Anwar-e-Madina

ماہنامہ انوار مدینہ

جون‬ 2025

jamiamadnijadeed

ماہنامہ انوار مدينہ
جلد : ٣٣ ذوالحجہ ١٤٤٦ھ / جون ٢٠٢٥ء شمارہ : ٦
٭٭٭
سیّد محمود میاں مُدیر اعلٰی
سیّد مسعود میاں نائب مُدیر
٭٭٭




بدلِ اشتراک
٭٭٭
پاکستان فی پرچہ 50 روپے ....... سالانہ 600 روپے
سعودی عرب،متحدہ عرب امارات..... سالانہ 90 ریال
بھارت ،بنگلہ دیش ........... سالانہ 25 امریکی ڈالر
برطانیہ،افریقہ ........................ سالانہ 20 ڈالر
امریکہ .................................. سالانہ 30 ڈالر




جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ اور ای میل ایڈ ریس
٭٭٭
www.jamiamadniajadeed.org
jmj786_56@hotmail.com
Whatsapp : +923334249302




ترسیل ِزر و رابطہ کے لیے
٭٭٭
'' جامعہ مدنیہ جدید'' محمد آباد19 کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور
رابطہ نمبر : 923334249302+
موبائل : 923334249301+
موبائل : 923454036960+
موبائل : 923234250027+
جازکیش نمبر : 923044587751+




دارُالافتاء کا ای میل ایڈ ریس اور وٹس ایپ نمبر
٭٭٭
darulifta@jamiamadniajadeed.org
Whatsapp : +923214790560




مولاناسیّد رشید میاں صاحب طابع وناشر نے شرکت پرنٹنگ پریس لاہور سے چھپواکر دفتر ماہنامہ ''انوارِ مدینہ '' نزد جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور سے شائع کیا




اس شمارے میں
٭٭٭
حرفِ آغاز ٤
مجاہدین اسلام کے لیے خاص دعائیں حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ١٨
درسِ حدیث حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ٢٢
سیرت ِ مبارکہ ................. دربار نبوی یعنی بزم رحمة للعالمین صلی اللہ عليہ وسلم کی خصوصیات اور آداب حضرت اقدس مولانا سید محمد میاں صاحب ٢٦
مقالاتِ حامدیہ .... قربانی اور نمازِ عید سے متعلق اشکالات کے جوابات حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ٣١
رحمن کے خاص بندے قسط : ٣١ حضرت مولانا مفتی محمد سلمان صاحب منصورپوری ٣٥
ماہِ ذی الحجہ کے فضائل ومسائل حضرت مولانا نعیم الدین صاحب ٣٨
مصنوعی ذہانت ، اسناد اور سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی جناب ڈاکٹر مبشر حسین صاحب رحمانی ٥٠
اخبار الجامعہ مولانا عکاشہ میاں صاحب ٦١
وفیات ٦٣




دعائے صحت کی اپیل
٭٭٭
شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب مدظلہم العالی دو ماہ سے شدید علیل ہیں
قارئین کرام سے حضرت مدظلہم کی صحت یابی کے لیے دعائوں کی اپیل ہے (ادارہ)




حرفِ آغاز
٭٭٭
شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب مدظلہم گزشتہ دو ماہ سے شدید علیل ہیں
اس لیے اس ماہ کا اداریہ حضرت مولانا نعیم الدین صاحب مدظلہم نے تحریر کیا ہے (ادارہ)
٭٭٭
نَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْدُ !
پاک بھارت تنازع٢٠٢٥ء ایک مسلح تصادم تھا جس کا آغاز ٧ مئی ٢٠٢٥ ء کو ہوا جب بھارت نے پاکستان پر میزائل حملے کیے جنہیں ''آپریشن سِندور'' کا نام دیا گیا ١ بھارت نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی ٢٢ اپریل کو بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں عسکریت پسندوں کے حملے کے جواب میں کی گئی جس میں اٹھائیس شہری جن میں اکثریت سیاحوں کی تھی، ہلاک ہو گئے تھے ! اس حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا کیونکہ بھارت نے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا جس کی پاکستان نے تردید کی ! !
١ ''سندور'' سرخی مائل رنگ دار مادہ ہے جو ہندو خواتین اپنی پیشانی پر شادی شدہ ہونے کی علامت کے طور پر لگاتی ہیں بتایا جاتا ہے کہ آپریشن کا نام ''سندور'' اس لیے رکھا گیا کیونکہ پہلگام حملے میں مبینہ طور پر ہندو مردوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا جس کے باعث کئی خواتین بیوہ ہو گئیں ۔
یہ واقعات بالآخر ٢٠٢٥ ء کی پاک بھارت کشیدگی کا سبب بنے پاکستان نے بھی باضابطہ طور پر جوابی کارروائی آپریشن بُنْیَان مَّرْصُوْص کے تحت شروع کی ١ قرآن سے ماخوذ اس نام کا مطلب سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے جس کا مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ قوم کسی اعلیٰ مقصد کے لیے لڑ رہی ہے ! !
٧ مئی ٢٠٢٥ء کو بھارتی مسلح افواج نے'' آپریشن سندور'' کے نام سے اچانک پاکستان میں میزائل داغنے شروع کیے جن میں آزاد کشمیر اور صوبہ پنجاب کے نومختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا ! بھارتی فضائیہ نے یہ کارروائی رافیل طیاروں کے ذریعے اسکالپ میزائلوں اور ہیمر بموں سے کی جو صرف تئیس منٹ میں مکمل ہو گئی ! کچھ رپورٹوں کے مطابق حملے میں براہموس کروز میزائل اور اسرائیلی ٹیکنالوجی سے تیار کردہ اسکائی اسٹرائیکر خود کش ڈرون بھی شامل تھے، ایک پاکستانی جنرل کے مطابق بھارتی طیارے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئے بغیر ہی حملے کر کے واپس پلٹ گئے ! بہاولپور اور مریدکے میں موجود مبینہ عسکری پسند ٹھکانے بھی ٹارگٹ کیے گئے ان حملوں کے بعد لائن آف کنٹرول پر حالات بگڑ گئے ! کپواڑہ، بارہ مولہ، اڑی اور اکھنور سمیت کئی علاقوں میں پاکستان کی طرف سے گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا ! !
پاکستان نے دعوی کیا کہ اس نے بھارت کے تین رافیل، ایک مگ 29، ایک ایس یو30 ، ایم کے آئی اور ایک ڈرون مار گرایا ! ! سی این این کو ایک فرانسیسی انٹیلی جنس افسر نے بتایا کہ پاکستان نے واقعی ایک رافیل گرایا مگر فرانسیسی فوج نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا !
تین دن تک دونوں ممالک کی جانب سے وقفہ وقفہ سے مختلف کارروائیاں ہوتی رہیں ، جانبین کی طرف سے کچھ کی ذمہ داری قبول ہوتی رہی اور کچھ کو محض الزام بتایا گیا !
١ اس فوجی آپریشن کا نام قرآن مجید کی ایک آیت ( بُنْیَان مَّرْصُوْص) سے لیا گیا ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ '' بیشک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کے راستے میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں ''( سورة الصَّفْ : ٤ ) یہ ایک عربی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے'' سیسہ پلائی ہوئی دیوار''
١٠ مئی ٢٠٢٥ء بروز ہفتہ دوپہر کے وقت ریاست ہائے متحدہ امریکا کی ثالثی کے نتیجہ میں جنگ بندی عمل میں آئی ! امریکی حکومت کو اس بات پر تشویش لاحق ہوئی کہ کہیں پاک بھارت تنازع جوہری تصادم میں نہ تبدیل ہو جائے ! اسی تناظر میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستانی وقت کے مطابق صبح چار بجے سے رابطے شروع کیے اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، مشیر قومی سلامتی عاصم ملک اور وزیر اعظم شہباز شریف سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ! امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھارتی حکام بشمول وزیر اعظم نریندر مودی سے رابطے میں رہ کر معاملے کو پر امن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی ! اس دوران سعودی عرب، ایران، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ نے بھی جنگ بندی کی اپیلوں اور پس پردہ سفارتی مداخلت میں کردار ادا کیا !
١٠ مئی کو دوپہر دوبجکر تیس منٹ پر دونوں ممالک کے عسکری حکام خصوصاً آپریشن کے سربراہان نے پہلی بار براہ راست ٹیلیفونک رابطہ کیا جو اس تنازع کے آغاز کے بعد پہلا رابطہ تھا، بھارت کے سیکریٹری خارجہ وکرم مسری اور پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک کی افواج مکمل جنگ بندی پر متفق ہو گئی ہیں اور دشمنی کا خاتمہ شام پانچ بجے بھارتی وقت/ ساڑھے چار بجے شام پاکستانی وقت سے مؤثر ہوگا، معاہدے کے بعد پاکستان نے تجارتی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بحال کر دیں اور دونوں ریاستوں کے درمیان فوجی ہاٹ لائنیں بھی فعال کر دی گئیں ! !
جمعیة علماء اسلام کے مرکزی امیر حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہم کا ایک انٹرویو اس حوالہ سے بہت اہم ہے جس میں جنگی حالات اور وطن عزیز کی مجموعی طور پر کامیابی نیز خطے کی صورتِ حال کے حوالہ سے اطمینان بخش رہنمائی ملتی ہے ، اس لیے ہم قائد جمعیة حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کے اس انٹرویو کو اداریہ کی زینت بنا رہے ہیں




امیر جمعیة علماء اسلام پاکستان حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہم
کی '' ڈان نیوز'' پر عادل شاہ زیب کے ساتھ خصوصی گفتگو
٭٭٭
السلام علیکم ناظرین ! لائیو عادل شاہ زیب کے ساتھ میں ہوں آپ کا میزبان ! گزشتہ دو ہفتے ہم نے دیکھا پاکستان اور انڈیا کی جو کشیدگی تھی پھر اس کے بعد انڈیا نے جس طرح جارحیت کا مظاہرہ کیا دو تین دن مسلسل پاکستان پر حملے جاری رکھے پھر پاکستان نے مجبوراً جب جواب دیا تو انڈیا کو جو ہزیمت اور شرمندگی انٹرنیشنل لیول پر اٹھانی پڑی جو ماڈرن کنونشنل وار فیئر ہے ایٹمی جنگ کے علاوہ جو جنگ ہوتی ہے اس میں جو ایک امیج تھا انڈیا کا کہ انڈیا جو ہے وہ ناقابلِ تسخیر قوت اور طاقت بن چکا ہے خصوصاً اس خطے میں ، وہ ٹوٹ چکا ہے اور یہ ہم نہیں کہہ رہے یہ جو عالمی دفاعی تھنک ٹینکس ہیں خصوصاً رافیل طیاروں کے گرنے کے بعد کی جو صورت حال ہے اس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ٹویٹ آتی ہے کہ '' سیز فائر ہو چکا ہے اور بات ہوگی اور کشمیر پر بھی بات ہوگی''
اور پھر ان کی کل ایک سٹیٹمنٹ آتی ہے کہ
'' میں نے انڈیا اور پاکستان دونوں کو کہا کہ آپ کے ساتھ تجارت بند کر لیں گے اگر آپ نے سیز فائر نہیں کی''
اب پاکستان اور امریکہ کی جو تجارت ہے وہ تو آٹے میں نمک کے برابر ہے لیکن انڈیا اور امریکہ کی جو میوچول تجارت ہے وہ تقریباً ایک سو تیس بلین ڈالرز ہے، لیکن پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اب سیز فائر ہوچکی ہے لیکن بار بار جو انڈین پرائم منسٹر ہیں ان کے جو بیانات ہیں انہوں نے جب کل اپنی قوم سے خطاب کیا تو اس میں انہوں نے یہ کہا کہ بات ہوگی لیکن پاکستانی کشمیر پر بات ہوگی، پانی اور خون ساتھ میں نہیں بہہ سکتا یعنی وہ جو انڈس واٹر ٹریٹی انہوں نے یونیلائٹرلی سسپنڈ کی تھی اس پر بھی وہ بات کرنے کے لیے نہیں تیار اور بات اگر وہ کشمیر پر کریں گے بھی تو وہ آزاد کشمیر کی بات کر رہے ہیں ، لیکن پریزیڈنٹ ٹرمپ جو ہیں وہ کچھ اور کہہ رہے ہیں تو یہ معاملات کس طرف جائیں گے، پاکستان کی قومی قیادت کیا سوچ رہی ہے ، پاکستان کی اپوزیشن کیا سوچ رہی ہے ؟ تمام معاملات پر گفتگو کریں گے اپوزیشن کے بڑے رہنما بزرگ سیاستدان جمعیة علماء اسلام کے سربراہ جناب مولانا فضل الرحمن صاحب
اینکر : مولانا صاحب بہت شکریہ آپ نے اپنے قیمتی وقت سے ٹائم نکالا، مولانا صاحب بڑا نازک وقت ہے اس وقت سیز فائر ہو چکا ہے لیکن کسی بھی وقت یہ سیز فائر جو ہے وہ ٹوٹ سکتا ہے آپ اس پوری صورت حال کا کیسے جائزہ لیں گے ؟
مولانا صاحب: بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم ۔ صلی اللّٰہ علی نبیہ الکریم وعلی الٰہ وصحبہ اجمعین !
دیکھیے ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے اور اس پورے عرصے میں حالات نارمل تھے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ چھوٹے موٹے واقعات ہوتے رہتے تھے خاص طور پر کشمیر کے علاقوں میں ، لیکن ایک دوسرے سے صرف احتجاج نوٹ کرایا اور اس کے بعد معاملہ معمول پر آگیا، لیکن اس بار بالکل ماضی سے مختلف ہندوستان نے اپنا روّیہ دکھایا کہ پہلگام کا واقعہ ہوا اور پہلگام کے واقعے کا دس منٹ کے اندر اندر اس نے سارا ملبہ پاکستان کے اوپر ڈال دیا اور نہ آ ئودیکھا نہ تائو دیکھا اس نے پاکستان کے مختلف مراکز جو ہمارے دینی مراکز تھے، مساجد تھے، مدارس تھے وہاں پر انہوں نے راکٹ برسائے اور اس میں جتنے لوگ شہید ہوئے ہیں وہ سب سویلین ہیں اور غیر مسلح لوگ ہیں اگر وہ یہ دعوی کرتا ہے کہ اس نے میلیٹنٹس(Militants) پر حملہ کیا ہے تو ایک منٹ میں بتا دیں کہ کس کو انہوں نے نشانہ بنا یا ہے ؟
اینکر : اور مولانا صاحب اس دن انٹرنیشنل جرنلسٹ ان ساری سائٹس پر پہنچے جہاں حملہ کیا تھا ؟
مولانا صاحب : جی ہاں ! اور اس میں بچے ہیں خواتین ہیں تو کشمیر میں ایل او سی کے اوپر بلا وجہ انہوں نے حملہ کیا اور پھر یہ کہنا کہ ہم نے تو صرف دہشت گرد مارے ہیں یا ان کے مراکز پر حملہ کیا ہے !
اگلے روز انہوں نے ہمارے ایئر بیسز پر حملے کیے اور ایئر بیسز پر حملے کرنے کے بعد پاکستان نے اپنے طیارے اڑائے اور پھر اس کی جوابی کارروائی دکھائی ! تو پورے خطے میں ایک ایسا تنائو پیدا کرلیا ہے جس کی بنیادی وجہ کیا ہو سکتی ہے ؟ بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ حکومت تو بی جے پی کی ہے لیکن واجپائی آنجہانی اور یہ جو مودی صاحب ہیں ان کی سوچ اور پالیسیوں اور روّیوں میں ایک سو اسی ڈگری کا فرق ہے ! وہ بڑے معتدل انسان تھے، پاکستان آئے مینار پاکستان پر گئے، پاکستان کو بطور ایک حقیقی ریاست کے تسلیم کیا،ایک بہتر تعلقات کی طرف جانے کا انہوں نے آغاز کیا، ہر چند کے اس کے بعد کارگل کا واقعہ ہوا اور جس سے بہت کشیدگی آئی لیکن میں اس زمانے (٢٠٠٣ئ) میں انڈیا گیا جمعیة علماء اسلام کا وفد لے کر اور میں نے دس دن وہاں گزارے اور میں نے تمام پارٹیوں سے میٹنگز کی اور اس پر متفق کیا کہ ہم نے کوئی جنگ نہیں لڑنی بلکہ مذاکرات کے ذریعے معاملات کو طے کرنا ہے اور میرے خیال میں پانچ چھ مہینے کے بعد ہمارے تعلقات بہتر ہو گئے کہ ہماری فضائیں بند تھیں تو وہ کھل گئیں ! ہمارا فضائی رابطہ ختم ہو گیا تھا سو وہ بحال ہو گیا ! ہمارا زمینی راستہ جو ہے ٹرین بس وغیرہ یہ معطل ہو گئے تھے سو وہ بحال ہو گئے ! اور ہمارے دونوں طرف کے جو ہائی کمشنز تھے جو بالکل سٹیلوگرافر لیول پر آگئے تھے وہ کھل گئے سب ! صورت حال بہتر ہو گئی ! ! تو اس ساری محنتوں کو جو ہم بیس تیس سال سے جاری رکھے ہوئے ہیں
اور ہم یہ سوچتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ بھی ہو تو ہم مذاکرات ہی کے ذریعے حل کریں ، شملہ معاہدہ اسی کا تقاضا کرتا ہے اور ہم اپنے آپ کو اس کا پابند سمجھتے ہیں پھر اس کے باوجود انہوں نے تیزی کیوں دکھائی ؟ صرف اس لیے کہ وہ غیر مقبول ہو چکا ہے اور انہوں نے ہندو کارڈ استعمال کر کے ہندو ووٹ تو حاصل کیا لیکن اس بار وہ جذبہ نہیں دیکھا ہندوستان میں مسلمانوں نے بھی ! اور ان کا ووٹ بینک ڈیکلائن ہوا اور کچھ اتحادیوں کو ساتھ ملا کر حکومت بچا سکے ہیں پھر انہوں نے کشمیر میں جو کچھ کیا ماضی میں تو وہاں کے ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کی کوشش کی انہوں نے، اور یہ سوچا کہ اگر پرائیویٹ پریمیسنٹ بھی ہوگا تو اس میں ہندو اکثریت ہونی چاہیے اور وہاں پر ہندئووں کو آباد کیا، بہت زیادہ آباد کیا ان کو، لیکن جب وہاں پر کشمیر کا الیکشن آیا سو ہر چند کے وہ آرٹیکل ٣٧٠آئین کا ختم کر چکے تھے اور وہاں جو شق نمبر ٨٥ تھی وہ ختم کر دی تھی انہوں نے، اس کے باوجود اس دفعہ الیکشن میں کشمیری عوام نے جس طرح بی جے پی کو مسترد کیا تو یہ درد اسے نہیں بھولا جا رہا تھا اور اس پہلگام کے واقعے سے اس نے سوچا کہ میں دوبارہ وہاں پر ہندو مسلم کا سوال پیدا کر سکوں گا اور'' ہندوتوا کارڈ'' استعمال کرنے کی وہ کوشش کرنا چاہ رہا تھا لیکن جو بھی قدم اس نے اٹھائے آپ موازنہ کر سکتے ہیں اس بات کا کہ ہندوستان میں اپوزیشن نے ان کا ساتھ نہیں دیا، مسلمانوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا، دوسری تنظیموں نے ان کا ساتھ نہیں دیا، سکھوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور پاکستان میں اس کے مقابلے میں ایک یکجہتی پائی گئی اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ میں حکومت سے ناراض ہوں اور میں اپنی ناراضگی پر قائم ہوں تب بھی خاموش ہو گیا اور اس نے یہ دکھایا کہ یہ پاکستان کے دفاع کا وقت ہے اور ہمیں ایسی کوئی ایکٹیوٹی نہیں دکھانی چاہیے ! !
ہم لوگوں نے، تمام مذہبی طبقے نے، تمام مدارس نے ایک جان ہو کر اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کر دیا اور عام آدمی جو ہے وہ دوبارہ فوج کے ساتھ کھڑا ہوا، حالانکہ فوج کے ساتھ تو ناراضگی تھی ہماری، ان لوگوں کی بھی تھی لیکن ملک کے لیے اور ملک کے دفاع کے لیے ہم ایک صف ہو گئے اور اس کی برکت تھی اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد کی اور جس طریقے سے ہماری دفاعی قوت نے اور ہمارے ہوا بازوں نے جس فدائیت کے ساتھ معاملہ کیا ہے اور جس طرح ان کی پوری دفاعی قوت کو سبوتاژ کر دیا، اس کی ٹیکنالوجی کو تباہ و برباد کر دیا ، اس کی جنگی صلاحیت کو اتنا کمزور کر دیا کہ خود ان کو چیخنا پڑا کہ پاکستان کو جنگ بند کرنی چاہیے اور بات چیت کی طرف آنا چاہیے وغیرہ وغیرہ ! !
اینکر : اچھا مولانا صاحب اب جنگ بندی تو ہو چکی ہے اب صدر ٹرمپ اس وقت سعودی عرب میں ہے ! محمد بن سلمان سے ان کی ملاقات بھی ہوئی اور سعودی آفیشلز نے ایک بڑا کردار ادا کیا بہائنڈ دی سین ان کے وزیر مملکت برائے خارجہ پہلے انڈیا پہنچے پھر پاکستان پہنچے اس کے بعد امریکہ اس پوزیشن میں آیا کہ سیز فائر کا اعلان کرے ! اب سعودی کردار کو آپ کیسے دیکھتے ہیں اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جو کشمیر کا معاملہ ہے کافی عرصے بعد اب دوبارہ سے انٹرنیشنلائز ہو چکا ہے اور انڈیا کے کنٹرول میں وہ چیز نہیں رہی ؟
مولانا صاحب : جہاں تک سعودی عرب کا کردار ہے تو سعودی عرب نے جنگ بندی کے لیے جو کردار ادا کیا وہ قابل تحسین ہے اور ہم اس پر ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ! لیکن جہاں تک آپ کی اس بات کا تعلق ہے کہ یہ پوری گیم چینج ہے مکمل طور پر اور مسئلہ کشمیر کو دوبارہ زندہ کر دیا ،بالکل اسی طریقے سے جس طرح کہ اہلِ غزہ نے اسرائیل کے خلاف جو جنگ لڑی ہے سال ڈیڑھ سال میں اور اس نے جس طریقے سے فلسطین کی سیاسی شکل کو تبدیل کیا ہے مسئلے کو ریوائز کیا ہے اور فلسطینی ریاست کو ایک حقیقت کے طور پر دنیا سے منوایا ہے چنانچہ آج ٹرمپ بھی یہ اشارے دے رہا ہے کہ فلسطین ایک حقیقت ہے اور اس کو تسلیم کرنا ہوگا ! اسی طریقے سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اس کا خصوصی جو ایک سٹیٹس تھا کشمیر کا وہ بھی دوبارہ بحالی کی طرف جائے گا اور جو متنازعہ مسئلہ ہے کیونکہ میں آپ کو یہ بات بتا دوں کہ جہاں تک انڈیا کی سوچ ہے اور اس کے جو ارادے اور عزائم ہیں وہ گلگت بلتستان تک کو انڈیا کا حصہ سمجھتے ہیں ! اور ان کا مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ وہ مظفرآباد تک سوچ رہے ہیں بلکہ وہ اس بات کی کوشش میں ہیں کہ پورا کشمیر پورا گلگت بلتستان اس پر قبضہ کرکے چین پاکستان کا رابطہ کاٹ دے اور یہ کوئی معمولی سازش نہیں ہے اور بڑی ان کے ایک عجیب سی سوچ ہے ! !
ظاہر ہے کہ پاکستان اس پر کمپرومائز نہیں کر سکتا کسی قیمت پر بھی اور نہ ہی کشمیری عوام یا گلگت بلتستان کے عوام ہندوستان کی اس سوچ کی تائید کر سکتے ہیں چنانچہ یہ جو کچھ لوگ کہتے ہیں یہ خود مختار کشمیر ، خود مختار کشمیر ! تو اگر گلگت بلتستان اور کشمیر کو ایک حصہ بھی تسلیم کر لیا جائے لیکن اگر الحاق پاکستان نہیں ہوگا اور خود مختار کشمیر کی بات ہوگی تو ظاہر ہے کہ اس سے بھی ہندوستان وہی مقصد حاصل کر سکے گا کہ وہ چین پاکستان کا رابطہ توڑ دے گا اور دنیا کے ساتھ پاکستان کے روابط جو ہیں انتہائی کمزور ہو جائیں گے !
اینکر : مولانا صاحب ! آپ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے ہیں اور کافی آپ نے کام کیا کشمیر کاز کے لیے ! یہ جو ابھی آپ نے بات کی کہ ''خود مختار کشمیر'' تو ایک تجویز یہ بھی آسکتی ہے تو آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان جو ہے جب تک الحاق کشمیر الحاق پاکستان نہیں ہوگا تو وہ اس سے کم پاکستان کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے ؟
مولانا صاحب : دیکھیے الحاق پاکستان کی جو بات ہے اس کو ہمیں اس حوالے سے بھی ذرا سوچنا ہوگا کہ اس کا تعلق تقسیم ہند کے ساتھ ہے تو تقسیم ہند کے دوران ہندوستان میں پانچ سو سے زیادہ ریاستیں تھیں اور بالآخر تمام ریاستوں کو ان کے جو نواب یا ان کے جو راجا تھے ان کو اختیار دیا گیا کہ آپ کو اختیار ہے پاکستان کے ساتھ یا انڈیا کے ساتھ(either with Pakistan , either with India)
اب جب اس وقت پانچ سو سے زیادہ ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا اور انہوں نے اس اختیار کو استعمال کیا آج اگر تیسرا کوئی اختیار بنا کر دے دیا جائے گا تو پانچ سو کی پانچ سو ریاستیں اٹھیں گی اور کہیں گی کہ پھر یہ حق ہمیں بھی دیا جائے تو اس کا نہ متحمل پاکستان ہے اور نہ انڈیا ہے، اس پہلو کو بھی دیکھنا چاہیے !
اینکر : اچھا مولانا صاحب ! ہمارے جو ڈپٹی نائب وزیراعظم ہیں فارن منسٹر ہیں اسحاق ڈار صاحب، ان کی سٹیٹمنٹ ہے کہ اگر پانی پر بات نہ ہوئی تو یہ جنگ بندی ختم نہیں ہو سکتی ہے !
دوسری جانب مودی صاحب اپنی سٹیٹمنٹس کہ پانی پر تو بات نہیں ہوگی اور بات اگر ہوگی توصرف پاکستانی کشمیر پر بات ہوگی ! اس کا کیا مطلب ہے ؟
مولانا صاحب : نہیں ، مودی نے چھیڑی ہے یہ بات، ظاہر ہے پھر رد عمل میں یہ بات کی جاتی ہے لیکن ہندوستان کو سوچنا ہوگا کہ پانی کی تقسیم ایک معاہدے کے تحت ہوئی ہے اور اس معاہدے میں جو ثالثی ہے وہ ورلڈ بینک ہے وہ اس کا ضامن ہے تو یک طرفہ طور پر اس ٹریٹی کو کوئی ملک بھی ختم نہیں کرسکتا، اگر کوئی مشکلات ہیں کوئی شکایات ہیں تو ہمیں عالمی بینک کی طرف جانا پڑے گا کیونکہ وہی ضامن تھا بیچ میں لہٰذا یہ١٩٦٠ء کا معاہدہ ہے ٹریٹی ہے اور اس واٹر ٹریٹی میں عالمی بینک جو ہے وہ ثالث ہے اور یک طرفہ طور پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کا حق کسی کو نہیں پہنچتا، ہندوستان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ اس ضد پر قائم رہ سکے ! کیونکہ دنیا بھی دیکھ رہی ہے اس کو اور وہ پانی اگر روکے گا تو اس کی اپنی بھی تباہی کا باعث بنے گا وہ خود جب مشکل میں آتا ہے پانی چھوڑ جاتا ہے ہماری طرف، ابھی پانی اس کو چھوڑنا پڑا ! تو یہ تو ایسا نہیں ہے کہ وہ اس کو روک سکتے ہیں ، زبانی بڑی بڑی باتیں کریں لیکن دنیا کچھ قواعد و ضوابط کی پابند ہوتی ہے ! ! !
اینکر : مولانا صاحب آپ کی فہم و فراست ، سیاسی تدبر اس کی مثالیں دی جاتی ہیں اس پورے ایپیسوڈ (Episode)کے بعد کیا آپ سمجھتے ہیں کہ خطے میں طاقت کا ایک توازن جو کہ دنیا سمجھتی تھی کہ انڈیا کی طرف جو ہے وہ زیادہ تھا ! اب جو ہے تھوڑا بہت معاملہ، میں معیشت کی بات نہیں کر رہا بلکہ میں فوجی اور تکنیکی حساب سے بات کر رہا ہوں !
مولانا صاحب : دیکھیے میں کوئی فوجی تکنیکی آدمی تو ہوں نہیں کہ میری بات جو ہے وہ اتھینٹک اور ایک معیاری بات ہوگی لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انڈیا کو اپنی دفاعی قوت پر غرور تھا اور امریکہ اور مغربی دنیا نے گزشتہ دو تین دہائیوں میں اس کی بہت مدد کی تھی اور پھر اس کے پاس جنگ لڑنے کے لیے چھ سے سات سو ارب ڈالر کے درمیان کا ریزو موجود تھا ! اور پاکستان کی مدد کس نے کی تھی زیادہ سے زیادہ کچھ چائنہ نے کی ہوگی، کچھ پیسے کی مدد سعودی عرب نے کی ہوگی، کچھ امارات نے بھی، دوست ہمارے بھی ہوتے ہیں لیکن مغربی دنیا اور عالمی دنیا پاکستان کی طرف امداد دینے میں ہاتھ روکے ہوئے تھی اور بڑے محدود پیمانے پر وہ پاکستان کے ساتھ مدد کر رہے تھے چنانچہ سات آٹھ گنا زیادہ دفاعی قوت سے اس نے پاکستان پر حملہ کیا لیکن پاکستان نے جس طرح سے ان کی ٹیکنالوجی کو ناکام بنایا سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاکستان نے جس طرح ان کو ایک فضول ڈھانچہ بنا دیا اور اب اس کی وہ رہنمائی حاصل نہیں کر سکتے تھے ان کو جنگ میں استعمال نہیں کر سکتے تھے، رافیل تیاروں کا گرنا ، پھر ان کے رافیل طیارے جس پر فرانس کو بڑا فخر تھا اور جس نے بڑے فاخرانہ انداز کے ساتھ انڈیا کے حوالے کیے تھے کہ یہ زبردست قسم کی ایک مدد ہے آپ کی، وہ فیل ہو گئی ! !
ان کا جو دفاعی نظام تھا جس سے وہ راکٹ اپنے نشانوں پر پھینک رہے تھے وہ سب کے سب نشانوں سے کچھ لگے کچھ ضائع ہو گئے لیکن پاکستان نے جس وقت دفاعی جواب دیا ان کو اور ہمارے ہوا بازوں نے بالکل ایک فدائی انداز کے ساتھ جا کر حملے کیے، اپنی سرحدات کو بھی محفوظ رکھا ان کے کسی جہاز کو پاکستان میں آنے نہیں دیا، مکمل سرحد ان کے کنٹرول میں تھی اور خود ان کے ملک کے اندر جا کر انہوں نے ٹھیک ٹھاک اپنے نشانے جو ہیں وہ حاصل کیے ! تو اس ساری صورت حال میں جو اس وقت جنگی مہارت کا مظاہرہ کیا ہے پاکستان کی فوجوں نے تو یہ چھوٹی طاقت ہونے کے باوجود جس جذبے کے ساتھ پاکستان لڑا ہے میں تو سمجھتا ہوں کہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ جس نے پاکستان کو عزت دی اور اس جنگ میں آج ہماری پوری قوم کے سر فخر سے بلند ہیں اور اس پر ہم اپنی فوج کی اس جرأت کو سلام پیش کرتے ہیں ! ! !
اینکر : مولانا صاحب ! آپ کی انڈیا کی سیاست پر بھی گہری نظر ہے جمعیة علما ء اسلام کی لمبی تاریخ ہے جمعیة علماء ہند سے شروع ہوتی ہے ،کیا واقعی نریندر مودی کا سیاسی زوال اب شروع ہو گیا اس ایپیسوڈ کے بعد آپ کے خیال میں ؟
مولانا صاحب : ''ناٹ نریندر ، بٹ سرنڈر ''تو بات بنیادی یہ ہے کہ وہ سرنڈر کر چکا ہے اور جس بھونڈے انداز کے ساتھ اس نے'' ہندوتوا کارڈ'' استعمال کرنے کی کوشش کی، بری طرح فیل ہو گیا ہے ! تو اب تو ظاہر ہے کہ اس کا زوال طے ہے بلکہ میں تو سوچتا ہوں کہ اگر وہ اپنے زوال کو سمجھتا ہے اور اس کو ملک کے اندر سے کچھ تجزیہ ہے تو اس کو ابھی سے استعفیٰ دے دینا چاہیے اور نئے الیکشن کرا دینے چاہیں تاکہ ہندوستان کی عوام کی حقیقی حکومت وہاں وجود میں آ جائے ! !
اینکر : اب مسئلہ یہ ہے مولانا صاحب جس طرح آپ نے کہا ''ناٹ نریندر، بٹ سرنڈر'' اب ایشو یہ ہے کہ اگر وہ کچھ نہیں کرتے تو انہوں نے ایک جنگی جنون کا جو ایک ماحول بنا دیا تھا بہت زیادہ پریشر ان کی اپنی عوام کا اپنا میڈیا ان سے سوالات پوچھ رہا ہے کہ آپ نے رافیل خریدے تھے جو چوزوں کی طرح گر رہے تھے اس سے ہمیں بچانا تھا اور اگر وہ کچھ کرتے ہیں تو اوپر امریکہ بہادر ہے اور ٹرمپ صاحب بیٹھے ہوئے ہیں جنہوں نے چھوڑنا نہیں ہے ،پھنس چکے ہیں اس وقت ٹریپ ہو چکے ہیں ! !
مولانا صاحب : وہ ٹریپ تو ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی بہرحال جس طرح ان پر تنقید ہو رہی ہے اس طرح یعنی ان کی فوج ان کی پوری دفاعی قوت ایک ذہنی دبائو میں ہے اس وقت، تو ظاہر ہے کہ صرف جنگ بندی ہی ہوئی ہے مزید آگے تو کچھ نہیں ہوا ! کوئی باضابطہ مذاکرات کوئی دستخط کوئی چیز موجود نہیں ہے تو ان حالات میں ہماری فوج کو مسلسل الرٹ رہنا چاہیے، چوکس رہنا چاہیے، ہوشیار رہنا چاہیے اور اس بات کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ کسی وقت بھی اگر ہندوستان جارحیت کرتا ہے جنگ بندی توڑتا ہے تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے ! ! !
اینکر : اچھا مولانا صاحب ،کے پی کے ہو یا بلوچستان ہو اس بات کا ثبوت پاکستان بار بار دنیا کے سامنے پیش کر چکا ہے اور ان دونوں صوبوں میں آپ کی جماعت کی اچھی خاصی اکثریت ہے عوام میں اگر الیکشن میں جس طرح آپ کے گلے ہیں کہ آپ کو نہیں آنے دیا گیا وہاں پر یہ دراندازی جو انڈیا کی ہو رہی ہے اس کو روکنے کا کیا طریقہ ہوگا ؟ کیا یہ پراکسی وار (Proxy War)جو انڈیا لڑ رہا ہے چاہے وہ بی ایل اے کو سپورٹ کر رہا ہے یا دوسری طرف خوارج کو سپورٹ کر رہا ہے جیسا کہ آپ کی پارٹی کے کئی کارکنان رہنما کی شہادتیں اس میں ہو چکی ہیں ؟
مولانا صاحب : دیکھیے یہ پراکسی وار ہے اور بلوچستان کے اندر ہو یا کے پی کے کے اندر ہو جو مسلح تنظیمیں ہیں اور مسلح تنظیموں کے علاوہ وہ تنظیمیں جو قوم پرست بھی ہیں اور جو اسلحے کے بغیر مظاہرے کررہے ہیں یا جلسے کرتے ہیں سو وہ بھی کوئی ملک کے ساتھ وابستہ رہنے کی بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ کچھ علیحدگی اور اس قسم کی گفتگو کرتے رہتے ہیں ! !
تو اس حوالے سے جمعیة علما ء اسلام کی پوزیشن بڑی واضح ہے کہ بھئی جنگ کہاں سے شروع ہوئی ہے، جنگ شروع ہوئی ہے حقوق سے، اب بلوچستان کے جو حقوق ہیں ظاہر ہے کہ چھوٹے صوبے ہمیشہ شاکی تو رہے ہیں ، ہمارے صوبہ خیبر پختونخواہ میں بھی ہمیں اپنے وسائل کے حوالے سے گلے شکوے رہے ہیں اور ہمارے بلوچستان کے بھی شکوے رہے ہیں حتی کہ سندھ کے بھی شکوے رہے ہیں ، ایسے حالات میں اگر حکومت متنازعہ کرتی ہے معاملات کو، تو جب ایک طرف ہم ہندوستان کے مقابلے میں محاذ پر کھڑے ہیں اور دوسری طرف ہم داخلی طور پر اس قسم کے مسائل اٹھاتے ہیں جیسے نہروں کا مسئلہ ! اب ظاہر ہے کہ صوبہ سندھ اس کو قبول نہیں کر رہا جیسے کہ آپ نے مائنز اینڈ منرل ایکٹ جو ہے وہ لائے ہیں بلوچستان میں پاس کیا صوبہ خیبر پختونخواہ میں بھی ارادہ ہے ان کا، تو یہ چیزیں وہ ہوتی ہیں کہ جو معاملات کو متنازع کر دیتی ہیں اور ہمیں داخلی خلفشار کے حوالے کر دیتی ہیں ! !
اس وقت دینی مدارس کا بھی معاملہ ہے کہ ہمارے ساتھ باقاعدہ معاہدات ہوئے قانون پاس ہو گیا، آرڈیننس آگئے اور ابھی آرڈیننسوں کو ہی توسیع دی جا رہی ہے اور نہ صوبوں میں قانون سازی ہو رہی ہے
اینکر : چھبیسویں آئینی ترمیم کے وقت آپ سے وعدہ بھی ہوا تھا اور ابھی تک نہیں ( پورا )ہوا ؟ مولانا صاحب : تو اس قسم کی چیزیں داخلی مشکلات کا سبب بنتی ہے اور داخلی مشکلات ہمیشہ دفاع میں مشکلات پیدا کرتی ہیں ،یہ تو ہمارا دل گردہ ہے کہ ہم نے ان حالات میں اپنی گلے شکوے چھوڑ کر وطن عزیز کے دفاع کے لیے اور اپنی دفاعی قوت کو سپورٹ کیا اور ان کا ساتھ دیا تو اب ان کا بھی فرض ہے حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ داخلی معاملات جو ہیں ان کو ٹھیک کریں ! !
اگر بلوچوں کا مطالبہ ہے مسنگ پرسنز کا لاپتہ لوگوں کا تو ان کا حق بجانب ہے اور میں آپ کو یہ بات بتا دوں کہ لاپتہ لوگوں کے حوالے سے سب سے پہلی تقریر وہ میزان چوک پر میری ہے جب میں نے پوری قوت کے ساتھ یہ کہا تھا کہ آپ زیادتی کر رہے ہیں عام آدمی کے ساتھ ! اور اس طرح ہمارے صوبے میں بھی لوگ لاپتہ ہیں ، تو ظاہر ہے کہ ان کے گھر ہیں ان کے پیارے ہیں ان کی سوچ ہے کہ بھئی ہمارے اس سے شرعی مسائل وابستہ ہیں کچھ پتہ نہیں کہ لاپتہ کہاں ہے زندہ ہے یا نہیں ، اگر وہ زندہ نہیں ہے بالفرض تو پھر اس کی بیوی جو ہے بیوہ ہے کیا وہ کسی اور جگہ نکاح کر سکتی ہے یا نہیں کر سکتی اس پریشانی میں وقت گزار رہی ہے ! پھر ان کی وراثت ہے وراثت کی تقسیم ہے رشتہ داروں میں ، اب وہ زندہ ہے یا مردہ ہے لوگ کیا کریں ؟ ان کی جائیداد کا کیا کریں ؟ ان کی میراث کا کیا کریں ؟ اتنے خاندانی معاملات اس سے پیدا ہوتے ہیں اور ہوئے ہیں کہ ابھی تک لوگوں کو پتہ نہیں چل رہا کہ اب ہم کریں کیا ؟ تو یہ گھروں کے اندر بھی تنازعات کا سبب بنتا ہے ! ! !
اینکر : قطع کلامی کی معافی لیکن مسنگ پرسنز والا معاملہ جو ہے اس میں سے ہم نے بہت سارے ایسے ایپیسوڈز بھی دیکھے ہیں کہ جو لوگ مارے گئے ہیں دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ لڑتے ہوئے، بی ایل اے کے لوگ وہ ان کا مسنگ پرسنز میں نام تھا حکومتی ورژن ایک یہ بھی ہے !
مولانا صاحب : یہ چھوٹی چیزیں ہیں یہ ہوتا رہے گا بہت سی چیزوں کا وہ مطالبہ کریں گے پتہ لگے گا وہ تو زندہ ہی نہیں ہے ! بہت سے لوگوں کا ہوگا کہ بھئی وہ تو مر چکے ہیں ! پتہ لگے گا وہ تو زندہ ہے ! کسی کا ہم کہیں گے وہ لاپتہ ہے لیکن پتہ نہیں وہ ایران میں ہے کہ بلوچستان میں ہے کے پی کے میں ہے کدھر ہے ؟ کہاں ہے کہاں نہیں ہے ؟ یہ چیزیں آ سکتی ہیں اس کے امکانات ہیں لیکن بنیادی طور پر مسئلہ تو ہے نا ! اس مسئلے کو حل تو کرنا ہے انہوں نے ! ! !
اینکر : حل کیا ہے مولانا صاحب ؟ کیا سجیسٹ کریں گے آپ ؟
مولانا صاحب : حل یہی ہے کہ ان لوگوں کو باقاعدہ ایف آئی آر درج کر کے عدالتوں میں لایا جائے اور پبلک کو بتایا جائے کہ بھئی ان کے خلاف یہ کیس ہے ،یہ کیس ہے، یہ کیس ہے ! تو جس نوعیت کا جو کیس ہوگا اسی نوعیت کے مقدمہ کا پتہ تو چل جائے گا نا کہ فلانا جیل میں ہے فلانا حوالات میں ہے یا فلانا تھانے میں ہے ! پیارے آئیں گے گھر کے ان کے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے، کم از کم یہ پتہ تو چل جائے گا کہ انسان ہے، ہمارے رشتہ دار ہیں فلانا فلانا ! !
اینکر : مولانا صاحب خطے کی طرف دوبارہ آتے ہیں ، پاکستان کا یہ دعویٰ ہے کہ افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے، انفرنٹیشن میں چاہے وہ خوارج ہو، چاہے وہ بی ایل اے ہو، چاہے باقی دہشت گرد تنظیمیں ہوں اور اس کے ثبوت بھی بار بار دیے گئے ہیں ابھی پچھلے دنوں بارڈر پر تقریباً ستر اکہتر لوگوں کو فوج نے اندر آنے میں جب وہ گھسنے کی کوشش کر رہے تھے ان کو مارا، افغانستان کے ساتھ امن جو ہے وہ تو افغانستان ہمارا برادر ملک ہے ایک تاریخ ہے دونوں ممالک کی، کیا کیا جائے ؟
مولانا صاحب : دیکھیے اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ اس قسم کے ناخوشگوار واقعات ہوئے ہیں چاہے فوج نے ان کو مارا ہے یا انہوں نے فوج کو مارا ہے ! اور دونوں جو ہیں ایک دوسرے پر وار کرتے ہیں تو بڑے فاخرانہ انداز کے ساتھ اس کو پیش بھی کرتے ہیں یہ ایک مستقل مسئلہ ہے لیکن اس حوالے سے افغانستان کا مسئلہ ہے ، افغانستان ایک ملک ہے ایک وطن ہے ہم نے پاکستان افغانستان کے تعلقات کی اہمیت کو بھی دیکھنا ہے ، ہم نے دونوں ملکوں کے لیے تعلقات کی افادیت کو بھی دیکھنا ہے ! ظاہر ہے کہ اگر ہم ایک دوسرے کے لیے اہم ہیں اور ایک دوسرے کے لیے ہماری افادیت جو ہے وہ مسلَّم ہے تو ہمیں اس ترجیح کو سامنے رکھنا چاہیے ! ! ( ١٣ مئی ٢٠٢٥ ئ)
٭




تمام اہل وطن کی خدمت میں عرض ہے کہ وہ رجوع اِلی اللہ کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کی بھی کثرت رکھیں ،اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائیں گے ان شاء اللّٰہ اللہ سے دعا ہے کہ اس جنگی کامیابی کے بعد وطن عزیز کو ہمیشہ سلامتی اور عافیت عطا فرمائے آمین ثم آمین
(حضرت مولانا)نعیم الدین(صاحب) ٢٨ مئی ٢٠٢٥ئ




مجاہدین ِاسلام کے لیے خاص دعائیں
٭٭٭
قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں
عنوانات ، حاشیہ و نظر ثانی بتغیرِ یسیر : حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب مدظلہم
٭٭٭
حضرت شریح بن عبید الحضرمی فرماتے ہیں کہ انہوں نے زبیر بن ولید کو یہ بتلاتے ہوئے سنا کہ انہوں نے عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما سے سنا کہ جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم جب جہاد یا سفر پر تشریف لے جاتے اور رات کا وقت ہوجاتا تو یہ دعا پڑھتے
'' یَا اَرْضُ رَبِّیْ وَرَبُّکِ اللّٰہُ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّکِ وَشَرِّ مَا فِیْکِ وَشَرِّ مَا دَبَّ عَلَیْکِ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ کُلِّ اَسَدٍ وَ اَسْوَدَ وَحَیَّةٍ وَعَقْرَبٍ وَمِنْ شَرِّ سَاکِنِ الْبَلَدِ
وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ '' ١ ( تھذیب الکمال فی الزبیر بن ولید الشامی ج ٢ ص ٢١٥ )
ابو القاسم نے فرمایا '' وَمَا وَلَدَ '' سے مراد '' ابلیس'' ہے اور ابو القاسم حدیث کے راویوں میں سے ایک ہیں ۔
بہر حال اللہ پاک کی طرف توجہ کرنا اور ایسی دعاؤں کا پڑھتے رہنا کہ جن میں بڑی تاثیرات دیکھی گئی ہوں بہت بڑے نفع کا حامل ہے لہٰذا چند دعائیں تحریر کیے دیتا ہوں کیونکہ ان میں کثیر نفع کی امید ہے چنانچہ کتب میں مذکور ہے کہ ابن حاتم روایت کرتے ہیں کہ جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے معرکہ ٔ بدر کے موقع پر '' شَاھَتِ الْوُجُوْہُ اَللّٰھُمَّ اَرْعِبْ قُلُوْبَھُمْ وَزَلْزِلْ اَقْدَامَھُمْ '' ٢ پڑھا
١ ترجمہ : ''اے زمین میرا رب اور تیرا رب اللہ ہے میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تیرے شر سے اور تیرے اندر کی چیزوں کے شر سے اور تجھ پر رینگنے والوں کے شر سے ، میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ہر شیر کے شر سے اور ہر بڑے چھوٹے سانپ اور بچھو کے شر سے اور بستی میں رہنے والے کے شر سے اور ہر جننے والے اور جو کچھ اس نے جنا اس کے شر سے ''
٢ ترجمہ : ''چہرے بگڑ جائیں اے اللہ ان کے دلوں میں رعب ڈال دے اور ان کے قدم اکھیڑ دے ''
اور سنگریزے اٹھا کر دشمن کے لشکر کی دائیں بائیں اور پشت کی جانب ڈال دیے پس دشمن کے دفعیہ اور شکست میں اس کے عظیم اثرات نمودار ہوئے ! ! حق تعالیٰ نے کلامِ مجید میں ارشاد فرمایا ہے
( وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی ) یعنی '' آپ نے نہیں مارا بلکہ اللہ تعالیٰ نے مارا''
اور جبکہ مجاہدین اسلام پوری طرح راہ ِ حق میں اس کے دین ِ متین کی خاطر سر ہتھیلی پر رکھ کر باری تعالیٰ کے حضور حاضر ہیں تو مناسب ہوگا کہ اس طرح کر لیں کہ(مذکورہ بالا) آیت ِ مبارکہ
( وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی ) چند بار بعدد طاق پڑھ لیں کہ یہ آیت ِ مبارکہ سے توسل ہوگا اور تبرک بھی پھر (مذکورہ بالا) شَاھَتِ الْوُجُوْہُ اَللّٰھُمَّ اَرْعِبْ قُلُوْبَھُمْ وَزَلْزِلْ اَقْدَامَھُمْ پڑھیں اور مسنون طریقہ کے مطابق عمل کر کے فائر کا آغاز کریں
(٢) ریڈیائی (ایٹمی) اثرات اور زہریلی گیسوں کے ضرر سے حفاظت کے لیے ہر نماز کے بعد تین بار یہ دعا پڑھ لیا کریں
'' بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہ شَیْیٔ فِی الاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآئِ وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ''
نیز اس مبارک دعا کے فوائد میں ایک واقعہ سیف من سیوف اللّٰہ حضرت خالد بن ولید رضی اللّٰہ عنہ
کی طرف بھی منسوب ہے ١




١ عراق میں حیرہ کے مقام پر ایاس بن قُبَیْصَةْ اور عَمرو بن عبدالمسیح (عیسائی) حضرت خالد کی خدمت میں حاضر ہوئے عَمرو بن عبدالمسیح کی عمر کئی سو سال تھی عَمرو بن عبدالمسیح کے خادم کے ساتھ ایک تھیلی تھی آپ نے دریافت فرمایا یہ کیا ہے ؟ بولا سُمُّ سَاعَةْ (فی الفور ہلاک کردینے والا زہر سائی نائٹ ) ہے ! !
آپ نے اس سے زہر لے کر یہ دعا پڑھی
'' بِسْمِ اللّٰہِ خَیْرِ الاَسْمَائِ وَ رَبِّ الاَرْضِ وَ السَّمَائِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہ دَائ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ''
اور زہر نگل لیا کچھ بھی نہ ہوا ( البدایة و النہایة ج ٣ ص ٤٠٣ ، الکامل فی التاریخ ج ٢ ص ٢٩٩ )
(٣) آگ خاص طور پر نیپام بم وغیرہ کے نقصانات سے تحفظ کے لیے مندرجہ ذیل آیات ِ مبارکہ ہر روز ایک بار یا ہر نماز کے بعد پڑھ لیا کریں علامہ کمال الدین محمد بن موسٰی الدمیری نے حیاة الحیوان میں ذکرِشاة کے ذیل میں ابو زُرعة رازی رحمہ اللّٰہ سے ایک قصہ ٔ عجیبہ نقل کیا ہے (جس کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں ہے)
'' ذَالِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْم ۔ وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُوْمِنُوْنَ۔ وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظَّالِمُوْنَ ۔ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا۔ وَقَضٰی رَبُّکَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوْا اِلَّا اِیَّاہُ۔ تَنْزِیْلاً مِّمَّنْ خَلَقَ الاَرْضَ وَالسَّمٰوَاتِ الْعُلٰی اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَی لَہ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا وَمَا تَحْتَ الثَّرٰی یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَال وَّلَا بَنُوْنَ اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ۔ اِئْتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْھًا قَالَتَا اَتَیْنَا طَائِعِیْنَ ۔ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ مَا اُرِیْدُ مِنْھُمْ مِنْ رِّزْقٍ وَّمَا اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ ۔ وَفِی السَّمَآئِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ فَوَ رَبِّ السَّمآئِ وَالاَرْضِ اِنَّہُ لَحَقّ مِّثْلَ مَا اَنَّکُمْ تَنْطِقُوْنَ ''
(٤) ہر قسم کی حفاظت کے لیے یہ دعا ہر روز ایک با ر یا ہر نماز کے بعد پڑھیں
علامہ دَمِیْرِی نے ذکرِ شاة میں اس کی عجیب تاثیرات ذکر فرمائی ہیں
'' وَلَا یَؤُوْدُہ حِفْظُھُمَا وَھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ ۔ وَھُوَ الْقَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہ وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَةً ۔ وَلَا تَضُرُّوْنَہ شَیْئًا اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی کُلِّ شَیْیٍٔ حَفِیْظ ۔ فَاللّٰہُ خَیْر حَافِظًا وَّھُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ ۔ لَہ مُعَقِّبَات مِّنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہ یَحْفَظُوْنَہ مِنْ اَمْرِاللّٰہِ ۔ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہ لَحَافِظُوْنَ ۔ وَحَفِظْنَاھَا مِنْ کُلِّ شَیْطَانِ رَّجِیْمٍ ۔ وَجَعَلْنَا السَّمَآئَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا ۔ وَکُنَّا لَھُمْ حٰفِظِیْنَ
وَحِفْظًا مِّنْ کُلِّ شَیْطَانٍٍ مَّارِدٍ ۔ وَحِفْظًا ذَالِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ
وَرَبُّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْیًٔ حَفِیْظ ۔ اَللّٰہُ حَفِیْظ عَلَیْھِمْ وَمَا اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْل وَعِنْدَنَا کِتَاب حَفِیْظ وَاِنَّ عَلَیْکُمْ لَحَافِظِیْنَ کِرَامًا کَاتِبِیْنَ یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ اِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْھَا حَافِظ ۔ اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْد اِنَّہ ھُوَ یُبْدِیُٔ وَیُعِیْدُ وَھُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُ ذُوالْعَرْشِ الْمَجِیْدُ فَعَّال لِّمَا یُرِیْدُ ھَلْ اَتَاکَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِ فِرْعَوْنَ وَ ثَمُوْدَ بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ تَکْذِیْبٍ وَّاللّٰہُ مِنْ وَّرَآئِھِمْ مُحِیْط
بَلْ ھُوَ قُرْآن مَّجِیْد فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ ''
(٥) حَشَرَاتُ الاَرْضْ (کیڑے مکوڑوں ) سے حفاظت کے لیے یہ دعا صبح و شام پڑھیں
اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَاخَلَقَ ١
حدیث شریف میں آتا ہے کہ یہ دعاء بچھو سے حفاظت کے لیے ہے چونکہ کلماتِ دعا عام ہیں
لہٰذا اللہ پاک سے عام نفع کا طلبگار رہنا چاہیے کہ حق تعالیٰ ہر شر سے محفوظ رکھیں ، ان شاء اللّٰہ بقدرِ نیت اس کی برکات کا مشاہدہ کریں گے جو بھی راہِ حق میں بر سرِ پیکار ہے حق تعالیٰ اس کا حامی و ناصر ہو، آمین
١ صحیح مسلم کتاب الذکر و الدعاء و التوبة و الاستغفار رقم الحدیث ٢٧٠٩




قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ کے سلسلہ وار مطبوعہ مضامین جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ پر پڑھے جا سکتے ہیں
http://www.jamiamadniajadeed.org/maqalat




درسِ حدیث
٭٭٭
قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ
کا مجلس ِذکر کے بعد درسِ حدیث ''خانقاہِ حامدیہ چشتیہ'' شارع رائیونڈ لاہور کے زیرِانتظام ماہنامہ '' انوارِ مدینہ'' کے ذریعہ ہر ماہ حضرت اقدس کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کے اس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے،آمین۔ (ادارہ)
٭٭٭
ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے
(درسِ حدیث نمبر١٦٧ ١٧ رمضان المبارک ١٤٠٥ھ/ ٧ جون ١٩٨٥ئ)
٭٭٭
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا
مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ !
ایک صحابی فرماتے ہیں ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی خدمت میں کہ اتنے میں ایک شخص آئے انہوں نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی اور ہاتھ میں کوئی چیز تھی قَدْ اِلْتَفَّ عَلَیْہِ جسے لپیٹ رکھا تھا انہوں نے !
انہوں نے آ کر عرض کیا کہ میں درختوں کے جھنڈ میں سے گزر رہا تھا جہاں درخت زیادہ جمع تھے، وہاں میں نے آواز سنی، پرندوں کے بچوں کی آواز تو اور طرح کی ہوتی ہے جیسے چوں چوں ، وہ میں نے سنی ، میں نے وہ پکڑ لیے اور اس چادر میں رکھ لیے !
ماں کی محبت :
اب میں ان کو اس چادر میں رکھے ہوئے تھا کہ ماں جوتھی بچوں کی وہ آئی ، وہ میرے سرپہ چکر کاٹتی رہی ،میں نے یہ کھول دیے یہ کھولے تو وہ بھی ان میں آگئی ! اب یہ سب میری اس چادر میں لپٹے ہوئے ہیں ان صحابی نے وہ رکھ دیے سامنے اب بچے تواڑ نہیں سکتے تھے اور ماں جا نہیں سکتی تھی انہیں چھوڑ کر ! تو جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا اَتَعْجَبُوْنَ لِرَحِمِ اُمِّ الاَفْرَاخِ فِرَاخَھَا
دیکھو تمہیں یہ عجیب سی بات لگ رہی ہوگی کہ یہ ماں جو ان چھوٹے پرندوں کی ماں ہے چوزوں کی ماں ہے، کتنا اس کے دل میں رحم ہے اپنے بچوں کے لیے کہ اسے اپنی جان کی پروا نہیں ہے کہ یہ مجھے پکڑ لیں گے یا کیا ہوگا اوروہ برابر ان ہی کے ساتھ ہے ! تو آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم چونکہ عقائد کی اصلاح کے لیے بھیجے گئے تھے تعلیم کے لیے مبعوث ہوئے تھے ، اس لیے یہاں رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ایک بات تعلیم فرمائی اور اللہ تعالیٰ کی ذاتِ پاک اوراس کی صفت ِرحمت کی طرف توجہ دلائی کہ دیکھو تم لوگوں کو یہ تعجب ہو رہا ہوگا کہ یہ بچے ہیں اور ماں چھوڑ کر نہیں جانا چاہ رہی اوراتنی محبت اس کے دل میں ہے ، اسی طرح رحم کھا رہی ہے وہ ان پر فَوَالَّذِیْ بَعَثَنِیْ بِالْحَقِّ قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھ کو حق دے کر بھیجا ہے حق تعلیم حق دین دے کر بھیجا ہے لَلّٰہُ اَرْحَمُ بِعِبَادِہ مِنْ اُمِّ الاَفْرَاخِ بِفِرَاخِہَا ١ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ اس سے زیادہ رحم فرماتے ہیں جتنا یہ ماں اپنے بچوں کے ساتھ کررہی ہے ! لیکن بندے مانتے ہی نہیں ، نافرمانی ہی کیے جاتے ہیں ! یہ الگ بات ہے وہ الگ چیز ہے ! بس یہاں اللہ تعالیٰ کی صفت ِرحمت کی طرف جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے توجہ دلائی اوراس کا تعارف کرایا ! !
دوسرے اس کے ساتھ ساتھ جانوروں کے ساتھ بھی حسن سلوک یہ اسلام نے بتلایا ہے !
صرف نشانہ بازی کی خاطر جانور مار دینا جائز نہیں ہے :
یہ ٹھیک ہے کہ جانوروں کا شکار جائز ہے ، ذبح کرنا جائز ہے مگر یہ کہ شکار کرکے مار کے ڈال دے یونہی نشانہ بازی میں ، اس کو حرام قراردیاہے کہ فقط نشانہ ٹھیک کرنے کے لیے جانوروں کو مارتا پھرے یہ تو منع ہے ! اسی طرح سے جب جانور کو ذبح کرنا ہو تو بھی بتایا کہ ذبح کرلو ٹھیک ہے، اللہ نے بتایا ہے حلال قراردیاہے، قرآنِ پاک میں بھی آیا ہے ( وَمِنْہَا تَأکُلُوْنَ ) ٢ یعنی جانوروں میں
١ مشکوة المصابیح کتاب الدعوات باب سعة رحمة اللّٰہ رقم الحدیث ٢٣٧٧ ٢ سورة النحل : ٥
سے کھالے کوئی ! لیکن ذبح کرنے کے لیے جو آلہ ہو ذبح کرنے کا وہ تیز ہونا چاہیے تاکہ جانور کو تکلیف نہ ہو فَلْیُرِحْ ذَبِیْحَتَہ اسے چاہیے کہ اپنے ذبیحہ کو کم تکلیف پہنچائے، کم تکلیف میں راحت ہے ایک طرح کی، انسانوں کے ساتھ (حسن )سلوک تو بہت ہی بڑی چیز ہے، اس کی رعایت تو اسلام نے جتنی کی ہے اس کی وجہ سے تو اسلام پھلتا چلا گیا ساری دنیا میں ، اور کوئی سپر پاور مقابل رہی ہی نہیں اوروہ مسائل پیدا نہیں ہونے پائے جو جنگ کے بعد پیدا ہوتے ہیں ! جنگ کے بعد جو تباہی آتی ہے نسل کُشی کے بعد جو تباہی آتی ہے وہ مسائل نہیں پیدا ہونے پائے ! فتوحات ہو گئیں اوروہ مسائل نہیں پیدا ہوئے ! آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم کی تعلیم پر عمل کی برکت تھی یہ ! مارنا اسی کو تھا جو لڑے ، باقی کو نہیں جو ہتھیار پھینک دے ! جو بھاگ جائے ! جو دروازہ بند کرلے ! وغیرہ وغیرہ چھوڑتے چلے جائو اسے !
اسلام قبول کرانے کے لیے جبر جائز نہیں ہے :
اسلام قبول کرنے پر مجبور کرنا نہیں ہے چنانچہ آج بھی آپ دیکھ لیں یہ لبنان میں جو عیسائی ہیں نئے نہیں ہیں یہ اس زمانے کے خاندان چلے آرہے ہیں ، شام میں مصر میں اسکندریہ میں بڑی تعداد ہے ان کی، بڑا تناسب ہے ، یہ چلے آرہے ہیں شروع سے ! اسلام نے انہیں اسلام لانے پرمجبور نہیں کیا !
جہاد میں کن کو قتل نہ کیا جائے ؟
ایک عورت کو آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم نے دیکھا ہے ایک غزوہ میں کہ اسے کسی نے مار دیا، اس کی لاش دیکھی تو طبیعت پر گراں گزرا یہ ! اور فرمایا کہ اس کی کیا ضرورت تھی ؟ یہ کیا کہہ رہی تھی ؟ جو کچھ کہہ نہیں رہا اس کو مارنے سے کیا فائدہ ؟
راہبوں کو تارک الدنیا لوگوں کو جوعبادتیں کررہے ہیں اپنے اپنے طرزپر ایک طرف بیٹھے ہیں پہاڑوں پر یاعبادت خانوں میں ہیں ، انہیں کسی کو اسلام نے نہیں چھیڑا ! تو عورت کی لاش پڑی تھی فرمایا کہ اس کی کیا ضرورت تھی ؟ اورپھر آگے کے لیے منع فرمادیا کہ عورتوں کو نہ ماریں ! بچوں کو نہ ماریں !
١ صحیح مسلم کتاب الصید و الذبائح وما یؤکل من الحیوان رقم الحدیث ١٩٥٥
یہ آداب تو ہیں ہی نہیں کہیں اور ! اگر کسی فوج کے قواعد میں ہوں گے بھی تو شاید ہوں ، مگر وہ قانون کی عملی حد تک نہیں ، عمل کے اعتبار سے تو بدترین طبقہ ہے فوج کا، جو روّیہ یہ اختیا رکرتا ہے کہ ستیاناس کردیتا ہے پیداوار کا ! اوراس کا اوراس کا اور سب ختم ! جدھر سے گزر جائیں تباہی ہی تباہی ہے ! سڑکیں بھی ٹوٹ جاتی ہیں !
لیکن اسلام میں تو یہ نہیں ہے ! اسلام کا طرزتو اس سے بالکل مختلف ہے اوروہی کامیاب بھی رہااس کی وجہ سے اتنے عر صہ حکومتیں رہیں بلکہ یہ کہ جہاں وہ پہنچ گئے ہیں وہاں آج تک پھر اسلامی حکومت ہی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے انسانوں کے ساتھ سلوک انسانیت کا بتلایا (حتی کہ)جانوروں کے ساتھ بتلایا جو کہ بتایا ہی نہیں جاتا ! !
تو بہر حال سرورِ کائنات علیہ الصلٰوة والسلام نے فرمایا کہ جائو انہیں لے جائو اور لے جا کر جہاں سے اٹھایا ہے ان چوزوں کو ان بچوں کو وہیں رکھ کر آئو اوران کی ماں کو بھی ان ہی کے ساتھ ! تو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے بارے میں قرآن پاک میں ہے ( وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلاَّ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِیْنَ ) ١ تمام عالموں کے لیے آپ کو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے ! !
توان جانوروں کا بھی ایک عالَم ہے، انسانوں سے زیادہ ہی تعداد بنتی ہے نیز اورمخلوقات ہیں عالَم میں ، ان سب کے لیے جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی طرف سے ہدایات ملتی ہیں اوران میں رحمت کا شفقت کا پہلو غالب ہے ! تو سرورِ کائنات علیہ الصلٰوة والسلام نے توجہ دلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بندوں کے ساتھ بہت زیادہ ہے لیکن انسان اس کو نہیں جانتا اوراس کی قدر نہیں کرتا، تو ایک مسلمان کو اس کی معرفت حاصل ہونی چاہیے اوریہ بھی بتایا کہ سب کے ساتھ رحمت کا سلوک کرو شفقت کا سلوک کرو ! تو پوری مخلوق جو ہے اللہ کی اس سب کے ساتھ آپ نے بتلایا کہ وہ سلوک کرو کہ جس میں کسی کو اذیت نہ پہنچے اورجتنی راحت پہنچ سکتی ہے وہ اپنے وجود سے پہنچاتے رہو ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو آخرت میں آپ کا ساتھ نصیب فرمائے ، آمین ! اختتامی دعا..................( مطبوعہ ماہنامہ انوارِ مدینہ نومبر ٢٠٠٥ئ)
١ سورة الانبیاء : ١٠٧




سیرتِ مبارکہ
٭٭٭
دربار نبوی یعنی بزم رحمة للعالمین صلی اللہ عليہ وسلم کی خصوصیات اور آداب
سیّد الملة و مؤرخ الملة حضرت مولانا سیّد محمد میاں صاحب کی تصنیفِ لطیف
سیرتِ مبارکہ '' محمد رسول اللّٰہ '' صلی اللہ عليہ وسلم کے چند اوراق
٭٭٭
(١) رحمة للعالمین محبوب رَبِّ العالمین صلی اللہ عليہ وسلم کی مجلس مبارک علم و حیاء ، صبر و امانت،
سکون واطمینان کی مجلس ہوتی تھی !
(٢) حاضر و غائب اہل مجلس سے ایسا تعلق خاطر رہتا کہ ہر شخص رحمة للعالمین صلی اللہ عليہ وسلم کو اپنا باپ سمجھتا ! ہر موقع پر ہر ایک کی خبر گیری ہوتی، ساتھیوں میں سے کوئی نظر نہ آتا تو اس کی خیریت معلوم کی جاتی ! اگرکوئی بیمار ہوجاتا تو اس کی مزاج پر سی کے لیے اس کے یہاں تشریف لے جاتے ! اگر کوئی سفر میں جاتا تو اس کے لیے دعا فرماتے رہتے ! اگر معلوم ہوتا کوئی رنجیدہ ہے تو اس کی دل داری فرماتے ! اگرکسی سے کوئی خطا ہوجاتی تو اس کا عذر قبول فرماتے ! آپس کے معاملات کی تحقیق ہوتی پھر اس کی اصلاح فرمائی جاتی ! حضور صلی اللہ عليہ وسلم کے دربار میں امیر وغریب، کمزور قوی سب برابر تھے، سب ساتھی اس طرح رہتے جیسے ایک باپ کی اولاد ! !
(٣) مجلس مبارک میں جہاں بھی کوئی ہوتا آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کے مشفقانہ انداز سے وہ یہی سمجھتا کہ
اس دربار میں سب سے زیادہ خصوصیت اسی خوش نصیب کو حاصل ہے !
(٤) ہر ایک سے خندہ پیشانی سے ملنا، تبسم اور تازہ روئی آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کی ایسی پیاری عادت تھی
جو اپنی نظیر آپ تھی اور کہیں اس کی نظیر ممکن نہ تھی !
(٥) جب تک ملنے والا خود نہ اٹھتا آنحضرت نہ اٹھتے مگر بہ مجبوری جس کی معذرت فرما لیتے !
(٦) ذات رسالت مآب (علیہ الصلوة والسلام )کی طرف سے آنے والوں کی عزت کی جاتی ، سلام میں پہل کی جاتی، بیٹھنے کو جگہ دی جاتی، کبھی خود سیّد الکونین صلی اللہ عليہ وسلم اپنی جگہ سے کھسک کر اپنے پاس بیٹھا لیتے، پوری احتیاط برتی جاتی کہ ایسی کوئی بات نہ ہو جس سے کسی کا دل میلا ہو !
(٧) قبیلہ یا خاندان کا جو بڑا ہوتا اس کی بڑائی مانی جاتی، اس سے بڑائی ہی کا برتاؤ کیا جاتا، پھر اپنی طرف سے بھی اسی کو اس قبیلہ یا خاندان کا بڑا بنادیا جاتا یعنی جس طرح دربار رسالت میں باز یاب ہونے والوں کا دین محفوظ ہوتا، عاقبت درست ہوتی اسی طرح ان کی دنیا بھی درست اور دنیاوی عزت بھی محفوظ ہوجاتی ! (صلی اللّٰہ علیہ الف الف صلوة دائمات)
(٨) خاتم الانبیاء سیّد الثقلین صلی اللہ عليہ وسلم کو پسند نہ تھا کہ آپ تشریف لائیں تو لوگ تعظیماً اٹھیں یا آپ تشریف فرما ہوں اور لوگ کھڑے رہیں ! البتہ بزم رسالت کی نمایاں شان یہ ہوتی کہ ہر ایک کی دل داری ہوتی ، ہر ایک کو مانوس کیا جاتا ، بڑوں کی تعظیم کی جاتی ، چھوٹوں پر مہربانی ہوتی ،
مجلس مبارک میں افضل وہی مانا جاتا جس کی خیر خواہی عام ہوتی جو تقویٰ طہارت میں اگر سب سے آگے ہوتا تو دوسری طرف خدمت ِ خلق، مخلوق خدا کی ہمدردی اور خیر اندیشی، بندگانِ خدا کے لیے تکلیف برداشت کرنے اور مصیبت جھیلنے میں بھی سب سے پیش پیش ہوتا، کمزوروں کی امداد ، مظلوموں کی فریاد رسی ، غمزدوں کی غم خواری ، بیکسوں کی دستگیری میں سب سے بڑھا ہوا تھا یعنی جس طرح ہمارے آقا رحمة للعالمین تھے ایسے ہی وہ بھی خلق خدا کے لیے رحمت ہوتا ! سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ساری امت میں سب سے افضل ہیں اور ان کی خصوصی صفت آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے یہ فرمائی ہے اَرْحَمُ اُمَّتِیْ
یعنی ''میری تمام امت میں سب سے زیادہ رحم والا'' ! !
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِ نَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْن
(٩) طرزِ نشست میں مساوات کا یہ عالم ہوتا کہ اجنبی شخص کو پوچھنا پڑتا کہ شاہ دو عالم صلی اللہ عليہ وسلم کہاں ہیں اس کسر نفسی کے باوجود یہ معجزہ تھا کہ جیسے ہی کوئی شخص حبیب خدا ( صلی اللہ عليہ وسلم ) کو پہچانتا، مرعوب ہوجاتا اور اس پر ہیبت طاری ہوجاتی تھی ! مگر جیسے ہی بات چیت ہوتی زبان مبارک سے اس طرح پھول جھڑتے اور ایسے موتی برستے کہ اس کی ہیبت محبت سے بدل جاتی اور وہ آپ کا شیدائی ہوجاتا تھا ایک عجیب انداز تھا کہ لوگوں سے ملے جلے بھی رہتے اور ہر ایک سے بلند وبالا بھی ! گویا ذات ِ مبارک سہل ممتنع تھی ! !
(١٠) مجلس مبارک میں کبھی پاؤں پھیلا کر نہیں بیٹھتے تھے، لوگوں کے لیے جگہ چھوڑدیا کرتے ، اٹھنے بیٹھنے میں کوئی امتیاز نہ ہوتا، آپ کہیں جاتے جہاں جگہ ملتی وہیں بیٹھ جاتے، صدر مقام کی کبھی خواہش نہ کرتے، یہی آپ کی ہدایت بھی تھی کہ مجلس میں صدر مقام کی خواہش نہ کرو جہاں جگہ ملے بیٹھ جاؤ خاص موقعوں پر ملاقات کے لیے عمدہ لباس زیب تن فرماتے، بال وغیرہ بھی درست فرمالیتے تھے۔
(١١) مجلس مبارک میں اہل ضرورت ہی کا تذکرہ ہوتا، اہل مجلس کو ہدایت تھی کہ جو لوگ کسی بھی وجہ سے اپنی ضرورت آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم تک نہ پہنچا سکیں مجلس کے ساتھی وہ باتیں پہنچائیں اور اللہ سے ثوابِ عظیم حاصل کریں !
(١٢) مجلس مبارک میں وقت کی پوری قدر کی جاتی، کام کی باتیں جن میں مخلوق کا فائدہ اور خالق سے ثواب کی توقع ہو خوشی سے سنی جاتیں ان ہی میں دلچسپی لی جاتی، آنے والے دین کے طالب بن کر آتے اور رشدوہدایت کی شمع بن کر جاتے ان کو ہدایت ہوتی کہ جو کچھ انہوں نے حاصل کیا ہے اس کو عوام تک پہنچائیں !
(١٣) بات چیت ہوتی تو کسی کی بات کاٹی نہ جاتی جس نے بات شروع کی پہلے اس کی بات پوری ہولیتی تب کسی دوسرے کو بولنے کا حق ہوتا، جب کوئی بولتا سب خاموشی اس کی پوری بات سنتے، اگر خود سرورکائنات صلی اللہ عليہ وسلم کچھ ارشاد فرماتے تو گویا حاضرین پر سکتہ چھا جاتا، فرط ِ شوق اور غایة احترام میں ایسے ہوجاتے جیسے قالب بے جان !
(١٤) لوگوں کے حالات اور عوام کے رجحانات کی پوری معلومات رکھی جاتی، کوئی اچھا رجحان پایا جاتا تو اس کو تقویت دی جاتی، کسی بری بات کا پتہ چلتا تو اس اس کی روک تھام کی جاتی، اچھی باتوں کی خوبیاں اور جو بری باتیں ہوتیں ان کی خرابیاں سمجھا کر ذہن نشین کرائی جاتیں !
(١٥) ہر بات اور ہر عمل میں اعتدال سے کام لیا جاتا ، ہر کام کے لیے مناسب انتظام ہوتا جو باتیں چھپانے کی ہوتیں وہ امانت سمجھی جاتیں ، اہل ضرورت اور مسافروں کی پوری خبر گیری کی جاتی !
(١٦) آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم خوش طبعی بھی فرمالیتے تھے مگر کوئی جھوٹی بات کبھی زبان مبارک پر نہ آتی ! حاضرین مجلس آپس میں ہنستے بولتے، پہلے زمانہ کی باتیں کیا کرتے، آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم خاموش بیٹھے سنتے رہتے ، وہ کسی بات پر ہنستے تو آپ بھی مسکرادیتے !
(١٧) اٹھنا، بیٹھنا غرض تمام باتیں اللہ کے ذکر کے ساتھ ہوتیں !
(١٨) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ، سرور کائنات صلی اللہ عليہ وسلم کی ذات اقدس تین باتوں سے ہمیشہ محفوظ رہی : جھگڑا ، تکبر ، بیکار باتیں
اور سیّد الکونین نے تین باتوں سے ہمیشہ ہر ایک کو محفوظ رکھا : مذمت، عیب جوئی، پوشیدہ باتوں کا اظہار
یا رب صل وسلم دائما ابدا علی حبیبک خیر الخلق کلھم




آئینہ قرآن میں تصویرِ تزکیہ
٭٭٭
مقاصد بعثت کامیاب،حضرت حق جل مجدہ کی تصدیق :
( وَاَلْزَمَھُمْ کَلِمَةَ التَّقْوٰی وَکَانُوْا اَحَقَّ بِھَا وَاَھْلَھَا وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا) ١
''اور جمادیا ان کو تقویٰ کی بات پر اور وہ اس کے زیادہ مستحق ہیں اور اس کے اہل ہیں اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے''
( وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَہ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالفُسُوْقَ وَالْعِصْیَانَ اُولٰئِکَ ہُمُ الرَّاشِدُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَنِعْمَةً وَّاللّٰہُ عَلِیْم حَکِیْم ) ٢
''لیکن اللہ تعالیٰ نے محبت بھردی تم میں ایمان کی اور سجادیا اس کو تمہارے دلوں میں اور نفرت بھردی تمہارے اندر کفر سے فسق سے اور عصیان (خدا کی نافرمانی) سے یہی ہیں وہ جو راشد ہیں (راہ راست پر ہیں ) اللہ تعالیٰ کے فضل اور انعام سے اور اللہ تعالیٰ جاننے والا حکمت والا ہے ''
١ سورة الفتح : ٢٦ ٢ سورة الحجرات : ٧
سیّدنا حضرت ابراہیم خلیل اللّٰہ اور حضرت اسماعیل ذبیح علیہما الصلوة والسلام کے دعائیہ کلمات کی تلاوت کیجیے خصوصاً یہ کلمات
( وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّکَ ) ( سورة البقرة : ١٣٨ )
''اور ہماری نسل میں سے ایسی امت پیدا کردے جو تیرے حکموں کی فرماں بردار ہو''
پھر مقاصد بعثت پر نظر ڈالیے اور موازنہ کیجیے کہ مذکورہ بالا آیات کس طرح کامیابی مقاصد کی شہادت دے رہی ہیں ۔ رحمة للعالمین ، خاتم الانبیاء والمرسلین صلی اللہ عليہ وسلم نے جس امت کے سامنے کتاب اللہ کی تلاوت کی جس کو کتاب وحکمت کی تعلیم دی جس کا تزکیہ کیا، آیات مندرجہ بالا کی شہادت یہ ہے کہ بلا کسی استثناء کے وہ سب اس تعلیم کے صرف عالم ہی نہیں بلکہ عامل بھی اتنے بڑے ہوگئے کہ
(١) وہ کلمة التقوی پر ثابت قدم ہیں
(٢) اتفاقیہ نہیں بلکہ اس لیے کہ وہ اس کے اہل ہیں کیونکہ
(٣) ایمان کی محبت ان کے دلوں میں بھردی گئی ہے
(٤) اس محبت کا نتیجہ ہے کہ
(الف) ان کے قلوب زیورِ ایمان سے آراستہ ہوگئے ہیں
(ب) ایمان، اسلام اور تقویٰ کی مخالف خصلتیں کفر، فسق اور عصیان سے ان کے دل متنفر ہوگئے ہیں اور اب حسب ِارشاد آنحضرت ان کی شان یہ ہے اَصْحَابِیْ کَالنَّجُوْمِ فَبِاَ یِّھِمُ اقْتَدَیْتُمْ اِھْتَدَیْتُمْ ١
''میرے اصحاب تاروں کی طرح ہیں جس کے راستے پر چلوگے ہدایت پالوگے''
اور اسی بنا پر حضرت حق جل مجدہ کا اعلان یہ ہے
رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ ٢ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے
( ماخوذ از سیرتِ مبارکہ '' محمد رسول اللّٰہ '' صلی اللہ عليہ وسلم ص ٥٧٩ تا ٥٨٤ ناشر کتابستان دہلی ) (جاری ہے)
١ مشکوة المصابیح رقم الحدیث ٦٠١٧ یہ حدیث اگرچہ سند کے لحاظ سے قوی نہیں مانی جاتی مگر اس کا مضمون وہ ہے کہ قرآن پاک کی آیتیں اس کی تائید اور تصدیق کر رہی ہیں لہٰذا حدیث اپنے مفہوم کے لحاظ سے قوی ہے
٢ سورة المجادلة : ٢٢




قربانی اور نمازِ عید سے متعلق اشکالات کے جوابات
قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں
عنوانات ، حاشیہ و نظر ثانی بتغیرِ یسیر : حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب مدظلہم
٭٭٭
سوال : قربانی کے بجائے کسی غریب آدمی کو نقد رقم دے دیناتاکہ وہ اس رقم سے اپنی ضروریات
پوری کر لے یا کسی اور زیادہ نیکی و بھلائی کے کام میں وہ رقم صرف کر لینا بہتر نہ ہوگا ؟
جواب : اس سلسلہ میں آپ یہ اصول ہمیشہ ملحوظِ خاطر رکھیں کہ جو حکم شریعت ِمطہرہ نے بتلادیا ہے اسے اسی طرح کرنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ہمیں بتلایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی خوشنودی اس عمل کو اس طرح کر نے سے حاصل ہوگی اور خدا وند ِ کریم کی مرضی معلوم کرنے کی کسی انسان میں استعداد نہیں ہے ! انسانوں میں صرف انبیائِ کرام علیہم الصلٰوة والسلام میں یہ استعداد ودیعت فرمائی جاتی تھی ! ان کا سلسلہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم پر ختم ہو چکا ہے ! ! اور آپ ہمیں ایسی سب چیزیں بتلاگئے ہیں ! (یا صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب اس کرۂ ارضی پر دوبارہ آئیں گے
وہ بتلا سکیں گے) اس لیے ہمیں دین کے کسی بھی معاملہ میں کمی بیشی یا تبدیلی کا اختیار نہیں اور اس قسم کی جو بھی تبدیلی کی جائے گی وہ اگرچہ ہمیں پسند ہو مگر خدا وند ِ کریم کی پسند نہ ہوگی ! ! ا رشادِ خدا وندی ہے
( اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا) ١
''آج میں تمہارے لیے تمہارا دین پورا کر چکا اور تم پر میں نے اپنااحسان پورا کیا اور تمہارے واسطے میں نے اسلام کو(بطور) دین پسند کیا ''
نیز ارشاد ہے ( وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ ) ٢
''اور جو کوئی دین ِاسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے تو وہ ہر گز قبول نہ ہوگا ''
١ سورة المائدہ : ٣ ٢ سورة آلِ عمران : ٨٥
لہٰذا دینی امور میں صرف یہ دریافت کرنا چاہیے کہ آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم نے کیا بتلایا ہے اور اپنی رائے کو دخل دے کر اپنی پسند ٹھہرانا ناجائز اور سراسر گمراہی ہے اس لیے جس پر قربانی واجب ہو وہ اگر قربانی کے بجائے کوئی اور نیکی کا مصرف تلاش کرنے لگے تو درست نہیں ہو سکتا ! !
سوال : اس کا کیا ثبوت ہے کہ قربانی رسولِ کریم صلی اللہ عليہ وسلم نے بتلائی ہے ؟
جواب : بہت سے مسائل ایسے ہیں کہ جن پر صحابہ کرام رضوان اللّٰہ تعالٰی علیہم اجمعین نے اور پھر ان کے بعد سے اب تک ساری امت ِ مرحومہ نے پوری دنیا میں عمل قائم رکھا ہے وہ کسی علاقہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ جہاں بھی مسلمان پہنچے چاہے وہ دنیا کا کوئی گوشہ ہو وہ حکم بھی وہاں پہنچا اور اس پر عمل جاری رہا ! !
عید الاضحی کے موقع پر قربانی بھی ایک ایسا ہی مسئلہ ہے ! انڈونیشیا اور چین سے لے کر مراکش تک جہاں جہاں صحابہ کرام رضوان اللّٰہ تعالٰی علیہم اجمعین ان کے شاگرد اور شاگردوں کے شاگرد یا بعد کے فاتح پہنچے وہاں قربانی کے یہ مسائل پہنچے ! ! گویا ایک آدھ نے عمل نہیں کیا بلکہ ہر صحابی نے اور صحابہ رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کے دور کے بعد ہر تابعی نے اس پر عمل کیا ہے ! اس لیے جہاں جہاں بھی مسلمان گئے وہاں یہ مسئلہ پہنچا ! حتی کہ اس دن کا نام عربی میں یَوْمُ الاُضْحِیَةِ (قربانی کا دن) رکھ دیا گیا ! لغت کی ایک کتاب جس کا نام'' مُنْجِدْ ''ہے ایک عیسائی کی لکھی ہوئی ہے اس میں بھی
'' یَوْمُ الاُضْحِیَةِ ''دسویں ذی الحجہ کا نام لکھا ہے ! گویا عربی زبان میں اس کلمہ کا یہی مطلب سمجھا جاتا ہے ! فارسی میں ''عید قربان'' ! اور اردو میں '' بقر عید'' کہا جاتا ہے ! ہمیشہ سے خطبہ میں خطیب دونوں عیدوں کے احکام کے ساتھ صدقۂ فطر اور قربانی کے احکام بتلاتے چلے آئے ہیں ! ایسے مسئلہ کو شریعت ِ مطہرہ میں کہاجاتا ہے کہ یہ ''متواتر'' ہے کیونکہ یہ ایک دو نے نہیں بلکہ ہزاروں نے لاکھوں کو اور لاکھوں نے کروڑوں کو سکھلایا ہے ! ! گویا پوری امت اوپر سے نیچے تک سکھاتی چلی آئی ہے ! اس کا نام ''تواترِ عملی'' ہے اس میں کسی غلط فہمی، بھول چوک اور جھوٹ وغیرہ کا احتمال وامکان نہیں ہوتا لہٰذا ''عید ِ قربان ''کے ثبوت کا اعتقاد رکھنا ضروری ہے ! !
اسلام میں اس طرح کے مسائل اور بھی ہیں مثلاً
اذان ! نماز کی رکعتیں ! نمازوں کے اوقات ! ڈاڑھی ! مسواک ! ختنہ وغیرہ وغیرہ ! ایسے سب مسائل پر عمل کرنا کہیں مستحب ہوگا ! کہیں سنت ہوگا ! اور کہیں واجب !
مگر ان کے ثبوت کا اعتقاد رکھنا فرض ہوگا ! !
مثلاً مسواک ہی لے لیجیے کہ اگر کوئی شخص نہیں کرتا تو اس کی محرومی ہے جس پر عتاب یا عذاب ہو سکتا ہے ! اور مسواک کرنا سنت ہے ! اور رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم سے اس کے ثبوت کا اعتقاد رکھنا فرض ہے ! ! اور اس ثبوت کا انکار کرنا کفر ہے ! !
اسی طرح قربانی کا مسئلہ بھی سمجھیں قربانی بھی آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم سے اس بارے میں متعدد حدیثیں کتابوں میں نقل ہیں ! !
قرآنِ کریم میں بھی ( وَانْحَرْ ) سے مراد بہت سے علماء نے قربانی لی ہے توقربانی نہ کرنا موجب ِ عتاب ِ خدا وندی ہے ! اس کے ثواب کا اعتقاد رکھنا فرض ہے ! اور انکار کفر ہوگا ! والعیاذ باللّٰہ ! لہٰذا اگر کوئی شخص اس میں ایسے شکوک ڈالے تو قطعاً اس کی طرف التفات نہ کریں ! !
یہ بات بھی یاد رکھیں کہ عمل نہ کرنا گناہ و فسق کہلاتا ہے ! جیسے لاکھوں مسلمان نماز نہیں پڑھتے مگر اپنے آپ کو گناہگار ضرور جانتے ہیں ! تو انہیں شرعاً گنہگار اور فاسق کہاجائے گا ! اگر کوئی نماز کی فرضیت اور اس کے ثبوت کا ہی انکار کردے ! یا نماز کا نیا مطلب گھڑ لے ! تو یہ فاسق نہیں بلکہ کافر کہلائے گا ! کیونکہ اس نے مُتَوَاتِرُ الثُّبُوتْ چیز کا انکار کیا ! !
اسی طرح جو شخص یہ تو مانتا ہے کہ قربانی کرنی چاہیے لیکن قربانی نہیں دیتا اسے بھی کافر نہیں کہاجا سکتا ہے گنہگار کہاجائے گا ! ! ! اللہ تعالیٰ ہم سب کو اعمالِ صالحہ مقبولہ کی توفیق عطا فرمائے، آمین
سوال : کیا نماز ِ عید ، عیدگاہ ہی میں ادا کرنا بہتر ہے ؟
جواب : ہاں مسنون طریقہ یہی ہے کہ عیدگاہ میں آبادی سے باہر جا کر نماز ادا کی جائے کیونکہ حضور صلی اللہ عليہ وسلم اپنی مسجد جس میں ایک نماز کا ثواب ہزار گنا ہوتا ہے نمازِ عید نہیں ادا فرماتے تھے ! یہی خلفائِ کرام کا بھی عمل رہا ! اور خلفائِ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کے زمانہ میں جوں جوں مدینہ شریف کی آبادی بڑھتی گئی عید گاہ دور ہوتی گئی ! ! اور ہر دور کی عیدگاہ بعد میں مسجد بنادی گئی ! !
جس جگہ رسولِ کریم علیہ الصلٰوة والسلام نے نمازِ عید پڑھی تھی وہ ''مسجدِ غَمام'' سے موسوم ہے ! اور اس سے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر خلفائِ کرام کی طرف منسوب مساجد ہیں ! ! !
اگر تاریخ ِمدینہ منورہ سے واقفیت نہ ہو تو ان مساجد کی نسبت کی صحیح وجہ سمجھ میں نہیں آتی !
کیونکہ حضراتِ خلفاء رضی اللّٰہ عنہم نے تو نمازیں مسجد ِ نبوی صلی اللہ عليہ وسلم میں ادا فرمائی ہیں ! پھر ان مساجد کے ان کی طرف منسوب ہونے کی وجہ کیا ہے ! ؟
اس کا حقیقی جواب یہی ہے جو عرض کردیا ہے باقی نمازِ عید مساجد میں بھی ادا کی جا سکتی ہے کوئی کراہت نہیں !
( بحوالہ ہفت روزہ خدام الدین لاہور ١٢اپریل ١٩٦٨ئ)




جامعہ مدنیہ جدید کے فوری توجہ طلب ترجیحی امور
٭٭٭
(١) مسجد حامد کی تکمیل
(٢) طلباء کے لیے دارالاقامہ (ہوسٹل) اور درسگاہیں
(٣) کتب خانہ اور کتابیں
(٤) پانی کی ٹنکی
ثواب جاریہ کے لیے سبقت لینے والوں کے لیے زیادہ اجر ہے




قسط : ٣٢
رحمن کے خاص بندے
( حضرت مولانا مفتی سید محمد سلمان صاحب منصور پوری ، اُستاذ الحدیث دارالعلوم دیوبند )
٭٭٭
احادیث ِ شریفہ میں ہم جنسی کی مذمت :
اس منحوس عمل کی احادیث ِ شریفہ میں نہایت سخت مذمت وارد ہوئی ہے ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا
اِنَّ مِنْ أَخْوَفِ مَاأَخَافُ عَلٰی أُمَّتِیْ أَوْ عَلٰی ھٰذِہ الْاُمَّةِ عَمَلَ قَوْمِ لُوْطٍ ١
''ان بدترین چیزوں میں جن کا مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خطرہ ہے وہ قوم لوط کا عمل ہے ''
اور سیّدنا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم علیہ الصلٰوة والسلام نے تین مرتبہ یہ جملہ ارشاد فرمایا
لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوْطٍ ٢ ''اللہ کی پھٹکار ہے اس شخص پر جو قوم لوط والا عمل کرے''
اور سیّدنا حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا
وَاِذَا کَثُرَ اللُّوْطِیَّةُ رَفَعَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَدَہ عَنِ الْخَلْقِ فَلاَ یُبَالِیْ فِیْ أَیِّ وَادٍ ہَلَکُوْا ٣
''جب لواطت (کسی قوم میں ) عام ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ مخلوق سے (اپنی حفاظت ونصرت کا) ہاتھ اٹھا لیتے ہیں اور پھر یہ پرواہ نہیں فرماتے کہ یہ لوگ کس وادی میں جاکر ہلاک ہوں گے''
١ رواہ الترمذی ١/٢٧٠ رقم الحدیث ١٤٥٧ ، ابن ماجہ ص١٨٤ رقم الحدیث ٢٥٦٣
شعب الایمان ٤/٣٥٤ رقم الحدیث ٥٣٧٤ ، الترغیب والترھیب ص٥٢٣ رقم الحدیث ٣٦٨٣
٢ رواہ ابن حبان رقم الحدیث ٤٤١٧ ، جامع الملکات ص ٢٠٩
٣ رواہ الطبرانی الترغیب والترھیب ص٥٢٤ رقم الحدیث ٣٦٨٦
نیز سیّدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کرم صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا
اَرْبَعَة یُصْبِحُوْنَ فِیْ غَضَبِ اللّٰہِ وَیُمْسُوْنَ فِیْ سَخَطِ اللّٰہِ قُلْتُ : مَنْ ھُمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ؟ قَالَ اَلْمُتَشَبِّھُوْنَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَائِ وَالْمُتَشَبِّھَاتُ مِنَ النِّسَائِ بِالرِّجَالِ، وَالَّذِیْ یَأْتِیْ الْبَہِیْمَةَ ، وَالَّذِیْ یَأْتِی الرِّجَالَ ١
''چار طرح کے لوگ اللہ کے غضب میں صبح کرتے ہیں اور اس کی ناراضگی میں شام کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا کہ یہ کون لوگ ہیں تو آپ نے فرمایا (١) عورتوں کی مشابہت کرنے والے مرد (٢) مردوں سے مشابہت رکھنے والی عورتیں (٣) وہ شخص جو جانور سے اپنی خواہش پوری کرے (٤) اور وہ شخص جو مردوں سے شہوت رانی کرے ''
اور سیّدنا حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم کاارشاد نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا
لَا یَنْظُرُاللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِلٰی رَجُلٍ أَتٰی رَجُلًا أَوِامْرَأَةً فِیْ دُبُرِھَا ٢
''اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف نظرورحمت نہیں فرمائیں گے جو شخص کسی مرد یا عورت کے پیچھے کے راستہ سے شہوت پوری کرتا ہے''
ان احادیث شریفہ سے مذکورہ عملِ بد کی شناعت کا با آسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ عمل دنیا وآخرت میں تباہی وبربادی اور بدترین ذلت کا سبب ہے اللہ تبارک وتعالیٰ پوری امت کو اس سے محفوظ رکھے
فواحش کے ظاہری نقصانات :
تجربہ اور مشاہدہ سے یہ بات ثابت ہے کہ لواطت یا دیگر فواحش کے عادی اشخاص دنیا ہی میں اپنی بدعملیوں کے اثرات دیکھ لیتے ہیں مثلاً
١ رواہ البیھقی فی شعب الایمان ٤/ ٣٥٦ رقم : ٥٣٨٥ ، الترغیب والترھیب مکمل ص ٥٢٤ رقم : ٣٦٨٩
٢ سنن الترمذی ١/ ٢٧٠ رقم الحدیث ١١٦٥ ، الترغیب والترھیب مکمل ص٥٢٥ رقم الحدیث ٣٦٩٥
(١) ناجائز تعلق رکھنے والوں کے درمیان عموماً انجام کار سخت نفرت ہوجاتی ہے اور دونوں کی زندگی نہایت تنگ اور اجیرن بن جاتی ہے اور وہ منہ دکھانے قابل نہیں رہتے
(٢) فواحش کی وجہ سے دل سیاہ اور سخت ہوجاتے ہیں اور عبادت کی لذت سے انسان قطعاً محروم ہوجاتا ہے
(٣) ایسے شخص کے چہرہ پر سیاہی اور بے رونقی چھا جاتی ہے
(٤) اس کے دینی ودنیاوی ہر طرح کے حالات خراب ہوجاتے ہیں
(٥) وہ لوگوں کی نظر میں ذلیل اور مبغوض قرار پاتا ہے
(٦) عموماً ایسے شخص سے اللہ کی عطا کردہ نعمتیں چھین لی جاتی ہیں
(٧) اور سب سے بڑی نحوست یہ ہوتی ہے کہ یہ شخص خیر کی توفیق اور دینی خدمات کی سعادت سے محروم کردیا جاتا ہے وغیرہ والعیاذ باللّٰہ (مستفاد : جامع المہلکات من الکبائر والمحرومات ص ٢١٣ ، ٢١٤)
(جاری ہے)




قارئین انوارِمدینہ کی خدمت میں اپیل
٭٭٭
ماہنامہ انوارِ مدینہ کے ممبر حضرات جن کو مستقل طورپر رسالہ ارسال کیا جارہا ہے لیکن عرصہ سے ان کے واجبات موصول نہیں ہوئے ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ انوارِ مدینہ ایک دینی رسالہ ہے جو ایک دینی ادارہ سے وابستہ ہے اس کا فائدہ طرفین کا فائدہ ہے اور اس کا نقصان طرفین کا نقصان ہے اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ اس رسالہ کی سرپرستی فرماتے ہوئے اپنا چندہ بھی ارسال فرمادیں اوردیگر احباب کوبھی اس کی خریداری کی طرف متوجہ فرمائیں تاکہ جہاں اس سے ادارہ کو فائدہ ہو وہاں آپ کے لیے بھی صدقہ جاریہ بن سکے ! (ادارہ)




ماہِ ذی الحجہ کے فضائل ومسائل
( حضرت مولانا نعیم الدین صاحب ،اُستاذالحدیث جامعہ مدنیہ لاہور )
٭٭٭
ذی الحجہ کی فضیلت :
ذی الحجہ کے مہینے کی احادیث ِ مبارکہ میں بہت زیادہ فضیلت آئی ہے، ذی الحجہ کا نام ذی الحجہ اس لیے رکھا گیا کہ اس میں حج ہوتا ہے تو ذی الحجہ کا معنٰی ہے حج والامہینہ !
ماہِ ذی الحجہ میں تین اہم کام :
حج کے ساتھ اس میں دو کام مزید او ربھی ہوتے ہیں وہ بھی بڑی عظمت اور فضیلت والے ہیں اس مہینے میں یہ تینوں بڑے بڑے کام ہیں : (١) حج (٢) قربانی (٣) عید
حج کی فضیلت :
حج بڑی عظیم عبادت ہے یہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے،سرکارِ دو عالم حضور اکرم صلی اللہ عليہ وسلم کا ارشاد ہے
اَلْعُمْرَةُ اِلَی الْعُمْرَةِ کَفَّارَة لِّمَا بَیْنَھُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَیْسَ لَہُ جَزَائ اِلَّا الْجَنَّةَ ١
'' عمرہ کرنا پہلے عمرہ سے لے کر دوسرے عمرہ تک کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور مقبول حج کی جزا تو بس جنت ہی ہے''
یعنی جو حج کرے اور بارگاہِ خدا وندی میں اس کا حج قبول ہوجائے اس کے لیے تو اللہ کے ہاں جنت طے ہے وہ جنت میں جائے گا ! !
مَنْ حَجَّ لِلّٰہِ فَلَمْ یَرْفَثْ وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَیَوْمٍ وَلَدَتْہُ اُمُّہ ۔ ٢
١ بخاری شریف ج ١ ص ٢٣٨ ، مسلم شریف ج ١ ص ٤٣٦ ، مشکوة شریف ص ٢٢١
٢ بخاری شریف ج ١ ص ٢٠٦ ، مسلم شریف ج ١ ص ٤٣٦ ، مشکوة شریف ص ٢٢١
''جس نے اللہ کی رضا کے لیے حج کیا اور اس دوران نہ تو بیوی سے بے حجابی کی باتیں کیں نہ فسق و فجور میں مبتلا ہوا تو وہ گناہوں سے ایسے پاک و صاف ہو کر لوٹے گا جیسا کہ وہ اس دن گناہوں سے پاک و صاف تھا جس دن اس کی ماں نے جنا تھا ''
لیکن یہ اسی وقت ہے کہ جب حج اللہ کی رضا کے لیے کیا ہو اور بارگاہِ خداو ندی میں قبول بھی ہوجائے ! اگر خدا نحواستہ اپنی کوتاہیوں کی بنا پر حج قبول نہ ہوا تو پھر اس کی یہ جزا اور یہ برکت نہ ہوگی ! !
حج بہت بڑا عمل ہے اور اس پر اتنا بڑا اجر و ثواب ہے چنانچہ ایک حدیث پاک میں آتا ہے
''اللہ تعالیٰ حج کرنے والے حاجی کو قیامت کے دن یہ حق دیں گے کہ وہ اپنے گھرانے کے چار سو افراد کی شفاعت کرے'' ١
چار سو افراد کی سفارش کراکر اُن کو جنت میں ساتھ لے جائے یہ اللہ تعالیٰ اس کو حق دیں گے تو حج اتنی عظیم عبادت ہے ! !
ہرنیکی کا ثواب ایک لاکھ نیکیوں کے برابر :
اور جب انسان حج کرنے جاتا ہے تو وہاں اللہ تعالیٰ اس کا بے انتہا اعزاز واکرام فرماتے ہیں اور ایک ایک نیکی کا اجرو ثواب بے انتہا بڑھا دیتے ہیں چنانچہ بہت سی احادیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ مکرمہ میں کی جانے والی ہر نیکی کا ثواب ایک لاکھ نیکیوں کے برابر ملتا ہے ٢ ایک نماز پڑھیں تو ایک لاکھ نماز پڑھنے کا ثواب ،ایک قرآن پڑھ لیں تو ایک لاکھ قرآن ختم کرنے کا ثواب، طواف کریں تو ہر قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے ایک گناہ معاف ہوتاہے اور ایک درجہ بلند ہوتا ہے ٣ حرم میں بیٹھ کر آدمی کچھ بھی نہ کرے خالی بیٹھ کر بیت اللہ کو دیکھتا رہے تو اسے بھی ثواب ملتا ہے حدیث میں آتا ہے
''ہر روز بیت اللہ پر ایک سو بیس رحمتیں نازل ہوتی ہیں جن میں ساٹھ بیت اللہ کا طواف کرنے والوں کو ملتی ہیں ، چالیس وہاں نماز پڑھنے والوں کو ملتی ہیں اور بیس اسے ملتی ہیں جو بیٹھا صرف بیت اللہ کودیکھ رہا ہے '' ٤
١ الترغیب والترہیب ج ٢ ص ١٠٦ ٢ ایضاً ج ٢ ص ١٠٧ ٣ ایضاً ج ٢ ص ١٢٣ ٤ ایضاً ج ٢ ص ١٢٣
اگرکسی کو حجر اسود کا بوسہ لینے کی توفیق ہو جائے تویہ اس کے لیے بڑی سعادت کی بات ہے حدیث ِ پاک میں آتا ہے
''قیامت کے دن حجرِاسود اپنے بوسہ لینے والے کے ایمان کی گواہی دے گا'' ١
اسی مقام پراللہ تعالیٰ نے زمزم کے پانی کا چشمہ جاری فرمایا ہے جس کا پینا بھی ثواب اور دیکھنا بھی ثواب حدیث پاک میں آتاہے حضور اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا
مَائُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَہ ٢ ''زمزم جس نیت سے پیواللہ وہ پوری فرمادیتے ہیں ''
یہ سعادتیں انسان کو حج (یا عمرہ) پرجانے سے ملتی ہیں اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں حج کے لیے جانے کی توفیق نصیب فرمائے ! !
مدینہ طیبہ جانے پر حاجی کا اعزاز و اکرام :
جب انسان حج کے لیے جاتا ہے توحج سے فارغ ہوکر مدینہ طیبہ بھی جاتا ہے تو اس کا یہ اعزاز واکرام کیا جاتا ہے حضور اکرم صلی اللہ عليہ وسلم فرماتے ہیں
مَنْ زَارَنِیْ بَعْدَ وَفَاتِیْ فَکَاَ نَّمَا زَارَنِیْ فِیْ حَیَاتِیْ ٣
''جو شخص میری وفات کے بعد مجھ سے ملنے آیا وہ ایسے ہی ہے جیسے میری زندگی میں مجھ سے ملنے آیا''
حضور صلی اللہ عليہ وسلم کے روضہ کی زیارت سے آپ کی شفاعت واجب ہوتی ہے :
ایک حدیث میں نبی علیہ السلام فرماتے ہیں مَنْ زَارَ قَبْرِیْ وَجَبَتْ لَہ شَفَاعَتِیْ ٤ ''جس شخص نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی ''
مدینہ طیبہ جانے والے کا ایک اکرام یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اس کا اجرو ثواب بڑھادیا جاتا ہے ! !
١ الترغیب والترہیب ج ٢ ص ١٢٤ ٢ ایضًا ج ٢ ص ١٣٦ ٣ ایضًا ج ٢ ص ١٤٧
٤ رواہ البزار والدار قطنی قال النووی وقال ابن حجر فی شرح المناسک رواہ ابن خزیمہ فی صحیحہ
وصححہ جماعة کعبد الحق والتقی السبکی فضائل حج ص ٩٦
مسجد ِ نبوی شریف میں نماز پڑھنے کا ثواب :
حدیث شریف میں آتا ہے
''مسجد نبوی شریف کی ایک نماز پڑھنے کا ثواب پچاس ہزار نمازوں کے برابر ملتا ہے'' ١
ایک حدیث شریف میں آتا ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا
مَنْ صَلّٰی فِیْ مَسْجِدِیْ اَرْبَعِیْنَ صَلٰوةً لَا تَفُوْتُہ صَلٰوة کُتِبَ لَہ بَرَائَ ة مِّنَ النَّارِ وَبَرَائَ ة مِّنَ الْعَذَابِ وَبَرِیٔ مِّنَ النِّفَاقِ ٢
''جو شخص میری مسجد میں اس طرح چالیس نمازیں پڑھے گا کہ کوئی نماز بھی مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھنے سے فوت نہیں ہوگی تو وہ آگ سے بری ہوگا، عذاب ِالٰہی سے بری ہوگا اور منافقت سے بری ہوگا ''
چالیس نمازیں آٹھ دن میں پوری ہوجاتی ہیں آٹھ دن مسلسل مسجد ِ نبوی میں نماز پڑھنے پر یہ اجر و ثواب دیا جا رہا ہے ! !
مسجد ِقبا میں نماز پڑھنے کا ثواب :
مدینہ پاک میں مسجد قبا ہے جس کی بنیاد نبی علیہ السلامنے رکھی تھی اس مسجد کا قرآنِ کریم میں بھی ذکر آیا ہے اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ عليہ وسلم فرماتے ہیں : مَنْ تَطَھَّرَ فِیْ بَیْتِہ ثُمَّ اَتٰی مَسْجِدَ قُبَائَ فَصَلّٰی فِیْہِ صَلٰوةً کَانَ لَہ کَاَجْرٍ عُمْرَةٍ ٣ ''جس نے گھر میں وضو کیا پھر اس نے مسجدِ قبا آکر (دو رکعت نفل) نماز پڑھی تو اُسے ایک عمرہ کے برابر ثواب ملے گا ''
کس قدر خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں مدینہ طیبہ کی حاضری نصیب ہوتی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ جولوگ حج کو جائیں اور بلا عذر مدینہ منورہ نہ جائیں تو حضور صلی اللہ عليہ وسلم ان سے ناراض ہوتے ہیں چنانچہ آپ فرماتے ہیں
١ ابن ماجہ باب ماجاء فی الصلٰوة فی المسجد الجامع ص ١٠٣ ، الترغیب والترہیب ج ٣ ص ١٤٠ ، مشکوة ص ٧٢
٢ الترغیب والترہیب ج ٢ ص ١٣٩ ٣ الترغیب والترہیب ج ٢ ص ١٤٢
مَنْ حَجَّ الْبَیْتَ وَلَمْ یَزُرْنِیْ فَقَدْ جَفَانِیْ ١
'' جو شخص حج کو آیا اور مجھ سے ملنے نہ آیا اس نے مجھ سے زیادتی کی ''
آپ کی بات بالکل بجا ہے اس لیے کہ آپ کے جو امت پر احسانات ہیں ان کا تقاضا تھا کہ آپ کی زیارت کو جاتااور وہاں جا کر اعزاز و اکرام حاصل کرتا لیکن یہ شخص وسعت کے باوجود اور کسی عذر کے نہ ہونے کے باوجود زیارت کو نہیں جا رہا تو سرا سر ظلم و زیادتی کا مرتکب ہو رہا ہے ! !
بہرحال جو حج کو جاتا ہے اسے یہ یہ اجرو ثواب ملتا ہے اور ان ان اعزازات سے نوازا جاتا ہے لہٰذا انسان کو جس کے پاس وسائل ہوں اور وہ آرام سے آجا سکتا ہے اسے ضرور حج کرنا چاہیے ! جو لوگ حج فرض ہونے کے باوجود حج کو نہیں جاتے حضور صلی اللہ عليہ وسلم ان سے سخت ناراض ہوتے ہیں چنانچہ آپ فرماتے ہیں
مَنْ لَّمْ یَمْنَعْہُ مِنَ الْحَجِّ حَاجَة ظَاھِرَة اَوْسُلْطَان جَائِر اَوْ مَرَض حَابِس فَمَاتَ وَلَمْ یَحُجَّ فَلْیَمُتْ اِنْ شَائَ یَھُوْدِیًّا وَاِنْ شَائَ نَصْرَانِیًا ٢
''جس شخص کے لیے واقعی کوئی مجبوری حج سے مانع نہ ہو، ظالم بادشاہ کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہ ہو یا ایسا شدید مرض نہ ہو جو حج سے روک دے، پھر وہ شخص بغیر حج کیے مر جائے تو اس کو اختیار ہے چاہے یہودی ہو کر مرے چاہے نصرانی ہو کر مرے''
اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے اور ہم سب کو حج کی سعادت نصیب فرمائے ! اللہ تعالیٰ ہمیں حرمین شریفین کی زیارت نصیب فرمائے، یہ دعا بھی کر نی چاہیے، حرمین شریفین ہمارے ایمان و یقین کے مراکز ہیں وہاں پر جانا بہت بڑی سعادت ہے، اللہ تعالیٰ سے اس کی دعا کرنی چاہیے ! !
قربانی کی فضیلت :
دوسرے نمبر پر جو عمل اس مہینے میں ہوتا ہے وہ قربانی ہے، قربانی کا عمل اللہ کے یہاں نہایت ہی پسندیدہ اور نہایت ہی مقبول عمل ہے ! !
١ فضائلِ حج ص ٩٨ ٢ سنن دارمی بحوالہ مشکوة المصابیح ص ٢٢٢
قربانی کیوں کی جاتی ہے ؟
حدیث پاک میں آتا ہے ''صحابہ کرام نے حضور صلی اللہ عليہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم مَا ھٰذِہِ الْاَضَاحِیُّ یہ قربانی کا عمل ہم کیوں کرتے ہیں ؟ حضور صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا سُنَّةُ اَبِیْکُمْ اِبْرَاہِیْمَ یہ تمہارے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم یہ تو پتہ چل گیا کہ یہ جوہم قربانی کرتے ہیں یہ ہمارے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے اب یہ بھی بتا دیجیے کہ ہمیں اس قربانی پراجرکیا ملے گا قَالُوْا فَمَا لَنَا فِیْھَا یَارَسُوْلَ اللّٰہْ تو حضور اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا بِکُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَة کہ دیکھو قربانی کے جانور کے جو بال ہیں اس کے ہر بال کے بدلے میں تمہیں ایک نیکی ملے گی، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا فَالصُّوْفُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ بعض جانور توایسے ہیں کہ جن کی جلد پر بال ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں کہ جن کی جلد پر بال نہیں اون ہے تو حضور صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کیا ہوا ؟ بِکُلِّ شَعْرَةٍ مِنَ الصُّوْفِ حَسَنَة جن جانوروں کی کھال پر بال نہیں ہیں بلکہ اون ہے تو اون کے ہر ہر رویں پر اللہ کی طرف سے نیکیاں ملیں گی ! ! !
قربانی کے دن انسان کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کو قربانی کا خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں :
٭ ایک حدیث حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا
مَا عَمِلَ آدَمِیّ مِنْ عَمَلِ یَوْمِ النَّحْرِ اَحَبَّ اِلَی اللّٰہِ مِنْ اِھْرَاقِ الدَّمِ ۔دس ذی الحجہ یعنی قربانی کے دن انسان کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کو قربانی کا خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے'' اِنَّہُ لَیَأْتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ بِقُرُوْنِھَا وَ اَشْعَارِھَا وَ اَظْلَافِھَا ''بے شک وہ قربانی قیامت کے دن اپنے سینگوں ، بالوں اور کھروں سمیت آئے گی یعنی جیسے دنیا میں تھی اسی طرح صحیح سالم ہوکر آئے گی تاکہ اس کے ہرعضو کا کفارہ ہو ، آگے فرمایا وَاِنَّ الدَّمَ لَیَقَعُ مِنَ اللّٰہِ بِمَکَانٍ قَبْلَ اَنْ یَّقَعَ مِنَ الاَرْضِ
حقیقت یہ ہے کہ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے یہاں ایک مقام حاصل کرلیتاہے یعنی قبول ہوجاتا ہے ، فرمایا فَطِیْبُوْا بِھَا نَفْسًا ١
پس یہ قربانی طیب خاطر اور دل کی خوشی کے ساتھ کیا کرو ''
٭ ایک حدیث امام حسین سے روایت کی گئی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا
مَنْ ضَحّٰی طَیَّبَةً نَفْسُہ مُحْتَسِبًا ِلاُضْحِیَّتِة کَانَتْ لَہ حِجَابًا مِّنَ النَّارِ ٢
'' جو شخص نہایت خوش دلی کے ساتھ ثواب کی نیت سے قربانی کرے گا تویہ قربانی اس کے لیے دوزخ میں جانے سے آڑ اور رکاوٹ بن جائے گی''
٭ ایک حدیث پاک سیّدنا علی کرم اللّٰہ وجہہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں
یَافَاطِمَةُ قُوْمِیْ فَاشْھَدِیْ اُضْحِیَّتَکِ فاطمہ اٹھو اور اپنی قربانی کے سامنے جاکر کھڑی ہو فَاِنَّ لَکِ بِاَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِھَا مَغْفِرَةً لِکُلَّ ذَنْبٍ دیکھو قربانی کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی تمہارے سابقہ ساے گناہ معاف کردیے جائیں گے اَمَا اِنَّہ یُجَائُ بِلَحْمِھَا وَدَمِھَا تُوْضَعُ فِیْ مِیْزَانِکِ سَبْعِیْنَ ضِعْفًا۔ دیکھو یہ قربانی قیامت کے دن اپنے گوشت اور خون کے ساتھ لائی جائی گی اور اسے ستر گنا بڑھا کر تمہارے ترازو میں رکھا جائے گا ،اس موقع پر حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ عنہ بھی تشریف فرما تھے انہوں نے سنا تو عرض کیا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ھٰذَا لِآلِ مُحَمَّدٍ خَاصَّةً فَاِنَّھُمْ اَھْل لِمَا خُصُّوْا بِہ مِنَ الْخَیْرِاَوْ لِلْمُسْلِمِیْنَ عَآمَّةً ٣ کیا قربانی کا یہ اجرو ثواب صرف آلِ محمد صلی اللہ عليہ وسلم کے لیے ہے کیونکہ وہ تو ہر اس خیرو بھلائی کے مستحق ہیں جو ان کے لیے خاص کی گئی ہو یا یہ سب مسلمانوں کے لیے ہے ؟ حضور علیہ السلام نے فرمایا یہ اجرو ثواب خصوصاً آلِ محمد کے لیے اور عموماً تمام مسلمانوں کے لیے ہے ''
١ مشکوة المصابیح ص ١٢٨ ٢ الترغیب والترہیب ٢ /١٠٠ ٣ الترغیب والترہیب ٢/١٠٠
جو شخص وسعت کے باوجود قربانی نہیں کرتا حضور صلی اللہ عليہ وسلم اس سے ناراض ہوتے ہیں چنانچہ حدیث میں آتا ہے آپ فرماتے ہیں : مَنْ وَّجَدَ سَعَةً لِاَنْ یُّضَحِّیَ فَلَمْ یُضَحِّ فَلَا یَحْضُرْ مُصَلَّانَا ١ ''جو شخص قربانی کی وسعت ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے ''
قربانی کس پر واجب ہوتی ہے ؟
سب سے پہلا مسئلہ تو یہ ہے کہ قربانی کس پر واجب ہوتی ہے ؟ اس کے متعلق عرض ہے کہ قربانی ایک توہر اُس عورت اورمرد پر واجب ہے جس پر زکوة فرض ہے، عورت کے پاس اگر اتنی مالیت کے سونے کا زیور ہے کہ جتنی مالیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی خرید سکتے ہیں جو آج کل تقریباً ایک لاکھ پچاسی ہزار روپے کی آجاتی ہے تواس پر زکوة آئے گی اورجس پر زکوة آئے گی اس پر قربانی بھی آئے گی !
اوردوسرا وہ شخص ہے خواہ مرد ہو یا عورت جس کے پاس اتنی مالیت تو نہیں ہے، نہ کیش کی شکل میں نہ چاندی کی شکل میں نہ سونے کی شکل میں ،زیور وغیرہ بھی نہیں ہے اس کے پاس ،کیش رقم بھی نہیں ہے اس کے پاس، مالِ تجارت بھی نہیں ہے اس کے پاس تواگرچہ اس صورت میں اس پر زکوة تو فرض نہیں ہوگی لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس کے پاس زائد از ضرورت اتنا سامان بھی ہے یا نہیں ہے کہ جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہوجاتی ہے، زائد از ضرورت سامان میں شوقیہ لیپ ٹاپ، کمپیوٹر ہوگیا، زائد از ضرورت موبائل ہوگئے یا ضرورت پانچ چھ ہزار والے موبائل سے پوری ہوجاتی ہے لیکن رکھا ہوا ہے تیس پینتیس ہزار والا موبائل یا سینکڑوں سی ڈیز ہوگئیں یا وی سی آر ہو گیا یا اتنے زیادہ بھرے ہوئے کپڑے ہیں کہ وہ پہننے کوہی نہیں آتے یا اتنے زیادہ برتن ہیں جو کبھی کام ہی نہیں آتے، تو اگر اس کی ملکیت میں ایسی چیزیں ہیں کہ ان کواگرہم جوڑیں اور ان کی قیمت پتا کریں اور وہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر پہنچ جاتی ہو توپھر ایسے مرد و عورت پر اگرچہ زکوة تو فرض نہیں ہوگی لیکن صدقۂ فطر اور قربانی واجب ہوگی اور یہ مرد و عورت زکوة بھی نہیں لے سکتے، زکوة لینا حرام ، قربانی کرنااور صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ! !
١ الترغیب والترہیب ج٢ص١٠٠
قربانی نہ کرنے کی صورت میں قضا :
اگر قربانی کے دن گزر گئے، ناواقفیت یاغفلت یا کسی بھی وجہ سے قربانی نہیں کی تو قربانی کی قیمت فقراء و مساکین پر صدقہ کرنی واجب ہے !
جن افراد پر قربانی واجب ہو وہ ذوالحج کا چاند نکل آنے کے بعد ناخن وغیرہ نہ کاٹیں :
اُم المومنین حضرت اُم سلمہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا
اِذَا رَاَیْتُمْ ھِلَالَ ذِی الْحِجَّةِ وَ اَرَادَ اَحَدُکُمْ اَنْ یُّضَحِّیَ فَلْیُمْسِکْ عَنْ شَعْرِہ وَ اَظْفَارِہ ١
''جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھ لواور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے رک جائے''
جن پر قربانی واجب ہے یہ حکم ان کے لیے ہے کہ وہ ذوالحج کا چاند نکلنے سے پہلے پہلے اپنے ناخن تراش لیں اور بال وغیرہ کاٹ لیں ! یہ سب کے لیے نہیں ہے لیکن یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ ایک مستحب اور سنت ِ غیر مؤکدہ عمل ہے ! اگر کسی نے ناخن کاٹ بھی لیے اور بال کاٹ بھی لیے تو اس کی قربانی میں فرق کوئی نہیں پڑے گا ، زیادہ سے زیادہ سنت پر عمل کرنے کا جو اجر تھا وہ رہ جائے گا، اگر سنت پر عمل کر لیتے تو اجر مل جاتا ،نہیں کیا تو اجر رہ گیا لیکن قربانی میں کوئی فرق نہیں آئے گا ! !
ماہِ ذی الحجہ میں کیا جانے والا تیسرا کام :
تیسری چیز جو اس مہینے میں ہوتی ہے وہ ایک مذہبی تہوار ہے یعنی ہم اس مہینے میں (ذی الحجہ میں ) ایک عید مناتے ہیں ، یہ ہمارا مذہبی تہوار ہے، ہمارے لیے دو عیدیں مقرر کی گئی ہیں :
ایک عید الفطر ، دوسری عید الاضحی
عیدیں فقط دو ہیں :
حضور اکرم صلی اللہ عليہ وسلم کا ارشاد ہے شَھْرَا عِیْدٍ لَا یَنْقُصَانِ رَمَضَانُ وَ ذُوالْحِجَّةِ ٢
١ صحیح مسلم ج ٢ ص ١٦٠ ٢ سُنن ابو داود ج ١ ص ٣١٨
''عید کے دو مہینے ہیں ، ان دو مہینوں میں اجر کے اندر کمی نہیں ہوتی، ایک مہینہ رمضان کا دوسرا ذوالحج کا ''
محدثین کرام نے ہمیں بتایا کہ اجر میں کمی نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر دونوں مہینے اُنتیس اُنتیس دن کے بھی ہوئے تواللہ تعالیٰ عبادت کا اجرو ثواب تیس دن کے برابر دیں گے ! یہ مطلب ہے کہ ان میں کمی نہیں ہوتی یعنی اجرو ثواب میں کمی نہیں ہوتی !
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ
'' آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اہلِ مدینہ نے دو دن مقرر کر رکھے ہیں جن میں وہ کھیل کود کرتے اور خوشیاں مناتے ہیں ! آپ نے یہ دیکھ کر پوچھا کہ یہ دو دن کیسے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ ان دو دنوں میں ہم زمانہ ٔ جاہلیت میں خوشیاں مناتے تھے اور کھیلا کودا کرتے تھے آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا اِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَبْدَلَکُمْ بِھِمَا خَیْرًا مِّنْھُمَا یَوْمَ الْاَضْحٰی وَ یَوْمَ الْفِطْرِ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں دنوں سے بہتر اور اچھے دو دن تمہارے لیے مقرر فرمادیے ہیں جن میں سے ایک عید الاضحی کا دن ہے اور دوسرا عید الفطر کا '' ١
اس حدیث ِ پاک سے بھی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ عیدیں فقط دو ہیں
ایک عید الفطر ، دوسری عید الاضحی
ماہِ ذوالحج کے شروع کے دس دنوں کی فضیلت :
خاص طورپر اس کے شروع کے جو دس دن ہیں وہ تو اور زیادہ عظمت و فضیلت والے دن ہیں قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے ان دس دنوں کا تذکرہ فرمایا ہے چنانچہ تیسویں پارہ میں ایک سورة ہے سورة الفجر اس میں آتا ہے ( وَالْفَجْرِ۔ وَلَیَالٍ عَشْرٍ ) فجر کے وقت کی قسم اور دس راتوں کی قسم،
١ سنن ابوداود باب صلوة العیدین ج ١ ص ١٦١ و مشکوة المصابیح ص ١٢٦
مفسرین نے لکھا ہے ان دس راتوں سے مراد عشرہ ذوالحج کے دنوں کی راتیں ہیں ، عشرہ ذوالحج کے جو دن ہیں ان کی راتیں مراد ہیں ، اللہ تعالیٰ ان دس دنوں کی راتوں کی قسم کھا رہے ہیں اور ظاہر ہے اللہ تعالیٰ جس چیز کی قسم کھائیں گے وہ فضیلت اور منقبت والی چیز ہوگی اس سے ان دنوں کی فضیلت معلوم ہوتی ہے
ایک حدیث تو بہت ہی زیادہ اجرو ثواب بتاتی ہے چنانچہ حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللّٰہ حضرت ابوہریرة رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا
مَا مِنْ اَیَّامٍ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ اَنْ یُّتَعَبَّدَ لَہ فِیْھَا مِنْ عَشْرِ ذِی الْحِجَّةِ یَعْدِلُ صِیَامُ کُلِّ یَوْمٍ مِنْھَا بِصِیَامِ سَنَةٍ وَ قِیَامُ کُلِّ لَیْلَةٍ مِّنْھَا بِقِیَامِ لَیْلَةِ الْقَدْرِ ١
'' دنوں میں سے ایسا کوئی دن نہیں ہے کہ جس میں عبادت کرنا اللہ کے حضور میں عشرہ ذوالحج میں عبادت کرنے سے زیادہ افضل ہو ! اس کے ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر قرار دیا جاتا ہے ! اور اس کی ہر رات کی عبادت شب ِ قدر کی عبادت کے برابر قرار دی جاتی ہے''
نویں ذی الحجہ کے روزے کی فضیلت :
بالخصوص نوذوالحج کا جو روزہ ہے وہ تو بہت ہی قیمتی ہے ایک حدیث میں آتا ہے کہ نو ذوالحج کے روزہ کی یہ برکت ہے کہ اللہ اس کی برکت سے ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ کے گناہ معاف فرمادیتے ہیں ٢ ہمیں چاہیے کہ ہم ان نفلی روزوں کا اہتمام کریں ، اللہ توفیق دے اور اگر سارے نہ رکھے جائیں تو کم از کم نو ذوالحج کا روزہ ہی رکھ لیں ! !
عیدالاضحی کی رات کی فضیلت :
اور دس ذوالحج کی جو شب ہے یہ بھی بڑی فضیلت کی شب ہے یعنی عید کی شب جو نو ذوالحج کا دن گزار کر آئے گی حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص عید الفطر اور عید الاضحی کی راتوں کو شب بیداری کرے گا
١ سنن ترمذی ج ١ ص ١٥٨ باب ماجاء فی العمل فی ایام العشر ، مشکوة المصابیح ج١ ص ١٢٨
٢ صحیح المسلم ج ١ ص ٣٦٧ باب استحباب صیام ثلثة ایام من کل شھر وصوم یوم عرفہ الخ
انہیں جاگ کرگزارے گا اور انہیں زندہ رکھے گا تواللہ تعالیٰ اس شخص کے دل کو اس دن زندہ رکھیں گے جس دن تمام لوگوں کے دل مردہ ہوچکے ہوں گے ١
تکبیراتِ تشریق :
یہاں اخیر میں ایک مسئلہ اور سمجھ لیں کہ ہمارے یہاں نوذوالحج کی فجر سے لے کر تیرہ ذوالحج کی عصر تک ہر مرد و عورت پرہر فرض نماز کے بعد ایک مرتبہ تکبیرِ تشریق پڑھنا واجب ہے !
مرد حضرات بہ آوازِ بلند پڑھیں اور خواتین آہستہ آواز سے ، یہ تکبیرات فقہ حنفی کے مطابق صرف ایک بار پڑھنی چاہئیں دو دو تین تین بار نہیں ، جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ غلط کرتے ہیں ، تکبیر تشریق یہ ہے
اَللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْد
بہرحال اس مہینے کے یہ فضائل ہیں ہمیں چاہیے کہ ان دنوں میں بجائے مارے مارے پھر نے اور دنیا کے دھندوں میں لگنے کے کوشش کریں کہ جس قدر ہو سکے ذوالحج کا مہینہ شروع ہو تو زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی میں وقت گزاریں ، اللہ تعالیٰ ہمیں ان باتوں کے سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،آمین وَآخِرُدَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
١ الترغیب والترہیب ج ٢ ص ١٥٣




قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ
کے آڈیو بیانات (درسِ حدیث) جامعہ کی ویب سائٹ پر سنے اورپڑھے جا سکتے ہیں
https://www.jamiamadniajadeed.org/bayanat/bayan.php?author=1




مصنوعی ذہانت ، اسناد اور سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی
( جناب ڈاکٹر مبشر حسین صاحب رحمانی )
٭٭٭
مصنوعی ذہانت کے شعبے نے پچھلی کچھ دہائیوں میں بہت پیش رفت کی ہے اور اس شعبے کے انسانی معاشرے پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے تقریباً ہر شعبہ زندگی میں اس کا استعمال عام ہوتا جارہا ہے ۔گوکہ مصنوعی ذہانت کمپیوٹر سائنس کا شعبہ ہے مگر چونکہ یہ اتنا وسیع ہوچکا ہے کہ ہر جگہ اس کا استعمال ہورہا ہے لہٰذا اس کی شاخیں اور استعمال تقریباً تمام سائنسی شعبوں جیسے الیکٹرونکس، الیکٹریکل انجینئرنگ ، ڈیٹا سائنس ، مکینکل انجینئرنگ ، روبوٹکس ، طبیعات ، بائیولوجی، فلکیات، حساب اور کیمسٹری وغیرہ میں ہورہا ہے ! سیٹلائٹ کے ذریعے گندم کی فی ایکڑ پیداوار کا تخمینہ لگانا ہو یا بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیاں (Self-driving car) کینسر کی تشخیص ہو یا پھر گھریلو کام کاج میں معاونت، غرض مصنوعی ذہانت کے ان گنت استعمال ہورہے ہیں ! !
مصنوعی ذہانت اور خاص طور پر ایل ایل ایم (چیٹ جی پی ٹی وغیرہ)کے حوالے سے یہ بات پیش کی جارہی ہے کہ ایل ایل ایم کے ذریعے پوری دنیا کے ڈیٹا (مواد)تک رسائی ہوگئی ہے اور اس سے وہ چیزیں وجود میں آرہی ہیں کہ انسانی عقل دنگ ہے ! !
کمپیوٹر سائنس کے ماہرین کو مصنوعی ذہانت کی خامیوں اور حدود و قیود کا بخوبی علم ہے ! مصنوعی ذہانت کے عالمی ماہرین ، سائنسدان و محققین جانتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت میں حقیقی طور پر کتنی ''ذہانت'' موجود ہے لہٰذا سنجیدہ عالمی مستند سائنسدان مصنوعی ذہانت سے متعلق بہت ہی واضح موقف رکھتے ہیں ! مسئلہ تب سے شروع ہوا ہے کہ جب عالمی سرمایہ کاروں نے اپنی ٹیکنالوجیکل کمپنیوں کے ذریعے اپنے سرمائے کو بڑھانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے غبارے میں بے تحاشہ ہوا بھری ہے اور عالمی ریگولیٹری اداروں اور حکومتوں پر اثر انداز ہوکر اس کو وسیع پیمانے پر رائج کرنے کی کوششیں شروع کرچکے ہیں ! عالمی سرمایہ کاروں ، حکومتوں اور ٹیکنالوجیکل کمپنیوں کی اتنی وسیع سرمایہ کاری کی وجہ سے ہر طرف مصنوعی ذہانت کے چرچے ہیں اور عوام الناس کے سامنے سے مخلص ومستند عالمی سائنسدانوں و محققین کی سائنسی تحقیقات اور مصنوعی ذہانت کی خامیاں اور حدود و قیود اوجھل ہوتے جارہے ہیں ! !
خلاصہ کلام یہ کہ مصنوعی ذہانت کی رسی اب عالمی معیشت پر کنٹرول کرنے والوں کے ہاتھ میں ہے اور وہی اس وسیع و عریض پروپیگنڈے کے پیچھے کارفرما ہیں ! !
بطور کمپیوٹر سائنسدان ، راقم پچھلے ربع صدی سے کسی حد تک مصنوعی ذہانت کو خود سیکھنے، اس کی تدریس اور سائنسی تحقیق سے وابستہ رہا ہے ، راقم کی مصنوعی ذہانت پر گراں قدر سائنسی تحقیقات موجود ہیں جو کہ عالمی معیار کے سائنسی جرائد میں شائع ہوچکی ہیں ! اب سے دس بارہ سال پہلے راقم کی زیرِ نگرانی طلبہ نے مصنوعی ذہانت کے موضوع پر سائنسی تحقیقات شروع کیں اور مصنوعی ذہانت کو کینسر کے علاج سے لے کر مختلف بیماریوں اور زندگی کے مختلف شعبوں میں استعمال کیا تاکہ اس سے انسانیت کو فائدہ پہنچے ،ابھی حال ہی میں بندہ کی زیرِ نگرانی ایک پاکستانی طالبعلم کو آئرلینڈ کے لیرو سینٹر کی جانب سے'' لیرو ڈائیریکٹر پرائز 2024 پی ایچ ڈی /پوسٹ ڈاکٹریٹ تفویض کیا گیا ہے اور اس کے پی ایچ ڈی کے سائنسی تحقیقی کام کو سراہا گیا ! !
لیرو ریسرچ سینٹر آئرلینڈ میں موجود ایک عالمی معیار کا ریسرچ سینٹر ہے اور اس کا شمار کمپیوٹر سافٹ وئیر کے شعبے میں دنیا کے دوسرے بہترین ریسرچ سینٹرز میں ہوتا ہے۔اس طالبعلم کی پی ایچ ڈی کی تحقیق مصنوعی ذہانت کے موضوع پر ہے بالخصوص کس طریقے سے جنریٹیو مصنوعی ذہانت کو میڈیکل سائنس کے شعبے میں مختلف بیماریوں مثلاً کووڈ اور دیگر بیماریوں کی تشخیص میں استعمال کیا جاسکتا ہے ! اسی طریقے سے راقم کمیونیکیشن نیٹ ورکس میں مصنوعی ذہانت سے جڑی سائنسی تحقیق میں بھی پچھلے کئی سالوں سے مصروف رہا ہے ! !
یہ کچھ تفصیلات قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ راقم خود مصنوعی ذہانت پر عالمی معیار کی مستند سائنسی تحقیق کرتا آرہا ہے اور اس کو انسانیت کی فلاح و بہود کے لیے استعمال کیا ہے البتہ راقم کو تشویش تب سے شروع ہوئی ہے جب سے یہ کوششیں ہورہی ہیں کہ مدارسِ دینیہ کے اندر کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت کو اس حد تک رواج دیا جائے کہ خود مفتیانِ کرام ہی دین کے مسائل کا حل کمپیوٹر سے پوچھیں ، نیز اس موضوع پر سوشل میڈیا پر بعض صاحبانِ علم کی جانب سے کئی پوڈ کاسٹ (Podcast) بھی کی گئی ہیں اور کہا گیا کہ
'' آنے والا زمانہ ٹیکنالوجی کا ہے اور لوگوں کا سب سے بڑا عالم چیٹ جی پی ٹی ہوگا ''
یعنی بعض صاحبانِ علم کی جانب سے یہ ترغیب دی جارہی ہے کہ مدارسِ دینیہ میں پڑھنے والے طالب علم حضرات علم فقہ سے متعلق سوالات مصنوعی ذہانت کے پروگرامز مثلاً چیٹ جی پی ٹی وغیرہ سے پوچھیں مدارسِ دینیہ کے طلباء کرام کو یہ ترغیب دی جارہی ہے کہ وارثت کے مسائل کی تخریج ہو یا قرآن پاک کی کسی آیت کی تفسیر، حدیث کا متن تلاش کرنا ہو یا کسی فقہی عبارت کا خلاصہ بیان کرنا، غرض یہ تمام کام مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر مثلاً چیٹ جی پی ٹی سے کرلیا جائے حتی کہ اگر جمعہ کا خطبہ تیار کرنا ہے تو اس کے لیے موضوع کا انتخاب اور اس پر دینی مواد کا حصول چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے کرلیا جائے یعنی مصنوعی ذہانت کے پروگرام چیٹ جی پی ٹی سے کہا جائے کہ ہمیں دو صفحات کا ایک خطبہ مہیا کرے جس میں دو قرآنی آیات، تین احادیث اور دو صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کے اقوال کی روشنی میں عورتوں میں وراثت کی تقسیم کی اہمیت پر بات کی گئی ہو ! اب تو قرآن پاک کی تفسیر و ترجمہ بھی مصنوعی ذہانت کی مدد سے کیا جارہا ہے لہٰذا بحیثیت کمپیوٹر سائنسدان راقم یہ اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے کہ اس موضوع پر تکنیکی تفصیلات آسان الفاظ میں اہلِ علم حضرات کی خدمت میں پیش کرے تاکہ مصنوعی ذہانت کے مدارسِ دینیہ اور دینی علوم میں استعمال سے پیدا ہونے والے فتنوں کا بروقت تدارک ہوسکے اس ضمن میں ابتدائی طور پر اس مضمون کے ذریعے کچھ بنیادی سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی جائے گی
٭ پہلا سوال یہ ہے کہ'' کیا مصنوعی ذہانت کے پروگرامز کو علومِ وحی کے سمجھنے، سیکھنے سکھانے اور ترویج و اشاعت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے یا جو خیر القرون میں طریقہ کار اختیار کیے گئے ہیں یعنی سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی اور سند، ان ہی پر انحصار اور ان ہی کے ذریعے دینی علوم کو اگلی نسل تک منتقل کرنا چاہیے ؟
کیا مصنوعی ذہانت کے حامل کمپیوٹر (مشین)کی سند تسلیم کی جائے گی ؟ کیا مصنوعی ذہانت کے حامل کمپیوٹر (مشین)اور سافٹ وئیر سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی کے متبادل قرار دیے جاسکتے ہیں ؟ ؟
اسلام میں سند اور سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی کی اہمیت :
اسلام میں سند اور سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی کو خاص اہمیت حاصل ہے ! حضرت مولانا محمد اکمل جمال صاحب ژوبی سند کی تعریف اور اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
''عام اصطلاح میں قول کی نسبت اپنے کہنے والے کی طرف کرنے کا نام اسناد ہے حدیث کی اصطلاح میں سند سے مراد ہے راویوں کا وہ سلسلہ ہے جو حدیث کے ابتدائی راوی سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی ذات گرامی تک پہنچتا ہے ! !
مسلمانوں کے ہاں نہ صرف علمِ حدیث بلکہ تمام علوم وفنون میں سندکی روایت رواج پذیر ہوگئی چنانچہ تمام تفسیری روایات، سیرت ومغازی کا ہر ہر واقعہ، قرا ء ت کا ایک ایک طریق اور فقہ کا ایک ایک جزئیہ سند کے ساتھ محفوظ ہے اور یہ طرزِ عمل علومِ دینیہ کے ساتھ ہی خاص نہ رہا بلکہ ادب، شعر، بلاغت، صرف و نحو اور لغت سب کی سندیں محفوظ ہیں ! سند کی مذکورہ روایت صرف مسلمانوں کی خصوصیت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس امت کو نوازا ہے، کسی اور قوم کے ہاں اس کا تصور بھی نہیں '' ١
قرآن پاک کی ہی مثال لے لیجیے،کتنے ہی حفاظ آج موجود ہیں ، صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین نے قرآن پاک براہِ راست حضور پاک صلی اللہ عليہ وسلم سے سنا، زبانی یاد کیا اور پھر اسے سینہ بہ سینہ منتقل کرنے کا
١ مولانا محمد اکمل جمال ژوبی '' علم ِاسناد کا تعارف اور اس کی حقیقت '' طبع ماہنامہ بینات، دسمبر ٢٠٢٠ئ
جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ آج بھی جاری ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک جاری رہے گا ! !
الحمدللہ ! آج بھی ایسے حضرات موجود ہیں جنہوں نے اپنے استاذ سے مختلف قرا ء ت میں قرآن پاک سیکھا اور سنایا ،پھر انہوں نے اپنے استاذ سے اور پھر یہ سلسلہ تبع تابعین، تابعین، صحابہ کرام سے لے کر حضور صلی اللہ عليہ وسلم تک پہنچتا ہے ! قرآن پاک کی مختلف قرا ء ت کی سند اور سینہ بہ سینہ منتقلی کے بارے میں حضرت مولانا قاری رحیم بخش صاحب پانی پتی نوراللہ مرقدہ کی کتب پڑھنے کے لائق ہیں جن میں حضرت نے مختلف قرا ء ت کے بارے میں تفصیلی اسناد و احکام بیان فرمائے ہیں ، اسی طریقے سے حضرت قاری اظہار احمد صاحب تھانوی رحمہ اللہ نے '' شجرة الاساتذة فی اسانید القراء ت العشر المتواترة '' میں تمام اسانید کا تذکرہ فرمایا ہے ! !
اسی طریقہ سے احادیث نبوی صلی اللہ عليہ وسلم میں بھی سند حدیث اور سینہ بہ سینہ احادیث کی منتقلی کو بہت اہمیت حاصل ہے اور اس کی ایک نظیر'' حدیث مسلسل بالاوّلیت ''بھی ہے ۔ دارالعلوم دیوبند علماء دیوبند کا سلسلہ ٔسند و استناد کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ
''ہمارے آج کل کے اکابر کا سلسلۂ سند حدیث میں مسند الہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ سے ملتا ہے اور پھر حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے اوپر کا سلسلہ تمام مشہور و متداول کتب حدیث کے مصنفین کرام تک پہنچتا ہے اور پھر وہاں سے سندمتصل کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم تک جا ملتا ہے'' ١
حضرت مفتی کوثر علی سبحانی صاحب مدظلہم نے اپنی حالیہ کتاب ''الجوہر المفید فی تحقیق الاسانید یعنی ''تذکرہ محدثین اور ان کی سندیں '' میں بڑی تفصیل کے ساتھ حدیث میں سند کے اہتمام کی تاریخ و دیگر تفصیلات کو قلم بند فرمایا ہے۔
دین میں اسناد کی اہمیت کے بارے میں حضرت مولانا مفتی محمد تقی صاحب عثمانی دامت برکاتہم العالیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ
١ دارالعلوم دیوبند ویب سائٹ، علمائے دیوبند کا سلسلہ سند و استناد
''حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمة اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اسناد تو دین کا حصہ ہیں اگر اسناد نہ ہوں تو جس کے جی میں جو آتا وہ کہہ گزرتا اور حضور اقدس صلی اللہ عليہ وسلم کی طرف منسوب کرلیتا تو اللہ نے اس امت کے قلب پر یہ بات القا فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی طرف ہر بات کو کسی سند سے مستند کریں اور بغیر اسناد کے کوئی بات معتبر نہیں ، ورنہ اس سے پہلے جو امتیں گزری ہیں (یہود ونصارٰی ) وہ اپنے پیغمبر کی حدیث تو کجا وہ اللہ کے کلام کی سند بھی محفوظ نہ رکھ سکے، نہ توراة نہ انجیل، اور نہ زبور کی کوئی سند،چہ جائیکہ ان کے انبیا ئے کرام کے ارشادات اور تعلیمات کی سند کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ! ! یہ صرف امت محمدیہ صلی اللہ عليہ وسلم کی خصوصیت ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ عليہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والی ہر بات سند کے ساتھ بیان ہوئی اور شروع میں یہ کہہ دیا گیا کہ ہم اس وقت تک نہیں مانیں گے جب تک سند نہیں بتا ئوگے '' ١
دینی علوم میں سند کے ذریعے نورانیت کی منتقلی اور سند کی اہمیت کے پیش نظر حضرت مولانا مفتی رضا ء الحق صاحب دامت برکاتہم (سابق استاذ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹائون وحال شیخ الحدیث ورئیس دارالافتاء دار العلوم زکریا، جنوبی افریقہ)کی تقریر سے ایک اقتباس نقل کیا جاتا ہے
''علماء لکھتے ہیں کہ
''حدیثِ مسلسل بالاوّلیت ''کے بہت سے فوائد ہیں ان میں سے تین فوائد یہ ہیں
(١) حدیث مسلسل میں انقطاع ختم ہوجاتا ہے اس لیے کہ ہر ایک تلمیذ نے اپنے شیخ کی کیفیت کو بیان کیا ہے !
(٢) حدیث مسلسل میں اس امت کے حدیث کے ساتھ اہتمام کا ذکر ہے کہ یہ امت حدیث کا کتنا زیادہ اہتمام کرتی تھی کہ متن اور سند کو توچھوڑیئے،
١ حضرت مولانا مفتی محمد تقی صاحب عثمانی مدظلہم '' انعام الباری دروس بخاری شریف'' جلد اوّل، ص ٥٣
متن اور سند کے علاوہ سند کی کیفیت کو بھی نقل کرتی تھی کہ اس سند کی کیا کیفیت ہے ؟ تو اس میں اس امت کے حدیث کے ساتھ اہتمام کا ذکر ہے !
(٣) حدیث مسلسل میں جو کیفیت ہے اس کیفیت کی نورانیت ناقل اور تلمیذ میں منتقل ہوجاتی ہے اس لیے کہ وہ کیفیت شیخ الشیخ سے شیخ کے پاس آئی، شیخ سے تلمیذ کے پاس آگئی اور تلمیذ سے پھر تلمیذ التلمیذ کے پاس آگئی جیسے لائٹ میں اگرچہ کسی جگہ پر تار کا سلسلہ کمزور ہو، لیکن کمزور تار سے بھی لائٹ چل جائے گی، اسی طرح ہم تو بہت کمزور ہیں لیکن ہمارے مشائخ تو بہت اونچے درجے کے لوگ تھے تو ان ہی کے واسطے سے جو حدیث کی نورانیت ہے وہ بھی منتقل ہوجائے گی'' ١
کیا مصنوعی ذہانت کی حامل مشینیں ''سند ''اور ''سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی'' کے متبادل ہوسکتی ہیں ؟
بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت کے حامل کمپیوٹر(مشین) کی سند تسلیم کی جائے گی ؟ کیا یہ مصنوعی ذہانت کے حامل کمپیوٹر (مشین)اور سافٹ وئیر سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی کے متبادل قرار دیے جاسکتے ہیں ؟
جب بعض صاحبانِ علم مصنوعی ذہانت کے ذریعے مختلف دینی علوم کی ترویج و اشاعت اور دینی مسائل کو مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر سے معلوم کرنے اور اسے استعمال کرنے کی ترغیب دیتے ہیں تو یہاں پر ایک بنیادی خامی پیدا ہو رہی ہے اور وہ یہ ہے کہ کمپیوٹر، مصنوعی ذہانت کے پروگرامز، روبوٹس اور دیگر الیکٹرانک آلات اپنی اصل اور حقیقت میں صرف مشین ہیں اور مشین اشرف المخلوقات انسان کا متبادل ہرگز ہرگز نہیں ہوسکتیں لہٰذا اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت نے اتنی ترقی کرلی کہ وہ دینی علوم سے متعلق صحیح رہنما ئی فراہم بھی کرنے لگے ( جو کہ سائنسی و تکنیکی طور پر ممکن بھی نہیں ) تو بھی مشین تو مشین ہی رہے گی اور ان مشینوں میں سند ، سینہ بہ سینہ علوم کو منتقل کرنے کا عنصر،
١ حضرت مفتی رضاء الحق صاحب، فضائلِ علم، حدیث ِنیت اورحدیث ِمسلسل بالاوّلیت سے متعلق ایک پرمغز خطاب طبع ماہنامہ بینات فروری ٢٠٢١ئ
نورانیت ، تقوی اور للہیت ہمیشہ عنقا ء ہی رہے گا جو کہ دینی علوم کی بنیاد اور خاصہ ہے لہٰذا مصنوعی ذہانت کو دینی علوم میں استعمال کرنے کی بنیاد ہی غلط ہے اور اس غلط بنیاد پر تعمیر کی گئی عمارت کی بھی کوئی حیثیت نہیں ! ٹیکنالوجی، جدیدیت اور مصنوعی ذہانت سے حد درجہ متاثر صاحبانِ علم اور بہی خواہانِ امت ِمسلمہ سے ہم درد دل سے گزارش کرتے ہیں کہ خدارا دینی علوم میں مصنوعی ذہانت کو استعمال کرنے کو فروغ دینے سے احتراز فرمائیے اس سے گمراہی اور ضلالت کے نئے دروازے کھل رہے ہیں اور خدانخواستہ مزید گمراہی کے راستے کھلیں گے آپ صاحبانِ علم تو علوم نبوی صلی اللہ عليہ وسلم کے اصل وارثین ہیں جب آپ ہی سند، سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی، نورانیت، تقوی اور للہیت کی ترغیب و عمل کے بجائے مادّیت اور مشینوں کے دینی علوم میں استعمال و انحصار کی ترغیب دیں گے تو عام مسلمان کس طرف دیکھیں ؟ ؟
کیا مصنوعی ذہانت کی مشین جوابدہ ہوگی ؟
پھر یہ بھی سوال اٹھے گا کہ کیا مشین جوابدہ ہوگی ؟ نہیں ، ہر گز نہیں ،مشین جوابدہ نہیں ہوسکتی مصنوعی ذہانت کے عالمی اور مستند سائنسی ماہرین مصنوعی ذہانت کی خامیاں اور کمزوریاں گنواتے نہیں تھکتے مثلاً یونیورسٹی آف گلاسگو، برطانیہ کے ڈاکٹر جو سلیٹر یہ کہتے ہیں کہ
'' چیٹ جی پی ٹی خود سے مواد بنادیتا ہے جسے لوگ ہیلوسینیشن سے تعبیر کرتے ہیں جبکہ اس کے لیے یہ اصطلاح استعمال کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ اس کے لیے جو درست اصطلاح ہوگی وہ فضول، لغو یا بکواس کہا جائے اور اسے وہ فضول، لغو یا بکواس مشینوں سے تعبیر کرتے ہیں ''
ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا دین کے انتہائی اہم مسائل جن کے جواب پر عمل کرنے اور نہ کرنے سے ہمیشہ ہمیشہ کی آخرت کی زندگی کا مدار ہے (اور اس دنیاوی زندگی کا بھی مدار ہے مثلاً میراث میں غلط جواب دینے کی صورت میں کسی وارث کا حق محروم ہوسکتا ہے) اس کے لیے ہم ایسی فضول، لغو یا بکواس مشینوں پر اعتماد کرسکتے ہیں ؟ اور کیا ہم اپنی آخرت کی ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی کو دائو پر لگا سکتے ہیں ؟
نیز آخرت میں ان مصنوعی ذہانت کی حامل مشینوں سے اللہ رب العزت کی طرف سے کوئی بازپرس نہیں ہوگی اور نہ ہی دنیاوی قوانین کے تحت یہ مصنوعی ذہانت کی مشینیں جوابدہ ہیں ! پھر کیوں کچھ صاحبانِ علم عوام الناس کی غلط ذہن سازی کررہے ہیں کہ دینی مسائل کو مصنوعی ذہانت کے پروگرامز سے پوچھا جائے ؟ پھر کیوں مدارسِ دینیہ کے طلباء کرام کو چیٹ جی پی ٹی کو استعمال کرکے علمی استعداد بڑھانے کی بات کی جارہی ہے ؟ ؟
ایسے صاحبانِ علم اور بہی خواہانِ امت ِمسلمہ سے مکرر عرض ہے کہ چونکہ آپ کو کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی ذہانت کی پیچیدگیوں اور خامیوں کا علم نہیں اور نہ ہی آپ اس مشکل سائنسی موضوع کے ماہر ہیں لہٰذا مصنوعی ذہانت کے موضوع کے مستند عالمی ماہرین کی رائے پر کلی اعتماد کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کو مدارسِ دینیہ میں رواج دینے سے گریز کیجیے نیز مصنوعی ذہانت کے پروگرامز کو علومِ وحی کے سمجھنے ، سیکھنے سکھانے اور ترویج و اشاعت کے لیے ہرگز ہرگز استعمال نہ کیا جائے بلکہ جو ''خیر القرون '' میں طریقہ کار اختیار کیے گئے ہیں یعنی ''سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی'' اور'' سند'' ان ہی پر انحصار اور ان ہی کے ذریعہ دینی علوم کو اگلی نسل تک منتقل کرنا چاہیے ! !
مصنوعی ذہانت کے پروگرامز سے دینی علوم حاصل کرنا :
دیکھیے اگر کسی کے پاس عصری تعلیمی یونیورسٹیوں کی کلیة الشریعة یا کلیة اصول الدین کی ڈگری ہو یا پھر مغربی ممالک کے لادینی عصری اداروں سے اسلامی دینی تعلیم کی ڈگری ہو تو ان دونوں طرز کے حامل ڈگری یافتہ لوگوں کا مدارسِ دینیہ سے فارغ التحصیل علماء کرام سے کیا بنیادی فرق ہے ؟ علمائے کرام اس کے کچھ بنیادی فرق بیان کرتے ہیں جن میں سب سے بڑا فرق سند اور سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی ، دوسرا اتباعِ سنت، تقویٰ، اخلاص، للہیت اور تربیت ظاہر و باطن اور تیسرا نصاب کا ہے !
یہ وہ تین عناصر ہیں جو کہ بحیثیت ِمجموعی عصری تعلیمی یونیورسٹیوں کیکلیة الشریعة یا کلیة اصول الدین یا پھر مغربی ممالک کے لادینی عصری اداروں سے اسلامی دینی تعلیم کی ڈگری حاصل کرنے والوں میں عنقا ء ہوتے ہیں الا ماشاء اللّٰہ
غرض جب مصنوعی ذہانت کے پروگرامز سے دینی علوم حاصل کیے جائیں گے اور اپنی دینی وعلمی استعداد بڑھانے کے لیے ان مصنوعی ذہانت کے پروگرامز کو استعمال کیا جائے گا تو اس سے ایک طرف سے'' سند'' اور'' سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی ''کی نفی ہو رہی ہے اور دوسری طرف چونکہ ان مصنوعی ذہانت کے پروگرامز میں سائنسی و تکنیکی خامیاں موجود ہیں لہٰذا اس سے اصل دینی علوم بھی حاصل نہ ہوپائیں گے اور ایسے صاحبانِ علم اس دھوکہ میں ہی رہیں گے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کو سیکھ کر علم دین اور اسلام کی خدمت کررہے ہیں ! !
خلاصہ کلام یہ کہ راقم بطور کمپیوٹر سائنسدان اور محقق بڑی ذمہ داری کے ساتھ یہ عرض کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے پروگرامز کو علومِ وحی کے سمجھنے، سیکھنے سکھانے اور ترویج و اشاعت کے لیے ہرگز ہرگز استعمال نہ کیا جائے بلکہ جو خیر القرون میں طریقہ کار اختیار کیے گئے ہیں یعنی'' سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی'' اور ''سند'' ان ہی پر انحصار اور ان ہی کے ذریعے دینی علوم کو اگلی نسل تک منتقل کرنا چاہیے ! ! !
اگر کوئی عامی شخص بخاری شریف کی ہر حدیث کو زبانی یاد کرلے اور پھر اس کا درس دینا شروع کردے تو ہم یہی کہیں گے کہ یہ عالم نہیں ہے، اس کے پاس سند نہیں ہے اور اس کا بخاری شریف کا درس دینا معتبر نہیں ٹھہرے گا کیونکہ اس نے علمائے کرام اور شیوخ حدیث کی صحبت نہیں اٹھائی، ان سے علم حاصل نہیں کیااور اس نے سینہ بہ سینہ علم کی منتقلی حاصل نہیں کی ہے ! !
اگر ہم غور کریں تو جتنے بھی فتنے پھیلتے ہیں اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بعض لوگ خود ہی دینی علوم کو پڑھ کر، سمجھ کر، عقل لڑا کر دینی علوم کو سمجھ رہے ہوتے ہیں چونکہ ایسے حضرات کو اکابر کا مزاج و مذاق ، سلف کی رائے ، صحابہ کرام کی رائے اور عمل کا بالکل بھی علم نہیں ہوتا، نیز ان کو حدیث کا سیاق و سباق اور اس میں درج متن حدیث سے کیا مراد لی جائے گی، اس کی عملی تطبیق کیا ہوگی، کا بھی علم نہیں ہوتا، لہٰذا ایسے لوگ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمرا ہ کرتے ہیں ! ! !
خلاصہ مضمون اور چند گزارشات :
خلاصہ مضمون یہ ہے کہ کمپیوٹر سائنس سے جڑی جدید ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت کے بلاشبہ مثبت استعمال بھی ہیں اور ان سے انسانیت کو فائدہ بھی پہنچ رہا ہے مگر جہاں ایک طرف ان کے فوائد ہیں ، وہیں اس ٹیکنالوجی کے منفی استعمال کے ساتھ ساتھ حدود و قیود بھی ہیں ۔ اس سلسلے میں بندہ نے چند گزارشات پیش کی ہیں ، ان کا خلاصہ درجِ ذیل ہے
٭ مدارسِ دینیہ کے طلبائے کرام میں پختہ علمی و تحقیقی استعداد بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر کے استعمال پر مدارسِ دینیہ میں سختی سے پابندی لگائی جائے بالخصوص فقہی مسائل کی تحقیق، خلاصہ، تفسیر، احادیث کی تخریج اور فتاویٰ نویسی کے لیے چیٹ جی پی ٹی و دیگر مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر کو استعمال کرنے سے مکمل احتراز کیا جائے ! ! راقم کی اس تجویز سے ہرگز یہ تاثر نہ لیا جائے کہ راقم مصنوعی ذہانت کو صرف مدارسِ دینیہ اور دینی علوم میں استعمال کرنے سے منع کررہا ہے بلکہ حقیقت حال یہ ہے کہ دنیا کی بیشتر بہترین یونیورسٹیوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر پابندی عائد ہوچکی ہے جس کی تفصیل مع حوالہ جات راقم نے اپنے دوسرے مضمون میں مہیا کردی ہے ! ! !
٭ مصنوعی ذہانت قطعی طور پر وحی کے علوم کا متبادل نہیں ہوسکتی لہٰذا سختی کے ساتھ اس بات کا اہتمام کیا جائے کہ مصنوعی ذہانت کو علومِ وحی کے متبادل کے طور پر استعمال نہ کیا جائے ! ! !
٭ مصنوعی ذہانت کے پروگرامز کو علومِ وحی کے سمجھنے، سیکھنے سکھانے اور ترویج و اشاعت کے لیے ہرگز ہرگز استعمال نہ کیا جائے بلکہ جو'' خیر القرون'' میں طریقہ کار اختیار کیے گئے ہیں یعنی ''سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی '' اور'' سند'' ان ہی پر انحصار اور ان ہی کے ذریعے دینی علوم کو اگلی نسل تک منتقل کرنا چاہیے ! ! !




اخبار الجامعہ
( مولانا عکاشہ میاں صاحب، نائب مہتمم جامعہ مدنیہ جدید )
٭٭٭
٢ مئی ٢٠٢٥ء کو بعد نماز مغرب حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد صاحب مدظلہم مع رفقاء شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب مدظلہم کی عیادت کے لیے بحریہ ٹاؤن ہسپتال تشریف لائے اسی روز بعد نمازِ عشاء حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب اپنے صاحبزادے مولانا مفتی محمد زبیر صاحب کے ساتھ حضرت صاحب کی عیادت کے لیے تشریف لائے !
٤ مئی کو فاضل و ناظم تعلیمات جامعہ مدنیہ لاہور مولانا محمد عابد صاحب، سکول آف انیبلٹ (جوبلی ٹاؤن )کے پرنسپل قاری عثمان صادق صاحب کے ہمراہ حضرت صاحب کی عیادت کے لیے بحریہ ٹاؤن ہسپتال تشریف لائے !
٦مئی کو جمعیة علماء اسلام کے جنرل سیکرٹری مولانا نصیر احرار صاحب کے ہمراہ ان کے بھائی اور دیگر حضرات ،حضرت صاحب کی عیادت کے لیے بحریہ ٹاؤن ہسپتال تشریف لائے !
امیر پنجاب شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب بحریہ ٹاؤن ہسپتال سے بخیر وعافیت رات ساڑھے بارہ بجے گھر تشریف لائے والحمد للّٰہ
٧ مئی کو قائد جمعیة علماء اسلام پاکستان حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم حضرت صاحب کی عیادت کے لیے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور حضرت صاحب کی صحت یابی کے لیے خصوصی دعاء بھی فرمائی !
٩ مئی ریسکیو 1122 کے سینئر آفیسر جناب یاسر صاحب اپنی ٹیم کے ہمراہ نمازِ جمعہ کے بعد جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور جامعہ مدنیہ جدید کے طلباء کرام کو جنگی صورتِ حال سے بچنے کی تدابیر اور ابتدائی صورت حال سے نمٹنے اور بچنے کی ترکیب کی تربیت دی اور ہنگامی صورتحال سے بچاؤ کی تدابیر سمجھائیں اور مشقیں بھی کرائیں جس میں جامعہ کے تمام طالب علموں نے انتہائی دلچسپی سے حصہ لیا
١٣ ذیقعدہ ١٤٤٦ھ /١١ مئی ٢٠٢٥ ء کو شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب نے بخاری شریف کے اسباق کی ابتدا ء فرمائی !
١١ مئی کو مولانا حکیم محمد امجد صاحب مرحوم کے صاحبزادے ، فاضل جامعہ مدنیہ جدید مولانا براء صاحب رائیونڈ سے اور مولانا احمد یار صاحب ٹوبہ ٹیک سنگھ سے اور کچھ دیگر حضرات حضرت مہتمم صاحب کی عیادت کے لیے بعد نماز ظہر جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور حضرت صاحب سے ملاقات کی !
اسی روز لاہور سے ڈاکٹر بدر الدین صاحب ، جمال عبدالناصر صاحب اور دیگر حضرات حضرت صاحب کی عیادت کے لیے بعد نمازِ مغرب جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے !
١٧ مئی کو فاضل جامعہ مدنیہ جدید مولانا عبدالباسط صاحب مری اسلام آباد سے حضرت صاحب کی عیادت کے لیے بعد نمازِ عصر جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے !
١٨ مئی کو صبح گیارہ بجے دار العلوم رحیمیہ ملتان سے حضرت مولانا عبدالستار صاحب اور مولانا عبدالرحمن صاحب حضرت صاحب کی عیادت کے لیے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے۔ اسی روز فاضل جامعہ مدنیہ جدید مولانا نوید صاحب اور مولانا مقداد صاحب مردان سے حضرت صاحب کی عیادت کے لیے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے !
٢٧ مئی کو جہلم سے فاضل جامعہ مولانا ارسلان صاحب مولانا ابوبکر صاحب کے ہمراہ حضرت صاحب کی عیادت کے لیے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے !




وفیات
٭٭٭
٭ ٧ ذیقعدہ ١٤٤٦ھ / ٥ مئی ٢٠٢٥ء بروز پیر حضرت مولانا غلام محمد صاحب وستانوی رحمة اللہ علیہ طویل علالت کے بعد ہندوستان میں انتقال فرما گئے اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اللہ تعالیٰ نے حضرت کو مسلم بچوں کی تعلیم کے لیے دینی اور عصری تعلیم گاہیں قائم کرنے کا ملکہ عطا فرمایا تھا اللہ تعالیٰ حضرت کی جملہ حسنات کو قبول فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے آمین ۔
٭ ١١ ذیقعدہ ١٤٤٦ھ / ٩ مئی ٢٠٢٥ء بروز جمعہ جامعہ مدنیہ لاہور کے سابق شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی عبدالحمید صاحب سیتاپوری رحمہ اللہ کے داماد ، وکیل صحابہ و اہلِ بیت ، سرپرست اعلیٰ جمعیة علماء اسلام ضلع جہلم، مہتمم مدرسہ اشرفیہ فیض القرآن پنڈ دادنخان حضرت مولانا قاری قیام الدین صاحب رحمة اللہ علیہ طویل علالت کے بعد پنڈ دادنخان ضلع جہلم میں انتقال فرماگئے ۔
٭ ١٤ ذیقعدہ ١٤٤٦ھ /١٢ مئی ٢٠٢٥ء کو سابق ناظم امتحانات وفاق الدارس العربیہ پاکستان ، استاذ الحدیث جامعہ قاسم العلوم ملتان حضرت مولانا مفتی انور شاہ صاحب رحمة اللہ علیہ طویل علالت کے بعد ملتان میں انتقال فرماگئے ۔
٭ ٤ مئی کو جامعہ مدنیہ کریم پارک کے پرانے پڑوسی، حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحب کے خلیفہ حاجی منیر احمد صاحب طویل علالت کے بعد لاہور میں انتقال فرماگئے ۔
٭ ٢٥ مئی کو جامعہ مدنیہ جدید کے مخلص خیر خواہ محترم محمد سرور صاحب مئو کی اہلیہ صاحبہ مختصر علالت کے بعد لاہور میں انتقال فرماگئیں ۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
اللہ تعالیٰ جملہ مرحومین کی مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق نصیب ہو ، آمین ۔ جامعہ مدنیہ جدید اور خانقاہِ حامدیہ میں جملہ مرحومین کے لیے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت کرائی گئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ، آمین




اجتماعی قربانی
٭٭٭
جامعہ مدنیہ جدید میں ہر سال کی طرح اجتماعی قربانی کا انتظام کیا گیا ہے
قربانی میں حصہ لینے والے حضرات جلد رابطہ فرمائیں
گائے فی حصہ 35000 روپے
قربانی کے جانوروں کی کھالیں جامعہ مدنیہ جدید کو دینا مت بھولیے
کھال فروخت کر کے اس کی قیمت بھی جامعہ کو ارسال کی جا سکتی ہے
منجانب
جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد19 کلو میٹر شارع رائیونڈ لاہور پاکستان
03234250027 / 03044587751
03104499997 / 03334506315




جامعہ مدنیہ جدید و مسجد حامد
کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیجیے
٭٭٭
بانی ٔجامعہ حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب رحمہ اللہ نے جامعہ مدنیہ کی وسیع پیمانے پر ترقی کے لیے محمد آباد موضع پاجیاں (رائیونڈ روڈلاہور نزد چوک تبلیغی جلسہ گاہ) پر برلب ِسڑک جامعہ اور خانقاہ کے لیے تقریباً چوبیس ایکڑ رقبہ ١٩٨١ء میں خرید کیا تھا جہاں الحمد للہ تعلیم اور تعمیر دونوں کام بڑے پیمانہ پر جاری ہیں ! جامعہ اور مسجد کی تکمیل محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی طرف سے توفیق عطاء کیے گئے اہلِ خیر حضرات کی دعائوں اور تعاون سے ہوگی، اس مبارک کام میں آپ خود بھی خرچ کیجیے اور اپنے عزیزواقارب کو بھی ترغیب دیجیے ! ایک اندازے کے مطابق مسجد میں ایک نمازی کی جگہ پر پندرہ ہزار روپے(15000) لاگت آئے گی،حسب ِاستطاعت زیادہ سے زیادہ نمازیوں کی جگہ بنوا کر صدقہ ٔ جاریہ کا سامان فرمائیں !
منجانب
سیّد محمود میاں مہتمم جامعہ مدنیہ جدید و اراکین اورخدام خانقاہ ِحامدیہ




خطوط ،عطیات اور چیک بھیجنے کے لیے
٭٭٭
سیّد محمود میاں '' جامعہ مدنیہ جدید'' محمد آباد 19 کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور
923334249302+ 923334249301+
923234250027+ 923454036960+

Have a question?

Email us your queries on jamiamadniajadeed@gmail.com you will be answered in less than 24 hours or Give us a call directly at +92 333 4249302, +92 333 4249 301.