ماہنامہ انوار مدينہ <br> جلد : ٢٣ جمادی الاوّل ١٤٣٦ھ / مارچ ٢٠١٥ء شمارہ : ٣ <br> ٭٭٭ <br> سیّد محمود میاں مُدیر اعلٰی <br> سیّد مسعود میاں نائب مُدیر <br> ٭٭٭ <br> بدلِ اشتراک <br> پاکستان فی پرچہ 25 روپے ....... سالانہ 300 روپے <br> سعودی عرب،متحدہ عرب امارات..... سالانہ 50 ریال <br> بھارت ،بنگلہ دیش ........... سالانہ 13 امریکی ڈالر <br> برطانیہ،اَفریقہ ....................... سالانہ 13 ڈالر <br> اَمریکہ ............................... سالانہ 16 ڈالر <br> جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ اور اِی میل ایڈ ریس <br> www.jamiamadniajadeed.org <br> E-mail: jmj786_56@hotmail.com <br> ترسیل ِزر و رابطہ کے لیے <br> '' جامعہ مدنیہ جدید'' محمد آباد19 کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور <br> اکاؤنٹ نمبر انوارِ مدینہ <br> 0095402010079142 <br> <br> مسلم کمرشل بنک کريم پارک برانچ راوي روڈ لاہور(آن لائن) <br> رابطہ نمبر : 04237726702 , 03334249302 <br> جامعہ مدنیہ جدید (فیکس) : 04235330311 <br> خانقاہِ حامدیہ : 04235330310 <br> فون / فیکس : 04237703662 <br> موبائل نمبر : 03334249301 <br> مولاناسیّد رشید میاں صاحب طابع وناشر نے شرکت پرنٹنگ پریس لاہور سے چھپواکر <br> دفتر ماہنامہ ''اَنوارِ مدینہ '' نزد جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور سے شائع کیا <br> اس شمارے میں <br> حرفِ آغاز ٤ <br> درسِ حدیث حضرت اَقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ٢٢ <br> آفاقی دین ........... صرف اِسلام حضرت اَقدس مولانا سیّد محمد میاں صاحب ٢٨ <br> اِسلام کیا ہے ؟ حضرت مولانا محمد منظور صاحب نعمانی ٤٦ <br> پیارے بچوں کے لیے قرآن کے پیارے قصے حضرت مولانا شیخ مصطفٰی صاحب وہبہ ٤٩ <br> کیارُوحیں حاضرکی جا سکتی ہیں ؟ حضرت مولانا اَشرف علی صاحب تھانوی ٥١ <br> تم کو کہاں ملیں گے بمبار مدرسوں میں جناب مولانا کوثر صاحب سہارنپوری ٥٩ <br> اَخبار الجامعہ ٦٢ <br> وفیات ٦٣ <br> قارئین اَنوارِمدینہ کی خدمت میں اپیل <br> ماہنامہ اَنوارِ مدینہ کے ممبر حضرات جن کو مستقل طورپر رسالہ اِرسال کیا جارہا ہے لیکن عرصہ سے اُن کے واجبات موصول نہیں ہوئے اُن کی خدمت میں گزارش ہے کہ اَنوارِ مدینہ ایک دینی رسالہ ہے جو ایک دینی اِدارہ سے وابستہ ہے اِس کا فائدہ طرفین کا فائدہ ہے اَور اِس کا نقصان طرفین کا نقصان ہے اِس لیے آپ سے گزارش ہے کہ اِس رسالہ کی سرپرستی فرماتے ہوئے اَپنا چندہ بھی اِرسال فرمادیں اَوردیگر اَحباب کوبھی اِس کی خریداری کی طرف متوجہ فرمائیں تاکہ جہاں اِس سے اِدارہ کو فائدہ ہو وہاں آپ کے لیے بھی صدقہ جاریہ بن سکے۔(اِدارہ) <br> حرف آغاز <br> نَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِےْمِ اَمَّابَعْدُ ! <br> پشاور کے آرمی پبلک سکول کے حادثہ کے بعد مقتدر اِداروں کی طرف سے دو ٹوک اَنداز میں فیصلہ صادر کیا گیا تھا کہ <br> '' اچھے برے طالبان کا فرق ختم،اَب سب ہی برے شمار کیے جائیں گے '' <br> اِس حتمی خارجہ پالیسی کے فورًا بعد صاحب بہادر اَمریکہ کی جانب سے گرجدار اِصلاحی بیان صادر ہوا کہ '' اچھے برے طالبان میں فرق کیا جائے گا '' <br> اَمریکہ کے اِس بیان کے بعد حکومت ِپاکستان کی طرف سے کسی قسم کا ردّعمل تاحال سامنے نہیں آیا بلکہ اچھے برے طالبان کا فرق ختم کر دینے کے حتمی فیصلہ کے بعد ٢١فروری کے قومی جرائد میں اِس فیصلہ کے برعکس جلی سُرخی سے یہ خبر شائع ہوئی کہ <br> '' اَفغان حکومت اور طالبان میں سہولت کار بننے کو تیار ہیں '' <br> اِس خبر کو پڑھ کر بچہ بھی اِس بات کا اِدراک کر سکتا ہے کہ پاکستان کی داخلہ و خارجہ پالیسی اپنا حافظہ کھو بیٹھی ہے اور اپنی بودی پالیسیوں کی وجہ سے بحرانوں پر قابو پانے کے بجائے مزید بحرانوں کو جنم دیتی چلی جا رہی ہے۔ <br> ہم اِس پر اپنی طرف سے مزید کچھ لکھنے کے بجائے مناسب خیال کرتے ہیں کہ کراچی کے ''ماہنامہ بینات '' میں اَمیر جمعیت علمائے اِسلام حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہم کی طبع ہونے والی تقریر قدرے اِختصار کے ساتھ شائع کر دی جائے جس میں حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہم نے موجودہ ملکی اور بین الاقوامی بحرانوں کا پس ِ منظر اور پیش منظر بیان کر کے نہایت مفید تجزیے کیے ہیں ۔ <br> مدارس واہلِ مدارس کی کردارکُشی کیوں ؟ <br> میرے محترم دوستو ! کوئی اِس خدمت کی قدر کرے یا نہ کرے، ہم اَمریکہ اور بین الاقوامی قوتوں سے درخواست نہیں کر رہے کہ آپ اِن مدارس کی قدر کریں ، ہم اپنے ملک کے حکمرانوں سے بھی نہیں کہتے کہ اَز راہِ کرم آپ اِن مدارس کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں لیکن ہم اپنی قوم سے اوراِس دھرتی کے مسلمانوں سے ضروریہ اِلتماس کرتے ہیں کہ اِن مدارس کی قدر کو جانو۔ آج دُنیا میں اِسلام کے خلاف پروپیگنڈے ہو رہے ہیں ۔ یاد رکھیے ! قرآنِ کریم کے خلاف براہِ راست گفتگو نہیں کی جاسکتی اور شاید اللہ کے دین کو براہ ِراست تنقید کا نشانہ بنانابھی اُن کے لیے ممکن نہ ہو، لہٰذا جو دین والے ہیں اور دین کی خدمت کر تے ہیں اور دینی علوم سے وابستہ ہیں ، اُن کی کوئی بھی اِنسانی کمزوری مِل جائے تو بات کا بتنگڑ بنا کر پیش کر دیتے ہیں تا کہ دین کا کام کرنے والوں کی کردار کشی ہو تو دین کا کام خود بخود رُکے گا۔ میں اُن کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ آپ کا پہلا حربہ نہیں ، جب وحی اُتاری جا رہی تھی تب بھی تو شیطان کی فوج نے اور شیطانی قوتوں نے یہ کوشش کی تھی، اللہ کی اِس اَمانت کو جو آسمانِ دُنیا سے رُوئے زمین پر لانے والی شخصیت حضرت جبریل علیہ السلام کو بھی تو مجروح کیا گیا تھا کہ اِتنی دُور سے اور اِتنے طویل فاصلوں سے ایک ایک لفظ کو صحیح صحیح اور ترتیب کے ساتھ لانا کیسے ممکن ہے ؟ یقینا اِس میں کہیں ردّوبدل ہوا ہوگا، اُن کا خیال تھا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کی اِس خدمت کو مشکوک بنا دیا جائے تو وحی پر اِعتماد اُٹھ جا ئے گا لیکن رب العزت نے اُن لوگوں کے اِس پروپیگنڈے کو رد کرتے ہوئے فرمایا : <br> ( اِنَّہ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ، ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ ، مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ ) (سُورة التکویر: ١٩ـ٢١) <br> کہ یہ کسی عام آدمی کی بات نہیں ہے، ایک محترم پیغام رساں کی بات ہے ، ایسا محترم پیغام رساں جو اپنی ذات میں طاقتوراور عرش والے کے ساتھ رہتا ہے اور عرش والے کی رفاقت اُسے نصیب ہے اورمعمولی شخصیت نہیں ہے۔ ''مُطَاعٍ'' اکیلے نہیں آرہا، ملائکہ کے حفاظتی دستے اُس کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ،کوئی شیطانی حربہ اِس اَمانت پر ہا تھ ڈالنے کی جرأت نہیں کرسکتا ، '' ثَمَّ أَمِیْنٍ'' اپنی ذات میں بھی وہ اَمانت دار، اپنی ذات میں بھی وہ محترم اور خارجی لحاظ سے اُس کی نسبت بھی اِتنی عظیم کہ تمام زندگی عرش والے کے پڑوس میں رہا اور پھرملائکہ کی صورت میں حفاظتی دستے بھی ساتھ ساتھ آرہے ہیں ، لہٰذامطمئن رہو کہ جو کلام ہم نازل کر رہے ہیں اُس کا ایک ایک لفظ ،زبر، زیر اور ترتیب کے ساتھ محفوظ ہے اور اِس میں کسی بھی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ۔ <br> جب اِن شیطانی قوتوں کی یہ سازش ناکام ہو گئی تو پھر جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی ذات کو نشانہ بنایا، چونکہ اُس زمانہ میں شعر و اَدب عروج پر تھا، شعراء کی فصاحت و بلاغت دُنیا میں رواج پا چکی تھی اور ہر شخص عرب شعراء کے کمال کا معترف تھا اِس لیے یہ پروپیگنڈا کردیا کہ فصیح و بلیغ کلا م سنانا کون سی بڑی بات ہے ؟ یہ تو ہمارے شعراء بھی سناتے ہیں لہٰذا یہ بھی کوئی شاعر ہی ہوگا اور یہ معجزات تو کوئی جا دُو گری معلوم ہوتی ہے، اُس معاشرے میں جا دُوگری اور شاعری کوئی بڑی بات نہیں تھی، وہاں آسمانی شیطان، ملائکہ کے خلاف پرو پیگنڈا کر رہے تھے اوریہاں زمینی شیطان،جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے خلاف پرو پیگنڈا کر رہے تھے ،اللہ تعالیٰ نے اِس پروپیگنڈے کو بھی رد کرتے ہوئے فرمایا : <br> ( اِنَّہ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ، وَّمَا ھُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ، قَلِیْلاً مَّا تُؤْمِنُوْنَ ، وَ لَا بِقَوْلِ کَاھِنٍ ط قَلِیْلاً مَّا تَذَکَّرُوْنَ ، تَنْزِیْل مِّنْ رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ۔)( الحاقة : ٤٠ـ٤٣) <br> یعنی اُسے کسی عام آدمی کی بات نہ سمجھو، یہ بڑی محترم شخصیت کی بات ہے، جو نہ شاعر ہیں نہ جادُوگر اورجو کچھ وہ بیان کر رہے ہیں ، وہ رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ <br> جب اِس وحی کو نازل کرنے والی ذات کو اور جس مبارک شخصیت پر یہ وحی نازل ہوئی، اُن کو بھی نہیں بخشا گیا تو پھر آپ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ آج کے اِس دور میں آپ کو بخشا جائے گا ! <br> حق وباطل کی دائمی کشمکش اور موجودہ حالات : <br> یہ حق اور با طل کی لڑائی تو قیامت تک چلے گی، جب اِنسان پیدا ہوا تو ساتھ ہی حق اور باطل بھی پیدا ہوئے ہیں ، اور دین اِسلام اور قرآنِ کریم پر اِسی طرح چودہ سو سال گزر ے ہیں ، تاریخ اِسلام میں کتنے بڑے بڑے واقعات رُونما ہوئے، حکومتیں ملیا میٹ ہوئیں ، کتب خانے جلا دیے گئے۔ کہاجاتاہے کہ سب سے بڑا اورمضبوط نگران حکومت ِوقت ہوا کرتی ہے تو ایسی کیفیت پیدا ہوئی کہ حکومت ِوقت کی نگرانی کا تصور بھی ختم ہو گیا، اِن تمام حالات سے اللہ کایہ کلام گزرا ہے لیکن جیسے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے اُمت کے حوالے کیا تھا آج بھی اپنے اُن ہی الفاظ اور اُسی ترتیب کے ساتھ موجود ہے۔ یہ کشمکش کا دور چلتا رہاہے اور چلتا رہے گا، مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں اِن مدارس کی بنیاد اِخلاص کے ساتھ اورقرآن وحدیث کی خدمت کے جذبے سے ڈالی گئی ہے اور جس چیز کی بنیاد اِخلاص سے ڈالی جائے، اُس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا اِرشاد ہے : <br> ( لَمَسْجِد اُسِّسَ عَلٰی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْہِ) (التوبة: ١٠٨) <br> ''اَلبتہ وہ مسجدجس کی بنیادپہلے دِن سے تقویٰ پررکھی گئی ہے، وہ اِس بات کی زیادہ حقدارہے کہ تم اُس میں کھڑے ہو۔'' <br> ہم جانتے ہیں کہ دُنیا میں کیا کیا باتیں ہو رہی ہیں اور مختلف واقعات کو دین اِسلام اور اُخوتِ اِسلام کے خلاف کس طرح اِستعمال کیا جاتا ہے۔ <br> کفار کا فوری ردّعمل : <br> نائن الیون کا واقعہ ہوا تو پہلے سے دماغوں میں بنا ہوا(سازشی) ذہن اُچھل کر باہر آیا، سوچا نہیں کہ ہم نے اِس پرکیا ردّ عمل دینا ہے، اِس واقعے پر دُنیا کے سامنے فوری ردّ عمل یہ سامنے آیا کہ صلیبی جنگ شروع ہوگئی یعنی ہم نے مسیحیت کی طرف سے اِسلام اور اہلِ اِسلام کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا، کسی نے سمجھایا کہ تم نے یہ کیا کہہ دیا ؟ اِس سے دُنیامیں تمہارا اِمیج خراب ہوگیا ہے۔ <br> تب اَیجنڈے کا دُوسرا درجہ بیان کیا کہ دُنیا میں تہذیبوں کی جنگ شروع ہو گئی ہے پھر کسی نے سمجھایا کہ یہ کیا کہہ دیا ؟ اِسلام اور اُمت ِمسلمہ تو اپنی تہذیب پر جان بھی دے دیتی ہے ۔ <br> تو پھر تیسرے مرحلے میں یہ بیان جاری کیا گیا کہ یہ جنگ دہشت گردی کے خلاف ہے اور اِس واقعہ کو اِسلام اور اُمت ِمسلمہ کے خلاف اِستعمال کیاگیا۔ <br> ''نیٹو ''کے عزائم : <br> آپ کے علم میں یہ بات ہونی چا ہیے کہ یہ واقعہ ٢٠٠١ء میں ہوا جبکہ ٢٠٠٢ء میں فرانس میں نیٹو کا اِجلاس ہوا جس کے اَیجنڈے میں تھا کہ ١٩٤٩ء میں ٢٨ یورپی ممالک پر مشتمل نیٹو اِس لیے قائم ہوئی تھی تا کہ سوویت یونین کی توسیع پسندی کو روکا جائے اور اُس کے خلاف یورپ کا ایک د فاعی اِدارہ ہو، چونکہ وہ مقصد حاصل ہوگیااِس لیے اَب نیٹو تحلیل ہو جانی چاہیے لیکن فورًا کہا گیا کہ نہیں ! ابھی اِسلا م اور مسلمان ہمارے لیے چیلنج ہیں لہٰذا یہ اِتحاد برقرار رہنا چاہیے۔ <br> ترقی پزیر دُنیا کا جغرافیہ : <br> پھر اَمریکہ کی طرف سے یہ بات سامنے آئی کہ ترقی پذیر ممالک کی جغرافیائی حدود حتمی نہیں ہیں اور یہ بیان بھی آیا کہ بیسویں صدی برطانیہ کی تھی اور دُنیا کی جغرافیائی تقسیم برطانیہ کے مفادات کے تابع تھی، اَب اِکیسویں صدی ہماری ہے لہٰذا دُنیا کی جغرافیائی تقسیم بھی ہمارے مفادات کے تابع ہوگی۔ اُنہوں نے اپنا پورا اَیجنڈا آپ پر واضح کر کے دیا ہے لیکن پھر بھی ہم لوگ پریشان ہو جاتے ہیں اور ہمیں اپنے مؤقف کے بارے میں تردّد ہوجاتا ہے۔ <br> اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِسلامی دُنیا کے حکمران اُمت ِمسلمہ کاساتھ نہیں دے سکتے، اُن کی اپنی مجبوریاں ہیں وہ اَمریکہ اور اُس کے اِتحادیوں کا ساتھ دے رہے ہیں لہٰذا جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں ، چاہے اَفغانستان کی صورتِ حال ہو یا عراق ، شام،لیبیا اور یمن کے حالات، اِن سب چیزوں کو آپ اِس پہلو سے ضرور دیکھیں کہ کہیں یہ ترقی پذیر دُنیا کی نئی جغرافیائی تقسیم کا پہلا مرحلہ تو نہیں ! ! ! <br> جب ٢٠١٠ء میں اَمریکہ کی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے بیان دے دیا تھا کہ ہم نئی مشرقِ وسطیٰ تشکیل دیں گے، آج ہم مشرقِ وسطیٰ میں جو منظر دیکھ رہے ہیں ، کیا ہم اِس کو نئے مشرقِ وسطیٰ کی تشکیل کے اُس اِرادہ و عزم سے الگ اوراُس سے لا تعلق کر سکتے ہیں ؟ <br> وطن ِعزیز کو دَر پیش صورتِ حال : <br> ہمارے اہلِ علم کو دُنیاکے اُن حالات کو ضرور مد نظر رکھنا چاہیے کہ دُنیا کا اَیجنڈا کیاہے ؟ اور اِس کے لیے کس چیز کو تباہ کیا جا رہا ہے ؟ اُس کا نشانہ اِسلام اور مسلمان کیوں ہیں ؟ <br> میں پارلیمنٹ میں کہہ چکا ہوں اور اپنے حکمرانوں کو بھی متنبہ کرتا ہوں کہ اگراُن کا اَیجنڈا یہ ہے کہ نئی جغرافیائی تقسیم مقصود ہے تو پھر پاکستان کے مغرب میں ٢٣٠٠ کلومیٹر کی اَفغانستان سے وابستہ پوری سرحد کوسرحد نہیں کہا جا رہا بلکہ آج بھی ''ڈیورینڈ لائن'' سے موسوم ہے، دُنیا کی کتابوں میں ''پاک اَفغان بارڈر'' موسوم نہیں ہے، دُوسری طرف مشرقی سرحد کو آپ دیکھیں ، کشمیر کی طویل ترین سرحد کو بھی ''کنٹرول لائن'' کہا جا رہا ہے، وہ بھی صرف لا ئن ہے، آپ کا بارڈر نہیں ہے اوراَقوامِ متحدہ کے قانون کے تحت متنازعہ علاقہ ہے۔جب ہماری مغربی اورمشرقی سرحدوں کا یہ عالَم ہے تو پھراِس وقت ایشیا میں اِس بین الاقوامی اَیجنڈے کا آسان ترین نشانہ پاکستان کے علاوہ اور کون ہو سکے گا ؟ آپ اِن چیزوں کو کیوں نہیں سوچ رہے ؟ اِس حدتک دبائو میں کیوں جارہے ہیں ؟ <br> موجودہ حالات کا ذمہ دار کون ؟ <br> اور میں آج آپ حضرات کے سامنے بھی وضاحت کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ دُنیا میں جنگ ہماری ضرورت نہیں ،یہ جنگ آپ کی طرف سے ہے، یہ جنگ آپ کے اَیجنڈے کی تکمیل کر رہی ہے، یہ مسلمانوں کے اَیجنڈے کی تکمیل نہیں اور جنگ یکطرفہ نہیں لڑی جاتی بلکہ اُس کے لیے دُشمن بھی چاہیے ، اگر ہمارے ماحول میں '' شدت پسندی''یا جسے آپ ''دہشت گردی'' کہتے ہیں ، اُس کا ما حول موجود ہے تو یہ بھی آپ کی ضرورت اورآپ کا پیدا کردہ ہے ،یہ مسلمانوں کا پیدا کردہ ماحول نہیں ہے ۔ <br> عسکری گروپ کس نے بنائے : <br> آپ مدار س کی بات کرتے ہیں تو مدارس تو دُور کی بات ہے، یہ مدارس آپ کے لیے آسان نشانہ بن گئے ہیں ، حقیقت توہم جانتے ہیں ، لیکن ابھی ہم اِس بحث کو نہیں کھولنا چاہتے کہ یہ عسکری جتھے کس نے بنائے ؟ میرا ایک طالب علم جس کا نام فلاں ولد فلاں تھا، اُس کو ترغیبات کس نے دیں ؟ جہاد ِاَفغانستان کی ترغیبات کس نے دیں ؟ جنگ کی تربیت کس نے دی ؟ کلاشنکوف کی تربیت کس نے دی ؟ راکٹ لانچر کی تربیت کس نے دی ؟ بم بنانے کی تربیت کس نے دی ؟ بم پھاڑنے کی تربیت کس نے دی ؟ یہ سارے اعلیٰ ترین جنگی وسائل کس نے سکھائے ؟ اور اُس غریب طالب ِعلم کو جو فلاں اِبن فلاں کے نام سے کسی مدرسے سے نکلا یا کسی تعلیمی اِدارہ سے نکلایا ہماری سوسائٹی سے نکلا، آگے جاکر اُس غیر فوجی کو فوجی ٹریننگ اور جنگی تربیت کس نے عطا کی ؟ اور پھر بھی بڑی آسانی سے کہہ دیا کہ یہ مدرسہ سے فارغ ہے اوراِس کا اِلزا م مدرسہ پر لگایا جارہا ہے۔ <br> پھانسیاں پانے والے اور حملہ آور کون ہیں : <br> میں نے اُس دن آل پارٹیزکانفرنس میں بھی اور پارلیمنٹ میں بھی یہ بات کھل کر کہی ہے کہ دبائو صرف مدارس پر کیوں ہے ؟ آپ کے نیشنل ایکشن پلان میں مدرسے کی رجسٹریشن اور اُس کی ضابطہ بندی کا لفظ کیوں لکھا گیا ہے ؟ یہ جو آج کل آپ پھانسیوں پر پھانسیاں دے رہے ہیں ، ذرا بتائیے کہ اُن میں مدرسہ کا کون سا طالب علم ہے ؟ یہ دہشت گردی حملہ میں ملوث لوگ کون ہیں جن کو آپ پھانسیاں دے رہے ہیں ؟ جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والوں میں مدرسے والا کون ہے ؟ مہران ائیر بیس پر حملہ کرنے والوں میں کون سا مدرسے کا طالب علم ہے ؟ کامرہ ائیر بیس پر حملہ کرنے والوں اور پشاور ائیر بیس پر حملہ کرنے والوں میں سے کوئی ایک تو بتا ئو کہ کون سا مدرسہ کا طالب علم ہے ؟ نشان دہی تو کردو۔ اِس طرح تو نہ کرو کہ ''(جنگی تربیت دینے والا فوجی)اُستادتوبے گناہ ہوا اور شاگرد گناہگار ہو گیا'' اوراَب شاگرد کو ذبح کیا جا رہا ہے اورکہا جارہا ہے کہ شاگرد نے سب کچھ کیا، میں نے کچھ نہیں کیا اور مجھے تو پتہ بھی نہیں تھا، میں تو کسی تنظیم کو نہیں جانتا ، دامن صاف ! <br> رِند کے رِند رہے، ہاتھ سے جنت نہ گئی <br> مدرسہ کی رجسٹریشن اور مالیاتی نظام : <br> اِنصاف سے کام لیا جائے جس وقت یہ بحث آئی تو ہم نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن کا لفظ کس لیے لکھا ہے ؟ <br> کہنے لگے کہ جی ! بہت سے مدارس جو بغیر رجسٹریشن کے ہیں ۔ <br> میں نے کہا : حکومت کے درمیان اِس قسم کے قانون کی ترمیم پر اِتفاق ہو گیا تھا، آپ لوگ کبھی سوال اُٹھاتے ہیں کہ مدارس میں پیسہ کہا ں سے آتا ہے ؟ تو اُس میں فنڈ کا معاملہ مالیاتی نظام طے کردیے گئے تھے۔ <br> آپ کہتے ہیں کہ مدارس کا نصاب دہشت گردی اور اِنتہا پسندی سکھاتا ہے، تواُس میں مدارس کے نصابِ تعلیم پربھی اِتفاق کیا گیا کہ یہ نصابِ تعلیم کوئی اِنتہا پسندی نہیں پھیلارہا۔ <br> مدارس کا تنظیمی ڈھانچہ کیا ہوگا ؟ یہ واضح کیا گیا ۔ <br> اور اِس اِتفاقِ رائے کے بعد ٢٠٠٥ء میں تر میمی آرڈیننس آیا جس کی قانون سازی مرکز اور صوبوں میں ہوئی، اَب کون سی آفات بیچ میں آگئی ہیں کہ دوبارہ قانون سازی کی ضرورت پیش آگئی ؟ <br> آپس میں کون لڑ رہا ہے : <br> میں نے ایک اور بات بھی کہی کہ ہر وقت آپ لوگوں کے نشانہ پر مذہبی لوگ ہوتے ہیں کہ یہ مذہبی لوگ آپس میں لڑ رہے ہیں ، آپس میں ایک دُوسرے کا خون بہارہے ہیں ، تفرقہ اور نفرت پھیلا رہے ہیں ، وغیرہ وغیرہ ۔ <br> میں نے کہا کہ لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ کے نعرے پر اور اِسلام اور مسلمانوں کے لیے٦٧سال پہلے ایک پاکستان قائم ہوا تھا، اُس کے بعد اِس ملک کے اَندرد اخلی جغرافیائی اُکھاڑ پچھاڑمیں کبھی کسی شیعہ نے کہا کہ مجھے اپنا صوبہ دو ؟ کبھی کسی سنی نے کہا کہ مجھے اپنا صوبہ دو میں اِن کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا ؟ کبھی کسی دیوبندی نے کہا کہ اِس علاقہ کا ڈویژن دیوبندیوں کا ہونا چاہیے ؟ کبھی کسی بریلوی نے کہا کہ فلاں ضلع بریلویوں کے نام کرو ؟ لیکن یہ مہاجر سندھی کا سوال پیدا کرنا، سرائیکی اورپنچابی کا سوال پید ا کرنا، پختون بلوچ کا سوال پیدا کرنا، یہ ہزارہ اور پختون کا سوال پیدا کرنا، یہ سب آپ حضرات کی کارستانیاں نہیں ہیں ؟ یہ بنگال لسانیت کی بنیاد پر نہیں ٹوٹا ؟ آپ کے نعروں سے نفرتیں پیدا ہورہی ہیں ، حقوق کے نام پر تعصب پیدا کر رہے ہو، ملک کو اَند ر سے توڑ رہے ہو، کبھی لسانیت کی بنیاد پر صوبہ کا، کبھی ملک کا نعرہ اور کبھی ملک سے آزادی کے نعرے، کبھی ملک کو اَندر سے جغرافیائی طور پر تقسیم کرنا، یہ ساری آپ کی کارستانیاں ہیں ، ملک کے اَندر کی جغرافیائی اُکھاڑ پچھاڑ کے آپ ہی ذمہ دار ہیں اور آپ ہی اِس کے نعرے لگاتے ہیں ، کبھی کسی مذہبی آدمی نے کہا ہے کہ ملک کو میرے عقیدے اور فکر کی بنیاد پر تقسیم کردو ؟ <br> آج تک قانون سازی کیوں نہیں ہوئی : <br> میں نے کہا : اِس لیے لڑتے ہیں کہ قانون سازی نہیں ہے ،حدود متعین نہیں ہیں ، محرم میں فوج کو لے آتے ہو، راستوں میں کھڑا کر دیتے ہو، قیام ِاَمن کے لیے شہر کو فوج کے حوالہ کردیا، رینجرز کے حوالہ کردیا، اِس حوالے سے قانون سازی کیوں نہیں کر رہے ؟ تاکہ اگر کوئی مکتبہ فکر یا کوئی فرقہ اپنا ایک غلط یا صحیح تہوار مناتا ہے تو اُس کی حدود تو متعین ہوں ، کسی دُوسرے کو تکلیف تو نہ دے، ایک دُوسرے کی دِل آزاری تو نہ کرے، لیکن سڑسٹھ سال گزر گئے اور آپ نے اِس سلسلے میں قانون سازی نہیں کی۔ میلاد کا جلوس آتا ہے، اَمن و اَمان کا مسئلہ پیدا ہو گیا، شہر فوج کے حوالہ کردیا، رینجرز کے حوالہ کردیا ،فلاں فلاں علاقے حساس قرار دے دیے گئے اور پھروہ جلوس خیر خیریت سے گزر جاتا ہے مگر قانون سازی نہیں ہوتی۔ اور تو چھوڑیں ، یہ رئویت ہلال کمیٹی کو دیکھیں ،میں نے ایک مولوی صاحب سے کہا کہ اِس کمیٹی کی حیثیت قاضی کی ہے اوریہ جو فیصلہ دے گی تو اُس کا فیصلہ حتمی ہوگا اور ہم پر اُس کاماننا لازم ہوگا، اُنہوں نے کہا : اگر یہ قاضی ہے تو قاضی کا فیصلہ کوئی نہ مانے تو اُس کو سزا ہوتی ہے یا نہیں ؟ میں نے کہا : سزا توہوتی ہے ،کہنے لگے: بتائو قانون کہاں ہے ؟ میں نے کہا کہ قانون تو نہیں ہے۔ کہنے لگے کہ قانون نہیں تو پھر یہ قاضی نہیں ۔ اور کیوں قانون سازی نہیں ہورہی ؟ <br> تاکہ جب بھی کوئی فساد ہو تو مذہب کی طرف لوگو ں کی اُنگلیاں اُٹھیں ، کیا ریاست نے اپنی کوئی ذمہ داری پوری نہیں کرنی ؟ ٦٧ سال ہوگئے کہ اِن فتنوں سے ہم گزر رہے ہیں ۔ <br> اِکیسواں ترمیمی بل ..... ہمارا مؤقف اور تحفظات : <br> چنددن قبل پنجاب کے وزیر ِاَعلیٰ صاحب میرے پاس آئے اور مجھے کہا کہ جی مساجد کو خود حکومت کنٹرول کرنا چاہتی ہے، یہاں سے فساد پیدا ہوتا ہے۔ <br> میں نے کہا : حضرت ! میں گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ پھرآپ کا اَفسر جاکر کسی مولوی کے کان میں یہ نہ کہے کہ مولوی صاحب ! آج ذرا تقریر ٹھوک کر کرنی ہے، یہ فلاں محلے کا دُوسرا مولوی بڑا بدمعاش ہوگیا ہے، آپ کے خلاف بولتا ہے، میرے مولوی کو شدید تقریر پر آمادہ بھی تو آپ لوگ کرتے ہیں ، تمہاری ایجنسیاں کرتی ہیں ، فسادات تو آپ لوگ پھیلاتے ہیں ، آپ خدا کے لیے ہمیں نہ لڑائیں ، ہم تو نہیں لڑنا چاہتے، آپ لوگ اپنا فرض تو اَدا کریں ۔ <br> ١٩٥١ء کی اِسلامی نفاذ کی تحریک سے لے کر ایم ایم اے تک تمام مکاتب ِفکر کی قیادت نے قومی وحدت پر کام کیا ہے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے کام کیا ہے، ریاست اپنا فرض تو اَدا کرے، لیکن وہ نہیں کرنا۔ <br> پھر کہا گیا کہ ہر وہ مسلح تنظیم جوریاست کے خلاف اسلحہ اُٹھائے اور مذہب یا فرقے کا نام لے،اُسے ملٹری کورٹ میں پیش کیا جائے۔ <br> ہم نے کہا : دہشت گردی، دہشت گردی ہوتی ہے، اُس سے مذہب کا کیا تعلق ہے ؟ اُس سے قومیت کا کیا تعلق ہے ؟ کہتے ہیں : نہیں ، یہ جو پشاور کا واقعہ ہوا ہے۔ <br> میں نے کہا : آپ یہ بتائیں کہ قانون کسی اُصول کے تحت بنتا ہے یا کسی واقعہ کی بنیاد پر بنتا ہے ؟ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا توکیا دہشت گردی نہیں ہورہی ؟ چلو ایک واقعہ ہو گیا، اُس واقعے سے لوگوں کے جذبات بھڑک اُٹھے، بڑے معصوم بچے اُس میں شہید ہوگئے، پورا صوبہ ہزارہ اور مالا کنڈ سے لے کر ڈیرہ اِسماعیل خان اور مردان تک کے بچے وہاں پڑھ رہے تھے، ہماری اپنی جماعت کے بہت سارے لوگوں کے بچے وہاں پڑھ رہے تھے، کچھ شہید ہو گئے، کچھ زخمی ہو گئے، یقینًا اِس پر ہم سب کو ناراضگی ہے، اَب اگر آپ قانون بناتے ہیں توقانون ضرور بنائیں لیکن دو چیزیں مد نظر ہونی چاہئیں ، ایک قانون کے اَندر جامعیت ہو، جو اُس موضوع کے ہر پہلو کا اِحاطہ کرے،اور دُوسری چیز یہ کہ اُس قانون کے اِمتیازی طور پراِستعمال کے اِحتمال کو ختم کیا جائے۔ <br> تحفظِ پاکستان آرڈیننس آیا تو ہم نے اُس وقت بھی یہی کہا کہ یہ کسی کے خلاف ناجائز اِستعمال نہ ہو، جو دہشت گرد ہے ملکی قانون کو توڑتا ہے اور ریاست کے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے اُس کو سزا ملے۔ اَب جناب ! اِس پر لڑائی شروع ہو گئی، ہم ڈٹ گئے کہ نہیں ! یہ اِمتیازی قانون ہے، عموماً ایک قانون بن جاتا ہے تو اُس کے بننے کے بعد یہ اِحتمال ہو تا ہے کہ یہ اِمتیازی اِستعمال ہو رہا ہے یا ہوسکتا ہے، یہاں تو یہ قانون اپنے مسودہ میں چیخ چیخ کر خود پکارتا ہے کہ میں نے اِمتیازی اِستعمال ہونا ہے۔ <br> ہم دہشت گردی کے حامی نہیں : <br> یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ شاید ہم مذہبی دہشت گردوں کو یامذہب کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کو بچا رہے ہیں ۔ <br> میں نے کہا : ایسا نہیں ہے، اگر یہ لکھا گیا کہ ''ہر وہ مسلح تنظیم جو ریاست کے خلاف اسلحہ اُٹھائے اور لسانیت کا نام لے'' تومیں اُس کی مخالفت کرو ں گا کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ اِس قانون نے کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف اِمتیازی طور پر اِستعمال ہونا ہے، لہٰذا ہماری بات کو سمجھا جائے، بات چلتی گئی۔ <br> ہم نے کہا کہ اگر مذہب اور فرقہ کانام(کاٹنا نہیں چاہتے اور) کاٹنے کا آپ یہ معنی لیتے ہیں کہ ہم مذہب کے نام پر دہشت گردوں کو تحفظ دے رہے ہیں توہم اِس سے دست بردار ہوجاتے ہیں ، لیکن پھر آگے اِس کے ساتھ یہ بھی لکھیں کہ مذہب کا نام اِستعمال کرے یا فرقہ کا اِستعمال کرے یا لسانیت ، نسل پرستی ،قومیت یا علاقائیت کانام اِستعمال کرے، یہ ساری چیزیں بھی لکھیں اور میں نے یہ باتیں اِس لیے کہیں کہ خود آئین کے اَندر جدولی جرائم کی فہرست میں ہے کہ نسل، عقیدہ، قومیت، برادری اور علاقائیت پر مبنی تعصبات جرائم تصور کیے جائیں گے لہٰذا آئین کے اِن ہی الفاظ کو لے کریہاں لگا دیاجائے تو کوئی یہ نہیں کہے گا کہ یہ آئین سے باہرکا کوئی تصور ہے جس کو آپ نے آئین کا حصہ بنا دیا ہے۔ اَب یہ بات بھی اگر نہیں مانی جارہی تو ہم کہاں جائیں ؟ <br> علماء کی سیاست سے کنارہ کشی اور اُس کا نقصان : <br> ہم دیکھ رہے ہیں کہ پورے ملک میں مدارس پر چھاپے لگ رہے ہیں ، کتب خانوں پر چھاپے لگ رہے ہیں ، دو سال پہلے کسی نے تقریر کی ہے تو آج اُس کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جارہی ہے، علماء گرفتار ہورہے ہیں ، ہمیں نظر آرہا ہے کہ یہ قانون اِمتیازی اِستعمال ہو رہا ہے۔ <br> کہنے لگے کہ آپ ایسی بات کیوں کر رہے ہیں کہ خدانخواستہ یہ مذہب کے خلاف اِستعمال ہوگا ؟ <br> میں نے کہا کہ بنگلہ دیش کو جاکر دیکھو، چوالیس سال پہلے آپ نے اپنے وہاں پر قدم مبارک رکھے تھے، اُس کی برکات آج بھی ظاہر ہو رہی ہیں ، روز کسی نہ کسی کی پھانسی کا آرڈر کیا جارہا ہے، مذہب کے نام پرسیاست پر پابندی لگائی جا رہی ہے، اِسلامی جمہوریہ بنگلہ دیش کے بجائے اَب ریپبلکن بنگلہ دیش لکھا جائے گا۔ میرے بھائیو ! وہاں اِس لیے یہ ہورہا ہے کہ(وہاں کے) مذہبی لوگ سیاسی طور پر منظم نہیں ہیں ، ورنہ وہ آپ سے کم مسلمان نہیں ہیں ، ہمارے مدارس سے بڑے بڑے مدارس وہاں ہیں لیکن چونکہ سیاسی لحاظ سے منظم نہیں ہیں اِس لیے تنہا وہاں ایک ایک مار کھا لیتا ہے لہٰذا یہ وقت ہے کہ ہم پوری وحدت کا مظاہرہ کریں ۔ <br> میں نے سابق ایم ایم اے کی جماعتوں کو بلایا، سب نے اِتفاقِ رائے کا مظاہرہ کیا۔ تنظیماتِ مدارسِ دینیہ کا اِجلاس ہوا، سب کا اِس بات پراِتفاق تھا کہ ہمارا مؤقف درست ہے، اَب ہمیں مِل کر جنگ لڑنی ہوگی۔ بھائی ! ہم تو آپ کے ساتھ ہیں ، ہم تو دہشت گردی کے خلاف آپ کے ساتھ ایک صف میں کھڑے ہیں ، ہم تو آپ کے پشت پناہ ہیں ، جب کسی قسم کے تحفظات سامنے رکھے بغیر ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے، تمام مکاتب ِفکر نے آپ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، پوری قومی وحدت وجود میں آگئی، تمام پارلیمنٹ ایک تھی توآپ نے ایسی حرکت کرکے ملک کو کیوں تقسیم کردیا ؟ یہ ساری چیزیں ہیں جنہیں مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں بات کرنی ہوگی۔ <br> ''اِنتہاپسند ''کون ؟ <br> آپ یہ بھی دیکھیں کہ ہمیں '' اِنتہاپسند'' کہا جاتا ہے، اِنتہاپسندی اور مدارس ،مسجد اور مُلا کی بات کی جاتی ہے، وہاں گوانتا ناموبے میں قرآن کریم کو جلانا ،گٹروں میں پھینکنا، مسلمان قیدیوں کی آنکھوں کے سامنے ناپاک قدموں کے ساتھ قرآن پر چڑھ جانا، کیا یہ اِنتہاپسندی نہیں ؟ یہ شرافت ہے تمہاری ؟ اور پھر اِس سے ردِ عمل پیدا نہیں ہوگا ؟ اِس سے اُمت ِمسلمہ کی دِل آزاری نہیں ہوگی ؟ اَمریکہ میں ایک کنیسا کے اَندربا قاعدہ قرآن کو جلانے کی تقریب ہوتی ہے، کیا یہ اِنتہا پسندی نہیں ہے ؟ بیلجیٔم میں مساجد پر حملے کیے گئے، قرآن کوجلا یا گیا، کیا یہ تمہاری اِنتہا پسندی نہیں ؟ پہلے ڈنمارک میں اور اَب فرانس میں جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے خاکے شائع کیے گئے، اگر دُنیا کی آبادی ٦ اَرب ہے تو پونے دواَرب مسلمان ہیں ، تم دُنیا کی اِتنی بڑی آبادی کی دِل آزار ی کر رہے ہو، تم اِسلام کے شعائر کا مذاق اُڑائو، پھر بھی تم اِعتدال پسند ہوئے۔یادرکھنا ! مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی عزت وناموس پر ہمہ وقت مر مٹنے کے لیے تیار ہوتاہے۔ <br> اِن دنوں ہمیں جو صورت ِحال در پیش ہے اُس کے پیش ِنظر آج کے اِس اِجتماع سے میں نے فائدہ اُٹھالیا تاکہ میں اپنے حلقے، اپنے علماء اور اپنے مدارس کو آگاہ کر سکوں ، ہم اپنے مؤقف کو دلیل کی بنیاد پر سمجھنے کی کوشش کریں ، ہمارا کسی سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں ہے، پاکستان کی تاریخ ہمارے سامنے ہے حالات ہمارے سامنے ہیں ، آئین کی رُو سے اِسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر قانون سازی تو آئین کا تقاضا ہے، اِس پر تو چالیس سال سے قانون سازی نہیں کی جارہی اور اِس قسم کی قانون سازیاں آرہی ہیں اور قوم پر مسلط کی جا رہی ہیں ۔ <br> <br>دُعا کریں کہ اللہ ہم پر اِمتحان اور آزمائش نہ لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : وَاسْأَلُوا اللّٰہَ الْعَافِیَةَ۔''اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو۔'' حضرت عباس رضی اللہ عنہ جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور عرض کیا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! عَلِّمْنِِیْ شَیْئًا اَسْاَلُہُ اللّٰہَ ''کوئی ایسی بات بتا دیں کہ میں اللہ سے مانگوں ۔ آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : سَلْ رَبَّکَ الْعَافِیَةَ۔ ''اللہ سے عافیت مانگو۔'' کچھ عرصہ بعد پھر حاضر ہوئے اور پھر عرض کیاکہ مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیں جو میں اللہ سے مانگوں ؟ آپ صلی اللہ عليہ وسلم متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : <br> یَا عَبَّاسُ ! یَاعَمَّ رَسُوْلِ اللّٰہِ ! سَلِ اللّٰہَ الْعَافِیَةَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ۔'' ١ <br> ''اے عباس ! اے رسول اللہ ( صلی اللہ عليہ وسلم )کے چچا ! اللہ سے دُنیا اور آخرت دونوں کی عافیت مانگا کرو۔'' <br> اور رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : <br> ١ مجمع الزوائد للہیثمی ١٠/١٧٥ <br> لَا تَتَمَنَّوْا لِقَآئَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللّٰہَ الْعَافِیَةَ فَاِذَا لَقِیْتُمُوْھُمْ فَاصْبِرُوا۔ ١ <br> ''دُشمن کا سامنا ہونے کی تمنائیں مت کیا کرو بلکہ اللہ سے عافیت مانگاکرو، لیکن اگر سامنا مقدرہوجائے تو پھرڈٹ جائو۔'' <br> بہرحال یہ وقت ہے ہمارے اکٹھے ہونے کا، ہم دہشت گرد نہیں ہیں ، نہ دہشت گردی ہماری ضرورت ہے،یہ جنگیں ہم پر مسلط کی گئی ہیں ۔ بتایاجائے کہ کس جرم میں مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے ؟ کس جرم میں آج مدارس کو ذبح کیا جا رہاہے ؟ صرف اپنے جرائم چھپانے کے لیے ؟ کوئی قوت اِس کی کوشش نہ کرے اور نہ ہم اِتنے بے خبر ہیں کہ اپنا جرم چھپانے کے لیے آپ مدارس کوموردِ اِلزام ٹھہرائیں اور ہم مان لیں ۔ یہ جنگ ہم نے آئین اور قانون کے دائرے میں لڑنی ہے، کوئی ہنگامہ آرائی اور فساد نہیں کرنا۔ ہم ایک ملک کے آزاد شہری ہیں ،اپنا حق رکھتے ہیں اور اگراِمتیازی طور پرکوئی قانون کسی کے بھی خلاف بنے گا، چاہے مذہبی لوگو ں کے خلاف ہو ،چاہے قوم پرستوں کے خلاف ہو،چاہے لسانیت والوں کے خلاف ہو توہم ضرور کہیں گے کہ یہ قانون غلط ہے۔ <br> آپ حضرات ہمارے لیے دُعابھی کریں ، ہم اسمبلی میں تھوڑے تو ہیں لیکن دُعائوں سے ہمارے اَندر قوت آجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیں کامیابی عطا کرتا ہے۔ واخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین۔ <br> ( ماخوذاَز : ماہنامہ بینات جمادی الاولیٰ ١٤٣٦ھ ) <br> ..................... ٭ ..................... <br> دُوسری طرف ''داعش''کے حوالہ سے آئے دِن مختلف قسم کی خبریں میڈیا کی زینت بنی رہتی ہیں جنہیں یہودی میڈیا توڑ موڑ کر پاکستان کے دینی مدارس اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ جوڑنے کی سر توڑ کوششیں کرتا رہتا ہے۔١٩جنوری کے روزنامہ ایکسپریس میں اَوریا مقبول جان صاحب کی ایک تحریر نظر سے گزری جس میں عالمی سطح پر اِسلام کی غلط تصویر کشی کے پیچھے چھپے یہودی میڈیا کی فریب کاریوں پر بہت اچھے اَنداز میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ <br> ١ بخاری شریف کتاب الجہاد رقم الحدیث : ٣٠٢٤ <br> دُوسری منافقت یہ ہے کہ وہ مغربی تہذیب جس کے لیے دولت ِ اِسلامیہ کو سب سے بڑا خطرہ تصور کیا جا رہا ہے پوری دُنیا میں یہ پرا پیگنڈہ عام کیا جا رہا ہے کہ مسلم ممالک میں دہشت گردی اور شدت پسندی کی وجوہات میں معاشی ناہمواری، جمہوریت کا فقدان، سکولوں کے نصابِ تعلیم جو جہاد کا درس دیتے ہیں اور سخت متعصبانہ قوانین ہیں ،اِن وجوہات کی وجہ سے شدت پسندی کو فروغ مِل رہا ہے۔ <br> پورا مغرب مسلمان ملکوں کو یہ درس دے رہا ہے کہ <br> '' اپنا نصاب سیکولر کرو ،اپنی حکومتیں جمہوری بناؤ، اپنے پسماندہ لوگوں کو معاشی طور پر مستحکم کرو، اپنی خواتین کو برابری کے حقوق دو ،اگر تم یہ سب کر لو گے تو تمہارے اَندر سے دہشت گردی اور شدت پسندی ختم ہوجائے گی۔'' <br> اُن کی بولی بولنے والی ہزاروں این جی اوز اور اُن عالمی طاقتوں کی اِمداد کے لالچ میں دیوانے ہوئے حکمران روز اِن اِقدامات کا رونا روتے رہتے ہیں ۔اَخبارات اور میڈیا میں ''دانشوروں '' کے مضامین اور گفتگو صرف چند باتوں پر مرکوز ہے : <br> ''نظامِ تعلیم سے مذہب نکالو، مدرسوں کو ٹھیک کرو، عورتوں کو میدانِ عمل میں لاؤ، دہشت گردی کا یہی توڑ ہے۔'' <br> لیکن کوئی اِس بات کا جواب نہیں دے پاتا کہ گزشتہ ایک سو سال کی اِنسانی جنگوں میں کسی اور جنگ میں اِس جوق دَر جوق رضا کارانہ طور پر اِتنے جہادی نہیں گئے جتنے عراق اور شام میں دولت ِ اِسلامیہ کے لیے لڑنے گئے ہیں ۔ اَفغانستان میں بھی جتھے بنائے گئے، تنظیمیں بنیں اُن کو اَمریکہ اور دیگر حواریوں نے مدد فراہم کی، ویتنام میں بھی چین اور رُوس کی مدد شامل تھی لیکن یہاں سب سے حیرت اَنگیز بات یہ ہے کہ کسی بیرونِ ملک سے لڑنے کے لیے جانے والوں میں اَکثریت یورپی ممالک کے اَفراد کی ہے، وہ مغربی ممالک جہاں یہ سب پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ایسے ممالک جہاں سیکولر نظامِ تعلیم رائج ہے، جمہوریت بھی مستحکم ہے، معاشی ناہمواری بھی نہیں ، وہاں تو کوئی مدرسہ بھی قائم نہیں ہے پھر اُن لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ اپنی پُر آسائش زندگیاں چھوڑ کر شام اور عراق میں لڑنے جا رہے ہیں ۔ <br> ''داعش'' کے آغاز میں یعنی آج سے چھ ماہ قبل٣٠ اگست ٢٠١٤ء کو ''اِکانومسٹ'' نے اُن اَفراد کی تعداد بتائی تھی جو یورپی ممالک سے لڑنے عراق اور شام گئے ہیں ، جریدے کے مطابق <br> (١) بیلجیم سے ٢٥٠۔(٢) ڈنمارک سے ١٠٠۔ (٣)فرانس سے ٧٠٠۔ <br> (٤) آسٹریلیا سے ٢٥٠۔(٥) ناروے سے ٥٠۔ (٦)ہالینڈ سے ١٢٠۔ <br> (٧) آسٹریا سے ٦٠۔(٨) آئرلینڈ سے ٣٠۔ (٩) برطانیہ سے ٤٠٠۔ <br> (١٠) جرمنی سے ٢٧٠۔ (١١)اور اَمریکہ سے ٧٠ اَفراد اپنی پُر تعیش زندگی چھوڑ کر شام چلے گئے، اِس وقت اُن کی تعداد کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ <br> دُنیا کی اَب تک ہونے والی جنگوں میں کسی بھی جنگ میں یورپ سے اِس قدر تعداد رضا کار جنگجوؤں کی روانہ نہیں ہوئی اور نہ ہی اِس قدر زیادہ مُلکوں سے لوگ کسی ایک جگہ لڑنے گئے ہیں ، یورپی ممالک سے ایسے جہاد مارچ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اَب یہ مغربی ملک کون سا مدرسہ بند کریں گے اور کون سا نصابِ تعلیم تبدیل کریں گے اور عورتوں کو اور کتنے زیادہ حقوق دیں گے کہ شدت پسندی کم ہو،یہ سب جنگ پرا پیگنڈے سے جیتنا چاہتے ہیں ۔ <br> لیکن دسمبر کے آخری ہفتے میں جرمنی کے صحافی جورگن ٹوڈن ہو مز نے برطانوی اَخبارINDEPENDENT میں اپنے دولت ِ اِسلامیہ کے سفر کے رُوداد بیان کی ہے ،یہ ٧٤ سالہ جرمن صحافی واحد مغربی صحافی ہے جو اَب تک وہاں پہنچاہے اِس کے اِنکشافات ایسے ہیں کہ جو مغرب کے لیے کڑوی گولیاں سمجھی جا رہی ہیں اُنہیں پہلے اِس بات پر یقین نہیں آتا تھا کہ ہمارے سیکولر معاشرے سے اِس قدر جہادی کیسے پیدا ہو سکتے ہیں اَب وہ ٹوڈن ہومز کی اِس بات پر کیسے یقین کر لیں جو اُس نے سی این این پر اِنٹر ویو دیتے ہوئے کہی ہے ، اُس نے کہا کہ <br> ''وہ وقت دُور نہیں جب داعش مغرب کے ساتھ بقائے باہمی کے لیے مذاکرات کرے گی اور مغرب کو دُنیا میں اَمن قائم رکھنے کے لیے اور کوئی راستہ نہیں ہوگا۔'' <br> یہ غور کرنے کا مقام ہے سوچنے کی گھڑی ہے مغرب شاید سوچ رہا ہے کہ شدت پسندی اور دہشت گردی ہماری پالیسیوں اور طاقت کے اِستعمال سے پیدا ہوئی ہے لیکن اُس نے بندوق ہمارے ہاتھ میں پکڑا دی ہے، خون بھی ہماری زمینوں پر بہتا ہے اور شدت پسندی بھی یہاں جنم لیتی ہے، ہم کب تک قتل کرتے اور قتل ہوتے رہیں گے ؟ ؟ ؟ ؟ <br> چند لمحوں کے لیے اپنے مسلک ،اپنی نسل، اپنے عقیدے اور اپنی تعلیم کے تعصب کو پس ِ پشت ڈال کر سوچیے ! ! ضرور ! ! صرف چند لمحوں کے لیے ! ! ! <br> (روزنامہ ایکسپریس ١٩ جنوری ٢٠١٥ئ) <br> درس حدیث <br> حضرت اَقدس پیر و مرشد مولانا سیّد حامد میاں صاحب کے مجلسِ ذکر کے بعد درسِ حدیث کا سلسلہ وار بیان ''خانقاہِ حامدیہ چشتیہ'' رائیونڈ روڈ لاہور کے زیرِاِنتظام ماہنامہ'' اَنوارِ مدینہ'' کے ذریعہ ہر ماہ حضرت اقدس کے مریدین اور عام مسلمانوں تک با قاعدہ پہنچایا جاتا ہے، اَللہ تعالیٰ حضرتِ اَقدس کے اِس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے۔ (آمین) <br> وڈیروں کے مزدُروں پر مظالم۔مذہبی آزادی کفار نے سلب کی <br> حضرت عمر کے گھر پر چڑھائی۔''زمانے'' کو خدا ماننے والے دہریے <br> ''کیمونزم''کی بنیاد ''نفی''پر ہے۔عقل سے بالا اُمور کے لیے اَنبیاء بھیجے گئے <br> (کیسٹ نمبر83 سائیڈ A 24 - 01 – 1988 ) <br> اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ ! <br> آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم نے اِرشاد فرمایا تھا کہ وساوس آتے ہیں ،اور ایک آدمی تو وہ ہے کہ جو اِن سے قطع نظر کر لے آخرت سے بھی معاذ اللہ قطع نظر کرلے فقط دُنیا پر نظر رکھے (اِنْ ھِیَ اِلَّاحَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ) اِس طرح کا عقیدہ پہلے بھی تھا کہ وہ کہتے تھے کہ بس یہی زندگی ہے جو ہے اور آخرت میں نہیں اُٹھایا جائے گا ،بہت بے خوف اور بہت لالچی اور بہت ظالم۔ <br> حضرت خباب رضی اللہ عنہ بہت بڑے صحابی ہیں شروع میں اِسلام لے آئے اِنہیں تکلیف پہنچائی جاتی تھی اَنگاروں پر لٹایا گیا اور اِن کی کمر میں اَنگارے دھنس گئے چربی نکل آئی، تو وہ لوہے کا کام کرتے تھے لوہار تھے ،خاندان کے لحاظ سے تو کوئی چیز نہیں وہ توپیشہ ایک بن جاتا ہے تو اِنہوں نے عاص اِبن وائلِ سہمی کی فرمائش پر اُسے کچھ سامان بنا کے دیا لوہے کا پھر اُس کے پاس گئے پیسے لینے وہ ٹلاتا رہا ،یہ نہیں کہ پیسے تھے نہیں دے نہیں سکتا تھابلکہ بڑاآدمی تھا اور بڑا با اَثرتھا بلکہ یہ کہ جیسے مزدُوری ٹلانی ہوتی ہے، حضرت خباب رضی اللہ عنہ تو بہرحال مزدور ہی تھے، یہ عاص اِبن وائلِ سہمی جو تھے یہ حضرت عمرو اِبن عاص جو بہت معروف صحابی ہیں اُن کے باپ تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دوست تھے۔ <br> مذہب کیوں بدلا ؟ : <br> جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلمان ہوگئے تو اِن کے گھر پر چڑھائی کر دی کفارنے، گھیراؤ یا چڑھائی اِس طرح کی چیزیں پہلے بھی تھیں مگر وہ چڑھائی تھی گھیراؤ نہیں تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ جو چھوٹے سے بچے تھے اُس وقت ،وہ نقل کرتے ہیں کہ میں اُوپر تھا چھت پہ دیکھ رہا تھا بہت لوگ جمع ہیں مجمع بہت بڑا جمع ہے، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے بس جیسے تھے کچھ نہیں کرسکتے تھے تو اِتنے میں ایک شخص آیا اُس کا حلیہ بتایا بڑا عمدہ لباس، لباس کی بھی اُنہوں نے کیفیت بتائی کہ یہ یہ چیزیں تھیں ایسے تھا ایسے تھا وہ آیا اور اُس نے آکے اُن کو سمجھایا اور اُنہیں کہا کہ دیکھو میں اُن کا دوست ہوں حمایتی ہوں ،تو تم لوگ ایسی کوئی چیز نہیں کر سکتے بس اُس کا یہ کہنا تھا کہ لوگ چھٹ گئے یہی عاص اِبن وائل تھا، مطلب یہ ہے کہ بڑا با اَثر اور بڑا سمجھدار اور غریب نہیں متمول۔ <br> ''این جی اَوز ''والا جبر : <br> مگر اُنہیں پیسے دیتے وقت تنگ کرنا یہ کوئی خاص بات تھی ہی نہیں اورپھر یہ تو مسلمان تھے اِن سے تو چڑ تھی اُن کو تو جب اِنہوں نے تقاضا کیا تو آخرت پر اُس کا اِیمان تھا ہی نہیں تو وہ کہنے لگا کہ میں تودُوں گا جب تم محمد صلی اللہ عليہ وسلم سے اَلگ ہوجاؤ حَتّٰی تَکْفُرَ بِمُحَمَّدٍ اُن کا اِنکار کرو ،نبوت کا جو اِقرار کررکھا ہے اِس سے تم پھر جاؤ پھر تو میں تمہیں پیسے دُوں گا ورنہ نہیں دُوں گا، ممکن ہے سامان یامال زیادہ تیار کرا رکھا ہو، تواِیمان کے تو بہت زیادہ پختہ تھے اِنہوں نے کہا نہیں یہ تو ممکن ہی نہیں ہے حتی کہ جب مرے گا تو پھر زندہ ہوگا تو اُس وقت تک بھی یہ ممکن نہیں حَتّٰی تَمُوْتَ ثُمَّ تُبْعَثَ ١ اُس نے کہا کہ اچھا کیا میں مروں گا تو پھر زندہ بھی ہوں گا ! اِنہوں نے کہا کہ ہاں زندہ تو ہو گے ۔ <br> ١ بخاری شریف کتاب الاجارة رقم الحدیث ٢٢٧٥ <br> مرنے کے بعد پھر زندگی : <br> اور بہت زیادہ قرآنِ پاک میں اِس کی تاکید ہے جگہ جگہ تذکرہ ہے کہ دوبارہ اُٹھائیں گے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں (اَللّٰہُ یَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہ ) پیدا فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ پھر دوبارہ (وَھُوَ اَھْوَنُ عَلَیْہِ ) اور اللہ کے لیے سب آسان ہے۔ اور دِن رات دیکھتے ہیں کہ ایک چیز پیدا ہوتی ہے وہ کھالی جاتی ہے فنا ہوجاتی ہے یا بیچ جو آپ ڈالتے ہیں وہ بھی تو مٹی میں ڈال دیتے ہیں فنا ہی ہوجاتا ہے یہ اَلگ بات ہے کہ وہ نکل آئے نہ نکلے تو فناہی ہوگیا اُس کی وہ شکل توپھر نہیں رہتی وہ تو اور نئی چیز بن کر نکلتا ہے پھر اُس میں سے ہی وہ چیز پھر پیداہوتی ہے جو اُس کی اَصل تھی پھر گیہوں نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں بہت جگہ قیامت کا، بعثت کا دوبارہ اُٹھنے کا یہ ذکر فرمایا حشرو نشر اور حساب تاکہ جو کچھ کرتا ہے اُس کا بدلہ دیاجا سکے اُسے ( لِتُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعٰی ) <br> اُس(عاص بن وائل) نے کہا کہ اچھا ایسے ہوگا ! اِنہوں نے جواب دیا کہ ایسے توہونا ہے اُس نے کہا اچھا جب میں دوبارہ زندہ ہوں گا تو وہاں میرے پاس ظاہر ہے کہ یہ جو مال میں چھوڑ کر جاؤں گا یہاں جمع کیا ہوا یہ بھی ہوگا ،میری اَولاد بھی ہوگی وہاں تو میں پھر اُس وقت وہاں تمہیں دے دُوں گا غرض پیسے نہیں دیے یہ ہے اور اُس میں ہے کہ اِس طرح سے مجھے اَولاد ملے گی (لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًا) سورۂ طٰہٰ کے آخر میں یہ آیتیں جو اُتری ہیں یہ اِسی کے بارے میں ہیں اِسی واقعہ پر اِسی سوال وجواب پر اُتری ہیں تو ایک طبقہ تو وہ ہے جو آخرت پر اِیمان نہیں رکھتا تھا وہ پہلے بھی پایا جاتا تھا۔ <br> ''دہر''کو خدا قرار دینا : <br> ایک طبقہ وہ ہے کہ جو زمانے کو بس خدا مانتے ہیں ''دَہریے'' جنہیں کہتے ہیں وہ بھی پہلے تھا یہ نیا نہیں ہے اور (مَا یُھْلِکُنَا اِلاَّ الدَّھْرُ وَمَا لَھُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ ) لیکن یہ سب بعد کی پیداوار ہیں اور سب کے جواب میں اَنبیائے کرام ہر جگہ آتے رہے ہیں اور اُن کو غلطیاں بتلاتے رہے ہیں اور صحیح عقیدہ بتلاتے رہے ہیں ۔یہ عقائد جو ہم تک پہنچے ہیں اِسلام میں محفوظ ہیں مکمل حالت میں محفوظ ہیں ، باقی مذہبوں میں بھی پائے جاتے ہیں ، اہلِ کتاب یہود ہوں نصاریٰ ہوں اور ہندوؤں میں بھی جن کے یہاں وہ کوئی کتاب نازل ہوئی ہے اور اِن کو مغل دور میں تو کچھ علماء نے فتوی دیا تھا کہ یہ اہلِ کتاب ہی ہیں ہندو جو ہیں کیونکہ اِن کی ''وید ''یا اور چیزیں اِس طرح کی جو ہیں اُن کی وجہ سے اُنہوں نے کہا یہ بھی کوئی اہلِ کتاب ہیں حالانکہ یہ حقیقی طورپر معلوم نہیں کہ وہ کسی نبی کی کتاب ہے یا کسی صوفی یامصلح کی تصنیف ہے ،کوئی پتہ اُس کا ایسے نہیں ، سندمتصل نہیں کوئی،تو نا تمام حالت میں توبہت مذاہب میں ملتی ہیں چیزیں وہ اِسلام کی تعلیمات سے ملتی جلتی اور نامکمل حالت میں ہیں ، مکمل حالت میں اِسلام میں ہیں ۔ <br> تواُس دَور کا ایک طبقہ ایسا تھا جویہ کہتاتھا( نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا یُھْلِکُنَا اِلاَّ الدَّھْرُ ) بس یہ زندگی اور موت جوبھی ہے وہ یہی ہے اور یہ بھی ہے اِس میں کہ کہتے تھے یہ پرانی باتیں چلی آرہی ہیں ہمیں اور ہمارے ماں باپ سے یہ وعدے کیے جاتے رہے ہیں ( لَقَدْ وُعِدْنَا ھٰذَا نَحْنُ وَاٰبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ اِنْ ھٰذَا اِلَّا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ)اُنہوں نے اِن چیزوں کو پس ِ پشت ڈال دیا تھا۔ تو یہ طبقہ پہلے بھی تھا درمیانِ دور میں بھی رہا ہوگا اور اَب بھی ہے جو آخرت پر اِیمان نہیں رکھتے۔ <br> ''کیمونزم'' کی بنیاد'' نفی'' پر ہے : <br> یہ ''کیمونزم'' جو ہے اِس کی بنیاد نفی ٔ خدا پر ہے، سوشل اِصلاحات اور نفی ٔ خدا ،جو کچھ ہے وہ سب ہم ہی ہیں اور ہم ہی کچھ کرتے ہیں اور جو کرتے ہیں وہ ہوتا ہے وغیرہ ،ایسے خیالات اور ایسے اَفکار اُن کے ہیں تو یہ دَور اور یہ چیزیں پہلے بھی تھیں عقائد میں ، اِسلام نے اُن کی نفی کردی۔ <br> اِس دُنیا کے بعد : <br> اَب اِسلام نے بتادیا کہ آخرت بھی ہے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ بھی ہوناہے بلکہ زندگی فورًاشرو ع ہوجاتی ہے اور وہ دُوسری زندگی ہے اور اُس میں اچھائی یابرائی اِنسان کے ساتھ فورًا ہونے لگتی ہے یاجنت کی طرف اور اُس کے آثار یامعاذ اللہ نار اور اُس کے آثار جوبھی چیزیں ہیں وہ، اور قبرسے ہی شروع ہوجاتی ہیں یعنی بس ختم ہوا اور اُس کے بعد۔ کسی کوجلا بھی دیا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے وہ تو اَجزاء ہیں اُس کے، اَب تو آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے ،ایک ایٹم جو ہوتاہے اُس میں کیا کیاطاقتیں بھری ہوئی ہوتی ہیں تو جلنے کے بعد جواَجزاء ہیں اُس کے جسم کے اُن میں سے کسی جز سے حیات ڈال کر سوال کیا جا سکتا ہے ۔ <br> یہاں آنے سے پہلے : <br> اور اپنی پیدائش کی طرف(اِنسان کو) توجہ دِلائی اور جگہ جگہ ہے (خَلَقَکُمْ مِّنْ طِیْنٍ) (مِنْ سُلَالَةٍ مِّنْ طِیْنٍ )اور(مِنْ نُطْفَةٍ ) اور( خَلَقَہ فَقَدَّرَہ ) اور پھر اِس طرح سے( عَلَقَةٍ ثُمَّ مُضْغَةٍ ) اور حدیث شریف میں مزید اُس کی تشریحات آئیں کہ اللہ تعالیٰ اِس طرح سے پیدا فرماتے ہیں اور جو فرشتہ موَّکَل ہوتا ہے مامور ہوتا ہے وہ پوچھتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ سے کہ اَب اِتنا اَب اِتنا اَب اِتنا ،اَب یہ مذکر ہوگا یا مؤنث ہوگا اور شَقِیّ اَمْ سَعِیْد یہ بد بخت ہوگا یا نیک بخت تو وہ سب یُکْتَبُ فِیْ بَطْنِ اُمِّہ (اپنی ماں کے پیٹ میں لکھ دی جاتی ہیں ) اِس طرح کی تعلیمات جب دیں اور اِنسان کو پتہ چلا کہ دُنیا نہیں آخرت بھی ہے اور آخرت میں اِتنا ہے کہ جو دُنیا میں نہیں ہے اور یہ جو دُنیامیں ہے یہ عارضی ہے قطعی طور پر اور یہ بالکل ناقابلِ اِعتبار ہے ........... تو پھر اُس میں شیطان کودخل ہونا شروع ہوگیا، حدیث شریف میں آتا ہے کہ اِنَّ لِلشَّیْطَانِ لَمَّةً بِابْنِ آدَمَ وَ لِلْمَلَکِ لَمَّة شیطان بھی اِسی طرح سے نزول کرتا ہے اِنسان پر یاویوز(waves) پھینکتاہے اپنی چیز کو اُتارتا ہے اُس کے دِل میں اور فرشتہ بھی اِسی طرح، یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اِنسان کو اُسی کے حوالے کردیا ،نہیں ، مدد بھی فرمائی تو یہ جوشیطانی چیزیں ہوتی ہیں اور وساوس ہوتے ہیں وہ پیچھے کی طرف چلے جائیں کہ کس نے پیداکیا ؟ پھر کس نے ؟ پھر کس نے ؟ یا آگے کی طرف چلے جائیں پھر کیا ہوگا ؟ پھر کیا ہوگا ؟ پھر کیا ہوگا وغیرہ ؟ اِن کو فرمایا گیا یہ کوئی گھبرانے کی چیز نہیں یہ اِیمان کی علامت ہے ۔ <br> اور اِس کا علاج بتایا گیا کہ فَلْیَنْتَہِ وہاں رُک جائے دُوسرے کام میں لگ جاؤ اور یہ بھی علاج بتایاگیا کہ فَالْیَسْتَعِذْ بِاللّٰہِ اَعوذ باللہ کہہ لے اور ویسے ایک حدیث شریف کی کتاب ہے اَبو داود شریف اُس میں میں دیکھ رہا تھا تو اُس میں علاج ایک اور ہے جوبہت آسان سی آیت ہے (ھُوَالْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ وَھُوَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْم)کہ یہ کہہ لیا کرو اِس کو پڑھ لیا جائے ترجمہ دیکھ لیاجائے یہ سورۂ حدید کی ہے ستائیسویں پارے میں یہ پڑھ لینا یہ بھی وساوس کا علاج ہے ۔ <br> تو''ماضی ''کیا ہے ؟ غورکرتے جائیں ! اِنتہا تک پہنچ ہی نہیں سکتے عقل وہاں رُک جائے گی اور '' مستقبل'' کیا ہے ؟ یہاں بھی اِسی طرح عقل تھک جائے گی ۔ذاتِ باری تعالیٰ جس کی وحدت پر اِیمان ہے کہ وہ ایک ہے، اورایک ہی پر جا کر رُکتی ہے چیز، اُس پر اِیمان ہے وہاں بھی عقل جواب دے جاتی ہے۔ <br> عقل سے بالا اُمور کے لیے اَنبیاء کو بھیجا گیا : <br> تو جن چیزوں میں ایسی چیز تھی کہ جو سمجھ سے باہر تھی وہاں اَنبیائے کرام علیہم الصلوة والسلام بھیجے گئے اُنہوں نے تعلیم دی سمجھایا بتلایا رہبری کی ،اَب اُس میں وسوسے آجاتے ہیں جب وسوسے آتے ہیں پھر اُس کا علاج یہ ہے کہ اِس طرح سے رُک جائے کسی اور کام میں لگ جائے چھوڑ دے کیونکہ ماوراء العقل ہے اور جو چیز عقل سے پرے ہے اُس پرعقل کی روشنی پہنچ نہیں سکتی وہاں تک پہنچ نہیں ہوسکتی اِس دُنیا میں ،ہاں اِس دُنیا سے جب نکل جائے اور (خالص)رُوحانی دَور شروع ہو تو وہ رُوحانی پہنچ الگ بات ہے ،باقی عقلی مادّی(چیزکی اِتنی رسائی) نہیں ہوسکتی۔ <br> تو آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم نے علاج بتایا کہ لگ جائے دُوسرے کام میں اور چھوڑ دے ،ذہن دُوسری طرف لگالے۔ لیکن اگر کسی کو دُعائیں آسکتی ہیں تو پھر دُعائیں بھی بتادیں اُس کے لیے اَعوذ باللہ پڑھ لے اور تیسر ی چیز یہ آیت مثلاً( ھُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ وَھُوَ بِکُلِّ ّ شَیْیٍٔ عَلِیْم ) یہ کہہ لینا بھی وساوس کا علاج ہے، یہ کہہ لے اور پھر دُوسرے کام میں لگ جائے۔ <br> اللہ تعالیٰ ہم سب کو غیر متزلزل اِیمان عطا فرمائے اِیْمَانًا لَا یَرْتَدُّ وَنَعِیْمًا لَا یَنْفَدُ وَقُرَّةَ عَیْنٍ لَا تَنْقَطِعُ ۔آمین۔ اِختتامی دُعا.......... <br> علمی مضامین سلسلہ نمبر١ <br> آفاقی دین ........... صرف اِسلام <br> ( حضرت مولانا سیّد محمدمیاں صاحب رحمة اللہ علیہ ) <br> ٭٭٭ <br> ''خانقاہِ حامدیہ''نزد جامعہ مدنیہ جدید رائیونڈ روڈ لاہورکی جانب سے محدث ، فقیہ، مؤرخ، مجاہد فی سبیل اللہ،مؤلف کتب کثیرہ شیخ الحدیث حضرت اَقدس مولانا سیّد محمد میاں صاحب رحمة اللہ علیہ کے بعض اہم مضامین جو تاحال طبع نہیں ہوسکے اُنہیں سلسلہ وار شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے جبکہ اُن کی نوع بنوع خصوصیات اِس بات کی متقاضی ہیں کہ اِفادۂ عام کی خاطر اُن کو شائع کردیا جائے۔ اِسی سلسلہ میں بعض وہ مضامین بھی شائع کیے جائیں گے جو بعض جرا ئد و اَخبارات میں مختلف مواقع پر شائع ہو چکے ہیں تاکہ ایک ہی لڑی میں تمام مضامین مرتب و یکجا محفوظ ہو جائیں ۔ (اِدارہ) <br> نَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِےْمِ اَمَّابَعْدُ ! <br> ( یٰاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا ) ( اعراف : ١٥٨ ) <br> کَتَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم اِلٰی ہِرَقْلَ عَظِیْمِ الرُّوْمِ اَسْلِمْ تَسْلَمْ (بخاری) <br> سیّد الانبیاء فخر موجودات محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے شہنشاہِ رُوم(ہرقل ) کو لکھا تھا <br> '' اِسلام لے آؤ ہر طرح کی سلامتی پالوگے '' <br> آپ نے تحریر فرمایا اِس بنیادی اُصول کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان ایک طور پر تسلیم شدہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے ایک اِنسان دُوسرے اِنسان کے ساتھ ایسا برتاؤ نہ کرے کہ گویا خدا کو چھوڑ کر اُسے اپنا پروردگار بنالیا ہے۔ <br> کیا اِسلام ایک فرقہ ہے : <br> اِنصاف پسند شریف اِنسانوں کی عدالت میں بہت سے مقدمے پیش ہوتے ہیں اور اِنصاف حاصل کرتے ہیں آج ہم لفظ'' اِسلام'' کا مقدمہ پیش کر رہے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ ہم اِنصاف حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ <br> شکوہ : <br> بہت بڑا ظلم یہ ہے کہ جو لفظ اِس لیے منتخب کیا گیا تھا کہ فرقہ واریت گروہ بندی اور قوم پرستی کے مقابلہ میں اَمن، سلامتی، میل جول اور شانتی کی عملی تصویر دُنیاکے سامنے پیش کرے، اِس کو فرقہ وارانہ لفظ سمجھ لیا گیا ہے اور گروہ پرستی، دھڑے بندی کا وہ بہتان اِس پر تھوپا جارہا ہے جس سے اِس کی پاک فطرت ہمیشہ گھن کرتی رہی ہے۔ <br> ''مسلم ''کی جگہ اگر ماننے والے، مان جانے والے ،گردن جھکادینے والے کا لفظ اِستعمال کریں (کیونکہ لفظ مسلم کے یہی معنی ہیں ) توہم ''اِسلام'' کے اَصل مطلب اور منشاء سے زیادہ قریب ہو جائیں گے اور اِس کی فطرت کی جھلک ہمارے سامنے آجائے گی۔ <br> اِسلام کیا ہے : <br> ''اِسلام'' پوری دُنیا اور دُنیا کی تمام حقیقتوں میں یعنی پوری کائنات میں ایک قانون جاری ہے اِس کو'' قانونِ فطرت'' کہا جاتا ہے اِس قانون کے کچھ تقاضے ہیں ، کچھ نتیجے ہیں ، اِس کا ایک پس منظر اور بیک گراؤنڈ ہے، اُس پس منظر (بیک گراؤنڈ) کو اور اِس کے تقاضوں اور نتیجوں کو مان لینا اور اُن کے سامنے گردن جھکادینا ''اِسلام'' اور اُس سے اِنحراف واِنکار ''کفر''ہے۔ <br> سچائی ایک ہی ہے اور ہمیشہ ایک ہی رہی گی کیونکہ قانونِ فطرت ایک ہی ہے وہ اَٹل ہے اُس کا بیک گراؤنڈ اَمٹ ہے اِس قانون کے تقاضے اور اُن کے نتیجے ہمیشہ یکساں رہے ہیں اور یکساں رہیں گے لہٰذا جو حقیقت اور حق (سچ) ہے وہ بھی ایک ہی رہا ہے اور ایک ہی رہے گا اور سب کے لیے ایک ہی رہے گا ،یہ سچائی دھرم ہے جس کو عربی میں ''دین'' کہا جاتا ہے یہی دین قرآن کے الفاظ میں ''اِسلام'' ہے ( اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ ) <br> نبی اور پیغمبر : <br> اِسی سچائی کو پھیلانے کے لیے ناسمجھوں کو سمجھانے اور ہٹ دھرموں پرحجت تمام کرنے کے لیے خدا کے وہ پاک بندے آئے جن کو رسول، پیغمبر، پرو فٹ، رشی یا منی کہا جاتا ہے جن کو ہر فرقہ ہر قوم اور دُنیا کی ہر ایک اُمت اور ملت تسلیم کرتی ہے مگر جس طرح قدرت نے دامن ِنور کی سلوٹوں میں اَندھیری لپیٹ دی ہے، پھلوں اور پھولوں کی کروٹوں میں کانٹے اور جھاڑ لگادیے ہیں اِسی طرح سچائی کے مقابلہ میں غرور، تکبر اپنی بڑائی، خود غرضی، من کی چاہ، لالچ، دَھن دولت اور پرانی ریت کی ناپاک محبت، لکیر کے فقیر بنے رہنے کی عادت اور اِس طرح کی خراب خصلتوں کے کانٹے بھی بودیے اور اِس طرح کی اَندھیریاں بھی پیدا کردیں جو اپنے اپنے وقت پر اُبھریں اور پھیلیں جنہوں نے سچائی کے پاک و صاف نور کو دُھندلا کردیا اوروہ حق و سچ جو سب جگہ اور ہر حال میں یکساں تھا اُس کو نسل، جغرافیہ یا رنگ ورُوپ کے گہروندوں میں بندکرکے اُس کا حلیہ بگاڑ دیا مثلاً <br> اِسرائیل (یعقوب علیہ السلام) کی اَوالاد نے (جن کوبنی اِسرائیل کہاجاتا ہے) سچائی اور حق کو اپنی گھر کی جاگیر بنا لیا، اُس کی تمام برکتیں بنی اِسرائیل کے لیے مخصوص کردیں ۔ <br> یہودا (یعقوب علیہ السلام کے بڑے لڑکے) کے نام پر یہودیت کا ایک ڈیزائن تیار کیا اور اُسی کو سچائی کی کسوٹی اور نجات کا پروانہ قرار دے دیا۔ <br> عیسائیوں نے اِن کے مقابلہ میں کسی قدر وسعتِ نظر سے کام لیا،سچائی کو خاندان کے گھروندوں میں بندنہیں کیا مگر اپنے مذہب کا نام عیسائیت اور مسیحیت رکھ کر سچائی اور نجات کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات اور اُن کی شخصیت کے ساتھ اِس طرح جوڑ دیا کہ اُصول پرستی اور حق شناسی ختم ہوگئی یاایک ضمنی او ذیلی چیز بن کر رہ گئی اور لازمی طور پر دھڑے بندی اور فرقہ پرستی کا بیچ اِنسانیت کی کھیتی میں بویا گیا۔ <br> لیکن اِن گروہ پرستوں اور دھڑے بندیوں سے بلند ایک اور چیز بھی ہے جس کا نام ''اِنسانیت'' ہے جس کی تفسیر ہے اُصول پسندی، شرافت، رحم و کرم، عدل و اِنصاف اور اَعلیٰ اَخلاق کو عملی جامہ پہنانا، جو ایسی بلندو بالا ذات کی طرف رہنمائی کرتی ہے جو اِنسان اور اِنسانیت کا خالق اور پروردگار اور تمام کائنات کا رب اور مالک ِ حقیقی ہے۔ اِس اِنسانیت کا فیصلہ ہے کہ اِنسان اپنے رب کے سامنے گردن جھکائے، اُس کی بڑائی کا سکہ دِل اور دماغ پر جمائے، اُس کے اِحسانات کو پہچانے اور شکر گزار بنے۔ <br> یہ اِنسانیت رنگ نسل اور جغرافیہ کی حد بندی سے آزاد ہے، ہر ایک اِنسان میں مشترک ہے وہ صرف اُس کو نظروں سے گراتی ہے جو اپنے آپ کو اِنسانیت سے گرائے جو اِنسانیت کے تقاضوں کو پامال کرے اور خود اپنے ہاتھوں ذلیل ہو۔ <br> یہ اِنسانیت مرد اور عورت کاصرف وہی فرق قبول کرتی ہے جو قدرت نے اُن کی فطرت میں رکھ دیا ہے یہ فرق کمزوری اور نزاکت کا فرق ہے جو لازمی طور پرصنف ِنازک (عورت) کورحم، مہربانی اور ناز برداری کا حقدار قرار دیتا ہے یہ فرق عورت کو ذلت خواری یا اِنسانی زندگی کے کسی شعبہ میں پسماندگی کا مستحق نہیں بناتا۔ <br> یہ اِنسانیت اُس غرور سے نفرت کرتی ہے جودولت، سرمایہ یا حکومت اور اِقتدار کی وجہ سے پیدا ہو۔ وہ ہر ایک دولت مند (پونچی پتی) اور ہرایک صاحب اِقتدار سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اچھی طرح پہچان لے کہ اَوّل اور آخر وہ اِنسان ہے، اِنسانی برادری کا ایک فرد ہے، اِس کے بعد وہ اِس کا اِعتراف کرے کہ جودولت اُس کے ہاتھ میں ہے یا اِقتدار کی جس کرسی پروہ رونق اَفروز ہے وہ محض قدرت کااِحسان اور اُس کا اِنعام اورفضل و کرم ہے جس کی بناء پر اُس کا فرض ہے کہ وہ اِنسانوں کا ہمدرد، اِنسانیت کاخادم اور اپنے پیداکرنے والے کااِحسان ماننے والا اور شکرکرنے والا بنے، نہ یہ کہ وہ ظالم، جابر ،خودغرض، ذخیرہ اَندوز،لالچی اور بخیل بن کر دولت کی تجوریوں پر اَژدھے کی طرح کنڈل مار کر بیٹھ جائے۔ <br> اِس اِنسانیت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنوں ، پرایوں ، رشتہ داروں ، پڑوسیوں ، محلہ داروں اور اہلِ شہر کا حق پہچانے اور جس کا جو حق ہو اُس کواَداکرنے کے لیے مستعد اور سرگرم رہے۔ <br> اِس انسانیت کا تقاضا ہے کہ وہ چاند، سورج، آسمان و زمین، اِنسان و حیوان غرض دُنیا کے اِس کارخانے کوعبث اور بیکار نہ سمجھے۔ خود اپنے نفس کو آزاد، منہ چُھٹ ،بے لگام نہ قرار دے بلکہ یہ یقین کرے کہ اُس کا ہر فعل و عمل اورہر ایک قول ایک تخم ہے اور جس طرح گندم سے گندم اور جو کے بیچ سے جو ہی پیداہوتا ہے اِسی طرح اُس کے عمل و قول کا وہ نتیجہ لازم طورپر رُونما ہوگا جو قدرت نے اُس عمل کے لیے مخصوص کردیا ہے جو خود اُس پر اور اُس کے اَنجام اورمستقبل پر اَثر ڈالے گا۔ <br> پس تقاضائِ اِنسانیت یہ ہے کہ اِنسان اپنے ہرایک عمل اوراُس کے نتیجے پر نظر رکھے اور کسی وقت بھی پاداشِ عمل سے غافل نہ ہو۔ <br> اِنسانیت کی یہ وہ تفسیرہے جس سے دُنیاکا کوئی مذہب اور سنجیدہ اِنسان اِنکار نہیں کر سکتا۔ <br> آپ یقین فرمائیے اِسی انسانیت کادُوسرا نام ''اِسلام'' ہے جو اِس اِنسانیت کے تقاضے ہیں وہی اِسلام کے فرائض ہیں ۔ یہ اِنسانیت جن باتوں اور جن تقاضوں کا مطالبہ کرتی ہے وہی بعینہ اِسلام کے مطالبات ہیں ۔ <br> اِنسانیت کے تقاضے آپ پہلے پڑھ چکے ہیں اَب اِسلام کے مطالبات ملاحظہ فرمائیے : <br> مطالبات ِ اِسلام : <br> (١) اِسلام کا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ اِنسان اُس ہستی کا اِعتراف واِقرار کرے جس نے اِس پورے عالم کو پیدا کیا اور اِس کاوہ قانون بنایا جس کو'' قانونِ قدرت'' اور'' فطرت'' یا''نیچر'' کہاجاتا ہے۔ <br> (٢) پھر اگر آپ قانونِ قدرت میں ''اصولِ اِرتقا کو'' تسلیم کرتے ہیں توآپ کا اَخلاقی اور اِنسانی فرض ہے کہ آپ یہ بھی مانیں اور تسلیم کریں کہ خود آپ کا عمل اور کردار بھی قانونِ اِرتقاء سے آزاد نہیں ہے۔ اچھاکردار ترقی کرکے جنت اور سُورگ کی نعمتوں کی شکل اِختیار کرے گا اور برا عمل وکردار قدرتی اِرتقاء کے ساتھ نرک اور دوزخ کی مصیبت بن جائے گا۔ <br> (٣) اِسلام اُس ہستی کا جو خالق ِ کائنات ہے اِس طرح تعارف کراتا ہے کہ وہ رب العالمین اور الرحم الراحمین ہے کائنات کے تمام طبقوں کا پیدا کرنے والا پالنے اور پوسنے والا، تمام مہربانوں میں سب سے زیادہ مہربان، تمام رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا یعنی اِنسان اور اُس کے خالق اور مالک کا باہمی رشتہ محبت اور رحم و کرم کا رشتہ ہے وہ پروردگار ہے یہ پروردہ، وہ پالنے والا ہے اور یہ ایسا پالتو (پلاہوا) کہ جب اُس کا وجود ایک جرثومہ (کیڑے) کی شکل میں نہایت مہین اور حقیر تھا ١ جو ایک ایسی وہمی سی چیز تھا جس کا نظر آنا بھی مشکل تھا، تب سے ہی اِس کی پرورش شروع ہوئی، اُس وقت سے مناسب غذا فراہم کی گئی، اُس کی ضروریات کی ذمہ داری لی گئی اور اِس محبت، شفقت، دانشمندی اور ایسی بے نظیر ہنر مندی کے ساتھ کہ ممکن نہیں ہے کہ عالمِ وجود میں اِس کی کوئی نظیر کہیں مِل سکے۔ اِس کی ایک مثال یہ ہے کہ جیسے ہی اُس کی وِلادت ہوئی اُس کے لیے مناسب غذا کا اِنتظام اِس طرح کردیا گیا کہ کسی بھی زحمت اور محنت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ <br> دیکھئے ! ماں کی مامتا بے چین ہو کر بڑی محبت سے اُس ننھے بچے کو چھاتی سے لگاتی ہے اُس محبت اور پیار کے وقت جہاں اُس کا منہ رہتا ہے، ٹھیک اُسی مقام پر قدرت نے دُودھ کے دُھنے (کوزے) بھر کر رکھ دیے ہیں ،یہ ننھا سا بچہ کچھ نہیں جانتا تھا کسی چیز کی اُس کو خبر نہیں تھی مگر قدرت نے اُس کو پیدائش کے ساتھ ہی یہ سکھادیا تھا کہ کس طرح ماں کے دُودھ کو منہ میں لے اور کس طرح اُس کو چوس کر دُودھ نکالے اور پیٹ میں پہنچائے جہاں وہ خود کارمشین کام کررہی ہے جو اُس دُودھ کو چھان کر صاف کرکے پکاتی ہے جس کی اسٹیم جان کا کام دیتی ہے اور جس کے مدبَر شدہ اور صاف کردہ اَجزاء تن بدن کا جز بن جاتے ہیں ۔ <br> (٤) ہمیں اِس بحث کی ضرورت نہیں ہے کہ اِنسان کی پیدائش کس طرح ہوئی، وہ پہلے سے <br> ١ جو قطرہ (نطفہ) کا بہت ہی اَدنیٰ سا جز تھا۔ <br> اِنسان تھا یا بندر سے اِنسان بنا۔ اِسلام جو تصور پیش کرتا ہے اور جس عقیدہ کی تعلیم دیتاہے وہ یہ کہ رنگ ونسل کے جملہ اِمتیازات اور جغرافیہ کی تمام حدبندیوں سے بالا ہو کر یہ تسلیم کرو کہ تمام اِنسان ایک ماں باپ کی اَولاد ہیں ۔ (قرآنِ حکیم سورۂ حجرات آیت ١٣) <br> اُن کا آپس میں ایک ہی رشتہ ہو سکتا ہے یعنی اُخوت ،بھائی چارہ اور مساوات۔ <br> (الف) دُنیا کے دانشوروں نے اِنسان کی تفسیریہ کی تھی کہ وہ ''حیوانِ ناطق'' ہے یعنی تمام حیوانات اور جانوروں کی طرح وہ بھی ایک جاندار جس کی خصوصیت صرف یہ ہے کہ اِس میں تحقیق و تفتیش اور ریسرچ کی قوت بھی ہے جو اور حیوانات میں نہیں ہے۔ اِسلام اِس تعریف کو اِنسان اور اِنسانیت کے لیے عار سمجھتا ہے وہ یہ توہین گوارا نہیں کرتا کہ اِنسان کو بھی شیر بھیڑیے یا اُونٹ اور ہاتھی کی طرح ایک جانور کہا جائے وہ کہتا ہے کہ ''اِنسان'' بہت اُونچی حقیقت ہے ایسی اُونچی حقیقت جو بحرو بر، صحرا ء و سمندر، خشکی اور تری کی تمام مخلوق سے زیادہ باعزت اور واجب الاحترام ہے۔ (بنی اِسرائل : ٧٠) <br> (ب) ایسی اُونچی حقیقت کہ نہ صرف بحرو بر بلکہ پوری فضاء اور فضا سے اُوپربھی کوئی مخلوق ہے تو اُن سب پراِس کو اِقتدار بخشا گیا ہے، وہ جس کو چاہے مسخر کر سکتا ہے جس کو چاہے اپنے کام میں لاسکتا ہے۔ (سورۂ جاثیہ آیت ١٣۔ سورۂ لقمان آیت ٣٠) <br> (ج) ایسی اُونچی حقیقت کہ وہ خلیفة اللہ فی الارض ہے یعنی اِس تمام کائنات کے خالق اور مالک نے اُس کو اِس تمام مخلوق پر جس کا تعلق زمین کی دُنیا سے ہے اپنا نائب بنایا ہے اور اُس کو اِس تمام مخلوق پر مالکانہ تصرف کا اِختیار دیاہے ۔(سورۂ بقرہ آیت ٣٠ ۔سورۂ لقمان آیت٢٠) <br> (د) ایسی اُونچی حقیقت جس سے بلند صرف خالق ِکائنات اور پیدا کرنے والے کی ذات ہے لہٰذا وہ صرف اُسی ایک ذات کا پرستار ہوگا اُس کے علاوہ اگر کسی اور کی پرستش کرتا ہے تو وہ خود اپنی توہین کرتا ہے کہ اپنی عظمت اور بڑائی کو ذلت کے گڑھے میں ڈال لیتا ہے۔ (سورۂ حج آیت ٣١) <br> (٥) عورت بھی اِنسان ہی ہے وہ بھی اُسی عظمت کی مستحق ہے مرد اور عورت میں فطرت نے ایک فرق رکھا ہے جس کی وجہ سے اُس کو ''صنف ِنازک'' کہا جاتا ہے یعنی اِنسان کی وہ شاخ جو اپنی فطرت میں کمزور ہے مگراِس کمزوری کی بنا پر اُس کو حقیر اور ذلیل نہیں کہا جا سکتا بلکہ مرد پر لازم کیا جائے گا کہ اُس کی حفاظت کرے اُس کی ضروریات کا ذمہ دار بنے۔ (سورۂ نساء آیت ٣٤) <br> اِس کمزوری کی بناء پر وہ مستحق ِنفرت نہیں بلکہ مستحقِ شفقت، مستحقِ رحم، دلداری اور ایسی رفاقت کی مستحق ہے کہ آپ اُس کی پوشاک ہوں اور وہ آپ کی پوشاک ہو۔ (سورۂ بقرہ آیت ١٨٧) <br> اُس کی کمزوری کی بناء پروہ کسی حق سے محروم نہیں کی جاسکتی بلکہ اُس کے بھی اِسی طرح حق ہیں جس طرح مردوں کے حق عورتوں پر ہیں ۔ (سورۂ بقرہ آیت ٢٢) <br> (٦) اِسلام رحم و کرم کا ایک وسیع تصور پیش کرتا ہے اور صرف اِنسانوں ہی پر نہیں بلکہ ہر جاندار پر رحم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اُس کا اِصرار ہے کہ اگر تم اپنے لیے قدرت کی رحیمانہ فیاضیوں کو ضروری سمجھتے ہو تو اُس کاگُریہ ہے کہ تم رحمت کی بارش دُوسروں پرکرو، تم خلق ِ خدا کے لیے پیکر ِرحمت بن جاؤ، معاف کرو، درگزر کرو، کیا تم نہیں چاہتے کہ خدا کو تم کومعاف کرے۔ (سورۂ نور آیت ٢٢، ٢٤) <br> اِرْحَمُوْا مَنْ فِی الْاَرْضِ یَرْحَمْکُمْ مَنْ فِی السَّمَائِ ۔ (مشکوة شریف : ٤٩٦٩ ) <br> '' زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔'' <br> (٧) اِسلام نے بار بار اِعلان کیا ہے کہ اگرتم خدا سے محبت کرتے ہو تو اُس کا اِمتحان یہ ہے کہ تم خلقِ خدا سے محبت کرو اُس کے لیے اپنی ہمدردی کا دامن پھیلاؤ اور یہ سمجھو کہ یہ تمام مخلوق جو تمہارے سامنے ہے اللہ تعالیٰ کی عیال ہے اُس کا پروار اور کنبہ ہے۔ <br> اَلْخَلْقُ عِیَالُ اللّٰہِ فَاَحَبُّ الْخَلْقِ اِلَی اللّٰہِ مَنْ اَحْسَنَ اِلٰی عِیَالِہِ (مشکوة : ٤٩٩٨) <br> ''اللہ تعالیٰ کوسب سے زیادہ محبوب (اور پیارا) وہ ہے جو اُس کے کنبے (پروار) پر اِحسان کرے۔ '' <br> (٨) اِسلام نے ذات برداری کے اِمتیاز پرکاری ضرب لگائی۔ اُس نے بڑے زور سے اور پوری مضبو طی سے اِعلان کیا کہ تمہیں اِس پر ہرگز غرور اور گھمنڈ نہ کرنا چاہیے کہ علماء فضلاء یانبی اور رسول تمہاری برداری اورتمہاری سر زمین ہی میں آئے ہیں ، دُنیا کی کوئی اُمت ایسی نہیں ہے جس میں نیک اور پاکباز اِنسانیت کے سچے خادم اور خدا کے مقبول بندے نہ گزرے ہوں ۔ <br> ہر ایک اُمت (اِنسانی گروہ، قوم ) میں نبی گزرے ہیں ۔ (سورۂ فاطر آیت ٢٤) <br> ہر قوم کے لیے ہادی اور رہنما ہوئے ہیں ۔(سورۂ رعد آیت ٧) <br> (٩) یہ تمام پاکباز، خادمِ اِنسانیت، سچائی کے ماننے والے اور پھیلانے والے واجب الاحترام ہیں ، اُن سب کو مانو اُن سب پر اِیمان لاؤ جس طرح محمد ( صلی اللہ عليہ وسلم ) پرلاتے ہو۔ اِسلام قطعًا برداشت نہیں کرتا کہ خدا کے کسی سچے بندے کی توہین ہو، اِسلام اِس کو کفر قرار دیتا ہے۔ ( النساء : ١٥٠، ١٥٢) <br> (١٠) اِسلام کا حکم ہے کہ تمام برگزیدہ اور مقبول بندوں کے اِحترام کے لیے سینوں کے دَروازے کھول دو تاکہ اِنسانیت کی عظمت دِلوں میں جگہ کرے، محبت اور بھائی چارہ کا رشتہ ساری دُنیا میں پھیلے اور مظبوط ہو۔ ہمہ گیر اَمن ِعالم کی فضا جنم لے، بڑھے اور پھولے پھلے ،بھائی چارہ کے باغ میں بہار آئے ۔(سورۂ بقرہ آیت ٢٨٥) <br> (١١) اگر تاریخی اَفسانے کسی رہنما کی صورت بگاڑ کرپیش کرتے ہیں لیکن ہزاروں لاکھوں اِنسان اُس رہنما کا اِحترام کر رہے ہیں تب بھی تمہارا فرض ہے کہ اِحترام کرنے والوں کے جذبات کا اِحترام کرو۔ آئینہ تاریخ کے مقابلہ میں اُن جذبات کے آبگینے بہت زیادہ قابلِ وقعت ہیں ، کوئی ایسا لفظ زبان سے اَدا نہ کرو جس سے اُن کو ٹھیس لگے۔ (سورۂ اِنعام آیت نمبر ١٠٨) <br> (١٢) دھرم اور مذہب کانام : ایسا کوئی بھی نام جس سے مساوات واُخوت کی ہموار سطح پرنشیب و فراز پیدا ہو، اِسلام کے منشاء کو پورا نہیں کرتا کیونکہ اِس سطح پر جو اِنسانی شخصیت سامنے آئے گی خواہ وہ کتنی ہی مقدس اور پاک و صاف ہو کسی نہ کسی قسم کا نشیب و فراز ضرور پیدا کردے گی۔ <br> حضرت عیسٰی علیہ السلام و موسٰی علیہ السلام بودھ ١ یاحضرت محمد صلی اللہ عليہ وسلم کا نام بھی قابلِ برداشت نہیں ، کیوں ؟ اِن ناموں کے ساتھ شخصی، قبائلی، نسلی یا جغرافیائی اِمتیازات ضرور ملیں گے جوہمہ گیر مساوات و اُخوت اور ہمہ گیر اِنسانیت کے دامن میں کوئی شکن ضرور ڈالیں گے۔ <br> ١ بدھ مذہب کا پیرو <br> لہٰذا صرف وہ تعبیر قابلِ برداشت اور صحیح ہو سکتی ہے جومساوات واُخوتِ عام کی ہمدوش اور اِنسانیت کی طرح ہمہ گیر ہو، اِس سے اگر کوئی چیز نمودار ہو تو وہ ہے حقیقت پرستی اور حق آگاہی۔ <br> یہ عام تعبیر کیا ہے ؟ ''ماننا ''تسلیم کرنا جس کی عربی ''اِسلام'' ہے ،صداقت پر یقین و اِعتقاد رکھنا جس کا عربی نام ''اِیمان'' ہے ۔دُوسری تعبیر اگر اِس کی ہوسکتی ہے تو قدرتی مذہب اور نیچرم دھرم یعنی ''دین ِفطرت'' <br> اِن کے علاوہ یہ بھی گوارا نہیں کہ مسلم کو ''محمڈن'' کہا جائے یہ نام اِسلام یاقرآن نے اِیجاد نہیں کیا بلکہ یہ اُن کی اِیجاد ہے جو پہلے سے اِنسانیت کی چادر کو یہودیت یا عیسائیت کی مقراض ١ سے پارہ پارہ کر چکے ہیں غالبًا اُس کی تہہ میں یہ جذبہ کام کر رہا ہے کہ جوگناہ خود اُن گروہوں اور ٹولیوں نے کیاہے وہ زبردستی اِسلام کے سر تھوپ دیں مگر اِسلام کی تعلیم اور اللہ کا کلام اِس سے پاک دامن ہے۔ <br> (١٣) اِسلام جس طرح کئی نسلی یا قبائلی غرور کو برداشت نہیں کرتا اِسی طرح وہ دولت و ثروت کے گھمنڈ، اِقتدار یا حکومت کی نخوت کو بھی سراسر لعنت قرار دیتا ہے، تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں نہایت اِختصار کے ساتھ اِن تین الفاظ سے اِسلام کے حقیقی رُجحانات اور اُس کی ہمہ گیر اُخوت ومساوات کا اَندازہ کیا جاسکتا ہے۔ <br> (١) شیطان (٢) فرعون (٣) قارون <br> قرآنِ حکیم نے اِن تینوں پر اِتنی لعنتیں برسائیں کہ عام بول چال میں یہ نام گالی تصور کیے جانے لگے ،اِن کی حقیقت کیا ہے ؟ وہ زیر بحث نہیں ہے قرآ نِ حکیم جس بنا ء پر اِن کو مستحق ِ لعنت قرار دیتاہے وہ تین چیزیں ہیں ۔ <br> (١) غرور ِنسل (٢) غرورِ اِقتدار (٣) غرورِ دولت <br> نسلی غرور کا دیو'' شیطان ''ہے، ملوکیت کا مجسمہ'' فرعون'' اورایساسرمایہ دار کہ دولت و ثروت کا گھمنڈ اُس کے دِل کو پتھر بنادے وہ'' قارون'' ہے۔ <br> ١ قینچی <br> یہ تین غرور اِنسانیت کی مقدس سطح میں اُونچ نیچ اور نشیب و فراز کے گڑھے ڈال کر یکسانیت اُخوت اور مساوات کو پارہ پارہ کر ڈالتے ہیں لہٰذا اِنسانیت کی نظر میں بھی مردُود و ملعون ہیں ، وہ خدا جو اِنسانیت کو بہترین دولت و نعمت بتاتا ہے اُس کی نظر میں بھی معتوب ومبغوض ہیں ۔ <br> (١٤) سیاسی دُنیا کے وزرائِ اعظم جو ایٹمی بموں کی ہولناکیوں سے لرزہ بر اَندام ہیں ، اُن کے دِلوں سے پوچھو کیا وہ مذکورہ بالا اُصول کے لیے ''رحمت'' کے سوا اور کوئی لفظ بھی تجویز کر سکتے ہیں یہی رحمت ہے جس سے سارے عالم بلکہ کائنات کے تمام عالموں کو ہمکنار کرنے کے لیے وہ آخری نبی مبعوث کیا گیا جس کا لقب رحمة للعالمین ہے ( صلی اللہ عليہ وسلم ) ( وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِیْنَ ) <br> (١٥) آخر میں ایک بات سن لیجیے ''جہاد'' کے لفظ سے دُنیا کو وحشت زدہ کر کے مسلمانوں نے نہیں بلکہ اُن کے مخالفین نے بہت کچھ پروپیگنڈا کیالیکن یہ سارا پروپیگنڈا غلط اور ناکام ثابت ہوا کیونکہ جہادکے جو معنی بیان کیے گئے اِسلام کا دامن اُن سے پاک ہے۔ <br> جہاد کی غرض و غایت اور اُس کا دستور العمل جو قرآنِ حکیم نے بیان فرمایا یونائٹیڈ نیشنز (اقوامِ متحدہ) کا بین الاقوامی چار ٹر آج تک اُس کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکا۔ <br> آزادی ضمیر، آزدیٔ رائے و فکر ، یہ ہے مقدس نصب العین جس کے لیے اِسلام جہاد فرض کرتا ہے ( وَلَولاَ دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لَّھُدِّمَتْ صَوَامِعُ )(سُورہ حج : ٤٠ ) <br> اگر دفاع اور ڈیفنس کا قاعدہ اللہ تعالیٰ لوگوں میں جاری نہ کرتا تو آزادیٔ ضمیر ختم ہوجاتی ۔ <br> اور گرجے، مندر، خانقاہیں ، نمازو عبادت اور مسجدیں جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے سب تباہ و برباد کردی جائیں ۔ <br> یہ ہے ڈیفنس(defence) اور دفاع کا مقصد۔ اَب اِیفنس(effence) اور اِقدام کا مقصد ملاحظہ فرمائیے : <br> ( وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَة وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ )( سُورة البقرة : ١٩٣ ) <br> ''طاغوتی طاقتوں سے جنگ کرو یہاں تک کہ (جبر و قہر کا) فتنہ نہ رہے اور دین (دباؤ اور زور کا نہیں ) بلکہ خالص اللہ کے لیے ہوجائے۔ '' <br> یعنی زیر دستوں اور پسماندوں کویہ موقع مِل سکے کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنے مستقبل اور اپنے اَنجام کے متعلق غورو غوض کر کے فیصلہ کرسکیں ۔ بایں ہمہ قرآنِ حکیم میں ''جہادِ کبیر'' اُس کو کہا گیا ہے جو اَخلاقی قوت سے ہو ( وَجَاھِدْھُمْ بِہ جِھَادًا کَبِیْرًا) (سُورة الفرقان : ٥٢) <br> اِسلامی تعلیمات ....... اَمن ِ عالَم کا بہترین فارمولا : <br> اُوپر کے صفحات میں جن تعلیمات کی طرف اِشارے کیے گئے ہیں اُن کے متعلق قرآنِ حکیم کی تصریحات ملاحظہ فرمائیے اور غورفرمائیے کہ آج دُنیا اگر اَمن کے لیے بے چین ہے توکیا اِن تعلیمات سے بہتر اور تعلیمات ہوسکتی ہیں جواَمن ِ عالم کا فورمولا بن سکیں ۔ <br> یہ بھی خیال فرمائیے کہ جوتعلیمات پیش کی جارہی ہیں قرآنِ حکیم میں اُن کو بار بار دہرایا گیا ہے اور اُن کے متعلق قدرتی مشاہدات تاریخ کے مسلمہ واقعات اور خود اِنسان کے فطری اِحساسات سے نہایت مؤثر اور بلیغ اَنداز میں اِستدلال کیا گیاہے ہم نے تمام آیتوں کوپیش نہیں کیا بلکہ صرف ایک آیت کسی جگہ دو آیتوں کے حوالہ کو کافی سمجھا ہے۔ <br> توحید : <br> ''اللہ ایک ہے وہ بے نیاز ہے (کسی کی اُس کو ضرورت نہیں ہے، ہر ایک ضرورت اور اِحتیاج سے وہ پاک ہے) اُس کی اَولاد نہیں نہ وہ کسی کی اَولاد ہے، نہ کوئی اُس کا ہمسر اور اُس کے برابرہے۔ ''(سورۂ اِخلاص) <br> ''اُس کو کسی کے ساتھ تشبیہ نہیں دی جا سکتی کیونکہ اُس جیسا کوئی نہیں ہے کوئی چیز اُس کے مثل نہیں ہے نگاہیں اُسے نہیں پاسکتیں وہ تمام نگاہوں کو پار ہا ہے وہ بڑا ہی لطیف اور ہر چیز کی خبر رکھنے والاہے۔'' (سورہ ٔشوریٰ آیت نمبر ١١) <br> ''اُس کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمینوں پر،وہی حیات دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔''( سورہ ٔاَنعام آیت ١٠٢ ) <br> ''ہر چیز پر قادر ہے، وہی پہلے ہے وہی پیچھے، وہی ظاہر ہے اور وہی مخفی اوروہی ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے۔'' (سورۂ حدید آیت ٣،٢ ) <br> جتنے نبی اور رسول آئے اُن سب کی تصدیق کرو اور اِیمان لاؤ : <br> ہر قوم کے لیے رہنما ہوئے ہیں ۔ (سورہ ٔرعد آیت ٧) <br> ہر ایک اُمت (اِنسانی گروہ ،قوم) میں نبی گزرے ہیں ۔ (سورۂ فاطر آیت ٢٤) <br> جتنے نبی گزرے ہیں بلا تفریق سب پر اِیمان لانا ضروری ہے(سورۂ بقرہ آیت ١٣٦ (خلاصہ)۔سورۂ بقرہ آیت ٢٥٨(خلاصہ )۔ سورۂ آلِ عمران آیت ٨٤(خلاصہ ) ۔ <br> وہ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اُن میں سے بعض کومانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے۔ <br> (سورۂ نساء آیت ١٥٠(خلاصہ)۔ <br> اور جو لوگ اللہ اور اُس کے رسولوں پر اِیمان لائے اور اُن میں سے کسی ایک کوبھی دُوسرے سے جدا نہیں کیا (کہ اُس کو نہ مانا ہو) تو بلاشبہ ایسے ہی لوگ ہیں (جو سچے مومن ہیں ) ہم عنقریب اُنہیں اُن کے اَجر عطا فرمائیں گے ۔(سورہ نساء آیت ١٥١) <br> اَنبیاء اور رسولوں کی حیثیت : <br> تمام اَنبیاء اور رسولوں کا یہی قول رہا ہے ہم اِس کے سوا کچھ نہیں کہ تمہاری طرح کے آدمی ہیں لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے اپنے فضل اور اِحسان کے لیے چن لیتا ہے۔ (سورۂ اِبراہیم آیت ١١) <br> رواداری : <br> جو لوگ خدا کے سوا دُوسری ہستیوں کو پکارتے ہیں تم اُن کے معبودوں کوبرابھلا نہ کہو (اُن کے حق میں بدکلامی نہ کرو) پھر وہ بھی حد سے بڑھ کربے سمجھے اللہ تعالیٰ کوبرا کہنے لگیں گے۔ <br> قدرت نے اِنسان کی فطرت ہی ایسی بنائی ہے کہ فکرو عمل اور سب کے سوچنے کا ڈھنگ ایک نہیں ہوتا، ہرگروہ اپنی سمجھ کے بموجب اپنی رائے رکھتا ہے۔ <br> تمہاری نظر میں اُس کی راہ کتنی ہی بری ہو مگر اُس کی نظر میں وہ ایسی ہی اچھی ہے جیسی تمہاری نظر میں تمہاری راہ اچھی ہے پس ضروری ہے کہ اِس بارے میں برداشت اور رواداری سے کام لو، جس بات کو تم اچھا سمجھتے ہو اُس کی دعوت دو مگر اِس کی کدنہ کرو سب لوگ تمہاری بات مان ہی لیں ، تم اُن پر پاسبان نہیں بنائے گئے ہو، نہ تم پراِس کی ذمہ داری ہے کہ دُوسرے کو ضرور ہی نیک بنادو۔ (خلاصہ آیات ١٠٣، ١٠٨ سورہ ٔاَنعام ۔ سورہ ہود آیت ١١٨ ) <br> دین و مذہب دِ ل سے ہے۔ زور،زبردستی نہیں : <br> دین کے معاملہ میں زور زبردستی کا کوئی موقع نہیں ، کسی طرح کا جبر واِکراہ دین کے بارے میں جائز نہیں ۔ دین کی راہ دِل کے اِعتقاد اور یقین کی راہ ہے اور دِل کی تبدیلی خیر خواہانہ نصیحت اور ہمدردانہ دعوت اور تفہیم سے ہوتی ہے زور ظلم سے نہیں ہوتی۔ (سورۂ بقرہ آیت ٢٥٥۔ سورۂ یونس آیت ٩٩) <br> اِنسان کا درجہ اور مقصد : <br> تمام دُنیا اِنسان کے لیے پیداکی گئی ہے ۔(سورہ بقرہ آیت ٢٨۔ سورہ جاثیہ آیت ١٢، ١٣) <br> اِنسان خداکی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ (سورة الذاریات آیت ٥٦) <br> اِنسان دُنیا میں خداکا خلیفہ اور نائب ہے ۔(سورۂ بقرہ آیت ٢٩) <br> جواِنسان اپنی حقیقت اورخدا داد حیثیت نہیں پہچانتے وہ اِس گمراہی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ فرشتوں کو دیوتا مان کر اُن کی پوجا شروع کردیتے ہیں حالانکہ رب العالمین اورخالق ِکائنات نے فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ وہ سجدہ کریں چنانچہ سب نے سجدہ کیا، صرف ایک نے چوں چرا کی تووہی راندۂ درگاہ ہوگیا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محروم و مردُود ملعون ہوگیا۔ (سورۂ بقرہ آیت ٣٣ ۔سورۂ اَعراف آیت ١١، ١٢۔ سورۂ حجرات آیت ٢٩ ، ٣٤۔ سورۂ ص آیت ٧١ تا ٧٥ ) <br> پس اِنسان کے لیے کسی طرح بھی جائز نہیں کہ وہ خدا کے علاوہ کسی کے سامنے ماتھا ٹیکے، یہ شرک ہے، شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ (سورۂ لقمان آیت ١٣) <br> خود اپنے اُوپرظلم سب سے بڑی خود کشی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُس کو ہر ایک مخلوق پرعزت بخشی اور یہ مخلوق کے سامنے پیشانی رگڑ رگڑ کر اپنی عزت خاک میں مِلا رہا ہے اور اپنی اِنسانیت کو فنا کے گھاٹ اُتار رہا ہے۔ <br> اِنسانی بھائی چارہ : <br> اے اِنسانوں ! ہم نے تم کوایک مرد اور ایک عورت سے پیداکیا ہے اور تم کو مختلف گوت اور مختلف خاندانوں میں اِس لیے بنادیا کہ ایک دُوسرے کو شناخت کر سکو ،اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم سب میں بڑی عزت والا (بڑا شریف) وہ ہے جوسب سے زیادہ پرہیز گار ہو۔ (سورۂ حجرات آیت ١٣) <br> اے اِیمان والو ! نہ تومردوں کو مردوں پرہنسنا چاہیے کیا عجب ہے وہ اُن سے (ہنسنے والوں سے) بہترہوں ۔ اور نہ عورتوں کو عورتوں پرہنسنا چاہیے کیا عجب ہے وہ اُن سے بہترہوں ۔ نہ ایک دُوسرے کوطعنہ دو، نہ ایک دُوسرے کو برے لقب سے پکارو (سورہ حجرات آیت ١١) نہ ایک دُوسرے کی پیٹھ پیچھے برائی کرو۔( سورۂ حجرات آیت ١٢ ) <br> آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی ہے کہ تواضع اور عاجزی سے کام لو، ایسا نہ ہو کہ کوئی مر دکسی مرد کے مقابلہ میں فخر کرے اور بڑائی جتائے ،نہ یہ کہ کوئی کسی پر ظلم کرے۔ (مسلم شریف) <br> یہ اِسلامی تعلیم سے پہلے زمانہ ٔ جاہلیت کی بات ہے کہ لوگ باپ دادوں پر فخر کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے نسل و خاندان کے فخرو غرور کوختم کردیا ہے۔ اَب اِنسان کی تقسیم اَخلاق وکردار کے لحاظ سے ہے کہ کوئی صاحب ا ِیمان اور پرہیز گار ہے اور کوئی بدکار و بدبخت (فاجر و شقی) تمام اِنسان آدم علیہ السلام کی اَولاد ہیں اور آدمی کی سر شت مٹی سے ہوئی ہے ۔(ترمذی شریف ج ٢ ص ٢٣٤) <br> عورت : <br> تم سب کو اکیلی جان سے پیداکیا اور اُسی سے بنایا اُس کا جوڑ تاکہ اُس کی رفاقت میں چین پائے۔ (سورۂ اَعراف آیت ١٨٩) <br> عورتوں کے لیے بھی اِسی طرح کے حقوق ہیں مردوں پرجس طرح کے حقوق مردوں کے عورتوں پرہیں کہ اُن کے ساتھ اچھا سلوک کریں اَلبتہ مردوں کوعورتوں پرایک خاص درجہ دیا گیا ہے۔ (سورۂ بقرہ آیت ٢٨٨) <br> اور عورتوں کے ساتھ اچھی طرح زندگی بسر کرو اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں (تب بھی تمہاراسلوک اچھا رہنا چاہیے) کیونکہ ممکن ہے تمہیں ایک چیز پسند نہ آئے مگر اللہ نے اُس میں بہت کچھ بھلائی رکھی ہو۔ (سورہ بقرہ آیت ١٩) <br> عدل واِنصاف : <br> ایسا کبھی نہ ہوکہ کسی قوم کی دُشمنی تمہیں اِس بات پر اُبھاردے کہ تم اِنصاف نہ کرو، ہر حال میں اِنصاف کرو۔(سورۂ مائدہ آیت ٧) <br> نیکی کیا ہے ؟ <br> نیکی اور بھلائی یہ نہیں ہے کہ تم عبادت کے وقت اپنے منہ پورب کی طرف پھیر لو یا پچھم کی طرف (یا اِسی طرح کی کوئی اور رسم ورِیت پوری کرلو) <br> نیکی یہ ہے کہ اِنسان (اپنی شخصیت کی تعمیر اور اپنی اِصلاح کونصب العین بناکر ) اللہ پر، آخرت کے دِن پر، فرشتوں پر، آسمانی کتابوں پر اور خدا کے نبیوں پر اور رسولوں پر اِیمان لائے، جب خود اپنی ضرورتوں کے لحاظ سے اُس کا مال اُس کو محبوب ہو (تو اِیثار سے کام لے اور اُس مال کو) رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، مسافروں اور سائلوں کودے، غلاموں یا مقروضوں کی گردن چھرانے میں خرچ کرے نماز پوری پابندی کے ساتھ قائم رکھے، زکوة اَدا کرے ،اپنی بات کا سچا اور قول کا پابند رہے، جو قول واِقرار کرے اُس کو پوری طرح نبھائے، تنگی یا مصیبت کی گھڑی ہو یا خوف و ہراس کا وقت ہرحال میں صبر اور (ضبط و تحمل) سے کام لے ۔(سورۂ بقرہ آیت ١٧٦) <br> حرام کام : <br> اے پیغمبر ( صلی اللہ عليہ وسلم ) لوگوں سے کہہ دو کہ میرے پروردگار نے جوکچھ حرام ٹھہرایا وہ تویہ ہے کہ بے حیائی کی باتیں جوکھلے طورپر کی جائیں اور جو چھپا کر کی جائیں گناہ کی باتیں ، ناحق زیادتی اور یہ کہ خدا کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ جس کی اُس نے کوئی سند نہیں اُتاری، اوریہ کہ خدا کے نام سے ایسی باتیں کہوکہ جس کے لیے تمہارے پاس کوئی علم نہیں ۔ (سورۂ اَعراف آیت ٣٢) <br> '' جہاد '' <br> ضرورتِ دفاع : <br> اگراللہ تعالیٰ ایسا نہ کرتا کہ اِنسانوں کے ایک گروہ کے ذریعہ دُوسرے گروہ کوہٹاتا رہتا تو دُنیا خراب ہوجاتی (اَمن و اِنصاف کا نام باقی نہ رہتا) لیکن اللہ تعالیٰ سب جہانوں کے لیے فضل رکھنے والا ہے۔ (سورۂ بقرہ آیت ٢٥١) <br> یعنی لوگوں میں اِنقلاب کی رُوح نہ ہوتی اور جوجماعت کسی حالت میں ہے وہ سدا اُسی حالت میں چھوڑدی جاتی تو نتیجہ یہ نکلتا کہ دُنیا ظلم و تشدد اور فتنہ و فساد سے بھر جاتی اور حق و اِنصاف کا نام و نشان نہ ملتا۔ پس اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی فضل ہے کہ جب کوئی ایک گروہ ظلم و فساد میں منہ چُھوٹ ہوجاتا ہے تومزاحمت کے محرکات دُوسرے گروہ کومدافعت کے لیے کھڑا کر دیتے ہیں اور اُس کے اِقدام کوروک دیتے ہیں اور اِس طرح ایک قوم کا ظلم دُوسری قوم کی مقاومت سے رفع ہوجاتا ہے۔ <br> '' مذہبی جنگ '' <br> اگرنہ ہوتا ہٹا دینا اللہ تعالیٰ کا لوگوں کو، بعض کوبعض کے ذریعہ تومنہدم کردی جاتیں راہبوں کی خانقاہیں ، عیسائیوں کے گرجے، یہودکے عبادت خانہ اور مسجدیں جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیاجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ یقینا مدد کرے گا اُس کی جو مدد کرے گا اُس کی۔ (سورۂ حج آیت ٣٩) <br> یعنی بقائِ باہم، اَمن آشتی، مذہبی آزادی اور حریت ِ فکر بڑی اچھی چیزیں ہیں اِنسان اور اِنسانیت کے بنیادی حقوق ہیں مگرکسی قوم اورملّت کویہ اُسی وقت حاصل ہوتے ہیں اور اُسی وقت تک باقی رہتے ہیں جب اِس میں دفاع کی قوت اور طاقت ہو۔ مقصدِ جہاد یہ ہے کہ اگر بنیادی حقوق سلب ہونے لگیں توقوت کے ذریعہ اُن کو بحال رکھا جائے اور سلب ہوچکے ہوں توقوت کے ذریعہ اُن کو بحال کرایا جائے۔ <br> مقصد اور مُنتہا : <br> اور اُن لوگوں سے لڑائی جاری رکھو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین صرف اللہ ہی کے لیے ہوجائے ۔(سورۂ بقرہ آیت ١٩٣۔سورہ ٔاَنفال آیت ٣٩) <br> فتنہ : <br> مسلمانو ! تمہیں کیاہوگیا ہے کہ اللہ کی راہ میں جنگ نہیں کرتے حالانکہ کتنے ہی ایسے بے بس مرد ہیں اور کتنی ہی عورتیں ہیں کتنے ہی بچے ہیں جوفریاد کر رہے ہیں خدا ہمیں اِس بستی سے نجات دِلا جہاں کے باشندوں نے ظلم پرکمر باندھ لی ہے اور اپنی طرح سے کسی کوہمارا کارساز بنادے اور کسی کومددگاری کے لیے کھڑا کردے۔ (سورہ نساء آیت ٧٥) <br> ملاحظہ ہو حدیث اِبن عمر بخاری شریف ص ٢٢٥ ،ص ٦٤٨،ص ٦٧٠ وغیرہ جس میں فتنہ کی بھی تفسیرکی گئی ہے جوآیت کامفہوم اور مضمون ہے یعنی کسی قوم کا ایسا بے بس ہونا کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر عمل نہ کر سکے اور جس کووہ راہ ِ حق سمجھے اُس کو اِختیار نہ کر سکے۔ (واللہ اعلم بالصواب) <br> محتاجِ دُعا نیاز مند <br> محمد میاں <br> ١٢جمادی الثانیہ ١٣٨٨ھ /٧ستمبر١٩٦٨ئ <br> (ماخوذ اَز : ماہنامہ اَنوار مدینہ ج ١ شمارہ ٤ رجب ١٣٩٠ھ/ستمبر ١٩٧٠ء ) <br> ٭٭٭ <br> قسط : ١٥ <br> اِسلام کیا ہے ؟ <br> ( حضرت مولانا محمد منظور صاحب نعمانی رحمة اللہ علیہ ) <br> ٭٭٭ <br> دسواں سبق : ہر چیز سے زیادہ اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ عليہ وسلم کی اور دین کی محبت <br> بھائیو ! اِسلام جس طرح ہم کو اللہ و رسول پر اِیمان لانے اور نماز، روزہ ، حج اور زکوة اَدا کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور اِیمانداری اور پرہیز گاری اور خو ش اَخلاقی اور نیک اَطواری اِختیار کرنے کی ہدایت اور تاکید کرتا ہے اِسی طرح اُس کی ایک خاص ہدایت اور تعلیم یہ بھی ہے کہ ہم دُنیا کی ہر چیز سے زیادہ یہاں تک کہ اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں اور جان و مال اور عزت و آبرو سے بھی زیادہ خدا اور اُس کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم سے اور اُس کے مقدس دین سے محبت کریں یعنی اگر کبھی کوئی ایسا نازک اور سخت وقت آئے کہ دین پر قائم رہنے اور اللہ و رسول صلی اللہ عليہ وسلم کے حکموں پر چلنے کی وجہ سے ہمیں جان و مال اور عزت وآبرو کا خطرہ ہو تو اُس وقت بھی اللہ و رسول صلی اللہ عليہ وسلم کو اور دین کو نہ چھوڑیں اور جان و مال یا عزت وآبرو پر جو کچھ گزرے گزر جانے دیں ۔ <br> قرآن و حدیث میں جابجا فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ اِسلام کا دعویٰ کریں اور اُن کو اللہ ورسول صلی اللہ عليہ وسلم کے ساتھ او ر اُن کے دین کے ساتھ ایسی محبت اور اِس درجہ کا تعلق نہ ہو، وہ اَصلی مسلمان نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کی طرف سے سخت سزا اور عذاب کے مستحق ہیں ۔ <br> سورۂ توبہ میں فرمایا گیا ہے : <br> ( قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآئُ کُمْ وَاَبْنَآئُ کُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُنِ اقْتَرَفْتُمُوْھَا وَتِجَارَة تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَھَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہ وَجِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَأْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہ وَاللّٰہُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ )( سُورة التوبہ : ٢٤ ) <br> ''اے رسول ( صلی اللہ عليہ وسلم ) تم اُن لوگوں کو جتلادو کہ اگر تمہارے ماں باپ، تمہاری اَولاد، تمہارے بھائی برادر، تمہاری بیویاں اور تمہارا کنبہ قبیلہ اور تمہارا مال و دولت جسے تم نے کمایا ہے اور تمہاری تجارت جس کی کسا دا بازاری سے تم ڈرتے ہو اور تمہارے رہنے کے مکانات جو تمہیں پسند ہیں (سو اگر یہ چیزیں ) تم کو زیادہ محبوب ہیں اللہ سے اور اُس کے رسول سے اور اُس کے دین کے لیے کوشش کرنے سے ، تو اللہ کے فیصلے کا اِنتظار کرو اور (یاد رکھو) اللہ نہیں ہدایت دیتا نافرمانوں کو۔ '' <br> اِس آیت سے معلوم ہوا کہ جو لوگ اللہ اور رسول صلی اللہ عليہ وسلم کے اور اُن کے دین کے مقابلہ میں اپنے ماں باپ یا بیوی بچوں یا مال وجائیداد سے زیادہ محبت رکھتے ہوں اور جن کو اللہ و رسول صلی اللہ عليہ وسلم کی رضامندی اور دین کی خدمت و ترقی سے زیادہ فکر اِن چیزوں کی ہو، وہ اللہ کے سخت نافرمان ہیں اور اُس کے غضب کے مستحق ہیں ۔ <br> ایک مشہور اور صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : <br> ''اِیمان کی مٹھاس اور دین کا ذائقہ اُسی شخص کو نصیب ہوگا جس میں تین باتیں جمع ہوں : اَوّل یہ کہ اللہ و رسول کی محبت اُس کو تمام ماسوا سے زیادہ ہو، دُوسرے یہ کہ جس آدمی سے بھی محبت کرے صرف اللہ کے لیے کرے (گویا ذاتی اور حقیقی محبت صرف اللہ ہی سے ہو) اور تیسرے یہ کہ اِیمان کے بعد کفر کی طرف لوٹنا اور دین کو چھوڑنا اُس کو ایسا ناگوار اور گراں ہو جیسا کہ آگ میں ڈالا جانا۔ '' <br> تو معلوم ہوا کہ اللہ و رسول صلی اللہ عليہ وسلم کے نزدیک اَصلی اور سچے مسلمان وہی ہیں جن کو اللہ و رسول صلی اللہ عليہ وسلم کی اور دین ِ اِسلام کی محبت دُنیا کے تمام آدمیوں اور تمام چیزوں سے زیادہ ہو، یہاں تک کہ اگر وہ کسی سے بھی محبت کریں تو اللہ ہی کے لیے کریں اور دین سے اُن کو ایسی اُلفت ہو کہ اُس کو چھوڑ کر کفر کا طریقہ اِختیار کرنا اُن کے لیے اِتنا شاق اور ایسا تکلیف دہ ہو جیسا کہ آگ کے آلاؤ میں ڈالاجانا۔ <br> ایک اور حدیث میں ہے حضور صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : <br> ''تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک پورا مومن اور اَصلی مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ اُس کو میری محبت اپنے ماں باپ سے اور اپنی اَولاد سے اور دُنیا کے سارے آدمیوں سے زیادہ نہ ہو۔'' <br> بھائیو ! اِیمان دراَصل اِسی کا نام ہے کہ آدمی بالکل اللہ و رسول صلی اللہ عليہ وسلم کا ہو جائے اور اپنے سارے تعلقات اور خواہشات کو اُن کے تعلق پر اور اُن کے دین کی راہ میں قربان کر سکے جس طرح کہ صحابہ کرام نے کر دِکھایا اور آج بھی اللہ کے سچے اور صادق بندوں کا یہی حال ہے اگرچہ اُن کی تعداد بہت کم ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی اُن ہی کے ساتھ اور اُن ہی میں سے کردے،آمین۔ <br> جامعہ مدنیہ جدید کے فوری توجہ طلب ترجیحی اُمور <br> (١) مسجد حامد کی تکمیل <br> (٢) طلباء کے لیے دارُالاقامہ (ہوسٹل) اَور دَرسگاہیں <br> (٣) کتب خانہ اَور کتابیں <br> (٤) پانی کی ٹنکی <br> ثواب جاریہ کے لیے سبقت لینے والوں کے لیے زیادہ اَجر ہے ۔ (ادارہ) <br> قسط : ١٥ <br> قصص القرآن للاطفال <br> پیارے بچوں کے لیے قرآن کے پیارے قصّے <br> ( الشیخ مصطفٰی وہبہ،مترجم مفتی سیّد عبدالعظیم صاحب ترمذی ) <br> ٭٭٭ <br> ( اَصحابِ سبت کا قصہ ) <br> اِرشادِ باری تعالیٰ ہے : <br> (وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْکُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَھُمْ کُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ۔ فَجَعَلْنٰھَا نَکَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْھَا وَمَا خَلْفَھَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ ) ١ <br> ''اور تم اُنہیں خوب جان چکے ہو جنہوں نے تم میں سے زیادتی کی تھی ہفتہ کے دِن تو ہم نے کہا اُن سے کہ ہوجاؤ بندر ذلیل، پھر ہم نے اِس واقعہ کو عبرت بنایا اُن لوگوں کے لیے جو وہاں تھے اور جو پیچھے آنے والے تھے اور بنایا ہے نصیحت ڈرنے والوں کے واسطے۔'' <br> حضرت موسٰی علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بنی اِسرائیل کو یہ تعلیم بھی دی کہ بنی اِسرائیل ہفتے میں ایک دِن بروز ہفتہ اللہ کی عبادت کے لیے مختص کریں ، اُس دِن اللہ کی حمد و ثنا کریں اور اُس کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کو یاد کریں تاکہ اُن کے دِلوں کو صفائی اور پاکیزگی حاصل ہو نیز یہ کہ اُس دِن دیگر دُنیوی مصروفیات میں مشغول نہ ہوں ۔ <br> ١ سُورة البقرہ : ٦٥ ، ٦٦ <br> بنی اِسرائیل اِس حکم کے ایک طویل مدت سے پابند تھے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ یہودیوں کی ایک بستی اَیلہ کا اِمتحان لیں جو دریا کے کنارے واقع تھی، اُس بستی کے لوگوں کا ذریعہ معاش ماہی گیری تھا اور وہ اپنے آباء واَجداد اور اَسلاف کی عادت پر قائم تھے اور ہفتے کے دِن مچھلی نہیں پکڑتے تھے لیکن اُنہوں نے عجیب بات ملاحظہ کی کہ ہفتے کے دِن بکثرت مچھلیاں کناروں پر آجاتیں اورجب ہفتے کا دِن گزر جاتا تو واپس چلی جاتیں اور کناروں سے دُور دریا کی گہرائیوں میں چھپ جاتیں جس سے اُنہیں مچھلیوں کے شکار میں بہت دِقت و مشقت پیش آتی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مچھلیوں کو یہ حکم اُن کی آزمائش کے لیے تھا۔ <br> جب کئی مرتبہ اِس طرح ہوا اور اُنہوں نے دیکھا کہ ہفتے کے دِن مچھلیاں بکثرت ہوتی ہیں اور ہفتے کے باقی دِنوں میں اِنتہائی کم ہوجاتی ہیں تو اُنہوں نے ہفتے کے دِن بھی شکار کا ایک حیلہ سوچا کہ ہفتے کے دِن جال اور کانٹے ڈال دیتے جن میں مچھلیاں پھنس جاتیں اور جب ہفتہ کا دِن گزر جاتا تو بغیر کسی مشقت کے مچھلیاں پکڑ لیتے تھے، اِس حیلے سے اُنہوں نے حق تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ بعض بستی والوں نے اُنہیں نصیحت کی اور اُنہیں توبہ اور رُجوع کی تلقین کی لیکن اُن پر اِن نصیحتوں کا کچھ اَثر نہیں ہوا اور وہ بدستور ہفتے کے دِن اِعلانیہ طور پر مچھلیوں کا شکار کرتے رہے، جب اُنہوں نے اِس طرح کیا تو اللہ نے اُن پر اپنا غصہ نازل فرمایا اور اُنہیں بندر بنادیا اور جو مومن اُنہیں فساد سے منع کرتے رہے اور ہفتے کے دِن اللہ کی عبادت کرتے رہے ،اللہ تعالیٰ نے اُنہیں نجات عطا فرمائی اور اُنہیں اِس عذاب سے محفوظ رکھا۔ <br> کیارُوحیں حاضرکی جا سکتی ہیں ؟ <br> ( حکیم الامت حضرت مولانا اَشرف علی صاحب تھانوی ) <br> ٭٭٭ <br> ایک صاحب نے دریافت کیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایک ایسا عمل ہے کہ اُس کے ذریعہ سے جب چاہیں مردہ کی رُوح کو بلا سکتے ہیں تو کیا یہ صحیح ہے ؟ <br> فرمایا کہ بالکل غلط ہے، جس زمانہ میں میں کانپور میں تھا اُس زمانہ میں طلسماتی اَنگو ٹھیوں کا بہت چرچا ہو رہا تھا میں نے ایک ایسے شخص سے جو ہر قسم کے جلسوں میں آتے جاتے تھے کہا کہ تم اِن واقعات کی تحقیق کر کے مجھ سے بیان کرو چنانچہ بعد تحقیق کے وہ آئے اور اُنہوں نے بیان کیا کہ صاحب طلسماتی اَنگو ٹھی سے بھی زیادہ عجیب بات معلوم ہوئی ہے وہ یہ کہ ایک عمل ایسا ہے کہ اُس کے ذریعہ سے جس مردہ کی رُوح کو چاہیں بلا سکتے ہیں ، مجھ کو سن کر بہت بڑی حیرت ہوئی اور خود دیکھنا چاہا، اُس شخص نے کہا میں اُن آدمیوں کو جو اِس عمل کو کرتے ہیں بُلا کر لاؤں گا اور آپ کے سامنے یہ عمل کراؤں گاچنانچہ وہ لوگ ہمارے پاس آئے یہ تین شخص تھے مگرہم نے مدرسہ میں تو یہ شغل مناسب نہ سمجھا اِس لیے ایک دُوسری جگہ اِس کام کے لیے تجویز کی، اُس مکان میں صرف چھ شخص تھے، تین تووہ عامل اور ایک میں اور میرے ساتھ ایک مدرسہ کے مہتمم اور ایک مدرس ،عصر کے بعد یہ اِجتماع ہوا۔ <br> اُن عاملوں نے ایک میز پر اِس طرح وہ عمل کیا کہ دونوں ہاتھوں کو رگڑ کر میز پر رکھا اور اِدھر متوجہ ہوئے، تھوڑی دیر کے بعد خود بخود میز کا پایہ اُٹھا اُنہوں نے کہا کہ لیجیے اَب رُوح آگئی، اُنہوں نے کہا کہ تمہارا کیا نام ہے ؟ معلوم ہوا تجمل حسین،کوئی آواز نہ تھی کچھ اِصطلاحیں مقرر تھیں اُن سے سوالات کے جوابات معلوم کرتے تھے اَب لوگوں نے ایک مبتدع شخص کے لڑکے کی رُوح کوبلوایا اور اُسی تجمل حسین کی رُوح کو مخاطب کر کے کہا کہ جاؤ اُس شخص کی رُوح کو بلا لاؤ اور جب جانے لگو تو فلاں پایہ کو اُٹھاجانا اور جب تم اُس کو لے کر آؤ تو اپنے آنے کی اِطلاع اِس طرح کرنا کہ اِس پایہ کو پھر اُٹھا دینا چنانچہ فورًا پایہ اُٹھا معلوم ہوا کہ رُوح کو لینے گیا ہے، تھوڑی دیر بعد پھر پایہ اُٹھامعلوم ہوا کہ جس رُوح کو بُلایا تھا وہ بھی آگئی، اَب ایسی ہی اِصطلاحوں میں اُس لڑکے کی رُوح سے سوالات کرنا شروع کیے اور اُس کی طرف سے ایسی ہی اِصطلاحوں میں جوابات دیے گئے۔ اَب ہم ناواقف لوگ بڑی حیرت میں تھے کہ یہ کیا معاملہ ہے ؟ اُن لوگوں نے مجھ سے فرمائش کی کہ اَب آپ جس شخص کی رُوح کوبلوانا چاہیں تو ہم سے فرمائیں ہم اُس شخص کی رُوح کوبلاویں گے۔ <br> چنانچہ میں نے حافظ شیرازی رحمة اللہ علیہ کی رُوح کو بلوایا۔ وہی تجمل حسین سب رُوحوں کو بلا بلا کر لا تا تھا چنانچہ اِسی طرح پایا پھر اُٹھا معلوم ہوا کہ حضرت حافظ بھی تشریف لے آئے، میں نے کہا اَلسلام علیکم، اِصطلاح میں جواب مِلا وعلیکم السلام پھر اُن لوگوں نے مجھ سے کہا آپ حضرت حافظ کا کچھ کلام پڑھیے اُن کی رُوح خوش ہوگی چنانچہ میں نے اُن کی غزل اَلَا یَااَیُّھَا السَّاقِیْ الخ پڑھی تومیز کا پایا بار بار اور جلدی جلدی اُٹھنے لگا ،اُس سے یہ سمجھاجانے لگا کہ گویا حافظ صاحب کی رُوح اپنا کلام سن کر خوش ہورہی ہے اور وجد میں آرہی ہے ،ہم لوگ بڑے تعجب میں تھے اور کوئی وجہ سمجھ میں نہ آتی تھی، اِتنے میں مغرب کا وقت ہوگیا نماز پڑھنے کے لیے اُٹھے ہم تینوں نے آپس میں گفتگوکی کہ یہ کیا بات ہے، اَخیر میں یہ رائے قرار پائی کہ یہ سب کرشمے قوت ِخیالیہ کے معلوم ہوتے ہیں ،اَب اِس کا یہ اِمتحان کرنا چاہیے کہ جب وہ لوگ عمل کرنے لگیں توہم تینوں یہ خیال کر کے بیٹھ جاویں کہ پایہ نہ اُٹھے، مہتمم صاحب بولے کہ وہ لوگ مشاق ہیں ہم لوگوں کی کوشش اُن کے مقابلہ میں کیا کار گر ہوسکتی ہے ، میں نے کہا کہ تم ابھی سے ہمت نہ ہارو، نہیں تو کچھ بھی نہ ہوسکے گا یہی سمجھنا چاہیے کہ اُن کے خیال پر ہمارا خیال ضرور غالب آئے گا اِمتحان تو کرنا چاہیے چنانچہ ہم لوگ یہ مشورہ کر کے پھر بعد مغرب پہنچے اور اُن لوگوں سے کہا کہ اِس وقت پھر اپنا عمل دِکھلاؤ ،اُنہوں نے پھر عمل کرنا شروع کیا اِدھر ہم تینوں یہ خیال جما کر بیٹھ گئے کہ پایہ نہ اُٹھے چنانچہ اُن لوگوں نے بہت کوشش اور بہت زور لگایا کہ پایہ اُٹھے مگر کچھ نہ ہوسکا وہ بڑے شرمندہ ہوئے اور مجھ کو یقین ہوگیا کہ یہ سب قوتِ خیالیہ کے کرشمے ہیں ۔ <br> پھر اَگلے روز ہم نے خود تجربہ کیا اور اِسی طرح ہاتھ رگڑ کر میز پر رکھے اور ہم تینوں یہ سوچ کر بیٹھ گئے کہ فلاں پایہ اُٹھے چنانچہ وہی پایہ اُٹھا پھر یہ سوچا کہ اَب کی مرتبہ فلاں فلاں دوپائے اُٹھیں چنانچہ وہ دونوں اُٹھے پھر تیسرے پائے کا خیال کیا تو وہ بھی اٹھنے لگا لیکن اُن دونوں میں سے جو پیشتر کے اُٹھے ہوئے تھے ایک پایہ نیچے گر گیاتینوں ایک ساتھ نہ اُٹھ سکے، اِس کے لیے زیادہ قوت کی ضرورت تھی پھر ہم نے میز پر بجائے ہاتھ کے صرف ایک اُنگلی رکھ کر اِسی طرح پائے اُٹھائے پھر اُس میز کے اُوپر دُوسری میز رکھی اور اُس پر ہاتھ رکھ کر یہ سوچ کر کھڑے ہوگئے کہ اُوپر والی میز کا فلاں پایہ اور نیچے والی میز کا فلاں پایہ اُٹھ جائے چنانچہ اِسی طرح اُٹھ گئے۔غرض جس طرح چاہا اُسی طرح پائے اُٹھ اُٹھ گئے۔ اَب ہمیں پوری طرح اِطمینان ہو گیا پھر ہم نے اِسی قاعدے کے موافق میز کو یہ خطاب کیا کہ اگر تجھ میں کوئی رُوح آتی ہے تو ایک بار فلاں پایہ اُٹھے اور اگر نہیں آتی تو دو بار اُٹھے چنانچہ دو بار اُٹھا تو خود اُن ہی کے قاعدے سے رُوح کے آنے کا غلط ہونا ثابت ہو گیا۔ <br> اَصل بات یہی ہے کہ یہ سب تصرفات خیال کے ہیں اور ہاتھ رگڑ نے کی یہ مصلحت ہے کہ رگڑ سے قوت ِبرقیہ منتعش و مشتعل ہوتی ہے اور وہ معین ہوجاتی ہے، ہاتھ یا اُنگلی اِ س لیے رکھی جاتی ہے کہ اِس سے خیال کو بہت مدد ملتی ہے،اگر زیادہ مشق بڑھائی جاوے تو پھر ہاتھ یا اُنگلی رکھنے کی بھی ضرورت نہ رہے محض خیال کرنے سے پایا اُٹھ سکتا ہے، پھر تو یہ ہوا کہ ہم نے سب طالب علموں سے یہ عمل کرایا، اَب جو شخص ہاتھ رکھ کر بیٹھتا ہے اُسی کے ہاتھ سے پایا اُٹھ جاتا ہے، ساری حقیقت کھل گئی۔ <br> اِن سارے واقعات کے بعد اِتفاق سے مدرسہ کا جلسۂ فراغ تھا جس میں ظاہر تھا کہ معمول سے زیادہ آدمی آنے والے تھے مگر مقدارِ زیادتی کے معلوم ہونے کا کوئی ذریعہ نہ تھا ،ہم نے کہا کہ لاؤ اِس عمل سے یہ معلوم کریں کہ آج جامع مسجد میں جس میں جلسہ تھا کتنی صفیں ہوں گی چنانچہ یہ سوچ کر بیٹھ گئے کہ جتنی صفیں ہوں اُتنی بار پایہ اُٹھ جائے، پایہ گیارہ بارقوت سے اُٹھا اور بارہویں مرتبہ ہلکا سا اُٹھا، میں نے کہا کہ یہ کیا بات ہے کہ بارہویں مرتبہ تھوڑا اُٹھ کر رہ گیا پھر خود ہی اِحتمال ہوا کہ شاید اِس کا مطلب ہو کہ گیارہ صفیں تو پوری ہوں گی اور بارہویں صف پوری نہ ہوگی، نماز ختم ہوتے ہی دُعا مانگنے سے پہلے میں نے اُٹھ کر صفیں گنیں تو واقعی گیارہ صفیں پوری تھیں اور بارہویں صف پوری بھری ہوئی نہ تھی اِس واقعہ سے بڑی حیرت ہوئی کہ اِس صحیح جواب کی کیا بناء تھی۔ <br> دُوسرا عجیب واقعہ یہ ہے کہ ایک قلمدان میں بہت سے قلم جن کی گنتی معلوم نہ تھی اور ایک پر کار رکھا ہوا تھا اُس کی تعداد معلوم کرنے کے لیے عمل کیا تو اِکیس مرتبہ پایہ اُٹھا، گنے تو معلوم ہوا کہ اُنیس توقلم تھے اور ایک پر کار تھا کل بیس عدد تھے، تعجب ہوا کہ ایک مرتبہ زیادہ اُٹھا، سمجھ میں آیا کہ پر کار میں دو پھل ہوتے ہیں اِس لیے ایک کے بجائے دو بار اُٹھا۔ <br> پھر فرمایا کہ صفوں کے اور قلمدان کے دوواقعے عجیب ہیں ، باقی سب واہیات مگر اُس میں تھوڑے فلسفہ جاننے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ جیسے یہ ضروری نہیں کہ ہر چیز کا علم حاصل ہوجائے اِسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ اگر کسی چیز کا علم حاصل ہوجائے تو اُس علم کا علم بھی ہوجاوے،بعض مرتبہ ایک چیزکا علم حاصل ہو جاتا ہے اِ س طرح کہ وہ چیز خزانہ ٔخیال میں آجاتی ہے مگر آدمی کو اُس چیز کا اِحساس نہیں ہوتا یعنی اُس چیز کے علم کا علم نہیں ہوتا حالانکہ اُس چیز کو قاعدہ کی رُوح سے معلومات میں داخل کیا جائے گا کیونکہ خزانہ ٔخیال میں موجودہے چنانچہ بعض مرتبہ اِنسان آئندہ ہونے والے بعض واقعات کے متعلق سوچتا ہے تو اُس کے دماغ میں ایک بات آجاتی ہے اور پھر بعد کو ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ اُس کے دماغ میں پہلے آچکا تھا کہ یوں ہوگا تو اُس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ چیز خزانہ ٔخیال میں آچکی ہوتی ہے مگر اُس کے خزانہ ٔخیال میں آجانے کا اُس کو اِدراک اور اُس کی طرف اِلتفات نہیں ہوتا اور یہ بھی کشف کی ایک قسم ہے کہ اَصل علم ہو اور علم العلم نہ ہو، ایک مقدمہ تو یہ ہوا۔ <br> دُوسری بات یہ سمجھنا چاہیے کہ جب خزانہ ٔخیال میں کوئی چیز آجاتی ہے تو اُس کے آجانے کا اگرچہ علم نہ ہو مگر اُس کا اَثر بھی عامِل کی متخیلہ کے ذریعہ سے معمول پر بعض مرتبہ ایسا ہی پڑتا ہے جیسا اِس صورت میں ہوتا کہ جب عامِل کو اُس چیز کا اِدراک یعنی علم العلم حاصل ہوجاتا ،بہر حال یہ سب کرشمے قوت ِ خیالیہ کے ہیں ، اِس میں کسی رُوح کا دخل نہیں ۔ <br> اِس کی ایک تائید عرض کرتا ہوں کہ ایک بار ایک صاحب کا خط آیا جن کا دعوی تھا کہ مجھ کو اَرواح سے ملاقات ہوتی ہے اور سوالات کا جواب اَرواح سے معلوم کرلیتا ہوں تو اُنہوں نے لکھا تھا کہ بعض مرتبہ کسی اَمر میں تردّد ہوتا ہے اور اُس کا جواب میں اِسی عمل کے ذریعہ سے معلوم کرنا چاہتا ہوں تو اُس کا جواب کچھ نہیں معلوم ہوتا، نہ نفی میں نہ اِثبات میں ۔ <br> میں کہتا ہوں کہ یہی دلیل ہے اِس کی کہ اِس عمل کے ذریعہ سے جو جواب معلوم ہوتے ہیں اُس کی وجہ یہ نہیں کہ وہاں کوئی رُوح آکر جواب دیتی ہے بلکہ یہ سب اُس عامِل کی قوتِ متخیلہ کا اَثر ہوتا ہے اِس لیے جس بات میں تردّد ہوتا ہے تو ایک خیال دُوسرے کی تاثیر کو مانع ہوجاتا ہے اور اُس وقت دونوں خیالوں میں سے کسی کا اَثر بھی خارج میں نہیں پڑتا اِس لیے جواب بھی کچھ نہیں آتا اور اگر وہ جواب رُوح کا ہوتا تو اِس جواب پر اُس عامِل کے تردّد کا کوئی اَثر نہ پڑتا کیونکہ رُوح کے علم میں اُس کے تردّد کا کیا دخل بلکہ عین تردّد کی حالت میں بھی اُسی طرح جواب مِل جاتا جیسے عدمِ تردّد کی حالت میں ملتا پھر فرمایا کہ یہی حال طلسماتی انگو ٹھیوں کا بھی ہے کہ اِس کے متعلق جو دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اُس کے اَندر چور کا پتہ چل جاتا ہے بالکل غلط ہے بلکہ یہ سب اُسی قوت ِ خیالیہ کا اَثر ہوتا ہے کہ پاس بیٹھنے والے جو ہوتے ہیں اُن ہی کی قوت ِ خیالیہ کااَثر اِس اَنگوٹھی کے دیکھنے والے پر پڑتا ہے چنانچہ اِن پاس والوں کو جس شخص پر شبہ ہوتا ہے اُس کی صورت اِس اَنگوٹھی میں دیکھنے والے کو نظر آجاتی ہے پس سمجھ لیا جاتا ہے کہ اَنگوٹھی میں کوئی اَثر یا قوت ہے جس سے چور کا پتہ لگ گیا حالانکہ وہ سب اِن پاس بیٹھنے والوں کے متخیلہ کا عکس ہوتا ہے۔ <br> ایک شخص کے متخیلہ کا دُوسرے پر عکس پڑنے کی اگرچہ اُس کا قصد بھی نہ ہو، ایسی مثال ہے کہ جیسے اگر کوئی شخص آئینہ کے پاس کھڑا ہو تو اُس کی صورت کا عکس آئینہ پر پڑے گا اگرچہ اُس شخص کواِس کی خبر بھی نہ ہو کہ میری صورت کا عکس آئینہ پر پڑرہا ہے پس اِسی طرح جب ایک ذہن کی محاذات دُوسرے ذہن سے ہوتی ہے تو ایک کا عکس دُوسرے پر خود بخود پڑتا ہے کیونکہ جیسے آئینہ میں خاصیت ہے اِنعکاس کی ،اِسی طرح حق تعالیٰ نے اَذہان کے اَندر بھی خاصیت رکھی ہے اِنعکاس اور اِنطباع کی اور اِسی خیال کی تقویت کے لیے اِس اَنگوٹھی میں دیکھنے والا ایسا تجویذ کیا جاتا ہے جو بچہ ہو کیونکہ بچہ کا متخیلہ مختلف خیالات سے خالی ہونے کے سبب اور سادگی کے سبب زیادہ اَثر قبول کرتا ہے بہ نسبت کسی بڑے شخص کے جس کے ذہن میں سذ اجت کم ہو اور یہی حکمت ہے اِس میں کہ اِس اَنگوٹھی کا نگین عادةً سیاہ رنگ کا رکھا جاتا ہے کیونکہ سیاہ رنگ کے اَندر خاصیت ہے نظر کی شعاعوں کے مجتمع کرنے کی اور یہ اِجتماع معین ہوتا ہے خیال کی یکسوئی میں اور یکسوئی کی حالت میں ذہن زیادہ کام کرتا ہے بخلاف سفید رنگ کے کہ اِس سے شعاعوں کو اِنتشار ہوتا ہے جس کی وجہ سے معمول کا متخیلہ منتشر ہو کر پورے طور پر کام نہیں کرتا پھر فرمایا کہ توجہ ٔ متعارف اور تصرفات جن کو لوگ آج کل بزرگی میں داخل سمجھتے ہیں اُن کا منشاء بھی یہی قوت ِخیالیہ ہے کہ شیخ کی قوت ِ خیالیہ مرید کے اَندر مؤثر ہوتی ہے۔ <br> اور چونکہ اِن اُمور کا منشاء قوت ِخیالیہ ہے نہ کہ قرب و قبول عنداللہ یعنی اِس کام کو ہر وہ شخص کر سکتا ہے جس کے خیال میں ایک گونہ قوت ہوخواہ وہ قوت اُس نے مشق سے پیدا کی ہو یا اُس کے اَندر فطری ہو ،اِس لیے ایسے اُمور کو ہمارے بزرگوں نے کبھی کمال نہیں سمجھا، اور یہ بات نہ تھی کہ ایسے اُمور میں ہمارے بزرگوں کو دخل نہ تھا بلکہ خود ہم نے بعض حضرات کا مشاہدہ کیا ہے کہ اُن کو ایسے اُمور میں بھی کافی دسترس تھی چنانچہ ہمارے اُستاد حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمة اللہ علیہ کی خدمت میں ایک صاحب دہلی سے تشریف لائے تھے تومولانا اُن کو بعد مغرب توجہ دیا کرتے تھے اور وہ صاحب مچھلی کی طرح تڑپا کر تے تھے، مولانا تو توجہ دے کر اُن کو جدا کردیتے تھے مگر اُن صاحب پر مولانا کی اِس توجہ کا بہت دیر تک برابر اَثر رہتا تھا ہم لوگ ڈرتے تھے کہ کہیں اِن صاحب کے چوٹ نہ لگ جائے اِس لیے ہم اُن کو پکڑ تے تھے تو مولانا نے ہم کو منع فرمایا کہ پکڑو مت ہاں اِس کا خیال رکھو کہ یہ کہیں اُونچے نیچے میں نہ جا پڑیں ، باقی رہی چوٹ جس کا تم کو اَندیشہ ہے توچوٹ تو اِن کے لگ چکی ہے اَب کیا لگے گی۔ <br> پھرحضرت حکیم الامت دام ظلہم العالی نے فرمایا کہ اِس عملِ توجہ سے توجہ دینے والے کے قویٰ طبعیہ پر بہت اَثر پڑتا ہے حتی کہ توجہ دینے والے کے بیمار پڑنے کا اَندیشہ ہوجاتا ہے چنانچہ مدرسہ دیوبند میں ہمارے قیام کے زمانے میں مولانا رفیع الدین صاحب مہتمم مدرسہ ،مدرسہ کے طلبہ کو توجہ دیا کرتے تھے تو مولانا رفیع الدین صاحب بیمار پڑگئے،جب مولانا محمد یعقوب صاحب کو اِس کی خبر ہوئی تو آپ ناراض ہوئے اور فرمایا کہ مولانا رفیع الدین صاحب کو ایسا نہ کرنا چاہیے یہ طلبہ یہاں مدرسہ میں پڑھنے آئے ہیں یا توجہ لینے آئے ہیں ۔ <br> پھر حضرت حکیم الامت نے جو اُوپر عملِ مذکور وغیرہ کے متعلق واقعات اور اپنے تجربے بیان فرمائے ہیں اُن کے متعلق فرمایا کہ اِن لہو و لعب سے یہ فائدہ ہوا کہ یہ معلوم ہو گیا کہ اِن چیزوں میں کچھ نہیں ،محض دھوکہ اور واہیات ہے، اور گو اِن چیزوں کا تجربہ جو میں نے کیا یہ فی نفسہ مباح تھا کوئی گناہ نہ تھا مگر چونکہ اہلِ باطل ہی اِن اَعمال کو کرتے ہیں اور اُن کے یہاں اِن اَعمال کا خاص طور پر مشغلہ ہے اِس لیے میں جو اِس عمل میں ذرا دیر مشغول رہا تو اِس مشغولی سے مجھ کو اِس قدر ظلمت محسوس ہوئی کہ اِس ظلمت کی مجھ کو برداشت نہ ہوسکی اور میں پریشان ہو گیا۔ آخر میں نے چاہا کہ کس طرح اِس ظلمت کو دفع کروں تو سوچا کہ اِس ظلمت کی وجہ محض یہ ہے کہ اہلِ باطل کے ایک عمل کے اَندر مشغولی رہی ہے اور قاعدہ ہے کہ العلاج بالضد تو اہلِ نورکی صحبت اِس کا علاج ہے پس کچھ عرصہ اہلِ نور کی صحبت میں بیٹھنا چاہیے تو اُس وقت زِندوں میں تو کوئی ایسا قریب موقع میں مِلا نہیں کہ کچھ عرصہ تک اُس کی صحبت اِختیار کی جاتی لہٰذا پھر یہ کیا کہ بزرگوں کے مزارات پر گیا چنانچہ وہاں تین کوس کے فاصلہ پر ایک بزرگ کا مزار ہے وہاں گیا تب وہ ظلمت رفع ہوئی۔ <br> ناقلِ ملفوظ مذکورہ بالا ایک واقعہ مناسب ِمبحث مذکور عرض کرتا ہے کہ ایک شخص نے اپنے گھر کا حال حضرت والا سے عرض کیا کہ میری والدہ کا اِنتقال زچہ خانہ ہی میں ہوگیا تھا جس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ آنول نال باہر نہ آئی تھی، اَب جو شخص اُن کی والدہ کو خواب میں دیکھتا ہے تو اِسی طرح کہ اُن کے بچہ ہوا ہے مگر پاک وصاف ہیں ۔ اَب سے کوئی سات ماہ کے قریب ہوئے میرے گھر میں بھی یہی خواب دیکھا اپنے متعلق کہ وہ زچہ خانہ میں ہیں اور آنول نال نہیں آئی اور پاک و صاف ہیں ۔اَب آج صبح کا قصہ ہے کہ میری بھاوج نے بھی جو آج کل میرے گھر کے پاس ہی ہیں میرے گھر میں کے متعلق یہی خواب دیکھا کہ وضع حمل میں گو بہت آسانی ہوئی ہے مگر آنول نال نہیں آئی ہے اور پاک صاف ہیں اور آج ہی دوپہرکا قصہ ہے کہ چونکہ اَحقر کے گھر میں وضع حمل قریب ہے اِس لیے جو دائی بلائی ہوئی آئی اُس نے بھی خواب میں دیکھا کہ آنول نال آدھا آیا ہے باقی ٹوٹ کر اَندر رہ گیا پھر بقیہ بھی آگیا ہے اور اَحقر کے گھر میں اِس خواب کا تذکرہ نہ اپنی بھاوج سے کیا نہ اُس دائی سے اور اِن بھاوج نے بھی اپنے خواب کا تذکرہ دائی سے نہ کیا تھا اور نہ دائی کو میرے گھر میں کی والدہ کا قصہ مذکورہ بالا معلوم تھا چونکہ اِن خوابوں سے اَحقر کے گھر میں کے دِل پر اَثر ہے اِس لیے عرض کیے گئے۔ <br> حضرت حکیم الامت دام ظلہم العالی نے اِس کا جواب تحریر فرمایا جس کا ایک ضروری حصہ ذیل میں نقل ہے : <br> ''اگر تمہارے گھر میں کی بھاوج کو تمہاری والدہ کا وہ قصہ نہ بھی معلوم ہو تب بھی یہ خاص اِس فن کا ایک مسئلہ ہے کہ اگر دو شخص ایک جگہ جمع ہوں تو ایک کے ذہن میں جو خیال ہوتا ہے وہ دُوسرے کے ذہن میں پہنچ جاتا ہے، اِس لیے میرے نزدیک یہ خواب نہیں بلکہ محض خیال ہے اور بے اَصل ہے اوربے اَثر ہے اِنشاء اللہ تعالیٰ، بالکل تسلی رکھو۔'' <br> ناقلِ ملفوظ ہذا عرض کرتا ہے کہ اِس کے تھوڑے عرصہ کے بعد اُس شخص کے گھر میں وضع حمل ہوا اور بفضلہ تعالیٰ آنو ل نال بخوبی نکل آئی اور ہر طرح خیریت رہی اور سب خیالات جن کوخواب سمجھا گیا تھا ،غلط نکلے۔ <br> اَحقر ناقلِ ملفوظ مرقومہ بالا عرض کرتا ہے کہ اِسی قوتِ متخیلہ کے اَفعال و آثار کے متعلق رسالہ اَلقول الجلیل حصہ دوم صفحہ ٢٧ مطبوعہ دہلی میں بھی ایک ملفوظ لکھا جا چکا ہے اُس میں اِس باب کے متعلق دُوسری عجیب تحقیقات بیان فرمائی گئی ہیں ۔ (ملفوظات حکیم الامت ج ٩ ص ٥٦ ) <br> تم کو کہاں ملیں گے بمبار مدرسوں میں <br> ( مولانا کوثر صاحب سہارنپوری،اِنڈیا ) <br> ٭٭٭ <br> ہر دم برس رہے ہیں اَنوار مدرسوں میں <br> آکر تو دیکھئے نا اِک بار مدرسوں میں <br> ہر پل محبتوں کا اِظہار مدرسوں میں <br> گفتار مدرسوں میں کردار مدرسوں میں <br> دِن بھر تلاوتیں ہیں شب بھر عبادتیں ہیں <br> ہوتا نہیں کوئی دِن اِتوار مدرسوں میں <br> تنخواہ چھوٹی موٹی گھر بھی کرائے والے <br> ہیں فاقہ مست پھر بھی سرشار مدرسوں میں <br> اپنی کوئی ضرورت کہتے نہیں کسی سے <br> ہوتے ہیں یوں بھی دیکھو خوددار مدرسوں میں <br> دیکھو سبق وفا کا دیتے ہیں رات دِن ہم <br> تم سوچتے ہو ہونگے غدار مدرسوں میں <br> ترکاری کاٹنے کی چھریاں تلک نہیں ہیں <br> کچھ لوگ ڈھونڈتے ہیں تلوار مدرسوں میں <br> ہم نے کبھی پٹاخے چھوڑے نہیں ہیں بھائی <br> تم کو کہاں ملیں گے بمبار مدرسوں میں <br> ذرّے یہاں جو آئے خورشید بن کے نکلے <br> قاسم رشید محمود اَبرار مدرسوں میں <br> تسبیح جانمازیں قرآن اور کتابیں <br> اِس کے علاوہ کیا ہے اے یار مدرسوں میں <br> جن کو کوئی کھٹک ہو شک ہو کسی طرح کا <br> آ جاؤ موسٹ ویلکم سو بار مدرسوں میں <br> آزادیوں کے نعرے ہم نے عطا کیے تھے <br> ہیں مادرِ وطن کے معمار مدرسوں میں <br> محسوس خود ہی ہوگا سچ کیا ہے جھوٹ کیا ہے <br> تم آکے پاس بیٹھو اِک بار مدرسوں میں <br> اپنی عنایتوں کو اپنے ہی پاس رکھیے <br> کیجیے مداخلت نہ سرکار مدرسوں میں <br> کوئی اگر نہ پوچھے تو مدرسوں میں آنا <br> پاؤ گے ہم کو مخلص غمخوار مدرسوں میں <br> <br> ایسا نہ کام کرنا جس سے کسی کو غم ہو <br> ہم سے لیا بڑوں نے اِقرار مدرسوں میں <br> سوتی ہے قوم ساری ہم پر بھروسہ کر کے <br> رہتے ہیں رات دِن ہم بیدار مدرسوں میں <br> بدنام کرنے والو اَب ہوش میں بھی آجاؤ <br> ہم لوگ بن نہ جائیں اَنگار مدرسوں میں <br> ہر سمت ہر جگہ ہے تبدیلیوں کا موسم <br> مولیٰ رہے سلامت معیار مدرسوں میں <br> اَب اپنی زندگی کا کوثر خدا ہی حافظ <br> ہم نے تو پھونک ڈالے گھر بار مدرسوں میں <br> اَخبار الجامعہ <br> ( جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد رائیونڈ روڈ لاہور ) <br> ٭٭٭ <br> ١١فروری کو شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب وفاق المدارس العربیہ کی مجلس ِ شوریٰ کے اِجلاس میں شرکت کی غرض سے کراچی تشریف لے گئے،واپسی پر کراچی سے براستہ ملتان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اَمیر حضرت مولانا عبدالمجید صاحب لدھیانوی رحمة اللہ علیہ کی تعزیت کے لیے کہروڑپکا تشریف لے گئے۔ <br> ١٧فروری کو جامعہ مدنیہ جدید کے اُستاذ الحدیث حضرت مولانا محمد حسن صاحب مدظلہم ملائشیا کے دورہ پر تشریف لے گئے اور ٢٦فروری کو بخیر وعافیت واپس تشریف لے آئے۔ <br> ١٩ فروری کو شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب جامعہ مدنیہ جدید کے فاضل مولوی طاہر صاحب کے چھوٹے بھائی کی تکمیل ِحفظ کے موقع پر رسول پورہ تشریف لے گئے جہاں آپ نے بعد نمازِ ظہر قرآنِ پاک کی عظمت اور حفاظت پر تفصیلی بیان فرمایا۔ <br> ٢٢ فروری کو شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب وفاق المدارس العربیہ کے ڈویژن سطح پر ہونے والے اِجلاس میں شرکت کے لیے جامعہ اَشرفیہ تشریف لے گئے۔ <br> مخیرحضرات سے اَپیل <br> جامعہ مدنیہ جدیدمیں بحمد اللہ چار منزلہ دارُالاقامہ (ہوسٹل )کی تعمیر شروع ہو چکی ہے پہلی منزل پر ڈھائی کروڑ روپے کی لاگت کا تخمینہ ہے، مخیر حضرات کو اِس کارِ خیر میں بڑ ھ چڑھ کر حصہ لینے کی دعوت دی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ (اِدارہ) <br> وفیات <br> ٭٭٭ <br> یکم فروری کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اَمیر،جامعہ باب العلوم کہروڑپکا کے شیخ الحدیث اور اِقراء روضة الاطفال ٹرسٹ کے سرپرست حضرت مولانا عبدالمجید صاحب لدھیانوی رحمة اللہ علیہ ملتان میں وفاق المدارس کے ایک اِجلاس کے دوران بوجہ عارضہ قلب اچانک اِنتقال فرماگئے۔اِس ناگہانی حادثہ پر اللہ تعالیٰ اُن کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور حضرت رحمة اللہ علیہ کی خدمات کو قبول فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اُن کی وفات سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر فرمائے۔ <br> ٣ فروری کوجامعہ مدنیہ جدید کے فاضل مولوی محمد اَشرف صاحب ٹریفک حادثہ میں وفات پاگئے۔مرحوم نے جامعہ ہی میں تعلیم پائی اور تعلیم کے بعد سے جامعہ کے شعبہ برقیات سے وابسطہ رہے، ١٢سالہ طویل دور بہت خوش اَسلوبی سے گزارا۔ <br> ٣ فروری کو جامعہ مدنیہ جدید کے بہی خواہ جناب عبدالناصر صاحب کے والد گرامی بوجہ عارضہ قلب اَچانک وفات پاگئے ۔ <br> جامعہ مدنیہ لاہور کے مدرس مولانا قاری سعید اَحمد صاحب کی نانی صاحبہ گزشتہ ماہ طویل علالت کے بعد وفات پاگئیں ۔ <br> ١٤فروری کوحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب مدظلہم کے بڑے بھائی جناب عبدالمنان صاحب طویل علالت کے بعد لاہور میں وفات پاگئے۔ <br> اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ <br> جامعہ مدنیہ جدید اور خانقاہِ حامدیہ میں مرحومین کے لیے اِیصالِ ثواب اور دُعائے مغفرت کرائی گئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ، آمین۔ اہل اِدارہ جملہ پسماندگان کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔ <br> جامعہ مدنیہ جدید و مسجد حامد <br> کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیجیے <br> بانی ٔجامعہ حضرت اَقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب رحمہ اللہ نے جامعہ مدنیہ کی وسیع پیمانے پر ترقی کے لیے محمد آباد موضع پاجیاں (رائیونڈ روڈلاہور نزد چوک تبلیغی جلسہ گاہ) پر برلب ِسڑک جامعہ اور خانقاہ کے لیے تقریباً چوبیس ایکڑ رقبہ ١٩٨١ء میں خرید کیا تھا۔جہاں الحمد للہ تعلیم اور تعمیر دونوں کام بڑے پیمانہ پر جاری ہیں ۔ جامعہ اَور مسجد کی تکمیل محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی طرف سے توفیق عطاء کیے گئے اہلِ خیر حضرات کی دُعائوں اور تعاون سے ہوگی ۔ اِس مبارک کام میں آپ خود بھی خرچ کیجیے اَور اپنے عزیزو اَقارب کو بھی ترغیب دیجیے۔ ایک اَندازے کے مطابق مسجد میں ایک نمازی کی جگہ پر دس ہزار روپے لاگت آئے گی، حسب ِاستطاعت زیادہ سے زیادہ نمازیوں کی جگہ بنوا کر صدقہ ٔ جاریہ کا سامان فرمائیں ۔ <br> منجانب <br> سیّد محمود میاں مہتمم جامعہ مدنیہ جدید و اَراکین اَورخدام خانقاہ ِحامدیہ <br> خطوط ،عطیات اور چیک بھیجنے کے پتے <br> سیّد محمود میاں '' جامعہ مدنیہ جدید'' محمد آباد19 کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور <br> فون نمبر : 924235330310+ فیکس نمبر : 924235330311+ <br> فون نمبر : 924237726702+ فیکس نمبر : 924237703662+ <br> موبائل نمبر : 923334249301+ <br> جامعہ مدنیہ جدید کا اکاؤنٹ نمبر (0095402010079150) MCB کریم پارک برانچ لاہور <br> مسجد حامد کا اکاؤنٹ نمبر (0095404010010461) MCB کریم پارک برانچ لاہور <br>
Email us your queries on jamiamadniajadeed@gmail.com you will be answered in less than 24 hours or Give us a call directly at +92 333 4249302, +92 333 4249 301.