بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

Anwar-e-Madina

ماہنامہ انوار مدینہ

ستمبر‬ 2026

jamiamadnijadeed

ماہنامہ انوار مدینہ\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nجلد : ٣٤ ربیع الاوّل، ربیع الثانی ١٤٤٨ھ / ستمبر ٢٠٢٦ء شمارہ : ٩\n<br>\nبیاد : قطب الاقطاب عالم ربانی محدث کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں \n<br>\nفیضانِ نظر : محمود الملّة و الدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nمولانا نعیم الدین صاحب ( مدیر اعلیٰ )\n<br>\nمولانا محمد عابد صاحب ( نائب مدیر)\n<br>\nمولانا عکاشہ میاں صاحب(مدیر مسئول)\n<br>\nڈاکٹر محمد امجد صاحب (مدیر منتظم)\n<br>\n٭٭٭\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nبدلِ اشتراک \n<br>\n٭٭٭\n<br>\nپاکستان فی پرچہ 50 روپے ....... سالانہ 600 روپے\n<br>\nسعودی عرب،متحدہ عرب امارات..... سالانہ 90 ریال\n<br>\nبرطانیہ،افریقہ ........................ سالانہ 20 ڈالر\n<br>\nامریکہ .................................. سالانہ 30 ڈالر \n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nجامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ اور ای میل ایڈ ریس\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nwww.jamiamadniajadeed.org\n<br>\njmj786_56@hotmail.com\n<br>\nWhatsapp : +92 333 4249302\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nترسیلِ زر و رابطہ کے لیے\n<br>\n٭٭٭\n<br>\n\'\' جامعہ مدنیہ جدید\'\' محمد آباد19 کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور\n<br>\nموبائل : 923334249301+\n<br>\nموبائل : 923334249302+ \n<br>\nموبائل : 923234250027+\n<br>\nجازکیش نمبر : 923044587751+\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nدارُالافتاء کا ای میل ایڈ ریس اور وٹس ایپ نمبر\n<br>\n٭٭٭\n<br>\ndarulifta@jamiamadniajadeed.org\n<br>\nWhatsapp : +92 321 4790560\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nمولاناسیّد رشید میاں صاحب طابع وناشر نے شرکت پرنٹنگ پریس لاہور سے چھپواکر دفتر ماہنامہ \'\'انوارِ مدینہ \'\' نزد جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور سے شائع کیا\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nاس شمارے میں \n<br>\n٭٭٭\n<br>\nحرفِ آغاز ٤\n<br>\n درسِ حدیث حضرت مولانا سیدحامد میاں صاحب ٩\n<br>\nولادت با سعادت سیّد الکونین رحمةللعالمین صلی اللہ عليہ وسلم حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب مدنی ١٣\n<br>\nخطبہ جمعہ .... نبی علیہ السلام کا یہودیوں سے معاہدہ حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ٢٩\n<br>\nدرسِ حدیث ....... بہترین اسلحہ \'\' قوس \'\' حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ٣٤\n<br>\n حضرت مولانا سیف الرحمن صاحب کابلی مولانا محمد معاذ صاحب لاہوری ٥١\n<br>\nاہم اعلان ٦٠\n<br>\nاخبار الجامعہ ٦١\n<br>\nوفیات ٦٣\n<br>\nجامعہ مدنیہ جدید کے واجبی ماہانہ تخمینی اخراجات ٦٤\n<br>\n٭٭٭\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nقطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ \n<br>\nکے سلسلہ وار مطبوعہ مضامین و دروس جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ پر پڑھے اور سنے جا سکتے ہیں \n<br>\nhttp://www.jamiamadniajadeed.org\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nحرفِ آغاز\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nمعاہدہ مکہ : عالمِ اسلام کے مشترکہ دفاع کی جانب ایک اہم پیش رفت \n<br>\n٭٭٭\n<br>\nنَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْدُ !\n<br>\nگزشتہ سال ١٧ ستمبر ٢٠٢٥ء کو وطن عزیز پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک معاہدہ Strategic Mutual Defence Agreement طے پایا تھاجس کا بنیادی تصور باہمی دفاع اور ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کرنا تھا\n<br>\nاکتوبر ٢٠٢٥ء کے اداریہ میں ہم نے لکھا تھا کہ \n<br>\n\'\'اس حالیہ پاک سعودی معاہدہ کے دُور رس نتائج کئی پہلوئوں سے اہمیت کے حامل ہیں ان کا اثر پاکستان، سعودی عرب اور پورے خطے پر پڑ سکتا ہے !\n<br>\nدفاعی اور سیکیورٹی اثرات پر نظر ڈالیں تو دفاعی تعاون سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مزید گہرے ہوں گے ،خطے میں سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار ہو سکتی ہے، بھارت اور دیگر ممالک اس تعلق کو بغور دیکھیں گے \'\'\n<br>\nاس وقت کے بیان کردہ نتائج کی روشنی میں دیکھیں کہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں اس حکمت عملی کا دائرہ پاکستان اور سعودی عرب سے بڑھ کر ترکیہ تک پہنچ گیا ! !\n<br>\n٧ اگست ٢٠٢٦ء بروز جمعہ سرزمینِ مکہ مکرمہ میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ایک اہم دفاعی معاہدہ طے پایا جسے\'\' مشترکہ دفاعی معاہدہ \'\'کا عنوان دیا گیا ہے۔ عالمِ اسلام کے ان تین اہم ممالک کے مابین ہونے والا یہ معاہدہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے ! اس معاہدہ کو ایک وسیع تر دفاعی شراکت داری کی طرف اہم قدم قرار دیا جاسکتا ہے !\n<br>\nیہ معاہدہ تینوں ممالک کے سربراہی اجلاس میں طے پایا جس پر وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور صدر ترکیہ رجب طیب اردگان نے دستخط کر کے اس کے رُو بہ عمل ہونے کا اعلان کیا ! تینوں ممالک کے سربراہی اجلاس میں سربراہانِ حکومت و مملکت نے خوشگوار ماحول میں سہ طرفہ دفاعی اور اقتصادی تعاون اور تعلقات پر تبادلہ خیال کیا اور تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ! !\n<br>\nیہ معاہدہ اچانک وجود میں آنے والا کوئی واقعہ نہیں بلکہ گزشتہ برس پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے دفاعی تعاون کے معاہدے کو آگے بڑھانے کی ایک اہم کڑی سمجھا جا رہا ہے ! اس پر ایک طویل عرصہ سے مشاورت اور تیاری کا سلسلہ جاری تھا !\n<br>\nموجودہ معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کی اجتماعی دفاعی صلاحیت اور قوت کو مضبوط کرنا اور دفاعی تعاون کے مختلف پہلوئوں کو فروغ دینا ہے،نیزتینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو منظم، وسیع اور موثر بنانا اور بدلتے ہوئے علاقائی حالات میں باہمی سلامتی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینا ہے ! معاہدے کی نمایاں جہت\'\' اجتماعی دفاع\'\' کا تصور ہے۔ اس اصول کے تحت کسی ایک رکن ملک کی سلامتی کو درپیش خطرے کو دوسرے ممالک کی سلامتی سے جدا نہیں سمجھا جائے گا بہ الفاظِ دیگر یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا ! !\n<br>\nمقدس سرزمین پر تین اہم اسلامی ممالک کا مشترکہ دفاع کا عہد اس امر کی علامت ہے کہ امت مسلمہ اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے فروعی اختلافات سے بالا تر ہوکر ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ! یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ مسلم دنیا قدرتی اور زمینی وسائل سے مالا مال ہے، اگر خلیج کے تیل اور گیس کے ذخائر، پاکستان کی افرادی قوت اور دفاعی استعداد، ترکیہ کی صنعتی و تکنیکی ترقی، وسطی ایشیا کے قدرتی وسائل اور مسلم دنیا کی وسیع منڈیاں ایک دوسرے سے مربوط ہوجائیں تو مسلم ممالک ایک ایسی معاشی اور دفاعی قوت بن سکتے ہیں جسے عالمی سطح پر نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہوگا ! \n<br>\nبلاشبہہ یہ \'\'بارش کا پہلا قطرہ\'\' ہے، خشک زمین کو سیراب کرنے کے لیے صرف ایک قطرہ کافی نہیں ہوتا بلکہ پہلا قطرہ اس بات کی علامت ضرور ہوتا ہے کہ بادل برسنے کے لیے تیار ہیں ! !\n<br>\nضرورت اس امر کی ہے کہ اس موجودہ معاہدہ کو صرف تین ممالک کے دفاعی تعاون تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے ایک وسیع تر اسلامی تعاون کی بنیاد بنایا جائے ! فروعی اختلافات اپنی جگہ مگر اُمت ِمسلمہ کے اجتماعی مفادات کہیں زیادہ وسیع اور اہم ہیں ! ! فلسطین، کشمیر، دہشت گردی، معاشی ناہمواری، توانائی، خوراک، ٹیکنالوجی اور دفاع جیسے مسائل مسلم ممالک کے مشترکہ چیلنجز ہیں جن کا مقابلہ مشترکہ حکمت ِعملی سے کیا جائے تو امت ِمسلمہ دنیا میں ایک بڑی قوت کے طور پر اُبھر سکتی ہے ! \n<br>\n اگست٢٠٢٦ء میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے پس منظر میں مکہ مکرمہ کی اُسی تاریخی روایت کو یاد کرنا خاصی معنویت رکھتا ہے یہاں ایک طرف جدید دنیا کے تین اہم مسلم ممالک اجتماعی دفاع کے اصول پر باہمی تعاون کا عہد کررہے ہیں اور دوسری طرف اسی سرزمین کی تاریخ ہمیں صدیوں پہلے ہونے والے ایسے عہد کی یاد دلاتی ہے جس کا بنیادی مقصد مظلوم کی مدد اور ظلم کا سدباب تھا ! !\n<br>\n٭\n<br>\nمشہور سیرت کی روایات کے مطابق پہلا\'\' حلفُ الفضول\'\' حضرت اسماعیل علیہ السلام کے زمانے کے بعددورِ جاہلیت کے قدیم زمانے میں مکہ مکرمہ میں ہوا، اس میں قریش کے بعض نیک لوگوں نے ظلم کے خلاف کھڑے ہونے اور مظلوم کو اس کا حق دلانے کا عہد کیا تھا ! اس قدیم معاہدے میں فضل نام کے تین افراد فضل بن فضالة ، فضل بن وداعة ، فضل بن حارث کا کردار بیان کیا جاتا ہے جن کی وجہ سے اسے\'\' حلفُ الفضول\'\' کہا گیاتھا،بعض روایات میں ان ناموں کی تفصیل میں اختلاف بھی ملتا ہے !\n<br>\nاسی مقصد سے مشابہ دوسرا حلفُ الفضول ایک دوسرا معاہدہ ہے جورسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی بعثت سے تقریباً بیس سال پہلے مکہ مکرمہ میں ہی ہوا !\n<br>\nاس کا پس منظر ایک زبیدی تاجر پر عاص بن وائل کے ظلم کا واقعہ تھا ! حضرت زبیر بن عبدالمطلب کی تحریک پر قریش کے چند خاندان جمع ہوئے اور عبداللّٰہ بن جدعان کے گھر میں عہد کیا کہ\n<br>\n\'\'ہم مکہ میں ہر مظلوم کا ساتھ دیں گے، خواہ وہ مکہ کا باشندہ ہو یا باہر سے آیا ہوا، یہاں تک کہ اسے اس کا حق دلا دیں گے\'\'\n<br>\nیہ عہد محض چند افراد کا باہمی معاہدہ نہیں تھابلکہ اس میں ایک اہم اخلاقی اصول پوشیدہ تھا،وہ تھا طاقتور کی طاقت مظلوم کے حق کو پامال کرنے کے لیے نہیں بلکہ مظلوم کا حق واپس دلانے کے لیے استعمال ہونی چاہیے ! !\n<br>\n یہی وہ حلف ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ عليہ وسلم نے اپنی جوانی میں شرکت فرمائی اور اعلانِ نبوت کے بعد اس معاہدے کی تحسین فرمائی ! اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے عدل و انصاف کے ان اصولوں کو رد نہیں کیا جو انسانی فطرت اور خیر پر قائم ہوں بلکہ ان کی قدر و منزلت کو تسلیم کیا اور اسی دوسرے حلف کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ عليہ وسلم نے نبوت کے بعد فرمایا :\n<br>\nلَقَدْ شَہِدْتُّ فِیْ دَارِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جُدْعَانَ حِلْفًا مَا اُحِبُّ اَنَّ لِیْ بِہ حُمْرَ النَّعَمِ وَلَوْ دُعِیَ بِہ فِی الْاِسْلاَمِ لاَجَبْتُ( البدایة والنہایة ج ٢ص ٣٥٧ ط احیاء التراث )\n<br>\n\'\'میں عبد اللّٰہ بن جدعان کے گھر ایک ایسے معاہدے میں شریک ہوا تھاکہ اس معاہدے کے مقابلے میں اگر مجھ کو سرخ اونٹ بھی دیے جاتے تو ہرگز پسند نہ کرتا اور اگر اب زمانہ اسلام میں بھی اس قسم کے معاہدے کی طرف بلایا جائوں تو بھی اس کی شرکت کو ضرور قبول کروں گا\'\'\n<br>\nحلفُ الفضول کے قدیم جاہلی معاہدے، بعثت ِنبوی سے تقریباً بیس سال پہلے ہونے والے حلفُ الفضول اورموجودہ مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو ان میں ایک دلچسپ فکری اور اخلاقی مماثلت سامنے آتی ہے ! اگرچہ تینوں کی نوعیت، زمانہ اور قانونی حیثیت ایک جیسی نہیں لیکن دونوں میں ایک اخلاقی قدر مشترک دکھائی دیتی ہے،وہ ہے :\n<br>\n\'\'اجتماعی قوت کو مشترکہ ذمہ داری کے لیے استعمال کرنا\'\'\n<br>\nحلفُ الفضول کا مقصد مظلوم کو تنہا نہ چھوڑنا تھا ! موجودہ معاہدہ مکہ کا بنیادی مقصد تین ریاستوں کی سلامتی کو باہمی طور پر مربوط کرنا ہے !\n<br>\n ایک میں ظلم کے مقابلے میں اجتماعی تعاون کا عہد تھا، دوسرے میں بیرونی جارحیت کے مقابلے میں اجتماعی دفاع کا اصول ہے۔یہ مماثلت ہمیں یہ سوچنے کا موقع دیتی ہے کہ اسلام میں اجتماعی قوت ظلم کے لیے نہیں بلکہ عدل کے لیے ، جارحیت کے لیے نہیں بلکہ دفاع کے لیے ، تسلط کے لیے نہیں بلکہ امن کے لیے ہونی چاہیے ! !\n<br>\nیہاں معاہدہحلفُ الفضول کی روح دوبارہ ہمارے سامنے آتی ہے کہ مظلوم کو تنہا نہ چھوڑا جائے ! یہی وہ اصول ہے جو کسی بھی مسلم اتحاد کو محض عسکری طاقت کے بجائے اخلاقی قوت بھی عطا کرسکتا ہے ! !\n<br>\nاللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس معاہدے کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے لیے خیر، امن اور استحکام کا ذریعہ بنائے، ان ممالک کے باہمی اتحاد کو مضبوط فرمائے اور ان کی قوت کو ظلم و جارحیت کے بجائے امن، عدل اور مظلوموں کی حمایت کے لیے استعمال ہونے کی توفیق عطا فرما ئے ! اس نئے عہد کو باہمی اخوت اور امنِ عالم کا وسیلہ بنائے نیز تمام مسلم ممالک کے درمیان باہمی اختلافات کو دور فرمائے اور اُمت ِمسلمہ کو ایسی مضبوط قوت عطا فرما ئے جو ہر جارحیت کے مقابل حق کی حفاظت کر سکے ! ! آمین \n<br>\nمحمد عابد\n<br>\n١٥ ربیع الاوّل ١٤٤٨ھ/٢٩ اگست ٢٠٢٦ء \n<br>\n٭٭٭\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n درسِ حدیث \n<br>\n٭٭٭\n<br>\nقطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ کا مجلس ِذکر کے بعد درسِ حدیث \'\'خانقاہِ حامدیہ چشتیہ\'\' شارع رائیونڈ لاہور کے زیرِانتظام ماہنامہ \'\' انوارِ مدینہ\'\' کے ذریعہ ہر ماہ حضرت اقدس کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کے اس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے،آمین۔ (ادارہ)\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nدوسروں کو ترجیح ! نبی علیہ السلام اور صحابہ کا فاقہ\n<br>\nروپیہ گردش کے لیے ہے جمع کرنے کے لیے نہیں \n<br>\n( درسِ حدیث نمبر٢٩ ١٧ ربیع الثانی ١٤٠٢ھ/١٢ فروری ١٩٨٢ئ)\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nاَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا\n<br>\nمُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ !\n<br>\nحدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک دن جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم گھر میں سے باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت ابوبکر و عمر موجود ہیں یا فوراً ہی آگئے ہیں ! آپ نے دریافت فرمایا اس وقت کیسے باہر آئے ہو گھر سے ؟ قَالَا اَلْجُوْعُ انہوں نے عرض کیا کہ بھوک ! ارشاد فرمایا وَاَنَا ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہ لَاَخْرَجَنِیَ الَّذِیْ اَخْرَجَکُمَا میں بھی اسی وجہ سے گھر سے باہر آیا ہوں ! !\n<br>\nحضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما اس لیے باہر آئے تھے کہ کوئی چیز لیں کہیں سے، کوئی آدمی ملے (اس سے یا اور) کسی سے سامان لیں یا پیسے لیں یا جو بھی کچھ ہو، رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم فرماتے ہیں میں بھی اسی لیے باہر آیا تھا، یہ لوگ بیٹھے تھے تو آپ نے فرمایا چلو کھڑے ہو ، یہ کھڑے ہوگئے ، ساتھ چلے گئے ! آپ صلی اللہ عليہ وسلم انصار میں ایک صحابی تھے ان کے یہاں تشریف لے گئے، ان کے بارے میں آتا ہے کہ یہ ابوالہیثم بن التیہان تھے، وہاں جاکر دیکھا تو وہ گھر میں نہیں تھے، ان کی بیوی نے دیکھا تو اس نے مَرْحَبًا وَّ اَھْلًا کہا جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے پوچھا اس کے شوہر کے بارے میں کہ وہ کہاں ہیں ؟ اصحاب ِ بدر میں یعنی جو غزوۂ بدر میں شریک ہوئے ہیں (ان) بدری حضرات میں سے تھے ! وہ عرض کرنے لگی کہ پانی لینے گئے ہیں ، میٹھا پانی، ویسے تو پانی مل جاتا تھا گھروں میں بھی ہوتا تھا، لیکن میٹھا پانی تو لانا پڑتا تھا ! !\n<br>\nمہمان کا اکرام :\n<br>\n اتنے ہی میں وہ انصاری جو گئے تھے پانی لینے وہ بھی آگئے ! رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم اور صاحبین کو دیکھا تو انہوں نے الحمد للہ کہا، خدا کا شکر اَدا کیا کہ آپ یہاں تشریف لائے ہوئے ہیں اور بہت قریبی حضرات میں اور بہت پختہ ایمان والے لوگوں میں سے ہیں ! وہ کہنے لگے کہ آج میرے پاس آنے والے (مہمانوں ) کے سے عمدہ (مہمان) کسی کے پاس بھی نہیں گئے ہوں گے ! آپ آئے ہیں ، حضرت ابوبکر آئے ہیں ، حضرت عمر آئے ہیں ! !\n<br>\nقَالَ فَانْطَلَقَ فَجَائَ ھُمْ بِعِذْقٍ فِیْہِ بُسْر وَّ تَمْر وَّ رُطَب (راوی کہتے ہیں )وہ ایک خوشہ لے آئے اس میں تھیں کھجوریں ، تازہ کھجوریں بھی تھیں کچھ بالکل پک چکی تھیں وہ تھیں او ر کچھ اَدْھ کچری تھیں ، کچھ پکی ہوئی کچھ کچی، وہ بھی کھائی جاتی ہیں اُن کا بھی ایک خاص ذائقہ ہوتا ہے استعمال میں آتی ہیں شوق سے لوگ کھاتے ہیں ، وہ ایک خوشہ لے آئے اور وہ پیش کردیا اور انہوں نے کہا کہ آپ یہ تناول فرمائیے \n<br>\nدودھ والے جانور کو ذبح نہ کیا جائے :\n<br>\nاور پھر وہ چھری اُٹھانے لگے کہ جانور ذبح کرکے کھانا تیار کیا جائے، جناب ِرسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے جب دیکھا کہ یہ چھری لے کر کہیں جارہے ہیں تو پھر فرمایا دُودھ دینے والا جانور نہ ذبح کرنا تو اُنہوں نے دُوسری بکری ذبح کرکے گوشت پکایا اور پھر کھانا پیش کیا اِس کے بعد پانی ٹھنڈا یا میٹھا وہ دیا، اِن حضرات نے اِن کے کھلانے پلانے کو ایسا نہیں سمجھا جیسے کسی اور کے گھر جاتے ہوں یہ اِنتہائی قرب اور محبت کی دلیل ہے ،تقریباً جیسے رشتے دار ہوں جیسے محرم راز ہوں ایسے۔ \n<br>\nان حضرات نے کھانا کھالیا پانی پی لیا سیر ہوگئے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہ لَتُسْئَلُنَّ عَنْ ھٰذَا النَّعِیْمِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یہ جو تم نے انعام خدا کاکھایا یہ جو نعمت ہے خدا کی، اس کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہوگا کہ میں نے تمہیں یہ نعمت دی تھی تم نے اس پر میرا شکر کیا یا نہیں کیا، یہ بھی سوال ہوگا تو اَخْرَجَکُمْ مِنْ بُیُوْتِکُمُ الْجُوْعُ بھوک کی وجہ سے تم گھروں سے نکلے ہو لَمْ تَرْجِعُوْا حَتّٰی اَصَابَکُمْ ھٰذَا النَّعِیْمُ ١ پھر تم واپس نہیں لوٹنے پائے تھے کہ تمہیں یہ نعمت خداوند ِکریم نے دے دی توسُورة التکاثر میں جو آیت آتی ہے ( ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ ) میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ یہ بھی ایک نعمت ہے ! !\n<br>\nکھانے پینے کے آداب :\n<br>\nرسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے کھانے پینے کے آداب میں یہ بتلایا ہے کہ رزق دینے والا کھلانے والا اللہ تعالیٰ کو سمجھنا چاہیے اور جانتے سب مسلمان ہیں کہ اللہ ہی رزق دینے والا ہے لیکن اس میں یہ تعلیم ہوگئی کہ اُدھر توجہ رکھنی چاہیے اُس طرف خیال رکھنا چاہیے اور رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے شکر کے مختلف کلمات تعلیم فرمائے ہیں ، یہ کلمات کہہ لیے جائیں ! !\n<br>\nنبی علیہ السلام اور صحابہ کرام کا دوسروں کو ترجیح دینا :\n<br>\nاور دوسرے اس کے اندر مزید بات یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم اپنے پاس کوئی چیز رکھا ہی نہیں کرتے تھے، اپنا حصہ آتا تھا روپیہ آتا تھا کچھ آتا تھا، وہ سب خود دے دیتے تھے اور جو خصوصی صحابہ کرام ہیں اُن کا بھی یہی حال ہے اور قرآنِ پاک میں بھی انصار کے بارے میں تعریف آئی ہے ( یُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْ کَانَ بِھِمْ خَصَاصَة ) ٢ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں چاہے خود کو شدید ضرورت ہو پھر بھی دوسرے کو ترجیح دے دیتے ہیں ، اپنے اوپر ترجیح دینے کی وجہ سے یہ حال ہوجایا کرتا تھا، دوسروں کو دینے کی وجہ سے یہ حال ہوجایا کرتا تھا اور اگر غور کریں تو سب کے پاس جو تھا وہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کا دیا ہوا تھا، تو آپ کا ایسی بے تکلفی کے ساتھ چلے جانا یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام میں وہ صحابی خاص تھے اور ان کی بہت بڑی فضیلت تھی ! !\n<br>\n ١ مشکوٰة المصابیح کتاب الاطعمة رقم الحدیث ٤٢٤٦ ٢ سورة الحشر : ٩ \n<br>\nخرچ کر دینے کی عادت :\n<br>\nرسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کا اس طرح رہنا کہ گھر میں کچھ بھی نہیں ، صحابہ کا رہنا جو خصوصی صحابہ ہیں حضرت ابوبکر، حضرت عمر رضی اللہ عنہما گھر میں کچھ بھی نہیں ، یہ اس وجہ سے تھا کہ اپنے پاس رکھتے نہیں تھے، یہ نہیں تھا کہ ان کے پاس آتا نہیں تھا، آتا تھا تو رکھتے نہیں تھے بالکل، سب دے کر تقسیم کردیتے تھے ختم کردیتے تھے ! تو اس میں رہن سہن کے بھی آداب ہیں ، اس میں یہ بھی تعلیم ہے کہ دوسروں کو ترجیح دینی چاہیے اپنے اوپر اور ترجیح بھی اس درجے کی ! رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی سنت تو یہ ہے مال کے بارے میں کہ مال اپنے پاس اپنے ساتھ جمع رکھا ہی کبھی نہیں ! !\n<br>\nحضرت ابوذر کی رائے،جاندار اور چیز ہے ،روپے گردش میں رہنے چاہئیں :\n<br>\n حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بھی اس سے یہی سبق سمجھتے تھے کہ اپنے پاس روپیہ پیسہ رکھنا ہی نہیں چاہیے جو ہو خرچ کردے چنانچہ ان کے مزاج میں شدت تھی، ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ان سے فرمادیا تھا کہ اُحد پہاڑ کے برابر بھی اگر میرے پاس سونا ہو تو میں سب ختم کردوں ،خدا کی راہ میں صرف کر دوں ، ان کے ذہن میں یہ بات جم چکی تھی اور وہ یہ بات ساری عمر کہتے بھی رہے اور عمل بھی کرتے رہے اسی پر کہ روپیہ پیسہ یہ دو چیزیں یعنی ایسی چیز ہے سونا اور چاندی کہ اس کو کام میں ہی لانا چاہیے یا اپنے یا دوسرے کے، جمع نہیں رکھنا چاہیے ،یہ گردش میں رہنا چاہیے چلتا رہے ،باقی جائیداد ہے کسی کی آمدنی ہوتی ہے کچھ ہوتا ہے یا کوئی سامان ہے کھانے پینے کا وہ رکھا رہے تو رکھا رہے، روپیہ پیسہ بالکل نہیں رکھ سکتے، اگر رکھوگے تو ان کا نظریہ یہ تھا، مسئلہ ان کی نظرمیں یہ آیا ہوا تھا کہ پھر خدا کے یہاں سوال ہوگا ! زکوٰة اسی کا نام ہے کہ بالکل رکھے ہی نہ پیسے،دوسرے کو دے دے ! \n<br>\nاللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی مرضیات پر چلائے، اپنی رضا سے نوازے، آمین !\n<br>\n( مطبوعہ ماہنامہ انوارِ مدینہ اگست١٩٩٥ )\n<br>\n٭٭٭\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nقسط : ٢ ، آخری\n<br>\nولادت با سعادت سیّد الکونین صلی اللہ عليہ وسلم کی یاد کس طرح منائی جائے ؟\n<br>\n( شیخ الاسلام حضرت اقدس مولانا سیّد حسین احمد صاحب مد نی ) \n<br>\n٭٭٭\n<br>\nمسلمان اپنے ہر اس اور بے چینی کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ برادرانِ وطن ہمارے کسی نفع کے روادار نہیں ہیں وہ سر کاری محکموں میں بھی مسلمانوں کو گھسنے نہیں دیتے اور جو کوئی گھس آتا ہے اس کو تنگ کرکے نکلوا دیتے ہیں ! میونسپل وارڈ اور ڈسٹرکٹ بورڈ وغیرہ میں مسلمانوں کے نکالنے یا کمزور کرنے کی نہایت زیادہ منظم سنگھٹن قائم ہے جو ریلوے کے محکموں تار کے دفتروں وغیرہ میں بھی ہے ! ہر قسم کی تجارت پر خود قبضہ کیے ہوئے ہیں ،کونسلوں وغیرہ میں جو فرقہ وارنیابت قائم ہوگئی ہے اس کو بھی ہر جگہ سے مٹانا چاہتے ہیں ، صناعتوں اور زرا عتوں کے بھی مر کز یہی ہیں ،مردم شماری اور زمینداری میں بھی ان کا پلہ ہر طرح بھاری ہے، بایں ہمہ مسلمانوں کی رہی سہی حالت ان سے دیکھی نہیں جاتی کسی قسم کی خیریت کے روادار نہیں ، تنگدلی ایسی ان پر سوار ہے کہ ہر گز نہیں چاہتے کہ مسلمان قوم زندہ بھی رہ جائے !\n<br>\nمیں ان سب گفتگوؤں کاانکار نہیں کر سکتا کیونکہ آج عام طورسے اس قسم کے اعمال نامے اور تقریریں اور تحریریں میدان میں آچکی ہیں مگر میرا یہ سوال ہے کہ آیا اس قسم کی کار روائی غیر مسلم قومو ں سے آج نئی بات ہے یا ان کا ظرفِ تنگ ہمیشہ سے ایسا ہی کرتا رہاہے ؟ ؟\n<br>\n قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : \n<br>\n( مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ وَلَا الْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ ) ( سورة البقرة : ١٠٥ )\n<br>\n\'\'آسمانی کتابوں کے ماننے والے اور مشرک لوگ یہ نہیں چاہتے کہ تم کو تمہارا پروردگار کسی بھلائی میں سے کوئی حصہ دے\'\' \n<br>\n( لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ حَتّٰی یَرُدُّوْکُمْ عَنْ دِ یْنِکُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا)(البقرة : ٢١٧)\n<br>\n\'\' یہ غیر مذہب والے برابر تم سے جنگ کرتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر اُن کو طاقت ہوتو تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں \'\'\n<br>\nیہ دل تنگی اُن لوگوں کی نہ صرف قرنِ اوّل کے مسلمانوں ہی سے رہی بلکہ ہر قرن اور ہر ملک میں ہمیشہ یہی قصہ پیش آتا رہا، تاریخی واقعات موجودہیں ! کہا جاتا ہے کہ اہلِ سنگھٹن اور جملہ برادرانِ وطن اپنے اتفاق، سنگھٹ، مال، ہتھیاروں ، کثرتِ تعداد ، اخباروں ، محاکم پر غلبہ اور کثرتِ تعلیم وغیرہ کی وجہ سے مظاہرہ کر رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کے وجود اور ہستی اور قوت کو مٹادیں اور ہر جگہ اشتعال انگیز کار روائیاں کی جاتی ہیں جن کی وجہ سے مسلمان مجبور ہوجاتے ہیں اور سر بکف ہو کر میدان میں نکل پڑتے ہیں اور پھر اُن کو اپنی منظم قوت سے پامال کیا جاتا ہے ! ! صاف صاف کہا جاتا ہے کہ یا تومسلمان مرتد ہوجائیں ہندو بن کر یہاں رہیں یا کم از کم ہندوانہ رسوم و عادات وغیرہ اختیار کرلیں ورنہ ہمارے وطن (ہندوستان) سے با ہرچلے جائیں اور پھر حکومت ان کی ہر طرح طرفداری کرتی ہے ان کی آواز سے ڈرتی ہے ان کو سزائیں جان بوجھ کر دینے سے گھبراتی ہے ! !\n<br>\nمیں عرض کروں گا کہ یہ امور بھی اسلام کے خلاف نہیں ہیں ، ہمیشہ ایسے مظالم اسلام پر ہوتے رہے ہیں جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر برابر ایسے پہاڑتوڑے گئے اسلام کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے مکہ معظمہ کے مشرک اور مدینہ منورہ کے منافقین ویہود اور گردو نواح کے اعراب اور پھر بعد زمانہ نبوت دیگر ممالک کی غیر مسلم اقوام ہمیشہ اسی قسم کے اعمال کرتی رہیں جن کی نسبت پہلے ہی سے اشارہ نہیں بلکہ تصریح کردی گئی تھی \n<br>\n( لَتُبْلَوُنَّ فِیْ اَمْوَالِکُمْ وَ اَنْفُسِکُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا اَذًی کَثِیْرًا وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ) ١ \n<br>\n\'\'تم ضرور بالضرور آئندہ کو اپنے مالوں اور جانوں میں آزمائے جاؤگے (ان دونوں کو نقصان پہنچایا جائے گا) اور ضرور تم آئندہ ان لوگوں سے جن کو تم سے پہلے آسمانی \n<br>\nکتاب دی گئی ہے اوراُن لو گوں سے جو کہ مشرک اور بت پرست ہیں بہت سی \n<br>\n ١ سورة الِ عمران : ١٨٦ \n<br>\nدل آزاری کی باتیں سنوگے اور اگر ان مواقع پر تم صبر کرتے رہو اور ( حکم الٰہی کی خلاف ورزی سے) پر ہیز کرتے رہو تو یہ تاکیدی احکام میں سے ہے\'\' \n<br>\nاس قسم کی مختلف آیتیں قرآنِ مجید میں موجود ہیں جن پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی گئی ہے اور بتلایا گیا ہے کہ تم یہ مت خیال کرناکہ تم بغیر اُن آزمائشوں کے جوپہلو ں پر آچکی ہیں چھوڑ دیے جاؤ گے یا نجات حاصل کر سکو یا جنت میں داخل ہو سکو ١ فرما دیا گیا : \n<br>\n( وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَھُوْدُ وَلَا النَّصَارٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ قُلْ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الْھُدٰی ) ( سورة البقرة : ١٢٠ )\n<br>\n\'\'تم سے یہودی (موسوی لوگ) اور نصاریٰ (عیسائی لوگ) کبھی راضی نہ ہوں گے جب تک کہ تم ان کے مذہب کے تابعدار نہ ہوجاؤ \'\'\n<br>\n( اِنْ تَمْسَسْکُمْ حَسَنَة تَسُؤْھُمْ وَ اِنْ تُصِبْکُمْ سَیِّئَة یَّفْرَحُوْا بِھَا وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُھُمْ شَیْئًا اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْط ) ( سورة الِ عمران : ١٢٠)\n<br>\n\'\'اگر تم کو کوئی اچھی بات حاصل ہوجاتی ہے (یعنی آپس میں اتفاق کا ہوجانا ، کسی عمدہ دنیاوی عہدہ اور عزت و مال وغیرہ کامل جانا) تو ان (غیر مسلموں ) کو برا معلوم ہوتا ہے ! اور اگر تم کوکوئی ناگوار اور بری بات پیش آتی ہے تو بہت خوش ہوتے ہیں ! اور اگر تم صبرو استقلال اور پر ہیزگاری کے ساتھ رہو تواُن کا مکر تم کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا خدا وند کریم ان کے کاموں کو گھیرے ہوئے ہے \'\'\n<br>\n( وَ اِنْ کَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَکَ عَنِ الَّذِیْ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَہ وَ اِذًا لَّا تَّخَذُوْکَ خَلِیْلًا ۔ وَ لَوْ لَآ اَنْ ثَبَّتْنٰکَ لَقَدْ کِدْتَّ تَرْکَنُ اِلَیْھِمْ شَیْئًا قَلِیْلًا ) ٢ \n<br>\n\'\'اور یہ (غیر مسلم ) لوگ ان احکام سے جن کو ہم نے تم پر وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے قریب تھا کہ بچلادیں تاکہ آپ ہمارے او پرغلط بات افترا کردیں ، ایسی حالت میں \n<br>\n ١ پہلا رکوع سورۂ عنکبوت ، دوسرا رکوع سورہ توبہ اور آخری حصہ سورۂ الِ عمران ٢ سورة بنی اسرائیل : ٧٣ ، ٧٤\n<br>\nوہ تم کو اپنا گاڑھا دوست بنالیتے اور اگر ہم تم کو ثابت قدم نہ رکھتے تو قریب تھا کہ ان کی طرف کچھ نہ کچھ مائل ہوجاتے \'\'\n<br>\n( وَ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِرُسُلِھِمْ لَنُخْرِجَنَّکُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا فَاَوْحٰی اِلَیْھِمْ رَبُّھُمْ لَنُھْلِکَنَّ الظّٰلِمِیْنَ ۔ وَ لَنُسْکِنَنَّکُمُ الْاَرْضَ مِنْ بَعْدِھِمْ ذٰلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَ عِیْدِ ۔ وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ) ١ \n<br>\n\'\'اور کا فروں نے پیغمبروں سے کہا کہ ہم ضرور تم کو اپنی زمین اور وطن سے نکال دیں گے مگر یہ کہ تم پھرلوٹ کر ہمارے مذہب میں واپس آجاؤ تو ان کے پروردگار نے وحی بھیجی کہ ہم ضرور با لضرور ظالموں کو ہلاک کردیں گے اور تم کو اس سر زمین میں ان کے بعد بسادیں گے، یہ ہر اُس شخص کے لیے ہے جوکہ میرے روبرو کھڑے ہونے سے اور میری وعید سے ڈرے، ہر فریق نے دوسرے پر غلبہ چاہا اور جتنے ضدی سر کش تھے وہ سب ناکام و نامراد ہوئے \'\'\n<br>\nحضرت شعیب علیہ السلام اور ان پر تمام ایمان لانے والوں کو یہی کہاگیاکہ یا تو تم اور جو لوگ تم پر ایمان لائے ہیں ہمارے مذہب میں پھر لوٹ آؤ ورنہ ہم تم کواپنی بستی سے نکال دیں گے ! جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم اور آپ کے تابعداروں کو بھی ڈرایا گیا جس کا متعدد مقامات میں تذکرہ کیا گیا ہے اور پھر مسلمانوں کو اتنا مجبور کیا گیا کہ حبشہ کی ہجرت واقع ہوئی اور پھر مدینہ منورہ کی ہجرت کی نوبت آئی ! !\n<br>\n( وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا ) ٢ \n<br>\n\'\'اور اسی طرح ہم نے پیدا کیے ہر پیغمبر کے لیے بہت سے دشمن شیطانوں اور جنوں میں سے ،ہر ایک دوسرے کو بنائی ہوئی اور زینت دی ہوئی چکنی چپڑی باتیں بناتا تھا اور سمجھاتا رہتا تھا تاکہ دھوکہ میں ڈالے (یعنی اسی طرح جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم \n<br>\n ١ سورة ابراہیم : ١٣ ، ١٤ ، ١٥ ٢ سورة الانعام : ١١٢\n<br>\nاور مسلمانوں کے لیے ہر قسم کے دشمن ہیں اور وہ ہر قسم کے پرو پیگنڈے اور بہتان زینت دی ہوئی باتوں سے کرتے رہتے ہیں تاکہ لو گوں کو دھوکہ میں ڈالیں )\'\' \n<br>\nخلاصہ کلام یہ کہ جو جو مظالم آج برادرانِ وطن اور دوسرے ملکوں کے غیر مسلم لوگ اسلام پر ڈھا رہے ہیں وہ ہر زمانہ میں خدا کے سچے اورحقانی بندوں کے ساتھ کیے گئے ہیں اور خصوصاً جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم اور صحابہ کرام اور قرونِ سابقہ میں مسلمانوں کے ساتھ نہایت ہی زیادہ پیش آئے اسی وجہ سے آپ فرماتے ہیں کہ اُوْذِیْتُ فِی اللّٰہِ وَمَا یُؤْذَی اَحَد ١ جس قدر مجھ کو تکلیف پہنچائی گئیں کسی نبی کو نہیں پہنچائیں ،باوجود اِن سب امور کے ہمیشہ حق غالب ہو کر رہا ! !\n<br>\nآج ہم کو بھی وہی طرز اختیار کرنا ضروری ہے جوجنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے اختیار کیا اور جو ایک مشفق ہمدرد و خیرا خواہ کے لیے ضروری ہے ! اہلِ مکہ سب سے زیادہ جو رو جفا کرنے والے تھے جن کے مظالم کی داستان دفتروں میں بھی بمشکل آسکتی ہے ، کوئی نار وا اور بری کار روائی انہوں نے اٹھا نہیں رکھی مگر جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے جب ان سے صلح کرلی تو ایسے ایسے شرائط بھی تسلیم کر لیے جو کسی طرح بھی اسلامی خود داری کے لیے بظاہر مناسب نہ تھے ! صلح اور آشتی کے لیے ،فساد اور خون سے بچنے کے لیے، آوازِ حق بلند کرنے کے لیے، رواداری اور اخلاق کا ثبوت دینے کے لیے، اصلاح اور امن کے لیے، خدا اور کعبہ کے لیے اپنی ہِیٹی ٢ اور بظاہر بے عزتی اور کمزوری پر دستخط کر دیے اور یہی وجہ ہے کہ آپ کے ہمراہیوں کا عام طبقہ جو جان دینے تک فقط تیار ہی نہ تھا بلکہ بیعت اور عہدو پیمان بھی کر چکا تھا اس صلح پر کسی طرح راضی نہ تھا مگر یہی صلح پیش خیمہ جملہ فتوحات کی ہوئی اور اسی نے اسلام کی دھاک تمام عرب میں نہایت زور و شور سے بٹھا دی ! ! قریش کی تلوار میں اسی سے دندانے پڑ گئے نہایت زیادہ کند ہوگئی، سورۂ فتح اسی سے واپسی پر نازل ہوئی جس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے بڑے بڑے سمجھدار جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم سے نہایت تعجب کرتے ہوئے پوچھنے لگے\n<br>\n اَوَ فَتْح ہُوَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم کیا یہ فتح ہے ؟ ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! !\n<br>\n ١ سنن ابن ماجة رقم الحدیث ١٥١ ٢ سُبکی ، بدنامی \n<br>\nحلمِ نبوی اور اس کا کامیاب ثمرہ :\n<br>\nاس سے تقریباً دو سال کے بعد جبکہ خود نادانانِ قریش اور ان کے بعض خلفاء کی جانب سے بدعہدی ہوئی اور انہوں نے معاہدہ کی شرط کو توڑ دیا تو جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے دس ہزار نوجوانانِ جنگ آزمودہ کے ساتھ فوج کشی کی اور مکہ معظمہ پر چڑھائی کا بازار گرم ہو گیا ! قریش اور اہلِ مکہ کے سیاہ کارنامے جوکہ بے حد اور بے پایاں تھے ظاہر بینوں کی نظر میں ، اپنی قوت اور سطوت کا مظاہرہ کرنے والوں کی نظر میں ، اپنی خود داری اور انتقامی کارروائیوں کے جاری کرنے والوں کی نظر میں ، ملوکیت اور شوکت و دبدبہ قائم کرنے والوں کی نظر میں تویہ لازم تھا کہ ایک آدمی بھی مکہ والوں کا زندہ نہ چھوڑا جاتا ، کم ازکم یہ تو ضرور ہوتا کہ ان کے جنگجو اور جوان آدمی بالکل قتل کر دیے جاتے مگر آپ نے وہی عفو و کرم اور مشفقانہ ہمدردی سے کام لیا، عالی حوصلگی اور بے تعصبی کا ثبوت دیا، اعلان کر دیا کہ\n<br>\n \'\'جس نے اپنے گھر داخل ہو کر دروازہ بند کر دیا اس کو امن ہے، جو مسجد ِ حرام میں داخل ہو گیااس کوامن ہے، جو اَبوسفیان (رضی اللہ عنہ) کے گھر میں داخل ہو گیا اس کو امن ہے \'\' وغیر ہ وغیرہ\n<br>\nپھر جب آپ تمام مکہ معظمہ پر قابض ہوگئے تو کسی کو غلام باندی بھی نہ بنایا جوکہ سب سے کم درجہ کا اس زمانہ کے رسم و رواج کے مطابق انتقام تھا بلکہ سب کو آزاد چھوڑ دیا اور یہی وجہ ہے کہ تمام اہلِ مکہ کو \'\'طُلَقَائ\'\' کے لقب سے ملقب کیا گیا ! ان لو گوں نے جب دیکھا کہ باجودیکہ زمانہ گزشتہ میں تقریباً بیس برس تک پیہم نہایت شرمناک اور سخت سے سخت آزاردہ جرائم ہم سے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم اور مسلمانوں کے حق میں صادر ہوتے رہے تھے کسی قسم کی اذیت ہم نے اُٹھا نہ رکھی تھی مگر آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم نے اور مسلمانوں نے قادر ہونے پر ہم سے کوئی انتقامی کار روائی نہیں کی بلکہ سب کے جرائم کو عفو کر دیا اس لیے عام لوگوں کو دین ِاسلام کی حقانیت اور رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے سچے پیغمبر اور مقرب ِ خدا وندی ہونے کایقین ہو گیا اور بااِستثنائے چند اشخاص سب کے سب سچے دل سے مسلمان ہوگئے (وہ مستثنیٰ اشخاص بھی چند دنوں کے بعد) اسلام کی حقانیت کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہوگئے ! !\n<br>\nعرب کے اطراف و جوانب کے جملہ قبائل نے جب جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی اس قسم کی کریمانہ و مشفقانہ کار روائی کو مجرموں کے ساتھ دیکھا وہ بھی سب کے سب فوجاً فوجاً دین ِ اسلام کے گرویدہ اور حلقہ بگوش ہو گئے ! اسی لیے نواں سال ہجرت کا\'\' سالِ وفود\'\' کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے کہ اس میں قبائلِ عرب نے وفود (ڈیپوٹیشن) بھیج کر اسلام کی تعلیم حاصل کی اور اس کی حلقہ بگوشی کا اعلان کیا ! غرضیکہ اس عالی ظرفی اور عالی ہمتی کی کا ر روائی اور بہادرانہ اخلاق نے اس طرح قلوب ِ انسانی کو مسخر کرلیا کہ تمام قلمرو عرب میں بجز چند قبائل ضدی یہود کے (جو کہ خیبر، تیمائ، صنعاء وغیرہ میں آباد تھے) تمام عرب مسلمان ہوگئے اور تمام سر زمینِ عرب سے تو حید کے نعرے بلند ہونے لگے ! !\n<br>\nمدینہ منورہ میں رئیس المنافقین عبداللہ بن اُبی جس کا نفاق اظہر من الشمس ہو چکا تھا اوربہت سی آیتیں اس کے منافق اور دشمن ہونے کے ثبوت میں نازل ہوچکی تھیں اس کے سیاہ کار ناموں سے خود جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم اورآپ کے اہل و عیال اور رُفقاء کو بہت زیادہ تکلیفیں اور صدمات اٹھانے کی نوبت آچکی تھی ،جب ٨ یا ٩ ھ میں مرتا ہے تو جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم اس کے لڑکے کو اپنا کرتہ اس کاکفن بنانے کے لیے دیتے ہیں ، اس کے جنازہ کی نماز پڑھاتے ہیں ، آپ کی بغیر خبر کے جب اُس کو لحد میں رکھ دیا جاتا ہے تو لحد میں سے نکال کر اُس کا سر اپنے گھٹنے پر رکھتے ہیں اور اس کے منہ میں لعاب ِ دہن مبارک ڈالتے ہیں اور جب آپ کے معزز رفیق حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس اَمر میں جھگڑا کرتے ہوئے مانع ہوتے ہیں اور اس کی دشمنی کے کارناموں کی داستان پیش کرتے ہیں تو آپ ان کو جھڑک دیتے ہیں ! اس عالی حوصلگی اور بے نظیر عالی ظرفی اور بہادری کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اسی دن قبیلہ خزرج کے تقریباً ایک ہزار آدمی سچے دل سے حلقہ بگوشِ اسلام ہوجاتے ہیں ! !\n<br>\nقبائلِ عرب اور سردارانِ عرب کے ساتھ ایسے ایسے کارنامے جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم اور مسلمانوں نے کیے اور صلیبیوں کی تفصیلی کار روائیوں کو خود عیسائی مو ٔرخوں سے پوچھ لیجیے ! !\n<br>\n٭ سلطان محمد فاتح قسطنطنیہ کے کارنامے اور عیسائی بادشاہوں اور قوموں کے کارنامے ذرا غور سے ملاحظہ کر لیجیے ! اسپین، مالٹا، سسلی وغیرہ میں عیسائیوں نے غالب ہو کر کیا کیا کہ آج وہاں اسلام کا نام لیوا نظر نہیں آتا ! !\n<br>\n٭ گریٹ، مقدونیہ، یونان، بلگیریا، سرویہ، مانٹی نگرو وغیرہ میں یو نانیوں نے کیا کیا اور اس کے برخلاف ترکوں نے دوبارہ قبضہ پالینے کے بعد سمرنا، استنبول، ایڈیا نوپل کی عیسائی آبادی کے ساتھ کیا کیا\n<br>\n٭ دور کیوں جاتے ہو ! خود سلطان اورنگزیب عالمگیر ،غازی پاشا مرحوم ومغفور جن کو اپنے مقاصد اور پروپیگنڈے کے لیے یورپین تاریخیں نہایت سنگدل اور متعصب بتلاتی ہیں اس کے ہی سچے کارناموں کے سچے لکھنے والے انگریز مؤرخیں وغیرہ سے پوچھ لیجیے، کپتان الیگز نڈر ہملٹن کا سفر نامہ جوکہ اس زمانہ میں تقریباًپچیس برس ہندوستان میں رہا اور پھرا ہے ! دیکھ لیجیے کس طرح حکومت کی طرف سے آزادی ٔ مذاہب کی تعریف کرتا ہے اور با دشاہی بے تعصبی اور دریا دلی کی تعریف کرتاہے ! !\n<br>\n٭ سیواجی نے مسلمانوں اور اورنگزیب کے جرنیل افضل خاں مر حوم کے ساتھ حکومت کے مقابلہ میں کیا کیا کار روائیاں نہیں کیں ! اور جب اورنگزیب کے سامنے پکڑا ہوا آیا اور معافی کا خواستگار ہوا تو اس کو عالی ظرفی اور وسیع حوصلگی ہی سے شکار کیا گیا،معاف کر کے چھوڑ دیاگیا،عدل و انصاف کو بالائے طاق رکھا گیا ! !\n<br>\nہم اگر مسلمان بادشاہوں کی رواداری اور بے تعصبی کی تفصیل اس جگہ پیش کریں تو بہت بڑا دفتر تیار ہو جائے ! اور علیٰ ہذا القیاس ان کے مقابلہ میں ضد اور تعصب انواع واقسام کے مظالمِ و حشیانہ کی فہرست غیر مسلم قوموں کی بھی بڑے بڑے دفاتر کی محتاج ہے ! مگر مُشتے نمونہ اَز خر وارے \n<br>\nسلطان اورنگ زیب کا مختصر سافرمان نقل کرتے ہیں : اورنگزیب مرحوم کی متعدد ہندو مندروں کی جاگیروں کی سندیں دھات کے پتروں پر ثابت ہوکر معتبر اخبارات و رسائل میں چھپ چکی ہیں ! اردو اخبار مطبوعہ ١٩١١ء میں مندرجہ ذیل ایک فارسی فرمان حضرت اورنگزیب مر حوم کا جس کو راجہ نرنجن سنگھ نے ایشیا ٹِک سو سائٹی کے ایک جلسہ میں پیش کیا تھا شائع ہوا تھا، یہ فرمان شہنشاہِ اورنگزیب کی طرف سے ابوالحسن حاکم بنارس مرحوم کو سلطان محمد بہادر کی معرفت بھیجا گیا تھا اس فرمان کا مضمون حسب ِ ذیل تھا :\n<br>\n\'\'ہماری پاک شریعت اور سچے مذہب کی رُو سے یہ نا جائز ہے کہ غیر مذہب کے قدیمی مندروں کو گرایا جائے، ہماری اطلاع میں یہ بات لائی گئی ہے کہ بعض حاکم بنارس اور اس کے گرد و نواح کے ہندوؤں پر ظلم و ستم کرتے ہیں اور ان کے مذہبی معاملات میں دخل دیتے ہیں اور ان برہمنوں کو جن کا تعلق پرانے مندروں سے ہے ان کو اُن کے حقوق سے محروم کیا جاتا ہے لہٰذا یہ حکم دیاجاتا ہے کہ آئندہ سے کوئی شخص ہندوؤں اور بر ہمنوں کو کسی وجہ سے بھی تنگ نہ کرے ، نہ ان پر کسی قسم کا ظلم کرے \'\' ٢٥ جمادی الاولیٰ ١٠٦٥ھ \n<br>\n (خاتمہ پر دستخط اور مہر شہنشاہ اورنگزیب ثبت ہے) \n<br>\nپرانے بادشاہوں اور مسلمان حکمرانوں کے کارنامے اور فرمانات اس قسم کے بیشمار ہیں ، طول کی وجہ سے چھوڑنا مناسب ہے مگر ایک فرمان نمونہ کے طور پر نقل کرتا ہوں ، ڈاکٹر بال کرشن راجہ رام کالج کو لہار پور نے مندرجہ ذیل فارسی زبان کی ایک قدیم تحریر تلاش کی ہے\n<br>\n خفیہ وصیت ظہیر الدین محمد بادشاہ غازی (مر حوم)\n<br>\n بنام\n<br>\n شہزادہ نصیر الدین ہمایوں اطال اللہ عمرہ (مر حوم) \n<br>\nمحررہ برائے استحکام واستقامت سلطنت\n<br>\n\'\'اے پسر ،سلطنت ِہندوستان مختلف مذاہب سے پُرہے الحمد للہ کہ اس نے اس کی بادشاہت تمہیں عطا فرمائی ہے، تمہیں لازم ہے کہ تمام تعصباتِ مذہبی کو لوحِ دل سے دھو ڈالو اور عدل و انصاف کرنے میں ہر مذہب و ملت کے طریق کا لحاظ رکھو جس کے بغیر تم ہندوستان کے لو گوں کے دلوں پر قبضہ نہیں کر سکتے ! اس ملک کی رعایا مراحمِ خسروانہ اور الطافِ شاہانہ ہی سے مر ہون ہوتی ہے ، جو قوم یا امت قوانین ِ حکومت کی مطیع اور فرماں برادر ہے اس کے مندر اور مزار بر باد نہ کیے جائیں ، عدل وانصاف کرو کہ رعایا بادشاہ سے خوش رہے ،ظلم و ستم کی نسبت احسان اور لطف کی تلوار سے اسلام زیادہ ترقی پاتا ہے، شیعہ سنی کے جھگڑوں سے چشم پوشی کرو ورنہ اسلام کمزور ہو جائے گا ! جس طرح انسان کے جسم میں چار عنا صر مل جل کر اتحاد واتفاق سے کام کر رہے ہیں ، اسی طرح مختلف مذاہب رعایا کو ملا جلا کر رکھو اوران میں اتحاد و عمل پیدا کرو تاکہ جسمِ سلطنت مختلف امراض سے محفوظ و مامون رہے، سرگزشت تیمور کو جو اتحاد واتفاق کا مالک تھا ہر وقت پیش ِ نظر رکھو ر تاکہ نظم ونسق کے معاملات میں پورا تجربہ ہو \'\' (روزنامہ خلافت)\n<br>\n جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم اور آپ کے متبعین اہلِ اسلام نے ہر گز تنگدلی ،تعصب وبزدلی، فساد وغیرہ اخلاقِ قبیحہ کو اپنا معمول بہ قرار نہیں دیا اور نہ جاہل، وحشی، تنگدل، متعصب مخالفانِ اسلام کا جواب ترکی بترکی دینے کی کوشش کی بلکہ انہوں نے قوانین الٰہیہ کوپیش ِ نظر رکھا ،اصلاحِ عالمِ انسانی اورہمدردیٔ بنی آدم کو خدا کی رضا جوئی اور خوشنودی کو ہمیشہ مقصود ِ اصلی سمجھتے رہے ! اور یہی وجہ ہے کہجب مکہ معظمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے ہیں تو آپ کے ہمراہ فقط ایک رفیق جان قربان کرنے والا تھا اور جب سات برس کے بعد مکہ معظمہ پر چڑھائی فرماتے ہیں تو آپ کے ساتھ دس ہزار آزمودہ کار جانثار سپاہی تھے اور جب وفات کے قریب تبوک پر چڑھائی کرتے ہیں تو تقریباً ایک لاکھ پچیس ہزار جانثار آپ کے ہمراہ ہیں ! ! !\n<br>\nخلاصہ یہ کہ جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے کفرو ضلالت کے مقابلہ کے لیے نورِ الٰہی اور سچے دین و حقانیت کے پھیلانے کے لیے تین تلواریں تیار کیں :\n<br>\n(١) اوّل خداوندی اور آسمانی تلوار یعنی پوری کوشش فرماتے رہے کہ پرور دگارِ عالم کے سچے مطیع ہوکر اس کو اپنے سے خوش اور اپنا دونوں جہان میں مددگار اور آقا بنا لیں ! اور اس کی توجہ اور عنایت کو اپنی طرف کھینچ لیں اور اس کے لیے تعلق خلق با خلق کو ہمیشہ منظم فرماتے رہے جس کی وجہ سے آیت (ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ مَوْلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاَنَّ الْکٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰی لَھُمْ) ١ \'\'یہ اس لیے کہ خدا ایمان والوں کا آقا اور مددگار رہے اور کافروں کاکوئی آقا اور مددگار نہیں \'\' ( فَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ مَوْلٰکُمْ نِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ ) ٢ \'\'اے مسلمانو ! جان لوکہ خدا تمہارا آقا اور مدد گارہے پس اچھا آقا اور مددگار ہے وہ \'\' اور اس کی ا مثال نازل ہوئیں جن میں پورا یقین دلایا گیا کہ خدا وند کریم تم لوگوں کا مددگار اور ہر طرح معاون ہے \n<br>\n(٢) دوسری تلوار اخلاقی اور رُوحانی تھی جس کے ذریعہ سے صرف اپنے متبعین کی اخلاقی کیفیت درست نہیں کی گئی بلکہ جملہ ہمسایہ اور مخالفین کو اپنا محب اور مطیع بنایا گیا اور بہت تھوڑی سی مدت میں پورب، پچھم ،اُتّر ،دَکَّھن ٣ جہاں جہاں وہم و گمان بھی نہ ہوتاتھاوہاں وہاں اسلام کا پر چم لہرانے لگا ! !\n<br>\nہم سمجھتے ہیں کہ ظالم کومعاف کردینے اور برائی کا بدلہ برائی اور سختی سے نہ دینے سے ہماری ذلت اور کمزوری ہوجاتی ہے اور دشمن قوی ہوجاتاہے مگر قرآنِ پاک وہ تعلیم دیتا ہے جو اس کے ما سوا ہے \n<br>\n( وَلاَ تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلاَ السَّیِّئَةُ ط اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ فَاِِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہ عَدَاوَة کَاَنَّہ وَلِیّ حَمِیْم ) ( سورہ حٰم السجدہ : ٣٤ )\n<br>\n\'\'بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں ہیں ! برائی کو بھلائی سے دفع کیجیے (اور سختی کا بدلہ نرمی سے دیجیے) تو جس شخص کی تم سے سخت عداوت تھی وہ مثل خالص دوست اور مدد گار کے ہو جائے گا\'\'\n<br>\nجنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم فرماتے ہیں : \n<br>\nمَا نَقَصَتْ صَدَقَة مِنْ مَالٍ ، وَمَا زَادَا اللّٰہُ عَبْدًا بِعَفْوٍ اِلَّا عِزًّا ، وَمَا تَوَاضَعَ اَحَد لِلّٰہِ اِلَّا رَفَعَہُ اللّٰہُ ۔ ( صحیح مسلم کتاب البر والصلة رقم الحدیث ٢٥٨٨ )\n<br>\n\'\'خیرات مال کو کم نہیں کرتی اور معاف کرنے سے اللہ تعالیٰ بندہ کو عزت(ہی) میں بڑھاتا ہے ! اور کسی شخص نے اللہ کے لیے فروتنی اختیار نہیں کی مگر اللہ تعالیٰ اس کو بلند کرتا ہے\'\' \n<br>\n ١ سورہ محمد : ١١ ٢ سورة الانفال : ٤٠ ٣ مشرق، مغرب، شمال، جنوب\n<br>\nالحاصل عفو اور کرم ذلیل کرنے والی چیزوں میں سے نہیں ہے اگرچہ سرِدست اس میں ذلت معلوم ہوتی ہے مگر نتیجہ اس کا نہایت شاندار اور عزت افزا ہوتاہے ! !\n<br>\nہم نے جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے دو نمونے ایک اہلِ مکہ کے ساتھ اور دوم رئیس المنافقین کے ساتھ جوکہ بعد فر ضیت ِجہاد ہوئے پہلے ذکر کر دیے ہیں اور کتب ِ تاریخ میں ایسے ایسے وقائع بیشمار ہیں ان سب میں ہمیشہ عزت زیادہ ہی ہوئی ! ہم سمجھتے ہیں کہ غیر اقوام اور مخالفین کی اشتعال انگیز کا رروائیوں کے جواب میں اگر ہم نے سختی اور تشدد سے کام نہ لیا تو ہماری خود داری اور قوت رفو چکر ہو جائے گی اور اسی بنا پر ہم اپنے قبضہ اور اختیار سے باہر ہوجاتے ہیں ، غیظ و غضب میں حسن ِتدبیر اور حلم و تدبر کو سلام کر بیٹھتے ہیں مگر جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی تعلیم اس کے خلاف ہے آپ فرماتے ہیں : لَیْسَ الشَّدِیْدُ بِالصُّرْعَةِ اِنَّمَا الشَّدِیْدُ الَّذِیْ یَمْلِکُ نَفْسَہ عِنْدَ الْغَضْبِ ١ \'\'وہ لوگ قوی نہیں ہیں جو کہ اپنے حریف اور مقابل کو پچھاڑ دیتے ہیں اور گرا دیتے ہیں ! قوی وہ شخص ہے جو کہ اپنے نفس کو غصہ کے وقت قابو میں رکھے \'\'\n<br>\nیہ روحانی تلوار تھی جس نے اِدھر اپنوں کو مہذب، خدا پرست، قابلِ حکومت و ریاست بنادیا اور اُدھر غیروں کو اسلام کا نام لیوا اور حلقہ بگوش کر دیا ! ہم اس میدان میں اگر دسواں یا بیسواں حصہ بھی آپ کے اخلاق و کرم کا حال لکھیں تو نہایت طویل دفتر تیار ہوجائے، جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی قولی اور عملی حدیث اور قرآن شریف کی آیتیں اس پر پوری روشنی ڈال رہی ہیں ! !\n<br>\n(٣) تیسری تلوار جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی مادّی تھی جس میں نہایت متانت اور استقلال کے ساتھ ہر قسم کی تقویت کی کوشش کی گئی ! اقوام اور قبائل، افراد اور اشخاص کو مجتمع کیا گیا، ان کی آپس کی دشمنی اور عداوت دور کی گئی ،ان میں اتحاد اور اتفاق کی روح پھونکی گئی ! ایسے ایسے قوانین اور احکام بنائے گئے جن سے شقاق ونفاق دُور ہو، محبت اور ہمدردی بڑے پیمانہ پر رُونما ہو، صنعت اور تجارت تعلیم و تربیت وغیرہ کو ترقی دی گئی، فنونِ جنگ کی تعلیم اور آلات ِ جنگ کی افزونی کی کوشش کی گئی ! کہیں فرمایا گیا : \n<br>\n( وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْھَبَ رِیْحُکُمْ ) ( سورة الانفال : ٤٦ )\n<br>\n ١ صحیح البخاری کتاب الادب باب الحذر من الغضب رقم الحدیث ٦١١٤\n<br>\n\'\'آپس میں جھگڑے مت کرو، ورنہ تم نا مردے اور بزدلے ہو جاؤگے اور تمہاری بندھی ہوئی ہوا بگڑ جائے گی\'\' کہیں فرمایا گیا :\n<br>\n( وَاَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْہِبُوْنَ بِہ عَدُوَّ اللّٰہِ وَعَدُوَّکُمْ وَاٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِہِمْ ) ( سورة الانفال : ٦٠ )\n<br>\n\'\'تم اپنے مخالفین اور دوسری اقوام کے لیے جہاں تک تم سے ہو سکے قوت کی چیزیں اور سواریوں کی اشیاء تیار کرو جن کے ذریعہ سے تم خدا کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں او دوسری قوموں کو ڈراتے رہو\'\' کہیں فرماتے ہیں : \n<br>\n( یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا ) ( سورة الانفال : ٤٥ )\n<br>\n\'\'اے ایمان والو ! جب تمہاری کسی جماعت سے مڈبھیڑ ہو جائے اور جنگ میں مقابلہ پر آجاؤ تو ثابت قدم ہو جاؤ اور وہیں ڈٹ جاؤ \'\'\n<br>\nاور اس کے بعد دوسری ضروریاتِ جنگ اور طرقِ فتح یا بی ذکر کیے گئے ہیں غرضیکہ ایسی ایسی مادّی قوتوں کی بہت سی تعلیمات ہیں جن کے ذریعہ سے وہ رعب خدا وند کریم نے مسلمانوں کا پیدا کر دیا تھاکہ حدودِ اسلام سے ایک ایک ماہ پر رہنے والی بادشاہتیں ڈرتی تھیں نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِیْرَةَ شَھْرٍ ١ \'\'میں ایک مہینہ تک کی دوری تک رعب اور ہیبت پڑنے کے ذریعہ سے مدد کیاگیا ہوں \'\'\n<br>\nظفر مندی کے طریقے :\n<br>\nآج ہم مسلمانوں کوضرورت قوی ہے کہ ان تینوں قوتوں کو پیدا کریں اور فضول وبے معنی ہنگامہ آرائیوں کو یک قلم ترک کردیں ! جو چیزیں دین میں سے نہیں ہیں ان کو دینی بنا کر اُس کی آڑ میں اپنے آپ کو اور اپنی پوزیشن کوبر باد نہ کریں ! تعزیہ کی دھجیاں یا عَلَم کے بانس یامحرم کے جلوس یا باجہ سے مسجد کی نام نہاد تذلیل و توہین وغیرہ پر جنگ و جدال ترک کردیں اور اپنی عزت و خود داری کے قیام \n<br>\nاور اثبات کے لیے حقیقی قوت اور جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے اور قرونِ اُولیٰ کے مسلمانوں کے اعمال نامہ \n<br>\n ١ صحیح البخاری کتاب الصلٰوة رقم الحدیث ٤٣٨\n<br>\nکو ذریعہ کار بنائیں ! اشتعال میں نہ آئیں ، غضب و غیظ میں عقل کے حکم سے باہر نہ ہوں ! اخلاق اور وسیع حوصلگی کو ہاتھ سے نہ جانے دیں اور اپنے آپ کو اسی طرح تینوں تلواروں سے مزین کر لیں جن کو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے استعمال کیا تھالہٰذا مندرجہ ذیل تجاویز پر بہت جلد عمل در آمد ہونا ضروری ہے :\n<br>\n(١) نماز اور جماعت کی پوری پابندی کی جائے اور نہایت شدت کے ساتھ کی جائے !\n<br>\n(٢) ہر محلہ اور ہر بستی میں کوشش کی جائے کہ کوئی شخص بے نمازی باقی نہ رہ جائے !\n<br>\n(٣) شریعت کی جملہ اُمور میں پابندی کی جائے اور لو گوں کو پابند بنایا جائے !\n<br>\n(٤) تعلیم کو جس میں مذہبی ضروریات اور دنیاوی لوازم ہوں نہایت عموم کے ساتھ اشاعت دی جائے اور کم ازکم بکثرت ابتدائی مکاتب قائم کیے جائیں ! \n<br>\n(٥) بیاہ شادی کی فضول خرچیاں یک قلم بند کر دی جائیں اور ایسے قوانین مراسم شادی کے لیے بنائے جائیں جن کے ادا کرنے میں ہر قوم اور ہر خاندان کے غریب آدمی قرض دار نہ ہوں !\n<br>\n(٦) غمی کے لیے ایسے قوانین بنائے جائیں کہ ان میں قرض داری کی نوبت نہ آئے ! اور اسی طرح ختنہ اور عقیقہ وغیرہ کے مصارف تقریباً بالکل بند کردیے جائیں !\n<br>\n(٧ ) مقدمہ بازی اور اس کی فضول خرچیاں بندکردی جائیں اور جہاں تک ہو سکے ہرمحلہ اور ہر قوم کے پنچ فیصلے کرادیا کریں یا صلح کرادیں !\n<br>\n(٨) لڑکوں اورلڑکیوں کو جوان ہوتے ہی جلداز جلد بیاہ دیا جائے !\n<br>\n (٩) رانڈ عورتوں کو حتی الوسع بلا شادی نہ چھوڑاجائے !\n<br>\n(١٠) بچپن کی شادی ترک کردی جائے !\n<br>\n(١١) ہر قسم کی تجارت کے شعبوں میں مسلمان مکمل حصہ لیں ، کوئی شعبہ ایسانہ رہے جس میں مسلمانوں کی تجارت پورے پیمانہ پرنہ ہو ! \n<br>\n(١٢) مسلمان افراد حتی الوسع کوشش کریں کہ وہ اپنی جیب کے پیسہ سے مسلمانوں ہی کونفع پہنچائیں ان ہی سے مال خریدیں !\n<br>\n(١٣) سودی قرضہ یک قلم بند کردیا جائے !\n<br>\n(١٤) مسلمان حتی الوسع کوشش کریں کہ جوفنون سپہ گری قانوناً جائز ہیں ان میں پورے مشاق ہوں !\n<br>\n(١٥) مسلمانوں میں آپس کے اختلافات بالکل دور کردیے جائیں اورمذہب کی حفاظت اور مسلمانوں کی کمزوری کے دور کرنے میں باہم پورے متحد ہوجائیں خواہ اُن کا اختلاف مذہبی ہو یاسیاسی، دنیاوی ہویادینی ، شخصی ہو یا قومی، وغیرہ وغیرہ ! ! اس کامطلب یہ نہیں کہ ان کے عقائد مختلفہ کا ازالہ کردیاجائے جوتقریباً ناممکن ہے بلکہ اگر وہ دور نہ ہوسکیں توباوجود اُن کے موجود ہونے کے آپس میں پورا اتفاق کرلیا جائے اوررواداری کوکام میں لایا جائے تاکہ اسلام کی کمزوری دور ہو جائے ! \n<br>\n(١٦) فضول جھگڑے نہ اُٹھائے جائیں اور ہنگامے برپا نہ کیے جائیں ! اگر غیر مذہب والے ایسی چیزوں میں جوکہ ہم کومذہباً لڑائی اور جنگ پر مجبور نہیں کرتی ہیں ، رواداری یا انصاف یا ہماری دلجوئی کاثبوت نہ دیں توہم برسرِپیکار نہ ہوں !\n<br>\n(١٧) اگرمذہب کی ضروریات پرجن پر جان دے دینا ضروری ہے ،کوئی غیر مذہب دخل دے تو پوری اجتماعی اور اتحادی قوت کے ساتھ مدافعت کی جائے !\n<br>\n(١٨) چونکہ اقوامِ غیر ، اشتعال پیدا کرکے عوام مسلمانوں کو ہر طرح کے ضرر پہنچاتے ہیں بلکہ بسااوقات بھیس بدل کر اور غلط افواہوں کے ذریعہ سے عام مسلمانوں میں غم وغصہ اور ہنگامہ آرائی پھیلاتے ہیں جیسا کہ کلکتہ اور دوسرے مقامات میں مشاہدہ ہوا ہے اس لیے باقاعدہ انتظام کیا جائے اور جب تک کہ سمجھ دار لوگ حکم نہ دیں کوئی کار روائی نہ کی جائے ،ہرفرقہ اورہر قوم میں انتظام کیاجائے اور ان کومنظم طریقہ پرہرکام کے لیے تیار کیاجائے !\n<br>\n(١٩) ہرجگہ والنٹئیرکور ١ قائم کی جائیں اور باقاعدہ ان میں ہر قسم کاانتظام کیاجائے !\n<br>\n (٢٠) اگرغیر مسلم اقوام مسلمانوں پردست اندازی کریں تو حتی الوسع عفو اورعالی حوصلگی سے کام لیا جائے \n<br>\n ١ رضا کار دستے\n<br>\nمگر اپنی قوت ہر ضلع اور ہر صوبہ میں مکمل طریقہ پرمنظم ہواورجب تک سخت مجبوری لاحق نہ ہو، جنگ کوظاہر نہ ہونے دیا جائے اور اپنی تنظیم ایسی کرلی جائے کہ غیر مرعوب ہوجائے !\n<br>\n(٢١) اسلام کی اشاعت میں پوری کوشش کی جائے اورنہایت مشفقانہ اور ناصحانہ طریقہ پر لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا جائے !\n<br>\n (٢٢) جو لوگ مسلمانوں میں مشرکانہ رسوم کے پابند ہیں اور غیروں کے پڑوس کی وجہ سے قواعد اسلام میں کمزور ہیں ان کو راہ ِ راست پر لایا جائے اور نہایت نرمی اور محبت سے ان کو درست کیا جائے !\n<br>\n وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ\n<br>\n٭٭٭\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nقارئین انوارِمدینہ کی خدمت میں اپیل\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nماہنامہ انوارِ مدینہ کے ممبر حضرات جن کو مستقل طورپر رسالہ ارسال کیا جارہا ہے لیکن عرصہ سے ان کے واجبات موصول نہیں ہوئے ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ انوارِ مدینہ ایک دینی رسالہ ہے جو ایک دینی ادارہ سے وابستہ ہے اس کا فائدہ طرفین کا فائدہ ہے اور اس کا نقصان طرفین کا نقصان ہے اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ اس رسالہ کی سرپرستی فرماتے ہوئے اپنا چندہ بھی ارسال فرمادیں اوردیگر احباب کوبھی اس کی خریداری کی طرف متوجہ فرمائیں تاکہ جہاں اس سے ادارہ کو فائدہ ہو وہاں آپ کے لیے بھی صدقہ جاریہ بن سکے ! (ادارہ)\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nمحمود الملّة و الدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں نور اللّٰہ مرقدہ \n<br>\nکے سلسلہ وار مطبوعہ مضامین و دروس جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ پر پڑھے اور سنے جا سکتے ہیں \n<br>\nhttp://www.jamiamadniajadeed.org\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nخطبات سید محمودمیاں (٩)\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nمحمود الملة والدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب\n<br>\n جامعہ مدنیہ جدید کی مسجد حامد میں جمعہ کا بیان فرمایا کرتے تھے جن کی ریکارڈنگ جامعہ کے استاذ مفتی محمد فہیم صاحب کرتے تھے، ان بیانات کی افادیت کے پیش نظر انہیں ماہنامہ انوارِ مدینہ کے ذریعہ ہر ماہ حضرت کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچانے کا اہتمام کیا جارہا ہے اللہ تعالیٰ حضرت کے اس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے،آمین۔ (ادارہ)\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nنبی علیہ السلام کا یہودیوں سے معاہدہ \n<br>\n( افادات : شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب )\n<br>\nعنوانات و نظر ثانی : ڈاکٹر محمد امجد \n<br>\n( ٣ جمادی الثانی ١٤٣٥ھ / ٤ اپریل ٢٠١٤ ء )\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nاَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا \n<br>\nمُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ !\n<br>\nیہودیوں سے مصالحت : \n<br>\n نبی علیہ الصلٰوة و السلام نے مدینہ منورہ تشریف لاتے ہی یہودیوں سے ایک معاہدہ کیا کہ آؤ ہم اور تم مل کر ایک معاہدہ کریں ، پیش کش کی ، عجیب و غریب معاہدہ ہوا ، اس میں بہت زیادہ فائدہ مسلمانوں کو بھی تھا اور یہودیوں کو بھی تھا ، دنیاوی فائدہ بھی تھا ، اُخروی فائدہ مسلمانوں کو تھا ، یہودیوں کو تو نہیں تھا ، مسلمان ہوں گے تو ہوگا ورنہ نہیں ہوگا لیکن دنیاوی فائدہ ان کو بھی تھا ، سیاسی نقصان کسی کا نہیں تھا فائدہ ہی تھا اور وہ تقریباً بارہ نکات تھے جن پر معاہدہ کیا رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ، زبانی تو مجھے یاد نہیں ہیں لیکن وہ اہم ہیں آپ کو مختصر سناؤں گا وہ بارہ چیزیں کیا تھیں جن پر رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے یہودیوں کے ساتھ معاہدہ کیا ! اور وہ تین قبیلے بنو نضیر، بنوقریظہ اور بنو قینقاع کے لوگ تھے ! ! \n<br>\nمعاہدہ کی چند شقیں :\n<br>\n(١) اس معاہدے کی پہلی شق یہ تھی کہ مذہبی آزادی ہوگی ! اپنے اپنے مذہب کے مطابق جو جیسی عبادت کرتا ہے کرتا رہے ، جو یہودی اپنے مذہب کے مطابق کرنا چاہتے ہیں کریں ، اگر کوئی ایک آدھ عیسائی ہے تو وہ(اپنی عبادت میں ) آزاد ہے اور جو مسلمان ہے وہ بھی(اپنی عبادت میں ) آزاد ہے اسے کوئی مجبور نہیں کرے گا کہ یہاں نماز نہ پڑھو ، یہاں پڑھو ! ایسے نہ پڑھو ، ایسے نہ پڑھو ! یہ کام نہ کرو ، وہ کام نہ کرو (بلکہ ) مذہبی آزادی ہوگی برابر، ان کو بھی اور ہمیں بھی ! ! \n<br>\n (٢) دوسری شق یہ رکھی جان ، مال ، عزت ، آبرو کی حفاظت ! کہ یہودیوں سے ہمارا جان ، مال ، عزت ، آبرو محفوظ ہے اور ہم سے ان کی محفوظ ہے ! مسلمان ان کو کسی قسم کا جانی ، مالی یا عزت آبرو کا نقصان نہیں پہنچائیں گے اور یہودی بھی ہمیں نقصان نہیں پہنچائیں گے ! ! \n<br>\n (٣) تیسری شق یہ رکھی کہ ہمارے آپس کے تعلقات دوستانہ ہوں گے دشمن والے نہیں ہوں گے ! پالیسی دوستی پر مبنی ہو گی دشمنی کی بنیاد پر پالیسی نہیں ہو گی ! جیسے ہمارے ہندوستان پاکستان میں ہے کہ ہندوستان پاکستان کو دشمن ملک سمجھتا ہے اور پاکستان ہندوستان کو چنانچہ وہاں فوجیوں کی تربیت ہوتی ہے ، پولیس کی تربیت ہوتی ہے ، ان کے سکول ہیں ، ٹریننگ کالج ہیں ، ان میں پاکستان بطورِ دشمن ملک کے ان کے ذہنوں میں بٹھایاجاتا ہے ، تربیت دی جاتی ہے ! ہمارے سکول کالج میں بھی جو یہاں کے فوجی ہیں انہیں ہندوستان بحیثیت ایک دشمن ملک کے ذہن میں پکا کیا جاتا ہے ! ! فرمایا اس معاہدہ میں ہمارے تعلقات دوستانہ ہوں گے ، دشمنی پر مبنی نہیں ہوں گے ، ہم ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں گے اور مل جل کر رہیں گے ! ! \n<br>\n (٤) چوتھی شق یہ رکھی کہ مظلوم کی مدد کی جائے گی ! یہودیوں میں جو مظلوم ہو، اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہوئی تو ہم بھی اس کی مدد کریں گے ، وہ تو کریں گے ہی اس کی مدد ، ہم بھی کریں گے ! لیکن ظالم کی مدد کوئی نہیں کرے گا ! یہودیوں میں اگر کوئی ظالم ہوگا تو ان کی یہودی بھی مدد نہیں کریں گے اور مسلمان بھی اس کی مدد نہیں کریں گے ! مسلمانوں میں اگر کسی نے کسی پر ظلم کیا تو اس ظالم کا ساتھ کوئی نہیں دے گا ! مظلوم کی مدد کی جائے گی ! یہ بھی بالکل معقول بات ہے ، ہر آدمی سمجھتا ہے ایسی بات ! ! \n<br>\n (٥) پانچویں شق یہ رکھی کہ پڑوسیوں کا احترام ہوگا خاص طور پر ، چاہے وہ یہودی پڑوسی ہے مسلمان کا یا مسلمان پڑوسی ہے یہودی کا ! بحیثیت پڑوسی اس کا خیال رکھیں گے ، اس کا ادب واحترام کریں گے ، اگر خود بھوکا ہے تو وہ تو بھوکا رہے گا ، لیکن یہ نہیں کہ خود کھائے اور وہ بھوکا رہے ! یہ بھی نبی علیہ السلام نے رکھا کہ اس میں کافر اور مسلمان کی کوئی تمیز نہیں ہوگی بس وہ ہمارا پڑوسی ہے چاہے کچھ بھی ہے اس کا خیال رکھا جائے گا ، پڑوسی کا احترام ہو گا ! یہ تعلیم آج تک( جبکہ) مسلمان جاہل ہو چکا ہے لیکن اس میں موجود ہے اس کے اثرات آج بھی ہیں ، پڑوسی کا خیال رکھتے ہیں ! یہودی ، عیسائی ، کافر لوگ بھی رکھتے ہیں لیکن مسلمان ان کی نسبت زیادہ رکھتے ہیں ! ! \n<br>\n (٦) چھٹی شق یہ رکھی کہ اگر کوئی تیسری طاقت مدینہ منورہ پر حملہ کرتی ہے ، نقصان پہنچاتی ہے چاہے فوجی نقصان ، چاہے تجارتی نقصان ، چاہے سیاسی نقصان تو مسلمان اوریہودی دونوں ایک ہوکر اس کا مقابلہ کریں گے ! ہم یہ نہیں سوچیں گے کہ یہ تو یہودیوں کے خلاف آئے ہیں ہم کیوں جائیں ؟ ایسے ہی یہودی بھی یہ نہیں سوچیں گے کہ یہ تو مسلمانوں سے لڑنے آئے ہیں ہم کیوں جائیں ؟ بلکہ اس حیثیت سے کہ ہم سارے مدینہ منورہ کے رہائشی ہیں ، ہم اس ضلع کے رہنے والے ہیں ، ہم صوبے کے رہنے والے ہیں لہٰذا یہ باہر سے جو آئے ہیں یہ ہم سب کے دشمن ہیں ، وہ مشترکہ دشمن تصور ہو گا اور ہم مل کر اس کے خلاف اس کا مقابلہ کریں گے ! چاہے وہ یہودی آئے یہودیوں سے لڑنے تو چونکہ ہم نے اپنے اس یہودی سے معاہدہ رکھا ہے کہ ہم اس کا ساتھ دیں گے اور اس (حملہ آور یہودی) کے خلاف لڑیں گے ! ! \n<br>\n (٧) ساتویں شق یہ رکھی کہ باہمی مدد لازمی ہو گی ! اگر کسی کو کسی معاملے میں ضرورت پڑ گئی تو دوسرا فریق لازم اور پابند ہو گا کہ اس کی مدد کرے ، چاہے وہ مسلمان ہو ، چاہے وہ یہودی ہو ! ایک دوسرے کی مدد ہمیں لازمی کرنی ہو گی ، ایسا نہیں ہو گا کہ نہیں میں نہیں ، مجھ پر لازم نہیں ،تم کر لو ، فلاں سے کہہ دو میں نہیں مدد کرتا ، نہیں تمہیں بھی آنا ہو گا ! اگر زید سے کہا ہے تو زید کو بھی مدد کرنی ہوگی ، زید یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرا بھائی جو عمرو ہے اس کے پاس چلے جاؤ ، نہیں تم خود آؤ گے بھائی کو بلاؤ تمہارا مسئلہ ہے، میں نہیں جاؤں گا میں تو تمہارے پاس آیا ہوں مدد مانگنے ، تم نے میری مدد کرنی ہے ، مجھے ادھر مت بھیجو ، بھائی کو بلانا ہے تو تم خود بلاؤ ، تو باہمی نصرت بھی لازمی ہو گی ! ! \n<br>\n (٨) ساتویں شق یہ رکھی کہ اگر کوئی فرد کوئی جرم کرتا ہے چاہے مسلمانوں کا یا یہودیوں کا تو اس کی سزا اُسی شخص کو دی جائے گی ، اس کی وجہ سے پوری قوم کو مجرم تصور نہیں کیا جائے گا ! جیسے کہ اگر کسی نے کسی کا سر پھاڑ دیا ، زخمی کر دیا خدا نخواستہ کسی مسلمان نے ہی فرض کر لیں یہودی کا سر پھاڑ دیا ، اس کے ساتھ زیادتی کر دی تو اب یہودی یہ شور نہیں مچائیں گے کہ آ جاؤ یہودیو !مسلمانوں نے یہ کر دیا ، یہ نہیں کہنا ، یہ کہنا ہے کہ زید نے یوں کیا ، بکر نے یہ نقصان پہنچا دیا ہمارے آدمی کو ، یہ نہیں کہنا مسلمانوں نے ، اس سے تو اشتعال پھیل کر لڑائی شروع ہو جائے گی ! یہ مسلمان اور یہودی کی جنگ شروع ہو جائے گی جبکہ مسلمان اور یہودی کا مسئلہ نہیں ہے ، یہ ایک آدمی کا قصور ہے ، ایک آدمی کے ساتھ ظلم یا زیادتی ہوئی ہے لہٰذا اس کی سزا اسے دی جائے گی اس شخص کو ہی دی جائے گی پوری قوم کو نہیں دی جائے گی ! ایسے ہی اگر کسی یہودی نے کسی مسلمان کے ساتھ زیادتی کی تو اس کا قصور وار مسلمان صرف اس شخص کو ٹھہرائیں گے ، اس کے بجائے جیسے جاہلیت میں ہوتا تھا ایسے نہیں ہوگا کہ چونکہ اس نے میرے بھائی کو قتل کر دیا لہٰذا میں اس کے کسی بھی آدمی کو قتل کروں گا ، یہ جرم ہے ! نہیں اسی کو قتل کرنا ہے جس نے قتل کیا ہے ، قاتل کو قتل کرنا ہے، اس کے بدلے میں قاتل کے بھائی کو ، قاتل کے باپ کو یا اس طبقے اور فرقے کے کسی آدمی کو قتل کرنا غلط ہے ! اس سے تو لڑائی اور پھیلے گی ! ! \n<br>\nمقصد تو لڑائی ختم کرنا ہے، لڑائیوں کو پھیلانا تھوڑی ہے ، اس لیے فرمایا کہ فرد کا جو جرم ہے وہ اُسی فرد کا تصور ہوگا اس کی آڑ میں پروپیگنڈا کر کے انتشار نہیں پھیلائیں گے کہ یہودیوں نے یوں کردیا یا یہودی شور نہیں مچائیں گے کہ مسلمانوں نے یوں کر دیا ! ایسی چیزیں نہیں ہوں گی ! یہ بھی بڑی اہم چیز نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمائی ! \n<br>\nبلند اخلاق پر مبنی معاہدہ :\n<br>\nیہ ساری شقیں ایسی ہیں کہ جن میں بہت بلند اخلاق ہیں جس کے کافر اور یہودی عادی نہیں تھے لیکن مسلمانوں نے اس معاہدے میں اخلاقی روایتیں زندہ کر کے بتایا کہ ان بنیادوں پر بھی معاہدے ہوا کرتے ہیں کیونکہ کافر لوگ ان اخلاقی چیزوں سے واقف نہیں ہوتے ، نہ ان چیزوں کو وہ سمجھتے ہیں ! ! \n<br>\nاس میں مزید شقیں بھی ہیں ، وقت پورا ہو گیا ، ان شاء اللّٰہ مزید بھی آئندہ بتائیں گے اللہ تعالیٰ عمل کی ، سمجھ کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے اور آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی شفاعت اور ان کا ساتھ نصیب فرمائے ، آمین ! \n<br>\nوَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ \n<br>\n٭٭٭\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nدرسِ حدیث (٩) اسلامی مارشل قوانین (٧)\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nمحمود الملة والدّین شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمود میاں صاحب\n<br>\n جامعہ مدنیہ جدید کی مسجد حامد میں \'\'خانقاہ حامدیہ چشتیہ \'\' کے تحت ہونے والی مجلس ذکر کے بعد ہر اتوار بعد نمازِ مغرب درس حدیث دیاکرتے تھے جن کی ریکارڈنگ جامعہ کے استاذ مفتی محمد فہیم صاحب کرتے تھے، ان دروس کی افادیت کے پیش نظراِن دروس کو ماہنامہ انوارِ مدینہ کے ذریعہ ہر ماہ حضرت کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچانے کا اہتمام کیا جارہا ہے، اللہ تعالیٰ حضرت کے اس فیض کو تاقیامت جاری و مقبول فرمائے،آمین (ادارہ)\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nبہترین اسلحہ \'\' قوس\'\'\n<br>\n( افادات : شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب )\n<br>\nعنوانات و نظر ثانی : ڈاکٹر محمد امجد غفرلہ\n<br>\n(١٤ جمادی الاوّل ١٤٣٥ھ / ١٦ مارچ ٢٠١٤ ء )\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nاَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا \n<br>\nمُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ !\n<br>\nامام محمد رحمة اللّٰہ علیہ نے اپنی کتاب اَلسِّیرُ الکبِیْر میں ایک باب باندھا ہے بَابُ السِّلَاحِ وَ الْفُرُوْسِیَّةِ جس میں امام محمد حضرت عتبہ بن ابی حکیم رضی اللہ عنہ کی ایک روایت نقل فرماتے ہے جس میں ہتھیاروں اور گھڑ سواری کا مسلمانوں اورمسلمانوں کی فوجوں کو بتایا ہے کہ ان میں کیا چیز زیادہ اہم ہے ؟ کس چیز میں وہ مہارت حاصل کریں ؟ \n<br>\nتو وہ فرماتے ہیں ذَکَرْتُ الْقَوْسَ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم کہ میں نے ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے پاس قَوْسْ کا ذکر کیا ! آج کی زبان میں قَوْسْکا مطلب ہے\'\' راکٹ لانچر \'\' قَاعِدَةُ الصَّارُوخْ یہ بھی کہہ دیں ! صَارُوخْ میزائل کو کہتے ہیں قَاعِدَةْ اس کے کھڑے ہونے کی جگہ اس کے ثابت ہونے کے لیے ! پتہ نہیں فوج والے کیا نام لیتے ہوں گے میرے ذہن میں یہ نام آیا کہ اس کو قَاعِدَةُ الصَّارُوخْ بھی کہا جا سکتا ہے، \'\'لانچنگ پیڈ\'\'(Launching Pad)جو ہوتا ہے اسے بھی کہہ سکتے ہیں تو لانچنگ پیڈ کا ذکر آیا جس پر راکٹ رکھا جاتا ہے اور پھر اسے داغا جاتا ہے ! اس زمانے میں قَوْسْ تھی اس کا ذکر ہوا تو نبی علیہ السلام نے فرمایا مَا سَبَقَہَا سِلَاح قَطُّ اِلٰی خَیْرٍ \'\'کوئی ہتھیار اس سے بڑھ کر بہتر نہیں ہے \'\' ! ! رائے دی نبی علیہ السلام نے، یہ نہیں فرمایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں لوگوں کو \'\'اللہ اللہ\'\' کرنے کے لیے بتانے آیا ہوں ، مجھے دنیا سے کیا غرض ہے ؟ بس ذکر ہو ، مصلیٰ ہو ، تسبیح ہو ، حجرہ ہو ، لوٹا ہو ، اللہ اللہ ہو ! تم نے یہ کیا ذکر کر دیا میرے پاس دنیا کی باتوں کا، لڑائی جھگڑوں کی باتوں کا ! ! \n<br>\nرائے کون دے سکتا ہے ؟\n<br>\n نبی علیہ السلام نے انہیں ایسی بات ارشاد نہیں فرمائی بلکہ آپ نے رائے دی ! رائے وہ آدمی دے سکتا ہے جس کو اس چیز کا سوال کرنے والے سے زیادہ علم ہو ورنہ وہ رائے نہیں دے سکتا ! اب آپ سے اگر کوئی رائے لینے آ جائے کہ فلاں بیماری میں کون سی دوا مفید ہے ؟ تو اس سوال جواب میں دو میں سے ایک آدمی بے وقوف ہے !\n<br>\n ایک تو سوال کرنے والا بے وقوف ہے ، وہ آپ سے یہ سوال کیوں کر رہا ہے ؟ یہ تو لائن آپ کی ہے ہی نہیں کیونکہ یہ تو طبی چیز ہے ڈاکٹروں کی ! اور اگر آپ نے جواب دے دیا تو آپ بھی بے وقوف ہوجائیں گے کیونکہ آپ کا تو میدان نہیں ہے ، تو جواب کیوں دیا ؟ آپ کہیں کہ بھائی اس کا مجھے نہیں پتا ، اس کے بارے میں طبیب سے پوچھو ، ڈاکٹر سے پوچھو ، حکیم سے پوچھو وہ بتائے گا ! ! میری یہ لائن نہیں ہے ! !\n<br>\n تو اگر ایسی بات ہوتی کہ یہ لائن حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی نہ ہوتی ان کا طریقہ نہ ہوتا یا ان کے طریقے کے خلاف ہوتی تو آپ یہ جواب نہ دیتے ! جیسے آپ یہ جواب نہیں دیں گے کہ دوا کیا ہے ! ! اگر جواب دے دیا تو آپ بھی بے وقوف ہیں اس سے بھی زیادہ بے وقوف ہو گئے جس نے آپ سے سوال کیا ! ! کیونکہ اس کو تو ہو سکتا ہے یہ گمان ہو کہ شاید انہیں پتہ ہو تو یہ جواب دے دیں لیکن ہمیں تو یقین ہے کہ ہماری یہ لائن نہیں ہے ،ہم نے تو جواب دے کر اس سے زیادہ حماقت کی ! ہم یہ کہتے کہ ہمیں نہیں پتا ،کسی اور سے پوچھ لیں ! ! \n<br>\nنبی علیہ السلام کی رائے :\n<br>\nلیکن رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے رائے دی ، ایسی رائے دی کہ دنیا کی ترقی نے جدت نے چودہ سو سال گزرنے کے باوجود جتنی ترقی ہو رہی ہے جتنی اور ہو گی اس میں اس رائے کی اہمیت اور صداقت بڑھتی چلی جا رہی ہے کیونکہ آج دنیا میں جس کے پاس زیادہ سے زیادہ دور میزائل مارنے کی طاقت ہے وہی سپر طاقت ہے ! !\n<br>\nاس وقت کے جتنے صحابہ کرام تھے سب فوجی تھے ، سپاہی تھے ، صوفی تھے ، سب صحابی صوفی تھے اور صوفیوں میں سب سے بڑے صوفی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم سب کے سردار ہیں کیونکہ آپ نے فرمایا اَنَا اَتْقَاہُمْ وَ اَخْشَاہُمْ میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ سے خشیت والا ہوں ! ! تو عارف باللہ تو نبی علیہ السلام سب سے زیادہ ہیں ! عالم باللہ ، عارف باللہ آپ ہی ہیں ، آپ سے ہی آگے فیض چل رہا ہے ! !\n<br>\n اللہ والے کا تصور :\n<br>\nتو یہ جو آج کل ایک تصور قائم ہو گیا ہمارے اندر اللہ والے کا اور بزرگ اور درویش کا ، یہ ہمارے اندر بدعتیوں اور رافضیوں سے آگیا ہے کیونکہ وہاں پیری مریدی ایک خاص لبادے میں ہوتی ہے بس ایک پیشے کے طور پر ہوتی ہے مال کمانے ، پیسہ کمانے کے لیے ، جو بالکل کوئی کام نہ جانتا ہو وہ رومال ڈال کر بیٹھ جائے گا جیسے مراقبہ کر رہا ہے تسبیح ہاتھ میں پکڑ لے گا موٹی، کچھ بھی نہیں آتا ہوگا، دوسرے آدمی کو کسی کے دل کا حال تو پتہ نہیں ہوتا وہ سمجھے گا بڑا بزرگ ہے اور وہ ان چیزو ں کے ذریعے یہ کرتا ہے ! تو یہ تصور بدعتیوں اور رافضیوں سے ہم میں آگیا ! !\n<br>\n\'\'تصوف \'\'کیا ہے ؟\n<br>\n حالانکہ ساری چیزوں سے واقفیت ہونا اور اس واقفیت میں دل کا اللہ سے جڑے رہنا یہ تصوف ہے ! ہر چیز سے واقف ہو، تجارت سے واقف ہو ، زراعت سے واقف ہو ، سیاست سے واقف ہو ، جہاد سے واقف ہو ، اقتصادیات سے واقف ہو ، لوگوں کے ضروری مسائل سے واقف ہو ، عدالت چلانے کا طریقہ پتہ ہو ، حدود کا پتہ ہو ، قصاص کا پتہ ہو ، دیت جانتا ہو ، ساری چیزیں جانتا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ تعلق مع اللہ ہو تو یہ \'\' صوفی\'\' بڑا اللہ والا ہے ! ! تو \'\'اللہ والا\'\' اس کو کہتے ہیں ہم نے اللہ والے کا تصور ایسا بنا لیا کہ جو کچھ بھی نہ جانتا ہو ، اسے کچھ بھی نہ پتا ہو اور کہیں بس یہ تو اللہ والے ہیں ، ان کو دنیا کا کچھ پتہ نہیں ! !\n<br>\n جب اسے دنیا کا کچھ پتہ ہی نہیں ہے، صرف اللہ ہی والا ہے یہ ،تو یہ جنت سے باہر کیوں آیا ؟ وہیں رہتا ،وہ تو وہاں کے لیے ہے ،جب دنیا میں آکر اسے لقمہ چبانا آگیا اور یہ پتہ ہے کہ لقمہ ناک سے نہیں لینا منہ سے لینا ہے ،یہاں سے چباؤں گا ، پیٹ بھروں گا ! اور یہ کھاؤں گا ، یہ نہیں کھاؤں گا ! چرغا لوں گا ، مرغا ،دنبہ لوں گا ، دال نہیں کھاؤں گا ،یہ پتہ ہے ان پیشہ ورلوگوں کو تو جب چرغا ہی کھانا تھا دال نہیں کھانی تھی تو پھر جنت میں رہنا چاہیے تھا ،باہر کیوں آئے ؟ اورجنت کے بارہ میں آتا ہے کہ ( وَفِیْہَا مَا تَشْتَہِیْہِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنْ ) ١ ( وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَہُوْنَ ) ٢ جو گوشت پسند ہوگا وہ ملے گا تو کھانے پینے کے لیے تو جنت ہے ! دنیا کھانے پینے کے لیے نہیں ہے ! !\n<br>\n دنیا دارالتکلیف ہے :\n<br>\nحضرت ابوبکر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یا اور حضرات جب کمان کے لیے آدمی بھیجتے تھے تو کہتے تھے اس مہم کے لیے ایسا سالار یا ایسے فوجی ڈھونڈو جو زیادہ سے زیادہ بھوک اور پیاس برداشت کرسکتے ہوں ! جنت میں تو کھانا پینا ہی ہے، دنیا میں کھانا پینا نہیں ہے ! دنیا تو دَارُالتَّکْلِیفْ ہے یہاں تو انسان کو مکلف بنایا ہے ، دنیا میں تو تکلیف ہے مشقت ہے جبکہ دنیا داروں نے اور ان لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ پیری مریدی تو بڑی آرام دہ سیٹ ہوتی ہے اس میں تو بہت مزے آتے ہیں ! ایک آدمی لوٹا لیے کھڑا ہے، ایک آدمی مسواک لیے کھڑا ہے ، ایک نے تولیہ پکڑ رکھا ہے ، ایک نے جوتے اُٹھا رکھے ہیں ، \n<br>\n ١ سورة الزخرف : ٧١ ٢ سورة واقعة : ٢١\n<br>\nایک ان کو کندھے پر اُٹھانے کے لیے تیار ہے ، گاڑی میں بٹھا رہے ہیں تو چار آدمی پکڑ کر بٹھا رہے ہیں ، گاڑی سے نکال رہے ہیں تو آٹھ آدمی کھینچ رہے ہیں دو چار اس دروازے سے ، دو چار اس دروازے سے ، عیش ہی عیش ، مزہ ہی مزہ ہے ! نبی تو ایسے نہیں رہے ! !\n<br>\nاللہ والا کون ہوتا ہے ؟\n<br>\n اللہ والے کا جو تصور ایک معیار ہم نے بنا لیا وہ ہمارے اندر بدعتیوں اور رافضیوں سے ہوتا ہوا دیوبندیوں میں بھی آگیا ! بھئی ،اللہ والا ایسا نہیں ہوتا ! ! اللہ والاوہ ہوتا ہے جو سب کچھ جانتا ہو اور تعلق اللہ کے ساتھ ہو ! !\n<br>\nدو قسم کے طبقے :\n<br>\n جیسے کافر سب کچھ جانتے ہیں لیکن ان کا تعلق اللہ کے ساتھ نہیں ہے ، وہ دنیا دار ہو گئے ! اسی طرح کافر کچھ بھی نہیں جانتے لیکن ریاضتیں اپنی خواہش سے کر رہے ہیں جیسے کہ ہندو مندروں میں بیٹھ کر عبادت کر رہے ہیں اسی طرح صوامع گرجا گھروں میں بیٹھ کر یہودی اور عیسائی عبادت میں لگے ہوئے ہیں اور کچھ نہیں کرتے ،کہتے ہیں ہم تَارِکُ الدُّنْیَا ہیں توایک طبقہ تَارِکُ الدُّنْیَا کا پیدا ہوگیا اور ایک طبقہ خالص مادّی ، دو قسم کے طبقے پیدا ہو گئے تھے ! !\n<br>\n اللہ تعالیٰ نے انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَامْکو بھیج کر بتایا ہے کہ یہ بھی غلط ہے اور یہ بھی غلط ہے ! بالکل مادّیت پرستی بھی غلط اور بالکل تَارِکُ الدُّنْیَا اور مادے کی نفی کرنا یہ بھی غلط ! کیونکہ اگر مادّہ کی نفی کر دے گا تو پھر اپنی بھی نفی کرے گا کیونکہ خون جسم میں دوڑ رہا ہے یہ بھی مادّہ ہے ! یہ گوشت ، لوتھڑے یہ بھی مادّہ ہیں ! یہ ہڈیاں بھی مادّہ ہیں ، ان ہڈیوں میں لوہا یعنی آئرن بھی ہے ، اس میں چونا بھی ہے جسے کیلشیم کہتے ہیں اور اس میں وٹامن بھی ہیں ، اس میں نمکیات کی بے شمار قسمیں ہیں جن کا ہمیں پتا بھی نہیں ، ڈاکٹروں نے رٹے لگا رکھے ہیں انہیں پتا ہوتا ہے ! تو خود بھی تو مادّہ ہے پھر اس سے بھی چھٹکارا حاصل کریں ، آنکھ مادّی چیز ہے ، کان مادّی چیز ہے ، ناخن مادّی چیز ہے ، سر سے پاؤں تک مادّہ ہی تو ہے حتی کہ انسان کے جسم میں تانبہ ، سیسہ ، پیتل ہر چیز کی ایک خاص مقدار حتی کہ سونا بھی ہے، ڈاکٹر کہتے ہیں کہ انسان کے پیشاب بہت قلیل مقدار میں سونا بھی ہوتا ہے ! !\n<br>\n مورارجی دیسائی ١ بھارت کا سابق وزیراعظم تھا ، اسی نوے سال کی عمر تھی پتلا دبلا، بڑا صحت مند تھا ، اس نے باقاعدہ انٹرویو میں کہا تھا کہ میں اپنا پیشاب پیتا ہوں اور کہتا تھا یہ آب ِحیات ہے اتنا عمدہ مفید ٹانک ہے صحت کے لیے کہ یہ آب ِحیات ہے ! ایسا بے شرم تھا کہ اس کا اقرار کر رہا ہے جب اس نے کہا تو ہندوستان کی پارلیمنٹ کے اور ممبر جو پیتے تھے بے شرم انہوں نے کہا ہم بھی پیتے ہیں وہ بتاتے نہیں تھے شرم سے ! ! تو یہ بالکل مادّہ پرستی ہے ،نہ یہ پتہ کہ یہ صحیح ہے یا غلط ہے یا حرام ہے یا حلال ہے اور بالکل مادّے کی نفی دونوں غلط ہیں ! ! \n<br>\nمادّیت اور روحانیت کا حسین امتزاج :\n<br>\n انبیاء علیہم السلام نے آکر بتایا کہ مادّے سے بھی لینا ہے اور عبادت بھی کر نی ہے ! ! دنیا سے اتنا جوڑ رکھنا ہے اور اتنا نہیں رکھنا ! کیونکہ اگر دنیا سے بالکل جوڑ رکھنا ہی نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ تمہیں جنت سے نکالتے ہی نہ، اس کرہ ارض پر لانے کی ضرورت ہی نہیں تھی یہ تو سارا کرہ مادّیت کا ہے معلوم ہوا تمہارا مادّے سے جوڑ ہے واسطہ پڑے گا، اسے استعمال کیسے کرنا ہے ؟ انبیاء علیہم السلام نے آ کر بتایا کہ اتنا مادّہ اور اتنی روحانیت اور وہ اس طرح حاصل ہوگی کہ مادّہ اختیار کرو جیسے وہ کرتے ہیں ویسے اختیار کرو، جیسے وہ میزائل بنا رہے ہیں ویسے ہی تم بناؤ، جیسے وہ راکٹ بنا رہے ہیں ویسے ہی تم بناؤ،جیسے وہ لیبارٹریاں بنا رہے ہیں ویسے ہی تم بناؤ، جیسے وہ ٹینک بنا رہے ہیں ویسے اور جتنے وہ بنا رہے ہیں اس سے زیادہ تم بناؤ ! ! اس کا مطلب ہے کہ ان سے زیادہ تو ہم مادّہ پرست ہو گئے یہ بھی تو کوئی کہہ سکتا ہے ! اگر امریکہ نے ایک ہزار ٹینک بنائے ہیں تو اسلام تو کہتا ہے تم دو ہزار بناؤ \n<br>\n( وَ اَعِدُّوْا لَہُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْہِبُوْنَ بِہ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ عَدُوَّکُمْ ) ١\n<br>\n ١ سورة الانفال : ٦٠\n<br>\nانحصار ہمیشہ اللہ کی ذات پر کرنا ہے :\n<br>\nنبی عَلَیْہِ السَّلَامْ فرماتے ہیں کہ جتنے انہوں نے بنائے اس سے زیادہ بناؤ لیکن بھروسہ ہتھیار پر نہیں کرنا ، یہ راز بتایا نبی علیہ السلام نے ! یہ کافر میں اور ہم میں فرق آگیا ! یہاں سے شروع ہو گیا ،بھروسہ اللہ کی ذات پر کرنا ہے، راکٹ ان سے زیادہ بناؤ ، ان سے اچھے بناؤ ، ان سے قیمتی بناؤ ، لیکن انحصار اِن پر نہیں کرو گے انحصار اللہ کی ذات پر کرنا ہے ! !\n<br>\nجہاں پر انحصار اللہ کی ذات سے ہٹا اور مادّے پر ہوا وہاں مسلمان کو نقصان ہو جاتا ہے، کافر کو ہوتا بھی ہے نہیں بھی ہوتا، مسلمان کو ہوتا ہی ہوتا ہے چنانچہ ( وَ یَوْمَ حُنَیْنٍ اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ ) ١ یاد کرو حنین کے غزوے کو اتنا زیادہ مجمع اور اتنی زیادہ فوج پہلے نہیں تھی کسی مجمع میں جتنی نبی علیہ السلام کے پاس اس وقت تھی ! مکہ مکرمہ فتح ہوا رمضان میں اور شوال میں آپ کو حنین کی طرف جانا پڑ گیا کیونکہ وہاں سے ھَوَازِنْ اور ثَقِیْفْ نے مسلمانوں پر حملے کا پروگرام بنا لیا تھا تو اس لیے تیاری کرنی پڑی مجبوراً ،آپ تشریف لے گئے تو اس میں مدینہ منورہ سے جو صحابہ ساتھ آئے تھے وہ تو تربیت یافتہ اور بہت سمجھدار تھے، دنیاوی اعتبار سے بھی ، فوجی اعتبار سے بھی اور دینی اعتبار سے بھی مکمل تھے لیکن جو مکہ میں آ کر ابھی ابھی مسلمان ہوئے تھے ایک دم انقلاب آنے سے، ان کی پوری طرح تربیت تو ابھی نہیں ہوئی، اس میں تو وقت لگتا ہے ان میں جوشیلے نوجوان بھی تھے ،بس کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے تھے لیکن پوری طرح تربیت ان کی ابھی نہیں ہوئی تھی ! !\n<br>\nغزوۂ حنین اور قومی غیرت :\n<br>\n جب یہاں خبر آئی کہ ھَوَازِنْ کے لوگ حملہ کر رہے ہیں تو یہاں مکہ والوں میں ایک قومی غیرت پیدا ہوگئی کہ یہ کون ہوتے ہیں ہمارے وطن مکہ پر حملہ کرنے والے ؟ ہم بھی جائیں گے ساتھ چنانچہ جو نوجوان ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے وہ بھی ساتھ ہو گئے اس جوش میں ، اسلام کی محبت میں نہیں اپنے قومی تعصب کی وجہ سے ، وہ بھی ساتھ ہو گئے، تربیت یافتہ نہیں تھے جوش ہی جوش تھا ، ہوش نہیں تھا \n<br>\n ١ سورة التوبة : ٢٥\n<br>\nان میں ، ان کی تعداد تقریباً ڈیڑھ دو ہزار ہوگی اب جب قافلہ روانہ ہوا فوج کی طرح ،محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی قیادت میں تو یہ جو نوجوان جوشیلے نئے نئے تھے یہ سب سے آگے کہ ہم دیکھیں گے ان کو ! اور انہوں نے زِرہیں بھی نہیں پہنی ہوئی تھیں ،دفاعی تیاری جو ضروری تھی وہ بھی نہیں کی اور صحابہ کرام مسلح بھی تھے جو بڑے بڑے تھے پوری طرح تیار تھے اور تعلق مع اللہ بھی قوی تھا دونوں چیزیں تھیں ، یہ جو آگے فوج تھی یہ رلی ملی تھی ،مخلص بھی تھے ، غیر مخلص بھی تھے ، کم بھی تھے ، زیادہ بھی تھے ، کافر بھی تھے ، دونوں طرح کے تھے تو ان کو انحصار اس مادّی قوت پر ہو گیا اور انہوں نے یہ کہا کہ آج تعداد کی بنیاد پر ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا ! یہ دعویٰ کیا انہوں نے ! !\n<br>\nخطرناک جملہ :\n<br>\n نبی علیہ السلام کو جب یہ جملہ پہنچا تو شَقَّ عَلَیْہِ شاق گزرا ، بہت گراں گزرا آپ پر ! یہ تو بڑا خطرناک جملہ ہے ! ! اب یہ راز ہے کہ اس میں کیا خطرہ ہے ؟ یہ نبی جانتا ہے، انہوں نے تربیت کی صحابہ کی بتایا کہ یہ خطرناک جملہ ہے ! کیونکہ دو چیزیں ہیں مادّہ اور روح دونوں کو لے کر چلنا ہے ،مادّی قوت بھی ہو، تلواریں ، نیزیں ،زِرہیں ، خود، رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے خود پہنی ، زِرہ بھی پہنی ، توکل یہ نہیں ہے کہ ان چیزوں کو چھوڑ دو ! !\n<br>\n\'\'توکل\'\' کیا ہے ؟\n<br>\nتوکل یہ ہے کہ اسباب اختیار کرو، اسباب اختیار کرنے کے بعد بھروسہ اللہ پر کرو کہ اے اللہ یہ زِرہ بھی پہن لی ، اے اللہ خود بھی پہن لیا ، اے اللہ تلوار بھی لے لی ،اے اللہ نیزہ بھی لے لیا ، اب میں جا رہا ہوں اب تو میری مدد کر کہ تیری مدد کے بغیر یہ آلات کام نہیں دیں گے ! !\n<br>\nیہ اسباب ہیں ،فتح و شکست کا مدار اصل تیرے ارادے پر ہے ! تو یہ دو چیزیں سکھائیں نبیوں نے راز بتایا ہے کہ مادّہ اور روحانیت ، مادّہ اور تعلق مع اللہ دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے کیونکہ تم دنیا میں آئے ہوئے ہو اور جنت سے آئے ہو اور جنت روحانی جگہ ہے اور وہاں واپس بھی جانا ہے تو روحانیت چھوڑ بھی نہیں سکتے اور دنیا میں ہو تو مادّہ بھی نہیں چھوڑ سکتے ،ایسے لے کر چلنا ہے ، پوری تیاری کرو لیکن تعلق اللہ کے ساتھ جوڑ لو پھر اللہ کی مدد آئے گی ! چنانچہ ان نوجوانوں نے جوش میں زِرہ بھی نہیں پہنی کہ نہیں نہیں دیکھی جائے گی ، زِرہ اور خَود کی ہمیں کیا ضرورت ہے ؟\n<br>\n جیسے ہمارے ہاں کے بے وقوف نوجوان جنہیں ہم کہتے ہیں بھائی موٹر سائیکل چلا رہے ہو ہیلمٹ پہن لو ! کہتے ہیں نہیں نہیں ، ہمیں کیا ضرورت ہے ہیلمٹ کی ؟ سبحان اللہ ! بھئی جب خدا نخواستہ سر ٹکرائے گا تو موٹر سائیکل نہیں ٹوٹے گی سر ٹوٹے گا ، سڑک پر لگے گا تو سڑک نہیں خراب ہوگی یہ سر پھٹ جائے گا لیکن اکڑ میں نہیں پہنتے اور پھر نقصان آپ دیکھتے ہیں کتنا ہو رہا ہے ؟ تو خَود پہننا ہے ، لہٰذاہیلمٹ پہننا ہے لیکن بھروسہ اللہ پر کرنا ہے ! !\n<br>\nایک واقعہ اور اس کا اثر :\n<br>\nچنانچہ ہمارے ایک عزیز ہیں ان کا آنکھوں دیکھا واقعہ ہے خود انہوں نے دیکھا بندروڈ پر رہتے تھے اب کراچی چلے گئے ،کہنے لگے میں اپنی موٹر سائیکل لے کر بندروڈ پر دکانیں ہیں وہاں گیا موٹر سائیکل کو ٹھیک کرانے کے لیے ،موٹر سائیکل والے سے ٹھیک کروا رہا تھا تو وہ غم زدہ رو رہا تھا غم سے میں نے پوچھا تمہیں کیا ہوا ؟ کہنے لگا ابھی یہاں سے ایک بڑا ٹرالا گزرا ہے اس کے پاس سے موٹر سائیکل والا جا رہا تھا اس کی تو ہوا ہی اتنی ہوتی ہے کہ گرا دیتی ہے بعض دفعہ، اس کے قریب ذرا سا لگا تو موٹر سائیکل والا لُڑک کے گر گیا، ہیلمٹ اس نے پہنا ہوا تھا ، کھڑا ہو گیا بچ گیا ، اُٹھا لیکن موٹر سائیکل کچھ خراب ہوئی تو وہ موٹر سائیکل گھسیٹ کر میرے پاس آ گیا ،کہنے لگا یہ ذرا ٹھیک کردو ،کیا ہواہے ؟ تو میں نے کہا بھئی دو منٹ بیٹھ جاؤ ،پانی پی لو ،تم موٹر سائیکل سے گرے ہو، دو منٹ بیٹھو سانس لے لو میں ٹھیک کر دوں گاپانی پی لو،ہمارے عزیز کہتے ہیں وہ نوجوان کہنے لگا ٹھیک ہے بچ گیا اللہ نے خیر کردی ! ایسے اس نے اپنا ہیلمٹ اُتارا ،کہتے ہیں جب اس نے اُتارا تو اس کا بھیجا نکل کر اس کی گود میں گر گیا ، دماغ سارا، اور ختم ہو گیا تو ایسی چوٹ لگی کہ ٹوٹ پھوٹ بھی ہوئی لیکن وہ جڑی رہی ہیلمٹ کی وجہ سے، جب ہیلمٹ اُتارا تو وہ جوڑ جو ٹوٹ چکے تھے وہ گرگئے اور وہ ختم ! اس دکاندار کے دماغ پر اس کا اثر تھا ! تو انحصار تو اللہ پر کرنا ہے ، ہیلمٹ تو پہن لیا لیکن اب بچائے گا اللہ، ہیلمٹ نہیں بچائے گا ! !\n<br>\n ( وَ یَوْمَ حُنَیْنٍ اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ ) ١ تو ھَوَازِنْ کے لوگ آگے تھے ڈیڑھ دو ہزار اور وہ بڑے زبردست لڑاکا ماہر نشانہ باز تھے ، انہوں نے نبی عَلَیْہِ السَّلَامْ کے پہنچنے سے پہلے ہی سے میدان پر قبضہ کر لیا ، اچھی جگہ مورچے بنا لیے اور راستے کے دائیں بائیں پہاڑوں پر نشانہ باز بٹھا دیے انہیں خبر ہی نہیں ! اب یہ جوشیلے جذباتی آگے چل رہے ہیں دعوے کرتے ہوئے ، یوں کر دیں گے ، یوں کر دیں گے ، اور وہ چپ بیٹھے ہیں ، چھپ گئے جب یہ خاص جگہوں پر آگے پہنچ گئے ان کے گھیرے میں آگئے انہوں نے تیروں کی بارش کی ! اب یہی جو سب سے زیادہ جوش میں تھے سب سے پہلے یہی بھاگے بری طرح پیچھے، بھاگتے تو پیچھے کی طرف ہیں ،پیچھے نبی عَلَیْہِ السَّلَامْ اور صحابہ تھے، تو جب اتنے سارے لوگ پیچھے بھاگیں گے تو پچھلے والوں پر بھی اس کا اثر پڑے گا کہ ہوا کیا ہے ؟ ؟\n<br>\nتو بہت زبردست نقصان بھی ہوا اور مسلمان منتشر ہو گئے تھے ایک دفعہ، اللہ نے بعد میں مدد فرمائی اور فتح نصیب ہوئی لیکن پہلی دفعہ نقصان ہو گیا ! قرآن یہی بتا رہا ہے کہ حنین کا دن یاد کرو جس دن تمہیں تمہاری کثرت نے ، اتراہٹ نے گھمنڈ میں ڈال دیا کہ آج تو ہم بڑے طاقتور ہیں ( فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْئًا وَ ضَاقَتْ عَلَیْکُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ) \'\'کوئی چیز تمہارے کام نہ آ سکی ، زمین اپنی کشادگی کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی \'\'سر چھپانے کی جگہ تمہیں نہیں مل رہی تھی ، انہوں نے ایسی تیروں کی بارش کی ، زِرہیں تو پہنی نہیں تھی خَود بھی نہیں پہنے تھے ، وہ تیر سیدھے آکر لگے ! !\n<br>\nانبیاء علیہم السلام دنیا کی قیادت کے لیے آئے ہیں :\n<br>\nتو معلوم ہوا یہ دنیا میں جو ہم آئے ہیں ، دنیا کی قیادت کے لیے اللہ نے نبی بھیجے کہ تم نے امت کی دنیا کی قیادت کرنی ہے ! تم مقتدا ہو مقتدی نہیں ہو ! اگر نبی نے آ کر مقتدی بننا ہوتا تو پھر مکہ والوں سے جھگڑا ہی نہ ہوتا نبی علیہ السلام کا ، وہ(کفارِ مکہ) کیوں اذیتوں پر اُترتے تھے وہ تو اسی لیے ہوئے کہ ہماری تو مونچھ نیچے ہو گئی ، ان پر ایمان لائے تو پھر ہماری چودھراہٹ ختم ،پھر یہ بڑے بن جائیں گے ، یہ بڑے بن گئے تو ان کو سردار ماننا پڑے گا ! تو ایک یہ چیز تھی ! !\n<br>\n ١ سورة التوبة : ٢٥\n<br>\n تو نبی جو ہوتے ہیں وہ مقتدی بننے کے لیے نہیں آتے ، وہ مقتدا بننے کے لیے آتے ہیں ! اسی لیے نبی کا جو نائب ہے وہ بھی مقتدا بنے گا مقتدی نہیں بنے گا کیونکہ وہ نائب ہے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کا ! حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم قیادت کے لیے آئے تھے، سیاسی قیادت بھی آپ نے کی ، فوجی قیادت بھی آپ نے کی ، جہادی قیادت بھی آپ نے کی ، تجارتی قیادت بھی کی ، زراعت کی قیادت بھی کی، اس میں زرعی مسائل بتائے کہ اتنی پیداوار پر اتنا عشر ہے اور فلاں پر بیسواں حصہ ہے ! پھر زمینوں کی قسمیں بتائیں ! یہ سب مادّیات ہیں ان کے بارے میں ہمیں اللہ نے نبی کے ذریعے احکامات بتائے ! !\n<br>\n\'\'قوس\'\' بہترین اسلحہ ہے :\n<br>\n بہرحال آپ نے فرمایا کہ یہ تو سب سے بہترین چیز ہے اور یہ اصول جو آپ نے اشارہ کیا آج تک مانا جاتا ہے ! آپ نے فرمایا اَنَّہُ اَقْویٰ آلَاتِ الْجِہَادِ جہاد کے آلات میں سب سے قوی آلہ جو ہے وہ یہ ہے قَوْسْ راکٹ لانچر جس کے ذریعے راکٹ مارتے ہیں فائر کرتے ہیں ، توپ کو بھی کہہ لیں توپ بھی گولہ پھینکتی ہے جتنی دور مار توپ ہوگی تو وہ جدید ہوکر اسی توپ کو راکٹ لانچر کہنے لگے ! !\n<br>\nرسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فوج کو اُبھارا ہے :\n<br>\nتو امام محمد فرماتے ہیں فِیْہِ حَثّ لِلْغُزَةِ عَلٰی تَعَلُّمِ الرَّمْیِ اس میں رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے غازیوں کو اُبھارا ہے ، پاکستانی فوج کو اُبھارا ہے ، سعودی فوج کو اُبھارا ہے ، مسلمان فوجوں کو اُبھارا ہے کہ تم نے جو فائر کی طاقت ہے زیادہ سے زیادہ رینج جس چیز میں ہو، اَپروچ جہاں تک دُور کی ہو ،تم نے اس پر محنت کرنی ہے اس میں ترقی کرنی ہے وَفِیْ ذٰلِکَ آثَار مِنْہَا اس میں آثار اور بھی آئے ہیں !\n<br>\n مِنْہَا حَدِیْثُ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ان ایک حدیث عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ عليہ وسلم قَالَ فِیْ قَوْلِہ تَعَالٰی وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ ١ آپ نے فرمایا اس کی تفصیل فرماتے ہوئے \n<br>\n ١ سورة الانفال : ٦٠\n<br>\nرسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا اَلَا اَنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْیُ جان لو اصل قوت رَمِیْ فائر کی ہے ! جتنی دُور تم گولا بارود پھینک سکو گے اتنا ہی دشمن تم سے ڈرے گا ! !\n<br>\n تین آدمیوں کو جنت کی خوشخبری :\n<br>\n اس میں یہ بھی آتا ہے کہ نبی عَلَیْہِ السَّلَامْ نے فرمایا اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یُدْخِلُ بِالسَّہْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةً الْجَنَّةَ اللہ تعالیٰ ایک تیر ایک میزائل ایک راکٹ کے بدلے تین آدمیوں کو جنت میں داخل کریں گے \n<br>\n(١) صَانِعَہُ الَّذِیْ یَحْتَسِبُ بِہ جو فیکٹری میں بیٹھا ہوا بنا رہا ہے، ہمارے ملک کی اسلحہ بنانے کی فیکٹری واہ کینٹ میں ہے اور بھی جگہ جگہ فیکٹریاں ہیں ! لیکن بشرطیکہ نیت صحیح ہو، مسلمان ہو اور جہاد کی نیت ہو کہ اس کے ذریعے ہم ہندوؤں کو ماریں گے ، مرعوب کریں گے ، سکھوں کو مرعوب کریں گے ، یہود اور عیسائی کو مرعوب کریں گے ، یہ نیت جس کی بشرطیکہ ہے، ان میں اگر اندر قادیانی بیٹھا ہوا کام کر رہا ہے تو اسے ثواب نہیں ملے گا ! اگر اس فیکٹری میں قادیانی بیٹھا ہے تو چاہے کیسی اچھی نیت کیوں نہ کر لے اسے کچھ نہیں ملے گا ! تو فرماتے ہیں اس کو بنانے والا جو وہاں بیٹھ کے پرزے جوڑ رہا ہے اس کو رگڑ رہا ہے بنا رہا ہے مشین میں پرزے نکال کر فٹ کر رہا ہے !\n<br>\n(٢) وَمُنَبِّلَہُ اورجو اس میں نَبِلْ لگا رہا ہے ! تیر کے مختلف حصوں کو تیار کررہا ہے !\n<br>\n(٣) وَالرَّامِیْ بِہ ١ آخر میں جو اسے فائر کرتا ہے ! \n<br>\nیہ تینوں جنت میں جائیں گے بشرطیکہ ان کی نیت دین کی خدمت ، مسلمانوں کی خدمت ، اپنے ملک کا دفاع ، یہ جب پیش نظر ہوگا یہ تمام چیزیں یہ تمام نیتیں جہاد کی ہوں گی ،جب اس سے کرے گا تو اللہ تعالیٰ ایک تیر ایک میزائل ایک راکٹ کے بدلے تین آدمیوں کو جنت میں داخل کریں گے ! !\n<br>\nاب یہ مضامین ہمارے فوجیوں کواور جرنیلوں کو پتہ ہونے چاہئیں ان کے علم میں ہونا چاہیے کہ یہ کچھ آیا ہے، یہ اہمیت رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے بتائی ہے اور یہ اہمیت تمام دنیا کی فوج چاہے امریکہ یابرطانیہ کسی کی بھی ہو اِس چیز کو سب مانتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمائی ! ! \n<br>\n ١ سُنن ابوداود ح ٢٥١٣ ، سنن نسائی ح ٣١٤٦ ، مسند احمد ح ١٧٣٢١\n<br>\nتین کھیل جائز ہیں :\n<br>\n اور رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ کُلُّ لَہْوِ ابْنِ آدَمَ بَاطِل اِلَّا ثَلَاثَةً آدمی کی تمام لہویات یعنی ابن آدم جو کھیل کرتا ہے گیمیں کرتے ہیں سب باطل ہیں سوائے تین گیموں کے ،تین کھیل ایسے ہیں گیمیں جو ہمیں کرنی چاہئیں !\n<br>\n(١) ارشاد فرمایا تَاْدِیْبُہُ فَرَسَہُ اپنے گھوڑے کو ٹرینڈ کرنا تَدْرِیْبْ ، تربیت دینا تَادِیبْ آرہا ہے اب تَدْرِیْبْ بھی بول دیتے ہیں اس کو ، تربیت ٹریننگ دینا ، گھوڑے کو تربیت دینا لڑائی کی ، اس کو اچھا تیار کرنا ، مضبوط کرنا ، یہ جو کرے گا اس کام میں جو لگے گا اسے چارہ ڈال رہا ہے پھر اس کی جگہ دھو رہا ہے، اسے باندھ رہا ہے ،اسے کھول رہا ہے، اس کو اُس نے اپنا کھیل بنایا ہے اور پھر اسے لے کر دوڑتا ہے دو دو تین تین چار چار میل اس پر سواری کرتا ہے اب یہ سب تفریح بھی ہے سیر بھی ہے ! ! جن دنوں میں جنگ نہیں ہے ان دنوں میں تفریح ہے لیکن یہ تفریح اسے اجرو ثواب دے گی کیونکہ جنگ کے دن میں جہاد کے موقع پر یہ کام آئے گی تو یہ جو اس کی تفریح ہے اس میں اسے اجرو ثواب ملے گا ! \n<br>\n(٢) اور ارشاد فرمایا وَمُلَاعَبَتُہُ اَہْلَہُ اپنے اہل سے مُلَاعَبَتْ ، مُلَاعَبَتْ بیوی کے ساتھ دل لگی کرنا، ہنسی مذاق کرنا اس میں بھی اجر و ثواب ہے ! یہ جو کھیل ہے یہ کھیل بھی اچھا ہے پسند ہے اس میں بھی اجر و ثواب ملتا ہے ! !\n<br>\n(٣) مزید ارشاد فرمایا وَرَمْیُہُ عَنْ قَوْسِہِ اپنی قَوْسْ سے ، راکٹ لانچر سے فائر کرنا ، یہ سیکھنا ، فائر کرنا ، اس کی تربیت حاصل کرنا ! یہ کھیل بناؤ ، یہ تمہاری گیم ہونی چاہیے ! !\n<br>\n اللہ ہمارے حکمرانوں کو سمجھ دے کہ اپنی پوری عوام کو یہ فوجی تربیت دیں نیم فوجی بنا دیں سب کو پھر دیکھو کتنا تہلکہ مچ جائے گا ہندوستان وغیرہ سب ٹھیک ہو جائیں گے ویسے ہی، انہیں پتا ہوگا کہ ان کو نہ چھیڑنا یہ تو ڈیموؤں کا چھتہ ہے شہد کی مکھیوں کی طرح پیچھے پڑ جائیں گے ، دشمن دور سے گزریں گے ، قریب سے بھی نہیں گزریں گے بشرطیکہ مسلمان تربیت دیں عورت کو بھی مرد کو بھی ! اور کئی ملکوں میں نیم فوجی تربیت عورتوں کو بھی سکول کالجوں میں دی جارہی ہے ،ہمارے ہاں بھی ہونی چاہیے ! ! \n<br>\n حضرت سعد کی حوصلہ افزائی :\n<br>\nآگے آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے حضرت سَعْد بْنِ اَبِیْ وَقَاصٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ کو جب احد کے دن وہ فائرنگ کر رہے تھے بے تحاشہ بہت زبردست صحیح فائر کرتے تھے، ان کے بازو میں اللہ نے خاص قوت دی تھی ! قَوْسْکھینچ کر ایسے مارتے تھے کہ بیچاری قَوْسْ ہی ٹوٹ جاتی تھی ! ! کئی قَوْسَیْں ٹوٹ گئیں اس دن ان کے ہاتھ سے تو آپ نے جب ان کو دیکھا اس طرح مارتے ہوئے تو آپ نے فرمایا اِرْمِ فِدَاکَ اَبِیْ وَاُمِّیْ ١ مار میرے ماں باپ تجھ پر قربان ! !\n<br>\nحضرت سَعْد بْنِ اَبِیْ وَقَاصٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ کو یہ فرمایا ، ڈانٹا نہیں کہ تو یہ کیا کر رہا ہے ؟ میں نے تجھے اس لیے بھیجا تیرا کام تو تھا مصلے پر بیٹھتا تو تسبیح پڑھتا اللہ اللہ کرتا ،بس لوٹا ، مصلیٰ ، تسبیح ، حجرہ یہ ہونا چاہیے تھا ،یہ تو کیا کر رہا ہے ؟ تیرے میں اور کافر میں کیا فرق ہے ؟ وہ بھی اسی طرح میزائل مار رہے ہیں تو بھی اسی طرح میزائل مار رہا ہے، یہ کیوں کر رہا ہے ؟ ؟ کیا خفا ہوئے ؟ ؟ نہیں ، بلکہ فرمایا \'\'میرے ماں باپ تجھ پر قربان\'\' ! ! !\n<br>\nصوفی کی نشانی :\n<br>\n تو معلوم ہوا کہ\'\' صوفی\'\' اسے کہتے ہیں ! اسلام میں صوفی ، اہل اللہ ، درویش ، قطب ، ابدال اس کو کہیں گے جو صحابہ کے نقش قدم پر چلے گا جو انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَامْ کے طریقے پر چلے گا ! یہ جو معیار بدعتیوں سے ہم نے لے لیا اور رافضیوں سے آگیا اور مغرب نے پروپیگنڈا کرکے ہاتھ چوم چوم کر، دنیا دار لوگ ہمارے ہاتھ چومتے ہیں ! ! حضرت ! حضرت ! حضرت ! آپ ہمارے آقا حضرت آپ کا یہ کام کہاں ؟ ہم خادم کس لیے ہیں ؟ حضرت آپ اس نرم سے گدے پر بیٹھ جائیں ، بس حضرت آپ تو یہیں آرام فرمائیں ، بس ہمیں تو آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے ، ایسے نہیں کہا ! !\n<br>\nحدیث میں آتا ہے کہ ایک وقت آئے گا صحابی نہیں ہوں گے اور لڑائی کے لیے لشکر جائے گا تو لوگ ڈھونڈیں گے کہ کوئی ایسا آدمی ہے جس نے نبی صلی اللہ عليہ وسلم کو دیکھا ہو یعنی صحابی کے پاس آئیں گے\n<br>\n ١ مشکوة المصابیح کتاب المناقب باب مناقب العشرة رقم الحدیث ٦١٢٦\n<br>\nاور اسے ساتھ لے کر جائیں گے اپنے لشکر میں اور اللہ تعالیٰ ان کو اس کی وجہ سے فتح دے دیں گے ! حالانکہ وہ بوڑھے ہو چکے ہوں گے چاہے کچھ بھی نہ کریں لیکن وہ ساتھ جاتے تھے، انہوں نے یہ نہیں کہا کہ آپ تو نہ ہلیں آپ یہیں رہیے بس ہم لڑیں گے، نہیں ساتھ لے جاتے تھے ! !\n<br>\n پھر فرمایا ایسا دور آئے گا کہ لوگ کہیں گے لڑائی میں جانے کے لیے ہَلْ رَأی مِنْکُمْ رَأی اَصْحَابَ النَّبِیِّ صلی اللہ عليہ وسلم اَوْ کَمَا قَالَ عَلَیْہِ السَّلَامْ کیا کوئی ایسا ہے جس نے نبی کے صحابی کو دیکھا ہو (یعنی تابعی) اس کو ڈھونڈیں گے پھر پتہ چلے گا ہاں فلاں جگہ ایسا ایک آدمی ہے جس نے کسی صحابی کو دیکھا ہے ! ! تو اس کو اپنے لشکر میں ساتھ لے کر جائیں گے اور اس کی برکت سے اللہ فتح دے دے گا ! ! \n<br>\n اور پھر فرمایا کہ ایسا وقت آئے گا کہ لوگ پوچھیں گے کیا کوئی ایسا آدمی ہے جس نے دیکھا ہو ایسے آدمی کو جس نے صحابہ کو دیکھا ہو (یعنی تبع تابعین) ؟ یہ آتا ہے ! پھر پتہ چلے گا ہاں فلاں جگہ ایسا ایک آدمی ہے تو اس کو اپنے لشکر میں ساتھ لے کر جائیں گے پھر فتح ہو جائے گی ! !\n<br>\n تو بوڑھے بھی جاتے تھے، لڑتے تھے جہاد میں ! یہ جو ہوا کہ حضرت آپ یہاں بیٹھ جائیں بس آپ دعا کرتے ہیں ! یہ تو ہمیں اور اس طبقے کو نکال دیا تاکہ یہ نکل جائیں بھول جائیں ! ! \n<br>\nتحریک قومی اتحاد اور ذوالفقار علی بھٹو :\n<br>\nبھٹو ١ پتہ ہے کیا کہتا تھا ؟ آپ کو سنا دوں واقعہ اس سے مزید بات سمجھ میں آجائے گی، جس زمانے میں قومی اتحاد کی تحریک چل رہی تھی آپ میں سے اس وقت کوئی پیدا بھی نہیں ہوا ہو گا ، اکثریت پیدا نہیں ہوئی ہوگی ، اس زمانے میں جب مفتی محمود صاحب ٢ نے قومی اتحاد کی قیادت کی اور تحریک چلی تو بھٹو کے پاس اس زمانے میں کچھ باتیں ہو رہی تھیں کہ معراج کا موقع تھا وہاں پر اللہ تعالیٰ نے پچاس نمازیں فرض کی تھیں تو ایسے نبی عَلَیْہِ السَّلَامْ گئے ،پھر پانچ کم کیں پھر فرمایا پھر پانچ کم کیں .... پھر پانچ رہ گئیں تو بھٹو سن رہا تھا تو بھٹو اس تحریک سے بڑا پریشان تھا ناکام ہوا ،اسی تحریک کی قیادت میں \n<br>\n ١ ذوالفقار علی بھٹو ،پاکستان کے نویں وزیراعظم ( مدت وزارت : ١٤ اگست١٩٧٣ء تا ٥ جولائی ١٩٧٧ئ)\n<br>\n ٢ وزیر اعلیٰ صوبہ سرحد(مدت وزارت : یکم مارچ ١٩٧٠ء تا ١٤ اکتوبر ١٩٨٠ء ) \n<br>\n اس کی حکومت ختم ہو گئی ! اس تحریک میں مفتی محمود صاحب تحریک چلا رہے تھے علماء ہی تھے ! بھٹو نے اپنے ساتھیوں کو کہا نمازیں پچاس ہی رہتیں تو کتنا اچھا ہوتا، یہ مولوی نمازیں پڑھتے رہتے اور ہم سیاست کرتے رہتے ! یہ ہمارے لیے مصیبت بن گئے ہیں ، پانچ نمازیں پڑھ کر ہمارے ساتھ شامل ہو گئے تو پچاس ہی رہتیں تو اچھا ہوتا تاکہ یہ نمازوں میں ہی لگے رہتے ! !\n<br>\nتو یہ سوچ ہے اور ہم اس سوچ کو کامیاب بناتے ہیں اور جو ہمیں ہاتھ چوم کر ، جوتے اُٹھا کر ، قدر کر کے ایک طرف کونے میں بٹھا دیتے ہیں عالم کو ، طالب علم کو ! نہیں تمہارا کام تو یہ ہے ! ! وہ اسلام کی جڑ کو کاٹ رہا ہے حقیقت میں ، دانستہ کر رہا ہے تو گناہ ملے گا، نا دانستہ بیچارہ عقیدت محبت میں کر رہا ہے تو پھر گناہ تو نہیں ملے گا لیکن یاد رکھیں کہ نبی مقتدی بننے کے لیے نہیں آیا ، نبی مقتدا بننے کے لیے آیا ہے ؟ \'\'مقتدا \'\' ! ! تو نبی کا نائب بھی مقتدا بنے گا ! ! \n<br>\nفوجی سرکلر :\n<br>\nبہرحال اس میں آتا ہے کہ انہوں نے خط لکھا اَنْ وَفِّرُوْا الْاَظَافِیْرَ فِیْ اَرْضِ الْعَدُوِّ سرکلر جاری کیا فوج میں ،اللہ کرے فوجی سن رہے ہوں تو انہیں اس اسلامی اصول کا پتہ چلے ،پتہ تو ہے، جانتے بھی ہیں لیکن جب اسلام کی نیت سے سوچیں گے تو اس سوچ پر عمل پر اور طرح کا ثواب ہو گا اس میں اور طرح کا معاملہ ہو گا ! یہ لکھ کے بھیجا کہ دیکھو جتنے جوان فوجی ہیں ان کے کمانڈر ہیں سب کے لیے کہ جب تم دشمن کی زمین میں جاؤ وہاں پھر رہے ہو دارالحرب میں لڑائی کے لیے پہنچے ہوئے ہو تو اپنے ناخنوں کو بڑھا لینا ! یہاں تو یہ سکھایا جاتا ہے کہ ناخن کاٹو ،سکھاتے ہیں ،نہیں سکھاتے ؟ ناخن کاٹ لو ، ناخن بڑھانا بری بات ہے، ناخن کاٹنے چاہئیں ، رکھنا بری بات ہے لیکن یہاں فرما رہے ہیں کہ ناخن بڑھانے ہیں دشمن کی زمین میں ! کیوں ؟ فَاِنَّہَا سِلَاح کیونکہ ناخن ہتھیار ہیں اور وہاں قدم قدم پر ہتھیار کی ضرورت ہے لہٰذا دشمن کی زمین پر جب ہو تو حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ نے ناخنوں کو بڑھانے کا سرکلر جاری کیا، تمام اطراف میں جہاں جہاں حکومت تھی وَہٰذَا مَنْدُوْب اِلَیْہِ یہ ایسی چیز ہے کہ مجاہدین کو اس کی طرف ترغیب دی گئی ہے پسندیدہ کہا گیا ہے کہ اس چیز کو دارالحرب میں اختیار کرو وَاِنْ کَانَ قَصُّ الْاَظَافِیْرِ مِنَ الْفِطْرَةِ اگرچہ ناخنوں کو کاٹنا فطرت سے ہے ! کاٹنے ہیں ، رکھنے نہیں ، گندے بھی نہیں ہونے چاہئیں ، کاٹنے ہیں ، اگر بڑھ جائیں تو صاف رکھو لیکن دارالحرب میں جب ہوں تو یہ ہتھیار ہے ! !\n<br>\nناخن ہتھیار بھی ہیں :\n<br>\n لِاِنَّہُ اِذَا سَقَطَ السِّلَاحُ مِنْ یَدِہِ وَقَرُبَ الْعَدُوُّ مِنْہُ رُبَّمَا یَتَمَکَّنُ مِنْ دَفْعِہِ بِاَظَافِیْرِہِ اس لیے کہ بعض دفعہ ہتھیار ہاتھ سے گر جاتا ہے لڑتے لڑتے یا بھاگ دوڑ میں جلدی میں اوردشمن اتنا قریب ہوتا ہے کہ ہتھیار اٹھانے کی مہلت نہیں ہوتی تو بعض دفعہ اپنے ناخنوں کی مدد سے وہ اپنے آپ کو دشمن سے بچا سکتا ہے اور اس کو قابو کر لیتا ہے اور اس کو زخمی کر دے گا ، اس کی گردن میں یہ گھسا دے گا ، اس کی آنکھوں میں مار دے گا یوں کر کے ، کچھ نہ کچھ ، ناک میں یوں گھسا کر کھینچ لے گا نتھنوں کے ساتھ، تو فرمایا یہ ناخن ہتھیار ہیں ! \n<br>\n فرماتے ہیں وَہُوَ نَظِیْرُ قَصِّ الشَّوَارِبِ فَاِنَّہُ سُنَّة یہ نظیر ہے مونچھیں کاٹنے کی ، چھوٹی کرنے کی کیونکہ وہ سنت ہے ! ثُمَّ الْغَازِیْ فِیْ دَارِ الْحَرَبِ مَنْدُوْب اِلٰی اَنْ یُّوَفِّرَ شَارِبَہُ لیکن غازی کے لیے میدان جنگ میں پسند کیا گیا ہے کہ اپنی مونچھوں کو خوب بڑھائے شَارِبْ لِیَکُوْنَ اَہْیَبَ فِیْ عَیْنِ الْعَدُوِّ تاکہ یہ غازی یہ مجاہد دشمن کی نظر میں بڑی ہیبت ناک چیز بن کر ظاہر ہو، دشمن اسے دیکھ کر بھاگے کہ بھئی یہ تو بڑی چیز ہے ، ویسے ہی رعب پڑ جائے اس پر ! اس لیے وہاں پر فرمایا کہ مونچھوں کو بڑھاؤ ! !\n<br>\nاللہ کرے ہمارے جرنیل بھی مونچھیں رکھنے لگ جائیں ، مونڈھتے ہیں خوب کس کس کر ، صبح اٹھ کر پہلا کام مونچھیں مونڈھنا ہے ! اے اللہ کے بندوتم جرنیل ہو کوئی بریگیڈئیر ہے کوئی کچھ اور مونچھیں مونڈھتے ہو بش کی طرح ! اللہ انہیں سمجھ عطا فرمائے اور یہ مونچھیں رکھیں کیونکہ یہ آتا ہے اَنْ یُّوَفِّرَ شَارِبَہُ لِیَکُوْنَ اَہْیَبَ فِیْ عَیْنِ الْعَدُوِّ فَیَحْصُلَ بِہِ الْاِرْہَابَ ١ اس کی وجہ سے دشمن پر ایک رعب اور دبدبہ حاصل ہوگا ! ! اللہ تعالیٰ سمجھ کی اور عمل کی توفیق عطا فرمائے ، آمین !\n<br>\nوَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ\n<br>\n ١ شرح کتاب السیر الکبیر باب السلاح و الفروسیة ج ١ ص ٨٠ ، ٨١\n<br>\n٭٭٭\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nقسط : ١\n<br>\n حضرت مولانا سیف الرحمن صاحب کابلی \n<br>\n( مولانا محمد معاذ لاہوری ، فاضل جامعہ مدنیہ لاہور )\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nحضرت مولانا سیف الرحمن کابلی رحمہ اللہ کی ولادت ١٢٦٧ھ/ ١٨٥١ء ١ میں متھرا نو علاقہ دو آبہ ضلع پشاور میں ہوئی ٢ آپ کے والد کا نام غلام جان ہے، آپ کا اصل تعلق افغانستان کے علاقہ صوبہ قندھار کے ضلع ارغنداب سے ہے ،آپ کے اَجداد وہاں سے دو آبہ میں آباد ہوئے، آپ کا نسبی تعلق افغانستان کی مشہور برادری علیکوزائی سے ہے، مولانا سیف الرحمن اجازت ِ حدیث کی جو سند دیتے تھے اس پر آپ کا تفصیلی تعارف یوں درج ہے :\n<br>\nفیقول العبد الراجی الی رحمة الرحمن المدعو سیف الرحمن ابن المرحوم غلام جان خان ابن المرحوم عبد المؤمن خان الافغانی الدُّرانی العلیکوزائی نسبًا والفشاوری الدوابی المتھری مَولدًا والقندھاری الارغندی جدًا و الکابلی المھاجری مَسکنًا ٣ \n<br>\n ١ الثمر الینیع فی اجازات الصنیع ص ٥٠٣ \n<br>\n ٢ آپ کی تاریخ پیدائش میں دو قول ١٢٧٧ھ/ ١٨٦٠ء اور ١٢٧٠ھ/ ١٨٥٣ء مزید بھی ملتے ہیں ، اوّل الذکر بریگیڈئیر مولانا فیوض الرحمن صاحب جدون مدظلہم نے مشاہیر علماء سرحد میں ،جبکہ ثانی الذکر نزھة الخواطر میں مولانا عبدالحی حسنی لکھنوی نے درج کیے ہیں ،متن میں نقل کیا گیا قول شیخ سلیمان بن عبدالرحمن الصنیع نے درج کیا ہے، شیخ سلیمان کو مولانا کابلی نے اپنے حالات خود تحریر فرماکردیے تھے اس لیے راحج بھی یہی سال لگتا ہے ، واللہ اعلم !\n<br>\n٣ الثمر الینیع فی اجازات الصنیع ، ثبت شیخ سلیمان بن عبدالرحمٰن الصنیع ، مرتبہ ابو زکریا صالح بن سلیمان الحِجّی مطبع مرکز الملک الفیصل للبحوث و الدراسات الاسلامیة ١٤٣١ ھ ص ١٢٧\n<br>\nقدیم کتب نزھة الخواطر وغیرہ میں مولانا سیف الرحمن کابلی کے نام کے ساتھ\'\' ٹونکی\'\' نسبت بھی لکھی گئی ہے ،اس کی اہم ترین وجہ آپ کا طویل قیامِ ٹونک ہے ،نیز آپ کا نکاح بھی قاضی ٹونک دوست محمد بن محمد امیر کابلی کی صاحبزادی سے ہوا تھا ! قاضی صاحب، حضرت شاہ اسحاق دہلوی کے مشہور شاگرد مولاناسیّد عالَم علی نگینوئی کے حدیث میں شاگرد تھے ،اسی وجہ سے مولانا سیف الرحمن کے نام کے ساتھ ٹونک کی نسبت بھی عربی کتب میں منقول ہے ! ١ \n<br>\nمولانا سیف الرحمن کابلی نے ابتدائی تعلیم دو آبہ ہی میں حاصل کی، متوسط کتب معقولات تک آپ نے دوآبہ کے مشہور عالم مولانا صریح اللہ ٢ اور مولانا فضل ِقادر ترنگ زئی ٣ سے حاصل کیں متوسط تعلیم کے بعد آپ نے ہندوستان کا سفر اختیار کیا، اس زمانے میں فنون کی اعلیٰ تدریس میں مولانا لطف اللہ علی گڑھی کا طوطی ہرطرف بول رہا تھا ،آپ مولانا کے درس میں حاضر ہوئے اور کئی سال آپ کی خدمت میں رہے۔ انڈیا آفس لندن کی رپورٹ میں آپ کے علی گڑھ میں مولانا لطف اللہ صاحب سے تلمذ کا اثبات ہے ٤ جبکہ مولانا عبدالحی لکھنوی نے نزھة الخواطر میں اس تلمذ کے بارے میں لَازَمَہُ مُدَّةً کا لفظ لکھاہے ٥ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ مولانا لطف اللہ کی خدمت میں کئی سال رہے اس رپورٹ میں آپ کا حضرت گنگوہی سے پڑھنا نہیں لکھا چونکہ یہ قیام ایک سال کا تھا ممکن ہے رپورٹر نے اسے لاعلمی میں غیر اہم سمجھ لیا ہو ،بہرحال یہ پڑھنا ثابت ہے !\n<br>\nآپ اجازت ِ حدیث کی جو سند دیتے تھے اس میں حضرت گنگوہی سے تلمذ کا یوں تذکرہ ہے : \n<br>\n ١ نزھة الخواطرمرتبہ مولانا عبدالحی لکھنوی، مطبع دار ابن حزم بیروت ١٩٩٩ء ج ٨ ص ١٢٤٠\n<br>\n٢ مشاہیر علماء سرحد ١٨٥٧ تا ١٩٧٧ء ، تحقیقی مقالہ برائے پی ایچ ڈی ڈاکٹر حافظ قاری بریگیڈئیر فیوض الرحمن جدون ، جامع مسجد فرقان ملیر کینٹ کراچی ص ١٩٨ ٣ مشاہیر علماء سرحد ص ١٤٠\n<br>\n ٤ تحریک شیخ الہند انگریز سرکار کی زبان میں ریشمی خطوط سازش کیس ، مرتبہ مولانا سید محمد میاں ناشر مکتبہ محمودیہ بیت الحمد جامعہ مدنیہ کریم پارک طبع دوم ١٩٧٨ء ص ٤٧٣ ٥ نزھة الخواطر ج ٨ ص ١٢٤٠\n<br>\nوانی حصلت القراء ة و السماع و الاجازة و الخلافة للصحاح المذکورة عن الشیخ المفسر المحدث الفقیہ الحنفی مولانا رشید احمد السھارنفوری الجنجوھی ١ \n<br>\n بہرحال فنون کی تکمیل کے بعد آپ حدیث پڑھنے کے لیے فقیہ النفس مجاہد ملت حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کے دربار میں حاضر ہوئے جہاں سے آپ نے علوم ِحدیث کے ساتھ ساتھ جذبۂ حریت کی تعلیم بھی حاصل کی ! \n<br>\nحضرت گنگوہی کے ہاں آپ نے کس زمانے میں تعلیم حاصل کی اس کی صراحت تو نہیں ملتی البتہ شیخ سلیمان بن عبدالرحمن الصنیع نے اجازت ِحدیث کے وقت جو آپ سے حالات لکھوائے تھے اس میں یہ جملہ درج ہے مکث فی طلب العلم خمسا وثلاثین سنة ٢ اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ دورۂ حدیث کے وقت آپ کی عمر ٣٥ سال تھی، اب آپ کی ولادت کا سال ١٢٦٧ھ /١٨٥١ء تسلیم کیا جائے تو آپ کی فراغت کا زمانہ ١٣٠٢ھ /١٨٨٥ء بنتا ہے ، واللہ اعلم ! \n<br>\nحضرت گنگوہی کے ہاں سندِ حدیث دینے کا لازمی معمول تھا ، ابتدائی دور میں آپ خود سند تحریر فرماکر عنایت فرماتے، بعد میں جب طلبہ کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی تو سند حدیث طبع کروالی گئی تھی جس پر آپ تاریخ ،مہر اور دستخط ثبت فرمادیتے تھے !\n<br>\nمطبوعہ سند میں صحاح ستہ پڑھنے کا تذکرہ طبع شدہ ہے، جبکہ جو سند آپ خود تحریر فرماتے اس میں طالب علم کی تعلیم کے اعتبار سے کتب تحریر فرماتے ،ہمارے پیشِ نظر رمضان ١٣٠٥ھ میں تحریر کردہ ایک سند ہے، جسے تبرکاً یہاں درج کیا جارہا ہے تاکہ حضرت گنگوہی کے سند ِ حدیث تحریر کرنے کے انداز سے واقفیت ہوسکے، امید ہے کہ اس سے ملتی جلتی سند آپ نے مولانا سیف الرحمن کابلی کو بھی مرحمت فرمائی ہوگی ،سند یہ ہے :\n<br>\n ١ الاجازاة الہندیة و تراجم علمائھا ، مرتبہ الشیخ عمر بن محمد سراج حبیب اللّٰہ۔ مطبع مکتبہ نظام یعقوبی بحرین س ط ٢٠٢٢ء ج٢ ص ١٠٠٧ ٢ الثمرالینیع فی اجازات الصنیع ص ٥٠\n<br>\nبسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم\n<br>\nالحمد للّٰہ رب العٰلمین والصلوٰة والسلام علی خیرخلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین اما بعد ! \n<br>\nفیقول العبد المفتقر الی رحمة ربہ الصمد الاحقر الاضعف رشید احمد عفی اللّٰہ عن زلاتہ ان المولوی عبدالحی ١ قد قرأ علیّ واستمع عندی الصحیحین للشیخین و سنن ابی داود السجستانی وسنن النسائی بتمامھا من اولھا وآخرھا۔ فاجاز بہ الراویة عنی بما قرأ وما غیر من مسنداتی بشرط التقوٰی والتقیظ والامعان فی اللفظ والمعانی ۔\n<br>\nو اوصیہ باتباع سنن سیّد الاولین والآخرین واجتناب البدع ومخترعات المضلین وان یوتر الدار الاخرٰی علی ظلم الدار الدنیا وان یشتغل بقیة عمرہ بتدریس العلوم المرضیة الدینیة ویحترز من ان یضیع انفاسہ فی ظلمات الفلسفة الدینیة ۔ نجانا اللّٰہ منھا وادعوا اللّٰہ ان یھدینی وایاہ الی ما یرضاہ والحمد للّٰہ رب العلمین وصلی اللّٰہ علی سیدنا و مولانا محمد وآلہ وصحبہ و اتباعہ اجمعین ۔\n<br>\nرقمتُہ بیدی الخامس العشرین من رمضان المنسلک فی ١٣٠٥ ھ الف وثلٰث مائة وخمس من الھجرة علی صاحبھا الوف التسلیمات والتحیة ۔\n<br>\nرشید احمد ٢ \n<br>\nحضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کے علاوہ آپ کو کبار محدثین ،شیخ حسین بن محسن الانصاری اور شیخ سیّد محمد سنوسی رحمہما اللہ سے بھی اجازتِ حدیث حاصل تھی ۔شیخ سلمان بن عبدالرحمن الصنیع نے آپ سے پوچھ کر جو حالات لکھے تھے اس میں ان دونوں اجازتوں کا یوں تذکرہ ہے : <br>\n ١ اس میں مراد مولانا عبدالحی چاٹگامی ہیں ٢ سیرت فخر العارفین سوانح حضرت سیّد شاہ محمد عبدالحی قدس سرہ تالیف مولانا حکیم سیّد سکندر شاہ ، مطبع تصوف فاؤنڈیشن ص ٣٤ \n<br>\nوفی حَجَّة الاوّل اجازہ السیّد محمد السنوسی وفی الھند کتب لہ بالاجازة العامة الشیخ حسین بن محسن الانصاری باجازہ حوت اثبات کثیرہ ۔ ١\n<br>\nتدریس : \n<br>\nتذکروں کے عمومی انداز کے مطابق آپ نے تدریس کی ابتداء ٹونک سے کی، لیکن انڈیا آفس لندن کی رپورٹ کے مطابق آپ ٹونک سے قبل شاہ جہاں پور کے مدرسہ اسلامیہ میں ہیڈ ماسٹر (صدر مدرس) رہے ، رپورٹ میں درج ہے : \n<br>\n\'\'علی گڑھ میں مولوی لطف اللہ سے مذہبی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سیف الرحمن بالآخر شاہجہانپور کے اسلامیہ سکول کا ہیڈ ماسٹر بن گیا اس کے بعد وہ ریاست ٹونک پہنچا \'\' ٢\n<br>\nآپ کے مزار واقع متھرانو بٹگرام دوآبہ ضلع چار سدہ میں آپ کی قبر کے گرد ایک تعارفی کتبہ نصب ہے، اس کے مطابق آپ نے پانی پت میں بھی تدریس کی ہے ، کتبہ کی عبارت یہ ہے : \n<br>\n\'\'تمام علوم درسی کی تکمیل کے بعد مولانا سیف الرحمن صاحب نے اپنی تمام تر توجہ درس و تدریس کی طرف مبذول فرمائی، ہند کے بعض مشہور مقامات مثلاً ریاست ٹونک وشاہ جہان پور اور پانی پت میں آپ نے مدرس کی حیثیت سے کام کیا، آخر میں فتح پوری دہلی میں آپ کو صدر مدرس کی حیثیت سے اپنے فرائض سر انجام دینے کا موقع ملا\'\' \n<br>\nاس عبارت سے معلوم ہوا کہ آپ کے تدریسی مقامات دہلی سے قبل تین ہیں ؛ شاہ جہان پور، پانی پت اور ٹونک، ان میں ٹونک تو بہرحال مؤخر ہے البتہ شاہ جہان پور یا پانی پت میں کس کا زمانہ مقدم ہے اور کس کا موخر ہے، یہ بات قابل ِتحقیق ہے۔ انڈیاآفس لندن کی رپورٹ کے مطابق آپ شا جہان پور کے بعد ٹونک آئے تھے، اس عبارت کو مرتب مانا جائے تو قیام پانی پت مقدم معلوم ہوتا ہے واللہ اعلم !\n<br>\n ١ الثمرالینیع فی اجازات الصنیع (مخطوطہ) ص ٥٠٣ ٢ تحریک شیخ الہند ص ٣٦٨ \n<br>\n قیام ٹونک :\n<br>\nمولانا سیف الرحمن کابلی ٹونک کب آئے اور کس مسجد میں درس کا سلسلہ شروع کیا اس کی وضاحت تو نہ مل سکی، البتہ جب ١٣١٧ھ/ ١٨٩٩ء میں قافلہ مسجد میں مدرسہ ناصریہ کی بنیاد رکھی گئی تو آپ کی علمی شہرت ریاست ٹونک میں مُسلَّم تھی، اسی وجہ سے آپ کو مدرسہ ناصریہ کا صدر مدرس مقرر کیا گیا ! مولانا ساجد حسن شاہ ٹونکی بن مولانا سعد حسن خان ٹونکی اپنے مقالے میں مدرسہ ناصریہ کا تعارف کرواتے ہوئے لکھتے ہیں : ١ \n<br>\nمدرسہ ناصریہ : یہ مدرسہ صاحبزادہ عبدالرحیم خان کی سرپرستی میں ١٣١٧ھ/ ١٨٩٩ء میں قائم ہوا ! یہ ٹونک کے دو ابتدائی مدارس میں سے ایک تھا، (اس سے پہلے علماء مساجد میں انفرادی درس قائم کیے ہوتے تھے،ناقل) جہاں سرحد و افغانستان تک سے طلبہ اپنے علم کی پیاس بجھانے کے لیے آیا کرتے تھے .............. مولانا سیف الرحمن کابلی صدر مدرس اور مولانا حیدر حسن خان مدرس دوم مقرر ہوئے، اولاً اس مدرسہ کا قیام جامع مسجد قافلہ میں ہوا ! ٢ \n<br>\nٹونک میں مدرسہ ناصریہ کے مدمقابل مدرسہ برکاتیہ تھا جہاں مولانا برکات احمد ٹونکی درس دیتے تھے، مولانا برکات احمد ٹونکی کی علمی وجاہت پوری ریاست میں تھی، اس ماحول میں صاحبزادہ عبدالرحیم ٹونکی کی سرپرستی اور مولانا سیف الرحمن کابلی کی صدر مدرسی نے مدرسہ ناصریہ کی شہرت کو مدرسہ برکاتیہ کے مقابلے میں بام عروج تک پہنچا یا ۔ مولانا سیف الرحمن کابلی کے زمانہ صدارت میں ہی مولانا خان بہادر مارتونگی (صدر المدرسین دارالعلوم حقانیہ سیدو شریف سوات)بھی مدرسہ ناصریہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں ، مولانا مارتونگی نے اس مدرسہ میں اپنے استفادہ وقیام کوتفصیلاً بیان کیا ہے ذیل میں ہم صرف ان حضرات کے نام لکھ رہے ہیں جو مدرسہ ناصریہ میں مولانا سیف الرحمن کابلی کی زیر صدارت تدریس میں مشغول تھے ! \n<br>\n ١ طوالت کے خوف سے ہم نے چند جملے مدرسہ اور مولانا سیف الرحمن کابلی سے متعلق اس اقتباس میں نقل کیے ہیں \n<br>\n٢ علماء ٹونک کی دینی وعلمی خدمات کا تحقیقی مطالعہ ،خلاصہ برائے مقالہ پی ایچ ڈی، مقالہ نگار ساجد حسن خان شعبہ تقابلِ ادیان وثقافت اسلامیہ سندھ یونیورسٹی جام شور ٢٠٠٣ء ، ص ١١١ \n<br>\n\'\'مولانا حیدر حسن خان ٹونکی، مدرس دوم۔ مولانا کلن (نحوی) ۔مولانا محمد مصطفی۔ مولانا حسب رضا \'\' ١ \n<br>\nقیام دہلی :\n<br>\nمولانا سیف الرحمن کابلی ٹونک سے مدرسہ عالیہ فتح پوری دہلی تشریف لے آئے آپ کی فتح پوری آمد کا پس منظر مولانا خان بہادر مارتونگی یوں بیان کرتے ہیں : \n<br>\n\'\'ابھی ہم ٹونک میں تھے کہ حضرت مولانا سیف الرحمن صاحب کو مدرسہ فتح پوری دہلی کے اراکین نے سوروپیہ مشاہرہ پر طلب کیا، ٹونک میں آپ کا مشاہرہ چالیس روپے تھا، مولانا حکیم برکات احمد صاحب چونکہ نواب ٹونک کے خصوصی طبیب تھے اس وجہ سے ان کا مشاہرہ تین سوروپے ماہوار تھا\'\' ٢ \n<br>\nتھوڑ آگے چل کر لکھتے ہیں : \n<br>\n\'\'یہ ١٣٣٠ھ کی بات ہے \'\' ٣ \n<br>\nمناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مدرسہ عالیہ فتح پوری اور اس کی ترقی میں آپ کے کردار پر مختصر روشنی ڈالی جائے : \n<br>\nجامع مسجد ومدرسہ عالیہ فتح پوری دہلی : \n<br>\nچاندنی چوک کے مغربی کنارہ پر ١٠٦٠ھ / ١٦٥٠ء میں شاہ جہان کی اہلیہ صاحب بیگم نے یہ مسجد بنوائی، یہ مسجد اپنے اندر بہت سی تاریخ سمیٹے ہوئے تھی ، اس کا مدرسہ مختلف ادوار میں بنتا بگڑتا رہا ہے ١٣٣٠ھ کے قریب اس کی دوبارہ نشاة ہوئی اور قرآن مجید ودرسِ نظامی کی تعلیم کا اجر ہوا، ١٣٣١ھ تک مسجد کی حالت کافی بہتر ہوگئی تھی واقعات دار الحکومت دہلی کے مصنف بشیر الدین احمد دہلوی لکھتے ہیں : \n<br>\n ١ مارتونگ بابا کی کہانی خود اُن کی زبانی مؤلف فضل محمود رو خان ،اشاعت ِثانی ٢٠٠٧ء ملنے کا پتہ شعیب سنز پبلشر جی ٹی روڈ مینگورہ سوات ص ٢٠،١٩ \n<br>\n٢ مارتونگ بابا کی کہانی خود اُن کی زبانی ص ٢٠ ٣ مارتونگ بابا کی کہانی خود اُن کی زبانی ص٢١ \n<br>\n\'\'١٣٣١ھ میں تمام صحن میں چوکے بچھادیے گئے اور وضو کی نالیاں پختہ بنائی گئیں مسجد کے اندر والی ساری دکانیں کرایہ داروں سے خالی کراکے اس میں لڑکے قرآن شریف پڑھتے ہیں \'\' ١ \n<br>\nیہ مدرسہ عالیہ فتح پوری کا وہی دور ہے جب ٹونک سے تشریف لاکر مولانا سیف الرحمن کابلی نے اس مدرسہ کی صدارت قبول کی تھی اور مدرسہ کو ہندوستان کے اہم مدارس میں شامل کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا ! ذیل میں ہم مولانا خان بہادر مارتونگی کے منتخب جملے نقل کر رہے ہیں جن سے اندازہ ہوگا کہ آپ کا مدرسہ عالیہ فتح پوری کی شہرت کو بام عروج تک پہنچانے میں کتنا اہم کردار تھا : \n<br>\n٭ (١٣٣٠ھ) یہ وہ زمانہ تھا کہ فنون کی اونچی کتابیں پڑھنے کی غرض سے علمی طبقوں کا رجحان مدرسہ عالیہ رامپور کی طرف بہت زیادہ تھا ،ہمارے حضرت مولانا سیف الرحمن صاحب کی تجویز تھی کہ فتح پوری میں ایک ایسا جید معتمد، معمر عالم لایا جائے جو طلبہ کا مرجع ہو اور مدرسہ کی طرف رامپور کی طرح طلبہ کا رجحان پیدا ہوسکے ،اس تجویز کی بنا پر غور غشتی کے مشہور عالم مولانا قطب الدین صاحب کو پچاس روپے ماہوا ر پر دعوت دی گئی ! !\n<br>\n٭ ابھی یہاں موصوف کو ایک سال ہی گزرا تھا کہ مدرسہ کے اطراف واَکناف سے یہاں تک کہ رامپور سے بھی طلبہ کھنچنے لگے اور فتح پوری مدرسہ علمی اور علوم وفنون کے لحاظ سے سارے ہندوستان کا مرکز بن گیا ! !\n<br>\n٭ مولانا قطب الدین صاحب کے مدرسہ سے رخصت کے بعد آپ نے مشہور اہلِ علم مولانا پردل قندھاری صدر مدرس مدرسہ نعمانیہ دہلی جو آپ کے ہم سبق بھی تھے ،کو فتح پوری لے آئے، مدرسہ عالیہ فتح پوری کا یہ ابتلائی دور تھا اس لیے اساتذہ کا یہاں رکنا بظاہر مشکل تھا اس لیے مولانا پر دل قندھاری کے جانے کے بعد مولانا کابلی نے یکے بعد دیگرے مولانا غلام نبی گلاؤٹھی اور علاقہ چھچھ کے مولانا\n<br>\n ١ واقعات دار الحکومت دہلی، مصنف بشیر الدین احمد دہلوی، ١٩١٩ء (میں ) شمسی مشین پریس آگرہ میں محمد بشیر الدین خان ومحمد شمس الدین خان کے اہتمام سے چھپی حصہ دوم ص ٢٤٥ \n<br>\nقاضی پوری صاحب کو مدرسہ میں لائے، جب یہ دونوں ہی فتح پوری میں خدمات انجام نہ دے سکے تو مولانا کابلی کی درخواست پر مولانا قطب الدین صاحب دوبارہ تشریف لے آئے ! ١ \n<br>\nغرض مولانا سیف الرحمن کابلی نے مدرسہ عالیہ فتح پوری کے معیار کو بلند رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی اور قدرت نے آپ کو بہترین افراد کی دستیابی کے ساتھ ساتھ وسائل بھی مہیا فرمائے مدرسہ کے اس دور میں اساتذہ کی تنخواہیں تو مسجد کے ارد گرد کی دکانوں کے کرایوں سے دی جاتی تھیں جبکہ طلبہ کا کھانا اہلِ علاقہ دیتے تھے ! واقعات دارالحکومت دہلی کے مصنف اُس دور کے مدرسہ عالیہ پر روشنی ڈالتے ہیں : \n<br>\nمدرسہ عربیہ : اس میں چار مدرس فارسی اور ایک مدرس قرآن ،کل چھ مدرس ہیں ، ڈھائی سوروپے ماہانہ کا خرچ ہے، مذہبی تعلیم انتہائی درجے ، حدیث شریف اور فقہ معقول ومنقول کی ہوتی ہے، بیرون جات کے طلبہ کثرت سے ہیں ، ان کے روٹی کپڑے کا کوئی سہارا نہیں ، گھر گھر سے روٹیاں مقرر ہیں ! ٢ مولانا سیف الرحمن کابلی مدرسہ عالیہ فتح پوری میں شعبان ١٣٣٣ھ/ جون ١٩١٥ء تک تعلیمی وتحریکی سرگرمیوں میں مصروف رہے ! \n<br>\n(جاری ہے)\n<br>\n ١ منتخب مواد اَز مارتونگ بابا کی کہانی خود اُن کی زبانی ٢ واقعات دار الحکومت دہلی، جلد دوم ص ٣٤٧ \n<br>\n٭٭٭\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n جامعہ مدنیہ جدید کے فوری توجہ طلب ترجیحی اُمور\n<br>\n٭٭٭\n<br>\n(١) مسجد حامد کی تکمیل\n<br>\n(٢) طلباء کے لیے دارُالاقامہ (ہوسٹل) اور دَرسگاہیں \n<br>\n(٣) کتب خانہ اور کتابیں \n<br>\n(٤) پانی کی ٹنکی\n<br>\nثواب جاریہ کے لیے سبقت لینے والوں کے لیے زیادہ اجر ہے ۔ (ادارہ)\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nاہم اعلان \n<br>\n ٭٭٭\n<br>\n شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب نور اللہ مرقدہ کی شخصیت و خدمات پر انوار مدینہ کی ایک خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں معاصرین ، تلامذہ ، متعلقین ومحبین حضرات کے تاثرات بھی شامل ہوں گے ! جو حضرات اپنے مضامین و مقالات ، تاثرات ، تعزیتی پیغامات یا منظوم کلام ارسال فرمانا چاہیں ، جلد از جلد درج ذیل پتہ ، ای میل یا واٹس ایپ نمبر پر ارسال فرما دیں \n<br>\nعلاوہ ازیں اگر کسی کے پاس شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب کے ہاتھ کا لکھا ہوا مکتوب یا تحریر موجود ہو تو اسے بھی ارسال فرما دیں !\n<br>\nجو حضرات اپنے تاثرات زبانی بتانا چاہیں ، وہ اپنے نام ، پتے اور مکمل تعارف کے ساتھ درج ذیل نمبر پر صوتی پیغام (وائس میسج ) بھی ارسال فرما سکتے ہیں \n<br>\nاگر مضمون ، مقالہ ، مکتوب یا تاثرات کمپوز شدہ ہوں تو ان کی کمپیوٹر فائل بھی ای میل یا واٹس ایپ فرمادیں تو نوازش اور ادارے کے ساتھ دوہرا تعاون ہوگا \n<br>\nرابطہ : ڈاکٹر محمد امجدغفرلہ\n<br>\nجامعہ مدنیہ جدید محمد آباد ١٩ کلومیٹر شارع رائیونڈ لاہور\n<br>\n jmj786_56@hotmail.com\n<br>\ndramjad71@gmail.com\n<br>\n923334249302+ \n<br>\n923044587751+\n<br>\n٭٭٭\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nاخبار الجامعہ\n<br>\n( جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد رائیونڈ روڈ لاہور )\n<br>\n٭٭٭\n<br>\n٭ ٢٧جولائی کو محترم مسعود صاحب بحریہ ٹاؤن لاہور سے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور جامعہ کے نائب مہتمم مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی اور رات کا قیام خانقاہ حامدیہ میں فرمایا۔\n<br>\nاسی روز جناب غلام عباس صاحب لاہور سے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی ،خانقاہ حامدیہ میں کھانا تناول فرمایا بعد ازاں واپس تشریف لے گئے۔\n<br>\n٭ ٢٧جولائی کو لکی مروت سے حاجی امان اللہ صاحب کے بیٹے ماسٹر عبدالرشید صاحب جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی ،بعد ازاں واپس تشریف لے گئے ۔\n<br>\n٭ ٧ اگست کوپاکستان کے معروف تاجر و چیئرمین پشاور زلمی جاوید آفریدی صاحب، حاجی رضا آفریدی صاحب، فیصل آفریدی صاحب اور خالد آفریدی صاحب کی والدہ محترمہ کی وفات پر مولانا عکاشہ میاں صاحب ان کے گھر تعزیت کی غرض سے تشریف لے گئے ۔\n<br>\n٭ ٧ اگست کو جامعہ عبداللہ بن مسعو د کے مہتمم وشیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب مع رفقاء جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی اور باہمی تبادلہ خیال کے ساتھ چائے نوش فرمائی ،کچھ دیر قیام کے بعد واپس تشریف لے گئے ،اللہ تعالیٰ اس محبت و تعلق کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے اور دینی خدمات میں برکت عطافرمائے، آمین !\n<br>\n٭ ١٦ اگست کو فاضلِ جامعہ مولانا کلیم اللہ صاحب نقشبندی کوئٹہ سے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی ،رات کا قیام خانقاہ حامدیہ میں فرمایا بعد ازاں واپس تشریف لے گئے۔ \n<br>\nاسی روز سیالکوٹ سے فاضلِ جامعہ مولانا عامر علی صاحب جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے ،مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی ، خانقاہ حامدیہ میں رات کا قیام و طعام فرمایا بعد ازاں واپس تشریف لے گئے۔\n<br>\n٭ ١٧ اگست کو ملائیشیا کے معروف عالمِ دین شیخ ادریس صاحب حفظہ اللہ اپنے وفد کے ہمراہ جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے ، جامعہ پہنچنے پر معزز مہمانوں کا استقبال کیا گیا اس موقع پر جامعہ مدنیہ جدید کے نائب مہتمم مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات ہوئی اور جامعہ کے تعلیمی و انتظامی امور کے حوالے سے باہمی گفتگو ہوئی، بعد ازاں مہمانوں نے جامعہ میں ناشتہ تناول فرمایا اور کچھ دیر قیام کے بعد دعاؤں اور نیک تمناؤں کے ساتھ واپس تشریف لے گئے ،جامعہ مدنیہ جدید کے لیے ان کی آمد باعث مسرت اور باعث خیر و برکت رہی۔\n<br>\n٭ ١٨ اگست کو ملتان سے جنرل سیکرٹری جمعیة علماء اسلام پنجاب ایڈووکیٹ نور خان ہانس صاحب جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی ، خانقاہ حامدیہ میں کھانا تناول فرمایا۔\n<br>\n٭ ١٩ اگست کوجمعیة علماء اسلام پنجاب کے جنرل سیکرٹری حافظ نصیر احمد احرار صاحب جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی، خانقاہ حامدیہ میں چائے نوش کی۔\n<br>\n٭ ١٩ اگست کو جمعیة علماء اسلام تحصیل رائیونڈ کے امیر مفتی محمد شہزاد صاحب مع وفد جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی اور جمعیة علماء اسلام تحصیل رائیونڈ کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔\n<br>\n٭ اسی روز مولانا عکاشہ میاں صاحب مع رفقاء جمعیة علماء اسلام تحصیل قصور کے جنرل سیکرٹری مفتی زبیر احمد صاحب سبحانی کی والدہ کی تعزیت کے لیے ان کی رہائش گاہ راجہ جنگ قصور تشریف لے گئے اور ان کی والدہ ماجدہ کے انتقال پر تعزیت و اظہارِ افسوس کیا ۔\n<br>\n٭ ٢٠ اگست کو جناب فیصل بلال صاحب حسینی گوجرانوالہ سے جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے اور مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی ، خانقاہِ حامدیہ میں کھانا تناول فرمایا بعد ازاں تشریف لے گئے\n<br>\n٭ ٢٥ اگست کو مولانا عکاشہ میاں صاحب ، جامعہ منظور الاسلامیہ کینٹ کے مہتمم حضرت مولانا اسد اللہ صاحب فاروقی کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی غرض سے تشریف لے گئے جہاں آپ کی ملاقات حضرت مولانا پیر عبدالقدوس صاحب نقشبندی مدظلہم ، صاحبزادہ مولانا محمود الحسن صاحب نقشبندی ، جامعہ اشرفیہ کے نائب مہتمم حضرت مولانا زبیر حسن صاحب اور حضرت مولانا عبدالخبیر آزاد صاحب وغیرہ سے ملاقات ہوئی ۔\n<br>\n٭ ٢٧ اگست کو حضرت خواجہ خلیل احمد صاحب مدظلہم جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے، مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی اور خانقاہ حامدیہ میں چائے نوش فرمائی اور مختلف امور پر گفتگو فرمائی ۔\n<br>\n٭٭٭\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nوفیات\n<br>\n٭٭٭\n<br>\n٭ ٥ اگست کوپاکستان کے معروف تاجر و چیئرمین پشاور زلمی جناب جاوید آفریدی صاحب، حاجی رضا آفریدی صاحب، فیصل آفریدی صاحب اور خالد آفریدی صاحب کی والدہ محترمہ انتقال فرما گئیں \n<br>\n٭ ١٨ اگست کو جمعیة علماء اسلام تحصیل قصور کے جنرل سیکرٹری مفتی زبیر احمد سبحانی کی والدہ صاحبہ مختصر علالت کے بعد قصور میں انتقال فرماگئیں ۔\n<br>\n٭ ٢٠ اگست کو جناب اختر الدین صاحب طویل علالت کے بعد لاہور میں انتقال فرماگئے ، آپ جامعہ مدنیہ جدید کے ناظم ڈاکٹر محمد امجد صاحب کے خالو اسلام الدین صاحب مرحوم (سابق ایم پی اے ، پی پی پی) اور الحاج حافظ جلال الدین اکبر شہید کے چھوٹے بھائی تھے ۔\n<br>\n٭ ٢٤ اگست کو جنرل سیکرٹری جمعیة علماء اسلام ضلع قصور جناب مسعود الحسن جمال صاحب و مولانا حافظ مسرور الحسن ضیاء صاحب کی والدہ صاحبہ طویل علالت کے بعد پتوکی میں انتقال فرماگئیں ۔\n<br>\n٭ ٢٥ اگست کو جامعہ منظور الاسلامیہ لاہور کینٹ کے مہتمم حضرت مولانا پیر اسد اللہ فاروق صاحب مختصر علالت کے بعد انتقال فرماگئے،آپ حضرت مولانا پیر سیف اللہ خالد صاحب نقشبندی کے فرزند تھے\n<br>\nاِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ\n<br>\nاللہ تعالیٰ جملہ مرحومین کی مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق نصیب ہو، آمین۔ جامعہ مدنیہ جدید اور خانقاہِ حامدیہ میں مرحومین کے لیے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت کرائی گئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ، آمین !\n<br>\n٭٭٭\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\n\n<br>\nجامعہ مدنیہ جدید کے واجبی ماہانہ تخمینی اخراجات \n<br>\n٭٭٭\n<br>\nاہلِ اسلام جانتے ہیں کہ دین اسلام کی اشاعت میں دینی مدارس کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ان ہی مدارس میں انبیاء کرام کے وارث تیار ہوتے ہیں ان کی ضروریات کا پورا کرنا تمام مسلمانوں پر لازم ہے ان ہی مدارس میں شارع رائیونڈ پر واقع \'\'جامعہ مدنیہ جدید\'\' ایک بہت بڑی دینی درسگاہ ہے جس کا فیض اندرون و بیرون ملک ہر جگہ عام ہے لہٰذا تمام اہل ثروت و مخلص مسلمانوں سے جامعہ کے ساتھ بھرپور تعاون کی اپیل کی جاتی ہے \n<br>\n٭٭٭\n<br>\nمطبخ 32,50,000 \n<br>\nتنخواہیں 16,80,000\n<br>\nبل بجلی 3,15,000\n<br>\nتعمیراتی بحالیات 2,50,000\n<br>\nمتفرق اخراجات 2,00,000\n<br>\nبل گیس 1,35,000\n<br>\nنشر واشاعت 60,000\n<br>\nکتب برائے طلباء 40,000\n<br>\nکل 59,30,000\n<br>\n٭٭٭\n<br>\nنوٹ : زیر تعمیر مسجد حامد ، دارالقرآن ، دارالحدیث ، دارالاقامہ ، کتب خانہ اساتذہ کی رہائشگاہیں اور جامعہ کے دیگر اہم تعمیراتی اور ترقیاتی اخراجات کی مد میں چندے کی آمد نہ ہونے کے برابر ہے جس پر اہلِ خیر حضرات کی خصوصی توجہ اور دعائیں درکار ہیں !\n<br>\nانتظامیہ : جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد ١٩ کلو میٹر شارع رائیونڈ لاہور \n<br>\n03334249302 - 03234249302\n<br>\n٭٭٭\n<br>\n\n

Have a question?

Email us your queries on jamiamadniajadeed@gmail.com you will be answered in less than 24 hours or Give us a call directly at +92 333 4249302, +92 333 4249 301.