرمت ِصحابہ حضرت علامہ محمد یوسف صاحب بنوری ٢٦
قائد جمعیة علماء اسلام کا قومی اسمبلی میں خطاب حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب ٤٤
رحمن کے خاص بندے قسط : ٣٣ حضرت مولانا مفتی محمد سلمان صاحب منصورپوری ٥٣
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی قسط : ١ مولانا محمد معاذ صاحب ٥٨
اخبار الجامعہ مولانا عکاشہ میاں صاحب ٦٥




دعائے صحت کی اپیل
٭٭٭
شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب مدظلہم العالی تین ماہ سے شدید علیل ہیں
قارئین کرام سے حضرت مدظلہم کی صحت یابی کے لیے دعائوں کی اپیل ہے (ادارہ)




حرف آغاز
٭٭٭
شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب مدظلہم گزشتہ تین ماہ سے شدید علیل ہیں
اس لیے اس ماہ کا اداریہ حضرت مولانا نعیم الدین صاحب مدظلہم نے تحریر کیا ہے (ادارہ)
٭٭٭
نَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْدُ !
بین الاقوامی طور پر مسلم ممالک سمیت ہمارا وطن عزیز پاکستان بھی تقریباً گزشتہ دو ماہ سے مشکلات سے گزر رہا ہے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وطن عزیز اور تمام اسلامی ممالک کی حفاظت فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین
ان حالات میں ہر ہر فرد اور ہر ہر جماعت کے ذمہ ہے کہ وہ باہمی اتحاد و اتفاق اور اخوت و محبت سے کام لے اور اسلامی نظام پر عمل کر کے دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرے اس حوالہ سے ہمیں مندرجہ ذیل تین امور پیش نظر رکھنے چاہییں : (١) تنظیم (٢) تربیت (٣) تعمیر
سب سے پہلے تنظیم سازی کے لیے ہمیں چاہیے کہ انفرادی طورپر نظم و ضبط پیدا کرکے ایک جماعت کی صورت اختیار کریں یہ بھی ذہن میں رہے کہ جماعت چند ہم خیال یا چند نعرہ باز افراد کی بھیڑ کا نام نہیں ہے ،جب تک انفرادی طور پر ہم خود یا اجتماعی طور پر ہماری دینی جماعتیں اور تمام اسلامی ممالک دینی اصول و ضوابط کے مطابق نظم و ضبط پیدا کر کے ایک جماعت کا مظاہرہ نہیں کریں گے اس وقت تک ہم معاشرے میں کوئی موثر کردار ادا نہیں کر سکیں گے !
دوسری چیز جس کی ہمیں اور تمام دینی جماعتوں کو اشد ضرورت ہے وہ ہے اپنی اور جماعت سے وابستہ افراد اور ارکان کی دینی، مذہبی، سیاسی اور سماجی تربیت ! یعنی ہمارا ہر ہر فرد صوم و صلوٰة اور اسلامی فرائض کا پابند ہو، ناجائز امور اور محرمات سے دور ہو، اسے بقدرِ ضرورت دینی مسائل ، سیاسی تقاضوں اور سماجی ضرورتوں کا علم ہو اس کے نزدیک سیاست صرف حب ِجاہ اور شخصیت نمائی نہ ہو بلکہ خدا کی مخلوق کی بے لوث خدمت، ضرورت مندوں اور عوام کی دینی و دنیاوی اصلاح اس کی زندگی کا مشن ہو !
تیسری چیز جو ہمارے لیے نہایت ضروری ہے وہ ہے'' تعمیر '' یعنی ہمارا باہمی رابطہ ہو ! ہر شخص ایک دوسرے تک دینی دعوت پہنچائے، گھل مل کر اسلامی فرائض سیکھیں سکھائیں ، مسجدوں میں خود بھی آئیں اپنے ساتھیوں کو بھی لائیں ، مشکلات اور پریشانیوں کے حل میں ایک دوسرے کی مدد کریں ، ہمدردی اور خیرخواہی کے جذبہ سے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں !
مختصر یہ کہ اسلامی نظام کی کامیابی کے لیے ہر فرد اپنی اور ہر قوم اجتماعی طور پر اپنی ذہنی تعمیر، اخلاقی تعمیر ، سماجی تعمیر اور دینی تعمیر کی طرف توجہ دے ،جب تک ہم محنت ،لگن ،خلوص اور جذبے سے کام کرتے رہیں گے تو ہم اپنی شاندار ماضی کی تاریخ کو دہراتے رہیں گے اور جب ہم ان چیزوں کو چھوڑ دیں گے تو یاد رکھیں کہ اسلام دشمن عناصر پہلے ہی سے ہماری ذہنی تخریب میں لگے ہوئے ہیں وہ ہمیں دنیا و آخرت میں ناکام و نامراد کر چھوڑیں گے، اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی وناصر ہو !
نعیم الدین
یکم محرم الحرام ١٤٤٨ھ / ٢٧ جون ٢٠٢٥




درس حدیث
قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ
٭٭٭
کا مجلس ِذکر کے بعد درسِ حدیث ''خانقاہِ حامدیہ چشتیہ'' شارع رائیونڈ لاہور کے زیرِانتظام ماہنامہ '' انوارِ مدینہ'' کے ذریعہ ہر ماہ حضرت اقدس کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کے اس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے،آمین۔ (ادارہ)
٭٭٭
رضا اور عافیت سب سے بڑی نعمت
(درسِ حدیث نمبر٢٩٣ ٣١جنوری ١٩٦٩ئ)
٭٭٭
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا
مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ !
ایک صحابی سے ان کے صا حبزادے نے یہ سوال کیا کہ میں دیکھتا ہوں آپ ہر دن یہ دعا کرتے ہیں اَللّٰہُمَّ عَافِنِیْ فِیْ بَدَنِیْ اَللّٰہُمَّ عَافِنِیْ فِیْ سَمْعِیْ اَللّٰہُمَّ عَافِنِیْ فِیْ بَصَرِیْ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ ١ اے اللہ میرے بدن میں تو عافیت قائم رکھ، اے اللہ میرے کانوں میں عافیت قائم رکھ ، الٰہی میری آنکھوں میں بھی عافیت قائم رکھ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں یہ گویا تین دعائیں ہیں
صاحبزادے کامقصد یہ تھا کہ معلوم کر لیں کہ یہ دعا جو والدصاحب ہر روز تین دفعہ صبح اور تین دفعہ شام کو پڑھتے ہیں کس نے ذمہ لگائی ہے ؟ خود بنائی ہے یا کوئی اور وجہ ہے ؟
صحابی نے جواب دیا کہ بیٹے، میں نے جنابِ رسالت مآب علیہ الصلٰوة والسلام کو ان کلمات کے ساتھ دعا کرتے ہوئے خود سنا ہے اور میں پسندکرتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کے طریق پر عمل کروں ! گویا یہ جواب دیا کہ میرا مقصد اس دعا سے سوائے اس کے کچھ نہیں کہ سر کارِ کائنات صلی اللہ عليہ وسلم کی اطاعت کرنی مجھے بہت پسند ہے، یہ دعائیں صرف سنت ِ نبوی کے باعث کر رہاہوں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ
١ مشکوٰة المصابیح کتاب الدعوات رقم الحدیث ٢٤١٣
صحابۂ کرام ہر کام رضائے خدا کومدِنظر رکھ کرکرتے تھے اور انہیں یہ یقین تھا کہ نبی ٔ اکرم صلی اللہ عليہ وسلم کی سنت پر عمل پیرا ہونے سے ہمیں (رضائے الٰہی کی) یہ دولت حاصل ہوجائے گی !
صحابہ کرام کا سب سے بڑا مقصد رضائے الٰہی کا حصول تھا وہ اس کے لیے ہر وقت کو شاں رہتے قرآنِ حکیم میں ہے کہ صحابہ کرام رکوع کرتے تھے، سجدہ کرتے تھے یہ سب کچھ اللہ کی رضا کے لیے ہی کرتے تھے ( یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا )
حضور اکرم صلی اللہ عليہ وسلم کی اس دعا میں کانوں کو مقدم کیا گیا ہے، کانوں کی عافیت کی دعا آنکھوں سے پہلے طلب کی گئی ہے یہ اس لیے کہ کان آنکھ سے زیادہ کار آمد ہیں ، انسان آنکھوں کی بہ نسبت کانوں سے زیادہ کام لیتا ہے ، کان سے آدمی سننے میں روشنی کامحتاج نہیں ، اندھیرے میں بھی کان سے کام لیا جاسکتاہے ،اس کے ذریعہ سے سنا جاسکتا ہے، کان سے کام لینے کے لیے رخ پھیرنا بھی ضروری نہیں ، رخ پھیرے بغیر بات سنی جا سکتی ہے بخلاف آنکھ کے کہ بغیر روشنی کے اس سے کام نہیں لیا جاسکتا، روشنی نہ ہو تو آنکھ سے کوئی چیز نہیں دیکھ سکتے ، آنکھ سے کام لینے کے لیے اس طرف رخ پھیرنا بھی ضروری ہوتا ہے کیونکہ اس کے بغیر دیکھا نہیں جاسکتا، ایک انسان آنکھوں کی بہ نسبت کانوں سے زیادہ معلومات حاصل کر سکتا ہے قرآنِ کریم میں بھی کانوں ہی کو مقدم فرمایا گیا ہے ا رشاد ہے ( اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ ) آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کے یہ کلمات قرآنِ کریم کے عین مطابق ہیں قرآن میں بھی یہی تر تیب رکھی گئی ہے ! !
رسولِ اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایمان کے بعد عافیت سے بڑی چیز کوئی نہیں ، آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم کا ارشاد بالکل بر حق ہے کسی کو ہر طرح کی را حتیں میسر ہوں مگر وہ بیمارہو تو گویا کچھ بھی نہیں ، عافیت نصیب نہ ہو تو دنیا کے لذائذ و تمتعات سے آدمی کبھی بھی لطف اندوز نہیں ہو سکتا، زندگی بغیر عافیت کے سر ا سر مصیبت ہے اگرکسی انسان کو کچھ بھی میسر نہیں مگر عافیت کی دولت نصیب ہے تو وہ خوش قسمت ہے عا فیت کا مطلب ہے بے فکری، پریشانیوں سے آزاد ہونا، دل کا مطمئن ہونا، غم وآلام سے پناہ میں رہنا !
( مطبوعہ ماہنامہ انوارِ مدینہ اپریل ٢٠١٧ء بحوالہ ہفت روزہ خدام الدین لاہور ٣١جنوری ١٩٦٩ء )




سیرتِ مبارکہ
٭٭٭
مقاصدِ بعثت ، فرائضِ نبوت اور تکمیل
سیّد الملة و مؤرخ الملة حضرت مولانا سیّد محمد میاں صاحب کی تصنیفِ لطیف
سیرتِ مبارکہ '' محمد رسول اللّٰہ '' صلی اللہ عليہ وسلم کے چند اوراق
٭٭٭
حِجُّ الْبَیْت :
وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً ۔ ( سورة آلِ عمران : ٩٧ )
''اور اللہ کا حق ہے لوگوں پر حج کرنا اس بیت کی جو کوئی پاوے اس تک راہ'' ١
رب اکبر کے بیت الحرام کی بنیادیں بلند کرتے ہوئے حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام نے امت ِ مسلمہ اور اس کے لیے رسول کی وہ دعا کی تھی جس کی ضیا پاشی کا تذکرہ پہلے صفحات میں گزرا اسی وقت حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوة السلام نے حضرت حق جل مجدہ کے اس حکم کی تعمیل بھی کی تھی
( اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ ) ''لوگوں میں حج کا اعلان پکار دے''
یہ رسول موعود محمد صلی اللہ عليہ وسلم اپنے مورث ِ اعلیٰ کی ملت ''ملتِ ابراہیم'' کا احیاء کرتے ہوئے بحکم خدا خانۂ کعبہ کو قبلہ بناچکے تھے لیکن اعلانِ حج کا جو تقاضا تھا
( یَاْ تُوْکَ رِجَالًا وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ ) ٢
''آئیں گے تیرے پاس پا پیادہ اور دبلے پتلے اونٹوں پر جو دور دراز راستوں سے آئیں گے''
یہ تقاضا پورا نہیں ہوسکا تھا اور کیسے پورا ہوتا جبکہ خانہ کعبہ پر قریش کا قبضہ تھا اور انہوں نے اس مرکز ِ توحید کو کفروشرک کا تیرتھ ٣ بنا رکھا تھا۔
لیکن ملت ِ ابراہیمی کے فدا کاروں میں جو جذبہ تحویلِ قبلہ کے لیے تھا وہی جذبہ اور ممکن ہے اس سے زیادہ جذبہ اور شوق اس کا ہو کہ اعلانِ ابراہیمی کے تقاضے کو پورا کریں اس جذب واضطراب کو بڑا سکون وارث ابراہیم خلیل اللہ محبوب رب العالمین صلی اللہ عليہ وسلم کے اس جواب سے ہوا کہ
''سر منڈاتے ہوئے یا بال کتراتے ہوئے مسجد ِ حرام میں داخل ہورہے ہیں ''
١ ترجمہ از حضرت شاہ صاحب ٢ سورة الحج : ٢٧ ٣ مقدس مقام یا مندر
اسی دور میں آنحضرت نے عمرہ کا ارادہ فرمایا لیکن جب چودہ سو مؤمنین صالحین کے پورے قافلہ اور ان کے آقا اور قائد (صلی اللہ عليہ وسلم) کومقام حدیبیہ پر روک دیا گیا پھر صلح ہوئی تو نہایت دبی ہوئی شرطوں پر جن میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ اس وقت نہ عمرہ کریں ، نہ مکہ میں داخل ہوں ، اس وقت حدیبیہ ہی سے واپس ہوجائیں آئندہ سال آسکتے ہیں مگر خاص خاص پابندیوں کے ساتھ کہ اسلحہ کم سے کم ہو اور وہ بھی نیاموں میں بند ہو، صرف تین دن قیام کریں (وغیرہ وغیرہ) تو ایک مایوسی لازمی تھی لیکن وحی الٰہی نے جس طرح اس دبی ہوئی صلح کو فتح مبین فرمایا، مایوس دلوں کو یہ بشارت دے کرتازگی بخشی کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب اللہ کے رسول (صلی اللہ عليہ وسلم) کا خواب پورا ہوگا
( لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِِنْ شَآئَ اللّٰہُ اٰمِنِیْنَ مُحَلِّقِیْنَ رُئُ وْسَکُمْ
وَمُقَصِّرِیْنَ لاَ تَخَافُوْنَ ) ( سورة الفتح : ٢٧ )
''تم مسجد حرام میں ان شاء اللہ ضرور جاؤگے امن وامان کے ساتھ کہ تم میں کوئی سر منڈائے ہوگا ، کوئی بال کتراتا ہوا ، کسی طرح کا اندیشہ نہ ہوگا''
وحی الٰہی سراسر صداقت ہوتی ہے ایک سال بعد ان سب نے عمرہ کیا جن کو بشارت دی گئی تھی پھر جب ٨ ہجری میں مکہ معظمہ فتح ہوچکا تو سن١٠ھ میں خواب کی تعبیر اس شان سے جلوہ گر ہوئی جس کی تفصیل آگے آرہی ہے ! !
حجِ اسلام اور اعلانِ براء ت ٩ ہجری :
رمضان شریف ٨ھ میں مکہ فتح ہوا مگر چونکہ فورًا ہی حنین و اوطاس کے معرکے پیش آگئے پھر طائف کے محاصرہ میں تقریباً ایک مہینہ لگ گیا اس لیے اس سال حج کا انتظام پہلے ہی ہاتھوں میں رہا، صرف حج کے ارکان مسلمانوں نے حضرت عتاب بن اسید رضی اللّٰہ عنہ کے ساتھ ادا کیے جو مکہ معظمہ کے امیر (گورنر ) مقرر کیے گئے تھے ! !
اب مکہ فتح ہوئے ایک سال ہوچکا ہے، نہ صرف مکہ کے باشندے بلکہ قریب قریب عرب کے تمام ہی قبیلے مسلمان ہوچکے ہیں ،پہلے عرب کفار ومشرکین کا تھا اب عرب مسلمانوں کا بن چکا ہے ١ لہٰذا اس سال حج کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیا جارہا ہے مگر آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم بہ نفس نفیس اس سال بھی تشریف نہیں لے جاسکے ٢ لہٰذا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو قائم مقام بنایا گیا اور تین سو صحابہ کے ساتھ حج ادا کرنے کے لیے روانہ فرمادیا گیا، بعد میں حسب ِارشاد رسالت مآب صلی اللہ عليہ وسلم سیّدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی خصوصی اعلان کے لیے پہنچ گئے ٣
١ عرب کے باشندے چونکہ قریش کے زیر اثر تھے اس لیے اسلام لانے میں بھی قریش کے روّیہ پر ان کی نظر تھی صلح حدیبیہ نے ان کے خیالات میں تبدیلی پیدا کی، مسلمانوں کو تبادلہ خیالات کا موقع ملا لہٰذا اسلام قبائل میں پھیلنے گا اور جب مکہ فتح ہوچکا اور قریش حلقہ بگوشِ اسلام بن گئے تو اب تمام رکاوٹیں ختم ہوگئیں ، اب ہر قبیلہ اسلام کی طرف لپکنے لگا اور وہ اسلام جو گزشتہ اکیس سال میں چیونٹی کی چال چلا تھا اب وہ ایک سیلاب بن گیا جس کی لہریں عرب کے کناروں کو چھونے لگیں ۔
٢ اس لیے کہ خانہ کعبہ اگرچہ نشاناتِ شرک سے پاک ہوچکا تھا مگر سلسلہ حج اس طرح پاک نہیں ہوا تھا کیونکہ مشرکین بھی آتے تھے اور ان کی مشرکانہ رسوم اور وحشیانہ حرکتیں (مثلاً برہنہ حج کرنا) باقی تھیں ، حج میں اس سال ان کی ممانعت کا اعلان کر کے مناسکِ حج کو پاک کرنا تھا ! اور اس لیے بھی آپ تشریف نہیں لے گئے کہ ''نسی'' یعنی لوند کی وجہ سے جو مہینوں کی ترتیب بگڑی ہوئی تھی وہ درست نہیں ہوئی تھی، یہ ترتیب اگلے سال درست ہوئی جس سال آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے حج فرمایا اسی موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا تھا
اِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ کَھَیْئَتِہ یَوْمَ خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضَ (بخاری ص ٦٧٢ رقم الحدیث ٤٦٦٢)
''زمانہ کی جو ترتیب اس روز تھی جس روز اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین پیدا کیے تھے اسی ترتیب پر لوٹ آیا ہے''
واللّٰہ اعلم بالصواب
٣ اس موقع پر بھی پوری اہمیت کے ساتھ یہ اعلان کرنا تھا کہ جو کفار ومشرکین عہد نامہ کی خلاف ورزی کر چکے ہیں ان کا معاہدہ مسلمانوں کی طرف سے بھی منسوخ کیا جاتا ہے اور آئندہ اس کی ذمہ داری سے براء ت کی جاتی ہے ! اس قسم کے اہم اعلان کے لیے عربوں کے قاعدہ کے مطابق ضروری تھا کہ خود صاحب ِ معاملہ اعلان کرے یاکوئی اس کاصلبی عزیز اعلان کرے ! حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ شرف حاصل تھا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کے چچازاد بھائی تھے لہٰذا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا تاکہ مشرکین کو حیلہ بہانہ کا موقع نہ رہے ! !
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسلام کی تعلیم کے مطابق حج کرایا حج کے زمانہ میں وہ خداوندی اعلان بار بار سنایا جس کی ہدایت سورۂ براء ت کے شروع کی گئی ہے کہ ١
(١) وہ لوگ جو معاہدے کے پابند رہے ہیں ان کے معاہدے اپنی مدت تک باقی رہیں گے
(٢) جن لوگوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی یا اب تک کوئی معاہدہ ہی نہیں کیا تھا ان کو چار ماہ کی مہلت اور دی جاتی ہے ٢ پھر ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان ہے ٣
(٣) آئندہ کوئی مشرک اللہ کے گھر میں داخل نہ ہوسکے گا (٤) کوئی شخص ننگے بدن طواف نہیں کرے گا
حج فرض ، حجة الوداع :
( لَقَدْ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہُ الرُّؤْیَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ اٰمِنِیْنَ مُحَلِّقِیْنَ رُئُ وْ سَکُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ لَا تَخَافُوْنَ ) ( سورة الفتح : ٢٧ )
١ ذی الحجہ جس کو یوم النحر کہا جاتا ہے اس روز حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے منیٰ کے عام اجتماع میں اعلان کیا کہ آئندہ کوئی مشرک خانہ کعبہ میں نہیں داخل ہوسکے گا، نہ کوئی شخص برہنہ بدن طواف کر سکے گا ! (بخاری )
پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سورۂ براء ت کی ابتدائی آیتیں پڑھیں جن میں مذکورہ بالا امور کا اعلان ہے ! حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور دوسرے حضرات نے اس اعلان کی اس طرح زور زور سے تشہیر کی کہ ان کے گلے پڑگئے (یعنی پیچھے پڑ گئے )( سیرة ابن ہشام )
٢ مکہ معظمہ گزشتہ سال ٢٠ رمضان کو فتح ہوچکا ہے جس کو آج ١٠ ذی الحجہ ٩ھ کو پندرہ مہینے گزر چکے ہیں اب تک مشرکوں اور کافروں سے کچھ نہیں کہا گیا اور آج بھی چار ماہ کی مزید مہلت دی جارہی ہے اس سے بڑھ کر اور سیر چشمی کیا ہوسکتی ہے ؟ پھر بھی کہا جاتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ! !
٣ اس اعلان کے بموجب کسی قبیلے سے بھی جنگ کی نوبت نہیں آئی کیونکہ اس سے پہلے ہی وہ سب لوگ مسلمان ہوچکے تھے جن پر اس دفعہ کا اطلاق ہوسکتا تھا۔
''بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھلایا ہے جو مطابق واقع کے ہے کہ تم لوگ مسجد ِ حرام میں ان شاء اللہ ضرور جاؤگے امن وامان کے ساتھ کہ تم میں کوئی سر منڈاتا ہوگا ،کوئی بال کتراتا ہوگا ،کسی طرح کا اندیشہ نہ ہوگا '' ١
خدا کے سارے احکام پہنچا دیے گئے ان پر عمل کا عادی بھی بنادیا گیا لیکن ایک فرض باقی رہ گیا
یعنی '' حج بیت اللّٰہ '' ا س پر عمل کرانا باقی ہے۔
١٠ہجری ذیقعدہ کا مہینہ آیا عرب میں حج کاا علان کرادیا گیا، اہل ایمان مرد عورتیں اور بچے سب طرف سے آنے لگے آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کا موکبہ ہمایونی ٢ ٢٦ ذیقعدہ ١٠ہجری کو مدینہ طیبہ سے روانہ ہوا ، شمع ِ رسالت کے گرد اگرد ہزاروں پر وانوں کا ہجوم ہے ! راستہ میں بے شمار پروانوں کے جھرمٹ آتے جاتے اور ( لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ) کہتے ہوئے پروانوں میں ملتے جاتے ہیں اس طرح ان کی تعداد سوا لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے ! !
٤ ذی الحجہ ١٠ہجری کو یہ نورانی قافلہ جو رحمة للعالمین صلی اللہ عليہ وسلم کی زیر قیادت لشکر ِ رحمت ہے بلد حرام (مکہ معظمہ) میں داخل ہوا، قواعد ِ حج کے مطابق ٨ ذی الحجہ کو مکہ معظمہ سے روانہ ہوکر شب کو منیٰ میں قیام کرتے ہوئے ٩ ذی الحجہ کو مقام عرفات میں نزول فرماہوا پھر اسی شام کو عرفات سے روانہ ہوکر عشاء کے قریب مزدلفہ پہنچا، شب کو یہاں قیام فرماکر صبح سویرے یہ نورانی میلہ مزدلفہ سے منیٰ منتقل ہوا جہاں دوروز قیام پذیر رہا، ان ایام میں ان کے امام نے ( جو سیاسی نظام کے لحاظ سے بھی امام اعظم ہے اور نہ صرف امام المومنین بلکہ امام الانبیاء وسیّد المرسلین ہے (صلوات اللّٰہ وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین) تقریر فرمائی اس کے متفرق اجزاء جو بخاری ، مسند احمد، مسند بزاز،طبرانی میں پھیلے ہوئے ہیں ، ان کا مفہوم اپنی زبان اور اپنے الفاظ میں پیش کیا جارہا ہے مطالعہ فرمائیے اور سبق لیجیے
١ یہ داخلہ ٧ہجری میں ہوچکا تھا جب عہد نامہ حدیبیہ کے بموجب آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ عمرہ کے لیے تشریف لے گئے اور اطمینان سے عمرہ کیا پھر حلق وقصر کیا ! اس سے پہلے خیبر فتح ہوچکا تھا چونکہ یہ تمام وعدے حج فرض پر بھی صادق ہورہے ہیں اس مناسبت سے یہ آیت یہاں پیش کردی گئی۔ ٢ بابرکت لشکر ، بختوں والی سواری
ناقہ کی پشت جو اس وقت تاجدار دوجہاں سیّد الثقلین صلی اللہ عليہ وسلم کا گویا منبر تھا اسی ذی حیات منبر سے آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے امت کو خطاب فرمایا
خطبہ حجة الوداع :
پہلے تین دفعہ اللّٰہ اکبر ، اللّٰہ اکبر ، اللّٰہ اکبر پھر ارشاد فرمایا
''خدائے واحد کے سوا کوئی معبود نہیں ، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اپنے بندے کو کامیاب کیا، تن تنہا تمام ٹولیوں کو پسپا کردیا ،وہی تعریف کا مستحق ہے ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں اسی سے مدد چاہتے ہیں اسی سے مغفرت مانگتے ہیں ١ اور گواہی دیتے ہیں کہ اس اکیلے معبود کے سوا کوئی معبود نہیں ، محمد اس کا بندہ اور پیغمبر ہے'' ٢
لوگو ! میں تمہیں خوفِ خدا کی وصیت کرتا ہوں دیکھو چار چیزیں ہیں
خدا کے سوا کسی کو شریک نہ بناؤ ، کسی کی ناحق جان نہ لو ، زنا نہ کرو ، چوری نہ کرو
اے لوگو ! میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں
دیکھو سنو ! اپنے پروردگار کی عبادت کرو ، پنچ وقتہ نمازیں ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو ، زکوة ادا کرو ، جن کو تم اپنے معاملات کا ذمہ دار بناؤ
ان کی بات مانو اپنے رب کی جنت میں خوشی خوشی داخل ہو جاؤ ! !
دیکھو جو کہہ رہا ہوں اسے غور سے سنو یاد رکھو ممکن ہے آئندہ مجھے نہ دیکھ سکو !
لوگو ! بتاؤ یہ کون سا دن ہے کون سا مہینہ ہے کس مقام پر تم اس وقت ہو ؟
١ یہ ہے مقام نبوت تئیس سالہ جدوجہد کا نام نہیں ، اپنی جفاکشی اور محنت کا کوئی تذکرہ نہیں ، اپنی ہستی کچھ نہیں ، جو کچھ ہے اللہ کا فضل وکرم ہے اس کی امداد واعانت ہے اپنی کوتاہیاں سامنے ہیں جن کی مغفرت طلب کی جا رہی ہے اپنے کسی کمال کا تصور اور خیال بھی نہیں ، پورا خطبہ پڑھ لو کہیں اپنی معمولی سی تعریف بلکہ تعریف کا کوئی شائبہ بھی نہیں ملے گا جبکہ سیاسی رہنما ایسے موقع پر اپنی خدمات بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں اور اپنی ہوش مندی اور سلیقہ مندی کے قصیدے خود اپنی زبان سے پڑھتے ہیں '' ٢ بخاری شریف وغیرہ
(پھر ارشاد ہوا) یہ وہی دن ہے جس کی تم ہمیشہ سے تعظیم کرتے چلے آئے ہو جس میں ایک دوسرے کے خون کو حرام سمجھتے آئے ہو، یہ وہی ذی الحجہ ہے جس میں آپس میں قتل وخون سب سے بڑا جرم سمجھتے رہے ہو ۔ یہ وہی شہر ہے جس کی حرمت وعظمت کا سکہ تمہارے دلوں پر بیٹھا ہوا ہے جس میں ہر ایک کی جان محفوظ مانی جاتی ہے !
دیکھو، ایک دوسرے کی جان، مال، آبرو، ایسی ہی حرام ہے جیسے یہ مبارک دن اس مبارک مہینہ میں اس مقدس شہر میں !
اے لوگو ! میری بات سنو اور زندگی پاؤ !
خبردار ظلم نہ کرنا، خبردار ظلم نہ کرنا، خبردار ظلم نہ کرنا ،کسی بھی شخص کا مال اس کی رضا مندی کے بغیر لینا روا نہیں ، جس کے پاس کسی کی امانت ہے وہ احتیاط سے اس کو ادا کردے۔ ( مسند احمد )
پھر ارشاد ہوا
مسلمانو ! خبردار، خبردار، میرے بعد گمراہ اور کافر مت ہوجانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردن مارتے پھرو ! میری سنو اور خوب سمجھ لو یاد رکھو مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اور سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں دیکھو ظلم مت کرو، کسی کی آبرو مت گراؤ''
عورتوں کے حقوق :
''اے لوگو ! اپنی عورتوں پر تمہارا حق ہے اور ان کا تم پر، تمہارا حق عورتوں پر یہ ہے کہ وہ تمہاری ناموس اور آبرو کی حفاظت کریں ،کوئی بدکاری عمل میں نہ لائیں عورتوں کا حق تم پر یہ ہے کہ تم خوش دلی سے ان کو کھانا کپڑا دو، عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے !
دیکھو عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو، وہ اللہ کی بندیاں ہیں ، خدا نے تم کو ان پر بڑا ئی دی ہے عورتوں کے معاملہ میں خوف ِ خدا سے کام لو'' ! !
گزشتہ دور کے مظالم فراموش :
دیکھو ! خون (یعنی قتل کرنے اور قصاص لینے کے اور) پانی کے چشموں اور اموال کے جو تنازعات چلے آرہے تھے آج وہ سب میرے قدموں کے نیچے (پامال ہوچکے) ان کو فراموش کرو اور سب سے پہلے جس خون کا مطالبہ معاف کیا جاتا ہے وہ (میرے چچا زاد بھائی) ربیعة بن حارث بن عبدالمطلب کا خون ہے یہ شیر خوار تھا قبیلہ بنی حارث میں پرورش پا رہا تھا قبیلہ ہذیل کے لوگوں نے اس کو زمانہ شیرخواری ہی میں قتل کر دیا تھا (اس کا خون میں معاف کرتا ہوں )
اور دیکھو زمانہ جاہلیت کے تمام سود معاف ! میں سب سے پہلے وہ سود معاف کرتا ہوں جو میرے چچا عباس کے لوگوں کے اوپر تھے اگرچاہو تو اصل قرض لے سکتے ہو، نہ تم پر کوئی ظلم، نہ تمہارا کسی پر ظلم ( مسند احمد )
لوند ختم :
اور دیکھو زمانہ اسی ہیئت پر لوٹ آیا ہے جو اس کی ہیئت ابتداء ً آفرینش میں تھی جب اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان پیدا کیے تھے
( اِنَّ عِدَّةَ الشُّھُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَھْرًا فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضَ مِنْھَآ اَرْبَعَة حُرُم ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْھِنَّ اَنْفُسَکُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّةً کَمَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ کَآفَّةً وَ اعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ ) ( التوبة : ٣٦ )
'' مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کے حکم میں جس دن اس نے پیدا کیے تھے آسمان اور زمین ان میں چار مہینے ہیں ادب کے، یہی ہے سیدھا دین سو ان میں ظلم مت کرو اپنے اوپر ! اور لڑو سب مشرکوں سے ہر حال میں جیسے وہ لڑتے ہیں تم سے ہر حال میں اور جان لو کہ اللہ ساتھ ہے ڈرنے والوں کے ''
مسلمانو ! خبردار، خبردار، میرے بعد کفر کی باتوں پر نہ آجانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارتے پھرو'' ( صحیح البخاری )
''دیکھو شیطان مایوس ہوچکا ہے کہ نماز پڑھنے والے اس کی پوجا نہیں کر سکتے، ہاں وہ تمہارے اندر جھگڑے کھڑے کرنے میں (لگ گیا ہے) وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر تمہیں بھڑکاتا رہے گا دیکھو احتیاط سے کام لیتے رہنا'' ( مسند احمد )
مساوات ِانسانی :
ارشاد ہوا : اے لوگو ! تمہارا رب ایک، تمہارا باپ ایک ،نہ عرب کو عجم پر فضیلت نہ عجم کو عرب پر فضیلت، نہ کالے کو گورے پر عظمت، نہ گورے کو کالے پر بڑائی، سب کے سب ایک باپ، آدم کی اولاد ہیں اور آدم کی آفرینش مٹی سے ہوئی تھی کسی کو جو فضیلت میسر آسکتی ہے وہ تقویٰ (خدا ترسی اور پرہیزگاری) کی بناء پر !
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ( ٰیاََیُّہَا النَّاسُ اِِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا اِِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ اِِنَّ اللّٰہَ عَلِیْم خَبِیْر ) ١
'' اے آدمیو ! ہم نے تم کو بنایا ایک مرد اور ایک عورت سے اور رکھیں تمہاری ذاتیں اور قبیلے تاکہ آپس کی پہچان ہو، تحقیق عزت اللہ کے یہاں اسی کو بڑی جس کو ادب بڑا، اللہ سب کچھ جانتا ہے خبردار '' (ترجمہ از تفسیر عثمانی)
اے جماعت ِقریش ایسا نہ ہو کہ قیامت کو تم لدے ہوئے آؤ کہ دنیا تمہاری گردنوں پر سوار ہو اور دوسرے لوگ آخرت لے کر آئیں ، دیکھو میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں کرسکتا
١ سورة الحجرات : ١٣ ، ترمذی و مسند احمد وغیرہ
مسلم اور مومن کون ہے ؟
دیکھو میں تمہیں بتاتا ہوں مسلم اور مومن کون ہے ؟ مسلمان وہ ہے کہ
سب مسلمان اس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے محفوظ رہیں ! اور مؤمن وہ ہے کہ کسی بھی انسان کو اس کی طرف سے نہ اپنی جان کا خطر ہ ہو نہ مال کا !
اور میں بتاؤں مہاجر و مجاہد کون ہے ؟ مہاجر وہ ہے جو تمام برائیوں کو چھوڑ دے اور مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کرنے میں اپنے نفس سے جہاد کرے !
اور دیکھو ایک مسلمان کی دوسرے مسلمان پر ہر چیز حرام ہے اس کی جان حرام، اس کا مال حرام، اس کی آبرو حرام !
دیکھو غیبت کر کے مردہ بھائی کا گوشت مت کھاؤ (طبرانی و بزار)
اے لوگو سنو ! جہاد فی سبیل اللہ میں ایک شام ایک صبح چلنا بھی دنیا اور دنیا کی تمام دولتوں سے بڑھ کر ہے !
دیکھو میں تم میں ایک چیز چھوڑے جاتا ہوں جس کے ہوتے ہوئے تم کبھی گمراہ نہ ہوگے بشرطیکہ اس کو مضبوطی سے سنبھالے رہو، وہ کیا ہے ؟ اللہ کی کتاب !
اے لوگو ! بتاؤ میں نے خدا کے احکام پہنچادیے جب تم سے میری بابت سوال ہوگا تو کیا کہوگے ؟
سب نے جواب دیا ''گواہی دیں گے کہ آپ نے اللہ کا پیغام پوری طرح پہنچادیا امانت ادا کردی، نصیحت میں کوئی کوتاہی نہیں کی'' ! !
اس پر آپ نے فرمایا خدایا گواہ رہ ، خدایا گواہ رہ ، خدایا گواہ رہ پھر صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا
''جو یہاں ہیں وہ سب باتیں دوسروں تک پہنچا دیں جو یہاں نہیں ہیں ''
تکمیل دین کی بشارت :
فرائض نبوت ادا کردیے گئے، مقاصد بعثت کامیاب ہوگئے اللہ کے دین کی عمارت جس کی تعمیر حضرت آدم اور حضرت نوح علیہما السلام نے شروع کی تھی اس کا آخری ردہ رکھا جا چکا ، عمارت ہر لحاظ سے مکمل ہوگئی ! ! تو عرش رحمن سے اس کی سند صادر ہوئی
( اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرِضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ) ١
''آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کردی اور تمہارے لیے پسند کرلیا دین ِاسلام '' ! !
مکہ معظمہ سے واپسی
فرائض وواجبات حج سے (فراغت ہوگئی تو ١٤ ذی الحجہ کو آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم اور آپ کے پاکباز رفقاء مکہ سے واپس ہوئے ، ( صلوات اللّٰہ وسلامہ علیہ وعلی آلہ واصحابہ اجمعین )
اعلام رخصت :
( اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَرَأَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْ اِنَّہ کَانَ تَوَّابًا) ٢
''جب آپہنچے خدا کی مدد اور فتح اور آپ لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق جوق داخل ہوتا ہوا دیکھ لیں تو اپنے رب کی تسبیح وتحمید کیجیے اور اس سے مغفرت کی درخواست کیجیے وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے'' ! !
سیّدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ نے اس سورت کو آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کی رحلت کا اعلامیہ قرار دیا کیونکہ مقاصد بعثت پوری طرح مکمل ہوچکے ! !
١ سورة المائدہ : ٣ ٢ سورة النصر
(الف) تطہیر کعبہ، آخری مقصد تھا، مکہ معظمہ فتح ہوا تو سب پہلے اس فرض کو انجام دیا گیا کہ خدائے واحد کے بیت کو جو سینکڑوں معبودانِ باطل کا بیت بنادیا گیا تھا، پھر سے ''بیت اللّٰہ'' بنادیا گیا، کھلی آنکھوں ( جَآئَ الْحَقُّ وَ زَہَقَ الْبَاطِلْ ) کا مشاہدہ کرادیا گیا ١
(ب) سلسلہ دعوت جس کا دامن صلح حدیبیہ کے بعد سے وسیع ہونا شروع ہوا تھا یہاں تک کہ فتح کے بعد سارا عرب اس کا میدان بن گیا اور اقتدارِ قریش جو آخری رکاوٹ تھا اس کی دھجیاں بکھری ہوئی خود قبائل نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں تو وفود قبائل کی فوجیں بارگاہ ِ رسالت میں حاضر ہونے لگیں ، دین کا پودا جو تئیس برس پہلے لگایا تھا تن آور درخت بن گیا !
(ج) یہ مقاصد پورے ہوگئے تو وہ روحِ قدسی جو ان ہی مقاصد کے لیے خاکدان ارضی میں نزول فرما تھی اور بے چین تھی کہ رفیق اعلیٰ کی رفاقت میسر آئے اب وقت آگیا کہ یہ بے چینی ختم ہو اور رفاقت دائمی میسر ہو !
(د) تسبیح وتحمید اس رفاقت کا رابطہ ہے، حکم ہواکہ اسی رابطہ میں مشغول ہوجاؤ یہی ہے مفہوم سورت ( واللّٰہ اعلم )
علالت ، دورانِ علالت میں حدیث ِقرطاس، وصیتیں ، خطابات ونیابت امامت، غسل، تجہیز، تکفین، تدفین، نماز جنازہ، مسئلہ جانشینی، خبر رحلت سے صحابہ کے تاثرات، صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی تسکین، وراثت انبیاء علیہم السلام، اس کے علاوہ سفر حج کی تفصیل، غدیر خم کی تقریر نیز وفود کی آمد، آمد وفود پر خطابات و مکالمے ، قصہ فدک، افسانہ افک، مسئلہ متعہ، ازواج مطہرات اور ان کا تعارف، واقعہ ایلا، جلیلہ متبنٰی سے نکاح ، غلامی اور آزادی جیسے مسائل جلد ثانی میں ملاحظہ فرمائیں جس میں غزوات وسرایا کی تفصیل کے بعد ان مسائل پر بھی بحث ہوگی ان شاء اللّٰہ
شب چہار شنبہ ٢١ شوال ١٣٨٩ھ/ ٣١ دسمبر ١٩٦٩ء
محمد میاں عفی عنہ و غفرلہ ولوالدیہ
( ماخوذ از سیرتِ مبارکہ '' محمد رسول اللّٰہ '' صلی اللہ عليہ وسلم ص ٥٨٦ تا ٥٩٨ ناشر کتابستان دہلی )
١ سورة بنی اسرائیل : ٨١ حق آیا باطل جاتا رہا ! آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کے دست مبارک میں ایک چھڑی تھی خانہ کعبہ کے گردا گر د جو بڑے بڑے بت تھے یہ آیت پڑھتے ہوئے آپ چھڑی کی نوک بت پر مارتے تھے اور وہ بت زمین پر ڈھیر ہوجاتا تھا ! !




مقالات حامدیہ
٭٭٭
آپ سب سے افضل ، آپ کی امت بھی سب سے افضل
قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں
عنوانات ، حاشیہ و نظرثانی بتغیرِ یسیر : حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب
٭٭٭
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا
مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ !
آقائے نامدار سر ور عالم محمد مصطفٰی صلی اللہ عليہ وسلم افضل الخلائق ہیں تمام انبیائِ کرام علیہم الصلٰوة والسلام کے سردار ہیں ، جس طرح آپ تمام انبیاء کے بڑے ہیں آپ کی امت بھی دوسری سب امتوں سے افضل ہے ! نبی کریم علیہ الصلٰوة والسلام کو پچھلے تمام انبیاء سے زیادہ عقل حکمت اور معرفت عطا کی گئی آپ کی امت کو بھی پچھلی تمام امتوں سے زیادہ اور بہت زیادہ صلاحیتیں عنایت فرمائی گئیں !
حضرت موسیٰ علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ عليہ وسلم کے بعد سب سے افضل نبی ہیں لیکن ان کی قوم نے کیا قدر شناسی کی ؟ انہوں نے قومِ فرعون کے پنجہ سے نجات دلائی، خدا کی قدرت کی بہت سی نشانیاں دکھلائیں اس کے بعد بھی سب سے پہلا سبق جسے ''توحید ''کہتے ہیں انہوں نے یاد نہ رکھا !
وہ موسیٰ علیہ السلام سے شرمناک نادانی کے ساتھ درخواست کرتے ہیں ( اِجْعَلْ لَّنَا اِلٰھًا کَمَا لَھُمْ اٰلِھَةً ) ١ ہمارے لیے بھی ایک ایسا ہی معبود (بت) بنادیجیے جیسا ان (دوسری قوموں اور کافروں ) کے (بہت سے) معبود ہیں ! حضرت موسیٰ علیہ السلام ترغیب ِجہاد دیتے ہیں اور وعدۂ حق سناتے ہیں کہ تم یقینا کامیاب ہو جاؤگے لیکن وہ جاہل قوم ان سے کہتی ہے کہ ''آپ اور آپ کا پرور دگار جا کر لڑ لیجئے (جب آپ قبضہ کر لیں گے تو ہم بھی آجائیں گے ،اتنی دیر) ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں '' ایسی بدبخت قوم کا کیا علاج ہو سکتا تھا ؟ سوائے اس کے کہ بد دعا دیں ! ! !
١ سورة الاعراف : ١٣٨
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے اور بعد کے تمام انبیاء کو اسی طرح ستایا گیا پریشان کیا گیا انہیں مارا پیٹا گیا ان سے طرح طرح کے الٹے سیدھے سولات کیے گئے چنانچہ ایسی حرکات کی پاداش میں بہت سی قوموں کا فیصلہ ان کے انبیاء کے سامنے ہی کردیا گیا اور ایک عبرت ناک طریقہ پر انہیں برباد کردیا گیا۔
جس طرح اس امت کے نبی خدا کو سب سے پیارے ہیں یہ امت مرحومہ بھی خدا کی پیاری امت ہے اس امت میں خدا نے شوقِ عبادت ، اطاعت و فرمانبرداری ، ادب، مروت، شجاعت و جانثاری کے جو ہر رکھے
سسر کو بہو کی فکر :
حضرت عمرو(بن عاص) رضی اللّٰہ عنہ کے صاحبزادے حضرت عبداللّٰہ کا واقعہ ہے کہ نوجوانی کے عالم میں دن کو روزہ رکھتے تھے رات کو ساری رات عبادت کیا کرتے تھے ! اسی دور میں جبکہ عبادتِ خدا وندی ان کی غذا اور لذت ِ روح بنی ہوئی تھی ان کی شادی ہوئے بہت دن گزرگئے ایک روز حضرت عمرو رضی اللّٰہ عنہ کو خیال آیا کہ اپنی بہو سے پوچھوں کہ عبداللّٰہ کا تمہارے ساتھ کیسا معاملہ ہے تم خوش بھی ہو یا نہیں ؟ انہوں نے پوچھا تو بہو نے شر ماکر بتایا کہ وہ رات بھر عبادت میں رہتے ہیں دن کو روزہ رکھتے ہیں ! حضرت عمرو رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو یہ بات گراں گزری ! ! دربارِ رسالت میں حاضر ہوئے اور واقعہ نقل کیا ! آپ نے حضرت عبداللّٰہ کو طلب فرمایا اور دریافت کیا کہ تم کیا کرتے ہو ؟ فرمانے لگے دن کو روزہ سے رہتا ہوں رات کو قرآن پاک جتنا یاد ہے سب پڑھ لیتا ہوں ! ! (یعنی پورا قرآن جتنا اس وقت تک نازل ہوچکا ہوگا)
ہر چیز کا حق ہے :
ارشاد ہوا کہ (ایسا مت کیا کرو) دیکھو تمہاری آنکھوں کا بھی حق ہے انہیں آرام پہنچانا چاہیے تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے ! تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے ! روزہ اس طرح رکھا کرو کہ ایک دن روزہ رکھو ایک دن افطار کرو ! رات کو تین حصوں میں تقسیم کرلو ایک حصہ رات کا عبادت میں گزارا کرو ، قرآن پاک سب ایک رات میں مت پڑھا کرو بلکہ چالیس رات میں ختم کیا کرو ! !
آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی حضرت عبداللّٰہ ، نبی کریم علیہ الصلٰوة والسلام سے بارہا اصرار کرتے رہے کہ حضرت اجازت دیجیے کہ اس سے زیادہ قرآن پڑھ لیا کروں ! ان کے اصرار و طلب پر آپ علیہ السلام اجازت مرحمت فرماتے رہے یہاں تک کہ آخر میں حضرت نے تین دن میں ختم کرنے کی اجازت دے دی اس سے کم مدت میں ختم کرنے کی اجازت نہیں دی ! یہ آپ کی امت کے شوقِ عبادت اور اطاعت کی حالت تھی ! ذرا غور کر کے دیکھیے کہ ہمارے اور ان کے جذبات میں کس قدر بعد ہے ع
ببیں تفاوتِ رہ از کجاست تا بہ کجا ١
تہذیب و ادب :
اسی طرح ادب اور تہذیب میں بھی صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم تمام امتوں پر فائق تھے، نبی کریم علیہ الصلٰوة والسلام کے سامنے کوئی حرکت نہ کرتے تھے اور اس طرح مؤدب بیٹھتے تھے کہ گویا ان کے سروں پر پرندے ہیں ، حضرت کی آواز سے زیادہ دوسرا کوئی آواز نہ اٹھا سکتا تھا ! اسی عشق و محبت اور غایت ِادب پر یہ واقعہ شاہد ہے کہ آپ کے جانثار صحابی حضرت سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ ہجرت کے وقت رسول اللّٰہ صلی اللہ عليہ وسلم کے ساتھ تھے جب آپ مدینہ منورہ پہنچے تو لوگوں کو ناواقفیت کی بنا پر یہ پہچاننے میں تکلف ہوا کہ محمد صلی اللہ عليہ وسلم کون ہیں ؟ تو آپ فوراً حضرت رسول اللّٰہ صلی اللہ عليہ وسلم کے سر مبارک پر خادمانہ حیثیت سے چادر تان کر کھڑے ہوگئے تاکہ خادم وہ خوش قسمت خادم جو سچے دل سے خود کو مٹا کر خدمت کرنی چاہتا تھا اپنے کو سب کی نظر میں خادم ثابت کردے ! محبت بھی بہت سے آداب کی معلمہ ہوتی ہے
١ راستے کا فرق دیکھو کہاں سے کہاں تک ہے(یعنی دو چیزوں میں بہت فرق ہوتا ہے )
چلا جا کھیلتا موجِ شرابِ چشمِ میگوں سے
محبت خود سکھا دے گی تجھے آدابِ قربانی
آپ کے صحابہ کی شجاعت و جا نثاری کا عالم یہ تھا کہ ایک خطرناک موقع پر وہ عرض کرتے ہیں
''ہم آپ پر اپنی جانیں قربان کردیں گے آپ کے پسینہ کی جگہ اپنا خون بہادیں گے ہم ہر گز ایسے نہیں جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی تھے'' !
غرض جس طرح تمام انبیاء میں نبی کریم علیہ الصلٰوة والسلام افضل تھے اسی طرح آپ کی امت بھی افضلُ الاُمَمْ ہے آپ کو خداوند کریم نے عجیب و غریب اخلاق کا مجسمہ بنا کر بھیجا اور خالق ِاکبر نے آپ کوپورے جہاں میں خطاب کر کے پکارا
( اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ ) ١ ''تم بہت بڑے اخلاق پر (پیدا کیے گئے) ہو'' !
آپ ارشاد فرماتے ہیں
بُعِثْتُ لِاُتِمَّ مَکَارِمَ الاَخْلَاقِ او کما قال ٢ ''مجھے اس لیے بھیجا گیا ہے کہ عمدہ اخلاق مکمل کر دکھاؤں ''
دوسری طرف (لوگوں کے لیے قرآنِ پاک میں )فرمان وارد ہوتا ہے
( لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَالَا تَفْعَلُوْنَ ) ٣ ''ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ''
بحوالہ خواتین کا ماہنامہ ''حور'' لاہور ج ١٤ شمارہ ١١ نومبر ١٩٥٣ئ
مطبوعہ ماہنامہ انوار مدینہ ج ٢٧ ش ٢ فروری ٢٠١٩ئ
٭٭٭
١ سورة القلم : ٤ ٢ السنن الکبرٰی للبیھقی رقم الحدیث ٢٠٧٨٢ ٣ سورة الصف : ٢




قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ کے سلسلہ وار مطبوعہ مضامین جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ پر پڑھے جا سکتے ہیں
http://www.jamiamadniajadeed.org/maqalat




محرم الحرام کی فضیلت
( حضرت مولانا مفتی سیّد عبد الکریم صاحب گمتھلوی )
٭٭٭
٭ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سب روزوں سے افضل رمضان کے بعد اللہ تعالیٰ کا مہینہ محرم ہے (یعنی اس کی دسویں تاریخ کو روزہ رکھنا رمضان کے سوا اور سب مہینوں کے روزہ سے زیادہ ثواب رکھتا ہے) (مسلم شریف)
٭ جب آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو یہود کو عاشورہ کا روزہ رکھتے ہوئے پایا اس لیے آپ نے ان سے فرمایا یہ کیا دن ہے جس میں تم روزہ رکھتے ہو ؟ انہوں نے کہا یہ بڑا دن ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے موسٰی علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات عطا فرمائی اور فرعون اور اس کی قوم غرق ہوئی لہٰذاموسٰی علیہ السلام نے اس کا روزہ بطورِشکر کے رکھا تو ہم بھی اس کا روزہ رکھتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ ہم زیادہ حقدار ہیں موسٰی علیہ السلام کے تم سے پھر حضور صلی اللہ عليہ وسلم نے اس کا روزہ رکھا اور (دوسروں کو بھی) اس کے روزہ کا حکم دیا ! (متفق علیہ)
٭ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں امید رکھتا ہوں حق تعالیٰ سے کہ عاشورا کا روزہ کفارہ ہوجاتا ہے اس سال کا (یعنی اس سال کے چھوٹے گناہوں کا) جو اس سے پیشتر (گزرچکا) ہے !
٭ حدیث شریف میں ہے کہ جب رسولِ خدا صلی اللہ عليہ وسلم نے روزہ رکھا اور اس کے روزہ کا حکم دیا تو انہوں نے (یعنی صحابہ نے) عرض کیا کہ یہ ایسا دن ہے جس کو یہود اور نصاریٰ معظم سمجھتے ہیں تو حضور صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگرمیں آئندہ سال تک زندہ رہا تو نو تاریخ کو (بھی) ضرور روزہ رکھوں گا !
٭ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ روزہ رکھو تم عاشورہ کا اور مخالفت کرو اس میں یہود کی اور (وہ اس طرح کہ) روزہ رکھو اس سے ایک دن پہلے کا یا ایک دن بعد کا (غرض تنہا عاشورہ کا روزہ نہ رکھو ، اس سے ایک دن پہلے کا یا بعد کا ملالینا چاہیے)
٭حدیث میں ہے کہ عاشورہ کا روزہ رمضان (کے روزے فرض ہونے)سے پیشتر (بطورِ فرضیت) رکھاجاتا تھا، پس جب رمضان (کے روزوں کا حکم) نازل ہوا تو جس نے چاہا (عاشورا کا روزہ) رکھا اور جس نے چاہا نہ رکھا ! (جمع الفوائد)
٭ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے اپنے اہل و عیال پر خرچ میں عاشورہ کے دن فراخی کی اللہ تعالیٰ اس پر (رزق میں ) تمام سال فراخی کرے گا !
پس یہ دو باتیں تو کرنے کی ہیں : ایک روزہ رکھنا کہ وہ مستحب ہے، دوسرے مصارف میں کچھ فراخی کرنا (اپنی حیثیت کے موافق)اور یہ مباح ہے ! اس کے علاوہ اور سب باتیں جو اس دن میں کی جاتی ہیں خرافات ہیں ، لوگ اس دن میلہ لگاتے ہیں اور حضرات اہلِ بیت رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کے مصائب کا ذکر کرتے ہیں اور ان کا ماتم کرتے ہیں اور مرثیہ پڑھتے ہیں اور روتے چلاتے بھی ہیں اور بعض لوگ تو تعزیہ اور عَلَم وغیرہ بھی نکالتے ہیں اور ان کے ساتھ شرک و کفر کا معاملہ کرتے ہیں ، یہ سب باتیں واجب الترک ہیں ، شریعت میں اس ماتم وغیرہ کی کوئی اصل نہیں ہے بلکہ ان سب امور کی سخت ممانعت آئی ہے ! ! !
تنبیہ :
بعض لوگ اس روز مسجد وغیرہ میں جمع ہوکر ذکرِ شہادت وغیرہ سناتے ہیں ،اس میں ثقہ لوگ بھی غلطی سے شریک ہوجاتے ہیں اور بعض اہلِ علم بھی اس کو جائز سمجھنے کی عظیم غلطی میں مبتلا ہیں ، درحقیقت یہ بھی ماتم ہے گو مہذب طریقہ سے ہے کہ سینہ وغیرہ وحشی لوگوں کی طرح نہیں کوٹتے لیکن حقیقت ماتم کی یہاں بھی موجود ہے
وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ




عصمت ِ انبیا ء و حرمت ِ صحابہ
( محدث العصر حضرت علامہ محمد یوسف صاحب بنوری )
٭٭٭
یہ حقیقت مسلم اور ہر شک وشبہ سے بالاتر ہے کہ نبوت ورسالت وہ اعلیٰ ترین منصب ہے جو حق تعالیٰ ذکرہ کی طرف سے مخصوص بندوں کو عطا کیا جاتا ہے ! تمام کائنات میں انسان اشرف المخلوقات ہے اور نبوت انسانیت کی آخری معراجِ کمال، انسانیت کے بقیہ تمام مراتب وکمالات اس سے پست اور فروتر ہیں ، انسانی فکر کی کوئی بلندی نبوت کی حدوں کو نہیں چھو سکتی، نہ انسانیت کا کوئی شرف وکمال اس کی گردِراہ کو پہنچ سکتا ہے ، اس سے اوپر بس ایک ہی مرتبہ ہے اور وہ ہے حق تعالیٰ کی ربوبیت والوہیت کا مرتبہ ! !
منصب ِنبوت عقولِ انسانی سے بالاتر ہے، اس کی پوری حقیقت صرف وہی جانتا ہے جس نے یہ منصب عطا فرمایا، یا پھر ان مقدس ہستیوں کو معلوم ہوسکتی ہے جن کو اس منصب ِرفیع سے سرفراز کیا گیا، ان کے علاوہ تمام لوگوں کا علم وفہم سرِّنبوت کی دریافت سے عاجز اور عقل اس کی ٹھیک ٹھیک حقیقت وکنہ کے ادراک سے قاصر ہے ! جس طرح ایک جاہل علم کی حقیقت سے بے خبر ہے، اسی طرح غیر نبی نبوت کی حقیقت سے ناآشنا ہے ! اگر غور کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوگی کہ رسالت ونبوت کا منصب ِرفیع تودرکنار معمولی ہنر وفن کا بھی یہی حال ہے، کسی فن کی صحیح حقیقت تک رسائی اسی صاحب ِکمال کے لیے ممکن ہے جسے وہ فن حاصل ہو اور اسی حد تک ممکن ہے جس حد تک اسے فنی رسوخ وکمال حاصل ہو ! ہمارے حضرت استاذ امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری دیو بندی نور اللہ مرقدہ فرمایا کرتے تھے کہ
'' نبوت تو کیا اجتہاد کی حقیقت کے ادراک سے بھی ہم قاصر ہیں ''
یعنی ''اجتہاد'' کے بارے میں جو کچھ ہم جانتے ہیں وہ محض اس کی ظاہری سطح ہے اور جتنی معلومات ہمیں حاصل ہیں وہ صرف سطحی معلومات ہیں (اسے منطقی اصطلاح میں علم بالوجہ کہتے ہیں )ورنہ اجتہاد کی حقیقت کا صحیح ادراک صرف مجتہد کو ہوسکتا ہے جسے یہ ملکہ حاصل ہو ! اسی طرح نبوت کا علم بھی عام انسانوں کو محض آثار ولوازم کے اعتبار سے ہے، نبی علیہ الصلٰوة والسلام کے بارے میں ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ
نبوت کے لیے حق تعالیٰ جل ذکرہ ایک ایسی برگزیدہ اور معصوم شخصیت کا انتخاب فرماتا ہے جو اپنے ظاہر وباطن، قلب وقالب، روح وجسد ہر اعتبار سے عام انسانوں سے ممتاز ہوتا ہے، وہ ایسا پاک طینت اور سعید الفطرت پیدا کیا جاتا ہے کہ اس کی تمام خواہشات رضا ومشیت ِالٰہی کے تابع ہوتی ہیں ! ردائے عصمت اس کے زیب تن ہوتی ہے، حق تعالیٰ کی قدرت کا ملہ ہر دم اس کی نگرانی کرتی ہے،اس کی ہر حرکت وسکون پر حفاظت ِخداوندی کا پہرہ بٹھادیا جاتا ہے اور وہ نفس وشیطان کے تسلط واستیلاء سے بالاتر ہوتاہے، ایسی شخصیت سے گناہ ومعصیت اور نافرمانی کا صدور ناممکن اور منطقی اصطلاح میں محال وممتنع ہے ،اسی کا نام عصمت ہے ١ اور ایسی ہستی کو معصوم کہا جاتا ہے، عصمت لازمۂ نبوت ہے، جس طرح یہ تصور کبھی نہیں کیا جاسکتا کہ کسی لمحہ نبوت نبی سے الگ ہوجائے، اسی طرح اس بات کا وہم وگمان بھی نہیں کیا جاسکتا کہ عصمت نبوت اور نبی سے ایک آن کے لیے بھی جدا ہوسکتی ہے مَعَاذَ اللّٰہ
حضراتِ علماء نے تحقیق فرمائی ہے کہ ایک ہے معصوم اور ایک ہے محفوظ، معصوم وہ ہے جس سے گناہ ومعصیت کا صدور محال ہو ! اور محفوظ وہ ہے جس سے صدورِ معصیت محال تو نہ ہو لیکن کوئی معصیت صادر نہ ہو یا آسان اور سادہ لفظوں میں یوں تعبیر کریں گے کہ معصوم وہ ہے جو گناہ کر ہی نہیں سکتا اور محفوظ کے معنٰی یہ ہیں کہ گناہ کر توسکتاہے لیکن کرتا نہیں ! اس لیے کہا جاتا ہے کہ
انبیاء کرام علیہم السلام معصوم ہیں اور اولیاء کرام رحمہم اللّٰہ محفوظ ہیں ! !
١ اس کے یہ معنٰی نہیں کہ انبیائِ کرام علیہم الصلٰوة السلام سے قدرت سلب کرلی جاتی ہے بلکہ عصمت کا مدار ان ہی دو چیزوں پر ہے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیایعنی اوّل تو ان کی فطرت اتنی پاکیزہ اور مصفی مزکی ہوتی ہے کہ وہ گناہ ومعصیت کا تصور بھی نہیں کرسکتے اور گناہ کا تصور فطرةً ان کے لیے ناقابل ِبرداشت ہے
دوم یہ کہ حفاظت الٰہی کی نگرانی ایک لمحہ کے لیے ان سے جدا نہیں ہوتی، ظاہر ہے کہ ان دوباتوں کے ہوتے ہوئے صدورِ معصیت کا امکان نہیں رہتا ۔ (مدیر)
الغرض نبوت ورسالت کے عظیم ترین منصب کے لیے حق تعالیٰ اسی شخصیت کو بحیثیت نبی ورسول کے منتخب کرتا ہے جو حسب ونسب، اخلاق واعمال، عقل وبصیرت، عزم وہمت اور تمام کمالات میں اپنے دور کی فائق ترین شخصیت ہو ! نبی تمام جسمانی وروحانی کمالات میں یکتائے زمانہ ہوتا ہے اور کسی غیر نبی کو کسی معتدبہ کمال میں اس پر فوقیت نہیں ہوتی۔ قرآنی وشرعی الفاظ میں اس شخصیت کا انتخاب ، اجتبا اور اختیار خود حق تعالیٰ فرماتا ہے، کون نہیں جانتا کہ حق تعالیٰ کا علم کائنات کے ذرّہ ذرّہ کو محیط ہے اس کے لیے ظاہر وباطن اور سرو جہر سب عیاں ہے، ماضی ومستقبل اور حال کے تمام حالات بیک وقت اس کے علم میں ہیں ، اس میں نہ غلطی کا امکان، نہ جہل کا تصور ! قرآن کریم کی بے شمار آیات میں یہ حقیقت بار بار بیان کی گئی ہے
( اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا ) ( سورة النساء : ٣٢ ) ''اور اللہ ہر چیز کو جانتا ہے''
( وَمَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّکَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَائِ ) ( سورة یونس : ٦١ )
''اور غائب نہیں تیرے رب سے کوئی ذرّہ بھر چیز بھی، نہ زمین میں نہ آسمان میں ''
( یَعْلَمُ سِرَّکُمْ وَجَھْرَکُمْ) ( سورة الانعام : ٣ ) ''وہ جانتا ہے تمہارے پوشیدہ کو اور ظاہر کو ''
ظاہر ہے کہ جب حق تعالیٰ کا علمِ محیط نبوت ورسالت کے لیے کسی شخصیت کو منتخب کرے گا تو اس میں کسی نقص کے احتمال کی گنجائش نہیں رہ جاتی، اس منصب کے لیے جس مقدس ہستی پر حق تعالیٰ کی نظر انتخاب پڑے گی اور جسے تمام انسانوں سے چھانٹ کر اس عہدہ کے لیے چناجائے گا ، وہ اپنے دور کی کامل ترین، جامع ترین، اعلیٰ ترین اور موزوں ترین شخصیت ہوگی البتہ خود انبیاء ورسل کے درمیان کمالات ودرجات میں تفاوت اور فرقِ مراتب اور بات ہے ! !
نیز یہ حقیقت بھی مسلم ہے کہ نبوت ورسالت محض عطیہ الٰہی ہے ، کسب واکتساب سے اس کا تعلق نہیں کہ محنت ومجاہدہ اور ریاضت ومشقت سے حاصل ہوجائے ! دنیا کا ہر کمال محنت ومجاہدہ سے حاصل ہوسکتا ہے لیکن نبوت ورسالت حق تعالیٰ کا اجتبائی عطیہ ہے، وہ جس کو چاہتاہے اس منصب کے لیے چن لیتا ہے قرآن کریم کی متعدد آیات میں یہ تصریحات موجود ہیں
( اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلئِکَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ ) ( سورة الحج : ٧٥ )
'' اللہ چن لیتا ہے فرشتوں سے پیغامبر اور انسانوں سے''
( اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ ) ( سورة الانعام : ١٢٤ )
''اللہ کو خوب علم ہے جہاں رکھتا ہے وہ اپنے پیغامات''
ان حقائقِ شرعیہ کو سمجھ لینے کے بعد یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی نبی ورسول فرائض ِنبوت میں کوتاہی بھی کرسکتا ہے، کجاکہ کسی نبی نے مَعَاذَ اللّٰہ اپنے فرائض ِمنصبی میں کوتاہیاں کی ہوں ، اس لیے یہ کہنا کہ ''فلاں نبی سے فریضہ ٔرسالت کی ادائیگی میں کچھ کوتاہیاں ہوگئی تھیں ، نبی ادائے رسالت میں کوتاہی کرگیا یا یہ کہ'' فلاں نبی بغیر اُذنِ الٰہی کے اپنی ڈیوٹی سے ہٹ گیا'' انتہائی کوتاہی کی بات ہے اور وہ اپنے اندر بڑے سنگین مضمرات رکھتی ہے۔ اسی طرح کسی مشکل مقام کی تہ کو نہ پہنچنے کی بنا پر یہ اٹکل پچو کلیہ گھڑ لینا کہ عام انسانوں کی طرح نبی بھی مومن کے بلند ترین معیارِ کمال پر ہر وقت قائم نہیں رہ سکتا، وہ بھی بسا اوقات تھوڑی دیر کے لیے اپنی بشری کمزوری سے مغلوب ہوجاتا ہے اور جب اللہ کی طرف سے اسے متنبہ کیا جاتا ہے کہ یہ عمل محض ایک جاہلیت کا جذبہ ہے تو نبی فوراً اسلامی طرزِ فکر کی طرف پلٹ آتا ہے'' نہایت خطرناک بات اور مقامِ نبوت سے ناشناسائی کی عبرت ناک مثال ہے
چوں ندیدند حقیقت رہِ افسانہ زدند
اسی طرح یہ کہنا کہ ''نبی اور رسول پر کوئی وقت ایسا بھی آتا ہے اور آنا چاہیے جبکہ اس سے عصمت کا پردہ اٹھالیا جاتا ہے اور اس سے ایک دو گناہ کرائے جاتے ہیں تاکہ اس کی بشریت ظاہر ہو'' یہ ایک ایسا خطرناک قسم کا غلط فلسفہ (سوفسطائیت )ہے جس سے تمام شرائعِ الٰہیہ اور ادیانِ سماویہ کی بنیادیں ہل جاتی ہیں
نبوت سے عصمت کے جدا ہوجانے کے معنٰی یہ ہوئے کہ عین اس وقت نبی کی حیثیت ایک ایسی شخصیت کی نہیں ہوتی جو امت کے لیے اسوہ اور نمونہ ہو، اور جسے امین ومامون قرار دیا گیا ہو، اس وقت اس کی حیثیت ایک عام انسان کی سی ہوگی یا زیادہ واضح الفاظ میں یہ کہیے کہ عین اس حالت میں جبکہ نبی سے عصمت اٹھالی جاتی ہے، وہ نبوت اور لوازمِ نبوت سے موصوف نہیں ہوتا، ظاہر ہے کہ اگر یہ غلط منطق تسلیم کر لی جائے تو سارا دین ختم ہوجاتا ہے، نبی اور رسول کی ہر بات مَعَاذَ اللّٰہ مشکوک ہوجاتی ہے اور اس کا کوئی قول وعمل اور تلقین وتعلیم قابلِ اعتماد نہیں رہتی، کیونکہ ہر لمحہ یہ احتمال رہے گا کہ شاید یہ ارتفاعِ عصمت اور انخلاع عن النبوت کا وقت ہو ! بظاہر یہ بات جو بڑے حسین وجمیل فلسفہ کی شکل میں پیش کی گئی ہے، غور کیجیے تو یہ اس قدر غیر معقول اورناقابلِ برداشت ہے کہ کوئی معقول آدمی جو شریعت ِالٰہی کو سمجھتا ہو، اس کی جرأت تو کجا اس کا تصور تک نہیں کرسکتا ! ! جن لوگوں کی زبان و قلم سے یہ بات نکلی ہے اور افسوس ہے کہ بڑے اصراروتکرار سے مسلسل نکلتی جارہی ہے ان کے بارے میں یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ انہیں نہ علم کی حقیقت تک رسائی ہوئی ہے، نہ نبوت کے تقاضوں کو انہوں نے صحیح سمجھا ہے ! !
اور یہ بات بھی کسی علم ودانش کا پتہ نہیں دیتی کہ جب تک ہم انبیاء کرام علیہم السلام کو عام انسانوں کی طرح دو چار گناہوں میں مبتلا نہ دیکھ لیں ، اس وقت تک ہمیں ان کی بشریت کا یقین ہی نہیں آئے گا ! کون نہیں جانتا کہ انبیاء کرام علیہم السلام کھاتے ہیں ، پیتے ہیں ، انہیں صحت ومرض جیسے بیسیوں انسانی عوارض لاحق ہوتے ہیں ،وہ انسانوں سے پیدا ہوتے ہیں اور ان سے انسانی نسل چلتی ہے، علاوہ ازیں وہ بار بار اپنی بشریت کا اعلان فرماتے ہیں ، کیا ان تمام چیزوں کے بعد بھی اس بات کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ جب تک ان سے عصمت نہیں اٹھالی جاتی اور دو ایک گناہ نہیں ہونے دیے جاتے ، تب تک ان کی بشریت مشتبہ رہے گی ؟ اورہمیں ان کی بشریت کا یقین نہیں آئے گا ؟
یہاں یہ نکتہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بھول چوک اور خطا ونسیان تو خاصہ بشریت ہے مگر گناہ ومعصیت مقتضائے بشریت نہیں بلکہ خاصہ شیطانیت ہے ! انسان سے گناہ ہوتا ہے تو محض تقاضائے بشریت کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ شیطان کے تسلط واغوا سے ہوتا ہے، اس لیے گناہوں کے ارتکاب سے انبیاء کرام علیہم السلام کی بشریت ثابت نہیں ہوگی بلکہ اور ہی کچھ ثابت ہوگا اور جو لوگ بھول چوک اور معصیت کے درمیان فرق نہیں کر سکتے، انہیں آخر کس نے کہا ہے کہ وہ ان نازک علمی مباحث میں اُلجھ کر ضَلُّوْا فَاَضَلُّوْا ''خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا '' کا مصداق بنیں !
بہر حال یہ عصمت اور کمالاتِ نبوت تو ہر نبی کے لیے لازم وضروری ہیں
ا ب غور فرمایئے کہ جس مقدس ترین شخصیت کو تمام انبیا ء ورسل کی سیادت وامامت کے مقام پر کھڑا کیا گیا ہو جسے ختم نبوت ورسالت ِکبریٰ کا تاج پہنایا گیا ہو اور جسے ع بعداز خدا بزرگ توئی قصہ مختصر کے اعلیٰ ترین منصب سے سرفراز کیا گیا ہو بآبائنا وامہاتنا صلی اللّٰہ علیہ وسلم کائنات کی اس بلند ترین ہستی کے شرف وکمال، طہارت ونزاہت، حرمت وعظمت، عفت وعصمت اور رسالت ونبوت کا مقام کون معلوم کرسکتا ہے ؟ اگر ایسی فوق الادراک ہستی کے بارے میں بھی کوئی ایسا کلمہ کہاجائے کہ کسی وقت غیر معصومیت ان پر بھی آسکتی ہے تو کیا اس عظیم ترین جرم کی انتہا معلوم ہوسکتی ہے ؟
حضرت رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم حب خاتم النبیین ہوئے اور منصب ِ ر سالت ونبوت کی سیادت ِ کبریٰ سے مشرف ہوئے اور آپ کی شریعت کو آخری شریعت اور قیامت تک آنے والی تمام قوموں اور نسلوں کے لیے آخری قانون بنایا گیا تو اس کے لیے دو چیزوں کی ضرورت تھی
ایک یہ کہ یہ آسمانی قانون قیامت تک جوں کا توں محفوظ رہے، ہر قسم کی تحریف وتبدیلی سے اس کی حفاظت کی جائے الفاظ کی بھی اور معانی کی بھی ! کیونکہ اگر الفاظ کی حفاظت ہو اور معانی کی حفاظت نہ ہو تو یہ حفاظت بالکل بے معنٰی ہے !
دوم یہ کہ جس طرح علمی حفاظت ہو اسی طرح عملی حفاظت بھی ہو !
اسلام محض چند اصول ونظریات اور علوم وافکار کا مجموعہ نہیں بلکہ وہ اپنے جلو میں ایک نظامِ عمل لے کر چلتا ہے، وہ جہاں زندگی کے ہر شعبے میں اصول وقواعد پیش کرتا ہے وہاں ایک ایک جزئیہ کی عملی تشکیل بھی کرتا ہے اس لیے یہ ضروری تھا کہ شریعت ِ محمدیہ علٰی صاحبھا الف الف صلٰوة وسلام کی علمی وعملی دونوں پہلوؤں سے حفاظت کی جائے ! اور قیامت تک ایک ایسی جماعت کا سلسلہ قائم رہے جو شریعت ِ مطہرہ کے علم وعمل کی حامل وامین ہو۔ حق تعالیٰ نے دین محمدی کی دونوں طرح حفاظت فرمائی، علمی بھی اورعملی بھی ! !
حفاظت کے ذرائع میں صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کی جماعت سرِ فہرست ہے ان حضرات نے براہِ راست صاحب ِوحی سے دین کو سمجھا دین پر عمل کیا اور اپنے بعد آنے والی نسل تک دین کو من وعن پہنچا یا، انہوں نے آپ کے زیر تربیت رہ کر اخلاق و اعمال کو ٹھیک ٹھیک منشائے خداوندی کے مطابق درست کیا سیرت وکردار کی پاکیزگی حاصل کی۔ تمام باطل نظریات سے کنارہ کش ہوکر عقائد حقہ اختیار کیے رضائے الٰہی کے لیے اپنا سب کچھ رسو ل اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے قدموں پر نچھاور کردیا، ان کے کسی طرزِ عمل میں ذرا خامی نظر آئی تو فوراً حق جل مجدہ نے اس کی اصلاح فرمائی !
الغرض حضراتِ صحابہ کرام کی جماعت اس پوری کائنات میں وہ خوش قسمت جماعت ہے جن کی تعلیم و تربیت اور تصفیہ وتزکیہ کے لیے سرورِ کائنات محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کو معلم و مربی ومزکی اور استاد واتالیق مقرر کیا گیا اس انعام خداوندی پر وہ جتنا شکر کریں کم ہے، جتنا فخر کریں بجا ہے
( لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلاً مِّنْ اَنْفُسِھِمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ) ١
''بخدا بہت بڑا احسان فرمایا اللہ نے مومنین پر کہ بھیجا ان میں ایک عظیم الشان رسول، ان ہی میں سے وہ پڑھتا ہے ان کے سامنے اس کی آیتیں اور پاک کرتا ہے ان کو اور سکھاتا ہے ان کو کتاب اور گہری دانائی، بلا شبہ وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں تھے''
آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کی علمی وعملی میراث اور آسمانی امانت چونکہ ان حضرات کے سپرد کی جارہی تھی اس لیے ضروری تھا کہ یہ حضرات آئندہ نسلوں کے لیے قابل اعتماد ہوں چنانچہ قرآن و حدیث میں جابجا ان کے فضائل ومناقب بیان کیے گئے چنانچہ
(الف ) وحی ِ خداوندی نے ان کی تعدیل فرمائی، ان کا تزکیہ کیا، ان کے اخلاص وللہیت پر شہادت دی اور انہیں یہ رتبہ ٔبلند ملا کہ ان کو رسالت ِمحمدیہ علٰی صاحبھا الف الف صلٰوة وسلام کے عادل گواہوں کی حیثیت سے ساری دنیا کے سامنے پیش کیا گیا
١ سورہ آلِ عمران : ١٦٤
( مُحَمَّد رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ تَرَاھُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا سِیْمَاھُمْ فِیْ وُجُوْھِھِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ) ١
''محمد (صلی اللہ عليہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں اور جو ایماندار آپ کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں شفیق ہیں ، تم ان کو دیکھوگے رکوع، سجدے میں ، وہ چاہتے ہیں صرف اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی ، ان کی علامت ان کے چہروں میں سجدے کا نشان ہے''
گویا یہاں محمد رسول اللّٰہ (صلی اللہ عليہ وسلم) ''اللہ کے رسول ہیں '' ایک دعویٰ ہے اور اس کے ثبوت میں حضراتِ صحابہ کرام کی سیرت وکردار کو پیش کیا گیا ہے کہ جسے آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کی صداقت میں شک و شبہ ہو اسے آپ کے ساتھیوں کی پاکیزہ زندگی کا ایک نظر مطالعہ کرنے کے بعد خود اپنے ضمیر سے یہ فیصلہ لینا چاہیے کہ جس کے رفقاء اتنے بلند سیرت اور پاکباز ہوں وہ خود صدق دراستی کے کتنے اونچے مقام پر فائز ہوں گے ع
کیا نظر تھی جس نے مُردوں کو مسیحا کر دیا
(ب ) حضراتِ صحابہ کے ایمان کو ''معیارِ حق'' قرار دیتے ہوئے نہ صرف لوگوں کو اس کا نمونہ پیش کرنے کی دعورت دی گئی بلکہ ان حضرات کے بارے میں لب کشائی کرنے والوں پر نفاق وسفاہت کی دائمی مہرثبت کردی گئی
( وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا کَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْا اَنُؤْمِنُ کَمَآ اٰمَنَ السُّفَھَآئُ اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ السُّفَھَآئُ وَلٰکِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ ) ٢
''اور جب ان (منافقوں ) سے کہا جائے تم بھی ایسا ایمان لاؤ جیسا دوسرے لوگ (صحابہ کرام) ایمان لائے ہیں تو جواب میں کہتے ہیں کیا ہم ان بیوقوفوں جیسا ایمان لائیں ؟ سن رکھو یہ خود ہی بیوقوف ہیں مگر نہیں جانتے ''
(ج) حضراتِ صحابہ کرام کو بار بار ( رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ ) (اللہ ان سے راضی ہوا وہ اللہ سے راضی ہوئے) کی بشارت دی گئی اور امت کے سامنے یہ اس شدت وکثرت سے دہرایا گیا کہ
١ سورة الفتح : ٢٩ ٢ سورة البقرہ : ١٣
صحابہ کرام کا یہ لقب امت کا تکیہ کلام بن گیا، کسی نبی کا اسم گرامی آپ ''علیہ السلام'' کے بغیر نہیں لے سکتے اور کسی صحابی ٔ رسول کا نام نامی ''رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ '' کے بغیر مسلمان کی زبان پر جاری نہیں ہوسکتا، ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف ظاہر کو دیکھ کر راضی نہیں ہوا، نہ صرف ان کے موجودہ کار ناموں کو دیکھ کر بلکہ ان کے ظاہر و باطن اور حال و مستقبل کو دیکھ کر راضی ہوا ہے، یہ گویا اس بات کی ضمانت ہے کہ آخر دم تک ان سے رضائے الٰہی کے خلاف کچھ صادر نہیں ہوگا ٢ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ جس سے خدا راضی ہوجائے خدا کے بندوں کو بھی اس سے راضی ہوجانا چاہیے کسی اور کے بارے میں تو ظن وتخمین ہی سے کہا جا سکتا ہے کہ خدا اس سے راضی ہے یا نہیں ؟ مگر صحابہ کرام کے بارے میں تو نص ِصریح موجود ہے، اس کے باوجود اگر کوئی ان سے راضی نہیں ہوتا تو گویا اسے اللہ تعالیٰ سے اختلاف ہے اور پھر صرف اتنی بات کو کافی نہیں سمجھا گیا کہ ''اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا'' بلکہ اسی کے ساتھ یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ان حضرات کی عزت افزائی کی انتہا ہے( اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کو مقدم کیا اور صحابہ کی رضا کو موخر کیا ہے صرف صحابہ کی رضا سے اللہ تعالیٰ کی رضا تو لازم نہیں آتی اس لیے اپنی رضا کو بھی ساتھ ذکر کیا )
(د ) حضراتِ صحابہ کرام کے مسلک کو ''معیاری راستہ'' قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کو براہِ راست رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی مخالفت کے ہم معنی قرار دیا گیا اور ان کی مخالفت کرنے والوں کو عید سنائی گئی
( وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہ مَا تَوَلّٰی) ( سورة النساء : ١١٥ )
''اور جو شخص مخالفت کرے رسول اللہ (صلی اللہ عليہ وسلم) کی جبکہ اس کے سامنے ہدایت کھل چکی اور چلے مومنوں کی راہ چھوڑکر ، ہم اسے پھیر دیں گے جس طرف پھرتا ہے ''
آیت میں '' اَلْمُؤْمِنِیْن'' کا اوّلین مصداق اصحاب النبی صلی اللہ عليہ وسلم کی مقدس جماعت ہے رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اتباعِ نبوی کی صحیح شکل صحابہ کرام کی سیرت وکردار اور ان کے اخلاق واعمال کی پیروی میں منحصر ہے اور یہ جب ہی ممکن ہے جبکہ صحابہ کی سیرت کو اسلام کے اعلیٰ معیار پر تسلیم کیا جائے
(ہ ) اور سب سے آخری بات یہ کہ انہیں آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کے سایہ ٔ عاطفت میں آخرت کی ہر عزت سے سرفراز کرنے اور ہر ذلت ورسوائی سے محفوظ رکھنے کا اعلان فرمایا گیا
( یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰہُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہ نُوْرُھُمْ یَسْعٰی بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَبِاَیْمَانِھِمْ ) ( سورة التحریم : ٤ )
''جس دن رسوا نہیں کرے گا اللہ تعالیٰ نبی کو اور جو مومن ہوئے آپ کے ساتھ، ان کا نور دوڑتا ہوگا ان کے آگے اور ان کے داہنے''
اس قسم کی بیسیوں نہیں سینکڑوں آیات میں صحابہ کرام کے فضائل ومناقب مختلف عنوانات سے بیان فرمائے گئے ہیں اور اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ دین کے سلسلہ ٔ سند کی یہ پہلی کڑی اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ عليہ وسلم کے صحبت یافتہ حضرات کی جماعت معاذ اللّٰہ ناقابلِ اعتماد ثابت ہو، ان کے اخلاق واعمال میں خرابی نکالی جائے اور ان کے بارے میں یہ فرض کر لیا جائے کہ وہ دین کی علمی وعملی تدبیر نہیں کر سکے تو دین اسلام کا سارا ڈھانچہ ہل جاتا ہے اور ....... خاکم بدہن ....... رسالت ِ محمدیہ مجروح ہوجاتی ہے۔
دنیا کا ایک معروف قاعدہ ہے کہ اگر کسی خبر کو رد کرنا ہو تو اس کے راویوں کو جرح وقدح کا نشانہ بناؤ ! ان کی سیرت وکردار کو ملوث کرو اور ان کی ثقاہت وعدالت کو مشکوک ثابت کرو، صحابہ کرام چونکہ دین ِمحمدی کے سب سے پہلے راوی ہیں اس لیے چالاک فتنہ پردازوں نے جب دین اسلام کے خلاف سازش کی اور دین سے لوگوں کوبدظن کرنا چاہا تو ان کا سب سے پہلا ہدف صحابہ کرام تھے چنانچہ فرقِ باطلہ اپنے نظریاتی اختلاف کے باوجود جماعت ِ صحابہ کو ہدفِ تنقید بنانے میں متفق نظر آتے ہیں ،ان کی سیرت وکردار کو داغدار بنانے اور ان کی شخصیت کو نہایت گھناؤنے رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی، ان کے اخلاق واعمال پر تنقید یں کی گئیں ، ان پر مال وجاہ کی حرص میں احکامِ خداوندی سے پہلو تہی کرنے کے الزامات دھرے گئے ، ان پر خیانت، غصب اور کینہ پروری واقرباء نوازی کی تہمتیں لگائی گئیں اور غلو وانتہا پسندی کی حد ہے کہ جن پاکیزہ ہستیوں کے ایمان کو حق تعالیٰ نے ''معیار'' قرار دے کر ان جیسا ایمان لانے کی لوگوں کو دعوت دی تھی ( اٰمِنُوْا کَمَا اٰمَنَ النَّاسُ) ١ ان ہی کے ایمان وکفر کا مسئلہ زیرِ بحث لایا گیا اور تکفیر وتفسیق تک نوبت پہنچادی گئی ! جن جانبازوں نے دین ِاسلام کو اپنے خون سے سیراب کیا تھا ان ہی کے بارے میں چیخ چیخ کر کہا جانے لگا کہ وہ اسلام کے اعلیٰ معیار پر قائم نہیں رہے تھے جن مردانِ خدا کے صدق وامانت کی خدا تعالیٰ نے گواہی دی تھی
( رِجَال صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہ عَلَیْہِ فَمِنْھُمْ مَنْ قَضٰی نَحْبَہ وَمِنْھُمْ مَنْ یَّنْتَظِرْ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِ یْلاً ) ٢
''یہ وہ ''مرد'' ہیں جنہوں نے سچ کر دکھایا جو عہد انہوں نے اللہ سے باندھا بعض نے تو جانِ عزیز تک اسی راستہ میں دے دی اور بعض (بے چینی سے) اس کے منتظر ہیں اور ان کے عزم واستقلال میں ذرا تبدیلی نہیں ہوئی''
ان ہی کے حق میں بتایا جانے لگا کہ نہ وہ صدق وامانت سے موصوف تھے ،نہ اخلاص وایمان کی دولت انہیں نصیب تھی، جن مخلصوں نے اپنے بیوی بچوں کو اپنے گھربار کو، اپنے عزیز واقارب کو اپنے دوست احباب کو ، اپنی ہرلذت وآسائش کو ، اپنے جذبات وخواہشات کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اس کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم پر قربان کردیا تھا ان ہی کو یہ طعنہ دیا گیا کہ وہ محض حرص وہوا کے غلام تھے اور اپنے مفاد کے مقابلے میں خداورسول کے احکام کی انہیں کوئی پروا نہیں تھی ( لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًا ) ٣
ظاہر ہے کہ اگر امت کا معدہ ان بیہودہ نظریات کی مردہ مکھی کو قبول کر لیتا اور ایک بار بھی صحابہ کرام امت کی عدالت میں مجروح قرار پاتے تو دین کی پوری عمارت گر جاتی ! قرآنِ کریم اور احادیث ِنبویہ سے امان اٹھ جاتا اور یہ دین جو قیامت تک رہنے کے لیے آیا تھا ایک قدم آگے نہ چل سکتا مگر یہ سارے فتنے جو بعد میں پیدا ہونے والے تھے علم ِالٰہی سے اوجھل نہیں تھے اس کا اعلان تھا
( وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ ) ٤
''اور اللہ اپنا نور پورا کرکے رہے گا خواہ کافروں کو کتنا ناگوار ہو''
١ سورة البقرہ : ١٣ ٢ سورة الاحزاب : ٢٣ ٣ سورة مریم : ٨٩ ٤ سورة الصف : ٨
یہی وجہ ہے کہ حق تعالیٰ نے بار بار مختلف پہلوؤں سے صحابہ کرام کا تزکیہ فرمایا ان کی توثیق وتعدیل فرمائی اور قیامت تک کے لیے یہ اعلان فرمادیا
( اُولٰئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الْاِیْمَانَ وَاَیَّدَھُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُ ) (سورة المجادلة : ٢٢ )
''یہی وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے لکھ دیا ان کے دل میں ایمان اور مدد دی ان کو اپنی خاص رحمت سے''
ادھر نبی کریم صلی اللہ عليہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کے بے شمار فضائل بیان فرمائے بالخصوص خلفائے راشدین، حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر، حضرت عثمان ذی النورین، حضرت علی المرتضیٰ رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کے فضائل کی تو انتہا کردی جس کثرت وشدت اور تواتر وتسلسل کے ساتھ آ نحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے صحابہ کرام کے فضائل ومناقب ان کے مزایا وخصوصیات اور ان کے اندرونی اوصاف وکمالات کو بیان فرمایا اس سے واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم اپنی امت کے علم میں یہ بات لانا چاہتے تھے کہ انہیں عام افرادِ امت پر قیاس کرنے کی غلطی نہ کی جائے، ان حضرات کا تعلق چونکہ براہِ راست آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلمکی ذاتِ گرامی سے ہے اس لیے ان کی محبت عین محبت ِ رسول ہے اور ان کے حق میں ادنیٰ لب کشائی ناقابل ِمعافی جرم فرمایا
اَللّٰہْ اَللّٰہْ فِیْ اَصْحَابِیْ لَا تَتَّخِذُوْھُمْ غَرَضًا بَعْدِیْ فَمَنْ اَحَبَّھُمْ فَبِحُبِّیْ اَحَبَّھُمْ وَمَنْ اَبْغَضَھُمْ فَبِبُغْضِیْ اَبْغَضَھُمْ وَمَنْ آذَاھُمْ فَقَدْ آذَانِیْ وَمَنْ آذَانِیْ فَقَدْ آذَی اللّٰہَ وَمَنْ آذَی اللّٰہَ یُوْشِکُ اَن یَّأْخُذَہ ١
'' اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کے معاملہ میں ( مکرر کہتا ہوں ) اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کے معاملہ میں ، ان کو میرے بعد ہدف ِ تنقید نہ بنانا کیونکہ جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی بناپر، اور جس نے ان سے بدظنی کی تو مجھ سے بدظنی کی بناپر ،جس نے ان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذادی ،اور جس نے مجھے ایذادی اس نے اللہ کو ایذا دی، اور جس نے اللہ کو ایذادی تو قریب ہے کہ اللہ اسے پکڑے ''
١ سنن ترمذی ابواب المناقب فیمن سبّ اصحاب النبی صلی اللہ عليہ وسلم رقم الحدیث ٣٨٨٩
امت کو اس بات سے بھی آگاہ فرمایا گیا کہ تم میں سے اعلیٰ فرد کی بڑی سے بڑی نیکی ادنیٰ صحابی کی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کا مقابلہ نہیں کرسکتی اس لیے ان پر زبانِ تشنیع دراز کرنے کا حق امت کے کسی فرد کو حاصل نہیں ، ارشاد ہے
لَا تَسُبُّوْا اَصْحَابِیْ فَلَوْ اَنَّ اَحَدَکُمْ اَنْفَقَ مِثْلَ اُحُدٍ ذَھَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ اَحَدِھِمْ وَلاَ نَصِیْفَہ ١
''میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو (کیونکہ تمہارا وزن ان کے مقابلے میں اتنا بھی نہیں جتنا کہ پہاڑ کے مقابلہ میں ایک تنکے کا ہوسکتا ہے چنانچہ) تم میں سے ایک شخص اُحد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کر دے تو ان کے ایک سیر جو کو نہیں پہنچ سکتا اور نہ اس کے عشر عشیر کو''
مقامِ صحابہ کی نزاکت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتی ہے کہ امت کو اس بات کا پابند کیا گیا کہ ان کی عیب جوئی کرنے والوں کو نہ صرف ملعون ومردود سمجھیں بلکہ بر ملا اس کا اظہار کریں ، فرمایا
اِذَا رَائَیْتُمُ الَّذِیْنَ یَسُبُّوْنَ اَصْحَابِیْ فَقُوْلُوْ لَعْنَةُ اللّٰہِ عَلَی شَرِّکُمْ ٢
''جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا بھلا کہتے اور انہیں ہدف ِ تقید بناتے ہیں تو ان سے کہو تم میں سے (یعنی صحابہ اور ناقدین ِ صحابہ میں سے) جو برا ہے اس پر اللہ کی لعنت (ظاہر ہے کہ صحابہ کو برا بھلا کہنے والا ہی بدتر ہوگا)''
یہاں تمام احادیث کا استیعاب مقصود نہیں بلکہ کہنا یہ ہے کہ ان قرآنی و نبوی شہادتوں کے بعد بھی اگر کوئی شخص حضراتِ صحابہ کرام میں عیب نکالنے کی کوشش کرے تو اس بات سے قطع نظر کہ اس کا یہ طرز عمل قرآنِ کریم کے نصوص ِ قطعیہ اور ارشاداتِ نبوت کے انکار کے مترادف ہے یہ لازم آئے گا کہ حق تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ عليہ وسلم پر جو فرائض بحیثیت ِ نبوت کے عائد کیے تھے اور جن میں اعلیٰ ترین منصب تزکیۂ نفوس کا تھا گویا حضرت رسالت پناہ صلی اللہ عليہ وسلم اپنے فرائض منصبی کی بجا آوری سے قاصر رہے اور تزکیہ نہ کر سکے اور یہ قرآنِ کریم کی صریح تکذیب ہے ! !
١ بخاری و مسلم ٢ سنن ترمذی ابواب المناقب فیمن سبّ اصحاب النبی صلی اللہ عليہ وسلم رقم الحدیث ٣٨٩٣
حق تعالیٰ تو ان کے تزکیہ کی تعریف فرمائے اور ہم انہیں مجروح کرنے میں مصروف رہیں اور جب نبی کریم صلی اللہ عليہ وسلم ان کے تزکیہ سے قاصر رہے تو گویا حق تعالیٰ نے آپ کا انتخاب صحیح نہیں فرمایا تھا اِنَّ لِلّٰہ ، بات کہاں سے کہاں تک پہنچ جاتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ کے انتخاب میں قصور نکلا تو اللہ تعالیٰ کا علم غلط ہوا نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْغَوَایَةِ وَالسَّفَاھَةِ
چنانچہ اہلِ ہوا کی بڑی جماعت کا دعویٰ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ''بدا'' ہوتا ہے، یعنی اسے بہت سی چیزیں جو پہلے معلوم نہیں تھیں بعد میں معلوم ہوتی ہیں اور اس کا پہلا علم غلط ہوجاتا ہے جن لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ تصور ہو، رسول اور نبی اور ان کے بعد صحابہ کرام کا ان کے نزدیک کیا درجہ رہے گا ؟ !
الغرض صحابہ کرام پر تنقید کرنے، ان کی غلطیوں کو اچھالنے اور انہیں موردِ الزام بنانے کا قصہ صرف ان ہی تک محدود نہیں رہتا بلکہ خدا ورسول، کتاب و سنت اور پورا دین اس کی لپیٹ میں آجاتا ہے اور دین کی ساری عمارت منہدم ہوجاتی ہے بعید نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے اپنے اس ارشاد میں جو اوپر نقل کیا گیا ہے اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا ہو
مَنْ آذَاھُمْ فَقَدْ آذَانِیْ وَمَنْ آذَانِیْ فَقَدْ آذَی اللّٰہَ وَمَنْ آذی اللّٰہَ یُوْشِکُ اَن یَّأْخُذَہ
''جس نے ان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی، اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ تعالیٰ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ اسے پکڑلے''
اور یہی وجہ ہے کہ تمام فرقِ باطلہ کے مقابلے میں اہلِ حق کا امتیازی نشان صحابہ کرام کی عظمت ومحبت رہا ہے۔ تمام اہلِ حق نے اپنے عقائد میں اس بات کو اجماعی طور پر شامل کیا ہے
وَنَکُفُّ عَنْ ذِکْرِ الصَّحَابَةِ اِلَّا بِخَیْرٍ
''اور ہم صحابہ کا ذکر بھلائی کے سوا کسی اور طرح کرنے سے زبان بند رکھیں گے''
گویا اہلِ حق اور اہلِ باطل کے درمیان امتیاز کا معیار صحابہ کرام کا '' ذکربالخیر'' ہے جو شخص ان حضرات کی غلطیاں چھانٹتا ہو ، ان کو موردِ الزام قرار دیتا ہو اور ان پر سنگین اتہامات کی فردِ جرم عائد کرتا ہو وہ اہلِ حق میں شامل نہیں ہے ! ! !
جو حضرات اپنے خیال میں بڑی نیک نیتی، اخلاص اور بقول ان کے وقت کے اہم ترین تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے قبائح صحابہ کو ایک مرتب فلسفے کی شکل میں پیش کرتے ہیں اور اسے ''تحقیق'' کا نام دیتے ہیں ، انہیں اس کا احساس ہو یا نہ ہو لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس تسوید ِ اوراق کا انجام اس کے سوا کچھ نہیں کہ جدید نسل کو دین کے نام پردین سے بیزار کردیا جائے اور ہر ایرے غیرے کو صحابہ کرام پر تنقید کی کھلی چھٹی دے دی جائے جنہیں نہ علم نہ عقل نہ فہم نہ فراست ! ! ! اور یہ نرا اندیشہ ہی اندیشہ نہیں بلکہ کھلی آنکھوں اس کا مشاہدہ ہونے لگا ہے الامان والحفیظ
کہا جاتا ہے کہ
''ہم نے کوئی نئی بات نہیں کہی بلکہ تاریخ کی کتابوں میں یہ سارا مواد موجود تھا ہمارا قصور صرف یہ ہے کہ ہم نے اسے جمع کردیا ہے''
افسوس ہے کہ یہ عذر پیش کرتے ہوئے بہت سی اصولی اور بنیادی باتوں کو نظر انداز کردیا گیا ہے ورنہ بادنیٰ تامل واضح ہو جاتا کہ صرف اتنا عذر طعن ِ صحابہ کی وعید سے بچنے کے لیے کافی نہیں اور نہ وہ اتنی بات کہہ کر بری الذمہ ہوسکتے ہیں !
(١ ولاً) قرآنِ کریم کے نصوص ِقطعیہ، احادیث ِ ثابتہ اور اہلِ حق کا اجماع، صحابہ کی عیب چپنی کی ممانعت پر متفق ہیں ، ان قطعیات کے مقابلے میں تاریخی قصہ کہانیوں کا سرے سے کوئی وزن ہی نہیں ۔ تاریخ کا موضوع ہی ایسا ہے کہ اس میں تمام رطب ویابس اور صحیح و سقیم چیزیں جمع کی جاتی ہیں ، صحت کا جو معیار ''حدیث'' میں قائم رکھا گیا ہے تاریخ میں وہ معیار نہ قائم رہ سکتا تھا نہ اسے قائم رکھنے کی کوشش کی گئی اس لیے حضراتِ محدثین نے ان کی صحت کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کردیا ہے حافظ عراقی فرماتے ہیں ولیعلم الطالب ان السیرا یجمع ماصح وما قد نکرا یعنی ''علم ''تاریخ وسیر صحیح کر لیتا ہے
اب جو شخص کسی خاص مدعا کو ثابت کرنے کے لیے تاریخی مواد کو کھنگال کر تاریخی روایات سے استدلال کرنا چاہتا ہے اسے عقل وشرع کے تمام تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف یہ دیکھ لینا کافی نہیں ہے کہ یہ روایت فلاں فلاں تاریخ میں لکھی ہے بلکہ جس طرح وہ سوچتا ہے کہ یہ روایت اس کے مقصد ومدعا کے لیے مفید ہے یا نہیں ؟ اسی طرح سے اس پر بھی غور کرلینا چاہیے کہ کیا یہ روایت شریعت یا عقل سے متصادم تو نہیں ؟ اس اصول کی وضاحت کے لیے یہاں صرف ایک مثال کا پیش کرنا کافی ہوگا
آپ خلیفہ ٔ راشد اسے کہتے ہیں جو ٹھیک ٹھیک منہاجِ نبوت پر قائم ہو اور اس کا کوئی عمل اور کوئی فیصلہ منہاجِ نبوت کے اعلیٰ معیار سے ہٹا ہوا نہ ہو ! اب آپ ایک صحابی کو خلیفہ راشد تسلیم کرتے ہوئے اس پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ انہوں نے بلا کسی استحقاق کے مالِ غنیمت کا پورا خُمس(٥ لاکھ دینار) اپنے فلاں رشتہ دار کو بخش دیا تھا ! !
سوال یہ ہے کہ ''خلافت ِ راشدہ'' اور ''منہاجِ نبوت'' یہی ہے جس کی تصویر اس افسانے میں دکھائی گئی ہے ؟ اور آج کے ماحول میں اس روایت کو من وعن تسلیم کرنے سے کہ یہ ذہن نہیں بنے گا کہ خلافت ِ راشدہ کا معیار بھی آج کے جائر حکمرانوں سے کچھ زیادہ بلند نہیں ہوگا جو اپنے رشتہ داروں کو روٹ پرمٹ اور امپورٹ لائسنس مرحمت فرماتے ہیں ؟ اسی پر ان دوسرے الزامات کو قیاس کر لیجیے جو بڑی شانِ تحقیق سے عائد کیے گئے ہیں
(ثانیًا) یہ روایات آج یکایک نہیں ابھر آئی ہیں بلکہ اکابر اہلِ حق کے سامنے یہ سارا مواد موجود رہا ہے اور وہ اس کی مناسب تاویل و توجیہ کر چکے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ ان تاریخی واقعات کو بڑی آسانی سے کسی اچھے محمل پر محمول کیا جاسکتا ہے، اب ایک اٹھتا ہے اور ''بے لاگ تحقیق'' کے شوق میں ان کے ایسے محمل تلاش کرتا ہے جس سے صحابہ کرام کی صریح تنقیص اور ان کی سیرت وکردار کی گراوٹ مفہوم ہوتی ہے، تو کیا اس کے بارے میں یہ حسنِ ظن رکھا جائے کہ صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم کے بارے میں وہ ' 'حسنِ ظن'' رکھتا ہے ؟
اور عجیب بات یہ ہے کہ جب اس کے سامنے اکابر اہلِ حق کے طرزِ تحقیق کا حوالہ دیا جاتا ہے تو ان حضرات کو ''وکیل صفائی'' کہہ کر ان کی تحقیقات کو قابلِ التفات نہیں سمجھتا، غالباً یہ دنیا کی نرالی عدالت ہے جس میں ''وکیل استغاثہ'' کے بیان پر ایک طرفہ فیصلہ دیا جائے اور ''وکیلِ صفائی'' کے بیانات کو اس جرم میں نظر انداز کردیا جائے کہ وہ کسی مظلوم کی طرف سے صفائی کا وکیل بن کر کیوں کھڑا ہوگیا ہے ؟
اوپر قرآن و سنت کے جن نصوص کا حوالہ دیا گیا اور اہلِ حق کے جس اجتماعی فیصلے کا ذکر کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوگا کہ صرف حافظ ابن تیمیہ اور شاہ عبدالعزیز ہی نہیں بلکہ خدا اور رسول اور پوری امت کے اہلِ حق صحابہ کرام کے ''وکیل ِصفائی'' ہیں ! اب یہ فیصلہ کرنا ہر شخص کی اپنی صواب دید پر موقوف ہے کہ وہ وکیلِ صفائی کی صف میں شامل ہونا پسند کرتا ہے یا وکیل ِاستغاثہ کی صف میں ؟ !
( ثالثًا) ان تاریخی روایات کے متفرق جزئیات کو چن چن کر جمع کرنا، انہیں ایک مربوط فلسفہ بنا ڈالنا، جزئیات سے کلیات اخذ کرلینا اور ان پر ایسے جلی اور چھبتے ہوئے عنوانات جمانا جنہیں آج کی چودھویں صدی کا فاسق سے فاسق بھی اپنی طرف منسوب کرنا پسند نہیں کرے گا ! یہ نہ تودین و ملت کی کوئی خدمت ہے نہ اسے اسلامی تاریخ کا صحیح مطالعہ کہا جاسکتا ہے البتہ اسے ''تاریخ سازی'' کہنا بجا ہوگا ! !
بقول سعدی ع ولیکن قلم در کف ِ دشمن است
میں پوچھتا ہوں کیا کوئی ادنیٰ مسلمان اپنے بارے میں یہ سننا پسند کرے گا کہ اس نے خدائی دستور کو بدل ڈالا ؟ اس نے بیت المال کو گھر کی لونڈی بنالیا ؟ اس نے مسلمانوں سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی آزادی سلب کر لی ؟ اس نے عدل و انصاف کی مٹی پلید کر ڈالی ؟ اس نے دیدہ دانستہ نصوصِ قطعیہ سے سرتابی کی ؟ اس نے خدائی قانون کی بالا تری کا خاتمہ کر ڈالا ؟ اس نے اقربا پروری وخویش نوازی کے ذریعہ لوگوں کی حق تلفی کی ؟ کیا کوئی معمولی قسم کا متقی اور پرہیزار آدمی ان جگر پاش اتہامات کو ٹھنڈے دل سے برداشت کرے گا ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو کیا صحابہ کرام ہم نالائقوں سے بھی گئے گزرے ہوگئے کہ ایک دو نہیں بلکہ مثالب وقبائح اور اخلاقی گراوٹ کی ایک طویل فہرست ان کے نام جڑدی جائے ! پھر'' بے لاگ تحقیق ''کے نام سے اس سے اچھالا جائے اور روکنے اور ٹوکنے کے باوجود اس پر اصرار کیا جائے ! !
کیا صحابہ کرام کی عزت وحرمت یہی ہے ؟ کیا اسی کا نام صحابہ کا ''ذکر بالخیر ہے '' ؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے معزز صحابہ اسی احترام کے مستحق ہیں ؟ کیا ایمانی غیرت کا یہی تقاضا ہے ؟ کیا مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کا یہ ارشاد وبھول جانا چاہیے
''جب تم ان کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا بھلا کہتے ہیں تو ان کے جواب میں یہ کہو تم میں سے (یعنی صحابہ کرام اور ان کے ناقدین میں سے) جو برا ہوا اس پر اللہ کی لعنت '' ١
آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کے صحابہ بعد کی امت کے لیے حق وباطل کا معیار ہیں ، انہیں معیت نبوی کا جو شرف حاصل ہوا اس کے مقابلے میں کوئی بڑی سے بڑی فضیلت ایک جو کے برابر بھی نہیں ! کسی بڑے سے بڑے ولی اور قطب کو ان کی خاکِ پا بننے کا شرف حاصل ہوجائے تو اس کے لیے مایہ ٔ صدافتخار ہے اس لیے امت کے کسی فرد کا خواہ وہ اپنی جگہ مفکرِ دوراں اور علامہ ٔ زماں ہی کہلاتا ہو ان پر تنقید کرنا قلبی زیغ کی علامت ہے ع ایاز ! قدر ِ خویش بشناس
یہ دنیا حق وباطل کی آماجگاہ ہے، یہاں باطل، حق کا لبادہ اوڑھ کر آتا ہے، بسا اوقات ایک آدمی اپنے غلط نظریات کو صحیح سمجھ کر ان سے چمٹا رہتا ہے جس سے رفتہ رفتہ اس کے ذہن میں کجی آجاتی ہے اور بالآخر اس سے صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط سمجھنے کی استعداد ہی سلب ہوجاتی ہے اور یہ بڑی خطرناک بات ہے ! !
اہلِ حق وتحقیق کی یہ شان نہیں کہ وہ ''میں سمجھا ہوں '' کی بر خود غلط فہمی میں مبتلا ہوں اور جب انہیں اخلاص وخیر خواہی سے تنبیہ کی جائے تو تاویلات کا ''ضمیمہ'' لگانے بیٹھ جائیں ۔ اہل حق کی شان تو یہ ہے کہ اگر ان کے قلم وزبان سے کوئی نامناسب لفظ نکل جائے تو تنبیہ کے بعد فوراً حق کی طرف پلٹ آئیں
حق تعالیٰ جل ذکرہ ہمیں اور ہمارے تمام مسلمان بھائیوں کو ہر زیغ وضلال سے محفوظ فرمائے اتباعِ حق کی توفیق بخشے
( رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَةً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابْ ) ٢
وَصَلَی اللّٰہُ تعالیٰ علٰی خَیْرِ خَلْقِہ صفوة البریة محمد وعلٰی اٰلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین اٰمین
( بحوالہ ماہنامہ بینات ذوالحجہ ١٤٣٤ ھ / نومبر ٢٠١٣ء )
١ سنن ترمذی رقم الحدیث ٣٨٦٦ ٢ سورة الِ عمران : ٨
٭٭٭




قائد جمعیة حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہم
کا قومی اسمبلی میں پراثر خطاب
٭٭٭
نَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْدُ !
جناب اسپیکر ! پچھلی مرتبہ جب میں نے ایوان میں کچھ گزارشات پیش کی تھیں ظاہر ہے یہاں پر ایوان میں ملک کو ڈسکس کیا جاتا ہے، داخلی معاملات ڈسکس ہوتے ہیں ، خارجی تعلقات پر بات ہوتی ہے اور اپوزیشن ہمیشہ ان کمزوریوں کا تذکرہ کرتی ہے، حکومت کو اصلاحات کی طرف متوجہ کرتی ہے لیکن خدا جانے ایوان جو بالادست ہے اور سپریم ہے اور آپ اس کے کسٹوڈین ہیں ، اگر ہماری کوئی تقریر حکمران حلقوں کو ناگوار گزرتی ہے تو پھر اس کا بلیک آئوٹ کر دیا جاتا ہے، تمام چینلز پر اس کی نشریات بند کر دی جاتی ہیں ، سب سے پہلے تو میں اس پر احتجاج بھی نوٹ کرائوں گا اور آپ کی طرف سے باقاعدہ رولنگ جانی چاہیے کہ کسی بھی ممبر اسمبلی کی تقریر کا حق ہے کہ قوم ان کو سنے اور اس کی آواز قوم تک پہنچے ، اس میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے ! ! !
جناب سپیکر ! بجٹ پر بات ہو رہی ہے، میں معیشت کا ماہر نہیں ہوں لیکن ١٩٨٨ء سے اسی ایوان کے اندر بجٹ سن رہا ہوں ، بجٹ پر بحث ہو رہی ہوتی ہے، وہ سب ہم سن رہے ہوتے ہیں اور ہر حکومت کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ ہم معیشت میں ترقی کریں گے، اپنے پیش کیے ہوئے بجٹ کو ہر گورنمنٹ، پاکستان دوست، عوام دوست، معیشت کی طرف ایک کامیاب قدم قرار دیتے ہیں لیکن اگر ہم گزشتہ پندرہ بیس سالوں سے اپنی معیشت کا تجزیہ کریں کیا ہم مجموعی طور پر نیچے آرہے ہیں یا اوپر جا رہے ہیں ؟ ؟ بدقسمتی سے ہم نے اس ملک میں وہ بجٹ بھی دیکھے ہیں جب ہمارا جی ڈی پی گروتھ منفی پر چلا گیا تھا اور گزشتہ سال جو آپ نے جی ڈی پی گروتھ کا ہدف ہمیں بتایا تھا اس کا پچاس فیصد بھی ہدف ہم حاصل نہیں کر سکے ہیں اور ہم مزید بھی کوئی بڑی اصلاحات اور بڑی امید قوم کو نہیں دے سکے ہیں ! ! !
جناب اسپیکر ! ہم اخبارات پڑھتے ہیں ، ہم الیکٹرانک میڈیا پر لوگوں کی تجزیے سنتے ہیں ، مختلف مجالس میں ہم لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر جب بجٹ کو ڈسکس کرتے ہیں تو میرا مشاہدہ یہ ہے کہ کسی ایک گوشے سے بھی اس بجٹ کی کوئی تحسین نہیں کی گئی اور ہر طرف سے اس پر تنقید کی گئی ہے ! اس کو کمزور بجٹ قرار دیا گیا ہے ! اب آپ میرے اس مشاہدے کے بعد مجھ سے یہ توقع کیسے رکھیں گے کہ میں اس بجٹ کی تحسین کروں ، اس سے امیدیں وابستہ کروں ، اس کو ملکی معیشت کے لیے کوئی پیش رفت سمجھوں ، بہتری کی طرف اس کو پیش رفت سمجھوں ! تو ظاہر ہے کہ جو عمومی رائے سامنے آرہی ہے وہ اس بجٹ کے حوالے سے کوئی حوصلہ افزا نہیں ہے بلکہ مسلسل تنقید پر مشتمل اس قسم کی چیزیں سامنے آرہی ہیں ! ! !
جناب اسپیکر ! کسی بھی ملکی معیشت کے لیے ضروری ہے کہ اس کو پرامن ماحول ملے، ہمارے ملک میں نائن الیون کے بعد ہم مسلسل میدانِ کارزار بنے ہوئے ہیں اور لڑائیاں ہیں ، قتل و غارت گری ہے، جو کسی زمانے میں جرم تصور کیا جاتا تھا، کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ آج وہ ہمارے کلچر کا حصہ بن گیا ہے اور سرے سے محسوس ہی نہیں کیا جا رہا کہ یہاں بدامنی ہے، یہاں لوگ محفوظ نہیں ہیں ، جتنے باعزت لوگ جن کو میں کم از کم اپنے صوبے میں جانتا ہوں یا میں بلوچستان میں جانتا ہوں کوئی باعزت انسان بھتے دیے بغیر اب زندہ نہیں رہ سکتا، یہ ہماری حالت ہو گئی ہے ! ! !
ہند وستان نے ہماری آن پر حملہ کیا، ہند وستان ہر لحاظ سے ہم سے دس سے پندرہ گنا زیادہ طاقتور اور بڑا ملک ہے ،دفاعی لحاظ سے بھی ہماری اور ان کی نسبت تقریباًیہی ہے لیکن پاکستان نے جس جرأت کے ساتھ اس کا دفاع کیا، اس کے ڈیفنس سسٹم کو ناکارہ بنایا، جن جہازوں اور جن پائلٹوں پر ان کو غرور تھا پاکستان نے ان کے غرور کو زمین بوس کر دیا ! یہ سب کچھ دیکھا اور ہر طرف سے داد تحسین ملی ہماری دفاعی قوت کو، یعنی اس کا معنٰی یہ ہے کہ اگر ہماری دفاعی قوت اپنی آئینی اور پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو پورا کرتی ہے اور خود کو وہاں تک محدود رکھتی ہے قوم کل بھی ان کے ساتھ کھڑی تھی قوم آج بھی ان کے ساتھ کھڑی ہوگی ! ! !
لیکن سوالات دو ہیں : کیا ہماری اسٹیبلشمنٹ اپنی ذمہ داریوں تک محدود ہے ؟ کیا دفاع کے علاوہ ملکی سیاست کو وہ کنٹرول نہیں کر رہے ہیں ؟ کیا ہماری پارلیمنٹ کو وہ کنٹرول نہیں کر رہے ؟ اگر وہ نہ چاہیں پارلیمنٹ کے سپریم ہونے کے باوجود میری تقریر باہر نہیں جا سکتی، گیلری میں بیٹھے ہوئے صحافی جو آپ کی اسی سکرین کو دیکھ کر اس سے خبریں لیتے ہیں وہ بند کر دی جاتی ہے، تو پھر آپ بتائیں کہ یہ پارلیمنٹ اور یہ حکومت کیسے sovereignt ( خود مختار) ہے ! ! !
دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم تین یا چار گھنٹوں میں ہند وستان کی طاقت کو اور اس کے غرور کو خاک میں ملا سکتے ہیں تو چالیس سال سے ملک کے اندر ہم عسکریت پسندی کے خلاف لڑ رہے ہیں اس کے خلاف ہمیں کامیابی کیوں نہیں مل رہی ؟ بد امنی، عسکریت پسندی، د ہشت گردی جو بھی آپ اس کو نام دیں آج ہم اسے ایک سیاسی ٹول کے طور پر استعمال کرتے ہیں ، آج ہم اسے ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور عام آدمی کو امن فراہم کرنا یہ شاید اب ہماری ڈیوٹی نہیں رہی ! ! !
جناب اسپیکر ! میں یہاں پر ملک کے تمام قائدین کے سامنے ان خیالات کا اظہار کر چکا ہوں اور میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے دو صوبوں میں حکومتی رٹ موجود نہیں ہے، یہ اعادہ کر رہا ہوں ، یہ نہیں کہ پہلی مرتبہ کہہ رہا ہوں ، اگر دو صوبوں کے اندر حکومتی رٹ ہی موجود نہیں ہے تو ہم کس چیز کے شادیانے بجا رہے ہیں ، ہم اپنے ملک میں بھی محفوظ نہیں ہیں اور دنیائے اسلام میں بھی محفوظ نہیں ہیں ! ان تمام تر حالات میں ہماری قانون سازیاں اپنے ڈرافٹ کے اندر چیخ چیخ کر خود بتلاتی ہیں کہ اس قانون کے پیچھے کس کا پریشر ہے ؟ آپ ہمیں اس ڈراف کے پیچھے خود بتا رہے ہوتے ہیں کہ آئی ایم ایف کا پریشر ہے ! آپ خود ہمیں بتا رہے ہوتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف کا دبائو ہے ! آپ ہمیں بتا رہے ہوتے ہیں کہ ہم یہ قانون سازی اقوام متحدہ کے دبائو پر کر رہے ہیں اور ان کی خواہش اور ترغیب پر کررہے ہیں ! ! !
ہماریsovereignty(خود مختاری) کدھر گئی ! ہم ایک آزاد ملک کی حیثیت سے ہر سال ١٤ اگست کو ''یوم آزادی'' مناتے ہیں ، ہم اس دعوے کے ساتھ کہ ہم ایک آزاد ملک ہیں ، ایک آزاد قوم ہیں لیکن بین الاقوامی سیاسی ادارے، انسانی حقوق کے ادارے جہاں بیٹھے ہوئے ہیں آج ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک یا پسماندہ ممالک وہ بین الاقوامی اداروں کی قراردادوں ، ان کے پاس کیے ہوئے قوانین وہ ہمارے ہاں موثر ہیں اور ہمارا اپنا آئین اور قانون غیر مؤثر اور معطل ہو جاتا ہے اس سے ! ابھی حال ہی میں آپ نے وہ قانون سازیاں کی ہیں جسے آپ کا اپنا آئین ایسی قانون سازی کی قطعاً اجازت نہیں دیتا ! کبھی ہم نے اپنا احتساب کیا ہے، کبھی ایک لمحہ کے لیے سوچا ہے اور جب آپ اس ملک کے اندر آئین کو پامال کرتے ہیں ، جب آپ اس ملک کے اندر قرآن و سنت کو پامال کرتے ہیں تو کبھی اس کو'' حقوق انسانی'' کا لقب دے دیتے ہیں ، کبھی اس کو'' حقوق نسواں ''کا لقب دے دیتے ہیں ! !
میں حیران اس بات پر ہوں کہ اسی ایوان کے اندر ہم نے وہ قانون سازی بھی دیکھی ہم نے ہی اس کا دفاع کیا لیکن وہ قانون پاس ہو گیا تھا کہ حد زنا اس پر زنا بالجبر اور زنا بالرضا کے درمیان فرق کیا گیا اور زنا بالرضا کے حوالے سے قوانین معطل کر دیے گئے، تبدیل کر دیے گئے، آئینی ترمیم تک کی گئی اور سہولتیں مہیا کی گئیں ! لیکن آج ہم اٹھارہ سال کی عمر کو نکاح کے لیے پابند کر کے اس پر سزائیں دے رہے ہیں ، دولہا دلہن کو بھی سزا، ان کے والدین کو بھی سزا، اس نکاح خواں کو بھی سزا، یہ کس قانون کے تحت اس قسم کی سزائیں آپ نافذ کر رہے ہیں جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل اس کو مسترد کر رہا ہے، تمام علما ئے کرام اس کو مسترد کر رہے ہیں جو قرآن و سنت کے حوالے سے اتھارٹی تصور کیے جاتے ہیں وہ اس کو مسترد کررہے ہیں ! ! !
خلاصہ کلام یہ کہ جناب سپیکر ! مسئلے کی نزاکت کو دیکھیں اس پہلو پر نظر ڈالیں کہ ہم جائز نکاح کے لیے تو مشکلات پیدا کر رہے ہیں اور زنا بالرضا کے لیے سہولتیں پیدا کر رہے ہیں ! یہ علامت ہے ایک اسلامی مملکت کی، پاکستان کی، اس کے بعد ہم اس کو اسلامی مملکت کہیں گے ؟ یہ کوئی سر کا جھومر ہے کہ ہم ماتھے پر اس کو لٹکاتے رہیں ، آپ نے اس پارلیمنٹ کے اندر اپنے آئین کو پامال کیا ہے، آپ نے ایک مسلمان ملک کی پارلیمنٹ کے طور پر قرآن و سنت کو پامال کیا ہے، کب احساس ہوگا آپ کو ؟ ! اور جب اس پر تنقید کی جاتی ہے تو ادارے بھی اور پتہ نہیں ان کے کام آنے والے کیا کیا لوگ، این جی اوز وہ ہمارے اوپر ٹوٹ پڑتے ہیں ، بھئی کبھی تو آپ اوپن ڈیبیٹ کریں ! ! !
تم بتائو ہمیں تمہاری ملحدانہ فکر، تمہاری لبرل سوچ، تمہاری آزاد خیالی، تمہاری روشن خیالی آمنے سامنے آکر ہم بتائیں گے آپ کو کہ وہ کس قدر تاریک ہے اور قرآن و سنت کس قدر روشن اور کس قدر انسانیت کی محافظ ہے،چھپے چھپے پھرتے رہتے ہیں لابنگ کرتے ہیں گھر گھر میں ، ایک ایک ممبر کے گھر جاتے ہیں ہم نے یہ کیا، ہم نے وہ کیا، ہم نے یہ کیا، ہم یہ کرنا چاہتے ہیں اور اس قسم کی لابنگ کے نتیجے میں ہماری قانون سازی ہوتی ہے، نہ ہمارا آئین اس کا تقاضا کرتا ہے ،نہ ہمارا ملک اس کا تقاضا کرتا ہے، نہ ہمارا معاشرہ اس کا تقاضا کرتا ہے اور اس ملک کے اندر وہ کچھ ہو رہا ہے کہ جو خود یورپ میں نہیں ہو رہا ! ! !
جناب سپیکر ! ہمیں اس پہلو کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ آج پھر ایک دفعہ ہم بارود اور میزائل اور بمباریوں کے نشانے پر ہیں ، ہم نے بہت خون دے دیا ہے، ہماری قوم بہت قربانیاں دے چکی ہے، ہم فوج کی قربانیوں کا احترام کرتے ہے لیکن قوم نے جو قربانیاں دی ہیں نہتی قوم نے، کہ ہم ان کا دفاع نہیں کر سکتے، ہمارے پاس صلاحیت واستعداد ہی نہیں ہے ! مجھے کراچی میں بتایا گیا کہ عید کے روز دو دو سالہ بچے اغوا کر لیے گئے اور جس دن مجھے یہ بتایا جا رہا تھا اس وقت تک وہ برآمد نہیں ہو سکے تھے، کہاں گئی انسانیت ؟ کس کو آپ انسانیت کا درس دینا چاہتے ہیں ؟ انسان تو یہ کچھ کر رہا ہے ! اس انسانیت کی رہنمائی کے لیے کون سا نظام ہوگا جو مجھے روشنی دے سکے ، اسلام سے پہلے کے معاشرے کو اسلام سے پہلے کے دور کو آج چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی ہم'' دور جاہلیت'' کہتے ہیں
اگر اس وقت اللہ کے دیے ہوئے نظام سے مبرا ہو کر اپنی حیوانی خواہشات کے ساتھ زندگی گزارنے کو زمانہ جاہلیت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے تو آج بھی اس طرح کی سوچ کو میں جاہلیت سے تعبیر کرتا ہوں یہ قطعاًقوم کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، آپ ہم سے چاہتے کیا ہیں ؟ ہم اپنا فکری ہتھیار بھی پھینک دیں آپ کے سامنے، ہم اپنا عقیدہ و ایمان اس کا ہتھیار بھی آپ کے سامنے پھینک دیں ، سرنڈر ہو جائیں ، میں اعلان کرتا ہوں کہ اگر ریاست کے ذمہ داروں کو، حکمرانوں کو اس قسم کا ایجنڈا قبول و منظور ہے تو پھر آپ کی اس سوچ کے خلاف میں اس ایوان سے اعلان جنگ کرتا ہوں ! ! !
کچھ اللہ کو سامنے رکھیں یہ ننانوے نام کا ہم بار بار حوالہ دیتے ہیں ، ہم اللہ کی ننانوے صفات کے نیچے بیٹھے ہوئے ہیں اس لیے ہم نے لکھے ہیں سر کے اوپر کہ ان کی برکتیں نازل ہوں لیکن جو کرتوت ہمارے ہیں ، جو ہم کر رہے ہیں ، جو ان ہی ناموں کے نظام کے ساتھ کر رہے ہیں اس کے بعد ہم اس کی برکات کے منتظر ہوں گے یا اس کی پھٹکار کے منتظر ہوں گے ؟ کچھ تو احساس ذمہ داری ہونی چاہیے کہ ہم کدھر جارہے ہیں ؟ ؟ ؟
آج ہمارا فلسطینی ساٹھ ہزار سے زیادہ شہید ہو چکا ہے اور ابھی تک میرے مسلمان بھائی کا خون پی پی کر صہیو نی درندوں کی پیاس نہیں بجھ رہی، مسلسل بمباری جاری ہے، دو روز کے اندر ڈیڑھ ہزار لوگ شہید ہو چکے ہیں ، مجھے ابھی راستے میں ایک صحافی نے پوچھا اور وہ ریکارڈ بھی کر رہا تھا کہ جنرل عاصم منیر صاحب اور ٹرمپ کی ملاقات ہوئی ہے آپ اس بارے میں کیا کہیں گے ؟ ؟ میں نے کہا کہ ابھی میرے پاس تو کوئی ایسی رپورٹ نہیں ہے ! انہوں نے کہا کوئی وہاں پر پریس ٹاک کی ہو ؟ میں نے کہاکہ میرے علم میں نہیں ہے ! لیکن میں ایک سیاسی کارکن کے طور پر یہ تجزیہ کر سکتا ہوں کہ اس نے ضرور کہا ہوگا کہ ا نڈیا پاکستان کے درمیان جنگ نہیں ہونی چاہیے، اس نے یہ ضرور کہا ہوگا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ نہیں ہونی چاہیے ، لیکن اس نے یہ کبھی نہیں کہا ہوگا کہ اسرائیل فلسطین پر بمباری بند کر دے ! ! !
یہ تین جملے میرے پاس ہیں کہ ادھر سے ا نڈیا پاکستان جنگ کی بات ہوئی ہوگی، اسر ائیل اور ایر ان کی جنگ کی بات ہوئی ہوگی اور کبھی بھی فلسطین کے حوالے سے ٹرمپ نے بات نہیں کی ہوگی، کیوں یہ امتیاز برتا جا رہا ہے، جہاں پر صہیو نی مرتا ہے جہاں پر مودی مرتا ہے اس سے تو ان کو تکلیف ہو رہی ہے لیکن اگر ایک غریب مسلمان، غیر مسلح مسلمان، چھوٹے چھوٹے بچے، خواتین، بوڑھے بزرگ ان کا خون بہہ رہا ہے پورا شہر ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے اس کا کسی کو احساس نہیں ہے، مسلمان کی نظر سے نہ دیکھو انسان کی نظر سے دیکھو ! اس کا معنٰی یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مسلمان نہیں ہے اگر کسی شخص کی زندگی قرآن و سنت کی تعلیمات سے آراستہ نہیں ہے تو پھر یہ انسانیت نہیں اسی کو ہم'' حیوانیت'' کہتے ہیں ! اس انسانیت پر فخر مت کرو، شرم سے تمہارے سر جھک جانے چاہییں ، اس کو انسانیت کہتے ہیں ! پاکستان اسلامی دنیا کا بڑا ملک ہے ، پاکستان اسلامی دنیا کا مؤثر ملک ہے ، پاکستان اسلامی دنیا کی طاقتور دفاعی قوت ہے، پاکستان اسلامی دنیا کی ایٹمی طاقت ہے، پاکستان کے اندر وہ صلاحیتیں موجود ہیں کہ وہ امت ِمسلمہ کی قیادت کرے اور ہم ہیں کہ ملک کی داخلی صورت حال میں بھی دفاعی پوزیشن میں ہیں اور خطے کی صورت حال میں بھی ہم دفاعی پوزیشن میں ہیں ، قیادت خاک کریں گے ہم ؟ یہی پیغام اس پارلیمنٹ سے امت ِمسلمہ کو جانا چاہیے، او آئی سی (OIC)کو جانا چاہیے، بین الاقوامی اداروں کی کوئی حیثیت اب نہیں رہی، او آئی سی ایک دکھاوا ہے ! ! !
سلامتی کونسل کے پانچ بڑے ممالک، ترقی یافتہ ممالک کی منوپلی ہے، پورا اقوام متحدہ، جنرل اسمبلی امریکہ کی لونڈی ہے، وہ جب چاہیں ہماری سیاست پر بھی قبضہ کر لیں ، ہم سے قانون سازی کا حق بھی چھین لیں ، ہم ان کے دبائو پر قانون سازیاں کرتے رہیں ، معیشت ان کی خواہشات کے تابع کریں اور یہ جو بجٹ پیش کیا گیا ہے اگر وزیر خزانہ صاحب موجود ہوتے تو میں ان کی موجودگی میں یہ کہتا کہ وزیر خزانہ صاحب یہ آپ نے تیار نہیں کیا یہ آئی ایم ایف نے تیار کیا ہے اور آپ نے پڑھ کر سنایا ہے، آپ کے اندر اس وقت بجٹ بنانے کی صلاحیت بھی ختم ہو چکی ہے،ہم کب ایک طاقتور ملک کی حیثیت اختیار کریں گے ؟ ؟ ؟
ایران اگر اسر ائیل کو جواب دے رہا ہے تو ایر ان کے ہاتھ روکے جاتے ہیں ، اگر پاکستان انڈ یا کو جواب دیتا ہے تو پاکستان کے ہاتھ روکے جاتے ہیں ، لیکن اگر وہ مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے تو ان کو کھلی چھٹی دی جاتی ہے، ہند وستان کے مسلمانوں کا قتل عام ہوا اسی مودی کے ہاتھوں ، یہ مسلم دشمن ہے اور میں ایک بات اور کہنا چاہتا ہوں دوستوں سے معذرت کے ساتھ کہ اس کو ''پاک انڈ یا جنگ'' نہ کہا جائے یہ ''پاک مودی جنگ'' تھی، کیونکہ پاکستان متحد تھا اور ہند وستان کی حکومت کو ہند وستان میں کوئی تائید حاصل نہیں تھی، وہ اکیلے ''ہند وتوا کاٹ'' کھیل رہا تھا اور ایک سرکار پاکستان پر حملہ کر رہی تھی اس کی اپوزیشن نے بھی ساتھ نہیں دیا ، وہاں کی اقلیت نے بھی ساتھ نہیں دیا، وہاں کے سکھوں نے بھی ساتھ نہیں دیا، وہاں کے مسلمانوں نے بھی ساتھ نہیں دیا، تو یہ صرف مودی کی جنگ تھی ! تو جو اکیلے جنگ لڑے گا اور قوم ساتھ نہیں ہوگی تو یہ انجام ہوگا اور اگر یہاں پر قوم ساتھ ہوگی، ان کے پشت پر کھڑی ہوگی تو پھر یہ بہادری ہوگی داد ملے گی ! جب آپ بنگال میں لڑ رہے تھے تو قوم آپ کے ساتھ نہیں تھی تو نتیجہ کیا نکلا، آج آپ لڑیں اور قوم آپ کے ساتھ تھی تو نتائج کیا سامنے آئے ؟ لیکن ہمیں خطے کی سیاست میں اس کے اچھے نتائج حاصل کرنے کی سٹریٹجی بنانی ہوگی، سوچ سمجھ کر بنانی ہوگی، ہمیں خطے میں ایران کو اعتماد میں لینا ہوگا، ہم ایر ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور پاکستان کو کھل کر کھڑا ہو جانا چاہیے، ہمیں کھل کر اہلِ غز ہ کے ساتھ فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہو جانا چاہیے ! یہو د ہنو د یہ ایک ہیں یہ ایک دوسرے کے اتحادی ہیں ! اگر فلسطین سے آگے لبنان پر وہ حملہ کر چکا ہے، اگر وہ شام پر حملے کرچکا ہے، پرانے قبضے ایک طرف، حال ہی میں جو اس نے شام کی دفاعی قوت کو تباہ کیا ہے، عراق میں جو کچھ گزری ہے وہ آپ کے سامنے ہے اس کے بعد ایر ان اس کے بعد اب پاکستان، تو فلسطین ، لبنان، شام، عراق، ایر ان اور پاکستان ! اور پاکستان کی ایٹمی قوت کو تباہ کرنا ان کا ایجنڈا ہو سکتا ہے ! ادھر سے ہند وستان ہمارے لیے خطرہ ہے، ہم خطے میں خطے کے ممالک کے ساتھ انگیج نہیں ہو رہے ؟ ہمیں وہ پالیسی بنانی ہوگی، ہمارے اپنے دوست ممالک ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیں وہ گرم جوشی نہیں رہی ہے جو کسی زمانے میں تھی اور وہ آج ہونی چاہیے تھی ! ! !
تو ایسی تمام تر صورت حال میں جناب سپیکر ہمیں غور کرنا ہوگا اور پھر پالیسیوں کے اوپر بجٹ میں ممبران اپنے حلقوں کی بات بھی کرتے ہیں ، اپنے علاقوں کی بات بھی کرتے ہیں ، جناب وزیراعظم نے ہمارے علاقوں میں جن منصوبوں کا خود افتتاح کیا تھا آج اسی وزیراعظم نے اپنے افتتاح کیے ہوئے منصوبوں کے فنڈز روک دیے ہیں ! اب بتائیے ہم کس سے امید رکھیں ؟ تو اللہ کی حاکمیت کے نیچے اس کی نیابت تو ہم کر رہے ہیں ہمارے حکمران کر رہے ہیں اسے کہتے ہیں اللہ کی نیابت کہ ہم قانون پاس کریں آئین کے تحت پابند قرآن و سنت کے تابع، لیکن قانون سازی کرتے ہیں ہم اقوام متحدہ کے تابع، قانون سازی کرتے ہیں ہم آئی ایم ایف کے تابع ! ! اور پھر ہماری بیوروکریسی میں ایسے لوگ ہیں جو میں نے خود سنے ہیں کہ اگر آپ ان کی بات نہیں مانیں گے تو ریاست ختم ہو جائے گی ! ! !
اب جو میرے ملک کو چلانے والے لوگ ہیں ان کی خودداری ان کا اعتماد اس کی حالت یہ ہے کہ اس پر فاتحہ پڑھی جائے، ختم ہو چکی ہے، یہ لوگ میرے ملک کو چلائیں گے، پچیس کروڑ کی عوام کے اس ملک کو یہ لوگ چلائیں گے، جناب والا اس ملک میں انقلاب چاہیے، روایتی سیاست کا دور اب ختم ہو چکا ہے عوام کو بیدار کرو، اس میں شعور پیدا کرو تاکہ وہ اپنے مسائل کے لیے خود آواز بلند کر سکیں ! ! !
تو یہ چند گزارشات تھیں میں نے کچھ اگر وقت زیادہ لے لیا ہے تو اس کی سزا کسی دوسرے میرے کولیگ کو نہ دیں ! اللہ کرے کہ ہم اپنے روِش پر نظر ثانی کریں ، ملک کے اندر جمہوری اقدار کو بحال کریں ، سیاست دانوں کے ساتھ انتقامی روّیہ نہ رکھیں اور ایک انصاف پر مبنی نظام ہونا چاہیے، معیشت قوت کے استعمال سے بہتر نہیں ہوگی، معیشت قوم کو انصاف مہیا کرنے سے بہتر ہو سکتی ہے اس کے بغیر بہتر نہیں ہوسکتی
وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین
( ١٩ جون ٢٠٢٥ئ)
٭٭٭




رحمن کے خاص بندے
قسط : ٣٣
( حضرت مولانا مفتی سید محمد سلمان صاحب منصور پوری، استاذ الحدیث دارالعلوم دیوبند )
٭٭٭
بے حیائیاں ، لاعلاج امراض کا سبب :
سیّدنا حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ کی ایک طویل روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا
لَمْ تَظْھَرِ الْفَاحِشَةُ فِیْ قَوْمٍ قَطُّ حَتّٰی یُعْلِنُوْا بِھَا اِلَّا فَشَافِیھِمُ الطَّاعُوْنُ وَالاَوْجَاعُ الَّتِیْ لَمْ تَکُنْ مَضَتْ فِیْ اَسْلَافِھِمُ الَّذِیْنَ مَضَوْا ١
''جب بھی کسی قوم میں بے حیائیاں برسرعام کی جانے لگیں تو ان پر طاعون اور ایسے امراض مسلط کردیے جاتے ہیں جن کا ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں کبھی نام بھی نہ سنا گیا ہو''
اس حدیث کی صداقت آج بالکل عیاں ہے، بے حیائیوں اور بدکاریوں سے بھرپور مغربی اور مشرقی معاشرہ میں ایسے خطرناک اور لاعلاج بدترین امراض جنم لے چکے ہیں جن کا اس سے پہلے کبھی نام بھی نہیں سنا گیا تھا اور میڈیکل سائنس کی ہزار ترقیوں کے باوجود ابھی تک ان جالیوا بیماریوں کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوپا یا ہے جیسا کہ آج ہرطرف ''ایڈز'' نامی بیماری کا شور ہے، پوری دنیا اس کے تصور ہی سے سہمی ہوئی ہے اور تمام طبی تحقیقات سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ یہ بیماری غلط اور خلاف ِ فطرت جنسی تعلقات کی وجہ سے ہی وجود میں آتی ہے لیکن اس کی روک تھام کے لیے جتنی بھی کوششیں کی جارہی ہیں وہ سب بے سود ثابت ہورہی ہیں اور یہ بیماری برابر روز افزوں ہے۔
اقوامِ متحدہ کا محکمہ صحت کروڑوں ڈالر ''ایڈز بچاؤ مہم'' پر خرچ کر رہا ہے مگر اہل دنیا کی پست فکری اور ہوس پرستی پر ہنسی آتی ہے کہ وہ ایسے امراض کے بچاؤ کے لیے فطری اور مؤثر طریقہ (فواحش سے
١ ابن ماجة ص١٨٤ رقم ٤٠١٩ الترغیب والترھیب مکمل ص٥٢٣ رقم ٣٦٨٥ ، الزواجر ٢/ ٢٢٩
کلی اجتناب) اپنانے کے بجائے اپنی بد نیتی کی بناپر صرف ''محفوظ جنسی عمل'' (مانع حمل اشیاء کی تشہیر) کی مہم چلائے ہوئے ہیں جو ان امراض میں اضافہ کا تو سبب ہوسکتی ہے لیکن اس سے امراض پر روک لگانے کی بات سوچنا ایک دیوانے کے خواب سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا فَیَا لَلْعَجَبْ !
آج نہایت بے غیرتی اور بے شرمی کے ساتھ نئی عمر کے بچوں اور بچیوں اور کالجوں کے طلبہ وطالبات کے سامنے اس کی ٹریننگ دی جاتی ہے جس کی بنا پر شہوانی جذبات برانگیختہ ہوتے ہیں اور گویا کہ نوجوانوں کو مانع حمل چیزوں کے استعمال کے ساتھ ناجائز جنسی تعلقات بنانے پر آمادہ کیا جاتا ہے اس صورت ِ حال میں اس مرض کے خاتمہ کا تصور ہی فضول ہے ، اگر معاشرہ میں بے حیائیاں ، فواحش اور ناجائز جنسی تعلقات کا چلن رہے گاتو ایسے جان لیوا اور ناقابلِ علاج امراض حدیث ِبالا کی پیش گوئی کے مطابق یقینا پائے جاتے رہیں گے اور دنیا اس عذاب سے ہرگز محفوظ نہ رہ سکے گی !
بریں بنا جسمانی صحت مندی ، معاشرتی سکون اور ذہنی یکسوئی کے حصول کا واحد راستہ یہی ہے کہ فواحش کے تمام سوراخوں کو بند کیا جائے اور ڈھکی چھپی اور ظاہری بے حیائیوں کو بدترین جرم قرار دے کر معاشرہ سے ان کی جڑوں کو اکھیڑدیا جائے !
ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس طرح کی مشکلات کا حل صرف اور صرف اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے میں ہی مضمر ہے ان سے قطع نظر کر کے جو بھی مہم چلائی جائے گی اس کے لیے بہرحال ناکامی ہی مقدر ہوگی جس کا آج ہر کوئی مشاہدہ کر سکتا ہے !
بیویوں کے ساتھ خلافِ فطرت عمل کرنا :
جس طرح مرد کا مرد سے خواہش پوری کرنا حرام ہے اسی طرح اپنی منکوحہ بیوی سی خلافِ فطرت طریقہ پر انتفاع بھی حرام ہے۔ قرآنِ پاک میں اس کی ممانعت کی طرف اشارات موجود ہیں جبکہ سرور عالم، محسن انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ عليہ وسلم نے امت کی نصیحت و رہنمائی کا حق ادا فرماتے ہوئے بہت وضاحت کے ساتھ اس عمل سے روکا ہے چنانچہ امیر المومنین سیّدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا
اِسْتَحْیُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ ، وَلَا تَأْتُوْا النِّسَائَ فِیْ اَدْبَارِھِنَّ ١
''شرم و حیاء کیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ حق بات کہنے سے نہیں شرماتے اور عورتوں کے پاس ان کے پیچھے کے راستہ میں مت جایا کرو''
اور سیدنا حضرت عقبة بن عامر رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ پیغمبر علیہ الصلٰوة والسلام نے فرمایا
لَعَنَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ یَأْتُوْنَ النِّسَائَ فِیْ مَحَاشِّھِنَّ ٢
''اللہ کی لعنت ایسے لوگوں پر جو عورتوں کی گندگی کی جگہوں (پیچھے کے راستوں ) میں جاتے ہیں ''
اور سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا
مَنْ اَتَی النِّسَائَ فِیْ اِعْجَازِھِنَّ فَقَدْ کَفَرَ ٣
''جو عورتوں کے پیچھے کے راستہ میں جماع کرے اس نے کفر کا ارتکاب کیا'' (یعنی کافروں جیسا عمل کیا)
نیز ایک روایت میں ہے کہ
''جو شخص حیض کی حالت میں عورت سے جماع کرے یا اس کے پیچھے کے راستہ سے خواہش پوری کرے یا کاہن کے پاس جاکر اس کی باتوں کی تصدیق کرے تو اس نے حضرت محمد صلی اللہ عليہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی کا انکار کیا'' ٤
مذکورہ روایات پوری امت کی تنبیہ کے لیے کافی ہیں بالخصوص آج کل انٹرنیٹ وغیرہ آلات کے ذریعہ جو بیہودہ مناظر عام کیے جارہے ہیں اور انسانی اخلاق کے بجائے شیطانی اور حیوانی اعمال کا رواج دینے میں طاغوتی طاقتیں سرگرم ہیں ان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ عقل مند انسان وہی ہے جو اپنے کو شہوت کا غلام نہ بنائے بلکہ انسانیت وشرافت کا معیار ہر حالت میں برقرار رکھے۔
١ رواہ ابو یعلٰی باسناد جید ، الترغیب والترھیب مکمل ص٥٢٥ رقم الحدیث ٣٦٩٧
٢ الترغیب والترھیب مکمل ص ٥٢٥ رقم الحدیث ٣٧٠٠
٣ رواہ طبرانی ، الترغیب والترھیب مکمل ص٥٩٥ رقم الحدیث ٣٧٠١
٤ رواہ احمد ٢/ ٤٠٨ ، الترمذی رقم ١٣٥ ، الترغیب والترہیب مکمل ص٥٢٥ رقم الحدیث ٣٧٠٤
خوبصورت لڑکوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا موجب ِ فتنہ ہے :
ہم جنسی اور فواحش سے بچنے کے لیے وہ تمام دروازے بند کرنے ضروری ہیں جو اس منحوس عمل تک پہنچاتے ہیں ، ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ بے ریش نوعمر بچوں کے ساتھ نظر بازی، تنہائی اور اختلاط سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے کیونکہ اس بیماری بلکہ سب ہی فواحش کی ابتدا بدنظری ہی سے ہوتی ہے، کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
کُلُّ الْحَوَادِثِ مَبْدَأُھَا مِنَ النَّظَر وَمُعَظَّمُ النَّارِ مِنْ مُسْتَصْغَرِ الشَّرَر
''ہر فحش حادثہ کی ابتدا بدنظری سے ہی ہوتی ہے اور بڑی آگ چھوٹی سی چنگاری ہی سے لگا کرتی ہے''
وَالْمَرْأُ مَا دَامَ ذَا عَیْنِ یُقَلِّبُھَا فِیْ اَعْیُنِ الْعَیْنِ مَوْقُوْف عَلَی الْخَطَر
''اور جب تک آدمی دیکھنے اور بہکنے والی آنکھ کا مالک رہتا ہے وہ خطرہ کی جگہ پر کھڑا رہتا ہے''
کَمْ نَظْرَة فَعَلَتْ فِیْ قَلْبِ صَاحِبِھَا فِعْلَ السِّھَامِ بِلَا قَوْسٍ وَلَا وَطَر
''کتنی ہی نظریں آدمی کے دل میں بغیر تانت اور کمان کے تیرکا کام کر جاتی ہیں ''
یَسُرُّ نَاظِرُہ مَاضَرَّ خَاطِرَہ لَا مَرْحَبًا بِسُرُوْرٍ عَادَ بِالضَّرَر
''دیکھنے والا ایسے منظر کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے جس سے اس کے دل کو نقصان پہنچتا ہے اور ایسی خوشی میں کوئی مبارک بادی نہیں ہے جو نقصان لے کر لوٹے''
خلاصہ یہ کہ بد نظری سے بہرحال احتیاط لازم ہے چنانچہ مروی ہے کہ پیغمبر علیہ السلام کے پاس جب عبدالقیس کے لوگ وفد بناکر آئے تو ان میں ایک خوبصورت بے ریش نوجوان بھی تھا توآنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے اسے اپنے پیچھے بیٹھنے کا حکم دیا تاکہ اس پر نظر نہ پڑے۔ ( الزواجر ٢/ ٢٣٣ )
اور بعض تابعین کا قول ہے کہ
''دیندار عبادت گزار نوجوانوں کے لیے پھاڑ کھانے والے درندے سے بھی بڑا دشمن اور نقصان دہ وہ امرد لڑکا ہے جو اس کے پاس آتا جاتا ہے''
حضرت حسن بن ذکوان فرماتے ہیں کہ ''مالداروں کے بچوں کے ساتھ زیادہ اٹھا بیٹھا نہ کرو اس لیے کہ ان کی صورتیں عورتوں کی طرح ہوتی ہیں اور ان کا فتنہ کنواری عورتوں سے زیادہ سنگین ہے '' ١
کیونکہ عورتیں تو کسی صورت میں حلال ہوسکتی ہیں لیکن لڑکوں میں حلت کی کوئی صورت ہی نہیں ہے
حضرت عبداللّٰہ بن مبارک رحمة اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سفیان ثوری حمام میں داخل ہوئے تو وہاں ایک خوبصورت لڑکا بھی آگیا تو آپ نے فرمایا کہ'' اسے باہر نکالو کیونکہ عورت کے ساتھ تو ایک شیطان ہوتا ہے اور لڑکوں کے ساتھ دس سے زائد شیطان ہوتے ہیں '' ٢
ابتدا ہی سے بچوں کو بری عادتوں سے بچانے کا اہتمام کرنا چاہیے، خاص طور پر اس بات کی نگرانی کرنی چاہیے کہ چھوٹے بچے بالخصوص تنہائی کے اوقات بڑے لڑکوں کے ساتھ نہ گزاریں ۔
اسی بناپر نبی کریم علیہ الصلٰوة والسلام کا حکم ہے کہ جب بچے سمجھ دار ہوجائیں تو ان سب کے بستر علیحدہ کردینے چاہئیں ۔ ( سُنن ابی داود کتاب الصلٰوة باب متی یومر الغلام بالصلوة ١/ ٧١ )
ان حکمت آمیز ہدایات پر عمل کر کے ہی امت کو ایسی بری باتوں سے یقینا بچایا جاسکتا ہے ، اللہ تعالیٰ ہم کو اور ہماری نسلوں کو ہر قسم کے اخلاقی امراض سے محفوظ رکھے، آمین
گنہگاروں کے لیے عذابِ جہنم کی وعید :
بدکاری اور دیگر کبیرہ گناہوں کے تذکرہ کے بعد بطورِ تنبیہ آگے یہ ارشاد فرمایا گیا
( وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا یُضٰعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَیَخْلُدْ فِیْہ مُھَانًا ) ٣
''جو کوئی مذکورہ اعمال (یعنی شرک، قتل اور زنا) کا مرتکب ہوگا تو وہ اَثام (جہنم کی ہولناک وادی) میں جا پڑے گا، اس کو قیامت کے دن کئی گنا عذاب ہوگااور اس میں ذلیل ہوکر تادیر رہتا رہے گا''
اس لیے جو شخص آخرت میں ذلت و رسوائی اور عذاب سے محفوظ رہنا چاہتا ہے اسے بہرحال ایسے گناہوں سے دور رہنا چاہیے اور اگر کوئی غلطی ہوجائے تو جلد از جلد توبہ و استغفار کرلینا چاہیے ! ! (جاری ہے)
١ شعب الایمان ٤ / ٣٥٨ ٢ شعب الایمان ٤ /٣٦٠ ٣ سورة الفرقان : ٦٨، ٦٩




شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی
قسط : ١
( مولانا محمد معاذ صاحب، فاضل جامعہ مدنیہ لاہور )
٭٭٭
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی رحمة اللہ علیہ کی ولادت بریلی شہر میں ١٢٦٨ھ / ١٨٥١ء میں ہوئی ، آپ کا وطنِ اصلی دیوبند ہی ہے ، بریلی میں آپ کے والد ماجد مولانا ذوالفقار علی صاحب بریلی کالج میں ملازمت کی وجہ سے مقیم تھے۔ والد صاحب نے آپ کا نام ''محمود حسن'' رکھا جبکہ والد ماجد کے ایک بے تکلف دوست نے اس موقع پر ''ولد ذوالفقار علی'' تاریخ کہی جس سے سال ولادت ١٢٦٨ھ نکلتا ہے ١
مولانا ذوالفقار علی کا سرکاری ملازمت کی وجہ سے تبادلہ ہوتا رہتا تھا، جب شیخ الہند کی عمر چھ سال ہوئی اس وقت آپ میرٹھ میں مقیم تھے، یہ ١٨٥٧ء کا زمانہ تھا گویا جس وقت جنگ آزادی لڑی جارہی تھی اس وقت شیخ الہند میرٹھ میں مقیم تھے۔ حضرت شیخ الہند ،مولانا ذوالفقار علی کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے اس لیے آپ کی تعلیم وتربیت کا والدین نے خصوصی اہتمام کیا۔آپ کی تعلیم کا آغاز میاں جی منگلوری سے ہوا ، میاں جی سے قاعدہ اور قرآن مجید کا معتد بہ حصہ پڑھا ،ان کے بعد میاں جی مولانا عبداللطیف سے بقیہ قرآن مجید اور فارسی کی ابتدائی کتب پڑھیں ۔یہاں سے آپ کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری آپ کے چچا مولانا مہتاب علی دیوبندی کو تفویض کی گئیں جن سے آپ نے فارسی نصاب کی تکمیل اور درجہ عربی کی کتب قدوری وتہذیب المنطق تک تعلیم حاصل کی ٢ آپ کی تعلیم یہیں تک پہنچی تھی کہ محرم الحرام ١٢٨٣ھ/ مئی ١٨٦٦ء دیوبند میں مدرسہ کا قیام عمل میں آیا ، مدرسہ کا نام اس سال کی روداد میں ''مدرسہ عربی دیوبند'' درج ہے ٣
١ حیات شیخ الہند، مولانا میاں اصغر حسین عکسی طباعت ادارہ اسلامیات انار کلی جنوری ١٩٧٧ ص ١٧
٢ مقامِ محمود۔ مجموعہ مقالاجات سمینار شیخ الہند جنوری ١٩٨٦ء مضمون نگار مفتی ظفیر الدین مصباحی ص ٩١
٣ کیفیت سالِ اوّل سالانہ مدرسہ عربی دیوبند ضلع سہارنپور بابت ١٢٨٣ھ طبع دوم مطبع قاسمی دیوبند ص١
مدرسہ عربی دیوبند کی ابتداء دیوبند کی قدیم ''چھتہ مسجد'' میں ایک استاذ اور ایک طالب علم سے ہوئی حسنِ اتفاق کہ معلم ومتعلّم دونوں ہی کا نام '' محمود'' تھا، استاذ مولانا ملا محمود دیوبندی جبکہ شاگرد شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی تھے مدرسہ کی ابتداء میں طلبہ کی تعداد ٢١، جبکہ ذوالحجہ ١٢٨٣ھ میں یہی تعداد بڑھ کر ٧٨ تک پہنچ گئی تھی (روداد سالانہ مدرسہ عربی دیوبند ١٢٨٣ھ ص ٢)
محرم ١٢٨٣ھ تا شعبان ١٢٩٠ھ تک تمام تعلیم حضرت شیخ الہند نے دیوبند ہی میں مکمل کی ۔ حضرت شیخ الہند کے دار العلوم دیوبند کے زمانہ تعلیم میں نام کے متعلق ایک ابہام ہے ،دارالعلوم کی ابتدائی روداد وں میں محمود حسن کا نام دو طرح ملتا ہے : (١) محمود حسن دیوبندی (٢) محمود حسن سائیں دیوبندی
سوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں شخصیات ایک ہی ہیں یا علیحدہ علیحدہ ؟
راقم نے اس سلسلے میں محافظ خانہ دار العلوم میں رابطہ کیا تو وہاں سے درج ذیل مبہم جواب آیا :
''محمود حسن سائیں '' یہ دوسری شخصیت کا نام ہے ! زبانی طور پر معلوم ہوا کہ سائیں اس علاقے میں ایک برداری کو کہا جاتا ہے ١
راقم نے اس ابہام کو دور کرنے کے لیے مسمٰی محمود حسن سائیں دیوبندی شخصیت کی ولدیت طلب کی تو محافظ خانہ کے ریکارڈ میں اس نام سے کوئی ولدیت درج نہیں ملی۔ راقم کا خیال یہ ہے کہ دونوں شخصیتیں ایک ہی ہیں ہمارے اس موقف کو درج ذیل قرائن سے تقویت ملتی ہے :
(١) روداد ١٢٩٠ھ صفحہ ٢٠ پروہ سند جو حضرت شیخ الہند کو تکمیل ِعلم پرمنجانب مدرسہ عطا کی گئی تھی درج ہے اس سند میں آپ کی مدرسہ دیوبند میں پڑھی گئیں کتب بھی مذکور ہیں ، کتب کی مندرجہ تفصیل کا جب روداد سے مقابلہ کیا گیا تو بعض ''محمود حسن دیوبندی '' کے نام سے اور بعض ''محمود حسن سائیں دیوبندی'' کے درج ناموں سے مکمل ہوتی ہیں ۔ اب جب تک دونوں شخصیات کو ایک نہ تصور کرلیا جائے اس وقت تک روداد اور سند میں تطبیق ممکن نہیں !
راقم نے یہ اشکال اور تطبیق محافظ خانہ والوں کو بھی ارسال کی مگر وہاں سے مزید کرم فرمائی نہ کی گئی
١ خط مولانا عبدالسلام قاسمی، محافظ خانہ دار العلوم دیوبند ٢٩ ذو الحجہ ١٤٤٤ھ/ ٢٧ ستمبر ٢٠٢٢ء
(٢) ایک کرم فرما کے اصرار پردیوبند کی تاریخ اور آثار سے واقف اور کتاب ''دیوبند تاریخ و تہذیب کے آئینے میں '' کے مصنف ڈاکٹر عبید اقبال عاصم صاحب سے رابطہ کیا گیا، آپ کے تتبع سے جو جواب ملا وہ بہت حد تک تطبیق کے لیے موزوں تھا، مناسب خیال ہوتا ہے کہ راقم نے جو عرضی آپ کو بھیجی تھی اسے بھی یہاں درج کردیا جائے تاکہ محفوظ ہوجائے
مکرمی جناب عبید اقبال عاصم زید مجدہ
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
امید ہے جناب خیریت سے ہوں گے ، جناب کا رابطہ نمبر ایک کرم فرما نے عنایت فرمایا عرض کا مقصد ایک الجھن کا دور کرنا ہے ، جو یہ ہے
دار العلوم دیوبند کی ابتدائی رودادوں میں ایک نام دو طرح ملتا ہے
(١) محمود حسن دیوبندی (٢) محمود حسن سائیں دیوبندی
اوّل الذکر سے تو یقینا حضرت شیخ الہند نَوَّرَ اللّٰہُ ضَرِیْحَہُ ہی مراد ہیں جبکہ دوسرے بزرگ کی تعیین نہیں ہو پا رہی ! ناچیز نے اس ضمن محافظ خانہ دار العلوم دیوبند بھی رابطہ کیا تھا مگر وہاں سے تسلی بخش جواب نہیں ملا البتہ یہ بتایا گیا کہ ''سائیں '' ایک برادری کو کہا جاتا تھا
معلوم طلب امر یہ ہے کہ جناب کی تحقیق میں دیوبند میں کوئی برادری اس نام کی تھی یا ہے ؟ یا یہ ایک مفروضہ ہے ؟
مؤخر الذکر نام ہمارے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ حضرت شیخ الہند کو مدرسہ کی طرف سے جو سند دی گئی تھی اس میں درج کتب ''محمود حسن سائیں دیوبندی'' کی پڑھی کتب ملائے بغیر صرف محمود حسن دیوبندی کے نام سے درج کتب سے مکمل نہیں ہوتیں ۔ امید ہے جناب اس الجھن سے نکلنے میں تعاون فرمائیں گے
جزاکم اللّٰہ احسن الجزاء
ناچیز محمد معاذ لاہوری عفی عنہ (خریج) جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور پاکستان
جمعرات ١٨ شعبان ١٤٤٥ھ/ ٢٩ فروری ٢٠٢٤ء
راقم نے اس عرضی کے ساتھ دارالعلوم کی مطلوبہ رودادیں بھی بھیجی تھیں تاکہ مدعا سمجھنے میں سہولت رہے۔ موصوف نے کرم فرمائی کرتے ہوئے راقم کا مدعا دار العلوم دیوبند وقف کے شیخ الحدیث حضرت مولانا احمد خضر شاہ صاحب مدظلہم کی خدمت میں پیش کیا، حضرت نے جواباً ارشاد فرمایا کہ سائیں کسی برادری کا نام تو نہیں البتہ غالب گمان یہ ہے کہ قدیم دور میں ''سائیں '' کا لفظ پیار اور محبت سے مخاطب کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا اس لیے روداد میں جہاں محمود حسن کے ساتھ سائیں کا لاحقہ ہے وہ اسی قاعدہ کی بنیاد پر ہے !
(٣) ١٢٨٨ھ کے تعلیمی سال حضرت شیخ الہند ،حضرت نانوتوی کی خدمت میں بغرض تعلیم میرٹھ وغیرہ میں مقیم تھے اس سال کی رودادمیں محمود حسن دیوبندی اور محمود حسن سائیں دیوبندی دونوں ہی نام درج نہیں ، قابل غور بات یہ ہے کہ اگر یہ دونوں علیحدہ شخصیات ہوتیں تو کسی ایک کا نام تو اس سال کی روداد میں درج ہوتا جبکہ اگلے سال ١٢٨٩ھ کی روداد میں دونوں ہی کے نام درج ہیں اس لیے ہمارا خیال یہی ہے کہ یہ دونوں ایک ہی شخصیت ہیں واللّٰہ اعلم
ذیل میں حضرت شیخ الہند کی پڑھی گئی کتب اوران کے محصلہ نمبر درج کیے جاتے ہیں یہ بات پیش نظر رہے کہ اس وقت کل نمبر ٢٠ جبکہ انعام کے لیے کم از کم١٨ نمبر حاصل کرنے ہوتے تھے۔
١٢٨٣ھ/ ١٨٦٦ء :
اس سال کی روداد میں آپ کی پڑھی کتب تو درج نہیں البتہ انعام یافتہ طلبہ میں آپ کا نام نمبر ٣٢ پر اور حاصل کردہ نمبر ١٨ درج ہیں آپ کو اصول الشاشی انعام میں ملی ١
١٢٨٤ھ/ ١٨٦٧ء :
کتاب کنز الدقائق میبذی مختصر المعانی
حاصل کردہ نمبر ١٨ ١٨ ١٨
انعامی کتب : صغیری ، شرح عقائد ، حکایات نفحات الیمن ٢
١ روداد مدرسہ عربی دیوبند ١٢٨٣ھ ص ٤ ٢ کیفیت مدرسہ عربی دیوبند بابت سال دوم ١٢٨٤ ھ مطبع قاسمی دیوبند ص ٦
١٢٨٥ھ/ ١٨٦٨ء :
کتاب ھدایة مشکوة مختصر المعانی مقامات
حریری کنز الدقاق شرح ملا شرح
تہذیب التھذیب
نمبر ٥/٣ ١٩ ٥/١ ١٧ ١٨ ١٦ ٢/١ ١٧ ٢ ١٧ ١٨
انعامی کتب : ترمذی ، حسامی ، قال اقول ١
١٢٨٦ھ/ ١٨٦٩ء :
کتاب ترمذی مشکوة ہدایہ دیوان متنبی کنز الدقائق میر قطبی قطبی تصدیقات ارود
بعربی
نمبر ٢/١ ١٨ ٢/١ ١٨ ٤/٣ ١٧ ١٩ ٢/١ ١٤ ٤/١ ١١ ٢/١ ٨ ١٩
انعامی کتب : ابوداود ، در مختار ، کلیہ و دمنہ در مختار ٢
١٢٨٧ھ/١٨٧٠ء :
کتاب مشکوة
نمبر ٥/٣ ١٧ ٣
١٢٨٨ھ/١٨٧١ء :
اس سال آپ حجة الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کی خدمت میں استفادہ کی غرض سے مقیم رہے حضرت نانوتوی میرٹھ، دیوبند، نانوتہ جہاں جہاں بھی مقیم ہوتے آپ ساتھ ساتھ ہوتے ٤
١٢٨٩ھ/ ١٨٧٢ء :
کتاب مسلم نسائی ترمذی مقامات نا تمام خلاصہ الحساب شرح وقایة
نمبر ٤/٣ ١٦ ٢/١ ١٩ ٢/١ ١٨ ٢/١ ١٧ ٤/١ ١٤ ١٦
انعامی کتاب : نصف ابوداؤد ، ابو داؤد نصف آخر ٥
١ کیفیت سومی سالانہ (١٢٨٥ھ) مدرسہ عربی دیوبند ضلع سہارنپور، مطبع ضیائی میرٹھ
٢ کیفیت چہارمی سالانہ مدرسہ عربی دیوبند بابت ١٢٨٦ھ طبع دوم مطبع قاسمی دیوبند
٣ کیفیت پنجمی سالانہ مدرسہ عربی دیوبند بابت ١٢٨٧ھ طبع دوم مطبع قاسمی دیوبند ٤ حیات شیخ الہند ص ١٩
٥ کیفیت ہفتمی سالانہ مدرسہ عربی دیوبند بابت ١٢٨٩ھ طبع دوم مطبع دیوبند باہتمام مولانا حبیب الرحمن
١٢٩٠ھ/ ١٨٧٣ء :
کتاب : ابو داؤد نمبر : ٤/١ ١٩
انعامی کتب : شرح تہذیب ، مجموعہ منطق ، قطبی ١
١٢٩٠ھ/ ١٨٧٣ء میں آپ کی مدرسہ دیوبند سے فراغت ہوئی اور دستار و سند فضیلت سے نوازا گیا ۔ ١٩ ذیقعدہ ١٢٩٠ھ/ ٩ جنوری ١٨٧٤ء کو مدرسہ عربی دیوبند کا پہلا تاریخ ساز جلسہ دستار بندی جامع مسجد دیوبند میں منعقد ہوا ٢ اس جلسے میں حضرت شیخ الہند کے ساتھ چار اور حضرات کی دستار بندی کرکے سند فراغت دی گئی ، روداد میں درج ہے :
''اس مدرسہ کے معمولات میں سے ہے کہ جب کوئی طالب علم بعد تکمیل یا قبل اس کے مدرسہ چھوڑے اور استدعاکرے تو ایک سند اس کی تحصیل کی اس کو ملتی ہے اور جو طالب علم بالکل فارغ ہو جاتا ہے تو اس کو دستارِ فضیلت بھی مجمع عام بندھوائی جاتی ہے چنانچہ اس سال میں پانچ صاحبوں کو سند مرحمت ہوئی اور پنجتن کا ذکر مذکور الصدور ہوچکا ہے دستارِ فضیلت مع سند بتاریخ ١٩ ذیقعدہ ١٢٩٠ھ بروز جمعہ جلسہ منعقد کر کے روبرو مجمع علماء اور دیگر روسائے شہر واطراف وجوانب بندھوائی گئی نام ان صاحبوں کے جن کو سند مع دستار ِفضیلت عطا ہوئی
مولوی عبدالحق ساکن پور قاضی مولوی محمود حسن ساکن دیوبند
مولوی فخر الحسن ساکن گنگوہ مولوی فتح محمد ساکن تھانہ بھون
مولوی عبداللہ جلال آبادی ٣
اس موقع پر جو سند مدرسہ کی طرف سے آپ کو دی گئی تھی ذیل میں اسے درج کیا جاتا ہے
١ کیفیت ہشتمی سالانہ مدرسہ عربی دیوبند بابت ١٢٩٠ھ مطبع فاروقی دہلی باہتمام میر محمد معظم ص ٣٧
٢ کیفیت ہشتمی سالانہ بابت ١٢٩٠ھ ص ٩ ٣ کیفیت ہشتمی سالانہ بابت ١٢٩٠ھ ص ٥٠
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نَحْمَدُہُ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم
مولوی محمود حسن خلف الرشید مولوی ذوالفقار علی صاحب ڈپٹی انسپکٹر مدارس ضلع سہارنپور ساکن دیوبند ضلع سہارنپور ١٢٨٣ھ میں تہذیب پڑھتے ہوئے داخل مدرسہ ہوئے۔ منطق میں تہذیب، قطبی، میر قطبی۔ حکمت میں میبذی ۔ بلاغت میں مختصر معانی ۔ کلام میں شرح عقائد۔اصول میں اصول الشاشی، نور الانوار، توضیح تلویح ۔ فقہ میں کنز، شرح وقایہ، ہدایہ ۔ حدیث میں مشکوة، ترمذی، نسائی، مسلم، ابوداؤد ۔ ریاضی میں تصریح ، شرح چغمینی ۔ ادب میں مقاماتِ ہندی، مقاماتِ حریری، دیوانِ متنبی ، تاریخ یمنی، تاریخ تیموری، حماسہ۔ باقی کتب درسیہ بخدمت جناب مولوی محمد قاسم صاحب تحصیل کیں ، سالانہ امتحانوں میں عدد کامل پایا اور انعام ہمیشہ ان کو ملا۔
استعداد جید، مناسبت تام ، ذہن ثاقب ،طبع موزوں ، فکر صائب رکھتے ہیں اور بطورِ نیابت طلبہ کو درس دیتے رہے ہیں ۔ ان کی خوبی اخلاق اور عمدہ چال چلن سے مدرسین اور مہتمم راضی اور سب طلبہ سبق یاب و ہم سبق خوش رہے ۔ اب بعد تکمیل وتحصیل بمشورہ مہتممان مدرسہ یہ سند عطا ہوئی۔ فقط ١٩ ذیقعدہ ١٢٩٠ ھ
العبد مدرسین مدرسہ عربی دیوبند ضلع سہارنپور
العبد مدرس اوّل مولوی محمد یعقوب ، العبد مدرس دوم مولوی سیّداحمد صاحب
العبد مدرس سوم مولوی محمد محمود صاحب
العبد مدرس مہتممان مدرسہ مذکور الصدور
العبد مولوی مہتاب علی صاحب العبد مہتمم مدرسہ مولوی محمد رفیع الدین صاحب
العبد مولوی ذوالفقار علی صاحب، ڈپٹی انسپکٹر مدارس ضلع سہارنپور ١ (جاری ہے)
١ کیفیت ہشتمی سالانہ ١٢٩٠ھ ص ٢٧ ، ٢٨




اخبار الجامعہ
( جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد رائیونڈ روڈ لاہور)
٭٭٭
١٧ جون کو شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب مدظلہم کے ہم سبق حضرات حضرت مولانا خالد محمود صاحب ، حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب ،حضرت مولانا نعیم الدین صاحب ، حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب اور حضرت مہتمم صاحب کے شاگرد مولانا شاہد ریاض صاحب و مولانا محمد عابد صاحب حضرت مہتمم صاحب کی عیادت کے لیے بعد نماز ظہر جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور حضرت صاحب سے ملاقات کی اور کچھ دیر قیام فرمایا بعد ازاں واپس تشریف لے گئے۔
٭٭٭




وفیات
٭٭٭
٭ ١٩ ذوالحجہ ١٤٤٥ھ / ١٦ جون ٢٠٢٥ء کو جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹائون کراچی کے بانی حضرت مولانا سید محمد یوسف صاحب بنوری کے صاحبزادے حضرت مولانا سید محمد صاحب بنوری کی اہلیہ صاحبہ،جامعہ کے موجودہ نائب مہتمم حضرت مولانا ڈاکٹر سید احمد یوسف صاحب بنوری کی والدہ ماجدہ طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال فرماگئیں اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق نصیب ہو، آمین۔ جامعہ مدنیہ جدید اور خانقاہِ حامدیہ میں مرحومہ کے لیے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت کرائی گئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ، آمین
٭٭٭

Have a question?

Email us your queries on jamiamadniajadeed@gmail.com you will be answered in less than 24 hours or Give us a call directly at +92 333 4249302, +92 333 4249 301.