بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

Anwar-e-Madina

ماہنامہ انوار مدینہ

مارچ 2026

jamiamadnijadeed

ماہنامہ انوار مدینہ <br> جلد : ٣٤ رمضان المبارک ١٤٤٧ھ / مارچ ٢٠٢٦ء شمارہ : ٣ <br> ٭٭٭ <br> بیاد : قطب الاقطاب عالم ربانی محدث کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں <br> فیضانِ نظر : محمود الملّة و الدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب <br> مولانا نعیم الدین صاحب ( مدیر اعلیٰ ) <br> مولانا محمد عابد صاحب ( نائب مدیر) <br> مولانا عکاشہ میاں صاحب(مدیر مسئول) <br> ڈاکٹر محمد امجد صاحب (مدیر منتظم) <br> ٭٭٭ <br> <br> <br> <br> <br> بدلِ اشتراک <br> ٭٭٭ <br> پاکستان فی پرچہ 50 روپے ....... سالانہ 600 روپے <br> سعودی عرب،متحدہ عرب امارات..... سالانہ 90 ریال <br> برطانیہ،افریقہ ........................ سالانہ 20 ڈالر <br> امریکہ .................................. سالانہ 30 ڈالر <br> <br> <br> <br> <br> جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ اور ای میل ایڈ ریس <br> ٭٭٭ <br> www.jamiamadniajadeed.org <br> jmj786_56@hotmail.com <br> Whatsapp : +92 333 4249302 <br> <br> <br> <br> <br> ترسیل ِزر و رابطہ کے لیے <br> ٭٭٭ <br> '' جامعہ مدنیہ جدید'' محمد آباد19 کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور <br> موبائل : 923334249301+ <br> موبائل : 923334249302+ <br> موبائل : 923234250027+ <br> جازکیش نمبر : 923044587751+ <br> <br> <br> <br> <br> دارُالافتاء کا ای میل ایڈ ریس اور وٹس ایپ نمبر <br> ٭٭٭ <br> darulifta@jamiamadniajadeed.org <br> Whatsapp : +92 321 4790560 <br> <br> <br> <br> <br> مولاناسیّد رشید میاں صاحب طابع وناشر نے شرکت پرنٹنگ پریس لاہور سے چھپواکر دفتر ماہنامہ ''انوارِ مدینہ '' نزد جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور سے شائع کیا <br> <br> <br> <br> <br> اس شمارے میں <br> ٭٭٭ <br> حرفِ آغاز ٤ <br> درسِ حدیث حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ٧ <br> سیرتِ مبارکہ ...شہری مملکت مکہ ، جدید تنظیمات حضرت اقدس مولانا سید محمد میاں صاحب ١٢ <br> مقالاتِ حامدیہ ..... تصوف کیا ہے ؟ حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ٢٠ <br> عقیدۂ ختم ِ نبوت کی عظمت واہمیت حضرت مولانامحمد یوسف صاحب لدھیانوی شہید ٢٢ <br> خطبات سید محمود میاں ... مہمان بننے کے آداب حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ٢٧ <br> فضیلت کی راتیں حضرت مولانا نعیم الدین صاحب ٣٢ <br> درسِ حدیث ... بین الاقوامی سفارتی قوانین حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ٤٤ <br> اخبار الجامعہ ٦٢ <br> وفیات ٦٥ <br> <br> <br> <br> <br> حرفِ آغاز <br> ٭٭٭ <br> غزہ : انسانیت، عدل اور ہماری دینی ذمہ داری <br> ٭٭٭ <br> نَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْدُ ! <br> دنیا کے نقشہ پر ایک چھوٹا سا خطہ '' غزہ'' آج اُمت ِمسلمہ کے اجتماعی ضمیر کا امتحان بن چکا ہے جنگ بندی کے اعلانات ، بین الاقوامی سفارتی بیانات اور عالمی اجلاسات اپنی جگہ مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ وہاں کے لاکھوں انسان اب بھی خوف، بھوک، بیماری اور بے سرو سامانی کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں ! سوال یہ ہے کہ ہم اس صورتِ حال کو صرف خبر سمجھ کر پڑھ لیں یا اسے ایک دینی فریضہ سمجھ کر اپنے کردار کا تعین کریں ؟ <br> یہ بات سب کے سامنے عیاں ہے کہ غزہ میں ہونے والی کارروائیوں کے نتیجہ میں عام شہریوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے ! جنگی قوانین اور انسانی حقوق کی ممکنہ خلاف ورزیاں ، مسلح گروہوں کی کارروائیاں ، شہری آبادی پر حملے، جبری نقل مکانی ، امداد تک رسائی میں رکاوٹیں ، خوراک، صاف پانی، ادویات اور علاج کی شدید کمی، زخمیوں اور بیماروں کی بڑھتی تعداد، فوری طبی امداد کی محتاج عوام، قیدیوں اور عام لوگوں کے ساتھ ناروا سلوک،رمضان جیسے بابرکت مہینے میں بھی بے گھر خاندان کھلے آسمان تلے روزے رکھ رہے ہیں ! یہ سب ایسے امور ہیں جوکسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ، ان امورپر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے ! اسلام کا اصول واضح ہے <br> ( وَلَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ) ١ <br> ''زیادتی نہ کرو بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا'' <br> آج اگر یہ زیادتیاں ہو رہی ہیں تو زیادتی کرنے والے قرآن کے اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے انجام پر بھی نظر رکھیں ! اسلام میں ایک بے گناہ انسان کی جان کی حرمت پوری انسانیت کے برابر قرار دی گئی ہے قرآن مجید کی یہ آیت اس طرف رہنمائی کرتی ہے : <br> ( مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْارْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا ) ٢ <br> ''جس نے ایک جان کو ناحق قتل کیا یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور غرض سے قتل کیا گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا'' <br> آج جب ہزاروں انسان بھوک اور بیماری کا شکار ہیں توکیاہماری ذمہ داری صرف سوشل میڈیا پر اظہارِ افسوس تک محدود ہونی چاہیے ؟ ہمیں سوچنا پڑے گا ہم کس قدر جواب دہ ہیں ؟ <br> دین اسلام کی تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ کسی بھی فریق سے ہونے والی زیادتی کی مذمت کرنا اور مظلوم کا ساتھ دینا ہمارا دینی فریضہ ہے ! انصاف کا تقاضا ہے کہ ہم حق بات کہیں ، خواہ وہ کسی کے خلاف ہو لہٰذا ایک دینی مجلہ ہونے کے ناطے ہم اپنے قارئین کو چند امور کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں : <br> (١) مظلوموں کے لیے خصوصی دعا، قنوتِ نازلہ اور اجتماعی استغفارکرنے کا اہتمام کرنا چاہیے ! <br> (٢) معتبر فلاحی اداروں کے ذریعے وہاں انسانی امداد میں حصہ لیناچاہیے ! <br> (٣) مستند ذرائع سے حالات کو سمجھنا اور افواہوں سے بچناچاہیے ! <br> (٤) عدل پر مبنی موقف اختیار کریں اورہر قسم کی زیادتی کی مذمت کریں خواہ وہ کسی کی طرف سے ہو ! <br> (٥) غزہ کا المیہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امت ِمسلمہ ایک جسم کی مانند ہے، اگر ایک عضو کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین رہتا ہے ! ہمیں چاہیے کہ ہم اس بے چینی کو دعا، خدمت ِ خلق اور عدل کے قیام کی جدوجہد کی صورت میں تبدیل کریں ! <br> ١ سورة البقرة : ١٩٠ ٢ سورة المائدة : ٣٢ <br> تاریخ گواہ ہے کہ آزمائش کی رات جتنی بھی طویل ہو سحر ضرور طلوع ہوتی ہے، مگر سحر اُن قوموں کے لیے آتی ہے جو صبر، حکمت اور اتحاد کا راستہ اختیار کریں ! اللہ تعالی اہلِ غزہ کو امن، عزت اور استحکام دیتے ہوئے ہمیں حق کے ساتھ کھڑے ہونے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین ! ! <br> غزہ کی موجودہ صورتِ حال محض ایک سیاسی یا جغرافیائی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ہمارے اجتماعی ضمیر، ایمانی غیرت اور انسانی ہمدردی کا امتحان ہے ! ان سطور کا مقصد کسی فریق کی اندھی حمایت یا مخالفت نہیں بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں عدل وانصاف ،انسانی جان کی حرمت اور انسانی وقار کے اصولوں کو اُجاگر کرنا ہے ! ! <br> ہم اپنے معزز قارئین سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں جذبات کے بجائے حکمت، تحقیق اور دعا کو اپنا شعار بنائیں ، مصدقہ معلومات تک رسائی حاصل کریں ، افواہوں سے بچیں اور جہاں تک ممکن ہوسکے انسانی امداد کے کاموں میں حصہ لیں ! ! <br> یہ مجلہ ہمیشہ حق، انصاف اور مظلوم کی حمایت کے اصول پر قائم رہا ہے اور ان شاء اللّٰہ مستقبل میں بھی ان ہی اصولوں پر قائم رہے گا ! اللہ تعالیٰ ہمیں سچ کہنے، حق پر قائم رہنے اور اُمت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ! <br> محمد عابد <br> ٨ رمضان المبارک ھ/٢٦فروری ٢٠٢٦ئ <br> <br> <br> <br> <br> شب ِ قدر کی دعا <br> ٭٭٭ <br> حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا نے جب پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم شب ِ قدر میں کیا دعا کروں ؟ تو آپ نے یہ دعا تعلیم فرمائی <br> اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ <br> '' اے اللہ ! اس میں شک نہیں کہ تو معاف کرنے والا ہے معافی کو پسند فرماتا ہے <br> لہٰذا مجھے معاف فرمادیجئے'' <br> <br> <br> <br> <br> درسِ حدیث <br> ٭٭٭ <br> قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ <br> کا مجلس ِذکر کے بعد درسِ حدیث ''خانقاہِ حامدیہ چشتیہ'' شارع رائیونڈ لاہور کے زیرِانتظام ماہنامہ '' انوارِ مدینہ'' کے ذریعہ ہر ماہ حضرت اقدس کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کے اس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے،آمین۔ (ادارہ) <br> ٭٭٭ <br> نبی کی سیاسی اور جنگی بصیرت سب سے اعلیٰ ہوتی ہے <br> جدید ہتھیاروں کا حصول ! جنگی قوت کا مدار''دُور مار''پر ہے <br> کم سے کم خون ریزی پیش ِ نظر رہے <br> (درسِ حدیث نمبر٢٢ ٢٧ صفر المظفر ١٤٠٢ھ/٢٥ دسمبر ١٩٨١ئ) <br> ٭٭٭ <br> اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا <br> مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ ! <br> ایک حدیث شریف میں یہ واقعہ آرہا ہے کہ جناب ِرسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے طائف پر جب حملہ کیا ہے تو وہاں '' منجنیق ''نصب کی تھی ١ یہ منجنیق اس زمانہ میں ایک ایسی شکل کی بڑی چیز ہوتی تھی جس سے بڑے بڑے پتھر پھینکے جاسکتے تھے دور ! اور ایسے بھی ہوتا تھا کہ آگ کے گولے لگاکر آگ پھینک دی جاتی تھی ! یہ نئی چیز ایجاد ہوئی تھی اس وقت ! یہ گویا توپ کی طرح سے ایک چیز تھی کہ گولہ پھینک دے دور ! اسی طرح یہ منجنیق کی طرح کی چیز بعد میں جو ایجاد ہوئی وہ توپ ہوئی ! <br> اور تیر کی طرح کی چیز جو بعد میں ایجاد ہوئی وہ بندوق کہہ لیجیے میزائل کہہ لیجیے، راکٹ کہہ لیجیے، یہ سب اسی قسم کی چیزیں ہیں کہ دور جائیں ! ! ! <br> ١ مشکوٰة المصابیح کتاب الجہاد رقم الحدیث ٣٩٥٩ <br> یہ خیال جو ہے کہ اسلام پر عمل کرنے سے آدمی میں سستی آجاتی ہے، جہاد کا جذبہ نہیں رہتا یا ترقی کا جذبہ نہیں رہتا یا اور اس قسم کے جو غلط خیالات اور غلط چیزیں بعض لوگ زبان سے ادا کردیتے ہیں ، یہ بے سوچے سمجھے اور مذہبی معلومات حاصل کیے بغیر ایسا خیال ہے، ورنہ جناب ِرسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے جو اُس زمانہ میں جدید ترین چیز ایجاد ہوئی تھی وہ استعمال فرمائی ! ! یہ طائف ایک پہاڑی علاقہ ہے ٹھنڈا پہاڑ ہے اونچائی پر ہے اس میں اونچی جگہ محفوظ جگہ انہوں نے قلعہ بنا لیا ! <br> جنگی حکمت ِ عملی ،کم سے کم خون ریزی : <br> تو جناب ِرسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی نہایت عمدہ سیاست تھی اور اس میں یہ ہے قاعدہ اسلام کا کہ تبلیغ کی جائے سمجھایا جائے، نہ مانے تو پھر (لڑائی) ہے ، اگر مان جائے تو پھر ٹھیک ہے ! گویا دوسرے کا خون جو ہے وہ کم سے کم کیا جائے ! اس کا لحاظ بڑا ضروری ہے کہ کم سے کم آدمی مارے جائیں ! ! <br> (حضور علیہ الصلٰوة والسلام) ایک جگہ کہیں معرکے میں تشریف لے جارہے تھے راستے میں دیکھا ایک عورت مری پڑی ہے اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو آگے بھیج رکھا تھا کہ آگے چلیں تو جو آگے جاتا ہے وہ بھی کچھ کارروائی کر بیٹھتا ہے وہ بھی ایک حصہ ہوتا ہے لشکر کا ! اس عورت کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم بھی پاس سے گزرے، آپ نے فرمایا کہ کوئی آدمی تیز آگے جاکر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو منع کردے کہ بچوں اور کمزوروں کو نہ ماریں ١ ! ! <br> ظاہر ہے کہ یہ عورت لڑنے نہیں آئی تھی جو لڑنے نہیں آیا اس کو کیوں ماریں ؟ تو یہ بات اسلام کے اندر آداب ِ حرب میں گویا داخل ہے کہ کم سے کم خون کیا جائے ! ! ! <br> کم سے کم خون ریزی کا فائدہ : <br> اور اس سے فائدہ بھی ہے اقتصادی کہ لوگ اگر زیادہ مارے جائیں تو بعد میں بڑی دشواریاں پیدا ہوجاتی ہیں ! مرد مارے جاتے ہیں ، عورتیں رہ جاتی ہیں ، ایک آدمی مارا گیا ہے (وہ گھر کا کفیل تھا) خواہ مخواہ بے وجہ (مارا گیا ہے) وہ لڑنے بھی نہیں آیا، وہ اسی لیے چھپتا پھرتا رہا مگر قتل ِعام کے اندر <br> ١ مشکوٰة المصابیح کتاب الجہاد رقم الحدیث ٣٩٥٥ <br> وہ بھی آگیا ! بڑے نقصانات اور اقتصادی مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں کہ علاقہ تو فتح ہوگیا مگر وہاں یہ مشکل ہے کہ کمانے والے نہیں رہے، کھانے کی کفالت کرنے والے نہیں رہے، تربیت کرنے والے نہیں ، ایک عجیب طرح کی حالت ہوجاتی ہے اور اگر یہ رعایت نہ رکھی گئی ہوتی تو پھر یہ شام کا علاقہ ایران کا (علاقہ) اور جتنے علاقے مسلمانوں نے فتح کیے ہیں سب کے سب میں بد حالی پیدا ہوگئی ہوتی، نہ پیداوار ہوتی نہ کچھ ہوتا اور پریشانی ہی پریشانی ہوتی تو ایسے نہیں ہوا جہاں یہ (صحابہ کرام) گئے ہیں وہاں برکات ہوئیں اور لوگ اپنی رغبت سے مسلمان ہوئے ہیں ! ! ! <br> تو جب مکہ مکرمہ فتح ہوگیا اس کے بعد حنین اس کے بعد طائف ، تو طائف جب پہنچے ہیں تو وہاں ان لوگوں نے یہ کیا کہ قلعہ بند ہوگئے اور وہاں ان کے پاس راشن بھی تھا، پانی کی بھی کمی نہیں تھی صحابہ کرام باہر سے گھیرا ڈالے ہوئے تھے وہاں یہ( منجنیق) استعمال ہوا ہے رسولِ کریم علیہ الصلٰوة والسلام نے یہ فرمایا کہ ہم کل واپس روانہ ہوتے ہیں کیونکہ لڑنے میں کوئی فائدہ نہیں ، اس میں تو یہ ہوگا کہ لڑائی زیادہ ہوگی تو آدمی مارے جائیں گے خواہ مخواہ بے وجہ اور کوئی فائدہ بھی حاصل نہیں ہوگا، ہمارا بھی نقصان ہوگا اور ان کا بھی ہوگا ! بہرحال وہ ڈرگئے تھے قلعہ بند ہوگئے تھے، میدان میں لڑنے کی ہمت ان کی نہیں تھی تو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ کل کو ہم یہاں سے واپس چلتے ہیں بس ! کیونکہ مکہ مکرمہ فتح ہوگیا، اس کے آس پاس کے علاقے سب فتح ہوگئے، طائف رہ گیا ! <br> سیاسی اور جنگی اعتبار سے اعلیٰ رائے : <br> رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی رائے مبارک محض جنگی ہی نہیں تھی بلکہ بہت عمدہ سیاسی رائے مبارک تھی ! ! آپ نے یہ فرمایا کہ یہ بغیر اپنی منڈی (تک رسائی)کے رہ ہی نہیں سکتے ان کے ہاں جو پیداوار ہے، انگور ہے، انار ہے اور جو ایسے پھل ہیں ، سبزیاں ہیں جو بھی پیداوار یہاں ہوتی ہے اسے خریدنے والا کوئی علاقہ سوائے مکہ مکرمہ کے نہیں ہے اور مکہ مکرمہ پر ہم قبضہ کرچکے ہیں تو انہیں منڈی کی ضرورت پڑے گی گزارے کے لیے تویہ خود بخود آجائیں گے بغیر لڑائی کے ! ! تو آپ نے اعلان فرمایا کہ اب کل چلنا ہے صحابہ کرام نے کہا کہ ہم تو نہیں جانا چاہتے بغیر اسے فتح کیے ہوئے ! رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی رائے سیاسی بصیرت اور جنگی بصیرت(کی بنیاد پر) تھی ! آپ نے فرمایا اچھا نہیں جانا چاہتے تو پھر کل لڑیں گے تو اب جب لڑے تو وہ اوپر تھے، قلعہ بند تھے، پتھر مارے اوپر سے آدمی تو وہ بھی بڑی دور جاتا ہے اور چوٹ بہت لگتی ہے، تکلیف بہت پہنچادیتا ہے ! ! ! <br> یہی نتیجہ ہوا منجنیق کا مقصد یہ تو ہوتا تھا کہ دور سے دور پھینکا جاسکتا تھا، باقی قریب جب پہنچ جائیں شہر پناہ کے اور فصیل کے اور وہاں وہ دشمن اوپر سے پھینکتے بھی ہوں کوئی چیز تو وہ کافی دور جاسکتی ہے ! تو اس میں یہ ہوا کہ صحابہ کرام کو چوٹیں بہت آئیں ، آپ نے جب یہ دیکھا کہ ان کے چوٹیں آئیں تو پھر فرمایا کہ اچھا ہم کل واپس چلیں گے تو وہ سب کے سب خوش ہوگئے، خوشی سے راضی ہوگئے ! رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کو اس پر ہنسی آئی اور آپ نے فرمایا کہ دیکھیں کل میں نے کہا تھا کہ ہم کل واپس چلیں گے تو یہ راضی نہیں ہوئے اور(اب) میں نے کہا کہ کل چلیں گے تو یہ راضی ہوگئے ! ! تو وہ عادی ہوچکے تھے اس چیز کے کہ فتح کیے بغیر نہیں جانا اور اگر وہ ٹھہرتے تو فتح ہو ہی جاتا یہ بھی صحیح ہے بات ! <br> فوجی ضابطہ اور فائدہ : <br> لیکن رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کا جو دیا ہوا سبق ہے وہ یہ ہے کہ بلاوجہ نہ اپنے آپ کو نقصان پہنچائو نہ انہیں نقصان پہنچائو ! اور اس طرح سے رہوگے تو دشمنی بھی نہیں ہوگی اور وہ خود بخود(ہتھیار ڈال کر) آجائیں گے اور اسی طرح سے ہوا بھی ! خیر بعد میں صحابہ کرام واپس آنے پر راضی ہوگئے اور اس میں کوئی سبکی نہیں تھی ان کی کیونکہ (طائف والوں نے) کوئی باہر آکر تھوڑی مقابلہ کیا ، قلعہ کے اندر سے ہی انہوں نے پتھر مارے ہیں چوٹ ووٹ لگی ہے انداز ہوگیا صحابہ کرام کو کہ اس کو فتح کرنے میں خاصی محنت کرنی پڑے گی ، جب یہ انداز ہوگیا تو پھر انہوں نے اگلے دن جاکر تجربے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی رائے مبارک سے اتفاق کیا اور اسی پر ہنسی آئی آپ کو ! ! پھر آپ تشریف لے آئے تویہ لوگ بھی بعد میں اسی طرح جیسے انداز تھا رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کا اسی طرح یہ لوگ آئے ہیں اور پھر مسلمان ہوئے ہیں ! ظاہری اسباب یہی تھے کہ فوری منڈی کی ضرورت تھی انہیں کہ اپنی ضرورت کی چیزیں لائیں اور بیچیں بھی، اس لیے وہ آہی گئے ! ! ! <br> جنگی قوت کا مدار : <br> اس میں ذکر آرہا ہے منجنیق کا ! تو منجنیق ایک چیز تھی جو اُس زمانہ میں نئی ایجاد ہوئی تھی ! تو مسلمانوں کو ایک اصول آپ نے بتلادیا ہے کہ اَلاَ اِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْیُ ١ طاقت نام ہے پھینکنے کی قوت کا ، جو دور سے دور پھینک سکتا ہے وہ زیادہ قوی ہے بہ نسبت اس کے کہ جو دور زیادہ نہ پھینک سکے ! تو طاقت نام ہے رَمِی کا، پھینکنے کا ! آج تک وہی چیز چلی آرہی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے بالکل صحیح ترین چیز مسلمانوں کو بتلائی ہے کہ طاقت بڑھائو پھینکنے کی طاقت ! پھینکنے کی طاقت میزائل ہیں آج اس کی یہ شکل بنی ہوئی ہے اور اس میں مسلمان سب سے پیچھے ہیں اور سب سے پہلے تعلیم مسلمانوں ہی کو حاصل ہوئی ہے کہ اَلَا اِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْیُ <br> بہرحال بہت آداب ہیں اور بہت طریقے ہیں اور ہر طرح کا نشیب و فراز ہے جس کا خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ ساری دنیا کو اخلاقی اور اعتقادی فلاح حاصل ہو اور نقصان نہ ہو، بہت کوشش کی گئی ہے کہ نقصان جتنا بھی ممکن ہوسکتا ہے کم سے کم ہو ! <br> اللہ تعالیٰ ہم سب کو اچھے اخلاق اور استقامت نصیب فرمائے، آمین ۔ اختتامی دعا....................... <br> (مطبوعہ ماہنامہ انوارِ مدینہ جنوری ١٩٩٥ ) <br> ١ مشکوٰة المصابیح کتاب الجہاد رقم الحدیث ٣٨٦١ <br> ٭٭٭ <br> <br> <br> <br> <br> قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ <br> کے سلسلہ وار مطبوعہ مضامین و دروس جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ پر پڑھے اور سنے جا سکتے ہیں <br> http://www.jamiamadniajadeed.org <br> <br> <br> <br> <br> سیرتِ مبارکہ <br> ٭٭٭ <br> شہری مملکت مکہ ، جدید تنظیمات <br> سیّد الملة و مؤرخ الملة حضرت مولانا سیّد محمد میاں صاحب کی تصنیفِ لطیف <br> سیرتِ مبارکہ '' محمد رسول اللّٰہ '' صلی اللہ عليہ وسلم کے چند اوراق <br> ٭٭٭ <br> مختلف شعبے اور منصب : <br> مکہ جو صرف ایک شہر یاایک آزاد ریاست نہیں بلکہ پورے عرب کا متبرک مرکز بھی یہی تھا جہاں عرب کا مرکزی معبد کعبہ تھا ! اس کے انتظامات کی جو صورتیں پہلے تھیں قُصی نے ان کو باقی رکھا (تفصیل پہلے گزر چکی ہے) ان کے علاوہ اور بہت سے شعبے قائم کیے ان کے منصب اور منصب دار (عہدہ دار) مقرر کیے، کچھ شعبے اپنے پاس رکھے ، تفصیل یہ ہے : <br> (١) دارُالندوہ : اس کا نظم و نسق مستقل شعبہ تھا جو قُصی سے متعلق تھا اس کے بعد عبدالدار سے متعلق ہوا ! <br> (٢) مشورہ : یعنی مشاورتی اجتماع کا انتظام ! <br> (٣) حجابت : کلید برداری یعنی کھولنے اور بند کرنے کی ذمہ داری اور خانہ کعبہ کے اندر داخل ہونے کی اجازت دینے کا اختیار ! <br> (٤) سدانت : دربانی، کھولنے بند کرنے اور صاف رکھنے کی خدمت ! یہ کوئی مستقل منصب نہیں تھا بلکہ منصب ِحجابت ہی سے متعلق تھا ! <br> (٥) ................. (حرم کعبہ کا عام انتظام اور نگرانی) اس منصب کا ذمہ دار یہ نگرانی بھی رکھتا تھاکہ حرم میں شورو غل یا جھگڑا فساد نہ ہو ! <br> (٦) ایسار ١ بتوں سے استخارہ یعنی فال لینا جس کا قاعدہ مقرر تھا ! <br> (٧) اموالِ محجرہ ٢ خانہ کعبہ کوجو چڑھاوے چڑھائے جاتے تھے ان کی حفاظت کا شعبہ ! <br> خانہ کعبہ میں ایک پختہ گڑھا کنوئیں کی طرح تھا ، چڑھاوے کی طلائی اور نقرئی چیزیں اس کنوئیں میں ڈال دی جاتی تھیں اسی کنوئیں کے کنارہ پر صنم خانہ کعبہ کا سب سے بڑا بت ہُبل تھا ! <br> حج سے متعلق : <br> (١) رفادہ حجاج کے کھانے کا انتظام : <br> قُصی کا ایک کارنامہ یہ بھی تھا کہ جب اس نے قریش کومکہ میں آباد کیاتو ان کے ذہن نشین کرایا کہ آپ محافظ اور خادم کعبہ ہیں ، زائرین جو عرب کے کونہ کونہ سے آتے ہیں یہ آپ کے مہمان ہونے چاہئیں اور ان کے خوردونوش کاانتظام آپ کو کرنا چاہیے ،یہ قریش کی عالی حوصلگی تھی کہ انہوں نے اس تجویز کو منظور کیا اور پھر یہ طے ہوگیا کہ اپنی آمدنی کاایک حصہ اس مقصد ِعظیم کے لیے جمع کرادیا کریں گے ! تجارتی مال میں یہ حصہ کم سے کم عشر (دسواں حصہ) ہوتا تھا ،بعض باحوصلہ اس سے بھی زیادہ دے دیا کرتے تھے ٣ اس تجویز کی سیاسی مصلحت یہ تھی کہ <br> (١) عرب خزاعہ کو بھول گئے جن سے قُصی نے اقتدار چھینا تھا ! <br> (٢) قریش کے تسلط کو نعمت اور رحمت سمجھنے لگے ! <br> ١ اس کا مأخذ میسرہ ہے ، میسرہ کے معنی قمار اور جوا (قاموس) چھوٹے چھوٹے تیر جن کو ازلام کہا جاتا تھا جوا کھیلنے کے کام آتے تھے ان ہی کے ذریعہ فال بھی نکالا جاتا تھا ! <br> ٢ اموالِ محجّرہ یعنی محفوظ مال، حجر سے ماخوذ، حجر کے معنی حفاظت کے بھی آتے تھے (قاموس) یہی دولت ہے جس کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارادہ فرمایا تھا کہ تقسیم کردیں مگر پھر یہ ارادہ ملتوی کردیا کیونکہ ان کے پیش رو یعنی آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم اور خلیفہ اوّل حضرت صدیق ِ اکبر نے ایسا نہیں کیا تھا (بخاری شریف ج ١ ص ٢١٧) <br> ٣ جیسے قصی کے پوتے ہاشم جس کا ذکر آگے آئے گا ان شاء اللّٰہ <br> (٣) شہر مکہ اور حرم کعبہ میں قُصی نے جو انقلاب برپا کیا تھا کہ عرب کے عقیدے کے خلاف جنگل اور درخت کٹواکر قریشی خاندان آباد کردیے، عرب نے اس کو برداشت کیا ! <br> فریق مخالف (خزاعہ) جو اس کے خلاف پروپیگنڈہ کر کے عرب کو مشتعل کر سکتے تھے اس کے راستے بند ہوگئے، خطرات ختم ہوگئے ! <br> (٤) نہ صرف سرزمین مکہ میں بلکہ پورے عرب میں قریش کے لیے کوئی خطرہ نہیں رہا چنانچہ عام عرب کے لیے صرف چار ماہ حرم تھے جن میں ان کو کہیں آنے جانے میں خطرہ نہیں ہوتا تھا اور قریش کے لیے پورے بارہ مہینے حرم ہوگئے ! اس سے بسل کی اصطلاح ایجاد ہوگئی یعنی باقی آٹھ ماہ کا بھی حرام ہونا ! ١ <br> یہ قریش کا اعلیٰ درجہ کا تدبر تھا کہ رفادہ کے باعث انہوں نے خرچ سے زیادہ منافع کی صورتیں پیدا کر لیں اور ان کے عظمت واحترام میں بھی چار چاند لگ گئے پھر احرام کا انتظام بھی قریش نے اپنے ذمہ لے لیا ! یعنی جب عرفات سے واپس ہوکر طوافِ کعبہ کریں جو ١٠ تا ١٢ ذی الحجہ کو ہوا کرتا تھا تو یہ طواف ان کپڑوں میں نہ ہونا چاہیے جو سال بھر پہنے جاتے ہیں جن کو پہن کر سینکڑوں گناہ کیے جاتے ہیں بلکہ اس طواف کے لیے احرام کا کپڑا قریش دیں گے اور اگر کوئی شخص کسی وجہ سے قریش کا یہ عطیہ حاصل نہ کر سکے تووہ برہنہ بدن طواف کرے ! ٢ <br> سقایة : حجاج کے لیے پانی کا انتظام <br> یہ شعبہ بھی رفادہ کی طرح بہت اہم اور بہت کٹھن تھا ! خزاعہ سے شکست کھا کر جب بنوجرہم مکہ سے فرار ہوئے تھے تو ان بھاگنے والوں نے ''سب کچھ تباہ کردینے'' کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے زمزم کو بھی (جو پہلے چشمہ تھا پھر یہاں کنواں بنالیا گیا تھا اور چشمہ کنویں کا سوت ہوگیا تھا جس کی وجہ سے کنوئیں کا پانی کبھی کم نہیں ہوتا تھا) نہ صرف بند کردیا تھا بلکہ لا پتہ کردیا تھا ، قصی نے جب <br> ١ اَلْبَسْلُ ھو تحریم ثمانیة اشھر لھم من کل سنة (البدایة والنھایة ج٢ ص ٢٠٤ ) قد عرفت ذلک لھم العرب لا ینکرونہ ولا یدفعونہ یسیرون بہ الی ای بلاد العرب شاء وا لا یخافون منھم شیئا ( ابن ہشام ج١ ص ٦٦ ) <br> ٢ ابن سعد ج ١ ص ٤١ <br> کعبہ کاحرم بنایا اور اس کے قریب قریش کو آباد کیا تو یہاں کوئی کنواں نہیں تھا تو زائرین کے لیے پانی کی سخت دشواری ہوتی تھی۔ شعبہ سقایہ کا کام یہ تھا کہ مکہ کے مختلف محلوں میں جو کنویں تھے وہاں سے پانی لاتے اور حوضوں میں بھر دیتے تھے ! <br> زائرین صرف حرمِ کعبہ ہی میں نہیں رہتے تھے بلکہ عرفات اور مزدلفہ بھی جاتے تھے اور منٰی میں تو کئی روز تک جشن رہا کرتا تھا ! پانی کا انتظام سب جگہ کیاجاتا تھا، واٹرپروف قسم کی کوئی چیز اس وقت نہیں تھی البتہ چمڑہ ان کے یہاں ہوتا تھا جو حبش وغیرہ بھی بھیجا جاتا تھا ،بڑے بڑے حوض چمڑے ہی کے بنائے جاتے تھے ١ یہ سب انتظام شعبہ ٔ سقایہ سے متعلق تھا۔ <br> وقادہ : ٢ <br> ٩ ذی الحجہ کی شام کو حاجی عرفات سے روانہ ہوکر مزدلفہ پہنچتے ہیں رات کو مزدلفہ میں قیام <br> رہتاہے صبح کو وہاں سے منی آتے ہیں یہی دستور زمانہ جاہلیت میں تھا، یہ رات اگرچہ چاندنی ہوتی ہے مگر پھر بھی قصی نے یہ انتظام کیا تھا کہ مزدلفہ کے ٹیلوں پر آگ جلائی جاتی تھی جس سے میدان مزدلفہ روشن رہتا تھا اور آنے والوں کو سہولت ہوتی تھی ٣ اس کو وقادہ کہا جاتا تھا ! <br> اجازہ یا افاضہ (روانگی کا پروگرام بنانا) : <br> پہلے گزرچکا ہے کہ یہ اختیار ''صوفہ'' کو حاصل تھا کہ وہ طے کر لیا کرتے تھے کہ مثلاً عرفات سے کون سا قبیلہ پہلے اورکون سا بعد کو روانہ ہوگا ؟ <br> قبہ : ٤ <br> حج کے موقع پر ہر ایک قبیلہ کا قیامگاہ (پڑاؤ) الگ ہوتا تھا جس کو منزل کہا جاتا تھا، کمبلوں کے خیمے ہوتے تھے مگر قریش کے خیمے سرخ چمڑے کے ہوتے تھے، ایسے خیمہ کو ''قبہ''کہا جاتا تھا (جمع قباب) ان کے انتظام کا ایک شعبہ تھا اس کو'' قبہ'' ہی کہتے تھے۔ <br> ١ ابن سعد ج١ ص ٤١ ٢ وقادة آگ روشن کرنا بمعنی وقود ٣ ابن سعد ج١ ص ٤١ <br> ٤ کانوا اھل القباب الحمر <br> عدالت اور فصل ِخصومات : <br> حکومت : عام مقدمات کی سماعت اورفیصلہ اس شعبہ سے متعلق تھا ! <br> اشناق : قتل کے سلسلہ میں بعض صورتیں ایسی ہوتی تھیں جن میں دیت واجب ہوتی تھی، دیت کی ایسی صورت ہوتی تھی کہ اس کو اجتماعی جرمانہ کہا جاسکتا ہے ! پوری دیت کے سواُونٹ ہوتے تھے <br> جو مقتول کے وارثوں کو دیے جاتے تھے ١ مگر یہ اونٹ قاتل نہیں دیتا تھا بلکہ اس کی ادائیگی عاقلہ کے ذمہ ہوتی تھی یعنی وہ سوسائٹی جس میں یہ رہتا تھا پھر قبائل کے جو معاہدات ہوتے تھے ان میں ایک دفعہ یہ بھی ہوتی تھی کہ اگر کسی قبیلہ پر دیت ادا کرنی لازم ہو تو اس کا اتنا حصہ وہ قبیلہ ادا کرے گا اور اتنا حصہ اس کا حلیف اور معاہد قبیلہ ادا کرے گا ! پھر اگر جان ہلاک ہوئی ہے تو پوری دیت لازم ہوتی تھی اور اگر ناک، کان یا کوئی عضو کاٹ دیا ہے تو بعض صورتوں میں پوری دیت اور بعض صورتوں میں دیت کا ایک حصہ لازم ہوتا تھا ! چونکہ اسلام نے بھی دیت کے طریقہ کو (جزوی اصلاحات کے بعد باقی رکھا) تو اس کے احکام کتب ِفقہ میں بھی ہیں ! <br> بہرحال قتل و دیت کے مقدمات نہایت اہم ہوتے تھے اور ان میں فیصلہ طلب اموریہ ہوتے تھے کہ پوری دیت لازم ہوتی ہے یا دیت کا جزو ؟ اور جو بھی صورت ہو اس کی ادائیگی صرف قاتل کے قبیلہ اور اس کے عاقلہ پر لازم ہوگی یا اس قبیلہ کے حلیف قبائل پر بھی ؟ اور اگر حلیفوں پر بھی لازم ہوتی ہے تو بروئے معاہدہ کتنی اور اس کی ادائیگی کی کیا صورت ہوگی ؟ اس شعبہ کا نام (جس کے ذریعہ ان مقدمات کا فیصلہ کیا جاتا تھا) اشناق تھا ٢ اور اس کا ذمہ دار وہی ہوسکتا تھا جو اونچے درجہ کا <br> ١ پہلے ایک انسان کی دیت دس اونٹ ہوا کرتی تھی جب عبدالمطلب کی منت ماننے کے مشہور واقعہ میں عبداللہ کے فدیہ میں سو اُونٹ پر قرعہ نکلا اور عبدالمطلب نے عبداللہ کے فدیہ میں سواُونٹ ذبح کیے تب سے ایک انسان کی دیت سو اُونٹ قراد دی گئی جس کو اسلام نے بھی باقی رکھا ( طبقات ابن سعد ج١ ص ٥٤ ) <br> ٢ اشناق ، شنق سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں جزوِ دیت اور زکوة کے جو نصاب اسلام نے مقرر کیے ہیں تو دو نصابوں کے درمیان جو کسر ہوتی ہے اس کو بھی شنق کہا جاتا ہے مثلاً چایس بکریوں پر ایک بکری زکوة میں ادا کرنی ہوتی ہے اور ایک سو بیس پر دو بکریاں ! تو چالیس سے زائد اور ایک سو بیس سے کم تعداد شنق ہوئی ! ! <br> معاملہ فہم ہو اور صحیح فیصلہ کی صلاحیت رکھتا ہو ! اسلام سے پہلے یہ شعبہ ابوبکر بن قُحافہ کے سپرد تھا جن کو اسلام نے ''صدیق اکبر'' کا خطاب دیا رضی اللّٰہ عنہ <br> فوجی نظام : <br> غیر موزوں نہ ہوگا اگر یہاں ''بے ضابطہ فوج'' کا لفظ استعمال کیا جائے ! بے ضابطہ فوج سے مراد قبائل کے وہ جنگجو ہیں جو کسی بھی مقابلہ کے وقت میدان میں آجاتے تھے ان کے اسلحہ خود اپنے ہوتے تھے ١ ان کا کوئی کمانڈر مستقل نہیں ہوتا تھا، اس کا انتخاب وقت پر ہوتا تھا ٢ ہر قبیلہ کا جھنڈ ا الگ ہوتا تھا اس کو '' لِوَائ'' کہا جاتا تھا اور ایک علَم پوری فوج کا ہوتاتھا اس کو ''عقاب ''کہتے تھے ! پوری فوج کے سالار اعظم کو قائد، اس منصب کو قیادت اور اس کے کیمپ کو قبہ کہا کرتے تھے ٣ خاص خاص رسموں کے ساتھ یہ عہدے اور جھنڈے سپرد کیے جاتے تھے سپرد کرنے والے بھی خاص سردار ہوتے تھے ! <br> فوج کی قسمیں : <br> فوج کی چند قسمیں ہوجاتی تھیں : <br> (١) تیر انداز رُماة جمع رامی <br> (٢) پیادہ رجالہ <br> (٣) سوار ، خیل <br> سوار فوج کے لیے اَعنَّہ کا لفظ بھی استعمال ہوتا تھا ٤ <br> ١ تلوار، نیزہ، تیر اور حفاظت کے لیے ڈھال ذِرہ (درع) اور خود (بیضہ) خود کے آہنی جھالر جن سے گردن کی حفاظت ہوتی تھی مِغْفَر کہلاتے تھے ! ! <br> ٢ جو عموماً قرعہ کے ذریعہ ہوتا تھا قبائل کے سردار اُمیدوار ہوتے تھے جنگ ِفجار کے موقع پر حضرت عباس کا نام نکل آیا یہ اس وقت بچے تھے تو ان کو ایک ڈھال پر بٹھاکر لے گئے۔ ( العقد الفرید ج٢ ص ٤٦ ) <br> ٣ اخبار مکہ و العقد الفرید ٤ اَعنہ ، عنان کی جمع ہے عنان یعنی باگ <br> فتح کے وقت لُوٹ کے مال کو'' غنیمت ''کہا جاتا تھا اس کا اتنا نظام تسلیم شدہ تھا کہ ایک چوتھائی <br> قائد فوج یا سردار اعظم کا ہوتا تھا اس چوتھائی کو مرباع کہتے تھے ! (چوتھ ١ ) باقی تین حصے مختلف <br> طریقوں سے تقسیم کیے جاتے تھے ٢ اس خاکہ کے بموجب فوج کے منصب دار یہ ہوتے تھے : <br> (١) قائد اعظم <br> (٢) علمبردار جن کے پاس عقاب رہتا تھا <br> (٣) کیمپ یعنی قبہ کا منتظم اور محافظ <br> (٤) سوار فوج کا سردار، صاحب اَعنہ ، اس کو مختصر کر کے اعنہ کہتے تھے <br> باضابطہ فوج یا پولیس : <br> قریش نے حفاظتی مقاصد کے لیے ایک مستقل نظام بھی بنایا تھا اس کو ''قائم'' کہتے تھے مگر اس کی حیثیت تنخواہ دار پولیس کی تھی ! <br> لڑائیوں کے وقت قبائل کے جنگجو بھی اپنے مفاخر کے ترانے گاتے ہوئے میدان میں آیا کرتے تھے اور مقابلہ بھی ان سے کرتے تھے جو اِن کے ہمسر ہوتے تھے غزوۂ بدر میں سردارانِ قریش نے انصاری مجاہدین کو مقابلہ پر دیکھا تو لڑنے سے انکار کردیا کہ یہ کاشتکار اور کسان ہیں ، قریش کے ہم پلہ نہیں ہیں ، یہ بھی ایک ضابطہ تھا ! ! <br> ١ عجیب بات یہ ہے کہ ہندوستان بھی چوتھ سے نا آشنانہ تھا ، شیواجی عالمگیر سے اس پر لڑتا رہا کہ وہ چوتھ مانگتا تھا یعنی یہ کہ عالمگیر یہ تسلیم کرے کہ شیواجی کو اپنے میں چوتھ حاصل کرنے کا حق ہوگا ، سلطان عالمگیر اس کے لیے تیار نہیں ہوئے <br> ٢ عموماً تین چوتھائی باقی ساتھیوں پر، اگر کچھ مال دشمن کی شکست اور عام لوٹ سے پہلے مل جاتا تھا اس کو'' نشیطہ'' کہا جاتا تھا ''فضول'' سے مراد ناقابل ِتقسیم کسرات ہوتے تھے اور'' صفی'' کسی ایسی منتخب چیز کو کہتے تھے جو مہم کا سردار اپنے لیے منتخب کر لیا کرتا تھا مثلاً کوئی تلوار یا کوئی گھوڑا وغیرہ ، سردار کو اس انتخاب کا حق ہوتا تھا۔ <br> تقسیم مناصب ١ جب آفتاب اسلام طلوع ہوا تو مناصب کی تقسیم اس طرح تھی <br> شعبے شمار منصب خدمات و فرائض قبیلہ منصب دار <br> ١ <br> ٢ <br> ٣ <br> ٤ حجابہ و سدانہ <br> عمارت <br> ایسار <br> اموال مجررہ خانہ کعبہ کی کلید برادی <br> حرم کعبہ کا عام ا نتظام اور نگرانی <br> فال نکالنے کی خدمت جس کا قاعدہ مقرر تھا <br> بول کے نام پر حاصل شدہ نذرانوں کی حفاظت و انتظام بنو عثمان بن عبدالدار بن قصی <br> بنو جمح <br> بنو سہم عثمان بن طلحہ <br> عثمان بن طلحہ <br> صفوان بن امیة <br> حارث بن قیس <br> ٥ <br> ٦ <br> ٧ <br> ٨ <br> ٩ <br> ١٠ سقایہ <br> رفادہ <br> اجازہ یا افاضہ <br> وقادہ <br> نسی <br> قبہ حاجیوں کے لیے پانی کا انتظام <br> حاجیوں کے لیے کھانے اور احرام کے کپڑوں کا انتظام <br> عرفات سے واپسی میں ترتیب قائم کرنا <br> مزدلفہ میں روشنی کا انتظام <br> لوند کا مہینہ معین کرنا <br> حج کے موقع پر قبائل کے لیے قیام گاہوں نیز جنگ کے وقت خیموں اور خرگاہوں کا انتظام بنو ہاشم <br> بنو ہاشم <br> صوفہ <br> بنو عبدمناف <br> صوفہ ابوطالب <br> ابوطالب <br> ابوطالب <br> <br> ابو ثمامہ جنادہ بن عوف <br> ١١ <br> ١٢ <br> ١٣ <br> ١٤ ندوہ <br> <br> مشورہ <br> اشناق <br> حکومت سماعت مقدمات اور درع وغیرہ کی تقریبات کا انتظام <br> اہم امور میں مجلس مشاورت کا انتظام <br> خون بہا ، جرمانہ اور مالی تاوان کا فیصلہ اور نظم مقدمات کی سماعت و فیصلہ بنو عبدالدار <br> بنو اسد <br> بنو تمیم <br> بنو سہم عثمان بن طلحہ <br> یزید بن زمعہ <br> ابوبکر صدیق <br> حارث بن قیس <br> ١٥ <br> ١٦ <br> ١٧ قیادت <br> لوائ <br> اَعنہ فوجوں کی کمانداری <br> علم برداری <br> سواروں کے رسالہ کی سپہ سالاری بنو امیة <br> بنو عبدالدار <br> بنو مخزوم ابوسفیان بن حرب <br> خالد بن الولید <br> ١٨ سفارت دوسرے ملک یا دوسرے فریق ِجنگ سے جنگ یا صلح کی گفتگو اور پیغام رسانی بنو عدی عمر فاروق <br> ( ماخوذ از سیرتِ مبارکہ '' محمد رسول اللّٰہ '' صلی اللہ عليہ وسلم ص١٢٣ تا ١٣٠ ناشر کتابستان دہلی ) <br> ١ ماخوذ از طبقات ابن سعد ج ١ ، اخبارِ مکہ العقد الفرید ، سیرة ابن ہشام ج ١ <br> ٭٭٭ <br> <br> <br> <br> <br> مقالاتِ حامدیہ <br> ٭٭٭ <br> تصوف کیا ہے ؟ <br> قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں <br> عنوانات و تزئین ، حاشیہ و نظر ثانی بتغیرِ یسیر : حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب <br> ٭٭٭ <br> اسلام میں صرف ریاضتوں کا نام تصوف نہیں ہے یہ دوسرے مذہب والے بھی کرتے ہیں دراصل رسولِ کریم علیہ الصلٰوة والتسلیم کے بتلائے ہوئے عقائد دل سے تسلیم کرنے کے بعد تصوف کا درجہ آتا ہے پھر اگر کوئی مسلمان حسنِ عبادت میں کامیابی حاصل کرے تو اس نے اسلامی تصوف حاصل کر لیا ''حسن ِعبادت'' کا مطلب یہ ہے کہ عبادت کے وقت یہ تصور قائم رہے کہ'' (گویا)میں خدا کو دیکھ رہاہوں '' یا ''خدا مجھ کودیکھ رہا ہے'' '' اَلْاِحْسَانُ '' اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَانَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہ یَرَاکَ ١ <br> بس یہی تصوف کی روح ہے اور اس کا جسم اتباعِ سنت ہے ! ! ! جناب رسالتمآب صلی اللہ عليہ وسلم نے دعا تعلیم فرمائی ہے اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ '' اے اللہ اپنے ذکر وشکر اور حسنِ عبادت میں میری مدد فرما'' حق تعالیٰ نے گیارہویں پارہ کے شروع میں ارشاد فرمایا ہے : <br> ( وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُھٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْاعَنْہُ ) ( سورة التوبة : ١٠٠ ) <br> ''اور وہ جو پہلے سبقت کرنے والے ہیں مہاجرین وانصار میں سے اور وہ لوگ جنہوں نے اچھائی کے ساتھ ان کی پیروی کی ان سے اللہ راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے '' <br> ( وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ) کے جملہ میں یہ ارشارہ ہے کہ خدا وند ِکریم کی ذاتِ پاک کا استحضار رکھتے ہوئے باخلاص یہ پیروی ہونی چاہیے ! <br> صراطِ مستقیم جس کی طلب میں ہم کسی رکعت میں یہ دعا کرنی نہیں چھوڑ تے یہ ہے کہ عقائد واعمال میں ہم ان عقائد واعمال پر قائم رہیں جو جنابِ آقا ئے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم نے تعلیم فرمائے اور صحابہ کرام، تابعین <br> ١ مشکوة المصابیح کتاب الایمان رقم الحدیث ٢ <br> (جن میں امام اعظم ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ داخل ہیں ) اور اَتباعِ تابعین (جن میں باقی تینوں ائمہ کرام بھی داخل ہیں ) سے ہم تک پہنچے ! اور ظاہر میں اتباعِ سنت کے ساتھ ساتھ باطن میں دل کو خدا واند ِکریم کی ذات ِ پاک کے مشاہدہ میں حتی الامکان مستغرق رکھیں اگر کسی کو حق تعالیٰ یہ دولت دے دیں تو اس سے زیادہ خوش نصیب کون ہوگا ؟ یہی صراطِ مستقیم پر قائم رہنا اور ہدایت ِکاملہ ہے ! <br> یہ بھی یاد رکھیں کہ کسی ریاکار کو ہرگز اتباعِ سنت نصیب نہیں ہوسکتا اسی طرح تمام باطل فرقے اتباعِ سنت کی دولت سے محروم ہیں ! عقائد وعبادات کی طرح اخلاق و معاملات میں بھی اتباعِ سنت ضروری ہوتا ہے ! ان چاروں چیزوں ١ میں کسی اہل ِباطل کے کسی بھی فرد کو پرکھا جا سکتا ہے اور ہر وقت جانچا جاسکتا ہے کہ یہ اہل ِ حق میں ہے یا اہل ِ باطل میں رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے یہ عجب کسوٹی بنائی ہے ! <br> کرامت : <br> ایسے بزرگوں سے ایسے کوئی خرقِ عادت چیز ظاہر ہوتو اسے کرامت کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوق کے دلوں میں اس کا اکرام بٹھانے کے لیے ظاہر کی جاتی ہے ! اور یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ کسی ولی کی کرامت بھی دراصل نبی صلی اللہ عليہ وسلم کی حقانیت کی دلیل ہے ! اور گویا وہ نبی کریم علیہ الصلٰوة والسلام کا ہی احسان ہے اور آپ کا ہی معجزہ ہے (معجزہ کا لفظ انبیاء کے لیے بولاجاتا ہے غیر نبی کے لیے معجزہ کا لفظ نہ بولنا چاہیے) <br> کرامت کا ظہور صرف خداوندکریم کی مرضی پر موقوف ہے جب خدا کی مصلحت ہوتی ہے اور جیسی اُس کی مرضی ہوتی ہے ویسی کرامت ظاہر ہوجایا کرتی ہے ! زمانہ کے ساتھ کرامت بھی بدل جاتی ہے جیسے کہ زمانہ کے ساتھ انبیاء علیہم الصلٰوة والسلام کے معجزات بدلتے رہے ! ! <br> ١ یعنی عقائد ،عبادات، اخلاق ، معاملات <br> <br> <br> <br> <br> عقیدۂ ختم ِ نبوت کی عظمت واہمیت <br> قرآن و حدیث کی روشنی میں <br> ( حضرت مولانامحمد یوسف صاحب لدھیانوی شہید ) <br> ٭٭٭ <br> یہ اسلام کا ایک اجماعی اور بنیادی عقیدہ ہے کہ نبوت اور رسالت کا سلسلہ امام الانبیاء سیّد المرسلین خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ عليہ وسلم پر ختم کر دیا گیا ! آپ سلسلۂ نبوت کی آخری کڑی ہیں آپ کے بعد کسی شخص کو منصب ِ نبوت پر فائز نہیں کیا جائے گا قرآنِ مجید میں ارشاد ہے : <br> ''محمد (صلی اللہ عليہ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے'' ١ <br> تمام مفسرین کا اِس پر اتفاق ہے کہ ''خاتم النبیین'' کے معنی یہ ہیں کہ آپ آخری نبی ہیں آپ کے بعد کسی کومنصب ِ نبوت پر فائز نہیں کیا جائے گا چنانچہ حافظ ابن کثیر اِس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں : <br> ''یہ آیت اس مسئلے میں نص ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں اور جب آپ کے بعد کوئی نبی نہیں تو رسول بدرجۂ اولیٰ نہیں ہوسکتا کیونکہ مقامِ نبوت مقامِ رسالت سے عام ہے کیونکہ ہر رسول نبی ہوتا ہے اور ہر نبی رسول نہیں ہوتا اور اس مسئلے پر کہ آپ کے بعد کوئی نبی و رسول نہیں ، آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کی متواتر احادیث وارد ہیں جو صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت سے مروی ہیں '' ٢ <br> دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے متواتر احادیث میں اپنے خاتم النبیین ہونے کا اعلان فرمایا اور ختم ِنبوت کی ایسی تشریح بھی فرمادی کہ اِس کے بعد آپ کے آخری نبی ہونے میں کوئی شک و شبہہ اور تاویل کی گنجائش باقی نہیں رہی، متعدد اکابر نے ان احادیث ختم نبوت کے متواتر <br> ١ سورة الاحزاب : ٤٠ ٢ تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٤٩٣ <br> ہونے کی تصریح کی ہے چنانچہ حافظ ابن حزم ظاہری لکھتے ہیں : <br> ''وہ تمام حضرات جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کی نبوت آپ کے معجزات اور آپ کی کتاب (قرآنِ کریم) کو نقل کیا ہے اُنہوں نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ آپ نے یہ خبر دی تھی کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں '' ١ <br> حافظ ابن کثیر آیت خاتم النبیین کے تحت لکھتے ہیں : <br> ''ختم ِ نبوت پر آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم سے احادیث ِمتواترہ وارد ہوئی ہیں جنہیں صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت نے بیان فرمایا'' ٢ <br> مشہور مفسر علامہ سیّد محمود آلوسی تفسیر ''رُوح المعانی'' میں زیرِ آیت خاتم النبیین لکھتے ہیں <br> ''آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا ایسی حقیقت ہے کہ جس پر قرآن ناطق ہے احادیث ِ نبوی نے جسے اشگاف طور پر بیان فرمایا ہے اور اُمت نے جس پر اِجماع کیا پس جو شخص اس کے خلاف کا مدعی ہو اُسے کافر اور غیر مسلم قرار دیا جائے گا '' ! ! <br> اُمت کا اِس پر اِجماع ہے کہ ختم ِنبوت کا منکر دائرۂ اسلام سے خارج ہے : <br> عقیدۂ ختم نبوت جس طرح قرآنِ کریم کے نصوصِ قطعی سے ثابت ہے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی احادیث ِمتواترہ سے بھی ثابت ہے یہاں اختصار کے مد نظرصرف چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں : <br> ٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا ''میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسین و جمیل محل بنایا مگر اُس کے کسی کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ، لوگ اُس کے گرد گھومنے اور اُس پر عش عش کرنے لگے اور یہ کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ لگادی گئی ؟ آپ نے فرمایا'' میں وہی (کونے کی آخری ) اینٹ ہوں اور میں نبیوں کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں '' ٣ <br> ١ کتاب الفصل ج ١ ص ٧٧ ٢ تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص٤٩٣ <br> ٣ صحیح مسلم ج ٢ ص ٢٤٨ ، صحیح بخاری کتاب المناقب ج ١ ص ٥٠١ <br> ٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا ''مجھے چھ چیزوں میں انبیاء علیہم السلام پر فضیلت دی گئی ہے (١) مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے (٢) رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی (٣) مالِ غنیمت میرے لیے حلال کردیا گیا (٤) رُوئے زمین کو میرے لیے مسجد اور پاک کرنے والی چیز بنادیا گیا (٥)مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا (٦) اور مجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے'' ١ <br> ٭ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ''تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں '' ٢ <br> ٭ مسلم شریف میں روایت ہے کہ ''میرے بعد نبوت نہیں '' ٣ <br> ٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ عليہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا : ''بنی اسرائیل کی قیادت خود اُن کے انبیاء کیا کرتے تھے جب کسی نبی کی وفات ہوتی تو اُن کی جگہ دوسرا نبی آتا تھا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں البتہ خلفاء ہوں گے'' ٤ <br> ٭ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا : ''میری اُمت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں '' ٥ <br> ٭ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا ''رسالت و نبوت ختم ہوچکی ہے پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی'' ٦ <br> ١ صحیح مسلم ج ١ ص ٩٩ ا ، مشکوة ص ٥١٢ ٢ صحیح بخاری ج ٢ ص ٦٣٣ ٣ صحیح مسلم ج ٢ ص ٢٧٨ <br> ٤ صحیح بخاری ج ١ ص ٤٩١ ، صحیح مسلم ج ٢ ص ١٢٦ ، مسند ِاحمد ج ٢ ص ٢٩٧ <br> ٥ ابو داؤد ج ٢ ص ٢٢٨ ، ترمذی ج ٢ ص ٤٥ ٦ ترمذی ج ٢ ص ٥١ ، مسند ِ احمد ج ٣ ص ٢٦٧ <br> ٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا ''ہم سب کے بعد آئے اور قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے صرف اتنا ہوا کہ انہیں کتاب ہم سے پہلے دی گئی'' ١ <br> ٭ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا ''اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے'' ٢ <br> <br> ٭ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ عليہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ''میرے چند نام ہیں : میں '' محمد'' ہوں ، میں ''احمد ''ہوں ، میں '' ماحی'' (مٹانے والا) ہوں کہ میرے ذریعے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائے گا اور میں '' حاشر'' (جمع کرنے والا) ہوں کہ یہ لوگ میرے قدموں پر اُٹھائے جائیں گے اور میں '' عاقب'' (سب کے بعد آنے والا) ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں '' ٣ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کے دو اسمائے گرامی آپ کے خاتم النبیین ہونے کی دلالت کرتے ہیں : <br> اوّل ''اَلْحَاشِر'' حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ''فتح الباری'' میں اس کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : <br> ''یہ اس طرف اشارہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی اور کوئی شریعت نہیں ! سوچو کہ آپ کی اُمت کے بعد کوئی اُمت نہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں اس لیے'' حشر'' کو آپ کی طرف منسوب کردیا گیا کیونکہ آپ کی تشریف آوری کے بعد'' حشر'' ہوگا ٤ '' <br> دوسرا سم اگرامی ''اَلْعَاقِب'' جس کی تفسیر خود حدیث میں موجود ہے یعنی آپ کے بعد کوئی نبی نہیں <br> امام قرطبی لکھتے ہیں : آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے ''مجھے اور قیامت کو اِن دو اُنگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ میں آخری نبی ہوں میرے بعد اور کوئی نبی نہیں ، میرے بعد بس قیامت ہے، جیسا کہ اُنگشت شہادت درمیانی اُنگلی کے متصل واقع ہے، دونوں کے درمیان اور کوئی اُنگلی نہیں اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں '' ٥ <br> ١ صحیح بخاری ج ١ ص ١٢٠ ، صحیح مسلم ج ١ ص ٢٨٢ ٢ ترمذی ج ٢ ص ٢٠٩ ٣ مشکوة شریف ص ٥١٥ <br> ٤ فتح الباری ج ٦ ص ٥٥٧ ٥ التذکرة فی احوال الموتٰی واُمور الاخرة ص ٧١١ <br> چونکہ مسئلہ ختم ِ نبوت پر قرآنِ کریم کی آیات اور احادیث ِ متواترہ وارد ہیں اس لیے یہ عقیدہ اُمت میں متواتر چلا آرہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم آخری نبی ہیں آپ کے بعد کوئی شخص منصب ِ نبوت پر فائز نہیں ہوسکتا اور جو شخص آپ کے بعد نبوت کا دعوی کرے وہ مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے ! ! <br> ٭ ملا علی قاری رحمة اللہ علیہ ''شرح فقہ فتح اکبر'' میں لکھتے ہیں کہ ''ہمارے نبی صلی اللہ عليہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے '' ١ <br> ٭ حافظ ابن حزم اُندلسی رحمة اللہ علیہ اپنی کتاب الفصل والاہواء والنحل میں لکھتے ہیں : ''جس کثیر التعداد جماعت اور جمِ غفیر نے آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کی نبوت اور نشانات اور قرآنِ مجید کو نقل کیا ہے اُسی کثیر التعداد جماعت اور جمِ غفیر کی نقل سے حضور علیہ السلام کا یہ فرمان بھی ثابت ہو چکا ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا ! <br> حافظ ابن حزم رحمة اللہ علیہ ایک جگہ لکھتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ( وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ ) ٢ اور حضور علیہ السلام کا ارشاد لَا نَبِیَ بَعْدِیْ یہ سن کر کوئی مسلمان کیسے جائز سمجھ سکتا ہے کہ حضور علیہ السلام کے بعد زمین میں کسی نبی کی بعثت ثابت کی جائے '' <br> بہت سی احادیث سے ثابت ہے کہ نبوت آپ کی تشریف آوری پر پوری ہوگئی آپ کے بعد کوئی اور نبی نہیں ہوگا ! ان احادیث میں سے ایک حدیث کا مضمون یہ ہے کہ میری اُمت میں تقریباً تیس جھوٹے دجال ہوں گے اُن میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا ٣ چنانچہ قرآنِ کریم، احادیث ِمتواترہ اور اجماعِ اُمت کی رُو سے آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم بِلا استثناء تمام انبیائے کرام علیہم الصلوٰة السلام کے علی الاطلاق خاتم ہیں ! ! اس لیے آپ کے بعد کوئی شخص کسی معنٰی و مفہوم میں بھی نبی نہیں کہلا سکتا ،نہ منصب ِنبوت پر فائز ہو سکتا ہے ! اور جو شخص اِس کا مدعی ہو وہ کافر اور دائرہ ٔ اسلام سے خارج ہے ! ! <br> ( مطبوعہ ماہنامہ انوارِ مدینہ نومبر ٢٠٢٢ئ) <br> ١ شرح فقہ فتح اکبر ص٢٠٢ ٢ سورة الاحزاب : ٤٠ ٣ ایضاً ص ٩٦ <br> ٭٭٭ <br> خطبات سید محمودمیاں <br> (٣) <br> ٭٭٭ <br> محمود الملة والدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب <br> جامعہ مدنیہ جدید کی مسجد حامد میں جمعہ کا بیان فرمایا کرتے تھے جن کی ریکارڈنگ جامعہ کے استاذ مفتی محمد فہیم صاحب کرتے تھے، ان بیانات کی افادیت کے پیش نظر انہیں ماہنامہ انوارِ مدینہ کے ذریعہ ہر ماہ حضرت کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچانے کا اہتمام کیا جارہا ہے اللہ تعالیٰ حضرت کے اس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے،آمین۔ (ادارہ) <br> ٭٭٭ <br> مہمان بننے کے آداب <br> ( افادات : شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ) <br> عنوانات و نظر ثانی : ڈاکٹر محمد امجد <br> ( ٢٩ ربیع الاوّل ١٤٣٥ھ / ٣١ جنوری ٢٠١٤ ء ) <br> ٭٭٭ <br> لْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا <br> مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ ! <br> نبی علیہ السلام نے کسی کے یہاں بطورِ مہمان آنے جانے کے لیے بہت سارے آداب بتائے ہیں ان میں ایک ادب یہ بھی بتلایا کہ جس کو دعوت دی جائے پھر وہ ہی جائے بس ! ایسا نہ کرے کہ اپنے ساتھ اور مزید لوگوں کو لے جائے ! یہ چیز اچھی نہیں ہے ، اس سے بعض دفعہ میزبان کو بہت پریشانی ہوتی ہے بلکہ شرمندگی ہوتی ہے ! اس نے انتظام دو چار آدمیوں کا کیا ہوا ہے اور کوئی لے کر آٹھ آدمی پہنچ جائے تو اسے بہت زیادہ پریشانی ہوگی اور انتظام اگر نہ ہو سکا تو اسے شرمندگی بھی ہوگی ! <br> اور اگر مہمان کوئی سوجھ بوجھ والا ہے تو اسے بھی شرمندگی ہوگی کہ یہ میں نے کیا حرکت کی ؟ اگر سوجھ بوجھ نہیں ہے بے حس اُجڈ ہے پھر تو شرم نہیں آئے گی نہ اسے پتہ چلے گا کہ میں نے کیا کیا ہے ؟ میرے اس عمل سے کسی کو کیا تکلیف پہنچی ہے ؟ ورنہ اس عمل سے بہت تکلیف ہوتی ہے ! ! <br> میزبان سے پیشگی اجازت طلب کرنا : <br> اب یہ نبی علیہ السلام نے صرف بتلایا ہی نہیں صرف زبانی بتلایا ہو بلکہ سکھایا بھی ہے ! ! ایک دفعہ جب آپ تشریف لے جا رہے تھے کسی کے ہاں تو راستہ میں ایک صاحب ساتھ ہو گئے ، جیسے کوئی مسئلہ پوچھتا ہوا باتیں کرتا ہوا ، چلتے چلتے وہاں پہنچ گئے جو میزبان کا گھر تھا جس نے دعوت دی تھی ، اب یہ صاحب سمجھدار نہیں ہوں گے اتنے کہ یہاں سے وہ واپس خود ہی ہو جاتے کہ اچھا مجھے اجازت دیں میں چلتا ہوں ،باتیں کرتے رہے ساتھ رہے ،بعض لوگ سادے ہوتے ہیں اس طرح کے اُنہیں اس چیز کا احساس نہیں ہوتا ! <br> بخدا سب سے زیادہ با لحاظ ، لحاظ دار شخصیت تھی نبی علیہ السلام کی،اس لیے جب آپ وہاں پہنچے تو آپ کی طبیعت کو بھی یہ کہنا مشکل ہو رہا تھا کہ تم جاؤ میں کھاؤں گا یہاں ،میں رہوں گا یہاں ، اس کا مطلب تو یہ ہوا ، یہ بھی فرمانا مشکل ہورہا ہوگا آپ کو ،ادھر میزبان پر بار ہو ، یہ بھی طبیعت پر گرا ں گزر رہی تھی صورت ِحال ! تو جب وہ لینے والے پہنچ گئے اور وہ اندر لینے آیا تو آپ نے پوچھا یہ میرے ساتھ ایک صاحب ہیں اگر تم اجازت دو تو یہ بھی اندر آجائیں گے، باقاعدہ آپ نے ان سے اجازت لی حالانکہ آپ بڑے تھے بہت بڑے تھے اتنے بڑے تھے کہ اس سے بڑا مرتبہ ہی کوئی نہیں انسانوں میں مخلوق میں ،بے اجازت بھی لے جاتے تو بس میں لے آیا ختم بات ! اور وہ بھی خوش ہوتا کہ بس آپ لائے ہیں تو بس ختم بات ،کچھ بھی نہ کہتا، لیکن سکھانے کے لیے کہ اتنا اہم مسئلہ ہے امت کو تعلیم دینے کے لیے آپ نے یہ چیز کی، تب ہی تو چودہ سو سال بعد بھی آج ہمیں یہ باتیں پہنچ رہی ہیں اور آئندہ بھی چودہ سو سال تک اگر قیامت نہ آئی تو یہ ان شاء اللّٰہ پہنچتی رہیں گی ! تو یہ بھی آداب میں سے ہے ! ! <br> مہمان کے ساتھ طفیلی بننے کا طریقہ : <br> (ایک یہ بھی ہوتا ہے ) کہ چل تو بھی میرے ساتھ چل اور تو بھی میرے ساتھ چل، تو بھی آجا تو بھی آجا ،کوئی بات نہیں ! ''کوئی بات نہیں '' یہ تو آپ کے لیے کہنا آسان ہے جس نے بلایا ہے جس کے ہاں جانا ہے اس بے چارے کو کتنی مشکل ہو جائے گی، پریشانی سے دوچار ہوجائے گا ! <br> پھر یہ سوچے انسان کہ میرے ساتھ اگر ایسا کر دے کوئی تو مجھے کتنی پریشانی ہو گی ! تو اوّل تو کسی کو ساتھ ہونا نہیں چاہیے ایسا موقع اگر ہو، کہاں جا رہے ہیں پوچھ لے تو یہ اندازہ ہوجائے تو بس جو ضروری بات ہو وہ کرے یا جہاں تک ہو وہ کرے وہاں تک پھر رخصت ہو جائے بس میں اب اجازت چاہوں گا چلا جائے ! اور اگر ساتھ چلا گیا تو پھر اسے چاہیے کہ اسے آگاہ کر دے اجازت لے کہ یہ صاحب میرے ساتھ آگئے ہیں اگر آپ کی اجازت ہو تو یہ بھی اندر آجائیں کھانے میں شریک ہوجائیں ؟ تو ان صاحب نے بخوشی اجازت دے دی وہ کہنے لگے انہیں اجازت ہے ! <br> اور جہاں پر آپ کسی کو ساتھ لے جانا چاہتے ہوں اور میزبان کو نہیں پتا تو وہاں پہلے سے اسے بتا دیں کہ بھائی میرے ساتھ فلاں فلاں ہوگا ! <br> حدیث شریف سے رہنمائی : <br> حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم علیہ الصلٰوة و السلام کا ایک فارس سے تعلق رکھنے والا پڑوسی شوربا اچھا بناتا تھا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے لیے شوربا تیار کیا، پھر آ کر حضور صلی اللہ عليہ وسلم کو دعوت دی کہ آپ کھانے پر تشریف لے آئیں ! حضور صلی اللہ عليہ وسلمنے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ان کو بھی دعوت ہے ؟ عائشہ بھی ساتھ ہوں گی ؟ اس نے کہا نہیں ، بس آپ کی دعوت ہے اور کسی کی نہیں ! حضور صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: نہیں (تومجھے بھی تمہاری دعوت قبول نہیں ) تووہ صاحب چلے گئے ! ! <br> پھر دوبارہ انہوں نے کچھ دنوں بعد دعوت دی ! آپ نے فرمایا عائشہ کو بھی ؟ اس نے کہا نہیں ، رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : نہیں تو نہیں ! وہ پھر چلا گیا ، ان صاحب کے منع کرنے کی کیا وجہ ہوگی ؟ کیامصلحت ہوگی ؟ کیا مجبوری ہوگی ؟ اللہ جانے ! ! کہ جس پر وہ نہ بھی نہیں کہہ سکتا تھا اور ہاں بھی نہیں کہہ سکتا تھا ! ! <br> تیسری دفعہ جب آپ کو پھر دعوت دی تو آپ نے دریافت فرمایا عائشہ ساتھ آئیں گی ؟ اس نے کہا ٹھیک ہے آجائیں ! تو آپ زوجہ محترمہ کو ساتھ لے کر گئے دعوت میں ١ <br> بعض دفعہ آپ کے ساتھ کوئی بھی نہیں ہوتا تھا ، اس طرح کی تقریبات اور بھی ہوتی ہوں گی ! ! تو اگر ساتھ کسی کو لینا ہے زائد تو اس کی اطلاع ہونی چاہیے کہ ہم آ رہے ہیں اور ہم اتنے آدمی ہوں گے ! یہ ساری بات بتانی چاہیے یا یہ کہ میں فلاں کو بھیج رہا ہوں اور اس کے ساتھ فلاں بھی ہوگا ! ! <br> ایک واقعہ : <br> ہمارے ایک جاننے والے ہیں انہیں فون آیا، دُور سے کوئی ان کے رشتے دار لاہور سے باہر کے کہ فلاں آدمی آ رہا ہے وہ آپ سے ملے گا اسے کام ہے آپ سے ،انہوں نے کہا ٹھیک ہے ! اب وہ دور کا سفر کر کررات کو دس گیارہ بجے ان کے ہاں پہنچ گیا اور یہ انتظار میں تھے ، اب جب وہ پہنچا تو اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی، اس کے ساتھ اس کے بچے بھی ! اب کھانے کی تو کوئی بات نہیں ہوتی کہ صرف کھانا کھلا دو تو چلو جلدی سے کرلو انتظام، لیکن آئے ہیں سوئیں گے پھر عورت کا انتظام اور نوعیت کا مردوں کااور نوعیت کا ہوتا ہے ! عین وقت پر یہ چیز ! ! کتنی غلط نا سمجھی کا پیغام دیا اس شخص نے جبکہ اسے پتہ تھا وہ آرہا ہے اس کے ساتھ اس کی بیوی اور بچے بھی ہیں تو ان میزبان کو بہت تکلیف اٹھانی پڑی بٹھانے میں ، ایک گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ تو بستر کے انتظام میں لگ گیا ان کا ،پھر عورتوں کے لیے الگ انتظام ،مرد کو تو اندر نہیں گھسا سکتے ، اگر محرم رشتہ دار ہو تو بٹھاتا ہے اندر، چلو تم بھی آجاؤ اندر، سو جائو، غیر کے لیے الگ انتظام کرنا پڑے گا تو یہ چیزیں اسلام نے بتائی اور سکھائی ہیں کہ ان چیزوں کا خیال رکھو ! <br> کسی کے گھر کھانے کے وقت جانا : <br> اور اگروقت ہے کھانے کا ! کھانے کے وقت جانا ہو تو یہ نہیں کرنا چاہیے، کھانا کھا کر جائیں باہر ہوٹل سے چاہے کھانا پڑے اور اگر پہنچنا ہے تو پھر انہیں پہلے سے اطلاع دے دیں کہ ہم آرہے ہیں <br> ١ صحیح مسلم کتاب الاشربة رقم الحدیث ٥٣١٠ (٢٠٣٧) <br> اتنے بجے اور کھانا کھائیں گے یہ بھی بتا دیں کیونکہ آپ جائیں انہیں بتائیں نہ اور کھانا بھی ہوٹل سے کھالیں اور انہوں نے پکا بھی رکھا ہے اور کہیں کہ نہیں ہم تو رجے ہوئے ہیں ! یہ تو غلط بات ہے انہوں نے کھانا پکایا ہے پانچ چھ آدمیوں کا اور آپ کہیں ہم کھا کر آئیں ہیں یہ بھی تکلیف پہنچائے گا جس نے انتظام کیا ہے خرچ کیا ہے ! تو دونوں صورتیں بتادیں کہ ہم کھانا کھا کر آئیں گے، اتنے آدمی ہیں یا ہم کھانا آکر کھائیں گے صاف بتادیں ! ! <br> ہم اسی طرح کرتے ہیں الحمد للّٰہ کہیں جائیں تو اطلاع دیتے ہیں اور اگر کھانا کھاکر جانا ہو تو بھی بتادیتے ہیں کہ کھانا کھاکر آئیں گے کچھ مت کرنا ! اور عین وقت پر جانا پڑ جائے تو چاہے ہمیں باہر سے ہوٹل سے کھانا پڑے کھالیتے ہیں یا ہوٹل سے لے کر چلے جاتے ہیں اس کے گھر کہ ہم بے وقت جارہے ہیں اچانک تو بس ہم لے گئے ہیں پھر یہ جو کھانا کھائیں گے اب اس کے ساتھ گھر میں تیار ہوگا اس کے ساتھ ایک پلیٹ میں یہ بھی رکھ دیں گے، اسے بوجھ بھی نہیں ہوگا کام بھی آسان ہوگا ! ! <br> اسلام نے بے حسی نہیں سکھائی : <br> اسلام نے یہ چیزیں سکھائی ہیں ، اسلام نے بے حسی نہیں سکھائی ! انسان بالکل بیہودہ حرکتیں کرے رشتہ داری کے نام پر دوستی کے نام پر، دوسرے پر کیا تکلیف گزر رہی ہے اس کا احساس بھی نہ کرے ! دین ِاسلام نے منع کیا ایسے معاشرے کو پسند نہیں کیا ،بڑا مہذب بڑا ہلکا پھلکا صاف ستھر ا ایک سادہ معاشرہ تشکیل پائے ایسے اصول اور آداب اور معاشرت کے طریقے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے عمل کر کے دکھائے ! ! <br> اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی سمجھ بھی عطا فرمائے اور اس پر عمل کی توفیق بھی عطا فرمائے اور ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے اور آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی شفاعت اور ان کا ساتھ نصیب فرمائے ! <br> وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ <br> ٭٭٭ <br> <br> <br> <br> فضیلت کی راتیں قسط : ٣ <br> ( حضرت مولانا نعیم الدین صاحب ،اُستاذ الحدیث جامعہ مدنیہ لاہور ) <br> ٭٭٭ <br> لَیْلَةُ الْقَدْر : <br> ماہِ رمضان المبارک جو انتہائی بابرکت اور مقدس مہینہ ہے اس میں ایک رات آتی ہے جسے '' لَیْلَةُ الْقَدْر '' کہتے ہیں ، یہ رات بڑی عظمت و بزرگی اور خیرات و برکات والی رات ہے ! اسی رات میں قرآنِ مجید نازل ہوا اور اسی رات میں آسمان سے زمین پر فرشتے اُترتے ہیں ! اسے ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا گیا ہے ، کتاب و سنت میں اس کی بڑی فضیلت ذکر کی گئی ہے اسے اگر'' سَیِّدُ اللَّیَالِیْ '' تمام راتوں کی سردار کہا جائے تو بجا ہے ! <br> لَیْلَةُ الْقَدْر اُمت ِ محمدیہ کو عطا ہوئی ہے پہلی اُمتوں کو نہیں ملی : <br> جمہور علماء ِ اُمت کا موقف یہ ہے کہ '' لَیْلَةُ الْقَدْر '' اُمت ِ محمدیہ کے ساتھ خاص ہے کسی اور اُمت کو یہ رات عطا نہیں کی گئی، حدیث شریف سے اسی موقف کی تائید ہوتی ہے چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : <br> اِنَّ اللّٰہَ وَھَبَ لِاُمَّتِیْ لَیْلَةَ الْقَدْرِ لَمْ یُعْطِھَا مَنْ کَانَ قَبْلَھُمْ۔ ١ <br> ''بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے لَیْلَةُ الْقَدْر میری اُمت ہی کوعطا کی ہے ان سے پہلے کسی اُمت کو یہ نہیں ملی '' <br> اس اُمت کو لَیْلَةُ الْقَدْر ملنے کا کیا سبب ہوا ؟ <br> اس اُمت کو یہ مبارک شب کیوں عطا ہوئی ؟ مفسرین نے اس سلسلہ میں بہت سے واقعات ذکر فرمائے ہیں ہم اُن میں سے چند ایک ذکر کرتے ہیں : <br> ١ الدر المنثور فی التفسیر بالماثور ج ٦ ص ٣٧١ ، کنزالعمال ج ٨ ص ٥٣٦ <br> مَالِک اَنَّہ سَمِعَ مَنْ یَّثِقُ بِہ مِنْ اَھْلِ الْعِلْمِ یَقُوْلُ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم اُرٰی اَعْمَارَ النَّاسِ قَبْلَہ اَوْ مَاشَائَ اللّٰہُ مِنْ ذٰلِکَ فَکَاَنَّہ تَقَاصَرَ اَعْمَارَ اُمَّتِہ عَنْ اَنْ لَّا یَبْلُغُوْا مِنَ الْعَمَلِ مِثْلَ الَّذِیْ بَلَغَ غَیْرُھُمْ فِیْ طُوْلِ الْعُمْرِ فَاَعْطَائُ اللّٰہُ لَیْلَةَ الْقَدْرِ خَیْر مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ۔ ( موطا امام مالک ص ٢٦٠ ) <br> ''حضرت امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک ثقہ و معتبر عالم سے یہ بات سنی کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کو اگلے لوگوں کی عمریں بتلائی گئیں جتنا اللہ کو منظور تھا تو آپ نے اپنی اُمت کی عمروں کو کم سمجھا اور یہ خیال کیا کہ میری اُمت کے لوگ (اتنی سی عمر میں ) ان کے برابر عمل نہ کر سکیں گے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو لَیْلَةُ الْقَدْر عطا فرمائی جو ہزار مہینوں سے بہترہے '' <br> لَیْلَةُ الْقَدْر کی فضیلت : <br> لَیْلَةُ الْقَدْر کی فضیلت کا اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ قرآنِ پاک میں پوری ایک سورت اس کے بارے میں نازل ہوئی ہے جسے'' سُورة القدر'' کہتے ہیں حصولِ برکت کے لیے وہ سورت ذکر کی جاتی ہے : <br> ( اِنَّا اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ۔ وَمَا اَدْرٰکَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِ ۔ لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْر مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ ۔ تَنَزَّلُ الْمَلٰئِکَةُ وَالرُّوْحُ فِیْھَا بِاِذْنِ رَبِّھِمْ مِّنْ کُلِّ اَمْرٍ سَلَام قف ھِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ ) ( سورة القدر ) <br> ''بیشک ہم نے قرآن (پاک) کو شب ِ قدر میں اُتارا ہے، آپ کو معلوم ہے کہ شب ِ قدر کیسی چیز ہے ؟ شب ِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے ،اس رات میں فرشتے اور روح القدس اپنے پروردگار کے حکم سے ہراَ مرِخیر کولے کر اُترتے ہیں (وہ شب) سراپا سلام ہے، وہ شب ِ قدر طلوعِ فجر تک رہتی ہے'' <br> یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے اس میں پانچ آیات ہیں اور یہ تیس کلمات اور ایک سو اِکیس حروف پر مشتمل ہے، اس سورت میں '' لَیْلَةُ الْقَدْر'' کی چار خصوصیات ذکر کی گئی ہیں <br> (١) اس رات میں قرآن نازل ہوا (٢) اس رات میں فرشتے اُترتے ہیں (٣) یہ رات ہزار مہینوں سے افضل و بہتر ہے (٤) اس رات میں صبح صادق تک خیر و برکت امن و سلامتی کی بارش ہوتی رہتی ہے ان خصوصیات کی کچھ مختصر تفصیل ذکر کی جاتی ہے <br> لَیْلَةُ الْقَدْر میں قرآنِ پاک کا نزول : <br> اس رات میں نزولِ قرآن سے جو اِسے اہمیت حاصل ہوئی ہے وہ محتاجِ بیان نہیں ہے اگر اس کی اور کچھ خصوصیات نہ بھی ہوتیں تو اس کی فضیلت کے لیے یہی ایک خصوصیت کافی تھی ! ! <br> لَیْلَةُ الْقَدْر میں فرشتوں کا نزول : <br> عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم اِذَا کَانَ لَیْلَةُ الْقَدْرِ نَزَلَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامِ فِیْ کُبْکُبَةٍ مِنَ الْمَلٰئِکَةِ یُصَلُّوْنَ عَلٰی کُلِّ عَبْدٍ قَائِمٍ اَوْ قَاعِدٍ یَذْکُرُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ فَاِذَا کَانَ یَوْمُ عِیْدِہِمْ یَعْنِیْ یَوْمَ فِطْرِھِمْ بَاھٰی بِھِمْ مَلٰئِکَتَہ فَقَالَ : یَا مَلٰئِکَتِیْ مَاجَزَائُ اَجِیْرٍ وَفّٰی عَمَلَہ قَالُوْا: رَبَّنَا جَزَاؤُہ اَنْ یُّوَفّٰی اَجْرُہ قَالَ : <br> یَا مَلٰئِکَتِیْ عَبِیْدِیْ وَ اِمَائِیْ قَضَوْا فَرِیْضَتِیْ عَلَیْھِمْ ثُمَّ خَرَجُوْا یَعُجُّوْنَ اِلَیَّ بِالدُّعَائِ وَعِزَّتِیْ َوجَلَالِیْ وَکَرَمِیْ وَعُلُوِّیْ وَارْتِفَاعِ مَکَانِیْ لَاُجِیْبَنَّھُمْ فَیَقُوْلُ ارْجِعُوْا فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ وَبَدَّلْتُ سَیِّاٰتِکُمْ حَسَنَاتٍ قَالَ : فَیَرْجِعُوْنَ مَغْفُورًا لَّھُمْ ١ <br> ''حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا جب شب ِ قدر ہوتی ہے تو جبرائیل علیہ السلام فرشتوں کے جھرمٹ میں نازل ہوتے ہیں اور ہر اُس بندے کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں جو کھڑا یا بیٹھا اللہ کے ذکر و عبادت میں مشغول ہوتا ہے ! اور جب عید الفطر کا دن ہوتا ہے تو حق تعالیٰ جل شانہ اپنے فرشتوں کے سامنے بندہ کی عبادت پر فخر فرماتے ہیں <br> ١ شعب الایمان للبیہقی ج ٣ ص ٣٤٣ ، مشکوة المصابیح ص ١٨٢ <br> (اس لیے کہ انہوں نے آدمیوں پر طعن کیا تھا) اور ان سے دریافت فرماتے ہیں کہ اے فرشتو ! اُس مزدور کا جو اپنی خدمت پوری پوری ادا کردے کیا بدلہ ہے ؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی اُجرت پوری دے دی جائے ! تو اِرشاد ہوتا ہے کہ فرشتو میرے غلاموں نے اور باندیوں نے میرے فریضہ کو پورا کردیا پھر دعا کے ساتھ چلاتے ہوئے (عید گاہ کی طرف) نکلے ہیں ، میری عزت کی قسم میرے جلال کی قسم میری بخشش کی قسم میرے علو ِ شان کی قسم میرے بلندیِ مرتبہ کی قسم میں اِن لوگوں کی دعا ضرور قبول کروں گا پھر اِن لوگوں کو خطاب فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ جاؤ تمہارے گناہ معاف کردیے ہیں اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں سے بدل دیا ہے ! پس یہ لوگ عیدگاہ سے ایسے حال میں لوٹتے ہیں کہ اِن کے گناہ معاف ہوچکے ہوتے ہیں '' <br> اس کے علاوہ بھی متعدد احادیث میں شب ِ قدر کے اندر فرشتوں کے زمین پر اُترنے کے بارے میں تفصیل آئی ہے بعض احادیث سے مفہوم ہوتا ہے کہ جبریل علیہ السلام اس شب میں عبادت کرنے والوں سے مصافحہ کرتے ہیں جس کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں دل میں رِقت پیداہوجاتی ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں ! <br> لَیْلَةُ الْقَدْر میں صبح صادق تک خیرو برکت اور امن و سلامتی کا ہونا : <br> اللہ تعالیٰ نے لَیْلَةُ الْقَدْر کے بارے میں فرمایا ہے سَلَام وہ شب سراپا سلام ہے، اس کے مفسرین نے بہت سے مطلب بیان کیے ہیں : <br> ٭ ایک یہ کہ فرشتے ابتدائِ رات سے لے کر صبح صادق تک فوج دَر فوج آسمان سے زمین پر اُترتے رہتے ہیں اور شب بیداروں اور عبادت گزاروں کوسلام کرتے ہیں ! یہ مطلب حضرت امام شعبی نے بیان فرمایا ہے، فرشتوں کے سلام کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اس میں اُمت ِمحمدیہ کی بڑی فضیلت کااظہار ہوتا ہے کیونکہ پہلے فرشتے صرف انبیاء پراُ ترتے تھے وحی لے کر اور اب اُمت ِ محمدیہ پر اُترتے ہیں سلام و دعا کرنے کے لیے ! <br> ٭ دوسرا یہ کہ یہ رات شرور وآفات سے محفوط و سلامت رہتی ہے فرشتے اس میں خیرات وبرکات اور سعادتیں لے کر اُترتے ہیں کسی تکلیف دہ چیز کو لے کرنہیں اُترتے ! <br> ٭ تیسرا یہ کہ یہ رات تیز آندھیوں ، بجلیوں اور کڑک سے سلامتی والی ہے یعنی یہ چیزیں اس میں نہیں ہوتیں ! یہ مطلب ابو مسلم نے بیان فرمایا ہے <br> ٭ چوتھا یہ کہ یہ رات شیطان کے شر سے سلامت ہے یعنی اس رات شیطان کسی قسم کی برائی اور ایذرسانی نہیں کر سکتا ! یہ مطلب حضرت مجاہد تابعینے بیان فرمایا ہے ١ <br> لَیْلَةُ الْقَدْر میں عبادت کرنے سے اگلے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں : <br> عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ اَنَّہ سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم عَنْ لَیْلَةَ الْقَدْرِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم فِیْ رَمَضَانَ فَالْتَمِسُوْھَا فِی الْعَشْرِالْاَوَاخِرِ فَاِنَّھَا فِیْ وِتْرٍ فِیْ اِحْدٰی وَعِشْرِیْنَ اَوْثَلَاثٍ وَّ عِشْرِیْنَ اَوْخَمْسٍ وَّ عِشْرِیْنَ اَوْسَبْعٍ وَّعِشْرِیْنَ اَوْ تِسْعٍ وَّعِشْرِیْنَ اَوْفِیْ آخِرِ لَیْلَةٍ فَمَنْ قَامَھَا اِبتِغَائَ ھَا اِیْمَانًا وَّ اِحْتِسَابًا ثُمَّ وُفِّقَتْ لَہ غُفِرَلَہ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہ وَمَا تَاَخَّرَ۔ ٢ <br> '' حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم سے لیلة القدر کے بارے میں سوال کیا توآپ نے فرمایا وہ رمضان میں ہوتی ہے تم اسے رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو ! وہ طاق راتوں میں ہوتی ہے ٢١ میں یا ٢٣ میں یا ٢٥ میں یا ٢٧ میں یا ٢٩ میں یاآخری شب میں ! جو شخص اس شب میں اس کی جستجومیں کھڑا ہوتا ہے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے پھر اُسے وہ نصیب بھی ہوجاتی ہے تواُس کے اَگلے پچھلے سارے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں '' <br> ١ تفصیل کے لیے دیکھے : تفسیرِ کبیر ج ٣٢ ص ٣٦ ، فضائل الاقات للامام البیہقی ص ٢٥٥ ، ٢٥٦ شعب الایمان ج ٣ ص ٣٣٨ ٢ مُسند احمد ج ٥ ص ٣١٨ ، مجمع الزوائد ج ٣ص ١٧٥ <br> لَیْلَةُ الْقَدْر میں شب بیداری کیسے کی جائے ؟ <br> شب قدر میں بھی شب بیداری کے لیے کوئی خاص طریقہ اور کوئی خاص عبادت مقرر نہیں ہے، اپنے طبعی نشاط کے ساتھ جس طرح بھی خدا کو یاد کر سکیں ،کریں ! <br> حضرت مولانا مفتی عبد الشکور صاحب رحمة اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : <br> ''مناسب ہے کہ جتنی دیر جاگنا چاہے اُس کے تین حصے کرلے، ایک حصہ میں نوافل پڑھے اور ایک حصہ میں تلاوت کلامُ اللہ کے اندر مشغول رہے اور تیسرا حصہ استغفار، درود شریف، دعا وغیرہ ذکر اللہ میں گزادے ! (اللہ تعالیٰ کے ارشاد) ( اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتَابِ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ وَلَذِکْرُاللّٰہِ اَکْبَرُ)(جو کتاب آپ پر وحی کی گئی ہے آپ اُس کو پڑھا کیجئے، نمازکی پابندی رکھیے بیشک نمازبے حیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی رہتی ہے اور اللہ کی یاد بہت بڑی چیز ہے) میں اِن ہی تین عبادتوں نمازاور تلاوتِ کلامُ اللہ اور ذکر اللہ کوایک جگہ جمع فرما دیا گیا ہے '' ١ <br> لَیْلَةُ الْقَدْر کی خاص دعا : <br> عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَرَاَیْتَ اِنْ عَلِمْتُ اَیَّ لَیْلَةٍ لَیْلَةُ الْقَدْرِ مَا اَقُوْلُ فِیْھَا قَالَ قُوْلِیْ : اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفَوّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ ٢ <br> ''حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے بتائیے اگرمجھے معلوم ہوجائے کہ کون سی رات شب ِ قدر ہے تو میں اُس رات اللہ سے کیا عرض کروں اور کیا دعا مانگوں ؟ ؟ آپ نے فرمایا یہ عرض کرو <br> اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفَوّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ ''اے اللہ تو بہت معاف فرمانے والا ہے ، معاف کردینا تجھے پسندہے پس تو میری خطائیں معاف فرمادے '' <br> ١ بارہ مہینوں کے فضائل و احکام ص ٢١٦ ٢ ترمذی ج ٢ ص ١٩١ ، ابن ماجہ ص ٢٨٢ ، مسند احمدج ٦ ص ١٧١ <br> لَیْلَةُ الْقَدْر کن راتوں میں ہوتی ہے ؟ <br> لَیْلَةُ الْقَدْر کن راتوں میں ہوتی ہے اللہ تعالیٰ نے اِس امر کومخفی رکھا ہے، آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے بھی اس کی کوئی مستقل تعیین نہیں فرمائی اس لیے اس شب کی تعیین میں علماء کے مختلف اقوال پائے جاتے ہیں : <br> (١) امام اعظم ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ کا مشہور قول یہ ہے کہ یہ تمام سال میں دائر رہتی ہے ! <br> (٢) حضرت قاضی ابویوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کا قول یہ ہے کہ تمام رمضان کی کسی ایک رات میں ہے جو متعین ہے مگر معلوم نہیں ! <br> (٣) شافعیہ کاراجح قول یہ ہے کہ اکیسویں شب میں ہونا اقرب ہے ! <br> (٤) حضرت اِمام مالک و اِمام احمد بن حنبل رحہمہا اللہ کا قول یہ ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں دائر رہتی ہے ! کسی سال کسی رات میں اور کسی سال کسی دوسری رات میں ! <br> عَنْ عَائِشَةَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم قَالَ تَحَرَّوْا لَیْلَةَ الْقَدْرِ فِی الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ۔ ١ <br> ''حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا شب ِ قدر کو تلاش کرو رمضان کی آخری دس راتوں میں سے طاق راتوں میں '' <br> جمہور علماء کے نزدیک آخری عشرہ اکیسویں رات سے شروع ہوتا ہے، عام ہے کہ مہینہ اُنتیس کا ہو یا تیس کا ،اِس حساب سے حدیث ِ بالا کے مطابق شب ِ قدر کی تلاش ٢١ ، ٢٣، ٢٥، ٢٧، ٢٩ ویں راتوں میں کرنا چاہیے ! <br> عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَجُلًا مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ صلی اللہ عليہ وسلم اُرُوْا لَیْلَةَ الْقَدْرِ فِی الْمَنَامِ فِی السَّبْعِ الْاَوَاخِرِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم اُرٰی رُؤْیَاکُمْ قَدْ تَوَاطَاَتْ فِی السَّبْعِ الْاَوَاخِرِ فَمَنْ کَانَ مُتَحَرِّیْھَا فَلْیَتَحَرَّھَا فِی السَّبْعِ الْاَوَاخِرِ۔ ٢ <br> ١ صحیح البخاری ج ١ ص ٢٧٠ ، مسند احمد ج ٦ ص ٧٣ ، سُننِ کبرٰی للبیہقی ج ٤ ص ٣٠٨ <br> ٢ صحیح البخاری ج ١ ص ٢٧٠ ، صحیح مسلم ج ١ ص ٣٦٩ <br> '' حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بہت سے صحابہ کرام کو خواب میں شب ِ قدر (رمضان کی) آخری سات راتوں میں دکھلائی گئی چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے سب کے خواب آخری سات راتوں پرمتفق ہیں لہٰذا جو شخص شب ِ قدر پانا چاہے تو وہ اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرے '' <br> اس حدیث میں یہ احتمال بھی ہے کہ آخری سات راتوں سے وہ راتیں مراد ہوں جو بیس کے فورًا بعد ہیں یعنی اکیسویں شب سے ستائیسویں شب تک ! یا سب سے آخری سات راتیں مراد ہوں یعنی اکیسویں شب سے اُنتیسویں شب تک ! ! <br> عَنْ زِرِّبْنِ حُبَیْشٍ یَّقُوْلُ سَاَلْتُ اُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَقُلْتُ اِنَّ اَخَاکَ ابْنَ مَسْعُوْدٍ یَّقُوْلُ مَنْ یَقُمِ الْحَوْلَ یُصِبْ لَیْلَةَ الْقَدْرِ فَقَالَ رَحِمَہُ اللّٰہُ اَرَادَ اَنْ لَّا یَتَّکِلَّ النَّاسُ اَمَا اَنَّہ قَدْ عَلِمَ اَنَّھَافِیْ رَمَضَانَ وَاَنَّھَا فِی الْعَشْرِالْاَوَاخِرِوَاَنَّھَا لَیْلَةُ سَبْعٍ وَّعِشْرِیْنَ ثُمَّ حَلَفَ لَا یَسْتَثْنِیْ اَنَّھَا لَیْلَةُ سَبْعٍ وَّعِشْرِیْنَ فَقُلْتُ بِاَیِّ شَیْئٍی تَقُوْلُ ذَالِکَ یَااَبَاالْمُنْذِرِ قَالَ بِالْعَلَامَةِ اَوْبِالآیَةِ الَّتِیْ اَخْبَرَنَارَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم اَنَّھَا تَطْلُعُ یَوْمَئِذٍ لَا شُعَاعَ لَھَا۔ ١ <br> '' حضرت زر بن حُبیش (جو اَکابر تابعین میں سے ہیں ) بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آپ کے دینی بھائی عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ جو کوئی پورے سال کی راتوں میں کھڑا ہوگا (یعنی ہر رات عبادت کیا کرے گا) اُس کو شب ِ قدر نصیب ہوہی جائے گی (یعنی لَیْلَةُ الْقَدْر سال کی کوئی نہ کوئی رات ہوتی ہے پس جو اِس کی برکات کا طالب ہو اُسے چاہیے کہ <br> ١ مسلم ج ١ ص ٣٧٠ ، ترمذی ج ١ ص ١٦٤ ، ابو داود ج ١ ص ١٩٥ ، مسند حمیدی ج ١ ص ١٨٥ <br> صحیح ابن حبان صحیح بن خزیمہ ج ٣ ص ٣٢١ ، سُنن کبرٰی للبیہقی ج ٢ ص ٣١٢ <br> شعب الایمان للبیہقی ج٣ص ٣٣٠ ، فضائل الاوقات ص ٢٣٨ <br> سال کی ہر رات کو عبادت سے معمور کرے اس طرح وہ یقینی طور پر شب قدر کی برکات پاسکے گا ! زربن حُبیش نے حضرت ابن مسعود کی یہ بات نقل کرکے حضرت اُبی بن کعب سے دریافت کیاکہ آپ کا اس بارے میں کیا ارشاد ہے ) انہوں نے فرمایا کہ بھائی ابن مسعود پر خدا کی رحمت ہو اُن کا مقصد اس بات سے یہ تھا کہ لوگ (کسی ایک رات کی عبادت پر) قناعت نہ کر لیں ، ورنہ اُن کو یہ بات یقینا معلوم تھی کہ شب ِ قدر رمضان ہی کے مہینہ میں ہوتی ہے اور اس کے بھی خاص آخری عشرہ ہی میں ہوتی ہے اور وہ متعین طور پر ستائیسویں شب ہے ! پھر انہوں نے پوری قطعیت کے ساتھ قسم کھا کر کہا کہ وہ بلا شبہ ستائیسویں شب ہی ہوتی ہے (اور اپنے یقین و اطمینان کے اظہار کے لیے قسم کے ساتھ) انشاء اللہ بھی نہیں کہا ! زربن حبیش کہتے ہیں میں نے عرض کیا کہ اے ابو المنذر( یہ حضرت اُبی کی کنیت ہے) یہ آپ کس بناء پر فرماتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں یہ بات اس نشانی کی بناء پر کہتا ہوں جس کی رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ہم کو خبر دی تھی اور وہ یہ کہ شب ِ قدر کی صبح کوجب سورج نکلتا ہے تو اُس کی شعاع نہیں ہوتی '' <br> ان تمام روایات سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ اوّل تو ہمیں سارے رمضان کی راتوں میں اللہ کی اطاعت و عبادت میں لگے رہنا چاہیے ! اگر یہ مشکل ہوتو آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کی جستجو کرنی چاہیے ! اگر یہ بھی دُشوار ہو تو آخری درجہ یہ ہے کہ کم اَز کم ستائیسویں شب کو تو غنیمت ِباردہ سمجھتے ہوئے ضرور ہی اس کی جستجو میں لگنا چاہیے ! ! <br> حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک بڑی دولت ہے جس کا حصول بہت بڑی سعادت ہے جس کے مقابلہ میں دنیا بھر کی نعمتیں اور راحتیں ہیچ ہیں اوراس سے محرومی بڑی شقاوت اور بد نصیبی کی بات ہے ! ! <br> شب ِ قدر سے محرومی بڑی محرومی ہے : <br> حضور علیہ الصلٰوة والسلام کا ارشاد ہے : <br> اِنَّ ھٰذَا الشَّھْرَ قَدْ حَضَرَکُمْ وَفِیْہِ لَیْلَة خَیْر مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ ، مَنْ حُرِمَھَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَیْرَ کُلَّہ وَلَا یُحْرَمُ خَیْرَھَا اِلَّا مَحْرُوْم ۔ ١ <br> ''تمہارے اُوپر ایک مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے ! جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا گویا وہ ساری ہی خیر سے محروم رہ گیا اور اِس کی بھلائی سے محروم نہیں رہتا مگر وہ شخص جو حقیقةً محروم ہی ہے '' <br> اس لیے ضرور اِس کی جستجو میں رہنا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ ان راتوں میں مغرب عشاء اور فجر کی نماز ضرور جماعت کے ساتھ پڑھی جائے ! بعض احادیث سے مفہوم ہوتا ہے کہ جو شخص ان راتوں میں مغرب عشاء اور فجر جماعت کے ساتھ پڑھے اُسے شب ِقدر سے کسی قدر حصہ مل جاتا ہے چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی علیہ الصلٰوة والسلام نے فرمایا : <br> مَنْ صَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ فِیْ جَمَاعَةٍ حَتّٰی یَنْقَضِیَ شَھْرُرَمَضَانَ فَقَدْ اَصَابَ لَیْلَةَ الْقَدْرِبِحَظٍّ وَافِرٍ۔ ٢ <br> ''جس شخص نے سارے رمضان مغرب اور عشاء جماعت کے ساتھ پڑھی اُس نے شب کا معتدبہ حصہ پالیا '' <br> مَنْ صَلَّی الْعِشَائَ اْلاخِرَةِ فِیْ جَمَاعَةٍ فِیْ رَمَضَانَ فَقَدْ اَدْرَکَ لَیْلَةَ الْقَدْرِ۔ ٣ <br> ''جس نے سارے رمضان المبارک میں عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی اُس نے لَیْلَةُ الْقَدْر کوپالیا'' <br> لَیْلَةُ الْقَدْر کی علامات : <br> احادیث ِ مبارکہ میں لَیْلَةُ الْقَدْر کی کچھ علامات ذکر کی گئی ہیں چند ایک یہاں ذکر کی جاتی ہیں <br> ٭ حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے لیلةالقدر کے بارے میں فرمایا : <br> ١ ابنِ ماجہ ص ١٢٠ رقم الحدیث ١٦٤٤ ٢ فضائل الاوقات ص٢٦٠ ، شعب الایمان ج ٣ ص ٣٤٠ <br> ٣ فضائل الاوقات ص٢٦١ ، شعب الایمان ج ٣ ص ٣٤٠ <br> لَیْلَة سَمْحَة طَلِقَة لَاحَارَّة وَلَا بَارِدَة تُصْبِعُ شَمْسُھَاصَبِیْحَھَاضَعِیْفَةً حَمْرَائُ ۔ ١ <br> ''یہ ایک نرم، چمکدار رات ہے، نہ گرم نہ سرد ، اس کی صبح سورج کمزور اور سرخ طلوع ہوتا ہے'' <br> ٭ حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ عليہ وسلم نے شب ِ قدر سے متعلق ارشاد فرمایا : <br> وَمِنْ اَمَارَاتِھَا اَنَّھَا لَیْلَة بُلْجَة صَافِیَة سَاکِنَة لَاحَارَّة وَلَابَارِدَة کَاَنَّ فِیْھَا قَمَرًا وَاَنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ فِیْ صَبِیْحَتِھَا مُسْتَوِیَة لَاشُعَاعَ لَھَا ۔ ٢ <br> ''اس رات کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ وہ چمکدار کھلی ہوئی ہوتی ہے، صاف وشفاف معتدل ہوتی ہے ، نہ گرم نہ سرد گویا کہ اس میں چاند کھلا ہوا ہے اور اس کے بعد کی صبح کوسورج بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے بالکل ہموار ٹکیہ کی طرح'' <br> خلاصۂ کلام یہ ہے کہ لَیْلَةُ الْقَدْر اپنی گونا گوں خصوصیات کی بنا پر ایک انتہائی بابرکت رات ہے اس رات کو غنیمت جانتے ہوئے جس طرح بھی بن پڑے مولائے کریم کومنانے کی فکر کرنی چاہیے ! اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے ! اور ایسا طرز ہر گز اختیار نہ کرنا چاہیے جس سے اس کی بے وقعتی اور لاپرواہی جھلکتی ہو ! اس سے محرومی بہت بڑی سعادت اور خیر سے محرومی ہے ! <br> شب ِ قدر میں کی جانے والی منکرات : <br> ہم شب ِمعراج اور شب ِ براء ت کے تحت اِن راتوں میں کی جانے والی بہت سی بد عات ورسومات ذکرکر آئے ہیں بد قسمتی سے کچھ منکرات و رسومات اس رات میں بھی کی جاتی ہیں ہمیں ان سے حتی الوسع پرہیز کرنا چاہیے <br> (١) اس شب میں بھی مسجدوں میں چراغاں کیاجاتا ہے یہ اسراف میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے ! <br> ١ شعب الایمان للبیہقی ج ٣ ص ٢٤٠ ، ابن خزیمہ ج ٣ ص ٣٣١ <br> ٢ مسند احمد ج ٥ ص ٣٢٤ ، مجمع الزوائد ج ٣ ص ١٧٥ <br> (٢) بہت سے لوگ اس شب میں صلوة التسبیح جماعت کے ساتھ پڑھتے ہیں ، یہ صحیح نہیں کیونکہ نفلوں کی جماعت کوفقہاء نے مکروہ قرار دیا ہے اگر کسی نے صلوة التسبیح پڑھنی ہو تو ضرور پڑھے لیکن تنہاء ! <br> (٣) آج کل بہت سی مسجدوں میں یہ اعلان کیاجاتا ہے کہ ستائیسویں شب کو اجتماعی دعا ہوگی سب لوگ اس میں شریک ہوں چنانچہ اس شب کو بڑے اہتمام سے دعا کی جاتی ہے اور دُور دُور سے لوگ اس میں شرکت کے لیے آتے ہیں ، اسلاف اور اکابر سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ بجائے دعا قبول ہونے کے بد عت کا گناہ ہو لہٰذا اس طریقے سے بچنا ہی بہتر ہے (جاری ہے) <br> وَمَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِیْنُ <br> ٭٭٭ <br> <br> <br> <br> <br> عید الفطر کے آداب ومستحبات <br> ٭٭٭ <br> (١) صبح سویرے اُٹھنا (٢) غسل کرنا (٣) مسواک کرنا (٤) اپنے پاس جو کپڑے سب سے اچھے ہوں اُن کو پہننا (٥) خوشبو لگانا (٦) عید گاہ جانا(٧) سویرے جانا (٨) عید گاہ جانے سے پہلے کوئی میٹھی چیز کھا لینا (٩) عیدگاہ جانے سے پہلے صدقہ ٔ فطر دے دینا (١٠) پیادہ جانا (١١) ایک راستہ سے جانا دوسرے راستہ سے واپس آنا <br> ان تمام انعامات بالخصوص اللہ تعالیٰ کے اس عظیم الشان انعام پر کہ اُس نے ایسے پاک اور سچے دین کی ہدایت فرمائی جو سراسر کامیابی اور سراسر نجات ہے ان پر اللہ کا شکر ادا کرنا جس کے لیے رحمة للعالمین افضل المرسلین صلی اللہ عليہ وسلم نے یہ الفاظ تلقین فرمائے ہیں <br> اَللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہْ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ <br> یہ تکبیرات ِ تشریق کے الفاظ ہیں ان کو جاتے آتے زیادہ سے زیادہ پڑھنا چاہیے مگر عیدالفطر میں آہستہ اور عید الاضحی میں معمولی جہر سے <br> <br> <br> <br> <br> درسِ حدیث <br> ( ٣ ) <br> ٭٭٭ <br> محمود الملة والدّین شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب <br> جامعہ مدنیہ جدید کی مسجد حامد میں ''خانقاہ حامدیہ چشتیہ '' کے تحت ہونے والی مجلس ذکر کے بعد ہر اتوار بعد نمازِ مغرب درس حدیث دیاکرتے تھے جن کی ریکارڈنگ جامعہ کے استاذ مفتی محمد فہیم صاحب کرتے تھے، ان دروس کی افادیت کے پیش نظراِن دروس کو ماہنامہ انوارِ مدینہ کے ذریعہ ہر ماہ حضرت کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچانے کا اہتمام کیا جارہا ہے، اللہ تعالیٰ حضرت کے اس فیض کو تاقیامت جاری و مقبول فرمائے،آمین (ادارہ) <br> ٭٭٭ <br> بین الاقوامی سفارتی قوانین <br> ( افادات : شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ) <br> عنوانات و نظر ثانی : ڈاکٹر محمد امجد <br> ( ١٧ ربیع الاوّل ١٤٣٥ھ / ١٩ جنوری ٢٠١٤ ء ) <br> ٭٭٭ <br> اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا <br> مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ ! <br> اسلام میں پوری دنیا کو کنٹرول کرنے کے لیے پوری دنیا کی جہانگیری اور جہاں بانی کے اصول بتائے ، عالمگیریت صرف اسلام اور مسلمانوں کا حق ہے اور کسی کا نہیں ہے ، اس کو آج کل امریکہ ''نیو ورلڈ آرڈر''کے نام سے نامزد کر رہا ہے ،نیو ورلڈ آرڈر ہمارا اور مسلمانوں کا حق ہے ! عالمگیریت صرف ہمارا مسلمانوں کا حق ہے ،اسلام بارہ سو سال پوری دنیا کی واحد سپر طاقت رہا ہے ! ! <br> امام محمد رحمة اللّٰہ علیہ نے اپنی کتاب '' السیر الکبیر '' میں اسلام کے بین الاقوامی فوجی سفارتی سیاسی قواعد اصول بتائے ہیں کیونکہ ان قوانین ہی سے دنیا کو کنٹرول کیا جاتا ہے ، ان ہی کی برکت سے نماز کو مضبوط کیا جائے گانماز قائم کی جائے گی ، ان ہی کی برکت سے روزہ زندہ ہوگا، عبادات کی فکر، ان ہی کی برکت سے ہمیں حقائق کا وثوق ہوگا کیونکہ تعلیمی نظام سکول کالج آپ کے ہاتھ میں ہوں گے ان کا نصاب آپ کے ہاتھ میں ہوگااس نصاب میں آپ عقائد شامل کریں گے ، نماز سکھائیں گے ، روزہ سکھائیں گے ، حج سکھائیں گے، زکوٰة سکھائیں گے تو ہی سارے معاملات زندہ ہوں گے اس کے بغیر زندہ نہیں ہو سکتے ! <br> اقامت ِ صلٰوة کا مطلب : <br> اقامت ِ صلٰوة کے بارہ میں قرآن میں آیا ہے ( اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ ) ١ نماز کو قائم کرو ! ہم سمجھتے ہیں نماز کے قیام کا مفہوم یہ ہے جیسے ہم یہاں خانقاہ میں نماز پڑھ رہے ہیں بے شک یہ بھی قیام ہے یہ بھی اقامت ِ صلوٰة ہے ایسے ہی اور دینی مدارس میں پڑھ رہے ہیں ، دینی مراکز میں پڑھ رہے ہیں ، خانقاہوں میں پڑھ رہے ہیں ،تبلیغی مرکز لاہور میں پڑھ ر ہے ہیں ، نظام الدین دہلی میں پڑھ رہے ہیں ، دار العلوم دیوبند میں پڑھ رہے ہیں ، یہ بڑی بڑی جماعتیں اقامت ِ صلوٰة کر رہی ہیں لیکن یہاں قرآن میں اقامت ِ صلوٰة کا جو مقصد ہے وہ یہ نہیں ہے بلکہ وہ اور ہے! <br> الحمد للّٰہ آپ نے نماز پڑھی ، اللہ کا شکر ہے اللہ نے توفیق دی مغرب کی نماز پڑھ لی خدانخواستہ کوئی ایسی جگہ ہو کہ مغرب کی نماز پڑھ لی ان لوگوں نے اور عشاء کے وقت وہ کہتے ہیں ہم نہیں پڑھتے انکار کردیں نماز پڑھنے سے، کر سکتے ہیں نا ، فرض کر لیں ایسی صورت ِحال ہو جائے تو کیا میں اور آپ ان سے نماز پڑھوا سکیں گے ؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے نہیں پڑھنی ،آپ پڑاھوا سکتے ہیں ؟ آپ ان کو سمجھائیں خوشامد کر لیں مان جائیں ان کی مہربانی ہے پڑھ لیں سمجھ میں آجائے لیکن اگر نہ مانیں تو نہیں پڑھواسکتے تو معلوم ہوا اقامت ِ صلوٰة نہیں ہوا ! اقامت ِ صلوٰة کا مطلب یہ ہے کہ جو انسان اسلام میں داخل ہو گیا تو لازمی نماز پڑھے ،نہیں پڑھے گا تو پڑھوائی جائے گی ! ! ! <br> ١ سورة الحج : ٤١ <br> آپ بس میں سفر کرتے ہیں بس والے سے کہتے ہیں ہم نے نمازپڑھنی ہے، پنجاب کے اکثر ڈرائیور اِدھر سے سن کراُدھر نکال دیتے ہیں ،کوئی خدا خوفی نہیں ہے ! سرحد اور بلوچستان کے ڈرائیور خود بھی پڑھتے ہیں ،کوئی کوئی ہوگا جو نہیں پڑھے گا لیکن اکثر پڑھتے ہیں ،پنجاب میں یہ صورتِ حال نہیں ہے ! وہ روک لے اس کی مہربانی ،نہ روکے تو آپ اس سے لڑیں ،لڑ کے دکھا ئیں اگر آپ نے مکا مار دیا گھونسہ مار دیا سارے مسافر آپ کے پیچھے پڑ جائیں گے اور کہیں بھی تھانے کے پاس روک کر وہ آپ کے خلاف پرچہ کرادے گا کہ اس نے مجھے مکا مارا ہے ! آپ اسے بتائیں گے کہ اس نے نماز پڑھنے سے روکا ہے نماز نہیں پڑھنے دی، پولیس والا آپ کی بات نہیں مانے گا آپ کے خلاف ہی پرچہ دے گا تو اقامت ِ صلوٰة ہوئی ؟ <br> معلوم ہوا نماز لاوارث ٹھہری ! ''لاوارث'' کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کا کوئی وارث نہیں ہے، کھانا کھایا ہے کہ نہیں کھایا ؟ اس کا پیٹ بھرا ہے یا نہیں بھرا ؟ اس کے پاس سردی میں اوڑھنے کے لیے کپڑا تھا یا نہیں تھا ؟ وارث کا یہ ہوتا ہے کہ اسے کوئی پوچھنے والا ہوتا ہے ، کپڑا نہیں ہوگا تو دے گا ، لائے گا پہنائے گا، اپنا پہنائے گا،کچھ نہ کچھ کر ے گا اس کے ساتھ، اپنے کو اذیت میں ڈال دے گا اسے آرام پہنچائے گا ! <br> لاوارث کا یہ ہوتا ہے کہ کوئی ترس کھالے ، کھانا کھلادے گا کپڑا بھی پہنا دے گا ،نہ ملے تو کوئی پوچھتا بھی نہیں ،ایک آدمی ہے بھوکا ہے صبح سے ، اخلاقی طور پر تو ہم مجرم ہیں ، میں آپ کو کہوں کیوں نہیں کھلایا ؟ آپ مجھے کہیں گے تم نے کیوں نہیں کھلایا ؟ آپ مجھے کہیں کہ تو نے کیوں نہیں کھلایا ؟ ایک دوسرے کو ملامت کر لیں گے ! لیکن قانوناً تو جرم نہیں ہے کیونکہ وہ لاوارث ہے، کھلائو تو ٹھیک ہے نہ کھلاؤ تو بھی ٹھیک ہے ! کھلائو گے تو اللہ اجر دے گا ! ! <br> اسلام اس دور میں لاوارث ہے، نماز لاوارث ہے ، روزہ لاوارث ہے، (رمضان میں ) برسرعام کھانے کھائے جاتے ہیں ملک بھرمیں ، پاکستان جو ایک اسلامی ملک کہلاتا ہے اس میں کھاتے ہیں یا نہیں کھاتے ؟ اور ہر سال اضافہ ہورہا ہے، بے شرمی سے کھاتے ہیں ہوٹلوں میں کھا رہے ہیں بسوں میں کھا رہے ہیں ! آپ ان سے روزہ رکھوا سکتے ہیں ؟ پکڑ کر زور زبردستی کر سکتے ہیں ؟ پٹائی کرسکتے ہیں ؟ نہیں کر سکتے ! ! <br> <br> خرید و فروخت کے اصول : <br> حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ کی منڈیوں میں جب سودا بکتا تھا، غلہ بکتا تھا( جیسے انہوں نے غلہ خریدا ہے ایک ہزار من غلہ خرید لیا ہے اور خریدا کس سے ہے ؟ اس کے گودام میں موجود ہے، اسلام کااصول یہ ہے کہ اس کے گودام سے اٹھا کر اپنے گودام میں جب لائے گا تو آگے بیچ سکتا ہے وہاں پڑا پڑا نہیں بیچ سکتا کیونکہ اس مال پر اس کا قبضہ نہیں ہے ! تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے زمانہ میں دیکھا کہ اگر کوئی مال کو اٹھائے بغیر وہیں بیچ دیتا تھا ،مال خرید تو لیا لیکن ابھی اُسے اٹھایا نہیں اپنا قبضہ نہیں لیا اور کسی کو آگے بیچ دیا تو اسے اس بات پر سزا اور تنبیہ دی جاتی تھی ١ ان کے گودام میں پڑا ہے اٹھایا نہیں اپنا قبضہ نہیں لیا تو وہ آگے بیچ نہیں سکتا ! تو آپ بتائیے آپ اس مال دار کو جو اس قانون کے خلاف کرے گا مار سکتے ہیں ؟ تھانیدار سے کہیں تو مار ، وہ کہے گا میں نہیں مارتا قانون ہے ! میں نے اگر ما را تو میرے خلاف بھی کارروائی ہو جائے گی عدالت میں چلا جائے گاتو میرے خلاف بھی پرچہ کرا دیاکہ اس نے مجھے اس بات پر مارا ہے قانون ہے لیکن جیسا امریکہ میں ہے ویسا ہی پاکستان میں ہے کہ نہیں ؟ وہاں لاوارث ہے کہ نہیں ؟ اسرائیل میں اسلام لاوارث ہے، ایسے ہی ہندوستان میں لاوارث ہے، ایسے ہی پاکستان میں لاوارث ہے ،ایسے ہی بنگلہ دیش میں بھی لاوارث ہے ! ! <br> تو معلوم ہوا جسے اقامتِ صلٰوة سمجھتے ہیں وہ اقامتِ صلٰوة نہیں ہے وہ ادنیٰ درجہ کی اقامت ہے، اختیاری اقامت ہے وہاں اختیاری اقامت نہیں ہے وہاں قاہرانہ اقامت بھی ہے ! اسلام میں داخل ہونے کے لیے کسی سے بھی زبردستی نہیں کی جاسکتی لیکن جب اسلام میں داخل ہوگیا تو <br> اس کا مطلب ہے اس نے مان لیا کہ میں نماز پڑھوں گا نہ پڑھنے کی صورت میں جو اسلام کی سزائیں ہیں <br> ١ صحیح البخاری کتاب البیوع رقم الحدیث ٢١٣٧ <br> وہ مجھے قبول ہوں گی ! جیسے آپ(مدرسہ میں داخلہ کے وقت) داخلہ فارم پر دستخط کرتے ہیں ، کرتے ہیں یا نہیں کرتے کہ میں ان قوانین کو مانتا ہوں ، اگر میں مدرسہ کے ضابطے کے خلاف کروں تو مجھے نکال دیا جائے پھر وہ مدرسے والے جب اسے(مدرسہ کے ضابطہ کی خلاف ورزی کرنے پر) نکالتے ہیں تو کوئی طالب علم احتجاج نہیں کرسکتا ! کیونکہ انہوں نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ جو سزا ہے مجھے قبول ہو گی ، اس کو کسی عدالت میں جا کر بھی یہ چیلنج نہیں کر سکتے ، ایک مدرسے نے نکال دیا وہ جائے عدالت میں کہ جی مجھے نکالا ہے دھوکہ دے ، عدالت زیادہ سے زیادہ بلائے گی وہاں مہتمم صاحب کہیں گے کہ اس نے ہمارے داخلہ فارم پر دستخط کیے ہیں اور یہ قواعدو ضوابط ہیں تو عدالت کہے گی کہ اسے (مدرسہ سے) نکال دو ، فارغ کرو ! ! <br> اس وقت عالمگیریت نہیں ہے، اللہ نے آپ کو دنیا کنٹرول کرنے کے لیے پیدا کیا ہے کیونکہ آپ حضرت محمد رسول اللہصلی اللہ عليہ وسلم کے امتی ہیں اور وہ دنیا کا پورا نظام قائم کر کے حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ کے ہاتھ میں دے کر دنیا سے چلے گئے پھر حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ تشریف لے گئے تو حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے ہاتھ میں دے کر چلے گئے انہوں نے ساری دنیا کا نظام چلایا پھر حضرت عثمان پھر حضرت علی رضی اللہ عنہما کا دور ، یہ خلافت ِراشدہ کا دور ہوا ، ان کے بعد حضرت معاویہ رضی اللّٰہ عنہ کا دور آیا، چلتی رہی پھر اور آئے پھر اور آئے ، خلافت چاہے کمزور ہو گئی لیکن اسلام کے قوانین پر قائم رہی ، اسلام نے پورے بارہ سو سال پوری دنیا کی قیادت کی ! ! <br> امام محمد کی اس کتاب میں نماز کے مسائل نہیں اس میں حج کے مسائل نہیں اس میں زکوٰة کے مسائل نہیں ہیں ، وہ دوسری فقہ کی کتابوں میں ہیں ، اس میں دنیا کی قیادت کرنے کے اصول بتائے ہیں اس کا مطلب ہے حقدار ہیں تب ہی تو اصول بتائے ہیں ، عیسائی قرآن نہیں پڑھتے ہم پڑھتے ہیں کیونکہ یہ ہماری کتاب ہے ہمارے پاس آئی ہے اس لیے ہم پڑھتے ہیں ، عیسائی بھی جب مسلمان ہو جائے گا تو وہ بھی پڑھنا شروع کر دے گا پھر وہ توراة چھوڑ دے گا ! یہ تمہید خود بخود اس وقت بن گئی اس کتاب میں سے کچھ باتیں سنانی چاہتا ہوں لیکن ابھی جو باتیں ہوئی ہیں وہ بھی اسی کا حصہ ہیں ! ! <br> پاکستان میں رائج انگریز کا قانون : <br> اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو ہمارے فوج کے جرنیلوں کو ان ججوں کو جو کافرانہ نظام کے تحت فیصلے کر رہے ہیں سمجھ دے وہ سمجھیں کہ ہماری ذمہ داری کیا ہے ؟ ان کے دماغ سوچیں کہ ہم کس راستے پر چل رہے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ ان میں سے کچھ ایسے لوگ پیدا کر دیں جو ایسی تبدیلیاں لائیں جس سے اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی ہو عزت ہو ورنہ آپ کو پتہ ہے یہاں کا قانون تو کافرانہ ہے ! <br> سپریم کورٹ کا فیصلہ : <br> آپ کو پتہ ہے پچھلے سال اسلام آباد کی سپریم کورٹ میں کسی عورت نے درخواست دی تھی ، سات آٹھ نو سال کی بچی کا باپ مسلمان تھا پاکستانی تھا اس نے فرانس میں یہودن سے شادی کی تھی وہ اپنی بیٹی کو لے کر پاکستان آگیا ، وہ یہودن پاکستان آئی اس نے عدالت میں کیس کیا کہ میں اس کی ماں ہوں میری بیٹی مجھے دی جائے ! آپ بتائیے اس بارے میں اسلامی قانون موجود ہے یا نہیں ؟ موجود ہے ! بچی کس کو دی جائے گی ؟ اَحْسَنُ دِیْنَکُمْ کو دی جائے گی ! یہ اسلام کا اصول ہے بے شک اسلام اچھا دین ہے لیکن سپریم کورٹ کے جج نے جب عدالت میں فیصلہ دیا کہ یہودن کو بچی سپرد کی جائے ،بچی باپ سے مانوس تھی روتی رہی چیختی رہی چلاتی رہی عدالت کے اہلکار نے لڑکی کو زبردستی گود میں اٹھایا اور یہودی عورت کے ساتھ گاڑی میں دھکا دے کے بٹھا دیا اور وہ یہود ن اس لڑکی کو لے کر فرانسیسی سفارت خانے گئی اور فوری طور پر فرانسیسی سفارت خانے والوں نے بذریعہ جہاز فرانس بھیج دیا، باپ بیہوش ہوکر ہسپتال پہنچ گیا ! ! <br> بتائیے کس قانون کی رُو سے ایسا کیا ؟ بتائیے اَحْسَنُ دِیْنَکُمْ یہودی ہے یا اسلام ؟ آپ بتائیے کہ کیا اسلام زندہ ہے ؟ آج چودہ کروڑ ١ مسلمانوں کے ملک میں سے ایک یہودن آکر عدالت سے مسلمان بچی کو لے گئی، عدالت کہتی ہے یہ قانون کہتا ہے ! گویاقانون اسلام پر غالب ہوگیا العیاذ باللّٰہ ! تو یہ قانون ہمارے ملک میں ہے تو یہ صورتِ حال ہے اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر <br> ١ یہ بیان ٢٠١٤ء کا ہے اب ٢٠٢٦ء میں پاکستان کی آبادی بائیس کروڑ پر مشتمل ہے <br> رحم فرمائے ، یہ خبر اخبار ات میں خبر آئی ، سب کو پتا ہے ! <br> میں نے آپ کو بتایا تھا پاکستان کا قانون مسلمانوں نے نہیں بنایا بلکہ انگریز جو قانون دے گیا وہی سینے سے لگا رکھا ہے پاکستانی حکومت نے بھی وہاں ہندوستانی حکومت نے بھی اور اس سے پہلے بنگلہ دیش کی حکومت نے بھی کیونکہ پہلے انگریز برسر اقتدار رہا پورے ہندوستان پر ، وہ انگریز قانون بنا کرچلا گیا آج وہی قانون ہم نے سینے سے لگا رکھا ہے ، یہ قانون ہندو سینے سے لگائے تو لگائے ، پاکستان اور بنگلہ دیش والوں نے کیوں سینے سے لگا رکھا ہے تم تو مسلمان ہو تویہ ہماری بدنصیبی ہے ! ! <br> اسلام کی اعلیٰ ظرفی : <br> نبی تو سارے جہاں کے انسانوں کے لیے آتے تھے ، یہ ہماری تنگ نظری ہے جو خرابی کا باعث بنی ہوئی ہے جس کی طرف توجہ ہی نہیں ہے ! بس میں اس کے ساتھ بیٹھوں گا بھی نہیں ، میں اس کے ساتھ کھائوں گا بھی نہیں ، یہ سٹیج پر کیوں چڑھ گیا ؟ یہ چڑھ گیا تو میں اُتر جائوں گا ، یہ اُترے گا تومیں چڑوں گا ! اس چیز نے بہت خرابی پیدا کردی ہے ! ! <br> مشرکین سے صلہ رحمی : <br> اسی کتاب میں ایک باب آ رہا ہے '' بَابُ صِلَةِ الْمُشْرِکِ وَذُکِرَ عَنْ اَبِیْ مَرْوَانَ الْخُزَاعِی'' اَبِیْ مَرْوَانَ الْخُزَاعِی سے ذکر کیا گیا ہے کہتے ہیں میں نے مجاہد رحمة اللہ علیہ سے پوچھا رَجُل مِنْ اَھْلِ الشِّرْکِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَہ قَرَابَة مشرکین میں سے ایک آدمی ہے، میں مسلمان ہوں لیکن وہ کافر ہے مشرک ہے لیکن میری اس سے رشتہ داری ہے ، وَلِیَ عَلَیْہِ مَال أَدَعُہُ لَہ میرا اس پر مال ہے اس نے میرا مال دینا ہے دس ہزار بیس ہزارلاکھ دس لاکھ کڑوڑدو کڑوڑ جتنا بھی ہے میرا مال ہے اس نے وہ مجھے دینا ہے ، کیا میں اس کو چھوڑ دوں ، اس سے حسن سلوک کر سکتا ہوں کہ جائو میں نہیں لیتا چھوڑ دیا معاف کردیا ؟ مجاہد بہت بڑے امام تھے مجاہد فرمانے لگے کہ ہاں معاف کر دو، آپ اس سے حسن سلوک کرو یہ اسلام کی تعلیمات دیکھ رہے ہیں ،ہاں صلہ رحمی کرو اس کا فائدہ ہوگااس پر اثر نہیں ہوگا تو اس کے کسی جاننے والے دوست پر ہو جائے گا، کچھ بھی نہیں ہوگا تو یہ تو دیکھیں گے کہ اسلام میں اتنی لچک ہے اور یہ اتنے اعلیٰ ظرف لوگ ہیں ! ! <br> مزید فرماتے ہیں لاَ بَأْسَ بِاَنْ یَصِلَ الْمُسْلِمُ الْمُشْرِکَ قَرِیْبًا کَانَ اَوْ بَعِیْدًا ، مُحَارِبًا کَانَ اَوْ ذِمِّیًا چاہے وہ محارب ہو، چاہے وہ ذمی ہو ،چاہے وہ دارالحرب میں رہتا ہو ، چاہے وہ ہمارے ملک کا اقلیتی ہو جیسے عیسائی یہودی کافر مشرک ہمارے ملک میں رہتے ہیں اگر وہ کسی کا رشتہ دار ہے ذمی ہے ذمی کا مطلب ہے کہ وہ جزیہ( ٹیکس) دے کر ہمارے ملک میں رہ رہا ہے ،مطلب ٹیکس دیتا ہے اور اگر وہ کافروں کے ملک میں ہے تو بھی تم اُ سے کوئی گفٹ اور تحفہ دے سکتے ہو اور صلہ رحمی کرسکتے ہو ! ! تو اس میں بین الاقوامی قوانین آگئے کہ ملک کے اندر ہو تو پھر اس کے ٹیکس وصول کر سکتے ہو اور ملک سے باہر ہو تو پھر تو ظاہر ہے سفارت خانے کے ذریعے یا بینک کے ذریعے اس طرح بھیجنا پڑے گا تو یہ بین الاقوامی احکام آگئے ! ! <br> اہلُ اللہ اور صوفی کا تصور ؟ <br> کیوں کر سکتے ہیں ؟ کہتے ہیں لِحَدِیْثِ سَلَمَةَ بْنِ الاَکْوَاعْ یہ بہت بڑے صحابی تھے بہت تیز دوڑتے تھے جسے آج کل اتھیلٹ(Athelet) کہتے ہیں ؟ بہت بڑے ان کے ساتھ کوئی نہیں دوڑ سکتا تھا ،صحابی ہیں صوفی حضرت سَلَمَةَ بْنِ الاَکْوَاعْ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اہل اللہ ، بزرگان دین ایسے ہوتے ہیں ہم نے بزرگان دین کا جو تصور ہے وہ کسی اور طرح کا بنا رکھا ہے ، ہم ولی اللہ اور بزرگانِ دین اسے سمجھتے ہیں عام طور پر جو کچھ بھی نہ کرسکتا ہو ، بس بیٹھا ہو چل بھی نہ سکتا ہو اگر وہ چلے پتھر مارے نشانے پر فائر کرے تو کہتے ہیں کہ یہ کوئی اللہ والا ہے ؟ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اگر یہ اللہ والے نہیں ہیں تو پھر تو سارے صحابہ بھی اللہ والے نہیں ہیں ، دنیا کے سارے اللہ والے مل جائیں ایک صحابی کے برابر نہیں ہو سکتے ! یہ پیدل دوڑ کر چلتے ہوئے جاسوس جو بھاگتے تھے کافروں کے اونٹوں پر تیز رفتار ،یہ پیدل دوڑ کر جاکر اونٹ کو پکڑ کر بٹھادیتے تھے اتنا تیز دوڑتے تھے ، یہ ہیں صوفی ، یہ ہیں اہل اللہ، یہ ہیں بزرگانِ دین، یہ ہیں مرشد ، یہ ہیں پیر، ایسے پیر ہوتے ہیں ! ! <br> ہم نے ایسے پیروں کو مرشد اور اہل اللہ سمجھ رکھا ہے جو کسی کام کے نہیں ،گولہ یاپتھر پھینکنا پڑجائے تو اپنے ہی منہ پر لگ جائے گا ! قرآن نے تعریف کی ہے ( بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ ) ١ علم میں بھی مضبوط اور فکر میں بھی مضبوط، ایسے ہوتے تھے صحابہ ، ایسے ہوتے ہیں مرشد، ایسے ہوتے ہیں بزرگ اور نبی کا بھی یہی حال ہے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے تلوار چلائی ،نیزہ چلایا ، تیر اندازی کی، گھڑ دوڑ کی ! اب گھڑ دوڑ میں ولی اللہ کو بٹھا کر ذرا دوڑ لگوادو تو سارے مرید بھاگ جائیں گے چھوڑ کر یہ تو پیر نہیں ہے یہ توایسے ہی ہے دنیا دار اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ یہ جہالت ہے بھائی، یہ چیزیں ہم میں شیعوں سے آگئی ہیں ہمارے ذہنوں میں جس نے ہمیں خراب کر دیا، معیار اور کسوٹی ہی بدل دی ! اہل اللہ ہی کی جانب سے ہے یہ بات کہ وہ گھڑ دوڑ بھی کریں وہ اونٹ دوڑ بھی کریں اونٹ چلانے کے ماہر ہوں آج کے دور کی سواری گاڑی چلانے کے ماہر ہوں ، کار چلانے کے ماہر ہوں ! ! <br> اگر آج اس دور میں بالفرض انبیاء سابقین میں سے کوئی نبی آئے بالفرض آجاتا ہے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نہیں ،کوئی اورنبی آجاتا ہے تو اسے ہر سواری چلانے کی مہارت ہوگی ، کوئی ایک نبی ایسا بتلاؤکہ جسے گدھے کی سواری یا اونٹ کی سواری یا گھوڑے کی سواری نہ آتی ہو ،جو اُس وقت کی سواریاں تھیں ان کے وہ ماہر تھے، خچر چلانے کے بھی ماہر تھے، گھوڑے کے بھی ماہرتھے ، اونٹ کے بھی ماہر تھے،کوئی سواری بچی ؟ آج کے دور میں اگر کہیں نبی ہوتا تو وہ گاڑی چلانے کا ماہر ہوتا ! اِس دور میں مرزا غلام احمد(قادیانی )جھوٹا آیا اس گدھے کو تو موٹر سائیکل کی کک بھی مارنی نہیں آتی تھی ، یہ نبی ہے ! جھوٹا نکما ،یہ موٹر سائیکل کی کک مارتا تو خود ہی گرجاتا ، یہ نبی نہیں ہے ! ! <br> نبی قائد ہوتا ہے تابع نہیں : <br> نبی جو ہوتا ہے وہ سب کام جانتا ہے کیونکہ اس نے دنیا کی قیادت کرنی ہے وہ پیچھے لگنے کے لیے نہیں آتا وہ پیچھے لگانے کے لیے آتا ہے ! وہ قائد ہوتا ہے اس لیے سب چودھری وڈیرے <br> اس کے دشمن بن جاتے ہیں کہ اگر ہم نے اسے بڑا مان لیا تو ہماری چودھراہٹ ختم ! اس لیے مکہ کے <br> ١ سورة البقرة : ٢٤٧ <br> سارے رئیس مخالف ہو گئے کہ اگر ان کو مان لیتے ہیں ہم کہ یہ نبی ہیں پھر تو ہمیں ان کے پیچھے چلنا پڑے گا لہٰذا دشمن ہوگئے ، جن کو اللہ نے ایمان کی نعمت سے نوازنا تھا وہ سردار ہونے کے باوجود بھی ایمان لے آئے سعادت لے گئے جیت گئے کامیاب ہو گئے جو نہیں مانے وہ جہنم میں گئے ہمیشہ کے لیے ! <br> کفار کے ساتھ صلہ رحمی : <br> حضرت سَلَمَةَ بْنِ الاَکْوَاعْ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ نبی علیہ السلام کے ساتھ نماز پڑھی ، فَوَجَدْت مَسَّ کَفٍّ کَتِفِیْ نماز کے بعد میرے کندھے پر نرمی سے کسی نے ہاتھ رکھا، فَالْتَفَتُّ فَاِذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم میں نے مڑ کر دیکھا نبی علیہ السلام تھے کہنے لگے کہ مجھے انہوں نے فرمایا ھَلْ اَنْتَ وَاھِب لِی ابْنَةَ اُمِّ قِرْفَةَ ؟ قُلْتُ نَعَمْ کیا تم میں قرفہ کی جو بیٹی ہے تم وہ مجھے دیتے ہو میرے سپرد کر دیتے ہو ؟ اس میں تفصیل ہے بہرحال وہ کسی وجہ سے آئی ہوگی ، قیدی ہوگی ، کوئی باغی ہو گی ، وہ ان کے پاس ہوگی تو کیا تم وہ مجھے دیتے ہو ؟ ہے تو تمہاری، ہبہ کردو مجھے، میں نے کہا کیوں نہیں ،کیسے انکار کر سکتا ہوں ، اللہ کا رسول ایک بات کہہ رہا ہے ، یہ تو جان قربان کرنے والے لوگ تھے تو یہ کیا چیز ہے ؟ کہنے لگے فَوَھَبْتَھَا لَہُ فَبَعَثَ بِھَا اِلَی خَالِہِ حَزَنَ بْنِ اَبِیْ وَھْب وَ ھُوَ مُشْرِک وَھِیَ مُشْرِکَة آپ نے حَزَنَ بْنِ اَبِیْ وَھْب کو اس کے پاس بھیجا حالانکہ وہ مشرک تھا اور یہ جو لڑکی تھی ان کے پاس وہ مشرکہ تھی اس کو بھیج دیا آپ نے اس کے ساتھ ! <br> ایک اور واقعہ : <br> امام محمد پھر دوسری مثال دے رہے ہیں وَبَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم خَمْسَ مِائَةِ دِیْنَارٍ اِلٰی مَکَّةَ حِیْنَ قَحَطُوْا نبی علیہ السلام مدینہ منورہ میں ہیں ،کفارِ مکہ سب سے بدترین دشمن حضرت محمد رسول صلی اللہ عليہ وسلم کے، وہ مکہ میں ہیں ہے وہاں قحط آگیا مکہ میں ایک دم قحط پڑ گیا، نبی علیہ الصلٰوة والسلام نے امداد بھیجی ان کو پانچ سو دینار مکہ میں ، پانچ سو دینار بہت بڑی رقم تھی بہت بڑی کڑوڑوں روپے آج کے ، ڈالر کہہ لیں روپے کہہ لیں آج کے، نبی علیہ السلام نے مدد کی ان کی، صلہ رحمی بھی ہوگئی کیونکہ آپ کی ہر ایک سے رشتہ داری تھی مکہ میں جو بھی خاندان تھا قریش کا کہیں نہ کہیں ہر ایک سے آپ کی رشتہ داری تھوڑی بہت تھی ! <br> دوسرااس کا سیاسی فائدہ ،جب مدد اُن کو جائے گی تو ان پر ایک اثر پڑے گااور سوچ تبدیل ہو گی اوروہ دینی، مذہبی، سیاسی ہر اعتبار سے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے حاضر ہو جائیں گے وَاَمَرَ بِدَفْعٍ ذٰلِکَ اِلٰی اَبِیْ سُفْیَانَ بْنِ حَرْبٍ وَ صَفْوَانَ بْنِ اُمَیَّةَ لَیُفَرِّقَا عَلٰی فُقَرَائِ اَھْلِ مَکَّةَ فَقَبِلَ ذٰلِکَ اَبُوْسُفْیَانَ وَ اَبِیْ صَفْوَانُ اور یہ اُس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے فتح مکہ کے بعد اسلام لاکر مسلمان ہوئے، اس وقت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے بہت بڑے دشمن تھے فرمایا کہ ان کو دے دو اور صَفْوَانَ بْنِ اُمَیَّةَ کے سپرد کرو تاکہ مکہ کے فقرا ء کو تقسیم کردیں لَیُفَرِّقَا عَلٰی فُقَرَائِ اَھْلِ مَکَّةَ ۔ <br> اتنا کھلا سینہ ہے اسلام کا، چاہے وہ حربی ہو، چاہے وہ دارالحرب میں رہتا ہو، چاہے یہاں رہتا ہو ، ابو سفیان دارالحرب میں تھا اور فقراء کفار ِ مکہ دارالحرب میں تھے ، تو جہاں مرضی رہتے ہوں چاہے دارالحرب میں چاہے یہاں دارالاسلام میں ! ! <br> دوسری جگہ صلہ رحمی بھی کی جاسکتی ہے ، صلہ رحمی کی بھی اجازت دی ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم فرماتے ہیں وَاَبٰی صَفْوَانَ ۔ صَفْوَانَ بْنِ اُمَیَّةَ نے انکار کردیا ،کرتا ہے ایک لیڈر نے تو قبول کر لیا بس مکہ اس کو بھیجنا تھا بھیج دیااب صَفْوَانَ بْنِ اُمَیَّةَ جو تھا اس نے انکار کردیا ! <br> اس نے کہا مَا یُرِیْدُ مُحَمَّد بِھٰذَا اِلَّا اَنْ یَّخْدَعَ شُبَّانَنَا اس نے کہا ان کا مقصد سازش ہے مقصد یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو بہکا دیں کمزور ہوجائیں ، یہ مقصد ہے ا ن کا، اس نے کہا کہ ان کا مقصد یہی ہے، سیاسی طور پر ہمارے لیے نقصان دہ ہے اس سے ہمارے بچے کمزور ہو جائیں گے متاثر ہوجائیں گے اس لیے میں تو نہیں لے رہا تواس نے مسترد کردیا لیکن خیر بہرحال ایک سوچ تھی اپنی جگہ، ابو سفیان نے دیکھا ضرورت کی چیز ہے بانٹا ! لیکن حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے عملی طور پر ان کے ساتھ تعاون کیا ہے ،یہ بین الاقوامی ضابطہ سمجھ میں آیا کہ نہیں ،اس میں آگے مزید دلیل رہے ہیں لِاَنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحْمُوْدَة عِنْدَ کُلِّ عَاقِلٍ وَ فِیْ کُلِّ دِیْنٍ کہ صلہ رحمی کرنا پسندیدہ چیز ہے ہرعقل مند کے نزدیک ہر دین ہر مذہب میں ، اپنے رشتہ داروں کے ساتھ قرابت داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا پسند کیا گیا ہے اور اسلام میں توسب سے زیادہ پسند کیا گیا ہے ! <br> وَالْاِھْدَائُ اِلَی الْغَیْرِمِنْ مَکَارِمِ الْاَخْلَاقِ ١ اور غیروں کو ہدیہ دینا یہ مکارمِ اخلاق میں سے ہے، اعلیٰ اخلاق میں سے ہے اخلاقی چیز ہے قَالَ صلی اللہ عليہ وسلم بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَکَارِمِ الْاَخْلَاقِ ١ میں بھیجا گیا ہوں اس لیے تاکہ اعلیٰ اخلاق کی تشریح کردوں ! ! <br> امام محمد فرماتے ہیں فَعَرَفْنَا اَنَّ ذٰلِکَ حَسَن فِیْ حَقِّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُشْرِکِیْنَ جَمِیْعًا اس سے ہم نے جان لیا کہ یہ عمل مسلمانوں اور کافروں سب کے حق میں بہتر ہے اس کے اچھے نتائج اور ثمرات مرتب ہوں گے ! ! <br> بین الاقوامی سفارتی قوانین : <br> یہاں پوری دنیا کے بین الاقوامی سفارتی قوانین عرض کیے جارہے ہیں ، یہ تشریح کر رہے ہیں قرآ ن اور حدیث کی ، کہیں اور سے تو نہیں لے رہے ۔ <br> امام محمد مزید فرماتے ہیں کعب بن مالک پھر حدیث لا رہے ہیں اس حدیث سے پھردنیا پر حکمرانی کرنے کے بین الاقوامی مسائل نکالیں گے ، آپ کو حکمرانی کے طریقے سکھا رہے ہیں کہ تم نے ایسے حکمرانی کرنی ہے اور ہر چیز قرآن اور حدیث سے نکال رہے ہیں ہر قانون قرآن اور حدیث سے نکال رہے ہیں ! <br> مشرکین سے ہدیہ لینا ؟ <br> ثُمَّ ذَکَرَ عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ حضرت کعب بن مالک نے ذکر کیا ہے قَدِمَ عَامِرُ بْنُ مَالِکٍ اَخُو الْبَرَائِ حضرت براء رضی اللہ عنہ کا بھائی عامر بن مالک آیا وَھُوَ مُشْرِک ، فَاَھْدَی لِلنَّبِیِّ صلی اللہ عليہ وسلم فَرَسَیْنِ وَ حُلَّتَیْنِ ! نبی علیہ السلام کو اس نے دو گھوڑے ہدیے میں دیے فَقَالَ عَلَیْہِ السَّلَامُ <br> لَا اَقْبَلُ ھَدِیَّةَ مُشْرِکٍ ٢ فرمایا میں مشرک سے ہدیہ نہیں لوں گا ! وہ دینے کے لیے تیار ہے لیکن آپ <br> ١ الموطا امام مالک باب ماجاء فی حسن الخلق ص ٧٩٥ ٢ الطبرانی فی الکبیر رقم الحدیث ١٤٠ <br> لے نہیں رہے ، لینا اور بات ہے دینا اور بات ہے ! بہادری اور مشکل کام دینا ہے وہ دے رہا ہے، لینے کی بات آئی تو آپ سوچ رہے ہیں کسی سے مناسب سمجھیں گے تو لیں گے کسی سے سمجھیں گے تو نہیں لیں گے ! اور ہم کیا کرتے ہیں بس لیے جاؤ لیے جاؤ لیے جائو، بس لینے ہی کی بات ہوتی ہے ! بہر حال نبی علیہ السلام نے مشکل کام اختیار کیا کہ یہ کرو، یہ ہے بہادری ! تو فرما رہے ہیں کہ آپ نے نہیں لیا ! اور ایک روایت یہ بھی آتی ہے کَانَ یَقْبَلُ ھَدَایَا الْمُشْرِکِیْنَ نبی علیہ السلام نے مشرکین کے ہدیے قبول بھی کیے ، یہ روایت بھی آتی ہے ، اور یہ بھی آتا ہے کہ ہدیے رد کر دیے ! ! <br> وَاَنَّہُ اَھْدَی مَعَ عَمْرِو بْنِ اُمَیَّةَ الضَّمْرِیِّ اِلٰی اَبِیْ سُفْیَانَ تَمْرَ عَجْوَةٍ حضرت عمرو بن امیہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے ساتھ آپ نے ابو سفیان کوعجوہ کھجوریں بھیجیں تحفے میں وَاسْتَھْدَاہُ اَدَمًا اور کچھ کھانا کھانے کی چیز بطورِ سالن کے کوئی ایسی چیز ہوگی یا کیا ہوگا ؟ تو وہ آپ نے ان سے منگوایا کہ وہ مجھے بھیجو ، توآپ نے عجوہ کھجور کا ہدیہ بھیجا اور فرمایا وہ مجھے بھیجو فَقَبِلَ ھَدِیَّةَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم وَ اَھْدَی لَہُ انہوں نے نبی علیہ السلام کا ہدیہ قبول کر لیا اور نبی علیہ السلام کو بھیج دیا ! <br> اور ایک نصرانی نے نبی علیہ الصلٰوة والسلام کو ریشم دیا وَاَنَّ نَصْرَانِیًّا اَھْدَی اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم حَرِیْرًا یَتَلَالَأُ فَقَبِلَ ھَدِیَّتَہُ ریشم دیا جو چمکدار تھا جگ مگ کر رہا تھا لشکارے مار رہا تھا جسے آپ نے قبول کرلیا ! پہنا نہیں ہے بھائی ، کہیں حدیث سے یہ سمجھو اور ریشمی کرتہ پہن لو ، حدیث میں پہننا نہیں آرہا ! ہدیہ قبول کرنا اور بات ہے پہننا اور بات ہے ، قبول فرما لیا یہ نہیں کہ پہن لیا یہ نہیں آرہا <br> وَاَنَّ عِیَاضَ بْنَ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِیِّ اَھْدَی اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم اور عِیَاضَ بْنَ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِیِّ نے نَبِیْ عَلَیْہِ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ کو ہدیہ دیا فَقَالَ لَہُ اَسْلَمْتَ یَا عِیَاضُ ؟ فَقَالَ لَا اے عیاض اسلام لے آئے یا اسلام لاتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں قَالَ عَلَیْہِ السَّلَامُ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی نَھَانِیْ اَنْ اَقْبَلَ زَبْدَ الْمُشْرِکِیْنَ اَی عَطاَیَاھُمْ ١ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے منع کیا ہے کہ میں مشرکین کے ہدیوں کو قبول کروں ! ! <br> ١ سنن ابوداود کتاب الخراج و الفیء و الامارة رقم الحدیث ٣٠٥٧ ، و الترمذی و احمد <br> ہدیہ قبول کرنے اور نہ کرنے کی وجوہات : <br> علامہ زہری رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم نَھَی عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِکِیْنَ اَیْ عَنْ قَبُوْلِ ھَدِیَّتِھِمْ فَتَأْوِیْلُ مَا رُوِیَ اَنَّہُ لَمْ یَقْبَلْ مِنْ وُجُوْہٍ آگے وجوہات بتا رہے ہیں کہ قبول بھی کیا اور نہیں بھی کیا ،جو نہیں کیا اس کی وجوہات بتا رہے ہیں اس میں جو مصلحت تھی اس کا ہدیہ قبول نہ فرمایا ورنہ عام طور سے قبول کرلیتے تھے ! ! <br> اب آپ کو دیکھنا پڑے گاکہ اگر مصلحت ہے تو نہ لو اور اگر مصلحت نہیں ہے کوئی ایسا نقصان تو نہیں ہے تو قبول بھی کر لیں ! اوراب بھی ہوتا ہے ہمارے ملک میں غیر ملکی سربراہ مملکت یا وزیراعظم آتا ہے تو ہمارے ملک کا وزیراعظم اسے تحفہ دیتا ہے وہ اپنے ملک سے ادھردیتاہے اور ہمارا وزیراعظم دوسرے ملکوں میں جاتا ہے کافروں کے ملک میں تو وہ بھی ہدیہ دیتا ہے ! <br> بھٹو نے اپنے دور میں غیر ملکی دورے کیے ، آپ کے صدر مشرف نے بھی اپنے دور میں غیر ملکی دورے کیے تو انہوں نے ہدیے دیے توانہوں نے بھی ان کو ہدیے دیے وہاں سے لے کر آئے ، اسی طرح چل رہا ہے اور آج تک چل رہا ہے ! ! <br> ہدیہ قبول نہ کرنے کی ایک وجہ : <br> کہتے ہیں ایک یہ ہے اَنَّہُ لَمْ یَقْبَلْ مِمَّنْ کَانَ یَطْمَعُ فِیْ اِیْمَانِہِ اِذَا رَدَّ ھَدِیَّتَہُ لِیَحْمِلَہُ ذٰلِکَ عَلٰی اَنْ یُّؤْمِنَ ثُمَّ یَقْبَلَ ھَدِیَّتَہُ نبی علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں داعی ہیں لیکن اللہ نے آپ کو گہری نظر عطا کی تھی ، بعض دفعہ آپ کو اُمید ہوتی تھی کہ یہ آدمی جو ہدیہ لایا ہے یہ مسلمان ہو جائے گا ایمان لے آئے گا تو آپ اس لیے رد کرتے تھے کہ یہ میرا رد کرنا اس کو اُبھارے گا کہ اگر میں مسلمان ہوتا تو میرا ہدیہ رد نہ ہوتا، اس سے اُس کا جذبہ بڑھے گا اور یہ ایمان لے آئے گا ان شاء اللّٰہ اس وجہ سے آپ اس کو رد کرتے تھے کہ شاید ایمان لے آئے، آپ کو قرائن سے اندازہ ہوجاتا تھا کہ یہ اسلام لانا چاہتا ہے متاثر ہے اسلامی تعلیمات سے ! ایک اندازہ ہوتا ہے جب انسان سوال جواب کرتا ہے تو اس کے تأثرات اور ہوتے ہیں تو اس وجہ سے اس حکمت اور مصلحت سے آپ نے رد کیا ورنہ قبول فرما لیتے تھے ! <br> ہدیہ قبول نہ کرنے کی ایک اور وجہ : <br> یا یہ وجہ ہے کہ قبول کیا ہے اس لیے بھی قبول کیا ہے لِاَنَّہُ کَانَ فِیْھِمْ مَنْ یُّطَالِبُ بِالْعِوَضِ بعض لوگ ایسے ہوتے تھے کہ ہدیہ دے کر پھر امید ہوتی تھی کہ اس سے اچھا ہدیہ ہمیں ملے گا کیونکہ نبی علیہ السلام کی عادت جانتے تھے لوگ، ہمارے ہاں تو حال ہی اور ہے، ہم تو باقاعدہ ہمارے ہاں بیس سال کے دورے کرتے ہیں نذرانے وصول کرنے کے لیے انا للّٰہ و انا الیہ راجعون غریبوں کے ہاں دورہ ہوتا ہے، ایک خواب ہوتا ہے یہاں سے سوٹ وہاں سے سوٹ وہاں سے روپے اکھٹے کرتے ہیں کہ ہمارا دورہ ہو تا ہے لینے کے لیے ، نبی علیہ السلام تو سارے پیروں کے بادشاہ ہیں وہ دے رہے ہیں دے رہے ہیں لے نہیں رہے ! ! <br> حضرت بانی جامعہ کے واقعات : <br> ٭ ایک بہت مالدار خاتون تھیں وہ حضرت والدصاحب سے بیعت کا تعلق رکھتی تھیں ، ان کو کبھی ضرورت پڑتی تھی توحضرت سے قرضہ مانگنے آجاتی تھیں تو حضرت دلا دیتے تھے ! حضرت کے بارے میں اپنے تعلق والوں کو جاکر کہتی تھیں کہ آؤ میں تمہیں ایسا پیر دکھاؤں جو دیتے ہیں لیتے نہیں ! ! <br> ٭ یہ نعمت کدہ ہوٹل تھا ،آپ لوگوں کو تو نہیں پتا ہوگا، لاہور والوں کو پتہ ہو گا یہ لاہوری بیٹھے ہیں ، انارکلی بازار سے باہر ایک مینار والی مسجد مسلم مسجد ہے اس کے قریب ایک ہوٹل تھا نعمت کدہ اس زمانے میں بڑا مشہور ہوتا تھا اس کے مالک تھے ''اچھا پہلوان'' اس زمانے کے بہترین پہلوان تھے وہیں پہلوانی کرتے تھے بوڑھے تھے وہ حضرت رحمة اللہ علیہ سے ملتے رہتے تھے عقیدت مند تھے تو آتے جاتے تھے حضرت کے پاس ، تو وہ کہا کرتے تھے اپنے ساتھیوں کو پہلوان ٹائپ اس قسم کے جو تھے وہ حضرت کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ '' مولانا دا ٹڈھ نی ہیگا ، مولانا دا ٹڈھ نی ہیگا '' یہ بیچارے پشتو والوں کو سمجھ میں نہیں آئے گا '' ٹڈھ'' کیا ہوتا ہے ! وہ پہلوان کہا کرتے تھے کہ مولانا کا پیٹ نہیں ہے ، ان کا پیٹ ہی نہیں ہے ! حضرت لیتے ہی نہیں تھے ! <br> ٭ لاہورمیں ادویات کی بہت بڑی دکان ہے'' لاہور میڈیسن '' جیسے فضل دین ہے ،فضل دین کے بعد دوسرے نمبر پر لاہور میڈیسن والے تھے ، حضرت کے بڑے معتقد تھے تو ہماری دوا جو ہوتی تھی وہیں سے آتی تھی ! انہوں نے شروع میں کہا کہ ہم پیسے نہیں لیں گے تو حضرت نے کہا کہ آپ پیسے نہیں لیں گے تو ہم آپ سے آئندہ دوا بھی نہیں لیں گے ! <br> یاد رکھو ! یہ دیکھو ہمارے بزرگ ایسے ہیں ! لوگوں کی جیبوں پر نظر مت کرنا کبھی بھی، نہ شاگردوں کی جیبوں کو ناپنا تولنا، نہ مریدوں کی جیبوں کو ، بے نیاز رہو، اللہ دے گا، اللہ پر نظر رکھو اللہ سے مانگو بس اللہ دینے والا ہے اَلْیَدُ الْعُلْیَا خَیْر مِّنَ الْیَدِ السُّفْلٰی ١ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے زیادہ بہتر ہے ! تو اللہ ہمیں دینے والا ہاتھ دے ، لینے والا ہاتھ نہ دے ! تووہ کہا کرتا تھا مولانا کا پیٹ نہیں ہے حضرت کا پیٹ نہیں ہے کیونکہ حضرت لیتے ہی نہیں تھے ، لیکن حضرت دوائی لاہورمیڈیسن والوں سے ہی سے منگاتے تھے وہ پیسے لیتے تھے ،انہیں پتا تھا پیسے نہیں لوں گا تو حضرت دوائی نہیں لیں گے تو حضرت لیتے نہیں تھے ہمیشہ الحمدللہ دیتے تھے چاہے قرضہ لے کر پیسے دیے قرضہ لے کر دوا منگوانی پڑی لیکن پیسے دیے ! تو یاد رکھو ہمارے بزرگ ایسے تھے ! ! <br> اس لیے نبی علیہ السلام اس کا ہدیہ قبول نہیں کرتے تھے کہ وہ یہ طمع کرتا تھا کہ مجھے جو اب میں ہدیہ دیں اور ایسا نہیں بلکہ اس سے بھی بہتر دیں ، اس کی تو بنیاد ہی لالچ پر ہے ! ہدیہ کا تو مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ ایک دوسرے سے محبت بڑھے ، یہ محبت نہیں یہ تو ہے ہی مطلب پرستی دنیا کی لالچ ، تو بعض قرائن سے آپ سمجھ جاتے تھے اس کی بنیاد دنیا کی اغراض ہے ، اس کا بدلہ دوں گا بھی تو بھی یہ خوش نہیں ہوگا اس معاملے میں بلکہ ویسا بدلہ چاہے گا جیسا اس نے اپنے دماغ میں معیار بنایا ہوا ہے تو وہ دوں گا تو خوش ہوگا نہیں تو خوش نہیں ہوگا ! <br> اسی وجہ سے نبی علیہ السلام نے ایک دفعہ فرمایا لَقَدْ ھَمَمْت اَنْ لَا اَقْبَلَ ھَدِیَّةَ الْاَعْرَابِ ٢ <br> ١ مشکوة المصابیح کتاب الزکوة باب من لا تحل لہ المسئلة ومن تحل لہ رقم الحدیث ١٨٤٢ <br> ٢ سنن النسائی کتاب العمری باب عطیة المراة رقم الحدیث ٣٧٥٩ و مسند احمد <br> کہ میں نے ارادہ کرلیا یا کرنے کو ہوں کہ میں دیہاتی لوگوں کے ہدیے قبول نہ کروں ! وہ آکر ہدیہ دیتے ہیں توان کے دماغ میں درہم و دینار کی لالچ ہوتی ہے کہ یہ ہمیں اس سے بڑھ کر ہدیہ دیں گے گویا لالچ ہوتی ہے اس چیز کو نبی علیہ السلام پسند نہیں فرماتے تھے ، اس وجہ سے دیہاتی لوگوں سے ہدیہ قبول نہیں کرتے تھے ! ! <br> ایک دفعہ یہ بھی ارشاد فرمایا لَا اَقْبَلُ الْھَدِیَّةَ اِلَّا مِنْ قُرَشِیٍّ اَوْ ثَقَفِیٍّ قریشی سے لوں گا یاثقفی سے لوں گا جو بڑے خاندان کے ہیں اور عربی ہیں ان سے لوں گا اور کسی سے ہدیہ نہیں لوں گا ! ! <br> اس بات کی تائید یہ روایت کرتی ہے وَاَیَّدَ ھٰذَا مَا رُوِیَ اَنَّ عَامِرَ بْنَ مَالِکٍ کَانَ اَھْدَی اِلَیْہِ فَرَسَیْنِ قَدْ کَانَ اَحَدُھُمَا آپ کو دو گھوڑے دیے لیکن آپ نے وہ واپس کر دیے ! ! <br> پھر یہاں ایک دوسری روایت آتی ہے دو گھوڑے دیے ان میں سے ایک رکھا اور ایک واپس کر دیا ! اس کی وجہ بتا رہے ہیں کیونکہ اس میں سے ایک جو تھا وہ نبی علیہ السلام ہی کا گھوڑاتھا جو کسی معرکہ میں لڑائی میں کافروں کے ہاتھ لگ گیا تھا بارڈر لائن کراس گیا یا کسی کارروائی میں ان کے ہاتھ لگ گیا اب ان دونوں گھوڑوں میں سے ایک وہ گھوڑا تھا اور دوسرا نبی علیہ السلام کو پسند نہیں آیا ! ! <br> یہ بات اور ہے اور لاکر تم نے ہدیہ دیا تو ایک طرح سے یہ ہمیں نیچا دکھانا چاہ رہا ہے ہمیں نیچا کر رہا ہے، نبی علیہ السلام کو اس بات کی بہت فکر تھی کہ کل کو یہ نہ دکھائے کہ دیکھو یہ وہی گھوڑا ہے جو تمہارے رسول کو ہم نے ہدیہ میں دیا ہے یہ کہنے کی نوبت نہ آئے ! فَعَوَّضَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم فَوْقَ ھَدِیَّتِہِ فَجَعَلَ یَطْلُبُ الزِّیَادَةَ نبی علیہ السلام نے ایک شخص کو ہدیہ دیا وہ اور زیادہ مانگنے لگا حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے خطبہ میں ارشاد فرمایا مَا بَالُ اَقْوَامٍ یَھْدُوْنَ مَا نَعْرِفُہُ اَنَّہُ لَنَا ثُمَّ لَا یَرْضَوْنَ بِالْمُکَافَأَةِ بِالْمِثْلِ تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہدیہ دیتے ہیں اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیں دیا ہے (حالانکہ) اگر اس جیسا ہدیہ دو جواب میں جو وہ اپنا یہ ذہن بنا کر آیا ہو وہ لیتے ہیں ! <br> ہدیہ قبول نہ کرنے کی ایک اور وجہ : <br> اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لِاَنَّ اَبَاہُ کَانَ اَجَارَ سَبْعِیْنَ نَفَرًا مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم بِئْرِ مَعُوْنَہ آپ کو پتا ہوگا بِئْرِ مَعُوْنَہ کا واقعہ معلوم ہے آپ کو ؟ وہ جو جمع کیا تھا اور ستر قراء کو شہید کیا تھا اس میں اتنا بڑا حادثہ تھا ستر صحابہ کرام جو قرآن پڑھتے تھے ..... ستر قراء صحابہ کو پناہ دی اپنے ہاں اور پھر ثُمَّ قَتَلَھُمْ قَوْمُہُ وَھُمْ اَصْحَابُ بِئْرِ مَعُوْنَةَ قتل کیا صحابہ کو ، ہمارے اتنے سارے آدمیوں کو دھوکے سے پناہ دی اپنے ہاں اور پناہ دینے کے بعد قتل کردیا بہت بڑا گناہ کیا ہر اعتبار سے فَلِھٰذَا رَدَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم ھَدِیَّتَہُ ١ ان وجوہات کی بنا پر نبی علیہ السلام نے ہدیہ کو رد فرمایا ورنہ قبول بھی فرمایا کرتے تھے ! ! <br> یہ قواعدو ضوابط آج نظر سے گزر گئے پانچ جلدوں میں سے یہ ایک جلد ہے اس کی ان شاء اللہ العزیز آئندہ اس پر مزید بیان کریں گے ، اللہ تعالیٰ سمجھ کی ، عمل کی توفیق دے اور اسلام کو اللہ تعالیٰ سربلندی عطا فرمائے اور ہمارے حکمرانوں ، سیاست دانوں اور جرنیلوں کو سمجھ عطا فرمائے ! <br> اللہ تعالیٰ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے اور آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کا ساتھ اور ان کی شفاعت نصیب فرمائے، آمین وَاِخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ <br> ١ شرح کتاب السیر الکبیر باب صلة المشرک ج ١ ص ٦٩ - ٧١ <br> <br> <br> <br> <br> محمود الملّة و الدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں نور اللّٰہ مرقدہ <br> کے سلسلہ وار مطبوعہ مضامین و دروس جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ پر پڑھے اور سنے جا سکتے ہیں <br> http://www.jamiamadniajadeed.org <br> <br> <br> <br> <br> اخبار الجامعہ <br> ( جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد رائیونڈ روڈ لاہور ) <br> ٭٭٭ <br> ٤ شعبان المعظم ١٤٤٧ھ/٢٤ جنوری ٢٠٢٦ء بروز ہفتہ حسب سابق جامعہ مدنیہ جدید میں حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب مدظلہم نے دورہ صرف و نحو کا آغاز کیا، ٢٣ شعبان المعظم ١٤٤٧ھ/ ١٢ فروری ٢٠٢٦ء بروز جمعرات اختتام پذیر ہوا والحمد للّٰہ <br> ٢٠ جنوری ٢٠٢٦ء کو استاذ الحدیث حضرت مولانا خلیل الرحمن صاحب مدظلہم عمرہ کی سعادت حاصل کرکے ١٠ فروری ٢٠٢٦ء کو واپس تشریف لے آئے۔ <br> ٭ <br> ٢٨ جنوری کو کراچی سے حضرت مولانا عبدالرزاق صاحب سکندر کے صاحبزادے حضرت مولانا ڈاکٹر سعید سکندر صاحب جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور جامعہ کے نائب مہتمم مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی بعد ازاں واپس تشریف لے گئے۔ <br> ٢٨ جنوری کو اسلام آباد سے نائب افغان سفیر حضرت مولانا خلیل الرحمن صاحب وفد کے ہمراہ جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے ،وفد میں مولانا حمزہ شکیب بن شکیب احمد (صاحبزادہ افغان سفیر) اور مولانا ارصلاح خان حق یار ڈپٹی ڈائریکٹرامورِ مہاجرین شامل تھے ، وفد نے مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی اور شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب کے انتقال پر تعزیت اور دعائے خیر فرمائی بعد ازاں حضرت کی قبر مبارک پر حاضری دی اور واپس تشریف لے گئے۔ <br> ٣٠ جنوری کو جامعہ مدنیہ جدید میں جمعیة علماء اسلام ملتان کے امیر حضرت مولانا مفتی عامر محمود صاحب جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مولانا عکاشہ میاں صاحب سے خانقاہ حامدیہ میں ملاقات کی اور ناشتہ تناول فرمایا بعد ازاں واپس تشریف لے گئے۔ <br> ٣ فروری کو حضرت مولانا مفتی خلیل اللہ صاحب اور حضرت مولانا مولانا عمیر صاحب کوئٹہ سے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مولانا عکاشہ میاں صاحب سے خانقاہ حامدیہ میں ملاقات کی اور عشاء کا کھانا تناول فرماکر واپس تشریف لے گئے ۔ <br> ٤ فروری کو پیر طریقت صاحبزادہ خواجہ نجیب احمد صاحب مدظلہم ،امیر جمعیة علماء اسلام پنجاب شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب کی تعزیت کی غرض سے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے، مولانا عکاشہ میاں صاحب سے تعزیت فرمائی اس موقع پر مولانا احمد علی صاحب مدنی اور مولانا عبدالرزاق زاہد صاحب بھی موجود تھے اور خانقاہ حامدیہ میں کچھ دیر فرمایا بعد ازاں واپس تشریف لے گئے۔ <br> ٤ فروری کو مولانا عکاشہ میاں صاحب بعد نمازِ ظہر شبانِ ختم نبوت کے زیر اہتمام ''الحسن اسلامک سینٹر'' میں دس روزہ ختم نبوت کورس کے اختتامی تقریب شرکت کے لیے ہلوکی کاہنہ تشریف لے گئے ۔ <br> ٤ فروری کو کوئٹہ سے حضرت مولانا سیف الرحمن صاحب مدظلہم فاضل دارالعلوم دیوبند مع رفقاء اور کراچی سے تبلیغی جماعت میں آئے ہوئے علماء کرام کی جماعت کے احباب حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب، مولانا رباح صاحب، مولانا حمدان صاحب (دہلی ربڑی والے)، مولانا مزمل صاحب اور مولانا ملک فرید صاحب جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی ، خانقاہ حامدیہ میں عشاء کا کھانا تناول فرمایا ، کراچی کے حضرات واپس رائیونڈ مرکز تشریف لے گئے۔ حضرت مولانا سیف الرحمن صاحب مدظلہم نے رات کو خانقاہ ہی میں قیام فرمایا ، اگلے روز ناشتہ کے بعد حضرت کی قبر مبارک پر حاضری دے کر دعاء خیر فرمائی اور واپس تشریف لے گئے۔ <br> ٧ فروری کو مولانا عکاشہ میاں صاحب ، فاضل جامعہ مدنیہ جدید مولانا محمد سلیم صاحب پھولنگر کی خوشدامن صاحبہ کی نماز ِ جنازہ پڑھانے کے لیے پھولنگر تشریف لے گئے، جہاں وزیر تعلیم رانا سکندر حیات صاحب کے بھائی اور رانا حیات صاحب کے بیٹے رانا فیصل حیات صاحب سے مختلف امور پر گفتگو ہوئی ۔ <br> ٨ فروری کو حضرت مولانا عبدالشکور صاحب نقشبندی چکوال سے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی اور دورہ صرف ونحو کورس میں شریک طلباء کرام سے مسجد حامد میں بیان فرمایا بعد ازاں خانقاہ حامدیہ میں تشریف لاکر چائے نوش فرمائی بعد ازاں واپس تشریف لے گئے ۔ <br> ١١ فروری کو ڈی آئی خان سے مولانا ضمیر اللہ صاحب ،مولانا شفیق صاحب (فاضلین جامعہ) اور مولانا صابر صاحب جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی جامعہ میں دو دن قیام فرمایااور دورہ صرف و نحو میں بھی شرکت فرمائی ۔ <br> ١٨ فروری کو پھولنگر سے فاضلِ جامعہ مولانا محمد سلیم صاحب جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اورمولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی بعد ازاں واپس تشریف لے گئے۔ <br> <br> <br> <br> <br> جامعہ مدنیہ جدید کے فوری توجہ طلب ترجیحی اُمور <br> (١) مسجد حامد کی تکمیل <br> (٢) طلباء کے لیے دارُالاقامہ (ہوسٹل) اور دَرسگاہیں <br> (٣) کتب خانہ اور کتابیں <br> (٤) پانی کی ٹنکی <br> ثواب جاریہ کے لیے سبقت لینے والوں کے لیے زیادہ اجر ہے ۔ (ادارہ) <br> وفیات <br> ٭ ٣ رمضان المبارک ١٤٤٧ھ/٢١ فروری ٢٠٢٦ء برو ہفتہ شاعر ختم نبوت جمعیة علماء اسلام کے سینئر رہنما جناب سید سلمان صاحب گیلانی رحمة اللہ علیہ طویل علالت کے بعد ٧٤ برس کی عمر میں شیخ زید ہسپتال لاہور میں انتقال فرماگئے ، آپ بلند پایہ شاعر ، نعت خوان اور اپنے مخصوص انداز میں سماجی مسائل پر شاعری کے لیے مشہوراور طنزیہ کلام میں منفرد انداز کے مالک تھے، آپ طویل عرصہ سے دل اور جگر کے عارضہ میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ آپ کی جملہ خدمات کو قبول فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے ، ادارہ آپ کے لواحقین کی خدمت میں تعزیت ِ مسنونہ پیش کرتا ہے۔ <br> ٭ یکم جنوری کو جامعہ مدنیہ جدید کے مخلص خیر خواہ ریٹائرڈ آفیسر آبپاشی محترم حاجی حمید اسلم صاحب کے چھوٹے بھائی اور محمد علی صاحب (معتمد وزیر ایچ آر پنجاب) کے والد جناب اشتیاق احمد صاحب مختصر علالت کے بعد شاہدہ میں انتقال فرماگئے۔ <br> ٭ ٦ فروری کو فاضل جامعہ مدنیہ جدید مولانا محمد سلیم صاحب کی خوشدامن صاحبہ مختصر علالت کے بعد پھول نگر میں انتقال فرماگئیں ۔ <br> ٭ ١٧ فروری کو پاجیاں رائیونڈ کے رانا صفدر صاحب بوجہ عارضہ قلب اچانک وفات پاگئے۔ <br> اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ <br> اللہ تعالیٰ جملہ مرحومین کی مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق نصیب ہو ! جامعہ مدنیہ جدید اور خانقاہِ حامدیہ میں مرحومین کے لیے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت کرائی گئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ، آمین ! <br>

Have a question?

Email us your queries on jamiamadniajadeed@gmail.com you will be answered in less than 24 hours or Give us a call directly at +92 333 4249302, +92 333 4249 301.