ماہنامہ انوار مدينہ
جلد : ٣٣ ذوالقعدہ ١٤٤٦ھ / مئی ٢٠٢٥ء شمارہ : ٥
٭٭٭
سیّد محمود میاں مُدیر اعلٰی
سیّد مسعود میاں نائب مُدیر
٭٭٭
بدلِ اشتراک
٭٭٭
پاکستان فی پرچہ 50 روپے ....... سالانہ 600 روپے
سعودی عرب،متحدہ عرب امارات..... سالانہ 90 ریال
بھارت ،بنگلہ دیش ........... سالانہ 25 امریکی ڈالر
برطانیہ،افریقہ ........................ سالانہ 20 ڈالر
امریکہ .................................. سالانہ 30 ڈالر
جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ اور ای میل ایڈ ریس
٭٭٭
www.jamiamadniajadeed.org
jmj786_56@hotmail.com
Whatsapp : +923334249302
ترسیل ِزر و رابطہ کے لیے
٭٭٭
'' جامعہ مدنیہ جدید'' محمد آباد19 کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور
رابطہ نمبر : 923334249302+
موبائل : 923334249301+
موبائل : 923454036960+
موبائل : 923234250027+
جازکیش نمبر : 923044587751+
دارالافتاء کا ای میل ایڈ ریس اور وٹس ایپ نمبر
٭٭٭
darulifta@jamiamadniajadeed.org
Whatsapp : +923214790560
مولاناسیّد رشید میاں صاحب طابع وناشر نے شرکت پرنٹنگ پریس لاہور سے چھپواکر دفتر ماہنامہ ''انوارِ مدینہ '' نزد جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور سے شائع کیا
اس شمارے میں
٭٭٭
حرفِ آغاز ٤
درسِ حدیث حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ٨
سیرت ِ مبارکہ .............شب و روز کے حالات و معمولات کا تزکیہ حضرت اقدس مولانا سید محمد میاں صاحب ١٣
مقالاتِ حامدیہ ....... چندضروری مسائلِ حج حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ٢٠
حج کے احکام حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب ٢٣
فلسطین اور امت مسلمہ کی ذمہ داری قائد جمعیة حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب ٣٠
احترامِ اقارب اور اسلامی تعلیمات حضرت مولانا ظہیر احمد صاحب مفتاحی ٣٩
حضرت مولانا عبدالحق اکوڑوی مولانا محمد معاذ صاحب لاہوری ٤٨
امیر جمعیة علماء اسلام پنجاب کی جماعتی مصروفیات مولانا عکاشہ میاں صاحب ٦٢
اخبار الجامعہ ٦٤
حرفِ آغاز
٭٭٭
نَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْدُ !
زیر نظر تحریر رمضان شوال ١٣٩١ھ/ نومبر دسمبر ١٩٧١ء میں والد ماجد قطب الاقطاب حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ نے اسی رسالہ کے لیے بطورِ اداریہ تحریر فرمائی تھی آج پھر ہم اس مبارک تحریر کو نذرِ قارئین کررہے ہیں اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے ، آمین ! محمود میاں غفرلہ
٭٭٭
جہاد اور خدا پر بھروسہ
٭٭٭
خدا پر بھروسہ کرنے اور اپنے تمام معاملات خدا کے سپرد کر دینے کا نام'' توکل''ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں وعدہ فرمایا ہے ( وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسْبُہ ) ١ یعنی جو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے تو بس اللہ تعالیٰ ہی اس کے لیے کافی ہے !
جہاد میں صحابہ کرام نے اللہ کی ذات پر بھروسہ کیا، اسی کی محبت کو دل میں جگہ دی اللہ کی ذات ہر جگہ ہے، گویا ان کا مطلوب ہر جگہ ان کے ساتھ تھا اس لیے وہ جہاد کرتے کرتے اپنے ملک سے ہزاروں میل دور نکل گئے اور خدا کی زمین نے ہر جگہ ان کے لیے گنجائش پیدا کردی وہ ان کی مطیع و مسخر ہوتی چلی گئی ! اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام کام بنادیے فرمانِ خدا وندی ہے
١ سورة الطلاق : ٣
( اَنْتُمُ الاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ ) ١ '' اگر تم سچے ایمان والے ہو تو تم ہی سر بلند رہو گے''
اللہ تعالیٰ کی یہ مدد ہمیشہ اس قوم کے ساتھ ہوا کرتی ہے جو حق پر ہو اور اس کے نام اور اس کے دین کے لیے سینہ سپر ہو ! اس کے نتیجہ میں وہ پوری قوم سر بلندی حاصل کیا کرتی ہے ! یہ مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس قوم کا کوئی فرد زخمی یا شہید نہیں ہوتا یا کسی کو نقصان ہی نہیں پہنچتا ورنہ جنگ ِ احد میں جناب رسالت مآب صلی اللہ عليہ وسلم کے زخم نہ آتے اور آپ کا روحانی قوت سے ایک پھونک مارنا ہی کفار کے ختم کردینے کے لیے کافی ہوتا، مگر نبی کریم علیہ الصلوة والتسلیم نے تکالیف بھی اٹھائی ہیں ! !
عم مکرم سیّد الشہداء حضرت حمزہ بھی شہید ہوئے ہیں اور بھی ستر صحابہ کرام نے جامِ شہادت نوش فرمایا ہے اور آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم نے حفاظت کا پورا انتظام فرمایا ہے، ڈبل ذرا پہنی ہے سر مبارک پر خود پہنا ہے صحابہ کرام کو جنگی مشق کرتے رہنے کی ہدایت فرمائی ہے ! ان کی لڑائی کی مشقیں اور کرتب خود شوق سے دیکھے ہیں اور آپ کے بعد سب صحابہ کرام نے اسی نہج پر زندگی گزاری ہے بلکہ ان کے بعد تابعین اور ان کے بعد تبع تابعین نے بھی، اور ہمیشہ نتیجہ کے اعتبار سے مسلمانوں ہی کو غلبہ حاصل رہا ہے ! مسلمانوں کا نقصان کفار کے مقابلے میں بہت ہی کم رہا ہے جتنے حضر ات جہاد کے لیے باہر نکلے تھے اگر کفار کے برابر ان کا نقصان ہوتا تو سب ہی شہید ہو کر ختم ہوگئے ہوتے، لیکن ان کے توکل و اعتماد علی اللہ کے مطابق خدا کی نصرت و تائید شاملِ حال رہی اور وہ پوری دنیا پر چھا گئے ان کا نقصان دشمن کے نقصان کے مقابلہ میں نہ ہونے کے برابر تھا !
آپ بھی آج میدانِ جہاد میں ہیں اور طاقت کا سر چشمہ ارادہ ٔ خدا وندی ہے آپ اس پر نظر رکھیں وہ اپنی نصرت کے دروازے کھول دے گا حریف آپ کے مقابلہ میں تھوڑی دیر سے زیادہ نہ ٹھہر سکے گا اسے موت عزیز نہیں وہ شہادت کی فضیلت سے بے خبر ہے اسے دنیاوی زندگی عزیز ہے وہ کبھی جان کی قربانی نہ دے سکے گا ! !
١ سورة اٰل عمران : ١٣٩
اللہ نے شہید کی حیات کی مثال آنکھوں سے دکھادی امام مالک رحمة اللّٰہ علیہ نے جو بہت بڑے امام تھے اور مدینہ شریف کے رہنے والے تھے جنہیں ساری دنیا جانتی ہے اپنی حدیث کی مشہور کتاب'' موطأ'' میں شہدائے احد کے بارے میں لکھا ہے کہ چھتیس سال بعد انہیں قبروں سے نکال کر دوسری جگہ دفن کیا گیا تو ان کے جسم سالم تھے یہ باتیں کافر کب جانتے ہیں
اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتے ہیں
( اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةََ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْنَ وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًا فِی التَّوْرٰةِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ اَوْفٰی بِعَھْدِہ مِنَ اللّٰہِ فَاشْتَبْشِرُوْابِبَیْعِکُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِہ وَذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ) ١
''بے شک اللہ نے مسلمانوں سے ان کی جان اور ان کا مال اس قیمت پر خرید لیے ہیں کہ ان کے لیے جنت ہے، اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں پھر قتل کرتے ہیں اور قتل کیے بھی جاتے ہیں ، یہ توریت ، انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اسے ضروری ہے اور اللہ سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے سو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو اور یہ بڑی کامیابی ہے ''
حدیث شریف میں آتا ہے کہ ''جو آنکھ خدا کی راہ میں پہرہ دیتی ہے اسے عذاب نہ ہوگا''
ایک حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ ''لڑائی کا گرد و غبار اور جہنم کا دھواں کبھی یکجا نہ ہوں گے''
یعنی جہاد میں جہاں غبار پڑتا ہے تو اس جگہ جہنم کی آگ اثر نہیں کرتی !
ایک اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ شہید سے قبر میں سوال نہیں ہوتا صرف قرض کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ باقی رہتا ہے (اس لیے یا ادا کیا جائے یا معاف کرایا جائے)
مسلمان کا ایمان اس کو بڑے شوق سے جانی قربانی پر آمادہ کر دیتا ہے اور کافر جان دینے سے بھاگتا ہے غرض خلوصِ نیت کے ساتھ اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے اگر جہاد کیا جائے تو فرشتے بھی مدد کو
١ سورة التوبة : ١١١
آتے ہیں ان کی مدد اس طرح ہوتی ہے کہ لڑنے والے مسلمانوں کے دل میں گھبراہٹ نہیں ہوتی فرشتوں کی مدد کی وجہ سے غیبی سکون اور اطمینان ہوتا ہے ! اور مقابل کے دل میں گھبراہٹ آجاتی ہے اس سے کوئی صحیح کام نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ نے بدر کے موقع پر ملائکہ بھیجے تو مسلمانوں کو دلی سکون حاصل ہوا ان کے دل اتنے مطمئن تھے کہ انہیں میدانِ جنگ میں بار بار اونگھ آتی رہی ! وہاں پانی نہ تھا اللہ نے بارش بر سادی اور صحابہ کرام کی طرف بھی تالاب سے بن گئے ! !
شریعت ِ مطہرہ میں ظاہری سامان مکمل رکھنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن یہ تعلیم بھی دی گئی ہے کہ سامان پر بھروسہ نہ کرو ،بھروسہ صرف اللہ کی ذات پر ہونا چاہیے اور جو سامان مہیا ہی نہ ہوسکے تو اس وقت اللہ پر بھروسہ رکھنے کا ثمرہ ظاہر ہوگا اور پھر بھی آپ ہی کو کامیابی ہوگی ! ! !
وَمَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِیْن
جامعہ مدنیہ جدید کے فوری توجہ طلب ترجیحی امور
٭٭٭
(١) مسجد حامد کی تکمیل
(٢) طلباء کے لیے دارالاقامہ (ہوسٹل) اور درسگاہیں
(٣) کتب خانہ اور کتابیں
(٤) پانی کی ٹنکی
ثواب جاریہ کے لیے سبقت لینے والوں کے لیے زیادہ اجر ہے
درسِ حدیث
٭٭٭
قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ
کا مجلس ِذکر کے بعد درسِ حدیث ''خانقاہِ حامدیہ چشتیہ'' شارع رائیونڈ لاہور کے زیرِانتظام ماہنامہ '' انوارِ مدینہ'' کے ذریعہ ہر ماہ حضرت اقدس کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کے اس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے،آمین (ادارہ)
٭٭٭
جو عمر غفلت میں گزر گئی اس کی تلافی کیسے ہو ؟
نبی علیہ السلام کی جانوروں پرشفقت
٭٭٭
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّا بَعْدُ !
( درسِ حدیث نمبر٤٥ ٢٤ رمضان المبارک ١٤٠٢ھ/ ١٦ جولائی ١٩٨٢ئ)
٭٭٭
ایک صحابی فرماتے ہیں کہ ہم آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے اِذْ اَقْبَلَ رَجُل عَلَیْہِ کِسَائ کہ ایک شخص آئے انہوں نے چادر اوڑھ رکھی تھی وَفِیْ یَدِہ شَیْئ ان کے ہاتھ میں کچھ تھا قَدِ الْتَفَّ عَلَیْہِ اسے انہوں نے لپیٹ رکھا تھا، ایسی ایک چیز لے کر ایک صحابی آئے، چادر ہے ہاتھ میں کچھ ہے اور چادر سے اوپر سے لپیٹ رکھا ہے اسے ! انہوں نے عرض کیا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَرَرْتُ بِغَیْضَةِ شَجَرٍ میں درختوں کے ایک بہت بڑے جھنڈ میں سے گزررہا تھا تو میں نے اس جھنڈ میں آواز سنی کہ بچے بول رہے ہیں ایک چڑیا کے ، میں نے پکڑکے انہیں اپنی چادر میں رکھ لیا اور جب میں نے انہیں چادر میں رکھ لیا تو ان کی ماں آئی اِسْتَدَارَتْ عَلٰی رَأْسِیْ وہ میرے سر کے گرد ایسے گھومنے لگی چکر کاٹنے لگی فَکَشَفْتُ لَھَا عَنْھُنَّ میں نے انہیں یوں کھول دیا جب میں نے وہ چادر ہٹادی اوپر سے فَوَقَعَتْ عَلَیْھِنَّ یہ جو تھی یہ اوپر سے ان بچوں کے پاس آگئی فَلَفَّفْتُھُنَّ بِکِسَائِیْ میں نے ان کو اپنی چادر میں لپیٹ رکھا ہے فَھُنَّ اُولَائِ مَعِیْ یہ جو میری چادر میں ہے یہ وہی ہیں لپٹے ہوئے !
آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ یہ یہاں رکھ دو، رکھ دیا سامنے اور جو ان کی ماں تھی وہ نہیں جاتی تھی اور وہ بچے اڑ نہیں سکتے تھے تو ماں ان سے الگ نہ ہوسکی، وہ برابر ادھر اور ادھر چکر کاٹتی رہی، وہ جا ہی نہیں سکتی تھی انہیں چھوڑ کر ! صحابہ کرام موجود تھے، آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو یہ جو ان جانوروں کے بچوں کی ماں ہے ، یہ جو پرندے ہیں جو انڈے سے پیدا ہوتے ہیں گویا ایک طرح سے بالواسطہ پیدا ہوتے ہیں ! اور اس کے دل میں یہ حالت ہے رحم کی اور شفقت کی اپنے بچوں کے لیے کہ وہ الگ نہیں ہوسکتی ! !
تو ارشاد فرمایا فَوَ الَّذِیْ بَعَثَنِیْ بِالْحَقِّ قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق نبی بناکر بھیجا ہے سچا پیغام دے کر بھیجا ہے لَلّٰہُ اَرْحَمُ بِعِبَادِہ مِنْ اُمِّ الاَفْرَاخِ بِفَرَاخِھَا
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ ان سے زیادہ رحمت فرماتے ہیں جتنی یہ جانور اپنے بچوں پر !
پھر ارشاد فرمایا کہ اِرْجِعْ بِھِنَّ حَتّٰی تَضَعَھُنَّ مِنْ حَیْثُ اَخَذْتَھُنَّ انہیں لے جائو جہاں سے اٹھایا ہے اسی جگہ رکھ کر آئو اور ان کی ماں کو بھی اسی جگہ رکھ کر آئو فَرَجَعَ بِھِنَّ ١ وہ صحابی انہیں واپس لے گئے کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے تکلیف ہورہی تھی ان پرندوں کو ! تو اتنے چھوٹے چھوٹے جانوروں پر بھی رحم فرمانا اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا ہے توجو تر جگر ہے جاندار ہے اس پر ترس کھایا جائے تو اس پر خدا کے یہاں سے اجر ملتا ہے فِیْ کُلِّ ذَاتِ کَبِدٍ رَطْبَةٍ اَجْر ٢
حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ آپ کا کسی جگہ سفر میں گزر ہوا تو اس بستی والوں سے پوچھا کہ آپ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہم مسلمان ہیں ، ایک عورت ان میں سے ہنڈیا پکا رہی تھی اور آگ جلا رکھی تھی ایک بچہ بھی پاس تھا، اب ہنڈیا پکاتے ہوئے ہوا آتی تھی تو بعض دفعہ آگ کی لپٹ تیز ہوجاتی تھی، جب لپٹ تیز ہوتی تھی تو یہ اپنے بچے کو پیچھے ہٹا لیتی تھی !
ایک اشکال :
ایک عورت نبی کریم علیہ الصلوٰة والتسلیم کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی
١ مشکٰوة المصابیح کتاب الدعوات رقم الحدیث ٢٣٧٧ ٢ ایضًا کتاب الزکٰوة رقم الحدیث ١٩٠٢
اَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ قَالَ نَعَمْ فرمایا کہ ہاں قَالَتْ بِاَبِیْ اَنْتَ وَ اُمِّیْ اَلَیْسَ اللّٰہُ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ مجھے بتلائیے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ رحم فرمانے والا نہیں ہے ، وہ سب سے زیادہ رحمتوں والا نہیں ہے ؟ فرمایا بلاشبہ ! قَالَتْ اَلَیْسَ اللّٰہُ اَرْحَمَ بِعِبَادِہ مِنَ الاُ مِّ بِوَلَدِھَا کیا اللہ تعالیٰ ماں کی بہ نسبت جیسے ماں اولاد پر رحم کرتی ہے شفقت کرتی ہے، اس سے زیادہ رحم فرمانے والا نہیں ہے ؟ قَالَ بَلٰی آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہاں ! وہ کہنے لگی اِنَّ الاُمَّ لَا تُلْقِیْ وَلَدَھَا فِی النَّارِ ماں تو اپنے بچے کو کبھی آگ میں نہیں ڈال سکتی ! بہت سمجھدار کوئی عورت معلوم ہوتی تھی اس نے بہت اچھے طریقے سے بات کی ہے اور یہ اس نے اشکال پیش کیا ؟
جواب :
فَاَکَبَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَبْکِیْ تو جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم جھک گئے اور روتے رہے پھر آپ نے سر مبارک اٹھایا اور فرمایا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُعَذِّبُ مِنْ عِبَادِہ اِلَّا الْمَارِدَ الْمُتَمَرِّدَ الَّذِیْ یَتَمَرَّدُ عَلَی اللّٰہِ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں صرف ان ہی کو عذاب دیتے ہیں ان ہی کو سزا دیتے ہیں کہ جو سرکشی میں مبتلا ہوجائیں اور سرکشی بھی اللہ پر ، اللہ کے احکام کے بالمقابل سرکشی دکھاتا ہے یَتَمَرَّدُ عَلَی اللّٰہِ اور وہ کلمہ بھی نہیں پڑھتا ، اسلام بھی نہیں قبول کرتا ، اللہ کو ایک بھی نہیں مانتا
وَاَبٰی اَنْ یَّقُوْلَ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ١ تو ایسی صورت میں اس خاص صورت میں عذاب دیتے ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بہت زیادہ ہیں ! ! !
برائی میں گزری زندگی کی تلافی کیسے ہو سکتی ہے ؟
ایسا موقع ہو اگر کہ سارا وقت گزرگیا ہو (یعنی ساری زندگی گزرگئی ہو) اور وقت ہی تھوڑا رہ گیا ہو ویسے بھی انسان کو یہ کب پتا ہے کہ کتنا وقت کس کا باقی رہ گیا، (اس گزرے) وقت کی اصلاح اور مکافات کا طریقہ کیا ہوسکتا ہے اسلام میں ؟
١ مشکٰوة المصابیح کتاب الدعوات رقم الحدیث ٢٣٧٨
اس کا طریقہ اسلام میں استغفار ہی بتلایا گیا کہ جو کچھ انسان سے تقصیر ہوچکی ہے جو غفلتیں ہوتی رہی ہیں ان سب کی تلافی کیسے ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق بھی درست ہوجائے اور ان غفلتوں کی تلافی بھی ہوجائے، یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس کا طریقہ صرف یہی ہے کہ انسان استغفار کرے اور پچھتائے، اپنے برے اعمال پر نظر رکھتا رہے ان سے توبہ کرتا رہے کہ میں نے یہ غلط کام کیے !
'' غفلت ''علمائِ ربانیین کی رائے میں :
جو وقت غفلت میں ضائع ہوا ہے صوفی تو اسے بھی گناہ ہی کہتے ہیں اور بعض صوفی تو یہ کہتے ہیں کہ یہ تو کفر ہے ! انسان سانس لے اور خدا کو یاد نہ کرے یہ تو کفر ہے ! !
و آن دم کافر است اما نہاں است
ہر آنکہ غافل اَز وے یک زماں است ١
جو آدمی ذرا سی دیر بھی غافل ہے اس وقت وہ کافر ہے ! لیکن بات یہ ہے کہ اس کا جو کفر ہے وہ چھپا ہوا ہے اندر ہے نظر نہیں آرہا ! (جو صوفیاء ہیں بہت بڑے لوگ ہیں ) انہوں نے تو اس غفلت کو بھی اتنا بڑا گناہ قرار دیا ہے، کہتے ہیں یہ تو کفر ہے اور ابن ِفارس بھی کہتے ہیں
فَلَوْ خَطَرَتْ لِیْ مِنْ سِوَاکَ اِرَادَة عَلٰی خَاطِرِیْ سَھْوًا قَضَیْتُ بِرِدَّتِیْ
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجذوب تھے یا محو تھے، محویت جیسا عالم رہتا ہو انہیں ، کہتے ہیں فَلَوْ خَطَرَتْ لِیْ مِنْ سِوَاکَ اِرَادَة اگر تیرے سوا کسی اور کا خیال بھی آجائے میرے ذہن میں بھول کر بھی قَضَیْتُ بِرِدَّتِیْ
تو میں تو کہوں گا کہ میں مرتد ہوگیا اسلام سے ہی گویا پھرگیا ! اَ لْعَیَاذُ بِاللّٰہْ
تو ان لوگوں کے نزدیک تو غفلت بھی گناہ ہے اور پھر جو آدمی غفلت سے آگے غفلت میں مبتلا ہے وہ تو پھر نیچے کے درجے کا ہوگیا پھر اور درجہ گرتے گرتے یہ کہ گناہ ہی میں مبتلا ہوگیا ! !
تو بس اس کے لیے تو پھر استغفار ہی ایک چیز ہوسکتی ہے قرآنِ پاک میں آیا ہے
( اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِھِمْ حَسَنَاتٍ ) ٢
١ جو بھی اللہ سے ایک گھڑی کے لیے غافل ہو وہ اس گھڑی میں کافر ہے اگرچہ چھپا ہوا کافر ہے ٢ الفرقان : ٧٠
کوئی توبہ کرے ایمان قبول کرے نیک کام کرے ایسے لوگوں کے جو گناہ ہوتے ہیں ان کو بھی بدل کر اللہ نیکیاں بنادیتا ہے ! تو استغفار ایک بہت بڑی دولت ہے، بہت بڑا دروازہ ہے اور بہت بڑی نعمت ہے جو اللہ نے بتلائی ہے جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے ذریعہ سے ،کیونکہ وہاں کی باتیں عقل سے معلوم نہیں ہوسکتیں عقل وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتی وہ تو بالکل غیب کی چیزیں ہیں تو ان کو بتلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کو بھیجا اور آپ نے ہمیں یہ تعلیم دی !
اب جو رمضان کے دن گزرگئے ہیں عبادت میں تو شکر کرنا چاہیے جو اس نے اتنی توفیق دی اور جو غفلت میں گزرگئے ہیں ان کے بارے میں استغفار کرنا چاہیے اور آئندہ کے لیے اس سے توفیق مانگنی چاہیے کہ وہ ہمیں اپنی یاد کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں ایمانِ کامل عطا فرمائے، معرفت نصیب فرمائے، دوامِ حضور، دوامِ ثبوت اور دوامِ مشاہدہ نصیب فرمائے اور آخرت میں ہمیں جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے ساتھ محشور فرمائے، آمین ۔
اختتامی دعا....................................
( مطبوعہ ماہنامہ انوارِ مدینہ ستمبر ١٩٩٦ء )
قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ
کے آڈیو بیانات (درسِ حدیث) جامعہ کی ویب سائٹ پر سنے اورپڑھے جا سکتے ہیں
https://www.jamiamadniajadeed.org/bayanat/bayan.php?author=1
سیرت ِ مبارکہ
٭٭٭
شب وروز کے حالات ومعمولات کا تزکیہ
٭٭٭
اسلامی تہذیب کے بنیادی اصول، آداب اور دعائیں ،عمل اور تعلیم
پاک زندگی کیسی ہوتی ہے ؟
٭٭٭
سیّد الملة و مؤرخ الملة حضرت مولانا سیّد محمد میاں صاحب کی تصنیفِ لطیف
سیرتِ مبارکہ '' محمد رسول اللّٰہ '' صلی اللہ عليہ وسلم کے چند اوراق
٭٭٭
اوقات ِ شب کی تقسیم :
معمولات ِ شب کا سلسلہ ختم ہورہا ہے تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پوری رات کا نظام الاوقات بھی پیش کردیا جائے
سیّدنا حسین رضی اللّٰہ عنہ نے اپنے والد ماجد سیدنا حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے حوالہ سے بیان فرمایا ہے کہ سیّد الانبیاء صلی اللہ عليہ وسلم رات کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے
ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے ! ایک حصہ اپنے اہل کے لیے ! ایک حصہ خاص اپنی ذات کے لیے !
(یہ تین حصے ہوتے تھے مگر مساوی نہیں ) ١
جو حصہ اپنے آرام کے لیے مخصوص فرماتے تھے اس کو بھی تقسیم کردیتے تھے
اس میں سے ایک حصہ عامة الناس کو عطا فرماتے تھے مگر براہِ راست نہیں بلکہ خواص کے ذریعہ اس مجلس میں خاص خاص حضرات حاضر ہوتے تھے اور خصوصیت کا معیار ہوتا تھا عوام کی زیادہ سے زیادہ خیراہی اور ہمدردی ! پس جو شخص عوام کی ہمدردی ،خیر خواہی اور عوام کا بوجھ برادشت کرنے میں بڑھا ہوا تھا وہ آپ کی بارگاہ کا مقرب خصوصی ہوتا تھا ! پھر ان خواص میں مدار ترجیح ہوتاتھا علم وعمل
١ شمائل ترمذی باب ماجاء فی تواضع رسول اللّٰہ صلی اللہ عليہ وسلم
اس معیار پر درجات مقرر کرنا اور ہر ایک کے درجہ کے مطابق وقت دینا آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کی رائے پر موقوف ہوتا تھا ! یہ حضرات آتے کوئی ایک کام لے کر، کوئی دو کام، کوئی اس سے زائد ، آپ ان میں مشغول رہتے، ان کی طرف حسب ِحیثیت وحسب ِ ضرورت توجہ فرماتے تھے اور ان حضرات کو عوام میں مشغول فرمادیتے یعنی آپ خود ان کے معاملات میں بھی ان کو ہدایت دیتے اور ان کی رہنمائی فرماتے اور ان کے ذریعہ عوام کے حالات اور ان کے رجحانات معلوم فرماتے ! پھر ان باتوں کی تلقین فرماتے جو ان کے لیے بھی مفید ہوتیں اور عوام کے لیے بھی۔ آپ کی خاص ہدایت ہوتی کہ ان باتوں کو ان تک پہنچادیں جو یہاں نہیں حاضر ہوسکتے ! اس کے علاوہ ان کو خاص تاکید ہوتی کہ عوام کی ضرورتیں جو خود وہ نہیں پہنچا سکتے یہ حضرات ان کو دربارِ رسالت میں پیش کریں ! ارشاد ہوتا کہ
مَنْ اَبْلَغَ سُلْطَانًا حَاجَةً مَنْ لَّا یَسْتَطِیْعُ اِبْلَاغَھَا ثَبَّتَ اللّٰہُ قَدَمَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَة ١
''جو شخص اس پسماندہ کی ضرورت صاحب اقتدار تک پہنچائے جس کو وہ خود نہیں پہنچا سکتا تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے روز ثابت قدم رکھے گا''
یہ حضرات اس بارگاہ میں طالب بن کرحاضر ہوتے تھے اور رہنما بن کر یہاں سے باہر آتے تھے !
خلاصہ یہ کہ اوقات ِ شب کی تقسیم اس طرح ہوتی
ثلث اوّل کے ختم تک نماز عشاء اور اس سے پہلے نمازِ مغرب، نوافل پھر اگر مہمان ہوتے تو ان کا کھانا وغیرہ
ثلث ِ سوم جس کو احادیث میں ثلث اللیل الاٰخر فرمایا جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے لیے، درمیان کا ثلث امت کے لیے بذریعہ خواص نیز اہل کے لیے اور آرام فرمانے کے لیے !
دن کے اوقات، معمولات مشاغل اور دعائیں :
( اِنَّ لَکَ فِی النَّھَارِ سَبْحًا طَوِیْلًا ) ٢ ''بے شک تم کو دن میں بہت کام رہتا ہے''
دن کے اوقات اور مشاغل کو ''سوانح حیات'' کہا جاتا ہے یہ تمام کتاب سوانح حیات کی کرن ہے یہاں ان چند معمولات کے آداب لکھے جاتے ہیں جن پر ہر شخص کو لامحالہ عمل کرنا چاہیے
١ شمائل ترمذی باب ماجاء فی تواضع رسول اللّٰہ صلی اللہ عليہ وسلم ٢ سورة المزمل : ٧
مکان سے نکلتے وقت :
بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰہِ ١
''اللہ کے نام پر اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس سے بہترنہ کوئی طاقت ہے نہ قوت ''
بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَعُوْذُبِکَ مِنْ اَنْ نَزِلَّ اَوْ نَضِلَّ اَوْ نَظْلِمَ اَوْ نُظْلَمَ اَوْ نَجْھَلَ اَوْ یُجْھَلَ عَلَیْنَا ٢
'' اللہ کے نام پر اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اے اللہ ! ہم پناہ لیتے ہیں تیری اس سے کہ ہمارے قدم ڈگمگا جائیں یا ہم گمراہ ہو جائیں یا ہم ظلم کریں یا ہم مظلوم ہوں (ہم پر ظلم کیا جائے ) یا ہم جہالت کریں (لڑیں جھگڑیں ) یا ہم پر جہالت کی جائے (ہم سے لڑا جھگڑا جائے)''
مکان میں داخل ہوتے وقت
مکان میں داخل ہوتے وقت پہلے یہ دعا پڑھیے پھر اہل خانہ کو سلام کیجیے
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ خَیْرَ الْمَوْلَجِ وَ خَیْرَ الْمَخْرَجِ بِسْمِ اللّٰہِ وَلَجْنَا وَبِسْمِ اللّٰہِ خَرَجْنَا
وَعَلَی اللّٰہِ رَبِّنَا تَوَکَّلْنَا ٣
''اے اللہ میں التجا کرتا ہوں تجھ سے اچھے داخلہ کی اور اچھے خارجہ کی ، اللہ کے نام پر ہم داخل ہوتے ہیں اور اللہ کے نام پر خارج ہوتے ہیں اور اللہ پر جو ہمارا رب ہے ہم بھروسہ کرتے ہیں ''
بازار میں داخل ہوں :
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہ لَا شَرِیْکَ لَہ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ
وَ ھُوَ حَیُّ لَّا یَمُوْتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر ٤
١ مشکٰوة المصابیح رقم الحدیث ٢٤٤٣ ٢ مشکٰوة المصابیح رقم الحدیث ٢٤٤٢
٣ سنن ابوداود رقم الحدیث ٥٠٩٦ ٤ مشکٰوة المصابیح رقم الحدیث ٢٤٣١
''خدا وحدہ لا شریک کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، اسی کا ہے ملک، اسی کی ہے حمد، وہی زندگی بخشتا ہے وہی موت دیتا ہے اور وہ خود زندہ ہے اس کو موت نہیں آتی، اسی کے قبضہ میں ہے خیر اور بھلائی اور وہ ہر چیز پر قادر ہے''
مجلس سے اٹھتے وقت :
سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْکَ ١
''اے اللہ ! میں تیری پاکی کا اقرار کرتے ہوئے تیری حمد کرتا ہوں ، میں شہادت دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ، میں تیری مغفرت چاہتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں (توبہ کرتا ہوں )''
کوئی پریشانی پیش آئے تو :
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ الْعَظِیْمُ الْحَلِیْمُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ ٢
کسی پریشان حال معذور یا مجبور پر نظر پڑ جائے تو :
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِیْ مِمَّا ابْتَلَاکَ بِہِ وَ فَضَّلَنِیْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِمِّنْ خَلَقَ تَفْضِیْلًا ٣
''حمد اس اللہ کی جس نے مجھے عافیت بخشی اس سے جس میں تجھ کو مبتلا کیا اور مجھے ان میں سے بہت سوں پر فضیلت بخشی جن کو پیدا کیا (بہت سی مخلوق پر فضیلت بخشی)''
یہ چند حالات اور ان کے متعلق دعائیں اور آداب بیان کیے گئے ان کے علاوہ اور بہت سے حالات ہیں مثلاً کھاناپینا، انسانی حوائج پوری کرنا، جنسی تعلق کو عمل میں لانا یا مثلاً چھینکنا، جمائی لینا، نیا لباس پہننا، نیا پھل دیکھنا ، چاند دیکھنا ، بارش برسنا ، بادل گرجنا ، آندھی ، طوفان ، چاند گہن ، سورج گہن ، بیماری ، علاج، بیماری کے مختلف حالات یا مثلاً دشمن کا دباؤ، مقدمہ وغیرہ یا مثلاً سفر کرنا ، سفر کے لیے روانہ ہونا،
١ سنن ترمذی ابواب الدعوات رقم الحدیث ٣٤٣٣
٢ صحیح البخاری کتاب التوحید رقم الحدیث ٧٤٢٦
٣ سنن ترمذی رقم الحدیث ٣٤٣٢ و ابن ماجة رقم الحدیث ٣٨٩٢
کہیں پڑائو ڈالنا ، کسی کا مہمان بننا ، کسی مقام پر قیام کے لیے اترنا ،روانہ ہونا ، یا مثلاً تقریبات میں شرکت وغیرہ وغیرہ ان سب کے آداب ہیں ، احادیث مبارکہ میں دعائیں وارد ہوئی ہیں بقول
حضرت سلمان فارسی امت محمدیہ کو اس کے آقا ئے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم نے ہر بات بتائی ہے حتی کہ قضاء حاجت کا
طریقہ بھی بتایا ہے اور یہی معنی ہیں ''تزکیہ کامل'' کے کہ زندگی کے ہر ایک گوشہ اور ہر ایک جزو کو آپ نے سنوارا ہے '' فِدَاہُ رُوْحِیْ وَ اَبِیْ وَ اُمِّیْ '' صلی اللہ عليہ وسلم یہاں ان سب کو نہیں بیان کیا جاسکتا ! !
مشاغلِ شب کے سلسلہ میں سونے اور جاگنے کے کچھ آداب اور دعائیں بیان کی گئیں اب دن کے کاموں میں ملاقات کے آداب بیان کیے جارہے ہیں پھر مجلس مبارک کے آداب اور خصوصیات پر اس بیان کو ختم کیا جارہا ہے
آداب ِ ملاقات :
آپ کسی کے یہاں جائیں تو
(١) پہلے اجازت حاصل کیجیے مکان پر پہنچ گئے ہیں تو سلام بھی کیجیے اور یہ کہیے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ
کیا حاضر ہوسکتا ہوں اگر اجازت مل جائے تو اندر جائیے اور اگر صاحب ِمکان معذرت کردے تو واپس ہوجائیے برا نہ مانیے ١
(٢) اگر اندر سے جواب نہ آئے تو دوسری مرتبہ پھر تیسری مرتبہ اسی طرح سلام کیجیے پھر آپ سمجھ لیجیے کہ اس وقت ملاقات کا موقع نہیں ہے کوئی عذر ہے لہٰذا واپس ہوجائے اور برا ہرگز نہ مانیے ٢
(٣) اجازت لینے کے وقت آپ آڑ میں کھڑے ہوں ، ایسی جگہ نہ کھڑے ہوں کہ سامنا ہو البتہ اگر صاحب ِمکان جن سے اجازت لینی ہے سامنے ہوں تو آپ سلام کریں اور اندر حاضر ہونے کی اجازت لے لیں ٣
(٤) اندر جھانکنا معیوب ہے ارشاد ہوا اِذَا دَخَلَ الْبَصَرُ فَلَا اِذْنَ ٤ جب نظر اندر پہنچ گئی تو اب اجازت لینے کا کیا مطلب ؟
١ سورة النور : ٦١ ٢ ترمذی و ابوداود ٣ ابوداود ٤ ابوداود رقم الحدیث ٥١٧٣
(٥) خود اپنے مکان میں بھی سلام کر کے اور پکار کر جائیے، گھر میں پہنچ کر گھر کے آدمیوں کو سلام کیجیے ١
(٦) سلام دعا ہے، گرم جوشی سے دعا کرو اور بڑھا کر کہو یعنی یہ کہو اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہ ٢
(٧) اگر اندر سے پوچھا جائے کون ؟ تو آپ نام بتائیں ،یہ نہ کہیں ''میں '' اندر والا کیا جانے
''میں '' کون ؟ ٣
(٨) آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے اپنے ایک صحابی کو ہدایت فرمائی ناغہ کر کے ملنے جایا کرو اس سے
محبت بڑھے گی ٤
(٩) آپ نے رات کو کسی کے یہاں پہنچ جانے سے ممانعت فرمادی یہاں تک کہ بلا اطلاع اپنے گھر
میں پہنچنے کی بھی اجازت نہیں دی ٥
(١٠) اندر داخل ہوکر سب سے بڑھیا جگہ نہ بیٹھے ٦ جہاں جگہ ملے بیٹھ جائیے۔ یہ صاحب مکان
کاکام ہے کہ وہ آپ کو کہاں بٹھائے
کوئی آپ کے یہاں آئے تو :
حضرت زید بن حارثہ رضی اللّٰہ عنہ حاضر خدمت ہوئے تو سیّد الانبیاء کرتا اتارے ہوئے تھے چادر کا ایک کنارہ مونڈھے پر تھا خبر پاتے ہی شوق ملاقات میں کھڑے ہوگئے ان کو گلے لگایا سر کو بوسہ دیا ٧
حضرت ام ہانی رضی اللّٰہ عنہا خدمت مبارک میں حاضر ہوئیں آپ نے فرمایا '' مَرْحَبَا اُمِّ ہَانِیْ ٨ ام ہانی مرحبا
بنی قریظہ کے معاملہ میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللّٰہ عنہ کو سر پنج بنایا گیا تھا وہ فیصلہ سنانے کے لیے مسجد میں آئے تو آپ نے حاضرین سے فرمایا قُوْمُوْا اِلٰی سَیِّدِکُمْ '' تمہارے سردار آرہے ہیں کھڑے ہوکر ان استقبال کرو'' ٩
١ سورة النور : ٦١ ٢ ( تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُبٰرَکَةً طَیِّبَةًَ ) ( سورة النور : ٦١ )
٣ ابو داؤد شریف ٤ صحاح ٥ ترمذی شریف ٦ ترمذی شریف وغیرہ ٧ ترمذی شریف ج٢ ص ٩٨
٨ ترمذی شریف ج٢ ص ٩٨ ٩ بخاری شریف ج ٢ ص ٩٢٦
غزوۂ حنین کے بعد ایک وفد کے ساتھ آپ کی رضاعی بہن شیما آئیں تو فرط مسرت سے آپ نے مرحبا فرمایا اپنی چادر بچھا دی اور اپنے پاس ان کو چادر پر بٹھایا ١
مختصر یہ کہ آنے والے کے متعلق تعلیم یہ ہے کہ
ان کی آمد پر خوشی ظاہر کی جائے، کھڑے ہوکر استقبال کیا جائے، مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھائے ٢ کچھ عرصہ بعد ملاقات ہوئی ہے تو معانقہ بھی کیجیے پھر تعظیم سے بٹھائیے برے کی برائی اپنی جگہ ، جب وہ آپ کے یہاں آیا ہے تو اخلاق سے پیش آنا آپ کا فرض ہے ارشادِ گرامی ہے کہ بدترین شخص وہ ہے کہ لوگ اس سے اس لیے ملنا پسند نہ کریں کہ وہ بدخوا اور ترش مزاج ہے ٣
واپس ہو تو :
جب کوئی رخصت ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم محبت اور مہربانی سے اس کا ہاتھ اپنے دست مبارک میں لیتے اور جب تک وہ اپنا ہاتھ نہ ہٹاتا آپ اس کا ہاتھ لیے رہتے اور یہ دعا فرماتے
اَسْتَوْدِعُ اللّٰہَ دِیْنَکَ وَ اَمَانَتَکَ وَ خَوَاتِیْمَ عَمَلِکَ ٤
''اللہ کے سپرد کرتا ہوں تمہارا دین تمہارا ایمان اور خاتمہ اعمال ''
سلام وجواب ِسلام : ارشاد ِ ربانی ہے
( وَاِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَآ اَوْرُدُّوْھَا اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ حَسِیْبًا ) ٥
''جب تم کو دعا دی جائے کوئی دعا (مثلاً سلام کیا جائے) تو تم بھی دعا دو اس سے بہتر یاو ہی کہو الٹ کر ،بے شک اللہ ہے ہر چیز کا حساب کرنے والا''
سلام کا بہتر جواب یہ ہے کہ رَحْمَةُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ وَمَغْفِرَتُہُ بڑھادو آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے بشارت دی ہے کہ ان میں سے ہر لفظ پر دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے جیسے جیسے الفاظ بڑھتے رہیں گے ثواب بڑھتا رہے گا ٦
( ماخوذ از سیرتِ مبارکہ '' محمد رسول اللّٰہ '' صلی اللہ عليہ وسلم ص ٥٧٢ تا ٥٧٨ ناشر کتابستان دہلی )
ض ض ض (جاری ہے)
١ الا صابة ذکر شیماء ٢ بخاری شریف ص ٩٢٦ ٣ بخاری شریف ص ٩٠٥ ٤ ترمذی شریف ج٢ ص ١٨٢
٥ سورة النساء : ٨٦ ٦ سنن ابوداود ج٢ ص ٣٥٩
چندضروری مسائلِ حج
٭٭٭
قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں
نظر ثانی و عنوانات : مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب
عنوانات ، حاشیہ و نظرثانی بتغیرِ یسیر : حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب
٭٭٭
(١) '' اَشْہُرِ حَجْ '' ١ شوال ، ذی قعدہ اور ذوالحجة کہلاتے ہیں
(٢) '' قِرَانْ '' کے معنٰی ہیں ملانا یعنی ایک ہی احرام سے عمرہ اورحج کرنا !
'' تَمَتُّعْ ''کے معنٰی ہیں فائدہ حاصل کرنا اوروہ اس طرح ہوتا ہے کہ ایک ہی سال کے اَشْہُرِ حَج میں ایک ہی سفرسے پہلے تو عمرہ کرے اوربعد میں حج کے قریب حج کا احرام باندھے !
اور اگر بغیر عمرہ کے فقط حج کا احرام باندھا جائے تو اِے '' اِفْرَادْ '' کہا جاتا ہے (یعنی اکیلا حج کرنا)
(٣) جو حاجی شوال سے پہلے مکہ مکرمہ میں پہنچ جائے اور وہیں (مکہ مکرمہ میں یا میقات کے اندر) عید کا چاند ہوجائے تو وہ حکماً مکی ہو گا ٢
اسے کچھ مسائل پیش آتے ہیں جنہیں آسان کر کے ذیل میں بیان کیا جاتا ہے
(٤) اگر یہ شخص مکہ مکرمہ میں ہی ٹھہرارہے تواس کے لیے'' تَمَتُّعْ ''اور'' قِرَانْ ''جائز نہ ہوں گے
(٥) قیام ِمکہ شریف کے دوران یہ جتنے چاہے عمرے کر سکتا ہے جیسے اہلِ مکہ کرسکتے ہیں
(٦) ایسے شخص کو مکہ سے باہر کسی مقام پر جومیقات سے خارج ہو، کسی ضرورت سے یا تفریحاً جانا جائز ہے ٣ (مثلاً مدینہ طیبہ یا طائف وغیرہ جانا چاہے تو جائز ہے )اورپھر قِرَانْ بھی کرسکتا ہے ٤
١ یعنی حج کے مہینوں ٢ یہ مسئلہ اس زمانہ کا ہے جب لوگوں کو رمضان میں عمرہ کرنے کے بعد حج کرنے تک سعودی عرب میں ٹھہرنے کی اجازت تھی ، اب بھی اگر کوئی شخص رمضان میں عمرہ کرنے کے بعد حج کرنے تک کسی طریقے سے مکہ مکرمہ میں ٹھہر جائے تو اس کا یہی حکم ہے۔ (عبدالواحد غفرلہ)
٣ شرح مناسک ملا علی قاری ص١٩٠ ٤ ارشاد ص١٨٦ حاشیہ مناسک ملا علی قاری
اور عدم کرا ہة قِران وعمرہ ص ١٧٢ متن باب ا لقِران میں اورص١٨٣ و ١٨٤ حاشیہ مسمی ارشاد میں ہے ١
(٧) ہاں کسی مکی کا یا ایسے شخص کا جو حکماً مکی ہو چکا ہو اس نیت سے میقات سے باہر جانا جائز نہیں کہ وہاں جاکر احرام باندھیں گے اور قِرَانْ کریں گے( ص ١٨٧) اسی طرح تَمَتُّعْ کی نیت سے جانا بھی درست نہیں (ص١٨٥ ) ٢
(٨) امام اعظم رحمة اللّٰہ علیہ اورصاحبین فرماتے ہیں کہ تَمَتُّعْ میں ایک ہی سفر سے مراد یہ ہے کہ وہ(اشہر حج میں عمرہ کرنے کے بعد کسی اور علاقہ میں جائے تو جائے لیکن ) گھر لوٹ کرواپس نہ جائے، اورصاحبین یعنی امام ابویوسف و امام محمد رحمة اللّٰہ علیھما فرماتے ہیں کہ سفر ایک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ مکہ شریف کے علاوہ کسی دوسرے مقام پر (مثلاً طائف یا مدینہ شریف ) پندرہ دن سے زیادہ نہ ٹھہرے !
اب حسب ِذیل مسائل سمجھیے :
١ فی منسک الکرمانی عن ابن سماعة عن محمد اِذا دخلت اشہر الحج وھو بمکة او دخل المیقات ثم خرج الی الکوفة لم یصح قرانہ عند ابی حنیفة رحمہ اللّٰہ تعالیٰ وھو الصحیح
لکن قال فی الفتح بعد ما ذکر ما مرَّ وقد یقال انہ لا یتعلق بہ خطاب المنع مطلقا بل ما دام بمکة فاذا خرج الی الآفاق التحق باھلہ لما عرف ان کل من وصل الی مکان صار ملحقا بہ کالآفاقی اذا قصد بستان بنی عامر حتی جاز لہ دخول مکة بلا احرام وغیر ذالک۔
واصل ھذہ الکلیة الاجماع علی ان الآفاقی اذا قدم بعمرة فی اشہر الحج کان احرامہ بالحج من الحرم ان لم یقم بمکة الا یوما واحدا .... ثم رایت فی شرح الجامع الصغیر لمولانا القاضی فخرالدین قاضی خان وغیرہ ما یؤیدہ حیث قال فیہ ولو خرج المکی الی لکوفة لحاجة ثم عاد فقرن واحرم من المیقات بحجة وعمرة کان قارنا لان القارن من یحج من الاحرامین من المیقات وقد وجد ( ارشاد الساری ص ١٨٦ )
٢ ویمکن الجمع بین الروایتین بانہ ان خرج الی الکوفة مثلا فی الاشہر قاصدا للقران
لایجوز قرانہ لخروجہ للاحرام علی وجہ غیر مشروع ( ارشاد الساری ص ١٨٧)
اگر کوئی شخص مکہ مکرمہ پہنچا اوراس نے اَشْہُرِ حَجْ میں عمرہ کیا (چاہے ایک عمرہ کیا ہو یا چند عمرے کیے ہوں ) اورپھر وہاں سے کسی ایسے مقام پر گیا جو میقات سے باہر تھا جیسے طائف وغیرہ پھر گھر واپس جانے سے پہلے پہلے حج کرلیا تو اسے تَمَتُّعْ کا اجر ملے گا !
لیکن اس شکل میں صاحبین یہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ طائف وغیرہ میں پندرہ دن سے کم ٹھہراہے تب تو واپسی پر چاہے وہ فقط حج کا احرام باندھ کر حج کرے ، وہ امام اعظم کے ارشاد کی طرح مُتمتع ہوگا
اور اگر پندرہ دن سے زیادہ وہاں ٹھہرا رہے تو ( تَمَتُّعْ کی نیت سے کیا ہوا عمرہ قابلِ شمار نہ رہے گا )
اب اگر مکہ شریف آتے وقت وہ (نئے سرے سے)عمرہ کا احرام باندھ کر آئے گا تو اس کا یہ(احرام) تَمَتُّعْ ہوگا ورنہ فقط '' اِفْرَاد '' ہوگا !
ایک شکل یہ ہے کہ ایک شخص نے اَشْہُرِ حَجْسے پہلے مکہ مکرمہ میں قیام کیا(اور مکی کے حکم میں ہو گیاوہ) پھر اَشْہُرِ حَجْ میں مثلاً طائف چلا گیا اور وہاں سے(مکہ مکرمہ کی طرف) واپسی پر میقات سے گزرتے ہوئے صرف عمرہ کا احرام باندھا (اور عمرہ کیا)پھر مکہ مکرمہ میں حج کا احرام باندھا تو امام اعظم رحمة اللّٰہ علیہ کے نزدیک چونکہ وہ مکی ہو چکا تھا اس لیے مُتمتع نہ ہو گا !
جبکہ صاحبین کے نزدیک وہ مُتمتع ہوگا اور اس صورت میں اسے دمِ شکر تَمَتُّع دینا چاہیے
اسی میں احتیاط ہے ١
اگر کوئی شخص مکہ مکرمہ سے اشہر حج شروع ہونے سے پہلے مثلاً طائف چلاگیا اورپھر اَشْہُرِ حَج میں عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ مکرمہ آیا تو وہ بالاتفاق مُتمتع ہے !
حامد میاں غفر لہ
٢٨شوال ١٣٨٣ھ چہار شنبہ / ١١ مارچ ١٩٦٤ء
(حال وارد حجاز مقدس )
١ ص١٨٨ ٢ ومن کان آفا قیا غیر طائفی فان خرج من مکة قبل اشہر الحج ثم عاد فیھا واحرم بعمرة وحج من عامہ فھو متمتع علی قولھما ویلزمہ دم التمتع ( ارشاد الساری ص١٨٨ )
حج کے احکام
( حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب )
٭٭٭
حج کے واجب ہونے کی شرائط :
یہ وہ شرطیں ہیں جن کے پائے جانے سے حج فرض ہو جاتاہے اور ان میں سے کوئی ایک بھی شرط نہ پائی جائے تو حج بالکل فرض نہیں ہوتااورکسی دوسرے سے حج کرانااو ر وصیت کرنا بھی واجب نہیں ہوتا ،یہ سات شرطیں ہیں :
(١) اسلام !
(٢) حج کی فرضیت کا علم ہونا ! لیکن جو شخص دارالاسلام یعنی مسلمانوں کے ملک میں رہتا ہے
اس کے لیے یہ شرط نہیں بلکہ دارالسلام میں رہنا کافی ہے چاہے اس کی فرضیت کا علم ہو یا نہ ہو ! ہاں جومسلمان دارالحرب یعنی کفار کے ملک میں رہتا ہے اس کے لیے علم ہونا ضروری ہے !
(٣) عاقل ہونا ! اس لیے پاگل پر حج فرض نہیں
(٤) بالغ ہونا ! اس لیے نابالغ پر حج فرض نہیں
(٥) آزادہونا ! اس لیے غلام اور باندی پرحج فرض نہیں
(٦) استطاعت وقدرت ہونا !
(٧) حج کا وقت ہونا ! یعنی حج کے مہینے ہوں جو کہ یہ ہیں شوال ،ذیقعدہ اور ذوالحجہ کے دس روز
یا ایسا وقت ہو کہ اس جگہ کے لوگ عام طورسے اس وقت حج کو جاتے ہیں !
مسئلہ : جو لوگ مکہ مکرمہ میں یا مکہ مکرمہ کے پاس نہیں رہتے ان پر حج فرض ہونے کے لیے استطاعت یعنی سواری اور اتنا سرمایہ ہونا شرط ہے کہ وہ اپنے وطن سے مکہ مکرمہ تک جا سکیں اور واپس آسکیں ، یہ سرمایہ ان ضروریات کے علاوہ ہونا چاہیے جیسے رہنے کا مکان ،پہننے کے کپڑے ، اسباب خانہ داری ، نوکر چاکر (اگر ہوں )اور اپنے اہل و عیال کا خرچ واپسی تک ،قرض ، سواری ،اپنے پیشے کے آلات ! !
مسئلہ : دکاندار کے لیے اتنا سامان تجارت جس سے گزر اوقات کر سکے ! او ر کاشتکار کے لیے ہل بیل اور عالم کے لیے ضروری کتابیں ضروریات میں سے ہیں ، ان چیزوں کے علاوہ جو سرمایہ ہوگا وہ حج کے فرض ہونے کے لیے معتبر ہوگا ! اور ہر پیشہ والے کا یہی حکم ہے کہ اس کے پیشے کے اوزار اور ضروری سامان اس کی ضروریات میں شمار ہوں گے !
مسئلہ : اگر کوئی شخص حج کرنے کے لیے کسی کومال ہبہ کرتاہے تو اس کا قبول کرنا واجب نہیں خواہ ہبہ کرنے والا اجنبی شخص ہو یا اپنا رشتہ دار،ماں باپ ،بیٹا وغیرہ ! لیکن اگر اتنا مال کسی نے ہبہ کیا اوراس کو قبول کر لیا تو حج فرض ہو جائے گا !
مسئلہ : کسی کے پاس ایسا مکان ہے کہ ضرورت سے زائد ہے یا ضرورت سے زائد سامان ہے یا کسی عالم کے پاس ضرورت سے زائد کتابیں ہیں یا زمین اور باغ وغیرہ ہے کہ اس کی آمدنی کا محتاج نہیں ہے اور ان کی اتنی مالیت ہے کہ ان کو بیچ کر حج کر سکتاہے تو ان کو حج کے لیے بیچنا واجب ہے !
مسئلہ : کسی کے پاس اتنا بڑا مکان ہے کہ اس کا تھوڑا سا حصہ رہنے کے لیے کافی ہے اور باقی کو بیچ کر حج کرسکتاہے تو اس کوبیچنا واجب نہیں ہے لیکن اگر ایسا کرے تو افضل ہے !
مسئلہ : ایک شخص کے پاس اتنا بڑا مکان ہے کہ اس کو بیچ کر حج بھی کر سکتا ہے اور چھوٹا سامکان بھی خرید سکتا ہے تو اس کا بیچنا ضروری نہیں ،اگر بیچ کر حج کرے توافضل ہے !
مسئلہ : اگر کسی کے پاس اتنی مزروعہ زمین ہے کہ اگر اس میں سے تھوڑی سی فروخت کردے تو اس کے حج کا خرچ اوراہل و عیال کا واپسی تک کا خرچ نکل آئے گا اور باقی زمین اتنی بچ رہے گی کہ واپس آکر اس سے گزر کر سکتا ہے تو اس پر حج فرض ہے ! اور اگر فروخت کرنے کے بعد گزرکے لائق نہیں بچتی توحج فرض نہیں !
مسئلہ : ایک شخص کے پاس حج کے لائق مال موجود ہے لیکن اس کو مکان کی ضرورت ہے تو اگر حج کے جانے کا (یا حج کے لیے خرچ جمع کرانے کا )وقت یہی ہے تو اس کوحج کرنا فرض ہے ، مکان میں صرف کرنا جائز نہیں البتہ اگر وہ وقت ابھی نہیں آیا تومکان میں صرف کرنا جائز ہے !
مسئلہ : حرام مال سے حج کرنا حرام ہے ! اگر اس نے کیا توفرض تو ساقط ہو جائے گا مگر حج مقبول نہ ہو گا !
مسئلہ : اگر کسی شخص کے پا س حج کے لائق روپیہ موجود ہے اور وہ نکاح بھی کرنا چاہتا ہے تو اگر حاجیوں کے جانے کا یا حج کا خر چ جمع کرانے کا وقت ہے تو اس کو حج کرنا واجب ہے ! اور اگر ابھی وہ وقت نہیں آیا تو نکاح کرسکتا ہے ! لیکن اگر یہ یقین ہے کہ اگر نکاح نہ کیا تو زنا میں مبتلا ہو جائے گا تو پہلے نکاح کرے ،حج نہ کرے !
حج کی ادائیگی کے وجوب کی شرائط :
یہ وہ شرائط ہیں کہ حج کا وجوب تو ان کے پائے جانے پر موقوف نہیں لیکن اداکرنا ان شرائط کے پائے جانے کے وقت واجب ہوتا ہے ! اگر وجوب اور وجوبِ ادا دونوں کی شرائط موجود ہوں تو پھر انسان کو خود حج کرنا فرض ہے ! اور اگر وجوب کی تمام شرائط موجودہوں لیکن وجوب ادا کی شرائط میں سے کوئی شرط نہ پائی جاتی ہو تو پھر خود حج کرنا واجب نہیں ہوتا بلکہ ایسی صورت میں اپنی طرف سے کسی دوسرے شخص سے فی الحال حج کرانا یا بعد میں حج کرانے کی وصیت کرنا واجب ہوتا ہے اس قسم کی پانچ شرطیں ہیں :
(١ ) تندرست ہونا :
مسئلہ : اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ جو شخص تندرست نہ ہو مریض ہو یا اندھا ہو یا مفلوج ہو یا لنگڑا وغیرہ ہو اور خود سفر نہ کرسکتا ہو اور حج کی تمام شرائط موجود ہوں تو اس پر حج فرض ہوتا ہے یا نہیں ؟ بہت سے علماء نے اس قول کو اختیار کیا ہے کہ اس پر حج واجب ہے اور ان کے قول کے موافق ایسا شخص اگر حج نہ کر سکے تو اس پر حج ِبدل کرانا یا اس کی وصیت کرنا واجب ہے ! اور اگر خود حج کرلے گا تو حج ہوجائے گا،یہ اس صورت میں ہے کہ اس کو معذور ہونے کی حالت میں حج کی استطاعت حاصل ہوئی ہو ! اگر صحت کی حالت میں حج فرض ہو چکا تھا پھر بیمار اور معذور ہوگیا تو بالاتفاق اس پر حج واجب ہے اور اس کو حج کرانا او ر وصیت کرنی واجب ہے !
(٢) قید کا نہ ہونا یا حاکم کی طرف سے ممانعت کا نہ ہونا :
(٣) راستہ پُر امن ہونا :
مسئلہ : اگر کچھ رشوت دے کر راستہ میں امن مل جاتا ہے تو راستہ پُر امن سمجھا جائے گا اور ظلم کو
دفع کرنے کے لیے رشوت دینی جائز ہے، دینے والا گناہگار نہ ہو گالینے والا گناہگار ہوگا !
(٤) عورت کے لیے محرم ہونا :
مسئلہ : عورت اگر محرم یا شوہر کو ساتھ لیے بغیر حج کو جائے تو حج تو ہوجائے گا لیکن گناہگار ہو گی !
مسئلہ : عورت کو دوسری عورتوں کے ساتھ بھی بلا محرم جانا جائز نہیں !
مسئلہ : اگر محرم یا شوہر اپنے خرچ سے جانے پر تیا ر نہ ہو یا اس کے پاس خرچہ ہی نہ ہو تو اس کا خرچہ بھی عورت کے ذمہ ہوگا اور ایسی صورت میں محرم اور شوہر کے خرچے پر قادرہونا بھی عورت پر وجوب ِحج کے لیے شرط ہوگا !
مسئلہ : محرم عاقل اور بالغ یا بلوغت کے قریب ہو او ر اس پر امن ہو !
(٥) عور ت کا عدت میں نہ ہونا :
مسئلہ : عورت عدت کی حالت میں اگرحج کرے گی تو حج ہو جائے گا لیکن گناہ گار ہوگی !
چند متفرق مسائل :
مسئلہ : کسی کے پاس حج کا خرچ جمع کرانے کے وقت سے لے کر آخری جہاز جانے تک کسی بھی وقت میں حج کے لائق سرمایہ حاصل ہو جائے تو اس پر حج فرض ہو جاتا ہے اگر چہ حکومتی پابندیوں کی وجہ سے اس سال وہ حج نہ کرسکے !
مسئلہ : اگر کوئی شخص حج کے مہینوں میں عمرہ کے لیے چلا گیا پھر اس کو اپنے ملک واپس آنا پڑا او ر اس کے پاس حج کا خرچہ نہیں ہے تو اس پر حج فرض ہوچکا کیونکہ حج کے مہینوں میں وہ مکہ مکرمہ میں تھا اور اس وقت چونکہ آنے جانے کے کرایہ کی ضرورت نہ تھی اس لیے اس پر حج فرض ہوگیا تھا بشرطیکہ اس کے پاس باقی اخراجات کے لیے رقم ہو !
مسئلہ : کچھ لوگ رمضان میں عمرہ کے لیے جاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ حج کر کے واپس آئیں جبکہ وہاں کی حکومت عمرہ کے بعد ٹھہرنے کی اجازت نہیں دیتی البتہ ایک عرصہ کے بعد چھپے ہو ئے لوگوں کو حج کی عام اجازت دے دیتی ہے ! جو لوگ اتنی استطاعت نہیں رکھتے کہ واپس جا کر پھر دوبارہ حج کے لیے آسکیں ان کے لیے گنجائش ہے کہ وہ حج تک ٹھہر جائیں اور جو استطاعت رکھتے ہیں ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ واپس چلے آئیں !
مسئلہ : ایک پاکستانی شخص مثلًا ایسے وقت میں حج کے لیے گیا کہ ذوالحجہ سے پہلے مدینہ منورہ جائے بغیر یا وہاں سے واپسی کے بعد مکہ مکرمہ میں پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرے گا پھر حج کے لیے منٰی جائے گا تو یہ شخص'' مقیم'' ہے اور منٰی و عرفات میں یہ شخص پوری نماز پڑھے گا او ر قربانی کے دنوں میں (دم تمتع کے علاوہ )قربانی بھی اس پر واجب ہو گی اور اگر کسی کا حج کے لیے منٰی جانے سے پہلے مکہ مکرمہ میں پندرہ دن سے کم قیام ہو تو وہ مقیم نہیں اور یہ قصر بھی کرے گا اور اس پر قربانی بھی واجب نہیں ہو گی !
حج کی تفصیل
٭٭٭
حج کے فرائض :
حج کے اصل فرض تین ہیں
(١) احرام یعنی حج کی دل سے نیت کرنا اور تَلْبِیَہ یعنی لبیک کے کلمات کہنا !
(٢) وقوفِ عرفات یعنی ٩ذوالحجہ کو زوالِ آفتاب کے وقت سے ١٠ذوالحجہ کی صبح صادق تک
عرفات میں کسی وقت ٹھہرنا اگرچہ ایک لحظہ ہی کیوں نہ ہو !
(٣) طوافِ زیارت جو دسویں ذوالحجہ کی صبح سے لے کر بارہویں ذوالحجہ تک سرکے بال منڈوانے
یا کتروانے کے بعد کیا جاتاہے !
مسئلہ : ان تینوں فرضوں میں سے اگر کوئی چیز چھوٹ جائے تو حج صحیح نہیں ہوتا اور اس کی تلافی دم
یعنی قربانی وغیرہ سے بھی نہیں ہو سکتی !
مسئلہ : ان تین فرائض کا ترتیب وار ادا کرنا اورہر فرض کو اس کے مخصوص مکان اور وقت میں کرنافرض ہے
مسئلہ : وقوفِ عرفات سے پہلے جماع کا ترک کرنا بھی واجب ہے بلکہ فرائض کے ساتھ ملحق ہے !
تنبیہہ : اگر وقوفِ عرفہ سے پہلے جماع کر لیا تو حج فاسد ہو گیا ! اگر مرد اور عورت دونوں محرم تھے تو دونوں پر ایک ایک دم واجب ہوگا اور حج کے باقی افعال صحیح حج کی مثل کرنے ہوں گے اور ممنوعاتِ احرام سے بچنا ضروری ہوگا، اگر کسی ممنوع کا ارتکاب کیا تو اس کا کفارہ واجب ہو گا اور آئندہ سال حج کی قضا لازم ہوگی !
حج کے ارکان : حج کے دورکن ہیں : طواف ِزیارت اور وقوفِ عرفہ
حج کے واجبات :
حج کے واجبات چھ ہیں :
(١) مزدلفہ میں وقوف کے وقت یعنی صبح صادق کے بعد ٹھہرنا اگرچہ ایک گھڑی ہو،اگر راستہ چلتے بھی
اس وقت میں مزدلفہ میں سے گزرجائے تو وقوف ہو جائے گا !
(٢) صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا !
(٣) رمی جمار یعنی کنکریاں مارنا !
(٤) قِران او ر تمتع کرنے والے کو تمتع اور قِران کے شکرانہ کا دم دینا !
(٥) حلق یعنی سر کے بال منڈوانا یا تقصیر یعنی ایک پورے کے بقدر بال کتروانا !
(٦) آفاقی یعنی میقات سے باہر رہنے والے کو طوافِ وداع کرنا !
مسئلہ : واجبات کا حکم یہ ہے کہ اگر ان میں سے کوئی واجب چھوٹ جائے گا توحج تو ہو جائے گا خواہ قصداً چھوڑا ہو یا بھول کر لیکن اس کی جزا لازم ہو گی البتہ اگر کوئی فعل کسی معتبر عذر کی وجہ سے چھوٹ گیا ہو توجزاء لازم نہیں آئے گی !
حج کی سنتیں :
(١) وہ آفاقی جو حج افراد یا حج قِران کرے اس کو طوافِ قدوم کرنا !
(٢) طوافِ قدوم میں رمل کرنا جبکہ اس کے بعد صفا مروہ کی سعی کا بھی ارادہ ہو ! اگر اس میں نہ کیا ہو
تو پھر طواف ِزیارت یا طوافِ وداع میں رمل کرے اوراس کے بعد سعی کرے !
(٣) امام کا تین مقام پر خطبہ پڑھنا ! ساتویں ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ میں اورنویں ذوالحجہ کو عرفات میں
او ر گیارہویں کومنٰی میں
(٤) نویں ذوالحجہ کی رات کو منٰی میں رہنا !
(٥) طلوعِ آفتاب کے بعد نویں ذوالحجہ کو منٰی سے عرفات کو جانا
(٦) مزدلفہ میں عرفات سے واپس ہوتے ہوئے رات کو ٹھہرنا
(٧) عرفات میں غسل کرنا
(٨) ایامِ منٰی میں رات کو منٰی میں رہنا
(٩) منٰی سے واپسی میں محصب میں ٹھہرنا اگرچہ ایک لحظہ ہی ہو
مسئلہ : سنت کا حکم یہ ہے کہ ان کو قصداً ترک کرنا برا ہے اور کرنے سے ثواب ملتا ہے اور ان کے ترک کرنے سے جز اء لازم نہیں ہوتی ۔ (ماخوذ از مسائل بہشتی زیور)
قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ کے سلسلہ وار مطبوعہ مضامین جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ پر پڑھے جا سکتے ہیں
http://www.jamiamadniajadeed.org/maqalat
فلسطین اور امت ِمسلمہ کی ذمہ داری
٭٭٭
( قائد جمعیة حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہم )
پاک چائنہ سینٹر اسلام آباد میں قومی کانفرنس سے خطاب
( ١١ شوال المکرم ١٤٤٦ھ / ١٠ اپریل ٢٠٢٥ ء )
٭٭٭
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَکَفٰی وَسَلَام عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی لَا سِیِّمَا عَلٰی سَیِّدِ الرُّسُلِ
وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَائِ وَعَلٰی اٰلِہ وَصَحْبِہ وَ مَنْ بِھَدْیِہ مُھْتَدٰی اَمَّابَعْدُ !
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
( یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَرُدُّوْکُمْ عَلٰی اَعْقَابِکُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ
بَلِ اللّٰہُ مَوْلٰکُمْ وَھُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ ) صدق اللّٰہ العظیم
حضرات گرامی قدر، اکابر علماء کرام، میرے بزرگو، دوستو اور بھائیو ! آج کا یہ اجتماع نہایت مختصر نوٹس پر بلایا گیا اور ظاہر ہے کہ جو صورت ِحال فلسطین میں اور غز ہ میں برپا ہوئی اس کا تقاضا تھا کہ بغیر کسی مہلت کے ہم فوری طور پر اکٹھے ہوں اور اہل فلسطین کے ساتھ، اہل غز ہ کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کریں اور دنیا کو یہ پیغام دیں کہ پاکستان کا مسلمان ہو یا عالم اسلام کا کوئی فرد آج وہ اپنے فلسطینی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے جیسے کہ حضرت شیخ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے ارشاد فرمایا اور ان سے قبل حضرت گرامی مفتی منیب الرحمن صاحب دامت برکاتہم نے اجلاس کا جو اعلامیہ پیش کیا جس میں صراحت کے ساتھ فلسطینیوں کے شانہ بشانہ میدان جنگ میں شامل ہونے کا فتوی جاری کیا یہ صرف پاکستان کے مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ عالم اسلام کے لیے ہے اور آج آپ کا یہ اجتماع صرف ایک روایتی قسم کا اجتماع نہیں ہے بلکہ ان حالات میں اس کی جو اہمیت ہے تاریخ کبھی اس کو نظرانداز نہیں کرسکے گی جو اعلان کرتا ہے کہ فلسطینیوں کے شانہ بشانہ عملی جہا د میں شریک ہونا اب امت پر فرض ہو چکا ہے لیکن تکلیف بھی بالا ئے طاق تو ہے نہیں جہاں جہاں کا مسلمان جس جس راستے سے وہاں شریک ہو سکتا ہو مسلمان پر فرض ہے کہ ان حالات میں اپنے فلسطینی بھائیوں کے شانہ بشانہ صہیونی جارحیت کا مقابلہ کریں ! !
اسر ائیل ایک ریاستی د ہشت گرد ہے، اسر ائیل آج کا قاتل نہیں ہے یہ یہو د انبیاء کے قاتل ہیں ان کی تاریخ قتل و غارت گری ہے، ان کے علاوہ ان کا کوئی مشغلہ نہیں اور اللہ رب العزت نے ان کے چہرے سے نقاب اٹھایا ( کُلَّمَا اَوْ قَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَ ہَا اللّٰہُ ) جب بھی انہوں نے جنگ کی آگ بھڑکائی اللہ نے بجھائی، یعنی جب وہ جنگ کی آگ بھڑکانے کا سوچتے تھے، سازش کرتے تھے تو اس سازش کو اللہ ناکام بنا دیتا تھا اور میں تو بڑے صاف الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ میرے ضمیر نے قابیل کو نہیں بخشا، میرے ضمیر نے قابیل کو نہیں بخشا، میں کیسے صلح کرلوں قتل کرنے والوں سے ! آج بھی وہ قاتل ہیں اور اپنی قتل و غارت گری کی تاریخ کو تسلسل دے رہے ہیں ، ایک صدی قبل کرہ ارض پر اسرا ئیل نامی کسی بھی ریاست کا وجود تک نہیں تھا ! جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے صرف خیبر سے نہیں نکالا بلکہ اعلان فرمایا
اَخْرِجُوا الْیَہُوْدَ مِنْ جَزِیْرَةِ الْعَرَبِ
کہ یہو د کو جزیرہ عرب سے باہر نکال دو، فلسطین ارض عرب ہے اور ارض عرب پر ان کو قبضہ کرنا وہاں ریاست بنانا وہاں آبادی کرنا اس کا کوئی حق اسلام کے دائرے میں ان کے لیے موجود نہیں ہے۔ کیا کیا قصے دنیا میں پھیلائے جا رہے ہیں فلسطینیوں نے تو خود زمینیں بیچی، فلسطینیوں کی مرضی سے بیچی ہوئی زمینوں پر یہ آباد ہو گئے۔ اب گلا کس سے، آپ ذرا ریکارڈ درست کیجیے1917ء میں جب دارفور اسرا ئیلی ریاست کی تجویز پیش کر رہا تھا اور قرارداد دے رہا تھا اس وقت پورے فلسطین کی سرزمین کے صرف دو فیصد علاقے پر یہود ی آباد تھا صہیو نی آباد تھا، 98 فیصد علاقے پر صرف مسلمان فلسطینی آباد تھا اور جب1948 ء میں اسر ائیل کی ریاست کا باقاعدہ اعلان کیا تو1947ء کے اعداد و شمار دیکھیے فلسطین کی سرزمین پر یہودیوں کی آبادکاری صرف 6فیصد علاقے پر ہے 94فیصد علاقہ صرف فلسطینیوں کا تھا، پھر کہتے ہیں اسرائیل کو مسلمانوں نے خود جگہ دی ! کیوں جھوٹ بولتے ہوکیوں تاریخ کو جھٹلاتے ہواور ہم پاکستان کے موقف کو بھی جانتے ہیں جو پاکستان کی اساس کا حصہ ہے کہ1940ء کی قرارداد پاکستان میں کہا گیا کہ ''فلسطین کی سرزمین پر یہو دی بستیوں کا قیام ناجائز قبضہ ہے'' اور بانی پاکستان نے کہا تھا کہ'' ہم فلسطینیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے'' اور پھر جب اسرا ئیل وجود میں آیا تو پاکستان نے کہا کہ ''یہ برطانیہ کا ناجائز بچہ ہے'' یہ پاکستان کا موقف ہے ان کے بارے میں ، قیام پاکستان کی اساس کا حصہ ہے اور جب اسرا ئیل وجود میں آیا تو اسرا ئیل کے پہلے صدر نے جو اپنا خارجہ پالیسی بیان دیا اپنے خارجہ پالیسی بیان میں اس نے واضح طور پر آنے والے وقت میں اپنے اہداف کا تعین کیا اور کہا کہ کرۂ ارض پر نمودار ہونے والی نوزائیدہ مسلم ریاست کا خاتمہ اسر ائیل کا ہدف ہوگا، نوزائیدہ مسلم ریاست صرف اور صرف پاکستان کی ریاست تھی۔
آج پاکستان کو جس جہت سے بھی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اس کے پیچھے یہو دی سازشیں کارفرما ہوتی ہیں اور پھر ہمارے ملک میں ایسے ایسے فلاسفر وجود پاتے ہیں ، ایسے ایسے فلاسفر اٹھتے ہیں ، صاحب ہم نے تو ملک کو چلانا ہے پچیس کروڑ آبادی کی معیشت کا مسئلہ ہے، جب تک ہم یہو د کے ساتھ، اسر ائیل کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں کریں گے پاکستان کی معیشت کیسے چلے گی ؟ یہ سنی سنائی بات نہیں کر رہا ہوں آپ سے ،یہ کوئی ایسی بات نہیں کر رہا ہوں کہ سیاسی دنیا میں خبریں چلتی ہیں میرے کان تک بھی کوئی بات پہنچ گئی یہ وہ باتیں میں آپ سے کہہ رہا ہوں جو یہ طبقہ براہ راست مجھ سے کہہ چکا ہے، اور جب یہ حالات پیدا ہوئے ٹی وی پر یہ لوگ آکر فلسفے جھاڑتے تھے پھر ہمیں سیمینار بھی کرنے پڑے، کراچی میں میلین مارچ بھی کرنا پڑا اور اللہ کے فضل سے ہم نے ان کا ایسا منہ بند کیا کہ ان شاء اللہ پھر دوبارہ یہ منہ نہیں کھل سکے گا ! !
اور میں آج بھی حکمرانوں کو کہنا چاہتا ہوں ، ہمارے ملک کی حکومت عجیب ہے پھٹی ہوئی قمیص ہے، پی ڈی ایم حکومت کر رہی ہے صدر اپوزیشن میں ہے اور بجائے اس کے کہ وہ اپنے صدر کی مانیں پتہ نہیں کس کی مان رہے ہیں ؟ ان حالات میں قیام پاکستان کے مقصد کو بھی سمجھنا چاہیے، مسلم امہ کے نام پر وجود میں آنے والی ریاست پوری دنیا کے مسلمانوں کی جنگ لڑنے کی ذمہ دار ہے، اگر پاکستان آج فلسطین کے مسلمانوں کی جنگ نہیں لڑتا تو پھر وہ قیام پاکستان کے مقصد کی نفی کر رہا ہے پھر مسلم لیگ حکومت کرے لیکن میں اس مسلم لیگ کو کہنا چاہوں گا کہ آپ ہی تو ہیں جو قائد اعظم محمد علی جناح کے موقف کو جھٹلا رہے ہیں ! واضح موقف ہونا چاہیے ،ڈرنا کیا ہے اور قرآنِ کریم ہمارا رہنما ہے جب اللہ رب العزت نے مکہ مکرمہ میں مشرکین کے داخلے پر پابندی لگا دی
( یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَس فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا )
سوال پیدا ہوا یا نہیں ؟ کہ یہ تو تجارتی مرکز ہے، یہاں تو دنیا کا مال آتا ہے، یہاں خرید و فروخت ہوتی ہے، یہاں کی معیشت متاثر ہو جائے گی تو اللہ رب العزت نے کیا فرمایا
( وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْکُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہ اِنْ شَآئَ )
اگر تمہیں بھوک پیاس کا خطرہ ہو جائے، تجارتی نقصان ہو جائے گا، معاشی بربادی ہو جائے گی تو ہمارے فلسفی لوگ پھر اپنا فلسفہ جھاڑتے ہیں یہ مولوی صاحبان صدیوں پرانی باتیں کرتے ہیں ان کو کیا پتا ہے حالات کا، دنیا کے حالات، یہ آج کی باتیں نہیں ہیں ، یہ اس وقت مکہ میں بھی ہوئی لیکن اللہ نے فرمایا
( اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْم حَکِیْم ) ١ تم کیا مجھے سمجھا ئوگے ؟ میں خود جانتا ہوں ۔پھر فلسفے.................. صاحب اس کی ذرا حکمت عملی دیکھیے، حکمت عملی کے لحاظ سے عقلی لحاظ سے ہمیں سوچنا چاہیے، گہرائی کے ساتھ سوچنا چاہیے، یہ لوگ تو سادھے لوگ ہیں سادھی گفتگو کرتے ہیں ، اللہ نے کہا( اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْم حَکِیْم)
وہ حکمت والا بھی تو میں ہوں ،تم سے زیادہ حکمت جانتا ہوں ، میں ہی تو علیم ہوں ، میں ہی تو حکیم ہوں ! تو اللہ تعالیٰ کے علم اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اس وقت بھی یہی تھی کہ اس کے حکم کو مانو اور اس خطے پر غیرمسلموں کا داخلہ بند کر دو اور اگر رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ان کو جزیرة العرب سے نکالا تو ہمیں کبھی اس خوف میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے تو ہمیں معاشی نقصان ہوگا، میں اس معیشت پر لعنت بھیجتا ہوں جو یہو دیوں کے رحم و کرم پر ہو ! خود پاکستان کو پاکستان بنائو، پاکستان کے وسائل کو ملک کے لیے
١ سورة التوبة : ٢٨
استعمال کرو، اپنے وسائل کو ملک کے لیے استعمال کرو، ستتر سال ہم نے گزارے ہم نے اپنے وسائل کو استعمال نہیں کیا، ساری زندگی ہم نے بھیک مانگ کر گزاری ہے، قرضے مانگ کر گزاری ہے ،
جب ستتر سال تم نے پاکستان کو پاکستان نہیں سمجھا، پاکستان کے وسائل کو اپنے لیے استعمال نہیں کیا تو پھر سمجھ لو کہ تمہارا دماغ تمہارا دل اندر سے آج بھی غلامانہ ہے اور تم کل بھی غلام تھے تم آج بھی غلامی کر رہے ہو ! !
میں یہ بات کئی اجتماعات میں کر چکا ہوں اور آج پھر یاد دلانا چاہتا ہوں آپ کو کہ جنرل مشرف صاحب کے ساتھ ایک میٹنگ تھی، مجھے کہتا ہے آپ امریکہ کے خلاف جلوس جلسے نکال رہے ہیں ، ہم امریکہ کے غلامی نہیں مانتے، مولانا صاحب مان لو ہم امریکہ کے غلام ہیں ، یہ آرمی چیف کہہ رہا ہے مجھے، مان لو ہم غلام ہیں آپ کیا یہ کہتے ہیں غلامی نہیں مانتے، میں نے کہا اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم غلام ہیں ،میں بھی مانتا ہوں غلام ہیں ،آپ بھی کہتے ہیں غلامی کو مانتا ہوں لیکن ایک طبقہ وہ ہے جو غلامی کو قبول کر کے اس کے سامنے سر نگو ہو جاتا ہے اور ایک طبقہ وہ ہے جو غلامی کے سامنے ڈٹ جاتا ہے سر اٹھا کے چلتا ہے گردن کٹوا دیتا ہے لیکن اس کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہوتا ! ! تو میں نے کہا جنرل صاحب یہاں پر بات تقسیم ہو جاتی ہے ایک آپ ہیں اور ایک آپ کے اکابر کی تاریخ، ایک میں ہوں اور ایک میرے اکابر کی تاریخ، تجھے اپنے آبا ئواجداد کی تاریخ مبارک مجھے اپنے آبا ئواجداد کی تاریخ مبارک ! !
میرے محترم دوستو، ان سارے حالات میں ہمیں اپنے فرض کو سمجھنا ہے مسلمان کا مسلمان کے اوپر حق ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم فرماتے ہیں
اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لَا یَظْلِمُہُ وَلَا یُسْلِمُہُ ١ وَلَا یَخْذُلُہُ وَلَا یَحْقِرُہُ ٢
١ صحیح البخاری ابواب المظالم و القصاص رقم الحدیث ٢٤٤٢
٢ صحیح مسلم کتاب البر و الصلة و الاداب رقم الحدیث ٢٥٦٤
''مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر خود ظلم کرتا ہے نہ کسی ظالم کے سپرد کرتا ہے !
اور نہ اسے بے یارو مدد گار چھوڑتا ہے اور نہ اسے حقیر خیال کرتا ہے''
آج ہم امت مسلمہ کو اس کا بھولا ہوا سبق یاد دلانا چاہتے ہیں کہ فلسطینیوں کو آپ نے کس کے ظلم میں چھوڑ دیا ہے، کس کے حوالے کر دیا ہے اور جب آپ ان کے حوالے کریں گے تو پھر مسلمان ہونے کا دعوی کیسے کرو گے ؟ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم فرماتے ہیں
مَثَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ فِیْ تَوَادِّہِمْ وَتَرَاحُمِہِمْ وَ تَعَاطُفِہِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ اِذَ اشْتَکٰی مِنْہُ عُضْو تَدَاعَ لَہُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّہَرِ وَالْحُمَّی ١
ایمان والوں کی مثال ایک دوسرے پر مہربان ہونے ،ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی میں بالکل ایسی ہے جیسے ایک جسم، اگر جسم کے سر میں درد تو پورا جسم بے قرار، اگر اس کے آنکھ میں درد پورا جسم بے قرار، اگر جسم کے کسی حصے میں درد مچل رہا ہے ساری رات جاگتے بخار کی حالت میں گزر جاتی ہے، ہم کس طرح قرار کی زندگی گزار رہے ہیں ، ہم کس طرح اطمینان کی زندگی گزار رہے ہیں ، ہم کس طرح سکون سے سو رہے ہیں ،اس احساس کو اجاگر کرنا ہے، اس احساس کو ہم نے بیدار کرنا ہے ! !
الحمدللہ میرا اطمینان ہے امت مسلمہ آج ایک صف ہے، امت مسلمہ کے جذبات ایک ہیں اور امت مسلمہ کے جذبات کے سامنے اگر کوئی رکاوٹ ہے تو امت مسلمہ کے حکمران ہیں ، چاہے پاکستان کے حکمران ہوں اور چاہے دوسری اسلامی دنیا کے حکمران، وہ اپنے مفادات کے لیے سوچ رہے ہیں ، کسی کا2030 ء کا ویژن ہے، کسی کا 2050ء کا ویژن ہے اور سارے ویژن انہوں نے اسرائیل کے ساتھ وابستہ کیے ہیں ، یہ خس و خاشاک ہو جائیں گے، ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی، ایک خواب ہوگا جو خوابِ پریشان ہی رہے گا جس کی کبھی تعبیر نہیں ہو سکے گی ، اپنے فرض کو پہچانوپاکستان، سعودی عرب، ترکی، مصر، ملیشیا، انڈونیشیا، یہ امت مسلمہ کے وہ بڑے ممالک ہیں کہ
١ صحیح مسلم کتاب البر و الصلة و الاداب رقم الحدیث ٢٥٨٦
اگر وہ مل کر ایک متفقہ فیصلہ کر لیں کوئی امت مسلمہ کا حکمران ان کی مخالفت نہیں کر سکے گا، ان کو قیادت کرنی چاہیے ،ان کو میدان میں آنا چاہیے ،ہم ان کے احساس کو بیدار کر رہے ہیں ، یہ مجلس کسی کے لعن طعن ملامت کے لیے نہیں ہے یہ احساس کو بیدار کرنے کے لیے ہے، امت کے اندر اس وقت بیداری کی ضرورت ہے، میں جانتا ہوں ہر جگہ پر کچھ مذہب بیزار بھی ہوتے ہیں ، لفظ ''جہا د'' سن کر مذاق بھی اڑاتے ہیں ، مسجد اقصی کا نام لے کر مذاق بھی اڑاتے ہیں ، پھر اسلام کو استعمال کر رہے ہیں ، تو اسلام، بیت المقدس، آزادی فلسطین، یہ ہمارا کارڈ نہیں ہے ! !
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے حکمرانوں کو بھی جگائیں ان کو احساس دلائیں کہ امت مسلمہ آج آپ سے کیا تقاضہ کرتی ہے، امت مسلمہ کی آرزوئیں کیا ہیں ، امت مسلمہ آپ سے کیا چاہتی ہے اور اس طرح ہم بھی پھر آپ کو آرام سے سونے نہیں دیں گے، تو یہ جو دین بیزار قسم کے لوگ مذاق اڑاتے ہیں پتہ نہیں کیا کیا کچھ کہتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی بندگی کی بجائے امریکہ کی خدائی پر یقین رکھتے ہیں ، ہم تو چاہیں گے کہ تو بھی اللہ کے سامنے آجائے، انسان آزاد ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب کسی مسئلہ پر اپنے ایک گورنر کو جھنجھوڑا تو آپ کے الفاظ تھے
مَتَی اسْتَعْبَدتُّمُ النَّاسَ وَقَدْ وَلَدَتْہُمْ اُمَّہَاتُہُمْ اَحْرَارًا
تم نے انسان کو کب اپنے غلام سمجھ رکھا ہے ان کو تو ان کی ماں نے آزاد جنا ہے
تو آزادی انسان کا پیدائشی حق ہے ! اور یہ پیدائشی حق نہ کشمیری سے چھینا جا سکتا ہے ! نہ فلسطینی سے چھینا جا سکتا ہے ! نہ دنیا کے کسی اور مسلمان سے چھینا جا سکتا ہے ! !
تو اس محاذ پر جو ہم چل رہے ہیں اور جدوجہد کر رہے ہیں معاہدہ ہوا جنگ بندی ہوئی تین مراحل میں اکتالیس اکتالیس دن کا معاہدہ ایک معاہدہ سے دوسرے معاہدہ دوسرے سے تیسرے معاہدے میں چلنا تھا، قیدیوں کی رہائی کے معاملات وغیرہ وغیرہ اس بیچ میں کیا جواز تھا کہ آپ نے حملہ کیا دوبارہ تم نے وعدہ خلافی کی اپنی تاریخ دہرائی ہے، تم نے یہو د و صہیو ن کا اصل چہرہ بے نقاب کیا ہے
اور ان شاء اللہ العزیز ١٣اپریل کو کراچی میں ''اسرا ئیل مردہ باد'' کے عنوان سے'' ملین مارچ'' ہوگا اور کل جمعہ ہے میں پوری قوم سے کہتا ہوں ، جماعت سے کہتا ہوں ، تمام دینی تنظیموں سے کہتا ہوں ، ان کے کارکنوں سے کہتا ہوں کہ ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر میں کل مظاہرے ہونے چاہئیں ، ان شاء اللہ العزیز اسرا ئیلی مظالم کے خلاف اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے، تو یہ متفقہ فیصلہ ہے اور پھر کراچی کے جلسے میں ہم اگلے اقدام کا اعلان کریں گے، نہ آپ کو آرام سے بیٹھنے دیں گے نہ خود آرام سے بیٹھیں گے، ان شاء اللہ پورے عزم کے ساتھ یہ جنگ ہم نے لڑنی ہے اور جو ہماری استطاعت میں ہے اللہ نے اسی حد تک ہمیں مکلف بنایا ہے اس میں کوئی کمی نہیں آنی چاہیے ! اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن
وفیات
٭٭٭
٭ ٢٩ شوال المکرم ١٤٦٦ھ/٢٨ اپریل ٢٠٢٥ء کو قطب الاقطاب برکة العصر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی مہاجر مدنی رحمة اللہ علیہ کے داماد وعلمی جانشین، جامعہ مظاہر علوم سہارنپور کے شیخ الحدیث وناظم حضرت مولانا سید محمد عاقل صاحب طویل علالت کے بعد میرٹھ میں انتقال فرماگئے
٭ ٧ اپریل کو جامعہ مدنیہ جدید کے ناظم مولانا انعام اللہ صاحب کی والدہ صاحبہ ٹانک میں اچانک انتقال فرما گئیں
اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق نصیب ہو، آمین۔ جامعہ مدنیہ جدید اور خانقاہِ حامدیہ میں جملہ مرحومین کے لیے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت کرائی گئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ، آمین۔
اجتماعی قربانی
٭٭٭
جامعہ مدنیہ جدید میں ہر سال کی طرح اجتماعی قربانی کا انتظام کیا گیا ہے
قربانی میں حصہ لینے والے حضرات جلد رابطہ فرمائیں
گائے فی حصہ 35000 روپے
قربانی کے جانوروں کی کھالیں جامعہ مدنیہ جدید کو دینا مت بھولیے
کھال فروخت کر کے اس کی قیمت بھی جامعہ کو ارسال کی جا سکتی ہے
منجانب
جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد19 کلو میٹر شارع رائیونڈ لاہور پاکستان
03234250027
03044587751
03104499997
03334506315
احترامِ اقارب اور اسلامی تعلیمات
( حضرت مولانا ظہیر احمد صاحب مفتاحی )
٭٭٭
آج دنیا اس حقیقت کا اعتراف کرتی جارہی ہے کہ اسلام ہی دنیا کا وہ سچا اور اچھا مذہب ہے جس کی تعلیمات انسان کو صحیح معنوں میں مکمل انسان بناتی ہیں اور جس نے اصلاحِ نفس، ترقی وتمدن، تہذیب ِ اخلاق اور درستی ٔ معاشرتِ عامہ کے وہ اصول بیان کیے ہیں جن پر علمی وعملی قوتوں کی شائستگی مبنی ہے جن کو بجا طورپر نجاتِ انسانی اور امنِ عالم کا علمبردار کہنا مناسب ہے ! اسلامی تعلیمات غصہ، کینہ، بغض، حسد، عداوت، انتقام، خودغرضی اور نفس پرستی وغیرہ کے جذبات کا گلا گھونٹتی ہیں ، مساوات وہمدردی، عدل و انصاف، خدا کی بندگی اور حق و صداقت کی حمایت کے جذبات ابھارتی ہیں ارشادِ ربانی ہے ( اِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰی وَ یَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ وَ الْبَغْیِ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ) ( سورة النحل : ٩٠ )
اس آیت میں عدل و انصاف، احسان و سلوک اور اقرباء کی امداد واعانت کا حکم ہے اور فحاشی اور بے حیائی، ناپسندیدہ روِش اور ظلم وزیادتی کرنے سے صاف اور صریح الفاظ میں ممانعت فرمادی گئی ہے ! !
غور کیجیے انسانی زندگی کا کتنا مکمل ضابطہ اور لائحہ عمل ہے اگر انسان صرف اسی ایک جملہ کے مطابق اپنی زندگی کا پروگرام بناکر عمل پیرا ہوجائے تو وہ اپنی زندگی رضائے الٰہی کے مطابق امن و عافیت کے ساتھ کامیاب وخوشگوار گزار سکتا ہے ! انسانیت کے معیار کو سمجھنے کے لیے انسانی تعلقات اور اس کی ذمہ داریوں کو اوّل سمجھنا ضروری ہے ان تعلقات میں انسان کا پہلا اور مقدم تعلق عبودیت کا اپنے خالق کے ساتھ ہے ، دوسرا معاشرتی تعلق بنی نوع انسان کے ساتھ ہے۔ انسانیت کی تکمیل ان ہی دونوں تعلقات کے صحیح ہونے پر منحصر ہے ! !
یوں تو اسلام نے اپنے اعزاء اور ہر شخص کے ساتھ جس سے ہر انسان کا واسطہ اور سابقہ پڑتا ہے حقوق قائم کردیے ہیں اور درجہ بدرجہ ہر ایک سے حسن ِسلوک سے پیش آنے کی شد و مد کے ساتھ تاکید فرمائی ہے مگر معاشرتی تعلقات میں سب سے مقدم اور اہم حق والدین کا ہے پھر شوہر وبیوی کا باہمی تعلق ہے، اِبن واَب اور زوجین کی باہمی چپقلش و نفرت سارے نظامِ معاشرت کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہے اسلام نے ان رشتوں کے قیام و استحکام کے لیے ایک دوسرے کے مراتب و تعلقات کی اہمیت کو اس طرح اجاگر کیا ہے اور ایسے اصول مقرر فرمائے ہیں کہ جن کو سمجھ کر اور ان پر عمل پیرا ہوکر انسان اپنے اندر صحیح انسانیت اور اعلیٰ اخلاق پیدا کرسکتا ہے جس پر حیات ِقومی کا دار و مدار ہے۔اس مختصر مضمون میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں انسانی تعلق کے دوسرے جزء یعنی اِبن و اَب اور میاں بیوی کے احترام اور تعلقات کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے ! !
احترامِ والدین :
یہ امر مسلمہ ہے کہ والدین اپنی اولاد سے بے حد محبت کرتے ہیں ان کی تعلیم و تربیت پرداخت وپرورش اور نگہداشت وخواہشات پر اپنا سرمایہ، عزیز وقت، دولت آرام سب کچھ قربان کرتے ہیں مگر اولاد کی تکلیف، دکھ، رنج وپریشانی، حزن وغم کبھی بھی برداشت نہیں کرتے، اس بناء پر اسلام کی نگاہ میں والدین کا مرتبہ بہت ہی ارفع اور اعلیٰ ہے قرآن کہتا ہے
( وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلَّآ اِیَّاہُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُھُمَآ اَوْ کِلٰھُمَا فَلَا تَقُلْ لَّھُمَآ اُفٍّ وَّ لَا تَنْھَرْھُمَا وَ قُلْ لَّھُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا) ١
'' تمہارے خدا کا فیصلہ ہے کہ صرف اس کی پرستش کرنی چاہیے اور اپنے والدین کے ساتھ حسن ِسلوک سے پیش آؤ، اگر تمہارے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو ان کی کسی بات پر اُف تک نہ کرو اور شریفانہ گفتگو اختیار کرو اور ان کے ساتھ نرمی، شفقت اور ملائمت برتو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار تو ان پر رحمت فرما جیسا کہ انہوں نے مجھ کو بچپن میں پالا ''
١ سورة بنی اسرائیل : ٢٣
غور کیجیے کہ کتنی وضاحت کے ساتھ یہ حکم دیا جاتا ہے کہ والدین کی خدمت کاسب سے اہم وقت بڑھاپے کا زمانہ ہے جب ان کے اعضاء وجوارح بیکار ہوجاتے ہیں جب انسان بالکل مجبور ہوجاتا ہے جب ہرطرف سے مایوسی ہی نظر آتی ہے تواس وقت کی خدمت اور اس وقت کی اطاعت اکثر اطاعتوں سے افضل اور اچھی ہے ! ماں باپ کی اطاعت وفرمانبرداری کے لیے اس قدر تاکید کہ اس عالم میں انہیں '' اُف'' بھی نہ کہو یعنی کوئی ایسی حرکت کبھی بھی تم سے سرزد نہ ہوجائے جو ان کے لیے تکلیف دہ ہو اور جس سے ان کے نازک دلوں کو دکھ پہنچے جس سے ان کو رنج و ملال ہو ( وَاخْفِضْ لَھُمَا) کا تکرار بھی کس قدر جامع ہے یعنی ان کی اطاعت میں پوری طرح جھک جاؤ، بغیر پس و پیش کے ان کی خدمت گزاری میں لگ جاؤ اور اس جھکنے میں تمہارے دلوں کی گہرائیوں سے محبت اور نرمی کے جذبات نمایاں رہیں وقتی مصلحت یا وضعداری جیسی کوئی چیز نہ ہو ! ان آیاتِ قرآنی میں کتنے معانی پوشیدہ ہیں اسے اہلِ نظر ہی جانتے ہیں ، ماں باپ کی خدمت ،عظمت وبڑائی ، ان کی عزت و فضیلت ان کی اطاعت وفرمانبرداری ہرچیز پر ان آیات سے واضح طور پر روشنی پڑتی ہے ان آیات کے بعد رسولِ اکرم صلی اللہ عليہ وسلم کے ارشادات ِ گرامی بھی سن لیجیے
(١) نماز کے بعد افضل ترین عمل والدین کے ساتھ عمدہ سلوک ہے !
(٢) والدین کی اطاعت وفرمانبرداری میں جہاد کا ثواب ہے۔ حضرت عبداللہ بن قیس بیان کرتے ہیں کہ رسولِ خدا صلی اللہ عليہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر ایک شخص نے جہاد کی اجازت طلب کی ! فرمایا تیرے ماں باپ زندہ ہیں ؟ اُس نے عرض کیا جی ہاں زندہ ہیں ، فرمایا ان ہی کی خدمت میں جہاد کا ثواب موجود ہے
(٣ ) والدین کی اطاعت، خدا کی اطاعت ہے اور والدین کی نافرمانی خدا کی نافرمانی ہے !
(٤) والدین کی نافرمانی اس صورت میں بھی جائز نہیں جبکہ وہ گھر سے نکل جانے کا حکم صادر فرمائیں !
(٥) حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم صلی اللہ عليہ وسلم کا ارشاد ہے ''گناہ ِ کبیرہ میں سے سب سے بڑا گناہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور والدین کی معصیت ہے''
(٦) حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ عليہ وسلم سے کسی نے عرض کیامیں ہجرت کی بیعت کرنے آیا ہوں جب میں چلا ہوں تو والدین کو روتا چھوڑ آیا تھا ! فرمایا فوراً واپس جاؤ اور دونوں کو جس طرح رلایا ہے اسی طرح ہنساؤ ! (ابو داود)
(٧) حضرت ابواُمامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رحمت ِ عالم صلی اللہ عليہ وسلم سے ایک شخص نے دریافت کیا
حضور ! ماں باپ کا حق اولاد پر کیا ہے ؟ فرمایا ''وہ دونوں تیرے بہشت اور دوزخ ہیں '' (ابن ماجہ)
(٨) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا بڑے بڑے گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی دے ! لوگوں نے عرض کیا حضور یہ کیونکر ممکن ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین کو گالی دے ؟ حضور صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ دوسرے کے ماں باپ کو گالی دیناایسا ہی ہے جیسے اپنے ماں باپ کو گالی دینا کیونکہ جب دوسرے کے ماں باپ کو برا بھلا کہے گا تووہ یقینا اس کے بدلے میں تمہارے ماں باپ کو برا بھلا کہے گا (مسلم و ابوداود)
(٩) والدین کی خدمت کا یہ بھی تتمہ ہے کہ ان کے ملنے والوں سے بہتر سلوک واحسان کیا جائے ! حضرت مالک بن ربیعہ فرماتے ہیں رسولِ اکرم صلی اللہ عليہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم ماں باپ کے انتقال کے بعد بھی ان کی خدمت اولاد کے ذمہ ہے ! ارشاد فرمایا ہاں ان کے لیے استغفار کرنا، ان کے وعدوں کو پورا کرنا، ان کے احباب و اقارب کی عزت کرنا، یہ سب باتیں ماں باپ کی خدمت میں شامل ہیں ! !
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک اعرابی راستہ میں ملا اس نے آپ کو سلام کیا آپ نے اس کو بڑے احترام سے جواب دیا، خود پیادہ ہوگئے اس کے سامنے اپنی سواری پیش کردی، پھر اپنے سرکا عمامہ بھی ان کے سر پر رکھ دیا ! آپ کے ساتھیوں میں سے کسی نے کہا جناب یہ لوگ گنوار ہیں تھوڑی سی چیز سے خوش ہوجاتے ہیں اس قدر لطف کی کیا ضرورت ہے ! حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے رسو ل اللہ صلی اللہ عليہ وسلم سے سنا ہے کہ سعادت مند اولاد کی بڑی خدمت یہ ہے کہ باپ کے مرنے کے بعد باپ کے دوستوں سے اچھا سلوک اور بہترین برتاؤ کرے، اس شخص کو میں نے اپنے والد ماجد کے پاس دیکھا ہے ! ! (مسلم شریف )
(١٠) والدین کی عزت کا پورا خیال رکھو اگرچہ وہ کافر ہوں !
(١١) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام میں سے کسی نے ایک مرتبہ عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم خدا اور رسول کے بعد نیک سلوک اور اچھے برتاؤ میں کس کو مقدم کرنا چاہیے ؟ فرمایا ''ماں '' کو ! سائل نے کہا پھر کو کس کو ؟ فرمایا ''ماں '' کو ! تین مرتبہ کے ذکر کے بعد چوتھی مرتبہ فرمایا باپ کی اطاعت فرض ہے ! ! (بخاری و مسلم )
(١٢) اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم سے دریافت کیا کہ مرد پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے ؟ فرمایا اس کی ماں کا ! ! (حاکم)
(١٣) حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا ''ماں باپ کے پاؤں کے نیچے جنت ہے'' مختصر یہ کہ والدین کے احترام و تعظیم کی بہت تاکید فرمائی گئی ہے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک واقعہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ قبیلہ بنو سعد کے ایک نوجوان کی نسبت حضور صلی اللہ عليہ وسلم کو یہ معلوم ہوا کہ وہ اپنے والدین کے سامنے گستاخی سے پیش آتا ہے، آپ نے اسے طلب کیا اور فرمایا کیا یہ سچ نہیں ہے کہ تمہارے والدین نے تمہاری تربیت اور پرورش میں اس وقت تکالیف برداشت کیں جب تمہیں ہوش نہ تھا، انہوں نے تیری خاطر کتنی تکلیفیں جھلیں ؟ کتنے دکھ درد کا سامنا کیا ؟ اور تمہارے لیے کتنی راتیں بیداری میں کاٹیں ؟ ان کے احسانات کا یہ صلہ ہے کہ تم انہیں حقیر سمجھتے ہو اور ان پر ظلم ڈھاتے ہو ؟ اس کے بعد فرمایا
مَنْ اَدْرَکَ وَالِدَیْہِ عِنْدَالْکِبَرِ وَلَا یُحْسِنُ لَمْ یَدْخُلِ الْجَنَّةَ
یعنی جس نے اپنے والدین کے ساتھ حالت ِ ضعیفی میں اچھا سلوک نہیں کیا وہ ہر گز جنت میں داخل نہ ہوگا
احترامِ شوہر :
یہ تو بتانے کی ضرورت نہیں کہ عورت کے لیے شوہر ہی مرکز عیش و نشاط اور سرمایہ سکون و حیات ہے بلکہ دکھانا یہ ہے کہ اسلام نے احترامِ شوہر اور اس کی رضاکے لیے کتنا زور دیا ہے اور مسلم عورتوں نے تعلیماتِ اسلامی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے شوہروں کا کتنا احترام کیا ہے ؟ کس طرح خدمت کی ہے ؟ اور ان کی رضا جوئی اور خوشنودی کے لیے کس طرح خندہ پیشانی کے ساتھ مصائب و مشکلات برداشت کی ہیں فرامینِ نبوی ملاحظہ فرمائیں :
٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا
''کسی بشر کو یہ لائق نہیں کہ وہ کسی بشر کو سجدہ کرے ! اگر میں انسان کو سجدہ کی اجازت دیتا تو عورت کو اجازت دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے''
٭ حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے
'' قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو عورت اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کرتی وہ اپنے رب کی نافرمان ہے، اپنے رب کا حق ادا کرنا اس پر موقوف ہے کہ خاوند کا حق ادا کرے'' (ابن ماجہ)
٭ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے سرورِکائنات صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ''عورت خدا کا حق نہیں ادا کرتی جب تک وہ شوہر کا حق ادا نہ کرے '' (طبرانی)
٭ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سرورِ کائنات صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا ہے ''اگر شوہر پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹادینے کا حکم کرے تو اس کی تعمیل کی کوشش کرنی چاہیے'' (پہاڑ یقینا اپنی جگہ سے نہیں ہٹایا جا سکتا مگر دوچار پتھر ہٹاکر تعمیل ِحکم کی صورت تو پیدا کی جاسکتی ہے)
٭ ایک جگہ حضور صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا ''جو عورت اپنے خاوند سے ناراض رہتی ہے اس پر اللہ کی لعنت ہے ''
٭ دوسری جگہ ارشاد ہے ''جو عورت مرگئی ایسی حالت میں کہ اس کا خاوند اس کی زندگی میں خوش رہا وہ بلاشبہ جنت میں داخل ہوگی'' (ابن ماجہ)
٭ ایک جگہ ارشاد نبوی ہے ''اے عورت دیکھ ! بس تیری جنت اور دوزخ خاوند ہے'' ! !
یعنی عورت کے لیے خاوند کی خوشی میں جنت اور اس کی ناخوشی میں جہنم ہے !
٭ کہیں یہ فرمایا ہے ''سب سے اچھی عورت وہ ہے جسے دیکھ کر اس کا خاوند خوش ہو اور جب اسے حکم دے تو فوراً بجالائے اور ہر وقت شوہر کی رضا وخوشنودی میں لگی رہے اور اس کی عدم موجودگی میں اپنی عصمت اور خاوند کے مال کی حفاظت کرے'' (بیہقی و ابن ماجہ)
اس قسم کی اور بھی حدیثیں ہیں جن میں شوہر کی اطاعت کو نہ صرف دنیاوی فلاح بلکہ آخرت میں نجات اور مغفرت کے لیے بھی ضروری قرار دیا گیا ہے مگر یہ بات کبھی بھی فراموش نہ ہونی چاہیے کہ یہ اطاعت ان ہی امور میں لازم ہے جو شرعاً جائز اور مباح ہوں ! ناجائز اور غیر شرعی امور میں یہ حکم نہیں کیونکہ ضابطہ یہ ہے لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَةِ الْخَالِقْ یعنی ایسے کسی معاملہ میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ہے جس میں خالق کی نافرمانی ہوتی ہو ! !
اب کچھ واقعات ملاحظہ فرمائیے کہ مسلم خواتین ان احکامات کی تعمیل کس طرح کی ہے سب سے پہلے سیدة النساء حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی مثال لیجیے
(١) ایک ناز پروردہ، صاحب ِ دولت و ثروت خاتون جن کو ان کی عظیم الشان کامیاب تجارت کے باعث ''ملکہ عرب'' کہا جاتا تھا جب رسولِ خدا کے شرف ِ ازدواجی سے مشرف ہوئیں اور آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے کوہ ِ حرا کے غار میں گوشہ نشینی اختیار کی تو یہی ملکہ عرب تھیں جو سرکارِ دو عالم صلی اللہ عليہ وسلم کے لیے خود پا پیادہ پہاڑی پتھروں کو طے کرتے ہوئے غار تک جاتی تھیں ! ایثار و فدائیت کی شان یہ تھی کہ خود اپنے نوکروں یا باندی اور غلاموں کی امداد بھی گوارا نہیں تھی ! دعوت ِ تبلیغ کا سلسلہ شروع ہوا تو نہ صرف یہ کہ سب سے پہلے تسلیم واطاعت کے لیے سرِ نیا زخم کردیا بلکہ اپنی پوری دولت خدمت ِ دین کے لیے وقف کردی ! اور جب مخالفین ِ اسلام نے ہر طرف سے ہجوم کر کے رحمت دو عالم صلی اللہ عليہ وسلم کو ایذا پہنچانے میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کی تو یہی جا نثار خاتون تھیں جنہوں نے اپنے تمام وسائل آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کی ذاتِ اقدس کی راحت وآسانی کے لیے آڑ بنادیے ! !
(٢) حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا (اس وقت تک مسلمان عورتوں کا نکاح غیر مسلموں سے حرام نہیں ہوا تھا) جب غزوہ ٔ بدر پیش آیا تو ابو العاص جو اُس وقت تک کافر تھے مسلمانوں کے ہاتھ گرفتار ہوئے، حضرت زینب یعنی ایک مسلمان خاتون کی اپنے غیر مسلم شوہر کے لیے وفاداری ملاحظہ فرمائیے، جیسے ہی انہیں شوہر کی گرفتاری کا علم ہوا بے چین ہوگئیں اور جب معلوم ہوا کہ فدیہ لے کر چھوڑنے کا بھی قانون بنادیا گیا ہے تو اپنی ماں کی یادگار (سب سے زیادہ قیمتی ذخیرہ جو ان کے پاس تھا وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکا ہار تھا جو انہوں نے ان کو جہیز میں دیا تھا) اپنے شوہر کے فدیہ کے لیے سرکارِ دو عالم صلی اللہ عليہ وسلم کے دربار بھیج دیا، فدیہ منظور ہوا اور حضرت ابو العاص رہا ہوئے جو کچھ ہی عرصہ بعد حلقہ بگوشِ اسلام ہوگئے !
اس طرح کے واقعات تو بہت ہیں میں نے بطور ِ نمونہ کے یہ دو واقعات پیش کردیے
احترامِ بیوی :
اسلام سے پہلے جبکہ جاہلیت کا زمانہ تھا عورتوں کی عصمت وعفت کی کوئی قدر نہ تھی، باہمی رضا سے زنا کاری جائز تھی، معصوم لڑکیاں پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کردی جاتی تھیں ، تعدادِ ازدواج کی کوئی حد مقرر نہ تھی، عورت کو مساوی درجہ دینا انسان اپنے لیے توہین وہتک سمجھتا تھا اور اس کے لیے شوہر کی موت پر اس کے ساتھ ہی ستی ہونا لازم و ملزوم سمجھا جاتا تھا، المختصر یہ کہ عورت تفریح کا ایک آلہ اور بچہ پیدا کرنے کی مشین سے زیادہ قوت کی مالک نہ تھی ! !
یکایک ہادیٔ برحق مصلح اعظم اور رسولِ عربی کا ظہور ہوا آپ نے عورتوں سے ان مظالم کو دور کیا، آپ نے عورت کو ملوکیت کے درجہ سے نکال کر مالکیت کا درجہ بخشا اور اس کو پہلا شرعی وارث قرار دیا، تعدادِ ازدواج کی حد قائم کی، عقد بیوگان کا رواج دیا اور اعلان کیا کہ شوہر وبیوی دونوں کے ذمہ ایک دوسرے کے فرائض کی حدود مقرر ہیں پس دونوں کا فرض ہے کہ ان حدود کی پوری پوری رعایت کریں تاکہ پاک اور سعید زندگی گزرے ! اور ظلم و معصیت ہے اگر وہ ایک دوسرے کے حقوق کا پاس ولحاظ نہ کریں اور غفلت وتساہل برتیں ! عورت کا حق ہے کہ وہ نکاح کے وقت ایک رقم بطورِ مہر مقرر کرائے اور جس وقت چاہے شوہر سے طلب کرے اور ضروریاتِ زندگی کا پورا نفقہ اس سے وصول کرے ! اگر خاوند ظالم ہے دیوانہ ہے، مفقود الخبر(لاپتہ) ہے تو عورت کو حقِ علیحدگی کا اختیار حاصل ہے اس کو اجازت ہے کہ وہ ظالم شوہر سے نجات حاصل کر لے ! عورت ہی کی عزت واحترام کی خاطر مردوں سے کہا گیا ''اپنی عورتوں کو ناپسند نہ کرو، تمہیں کیا معلوم جس چیز کو ناپسند کرتے ہو اس میں تمہارے لیے بھلائی ہو''
مردوں پر عورتوں کے حقوق اسی طرح ہیں جس طرح ان کے حقوق ،عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو ! ان کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آؤ ان کو مضرت نہ پہنچاؤ، انہیں لٹکائے نہ رکھو ، ان کی خبرگیری کرو، مالدار اپنی حیثیت کے مطابق اور غریب اپنی طاقت کے بموجب عورتوں کے ساتھ سلوک کرے ! عورتیں تمہاری کھیتی ہیں اگر تعلقات نہیں نبھتے ہیں تو بیک وقت طلاق نہ دو تاکہ اگر اعادہ کرنا چاہو تو باآسانی کر سکو، اگر اختلاف ہو ہی جائے تو الگ کرنے میں ان کی عزت واحترام کا پورا لحاظ رکھو ان کو حسن وخوبی کے ساتھ رخصت کرو ! ! آپ کے مشہور اقوال یہ ہیں
(١) عورتوں کی عزت کرنے والا عزیزو کریم ہے، توہین کرنے والا ذلیل وبدبخت ہے !
(٢) دنیا کی بہترین دولت اَلْمَرْاَةُ صَالِحَة یعنی نیک بیوی ہے !
(٣) عورت اپنے خاوند کے گھر کی محافظ ہے اَلْمَرْأَةُ رَاعِیَة عَلٰی بَیْتِ زَوْجِہَا
(٤) عورتوں میں صورةً یا سیرةً کوئی عیب نہ نکالو نہ الزام اور نہ بہتان تراشو !
(٥) عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو اِتَّقُوا اللّٰہَ فِی النِّسَائِ
(٦) تم میں سے اچھا وہی ہے جو اپنے اہل و عورت کی نظر میں اچھا ہے اور اسے تم سے کوئی شکایت نہیں
خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہ وَخِیَارُکُمْ خِیَارُکُمْ لِنِسَائِ ہ
(ماخوذ از : ماہنامہ انوار مدینہ نومبر ، دسمبر ١٩٧٠ئ)
حضرت مولانا عبدالحق صاحب اکوڑوی
( مولانا محمد معاذ صاحب، فاضل جامعہ مدنیہ لاہور )
٭٭٭
حضرت مولانا عبدالحق اکوڑوی کی ولادت ٧ محرم الحرام ١٣٣٠ھ/ ٢٩ دسمبر ١٩١١ء بروز جمعہ اکوڑہ خٹک میں اذانِ فجر سے قبل ہوئی۔ مختصر شجرہ نسب یہ ہے : عبدالحق بن معروف گل بن میر آفتاب بن عبد الحمید
آپ کے والد ماجد الحاج معروف گل فقہی کتابوں کے ماہر تھے، ذریعہ معاش تجارت تھا جس سے مستحق طلبہ کی کفالت بھی فرمایا کرتے تھے۔ الحاج معروف گل، حاجی صاحب ترنگزئی کی تحریک ِجہاد کے سرگرم رکن تھے، آپ حاجی صاحب کی جانب سے کیے گئے اعلانات کو علاقہ میں عام فرماتے اور مجاہدین کے لیے چندہ بھی جمع کرتے تھے آپ کو انگریز اور انگریزیت سے سخت نفرت تھی اسی وجہ سے مولانا عبدالحق کو انگریزی پڑھائی سے دور رکھا ١
حضرت مولانا عبدالحق رحمہ اللہ کی ابتدائی تعلیم کے متعلق حضرت مولانا سمیع الحق شہید لکھتے ہیں
''دادی جان راوی ہیں کہ جب حضرت شیخ الحدیث چا رسال چار ماہ کے ہوئے تو آپ کی رسم ''بسم اللہ '' ادا کی گئی رَبِّ یَسِّرْ وَلَا تُعَسِّرْ وَتَمِّمْ بِالْخَیْرِ کہلواکر ا ب ت ث کا قاعدہ شروع کرایا گیا، بچپن میں بھی ذہن دینی تھا رسم بسم اللہ سے قبل بھی آپ مسجد جاتے اور نماز کی ہیئتیں بناتے اور نقلیں وغیرہ اتار لیا کرتے تھے ٢
قاعدہ کے بعد ناظرہ قرآنِ مجید والد صاحب اور کچھ والدہ صاحبہ سے پڑھا، ناظرہ قرآن مجید کے بعد پنج گنج وغیرہ فارسی کی تعلیم والد صاحب ہی سے حاصل کی۔ فارسی نظم کی کتب اور سکندر نامہ ساکن مسجد قصاباں سے پڑھیں ، اسی دوران دیگر علماء سے بھی حصولِ علم کرتے رہے جن میں مولانا عبدالقادر سے زنجانی پڑھی، اسی طرح لکھائی دو اساتذہ الحاج تاج محمد اور مولانا شیخ محمد عمر سے سیکھی، اب تک کی تعلیم آپ نے اکوڑہ ہی میں حاصل کی۔
١ ماہنا مہ الحق شیخ الحدیث نمبر مارچ ١٩٩٣ء ج ٢٨ ش ٦ ص ٢٣،٢٤ ٢ ایضاً ص ٤٦
اکوڑہ میں ابتدائی فنون حاصل کرنے کے بعد آ پ نے اس زمانے کے رواج کے مطابق سفر کیا، سب سے پہلا سفر موضع اکھوڑی ضلع کیمل پور کا تھا، یہاں آپ نے مولانا گوہر الدین سے صرف میر پڑھی ، اس کے بعد گوجر گڑھی مسجد ڈاک میں ابتدائی کتب پڑھیں ، یہاں سے آپ ملوگی ضلع کوہستان گئے اور کوہستانی مولوی صاحب سے کافیہ پڑھی آپ پانچ سال میں کافیہ پڑھاتے تھے۔ مولانا عبدالحق نے یہاں دو سال قیام کر کے کافیہ پڑھی ، کوہستان سے آپ جلالیہ علاقہ چھچھ تشریف لے گئے، یہاں مولانا عبداللہ جان سے شرح جامی اور شرح تہذیب پڑھی، اس کے بعد طورو ضلع مردان میں متعدد اساتذہ سے شرح جامی اور رسائلِ منطق پڑھیں پھر ترنگزئی میں بدیع الزماں ،امازو گڑھی میں چکیسر مولانا صاحب سے ''ملا حسن'' کا مقدمہ پڑھا ۔
علوم وفنون کی متوسط تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ کے والد صاحب نے آپ کو دارالعلوم دیوبند بھیجا، دیوبند پہنچنے پر معلوم ہوا کہ داخلہ بند ہوچکا ہے اس لیے آپ یہ سال متفرق مقامات میرٹھ، گلاؤٹھی اور امروہہ میں پڑھتے رہے، میرٹھ میں مولانا مشتاق احمد صاحب کانپوری سے حمد اللہ، حساب اور اُقلیدس پڑھی، ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ مولانا مشتاق احمد صاحب کانپوری کا تقرر مدرسہ عالیہ کلکتہ ہوا ،موصوف محشی حمد اللہ مولانا احمد حسن کا نپوری کے فرزند تھے اسی لیے مولانا عبدالحق صاحب ان سے استفادہ کے لیے کلکتہ چلے گئے اور مذکورہ کتب کے ساتھ ساتھ ہدایہ اوّلین بھی آپ سے بطورِ خاص پڑھی۔ ١
دیوبند آمد :
شوال ١٣٤٧ھ/ مارچ ١٩٢٩ء میں آپ دیوبند داخلے کے لیے تشریف لائے، داخلہ کا امتحان شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہوی نے لیا، ہدایہ اوّلین میں سے مسئلہ محاذات معلوم کیا آپ گھبرائے تو فرمایا مطالعہ کر کے مسئلہ سمجھا دو ،آپ کا داخلہ دار العلوم دیوبند میں ١٢ شوال ١٣٤٧ھ/ ٢٥ مارچ ١٩٢٩ء بروز پیر کو ہوا آپ کی سند ِفراغت پر درج ہے :
١ ماہنامہ الحق شیخ الحدیث نمبر رمضان ١٤١٣ھ/ مارچ ١٩٩٣ء ج ٢٨ ش ٦ ص ٢٥ و ٢٦
فان الاخ الصالح البار المولوی عبدالحق بن الحاج معروف گل المتوطن اکوڑھ من مضافات پشاور قد دخل ھذہ المدرسة العربیة الاسلامیة الدیوبندیة اللتی ھی مرکز علوم الدینیة و مدارھا و منھا تتفجر انھارھا و بحارھا لثانی عشر من شوال المکرم سنة سبع واربعین بعد الف وثلٰثمأة من الھجرة النبویة ............. ١
دارالعلوم دیوبند میں آپ کا قیام شوال ١٣٤٧ھ/ مارچ ١٩٢٩ء تا شعبان ١٣٥١ھ / دسمبر ١٩٣٢ء چار سال رہا ، دارالعلوم دیوبند میں آپ نے تفسیر، حدیث، اصولِ حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، عقائد، فرائض، علم معانی، مناظرہ، معقول اور تجوید، گیارہ علوم و فنون کی اٹھائیس کتابیں پڑھیں ، آپ کی تعلیمی کا رروائی ١٣٤٨ھ سے ١٣٥١ھ تک کی رودادوں میں ملتی ہے۔ ذیل میں ہم سال بہ سال کی وہ تفصیل درج کرتے ہیں جس سے اندازہ ہوگا کہ آپ دارالعلوم میں کس درجہ کے طالب علم تھے اور ان علوم و فنون میں آپ کے اساتذہ کون ہیں
١٣٤٨ھ (١٦٦ ، عبدالحق پشاوری) : ٢
کتاب اُستاذ حاصل کردہ نمبر
مختصر المعانی ٥١
تلخیص المفتاح ٥١
ہدایہ آخرین شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہوئی ٥٠
حسامی ٥٠
قاضی مبارک حضرت مولانا محمد رسول خان ہزار وی ٤٥
١ ماہنامہ الحق شیخ الحدیث نمبر رمضان ١٤١٣ھ/ مارچ ١٩٩٣ء ج ٢٨ ش ٦ ص ٣٨٧
٢ سالانہ روداد دارالعلوم دیوبند ١٣٤٨ھ ص١٩٨
١٣٤٩ھ (١٩٣ ، عبدالحق پشاوری) : ١
کتاب اُستاذ حاصل کردہ نمبر
شمس بازغہ حضرت مولانا محمد رسول خان ہزار وری ٥١
رشیدیہ حضرت مولانا محمد رسول خان ہزار وری ٥١
امورِ عامہ حضرت مولانا علامہ محمد ابراہیم بلیاوی ٥١
سراجی ٥٠
جلالین حضرت مولانا نبیہ حسن دیوبندی ٥٠
صدرا حضرت مولانا محمد رسول خان ہزار وری ٤٧
شرح عقائد جلالی حضرت مولانا محمد رسول خان ہزار وری ٤٦
انعامی کتب : تفسیر مدارک پارہ الم ،القاسم کا دارالعلوم نمبر، سیرة خاتم الانبیاء
١٣٥٠ھ (٩٩ ، عبدالحق پشاوری) : ٢
کتاب اُستاذ حاصل کردہ نمبر
توضیح تلویح حضرت مولانا علامہ محمد ابراہیم بلیاوی ٥٢
بیضاوی شریف حضرت مولانا اعزاز علی امروہوی ٥٠
شرح اشارات حضرت مولانا علامہ محمد ابراہیم بلیاوی ٥٠
نخبة الفکر حضرت مولانا عبدالسمیع دیوبندی ٥٠
مسلم الثبوت حضرت مولانا علامہ محمد ابراہیم بلیاوی ٤٨
مشکوة شریف حضرت مولانا عبدالسمیع دیوبندی ٤٥
١ سالانہ روداد دار العلوم دیوبند ١٣٤٩ھ ص ٢٢٤ ، ٢٢٥
٢ روداد دارالعلوم دیوبند ١٣٥٠ ص ١٩٦ ، مشاہیر علماء ج ٢ ص ٣١٩
١٣٥١ھ ( ٤ ، مولوی عبدالحق پشاوری ) : ١
کتاب اُستاذ حاصل کردہ نمبر
موطا امام محمد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی ٥٣
نسائی شریف حضرت مولانا محمد رسول خان ہزاروی ٢ ٥٢
طحاوی شریف حضرت مولانا محمد رسول خان ہزاروی ٥٢
ترمذی شریف حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی ٥٠
ابو داؤد شریف حضرت مولانا میاں اصغر حسین دیوبندی ٥٠
مسلم شریف حضرت مولانا علامہ محمد ابراہیم بلیاوی ٥٠
ابن ماجہ شریف حضرت مولانا ریاض الدین بجنوری ٣ ٥٠
شمائل ترمذی شریف حضرت مولانا اعزاز علی امروہوی ٥٠
موطا امام مالک حضرت مولانا اعزاز علی امروہوی ٥٠
بخاری شریف حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی ٤٧
اساتذہ کی یہ تفصیلات ماہنامہ ''الحق'' کے مولانا عبدالحق نمبر سے ماخوذ ہیں ، ایک آدھ کتاب جس کا تذکرہ حضرت موصوف سے رہ گیا اسے مشاہیر علماء جلددوم سے مولانا عبدالخالق ہزاروی کے تذکرہ سے مکمل کیاگیا ہے۔ مولانا عبدالخالق ہزاروی فہرست فضلائِ دیوبند کے مطابق آپ کے ہم جماعت ہیں
آگے چلنے سے قبل ایک وضاحت یہاں ضروری ہے کہ ماہنامہ الحق کے شیخ الحدیث نمبر ص ٥٨ پر مولانا عبدالحق نے ابن ماجہ شریف کے استاذ حضرت مولانا سیّد مرتضیٰ حسن چاند پوری کو لکھا ہے جبکہ مولانا عبدالخالق ہزاروی کے تذکرہ میں ابن ماجہ شریف حضرت مولانا مفتی ریاض الدین بجنوری کے نام لکھی ہوئی ہے ۔ اس تعارض کو حل کرنے کے لیے راقم الحروف نے دارالعلوم دیوبند کی ١٣٥٠ھ
١ روداد دارالعلوم دیوبند ١٣٥١ھ ص ٣٥٨ ٢ مشاہیر علماء ج ٢ ص ٣١٩ ٣ ایضاً
اور ١٣٥١ھ کی سالانہ روداد کو دیکھا ،١٣٥٠ھ کی روداد میں مولانا مرتضیٰ حسن صاحب کا نام اساتذہ میں موجود ہے لیکن اس کے ساتھ ایک وضاحت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا عبدالحق کے دورۂ حدیث کے سال (شوال ١٣٥٠ھ تا شعبان ١٣٥١ھ) آپ دارالعلوم میں مدرس نہیں تھے، روداد میں یوں درج ہے :
نمبر شمار نام عہدیداران نام عہدہ
٢ مولانا مولوی سیّد مرتضیٰ حسن صاحب ناظم تعلیمات
کیفیت : یکم رمضان سے خدمات دارالعلوم سے سبکدوش ہوئے ١
جبکہ روداد ١٣٥١ھ میں اساتذہ کی فہرست میں آپ کا نام تحریر ہی نہیں ٢
اب رہی بات یہ کہ مولانا عبدالحق صاحب نے ابن ماجہ شریف ان کے نام کیوں لکھی ؟ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ سالانہ روداد ذوالحجہ کے آخر میں طبع ہوتی تھی جبکہ اسباق شوال میں تقسیم ہوجاتے تھے۔ ممکن ہے ابن ماجہ شریف نقشہ میں مولانا مرتضیٰ حسن کے نام لکھی گئی ہو مگر ان کے نہ آنے کی وجہ سے جب سبق شروع ہوا تو مفتی ریاض الدین بجنوری نے سبق شروع کروادیا، مولانا عبدالحق صاحب نے اسباق کے اوّلین نقشہ سے اسباق کی تفصیل نقل کر لی ہو جسے بعد میں تبدیل کر کے نہ لکھا گیا ہو !
ناچیز کے اس خیال کی قوی دلیل یہ ہے کہ مولانا عبدالحق کی دی ہوئی تفصیل میں سنن نسائی اور مؤطا امام محمد کے اساتذہ بھی نہیں لکھے گئے، یہ کتب عموماً سال کے آخر میں بالترتیب سنن ابن ماجہ اور مؤطا امام مالک کے بعد ہوتی تھیں اس لیے حضرت مولانا عبدالحق نے اوّلین نقشہ کو لکھ لیا اور بعد کا نقشہ محفوظ ہونے سے رہ گیا ۔جن مدارس میں دورۂ حدیث ہے وہ اس ترتیب سے بخوبی واقف ہیں اس لیے بندہ کی رائے میں درست یہی ہے اور تاریخ بھی اس بات کی مؤید ہے کہ سنن ابن ماجہ مولانا سیّد مرتضیٰ حسن چاند پوری کے بجائے مولانا مفتی ریاض الدین بجنوری ہی نے پڑھائی ! !
١ نقشہ نمبر ١ مظہر تعداد اسمائِ مدرسین بابت ١٣٥٠ از سالانہ روداد دارالعلوم دیوبند ١٣٥٠ھ ص ١٩
٢ روداد دارالعلوم دیوبند ١٣٥١ھ ص ٢٢
حضرت مولانا عبدالحق دارالعلوم دیوبند کے باکمال طالب علم تھے، دارالعلوم میں کل امتحانی نمبر پچاس تھے جبکہ عالی استعداد طلبہ کو باون تریپن تک بھی دیے جاتے تھے، حضرت مولانا نے دیوبند کی چار سالہ طالب علمی میں اکثر کتابوں میں اعلیٰ نمبر حاصل کیے اسی لیے دارالعلوم دیوبند سے عطا کی گئی سند پر آپ کے بارے میں انتہائی وقیع رائے درج ہے :
وھو عندنا سلیم الطبع جید الفہم مرضی السیرة محمود السریرة ولہ مناسبة بالعلوم تامة یقدر بھا علی التدریس والافادة ان شاء اللّٰہ تعالٰی۔۔۔۔۔
دار العلوم دیوبند سے عطا کردہ سند نمبر ١٧١٥ ہے آپ کی سند پر تاریخ ٢٣ محرم ١٣٥٢ھ درج ہے سند دارالعلوم دیوبند کے بارے میں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ سند پر درج تاریخ ، اجرائے سند کی تاریخ ہوتی تھی نہ کہ سالِ فراغت کی۔
تدریس :
دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد مولانا عبدالحق کا ارادہ حکمت سیکھنے کا ہوا ! آپ نے اس کا اظہار والد صاحب سے کیا تو انہوں نے سخت خفگی کا اظہار کیا اور واپس آکر تدریس کرنے کاحکم دیا آپ دورانِ تعلیم میبذی اور تصریح جیسی مشکل کتب طلبہ کو پڑھاتے تھے، اس لیے دو طالب علم دیوبند ہی سے اکوڑہ آپ کے ساتھ پڑھنے کے لیے آگئے یوں اللہ تعالیٰ نے قدرتاً مدرسہ کا انتظام فرمایا، ابتدا ہی سے اونچی کتب مثلاً مشکوة شریف، جلالین شریف، صدرا ، میبذی اور نور الانوار جیسی کتابیں آپ کے زیرِ درس رہیں !
قریباً دس سال آپ اکوڑہ میں پڑھاتے رہے ،چونکہ قضا ء وقدر کو آپ کا فیض چہار دانگ عالم میں عام کرنا تھا اس لیے آپ کو دار العلوم دیوبند میں تدریس کی پیشکش ہوئی، دار العلوم پر یہ دور انتہائی کٹھن تھا ایک طرف صدر المدرسین حضرت مدنی پابند سلاسل تھے، دوسری طرف بعض کبار اساتذہ دارالعلوم سے مستعفی ہوگئے، آپ کی مدرسی کی کوشش آپ کے استاد گرامی حضرت مولانا عبدالسمیع دیوبندی نے کی، مستعفی اساتذہ ربیع الاوّل ١٣٦٢ھ میں دار العلوم سے چلے گئے تھے چنانچہ ربیع الاوّل ہی سے آپ سے رابطہ کیاگیا آپ کو اساتذہ کی جگہ پرپڑھانے میں پس پیش تھا یہ سال اسی طرح گزر گیا کہ شوال ١٣٦٢ھ میں مولانا عبدالسمیع دیوبندی کا شکوؤں بھرا خط پہنچا ، اس خط کو یہاں نقل کیا جاتا ہے جس سے معلوم ہوگاکہ آپ کی اساتذہ کی نظر میں کیا وقعت تھی :
برادر مکرم جناب مولوی عبدالحق صاحب زید عنایتکم
بعد سلام مسون آنکہ ! میں نے دو عریضے ارسال کیے مگر افسوس ہے کہ آپ نے ایک کا بھی جواب نہ دیا۔ خیر مَضٰی مَا مَضٰی اس وقت باعث تحریر یہ ہے کہ میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا اور اس کو پورا کیا، مگر آپ نے پہلو تہی فرمائی گزشتہ سال جناب مہتمم صاحب کو توجہ دلاکر اور پر زور سفارش کر کے آپ کو چند اشخاص سے ترجیح دلاکر خط میں نے بھی لکھا اور حضرت مہتمم صاحب نے بھی یاد فرمایا مگر آپ نے وقت گزاردیا اور تشریف نہ لائے ، اب بھی آپ کو حضرت مہتمم صاحب نے خط لکھا اور آپ نے تشریف آوری کا وعدہ بھی فرمایا مگر ٩ شوال گزر گئی اور آپ نہیں آئے اس سے مجھ کو نہایت شرمندگی ہوئی ، بنا بریں یہ عریضہ ارسال خدمت ہے !
آپ اس کو تار سمجھیں اور دیکھتے ہی فوراً روانہ ہوجائیں تنخواہ کی کمی بیشی کا کچھ خیال نہ فرمائیں اس وقت بھی مناسب تنخواہ پر آپ کو رکھ لیا جائے گا اور ان شاء اللہ جلد از جلد آپ کی ترقی کرادی جائے گی۔ ایسا وقت پھرہاتھ نہ آئے گا۔ آپ کو اعلیٰ اور وسطی درجے کے اسباق دئیے جائیں گے اور آپ کسی امر کا اندیشہ نہ فرمائیں آپ کے ہم عصروں کی درخواستیں آئی ہوئی ہیں اگر آپ تشریف نہ لائے تو ان میں سے کسی کا انتخاب کر لیا جائے گا اپنے والد صاحب بزرگوار سے میر اسلام منسون فرمادیں !
فقط والسلام عبدالسمیع عفی عنہ
دیوبند ٩ شوال ١٣٦٢ھ ١
١ ماہنامہ الحق ''عبدالحق نمبر'' مطبوعہ رمضان ١٤١٣ھ/ مارچ ١٩٩٣ء جلد ٢٨ ش ٦ ص ٧٦٨
شوال ١٣٦٢ھ/ ١٩٤٣ء میں آپ کا تقرر دار العلوم دیوبند میں ہوا۔ مولانا عبدالسمیع دیوبندی نے وعدہ وفا کیا اور آپ کو حدیث شریف میں طحاوی شریف کے ساتھ علوم وفنون کے اعلیٰ اسباق دلوائے۔ دار العلوم دیوبند میں تدریس کے متعلق مولانا عبدالحق اکوڑوی خود تحریر فرماتے ہیں :
''چار سال دار العلوم دیوبند میں تدریس کی اور تقریباً تمام بڑی کتب ِ درسیہ جلالین شریف، مشکوٰة شریف، طحاوی شریف ، ہدایہ اوّلیں ، مختصر المعانی ، مطول ، رشیدیہ ، حمد اللہ ، امورِ عامہ ، صدرا ، شمس بازغہ ، تصریح ، میبذی وغیرہ پڑھائیں '' ١
شعبان ١٣٦٦ھ/ جولائی ١٩٤٧ء میں آپ سالانہ تعطیلات میں گھر تشریف لائے اس دوران تقسیم ہند ہوا اور پاکستان معرض وجود میں آیا۔ تقسیم کے بعد آپ دار العلوم نہ جاسکے،کوشش بہت کی گئی مگر قضاء وقدر کو کچھ اور ہی منظور تھا ! !
دار العلوم حقانیہ کی بنیاد :
مولانا عبدالحق اکوڑوی کی سر کردگی میں '' مدرسہ تعلیم القرآن اکوڑہ خٹک'' پہلے سے چل رہا تھا اس ادارہ میں درجہ پرائمری تک ایسا نصاب قائم تھا جس سے درس نظامی کی ابتدائی کتب کو سمجھنے میں مدد ملے۔ طلبہ کو ابتدائی درس نظامی قریباً ''کافیہ'' تک پڑھا کر آپ انہیں اپنے ساتھ دیوبند لے جاتے
١٣٦٦ھ/١٩٤٧ء میں تقسیم ہند کی وجہ سے آپ نہ خود دارالعلوم جاسکے اور نہ ہی پاکستان میں رہ جانے والے طلبہ ! ان طلبہ کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ نے فیصلہ کیا کہ دارالعلوم دیوبند کے نصاب کے مطابق مدرسہ تعلیم القرآن کو ترقی دی جائے چنانچہ مسجدککے زئی میں مدرسہ کی ابتدا ہوئی جو بعد میں ایک وسیع عریض دارالعلوم کی شکل اختیار کر گیا۔
وجہ تسمیہ :
دارالعلوم حقانیہ نام کے متعلق مولانا سمیع الحق رقم طراز ہیں :
١ ماہنامہ الحق ''عبدالحق نمبر'' ص ٢٧
''اس وقت طالب علموں نے مسجد کی دیوار پر خود ''دارالعلوم حقانی'' لکھ دیا
جو بعد میں '' حقانیہ'' سے تبدیل ہوا ! اس نام کے مجوزین میں مولانا سیدگل بادشاہ طورو مرحوم سر فہرست تھے '' ١
دار العلوم میں تدریس کا آغاز ٢٧ ذیقعدہ ١٣٦٦ھ/ ١٩٤٧ء کو ہوا ٢ دار العلوم حقانیہ ان مدارس میں سے ہے جن کی ابتداء دورۂ حدیث سے ہوئی ! بہت سے ایسے طلبہ جو تقسیم کی وجہ سے دیوبند، سہارنپور یا دیگر مدارس میں نہ جاسکے تھے دورہ کے لیے آپ کی خدمت میں پہنچنا شروع ہوگئے۔
دار العلوم حقانیہ کے ابتدائی سالوں میں اساتذہ کی کمی تھی چنانچہ جن سالوں میں دوسرے اساتذہ میسر آجاتے تو دورہ کی کتب تقسیم ہوجاتیں ورنہ دورۂ حدیث کی کتب عشرہ ساری آپ ہی پڑھاتے ! مولانا گل رحمن صاحب دارالعلوم دیوبند کے سابقہ طالب علم اور دارالعلوم حقانیہ کے دوسرے سال کے فاضل تھے، آپ نے پروفیسر افضل رضا صاحب کو مولانا عبدالحق سے پڑھی کتب بتائی تھیں ، پروفیسر صاحب لکھتے ہیں :
''دار العلوم حقانیہ کے موجودہ ناظم مولانا گل رحمن صاحب نے راقم الحروف کو بتایا کہ ١٩٤٨ء میں حضرت شیخ بخاری شریف، ترمذی شریف، ابوداود، طحاوی اور موطائین پڑھایا کرتے تھے اس سال جامعہ اسلامیہ اکوڑہ خٹک کے مہتمم عالم دین اور روحانی پیشوا جناب سیّد بادشاہ گل صاحب بھی اعزازی طور پر دارالعلوم حقانیہ کے اساتذہ میں شامل ہوئے، دارالعلوم حقانیہ کے طلبہ آپ سے باباجی کی مسجد میں مسلم شریف پڑھنے کے لیے جاتے تھے '' ٣
اس سے اگلے سال مولانا عبدالحلیم صاحب زروبوی صدر المدرسین کا ١٥ شوال ١٣٦٩ھ کو دارالعلوم میں تقرر ہوا مگر خرابی صحت کی وجہ سے ٢٢ محرم ١٣٦٩ھ کو واپس تشریف لے گئے ٤ اس عرصہ میں مسلم شریف کا سبق آپ سے متعلق رہا، آپ کی واپسی پر دورہ کی تمام کتب مولانا عبدالحق صاحب نے مکمل کروائیں !
١ ماہنامہ الحق کا شیخ الحدیث نمبر ص ٥٠ ٢ ایضاً ص ٥٠ ٣ ایضاً ص ٤٦٥ ٤ حیات صدر المدرسین ص ٧٠
اسی طرح جب مولانا محمد علی سواتی ١٩٥٥ء میں ١ مفتی محمد فرید زروبوی ١٩٥٩ئ/ ٧٨ ١٣ھ میں ٢ اور مولانا عبدالحلیم زروبوی ٢٧ شوال ١٣٧٧ھ کو دوبارہ دار العلوم حقانیہ تشریف لائے تو دورہ کی کتب ان حضرات میں تقسیم ہوتی گئیں ۔ اس دوران مولانا عبدالحق کے پاس عموماً بخاری شریف وترمذی شریف رہی، پیرانہ سالی اور کثرت مشاغل کی وجہ سے آپ صحاح ستہ میں سے کسی نہ کسی کتاب کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور رکھتے چنانچہ مفتی غلام الرحمن صاحب مدظلہم کے دورۂ حدیث کے سال آپ نے ترمذی شریف میں سے صرف کتاب الحج پڑھائی مفتی صاحب مدظلہم لکھتے ہیں :
''دورۂ حدیث کے سال آپ کی تدریسی مصروفیت صرف اور صرف جامع ترمذی کی کتاب الحج تک محدود رہی وہ بھی سال بھر کچھ محدود اسباق پڑھائے '' ٣
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ آپ تادم زیست کسی نہ کسی انداز میں تدریس حدیث میں مصروف رہے
اندازِ تدریس :
مولانا سمیع الحق شہید ، حضرت مولانا عبدالحق کے طرز ِتدریس کے بارے میں لکھتے ہیں :
''حضرت شیخ الحدیث نے اس دور میں تدریس حدیث کے ان تمام شرائط و آداب اور خصوصیات کو شدت سے اپنایا جیسا کہ ان کے سلف اور اساتذہ ومشائخ کے ہاں معمول تھا ، ان کے درس حدیث کی ان خصوصیات اور امتیازی اوصاف کا اصل اندازہ تو وہی حضرات لگا سکتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے تلمذ اور ان سے استفادہ کا موقع دیا'' ٤
ذیل میں ہم مولانا سمیع الحق ہی کی تحریر کردہ حضرت مولانا کے محاسن ِدرس مختصراً نقل کرتے ہیں :
٭ حضرت کے درس کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ فن حدیث کے ادق سے ادق مباحث بھی پوری تفصیل واستقصا کے ساتھ انتہائی آسان، شستہ اور سلجھے ہوئے پیرائے میں بیان کرتے کہ غبی سے غبی طالب علم بھی اس سے محروم نہیں رہتا !
١ مشاہیر علماء ج ٢ ص ٢ روشن چراغ، آپ بیتی مفتی غلام الرحمن مدظلہم مطبوعہ العصر اکیڈیمی پشاور ص ١٦٣
٣ روشن چراغ ص ٢١٢ ٤ ماہنامہ الحق شیخ الحدیث نمبر ص٣٤٢
٭ حدیث کے تمام متعلقات، صرفی نحوی، بلاغتی مباحت، فنی تفصیلات، متن وسند کی ہر ہر چیز کی تشریح کا اہتمام فرماتے !
٭ ائمہ اربعہ کے مذاہب بالتفصیل بیان فرماکر ان کے دلائل ذکر فرماتے اس کے بعد احناف کی وجوہ ترجیح بیان فرماکر ایک ایک دلیل کا معقول وشافی جواب بایں طور عطا فرماتے کہ نہ صرف مذہب حنفیت اقرب اِلی الحدیث ہوجاتا بلکہ دوسرے ائمہ کی عظمت وجلالت ِعلمی کا بھی پورا پورا لحاظ رکھا جاتا !
٭ دورانِ درس عصر حاضر کے فتنوں کا تعاقب وتردید ،فرقِ باطلہ کی وضاحت، سیاسی اور اقتصادی ومعاشی مسائل بھی بیان فرماتے !
٭ ہر سند میں نبی کریم صلی اللہ عليہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اسماء گرامی کے ساتھ درود شریف اور ترضیہ (رضی اللہ عنہ ) پڑھنے کا خود بھی اہتمام فرماتے اور طلبہ سے بھی کرواتے !
٭ درس کا یہ تفصیل وتحقیقی انداز تمام سال چلتا البتہ سال کے آخر میں سبق کے اوقات میں اضافہ کردیا جاتا ١
تلامذہ :
حضرت مولانا عبدالحق کی تدریس حدیث کے دو دور ہیں : شوال ١٣٦٢ھ تا شعبان ١٣٦٦ھ دار العلوم دیوبند میں ، اس دوران آپ کے پاس مسلسل طحاوی شریف کا درس رہا، جبکہ دوسرا دور ذیقعدہ ١٣٦٦ھ سے وفات١٤٠٨ھ تک ہے۔ اس دوران بخاری، ترمذی کبھی مکمل اور کبھی بعض حصہ آپ کے زیرِ درس رہا۔ آپ کی تدریس کا دور چھیالیس سال پر محیط ہے، اس دور میں بڑے بڑے علماء نے آپ سے حدیث شریف پڑھی، ذیل میں ان میں سے چند حضرات کے نام لکھے جاتے ہیں :
٭ حضرت مولانا محمد عثمان صاحب شمس آبادی ہزاروی
٭ حضرت مولانا طاہر حسین صاحب مراد آبادی، استاذ الحدیث مدرسہ امداد الاسلام صدر بازار میرٹھ
٭ حضرت مولانا شمس الاسلام صاحب ہزاروی
٭ حضرت مولانا غلام ربانی صاحب ہزاروی ٢
٭ حضرت مولانا عبیداللہ صاحب انور لاہوری بن حضرت مولانا احمد علی صاحب لاہوری، شیرانوالہ
١ ماہنامہ الحق شیخ الحدیث نمبر ص٣٤٢ ٢ راقم الحروف کو آپ سے اجازتِ حدیث حاصل ہے والحمد للّٰہ
٭ حضرت مولانا نور احمد صاحب اکیابی کراچوی، ناظم اوّل دارالعلوم کراچی
٭ حضرت مولانا غلام محمد صاحب جالندھری، استاذ الحدیث دارالعلوم کراچی
٭ حضرت مولانا سیّد غازی شاہ ہزار وی، استاذ الحدیث والفنون جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور
٭ حضرت مولانا منظور الحق صاحب ملتانی ، استاذ الحدیث ومہتمم جامعہ دارالعلوم کبیر والا
٭ حضرت مولانا طاؤس کیمل پوری، مدرس جامعہ فریدیہ اسلام آباد
٭ حضرت مولانا شمیم احمد صاحب دیوبندی مدظلہم ،حال مقیم نزد معہد العلوم ناظم آباد کراچی
٭ حضرت مولانامفتی ولی حسن صاحب ٹونکی ، شیخ الحدیث جامعة العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
٭ حضرت مولانا معاذ الرحمن پشاوری ، استاذ الحدیث جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی
٭ حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب مظفر نگری ثم کراچوی ، بانی وشیخ الحدیث جامعہ فاروقیہ کراچی
و صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان
٭ حضرت عبدالستار صاحب تونسوی ڈیروی
٭ حضرت مولانا عبدالباری صاحب سندھی
٭ حضرت مولانا سیّد حامد میاں دیوبندی ثم لاہوری، بانی و شیخ الحدیث جامعہ مدنیہ قدیم وجدید
٭ حضرت مولانا محمد سالم صاحب قاسمی دیوبندی ، شیخ الحدیث ومہتمم دارالعلوم دیوبند وقف (فنون )
٭ فدائے ملت حضرت مولانا سیداَسعد صاحب مدنی ، صدر جمعیة علماء ہند
٭ حضرت مولانا عتیق الرحمن صاحب سنبھلی ، مدیر ماہنامہ الفرقان لکھنؤ
٭ حضرت مولانا سیّد عبدالشکور صاحب ترمذی ، شیخ الحدیث وبانی جامعہ حقانیہ ساہیوال
اب دارالعلوم حقانیہ کے زمانے کے فضلاء کے نام درج کیے جاتے ہیں :
٭ حضرت مولانا ظہور الحق صاحب دامانی ، استاذ الحدیث جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور
٭ حضرت مولانا سمیع الحق صاحب اکوڑوی ، استاذ الحدیث ومہتمم جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک
٭ حضرت مولانا انوار الحق صاحب مدظلہم ، شیخ الحدیث ومہتمم جامعہ دارالعلوم حقانیہ
٭ حضرت مولانا عبدالحلیم دیروی مدظلہم ، استاذ الحدیث دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک
٭ حضرت مولانا محمد صاحب ہاروت ، مدرس دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک
٭ حضرت مولانا فضل مولیٰ صاحب ہزاروی مدظلہم ، مہتمم جامعہ اسلامیہ دلبوڑی ضلع مانسہرہ
٭ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہم ، امیر مرکزیہ جمعیة علماء اسلام پاکستان
٭ حضرت مولانا مفتی غلام الرحمن صاحب مدظلہم ، شیخ الحدیث ومہتمم جامعہ عثمانیہ پشاور
٭ حضرت مولانا سیف اللہ حقانی صاحب مدظلہم ، اُستاذ الحدیث دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک
٭ حضرت مولانا عبدالقیوم صاحب حقانی مدظلہم، شیخ الحدیث مہتمم جامعہ ابوہریرہ نوشہرہ
٭ حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب فانی ، استاذ الحدیث دار العلوم حقانیہ پشاور
٭ حضرت مولانا شوکت صاحب
٭ حضرت مولانا پیر عزیز الرحمن صاحب ہزاروی ، خانقاہ زکریا ترنول موڑ اسلام آباد
یہ چند نام '' مشتے نمونہ از خرواے'' نقل کیے گئے ہیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کے تلامذہ کا حلقہ دنیا بھر میں دینی خدمات سر انجام دے رہا ہے ! !
وفات :
پیرانہ سالی اور مختلف عوارض آپ کو ایک عرصے سے لاحق تھے اسی دوران آپ کو دورانِ سر شروع ہوا تو ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا آپ کی بیماری کا سن کر تلامذہ اور عشاق کا تانتہ بندھ گیا، بیماری کی وجہ سے ڈاکٹروں نے ملاقات پر سختی سے پابندی لگا رکھی تھی مگر اخلاقِ کریمانہ کی وجہ سے آپ ہر آنے والے سے ملتے، اسی دوران بعض واقعات ایسے پیش آئے جن سے اندازہ ہوا کہ اب آپ بارگاہِ الٰہی میں حاضری کے لیے تیار ہیں بالآخر ١٢ صفر ١٤٠٨ھ / ٧ اکتوبر ١٩٨٨ئ/ بروز بدھ آپ کا انتقال ہوا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اگلے دن صاحبزادہ مولانا انوار الحق صاحب مدظلہم کی امامت میں ایک جم غفیر نے دارالعلوم حقانیہ کے احاطہ میں آپ کی نمازِ جنازہ پڑھی، آپ کی تدفین احاطہ دارالعلوم ہی میں درجہ حفط کی درس گاہوں سے متصل ہوئی رَحِمَہُ اللّٰہُ رَحْمَةً وَّاسِعَةً ض ض ض
امیرجمعیة علماء اسلام پنجاب کی جماعتی مصروفیات
( مولانا عکاشہ میاں صاحب، نائب مہتمم جامعہ مدنیہ جدید )
٭٭٭
١٣ شوال /١٢ اپریل کو جمعیة علماء اسلام صوبہ پنجاب کی صوبائی مجلس شوریٰ کا اجلاس امیر پنجاب شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب مدظلہم کی زیر صدارت جامعہ مدنیہ جدید میں منعقد ہوا اس میں صوبہ پنجاب کے تمام اضلاع کے امراء و نظماء نے شرکت کی اور اس میں حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد صاحب مدظلہم نے خصوصی طور پر شرکت فرمائی ۔ اس اجلاس میں پنجاب کی سیاسی،جماعتی اور تنظیمی صورت حال پر غور کیا جس میں اہم فیصلے کیے گئے ،دینی مدارس کے بل کے حوالے سے مشاورت ہوئی اسی طرح حکومت کی جو کسان دشمن پالیسیاں ہیں ، تعلیم اور صحت کے حوالے سے قراردادیں پاس کی گئیں اور اس کے ساتھ ساتھ صوبہ پنجاب میں علماء اور مساجد اور مدارس کو درپیش مسائل کے حوالے سے حکمت عملی بنائی گئی اور فلسطین اور غزہ کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے مارچ کی تیاریوں کا اعلان کیا گیا۔
١٩ اپریل کو جامعہ مدنیہ جدید میں جمعیة علماء اسلام پاکستان کی مرکزی مجلس عمومی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پورے پاکستان سے جمعیة علماء اسلام کے اراکین مجلس عمومی نے شرکت کی اور اس کی صدارت جمعیة علماء اسلام کے امیر قائد ملت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہم نے کی حضرت مولانا عبدالغفور صاحب حیدری، خواجہ خلیل احمد صاحب، چاروں صوبوں کے امراء اور نظماء نے شرکت کی ، دو دن جاری رہنے والا یہ اجلاس ٢٠ اپریل کو اختتام پذیر ہوا ۔
اخبار الجامعہ
( جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد رائیونڈ روڈ لاہور)
٭٭٭
١ ١ شوال المکرم ١٤٤٦ھ/١٠ اپریل ٢٠٢٥ء سے جامعہ مدنیہ جدید میں نئے تعلیمی سال کے داخلے شروع ہوئے اسی روز سے جامعہ میں تعلیم بھی شروع ہوگئی والحمد للّٰہ !
١٤ شوال المکرم ١٤٤٦ھ/١٣ اپریل ٢٠٢٥ء بروز اتوار بعد ازظہر جامعہ مدنیہ جدید کی مجلس شوریٰ کا سالانہ اجلاس منعقد ہواجس میں تعلیمی ، تعمیراتی اور مالیاتی امورپر باہمی مشاورت ہوئی ، تعلیمی ومالیاتی امور پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ارکانِ شورٰی نے اہلِ خیر حضرات سے تعمیراتی امور پر خصوصی توجہ دینے کی پر زور اپیل کی تاکہ مسجد حامد ، دارالاقامہ اور رہائشگاہوں کی تعمیر سے تعلیمی کارکردگی مزید بہتر ہوسکے، دعائے خیر پر اجلاس ختم ہوا، والحمد للّٰہ !
دعائے صحت کی اپیل
٭٭٭
امیر پنجاب جمعیة علماء اسلام شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ایک ماہ سے شدید علیل ہیں ،١٧ اپریل سے بحریہ انٹر نیشنل ہسپتال میں زیر علاج ہیں قارئین کرام سے حضرت کی صحت کے لیے دعائوں کی درخواست ہے ۔
جامعہ مدنیہ جدید کے استاذ الحدیث حضرت مولانامفتی محمد حسن صاحب مدظلہم ایک ماہ سے شدید علیل ہیں ،١٤ اپریل کوحضرت مفتی صاحب کا بحریہ انٹر نیشنل ہسپتال میں دل کا کامیاب آپریشن ہوا قارئین کرام سے حضرت مفتی صاحب کی صحت کے لیے دعائوں کی درخواست ہے ۔
٢٠ اپریل کو جامعہ مدنیہ جدیدمیں جمعیة علماء اسلام پاکستان کی مرکزی مجلس عمومی کے اجلاس سے فراغت کے بعد قائد جمعیة حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم ، شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب مدظلہم کی عیادت کے لیے بحریہ انٹرنیشنل ہسپتال بحریہ ٹائون تشریف لائے کچھ دیر قیام فرمایا اور آپ کی صحت یابی کے لیے دعا فرمائی بعد ازاں واپس تشریف لے گئے۔
٢٢ اپریل کو جنرل سیکرٹری جمعیة علماء اسلام حضرت مولانا عبدالغفور صاحب حیدری مدظلہم اور چیئرمین رویت ہلال کمیٹی حضرت مولانا عبدالخبیر صاحب آزاد مع رفقاء حضرت مولانا صاحب کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور آپ کی صحت یابی کے لیے دعا فرمائی۔
٢٥ اپریل کو ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ جناب ڈاکٹر اصغر صاحب مسعودی، حضرت صاحب کی عیادت کے لیے تشریف لائے امیر پنجاب کو گلدستہ پیش کیا بعد ازاں حضرت صاحب کے بیٹے مولانا عکاشہ میاں صاحب کو حضرت صاحب کے لیے قرآن کریم بھی پیش کیا ۔
٢٨ اپریل کو حضرت صاحب کے پتے کے آپریشن کا ابتدائی عمل ہوا
٢٨ اپریل کو قائد جمعیة حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہم ،شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب مدظلہم کی عیادت کے لیے بحریہ انٹرنیشنل ہسپتال تشریف لائے، بعد ازنمازمغرب واپس تشریف لے گئے۔اسی روز امیر جمعیة علماء اسلام ضلع ملتان مفتی عامر محمود صاحب بھی حضرت صاحب کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔
اسی طرح جمعیة علماء اسلام اور جامعہ مدنیہ جدید سے متعلقین حضرات ،حضرت مولانا صاحب کی عیادت کے لیے تشریف لاتے رہے اللہ تعالیٰ سب کی دعائوں کو قبول فرمائے اور حضرت صاحب کو جلد از جلد مکمل صحت یابی نصیب فرمائے ، آمین۔
ماہنامہ انوارِ مدینہ لاہور میں اشتہار دے کر آپ اپنے کاروبار کی تشہیر
اور دینی ادارہ کا تعاون ایک ساتھ کر سکتے ہیں !
نرخ نامہ
٭٭٭
بیرون ٹائٹل مکمل صفحہ 3000
اندرون رسالہ مکمل صفحہ 1000
اندرون ٹائٹل مکمل صفحہ 2000
اندرون رسالہ نصف صفحہ 500
جامعہ مدنیہ جدید و مسجد حامد
کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیجیے
٭٭٭
بانی ٔجامعہ حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب رحمہ اللہ نے جامعہ مدنیہ کی وسیع پیمانے پر ترقی کے لیے محمد آباد موضع پاجیاں (رائیونڈ روڈلاہور نزد چوک تبلیغی جلسہ گاہ) پر برلب ِسڑک جامعہ اور خانقاہ کے لیے تقریباً چوبیس ایکڑ رقبہ ١٩٨١ء میں خرید کیا تھا جہاں الحمد للہ تعلیم اور تعمیر دونوں کام بڑے پیمانہ پر جاری ہیں ! جامعہ اور مسجد کی تکمیل محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی طرف سے توفیق عطاء کیے گئے اہلِ خیر حضرات کی دعائوں اور تعاون سے ہوگی، اس مبارک کام میں آپ خود بھی خرچ کیجیے اور اپنے عزیزواقارب کو بھی ترغیب دیجیے ! ایک اندازے کے مطابق مسجد میں ایک نمازی کی جگہ پر پندرہ ہزار روپے(15000) لاگت آئے گی،حسب ِاستطاعت زیادہ سے زیادہ نمازیوں کی جگہ بنوا کر صدقہ ٔ جاریہ کا سامان فرمائیں !
منجانب
سیّد محمود میاں مہتمم جامعہ مدنیہ جدید و اراکین اورخدام خانقاہ ِحامدیہ
خطوط ،عطیات اور چیک بھیجنے کے لیے
٭٭٭
سیّد محمود میاں '' جامعہ مدنیہ جدید'' محمد آباد19 کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور
923334249302+
923334249301+
923234250027+
923454036960+
Email us your queries on jamiamadniajadeed@gmail.com you will be answered in less than 24 hours or Give us a call directly at +92 333 4249302, +92 333 4249 301.