Anwar-e-Madina

ماہنامہ انوار مدینہ

2025 نومبر‬

jamiamadnijadeed

ماہنامہ انوار مدينہ
جلد : ٣٣ جمادی الاولیٰ ١٤٤٧ھ / نومبر ٢٠٢٥ء شمارہ : ١١
٭٭٭
بیاد : قطب الاقطاب عالم ربانی محدث کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں
فیضانِ نظر : محمود الملّة و الدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب
٭٭٭
مولانا نعیم الدین صاحب ( مدیر اعلیٰ )
مولانا محمد عابد صاحب ( نائب مدیر)
مولانا عکاشہ میاں صاحب(مدیر مسئول)
ڈاکٹر محمد امجد صاحب (مدیر منتظم)
٭٭٭




بدلِ اشتراک
٭٭٭
پاکستان فی پرچہ 50 روپے ....... سالانہ 600 روپے
سعودی عرب،متحدہ عرب امارات..... سالانہ 90 ریال
برطانیہ،افریقہ ........................ سالانہ 20 ڈالر
امریکہ .................................. سالانہ 30 ڈالر




جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ اور ای میل ایڈ ریس
٭٭٭
www.jamiamadniajadeed.org
jmj786_56@hotmail.com
Whatsapp : +92 333 4249302




ترسیل ِزر و رابطہ کے لیے
٭٭٭
'' جامعہ مدنیہ جدید'' محمد آباد19 کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور
رابطہ نمبر : 923334249302+
موبائل : 923334249301+
موبائل : 923234250027+
جازکیش نمبر : 923044587751+




دارُالافتاء کا ای میل ایڈ ریس اور وٹس ایپ نمبر
٭٭٭
darulifta@jamiamadniajadeed.org
Whatsapp : +92 321 4790560




مولاناسیّد رشید میاں صاحب طابع وناشر نے شرکت پرنٹنگ پریس لاہور سے چھپواکر دفتر ماہنامہ ''انوارِ مدینہ '' نزد جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور سے شائع کیا




اس شمارے میں
٭٭٭
حرفِ آغاز حضرت مولانا نعیم الدین صاحب ٤
درسِ حدیث حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ١٠
سیرت ِ مبارکہ ... عرب قبلِ اسلام اپنے آئینے میں حضرت اقدس مولانا سید محمد میاں صاحب ١٥
فراست ِ مومن قسط : ١ حضرت مولانا اعزاز علی صاحب ٢٨
مقالاتِ حامدیہ ... صرف امام اور منفرد ہی کا سورہ ٔفاتحہ پڑھنا اور اس کے دلائل قسط : ١ حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ٣٧
رحمن کے خاص بندے قسط : ٣٦ حضرت مولانا مفتی محمد سلمان صاحب منصورپوری ٤٥
محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی نجی زندگی حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ٥٢
اہم اعلان ٦٠
دارالافتاء حضرت مولانا مفتی محمد زبیر صاحب ٦١
اخبار الجامعہ ٦٣
وفیات ٦٥




حرفِ آغاز
٭٭٭
نَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْدُ !
دنیا بھر میں امت مسلمہ اس وقت ایک کٹھن دور سے گزر رہی ہے، مشرق و مغرب میں مسلمانوں پر ظلم و جبر، محرومی اور ناانصافی کی خبریں روزانہ ہمارے دلوں کو زخمی کرتی رہتی ہیں ! کہیں ظلم کے طوفان ہیں ، کہیں معاشی بحران اور کہیں اخلاقی زوال نے معاشرے کو کمزور کر دیا ہے ! ان حالات میں ہر صاحب ِایمان کے دل میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ ہم کیا کریں ؟
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ایک ایسا اصولی قانون بیان فرمایا ہے جو قوموں کے عروج و زوال کا فیصلہ کرتا ہے :
( اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ ) ( سورة الرعد: ١١ )
''بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں ''
ملک عزیز پاکستان میں ، سیاسی و سماجی حالات جس الجھن کا شکار ہیں وہ دراصل اسی تبدیلی کی کمی کا نتیجہ ہیں جو انسان اپنے اندر پیدا نہیں کرتا لہٰذایہ آیت ِمبارکہ آج کے حالات میں ہمارے لیے آئینہ ہے۔
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے حالات، نئی طاقتوں کا ابھار، پرانی قوتوں کی کمزوری اور معاشی و سماجی چیلنجز نے ایک نیا عالمی نقشہ تشکیل دیا ہے۔ ایسے میں ہر ملک، ہر قوم اور ہر فرد کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ ان حالات کو سمجھ کر اپنی ذمہ داریوں کا تعین کرے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے تو یہ موضوع اور بھی اہم ہے کیونکہ ہمارا مستقبل ان ہی فیصلوں پر منحصر ہے جو ہم آج کے حالات میں کرتے ہیں !
پاکستان کے اندرونی حالات میں گزشتہ چند برسوں سے سیاسی عدم استحکام نمایاں رہا ہے، مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان کشمکش، حکومتوں کی تبدیلی اور اداروں کے درمیان عدم ہم آہنگی نے ملک کے معاشی اور سماجی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے۔ عوام میں مایوسی اور بے یقینی کی فضا پیدا ہوئی ہے، مہنگائی، بے روزگاری اور بدعنوانی جیسے مسائل نے عوامی اعتماد کو کمزور کیا ہے !
ہمیں بطور شہری یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاست صرف سیاستدانوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے، شفافیت، دیانت داری اور قومی مفاد کو ترجیح دینا ہر پاکستانی کا فرض ہے۔
پاکستان میں اس وقت ایک اتحادی حکومت برسرِ اقتدار ہے۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف کی قیادت میں مختلف سیاسی جماعتوں نے مل کر اقتدار سنبھالا ہے، جبکہ دوسری طرف اپوزیشن بالخصوص تحریک ِانصاف حکومتی پالیسیوں پر تنقید کر رہی ہے ! سیاسی اختلاف ِرائے جمہوریت کا حسن ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اختلاف عداوت، الزام تراشی اور نفرت میں بدل گیا ہے ! اسلامی تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ اختلافِ رائے فساد نہیں بلکہ اگر عدل اور خیر کی نیت سے ہو تو باعث ِرحمت ہے ! !
آج ملک کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ سیاسی انتقام یا لسانی تقسیم نہیں بلکہ عدل، اخلاص اور قومی اتفاق ہے۔ عوام کے مسائل مہنگائی، بے روزگاری، انصاف کی کمی ان سب کا حل صرف دیانت اور امانت کے ساتھ ممکن ہے ! !
یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ ملک کو آج جن مسائل کا سامنا ہے، وہ صرف کسی ایک حکومت یا جماعت کے پیدا کردہ نہیں بلکہ برسوں کی کمزوریوں اور غلط فیصلوں کا نتیجہ ہیں ! معاشی بحران، مہنگائی، بے روزگاری اور عوامی مسائل نے عام شہری کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں سیاستدانوں کے درمیان اختلافات اور ایک دوسرے پر الزام تراشی عوام کے دکھوں میں مزید اضافہ کر رہی ہے ! ملک کے سیاسی حالات پر نظر ڈالیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اب ہمیں الزامات اور احتجاج سے آگے بڑھ کر عملی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ! !
حکومت کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ عوامی اعتماد بحال کرے، عدل و انصاف کے نظام کو مضبوط بنائے اور معیشت کو بہتر سمت میں لے جائے۔ دوسری جانب اپوزیشن کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صرف تنقید پر اکتفا نہ کرے بلکہ تعمیری تجاویز دے تاکہ ملک آگے بڑھ سکے ! !
افسوس کہ سیاسی قیادت کے درمیان تعاون و برداشت کی فضا کمزور پڑ گئی ہے۔ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات سے دوچار ہیں ! ایسے حالات میں الزام تراشی، نفرت انگیز گفتگو اور تعصب پر مبنی سیاست ملک کے زخموں کو مزید گہرا کر رہی ہے ! اسلام ہمیں اتحاد، انصاف اور خیر خواہی کا سبق دیتا ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ عليہ وسلم کا ارشاد ہے :
اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہ وَ یَدِہ ١
''مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ''
یہ حدیث شریف ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سیاست ہو یا معاشرت، ہمارا طرزِ عمل ہمیشہ عدل، نرمی اور اصلاح پر مبنی ہونا چاہیے۔
مسلمان ممالک کی کمزوری کا بڑا سبب یہی ہے کہ ہم نے قرآنی اصولِ وحدت کو چھوڑ دیا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
( وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلاَ تَفَرَّقُوْا ) ٢
''اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو''
١ صحیح البخاری کتاب الایمان رقم الحدیث ١٠ ٢ سورۂ آلِ عمران : ١٠٣
اگر امت ِمسلمہ قرآن و سنت کے اصولوں پر مجتمع ہو جائے تو کوئی عالمی طاقت ہمیں کمزور نہیں کر سکتی ! پاکستان کو چاہیے کہ اپنی خارجہ پالیسی میں اسلامی اخوت ، غیر جانب داری اور خود داری کو بنیاد بنائے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاست صرف حکمرانوں کا میدان نہیں بلکہ یہ پوری امت کی اجتماعی امانت ہے رسولِ اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْل عَنْ رَعِیَّتِہ ١
''تم میں سے ہر ایک(اپنے ماتحتوں پر) نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا''
اس فرمانِ نبوی صلی اللہ عليہ وسلم کے مطابق ہم سب سے وطن، قوم اور امت کے بارے میں سوال ہوگا ! ہمیں اپنے عمل، گفتار اور روّیوں میں سچائی، امانت اور عدل کو جگہ دینی ہوگی ! علما و دینی اداروں کا فریضہ ہے کہ وہ نوجوان نسل کو اصلاح، اتحاد اور شعور کی تعلیم دیں تاکہ معاشرہ فکری طور پر مستحکم ہو سکے !
عالمی سیاست میں بھی ایک ہلچل جاری ہے،طاقت کا توازن اور حالات تیزی سے بدل رہے ہیں ، مشرقِ وسطی میں جاری تنازعات، فلسطین پر ظلم، کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور عالمی طاقتوں کی دوغلی پالیسیاں ان سب نے دنیا کو اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے ! یوکرین جنگ، چین اور امریکہ کے درمیان معاشی و عسکری مقابلہ نے عالمی سیاست کو پیچیدہ بنا دیاہے نیز اقوامِ متحدہ کے کردار میں کمزوری یہ سب دنیا کے امن اور استحکام پر اثر انداز ہو رہے ہیں ! !
اس کے ساتھ ساتھ، دنیا اب روایتی جنگوں کے بجائے معاشی، سائنسی اور ڈیجیٹل میدانوں میں برتری حاصل کرنے کی دوڑ میں ہے۔ آرٹی فیشل انٹیلی جنس(Artificial Intelligence)، توانائی کے نئے ذرائع اور عالمی تجارت کے نئے اصول اس صدی کے اصل محاذ ہیں ۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو توازن ،خود مختاری اور قومی مفاد کے اصولوں پر استوار کرے نیز تمام ممالک کے ساتھ تعلقات میں حکمت اور اعتدال کی راہ اختیار کرے، کسی ایک بلاک کا اندھا دھند حصہ بننے کے بجائے اپنے قومی مفاد اور خودمختاری کو ترجیح دے ! !
١ صحیح البخاری کتاب النکاح رقم الحدیث ٥٢٠٠
ایسے حالات میں ایک باشعور قوم بننا ہی سب سے بڑی ضرورت ہے ! ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ قومی ترقی صرف حکومتوں کی تبدیلی سے نہیں بلکہ روّیوں کی تبدیلی سے آتی ہے ! !
یہ وقت محض تنقید یا مایوسی کا نہیں بلکہ قومی شعور اور اجتماعی ذمہ داری کا ہے ! سیاستدان اپنی جگہ مگر عوام کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ملک صرف حکمرانوں سے نہیں بنتا ،عوام کی بیداری، ایمانداری اور ذمہ داری ہی قوموں کو مضبوط بناتی ہے ! لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم
(١) قانون کی پاسداری کریں اور دوسروں کی رائے کا احترام سیکھیں !
(٢) سیاست میں سچائی، دیانت، اور عدل کی بات کو عام کریں !
(٣) جھوٹ، منافقت اور تعصب پر مبنی سیاست سے گریز کریں !
(٤) میڈیا اور سوشل میڈیا کے استعمال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ افواہوں کے بجائے سچائی کو
فروغ ملے !
(٥) سوشل میڈیا پر بدزبان بحثوں کے بجائے خیر کی بات پھیلائیں !
(٦) منفی روّیوں کے بجائے مثبت گفتگو اور فہم و فراست کو فروغ دیں !
(٧) اپنے نوجوانوں کو شعور، صبر اور برداشت سکھائیں !
(٨) نوجوان نسل کو تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کریں !
(٩) دینی ادارے، علماء کرام، اساتذہ اور طلبہ سب اس فکری و اخلاقی بیداری میں اپنا کردار ادا کریں !
(١٠) محض تماشائی نہ بنیں بلکہ اصلاح کے عمل میں حصہ لیں !
(١١) اور سب سے بڑھ کر دعا اور عمل کے ساتھ ملک کے لیے خیر مانگیں !
موجودہ ملکی و بین الاقوامی حالات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ اگر ہم نے دانشمندی، اتحاد اور دیانت داری کے ساتھ اپنے کردار کا تعین نہ کیا تو ہم تاریخ کے حاشیے پر چلے جائیں گے ! لیکن اگر ہم نے اپنی ذمہ داری کو پہچان لیا تو پاکستان نہ صرف اندرونی استحکام حاصل کرے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک باوقار اور مضبوط ریاست کے طور پر ابھر سکتا ہے ! موجودہ وقت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم اختلافات کو بھلا کر ایک قوم کی طرح سوچیں اور اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں فعال کردار ادا کریں ! !
پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ اتحاد، استحکام اور دیانتدار قیادت کی ضرورت ہے ! اگر سیاسی قوتیں ذاتی مفاد کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دیں تو ترقی اور خوشحالی کے دروازے خود بخود کھل جائیں گے ! !
قوموں کی تاریخ بتاتی ہے کہ بحران ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آتے ! شرط یہ ہے کہ ہم ان سے سبق سیکھیں ! آج ہمیں مایوسی نہیں بلکہ یقین، امید اور عمل کا راستہ اپنانا ہے ! یہی ہماری اصل ذمہ داری ہے اور یہی پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت بھی ہے ! !
محترم قارئین ِکرام ! دنیاوی سیاست کے شور و غوغا میں ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ حقیقی کامیابی اقتدار یا حکومت میں نہیں بلکہ اللہ کی رضا اور امانت کی ادائیگی میں ہے۔ آج کے دور میں اگر ہم صداقت، دیانت اور عدل کو چھوڑ دیں تو ہماری عبادتیں اور دعائیں بھی وہ اثر پیدا نہیں کر سکتیں جو ایک صالح کردار سے پیدا ہوتا ہے ! !
ہم اپنے قارئین سے مودبانہ گزارش کرتے ہیں کہ وہ حالاتِ حاضرہ پر صرف شکایت یا مایوسی کے زاویے سے نہ دیکھیں بلکہ اپنے دلوں اور عمل میں تبدیلی لائیں ! ہر فرد اپنے حصے کی نیکی، سچائی اور خیر خواہی کا چراغ جلائے ! یہی چراغ مل کر قوموں کے مقدر کو روشن کرتے ہیں ! !
ادارہ دعاگو ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے وطنِ عزیز پاکستان کو امن، عدل اور اتفاق کی برکتوں سے نوازے،ہمارے قائدین کو اخلاصِ نیت عطا فرمائے اور ہمیں سچائی، خدمت ِخلق اور دین کی سربلندی کے راستے پر ثابت قدم رکھے، آمین
اخو کم فی اللّٰہ
نعیم الدین
٤ جمادَی الاولیٰ ١٤٤٧ھ/٢٧ اکتوبر ٢٠٢٥ئ




درسِ حدیث آغاز
٭٭٭
قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ
کا مجلس ِذکر کے بعد درسِ حدیث ''خانقاہِ حامدیہ چشتیہ'' شارع رائیونڈ لاہور کے زیرِانتظام ماہنامہ '' انوارِ مدینہ'' کے ذریعہ ہر ماہ حضرت اقدس کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کے اس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے،آمین۔ (ادارہ)
٭٭٭
برائی کرنے والے رشتہ دار کے ساتھ بھی اچھائی کرنا ضروری ہے
قسم صرف '' اللّٰہ'' کی کھائی جائے گی
(درسِ حدیث نمبر٢٠ ٦ صفر المظفر ١٤٠٢ھ/٤ دسمبر ١٩٨١ئ)
٭٭٭
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا
مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ !
جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے رہن سہن کے مسائل، آپس کی معاشرت کی باتیں یہ سب بتلائی ہیں ایک صحابی جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ مسئلہ پوچھا کہ میرا چچا زاد بھائی ہے میں اس کے پاس جاتا ہوں (مانگتا ہوں تو) مجھے وہ کچھ دیتا ہی نہیں اور تعلق رکھنا جسے کہتے ہیں ،وہ بھی نہیں رکھتا، صلہ رحمی بھی نہیں کہ جیسے میں اس کا رشتہ دار ہوں بھائی ہوں تو میری طرف اس کی کوئی توجہ ہو، کوئی تعلق ہو اسے میرے سے، ایسی بھی بات نہیں ہے !
اور ایسا بہت ہوتا ہے دوستوں کے ساتھ دوستی چلتی رہتی ہے اور رشتے داروں سے رشتے داری نہیں نبھائی جاتی وہ سخت ہوجاتے ہیں ! تو انہوں نے یہ بتایا کہ ایک دور ایسا تھا کہ اس نے میرے ساتھ یہ معاملہ رکھا، وہ دور گزرگیا ! تو پھر یہ ہوگیا کہ میرے حالات اچھے ہوگئے وہ ضرورت مند ہوگیا وہ میرے پاس آتا ہے مجھ سے مانگتا ہے ، میں نے یہ قسم کھالی تھی کہ اَنْ لَّا اُعْطِیَہ وَلَا اَصِلَہ
کہ جیسے اس نے مجھے نہیں دیا تھا اسے بھی میں ایک کوڑی نہیں دوں گاچاہے کتنا بھی یہ مانگتا رہے اور چاہے کتنا بھی ضرورت مند ہو اور نہ میں اس کے پاس جائوں گا وَلَااَصِلَہ اس سے صلہ رحمی یعنی رشتہ قائم رکھنا، جانا آنا وہ بھی میں نہیں کروں گا ! یہ میں نے قسم کھالی ہے تو میں کیا کروں اب ؟
اب وہ میرے پاس آتا ہے تو دو ہی صورتیں ہیں یا تو میں اپنی قسم پر قائم رہوں یا یہ ہے کہ میں اپنی قسم توڑوں ؟ تو اشکال یہ تھا کہ ایک طرف قسم کھاچکا ہوں دوسری طرف وہ آتا ہے تو قسم کھائی ہے غصہ میں لیکن جب دوسرا بھائی آتا ہے اور وہ ضرورت اپنی ظاہر کرتا ہے تو دل میں نرمی بھی آتی ضرور ہے تو اس اشکال میں یہ مبتلا ہوئے تو حاضر خدمت ہوئے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم سے عرض کیا اب یہ ایک معاملہ ہے گھریلو جیسے ہوتا ہے، تنازعہ نجی قسم کا، اس میں ہماری گو رنمنٹ میں کوئی قانون نہیں ہے کہ کیا کیا جائے ؟ ! اَور کسی مذہب میں شاید ایسی مثال ہو، مذہبوں میں تو بہت ہی کم چیزیں ہیں یہ تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کو قائم رکھا ہے اور رہے گا اور اس پر عمل کرنے والے بھی رہیں گے، تو بہت سے لوگ آپ ایسے دیکھیں گے جن کے سامنے اپنی آخرت ہے وہ پوچھتے ہیں آکر مسئلہ اور وہ اس پر چلتے ہیں ! اور اگر نہیں آتا تو اور کہیں سن لیتے ہیں تو اس پر عمل بھی کرتے ہیں اس واسطے دین آج تک زندہ بھی ہے شکلا ًبھی، عملاً بھی زندہ ملے گا مگر افراد میں ! حکومت اگر ہوجائے صحیح طرح تو پھر بہت لوگ مل جائیں گے اور اگر حکومت نہیں ہے تو افراد ہیں ضرور، اسلام بہرحال زندہ ہے نمونے اس کے زندہ ہیں اور ایسے ایسے لوگ ملتے ہیں بالکل دنیا دار مگر اندر سے وہ دیندار ہوتے چلے جاتے ہیں ، دین کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں ، دنیا چھوڑدی سب ! !
قسم توڑ کر رشتہ دار کے ساتھ حسن ِ سلوک کرو :
تو دریافت کیا کہ میں کیا کروں ؟ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ جو بہتر ہے جس میں ثواب ہے وہی کام کرو اور قسم ٹوٹتی ہے تو توڑدو ! کیونکہ قسم توڑنے کے بعد جو سزا ہوتی ہے وہ اللہ نے بتارکھی ہے اور وہ اسی لیے بتائی ہے کہ کبھی کبھی ضرورت پڑجاتی ہے قسم توڑنے کی اور ضرورت جہاں پڑتی ہے وہ یہی جگہ ہے ایسے کہ غلط قسم کھا بیٹھا ہے بعد میں اس سے پچھتارہا ہے، انسان ہے، تو اللہ تعالیٰ نے وہی طریقہ بتلایا ! ! صرف '' اللّٰہ'' کی قسم :
تو اور چیزوں کی تو قسم ہوتی بھی نہیں ، جان کی قسم اور فلاں کی قسم اور یہ اور وہ، یہ تو منع ہی ہے، اس میں دو خرابیاں ہیں ایک تو یہ کہ غیر اللہ کا نام قسم میں لینا منع کیا گیا ہے کہ اللہ کے سوا باقی کسی کی قسم نہ لی جائے (کسی اور کا) نام نہ لیا جائے اور جو ایسے جملے ہیں انہیں کہا جائے گا کہ تاکید کے لیے ہیں ، میری جان کی قسم اور فلاں کی قسم اور تمہاری جان کی قسم یہ تاکید کے لیے ہیں ! اس سے فائدہ اتنا ہی حاصل ہوگا کہ تاکید ہوگئی اور مضمون میں زور پیدا ہوگیا اس کے علاوہ کوئی فائدہ اس میں نہیں ہے وہ قسم نہیں کہلائے گی ! قسم وہی کہلائے گی جو خدا کا نام لے کر ہو تو جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے حکم فرمایا اَنْ اٰتِی الَّذِیْ ھُوَ خَیْر وَّ اُکَفِّرَ عَنْ یَّمِیْنِیْْ ١ قسم کا تو دو کفارہ اور جو قاعدہ اور جو نیکی اللہ نے بتلائی ہے وہ کرو ! اس میں کفارہ جو ہے وہ اس گناہ کا کفارہ ہوگیا جو قسم توڑنے کا گناہ ہوا تھا اور اس کا (طریقہ) اللہ نے بتلادیا کہ یہ کفارہ ہے !
قسم کاکفارہ کیا ہے اور کیوں دیا جاتا ہے ؟
قسم توڑی تو گویا اللہ کے نام کی ایک طرح کی بے حرمتی سی ہوئی مگر یہ بے حرمتی خدا کے حکم کے تحت ہوئی کہ اللہ نے بتلایا نیکی کرو، برائی پر قائم نہ رہو ! اس حکم کے تحت یہ بے حرمتی کرنی پڑی اسے تو اس بے حرمتی کو بے حرمتی نہیں کہا جائے گا اور اس بے احتیاطی کو یا زبان کی سبقت کو یا انسانی جذبات کی وجہ سے غلبے میں آکر بات کرنے کو اللہ تعالیٰ نے ایک طرح کا قابلِ سزا گناہ بتایا ! !
سزا اس کی یہ ہے کہ وہ کفارہ دے ! وہ کفارہ بھی خدا ہی کے نام کا ہوگا ! قسم بھی خدا ہی کے نام کی تھی تو جو کفارہ دے گا وہ بھی خدا ہی کے لیے کرے گا ! اور اگر بالکل پیسے نہیں ہیں کچھ بھی نہیں ہے تو کفارہ پھر اس طرح کرے گا کہ اپنی جان (خرچ کرے گا یعنی) روزے رکھے گا ! یہ کفارہ ہوگا اس کا بہرحال ، یا یہ ہے کہ وہ کسی (بھی) وقت دے دے کچھ (یا کسی بھی وقت) دس مسکینوں کو کھانا کھلادے !
١ مشکوة المصابیح کتاب العتق باب الایمان و النذور رقم الحدیث ٣٤٢٥
نبی علیہ السلام اور ابوبکر نے بھی کفارہ دیا :
حضرت صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ کا بھی ایسا قصہ گزرا ہے ! خود جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کا بھی ایسا قصہ گزرا ہے ! حضرت ابوموسٰی اشعری نے مانگا کہ ہمیں سواری چاہیے ! مزاج مبارک پر اس وقت کوئی خفگی تھی، فرمایا میں نہیں دوں گا سواری اور وَاللّٰہِ لَا اَحْمِلُکُمْ فرمایا ! تو یہ چلے گئے ! تھوڑی دیر بعد آدمی آیا بلانے کہ آئو اور لے لو یہ ، اس وقت تھے نہیں پھر کہیں سے جانور آگئے، آپ نے بلالیا لو لے جائو ! اب حضرت ابو موسٰی لے آئے ،یہ نہیں کہا کہ آپ نے تو حضرت یہ فرمایا تھا (بے ادبی سمجھی بات کرنی) پھر آکر سوچتے رہے کہ کیا بات ہوئی ہے وجہ کیا تھی قسماً فرمایا تھا اور پھر ہمیں دے دی ؟ ! اگر یہ بات ایسے ہوئی ہے کہ کسی طرح سے غفلت ہوگئی ہے اگر ہم نے آپ کی غفلت سے فائدہ اٹھایا تو ہمیں نقصان ہوگا اس واسطے انہوں نے ہمت کی اور پھر آکر عرض کیا کہ ہم پہلے حاضر ہوئے تھے تو جناب نے یہ فرمایا تھا اور وَاللّٰہِ فرمادیا تھا ! خدا کی قسم اور پھر تھوڑی دیر بعد طلب فرمایا اور پھر یہ دے دیا تو اس میں ممکن ہے کہ کوئی اپنا مسئلہ حل کرنے کے لیے ہی پوچھی ہو انہوں نے یہ بات کہ ایسی صورت میں کیا مسئلہ ہوتا ہے ؟
نبی پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا ،ایک وجہ :
کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم تو صاحب ِ شریعت تھے، صاحب ِ شریعت پر اعتراض نہیں ہوسکتا مسئلہ پوچھا جاسکتا ہے ! جو شریعت خدا کی پہنچا رہے ہیں ان پر اعتراض تو کیا ہی نہیں جاسکتا کہ یہ آپ نے کیوں کیا ؟ پوچھا جاسکتا ہے کہ ایسے کیوں ہوا ہے اس کی وجہ کیا ہے یعنی حکم بدل گیا ہے یا کیا ہوا ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ جوکبھی میں قسم کھالیتا ہوں اور اس کے بعد مجھے دوسری چیز میں بہتری نظر آتی ہے تو جس میں بہتری ہو وہ میں اختیار کرلیتا ہوں اور قسم کا کفارہ دیتا ہوں ١
١ صحیح البخاری کتاب کفارات الایمان رقم الحدیث ٦٧٢١
تو جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم سے بھی ایسے ہوا اور حضرت صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ سے بھی ایسے ہوا ! ١
یہ وہ چیزیں ہیں جو انسان کی زندگی میں گھریلو معاملات میں رشتے داریوں میں پیش آتی رہتی ہیں اور ہر جگہ پیش آتی رہتی ہیں ۔ ان کے مسائل اور ذرا ذراسی بات تمام چیزیں موجود ہیں !
اللہ تعالیٰ ہمیں علم دے اور عمل کی توفیق عطا فرمائے
آمین اختتامی دعا...
( مطبوعہ ماہنامہ انوار مدینہ نومبر ١٩٩٤ئ)




قارئین انوارِمدینہ کی خدمت میں اپیل
٭٭٭
ماہنامہ انوارِ مدینہ کے ممبر حضرات جن کو مستقل طورپر رسالہ ارسال کیا جارہا ہے لیکن عرصہ سے ان کے واجبات موصول نہیں ہوئے ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ انوارِ مدینہ ایک دینی رسالہ ہے جو ایک دینی ادارہ سے وابستہ ہے اس کا فائدہ طرفین کا فائدہ ہے اور اس کا نقصان طرفین کا نقصان ہے اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ اس رسالہ کی سرپرستی فرماتے ہوئے اپنا چندہ بھی ارسال فرمادیں اوردیگر احباب کوبھی اس کی خریداری کی طرف متوجہ فرمائیں تاکہ جہاں اس سے ادارہ کو فائدہ ہو وہاں آپ کے لیے بھی صدقہ جاریہ بن سکے ! (ادارہ)
١ صحیح البخاری کتاب الایمان و النذور رقم الحدیث ٦٦٢١




سیرتِ مبارکہ
٭٭٭
عرب قبلِ اسلام اپنے آئینے میں
سیّد الملة و مؤرخ الملة حضرت مولانا سیّد محمد میاں صاحب کی تصنیفِ لطیف
سیرتِ مبارکہ '' محمد رسول اللّٰہ '' صلی اللہ عليہ وسلم کے چند اوراق
٭٭٭
شہریت (تمدن ) اور شہری تہذیب :
عرب میں اب بھی ایک بڑی تعداد ان کی ہے جن کو ''بدو'' کہا جاتا ہے یہ خانہ بدوش (بدوی) زندگی بسر کرتے ہیں ۔عرب کاایک حصہ جس کو رُبْعِ خَالِیْ کہا جاتا ہے اب بھی غیر آباد ہے لیکن اس کے باوجود بہت بڑی تعداد وہ تھی جن کو حَضَرِیْ کہا جاتا تھایعنی جو شہری زندگی کے عادی تھے اور اپنی شہری تہذیب میں دیگر ممالک کی تہذیب سے نہ صرف ہم سری اور مساوات بلکہ برتری کا دعویٰ رکھتے تھے۔
شہر :
مختلف صوبوں کے مشہور شہروں کے نام ملاحظہ فرمائیے ١
حجاز میں : مکہ ، مدینہ ، طائف ، ینبوع
یمن میں : جُرش، صنعاء ، عدن
عمان میں : صحار ، دَبا ٢
بحرین میں : ہجر
نجد میں : یمامہ ، فید
شمالی عرب میں : دومة الجندل ، خیبر ، فدک ، وادی القُریٰ
صحراء سینا کے مشرقی ساحل پر : ایلہ ، مقتار
١ عہد نبوی میں نظامِ حکمرانی از ڈاکٹر محمد حمید اللہ ص ٢٣٣ ٢ بفتح اوّلہ والقصر (معجم البلدان )
محل :
عالیشان محل بنانے کے متعلق امرا ء اور رء وساء کے مذاق کا اندازہ کبشہ کے بیان سے ہوتا ہے جو'' رَفِیعُ العِمَاد ''کی تشریح میں پہلے گزر چکا ہے ۔ یمن کا وہ عمرانی دور تواب رہا نہیں تھا جو حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں تھا یا ان تبایع کے دور میں تھا جنہوں نے مارب کا عظیم الشان بند بنوایا تھا اور نہریں نکلوا کر پورے یمن کو چمن زار بنا دیا تھا مگر اب بھی یمن کے راجاؤں (ملوک ) کے بعض محل ایسے تھے کہ شہنشاہ ایران بھی ان پر رشک کرتا تھا۔
نعمان بن منذر جس کا ذکر پہلے گزرا ہے اس کے دادا نعمان بن امرأ القیس ١ کا بنوایا ہوا
١ اس کو'' نعمان اکبر'' بھی کہتے ہیں یہ یک چشم تھا، نوشیرواں کا ہم عصر تھا، بہت شان و شوکت کا امیر تھا شام پرکئی مرتبہ حملے کر چکا تھا، آخرمیں تارک الدنیا ہوگیا اور سلطنت کے بجائے فقیری لباس میں سیاحت شروع کردی، سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک روز قصر خورنق کی سب سے اونچی منزل پر پہنچا ہوا تھا وہیں وزرا ء اور مصاحبین حاضر تھے خوش عیشی اور شاد کامی کے تمام اسباب فراہم تھے، یہ سب سے اونچی منزل عجیب و غریب تفریح گاہ تھی ایک طرف جانب غرب میں نجف کا سرسبز اور شاداب علاقہ تھا جہاں باغوں کی قطاریں اور ان کے بیچ میں نہریں بہہ رہی تھیں مشرق کی جانب دریا ئے فرات تھاجو پیچ وخم کھاتے ہوئے قصر خورنق کے گرد گھوم رہا تھا اس کی لہریں خورنق کی بنیادوں کو سجدہ کر رہی تھیں ۔ نعمان کی نظر اس عجیب و غریب منظر پر پڑی اس نے اپنے معتمد علیہ وزیر سے دریافت کیا۔ کیا اس جیسا منظر تم نے دیکھا ہے ؟
''کوئی نہیں دیکھا ، بے نظیر منظر ہے، کاش یہ پائیدار ہوتا '' ؟ وزیر نے جواب دیا ۔
نعمان اگر چہ ایک آنکھ کی بصارت سے محروم تھا مگر بصیرت سے محروم نہیں تھا۔ وزیر کے جواب نے چشم بصیرت میں چمک پیدا کر دی اس نے وزیر سے دریافت کیا : پائیدار کیا ہے ؟
وزیر : آخرت کی نعمتیں نعمان : وہ کیسے حاصل ہوتی ہیں ؟
وزیر : اس دنیا کو چھوڑ کر یادِ خدا میں مشغول ہو جانے سے ! ! !
وزیر کی اس گفتگو نے نعمان کی دنیا بدل دی ! وہ اب خاموش ہو گیا مگر جب رات ہوئی تو شاہانہ لباس اتارا، ٹاٹ کا کرتہ پہنا، راہبانہ زندگی اختیار کی اور ایسا غائب ہوا کہ پھر پتہ ہی نہیں چلا کہ کہاں گیا ، کیا ہوا ! ! !
( معارف بن قتیبة ص ٢١٨ ومعجم البلدان ج٥ ص ٤ ٤٨ )
محل خورنق ا ور اسی طرح کا دوسرا محل سدیر ١ ضرب المثل تھے۔
دیوان حماسة کا مطالعہ کرنے والے مُنَخَّلْ بِن الْحَارِثْ یَشْکُرِی کو خوب پہچانتے ہیں اور اس کی بدمستی سے بھی واقف ہیں اسی بدمست شاعر کے قصیدہ کے یہ شعر ہیں
وَلَقَدْ شَرِبْتُ مِنَ الْمُدَامَةِ بِالصَّغِیْرِ وَ بِالْکَبِیْر
فَاِذَا انْتَشَیْتُ فَاِنَّنِیْ رَبُّ الْخَوَرْنَقِ وَ السَّدِیْر
''بلاشبہ میں چھوٹے جام اور کبھی قدح (بڑے بادیے) کو منہ سے لگا کر شراب پینے کا عادی ہوں ! اور جب میں نشہ میں چور ہو جاتا ہوں تو مجھ میں وہ شاہانہ شان پیدا ہو جاتی ہے کہ گویا قَصْرِ خَورنق ٢
اور قَصْرِ سَدِیْر کا مالک میں ہی ہوں ٣
١ سدیر : فارسی لفظ سہ دلہ کا معرب ہے ۔ سہ دَل تین دل والا ۔ اس محل کا گنبد اس طرح بنایا گیا تھا کہ اس میں تین دَل یعنی اوپر تلے تین گنبد تھے یعنی ایک گنبد پھر کچھ خلا چھوڑ کر اس کے اوپر د وسرا دَل یا گنبد پھرکچھ خلا چھو ڑ کر تیسرا گنبد (معجم البلدان) ظاہر ہے وہ بہترین ایر کنڈیشنڈ ہو جاتا ہوگا۔ تاج محل کے گنبد کے متعلق تو معلوم نہیں ہو سکا۔ باقی دیواروں کے متعلق معلوم ہے کہ وہ دو ہری ہیں ، باہر کی دیوار اور ہے اندرکی دیوار اور ہے اور بیچ میں خلا ہے۔ ڈاکٹر اشرف صاحب مرحوم جو محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر تھے انہوں نے تحقیق کرنی چاہی کہ اس خلا کو کس چیزسے پر کیا گیا تھا انہوں نے اس خلا میں ایک آدمی کوا تا را توسطح زمین کے قریب لکڑی کے برادے جیسی چیز ملی ۔
٢ اس قصر کے متعلق ایک عجیب لطیفہ مؤرخین نے بیان کیا ہے کہ اس کو روم (اٹلی ) کے ایک انجینئر نے جس کا نام ''سِنم مار'' تھا بنایا تھا، یہ کچھ عرصہ کام کرتا پھر غائب ہو جاتا ۔ اس کو تلاش کرا یا جاتا تو کئی سال بعد کہیں ملتا توپھر تعمیر کا باقی سلسلہ شروع ہوتا ، اس طرح کئی مرتبہ ایسا ہوا، اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ محل نصف صدی میں تیار ہوا۔ جب تعمیر مکمل ہو چکی اور نعمان نے ملاحظہ بھی کر لیا تو ''سِنم مار'' نے اپنی قابلیت اور مہارت پر فخر کرتے ہوئے کہا کہ عظیم الشان قلعہ نما محل میں صنعت یہ رکھی گئی ہے کہ یہ ایک اینٹ پر قائم ہے اگر وہ اینٹ نکال لی جائے تو سارا محل گر جائے ۔ نعمان اس عجیب و غریب صنعت کو سن کر چونکا ! اس نے دریافت کیا کیا اس اینٹ کی خبر تمہارے سوا کسی اور کو بھی ہے ؟ ''سِنم مارا'' نے کہا میرے سوا کسی کو خبر نہیں ۔ نعمان نے جب معلوم کر لیا کہ اس اینٹ کی خبر کسی اور کو نہیں ہے تو ''سِنم مارا'' کومحل کی سب سے اونچی منزل سے نیچے پھینکوا کر ختم کرا دیا ۔ ( معجم البلدان ج٥ ص ٤٨٤)
٣ حافظ شیرازی صاحب نے منخل سے بھی آگے بڑھنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں
چوبے خرد گشت حافظ کے شمارد بیک جو ملک کیکاؤس دکے را
مُنَخَّلْ کے خلاف اَسْوَدْ بِنْ یَعْفَردنیا کی بے ثباتی کے سلسلہ میں ان کا ذکر کرتا ہے
مَا ذَا اُؤَمِّلُ بَعْدَ اٰلِ مُحَرَّقٍ تَرَکُوْا مَنَازِلَہُمْ وَ بَعْدَ اِیَاد
اَہْلُ الْخَوَرْنَقِ ١ وَالسَّدِیْر وبَارِق وَالْقَصْر ذِی الشَّرفَاتْ مِنْ سِنْدَاد
'' آل محرّق جنہوں نے اپنے محلات چھوڑ دیے اور ایادیٔ سبا کے بعد میں کیا اُمید لگاؤں ، آل محرّق ٢ قصر خورنق ، قصر سدیر اور چشمہ بارق اور ان عالی شان بلند کنگروں والے محلات کے مالک تھے جو سنداد ٣ کے نام سے مشہور تھے ''
خورنق اور سدیر کے علاوہ اور بھی شاندار محل اور کوہ نما قلعے تھے جن پر اہل قبائل فخر کیا کرتے تھے مثلاً
(١) نعمان بن المنذر کے فریق مقابل کا مشہور شاعر المُتَلَمِّس اپنے قلعہ پر فخر کرتا ہے
اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْجَونَ اَصْبَحَ رَاسِیًا تُطِیْفُ بِہَا الاَیَّامُ مَا یَتَأَیَّس
عَصٰی تُبَّعًا اَیَّامَ اُہْلِکَتِ الْقُرٰی یُطَانُ عَلَیْہِ بِالصَّفِیْحِ وَ یُکْلَس
'' کیا تم نے دیکھا نہیں کہ قلعہ'' جون''اپنی جگہ جما کھڑا ہے ، کتنے ہی حوادث اس کے چکر کاٹتے رہتے ہیں مگر وہ کسی حادثہ کے سامنے نرم نہیں پڑتا۔ اس نے یمن کے مشہور فاتح تبع کی اطاعت قبول نہیں کی، اس کے حکم کو ٹھکرا دیا (جبکہ تبع نے بہت سی آبادیوں کو برباد کر ڈالا تھا ) اس پر پتھر کی چوڑی چوڑی سلیں پلستر کی طرح لگائی جاتی ہیں اور چونے سے جوڑی جاتی ہیں '' (دیوان حماسہ ص ١١٣)
١ معجم البلدان جلد ٥ اور معارف میں ''اہل ''کے بجائے لفظ ''ارض'' ہے، جو بظا ہر غلط ہے
٢ محرق آگ لگادینے والا نعمان بن منذر کے پیش روملوک میں سے حارث بن عمر بن عدی بھی تھا اسی کو
محرق کہا کرتے تھے کہ اس نے مخالف آبادیوں کو آگ لگادی تھی (معارف ابن قتیبة )
٣ سنداد منازل لأیاد نزلتھا لما قاربت الریف ( معجم البلدان ج ٥ ص ١٤٩ )
دَارُ الْقَوَارِیْر شیش محل :
خودمکہ معظمہ میں جہاں کی عورتوں کا دعویٰ یہ تھا کہ ہمارے قدم زمین پر نہیں رکھے جاتے ہم قالینوں پر چلا کرتے ہیں اس کہنے والی کے باپ نے ایک شیش محل بنایا تھا جس کو دَارُ الْقَوَارِیْر
کہا جاتا تھا ١
آرائش منزل :
خورنق کی فلک بوس بلندی اور سدیر کے سہ دلہ گنبد آپ نے باہر سے دیکھے، اب اندر تشریف لائیے ، سب سے پہلے فرش پر نظر ڈالیے چودہ صدی پہلا فرش آپ اپنی نظر سے نہیں دیکھ سکتے تو بیگمات قریش کے بیان کا اعتبار کیجیے۔ روسا ء مکہ کی بیگمات کا ایک ترانہ بہت مشہور ہے جو وہ نوجوانوں میں جوش پیدا کرنے کے لیے اُحد کے میدانِ جنگ میں گارہی تھیں ، پورے ترانے کی ضرورت نہیں اس کا پہلا شعر ملاحظہ فرما لیجیے :
نَحْنُ بَنَاتُ طَارِق نَمْشِیْ عَلَی النَّمَارِق
'' ہم آسمان کے تارے کی بیٹیاں ہیں ، ہم قالینوں پر چلا کرتی ہیں ''
پہلا مصرع خاندانی فخر و غرور کی غمازی کر رہا ہے جو اپنے آپ کو چند ربنسی یا سورج بنسی کہا کرتے تھے ان کا تصور بھی یہی ہوتا تھا۔
١ جب یہ شعر پڑھ رہی تھیں اس وقت ان کا عقیدہ اور مذہب کچھ بھی ہو مگر اب تو ہم ان کا نام ادب سے لیتے ہیں کیونکہ انہوں نے اسلام لانے کے بعد عرض کیا تھا کہ یارسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم پہلے میرے نزدیک آپ اور آپ کے اہلِ خانہ اور آپ کے دولت کدہ سے زیادہ قابل نفرت اور مبغوض چیز کوئی نہیں تھی اور اب ان سے زیادہ محبوب کوئی نہیں ہے ! یہ حضرت ہندہ ہیں حضرت ابوسفیان کی اہلیہ محترمہ حضرت معاویہ رضی اللّٰہ عنہ کی والدہ۔ حضرت ہندہ کے والد عقبہ بن ربیعة تھے جو غزوہ بدر میں سب سے پہلے مارے گئے یہ شیش محل ان ہی عقبہ بن ربیعة نے بنایا تھا ۔ ( فتوح البلدان بلاذری مطبوعہ مصر ص ٦٣ ، ٦٤ )
دوسرا مصرع تمدن کی نشاندہی کر رہا ہے یعنی ان کے پاؤں زمین پر نہیں رکھے جاتے ان کے محلوں میں قالین کے فرش ہیں جن پروہ چلا کرتی ہیں ! !
زمین پر قالین کا فرش، فرش پر گدے اورتکیے جن کو وِسَادَة کہا جاتا تھا، یہ گدے محل کے بھی ہوتے تھے جن کو زَرَابِیُّ اور نَمَارِقُ کہا جاتا تھا ! !
مسہری :
دہلی اور اطرافِ دہلی میں ہی نہیں بلکہ اس طرح کے جتنے بھی شہر ہیں ان کے عالی شان مکانات میں مسہری کو خوش حالی اور پرتکلف زندگی کی علامت مانا جاتا ہے، ہندی بھاشا میں اس کانام چھپر کھٹ ہے کیونکہ اس کے چاروں پایوں پرحسین اور نازک ڈنڈے ہوتے ہیں جن کے اوپر خوبصورت چھتری ہوتی ہے، چھتری کے ساتھ چاروں طرف پردے ہوتے ہیں جن کے جھالر، پٹیوں سے نیچے تک لٹکے رہتے ہیں ، چھتری اور پردے اکثر ریشم کے ہوتے ہیں جن پر سنہری کشیدہ کاری ہوتی ہے یہ پر دے روئے عروس کے لیے نقاب بھی ہوتے ہیں اور مچھر دانی کا کام بھی دیتے ہیں ۔
مسہری پر دری یا قالین خالی نہیں چھوڑی جاتی بلکہ اس پر خوبصورت چادر ہوتی ہے جس کے چاروں کنارے سیج بند سے کس دیے جاتے ہیں ، ریشم کی ڈوریاں جو موباف کی طرح ہوتی ہیں سیج بند کہلاتی ہیں ان میں کبوتر کے انڈے کی برابر ریشم کی گھنڈ یاں ہوتی ہیں ۔
اس مسہری کی قدر و منزلت اور اس کے تکلّفات آج بھی یورپ کے صوفہ سیٹ سے کہیں زیادہ ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آرائش منزل کے کم از کم اس باب میں ہمارا تمدن عرب جاہلیت کے تمدن سے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا کیونکہ نہ صرف امراء اور رء و ساء بلکہ متوسط درجہ کے خوشحال عرب کے گھر میں بھی مسہری ہوتی تھی جس کو وہ حَجَلَة اور سیج بند کی گھنڈی کو زِرُّالْحَجَلَة کہتے تھے ١
١ شمائل نبوی علٰی صاحبہا الصلٰوة والسلام کے مطالعہ کرنے والوں کے لیے یہ ایک عام لفظ ہے کیونکہ
خاتم نبوت کو زِرُّ الْحَجَلَة سے تشبیہ دی گئی ہے ۔
اور امراؤ القیس کی ناز پروردہ محبوبہ کے بستر پر تو مشک کے ریزے بھی بکھرے ہوئے ہوا کرتے تھے ١
چلمن کا رواج عام تھا۔ اسلام نے تو ایک حد تک چلمن یعنی دروازے پر پردہ کو ضروری قرار دیا ہے ٢ لیکن حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ٣ نے اور ایسے ہی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ٤ نے بھی ایک مرتبہ یہ تکلف کیا کہ دروازہ پر عمدہ کپڑے کا پردہ آویزاں کر لیا جس پر پھول بوٹے تھے اور تصویر بھی تھی۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے طاق کو جو حجرہ کے ایک کو نہ میں تھا ایک خوبصورت باتصویر طاق پوش سے سجا لیا ٥ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے ان سب کو اُتر وا دیا ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پردے کو ایک غریب گھرانے میں بھجوا دیا کہ وہ پہننے کا کوئی کپڑا بنالیں ۔
ان واقعات کے سلسلہ میں آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے جہاں تصاویر کی ممانعت فرمائی یہ تعلیم بھی دی کہ کپڑا انسانوں کے پہننے کے لیے ہے، دیواروں کو پہنانے یا دروازوں اور طاقوں کے سجانے کے لیے نہیں ہے ۔
١ کما قال
وَ تُضْحِیْ فَتِیْتُ الْمِسْکِ فَوْقَ فِرَاشِہَا نَئُوْمُ الضُّحٰی لَمْ تَنْتَطِقُ عَنْ تَفَضُّل
یعنی''اس قدر بے پروا اور فارغ البال ہے کہ سوتے سوتے دوپہر کر دیتی ہے اور جب سوکر اٹھتی ہے تو اس کے بستر پر مشک کے ریزے بکھرے ہوئے ہوتے ہیں اور جب کپڑے پہن لیتی ہے تو کپڑے بھی ڈھیلے ڈھالے رہتے ہیں کسی نوکر چاکر کی طرح کمر پر پٹکا نہیں باندھتی '' ( المُعلقات السبعة )
٢ کیونکہ کمرہ میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینے کی یہ اہمیت ہے کہ قرآن شریف میں اس کے متعلق ایک آیت نہیں بلکہ کئی آیتیں نازل ہوئیں مگر یہ اِذن لینا اسی وقت ضروری ہے جب کمرے کے دروازہ پر پردہ ہو یعنی چلمن پڑا ہو یا کمرے کا دروازہ بند ہو، البتہ مکان کا مسئلہ جدا ہے مکان میں داخل ہونے کے لیے بہر صورت اِذن لینا ضروری ہے۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابْ ٣ صحیح البخاری ص ٨٨٠ ٤ ابوداؤد کتاب اللباس باب اتحاذ السطور
٥ صحیح البخاری ص٨٨٠
سیّدتناعائشہ صدیقہ یا سیّدتنا فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا دولتمند نہیں تھیں جن کی زینت فقروفاقہ ہو ان کو خوش حال کہنا بھی مشکل ہے ۔ خود عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ دو دو مہینے گزر جاتے تھے اور چولہا ٹھنڈا پڑا رہتا تھا، چند کھجو ر اور پانی سد رمق کا ذریعہ ہوتا تھا۔ مگر صرف ان کی سلیقہ مندی اور خودداری تھی کہ آلِ رسول صلی اللہ عليہ وسلم کے نشیمن کو خوش حال گھرانوں کی طرح ستھرا اور آراستہ رکھنا چاہتی تھیں
خانہ داری کے سلسلہ میں ( یَحْسَبُھُمُ الْجَاھِلُ اَغْنِیَآئَ مِنَ التَّعَفُّفِ ) ١ کی عملی صورت یہی ہوسکتی ہے ٢ اگر چہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے اس اسراف کو پسند نہیں فرمایامگران دونوں محترمہ کا یہ عمل اس دور کے عام رواج کی غمازی کرتا ہے ۔ مذکورہ بالا چند تفصیلات کے تحت عرب کے آرام گاہ کی شان ملاحظہ فرمائیے :
فرش پر قالین، بیٹھنے کے لیے غالیچے اور مخملی گدے ،کمر لگانے کے لیے تکیے، آرام کرنے کے لیے مسہری ، دروازوں اور کمرے کے طاقوں پر پھول دار یا تصاویر والے کپڑے کے پردے یا موتیوں یا مونگوں کی لڑیاں جن کو حَبَائِل کہا جاتا تھا ۔
قرآنی اشارات :
ترغیب اور ترہیب کے موقع پر ان ہی چیزوں کے نام لیے جاتے ہیں جو عام طور پر مشہور اور رائج ہوتی ہیں اس بنا پر ہمیں قرآن حکیم سے بھی استدلال کا حق پہنچتا ہے اب آپ ذیل کی چند آیتیں ملاحظہ فرمائیے اور عربوں کے تمدنی ذوق کا اندازہ لگائیے :
( وَیَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُ سٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّکِئِیْنَ فِیْہَا عَلَی الْاَرَآئِکِ ) ( سورة الکہف : ٣١ )
( مُتَّکِئِیْنَ عَلٰی فُرُشٍ بَطَآئِِنُہَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ) (سورة الرحمٰن : ٥٤ )
( مُتَّکِئِیْنَ عَلٰی رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّعَبْقَرِیٍ حِسَانٍ) (سورة الرحمٰن : ٧٦)
١ یعنی ان کے رکھ رکھا ؤکی شان یہ ہوتی ہے کہ جو شخص ان کے پوست کندہ حالات(یعنی وہ حالات جو بہت واضح ، کھلے اور مکمل طور پر ظاہر ہوں جن میں کوئی پوشیدگی یا ابہام نہ ہو) سے واقف نہیں ہوتا وہ ان کو غنی اور دولت مند سمجھتا ہے
٢ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے اس جذبہ کی تردید نہیں فرمائی البتہ اس میں اسراف کی ممانعت فرمائی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا پردہ ایک غریب گھرانے میں بھجوادیا ، نیز تصویر کی ممانعت فرمائی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا پردہ اُتروا دیا۔
چند نام اور ملاحظہ فرمائیے جو مختلف آیتوں میں وارد ہوئے ہیں ، معلوم ہوتا ہے کہ ان چیزوں کا بھی رواج تھا
مِشْکٰوة (طاق) شمع دان مِصْبَاح چراغ
اَکْوَاب آب خورے قِرْطَاسْ کاغذ
زُجَاج شیشہ سِجِلْ دستاویز ،کھاتہ
کَافُوْر کافور صُحُف جمع صحیفہ ، کتابچہ
قَوَارِیْر شیشے کے گلاس قَلَم مداد ، روشنائی
دسترخوان :
مغربی یورپ کا تو اس وقت ذکر ہی بے موقع ہے ١ وہ تو اس وقت تہذیب در کنار انسانیت کی ابجد سے بھی واقف نہیں تھا !
١ ہم جس زمانہ کا ذکر کر رہے ہیں یہ چھٹی صدی عیسوی کا دور ہے یعنی سرور کائنات صلی اللہ عليہ وسلم کے ظہور قدسی کا دور، اس سے تقریباً آٹھ سو برس بعد ١٤٣٠ء میں ا ینٹس سلوئس نے (جو آگے چل کر پالیس دوم کے نام سے پوپ ہوا) جزائر برطانیہ کی سیاحت کی تھی ،وہ لکھتا ہے کہ
کسانوں کے مکان خشک چنائی کے پتھروں کے تھے جن میں چونا نہیں لگا یا گیا تھا چھتیں گھاس پھونس کی تھیں اور بیل کی ایک اینٹھی ہوئی کھال دروازے کا کام دیتی تھی ۔ خوراک کی قسم سے وہ ساگ پات موٹھ مٹر، یہاں تک کہ درختوں کی چھال تک استعمال کرتے تھے۔ بعض مقامات کے باشندے روٹی کے نام تک سے واقف نہیں تھے۔ گارے سے لہسے ہوئے سرکنڈوں کی کو ٹھریاں ، بھدے اور بے ڈھنگے ٹَٹُّوْن کے گھر بے دودھ کش کی بے رونق دھواں دار انگیٹھیاں ، جوؤں ، کھٹملوں اور پسوؤں سے بھرے ہوئے، جسمانی، اخلاقی غلاظستان کے بھٹ ، سردی سے بچنے کے لیے بدن کے گرد پیال کے لپٹے ہوئے مٹھے، بخار سے سسکنے والے کسانوں کے لیے عاملوں اور سیانوں کے جھاڑ پھونک کے سوا اور کسی تدبیر کانہ ہونا ۔ ان سب باتوں کے ہوتے ہوئے کیسے ممکن تھا کہ آبادی ترقی کرسکے، مرد، عورت اوربچے ایک ہی کوٹھری میں سوتے تھے اور گھر کے جانور بھی اس میں ٹھونس دیے جاتے تھے ۔
(معیار العلم والعلماء ص ١٣ ، ١٤)
مشرقی یورپ میں بے شک رُوْمَةُ الْکُبْرٰی کا اقتدار سر بفلک تھا وہ ایک تہذیب کا بھی مالک تھا ممکن ہے اس کی تہذیب میں اس وقت بھی میز اور کرسی داخل ہو ۔ مگر عرب اس سے متاثر نہیں ہوئے۔ دوسری جانب ایران کی تہذیب تھی یہاں کرسیاں نہیں تھیں البتہ تقریباً ایک بالشت اونچی چھوٹی چھوٹی چوکیاں ہوتی تھیں جن پر کھانا رکھا جاتا تھا ان کو خوان کہا جاتا تھا ۔ پیچھے گاؤ تکیہ ، آگے خوان پر کھانا۔ یہ ایرانی تہذیب تھی ، چھوٹی تشتریوں اور پیالوں میں مختلف قسم کے سالن اور چٹنیاں ہوتی تھیں ١
مگر عربوں کا مذاق اس سے مختلف تھا، یہ چمڑے کا بڑا دستر خوان زمین پر پھیلاتے اور بڑے طشت یاقاب میں کھانا رکھتے اور سب ساتھ کھاتے تھے جو برتن ایشیائی ممالک میں آج رائج ہیں وہ اس وقت بھی تھے۔ ایسے بڑے بڑے ٹب بھی ہوتے تھے جن میں بیٹھ کر غسل کیا جاتا تھا ۔ آفتا بہ کا بھی استعمال عام تھا البتہ ٹونٹی دار لوٹے نہیں ہوتے تھے ۔
١ علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ نے غالباً عرب کے تہذیب و تمدن پر تفصیلی نظر نہیں ڈالی اور عام خیال کے بموجب آپ نے بھی عرب کو پسماندہ ثابت کرنے کی کوشش فرمائی ہے ۔ آپ نے تین دلیلیں پیش فرمائی ہیں
(١) تمدن اور اسباب معاشرت سے تعلق رکھنے والے الفاظ عربوں کے پاس نہیں تھے تو انہوں نے ایران وغیرہ سے لیے تھے مثلاً سراویل (پاجامہ) شلوار سے ، چراغ سے سراج ،آب ریز سے ابریق( بمعنی لوٹا) مگر اس سے ایرانی تہذیب کا تقدم تو ثابت ہو سکتا ہے عربوں کی پسماندگی ثابت نہیں ہوتی، پسماندگی جب تھی کہ یہ چیزیں عرب میں رائج نہ ہوتیں ۔
(٢) دوسری دلیل یہ کہ مدینہ منورہ میں چراغ کا رواج نہیں تھالوگ چھلنی بھی نہیں جانتے تھے۔ مگر جب اسی مدینہ میں گدے، تکیے، مسہری ، چار پائی، دروازوں پر پردوں کا رواج تھا تو صرف چراغ کا عام رواج نہ ہونے کو پیش کرنا قرین انصاف نہیں ۔ اس کا سبب یہ بھی تھا کہ تیل اتنا آسانی سے نہیں ملتا تھا سرسوں کا تیل اب بھی عرب میں کمیاب ہے پھر اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی تسلیم ہے کہ مدینہ تمدن میں مکہ کے ہم پلہ نہیں تھا، یہاں کا شتکا ر اور زمیندار رہتے تھے اورمکہ کے باشندے تاجر تھے ۔
(٣) تیسری دلیل آپ نے یہ دی ہے کہ حشرات الارض کھائے جاتے تھے تو اس طرح کے پسماندہ آج کے دور میں ہندوستان میں بھی موجود ہیں جو کچھواوغیرہ کھاتے ہیں ۔ ایک مرتبہ بھنا ہوا گوہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کے دسترخوان پر رکھ دیا گیا آپ نے تناول نہیں فرمایا اور وجہ یہ بیان فرمائی کہ ہمارے یہاں (مکہ میں ) یہ نہیں کھائی جاتی ۔
بہر حال حضری یعنی شہری لوگ حشرات الارض کو قابل نفرت ہی سمجھتے تھے۔
لباس وپوشاک :
پہلے گزر چکا ہے کہ سیّدنا عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ مسلمان ہوئے تو لوگ آپ کے گھر پر چڑھ دوڑے، سامنے کے میدان میں بہت بڑا ہجوم ہو گیا اس وقت مکہ کا ایک رئیسں عاص بن وائل سہمی پہنچ گیا تھا۔ اس نے پناہ کا اعلان کیا تھا جس کے بعد مجمع کائی کی طرح چھٹ گیا تھا آپ اس رئیس کے لباس پر نظر ڈالیے۔ قمیص کی آستینوں میں ریشم کی کفیں ہیں ، اوپر ریشمی قباء ١ یمن کا دھاری دار خاص کپڑا جس کو حَِبَرَہ کہا کرتے تھے اس کی چادر ہے اور اسی کپڑے کا تہبند ہے
عرب کا تقریباً یہی لباس آج بھی ہے۔ سر پر رومال یا عمامہ کا طریقہ بھی تھا۔ رومال کو قتاع کہا جاتا تھا رومال پر'' عِقَال'' کا دستور غالباً اس وقت نہیں تھا ۔
سردیوں میں برنس کا بھی استعمال ہوتا تھا جو بران کوٹ کی طرح ہوتا تھا۔ ہاتھوں میں قفازیں (دستانے) اور پیروں میں خُفَّیْن چمڑے کے موزے بکثرت استعمال ہوتے تھے۔
عورتوں کے لباس میں نِطَاقْ بھی تھا اس کو دوہراتہبند کہا جا سکتا ہے۔ مگر دوہرا کرنے کی شکل یہ ہوتی تھی کہ چوڑائی میں دوہرا ہو جاتا تھا یعنی اس کا عرض اتنا ہوتا تھا کہ ٹخنوں سے لے کر سر تک پہنچ جاتا تھا ، بیچ میں کمر بند باندھ لیا کرتی تھیں ، پھر او پر کا حصہ جو سر تک پہنچا ہوا ہوتا تھا نیچے چھوڑ دیا جاتا تھا اس میں کنّی اور حاشیہ بھی ہوتا تھا جو ٹخنوں اور پنڈلیوں پر رہتا تھا اور اس سے خاص زیبائش ہو جاتی تھی ۔
سنگار :
چاندی سونے کے علاوہ ہاتھی دانت ، مونگا ، موتی ، سیپ وغیرہ کے زیورات بھی استعمال کیے جاتے تھے ان کی تفصیل طویل بھی ہے اور بے سود بھی ۔ خاص بات یہ ہے کہ معرکوں میں بھی عورتیں زیورات پہن کر جاتی تھیں ، رء وسا ء ِقریش کی بیگمات جب گھبرا کر بدحو اس بھاگیں تو اِزاریں سمیٹ رکھی تھیں ، پنڈلیوں میں ٹخنوں سے اوپر جو پازیب( خَلْخَالْ) تھے وہ کھل گئے تھے ٢ دانتوں اور منہ کی صفائی
١ قُبَا مِنْ دِیْبَاجٍ (صحیح البخاری ص ٥٤٥ )
٢ قَدْ بَدَتْ خَلَاخِلُہُنَّ ( صحیح البخاری کتاب الجھاد و السیر رقم الحدیث ٤٠٤٣ ج ١ ص ٥٧٩ )
کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ شعراء اشعار تشبیب میں اس کا ذکر مزے لے لے کر کیا کرتے تھے
'' عدیل بن فرج عجلی '' کے چند اشعار سے آپ بھی لطف اندوز ہو لیجیے : ( دیوان حماسة )
اَلَا یَا اسَلْمٰی ذَاتَ الدَّمَایِجِ وَالْعُقَد وَذَاتَ الثُّنَایَا الْغُرِّ وَالْفَاحِمِ الْجُعَد
وَذَاتَ اللِّثَاتِ الْحُمِّ وَالْعَارِضِ الَّذِیْ بِہِ اَبْرَقَتْ عَمْدًا بِاَبْیَضَ کَالشُّہْد
کَاَنَّ ثَنَایَاھَا اغْتَبَقْنَ مُدَامَةً ثَوَتْ حِجَجًا فِیْ رَأْسِ ذِیْ قُنَّةٍ فَرْدِ
(١) ہاں ہاں ، زندہ باش ، حسن کی دیوی، جو باز و بند اور ہار سے آراستہ ہے دانت آبدار بال بہت سیاہ گھونگریالے !
(٢) مسوڑھے مسّی سے سیاہ ،سامنے کے دانت صاف شفاف چمکدار جن میں خاص طور سے سفید رنگ کے لعاب دہن نے چمک پیدا کر دی ہے جو شہد کی طرح شیریں ہے !
(٣) سامنے کے دانتوں میں ایسی ہلکی سرخی ہے جیسے شراب کہنہ نوش جان کی ہو ! اور وہ شراب بھی ایسی ہو کہ اونچے پہاڑکی اکیلی چوٹی پر جس کی برابر کوئی دوسری چوٹی نہ ہو رکھی رہی ہو جس کی وجہ سے نشہ اور اس کا ارغوانی رنگ پختہ ہو گیا ہو !
خوشبو :
خوشبو سے گو یا عرب کو عشق تھا ! مشک، عنبر اور زعفران تو عام تھا، زعفران خوشبو میں کپڑے بھی رنگا کرتے تھے ! ان کے علاوہ اور بھی بہت سی خوشبوئیں تھیں جن کو غازہ کی طرح غسل میں یا غسل کے بعد استعمال کیا کرتے تھے ! !
امر اؤالقیس کا یہ طرب انگیز شعر محض شاعرانہ مبالغہ نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے
اِذَا قَامَتَا تَضَوَّعَ الْمِسْکَ مِنْہُمَا نَسِیْمُ الصَّبَا جَا ئَ تْ بَرِیَّا الْقَرَنْفَل
'' (پہلی بیوی اور دوسری بیوی دونوں کی شان یہ تھی کہ )جب کھڑی ہوتی تھیں تو مشک کی ایسی تیز خوشبو مہکتی تھی کہ معلوم ہوتا تھا قرنفل (لونگوں )کے باغیچہ سے نسیم صبا کا جھونکا آگیا ہے''( دیوان متنبی حرف لام)
مدینہ کے ایک یہودی رئیس نے بڑے فخر سے کہا تھا
عِنْدِیْ اَعْطَرُ ( نسائ) سَیِّد العرب ١
'' کچھ زیور ایسے ہوتے تھے جن میں مشک وغیرہ کے سفوف بھر دیے جاتے تھے ٢
ان سے خوشبو مہکتی رہتی تھی ''
یہ تھی عام عرب کی تہذیب اور ان کا تمدن مگر ہمارے پیش نظر خاص طور پر مکہ معظمہ ہے جو سرور کائنات صلی اللہ عليہ وسلم کا مولد ِپاک اور آفتابِ اسلام کا مشرق ہے آئندہ ابواب میں مکہ کے حالات ملاحظہ فرمائیے ۔ (جاری ہے)
( ماخوذ از سیرتِ مبارکہ '' محمد رسول اللّٰہ '' صلی اللہ عليہ وسلم ص ٩١ تا ١٠٤ ناشر کتابستان دہلی )
١ صحیح البخاری کتاب المغازی رقم الحدیث ٤٠٣٧ ، ج ٢ ص ٥٧٧ ، ای اعطر نساء سادات
العرب ( مجمع البحار ) ٢ مثلاً قسط اظفار یا جزع اظفار (مجمع البحار لفظ ظفر)




جامعہ مدنیہ جدید کے فوری توجہ طلب ترجیحی امور
٭٭٭
(١) مسجد حامد کی تکمیل
(٢) طلباء کے لیے دارالاقامہ (ہوسٹل) اور درسگاہیں
(٣) کتب خانہ اور کتابیں
(٤) پانی کی ٹنکی
ثواب جاریہ کے لیے سبقت لینے والوں کے لیے زیادہ اجر ہے




قسط : ١
فراست ِ مومن
( شیخ الادب والفقہ حضرت مولانا اعزاز علی صاحب )
٭٭٭
انسانی بدن پر ایک سرسری نظر ڈالو ، اس کے جوڑاور اعضاء دیکھو ، سارے بدن کے جوڑ معلوم کرنا یا ان کے ناموں کا احصاء تو کسی تودۂ ریگ کے ذرات کے احصاء سے یقینا کم نہیں ، لیکن اگر بنظر تعمق دیکھو تو غالباً کسی ایک عضو کے جوڑاور اس کے مختلف کاموں کا بھی تم احاطہ نہ کر سکو گے ! جب ایک ایسی چیز میں تمہاری عقل اس قدر عاجز ہے کہ جس کو تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو، خود اس سے ہر ساعت اور ہر آن میں کام لیتے ہو، اس کا اچھا ہونا، برا ہونا، تمہارا اچھا ہونا برا ہونا کہا جاتا ہے، تو ان چیزوں کی نسبت کیا خیال کیا جاسکتا ہے کہ جو نہ صرف تمہاری باصرہ کے قبضہ ٔ قدرت سے خارج ہیں بلکہ اگر تمہارے حواسِ خمسہ بھی اپنی اجتماعی قوت سے کام لے کر ان کے درپے ہوں تو ان کی تحقیقات نہیں کرسکتے ہیں ! !
ان چیزوں سے ہمارا اشارہ ان قوتوں کی طرف ہے جن کو صانع مطلق کے ید ِ قدرت نے عموماً حیوانی بدن خصوصاً انسانی بدن میں ودیعت فرمادیا ہے ! بے شک تم نے حواسِ خمسہ باطنہ کا نام سنا ہوگا ان حواسِ خمسہ باطنہ کے اپنے اپنے فرائض ان کے مختلف آثار کی تحقیقات بھی کی ہوگی یاحکماء محققین کی کتابوں میں پڑھی ہوں گی، لیکن کیا تم نے یہ سفیہانہ اعتقاد کر لیا ہے کہ ان حواسِ خمسہ باطنہ کے علاوہ اور کوئی خاص قوت انسان میں نہیں ہے یا اگر ہے تو قابلِ ذکر نہیں ! اگر فی الحقیقت تم نے ایسا عامیانہ اور کورانہ اعتقاد کر لیا ہے تو یقینا تم نے مُبْدعِ عَالَمْ کی صنعت، قدرت، حکمت وغیرہ کو کچھ بھی نہیں سمجھا اور تم یقینا اس تالاب کے مینڈک کی طرح ورطہ ٔ جہالت میں مبتلا ہو جس کو کسی طرح یقین بھی نہ آتا تھا کہ اس تالاب سے زیادہ پانی بھی ہوسکتا ہے ؟
یاد رکھو ! اور اگر خدا ند کریم توفیق عطا فرماوے تو غور و غوض کرو اور صحیح تجربوں کا معیار قائم کرو تو وَفِی التَّجَارُبِ بَعْدَ الْغَیِّ مَا یَزَعُ کے موافق تم کو معلوم ہو سکے گا کہ جس طرح تم اعضاء بدنِ انسان اور اس کے جوڑوں کے معلوم کرنے سے عاجز تھے اور اس سے بدرجہا ان قوتوں کو معلوم کرنے سے عاجز ہو جو تم میں موجود ہیں آخر کوئی بات تو تھی جس کی وجہ سے
( وَ فِی الاَرْضِ آیَات لِّلْمُوْقِنِیْنَ وَفِیْ اَنْفُسِکُمْ ) ( سورة الذاریات : ٢٠ )
''اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کو اور خود تمہارے اندر ''
فرمایاگیاہے، کیا تم کو یہ بات بھی کچھ حیرت میں نہ ڈالے گی کہ خداوند ِعالم نے جس طرح کہ ایک طرف اَرْضْ اور مَا فِی الاَرْضْ کو دلیل قرار دیا ، اسی طرح خود تمہارے وجود کو بھی مستقل دلیل قرار دیا ؟ کیا یہ آیت بھی تم کو نہیں بتاتی کہ تم میں ید ِقدرت نے وہ وہ خزانے ودیعت کیے ہیں کہ جن کو اگرچہ بتمامہ معلوم نہ کر سکو، لیکن پھر بھی بحرِ تحیر میں غوطہ زنی کرنے اور خدائے وحدہ لاشریک لہ پر ایمان لانے کے لیے اچھا خاصا سبب بننے کے لیے کافی ہیں ؟
کیا اب بھی تم اس کا اقرار نہ کرو گے کہ جس بدن سے تم ایک ذلیل غلام سے زیادہ اطاعت کراتے اور اس کو اپنی آنکھ کے اشارے پر چلاتے ہو، تم اس کی حالت سے بالکل ہی ناواقف ہو !
نظرے بسوئے خود کن کہ تو جان دلربائی میفگن بخاک خود را کہ تو از بلند جائی
تو ز چشم خود نہانی تو کمال خود چہ دانی چو دُرّ از صدف بروں آکہ بسے گرانبہائی
عرب کا ایک جاہل گنوار اونٹ کی مینگنیاں ، قدموں کے نشانات دیکھ کر خالق ِعالم کے وجود پر استدلال کرتا اور بے اختیار زبان سے کہہ دیتا ہے
اَلْبَعْرَةُ تَدُلُّ عَلَی الْبَعِیْرِ ، وَ آثَارُ الاَقْدَامِ عَلَی الْمَسِیْرِ ، فَہٰذِہِ السَّمَآئُ ذَاتُ اَبْرَاجٍِ وَّالاَرْضُ ذَاتُ فِجَاجٍ کَیْفَ لَا تَدُلُّ عَلَی اللَّطِیْفِ الْخَبِیْرِ ۔
''اونٹ کی مینگنی اونٹ پر اور قدموں کے نشانات چلنے پر قطعی دلیل ہوتے ہیں تو یہ برجوں والا آسمان اور مختلف راستوں والی زمین خدائے لطیف اور خبیر کے وجود پر کیوں نہ دلالت کریں گے''
کیا وہ قلوب جن پر
اَلاَ وَاِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَةً ، اِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ کُلُّہ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہ اَلَا وَھِیَ الْقَلْبُ ۔ ١
'' یاد رکھو کہ بدن میں ایک ٹکڑا گوشت کا ہے جب وہ درست ہوتا ہے تو سارا بدن درست رہتا ہے اور جب وہ خراب ہوتا ہے تو سارا بدن خراب ہوتا ہے سنو ! یہ ٹکڑا (انسانی) قلب ہے''
کے موافق بدن کی صلاح وفساد کا مدار ہے اسی لیے ہیں کہ ان سے کچھ نہ سمجھا جاوے اور
( لَھُمْ قُلُوْب لاَّ یَفْقَھُوْنَ بِھَا ) ( سورة الاعراف : ١٧٩ )
'' ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سمجھ کا کام نہیں لیتے ہیں ''
کا مصداق اپنے آپ کو بنالیا جاوے ؟ کیا وہ چمکتی ہوئی آنکھیں جو بال سے زیادہ باریک چیز دیکھ لینے کی مدعی ہیں وہ اسی لیے عطا کی گئی ہیں کہ دست ِ قدرت کی ان کاریگریوں سے ان کو بند کر کے
( لَھُمْ اَعْیُن لَّا یُبْصِرُوْنَ بِھَا ) ( سورة الاعراف : ١٧٩ )
''ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر یہ لوگ ان سے دیکھنے کا کام نہیں لیتے ہیں ''
کا محمل بنالیا جاوے ؟ نہیں نہیں ہر گز نہیں ! تم کو یہ سارے سامان اسی لیے عطا فرمائے گئے ہیں کہ تم ان کو اسی کام میں لگاؤ جس کام کے لیے ہیں ، ان سامانوں کے حاصل کر لینے کے بعد بھی اگر تم نے ان کو بیکار ہی رکھا تو فی الحقیقت تم اس خلافت کے مستحق نہیں جس کے لیے تمہارا وجود ہوا تھا اور جس کے لیے دبی زبان سے خود ملائکہ مقربین نے اپنا استحقاق
( وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ ) ( سورة البقرة : ٣٠ )
''اور ہم پڑھتے ہیں تیری خوبیاں اور یاد کرتے ہیں تیری پاک ذات کو''
١ صحیح البخاری کتاب الایمان رقم الحدیث ٥٢ ج ١ ص ١٣
کہہ کر جتایا تھا ! بے شک توحید ِ خالق، رسالت ِ انبیائ، تصدیقِ کتب ِ سماویہ، بعث بعد الموت غرضیکہ تمام ضروریات ِ مذہب کے دلائل تمہاری آنکھوں کے سامنے قطراتِ بارش سے زیادہ موجود ہیں اور تم اپنی اس چند روزہ زندگی پر ایسے کچھ مغرور ہو رہے ہو کہ کسی کی طرف توجہ نہیں کرتے
اے دل بکوئے دوست گذاری نمی کنی اسباب جمع داری و کارے نمی کنی
چوگاں بدست داری گوئے نمی زنی بازے چنیں بدست وشکارے نمی کنی
الحاصل انسانی بدن میں کچھ ایسی باطنی قوتیں بھی ہیں کہ جو اس کے لیے نہایت ضروری ہیں اورقَسَّامِ ازل نے ہر ایک پر ان کو برابر تقسیم کیا ہے لیکن جس طرح کہ ایک شفیق آقا اپنے چند غلاموں کو بغیر ان کے کسی استحقاق کے اپنی دولت عَلَی السَّوِّیَہ تقسیم کر کے ان کو تجارت کے ذریعہ سے نفع حاصل کرنے کا حکم دیتا ہے، ان میں سے کوئی تو اپنے حصہ کے مال کو اَضْعَافِ مُضَاعَفْ کرکے واپس لاتا اور اپنے آقا کی رضا جس سے زیادہ غلام کے لیے کوئی فخر ہوہی نہیں سکتا حاصل کرتا ہے، اور کوئی اپنی جہالت وغباوت، عدمِ توجہی سے اصل رأس المال کو بھی کھو بیٹھتا ہے ٹھیک اسی طرح تمام قوتوں کا ذخیرہ منعم حقیقی کی طرف سے ہر ہر فردِ انسانی کو برابر ملا ہے، لیکن کوئی لذائذ ِ جسمانی اور شہواتِ نفسانی میں مبتلا ہوکر ان قوتوں کو ضائع کرتا اور غضب ِالٰہی میں گرفتار ہوتا ہے اور کوئی ان سے وہ کام لیتا ہے کہ جس کا اس کو اَمر کیا گیا تھا اور اس وجہ سے وہ ان مراتب ِعلیا پر فائز ہوتا ہے جن کو
مَا لاَ عَیْن رَأَتْ وَلاَ اُذُن سَمِعَتْ وَلاَ خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ ١
''نہ کسی آنکھ نے دیکھا ،نہ کسی کان نے سنا ،نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال آیا ''
سے تعبیر کیا گیا ہے ! انعامات کی تقسیم اور بغیر کسی استحقاق کے عطاء کثیر میں خَلَّاقِ عَالَم کی طرف سے کوئی کمی نہیں ، اگر اس میں قصور ہے تو ہمارا ہے کہ ہم نے ان کو ضائع کردیا ! !
( وَمَا ظَلَمْنٰھُمْ وَلٰکِنْ کَانُوْآ اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ ) ( سورة النحل : ١١٨ )
''ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ اپنے اپنے نفسوں پر خود ہی ظلم کرتے ہیں ''
١ مشکوة المصابیح کتاب احوال القیامة و بدء الخلق رقم الحدیث ٥٦١٢
ان تمام باطنی قوتوں میں سے کہ جن کا احاطہ کرنے سے مدارکِ انسانی بالکل ہی عاجز ہیں ، ایک وہ قوت بھی ہے جس کو فراست سے تعمیر کیا جاتا ہے اس وقت ہماری بحث کا موضوع یہی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس کی حقیقت بتانے کے بعد اس کی کمی اور زیادتی کے اسباب پر بھی روشنی ڈالیں ! ! واللّٰہ الموفق
فراست کے لغوی معنی نظر جماکر دیکھنا اور باطن کا حال معلوم کرلینا ! فراست اس قوت کا نام ہے جس کے ذریعہ سے انسان ضعیف سے ضعیف اسباب کی طرف توجہ کرنے کے بعد مُسَبِّبَاتْ کے منتہیٰ تک پہنچ جاتا ہے اور جو چھوٹی چھوٹی چیزیں دوسروں کی نظر میں حقیر اور ہیچ معلوم ہوتی ہیں اس قوت کے ذریعہ سے ان ہی کی نسبت اس کا یقین کر لیا جاتا ہے کہ یہ آگ کی اس چھوٹی سی چنگاری کی طرح ہے جو ترقی کرتے کرتے بڑے بڑے درختوں کو جلا سکتی ہے اور بڑے بڑے آباد شہروں کو خاکستر کر سکتی ہے !
اگر تم نے اس کو غور سے سنا ہے تو غالباً تم کو کشف اور فراست کے فرق میں بھی کوئی اشتباہ نہ رہا ہوگا کیونکہ فراست کے لیے اسباب کا وجود ضروری ہے، اگرچہ وہ کسی درجہ کے حقیر اور ضعیف کیوں نہ ہوں لیکن کشف کے لیے اسباب کا ہونا ضروری نہیں ، کشف میں بغیر کسی ظاہری سبب اور کسی دلیل کے دل میں کوئی بات پڑجاتی ہے، بعض اکابر کی نسبت صحیح طور سے یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ ان کی خدمت میں بعض اشخاص نہایت عقیدت مندانہ صورت میں بیعت کے لیے حاضر ہوئے مگر انہوں نے باوجود خاص خاص خدام کی سفارشوں کی بھی درخواست ِبیعت کو منظور نہ فرمایا ! اس کے بعد جب ان کے حالات کی تفتیش کی گئی تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت وہ شخص خبیث الباطن تھا۔ یہ فراست نہ تھی یہاں خبث ِ باطن کے اسباب کا موجود ہونا تو درکنار عقیدت اور صلاحیت پر دلالت کرنے والے اسباب موجود تھے لیکن اس پر بھی قلب ِمصفّٰی میں اس عقیدت کا عکس ثابت ہوا، یہ حقیقت ہے کشف کی ! !
فراست خداوند ِعالم کا ایک عام عطیہ ہے جو ہر مسلمان کو عطا ہوتا ہے اور جو شخص جس قدر طاعات اور اعمالِ صالحہ میں شغف رکھتا ہے اسی قدر اس کی یہ قوت ترقی کرتی جاتی ہے ! مومنین کی کسی خاص جماعت کے ساتھ اس کا تعلق نہیں بلکہ انبیائ، صدیقین، شہدائ، صالحین غرض یہ کہ ساری جماعتیں اس سے مستفید ہوتی ہیں ! !
فراست کی مقنع حقیقت ہم بیان کر چکے ہیں اور زیادتی توضیح کی غرض سے ہم نے فراست اور کشف کا فرق بھی ظاہر کردیا، لیکن ابھی اس پر بعض شبہات ضرور وارد ہوتے ہیں ان کا ازالہ تکمیلاً للبحث ضروری ہے۔
(١) بعض متقی اور پرہیزگار بھولے بھالے ہوتے ہیں ان میں فراست کیوں نہیں ہوتی ؟ ؟
یہ بالکل غلط ہے کہ ان میں فراست نہیں ہوتی، ہوتی ہے اور ضرور ہوتی ہے، لیکن جس طرح کہ کبھی غایت ِ فکر میں انسان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں اور باوجود آنکھوں کے کھلے ہونے کے وہ مشغولی قلب کے باعث کسی چیز کو نہیں دیکھ سکتا ہے بلکہ بسا اوقات اس کے سامنے سے گزرنے والے گزر جاتے ہیں اور اس کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ کون آیا اور کون گیا ؟ بالکل یہی حالت فراست کی ہے، بسا اوقات متقی اپنی فکر آخرت میں ایسا منہمک اور مشغول ہوتا ہے کہ اس کو ان اسباب کی طرف توجہ ہی نہیں ہوتی جس سے وہ امورِ عظام کے نتیجہ تک پہنچ جاوے اور چونکہ فراست کا مدار اسباب پر ہے، پس جبکہ اسباب ہی کی طرف توجہ نہ ہوئی، اس سے آگے قدم کیوں کر بڑھایا جاسکتا ہے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ ان میں فراست ضرور ہوتی ہے اگرچہ بے توجہی مانع تاثیر ہو !
(٢) کفار میں فراست کیوں ہوتی ہے ؟ ؟
کفار کی دانائی اور مومنین کی فراست میں وہی فرق ہے جو کرامات ِ اولیاء اور استدراج میں ہے ! !
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خوارقِ عادات کفار سے بھی صادر ہوتے ہیں ،اگر دیکھا ہے تو بتاؤ کہ کرامت اور استدراج میں کیا فرق ہے ؟ صرف یہی کہ کرامت نام ہے اس خرقِ عادات کا جو متبعین شریعت پابند سنت سے صادر ہو ! اور استدراج نام ہے اس خرقِ عادات کا جو غیر متبعین شریعت سے صادر ہو ! یہی فرق کفار کی دانائی اور مومنین کی فراست میں ہے کہ اگر وہ متبع شریعت سے ہو تو فراست ہے ورنہ محض عقل کی تیزی ! علاوہ ازیں ایک فرق اور بھی ہے مومن کی فراست (بشرطیکہ فراست ہو) میں خطا نہیں ہوتی یا اگر ہوتی ہے تو بہت کم ! لیکن کفار کی دانائی بسا اوقات ٹھوکریں کھاتی ہے !
(٣) تیسرا فرق یہ بھی ہے کہ مومن اپنی فراست کے ذریعہ سے اسباب ِخفیہ سے مُسَبِّبَاتِ عظِیمہ تک پہنچتا ہے اور کفار کی نظریں اسی حدتک محدود رہتی ہیں جس حدتک وہ اسباب ہیں ! اگر اسباب ضعیف ہیں تو ان کی نظریں بھی ضعیف مُسَبِّبَاتْ تک نہیں پہنچ سکیں گی اور اگر وہ اسباب قوی ہیں تو وہ نظریں بھی مُسَبِّبَاتْ قَوِیَّہ تک پہنچ سکیں گی !
الحاصل فراست میں صاحب ِفراست کو اسباب سے تعلق کم ہوتا ہے اور دانائی میں زیادہ یہی وجہ ہے کہ فرمایا جاتا ہے
اِتَّقُوْا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّہ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللّٰہِ ١
''مسلمان کی فراست سے بچتے رہواس واسطے کہ وہ خدا وندی نور سے دیکھتا ہے ''
اس لیے کہ جب نورِ الٰہی کے ذریعہ سے معلوم کیا گیا تو غلطی کا احتمال بعید ہے اور اسی وجہ سے اسباب کے قوی تعلق کی بھی زیادہ ضرورت نہیں ! !
فراست کا یہ عطیہ کبھی خاص مصلحتوں کے اقتضاء کی وجہ سے زیادہ اور کم بھی کردیا جاتا ہے مثلاً ایک وہ شخص ہے جو صرف اپنے گھر کی نگہداشت کرتا ہے دو چار دس پانچ بال بچے اس کی تربیت میں ہیں ، ایک وہ مدرسے کا مہتمم ہے جس کو ہزار دوہزار طلباء کے اہتمام کی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے ، ایک وہ رئیس ہے جس کے قبضہ میں بہت سی مخلوق کا مال دے دیا گیا ہے ،ایک وہ بادشاہ ہے جس کے قبضہ میں ایک ولایت ہے، ظاہر ہے کہ ان کی ضرورتیں بتارہی ہیں کہ فراست کے درجہ میں ان عوارض کی وجہ سے کچھ نہ کچھ تفاوت ضرور ہونا چاہیے اگرچہ وہ عارضی ہی کیوں نہ ہو۔
اب ہم مختصر طور پر دو واقعوں کا ذکر کرتے ہیں جن سے کشف اور فراست کا فرق معلوم ہوجاوے اور یہ بھی معلوم ہوجاوے کہ کشف اور فراست مبائن نہیں بلکہ یہ دونوں کسی ایک شخص میں جمع ہوسکتی ہیں
(١) وہ واقعہ تو مشہور ہے کہ فاروق اعظم نے ایک لشکر کو جہاد کی غرض سے روانہ کیا اسی زمانہ میں فاروق اعظم نے کسی جمعہ کی نماز کا خطبہ پڑھتے پڑھتے یَا سَارِیَةُ الْجَبَلَ یَا سَارِیَةُ الْجَبَلَ ٢ زور زور سے
١ سنن الترمذی ابواب تفسیر القرآن رقم الحدیث ٣١٢٧
٢ مشکوة المصابیح کتاب الفضائل و الشمائل رقم الحدیث ٥٩٥٤ رواہ البیھقی فی دلائل النبوة
فرمانا شروع کیا ! حاضرین ِنماز کو حیرت تھی، تحقیقات سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کا لشکر جہاد میں مصروف تھا کہ کفار کی ایک جماعت نے ارادہ کیا کہ پہاڑ کی پشت پر ہوکر مسلمانوں کو سختی سے گھیر لیں ! حضرت فاروق اعظم پر یہ واقعہ بغیر کسی ظاہری سبب کے منکشف ہوا اور سردار لشکر کو اطلاع دی، یہ حقیقت میں کشف تھا جس کے لیے کسی سبب ِظاہری کی ضرورت نہ تھی !
اب ہم دوسرا واقعہ سنائیں جس سے فراست کا حاصل معلوم ہوسکے
(٢) فاروق اعظم اپنے زمانہ ٔ خلافت میں دار الخلافت یعنی مدینہ منورہ کی گلیوں میں تجسس حالات کی غرض سے محافظوں کی طرح گشت کر رہے تھے اتفاقاً پردہ میں سے کسی عورت کو یہ شعر گنگناتے ہوئے سنا
ھَلْ مِنْ سَبِیْلٍ اِلٰی خَمْرٍ فَاَشْرَبُھَا اَمْ مِّنْ سَبِیْلٍ اِلٰی نَصْرِ بْنِ حَجَّاج
اِلٰی فَتًًی مَاجِدِ الاَعْرَاقِ مُقْتَبِلِ سَھْلُ الْمَحْیَا کَرِیْم غَیْرُ مَلْجَاج
تَنْمِیْہِ اَعْرَاقُ صِدْقٍ حِیْنَ تُنْسِبُہ اَخِیْ حِفَاظٍ عَنِ الْمَکْرُوْبِ فَرَّاج
سَامِی الْمَوَاطِنِ مِنْ بَھْزٍ لَہ نَھْل تَضِیُٔ صُوْرَتُہ لِلْحَالِکِ الدَّجی
کیا کوئی ایسی صورت ہے کہ مجھ کو تھوڑی سی شراب مل جاوے تاکہ میں اس کو پی لوں یا کوئی صورت ہے کہ میں نصر بن حجاج تک پہنچ سکوں ! وہ ایک جوان شریف الاصل نئی جوانی والا ہے، نرم چہرہ والا( لڑائی جھگڑے میں ) چمٹ نہ جانے والا ! اس کے آباء واجداد کی شریف رگیں اس کو بلند کرتی ہیں جب تم اس کا نسب بیان کرو وہ غیرت اور حمیت والا ہے، مصیبت کو دور کرنے والا ہے، عزت والے وطن والا ہے، قبیلہ بہنر سے ہے، وہ پیاسوں کو سیراب کرتا ہے اس کی صورت سیاہی میں مبتلا ہونے والے کے سامنے چمک دمک دکھاتی ہے''
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی وقت اپنے آپ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ خود اس دار الخلافت میں بھی تیری حیات میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ جن کا نام لے کر جوان عورتیں اپنے اپنے دلوں کی بھڑاس نکالتی ہیں واپسی کے بعد آپ نے حکم دیا کہ نصر بن حجاج کو حاضر کیا جاوے !
نصر بن حجاج بن علاط اگرچہ نو عمر تھے مگر چونکہ ان کے والد ماجد کو صحبت ِسرور ِ انبیاء علیہ الصلٰوة والسلام کا فخر حاصل تھا اس لیے ساکنانِ مدینہ میں بوجہ صاحبزادگی کے خاص عزت کی نظروں سے دیکھے جاتے تھے، فاروقِ اعظم کے حکم کے موافق دربار ِ خلافت میں حاضر کیے گئے فاروق اعظم نے ان پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ یہ صاحبزادے نوجوان بھی ہیں اور اعلیٰ درجہ کے خوبصورت بھی، بڑی بڑی آنکھیں ، لمبی لمبی سیاہ زلفیں سر پر، غرض یہ کہ خوبصورتی میں اپنی نظیر آپ تھے
فاروقِ اعظم نے حکم دیا کہ ان کے بال کاٹ دیے جائیں ، بالوں کے کٹوانے کا حکم صادر فرمانے سے فاروقِ اعظم کا منشا یہ تھا کہ بالوں کے نہ ہونے کی وجہ سے خوبصورتی میں کمی آجائے گی، تاکہ ان کی وجہ سے عورتوں میں فتنہ پھیلنے کا اندیشہ باقی نہ رہے، مگر بالوں کے صاف ہوجانے سے ان کی چوڑی چکلی پیشانی کو بدرِ شب چہاردہم کی طرح چمکادیا جس سے اس اندیشہ میں کمی نہ ہوئی بلکہ زیادہ ہوتی گئی، فاروقِ اعظم نے اس پیشانی کو چھپانے کے لیے حکم دیا کہ تم عمامہ باندھا کرو چنانچہ انہوں نے امتثالاً للامر عمامہ باندھنا شروع کردیا مگر خوبصورتی کوئی ایسی چیزنہیں کہ جس کو انسان کسی طرح چھپا سکے ! سرپر عمامہ نے سونے پر سہاگا کا کام دیا ! !
سر پر عمامہ ، نشیلی آنکھیں ، (ان کی اس وضع پر عورتوں کی نظریں کچھ زیادہ پڑنے لگیں ، فاروق اعظم نے جب دیکھا کہ اس فتنہ کو جس قدر دبا یا جاتا ہے اسی قدر زیادہ اچھلتا ہے اس لیے ان کو طلب فرمایا اور فرمایا کہ خدا کی قسم تم اس شہر میں نہیں رہ سکتے ہو جس میں میں رہتا ہوں نصر بن حجاج تاڑ گئے کہ میرے اخراج کا حکم امیر المومنین دے رہے ہیں ! گھبرا کر عرض کیا کہ امیر المومنین میں کس جرم میں جلاوطن کیا جارہا ہوں ، فرمایا کہ جرم وغیرہ کے دریافت کرنے کی ضرورت نہیں ، ایسا ہی ہوگا جو کہ میں کہہ رہا ہوں ، چنانچہ ان کو بصرہ روانہ کردیا۔ (جاری ہے)




مقالات حامدیہ قسط : ١
٭٭٭
صرف امام اور منفرد ہی کاسورہ ٔفاتحہ پڑھنا اور اس کے دلائل
قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں
عنوانات و تزئین ، حاشیہ و نظر ثانی بتغیرِ یسیر : حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب
٭٭٭
زیر نظر مضمون قطب الاقطاب حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب رحمہ اللّٰہ کی غیر مطبوعہ عربی تحریربعنوان رَدُّ مَا کَتَبَ اَبُوْ خَالِدٍ عَبْدُالْوَکِیْلِ الْھَاشِمِیُّ کا مختصر ترجمہ ہے جو خود ان ہی کا کیا ہوا ہے اس میں حضرت نے فاتحہ خلف الامام اور بیس رکعت تراویح کے اثبات کے دلائل جمع فرمائیں ہیں (ادارہ)
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِخَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّا بَعْدُ !
جامعہ مدنیہ کے بعض طلبہ نے مجھے ابوخالد عبد الوکیل محمد عبد الحق ہاشمی کی تحریر دکھائی جو انہوں نے مکہ مکرمہ سے بعض لوگوں کی تائید سمیت لکھی ہے۔ اس میں امام اعظم ابوحنیفة النعمان علیہ الرحمة والرضوان کے مسلک پر رد لکھا گیا ہے۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ یہ مسئلے کوئی نئے نہیں ہیں اورابوخالد صاحب کے پیروکاروں کا فرض تو یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کو اتحاد اور آپس میں محبت کی دعوت دیں اور یہ کہ سب مسلمانوں کو یکجا کرکے انہیں جہاد پر آمادہ کریں نہ یہ کہ ان کی تکفیر تفسیق تضلیل کرکے یکجا شدہ مسلمانوں میں انتشار و تفریق پیدا کریں حالانکہ جو کچھ کعبہ مکرمہ میں ہوا اور افغانستان میں جو درد ناک مصائب وآلام پیش آرہے ہیں وہ ان کے سامنے ہیں لہٰذا میں نے اس قسم کی بحث میں الجھنے سے اعراض کیا لیکن مفسدوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ سکوت کو ضعف پر محمول کرتے ہیں اور فتنہ ابھارنے سے باز نہیں آتے اس لیے میں نے ارادہ کیا کہ حنفی حضرات کی دلیلیں لکھ دوں اور ان لوگوں کے دلائل کا ردّ نہ لکھوں ! !
( ١)
پہلا مسئلہ جو ان لوگوں نے لکھا ہے یہ ہے کہ انہوں نے حضرت عبادة رضی اللّٰہ عنہ کی روایت کی رو سے جو بخاری شریف میں مرفوعاً آئی ہے امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنی واجب بتلائی ہے
لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ
اور کہا ہے کہ سورۂ فاتحہ کا پڑھنا امام مقتدی اور منفرد سب پر ہر نماز میں جہری ہو یا سرِّی فرض ہے اور حنفی علماء اس حدیث ِ پاک سے یہ استدلال درست نہیں قرار دیتے جس کی وجہ اور بہت مفصل بحثیں سب حنفی حضرات کے رسالوں اور کتابوں میں پہلے سے موجود ہیں ہر عالم جانتا ہے۔
غرض یہ لوگ ایسا مسئلہ سامنے لائے جس کو چودہ سو سال گزرگئے اور شروع ہی سے یہ چلا آرہا ہے کہ کچھ حضرات پڑھتے آئے اور کچھ منع کرتے آئے ہیں اور اگر ان حضرات کو شمار کیا جائے تو جن حضرات نے قراء ت خلف الامام سے منع کیا ہے وہ تعداد میں بھی زیادہ ہیں اور علم و عمل میں بھی بڑھے ہوئے ہیں ۔
قرنِ اوّل سے آج تک یہی حال چلا آرہا ہے کیونکہ حنفی حضرات ہی قراء ت خلف الامام سے منع کرتے ہیں اور جب مسلمانانِ عالَم کو شمار کیا جائے تو یہ لوگ ان کا دو ثلث (٣/٢)حصہ بنیں گے اور مسلمانوں کے بقیہ مذاہب پر چلنے والے صرف ایک ثلث(٣/١) ہوں گے کیونکہ مسلمانانِ ہند، پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، ترکیہ، بخارا اور برما وغیرہ سب امام ابوحنیفہ رحمة اللّٰہ علیہ کے پیروکار ہیں اور باقی ممالک میں دوسرے ائمہ کے پیروکاروں میں بھی وہ موجود ہیں حنفی حضرات ہی کے مدر سے پورے عالم میں زیادہ بڑے دینی مدارس ہیں ۔ ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش میں صاف نظر آتا ہے۔ ان ہی کے علماء کی تعداد مسلم علماء میں زیادہ ہے ان ہی کا علم تفسیر، حدیث ،فقہ اور ان کے اصول کے بارے میں زیادہ وسیع ہے۔اور ان ہی میں وہ اولیائِ کبار بھی ہیں جنہوں نے پورے عالم میں دین پھیلایا جیسے ہمارے علاقہ میں حضرت شاہ معین الدین( چشتی اجمیری) ، حضرت مجدد سر ہندی شا ہ ولی اللّٰہ(دہلوی)، ان کے ابنائِ کرام علمائِ دیوبند اور شاہ محمد الیاس صاحب مؤسس جماعت تبلیغ یہ سب ان لوگو ں میں داخل ہیں جو قراء ت خلف الامام نہیں کرتے۔ مسلمانوں میں کوئی بھی یہ جرأت نہیں کر سکتا کہ ان حضرات کو گمراہ قرار دے سوائے اس کے کہ جو خودگمراہ ہو ! !
اسی طرح اس کے برعکس بھی حکم ہو گا مثلاً امام شافعی رحمة اللہ علیہ اور ان کے آج تک کے پیرو کار اور وہ پیروکار جو قیامت تک آنے والے ہیں ان کے بارے میں کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ یہ کہہ سکے کہ یہ غلطی پر ہیں یا گمراہ ہیں کیونکہ یہ حضرات صحابۂ کرام اور ان کی روایات پر عمل پیرا ہیں جیسے کہ حنفی حضرات اور قراء ت خلف الامام سے منع کرنے والے اسلاف بھی صحابۂ کرام کے عمل اور جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم سے ان کی روایات پر عمل کر رہے ہیں اور جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے مَا اَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِیْ کہ فرقہ ٔناجیہ وہ لوگ ہیں جو اس راہ پر چلیں جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں ۔ تو یہ سب باوجود اختلاف کے ایک ہی فرقہ ہیں جوخدا کے نزدیک نجات پانے والا ہے اور یہ سب ہدایت پر ہیں اور ان کا اختلاف رحمت ہے تو جو شخص ان دو میں سے کسی کو بھی باطل قرار دینے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اپنے علم کا ثواب ضائع کررہا ہے خواہش نفس کی پیروی کر رہا ہے اور تعدی کرتا ہے ۔
ابنِ تیمیہ نے اپنے فتاوی میں ان لوگوں کے بارے میں کہ جن کی رائے ہے کہ جہری نمازوں میں امام کے پیچھے پڑھنا چاہیے رد کرتے ہوئے لکھا ہے :
ابوداود نے کہا میں نے محمد بن یحییٰ بن فارس سے سنا ہے وہ کہتے تھے کہ فَانْتَھَی النَّاسُ (لوگ رک گئے ) یہ زہری کی بات ہے( نہ کہ حدیث)اور امام بخاری سے بھی اسی طرح نقل کیا گیا ہے (کہ انہوں نے بھی یہی کہا ہے ) اور یہ جب کلامِ زہری ہے تو یہ نہایت ہی قوی دلیل ہے کہ صحابۂ کرام جہر کی صورت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے ساتھ نہیں پڑھا کرتے تھے کیونکہ زہری اپنے زمانہ کے ان سب سے بڑے لوگوں میں سے ہیں جو عالم بالسنت تھے اور صحابۂ کرام کا رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے پیچھے قراء ت کرنا اگر شریعت میں ہوتا واجب یا مستحب ان میں سے کسی بھی حیثیت سے تو یہ ان عام احکام میں ہوتا جسے عام صحابۂ کرام اور تابعین بِاِحْسَانْ جانتے ہوتے تو زہری ضرور اس مسئلہ سے سب سے زیادہ واقف ہوتے، اگر زہری سرے سے یہ مسئلہ کبھی بیان ہی نہ کرتے تب بھی یہ قراء ت خلف الامام کی نفی کی دلیل ہوتی چہ جائیکہ جب زہری قطعی طور پر یہ بتلارہے ہوں کہ صحابۂ کرام جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے پیچھے جہری نمازوں میں نہیں پڑھا کرتے تھے'' (فتاویٰ کبرٰی ابنِ تیمیة ص ١٧١ ج٢)
ابن تیمیہ نے ایک مقام پر لکھا ہے :
''نیز جہر سے مقصود یہ ہے کہ مقتدی غور سے سنیں اسی لیے (جن ائمہ کے نزدیک آمین بالجہر ہوتی ہے وہ) امام کے پڑھنے پر جہری میں آمین کہتے ہیں نہ کہ سری میں ! تو جب وہ امام کی طرف سے ہٹ کر اپنے پڑھنے میں مشغول ہوگا تو (گویا اللہ تعالیٰ نے) امام کو ایسے لوگوں کو پڑھ کر سنانے کا حکم دیا ہے جو اس کی قراء ت کی طرف کان نہ لگائیں اور امام بمنزلہ اس شخص کے ہوگا جو ایسے آدمی سے بات کررہا ہو جو اس کی بات نہ سنتا ہو اور ایسے لوگوں کو خطبہ دے رہا ہو جن میں کوئی اس کا خطبہ نہ سنتا ہو اور یہ ایسی سفاہت ہے کہ شریعت اس سے پاک ہے اور اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ جو آدمی خطبہ کے وقت بات کرتا ہو وہ اس گدھے کی طرح ہے جو کتابیں لادے ہو ! تو بالکل اسی طرح اس وقت بھی ہوگا کہ جب وہ پڑھ رہا ہو اور امام اسے سنا رہا ہو'' ( فتاویٰ کبرٰی ابنِ تیمیہ ١٧٣ ، ١٧٤ ج٢ )
اور امام ترمذی نے فرمایا ہے :
''اصحابِ حدیث نے یہ مسلک اختیار کیا ہے کہ جب امام جہراً پڑھ رہا ہو تو مقتدی نہ پڑھے ! اور انہوں نے کہا ہے کہ امام کی خاموشی کی پیروی کرے (جب امام وقفہ کرے تو اس سکوت کے وقت پڑھ لے) '' ١
میں عرض کرتا ہوں کہ یہ اس لیے ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا ہے
١ سنن ترمذی ص ٤٢ بَابُ مَا جَائَ فِیْ تَرْکِ الْقِرَائَ ةِ خَلْفَ الْاِمَامِ اِذَا جَہَرَ بِالْقِرَائَ ةِ
'' جب قرآنِ پاک پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو''
اور جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کا ارشاد صحیح حدیث میں آیا ہے کہ
''جب امام پڑھے تو تم متوجہ ہوکر خاموش رہو''
یہ روایت صحیح مسلم میں ہے اور ابنِ ابی شیبہ نے اپنے مُصَنَّفْ میں سند ِ صحیح سے یہ روایت دی ہے (حوالہ اور سند عربی متن میں ہے) کہ
''امام اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ پڑھے تو تم متوجہ ہوکر خاموش رہو'' ١
حافظ نیموی نے اس حدیث کو حدیث ِ صحیح قرار دیا ہے !
اور امام نسائی نے اسی سند سے اور ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت دی ہے۔ اور اس کے لیے ایک باب باندھا ہے عنوان ہی آیت کی تفسیر کا ہے :
بَابُ تَاوِیْلِ قَوْلِ اللّٰہِ عَزَّ وَ جَلَّ وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ
آپ یہ دیکھیے کہ ابنِ تیمیہ کے فتوے سے اور اصحاب ِ حدیث کے قول سے یہ معلوم ہورہا ہے کہ سلف میں کوئی بھی جہری نماز میں امام کے ساتھ نہیں پڑھا کرتا تھا اور یہ ابوخالد عبدالوکیل صاحب اور ان کے مؤیدین مذاہب ِسلف سے واقف نہیں ہیں اور انہوں نے دوسری جانب کی صحیح مرفوع حدیثوں کو بالکل نظر انداز کردیا اسی طرح انہوں نے کراہت قراء ت خلف الامام کے آثار کو بھی نہیں دیکھا اورہم ان شاء اللہ یہ بیان کریں گے
چنانچہ صحیح و مرفوع احادیث میں سے وہ روایات بھی ہیں جو ابنِ ہمام رحمة اللّٰہ علیہ نے تحریر فرمائی ہیں کہ موطا امام محمد میں ہے جناب ِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا
''جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو تو یقینا امام کا پڑھ لینا ہی مقتدی کا پڑھنا ہے''
مسند احمد بن منیع میں ہے کہ جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
١ آثار السنن ص ٨٦ ج١
''جس نماز پڑھنے والے کا امام ہو تو امام کا پڑھنا مقتدی کا پڑھنا ہے''
یہی روایت عبد اللّٰہ بن حمید نے دوسری سند سے مرفوعاً نقل کی ہے !
ابنِ ہمام رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ کی پہلی حدیث کی سند شرطِ مسلم پر صحیح ہے
یہ حضرات سفیان ، شریک ، جریر اور ابوالزبیر ہیں جنہوں نے اس حدیث کو صحیح سندوں سے مرفوعاً روایت کیا ہے لہٰذا ان حضرات ١ کو ان لوگوں میں شمار کرنا باطل ہے جنہوں نے روایت مرفوعاً نہیں دی (بلکہ انہوں نے روایت جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم سے مرفوعاً نقل کی ہے) ( فتح القدیر ص ٢٣٩ ج١ )
احمد بن منیع امام بخاری کے استاد ہیں صحیح بخاری میں ص ٨٤٨ پر ج٢ میں ان سے انہوں نے روایت دی ہے۔ اسی طرح اسحاق ازرق سے ص ٢٢٤ ج١ میں اور موسٰی بن ابی عائشہ سے ص ١٠١٨ پر جلد دوم میں روایات دی ہیں یہ سب رجالِ بخاری ہیں ۔
اس روایت کو ابنِ ابی شیبہ رحمة اللّٰہ علیہ نے اپنے مُصَنَّفْ میں صحیح سند سے جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ ''جس آدمی کا امام ہو تو امام کا پڑھ لینا مقتدی کا پڑھ لینا ہے'' ٢
اس روایت میں ابوالزبیر آتے ہیں یہ محمد بن مسلم المکی ہیں ان سے امام بخاری نے اپنی صحیح ص ٢٩١ پر روایت دی۔
حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ نے یہی فتویٰ بھی دیا ہے جیسے کہ امام ترمذی نے یہ روایت سند ِ صحیح سے دی ہے کہ وہب بن کیسان نے حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ سے یہ فرماتے سنا کہ
''جس شخص نے کوئی رکعت ایسے پڑھی کہ اس میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھی ہو تو اس کی نماز نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو'' ٣
اس سے صاف واضح ہورہا ہے کہ حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ یہ جانتے تھے کہ جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا ہے کہ'' اُس آدمی کی نماز نہیں ہوئی جس نے سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی'' اور یہ بھی جانتے تھے کہ
١ جیسے کہ بیہقی رحمة اللّٰہ علیہ نے جزء القراء ت میں یہ کہا ہے۔ ٢ مُصَنَّفْ ص ٣٧٧ ج١
٣ جامع الترمذی بَابُ مَا جَائَ فِی الْقِرَائَ ةِ خَلْفَ الْاِمَامِ اِذَا جَہَرَ بِالْقِرَائَ ةِ
یہ حکم اس وقت ہے جب وہ امام کے پیچھے نہ نماز پڑھ رہا ہو ! ہاں جب وہ امام کے پیچھے ہو تو سورۂ فاتحہ نہ پڑھے ! امام ترمذی فرماتے ہیں امام احمد نے فرمایا :
''یہ جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صحابی ہیں انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے ارشاد مبارک کہ ''جو سورۂ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوئی'' کے یہ معنٰی بتلائے ہیں کہ یہ حکم اس صورت میں ہے کہ جب کوئی تنہا نماز پڑھ رہا ہو'' ١
منجملہ روایات کے حضرت ابن ِ عباس رضی اللّٰہ عنہ کی روایت بھی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کا اپنا آخری عمل یہی تھا کہ آپ نے خود سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی اور نماز میں امام کے پڑھ لینے کو کافی جانا ہے یہ واقعہ اس نماز کا ہے جو آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے اپنے مرضِ وفات میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کے پیچھے پڑھی۔ یہ روایت امام احمد نے اپنی مسند میں دی ہے کہ
(١) ''جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم جب تشریف لائے تو وہاں سے پڑھنا شروع فرمایا کہ جہاں تک ابوبکر رضی اللہ عنہ پڑھ چکے تھے'' (مسند احمد ص ٣٥٥ ج١ )
یہ حدیث صحیح السند ہے
(٢) اور اسی سند سے انہوں نے یہ روایت ص ٣٥٦ ج١ پر بھی دی ہے
(٣) اور ص ٢٣٢ ج١ میں مفصل الفاظ میں دی ہے کہ
''جب جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم علیل ہوئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں پھر آپ نے اپنی تکلیف میں تخفیف محسوس کی تو باہر تشریف لائے جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی تشریف آوری محسوس کی تو چاہا کہ پیچھے ہٹ جائیں جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے انہیں اشارہ فرمایا (روکا) اور ابوبکر کی بائیں جانب تشریف فرماہوگئے اور اس آیت سے آپ نے پڑھنا شروع کیا کہ جس آیت تک ابوبکر پڑھ چکے تھے'' یہ حدیث بھی صحیح السند ہے !
١ سنن ترمذی ص ٤٢
حافظ ابنِ حجر نے ارقم بن شرحبیل کے حالات بیان کرکے لکھا ہے :
''میں کہتا ہوں کہ احمد بن حنبل رحمة اللّٰہ علیہ نے ان کی حدیث سے استدلال کیا ہے اور ابنِ عبد البر رحمة اللّٰہ علیہ نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور ارقم ثقہ ہیں اور جلیل القدر'' ( تہذیب التہذیب ص ١٩٨ ج١ )
(٤) یہ روایت ابن ِ ابی شیبہ نے بھی لکھی ہے کہ حضرت ابن ِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ''جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم اپنے مرض کے دوران جب ابوبکر کے پاس تشریف لائے تو آپ نے اس جگہ سے پڑھنا شروع کیا جہاں تک ابوبکر پہنچے تھے'' ( مصنف ابن ابی شیبہ ص ١٩٤ ج٢)
امام طحاوی رحمة اللّٰہ علیہ نے یہ روایت اپنی کتاب مشکل الآثار میں ص ٢٨ پر دی ہے اور شرح معانی الآثار میں بَابُ صَلَاةِ الصَّحِیْحِ خَلْفَ الْمَرِیْضِ میں بیان فرمائی ہے ان حضرات کے علاوہ محدثین کرام کی ایک جماعت نے یہ حدیث بیان کی ہے ۔ابن ماجہ نے (اپنی سنن میں ) اور دارِ قطنی نے ابن الجارودنے ( اَلْمُنْتَقٰی میں )اور ابویعلٰی اور بزاد نے اپنی اپنی مسندوں میں ، ابن سعد نے طبقات میں ، طبری نے اپنی تاریخ میں اور ابن کثیر نے البدایة والنھایة میں ۔
ان روایات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم جب نماز میں شامل ہوئے تو آپ نے سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی اگر آپ پڑھتے تو جہراً پڑھتے کیونکہ نماز جہری تھی بلکہ آپ نے اس آیت سے پڑھنا شروع کیا ہے جہاں تک ابو بکر پڑھتے پڑھتے پہنچے تھے اور یہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کا آخری عمل ہے اسے ہی اختیار کیا جائے گا جیسا کہ امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کا آخر سے آخری عمل جو عمل ہوگا وہ لیا جائے گا ۔
(بخاری شریف ص٤١٥ ) (جاری ہے)




قسط : ٣٦
رحمن کے خاص بندے
( حضرت مولانا مفتی سید محمد سلمان صاحب منصور پوری ، استاذ الحدیث دارالعلوم دیوبند )
٭٭٭
نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم کا توبہ و استغفار کا اہتمام فرمانا :
سیدنا حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا
یٰاَیُّھَا النَّاسُ تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ فَاِنِّیْ اَتُوْبُ فِی الْیَوْمِ اِلَیْہِ مِائَةَ مَرَّةٍ ١
''اے لوگو ! اللہ کی طرف رجوع کرکے توبہ کیا کرو کیونکہ میں بھی ایک دن میں سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں ''
اور ایک روایت میں کہ سیّدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے :
وَاللّٰہِ اِنِّیْ لَا َسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ فِی الْیَوْمِ اَکْثَرَ مِنْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً ٢
''اللہ کی قسم ! میں اللہ تعالیٰ سے ایک دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ توبہ واستغفار کرتا ہوں ''
یہاں یہ سوال نہ کیا جائے کہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم تو ہر قسم کے گناہ سے محفوظ ومعصوم ہیں ، پھر آپ کا روزانہ سومرتبہ توبہ کرنے کا کیا مطلب ہے ؟
اس لیے کہ اس کا محمل یا تو یہ ہے کہ آپ نے امت کو تعلیم کے لیے توبہ واستغفار کا اہتمام فرمایا یا یہ کہ بہت سی وہ باتیں جو دوسرے امتیوں کے لیے اگرچہ قابل ِمواخذہ نہیں ، مگر آپ اپنی قلبی صفائی
١ صحیح مسلم کتاب الذکر والدعاء باب استجاب الاستغفار ج٢ ص٣٤٦ رقم الحدیث ٢٧٠٢
٢ صحیح البخاری کتاب الدعوات باب استغفار النبی صلی اللہ عليہ وسلم ... ج٢ ص٩٣٣ رقم الحدیث ٦٣٠٧
کی بنیاد پر بعض فی نفسہ جائز باتوں کو بھی اپنی عظمت وشان کے لحاظ سے نا مناسب سمجھتے تھے اور اس پر توبہ واستغفار فرمایا کرتے تھے ! ١
مومن پر گناہ کا بوجھ :
مومن کی ایک اہم علامت یہ ہے کہ اس سے اگر خدا نخواستہ کوئی گناہ صادر ہوجاتا ہے تو وہ اپنے دل میں سخت انقباض اور نہایت بوجھ محسوس کرتا ہے جبکہ فاسق وفاجر اور منافق شخص مسلسل گناہ کرتا رہتا ہے لیکن اسے کوئی پرواہ ہی نہیں ہوتی !
سیّدنا حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ نے ایک موقوف روایت میں اس بات کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ
اِنَّ الْمُؤْمِنَ یَرٰی ذُنُوْبَہ کَاَنَّہ قَاعِد تَحْتَ جَبَلٍ یَخَافُ اَن یَّقَعَ عَلَیْہِ وَاِنَّ الْفَاجِرَ یَرٰی ذُنُوْبَہ کَذُبَابٍ مَرَّ عَلٰی اَنْفِہ فَقَالَ بِہ ھٰکَذَا قَالَ اَبُوْ شِھَابٍ بِیَدِہ فَوْقَ اَنْفِہ ٢
''مومن اپنے گناہوں کو ایسا محسوس کرتا ہے گویا کہ وہ پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہو، اور اس بات سے ڈر رہا ہو کہ پہاڑ اس پر گر پڑے ! جبکہ فاجر شخص کی نظر میں گناہوں کی حیثیت اس مکھی کی طرح ہوتی ہے جو ناک پر بیٹھے، پھر اسے ہاتھ کے ذریعہ اڑا دیا جائے ''
اس مثال سے واضح ہوا کہ جو شخص گناہوں پر انقباض محسوس نہ کرے تو اس کا ایمان کامل نہیں ہے ! ! اور اگر آدمی اللہ کا خوف دل میں بٹھائے اور اپنے گناہوں سے ڈرتا رہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ضرور مغفرت فرماتے ہیں ! چنانچہ صحیح روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
''پرانی امتوں میں ایک ایسا شخص تھا (جو اگرچہ مومن تھا لیکن ) جس کے نامہ ٔ اعمال میں کوئی نیکی نہ تھی (اب وہ اپنے گناہوں پر بہت ڈرا ہوا تھا اس لیے) جب اس کے انتقال کا وقت آیا تو اس نے اپنے سب گھر والوں کو جمع کر کے یہ کہا کہ
١ مستفاد : فتح الباری شرح صحیح البخاری ج ١١ ص١٢٢ دارالکتب العلمیة بیروت
٢ صحیح البخاری کتاب الدعوات ج٢ ص٩٣٣ رقم الحدیث ٦٣٠٨
''جب میری موت آجائے تو مجھے جلا دینا اور میری راکھ کے دو حصے کرکے ایک حصہ خشکی میں اڑادینا اور ایک حصہ سمندر میں بہا دینا اس لیے کہ اللہ کی قسم اگر میں اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں آگیا تو وہ مجھے ایسا عذاب دیں گے کہ دنیا میں کسی کو نہ دیا ہو''
چنانچہ گھر والوں نے ایسا ہی کیا تو موت کے بعد اللہ تعالیٰ نے بر و بحر کو اس کے اجزاء حاضر کرنے کا حکم دیا پس جب سارے اجزاء جمع ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا
''تمہیں اس بات پر کس چیز نے آمادہ کیا ؟ '' تو اس شخص نے جواب دیا کہ
''اے رب ! میں نے آپ کے عذاب کے ڈر سے ایسا کیا'' ! !
تو نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ
''اللہ تعالیٰ نے اسی بات پر اس کی بخشش کا فیصلہ فرمادیا'' ١
اس سے اللہ تبارک کی وسعت ِرحمت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ! !
توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے :
جب تک آدمی کے بدن میں جان موجود ہو اور موت کے آثار ظاہر نہ ہوں اس وقت تک اس کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے ! نبی اکرم علیہ الصلٰوة والسلام نے ارشاد فرمایا
اِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِہ مَالَمْ یُغَرْغِرْ ٢
''اللہ تعالیٰ نزع کے عالم سے پہلے پہلے تک اپنے بندے کی توبہ قبول فرماتے ہیں ''
اسی طرح دنیا میں جب تک آخری درجہ کی علاماتِ قیامت (خروجِ دجال، خروجِ دابة الارض اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا) نہ ظاہر ہوں اس وقت تک توبہ کا دروازہ بند نہ ہوگا ! !
ارشادِ خداوندی ہے :
١ صحیح مسلم کتاب التوبة باب رحمة اللّٰہ تعالٰی ج٢ ص ٣٥٦ ، مجمع الزوائد کتاب التوبة
باب فیمن خاف من ذنوبة رقم الحدیث ١٧٤٨٧
٢ سنن الترمذی رقم الحدیث ٣٥٣٧ ، مجمع الزوائد رقم الحدیث ١٧٥٠٦
( یَوْمَ یَأْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُھَا لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْکَسَبَتْ فِیْ اِیْمَانِھَا خَیْرًا) ( سورة الانعام : ١٥٨ )
''جس دن تیرے رب کی نشانیوں میں سے بعض ظاہر ہوجائیں گی تو جو شخص پہلے سے مومن نہ ہو اس کا ایمان لانا یا جس نے پہلے سے نیکی نہ کی ہو (اس کا نیکی کرنا) کام نہ آئے گا''
اور حضرت صفوان بن عسال رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا
لِلتَّوْبَةِ بَاب بِالْمَغْرِبِ مَسِیْرَةَ سَبْعِیْنَ عَامًا لَا یَزَالُ کَذَالِکَ حَتّٰی یَأْتِیَ بَعْضُ اٰیَاتِ رَبِّکَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ مِن مَّغْرِبِھَا ١
''مغرب کی جانب توبہ کا ایک دروازہ ہے جو ستر سال کی مسافت کے بقدر چوڑا ہے وہ اسی طرح کھلا رہے گا یہاں تک کہ تیرے رب کی بعض علامتیں یعنی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا (وغیرہ) ظاہر ہوجائیں ''
سیدناحضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا
اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَبْسُطُ یَدَہ بِاللَّیْلِ لِیَتُوْبَ مُسِیْئُ النَّھَارِ وَیَبْسُطُ یَدَہ بِالنَّھَارِ لِیَتُوْبَ مُسِیْئُ اللَّیْلِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَّغْرِبِھَا۔ ٢
''اللہ تعالیٰ رات میں ہاتھ کھولے رکھتے ہیں تاکہ دن کا گنہگار توبہ کر لے اور دن میں ہاتھ کشادہ رکھتے ہیں کہ رات میں گناہ کرنے والا باز آجائے اور یہ سلسلہ (قیامت کے قریب) سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے وقت تک جاری رہے گا''
١ کنز العمال کتاب التوبة من قسم الاقوال ص٨٨ رقم الحدیث ١٠١٩١
٢ صحیح مسلم کتاب التوبة باب قبول التوبة من الذنوب ج٢ ص٣٥٨ رقم الحدیث ٢٧٥٩
اور سیّدنا حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما کی روایت ہے کہ قریش ِ مکہ نے نبی اکرم علیہ السلام سے یہ درخواست کی کہ
''آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا فرمائیے کہ وہ ہمارے لیے صفا پہاڑ کو سونا بنادیں ، پس اگر وہ سونا بن جائے گا تو ہم آپ کی بات مان لیں گے''
چنانچہ نبی اکرم علیہ الصلٰوة والسلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تو حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضر ِ خدمت ہوئے اور عرض کیا کہ
''رب العالمین نے آپ کو سلام بھیجا ہے اور یہ فرمایا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو ان کے لیے صفا پہاڑ کو سونا بنادیا جائے لیکن اس کے باوجود اگر ان میں سے کوئی بھی انکار کرے گا تو اس کو ایسا عذاب دوں گا کہ آج تک عالم میں ایسا عذاب کسی کو نہ دیا ہوگا ! اور اگر آپ چاہیں تو میں ان کے لیے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دوں ''
تو رحمت ِ عالم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ ''میں تو توبہ اور رحمت کا دروازہ ہی چاہتا ہوں '' ١
چنانچہ یہ دروازہ آج بھی کھلا ہوا ہے پس بڑے سے بڑا گنہگار کیوں نہ ہو، اسے ہرگز اللہ سے مایوس نہیں ہونا چاہیے ! !
بندے کی توبہ سے اللہ کو بہت خوشی ہوتی ہے :
سیّدنا حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا
لَلّٰہُ اَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِہِ الَّذِیْ اَسْرَفَ عَلٰی نَفْسِہ مِنْ رَجُلٍ اَضَلَّ رَاحِلَتَہ ، فَسَعٰی فِیْ بُغَائِھَا یَمِیْنًا وَّ شِمَالًا حَتّٰی اَعْیَا وَ أَیِسَ مِنْھَا ، وَظَنَّ اَنَّہ قَدْ ھَلَکَ نَظَرَ فَوَجَدَھَا فِیْ مَکَانٍ لَمْ یَکُنْ یَرْجُوْا اَنْ یَّجِدَھَا، فَاللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِہِ الْمُسْرِفِ مِنْ ذٰلِکَ الرَّجُلِ بِرَاحِلَتِہ حِیْنَ وَجَدَھَا ۔ ٢
١ مجمع الزوائد باب التوبة رقم الحدیث ١٧٤٩٦
٢ مجمع الزوائد رقم الحدیث ١٧٤٩٨ ومثلہ فی صحیح مسلم کتاب التوبة ج٢ ص٣٥٤
''یقینا اللہ تبارک وتعالیٰ اس بندے کی توبہ سے جس نے (گناہ کر کے) اپنے اوپر زیادتی کررکھی ہو اس شخص سے زیادہ خوش ہوتے ہیں جس نے (دورانِ سفر) اپنی سواری گم کردی ہو پھر وہ اس کی تلاش میں دائیں بائیں دوڑ لگائے، یہاں تک کہ جب وہ تھک کر مایوس ہوجائے اور اپنی ہلاکت کا گمان کرنے لگے تو اچانک وہ دیکھے اور اس سواری کو ایسی جگہ پائے جہاں ملنے کی امید نہ تھی تو جتنی خوشی سواری ملنے پر اس شخص کو ہوگی اس سے زیادہ خوشی اللہ تعالیٰ کو اپنے گناہگار بندے کی توبہ سے ہوتی ہے''
بندوں پر اللہ تعالیٰ کی مہربانی :
امیر المومنین سیّدنا حضرت عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم کی خدمت میں کچھ قیدی پیش کیے گئے تو ان میں ایک عورت تھی جو اپنے دودھ پیتے بچے کو (بے قراری سے) تلاش کر رہی تھی اور جب اسے بچہ مل گیا تو اس نے لپک کر اسے گود میں لیا اور دودھ پلانے لگی تو نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ
''بتاؤ ! کیا یہ عورت خود اپنے بچہ کو آگ میں ڈالنا گوارا کرے گی '' ؟ ؟
تو صحابہ نے عرض کیا کہ ''یہ ہرگز تیار نہ ہوگی ''
تو نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا لَلّٰہُ اَرْحَمُ بِعِبَادِہ مِنْ ھٰذِہ بِوَلَدِھَا ١
''یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس عورت کے اپنے بچہ پر سے زیادہ مہربان اور رحم فرمانے والے ہیں ''
اور سیّدنا حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم علیہ الصلٰوة والسلام راستہ میں تشریف لے جارہے تھے اور کچھ صحابہ بھی آپ کے ساتھ تھے تو ایک چھوٹا بچہ سڑک پر کھڑا تھا ،جب اس کی والدہ نے لوگوں کو آتے دیکھا تو اسے یہ خطرہ ہوا کہ اس کا بچہ کہیں لوگوں کے پیروں میں نہ آجائے،
١ صحیح مسلم کتاب التوبة ج٢ ص ٣٥٦ رقم الحدیث ٢٧٥٤
چنانچہ وہ بیٹا بیٹا کہہ کر دوڑتی ہوئی آئی اور بچہ کو گود میں اٹھا لیا تو یہ منظر دیکھ کر لوگوں نے کہا ''اے اللہ کے رسول ! یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈالنا گوارا نہیں کرسکتی '' تو نبی اکرم علیہ الصلٰوة والسلام نے ان کو تائید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا
وَ لَا اللّٰہُ یُلْقِیْ حَبِیْبُہ فِی النَّارِ ( مجمع الزوائد رقم الحدیث ١٧٦٠٩)
''اور اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اپنے محبوب بندے کوآگ میں نہیں ڈالیں گے''
پس جورب ایسا مہربان ہو تو اس کی رحمت سے مایوسی کا کیا سوال ہے ؟ ؟
توبہ سے گناہ بالکل مٹ جاتے ہیں :
سیّدنا عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا
اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّ نْبِ کَمَن لَّا ذَنْبَ لَہ (مجمع الزوائد رقم الحدیث ١٧٥٢٧ )
''گناہ سے توبہ کرنے والا شخص ایسا ہوجاتا ہے گویا اس نے گناہ ہی نہ کیا ہو''
اور ام المؤمنین سیّدتنا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص جن کا نام حبیب بن الحارث تھا وہ نبی اکرم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ''اے اللہ کے رسول ! میں بہت زیادہ گناہ کرنے والا آدمی ہوں '' تو نبی اکرم علیہ السلامنے فرمایا کہ ''اے حبیب اللہ سے توبہ کر لیا کرو'' تو انہوں نے عرض کیا کہ ''میں توبہ کرتا ہوں مگر پھر گناہ ہوجاتا ہے'' تو پیغمبر علیہ السلامنے فرمایا کہ ''جب گناہ ہوجائے جبھی توبہ کر لو'' توانہوں نے عرض کیا ''اے اللہ کے رسول ! پھر تو میرے گناہ بہت ہوجائیں گے '' تو نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے بڑا امید افزاء جواب ارشاد فرمایا
عَفْوُ اللّٰہِ اَکْبَرُ مِنْ ذُنُوْبِکَ یَا حَبِیْبَ ابْنَ الْحَارِثِ ! ( مجمع الزوائد : ١٧٥٣١ )
''اے حبیب بن الحارث ! اللہ کی معافی تمہارے گناہوں سے کہیں بڑھ کرہے''
اللہ اکبر ! دیکھیے عفو وکرم اور مغفرت کا کیسا پیارا انداز ہے ؟ ! (جاری ہے)




گوشہ محمود محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی نجی زندگی
( افادات : شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب )
عنوانات و نظر ثانی : ڈاکٹر محمد امجد غفرلہ
٭٭٭
نَحْمَدُہ وَ نُصَلِّی عَلٰی رَسُوْلِہ الْکَرِیْمِ اَمَّابَعْدُ !
انسان کی سیرت اور کردار کی تعمیر اس کے دنیا میں آتے ہی شروع ہو جاتی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات میں اس بات کے بھی اشارے ملتے ہیں کہ سیرت و کردار کی تعمیر جسمانی تعمیر کے ساتھ ساتھ بطن ِمادر ہی میں شروع ہو جاتی ہے طبی تحقیقات بھی اس پر کافی شاہد ہیں انسان کی سیرت اور مزاج کے ظہور کی دو جگہیں ہوتی ہیں ایک گھر کے اندر کی زندگی ، دوسری گھر سے باہر کی شہری زندگی !
عام طور پر انسان کا گھریلومزاج و طبیعت بیرونی مزاج و طبیعت سے مختلف ہوتا ہے، بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخص کی گھریلو زندگی اور بیرونی زندگی ایک جیسی معتدل متوازن اور اعلیٰ اخلاق کی حامل ہو البتہ انسان کے اعلیٰ اخلاق اور معتدل مزاجی کے پرکھنے کی اصل کسوٹی اس کی نجی اور گھریلو زندگی ہی ہوتی ہے جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آیا اس کی بیرونی اور شہری زندگی کے معاملات اور افعال حقیقت پر مبنی ہیں یا مصنوعی پن اور اداکاری پر مشتمل ہیں !
اسلام میں نجی زندگی کی اہمیت :
موجودہ مغرب زدہ دور میں انسان کی نجی زندگی سے بحث نہیں کی جاتی بلکہ اس سے بحث کرنا ایک معاشرتی خطا اور لغزش قرار دیا جاتا ہے ! مغرب اور اکثر غیر مسلم اقوام میں یہی اصول کار فرما ہے جس نے وہاں کے عائلی اور خاندانی نظام کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے جس کے نتیجہ میں جانوروں جیسے مادرپدر آزاد معاشرے نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ! بدقسمتی سے مغرب کی نقالی کی بدولت یہی خرابیاں ہمارے معاشرے میں بھی جڑیں پکڑتی جارہی ہیں !
اسلام ہر فرد اور خاص طور پر ایسے افراد کی نجی زندگی کے گوشوں پر گہری نظر رکھتا ہے جو معاشرے اور سوسائٹی کے اجتماعی مسائل کا بار اٹھائے ہوئے ہوں یا اس کی خواہش رکھتے ہوں کیونکہ نجی زندگی کے ابتدائی اور سخت امتحان میں کامیابی کی صورت میں ہی ان سے بیرونی امتحان و آزمائش میں کامیابی کی توقع کی جاسکتی ہے ! !
رحمة للعالمین صلی اللہ عليہ وسلم کی نجی زندگی :
اس لیے ہم محسن انسانیت رحمة للعالمین حضرت محمد صلی اللہ عليہ وسلم کی گھریلو زندگی کے چند حالات پیش کریں گے جن سے نجی زندگی میں رہنمائی کے ساتھ ساتھ آپ کی بلند نظری، اعلیٰ ظرفی اور اخلاقِ عظیمہ کی شان نمایاں ہوتی ہے اور پتہ چلتا ہے کہ جن نظریات وافکار کی تعلیم آپ امت کو دے رہے ہیں وہ حقیقت اور سچائی پر مبنی ہیں ! آپ سب سے پہلے خود اس تعلیم سے متاثر ہیں اور اس پر عمل کر رہے ہیں بعد میں دوسروں کو اس کی دعوت دے رہے ہیں اس بات کی شہادت اللہ کاکلام ان الفاظ میں دیتا ہے
( وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ ) ١ ''اور بلاشک وشبہ آپ اخلاق کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں ''
خانگی زندگی میں آپ کے اپنی ازواجِ مطہرات ، اولاد ، عزیز واقارب ، خدام اور غلاموں سے روّیے اور حسن سلوک کے چند واقعات پیش کیے جاتے ہیں حدیث شریف میں آتا ہے کہ آپ نے فرمایا
خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہ وَاَنَا خَیْرُکُمْ لِاَھْلِیْ ٢
''تم میں وہ شخص بہت اچھا ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے اچھا ہو
اور میں تم سب سے بڑھ کر اپنے گھر والوں کے لیے اچھا ہوں ''
اہلِ خانہ کی تربیت :
ہمہ جہت مصروفیات کے باوجود جو آپ کو ہر وقت درپیش رہتی تھیں آپ اپنی اولاد اور اہل خانہ کی تعلیم وتربیت اور حقوق کی ادائیگی کا پوری طرح خیال رکھا کرتے تھے حدیث شریف میں آتا ہے کہ کبھی آپ اپنی ازواج کو سال بھر کا نفقہ یکبارگی عنایت فرما دیا کرتے لیکن آپ کی تربیت کا ان پر ایسا گہرا اثر تھا کہ وہ از خود اپنے نفقہ میں سے فقرا پر خرچ کرتی رہتی تھیں یہاں تک کہ کچھ باقی نہ رہتا !
١ سورة القلم : ٤ ٢ مشکٰوة المصابیح کتاب النکاح رقم الحدیث ٣٢٥٢
نبی علیہ السلام کی گھر یلو مصروفیات :
آپ گھر کے معمولی کام اپنے دست ِمبارک سے خود انجام دیتے اور اس میں بالکل عار محسوس نہ فرماتے بخاری شریف میں ہے کہ حضرت اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ نبی علیہ السلام کی گھر میں کیا مصروفیات ہوتی تھیں ؟ انہوں نے فرمایا :
یَکُوْنُ فِیْ مِھْنَةِ اَھْلِہ تَعْنِیْ خِدْمَةَ اَھْلِہ فَاِذَا حَضَرَتِ الصَّلٰوةُ خَرَجَ اِلَی الصَّلٰوةِ ١
''یعنی آپ اپنے گھر والوں کے ساتھ کام کاج میں لگے رہتے تھے جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے ''
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک دوسری حدیث میں فرماتی ہیں :
'' رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم اپنا جوتا گانٹھ لیا کرتے اور اپنا کپڑا سی لیا کرتے اور اپنے گھر کے کام اس طرح انجام دیتے جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھر میں کام کرتا ہے
اورفرماتی ہیں :
آپ بشر تھے ،...........،بکری کا دودھ خود نکال لیا کرتے تھے اور اپنے کام خود کرلیتے تھے '' ٢
آپ علیہ السلام کا انداز گفتگو :
گھر میں آپ کی گفتگو کا انداز بھی بہت اچھا ہوتا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں
لَمْ یَکُنْ یَسْرُدُ الْحَدِیْثَ کَسَرْدِکُمْ کَانَ یُحْدِثُ حَدِیْثًا لَوْعَدَّہُ الْعَادُّ لَا َحْصَاہُ ٣
''یعنی نبی علیہ السلام تم لوگوں کی طرح تیز تیز نہیں بولا کرتے تھے بلکہ آپ کی گفتگو ایسی ٹھہر ٹھہر کر ہوتی تھی کہ اگر کوئی اس کو محفوظ کرنا چاہتا تو کر لیتا '' ! !
١ صحیح البخاری کتاب الاذان رقم الحدیث ٦٧٦
٢ ترمذی کذا فی المشکوٰ ة المصابیح رقم الحدیث ٥٨٢١ ج٢ ص ٥٢٠
٣ مشکوٰة المصابیح کتاب الفضائل و الشمائل رقم الحدیث ٥٨١٤
حضور صلی اللہ عليہ وسلم کا ضبط اور قوت برداشت :
حضرت عائشہ آپ کے اندر انتہائی ضبط اور قوت برداشت کی شہادت دیتے ہوئے فرماتی ہیں
مَا ضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم لِنَفْسِہ شَیْاً قَطُّ بِیَدِہِ وَلَا امْرَأَةً وَلَا خَادِمًا اِلَّا اَنْ یُّجَاھِدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَمَا نِیْلَ مِنْہُ شَیْئ قَطُّ فَیَنْتَقِمُ مِنْ صَاحِبِہ اِلاَّ اَنْ یُّنْتَھَکَ شَیْیئ مِنْ مَحَارِمِ اللّٰہِ فَیَنْتَقُمُ لِلّٰہِ ۔ ١
''آپ نے اپنے ہاتھ سے بیوی اور خادم میں سے کسی کو کبھی معمولی سا بھی نہیں مارا سوائے اس کے کہ آپ (مجاہد تھے) اللہ کے راستے میں جہاد کرتے تھے ۔اور ایسا بھی کبھی نہیں ہوا کہ آپ کی ذات کو کسی سے تکلیف پہنچی ہو اور آپ نے تکلیف پہنچانے والے سے انتقام لیا ہو اِلایہ کہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ کوئی چیز پامال کی گئی ہو تو اس کا آپ اللہ کے لیے انتقام لیتے ''
واقعی ایک مجاہد اور نبی کی شان ایسی ہی ہونی چاہیے کہ اس کی دوستی اور اس کا انتقام صرف اللہ کے لیے ہو اپنی ذات کے لیے نہیں ! !
حدود اللہ کا احترام :
آپ کے قلب مبارک میں اللہ تعالیٰ کی حدود کا اس درجہ احترام تھا کہ ایک بار چوری ثابت ہوجانے پر کسی قریشی خاتون کے ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا ! خاتون کے خاندان والوں نے اس کے لیے سفارش کرائی آنجناب صلی اللہ عليہ وسلم بہت خفا ہوئے اور فرمایا کہ
''اگر میری بیٹی فاطمہ بنت محمد( صلی اللہ عليہ وسلم ) نے بھی چوری کی ہوتی تو میں ان کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ''
حالانکہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کی بہت چہیتی صاحبزادی تھیں اس ارشاد سے غیروں کے ساتھ ساتھ آپ نے اپنے عزیز واقارب کو بھی خبردار فرمایا کہ میری قرابت کے سبب حدود اللہ میں مجھ سے کوئی رعایت کی توقع نہ رکھے ! ! !
١ صحیح مسلم کذا فی المشکوٰة المصابیح کتاب الفضائل و الشمائل رقم الحدیث ٥٨١٧ ج٢ ص٥١٩
ازواج مطہرات سے تعلق :

آپ کے اپنی ازواج سے تعلقات کس قدر خوشگوار تھے اس کا اندازہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے وہ فرماتی ہیں میں ایامِ مخصوصہ میں پانی پیتی پھر پانی کا وہ برتن نبی علیہ السلام کو دے دیتی تو آپ برتن کے کنارے پر اُسی جگہ لب مبارک رکھتے جہاں میں نے رکھے ہوتے تھے ! اسی طرح میں دانتوں سے ہڈی پر سے گوشت کھا لیتی پھر وہ ہڈی نبی علیہ السلام کو دیتی آپ دندان مبارک سے اسی جگہ سے گوشت نوچتے جہاں سے میں نے نوچا ہوتا ! ١
ایک اور جگہ ارشاد فرماتی ہیں کہ ایامِ مخصوصہ میں میری گود میں آپ ٹیک لگاتے پھر تلاوت قرآن پاک فرماتے ! ٢
اسی نوعیت کے بہت سے واقعات دیگر ازواج مطہرات کے بھی احادیث میں منقول ہیں ان واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے نبوی رعب اور دبدبے کو شوہر وزَن (میاں بیوی)کی باہمی بے تکلفی میں حائل نہ ہونے دیتے اور اس قسم کے حجابات کو از خود ختم فرما دیتے تاکہ فطری جذبات کی پوری طرح تکمیل ہو !
اسی طرح افراد خانہ میں سے کسی سے ایسی غلطی سرزد ہو جاتی جو ان کی شان کے خلاف ہوتی تو آپ فوراً مناسب تادیبی کارروائی فرماتے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
قُلْتُ لِلنَّبِیِّ صلی اللہ عليہ وسلم حَسْبُکَ مِنْ صَفِیَّةَ کَذَا وَکَذَا تَعْنِیْ قَصِیْرَةً فَقَالَ لَقَدْ قُلْتِ کَلِمَةً لَوْ مُزِجَ بِھَا الْبَحْرُ لَمَزَجَتْہ رواہ احمد و ترمذی و ابواداود ٣
'' میں نے کسی بات پر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نبی علیہ السلام سے کہا کہ آپ کو تو بس صفیہ کافی ہیں ایسی ویسی ہیں ان کی مراد اُن کا چھوٹا قد تھا !
١ رواہ مسلم کذا فی المشکوٰة المصابیح کتاب الصلٰوة رقم الحدیث ٥٤٧ ج ١ ص٥٦
٢ متفق علیہ کذا فی المشکوٰة المصابیح کتاب الصلٰوة رقم الحدیث ٥٤٨ ج ١ ص٥٦
٣ مشکوٰة المصابیح کتاب الفضائل و الشمائل رقم الحدیث ٤٨٥٢ ج٢ ص٤١٤
آپ نے فرمایا کہ تم نے ایسا خراب جملہ کہا ہے کہ اگر اس کو سمندر میں ملا دیا جائے تو سارا سمندر عیب دار ہوجائے''
ایک اور جگہ آپ کے گھریلو خادم خاص حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات پہنچی کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یہودی کی بیٹی کہا ہے تو وہ رو پڑیں اس دوران نبی علیہ السلام تشریف لے آئے اور دریافت فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے رلایا ہے ؟ تو انہوں نے شکایت کی کہ مجھے حفصہ نے یہودی کی بیٹی کہا ہے ! نبی علیہ السلام نے تسلی دی اور فرمایا کہ تم تو نبی کی اولاد ہو (یعنی حضرت ہارونعلیہ السلام کی) اور تمہارے چچا بھی نبی تھے (یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام) اور اب تم نبی کی بیوی ہو ! تو کیونکر حفصہ تمہارے مقابلہ میں فخر کرتی ہیں پھر آپ نے حضرت حفصہ سے فرمایا '' اے حفصہ تم اللہ سے ڈرو'' ١
اپنی اولاد سے محبت :
آپ اپنی اولاد سے بھی بہت محبت فرماتے تھے حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی علیہ السلام سے زیادہ اپنے عیال سے محبت کرنے والا نہیں دیکھا ! آپ کے صاحبزادے حضرت ابراہیمعلیہ السلام عوالی مدینہ میں ایک خاتون کی سپردداری میں تھے جو دودھ پلایا کرتی تھیں آپ ہمارے ساتھ وہاں تشریف لے جاتے ان کو گود میں لیتے اور چومتے پھر واپس تشریف لے آتے ٢
حضرت برا ء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبیعلیہ السلام کو اس حال میں دیکھا کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ آپ کے کاندھے پر تھے اور آپ ان کو یہ دعا دے رہے تھے
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُحِبُّہُ فَاَحِبَّہ ٣ ''اے اللہ مجھے ان سے محبت ہے تو بھی ان سے محبت فرما''
اسی طرح کا ایک اور واقعہ حضرت ابوہریرہ رضی ا للہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ دن کے کسی حصہ میں
١ مشکوٰة المصابیح کتاب المناقب باب مناقب ازواج النبی صلی اللہ عليہ وسلم رقم الحدیث ٦١٩٢ ج ٢ ص٥٧٤
٢ رواہ مسلم کذا فی المشکوٰة کتاب الفضائل و الشمائل رقم الحدیث ٥٨٣٠ ص٥٢٠ ج ٢
٣ مشکوٰة المصابیح کتاب المناقب باب مناقب اہل بیت النبی صلی اللہ عليہ وسلم رقم الحدیث ٦١٤٢ ج ٢ ص٥٦٨
میں نبی علیہ السلام کے ساتھ نکلا حتیٰ کہ آپ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں تشریف لائے اور دریافت فرمایا کیا چھوٹو ادھر ہے ؟ کیا چھوٹو ادھر ہے ؟ آپ کا سوال حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں تھا، اتنے میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ دوڑے دوڑے آئے (جو کہ اس وقت بہت چھوٹے بچے تھے) اور ایک دوسرے کے گلے لگ گئے پھر آپ نے فرمایا
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُحِبُّہُ فَاَحِبَّہ وَ اَحِبَّ مَنْ یُّحِبُّہ ١
''اے اللہ مجھے ان سے محبت ہے تو بھی ان سے محبت فرما اور جو ان سے محبت رکھے ان سے بھی محبت فرما''
آپ اپنی چہیتی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بہت شفقت کا معاملہ فرماتے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر نبی علیہ السلام سے مشابہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا وہ بات چیت ،شکل وصورت اور سیرت میں نبی علیہ السلام سے سب سے زیادہ مشابہ تھیں وہ جب آپ کے پاس آیا کرتیں تو آپ ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہوتے ان کا ہاتھ پکڑتے ان کو چومتے اور اپنی جگہ ان کوبٹھاتے ! اسی طرح جب آپ ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ آپ کے استقبال کے لیے کھڑی ہو جاتیں آپ کا دست مبارک پکڑتیں آپ کو چومتیں اور اپنی جگہ پر بٹھا دیتیں ، حدیث شریف کے الفاظ اس طرح ہیں
کَانَتْ اِذَا دَخَلَتْ عَلَیْہِ قَامَ اِلَیْھَا فَاَخَذَ بِیَدِھَا فَقَبَّلَھَا وَ اَجْلَسَھَا فِیْ مَجْلِسِہ وَکَانَ اِذَا دَخَلَ عَلَیْھَا قَامَتْ اِلَیْہِ فَاَخَذَتْ بِیَدِہ فَقَبَّلَتْہُ وَ اَجْلَسَتْہُ فِیْ مَجْلِسِھَا ٢
گھریلو خدام سے سلوک :
گھریلو خدام اور غلاموں کے ساتھ آپ کا رویہ انتہائی مشفقانہ اور خدا ترسی پر مبنی تھا حضرت زید بن حارثہ جو آپ کی جان نثار زوجہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے غلام تھے ان کو حضرت خدیجہ نے بطورِ ہدیہ نبیعلیہ السلامکی خدمت میں پیش کر دیا ،نبی علیہ السلامنے ان کو آزاد کر دیا لیکن وہ
١ مشکوٰة المصابیح کتاب المناقب باب مناقب اہل بیت النبی صلی اللہ عليہ وسلم رقم الحدیث ٦١٤٣ ج ٢ ص٥٦٨
٢ ابوداود کذا فی المشکوٰة المصابیح کتاب الاداب باب القیام رقم الحدیث ٤٦٨٨ ج ٢ ص٤٠٢
نبی علیہ السلامکی خدمت ہی میں رہے آپ نے ان کو منہ بولا بیٹا بنا لیا اور بیٹوں جیسا معاملہ ان کے ساتھ رکھا حتیٰ کہ لوگ ان کو سچ مچ نبی علیہ السلام کا بیٹا سمجھنے لگے اور زید بن محمد کہہ کر پکارا کرتے حضرت زید کے بھائی جبلة بن حارثہ کو پتہ چلا کہ ان کے بھائی مکہ مکرمہ میں ہیں تو وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ا ور درخواست کی کہ میرے بھائی کو میرے ساتھ وطن واپس بھیج دیجیے آپ نے فرمایا یہ تمہارے سامنے ہیں اگر تمہارے ساتھ جانا چاہتے ہیں تو میں ان کو نہیں روکوں گا ! اس پر حضرت زید نے نبیعلیہ السلام کو جواب دیا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَاللّٰہِ لَا اَخْتَارُ عَلَیْکَ اَحَدًا یعنی اے اللہ کے رسول اللہ کی قسم میں آپ پر کسی دوسرے کو ترجیح نہیں دے سکتا (اور بھائی کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا) ان کے بھائی کہا کرتے تھے فَرَأَیْتُ رَأْیَ اَخِیْ اَفْضَلَ مِنْ رَأْیِیْ ''میں دیکھتا ہوں کہ میرے بھائی کی رائے میری رائے سے بہتر تھی '' ١
اس قسم کے دسیوں واقعات ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کا اپنے ذاتی خدام سے سلوک اتنا اچھا تھا کہ وہ آپ کے جانثار ہو جاتے اور برضا ورغبت تمام زندگی آپ کی خدمت میں گزار دیتے اور آپ سے ایک لمحہ کی جدائی بھی ان کو گوارہ نہ ہوتی !
مذکورہ بالا واقعات سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ آپ زندگی کے ہر پہلو کے اعتبار سے جس طرح سب پر ممتاز اور برتر ہیں اسی طرح نجی زندگی کے اعتبار سے بھی آپ کا ہمسر اور ہم پلہ کوئی نہیں ہوسکتا ! لہٰذا بجز اس بات کے کوئی چارہ نہیں ہے کہ ہم زندگی کے ہر شعبہ میں آنکھیں بند کرکے آپ کی پیروی کریں کیونکہ دنیا و آخرت کی کامیابیاں اور فلاح اسی میں ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
( لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَة حَسَنَة ) ( سورة الاحزاب : ٢١ )
'' البتہ تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی بہترین نمونہ ہے ''
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنی شب وروز کی زندگی آپ کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق گزاریں
( مطبوعہ ماہنامہ انوارِ مدینہ اگست ١٩٩٦ء )
١ مشکوٰة المصابیح کتاب المناقب باب مناقب اہل بیت النبی صلی اللہ عليہ وسلم رقم الحدیث ٦١٧٤ ج٢ ص٥٧١
٭٭٭




اہم اعلان
٭٭٭
شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب نور اللہ مرقدہ کی شخصیت و خدمات پر انوار مدینہ کی ایک خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں معاصرین ، تلامذہ ، متعلقین ومحبین حضرات کے تاثرات بھی شامل ہوں گے ! جو حضرات اپنے مضامین و مقالات ، تاثرات ، تعزیتی پیغامات یا منظوم کلام ارسال فرمانا چاہیں ، جلد از جلد درج ذیل پتے ، ای میل یا واٹس ایپ نمبر پر ارسال فرما دیں
علاوہ ازیں اگر کسی کے پاس شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب کے ہاتھ کا لکھا ہوا مکتوب یا تحریر موجود ہو تو اسے بھی ارسال فرما دیں !
جو حضرات اپنے تاثرات زبانی بتانا چاہیں ، وہ اپنے نام ، پتے اور مکمل تعارف کے ساتھ درج ذیل نمبر پر صوتی پیغام (وائس میسج ) بھی ارسال فرما سکتے ہیں
اگر مضمون ، مقالہ ، مکتوب یا تاثرات کمپوز شدہ ہوں تو ان کی کمپیوٹر فائل بھی ای میل یا واٹس ایپ فرمادیں تو نوازش اور ادارے کے ساتھ دوہرا تعاون ہوگا
رابطہ : ڈاکٹر محمد امجدغفرلہ
خادم جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد ١٩ کلومیٹر شارع رائیونڈ لاہور
jmj786_56@hotmail.com
dramjad71@gmail.com
923334249302+




دارالافتائ
جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد شارع رائیونڈ لاہور
٭٭٭
استفتائ
٭٭٭
محترم مفتی صاحب ! . ....................... السلام علیکم ورحمة اللّٰہ وبرکاتہ
مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا ایک پٹرول پمپ ہے دن بھر سے لے کر رات تک سیل کے ذریعے جو کیش ہمارے پاس جمع ہوتا ہے وہ ان لوگوں کو دیتے ہیں جو بیرون ملک یا دوسری کمپنیوں سے کاروبار کرتے ہیں اور وہ لوگ ہمیں اس کیش کے بدلے میں چیک دیتے ہیں جس پر کیش کے برابر رقم لکھی ہوئی ہوتی ہے اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ان کو بینک جا کر پیسے لینے نہیں پڑتے۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ ہمارے ہاں پمپ والے چیک کے بدلے میں کیش دینے پر نفع لیتے ہیں مثلاً ایک لاکھ کا چیک ہے تو اس کو ننانوے ہزار روپے دیتے ہیں اور چیک والے بھی اسے بخوشی قبول کر لیتے ہیں کیونکہ انہیں بینک جانے کی جھنجھٹ میں پڑنا نہیں پڑتا۔ آپ حضرات رہنمائی فرمائیں کیا ہمارا اس طرح نفع لینا جائز ہے یا نہیں ؟ تاکہ شریعت کے مطابق عمل کر سکیں ۔ سائل : محمد عامر
الجواب :
٭٭٭
بسم اللّٰہ حامدًا و مصلیًا
مذکورہ صورت میں ننانوے ہزار روپے دے کر ایک لاکھ کا چیک لینا جائز نہیں کیونکہ ایک ہی ملک کی کرنسی کی خریدو فروخت میں دو چیزیں ضروری ہیں :
(1) دونوں کرنسیوں پر مجلس عقد ہی میں قبضہ ہو جائے لا لأنہ صرف بل لأنہ جنس واحد واتحاد الجنس بانفرادہ یحرم النسیئة ولو من جانب واحد
(2) یہ تبادلہ برابری کے ساتھ ہو
مذکورہ صورت میں یہ دونوں شرطیں مفقود ہیں لہٰذا مذکورہ معاملہ جائز نہیں !
بدائع الصنائع (ص487/4ج) میں ہے :
تبایعا فلسًا بعینہ بفلس بعینہ فالفلسان لا یتعینان ون عینا ، لا أن القبض فی المجلس شرط حتی یبطل بترک التقابض فی المجلس لکونہ افتراقا عن دین بدین۔
ولو قبض أحد البدلین فی المجلس فافترقا قبل قبض الآخر ذکر الکرخی أنہ لا یبطل العقد لأن اشتراط القبض من الجانبین من خصائص الصرف وہذا لیس بصرف فیکتفی فیہ بالقبض من احد الجانبین ۔ یخرج عن کونہ افتراقا عن دین بدین۔ وذکر فی بعض شروح مختصر الطحاویة أنہ یبطل لا لکونہ صرف بل لتمکن ربا النساء فیہ لوجود أحد وصفی علة ربا الفضل وہو الجنس۔
٭٭٭
کتبہ : محمد زبیر حسن
دارالافتاء جامعہ مدنیہ جدید
محمد آباد ١٩ کلومیٹر رائیونڈ روڈ لاہور
٢٠ ربیع الثانی ١٤٤٧ھ / ١٣ اکتوبر٢٠٢٥ ئ




قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ
محمود الملّة و الدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں نور اللّٰہ مرقدہ
کے سلسلہ وار مطبوعہ مضامین و دروس جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ پر پڑھے اور سنے جا سکتے ہیں
http://www.jamiamadniajadeed.org




اخبار الجامعہ
( جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد رائیونڈ روڈ لاہور)
٭٭٭
٢٨ ستمبر بروز اتوار بعد نمازِ عصر قائد جمعیة حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہم جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے بعد نمازِ عصر جمعیة علماء اسلام ضلع بہاولپور کا اجلاس ہوا جو عشاء تک جاری رہا، عشاء کے بعدجمعیة علماء اسلام ضلع گوجرانوالہ کا اجلاس ہوا۔اس اجلاس کے بعد جامعہ مدنیہ جدید کی مجلس شوریٰ کا اجلاس بھی ہوا جس میں جامعہ مدنیہ جدید کے سرپرست حضرت مولانا سید رشید میاں صاحب ، حضرت مولانا خالد محمود صاحب ، حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب ، جامعہ کے مہتمم اور مجلس شوریٰ کے ارکان نے شرکت فرمائی ، اجلاس کے بعد کھانا تناول فرمایا اور رات گیارہ بجے حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہم اور تمام احباب واپس تشریف لے گئے۔
یکم اکتوبر کو حضرت مولانا قاضی حمیداللہ جان صاحب کے صاحبزادے ، جامعہ انوار العلوم شیرانوالہ گوجرانوالہ کے مہتمم حضرت مولانا قاضی کفایت اللہ صاحب ، شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب کی تعزیت کے لیے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مہتمم صاحب سے تعزیت فرمائی اور جامعہ انوار العلوم میں تقریب تکمیل بخاری میں شرکت کی دعوت دی ۔
٢ اکتوبر کو کراچی سے حضرت مولانا ڈاکٹر سیّد احمد صاحب بنوری نائب مدیر جامعہ علوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر حضرت مولانا اعجاز مصطفی صاحب مدظلہم اور اقراء روضة الاطفال ٹرسٹ کے نائب مدیر حضرت مولانا خالد محمود صاحب مدظلہم جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور جامعہ مدنیہ جدید کے مہتمم مولانا عکاشہ میاں صاحب سے سابق مہتمم و شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب کی تعزیت کی۔
٤ اکتوبر کو مجلس یادگار شیخ الاسلام پاکستان کے ناظم حضرت مولانا قاری تنویر احمد صاحب شریفی کراچی سے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اورجامعہ مدنیہ جدید کے مہتمم مولانا عکاشہ میاں صاحب سے شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب کی تعزیت کی۔
٨ اکتوبر کو مناظر اسلام حضرت مولانا محمدامین صفدر صاحب اوکاڑوی کے بھتیجے مناظر اسلام حضرت مولانا محمود عالم صاحب صفدر اوکاڑوی مدظلہم اسلام آباد سے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے، مہتمم جامعہ مولانا عکاشہ میاں صاحب سے حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب کی تعزیت کی۔
١١ اکتوبر کو جامعہ معہد الخلیل کراچی کے استاذ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد سلیمان یٰسین صاحب کے صاحبزادے مولانا عثمان صاحب کراچی سے جامعہ مدنیہ جدید کے مہتمم صاحب سے تعزیت کے لیے تشریف لائے ۔
٢١ اکتوبر کو جامعہ مدنیہ جدید کے مہتمم مولانا عکاشہ میاں صاحب فاضل جامعہ مولانا گل نواز صاحب کی دعوت پر مدرسہ انوار ختم نبوت کی سالانہ تقریب ''ختم نبوت کانفرنس'' زیر اہتمام شبان ختم نبوت میں شرکت کے لیے برہان پورہ رائیونڈ تشریف لے گئے جہاں ختم نبوت کے موضوع پر مختصر بیان فرمایا اور رات دس بجے واپس تشریف لے آئے۔
٢٨ اکتوبر کو جامعہ مدنیہ کریم پارک کے قدیم فاضل حضرت مولانا عبدالحمید صاحب بنگالی جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے ، مہتمم جامعہ مولانا عکاشہ میاں صاحب سے حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب کی تعزیت کی، بعد ازاں واپس تشریف لے گئے۔




قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ کے سلسلہ وار مطبوعہ مضامین جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ پر پڑھے جا سکتے ہیں
http://www.jamiamadniajadeed.org/maqalat




وفیات
٭٭٭
٭ ٣ اکتوبر کو حضرت قاری بشیر احمد صاحب صدیق رحمہ اللہ مدینہ منورہ میں اچانک انتقال فرماگئے
ان کا اصل وطن ڈیرہ غازی خان ہے پچاس ساٹھ سال سے مسجد نبوی میں قرآنِ پاک کی خدمات انجام دے رہے ہیں ، عرب و عجم کے بڑے بڑے قراء آپ کے شاگرد ہیں امام مسجد نبوی الشیخ المحسن القاسم بھی آپ کے شاگردوں میں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ حضرت کی دینی خدمات کو قبول فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے، آمین۔
٭ ٩ اکتوبر کو کریم پارک راوی روڈ کے میاں مرغوب صاحب (رکن صوبائی اسمبلی،پنجاب )کی اہلیہ صاحبہ وفات پاگئیں ۔
٭ ١١ اکتوبر کو جامعہ مدنیہ جدید کے ناظم ڈاکٹر محمد امجد صاحب کے چچا زاد بہنوئی جناب محمد یونس صاحب(جامعہ مدنیہ کریم پارک کے قدیم پڑوسی ڈاکٹر محمد تحسین صاحب کے چھوٹے بھائی) اچانک بوجہ ہارٹ اٹیک وفات پاگئے۔
٭ ١٣ اکتوبر کو شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب رحمة اللہ علیہ کے ہم سبق فاضل جامعہ مدنیہ، استاذ الحدیث مدرسہ دارالتقویٰ چوبرجی حضرت مولانا محمد عثمان صاحب مدظلہم کی اہلیہ صاحبہ اچانک بوجہ ہارٹ اٹیک لاہور میں انتقال فرما گئیں ۔
٭ ٢٧ اکتوبر کو رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی کے پوتے حضرت مولانا منیب الرحمن صاحب (خلیفہ حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحب)بسبب ڈینگی بعمر ستر سال انتقال فرما گئے
اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
اللہ تعالیٰ جملہ مرحومین کی مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اُن کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق نصیب ہو، آمین۔ جامعہ مدنیہ جدید اور خانقاہِ حامدیہ میں مرحومین کے لیے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت کرائی گئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ، آمین۔
٭٭٭

Have a question?

Email us your queries on jamiamadniajadeed@gmail.com you will be answered in less than 24 hours or Give us a call directly at +92 333 4249302, +92 333 4249 301.