ماہنامہ انوار مدينہ
جلد : ٣٣ ربیع الثانی ١٤٤٧ھ / اکتوبر ٢٠٢٥ء شمارہ : ١٠
٭٭٭
بیاد : قطب الاقطاب عالم ربانی محدث کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں
فیضانِ نظر : محمود الملّة و الدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب
٭٭٭
مولانا نعیم الدین صاحب ( مدیر اعلیٰ )
مولانا محمد عابد صاحب ( نائب مدیر)
مولانا عکاشہ میاں صاحب(مدیر مسئول)
ڈاکٹر محمد امجد صاحب (مدیر منتظم)
٭٭٭
بدلِ اشتراک
٭٭٭
پاکستان فی پرچہ 50 روپے ....... سالانہ 600 روپے
سعودی عرب،متحدہ عرب امارات..... سالانہ 90 ریال
برطانیہ،افریقہ ........................ سالانہ 20 ڈالر
امریکہ .................................. سالانہ 30 ڈالر
جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ اور ای میل ایڈ ریس
٭٭٭
www.jamiamadniajadeed.org
jmj786_56@hotmail.com
Whatsapp : +92 333 4249302
ترسیلِ زر و رابطہ کے لیے
٭٭٭
'' جامعہ مدنیہ جدید'' محمد آباد19 کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور
رابطہ نمبر : 923334249302+
موبائل نمبر : 923334249301+
موبائل : 923234250027+
جازکیش نمبر : 923044587751+
دارُالافتاء کا ای میل ایڈ ریس اور وٹس ایپ نمبر
٭٭٭
darulifta@jamiamadniajadeed.org
Whatsapp : +92 321 4790560
مولاناسیّد رشید میاں صاحب طابع وناشر نے شرکت پرنٹنگ پریس لاہور سے چھپواکر دفتر ماہنامہ ''انوارِ مدینہ '' نزد جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور سے شائع کیا
اس شمارے میں
٭٭٭
حرفِ آغاز حضرت مولانا نعیم الدین صاحب ٤
درسِ حدیث حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ١٣
سیرت ِ مبارکہ ... عرب قبلِ اسلام اپنے آئینے میں حضرت اقدس مولانا سید محمد میاں صاحب ١٧
مقالاتِ حامدیہ ...... سیکولر ازم اور قادیانیت حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ٢١
ایک انوکھا '' سبق '' جو حضرت مدنی دے گئے حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ٢٣
رحمن کے خاص بندے قسط : ٣٥ حضرت مولانا مفتی محمد سلمان صاحب منصورپوری ٣٥
اسلام میں معذوروں کے حقوق حضرت مولانا نعیم الدین صاحب ٤٠
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی قسط : ٣ مولانا محمد معاذ صاحب ٤٥
اہلِ مدارس اور علماء کرام کے لیے لمحہ فکریہ حضرت مولانا مفتی محمد نعیم صاحب میمن ٥٩
اخبار الجامعہ ٦٣
اہم اعلان ٦٥
حرفِ آغاز
٭٭٭
نَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْدُ !
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط ایک ایسی داستان ہیں جو باہمی سلامتی و دوستی اور اعتماد و تعاون کے کئی سنگ میل سے مزین ہیں ، یہ رشتے محض تجارتی و سفارتی سطح تک محدود نہیں ہیں بلکہ تاریخی و ثقافتی اور سماجی و مذہبی حیثیت سے بڑھ کر گہرے عقیدتی و جذباتی اور عوامی سطح کی حد تک ہیں ، ان تعلقات کی بنیادیں حرمین شریفین کی وجہ سے مزید مضبوط ہو جاتی ہیں پاک عرب تعلقات پر طائرانہ نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا
(١) 1947 ء میں قیام پاکستان کے فوراًبعد سعودی عرب نے پاکستان کو تسلیم کیا !
(٢) 1951ء میں دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا معاہدہ ہوا !
(٣) 1960ء کی دہائی میں دفاعی و سیاسی تعاون کا آغاز ہوا ! پاکستان نے سعودی عرب کو فوجی تربیت فراہم کرنا شروع کی، حج انتظامات اور مذہبی تعاون کے لیے مستقل بنیادوں پر معاہدے طے پائے گئے !
(٤) 1974ء میں لاہور میں منعقدہ اسلامی سربراہی کانفرنس میں سعودی عرب نے بھرپور کردار ادا کیا !
(٥) 1979ئمیں ایرانی انقلاب اور اسی سال مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام پر قبضے کی کوشش نے سعودی عرب کی سلامتی کے خدشات بڑھائے ،خطے میں عدم استحکام اور ایران عراق جنگ(1980ء تا 1988ئ) کے آغاز کے بعد سعودی عرب کو ایک ایسے اتحادی کی ضرورت تھی جو عسکری اعتبار سے قابل اعتماد ہو پاکستان جو اسلامی دنیا میں ایک ایٹمی صلاحیت رکھنے والا مضبوط فوجی ملک سمجھا جاتا تھا اس لیے فطری طور پر سعودی عرب کا انتخاب بنا ! ! !
(٦) 1982ء میں ریاض میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی تعاون کا معاہدہ طے پایا اس معاہدے پر عملی شکل کے بعد ہزاروں پاکستانی فوجی افسران، ٹرینرز اور تکنیکی ماہرین سعودی عرب بھیجے گئے تاکہ سعودی افواج کو تربیت دیں ، فضائیہ، بری فوج اور دفاعی ساز و سامان کی دیکھ بھال کے شعبوں میں پاکستانی اہلکارسعودی عرب میں مختلف فوجی اڈوں اور تربیتی مراکز پر تعینات ہوئے ، پاکستانی پائلٹس نے سعودی ایئر فورس کو جدید جیٹ طیاروں مثلاً F-15کے استعمال میں مدد دی ! سعودی سرزمین پر پاکستانی فوجی دستوں نے دفاعی مشقوں اور سیکورٹی میں بھی حصہ لیا ! یہ فوجی تعلقات کئی دہائیوں تک قائم رہے اور آج بھی مختلف شکلوں میں جاری ہیں ۔ بعد میں آنے والے کئی دفاعی اور اقتصادی معاہدوں کی بنیاد یہی 1982ء کا معاہدہ تھا۔اس معاہد ہ کے اثرات ملاحظہ فرمائیں :
(الف) سعودی عرب کو فوری فوجی سہارا ملا اور اس کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوا !
(ب) پاکستان کو مالی فوائد حاصل ہوئے کیونکہ سعودی عرب نے فوجی تعاون کے بدلے میں پاکستان کو معاشی امداد فراہم کی !
(ج) اس معاہدے نے دونوں ممالک کے تعلقات کو محض دوستانہ سے اسٹریٹیجک پارٹنرشپ میں بدل دیا !
(٧) 1990ء کی دہائی میں خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے محدود پیمانے پر سعودی عرب کو تعاون فراہم کیا !
(٨) 1998ء میں پڑوسی ملک کے جواب میں اپنی دفاعی قوت کے اظہار کے لیے پاکستان کی جانب سے ایٹمی دھماکے کے بعد عالمی برادری نے پاکستان پر پابندیاں عائد کیں تو سعودی عرب نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کا ساتھ دیا اورتیل کی فراہمی کے لیے خصوصی سہولت دی جو پاکستان کی معیشت کے لیے زندگی کا سامان ثابت ہوئی ! یہ وہ وقت تھا جب دنیا نے پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی مگر سعودی عرب نے عملی طور پر ثابت کیا کہ وہ پاکستان کا مشکل وقت میں بھی ساتھی ہے، سعودی عرب نے اس وقت پاکستان کو موخر ادائیگیوں پر تیل فراہم کرنے کا معاہدہ کیا (یہ معاہدہ تقریباً 3.4ارب ڈالر مالیت کا تھا)اس معاہدے سے پاکستان اقتصادی پابندیوں کے باوجود معاشی بحران سے بچ گیا ! !
(٩) 2000ء کی دہائی میں معاشی و سیاسی تعلقات کی مضبوط سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ کے ذریعے پاکستان میں تعلیم ،صحت اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کی فنڈنگ ہوئی، لاکھوں پاکستانی ورکرز سعودی عرب میں روزگار پاتے رہے !
(١٠)2018ء میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے دوران 20ارب ڈالر کی سرمایہ کاری منصوبوں کے معاہدے ہوئے، خاص طور پر گوادر میں آئل ریفائنری بنانے کا معاہدہ ہوا جسے ایک بڑی پیش رفت سمجھا گیا اگرچہ عملی صورت میں کچھ تاخیررہی۔
یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کا ہمیشہ ساتھ نبھایا ! !
2025ء میں طے پانے والاحالیہ نیا پاک سعودی معاہدہ دونوں ملکوں کے لیے معاشی، دفاعی اور سفارتی میدان میں ایک نئے دور کا آغاز ہے ان شا ء اللّٰہ
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی پروقار دعوت پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف صاحب نے ١٧ ستمبر ٢٠٢٥ء کو مملکت سعودی عرب کا سرکاری دورہ کیا ! اس موقع پر پاک مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب بھی ان کے ہمراہ تھے ! ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے ریاض کے الیمامہ پیلس میں وزیر اعظم پاکستان کا استقبال کیا، دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے وفود کی موجودگی میں مذاکرات کا باضابطہ آغاز کیا۔ اجلاس کے آغاز میں وزیر اعظم شہباز شریف نے خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور اسٹریٹیجک تعلقات اور مشترکہ دلچسپی کے متعدد موضوعات کا جائزہ لیا اور تبادلہ خیال کیا ، مملکت سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت داری، بھائی چارہ اور اسلامی یکجہتی کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ اسٹریٹیجک مفادات اور قریبی دفاعی تعاون کے تناظر میں ولی عہد و وزیرِ اعظم سعودی عرب عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف صاحب نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے (SMDA)پر دستخط کیے ! ! !
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ
(١) یہ معاہدہ پاک عرب تعلقات کو ایک نئی جہت دینے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کی اپنی سلامتی کو بڑھانے اور خطے میں امن، استحکام ،سلامتی اور معاشی خوشحالی کے حصول کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے !
(٢) اس معاہدے سے خطے میں ایک مضبوط بلاک بننے کی امید ہے جو بین الاقوامی سطح پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے !
(٣) پاک سعودی معاہدہ صرف دو ممالک کے درمیان تعاون کی دستاویز نہیں بلکہ ایک ایسے مستقبل کا اعلان ہے جس میں معاشی ترقی، دفاعی تعاون اور مذہبی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے !
(٤) یہ معاہدہ پورے عالم اسلام کے اتحاد اور ترقی کے لیے بھی نیک شگون سمجھا جا رہا ہے !
ہم کہتے ہیں کہ
اس حالیہ پاک سعودی معاہدہ کے دور رس نتائج کئی پہلووں سے اہمیت کے حامل ہیں ان کا اثر پاکستان، سعودی عرب اور پورے خطے پر پڑ سکتا ہے۔ ہماری نظر سے اہم نتائج ملاحظہ فرمائیں :
(١) سماجی اور مذہبی اثرات کو دیکھیں تو مذہبی و ثقافتی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے ! حج و عمرہ زائرین کے لیے سہولتوں میں بہتری متوقع ہے !
(٢) معاشی اثرات کے ضمن میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا، روزگار کے مواقع میسر ہوں گے اورتوانائی کے منصوبے مکمل ہونے پر بجلی کی قلت میں کمی بھی ممکن ہے !
(٣) سیاسی اثرات کے تناظرمیں دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے جس سے خطے میں پاکستان کی سیاسی اہمیت بڑھے گی ، پاکستان کے عالمی وقار میں اضافہ ہوگا کیونکہ سعودی عرب دنیا میں ایک اہم سفارتی و معاشی قوت ہے،خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال اور عالمی سیاست کے تناظر میں یہ نیا باب پاکستان کو ایک باوقار مقام دلانے میں مدد دے سکتا ہے ! خطے میں خاص طور پر چین، ایران اور خلیجی ممالک کے حوالے سے نئی معاشی و سفارتی صف بندی ہو سکتی ہے !
(٤) دفاعی اور سیکیورٹی اثرات پر نظر ڈالیں تو دفاعی تعاون سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مزید گہرے ہوں گے خطے میں سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار ہو سکتی ہے ! بھارت اور دیگر ممالک اس تعلق کو بغور دیکھیں گے !
ان تمام نتائج کا انحصار اس بات پر ہے کہ دونوں ممالک عملی اقدامات کس حد تک بروقت اور سنجیدگی سے اٹھاتے ہیں یعنی شرط صرف یہ ہے کہ ہم اس موقع کو سنجیدگی اور تسلسل کے ساتھ عملی جامہ پہنائیں یقینایہ معاہدہ ہمارے لیے امید کی نئی کرن ہے۔ اگر ماضی کی روایات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس پر عمل درآمد کیا گیا تو یہ تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے امن اور ترقی کا پیغام ثابت ہوں گے۔
٭
محترم نجم الحسن عارف صاحب لکھتے ہیں :
''یہ دفاعی معاہدہ ایک موقع بھی ہے اور ایک ذمہ داری بھی، یہ غیر معمولی پیش رفت کئی قسم کے چیلنجوں کے شروع ہو جانے کا مرحلہ بھی ہے ، اس مشترکہ دفاعی معاہدے کو اس کے سارے رنگوں اور پہلوئوں کے ساتھ ہی دیکھنا، سمجھنا اور لے کر چلنا ہوگا،اس سلسلہ میں کرنے کے کام کیا ہیں ؟ ان میں سے چند ایک کا ذکر ان سطور میں کرنا مقصود ہے !
بلاشبہ اگر قطر پر اسرائیلی ریاست کے حالیہ حملے کو خیال میں رکھ کر دیکھا جائے تو یہ پاک سعودی مشترکہ دفاعی معاہدہ ویل ان ٹائم(well in time) کے زمرے میں آتا ہے یعنی سعودی عرب اور پاکستان کا یہ فیصلہ بہت بر وقت ہے جب اربوں کھربوں ڈالر کا سرمایہ لگانے کے باوجود قطر اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ وہ اسرائیلی ریاست کی جارحیت کو روک سکے تو پھر کیونکر ممکن تھا کہ خلیج تعاون کونسل کی باقی مملکتیں اس پوزیشن میں ہو سکتی تھیں کہ خود اپنے کھربوں ڈالر کے وسائل دفاعی امور میں جھونک کر بیٹھی رہتیں اور یہ راگ الاپتی رہتیں کہ امریکہ ہے ناں اس لیے ہمیں کوئی خطرہ نہیں !
قطر میں ٩ ستمبر ٢٠٢٥ء کو جو کچھ ہوا وہ بین الاقوامی سطح پر اسی طرز کا واقعہ ہے جس طرح کے واقعات ہمارے ہاں بڑے گھروں کے چوکیداروں اور بنکوں کے مسلح گارڈز کے حوالے سے عام طور پر مشاہدے میں آتے ہیں ، جب بھی اہلِ خانہ یا بنک برانچ کا عملہ کسی بڑی مشکل میں گرفتار ہوتا اور بدمعاش یا چور ڈاکو قسم کی مخلوق دن دیہاڑے حملہ کرتی ہے تو اکثر انکشاف ہوتا ہے کہ چوکیدار اور بنک گارڈز تو بدمعاش غنڈے اور ڈاکو ئوں کے ساتھ ملے ہوتے ہیں ، ان کے تعاون کے بغیر کسی کو کیسے ہمت ہوتی کہ وہ حملہ آور ہو اور بے دھڑک واردات کر ڈالے ! ! اسی لیے اس طرح کی وارداتوں کے فوری بعد پہلا کام یہ کیا جاتا ہے کہ چوکیدار یا بنک کے گارڈ کو شامل تفتیش کر لیا جاتا ہے !
قطر پر اسرائیلی حملے کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ امریکہ کے نائن الیون کے انداز سے کیا گیا ایک واقعہ تھا۔ ہاں اس کے لیے مغربی، امریکی یا اسرائیلی میڈیا نے نائن الیون کی یادگار اصطلاح استعمال نہیں کی۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ ٩/٩ کا قطر پر ہونے والا یہ حملہ قطر کا ہی نہیں تمام خلیجی ممالک کے لیے نائن الیون کا درجہ رکھتا ہے اس لیے سعودی عرب نے بروقت فیصلہ کیا !
دوسری جانب پاکستان پر حالیہ بھارتی اور مبینہ اسرائیلی مدد وتعاون کے باوجود بری طرح ناکامی کے بعد بلکہ بعد از شکست بسیار و بے مثال جس طرح بھارت اور اس کے جنم جنم کا ساتھی اسرائیل بر افروختہ ہوئے ہیں وہ پاکستان کے لیے بھی ایک چار دنوں کی جنگی کامیابی کے بعد ہمیشہ کے ایک بڑے جنگی خطرے کا موجب ہوسکتا ہے اس لیے پاکستان بھی محض امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے کندھے تھپتھپائے جانے یا ایک ظہرانے پر رام ہو کر بیٹھا نہیں رہ سکتا تھا !
الحمد للّٰہ اس مشترکہ دفاع کے معاہدے کی صورت میں ایک بڑی پیش رفت ہوئی جو اوّلین اور فوری درجے میں دونوں برادر مملکتوں کے لیے بہت اہم واقعہ ہے جبکہ مستقبل اور طویل مدتی نکتہ نظر سے پورے خطے اور ایشیا کے لیے دوررس ثابت ہوگا ''
٭
فرانس اور برطانیہ دونوں نے حال ہی میں ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے :
برطانیہ نے ٢١ ستمبر ٢٠٢٥ء کو اعلان کیا کہ وہ رسمی طور پر'' فلسطین ''کو تسلیم کرے گا !
برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے تسلیم کرنے کی وضاحت کی کہ یہ اقدام'' فلسطین اسرائیل تنازع'' میں ''امن کی راہ ''کو زندہ رکھنے اور دو ریاستی حل کو ممکن بنانے کے مقصد سے ہے !
برطانیہ نے یہ بھی واضح کیا کہ فلسطینی ریاست کی تسلیم گستاخانہ سرکاری عمل نہیں بلکہ ایک شراکتی عمل کا حصہ ہوگی یعنی یہ تسلیم وہ وقت ہوگا جب اسے عملی طور پر بھی معنی خیز اثرات ہوں گے !
فرانس نے بھی ٢٢ ستمبر ٢٠٢٥ء کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اعلان کیا کہ وہ'' ریاست فلسطین'' کو رسمی طور پر تسلیم کرے گا ! !
صدر ایمانوئل میکرون نے یہ فیصلہ ''دو ریاستی حل'' کی بنیاد پر کیا ہے اور اس بات کو اہم کہا ہے کہ اب انتظار نہیں کیا جا سکتا۔ فرانس نے یہ تسلیم ایک اعتراضاًسیاسی اشارے کے طور پر کیا ہے تاکہ ''فلسطین اسرائیل تنازع ''میں حل کی کوششوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے اور عالمی سطح پر دو ریاستی حل کے موقف کو تقویت دی جائے ! !
گزشتہ ماہ دس ممالک (جن میں فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، بیلجیم، لکسمبرگ، مالٹا، اندورا ، سان مارینو اور پرتگال شامل ہیں ) نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، اقوام متحدہ کی193رکن ریاستوں میں سے147ممالک فلسطین کو بطورِ ریاست تسلیم کرچکے ہیں ! اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی قابل غور ہے کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین میں سے چار اراکین(چین، روس، فرانس اور برطانیہ )نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر لیا ہے ! صرف امریکا واحد رکن ہے جو اب بھی اس اقدام کی مخالفت کر رہا ہے ! !
فرانس اور برطانیہ جیسے بڑے یورپی ممالک کا فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان ایک اہم موڑ ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف دو ریاستی حل کی حمایت میں ایک مضبوط اشارہ ہے بلکہ اس امر کا اعتراف بھی ہے کہ فلسطینی عوام کی قربانیاں اور ان کا حق ِخودارادیت مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ! برطانیہ اور فرانس نے اس اقدام کے ذریعے یہ واضح کیا ہے کہ عالمی برادری کے بڑے حصے میں اب اسرائیل کی یک طرفہ پالیسیوں پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور وقت آ گیا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کو سنجیدگی سے لیا جائے ! !
اسرائیل نے اس فیصلے پر سخت ردِعمل دیا ہے اسرائیلی وزیراعظم نے اسے دہشت گردی کا انعام قرار دیا اور واضح کیا کہ یہ اقدام خطے میں امن کی راہ ہموار کرنے کے بجائے مزید رکاوٹیں کھڑی کرے گا ! اسرائیل کی سیاسی قیادت کے بعض حلقے مغربی کنارے میں آبادکاری تیز کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ تسلیم نامہ اسرائیل کو مزید سخت گیر روّیہ اپنانے پر بھی مجبور کر سکتا ہے ! !
یہ دونوں پہلو اس بات کا ثبوت ہیں کہ فلسطین کو تسلیم کرنے کا عمل محض سفارتی فیصلہ نہیں بلکہ عالمی سیاست میں ایک نیا محاذ بھی ہے ! ایک طرف یہ مظلوم قوم کی آواز کو عالمی سطح پر تقویت دیتا ہے تو دوسری طرف یہ خطرہ بھی ہے کہ اسرائیل کی سخت پالیسیوں کے باعث خطہ مزید کشیدگی کی لپیٹ میں آ جائے ! ! اصل سوال یہی ہے کہ کیا یورپی طاقتوں کا یہ فیصلہ عالمی امن کی راہ میں عملی پیش رفت ثابت ہو گا یا پھر یہ ایک نئے سفارتی بحران کی بنیاد رکھے گا ؟ ؟
٭
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف صاحب نے گزشتہ ماہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے قومی موقف کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ان کی تقریر میں مسئلہ کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ تنازعات، خطے کی سلامتی کے چیلنجز، ماحولیاتی بحران اور عالمی طاقتوں کی ذمہ داریوں کا ذکر نمایاں رہا ! بلاشبہ یہ خطاب پاکستان کے بیانیے کو اجاگر کرنے کی ایک اہم کوشش تھا جس سے دنیا کے سامنے یہ پیغام دیا گیاکہ پاکستان اپنی عوام اور امت ِمسلمہ کے جذبات کی نمائندگی کر رہا ہے۔تقریر کے ایک پہلو نے پاکستانی عوام کو یہ احساس دلایا کہ ان کی قیادت عالمی فورمز پر ان کے مسائل کو اجاگر کررہی ہے ! !
اپوزیشن اور ناقدین کے نزدیک یہ تقریر محض الفاظ کا مجموعہ تھی جس کے عملی اثرات محدود ہوں گے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے فورم پر آواز بلند کرنا ضروری ہے مگر اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ اس آواز کو عملی اقدامات اور مؤثر سفارت کاری سے تقویت دی جائے۔ کشمیر اور فلسطین جیسے مسائل پر عالمی برادری کو صرف بیانات سے قائل نہیں کیا جا سکتا، ان کے لیے مستقل لابنگ، اتحادیوں کی حمایت اور ایک منظم حکمت عملی ناگزیر ہے ! !
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ عالمی برادری اکثر مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے، نہ کہ تقاریر کی بنیاد پر، اس لیے حکومت کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس تقریر کو ایک نقطہ آغاز بناتے ہوئے ایسی جامع پالیسی مرتب کرے جو دوست ممالک کی حمایت، عالمی اداروں کے دبائو اور عوامی توقعات کے درمیان توازن قائم کر سکے ! بھارت کے سخت ردعمل کے بعد پاکستان کو مزید ہوشیاری اور حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ تقریر کے اثرات محض کاغذی نہ رہیں بلکہ عملی میدان میں بھی کوئی پیش رفت دکھائی دے ! !
آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم کی تقریر پاکستان کے موقف کو دنیا تک پہنچانے کا ایک موثر ذریعہ تھی مگر اب وقت ہے کہ یہ الفاظ عملی سفارت کاری، مربوط حکمت عملی اور ٹھوس اقدامات میں ڈھلیں بصورتِ دیگر یہ خطاب بھی محض ایک اور تقریری روایت میں شامل ہو جائے گا ! !
اخو کم فی اللّٰہ
نعیم الدین
٥ ربیع الثانی ١٤٤٧ھ/٢٩ ستمبر ٢٠٢٥ئ
٭٭٭
درسِ حدیث
٭٭٭
قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ
کا مجلس ِذکر کے بعد درسِ حدیث ''خانقاہِ حامدیہ چشتیہ'' شارع رائیونڈ لاہور کے زیرِانتظام ماہنامہ '' انوارِ مدینہ'' کے ذریعہ ہر ماہ حضرت اقدس کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کے اس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے،آمین۔ (ادارہ)
٭٭٭
ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت جائز نہیں ! اہل وعیال پر خرچ کرنے میں ثواب ہے !
اندازِ بیان کی غلطی سے دین کا نقصان !
(درسِ حدیث نمبر١٨ ٢٢ محرم الحرام ١٤٠٢ھ/ ٢٠ نومبر ١٩٨١ئ)
٭٭٭
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا
مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ !
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس سال مکہ مکرمہ فتح ہوا اس سال میں بیمار ہوگیا اور بیماری اتنی بڑھی کہ اَشْفَیْتُ عَلَی الْمَوْتِ میں موت کے قریب ہوگیا فَاَتَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم یَعُوْدُنِیْ میرے پاس جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم تشریف لائے بیمار پرسی کے لیے، میں نے عرض کیا اِنَّ لِیْ مَالًا کَثِیْرًا میرے پاس مال ہے زیادہ اور میری وارث میری بیٹی ہے بس، اور ورثا ہیں ہی نہیں ایک بیٹی ہے ! بیٹی کی تو کوئی خاص بات نہیں ہوتی، گزارہ کرلے گی، شادی ہوجائے گی اَفَاُوْصِیْ بِمَالِیْ کُلِّہ تو میرا مال جو ہے سب ہی بچے گا تو کیا میں اپنے سارے مال کی وصیت کر دوں کہ خدا کی راہ میں خرچ کردیا جائے ؟ جناب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے منع فرمادیا ! میں نے کہا کہ دو تہائی مال کے بارے میں وصیت کر دوں ؟ فرمایا نہیں ! میں نے کہا آدھے کے بارے میں کر دوں ؟ فرمایا نہیں ! تو میں نے کہا کہ تہائی کی وصیت کر دوں ؟ تو فرمایا کہ ہاں ٹھیک ہے ثُلُثْ ایک تہائی مال یہ وصیت کرسکتے ہو اور یہ بھی بہت ہے وَالثُّلُثُ کَثِیْر
کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو نظام رکھا ہے وہ غیرمعمولی طور پر کہیں کہیں ہٹتا ہے ورنہ وہ نظام جاری رہتا ہے یہ نظام خداوند کریم نے رکھا ہے کہ ایک سے دوسرے کو سہارا لگتا رہے !
اگرچہ مسبّب الاسباب اور رازقِ حقیقی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے لیکن ظاہری اسباب ملحوظ رکھنے یہ بھی واجب ہے ! مثلاً ایک تہائی کے بارہ میں فرمایا کہ کردو ایک تہائی اور (باقی) دو تہائی یہ ورثا کو پہنچنا چاہیے ! اگر کوئی کہے کہ ان کا خدا مالک ہے مجھے تو دے دینا چاہیے سارا کچھ ، اگرچہ اس کی یہ بات حق ہے صحیح ہے اپنی جگہ ،حقیقت کے مطابق ہے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے جو نظام یہاں رکھا ہے اس نظام کے خلاف ہے اس واسطے اس کی اجازت نہیں دی گئی ! !
ورثا کے لیے مال چھوڑ جانے میں خیر ہے :
اور پھر یہ فرمایا کہ یہ جو ہوتا ہے کہ آدمی مال چھوڑجاتا ہے اور بعد میں ورثا اسے استعمال کرتے ہیں تو اس میں بھی بہتری ہے، یہ بھی خدا کو پسند ہے اِنَّکَ اِنْ تَذَرَ وَرَثَتَکَ اَغْنِیَآئَ یا اَنْ تَذَرَ وَرَثَتَکَ اَغْنِیَآئَ اپنے وارثوں کو مستغنی چھوڑکر جائو دنیا سے خَیْر مِّنْ اَنْ تَذَرَھُمْ عَالَةً یہ اس سے بہتر ہے کہ تم ان کو بالکل قَلَّاشْ چھوڑکر جائو ١ محتاج چھوڑکر جائو یَتَکَفَّفُوْنَ النَّاسَ لوگوں کے ہاتھوں کو دیکھیں یا لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں ، مانگیں لوگوں سے ! تو ظاہری اسباب میں جو چیز ہے اس کو اختیار کرتے رہنے کا حکم دیا گیا ہے ! !
کبھی کبھی ایسے بھی ہوتا ہے جہاں کوشش کرکے آدمی بالکل عاجز آجائے نہ کرسکے کچھ بھی، وہاں اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا جائے کام ! دعا کی جائے تو وہ از غیب سامان پیدا کردیتا ہے لیکن اپنی سی کوشش میں کمی کرنا ،یہ نہیں بتلایا گیا کہیں ! !
اندازِ بیان کی غلطی کا نقصان :
اور جو اعتراض ہے غیر مسلم اور مذہب دشمن عناصر کا کہ اسلام نے (تو بس)قناعت سکھلائی ہے توکل سکھلایا ہے ،یہ تو ایسے ہے جیسے ترقیوں سے روک دیا جائے ! افیون کی گولی کھلا دی جائے
١ مفلس ، غریب ، کنگال قَلَّاچْ بھی بولتے ہیں (محمود میاں )
اور سلادیا جائے ! تو وہ(دین دشمن) اعتراض کرتے ہیں ان لوگوں کی وجہ سے جنہوں نے یہ بات غلط انداز میں پیش کی جبکہ حقیقت ایسے نہیں ہے حقیقت تو جو احادیث سے معلوم ہوتی ہے وہ ہی ہوگی حقیقت !
کسی آدمی کے کچھ کر دینے سے کہ یہ اسلام نے سکھلایا ہے یا میں یہ سمجھا ہوں ، یہ بات تو اس کی اپنی بات ہوگی اسلام کی نہیں ہوسکتی ! اسلام کی تعلیم تو وہی ہوگی جو قرآن اور حدیث سے بھی ثابت ہو رہی ہو ! اس میں تو یہی ہے کہ آپ نے اجازت نہیں دی کہ کوئی آدمی مرتے وقت سارا مال خرچ کرے ! لہٰذا اگر کسی آدمی نے وصیت کی بھی ہو کہ میرا سارا مال خدا کی راہ میں دے دیا جائے تو بھی وہ وصیت نہیں چل سکتی ! ورثا اس کے اگر قاضی کے سامنے چلے جائیں کہ یہ وصیت اس طرح سے فلاں وقت ہمارے مورِث نے کی ہے لیکن ہمیں یہ یہ دشواری ہے، چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ،پڑھانا ہے لکھانا ہے، یہ ہے یہ ہے ، جو بھی کچھ ہے حال ان کا، تو پھر قاضی وہ مال قبضے میں لے لے گا اور ایک تہائی (وصیت کے مطابق)دے دے گا، دو تہائی ان کے لیے رکھ لے گا اس وصیت کو منسوخ کردے گا ! ! تو یہ چیز اس درجے میں لازمی ہوگئی، یہ ایک جز وبن گیا ہے شرعی تعلیم کا اور اس میں ردّ و بدل نہیں کرسکتا انسان اپنی مرضی سے اِنَّکَ اِنْ تَذَرَ وَرَثَتَکَ اَغْنِیَآئَ خَیْر مِّنْ اَنْ تَذَرَھُمْ عَالَةً یَتَکَفَّفُوْنَ النَّاسَ
اور پھر ارشاد فرمایا وَاِنَّکَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِیْ بِھَا وَجْہَ اللّٰہِ اِلَّا اُجِرْتَ بِھَا جو بھی کچھ تم خرچ کرتے ہو تو اس پر تمہیں اجر ملتا ہے ! !
اہل و عیال پر خرچ کرنے میں اجر :
اپنے گھر والوں پر خرچ کرنے میں بھی اجر ملتا ہے ! اور ایسی چیزوں میں بھی اجر ملتا ہے کہ جس میں انسان کو گمان بھی نہ ہو کہ اجر مل رہا ہوگا ! کوئی بیمار ہوگیا اسے پانی پلارہا ہے، کوئی بیمار ہوگیا اسے کھانا کھلارہا ہے، بیوی بیمار ہوگئی اسے کھانا کھلا رہا ہے اس میں کوئی خیال نہیں ہوتا اجر کا ،دھیان ہی نہیں جاتا مگر رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا اِلَّا اُجِرْتَ بِھَا حَتَّی اللُّقْمَةَ تَرْفَعُھَا اِلٰی فِی امْرَأَتِکَ ١
اگر لقمہ اٹھاکر دے دیں تو اس عمل پر بھی تمہیں ثواب ملے گا، لقمہ بھی توکمائی سے بنا ہے لیکن یہ عمل جو ہے
١ مشکوة المصابیح کتاب الفرائض و الوصایا رقم الحدیث ٣٠٧١
اٹھاکر کھلادینا چمچے سے یا کسی اور چیز سے اس عمل پر اجر ہے، اس نے اپنا وقت صرف کیا اور اس نے دلداری کی ہے اس نے بیمار کی خدمت کی ہے یعنی طرح طرح کی جتنی قسمیں بن جائیں گی اتنی قسم کا اجر بن جائے گا ! !
آقائے نامدار صلی اللہ عليہ وسلم نے رہنا، بسنا، معاملات ٹھیک رکھنے یہ ساری چیزیں سمجھائی ہیں بتلائی ہیں سکھلائی ہیں ، ان سب کو واجب قرار دیا ہے اور اسلام ایک جامع چیز ہے بلکہ سب سے زیادہ جامع ضابطہ ٔحیات ہے ! نہ تو دنیا کے کسی کے قانون میں اتنے ضابطے ہیں اور نہ کسی مذہب میں اتنے ضابطے ہیں جتنے کہ اسلام نے بتلائے ہیں ! اور تمام چیزوں میں ہر کام میں اجر رکھ دیا ہے ،وہ کام جو عبادةً کرتا ہے اس میں بھی اجر رکھ دیا ہے اور جو کام عادةً کرتا ہے اس میں بھی ! فرق ذرا سا یہ کردیا ہے کہ نیت اپنی ٹھیک رکھ لی ، خدا کی طرف رغبت کہ وہ راضی ہوجائے وہ اجر دے دے، اتنا سا کام اتنی سی تبدیلی ! مگر یہ اتنی سی نہیں ہے یہ بنیادی ہے، یہ بنیادی تبدیلی ہے، یہ تبدیلی آجائے تو پھر آدمی میں انقلاب آجاتا ہے، بالکل بدلتا چلا جاتا ہے ! !
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسلام پر استقامت بخشے، آمین
اختتامی دعا...... ( مطبوعہ ماہنامہ انوارِ مدینہ ستمبر ١٩٩٤ئ)
جامعہ مدنیہ جدید کے فوری توجہ طلب ترجیحی امور
٭٭٭
(١) مسجد حامد کی تکمیل
(٢) طلباء کے لیے دارالاقامہ (ہوسٹل) اور درسگاہیں
(٣) کتب خانہ اور کتابیں
(٤) پانی کی ٹنکی
ثواب جاریہ کے لیے سبقت لینے والوں کے لیے زیادہ اجر ہے
سیرتِ مبارکہ
عرب قبلِ اسلام اپنے آئینے میں
٭٭٭
سیّد الملة و مؤرخ الملة حضرت مولانا سیّد محمد میاں صاحب کی تصنیفِ لطیف
سیرتِ مبارکہ '' محمد رسول اللّٰہ '' صلی اللہ عليہ وسلم کے چند اوراق
٭٭٭
معاہداتی حکومت :
عرب کے آزاد خود مختار قبائل جن کی گردنیں کسی بادشاہت یا شہنشاہیت کے سامنے کبھی نہیں جھکیں عجیب بات یہ ہے کہ قول و قرار اور عہدوپیمان کی شوکت وحشمت کے سامنے ان کی گردنیں ہمیشہ خم رہتی تھیں ! !
جب پورے ملک میں حکومت کا کوئی نظام نہیں تھا تو ظاہر ہے پولیس یا فوج کا بھی کوئی سلسلہ سرزمین عرب میں نہیں تھا البتہ پابندی عہد کے وصول نے پورے عرب میں ایک ایسا نظام قائم کردیا تھا جو باضابطہ حکومت کی طاقت اپنے اندر رکھتا تھا اس کی موجودگی میں ان کو پولیس یا فوج کی بھی ضرورت نہیں تھی کیونکہ افراد کے جان ومال کی حفاظت جو پولیس کاکام ہوتا ہے اور بیرونی حملہ آوروں کا دفاع جو فوج کا فرض ہے یہ معاہداتی نظام ان تحفظات کا ذمہ دار تھا ! !
قبائل کے معاہداتی گروپ تھے جو فرد کسی گروپ سے تعلق رکھتا تھا تو پورا گروپ اس کی حفاظت کا ذمہ دار تھا اگر اس کا بال بیکا ہوتا تو پورے گروپ کی ہزاروں تلواریں اس کا انتقام لینے کے لیے برہنہ ہوجاتیں ، کسی فریاد کرنے والے کی فریاد پورے گروپ کے جذبات حمایت کے لیے چنگاری کا کام کرتی تھی یہ فریاد اور دُھائی ہی دعویٰ ہوتی تھی اور یہی دلیل ! اب تحقیق وتفتیش بھی پہلوتہی اور بزدلی سمجھی جاتی تھی قریط بن انیف شاعر قبیلہ بنی مازن کی خوبی یہ بیان کرتا ہے
قَوْم اِذَا الشَّرُّ اَبْدَی نَاجِذَیْہِ لَھُمْ طَارُوا اِلَیْہِ زَرَافَاتٍ وَ وُحْدَانَا
لَایَسْأَلُوْنَ اَخَاھُمْ حِیْنَ یَنْدُبُھُمْ فِی النَّائِیَاتِ عَلٰی مَا قَالَ بُرْھَانَا ١
'' بنی مازن ایسی قوم ہے کہ جب جنگ ان کے سامنے دانت نکالتی ہے تو وہ اُڑکر اس کے پاس پہنچ جاتے ہیں ٹولی بن کر گروہ در گر وہ یا اکیلے اکیلے جیسا موقع ہوتا ہے دوڑ پڑتے ہیں اس کا نہیں خیال کرتے کہ تنہا جارہے ہیں یا جماعت اور گروہ میں ''
''جب ان کا بھائی (ان کے گروپ کا آدمی ) ہنگاموں میں ان کو پکارتا ہے (کوئی فریاد کرتا ہے) تو پھر اس کے دعوے اور قول کے لیے کوئی دلیل نہیں مانگتے ''
ایک اور شاعر کہتا ہے
اِنِّیْ لَمِنْ مَعْشَرٍ أَفْنٰی اَوَائِلَھُمْ قِیْلُ الْکُماةِ اَلَا اَیْنَ الْمُحَامُوْنَا ٢
''میں ایسے معاشرہ (سماج) کافرد ہوں جس کے متقدمین ختم ہوچکے ہیں اور ان کے ختم ہونے کا سبب بہادروں کی یہ پکار ہوا کرتی تھی اَلَا اَیْنَ الْمُحَامُوْنَا
''کہاں ہیں ہمارے حمایتی'' یعنی جہاں انہوں نے یہ پکار سنی، وہ فوراً حمایت کے لیے میدانِ جنگ میں پہنچ جاتے تھے اور وہیں ختم ہوجاتے تھے''
وَدَّاکُ بْنُ ثُمَل الْمَازْنِیِّ نے اپنے بہادروں کی تعریف یہ کی ہے
اِذَا اسْتُنْجِدُ وْا لَمْ یَسْئَالُوْا مَنْ دَعَاھُمْ لِاَیَّةِ حَرْبٍ اَمْ بِاَیِّ مَکَان ٣
''جب ان سے مدد مانگی جاتی ہے تو یہ نہیں دریافت کرتے کہ طالب کون ہے ؟ کس لڑائی کے لیے کس مقام پر لڑنے کے لیے دعوت دے رہا ہے، نہ یہ تحقیق کرتے ہیں کہ کس جنگ کے لیے''
١ دیوانِ حماسہ ص ٢ دیوانِ حماسہ ص ١٧ ٣ دیوانِ حماسہ ص
بیشک لڑائیوں کے طویل طویل سلسلوں نے اس دور کی تاریخ کو وحشت ناک بنا رکھا ہے لیکن جنگ کی بنیاد عموماً یہی معاہداتی حمیت ہوتی تھی یعنی گروپ کے کسی فرد کو کسی نے جانی یا مالی نقصان پہنچادیا ہے تو یا تو اس کے نقصان کی تلافی کی جائے ورنہ اعلان جنگ ! ! !
جنگ کے شعلے پہلے دو قبیلوں میں بھڑکتے تھے پھر رفتہ رفتہ پورے پورے گروپ ان کی لپیٹ میں آجاتے تھے ! اس تصادم اور تقابل میں پناہ کا ذریعہ صرف وہ مہینے ہوتے تھے جو باتفاقِ عرب اشہر حرم کہلاتے تھے جن میں اسلحہ اتار دیے جاتے تھے اور قتل وخون، ظلم وفسادممنوع سمجھا جاتا تھا یہ بین القبائلی رواج عقیدہ کی حیثیت رکھتا تھا ان میں ایک مہینہ رجب کا ہوتا تھا جس کو مُنَصِّلُ الأَسِنَّة کہا کرتے تھے یعنی نیزوں کے بھال اتار دینے والا مہینہ ١
قبائلی پاسپورٹ اور ویزا :
یہ معاہداتی گروپ جس طرح جنگ یا طوالت ِجنگ کا دزیعہ بن جاتے تھے یہ تحفظ کا ذریعہ بھی ہوا کرتے تھے اور حقیقت یہ ہے کہ معاہدات کی غیر معمولی پابندی صرف اخلاقی قدر نہیں تھی بلکہ اقتصادی ضرورتوں اور معاشی وسماجی مصلحتوں کا بھی تقاضا تھا کہ معاہدات کی پوری پابندی کی جائے ! !
ہر ایک قبیلہ پھر ہر ایک معاہداتی گروپ کا ایک حلقہ ہوتا تھا اس حلقہ کی حدود میں کوئی شخص بلا اجازت داخل نہیں ہوسکتا تھا لیکن اگر کسی نے اجازت حاصل کر لی ہے تو جہاں تک اس گروپ کے حلقہ کی حدود ہیں اس کی حفاظت اس گروپ کے ذمہ ہوتی تھی، تجارتی قافلے اسی طرح کی اجازتوں کی پناہ میں منزلیں طے کرتے تھے ! !
حرب فجار ٢ کا چوتھا دور جس کے معرکوں میں ابو طالب وغیرہ (آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کے اعمام
١ صحیح البخاری ص ٦٢٨ باب وفد بنی حنیفة رقم الحدیث ٤٣٧٦
٢ ابن قُتَیْبَة نے فجار اوّل وثانی کی تفصیل بیان کی ہے۔ (معارف ص ٢٠١) مزید تفصیل شیخ محمود سیّد الطنطاوی رحمہ اللّٰہ نے بیان کی ہے (سیرة ابن ہشام مطبوعہ بمطبع محمد علی مصر) حاشیہ ص ١١٧
اموی نے اور تفصیل سے ایام جاہلیت کا تذکرہ کیا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کو بھی لے گئے تھے اور اس وقت عمر مبارک تقریباً چودہ سال تھی ١ اس دورِ چہارم کا محرک بھی اسی قسم کا اجازت نامہ تھا۔ حیرہ کا راجہ (ملکِ حیرہ) نعمان بن منذر جس نے شہنشاہ ِایران کے دربار میں عرب کے فضائل بیان کیے تھے اس کا تجارتی قافلہ مکہ کے مشہور میلہ سوق عکاظ میں جانا چاہتا تھا عروة بن عتبة نے جس کا تعلق ہوازن سے تھا اس کو اجازت دے دی یہ جرأت براض بن قیس کو ناگوار گزری اس نے عروہ کو قتل کردیا ٢
بنو کنانہ اور قریش کو خطرہ ہوا کہ مقتول کا قبیلہ (ہوازن) اپنے مقتول کی حمایت میں ان پر حملہ کردے گا اشہر حرم شروع ہونے والے تھے انہوں نے چاہا کہ وہ فی الحال حرم مکہ میں داخل ہوجائیں تو حملہ سے بچ جائیں گے اس کے بعداشہر حرم شروع ہوجائیں گے تو سرِدست جنگ ٹل جائے گی لیکن قریش اوربنو کنانہ ابھی حرم میں داخل نہیں ہونے پائے تھے کہ مقتول کے قبیلہ والوں نے ان کو گھیر لیا اور حملہ کردیا ٣ بہرحال چار روز تک جنگ ہوتی رہی، اوّل قیس کو غلبہ رہا پھر قریش غالب رہے ! ٤
( ماخوذ از سیرتِ مبارکہ '' محمد رسول اللّٰہ '' صلی اللہ عليہ وسلم ص ٨٧ تا ٩٠ ناشر کتابستان دہلی ) (جاری ہے)
١ ابن ہشام دوسری روایت یہ بھی ہے کہ عمر مبارک بیس سال تھی مگر جو کام اس جنگ میں آپ کے سپرد کیا گیا تھا کہ اَنْبِلُ عَلٰی عَمُوْمَتِیْ (مجمع البحار) کہ اپنے چچا صاحبان کو تیر اٹھا اٹھا کر دے رہا تھا اس سے بھی اندازہ ہوتا تھا کہ عمر چودہ سال ہوگی مگر ابن سعد میں یہ بھی ہے وَرَمَیْتُ فِیْہِ السَّھْمَ وَمَا اَحَبُّ اَنِّیْ لَمْ اَکُنْ فَعَلْتُہ ( ج ١ ص ٨١)
٢ براض بن قیس کا تعلق بنوکنانہ اور قریش سے تھا اس علاقہ میں اجازت دیناکنانہ اور قریش کا حق تھا، ہوازن کا حق نہیں تھا۔ براض نے عروہ کے اجازت نامہ کو اپنے قبیلہ کے حق میں مداخلت سمجھا چنانچہ اوّل زبانی گفتگو کی اور اس کے اس فعل کو ناجائز قرار دیا۔ اور جب عروہ نے پروا نہیں کی تو براض نے موقع پاکر عروہ کو قتل کردیا اور مکہ سے بھاگ کر خیبر چلا گیا تجاتی قافلہ بہرحال محفوظ رہا (ابن سعد ج١ ص ٨٠ ، ابن ہشام ج١ ص ١١٧)
٣ اگرچہ قاتل کا معاہداتی تعلق قریش سے تھا مگر جہاں تک عدل وانصاف کا تعلق ہے مجرم صرف قاتل تھا پورا قبیلہ قریش وکنانہ مجرم نہیں تھا اور جب مقتول کے قبیلہ نے ان پر حملہ کیا تو ان کی حیثیت مدافع کی تھی، اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے دفاع میں مدد کی جو قبیلہ کے ہر ایک فرد کا مشترک فریضہ تھا۔
٤ غلبہ کے باوجود قریش کے ایک سردار عتبة بن ربیعة نے صلح کی تجویز پیش کی جس کو طرفین نے منظور کیا اور طے یہ ہوا کہ جس فریق کے آدمی زیادہ مارے گئے ہیں اس کو ان زیادہ مقتولین کی دیت دی جائے مقتول کے قبیلہ یعنی قیس بن غیلان کے چالیس آدمی زیادہ مارے گئے تھے قریش نے ان کی دیت ادا کی اور عتبة بن ربیعة نے اس کی ذمہ داری لی( ابن ہشام وابن سعد وغیرہ )یہ عتبة بن ربیعة و ہی ہے جو اس وقت سے تقریباً چالیس سال بعد جنگ بدر میں ابوجہل کے ساتھ ماراگیا ، ابوسفیان اس کے داماد ہوئے اور حضرت معاویة اس کے نواسے
مقالات حامدیہ
سیکولرازم اور قادیانیت
٭٭٭
قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں
عنوانات ، حاشیہ و نظرثانی بتغیرِ یسیر : حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب
٭٭٭
مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ ملک کی وہ سب جماعتیں جو سیکو لرنظام کی داعی ہیں قادیانیوں کے بارے میں واضح الفاظ استعمال کرنے میں مشکل محسوس کر رہی ہیں اس لیے ایسی جماعتوں سے میری گزارش ہے کہ وہ ان چند حقائق پر غور کریں :
٭ ایک حد تک اسلام بھی دوسرے مذاہب کو سکیورٹی مہیا کرتا ہے انہیں تحفظ دیتا ہے ! انہیں اپنے اپنے طریقوں پر اپنی اپنی عبادت گاہوں میں عبادات ادا کرنے کی اجازت دیتا ہے ! ان سے جزیہ کی بہت ہی قلیل رقم لے کر ان کے جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے ! !
لیکن یہ اجازت نہیں دیتا کہ کوئی یہودی ، نصرانی، مجوسی، صابی ١ یا بت پرست اسلام پر حملہ آور ہو اگر کوئی ایسا کرے گا تو اس سے فوراً مواخذہ کیاجائے گا اور پھر اس کے جان ومال کے تحفظ کی ذمہ داری نہیں لی جائے گی نہ اس سے پھر جزیہ لیا جائے گا ! !
٭ اسلامی قوانین کی رو سے کسی ایسی قوم سے بھی جزیہ نہیں لیا جا سکتا جو جناب ِ محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی بعثت کے بعد کسی نبوت کے دعویدار کی پیرو کار ہو ،نہ ہی سیّدنا صدیق ِ اکبر رضی اللہ عنہ نے ایسے لوگوں سے جزیہ لیا نہ ا نہیں اپنی رعایا میں داخل فرماکر حدودِ مملکت ِاسلامیہ میں رہنے کا حق دیا ! !
یہی اس دور کے سب صحابہ کرام کا مسلک رہا ہے ! لہٰذا ان کے بعد سے غلام احمد قادیانی اور انگریزی حکومت کے زمانہ تک حدودِ سلطنت ِاسلامیہ میں کسی مدعی ٔ نبوت کا وجود ہی نہیں ملتا کہ کسی نے نبوت کا دعوی کیا ہو اور اسے کسی نے نبی تسلیم کیا ہو ! !
١ ایک باطل فرقہ جس نے ہر ایک دین میں سے اچھا سمجھ کر کچھ اختیار کرلیا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مانتے ہیں اور فرشتوں کی بھی پرستش کرتے ہیں ، زبور پڑھتے ہیں اور کعبہ کی طرف نماز پڑھتے ہیں بحوالہ تفسیر عثمانی ( محمود میاں )
٭ مرزا غلام احمد قادیانی نے (جو خود کو حکومت ِ برطانیہ کا خود کاشتہ پودا لکھتا ہے ١ ) انگریزی استعمار کے دور میں نبوت کا دعوی کیا، تقسیم ہند کے بعد اس کی اولاد میں ایک شاخ پاکستان میں آگئی اس نے ''ربوہ '' کو اپنا مستقر بنالیا ٢
٭ اسلام کی رو سے ایسے لوگ جو جنابِ رسو ل اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے بعد کسی مدعی ٔنبوت کو سچا مانتے ہوں اور ان کا مقتداء جو نبوت کا دعوی کر رہا ہو اسلام پر حملہ آور شمار ہوں گے ! ان کی اس حرکت کو ظاہر ہے کوئی کلمہ گو جائز نہیں سمجھے گا اور سیکولرازم کی حامی کوئی مسلمان جماعت اس تعدی (سرکشی)کی اجازت نہیں دے گی، نہ ایسے فرقہ کے تحفظ کی ذمہ داری لے کر خود کو الجھن اور گناہ میں مبتلا کرنے اور ملک میں کشاکش وبد امنی جاری رکھنے کی روادار ہوگی ! !
اس لیے ان تمام جماعتوں سے جو سیکولرنظام کی حامی ہیں ،میری گزارش ہے کہ ان حقائق پر غور فرما کر آئندہ دو ٹوک فیصلہ کن الفاظ استعمال فرمائیں !
قادیانیوں کو تحفظ نہ دینا عین انصاف ہے اور سیکولرازم انصاف (برابری)کامتقاضی ہے کیونکہ قادیانیت کسی مذہب کا نام نہیں بلکہ اسلام اور جناب ِرسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی ذات ِپاک پر'' حملہ آور'' ایک گروہ کا نام ہے جس طرح یہ جماعتیں کسی'' ڈاکو'' کو تحفظ نہیں دے سکتیں اسی طرح ان ''مذہبی جفاکار ڈاکوؤں '' کو کیسے تحفظ دیں گی ! ؟ اس لیے سیکو لرازم کی حامی جماعتیں آئندہ ان کے تحفظ کی بات نہ کریں ! !
حامد میاں غفرلہ
١١مئی ١٩٨٤ء
جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور نمبر ٢
( بحوالہ ماہنامہ انوار مدنیہ مئی ٢٠١٣ء ج٢١ ش ٥ )
١ بحوالہ احتسابِ قادیانیت ج٢٤ ص٢٣٢ درخواست نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر ص١٣ ملحقہ کتاب البریہ،
خزائن ج ١٣ ص ٣٥٠،تبلیغ رسالت ج ٧ ص ٩١ ( محمود میاں )
٢ مجلس تحفظ ختم نبوت کی کوششوں سے گزشتہ کئی سال پہلے ان کے رکھے ہوئے اس نام کو سرکاری طور پر بدلواکر
١٤ فروری ١٩٩٩ء کو ''چناب نگر'' کر دیا گیا۔ ( محمود میاں ) ٣ یعنی تنظیم (Organization)
گوشہ محمود
٭٭٭
ایک انوکھا '' سبق '' جو حضرت مدنی دے گئے
( افادات : شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب )
عنوانات و نظر ثانی : ڈاکٹر محمد امجد غفرلہ
٭٭٭
١٩جمادی الثانی ١٤٣٥ھ /٢٠اپریل ٢٠١٤ء کو جامعہ مدنیہ جدید کے سابق مہتمم شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب ''مجلس یادگارِ شیخ الاسلام پاکستان لاہور'' کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے تیسرے شیخ الاسلام سیمینارمیں شرکت کی غرض سے ہمدرد ہال لاہور تشریف لے گئے جہاں آپ نے ''حضرت مدنی کی سیاسی خدمات ''کے موضوع پر بیان فرمایا جس کی افادیت کے پیش ِنظر اسے نذر قارئین کیا جا رہا ہے (ادارہ)
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ ! ( اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دَیْنًا ) ( سورة المائدة : ٣ )
اس دنیا میں دین کی خدمت کے حوالے سے بہت بڑے بڑے حضرات گزرے ہیں اور انہوں نے قربانیاں بھی دی ہیں اور اس دور میں بھی موجود ہیں اور دین کے مختلف شعبوں میں دین کی خدمت کررہے ہیں ، قربانیوں کی ضرورت پیش آتی ہے تو قربانی بھی دیتے ہیں ۔ حضرت اقدس مولانا سیّد حسین احمد مدنی رحمة اللہ علیہ جس دور میں گزرے ہیں اور ان سے کچھ پہلے ان کے استاذ حضرت شیخ الہند رحمة اللہ علیہ اور اسی طرح حضرت گنگوہی ، حضرت نانوتوی اور حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مکی سیّدالطائفہ رحمہم اللہ، جس طرح اس دور میں یہ حضرات تقویٰ کے اعتبارسے، اپنی اپنی دیانت کے اعتبار سے، علمی مرتبہ کے اعتبار سے بلند تھے اسی طرح اور بہت سے حضرات بھی علمی اعتبار سے، حدیث کی خدمت کے اعتبار سے، فقہ اور فتوؤں کے اعتبار سے بہت بلند گزرے ہیں اور اب بھی موجود ہیں ، ان کی دینی خدمات قابلِ قدر ہیں اور ان کو ان کی قبروں میں حق تعالیٰ بے شمار اجر بھی عطا فرما رہے ہوں گے ، ان شاء اللّٰہ
بر صغیر اہل ُاللہ کی سر زمین :
ہندوستان، بر صغیر اہل ُاللہ کی سر زمین سمجھا جاتا ہے، بڑے بڑے اولیاء ِکبار یہاں گزرے ہیں کسی نے فقہ کے میدان میں خدمت کی، کسی نے حدیث کے میدان میں کی، کسی نے تصنیف و تالیف میں ، کسی نے تعلیم و تعلّم میں ، لیکن حضرت مدنی رحمة اللہ علیہ اور ان کے استاذ حضرت شیخ الہند رحمة اللہ علیہ ان حضرات کو جو ایک ممتاز مقام حاصل ہوا، اس کی خاص وجہ کیا ہے ؟
مذہب اور سیاست :
اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ انگریز نے جب یہاں تسلط قائم کیا اور خلافت ختم ہوگئی تو اس کے ساتھ ساتھ اس نے تعلیمی تسلط بھی قائم کر لیا، تجارت پر بھی اپنا تسلط قائم کیا، معیشت پر بھی اپنا تسلط قائم کیا ، خاص طور پر تعلیم کے میدان میں اس نے اپنا تسلط اس انداز میں قائم کیا اور ایسے نظریات کا پرچار کیا اور ان نظریات کے پرچار میں خود مسلمان اس کے آلہ کار بنے ، وہ یہ کیا کہ
'' مذہب اور سیاست الگ چیز ہے ''
تعلیمی میدان میں اس نے پر کشش چیزیں پیدا کیں ، مسلمانوں کو اقتصادی طور پر بدحال کر کے اپنے تعلیمی راستے کو مستقبل کے روشن ہونے کا ذریعہ قرار دیا جس کی وجہ سے خود بخود مسلمان جو کہ بہت زیادہ پستی میں مختلف وجوہ سے پڑ چکا تھا وہ اس طرف کھینچتا چلا گیا، وہ ایک خاص انداز میں ذہن سازی کرتا چلا گیا اور وہ ذہن سازی اتنی سر عت سے اور اتنی قوت سے ہوئی کہ اس نے مذہبی لوگوں کے ذہن کو بھی متاثرکیا، اتنا متاثر کیا کہ وہ زہر اِن کے دل و دماغ میں اتر گیا اور آج تک نکل نہیں سکا ! آپ دیکھتے ہیں کسی مسجد میں کسی خطیب کی کسی امام کی خوبی نمازیوں کی نظر میں یہ ہوتی ہے کہ یہ بڑا بھلا مانس ہے کبھی سیاست پر بات نہیں کرتا، یہ صرف روزے کی بات کرتا ہے، یہ صرف نماز کی بات کرتا ہے، عبادت کی بات کرتا ہے، اعتکاف کے فضائل بیان کرتا ہے،روزوں کی فضیلت بیان کرتا ہے، پاکی ناپاکی کے مسائل بتلا دیتا ہے ! بے شک یہ اچھی باتیں ہیں ، بری نہیں ہیں اس میں اجر و ثواب بھی بڑا ہے اس میں بھی کوئی شک نہیں لیکن اس کے اندر ایک میٹھا زہر سرایت کیے ہوئے ہے ،جو ہے زہر لیکن اسے زہر کوئی نہیں سمجھ رہا ! یہی وجہ ہے کہ وہی خطیب جو آٹھ سال دس سال پندرہ سال سے ان کی خدمت کرتا ہے انہیں دین کے مسائل بتاتا ہے جب کسی وقت سیاست پر بیان شروع کرتا ہے تو مسجد کے کسی کونے سے آواز آتی ہے کہ
'' مولوی صاحب ! اس موضوع پر بات نہ کریں یہ مسجد ہے ، سیاسی بات نہ کریں ''
نماز پڑھنے والا، اس کے پیچھے جو نماز پڑھتا ہے، اس پر اس کا ادب و احترام کرنا واجب ہے کہ اس کا امام ہے یہ اس کا مذہبی پیشوا ہے یہ اس کا مذہبی مقتدا ہے لیکن جب سیاست کی بات آتی ہے تو یہ مقتدی اسے کہتا ہے کہ
'' تم میری اقتدا کرو میں تمہاری قیادت کروں گا، تم میرے قائد نہیں ہو، تم میرے قائد صرف نماز میں ، روزے میں ، حج میں ، زکوة میں ، پاکی ناپاکی میں ، زکوة کے کچھ مسائل میں ، اس میں تو ٹھیک ہے لیکن سیاست نہیں کیونکہ یہ مسجد اللہ کا گھر ہے ہم مذہبی فریضے کے لیے آئے ہیں مذہبی فریضہ یہاں ادا کر رہے ہیں لہٰذا یہاں صرف مذہبی بات ہو ،سیاسی بات نہ ہو ''
جب یہ بات کہتا ہے تو دوسرا بھی اس کی تائید کرتا ہے تیسرا بھی اس کی تائید کرتا ہے، سوائے دو چار کے سب اس کی تائید کرتے ہیں اور وہ مجبور ہوتا ہے کہ اپنی بات کو محدود کرے ! اب یہ نمازی بہت اچھے عنوان سے کہہ رہا ہے کہ ''یہ اللہ کا گھر ہے اور مسجد ہے یہ مذہبی جگہ ہے یہاں سیاسی چیز نہیں ہونی چاہیے'' لیکن اگر وہ ایسی سیاسی بات کرے کہ جس میں کافروں کے سیاسی اصول بتلائے تو پھر تو اس کی روک ٹوک مناسب ہے لیکن اگر وہ کافروں کے سیاسی اصول نہیں بتلا رہا اسلامی اصول بتلا رہا ہے اور یہ بتلا رہا ہے کہ اگر یہ چیزیں نہ ہوتیں تو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے جو نظام قائم کیا وہ کیسے قائم ہوتا ؟
نبی علیہ السلام اور کمانڈو ایکشن :
نبی علیہ السلام نے ایک دفعہ ایک دستہ روانہ فرمایا چھاپہ مار کا ر روائی کے لیے کمانڈو ایکشن کے لیے، اب جو چھاپہ مار کار روائی کانام آتا ہے تو چاق و چوبند سپاہی کا تصور آئے گا اس کے بارے میں ، یہ بھی آئے گا کہ وہ سپاہی ہے فوجی ہے پھرتی سے دوڑ سکتا ہے چل سکتا ہے مکے چلا سکتا ہے وہ ولی اللہ نہیں ہوسکتا ۔لیکن وہ تو صحابہ کی جماعت تھی وہ سارے صوفیاء ِکرام کی جماعت تھی اور اہل ُ اللہ کی جماعت تھی جن کو آپ نے کمانڈو ایکشن کے لیے بھیجا اور وہ جب گئے تو کامیاب کارروائی کرکے واپس آئے اور وہاں کے ایک سردار ثماثہ بن اثال کو قید کر کے، گرفتار کر کے لے آئے۔ آج کی زبان میں اسے کہا جاتا ہے کہ بہت بڑی دہشت گردی ہے، ایک زندہ انسان کو گرفتار کر کے اٹھالے گئے لیکن حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے اس کار روائی کے لیے صوفیائِ کرام کی ٹیم بھیجی جو صوفیاؤں کے بھی سردار یعنی صحابہ کرام ، آج جوکوئی صوفی ہے تو ان کی جوتیوں کے طفیل ،آج اگر کوئی عابد زاہد ہے تو ان کی جوتیوں کے طفیل، اگر کوئی مفتی اورفقیہ ہے تو ان کی جوتیوں کے طفیل اَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ فَبِاَیِّھِمُ اقْتَدَیْتُمْ اِھْتَدَیْتُمْ ١ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے جس کی بھی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے۔ نبی علیہ السلام نے اس وقت اعلان کیا ! ادنیٰ درجے کا صحابی بھی بعد میں آنے والے جتنے بھی اقطاب و ابدال ہیں وہ اس کی جوتی کی خاک کے برابر بھی نہیں ! یہ ہمارا عقیدہ ہے ! !
دورِ رسالت کی جیل :
ان اہل ُ اللہ کی جماعت کو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے روانہ کیا اور انہوں نے چھاپہ مارا اور اس کو اٹھاکر نبی علیہ السلام کی مسجد میں لائے ، وہ کافر تھا بڑا سردار تھا اسے لا کر ستون سے باندھ دیا، باقاعدہ جیل نہیں تھی ،حکومت قائم ہو چکی تھی ،نبی علیہ السلام حکومت قائم فر ماچکے تھے جس کا دبدبہ پورے عرب پر، عرب لرز رہا تھا اس کے دبدبے سے لیکن نبی علیہ السلام نے جیل قائم نہیں کی، جیل خانہ نہیں ہے !
١ مشکوة المصابیح کتاب المناقب رقم الحدیث ٦٠١٨
کابل کا سقوط ہوتا ہے امریکی فوجیں آتی ہیں سب سے پہلے جیل خانہ بنتا ہے، اس کے لیے سامان جہازوں میں بھر کر آرہا ہے اور قندھار میں بنا اور فلاں جگہ بنا اور فلاں جگہ بنا، بہت جگہ جیل خانے بنائے !
حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ابھی تک کوئی جیل خانہ نہیں بنایا ،کہتے ہیں کہ اسلام میں دہشت گردی ہے ! اگراسلام میں دہشت گردی ہو توسب سے پہلے جیل خانہ کی بھی ضرورت ہوتی، کوڑے مارنے کے لیے جلَّادکی ضرورت ہوتی، چھترول کرنے والے کی ضرورت پڑتی، اب ادھر لائے تو قید کہاں کریں ؟ فرمایا مسجد نبوی کے ستون کے ساتھ باندھ دو۔ اب اسے باندھ کے چھوڑ دیا، وہ سردار دیکھ رہا ہے ! !
نبی علیہ السلام ... میڈیاسیل ... زرد صحافت :
نبی علیہ الصلٰوة السلام تشریف لائے پوچھا مَا عِنْدَکَ یَاثُمَامَةُ اے ثمامہ تمہاری کیا رائے ہے ؟ اس نے کہا اِنْ تَقْتُلْنِیْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایسے آدمی کو قتل کریں گے جسے قتل کردینا چاہیے، حق بنتا ہے، میں نے ایسی چیزیں کی ہیں ! کیونکہ وہ نبی علیہ السلام کے خلاف پرو پیگنڈہ مہم کرتا تھا ،بہت بڑا میڈیا سیل قائم کر رکھا تھا، نبی علیہ الصلٰوة والسلام نے زرد صحافت کو کبھی مہلت نہیں دی، منفی صحافت کو مہلت کبھی نہیں دی ، وہاں مصلحت سے کام نہیں لیا ،بے شمار واقعات ہیں جن لوگوں نے زرد صحافت کی قیادت کی اسلام کے خلاف منفی پرو پیگنڈہ کیا،نبیعلیہ الصلٰوة والسلام نے فوری طور پر ان کے خلاف سخت ترین کار روائی کی !
کعب بن اشرف کا واقعہ اسی طرح ہے اَبورافع تھا ایک بہت بڑا تاجر آدمی ، پیسہ خرچ کرتا تھا سرمایہ خرچ کرتا تھا اسلام کے خلاف اور پورے عالمِ عرب میں اس نے میڈیا کا جال بچھا رکھا تھا نبی علیہ السلام کی مذمت اور کفار کی تعریف میں ! دیکھیں نبی علیہ السلام نے اس کے خلاف فوری کارروائی کی، خیر ثماثہ بن اثال کو لایا گیا پوچھا، وہ جانتا تھا کہ میں مجرم توہوں !
اس نے کہا اگر آپ قتل کریں گے توایسے آدمی کو قتل کریں گے جسے قتل کرنا چاہیے ! اس کا ایک مطلب دھمکی بھی ہے کہ اگر آپ قتل کریں گے تو ایسے آدمی کو قتل کریں گے جس کے قتل کا بدلہ لیا جائے گا جس کا قتل ہلکا نہیں ہے جس کے قتل کا بڑا وزن ہوگا، اس کا خون برا قیمتی ہے، دھمکی دی اس نے !
وَاِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلٰی شَاکِرٍ اور اگر آپ میرے ساتھ انعام و اکرام کا معاملہ کریں گے چھوڑ دیں گے توایسے آدمی پر انعام کریں گے جو آپ کے اس احسان کی قدر کرے گا ! میں آپ کے اس معاملے کی قدر کروں گا ! !
وَاِنْ کُنْتَ تُرِیْدُ الْمَالَ فَسَلْ مِنْہُ مَا شِئْتَ فَتَرَکَہ اور اگر آپ مجھے چھوڑنے کے عوض مال چاہتے ہیں تو جتنا مال چاہیے مانگ لیجیے سوال کیجیے ،دے دیا جائے گا ! !
نبی علیہ السلام نے اس کی کسی بات کا جواب نہیں دیا نماز کے لیے تشریف لے گئے ، دنیا کی کائنات کی بڑی عجیب و غریب جیل میں قید تھا وہ ! وہ ایسی جیل تھی کہ دن ورات وہ دیکھ رہا تھا، یہ صحابہ پانچ وقت کی نماز پڑھ رہے ہیں صفیں بنتی ہیں ایک امام ہوتا ہے دوسرا کوئی اور امام نہیں ہوتا، سب اس کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں اورایک صف اور ایک قطار میں کھڑے ہوتے ہیں اور وضو کر کے کھڑے ہوتے ہیں ناپاکی کی حالت میں کھڑے نہیں ہوتے، وضو کر کے چلے آتے ہیں اور ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں ! !
وہ دیکھ رہا تھا ایک طرف نبی علیہ السلام کا تخت ہے چارپائی ہے جس میں نبی علیہ السلام کے پاس وفود آتے ہیں ملکی اور غیر ملکی اور آپ ان کی گفتگو سن رہے ہیں اور ان کے سوالات اور ان کے معاملات حل کررہے ہیں ! !
تمام امور کا مرکز . .. مسجد نبوی :
نبی علیہ الصلٰوة والسلام ساری دنیا کی سیاست اس مسجد کی چھت کے نیچے کررہے ہیں پھراس نے دیکھا کہ لشکر کے جو جرنیل ہیں کمانڈر، رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے جو مقرر فرما رکھے ہیں وہ آکر آپ سے جہادی اور جنگی ہدایات لے رہے ہیں اور آکر کار گزاریاں بیان کرتے ہیں ، آپ ہدایات دے کر ان کو روانہ کر رہے ہیں یہ منظر بھی وہ دیکھ رہا تھا !
اس نے دیکھا کہ اس چھت کے نیچے جیل خانہ بھی ہے وہیں میں قید بھی ہوں ! اسی چھت کے نیچے عبادت خانہ بھی ہے جہاں پانچ وقت کی نماز بھی ہورہی ہے ! اسی چھت کے نیچے سفارت خانہ بھی ہے جہاں دنیا کے سفارتی امور طے ہو رہے ہیں ! اسی چھت کے نیچے سیاست بھی ہو رہی ہے ! اسی چھت کے نیچے سارے جرنیل بیٹھتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم جو سالارِ اعظم ہیں انہیں ہدایات دے رہے ہیں اوربھیج رہے ہیں ! اور اسی چھت کے نیچے اَمَرْ بِالْمَعْرُوْف اور نَہِیْ عَنِ الْمُنْکرْ بھی ہو رہا ہے ! اسی چھت کے نیچے قاضی القضاة محمد رسول اللّٰہ صلی اللہ عليہ وسلم نے سپریم کورٹ قائم کی ہے ! وہاں بس آخری اور قطعی فیصلہ ہوتا ہے اور صحابہ کرام بسرو چشم قبول کرتے ہیں ، کوئی انکار نہیں کرتا ! !
یہ منظر وہ دیکھ رہا ہے سارے مناظر اس کے سامنے ہیں ، اس کو کھانا کھلایا جاتا ہے تو کھول کے کھلایا جاتا ہے جب اسے پیشاب کا تقاضا ہوتا ہے تووہ پورا کیا جاتا ہے، پاکستان کی جیل کا منظر مجھے کسی نے بتایا وہاں چھوٹی سی جگہ میں ڈیڑھ سو قیدی اور ہر قیدی کو یہ حکم تھا کہ ڈھائی منٹ میں بیت الخلاء سے باہر آجائے، اگر ڈھائی منٹ سے اوپر کسی قیدی کو ہوتے تھے تواس کی سزا یہ ہوتی تھی کہ اسے باہر نکال کر سر کے بل کھڑا کر دیا جاتا تھا ، ڈھائی منٹ میں فراغت ممکن نہیں ہے لیکن یہ اصول تھا،
یہاں مسلمان مسلمان کو یہ سزا دے رہا ہے وہاں مسلمان کافر کے ساتھ حسن ِ سلوک کر رہا ہے ! اس کی اب ضرورتیں بھی پوری ہو رہی ہیں اور ساری دنیا کا نظام وہ چلتا ہوا دیکھ رہا ہے، وہ پرو پیگنڈہ وہ باتیں جو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے متعلق اس کے کانوں میں پڑتی تھیں ان کا موازنہ کر رہا ہے اور دیکھ رہا ہے کہ میرے ذہن میں جو پچھلا خاکہ ہے اس خاکے سے یہ نہیں ملتا ! اس کے ذہن کے پرانے خاکے دھلنے شروع ہوگئے، نئی چھاپ پڑنی شروع ہوئی ! !
رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم اگلے دن پھر تشریف لائے پھر پوچھا مَا عِنْدَکَ یَاثُمَامَةُ ثمامہ ! کیا خیال ہے تمہارا ؟ اس نے پھر وہی تین باتیں دھرائیں ۔ آپ نے پھر کوئی بات نہیں کی اور خاموشی سے تشریف لے گئے اور اپنے معاملات میں مصروف ہوگئے وہ جیل میں سارے منظر دیکھتا رہا، ایسی جیل تھی جس سے وہ ................ نہیں کر سکتا تھا کیونکہ اگر اسے کسی الگ جیل میں بند کر دیا جاتا اور پھر ایسا ماحول ہوتا تووہ سوچ سکتا تھا کہ شاید متاثر کرنے کے لیے مصنوعی ماحول قائم کردیا گیا ہے تاکہ میرے ذہن پر اثر ہو میری سوچ کو بدلہ جائے، اسے ایک سچے اور کھرے اور حقیقی ماحول میں رکھا تاکہ وہ اسلام کی صحیح تصویر دیکھے !
تیسرا د ن آیا رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے پھر اس سے پوچھا مَا عِنْدَکَ یَاثُمَامَةُ اس نے پھر وہی تین باتیں کیں ! نبی علیہ الصلٰوة والسلام تشریف لائے اور صحابہ کو حکم دیا کہ ثمامہ کو چھوڑ دو ! ! اس کو چھوڑ دیا گیا ،وہ چلا گیا ! باہر نکلا وہیں کہیں باغ تھا وہاں پانی تھا وہاں جا کر نہایا دھویا، ترو تازہ ہوا، کوئی اس کا پیچھا نہیں ، کوئی تعاقب نہیں ، کوئی خطرہ محسوس نہیں کررہا، وہ یہ بھی نہیں کہہ رہا کہ کوئی پہرہ دار ساتھ کریں جو مجھے باہر پہنچائے تاکہ کوئی مجھے نقصان نہ پہنچائے ! !
حضرت ثمامہ کا قبولِ اسلام :
نبی علیہ السلام نے ایک اصول بتادیا اسلام کا کہ اسلام میں اگربچہ یا عورت بھی کسی کو امان دے دے تو فیلڈ مار شل پر بھی لازم ہوگا کہ اس امان کا احترام کرے چہ جائیکہ نبی علیہ السلام حکم دیں ! یہ اسلام کا بہت بڑا اصول ہے ! ایسا اصول ہے کہ آج کی دنیا میں جو مہذب دنیا کہلاتی ہے کسی کا یہ اصول نہیں ہے چنانچہ اسے چھوڑ دیا ، وہ گیا، نہایا دھویا اور نہادھو کر واپس آیا، واپس آکر مسجد نبوی میں نبی علیہ السلام کے پاس آکر کہنے لگا اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً رَّسُوْلُ اللّٰہِ اس نے کلمہ پڑھا اور اپنے اسلام کا اعلان کیا، نبی علیہ السلام نے اس کا ایمان قبول فرمایا ! !
اس کے بعد پھر اس نے عرض کیا کہ جب آپ کے دستے نے مجھے اٹھا یا تھا کمانڈو ایکشن کرکے ، اس وقت میں عمرہ کے لیے جا رہا تھا ،کافر بھی عمرہ کرتے تھے بت رکھتے تھے انہیں پوجتے تھے صفا پر مروہ پر، اس نے کہا میں تو اس لیے جا رہا تھا اب آپ کی کیا رائے ہے تو نبی علیہ السلام نے فرمایا تم جاؤ عمرہ کرو، اب تو مسلمان ہو گئے ہو، اب مسلمانوں والا عمرہ کرنا۔ وہ گئے عمرہ کرنے ، جب عمرہ کرنے پہنچے تو وہاں اطلاع پہنچ چکی تھی مکہ میں ! !
انٹیلی جنس کا نظام :
انٹیلی جنس ہر جگہ تھی ،نبی علیہ السلام نے بھی انٹیلی جنس قائم کر رکھی تھی جو مکہ مکرمہ اور ہر طرف کی خبریں نبی علیہ السلام کو دیتی تھی اور جب انٹیلی جنس کا آدمی آتا تھا جو'' صوفی'' ہوتا تھا ''صوفی '' یعنی صحابی ٔ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم ، وہ جب آتا تو نبی علیہ السلام اس سے علیحدہ ملاقات کرتے ،کسی کو شریک نہیں کرتے تھے کیونکہ انٹیلی جنس کا شعبہ بڑا حساس ہوتا ہے، الگ تنہائی میں جا کر اس سے سب کچھ سنتے اور اسے روزانہ فرما دیتے، کسی کو پتہ بھی نہیں ہوتا تھا کہ یہ انٹیلی جنس کا آدمی ہے اورکون ہے اور کس لیے آیا ہے، غیر محسوس انداز میں تخلیہ فرما کر باتیں سن کر بھیج دیتے، بہت زبردست نظام تھا ! !
وہاں بھی اطلاع پہنچ چکی تھی اب جب یہ وہاں پہنچے اور وہاں پہنچ کر کفارِ مکہ قریش نے ان سے کہا صَبَوْتَ طعنہ دیا کہ تو بددین ہو گیا ہے ،باپ دادا کے دین کو چھوڑ کر ؟ اس نے کہا نہیں لاَ وَلٰکِنْ اَسْلَمْتُ مَعَ مُحَمَّدٍ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم ١ بددین نہیں ہوا اسلام میں داخل ہوا ہوں سلامتی میں آیا ہوں رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے دست ِ مبارک پر ! یہ کہہ کر پھرشاید کوئی اور بات ہوئی ہوگی حدیث میں اتنا ہی آتا ہے کوئی تلخی ہوئی ہوگی اس نے انہیں دھکی دی، کہا میں عمرہ کے لیے آیا ہوں اگر تم ٹھیک رہے صحیح ہے ''ورنہ'' تم جانتے ہو میرا قبیلہ وہاں ہے جہاں سے تمہاری شاہراہ گزرتی ہے تجارتی،میں تمہاری تجارتی شاہراہ کاٹ دوں گا اور ایک دانہ گندم کا مکہ میں نہیں آنے دوں گا ! !
اب یہ قوت حضور علیہ السلام نے حاصل کی اللہ کے گھرمسجد میں حکومت قائم کر کے ! اور آج ایک نمازی ہوتا ہے ناواقفیت کی وجہ سے کہتا ہے کہ امام صاحب ! یہاں سیاسی بات مت کیجیے ،جبکہ ایک کافر دیکھ کر آیا ہے اور سبق سیکھ کر آیا ہے، نبی علیہ السلام نے وہیں مدرسہ قائم کررکھا ہے صفہ، وہاں تعلیم بھی ہورہی ہے اس زمانے کی پہلی بین الاقوامی یونیورسٹی ہے، اس میں کالے بھی اس میں گورے بھی، اس میں شام کے لوگ بھی، اس میں یمن کے لوگ بھی، اس میں حبشہ کے لوگ بھی، اس میں مکہ اور مختلف
١ صحیح البخاری کتاب المغازی رقم الحدیث٤٣٧٢
علاقوں کے لوگ بھی،یہ سارے کے سارے پڑھ رہے ہیں علم حاصل کر رہے ہیں ، وہ بھی دیکھا اس نے اس نے کہا کہ اگر تم نے مجھ سے معاملہ ٹھیک نہ کیا تو تمہاری شاہراہ بند کردوں گا حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم تمہیں اجازت دیں ! !
چنانچہ اس نے ایسے ہی کیا، تلخی ہوئی اس نے جا کر بند کردی شاہراہ، اب جب بند کی تو مکہ میں قحط پڑ گیا، جب قحط پڑا تو انہوں نے وفد بھیجا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی خدمت میں کہ آپ کی مہربانی، واسطے دیے قسمیں دیں کہ خدا کے لیے آپ ہمارے رشتے دار ہیں ، کچھ نہیں تو قبیلہ تو آپ کا ہی ہے ، جیسے چالاک لوگ کیا کرتے ہیں اس طرح کے واسطے دیے ! رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے پھر ان کو حکم دیا کہ تم ان کا راستہ کھول دو تو راستہ کھلا ورنہ اس نے بند کردیا تھا ! !
''ورنہ '' کی قوت :
آج مسلمان کیوں ذلیل ہے ؟ آج مسلمان اس لیے ذلیل ہے کہ '' ورنہ'' کی جو قوت تھی وہ مسلمان کے ہاتھ سے نکل گئی ! اس کی مثال میں دیا کرتا ہوں ہمارے علامہ خالد محمود صاحب کو جانتے ہیں آپ سب ، انہوں نے ایک واقعہ سنایا :
کہنے لگے کہ میں مکہ مکرمہ گیا وہاں میں گاڑی میں سفر کر رہا تھا ٹیکسی لی میں نے، مجھے جلدی تھی وہ نوجوان ٹیکسی آرام سے چلا رہا تھا ، میں نے اس سے کہا مجھے جلدی ہے ! وہ پھر بھی آہستہ چلتا رہا ،کہنے لگے میں نے اسے پھر کہا کہ تیز چلاؤ مجھے بہت جلدی ہے ! وہ پھر ایسے ہی چلتا رہا ! تیسری دفعہ پھر کہنے لگے میں نے اسے زور دے کر کہا کہ بھئی تیز چلو ''ورنہ '' کہنے لگے کہ اس نے میری طرف گھور کے دیکھا اور اس نے کہا ''ورنہ'' کیا ؟ کہنے لگے میں نے اسے کہا ''ورنہ'' پھر اسی میں سفر کروں گا''
تو اب مسلمان کے پاس'' ورنہ'' کی یہ قوت رہ گئی ہے ،نبی علیہ السلام نے ''ورنہ'' کی وہ قوت سکھائی تھی
حضرت مدنی کا سکھایا ہوا سبق :
حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نے امت کویہی سبق سکھایا جس نے انہیں ممتاز مقام دیا کہ بیشک تم حدیث پڑھاتے ہو، بیشک تم مدرسے قائم کرتے ہو، بیشک تم بہت بڑے محدث اور فقیہ ہو لیکن دین اس وقت کفر کے پاؤں تلے دبا ہوا ہے اور ''ورنہ'' کی اتھارٹی تم سے چھن چکی ہے لہٰذا ''ورنہ'' کی قوت تم جب تک واپس نہیں لوگے مسلمان دنیا میں عزت کی زندگی نہیں گزار سکتے ! !
یہی چیز حضرت شیخ الہند رحمة اللہ علیہ نے سکھائی، یہی سبق حضرت مدنی رحمة اللہ علیہ نے سکھایا دنیاسے جاتے جاتے اور یہی سبق ان کی چھوڑی ہوئی جماعت پاکستان میں ''جمعیةعلماء اسلام ''سکھا رہی ہے ! ہندوستان میں '' جمعیة علماء ہند ''سکھا رہی ہے ! بنگلہ دیش میں '' جمعیة علماء بنگلہ دیش'' سکھا رہی ہے ! پوری دنیا کی اسلامی مملکت میں اس جیسی جماعت کہیں نہیں ! یہ ہمارے لیے بہت بڑا سرمایہ ہے اس جماعت کی اگر ہم قدر نہیں کریں گے تو'' ورنہ'' کی قوت ہمارے ہاتھ نہیں آسکے گی، تھانے کے پاؤں کے نیچے'' عالِم'' کچلا ہی جاتا رہے گا حتی کہ'' تھانہ'' آپ کے پیر کے نیچے نہیں آتا، تھانہ ہمیں کچلتا رہے گا
حضرت مدنی رحمة اللہ علیہ نے بتایا کہ تھانے کو اپنے پائوں کے نیچے(زیر اقتدار) لے آئو، تھانے کے پاؤں سے نکل آؤ '' ورنہ'' کی قوت تمہارے پاس ہونی چاہیے جیسے کہ ثمامہ بن اثال کے پاس تھی ! اسی طرح اور واقعات حدیثوں میں بھرے پڑے ہیں ! !
حضرت سعد رضی اللّٰہ عنہ نے ابو جہل کو عمرہ کے وقت ''ورنہ'' کی دھمکی دی ! ''ورنہ'' ان کی وہ والی تھی آج والی نہیں تھی ، اگر آج والی ''ورنہ'' ہوگی تو ہم ذلیل ہوتے رہیں گے ! ! !
حضرت مدنی رحمةاللہ علیہ نے یہی سکھایا کہ خلافت ِعثمانیہ چھننے کامطلب تم سے ''ورنہ'' کی قوت چھیننی تھی وہ چھن گئی ! نمازیں پڑھتے رہو تمہیں انگریز کچھ نہیں کہے گا، کفر کچھ نہیں کہے گا ! روزے رکھتے رہو کفر تمہیں کچھ نہیں کہے گا ! نمازیں پڑھو، روزے رکھو، مسجد میں جاتے ہوئے سیدھا پاؤں لے جاؤ، باہر آؤ تو الٹا پاؤں لاؤ، کفر کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے ! کفرجب برانگیختہ ہوگا جب اس کی ''کرسی'' کی طرف دیکھو گے ! ! برطانیہ کا ٹونی بلئیر کہہ چکا ہے کہ
''ہم اس'' کرسی'' کی طرف مذہبی طاقتوں کا دیکھنا برداشت نہیں کریں گے ! ہماری جنگ ان کے خلاف جاری رہے گی اور ہم'' مدرسوں '' کے وجود کو جب تک ختم نہیں کر لیں گے چین سے نہیں بیٹھیں گے ''
یہ کفرکا عزم ہے، دوسری طرف ہماری تصویر ہے کہ دینی مبلغ دینی پیشوا مذہب کی بات جب کرتا ہے وہ والی جس سے مذہب کو عزت نصیب ہو تو کفر کا گھولا ہوازہر جو ہمارے دل و دماغ کو زہریلا کر چکا ہے اس کی وجہ سے ہم خود بولتے ہیں کہ نہیں نہیں یہ سیاسی بات یہاں نہ کریں حالانکہ وہ مذہبی بات ہوتی ہے سیاسی نہیں ہوتی !
اللہ ہمیں اور آپ سب کو دین کی سمجھ عطا فرمائے اور ان بزرگانِ دین کی قربانیوں کو قبول فرمائے اور ان کی برکات سے ہمیں متمتع فرمائے اور ان کی خدمات اور جو اِن کے راستے پر چلنے والے ہیں ان کی قدرکی توفیق عطا فرمائے وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ
محمود الملّة و الدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں نور اللّٰہ مرقدہ
کے سلسلہ وار مطبوعہ مضامین و دروس جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ پر پڑھے اور سنے جا سکتے ہیں
http://www.jamiamadniajadeed.org
قسط : ٣٥
رحمن کے خاص بندے
( حضرت مولانا مفتی سید محمد سلمان صاحب منصور پوری، اُستاذ الحدیث دارالعلوم دیوبند )
٭٭٭
سچی توبہ کی تعریف اور شرائط :
اب سوال یہ ہے کہ سچی توبہ کا اطلاق کون سی توبہ پر ہوگا ؟ تو اس بارے میں احادیث وآثار سے معلوم ہوتاہے کہ وہ ایسی توبہ ہے جس میں اپنے برے عمل پر دل میں شرمندگی ہو اور آئندہ نہ کرنے کا عزم ہو ! اور اگر اس غلطی کا تعلق کسی بندے کے حق سے ہو تو اس کی ادائیگی بھی سچی توبہ کے لیے لازم ہے
سیّدنا حضرت اُبی بن کعب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ قیامت کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ مردوں اور عورتوں میں ہم جنسی اور غیر فطری عمل عام ہوجائے گا حالانکہ یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے حرام قرار دی ہیں اور ایسے بد عمل مرد و خواتین سب اللہ کے غضب کے مستحق ہیں ! اور جب تک وہ سچی توبہ نہ کرلیں ان کی نمازیں بھی قبول نہیں ہوں گی ! ! تو حضرت اُبیٔ بن کعبسے پوچھا گیا کہ'' سچی توبہ سے کیا مراد ہے ؟ '' تو آپ نے فرمایا کہ میں نے بھی اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم سے سوال کیا تھا تو آپ نے ارشاد فرمایا تھا :
ھُوَ النَّدَمُ عَلَی الذَّنْبِ حیِْنَ یَفْرُطُ مِنْکَ فَتَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ بِنَدَامَتِکَ مِنْہُ عِنْدَالْحَاضِرِ ثُمَّ لَا تَعُوْدُ اِلَیْہِ اَبَدًا ۔ ١
''(سچی توبہ یہ ہے کہ) گناہ سرزد ہونے پر شرمندگی ہونا پھر تم اللہ تعالیٰ سے شرمندگی کے ساتھ اس گناہ پر فوراً مغفرت طلب کرو اور آئندہ اس گناہ کو دوبارہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرو''
اور تابعی جلیل سیّدنا حضرت حسن بصری سے ''توبۂ نصوح'' کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے
١ تفسیر ابن کثیر ٦/٢٦٠ ، شعب الایمان ٤/٣٧٥ رقم الحدیث : ٥٤٥٧
ارشاد فرمایا کہ ''سچی توبہ (توبۂ نصوح) یہ ہے کہ تم گناہ سے ایسی نفرت کرو جیسا کہ پہلے اس کی طرف رغبت رکھتے تھے اور جب بھی گناہ یاد آجائے تو فوراً توبہ واستغفار کرو لہٰذا اگرکوئی شخص جرم پر توبہ کرے اور اس پر ثابت قدم رہے تو اس کی برکت سے اس کے پچھلے سب گناہ معاف ہوجائیں گے جیسا کہ ایک صحیح حدیث میں وارد ہے کہ اَلْاِسْلَامُ یَجُبُّ مَا قَبْلَہ وَالتَّوْبَةُ تَجُبُّ مَا قَبْلَھَا ١
یعنی'' اسلام پہلے کے گناہوں کو مٹادیتا ہے جبکہ توبہ پہلے کے گناہوں کو صاف کردیتی ہے''
اور علامہ قرطبی نے فرمایا کہ سچی توبہ کے لیے چار باتیں ضروری ہیں :
(١) اَلْاِسْتِغْفَارُبِاللِّسَانِ زبان سے استغفار کرنا
(٢) اَلْاِقْلَاعُ بِالاَبْدَانِ فوری طور پر اعضائِ بدن کو گناہ سے الگ کرنا
(٣) وَاِضْمَارُ تَرْکِ الْعَوْدِ بِالْجِنَانْ دل میں اس گناہ کو کبھی نہ کرنے کا عزم کرنا
(٤) وَمُھَاجَرَةُ سَیِّئِ الْاِخْوَانِ اور برے ساتھیوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا ٢
تقریباً اسی طرح کی بات مفسر قرآن سیّدنا عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے بھی منقول ہے ٣
اور حافظ ابن حجر عسقلانی اپنی شہرۂ آفاق کتاب ''فتح الباری شرح صحیح البخاری'' میں ''توبة نصوح'' کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
وَفِی الشَّرْعِ تَرْکُ الذَّنْبِ لِقُبْحِہ ، وَالنَّدَمُ عَلٰی فِعْلِہِ ، وَالْعَزْمُ عَلٰی عَدَمِ الْعَوْدِ ، وَرَدُّ الْمَظْلَمَةِ اِنْ کَانَتْ اَوْ طَلَبُ الْبَرَائَ ةِ مِنْ صَاحِبِھَا ٤
''اور شریعت کی نظر میں گناہ کو اس کی برائی کی وجہ سے ترک کرنا اور اس کے انجام دینے پر شرمندہ ہونا اور آئندہ اسے کبھی نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرنا اور کسی پر اگر ظلم کیاہو تو اسے لوٹانا یا اس سے معاف کرانا''
١ مسند احمد بحوالہ تفسیر ابن کثیر ٦ /٢٦١ ٢ تفسیر البغوی ٥/١٢٢ المکتبة الشاملة
٣ تفسیر ابن عباس ١/٤٧٧ المکتبة الشاملة
٤ فتح الباری شرح صحیح البخاری کتاب الدعوات باب التوبة ١١/ ١١٦ دار البیان العربی
اس تفصیل سے معلوم ہوگیا کہ محض زبان سے توبہ واستغفار کافی نہیں بلکہ توبہ کی سب ہی شرائط اور تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے اس کے بغیر توبہ کی قبولیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی ! ! !
اللہ تعالیٰ کی طرف سے توبہ کی دعوت :
سیّدنا ابوذر غفاری رضی اللّٰہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حوالے سے متعدد باتیں ارشاد فرمائیں جن میں سے ایک بات یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ بندوں سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
یَاعِبَادِیْ اِنَّکُمْ تُخْطِئُوْنَ بِاللَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَاَنَا اَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا فَاسْتَغْفِرُوْنِیْ اَغْفِرْ لَکُمْ ١
'' اے میرے بندو ! تم دن رات غلطیاں کرتے ہو اور میں سب گناہوں کو معاف کردیتا ہوں ! اس لیے مجھ سے ہی مغفرت طلب کرو، میں تمہیں بخش دوں گا''
اور ایک دوسری روایت کے الفاظ اس طرح ہیں :
یَا عِبَادِیْ ! کُلُّکُمْ مُذْنِب اِلَّا مَنْ عَافَیْتُ فَاسْتَغْفِرُوْنِیْ اَغْفِرْلَکُمْ وَمَنْ عَلِمَ اَنِّیْ اَقْدِرُ عَلَی الْمَغْفِرَةِ فَاسْتَغْفَرَنِیْ بِقُدْرَتِیْ غَفَرْتُ لَہ وَلَا أُبَالِیْ ٢
''اے میرے بندو ! تم سب گنہگار ہو، مگر میں جسے عافیت سے نوازوں لہٰذا مجھ ہی سے مغفرت طلب کرو، میں تمہیں مغفرت سے نوازوں گا ! اور جو شخص یہ جانتے ہوئے کہ میں مغفرت پر قادر ہوں پھر مجھ سے میری قدرت کے حوالے سے مغفرت کا طالب ہوتا ہے تو میں اسے بالکل معاف کردیتا ہوں اور میں کوئی پروا نہیں کرتا''
توبہ کا اہتمام ، توبہ کے ذریعہ گناہوں کی معافی :
گزشتہ آیات میں چند بڑے بڑے گناہوں (شرک، قتل ِناحق، بدکاری) کا ذکر کیا گیا تھا
١ صحیح مسلم کتاب البر والصلة والادب باب تحریم الظلم ٢/ ٣١٩ رقم الحدیث : ٢٥٧٧
٢ مسند احمد مسند الانصار حدیث ابی ذر الغفاری ٣٥/٢٩٤ رقم الحدیث : ٢١٣٦٧ المکة المکرمة
اور ان پر سخت سزا کی وعید بھی سنائی گئی تھی اب آگے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی شانِ رحمت کا اظہار کرتے ہوئے پُر حکمت انداز میں یہ ترغیب دی ہے کہ جو لوگ برائیوں سے توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں اور پھر اچھے اعمال کرنے لگیں تو اللہ تبارک وتعالیٰ ان کو نیکیوں کی توفیق سے سرفراز فرماتے ہیں اور برائیوں کو مٹادیتے ہیں چنانچہ ارشاد ِ عالی ہے :
( اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولٰئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّئٰتِھِمْ حَسَنٰتٍ وَّکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا وََمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّہ یَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ مَتَابًا) ١
''مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور اچھے اعمال کیے تو اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل دیں گے اور اللہ تعالیٰ بہت ہی بخشنے والے نہایت مہربان ہیں اور جو (مسلمان) توبہ کر لے اور نیک کام کرے تو وہ بھی اللہ کی طرف لوٹ آتا ہے''
اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی شخص سے گناہ کا صدور ہوجائے تو اسے مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ سچی توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے او اچھے اعمال کر کے زیادہ سے زیادہ اپنے نامۂ اعمال میں نیکیاں درج کرانے کی کوشش کرنی چاہیے چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے :
( قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا اِنَّہ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ) ٢
''اے پیغمبر آپ فرمادیجیے کہ اے میرے وہ بندوں جنہوں نے (نافرمانی کر کے) اپنے اوپر زیادتی کر رکھی ہے تم اللہ کی رحمت سے نا امید مت ہو، بلا شبہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب گناہ معاف فرمادیں گے بیشک وہ بہت مغفرت کرنے والے مہربان ہیں ''
سچی توبہ کی تاکید :
انسان بہرحال انسان ہے، وہ کبھی نفسانی یا شیطانی تقاضے سے گناہ میں مبتلا ہو ہی جاتا ہے تو ایسی صورت میں اسے گناہ پر اصرار نہیں کر نا چاہیے بلکہ جلد از جلد سچی توبہ کر کے اپنے رب سے اپنا
١ سورة الفرقان : ٧٠ ، ٧١ ٢ سورة الزمر : ٥٣
معاملہ درست کر لینا چاہیے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قابل ِتعریف اہلِ ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے ایک اہم صفت یہ بھی بیان کی :
( وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْظَلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ ذَکَرُوْا اللّٰہَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ وَمَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلاَّ اللّٰہُ وَلَمْ یُصِرُّوْا عَلٰی مَا فَعَلُوْا وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ ) ١
''اور وہ لوگ کہ جب کوئی کھلا گناہ کر بیٹھیں یا اپنے حق میں برا کام کریں تو (فوراً) اللہ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کون گناہوں کو بخش سکتا ہے ؟ اور وہ اپنے (برے ) کاموں پراصرار نہیں کرتے اور وہ جانتے ہیں (کہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والے ہیں ) ''
پھر ان کو یہ بشارت سنائی :
( اُولٰئِکَ جَزَآؤُھُمْ مَّغْفِرَة مِّنْ رَّبِّھِمْ وَجَنّٰت تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھَارُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَاوَنِعْمَ اَجْرُ الْعَامِلِیْنَ) ٢
''ان کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے معافی ہے اور ایسے باغات ہین جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ ہمیشہ ان باغوں میں رہیں گے اور (نیک) عمل کرنے والوں کا کیا ہی بہترین بدلہ ہے''
اور سورۂ تحریم میں تمام اہل ِایمان کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
( یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ تُوْبُوْآ اِلَی اللّٰہِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّکَفِّرَ عَنْکُمْ سَیِّئٰتِکُمْ وَیُدْخِلَکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الاَنْھٰرُ ) ٣
''اے ایمان والو ! اللہ سے سچی توبہ کرو، عنقریب وہ تمہاری خطائیں معاف کردے گا اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ''
دیکھیے ! توبہ کرنے والوں کو کیسی بشارت سنائی گئی کہ ان کے گناہ بھی معاف کیے جائیں گے اور ساتھ میں جنت میں داخلہ کا پروانہ بھی عطا کیا جائے گا ! ! (جاری ہے )
١ سورة اٰل عمران : ١٣٥ ٢ سورة اٰل عمران : ١٣٦ ٣ سورة التحریم : ٨
اسلام میں معذوروں کے حقوق
( حضرت مولانا نعیم الدین صاحب مدظلہم ، استاذ الحدیث جامعہ مدنیہ لاہور )
٭٭٭
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلاَمُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا
وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں زندگی سے متعلق تمام شعبوں میں ہماری رہنمائی کی گئی ہے، اسلام کا ایک خاص امتیاز یہ ہے کہ اس میں تمام بنی نوع انسان کے حقوق بیان کیے گئے ہیں ، شاہ ہو یا گدا، امیر ہو یا غریب، استاد ہو یا شاگرد، مرد ہو یا عورت، اولاد ہو یا والدین، صحیح اور تندرست شخص ہو یا معذور و بے بس ، سب کے حقوق اسلام میں ملتے ہیں آج ہم ''اسلام میں معذوروں کے حقوق'' سے متعلق کچھ باتیں عرض کریں گے !
کتاب و سنت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ معذوروں کو جس قدر حقوق اسلام میں دیے گئے ہیں اور ان کی خبرگیری اور ان کے ساتھ ایثار و ہمدردی کا سبق جس قدر اسلام میں دیا گیا ہے دنیا کے کسی بھی مذہب میں ایسا نہیں کیا گیا ! سیاسیات ہوں یا معاشیات ، معاملات ہوں یا عبادات ہر شعبہ میں معذوروں کی خاص رعایت رکھی گئی ہے اور انہیں خصوصی حقوق دیے گئے ہیں ! !
نماز :
عبادات میں نماز اہم ترین عبادت ہے، اس میں دیکھیں معذوروں کی کیسی رعایت رکھی گئی ہے، نماز میں قیام فرض ہے لیکن اگرکوئی شخص معذور ہو تو اسے اجازت دی گئی کہ وہ بیٹھ کر نماز پڑھ لے، بیٹھ کر بھی نہ پڑھ سکے تو لیٹ کر پڑھ لے چنانچہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا
صَلِّ قَائِمًا فِاِنْ لَّمْ تَسْتَطِعِّ فَقَاعِدًا فَاِنْ لَّمْ تَسْتَطِعْ فَعَلٰی جَنْبٍ ١
١ صحیح البخاری ابواب تقصیر الصلاة رقم الحدیث ١١١٧
''نماز کھڑے ہو کر پڑھو اور اگر معذوری کی وجہ سے کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکو تو بیٹھ کر پڑھ لو اور اگر ایسی معذوری ہے کہ بیٹھ کر بھی نہیں پڑھ سکتے تو لیٹ کر پڑھ لو''
نماز ہر حال میں پڑھنی ضروری ہے لیکن اگر کوئی شخص معذور ہو جائے مثلاً طویل بے ہوشی کا شکار ہو جائے یا عقل و حواس کھو بیٹھے اور دیوانہ ہو جائے تو اسے نماز معاف کر دی گئی ہے ! !
روزہ :
اسی طرح روزہ کو دیکھ لیجیے: رمضان المبارک میں روزہ رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے لیکن اگر کوئی شخص معذور ہو جائے مثلاً کوئی ایسا مرض اسے لاحق ہو جائے جس کی وجہ سے وہ سردی گرمی میں کسی حال میں بھی روزہ نہ رکھ سکتا ہو تو اسے روزہ رکھنے کے بجائے فدیہ دے دینے کا حکم دیا گیا ہے ! !
زکٰوة :
انسان پر کسی نہ کسی وقت ایسی اُفتاد آ پڑتی ہے کہ اس کو دوسروں کا دست نگر بننا پڑتا ہے اور اس کو دوسروں سے مدد لینے کی ضرورت ہو جاتی ہے ! اس لیے اسلام میں ہر صاحب ِحیثیت مسلمان پر فرض قرار دیا گیا کہ وہ اپنے ایسے مصیبت زدہ بھائی کی ہر طرح مدد کرے ارشاد فرمایا گیا ( وَالَّذِیْنَ فِیْ اَمْوَالِھِمْ حَقّ مَّعْلُوْم للِّسَّائِلِ وَالْمَحْرُوْمِ ) ١ یعنی ''ان کے مالوں میں سائل اور محروم کے لیے مقررہ حق ہے'' سائل سے مراد صرف مانگنے والا ہی نہیں بلکہ اس سے ہر وہ ضرورت مند مراد ہوسکتا ہے جو معذوری کی وجہ سے کسی مالی مدد کا خواستگار ہو اور محروم سے مراد صحیح قول کے مطابق وہ مصیبت زدہ شخص ہے جس کی کمائی یا کھیتی پر کوئی آسمانی اُفتاد آپڑی ہو اور اب وہ دوسروں کی مدد کا محتاج ہو گیا ہو ! !
حج :
حج ایک نہایت عظیم الشان عبادت ہے لیکن اس کے فرض ہونے کے لیے بھی زاد وراحلہ کے ساتھ ساتھ سلامتیِ اعضاء کی شرط عائد کی گئی ہے یعنی حج اس مسلمان پر فرض کیا گیا ہے جس کے پاس آنے جانے کا خرچ اور عدم موجودگی میں گھر کے اخراجات کا بندوبست ہو ! اس سے معذوری کی شکل
١ سورة المعارج : ٢٤ ، ٢٥
میں حج فرض نہیں ! !
اسی طرح اگر کوئی شخص نابینا ہے اور اس کے ساتھ کسی کے جانے کا بندوبست نہیں ہے تو اس پر بھی حج فرض نہیں ! ایسے ہی اگر کوئی شخص نہایت بوڑھا ہے یا مفلوج ہے یا لنگڑا ہے اور اس معذوری کی وجہ سے حج پر نہیں جا سکتا تو اسے یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ خود جانے کی بجائے حج بدل کرا دے ! !
نکاح وطلاق :
اسلام میں گونگے بہرے شخص کو نکاح و طلاق کا حق دیا گیا ہے اور ان معاملات میں الفاظ کی زبان سے ادائیگی ضروری ہونے کے بجائے تحریر و اشارہ پر اکتفا ء کا حکم دیا گیا ! !
جہاد :
جہاد جو اسلام کا ایک انتہائی اہم فریضہ ہے اس میں بھی معذور افراد کی رعایت رکھی گئی ہے اور انہیں یہ حق دیا گیا ہے کہ اگر وہ معذوری کی وجہ سے شریکِ جہاد نہ ہو سکیں تو نہ ہوں ان پر کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں چنانچہ سورئہ فتح میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ( لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَج وَلاَ عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَج وَلاَ عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَج ) ١ ''نہ اندھے پر جہاد میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے کوئی حرج ہے نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ بیمار پر کوئی حرج ہے''
حدیث شریف میں آتا ہے کہ
''حضرت عمرو بن جموح رضی اللّٰہ عنہ ایک لنگڑے صحابی تھے جن کے لیے لنگڑے پن کی وجہ سے چلنا مشکل تھا غزوئہ احد کے موقع پر آپ کے صاحبزادوں نے منع کیا کہ آپ شکستہ پا ہیں چلنا مشکل ہے آپ مکان میں رہیں یہ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ لنگڑا ہوں لیکن قربان ہونے کے لیے میدان جہاد میں تو جا سکتا ہوں ممکن ہے کہ اپنے لنگڑے پائوں سے ہی جنت میں پہنچ جائوں ، آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ'' آپ معذور ہیں آپ پر جہاد فرض نہیں ''
١ سورة الفتح : ٦١
یہ چند مثالیں ہیں جو معذوروں کے حقوق سے متعلق عرض کی گئیں ! اس قسم کی اور بہت سی مثالیں تلاش کرنے سے مل سکتی ہیں ، ان مثالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ہی واحد ایسا مذہب ہے جس میں معذوروں کو اس قدر حقوق دیے گئے ہیں اوران کی خاص رعایت رکھی گئی ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ اگر وہ صبرو حوصلہ سے کام لیں تو انہیں بڑی بشارات سے بھی نوازا گیا ہے۔
معذوروں کے لیے بشارتیں :
ایک حدیث شریف میں حضور نبی کریم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا
اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں اِذَا ابْتَلِیْتُ عَبْدِیْ بِحَبِیْبَتَیْہِ فَصَبَرَ عَوَّضْتُہ مِنْہُمَا الْجَنَّةَ ١ یعنی جب میں اپنے کسی بندہ کو اس کی آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا کردیتا ہوں جس کی وجہ سے وہ نابینا ہو جاتا ہے پھر اس پر بھی صبر کرتا ہے تو ان آنکھوں کے عوض میں اسے جنت دے دیتا ہوں ''
حضرت شدا دبن اَوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ عليہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ
''اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب میں اپنے بندوں میں سے کسی بندۂ مومن کو کسی بیماری یا مصیبت میں مبتلا کرتا ہوں اور وہ بندہ اس ابتلاء پر دل گیر اور ناخوش نہیں ہوتا بلکہ وہ میری تعریف کرتا ہے تو وہ اپنے بسترِ علالت سے ایسا گناہوں سے پاک وصاف ہو کر اٹھتا ہے جیسا کہ وہ اس دن گناہوں سے پاک و صاف تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا، نیز پروردگار فرشتوں سے فرماتے ہیں میں نے اپنے بندہ کو مقید کیا ہے اور اسے آزمائش میں مبتلا کیا ہے لہٰذا تم اس کے اعمال اسی طرح لکھتے رہو جس طرح تم اس کے اعمال تندرستی کے زمانے میں لکھتے رہے تھے'' ٢
اسلام معذور افراد کے ساتھ انتہائی ایثار اور ہمدردی کا سبق دیتا ہے اور اس میں مسلم اور غیر مسلم کا فرق بھی روا نہیں رکھتا، چنانچہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے
١ صحیح البخاری کتاب المرضٰی باب فضل من ذھب بصرہ رقم الحدیث ٥٦٥٣
٢ مشکوة المصابیح کتاب الجنائز باب عیادة المریض و ثواب المرض رقم الحدیث ١٥٧٩
''ایک دفعہ لوگوں کو کھاتا دیکھ رہے تھے ایک شخص کو دیکھا کہ بائیں ہاتھ سے کھاتاہے، پاس جا کر کہا داہنے ہاتھ سے کھائو اس نے کہا جنگ ِموتہ میں میرا دائیاں ہاتھ جاتا رہا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو رقت ہوئی اس کے برابر بیٹھ گئے اور رو کر کہنے لگے افسوس تم کو وضو کون کراتا ہوگا، سر کون دھوتا ہوگا، کپڑے کون پہناتا ہوگا ؟ پھر آپ نے اس کے لیے ایک نوکر مقرر کردیا اور اس کے لیے تمام ضروری چیزیں خود مہیا فرما دیں ''
حضرت امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے کتاب الخراج میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ
'' ایک مرتبہ آپ ایک مقام پر تشریف لے گئے، دیکھا کہ ایک بوڑھا نابینا بھیک مانگ رہا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا تو کون ہے ؟ اس نے کہا میں یہودی ہوں ! آپ نے دریافت کیا کہ کس چیز نے تجھ کو بھیک مانگنے پر مجبور کیا ؟ اس نے جواب دیا ادائے جزیہ معاشی ضرورت اور ضعفِ پیری نے ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے مکان پر لے جا کر جو موجود تھا اس کو دیا، پھر بیت المال کے خزانچی کے پاس فرمان بھیجا کہ یہ اور اس قسم کے حاجت مندوں کی تفتیش کرو خدا کی قسم ہم ہرگز انصاف پسند نہیں ہو سکتے اگر ان (یعنی ذمیوں ) کی جوانی کی محنت یعنی جزیہ تو کھائیں اور ان کے بڑھاپے کے وقت ان کوذ لت کے لیے چھوڑ دیں ، اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایسے تمام لوگوں سے جزیہ بھی معاف کر دیا اور ان کا وظیفہ بھی بیت المال سے مقرر کردیا''
الغرض اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس میں معذوروں کو ان کے مناسب حقوق دیے گئے ہیں ، ہر موقع پر ان کی رعایت رکھی گئی ہے اور ان کے ساتھ ایثار و ہمدردی کا سبق سکھلایا گیا ہے ! اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنٰی میں اسلام پر عمل کی توفیق عطا فرمائے وما علینا الاالبلاغ المبین
قسط : ٣ ، آخری
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی
( مولانا محمد معاذ صاحب، فاضل جامعہ مدنیہ لاہور )
٭٭٭
تدریس :
١٢٨٨ھ میں حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کے ہاں سے آمد کے بعد ١٢٩٠ھ تک آپ تعلیم کے ساتھ ساتھ جزوی طور پر تدریس بھی کرتے رہے ١ شوال ١٣٩١ھ میں باقاعدہ معین مدرس کے طورپر آپ کا تقرر ہوا، اس سال کی روداد میں اساتذة کی فہرست میں نمبر چھ پر آپ کا اسم گرامی معاون تعلیم عربی کے طور پر درج ہے ٢ شوال ١٢٩٢ھ میں آپ باضابطہ طور پر مدرس چہارم مقرر ہوئے ٣ ١٣٠٣ھ میں مولانا محمد یعقوب نانوتوی کے انتقال کے بعد مدرس سوم ٤ جبکہ سال بعد ١٣٠٤ھ میں مولانا ملا محمود دیوبندی کے وصال کے بعد مدرس دوم ٥ اور مولانا سیّد احمد دہلوی کی مدرسہ سے رخصتی کے بعد ١٣٠٨ھ میں مدرسِ اوّل مقرر ہوئے ٦ اور تا دم زیست مدرسِ اوّل رہے۔
حضرت شیخ الہند کا تدریسی دورانیہ ١٢٨٨ھ سے شعبان ١٣٣٣ھ تک پینتالیس سال بنتا ہے حضرت شیخ الہند کی تدریس کے بنیادی طور پر دو دور ہیں
مدرسِ اوّل بننے سے قبل اور مدرسِ اوّل بننے کے بعد ! مدرس اوّل بننے سے پہلے آپ فنون کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی حدیث کی کتاب کا بھی ضرور درس دیتے، آپ کی تدریس کے اس ابتدائی دور کے
١ کیفیت ہشتمی سالانہ بابت ١٢٩٠ھ ص ٢٧ ، ٢٨ ٢ کیفیت نہمی سالانہ مدرسہ عربی دیوبند بابت ١٢٩١ھ ص ٢
٣ روداد سا ل دہم مدرسہ اسلامی عربی دیوبند بابت ١٢٩٢ھ طبع ثانی ١٣٣٤ھ مطبع قاسمی ص ٢
٤ روداد سال بست ویکم مدرسہ اسلامی عربی دیوبند بابت ١٣٠٣ھ مطبع ہاشمی میرٹھ ص ١
٥ روداد سال بست ودوم مدرسہ اسلامی عربی دیوبند بابت ١٣٠٤ھ مطبع ہاشمی میرٹھ ص ١
٦ روداد سال بست وششم مدرسہ اسلامی عربی دیوبند بابت ١٣٠٨ھ مطبع ہاشمی میرٹھ ص ٢
کچھ نقشے رودادوں سے مہیا ہوئے ہیں جنہیں ذیل میں درج کیا جاتا ہے :
١٢٩٣۔١٢٩٤ھ/ ١٨٧٦ء :
اس سال کی روداد میں آپ کے نام یہ اسباق درج ہیں :
مولوی محمود حسن صاحب مدرس چہارم : ترمذی ، مشکوة ، ہدایہ اوّل ، مختصر المعانی، قطبی، میر قطبی ، نفحة الیمن ، شرح ملا ١
١٢٩٥۔ ١٢٩٦ھ/ ١٨٧٨ء :
مولوی محمود حسن مدرس چہارم : مقاماتِ حریری ، ملا حسن ، قدوری ، مختصر المعانی، بخاری ، ابن ماجہ ، شرح ملا جامی ، قطبی ، نورالانوار ٢
اس کے بعد کے ادواد کے تعلیمی نقشے تو مہیا نہیں ہوسکے اس لیے فضلاء کرام نے اپنی پڑھی کتب میں حضرت شیخ الہند کے نام جن کتب کی صراحت کی ہے انہیں ذیل میں درج کیا جاتا ہے
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی :
حضرت تھانوی نے کتب حدیث کے علاوہ درج ذیل کتب آپ سے پڑھنا لکھا ہے
ملا حسن ، مختصر المعانی ، حمد اللّٰہ ، میر زاہد رسالہ ، میرزاہد ملا جلال ، ہدایہ آخیرین ٣
جبکہ کتب حدیث میں صحیح بخاری ، صحیح مسلم (دونوں کا بعض حصہ) سنن نسائی ، ابن ماجہ ٤
١ روداد سال یاز دہم مدرسہ اسلامی عربی دیوبند بابت ١٢٩٣ھ طبع دوم مطبع قاسمی دیوبند ص ١٣
٢ روداد سال سیزدہم اسلامی مدرسہ عربی دیوبند بابت ١٢٩٥ھ طبع دوم مطبع قاسمی دیوبند ص ٢
٣ ذکر محمود : حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، مشمولہ کتاب میرے اکابر مرتب مولانا اعجاز مصطفی
طبع ٢٠ مکتبہ رشیدیہ کراچی ص ١٣٠
٤ الاعرف الجلی فی اسانید الشیخ اشرف علی مشمولہ الازدیاد السنی علی البائع الجنی
مرتبہ مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی طبع مکتبہ معارف القرآن کراچی ص ٣٧٣٨ طبع ١٤٢٣ھ/٢٠٠٢ئ
شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی :
حضرت مدنی کی خوش نصیبی ایک یہ بھی تھی کہ حضرت شیخ الہند کے بھتیجے منشی حبیب حسن آپ کے ہم جماعت تھے اس لیے آپ نے حضرت شیخ الہند سے ابتدائی کتب سے لے کر کتب ِحدیث تک قریباً چوبیس کتب پڑھیں ان کتب کی تفصیل یہ ہے :
صحیح بخاری ، سنن ترمذی ، سنن ابی داود ، موطا امام مالک ، موطا امام محمد ، شرح نخبة الفکر، بیضاوی ، شرح عقائد نسفی ، حاشیہ خیالی، ہدایة آخیرین ، مطول، نفحة الیمن ، مفید الطالبین ، میر قطبی ، قطبی تصورات ، قطبی تصدیقات ، شرح تہذیب ، تہذیب ، مرقاة ، قال اقوال ، مراح الارواح ، زنجانی ، زرادی ، دستور المبتدی ۔ ١
حضرت مولانا علامہ انور شاہ کشمیری :
حضرت شیخ الہند نے روایت ِحدیث کا جو اجازت نامہ علامہ انور شاہ صاحب کو عنایت فرمایا اس میں حضرت شیخ الہند سے درج ذیل کتب پڑھنا لکھا ہے :
صحیح بخاری ، جامع ترمذی ، سنن ابی داود ، ہدایة ثانی کتاب العاریة تک ٢
حضرت مولانا سیّد میاں اصغر حسین صاحب :
حضرت میاں صاحب کو شیخ الہند نے جو اجازت ِ حدیث کی سند عطا فرمائی تھی اس میں ان کتب ِ حدیث کے پڑھنے کی صراحت ہے :
صحیح البخاری ، صحیح مسلم ، جامع ترمذی ، سنن ابی داود ٣
١ نقش حیات خود نوشت سوانح شیخ الاسلام حضرت مدنی ، طبع میزان اردو بازار لاہور عکسی ٢٠١٣ ء ص ٥٦
٢ فیض الباری علٰی صحیح البخاری ج اوّل مولانا بدر عالم میرٹھی طبع دار الکتب العلمیہ بیروت ص ٢٢
٣ تذکرہ حضرت میاں صاحب، سوانح مولانا سیّد اصغر حسین میاں صاحب مؤلفہ ڈاکٹر سیّد جمیل حسین میاں صاحب
طبع ص ٦٦
حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی :
حیاتِ عثمانی میں آپ کا شیخ الہند سے صحیح بخاری اور جامع ترمذی پڑھنا منقول ہے ١
حضرت مولانا فضل ربی بفوی :
حضرت مولانا فضل ربی بفوی، حضرت علامہ ابراہیم بلیاوی کے ہم درس تھے آپ کو سالانہ امتحان کے نتائج کے موقع پر جو رزلٹ کارڈ دیا گیا تھا اس میں حضرت شیخ الہند سے یہ کتب پڑھنا منقول ہے
صحیح البخاری ، جامع ترمذی ، سنن ابی داود ٢
حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی :
حضرت گیلانی نے اپنی سرگزشت ''احاطہ دارالعلوم میں بیتے ہوئے دن'' میں آپ سے صحیح بخاری اور جامع ترمذی پڑھنا لکھا ہے ٣
حضرت مولانا صدیق احمد نجیب آبادی نے انوار المحمود شرح سنن ابوداود میں حضرت شیخ الہند سے صحیح بخاری اور جامع ترمذی پڑھنا لکھا ہے ٤
حضرت مولانا عبدالرحمن کیمل پوری نے بھی حضرت شیخ الہند سے بخاری وترمذی پڑھنا لکھا ہے ٥
١ حیات ِعثمانی سوانح حضرت علامہ شبیر احمد صاحب عثمانی مؤلفہ پروفیسر محمد انوار الحسن شیرکوٹی طبع جولائی ١٩٨٥ء
مکتبہ دار العلوم کراچی ص ٠ ٧
٢ رزلٹ کارڈ مولانا فضل ربی بفوی اصل
٣ ''احاطہ دار العلوم میں بیتے ہوئے دن'' خود نوشت مولانا سیّد مناظر احسن گیلانی ترتیب وتبویب مولانا تنویر احمد شریفی
طبع ٢٠٠٩ء مکتبہ رشیدیہ کراچی ص ٢١٢
٤ انوار المحمود علٰی سنن ابی داود مجموعہ تقریر علامہ انوار شاہ کشمیری وغیرہم، مؤلفہ مولانا صدیق احمد
نجیب آبادی طبع ادارة القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ج ١ ص ٢
٥ ''تجلیات رحمانی'' سوانح مولانا عبدالرحمن کیمل پوری، مرتبہ قاری سعید الرحمن کیمل پوری ناشر جامعہ اسلامیہ
صدر راولپنڈی ص ٩٢
طرزِ تدریس :
ماقبل تفصیل سے معلوم ہوا کہ حضرت شیخ الہند کے زیر درس کتب حدیث کی تعداد مختلف ادوار میں بدلتی رہی ہے حضرت مولانا ملا محمود دیوبندی کے وصال کے بعد بخاری، ترمذی اور ابو داؤد تو آپ ہی کے زیرِ درس رہیں جبکہ دوسری کتب کے لیے عموماً ایک یا دو استاذ اور ہوتے تھے، حضرت مولانا عبدالعلی میرٹھی کی مدرسہ سے علیحدگی (١٣١٦ھ) کے بعد مذکورہ تین کتب کے ساتھ مسلم شریف بھی ١٣٢٠ھ تک آپ کے پاس رہی، اس کے بعد عوارض کی کثرت کی وجہ سے اخیر دور میں صرف بخاری و ترمذی اور کبھی کبھی ابو داود بھی آپ کے زیرِ درس رہی۔
(١) حضرت شیخ الہند کا طریقہ درس ''سرد'' کے زیادہ قریب تھا ، لمبی لمبی تقاریر بالکل نہیں ہوتی تھیں بلکہ بعض مرتبہ تو اس قدر مبہم جواب ہوتا کہ غور کرنے والے طالب علم کے لیے تو اس میں سب کچھ ہوتا جبکہ لمبی لمبی تقریر وں کے خواہاں کے لیے کچھ بھی نہ ہوتا۔
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی حضرت شیخ الہند کے طویل زمانۂ تدریس کے ابتدائی تلامذہ میں سے ہیں آپ اپنے رسالہ ''ذکر محمود'' میں شیخ الہند کے درس کی کیفیت یوں بیان فرماتے ہیں
ذکر نمبر ٧ : معمول یہ تھا کہ جب طالب علم عبارت پڑھ چکتا تو لمبی سے لمبی عبارت کا نہایت مختصر اور جامع خلاصہ ایسا بیان فرمادیتے کہ پھر طالب علم کو اس کی تفصیل سمجھ لینا آسان سے زیادہ آسان ہوجاتا۔ گویا اس تفصیل کا اجمال پر منطبق کرنا ہی رہ جاتا ہے اور مطلب سمجھنے میں ذرہ برابر گنجلک نہ رہتی، یہ بھی من جملہ کمالاتِ خاصہ تھا !
ذکر نمبر ٨ : معمول مذکور نمبر ٧ کی یہ برکت تھی کہ کتابیں اس طرح جلد ختم ہوتی تھیں جیسے کوئی مشین میں ڈھالتا ہو حتی کہ ہدایہ آخرین کا ایک معتدبہ حصہ بلا ترجمہ ہی نہایت سہولت سے پڑھنا یاد ہے !
ذکر نمبر ٩ : حدیث میں گاہ گاہ تلامذہ کی درخواست پر خود بھی عبارت پڑھتے جس کی روانی اور فہم لہجے کا لطف مشاہدہ ہی سے معلوم ہوسکتا ہے اور خوبی یہ ہے کہ درمیان درمیان ایسے وقفات لطیفہ بھی ہوتے تھے کہ جس کا دل چاہے اپنے شبہات وسوالات اطمینان سے حل کر سکے۔ اس حالت کے جوابات میں ایک خاص اختصار اور اسکات کی شان ہوتی تھی ١
حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی حضرت شیخ الہند کے آخری دورِ صدارت کے تلمیذ ہیں ، آپ نے حضرت شیخ الہند کی نشست اور انداز تدریس پر فصاحتی انداز میں روشنی ڈالی ہے، حضرت شیخ الہند کی نشست کا انداز یوں تحریر فرماتے ہیں :
''حضرت شیخ الہند دو ہر اوڑھے ہوئے........... اگر سرما کا موسم ہوتا اور شاید درس جس زمانے میں شروع ہوا تھا جاڑوں ہی کا زمانہ تھا سر پر دوپلی ٹوپی، بدن میں کھادی کا لمبا کرتا، کھادی ہی کا پائے جامہ، اسی لباس میں ہاتھ میں لٹھیا لیے تشریف لاتے'' ٢
کتابوں کے تتبع سے لگتا ہے کہ حضرت شیخ الہند ابتداء سال میں ترمذی شریف شروع فرماتے اس کی تکمیل پر دیگر کتب شروع ہوتیں مولانا گیلانی اس بحرذخار سے مستفید ہونے کو یوں بیان فرماتے ہیں :
''(ترمذی کے سبق میں ) طالب علم حدیث پڑھتا جاتا اور آپ سنتے جاتے، دورہ میں ترجمہ بزبانِ اردو کا قصہ ختم ہو جاتا تھا اس لیے کہ مشکوة حدیث کا متن طلبہ پہلے پڑھ چکے ہوتے تھے، کہا جاتا ہے کہ دورے میں شریک ہونے والے طلبہ ترجمے کی ضرورت سے بے نیاز ہوجاتے ہیں اسی لیے بطور ''سرد'' کے ایک حدیث کے بعد دوسری حدیث، دوسری کے بعد تیسری حدیث گزرتی چلی جاتی، لیکن کبھی ''ہاں چلیے'' کے سوا شیخ الہند کی زبان مبارک پر بمشکل کوئی لفظ آتا، گویا قطعی ایک
١ ''ذکر محمود مشمولہ میرے اکابر '' ص ١٣١ ٢ ''احاطہ دارالعلوم میں بیتے ہوئے دن'' ص ٢٠٠
خاموش درس تھا، جب کوئی ایسی حدیث آئی جو ظاہر مفہوم کے لحاظ سے قطعی طور پر حنفی مذہب کے خلاف ہوتی اور پڑھنے والا طالب علم خود رُک کر دریافت کرتا یا دوسرے طلبہ پوچھتے ''حضرت یہ حدیث تو امام ابو حنیفہ کے قطعاً خلاف ہے''
جواب میں مسکراتے ہوئے بے ساختہ شیخ الہند کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلتے :
''خلاف ہے تو بھائی میں کیا کروں ؟ ہاں آگے چلیے''
طالب علم عرض کرتا کہ حضرت آخر امام صاحب کی طرف سے کوئی جواب اس کا دیا گیا ہے ؟
''تمہاری کتابوں پر کچھ لکھا ہوگا ، پڑھ لینا''
یہ فرماکر ٹال دیا جاتا ! طالب علم مصر ہوتا کہ آپ اپنا خیال ظاہر کیجیے فرماتے :
''بھائی بڑے بڑے علماء کے حواشی تمہاری کتابوں پر چڑھے ہوئے ہیں ان کو پڑھ لو '' ! !
طلبہ کا اصرار جب حد سے تجاوز کرجاتا تب نہایت مجمل الفاظ میں کچھ اجمالی اشارے فرمادیتے ۔اس وقت توان اشاروں کی اہمیت محسوس نہ ہوتی تھی لیکن کم از کم اپنی حد تک فقیر یہ کہہ سکتا ہے کہ زندگی میں بعد کو پڑھنے پڑھانے لکھنے لکھانے کے جو طویل مواقع ملے بغیر کسی مبالغے کے عرض کر رہا ہوں کہ شیخ الہند کے ان اجمالی اشاروں کا وزن روز بروز دل میں بجائے کم ہونے کے بڑھتا ہی چلا گیا''
ایک نہیں خلافیات کے سلسلے میں بیسیوں مسائل میں آخری تحقیقی بات وہی ثابت ہوتی جن کی طرف شیخ الہند اجمالی اشارے فرمادیا کرتے تھے۔ خام علم والے طلبہ پر ان پختہ باتوں کا ابتدا میں کم اثر ہوتا وہ پھر کچھ اعتراض کرتے۔ شیخ الہند تب ذرا زیادہ گہرے ہوجاتے اور یوں آہستہ آہستہ طالب علم کو فکر و تحقیق کا خاص طریقے سے وہ عادی بناتے لیکن باہر سے دیکھنے والا شیخ الہند کے اس سیدھے سادھے طریقۂ درس سے اگر متاثر نہ ہوتا تو جو رنگ تھا ظاہر اقتضا اس کا یہی ہو سکتا تھا۔
سچ تو یہ ہے کہ کمالِ بے نفسی کے بغیر اس قسم کے درس کی ہمت عام مدرسین میں شاید پیدا نہیں ہوسکتی ١
١٢٩٥ھ سے بخاری شریف کا حضرت شیخ الہند کے پاس کچھ نہ کچھ حصہ رہا ،حضرت مولانا یعقوب صاحب نانوتوی کے وصال کے بعد مکمل بخاری آپ ہی کے پاس آئی یا کچھ حصہ ملا محمود صاحب کے پاس بھی گیا اس کی صراحت تو نہیں ملی البتہ ملا محمود صاحب کی وفات ١٣٠٤ھ کے بعد تو یقینا بخاری مکمل آپ ہی کے پاس رہی جو مسلسل شعبان ١٣٣٣ھ تک آپ ہی کے زیرِ درس رہی، تدریس ِبخاری کے اس طویل عرصے میں آپ نے مغلقات ِبخاری کو کس طرح حل کیا ہوگا اس کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جو آپ کے درس میں شامل رہا۔
علماء کرام واقف ہیں کہ تراجم بخاری ہمیشہ ہی سے معرکہ آراء مسئلہ رہا ہے علماء اپنے اپنے انداز میں اسے حل کرتے آئے تو ہیں لیکن حق یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا والا معاملہ ہر جگہ رہا۔ حضرت شیخ الہند کو بخاری شریف کی طویل تدریس سے تراجم کے حل میں کس قدر مہارت تھی اس کا اندازہ مولانا گیلانی کے اقتباس سے لگایا جاسکتا ہے :
''سیّدنا شیخ الہند کی ژوف نگاہی کے حکیمانہ نقطہ نظر کا سب سے زیادہ تجربہ اس وقت ہونے لگا جب بخاری شریف شروع ہوئی۔ بخاری کے مہمات میں جیسا کہ جاننے والے جانتے ہیں سب سے زیادہ اہم'' تراجم ابواب ''کا معاملہ ہے قرآنی آیات میں مناسبت اور باہمی ربط کا سمجھنا جیسے قرآن کی سب سے بڑی حکمت ہے اسی طرح امام بخاری کے تراجم ابواب کا رنگ بھی قریب قریب وہی ہے یہ ظاہر بے ربطی ہی میں ربط کا راز پوشیدہ ہوتا ہے '' ٢
تھوڑا آگے چل کر لکھتے ہیں :
''حقیقت یہ ہے کہ جس وقت تراجم ابواب کی بحث شیخ الہند کے حلقے میں چھیڑی جاتی تھی تو حضرت والا پر بھی خاص حال طاری ہوجاتا تھا اور سننے والے بھی
١ ''احاطہ دار العلوم میں بیتے ہوئے دن'' ص ٢٠٠ تا ٢٠٢ ٢ ''احاطہ دار العلوم میں بیتے ہوئے دن'' ص ٢١١
محوِ حیرت بن جاتے تھے، وجد کی سی کیفیت میں معلوم ہوتاتھا کہ سارا مجمع ڈوب گیا کان علی رء وسہم الطیر کا منظر قائم ہوجاتا تھا خود وہ بھی کھل جاتے تھے اور سننے والے بھی کھلے جاتے تھے۔ نئے معارف جدید حقائق جو نہ کبھی سنے گئے اور نہ پڑھے گئے معلوم ہوتا تھا کہ ان سے پردے ہٹ رہے ہیں ، دل کی گرہیں وا ہوتی چلی جاتی ہیں ۔اپنے تراجم میں امام (بخاری) کا قاعدہ ہے کہ قرآنی آیتوں کو بھی حسب ِضرورت شریک کرتے چلے گئے اسی بہانے سے ان قرآنی آیتوں کے نئے پہلوؤں کے جاننے ہی کا موقع نہیں ملتا تھا بلکہ قرآن فہمی کی نئی راہیں بھی کھلتی تھیں
میں کیا بتاؤں کہ ترمذی شریف کے بعد بخاری کا درس شروع ہوا تو دل کے لیے بھی اور دماغ کے لیے بھی کیسی لذیذ خوراکیں ملنے لگیں ، ایسی خوراکیں جو کبھی منطق کی کسی کتاب میں ملیں نہ فلسفے کی، نہ ادب میں نہ کسی اور فن میں ۔ دوسروں کے متعلق کچھ کہنے کا ظاہر ہے مجھے کیا حق ہے ؟ لیکن اپنی حدتک یہ محسوس ہوتاتھا کہ میرا باہربھی بدل رہا ہے اور اندر بھی '' ١
تلامذہ :
حضرت شیخ الہند کی تدریس ِحدیث کی ابتداء ١٢٩٣ھ۔ ١٢٩٤ھ والے سال سے ہے اس سال سے شعبان ١٣٣٣ھ تک مسلسل بیالیس سال آپ کا درسِ حدیث پوری آب وتاب سے دارالعلوم دیوبند میں قائم رہا ابتدائی دور کے اکثر علماء بعد میں آپ کی موجودگی ہی میں دار العلوم دیوبند ہی میں مدرسِ حدیث بنے اگرچہ آپ کے زیرِ درس کتابوں میں مختلف کتب حدیث رہی ہیں مگر آپ کا سلسلۂ سند بخاری، ترمذی اور ابوداود کے ذریعے دار العلوم دیوبند میں جاری ہوا
ذیل میں آپ کے چند مشہور تلامذہ کی فہرست دی جارہی ہے مکمل فہرست دیکھنے کے لیے ''آباء کے دیس میں '' سفر نامہ مولانا زبیر احمد صاحب صدیقی مدظلہم میں فہرست فضلاء دیوبند سے
١ ''احاطہ دار العلوم میں بیتے ہوئے دن'' ص ٢١٢
متعلق حصہ ملاحظہ فرمائیں ۔
بیالیس سال میں جن حضرات نے آپ سے حدیث پڑھی ان کی تعداد ٩٦٤ ہے یہ تعداد آپ کے دورِ صدارت سے پہلے اور بعد دونوں کو ملاکر ہے، اسی طرح یہ تعداد ان علماء کی ہے جنہوں نے آپ سے حدیث پڑھی، فنون پڑھے ہوئے حضرات اور جو درمیان سال میں مدرسہ سے چلے جاتے تھے وہ اس کے علاوہ ہیں ذیل میں ان ٩٦٤ حضرات کی منتخب فہرست درج کی جاتی ہے :
٭ حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن دیوبندی ، استاذ الحدیث وصدر مفتی دار العلوم دیوبند
٭ حضرت مولانا عبدالرحمن چرتھاولی ، مصنف علم الصرف وعلم النحو
٭ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، استاذ الحدیث جامع العلوم کانپور وخانقاہ امدادیہ تھانہ بھون
٭ حضرت مولانا عبدالمومن دیوبندی ، استاذ الحدیث مدرسہ امداد الاسلام میرٹھ
٭ حضرت مولانا حافظ محمداحمد نانوتوی ، استاذ الحدیث ومہتمم خامس دار العلوم دیوبند
٭ حضرت مولانا غلام رسول بفوی ، استاذ الحدیث دار العلوم دیوبند
٭ حضرت مولانا نور الحسن دیوبندی ، شیخ الحدیث مدرسہ حسین بخش دہلی
٭ حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری ، استاذ الحدیث و مبلغ دارالعلوم دیوبند
٭ حضرت مولانا غلام احمد پنجابی حافظ آبادی ، صدر المدرسین جامعہ دار العلوم نعمانیہ لاہور
٭ حضرت مولانا محمد یٰسین شیر کوٹی ، استاذ الحدیث مدرسہ اشاعت العلوم بریلی
٭ حضرت مولانا صدیق احمد فیض آبادی ، مدرس مسجد نبوی شریف وبانی مدرسہ علوم شرعیہ مدینہ منورہ
٭ حضرت مولانا محمد اسحاق امر تسری ،معین مدرس دار العلوم دیوبند و مدرسِ حدیث مسجد نبوی شریف
٭ حضرت مولانا محمد انور شاہ مظفر آبادی ، استاذ الحدیث وصدر المدرسین دار العلوم دیوبند
٭ حضرت مولانا محمد صادق سندھی ،شیخ الحدیث جامعہ مظہر العلوم کھڈہ سندھ
٭ حضرت مولانا امین الدین امینی ، بانی مدرسہ امینیہ دہلی
٭ حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ شاہ جہان پوری ، شیخ الحدیث مدرسہ امینیہ دہلی
٭ حضرت مولانا محمد شفیع دیوبندی (عم زاد و داماد شیخ الہند) شیخ الحدیث مدرسہ عبدالرب دہلی
٭ حضرت مولانا سیّد حسین احمد فیض آبادی ، صدر المدرسین دار العلوم دیوبند
٭ حضرت مولانا کریم بخش سنبھلی ،صدر مدرس جامع العلوم کانپور و دار العلوم مئو
٭ حضرت مولانا سیّد اصغر حسین دیوبندی ، استاذ الحدیث دار العلوم دیوبند
٭ حضرت مولانا عبیداللہ سندھی
٭ حضرت مولانا عبدالسمیع دیوبندی ، استاذ الحدیث دار العلوم دیوبند
٭ حضرت مولانا حمید الدین ہزاروی
٭ حضرت مولانا اختر شاہ امروہی ،مدرس مدرسہ امداد الاسلام میرٹھ
٭ حضرت مولانا فقیر اللہ پنجابی ، استاذ الحدیث جامعہ رشیدیہ جالندھر وساہیوال
٭ حضرت مولانا اعزاز علی امروہوی ، استاذ الحدیث والادب دار العلوم دیوبند
٭ حضرت مولانا محمد رسول خان ہزاروی ، استاذ الحدیث دارالعلوم دیوبند و جامعہ اشرفیہ لاہور
٭ حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ، استاذ الحدیث وصدر مہتمم دار العلوم دیوبند
٭ حضرت مولانا سیّد مبارک علی نگینوی ، استاذ الحدیث ونائب مہتمم دار العلوم دیوبند
٭ حضرت مولانا نور محمد جھنگوی
٭ حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی ، استاذ الحدیث مدرسہ کاشف العلوم دہلی و بانی تبلیغی جماعت
٭ حضرت مولانا سیّد فخر الدین ہاپوڑی ، شیخ الحدیث دار العلوم دیوبند و مدرسہ شاہی مراد آباد
٭ حضرت مولانا محمد ابراہیم بلیاوی ، صدر المدرسین و استاذ الحدیث دار العلوم دیوبند
٭ حضرت مولانا سیّد نبیہ حسن دیوبندی ، استاذ الحدیث دار العلوم دیوبند
٭ حضرت مولانا عبدالعلی رائے بریلی ، ناظم ندوة العلماء لکھنؤ
٭ حضرت مولانا عبدالشکور دیوبندی ، استاذ الحدیث دار العلوم دیوبند
٭ حضرت مولانا سلطان محمود گجراتی ، شیخ الحدیث مدرسہ فتح پوری دہلی و مدرسہ پنڈی گھیپ
٭ حضرت مولانا محمد صدیق نجیب آبادی ، صدر المدرسین مدرسہ صدیقیہ دہلی
٭ حضرت مولانا شبیرعلی تھانوی ، مدرس خانقاہ امدادیہ اشرفیہ تھانہ بھون
٭ حضرت مولانا سیّد عزیر گل کاکاخیل پشاوری ، رہبر تحریک شیخ الہند
٭ حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی ، استاذ الحدیث جامعہ عثمانیہ دکن
٭ حضرت مولانا محبوب الٰہی دیوبندی ، استاذ الحدیث وصدر المدرسین مدرسہ عبدالرب دہلی
٭ حضرت مولانا عبدالرحمن کیمل پوری ، صدر المدرسین مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور و دار العلوم اسلامیہ ٹنڈو الہیار
علمی فیض :
حضرت شیخ الہند کا علمی فیض رجال اور کتب دونوں ہی طرح عالم میں عام ہوا برصغیر پاک و ہند کا شاید ہی کوئی دیوبندی مدرسہ ہو جہاں قراء ةً یا اجازةً آپ کی سندسے حدیث پڑھی پڑھائی نہ جا رہی ہو
تحریک شیخ الہند اور اسیری :
شوال ١٣٣٣ھ میں حضرت شیخ الہند ترمذی شریف کا افتتاح فرماکر حج کے لیے تشریف لے گئے یہ سفر دراصل تر کی کوہندی مسلمانوں کی امداد پر آمادہ کرنے کے لیے تھا تاکہ ہندوستان کو انگریزوں سے آزاد کروایا جاسکے، شیخ الہند کی اس تحریک پر مورخ ملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب نے تفصیلی لکھا ہے، اسے پڑھ لیا جائے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دونوں ہی جگہ آپ کی شہرت علمی سن کر لوگ علم حدیث پڑھنے کے لیے حاضر ہونے لگے ، بہت سے حضرات نے آپ سے اجازت ِ حدیث لی اسی دوران شریف ِمکہ کی بغاوت کی وجہ سے آپ کو قید کر لیا گیا، یہاں سے آپ مختلف جگہوں سے ہوتے ہوئے مالٹا پہنچے جہاں سے ٢٠ رمضان ١٣٣٨ھ/٨ جون ١٩٢٠ء کو رہا ہوکر بمبئی پہنچے جہاں آپ کا شاندار اور شایانِ شان استقبال کیا گیا ،یہاں دو دن قیام فرماکر ١٠ جون کو دہلی کے لیے روانہ ہوئے تمام راستے مختلف سٹیشنوں پر آپ کا استقبال ہوتا رہا حتی کہ ١٢ جون کو آپ دہلی پہنچے، دیوبند والے حضرات بھی استقبال کے لیے یہیں موجود تھے اس تمام عرصہ میں گرمی اور سفرکی شدت کے باوجود آپ روزہ سے رہے۔
دیوبند پہنچ کر سب سے پہلے آپ دار العلوم دیوبند تشریف لائے اور دار الحدیث میں قیام فرمایا خلق ِکثیر زیارت ومبارک بادی کے لیے حاضر خدمت تھی، کچھ دیر توقف فرماکر گھر تشریف لے گئے جہاں مستورات کا جم غفیر مبارک باد کے لیے موجود تھا۔
دیوبند واپسی پر آپ کی مصروفیات حد سے زیادہ بڑھ گئیں ، شوال میں جب تعلیمی سال شروع ہوا تو حسب ِ سابق آپ نے ترمذی شریف خود اپنے نام لکھی لیکن اسفار اور اعذار کی کثرت سے یہ وعدہ وفا نہ ہوسکا ١ اور حسب ِ سابق ترمذی وبخاری علامہ انور شاہ کشمیری ہی نے پڑھائی ٢
مالٹا سے واپسی پر آپ کے تلامذہ نے جمعیة علماء ہند اور اس کی باڈی بناکر خدمت میں پیش کی آپ جمعیة کے صدر اور روح ورواں تھے، جمعیة کے کام کو جسم ناتواں کی پروا کیے بغیر کرتے، مالٹا سے واپسی پر پیرانہ سالی اور بیماریاں بھی ہمراہ تھیں ، ٦ صفر کو آپ کو شدید بخار ہوا مگر بخارہی کی حالت میں آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اجلاس میں شرکت کی، بیماری کی شدت کو دیکھتے ہوئے احباب آپ کو دہلی لے جانا چاہتے تھے مگر آپ باصرار دیوبند تشریف لے گئے، طبیعت میں افاقہ نہ ہونے کی وجہ سے آپ کو دہلی لے جایا گیا جہاں یونانی اور انگریزی ہر طرح کا علاج ہوا ،اسی دوران دہلی میں بھی جمعیة کا اجلاس ہوا جس میں آپ نے بھرپور شرکت فرمائی، اس اجلاس کے بعد آپ کی طبیعت دوبارہ گرنا شروع ہوئی اور ١٨ ربیع الاوّل ١٣٣٩ھ / ٣٠ نومبر ١٩٢٠ء بروز منگل آپ کا انتقال ہوا۔ حضرت مولانا سیّد میاں اصغر حسین دیوبندی اس حادثہ کی منظر کشی ان الفاظ میں کرتے ہیں :
سات بجے کے بعد (١٨ ربیع الاوّل ١٣٣٩ھ بروز سہ شنبہ ٣٠ نومبر ١٩٢٠ئ) کو بہت تغیر ہوگیا اور حضرت دنیا سے بالکل غافل ہوگئے ،تنفس طویل اور غیر طبعی ہوگیا اور انقطاع عن الدنیا وتوجہ الی الرفیق الاعلٰی
١ سال پنجاہ وہفتم مدرسہ اسلامیہ عربیہ دیوبند بابت ١٣٣٩ھ حسب ِفرمائش جناب مولوی حافظ محمد احمد صاحب مہتمم مدرسہ موصوفہ باہتمام مولوی قاری محمد طیب، مولوی قاری محمد طاہر صاحبان مالکان مطبع در مطبع قاسمی واقع دیوبند ص ٣
٢ حیات ِانوری، سوانح حیات مولانا محمد لائل پوری مؤلفہ ڈاکٹر عمران فاروق اشاعت جدید مئی ٢٠٢٠ء مطبع مجلس رائے پور مدینہ ٹاؤن فیصل آباد با ہتمام محمد ارشد انوری (حفید) ص ٣٥١
کا گمان غالب ہونے لگا۔ چارپائی کے گرد حاضرین خاموش اور آہستگی سے ذکر اللہ میں مشغول تھے کہ اسی حالت میں حضرت نے اس غیر فانی اور واجب الوجود ہستی کو یاد کیا جس کے نام پر اپنے آپ کو محو کردیا تھا یعنی بلند آواز سے تین مرتبہ اللّٰہ اللّٰہ اللّٰہ فرمایا۔
حضرت مولانا کفایت اللہ صاحب نے سورۂ یٰسین شروع کی مگر وہ جوش گریہ اور ادب کی وجہ سے بلند آواز سے نہیں پڑھ سکتے تھے اس لیے مولوی حافظ محمد الیاس صاحب نے پڑھنا شروع کیا، سورة قریب الختم ہوئی تو حضرت نے خود بخود حرکت کر کے اپنا بدن سیدھا اور درست کر لیا ہاتھوں کی انگلیاں کھول کر سیدھی کرلیں اور آٹھ بجے جبکہ مولوی صاحب اخیر سورت پر پہنچے تو حضرت نے ذرا آنکھ کھولی اور تصدیق ِقلبی کی تائید کے لیے زبان کو حرکت دی اور خاص ''اِلَیْہِ تُرْجَعُوْن'' کی آواز پر قبلہ رخ ہوکر ہمیشہ کے لیے آنکھ بند کرلی، یسر اور سہولت سے سانس منقطع ہوگیا۔ ١
تدفین کے لیے دیوبند میں قبرستان قاسمی طے قرار فرمایا، مولانا حکیم محمد حسن دیوبندی اور دیگر حضرات نے تجہیزوتکفین میں شرکت کی، تدفین کے لیے حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن عثمانی رحمہ اللہ کی زیر نگرانی حضرت نانوتوی کی پائنتی اور حضرت مولانا ذوالفقار علی کی قبر کے متصل قبر تیار کروائی گئی۔
مجمع کی کثرت کی وجہ سے حضرت شیخ الہند کے مختلف جگہوں پر چار جنازے ہوئے جن میں پہلا جنازہ ڈاکٹر انصاری صاحب کی حویلی میں ، دوسرا دہلی اسٹیشن پر، تیسرا میرٹھ چھاؤنی میں ٹرین کے اندر ہی نماز پڑھی گئی، چوتھی نماز جنازہ دار العلوم دیوبند کے اس دار الحدیث میں جس میں آپ نے اپنی عمر کے اکثر حصے حدیث پڑھائی وہاں ہوئی۔ اس نماز کی امامت حضرت کے برادر صغیر و معالج و تلمیذ حضرت مولانا حکیم محمدحسن دیوبندی نے کی۔ قبر میں حضرت حکیم صاحب، حضرت شیخ الہند کے داماد اور چند حضرات نے مل کر اتارا اور بے قرار شاگرد کو عالی مرتبت استاذ کی خدمت میں مِنْھَا خَلَقْنٰکُمْ وَفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ وَ مِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَةً اُخْرٰی پڑھتے ہوئے پہنچادیا گیا ! ! رَحْمَةُ اللّٰہِ رَحْمَةً وَّاسِعَةً
٭٭٭
١ حیات شیخ الہند
اہلِ مدارس اور علماء کرام کے لیے لمحہ فکریہ
( حضرت مولانا مفتی محمد نعیم صاحب میمن ، فاضل دارالعلوم کراچی )
٭٭٭
نَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْدُ !
دورِ جدید دورِ فتن ہے ،نئے نئے فتنے مختلف شکلوں اور عنوانات کی صورت میں امت ِمسلمہ پر حملہ آور ہیں ان ہی فتنوں میں سے ایک اہم فتنہ جدید ٹیکنالوجی کا غلط اور بے محل استعمال بھی ہے۔ ان میں سے ایک اہم جدید ٹیکنالوجی اے آئی (AI)یعنی مصنوعی ذہانت کا بے دریغ استعمال بھی ہے۔ اس جدید ایجاد کے جہاں بہت سے فوائد ہیں وہاں اس کے بہت سے نقصانات بھی ہیں ان میں سے ایک بڑا نقصان تعلیمی اعتبار سے اس کا استعمال ہے، خاص طور پر دینی تعلیم میں اس کا استعمال زہر قاتل ہے
آج کل دینی تعلیم کے طلباء کرام اور خاص طور پر منتہٰی درجات کے طلباء کرام جن میں دورہ حدیث شریف کے طلباء کرام اور متخصصین فی الافتاء و الحدیث وغیرہم کے طلباء کرام شامل ہیں اس جدید ایجاد یعنی اے آئی (AI) کا بے دریغ استعمال کرکے اپنی اہم ترین صلاحیتوں کو زنگ لگارہے ہیں ۔ طلباء کرام کا یہ زمانہ انتہائی اہم ترین زمانہ ہوتا ہے اس میں جتنا زیادہ کتابوں سے ممارست ، تعلق اور انسیت اور لگا ئو بڑھایا جائے گا اتنا زیادہ علمی رسوخ، علمی پختگی، علمی فہم اور علمی ذوق حاصل ہوگا اور پھر یہ مہارت و اہلیت آگے مزید پروان چڑھے گی، جب کبھی اچھے ماہر اہلِ علم و تقوی کی صحبت و معیت نصیب ہوجائے گی جیسے شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی صاحب عثمانی مدظلہم کو اللہ پاک نے جو علمی رسوخ اور علمی مقام عالمِ اسلام میں عطا فرمایا ہے وہ ان ہی کتابوں کی ورق گردانی اور محنت ِشاقہ اور خدا ترس اہلِ علم کی صحبت کا نتیجہ ہے ! ! ہمارے اساتذہ کرام ہمیں ایک شعر بڑے درد سے سنایا کرتے تھے
ہمیں دنیا سے کیا مطلب مدرسہ ہے وطن اپنا
مریں گے ہم کتابوں پر ورق ہونگے کفن اپنا
مگر آج یہ شعر سنانے والے اور اس کا مصداق بننے والے بہت تیزی سے اٹھتے جارہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ علم اٹھ جانے کا وقت آچکا کہ حقیقی اہلِ علم اٹھتے چلے جارہے ہیں اور بعد والے مشینوں اور جدید آلات پر اکتفا کرتے جارہے ہیں بلکہ جدید مشینوں اور ٹیکنالوجی پر علمی کام کرنے کے لیے میدانِ ٹیکنالوجی میں کود پڑے ہیں اور مختلف پراجیکٹ پر کام کرنے لگے ہیں اور اپنے تئیں یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ وہ دین ِاسلام کی جدید دور کے مطابق اعلیٰ خدمت کررہے ہیں حالانکہ غور کرنے کا مقام ہے کہ یہ ساری مشین اور ٹیکنالوجی کی اصل کفار کے ہاتھ میں ہے، وہ جیسے چاہے اس میں ردّوبدل کردیں ، یہ اہلِ علم اس فنی اور تکنیکی باریکی کا مقابلہ کیسے کریں گے ؟
یہ اہلِ علم کیا واقعی اس ٹیکنالوجی کی پوری ماہیت اور حقیقت کو سمجھ چکے ہیں اور باطل کی ہر گڑبڑ کا ادراک کرنے اور پوری طرح مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور اہلیت اپنے اندر پیدا کرچکے ہیں ؟ کیا باطل کی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں اپنی ٹیکنالوجی بنا چکے ہیں یا باطل ہی کی بنائی ہوئی کشتی میں سوار ہوکر ان ہی کی کشتی کے چپو چلارہے ہیں ؟
کیا چند کورس اور ڈپلومہ کرکے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال سیکھا جاسکتا ہے یا اس ٹیکنالوجی کی ساری ماہیت، فنی خامیاں ، تکنیکی خرابیاں وغیرہ کا ازالہ اور اس کا نعم البدل وغیرہ بھی سیکھ لیا جاتا ہے ؟ اللہ پاک بدگمانی سے معاف فرمائیں ، ایسا لگتا ہے کہ یہ اہلِ علم لاشعوری اور غیر ارادی طور پر جدید ٹیکنالوجی سے اتنا متاثر ہوچکے ہیں کہ چند کورس اور ڈپلومہ کرکے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم اس ٹیکنالوجی کے ماہر بن چکے ہیں نیز اہلِ دنیا نے ان کی کاوشوں کو خوب بڑھا کر سوشل میڈیا پر پیش کیا ہے جس سے یہ اہلِ علم خوش فہمیوں میں مبتلا ہوگئے !
خدارا ! اہلِ مدارس اور خصوصاً بڑے درجے کے اساتذہ کرام اپنے طلباء کرام کو جدید ٹیکنالوجی کے فتنے اور خاص طور پر اے آئی(AI) کے فتنے سے خبردار کریں اور اس کے استعمال سے بچنے اور بچانے کی کوشش کریں ! اہلِ علم کو تو یہ بات معلوم ہے جو چیز کسی نقصان کا سبب ہوسکتی ہو تو اس سبب ِنقصان سے بچنا بھی ضروری ہے جیسے قرآن پاک نے فرمایا کہ
وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ (سورة الانعام : ١٥١ ) یعنی ''بے حیائی کے قریب بھی نہ جائو''
یعنی بے حیائی کا سبب بھی اختیار نہ کرو کیونکہ یہ سبب ہی آگے چل کر بے حیائی میں مبتلا کردے گا اسی طرح جو چیز علمی رسوخ اور علمی فہم میں نقصان کا سبب ہو اس سے بچنا ضروری ہوگا !
لہٰذا مشاہدہ میں یہ بات آرہی ہے کہ اب طلباء کرام اس اے آئی (AI)کے ذریعہ امتحانات کی تیاری کررہے ہیں اور فتاوی لکھنے میں بھی اس سے مدد لے رہے ہیں ۔ بظاہر یہ بہت اچھی اور مفید کاوش محسوس ہورہی ہے مگر آگے چل کر یہ نقصان واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ پھر عزیز طلبا ء کرام کتابوں کی ممارست اور اس کی برکات سے محروم ہوجائیں گے اور مشین کے محتاج ہوکر رہ جائیں گے !
جن لوگوں نے یہ ٹیکنالوجی ایجاد کی ہے وہ خود اپنے تعلیمی نظام مثلاً امریکہ و یورپ کی یونیورسٹیوں جیسے یونیورسٹی آف میلبورن آسٹریلیا، یونیورسٹی آف کیمبرج برطانیہ، یونیورسٹی آف برمنگھم برطانیہ ، اسٹینفورڈ یونیورسٹی امریکہ، جانز ہاپکنز یونیورسٹی امریکہ، یونیورسٹی آف شکاگو امریکہ، امپیریل کالج لندن برطانیہ ، یونیورسٹی کالج لندن برطانیہ، یونیورسٹی آف آیڈنبرا برطانیہ، یونیورسٹی آف بون جرمنی وغیرہ میں اپنے طلبا ء کرام کو اس ٹیکنالوجی کے استعمال کی اجازت نہیں دے رہے ۔ اس طرح اپنے عدالتی نظام میں بھی اس اے آئی (AI)سے مدد لینے کو قانونا جرم قرار دے رہے ہیں مثلاً برطانوی ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ جس میں اے آئی (AI)سے متعلق کہا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی وغیرہ قابلِ اعتماد قانونی تحقیق کرنے کے قابل نہیں ہے !
جن لوگوں نے یہ ٹیکنالوجی ایجاد کی ہے وہ خود بتاتے ہیں کہ یہ کمپیوٹر پروگرام خود مضمون اور بات کو گھڑتا ہے، خود سے بنالیتا ہے جو کہ غلط بھی ہوسکتا ہے۔ نیز اس میں بلی کی سمجھ اور فہم جتنا بھی دماغ نہیں ہے لہٰذا اس قسم کی مشکوک ٹیکنالوجی کو علم ِدین میں معاون کی حیثیت میں رکھنا بھی نقصان دہ ہوگا۔ لہٰذا یہ سمجھنا کہ ہم اس سے معاونت حاصل کررہے ہیں اس پر اعتماد اور بھروسہ نہیں کررہے، اپنے آپ کو خوش فہمی میں مبتلا کرنا ہوگا۔ نیز اس سے طلبا ء کرام میں محنت کا جذبہ کم سے کم ہوتا چلا جائے گاجیسا کہ مشاہدہ میں آرہا ہے !
لہٰذا بنانے والے خود اس کے استعمال میں احتیاط کی تلقین کریں اور ہمارے بعض اہلِ علم اس اے آئی (AI) میں مختلف جہتوں میں کام کرکے اپنی اہلیت اور صلاحیت کا لوہا( عوام کالانعام ) میں منوانے لگے ہیں اور ان کے کام کی خوب تحسین اور واہ واہ سوشل میڈیا پر ہورہی ہے اور خوب اس کی تشہیر ہورہی ہے۔تو کیا ان اہلِ علم میں اتنی بھی فہم نہیں رہی کہ جس چیز کے مؤجد خود اس کے نقصانات بتائیں اور یہ اہلِ علم اس چیز کے فوائد کی چمک دمک سے اتنے متاثر ہوجائیں کہ نقصانات سے بالکل ہی صرفِ نظر کرلیں اور اپنے طلباء کرام کو ان نقصانات سے آگاہ نہ کریں !
بہرحال بندہ کا مقصد اہلِ علم کی مخلصانہ کاوشوں پر تنقید کرنا نہیں ہے بلکہ اہلِ علم کو متوجہ کرنا ہے کہ جس راستے پر وہ چل نکلے ہیں اور جس راستے پر ہمارے طلباء کرام جانے لگے ہیں وہ کس قدر پرخطر اور پرخار ہے اور ہماری صلاحیتوں کو کس قدر اور کتنا نقصان لگانے والا ہے اور مستقبل میں اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے !
آج کل دینی مدارس میں بہت تیزی سے مادیت پرستی کا رجحان بڑھنے لگا ہے جس مسند سے درسِ فنا ملنا تھا اور دنیا کی بے رغبتی کا درس دیا جاتا تھا آج اسی مسند سے جدید ٹیکنالوجی کے خوب استعمال اور اس میں انہماک اور دنیا میں آگے سے آگے بڑھنے کا درس مل رہا ہے۔ اہلِ دنیا کو دین ِاسلام کی تبلیغ و ترویج و اشاعت کے لیے اس سوشل میڈیا کے استعمال کا سبق دیا جارہا ہے۔ یہ سب باتیں مشاہدہ اور حقیقت پر مبنی ہیں نہ کہ فرضی داستان اور سنی سنائی پر اعتماد !
بندہ حیا ة الصحابہ کو پڑھتا ہے ، اکابر کی زندگی کو قریب سے دیکھا ہے، ہر جگہ قولاً، فعلاً، عملاً ہر طرح اور ہر جہت سے دنیا کی بے رغبتی اور مادیت پرستی سے اجتناب نظر آیا مگر اب جب اپنے عزیز طلبا ء کرام کی زندگی دیکھتا ہوں اور بعض اہلِ علم کی زندگی کا مشاہدہ ہورہا ہے وہ بالکل برعکس ہے ! ! یہ اہلِ علم اپنی نسبت و تعلق اکابر سے ظاہر کرتے ہیں مگر اکابر کا رنگ ان میں نظر نہیں آتا ! اللہ پاک ہم سب کو ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ و مامون فرمادیں اور اپنی رضا و قرب سے نواز دیں ، آمین
٭٭٭
اخبار الجامعہ
( جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد رائیونڈ روڈ لاہور)
٭٭٭
٢٨اگست بروز جمعرات جامعہ مدنیہ جدید کے مہتمم مولانا عکاشہ میاں صاحب جامعہ کے مدرس مولانا مشرف صاحب کے ہمراہ ختم نبوت کانفرنس کی تیاری کے سلسلہ میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کے لیے جامعہ اشرفیہ مسلم ٹاؤن لاہورتشریف لے گئے ۔
٣١ اگست بروز اتوار دارالعلوم تخت آباد پشاور کے مہتمم حضرت مولانا عدنان انور صاحب و شیخ الحدیث حضرت مولانا خیر البشر صاحب ، شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب کی تعزیت کے لیے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے، مولانا عکاشہ میاں صاحب سے تعزیت کی ، دعائے خیر کے بعد چائے نوش فرمائی بعد ازاں واپس تشریف لے گئے ۔
٥ ستمبر بروز جمعہ مولانا عکاشہ میاں صاحب ، حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب کی رضاعی بہن کی تعزیت کے لیے اویسیہ ہاؤسنگ سوسائٹی لاہور تشریف لے گئے ۔
٦ ستمبر بروز ہفتہ بعد نمازِ عصر شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب مدظلہم جنوبی افریقہ کے سفر پر روانہ ہوئے،جامعہ کے مہتمم مولانا عکاشہ میاں صاحب سنت مشایعت کی ادائیگی کے لیے ائیرپورٹ تشریف لے گئے ،حضرت مفتی صاحب مدظلہم ٢٦ ستمبر بخیر وعافیت واپس تشریف لے آئے۔
٧ ستمبر بروز اتوار مولانا عکاشہ میاں صاحب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہورکے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس بمقام جامعہ اشرفیہ مسلم ٹاؤن لاہور تشریف لے گئے ،ختم نبوت کے ذمہ داران کے اصرار پر آپ نے کانفرنس میں مختصر بیان فرمایا ، کانفرنس کے اختتام کے بعد رات دو بجے واپسی ہوئی۔
٨ ستمبر بروز پیر جامعة الرشید کراچی کے اساتذہ کرام دورہ حدیث شریف کے تقریباً اسی طلباء پر مشتمل وفد کے ہمراہ جامعہ مدنیہ جدیدتشریف لائے، مہتمم جامعہ مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی ، شیخ الحدیث مولانا سیّد محمود میاں صاحب رحمہ اللہ کی تعزیت کی،بعد ازاں جامعہ مدنیہ جدیدکے موجودہ شیخ الحدیث حضرت مولانا خالد محمود صاحب مدظلہم سے اجازت ِ حدیث لی اور حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب مدظلہم کے سفر پر ہونے کی وجہ سے آپ سے ٹیلیفون پر اجازت ِ حدیث لی، رات کا قیام و طعام جامعہ ہی میں فرمایا ، صبح واپس تشریف لے گئے۔
١٧ ستمبر بروز بدھ مدینہ منورہ سے جناب عمر مکی صاحب جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے ، مہتمم جامعہ سے ملاقات کی ، مختصر گفتگو کے دوران چائے نوش فرمائی، بعد نمازِ عشاء واپس تشریف لے گئے۔
وفیات
٭٭٭
٭ سعودی تاریخ کے مطابق یکم ربیع الثانی ١٤٤٧ھ /٢٣ ستمبر ٢٠٢٥ء کو سعودی عرب کے مفتی اعظم الشیخ عبد العزیز بن عبد اللّٰہ ریاض میں انتقال فرماگئے، مرحوم نے سب سے طویل عرصہ خطبہ ٔ حج دینے کی سعادت حاصل کی۔
٭ ٤ ربیع الثانی١٤٤٧ھ / ٢٨ ستمبر کو شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ثناء اللہ غالب صاحب سرپرست جمعیة علما ء اسلام این اے ٤٨ اسلام آباد، صدر اتحاد علماء کونسل گلگت بلتستان و کوہستان ، خطیب جامع مسجد الیاس، مدیر مدرسہ قاسمیہ ماڈل ٹائون ہمک اسلام آباد انتقال فرماگئے۔اللہ تعالیٰ آپ کی تمام دینی و ملی اور مذہبی وسیاسی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے،آمین
٭ ١٢ ستمبربروز جمعہ جامعہ مدنیہ جدید و قدیم کے تقریباً چالیس سالہ پرانے خادم بھائی ظہور صاحب اچانک بوجہ ہارٹ اٹیک جڑانوالہ میں وفات پاگئے۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
اللہ تعالیٰ جملہ مرحومین کی مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اُن کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق نصیب ہو، آمین۔ جامعہ مدنیہ جدید اور خانقاہِ حامدیہ میں مرحومین کے لیے ایصالِ ثواب اور دُعائے مغفرت کرائی گئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ، آمین۔
اہم اعلان
٭٭٭
شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب نور اللہ مرقدہ کی شخصیت و خدمات پر انوار مدینہ کی ایک خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں معاصرین ، تلامذہ ، متعلقین ومحبین حضرات کے تاثرات بھی شامل ہوں گے ! جو حضرات اپنے مضامین و مقالات ، تاثرات ، تعزیتی پیغامات یا منظوم کلام ارسال فرمانا چاہیں ، جلد از جلد درج ذیل پتے ، ای میل یا واٹس ایپ نمبر پر ارسال فرما دیں
علاوہ ازیں اگر کسی کے پاس شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب کے ہاتھ کا لکھا ہوا مکتوب یا تحریر موجود ہو تو اسے بھی ارسال فرما دیں !
جو حضرات اپنے تاثرات زبانی بتانا چاہیں ، وہ اپنے نام ، پتے اور مکمل تعارف کے ساتھ درج ذیل نمبر پر صوتی پیغام (وائس میسج ) بھی ارسال فرما سکتے ہیں
اگر مضمون ، مقالہ ، مکتوب یا تاثرات کمپوز شدہ ہوں تو ان کی کمپیوٹر فائل بھی ای میل یا واٹس ایپ فرمادیں تو نوازش اور ادارے کے ساتھ دوہرا تعاون ہوگا
رابطہ : ڈاکٹر محمد امجدغفرلہ
خادم جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد ١٩ کلومیٹر شارع رائیونڈ لاہور
jmj786_56@hotmail.com
dramjad71@gmail.com
923334249302+
جامعہ مدنیہ جدید و مسجد حامد
کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیجیے
٭٭٭
بانی ٔجامعہ حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب رحمہ اللہ نے جامعہ مدنیہ کی وسیع پیمانے پر ترقی کے لیے محمد آباد موضع پاجیاں (رائیونڈ روڈلاہور نزد چوک تبلیغی جلسہ گاہ) پر برلب ِسڑک جامعہ اور خانقاہ کے لیے تقریباً چوبیس ایکڑ رقبہ ١٩٨١ء میں خرید کیا تھا جہاں الحمد للہ تعلیم اور تعمیر دونوں کام بڑے پیمانہ پر جاری ہیں ! جامعہ اور مسجد کی تکمیل محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی طرف سے توفیق عطاء کیے گئے اہلِ خیر حضرات کی دعائوں اور تعاون سے ہوگی، اس مبارک کام میں آپ خود بھی خرچ کیجیے اور اپنے عزیزواقارب کو بھی ترغیب دیجیے ! ایک اندازے کے مطابق مسجد میں ایک نمازی کی جگہ پر پندرہ ہزار روپے(15000) لاگت آئے گی،حسب ِاستطاعت زیادہ سے زیادہ نمازیوں کی جگہ بنوا کر صدقہ ٔ جاریہ کا سامان فرمائیں !
منجانب
سیّد محمود میاں مہتمم جامعہ مدنیہ جدید و اراکین اورخدام خانقاہِ حامدیہ
خطوط ،عطیات اور چیک بھیجنے کے لیے
٭٭٭
سیّد محمود میاں '' جامعہ مدنیہ جدید'' محمد آباد19 کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور
923334249302+ 923334249301+
923234250027+ 923454036960+
٭٭٭
Email us your queries on jamiamadniajadeed@gmail.com you will be answered in less than 24 hours or Give us a call directly at +92 333 4249302, +92 333 4249 301.