ماہنامہ انوار مدينہ
جلد : ٣٣ ربیع الاوّل ١٤٤٧ھ / ستمبر ٢٠٢٥ء شمارہ : ٩
٭٭٭
بیاد : قطب الاقطاب عالم ربانی محدث کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں
فیضانِ نظر : محمود الملّة و الدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب
٭٭٭
مولانا نعیم الدین صاحب ( مدیر اعلیٰ )
مولانا محمد عابد صاحب ( نائب مدیر)
مولانا عکاشہ میاں صاحب(مدیر مسئول)
ڈاکٹر محمد امجد صاحب (مدیر منتظم)
٭٭٭
بدلِ اشتراک
٭٭٭
پاکستان فی پرچہ 50 روپے ....... سالانہ 600 روپے
سعودی عرب،متحدہ عرب امارات..... سالانہ 90 ریال
برطانیہ،افریقہ ........................ سالانہ 20 ڈالر
امریکہ .................................. سالانہ 30 ڈالر
جامعہ مدنیہ جدید کی ویب سائٹ اور ای میل ایڈ ریس
٭٭٭
www.jamiamadniajadeed.org
jmj786_56@hotmail.com
Whatsapp : +92 333 4249302
ترسیل ِزر و رابطہ کے لیے
٭٭٭
'' جامعہ مدنیہ جدید'' محمد آباد19 کلو میٹر رائیونڈ روڈ لاہور
موبائل : 923354249302+
موبائل : 923334249301+
موبائل : 923234250027+
جازکیش نمبر : 923044587751+
دارُالافتاء کا ای میل ایڈ ریس اور وٹس ایپ نمبر
٭٭٭
darulifta@jamiamadniajadeed.org
Whatsapp : +92 321 4790560
مولاناسیّد رشید میاں صاحب طابع وناشر نے شرکت پرنٹنگ پریس لاہور سے چھپواکر دفتر ماہنامہ ''انوارِ مدینہ '' نزد جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور سے شائع کیا
اس شمارے میں
٭٭٭
حرفِ آغاز حضرت مولانا نعیم الدین صاحب ٤
درسِ حدیث حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ٦
سیرت ِ مبارکہ ... عرب قبلِ اسلام اپنے آئینے میں حضرت اقدس مولانا سید محمد میاں صاحب ١٠
مقالاتِ حامدیہ ... دیانت ،محنت اور کسب ِ حلال حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب ٢٢
بنیادی مذہبی تعلیم حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب ٣٣
ربیع الاوّل اور عشق ِرسول صلی اللہ عليہ وسلم کے تقاضے شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ٤٥
ربیع الاوّل ، اُسوہ ٔ رسول اور ہمارا طرزِعمل مولانا نورالحق فیض صاحب زوبی ٥١
لاکھوں سلام حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحب ٥٤
رحمن کے خاص بندے قسط : ٣٤ حضرت مولانا مفتی محمد سلمان صاحب منصورپوری ٥٥
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی قسط : ٢ مولانا محمد معاذ صاحب ٥٨
اخبار الجامعہ ٦٤
اہم اعلان ٦٥
حرف آغاز
٭٭٭
نَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْدُ !
وطن عزیز پاکستان ان دنوں سیلاب کی زد میں ہے شمالی علاقہ جات کے بعد پنجاب کے مختلف اضلاع و دیہات زیرِ آب ہیں ابھی کے پی کے کی طرف سے حوصلہ افزا خبریں نہیں تھیں کہ پڑوسی ملک نے دریائے راوی و ستلج وغیرہ میں پانی کی کثیر مقدار چھوڑ دی جس کی وجہ سے سینکڑوں دیہات سیلاب میں بہہ گئے ،جانی و مالی نقصان کے ساتھ ساتھ مویشی جانوروں اور فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے تا دم ِتحریر کوئی خوش کن خبریں نہیں ہیں ،اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ وطن عزیز کی حفاظت فرمائے۔
١٩٧٣ء میں بھی وطن عزیز بالخصوص پنجاب میں سیلاب شدت اختیار کر گیا تھا تو حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں صاحب رحمہ اللہ نے سیلابی صورتِ حال پر اس وقت انوار مدینہ کی رجب ١٣٩٣ھ/ اگست ١٩٧٣ء کی اشاعت میں جو اداریہ تحریر فرمایا تھا آج بھی بعینہ وہی صورتحال ہے اس لیے حضرت کے اس ادارتی شذرہ کو ہم قند ِمکرر کے طور پر اپنے اداریہ کی زینت بنا رہے ہیں ، ملاحظہ فرمائیں :
آج پورے پنجاب میں سیلاب سے جو تباہی آئی ہے اس پر ہر دل غمگین اور ہر آنکھ اشکبار ہے، پنجاب کا وسطی اور جنوبی علاقہ زیرِ آب آیا ہوا ہے پانی کی کثرت سے دریاؤں کا پانی آپس میں ملنے لگا ! پانی کی آمد کی رفتار تیز اورتخریبی تھی اور جانے کی رفتار سست کہ طوفانِ نوح کی ادنیٰ جھلک ہر دیدۂ عبرت کو نظر آگئی ، یہ حال چند انچ بارش سے ہی ہو گیا جو ہمارے علاقہ میں اور پہاڑوں پر ہوئی والعیاذ باللّٰہ
ہزاروں گاؤں سیلاب سے متاثر یا تباہ ہوئے ! غلہ، فصلیں اور انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور ہر قسم کا مالی نقصان ہوا،دو دن پہلے طوفانی بارش ہوئی پھر سیلاب حدود ِ پاکستان میں نصف شب کے بعد اچانک آیا جو بالکل ہی غفلت کا وقت ہوتا ہے۔
قدرت کا ہمارے ساتھ یہ معاملہ بتلا رہا ہے کہ ہم خدا اور اس کے احکام کے ساتھ کیا معاملہ کررہے ہیں ؟ ہم آج کل خدا کی ہر نافرمانی میں مستغرق ہیں
( اَفَاَمِنَ اَھْلُ الْقُرٰی اَنْ یَّاْتِیَھُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّھُمْ نَآئِمُوْنَ ) ( سورة الاعراف : ٩٧ )
''کیا آبادیوں والے اس بات سے بے خوف ہیں کہ ان پر ہمارے ڈر کی چیز رات کو سوتے وقت آجائے''
ہم نے اسلام کا نام لے کر ایک ملک لیا اس میں سب کچھ ہوا مگر اسلام ہی نہ ہوا، گویا خدا سے بد عہدی کی ، سود، شراب، بد اخلاقی، ایک دوسرے پر زیادتی ظلم اور نار وا سلوک، چوری، ڈاکہ، قتل، بدکاری، جھوٹ ، دھوکہ بازی، ملاوٹ، چور بازاری، ذخیرہ اندوزی، گراں فروشی، خدا سے غفلت، دین سے غفلت واستہزاء یہ تمام وہ کام ہیں جن میں ہماری قوم جو امن وامان کی حامل صدقِ مقال کی عامل، عدل وسلامتی کی داعی تھی مبتلا ہے اور آج مجسم برائیوں کا نمونہ بنی ہوئی ہے ! ہم مادیت کی دوڑ میں ایسے لگے کہ خدا سے بالکل غافل ہوگئے ،اب خدا کا معاملہ بھی جواباً ہمارے ساتھ ویسے ہی ہونے لگا
( وَمَا اَصَابَکُمْ مِّن مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ) ( الشوریٰ : ٣٠ )
''اورتمہیں جو مصیبت آتی ہے وہ تمہارے کیے ہوئے کی وجہ سے ہوتی ہے (اور اللہ پھر بھی) بہت سی چیزوں سے در گزر فرما دیتا ہے''
اگر ہم نے اپنے آپ کو درست نہ کیا تو خدا جانے ہمارا کیا انجام ہو ؟ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے اور ہماری حالت درست فرما کر اپنی مرضیات پر چلائے، آمین
حامد میاں غفرلہ
درس حدیث
٭٭٭
قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں نور اللّٰہ مرقدہ
کا مجلس ِذکر کے بعد درسِ حدیث ''خانقاہِ حامدیہ چشتیہ'' شارع رائیونڈ لاہور کے زیرِانتظام ماہنامہ '' انوارِ مدینہ'' کے ذریعہ ہر ماہ حضرت اقدس کے مریدین اور عام مسلمانوں تک باقاعدہ پہنچایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کے اس فیض کو تا قیا مت جاری و مقبول فرمائے،آمین۔ (ادارہ)
٭٭٭
ہجرت کرنے والوں کو اجازت نہ تھی کہ مکہ مکرمہ کو مسکن بنائیں !
مدینہ منورہ سے محبت اور وہاں کی برکات ! بے صبری کا نقصان
(درسِ حدیث نمبر٢٣ ٤ ربیع الاوّل ١٤٠٢ھ/یکم جنوری ١٩٨٢ئ)
٭٭٭
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا
مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ !
حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک صحابی جنابِ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم سے بیعت ہوئے، وہ دیہاتی تھے آئے اور آنے کے بعد بیعت ہوئے ! ایمان مضبوط نہیں تھا، بیعت ہونے کے بعد بخار چڑھ گیا اور مدینہ شریف میں رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے ہجرت فرمانے سے پہلے بخار کی وبا رہا کرتی تھی !
''اَرضِ وبیۂ'' وبا والی سرزمین کہلاتی تھی اور بخار اتنا سخت آتا تھا کہ اس سے آدمی بہت کمزور ہوجاتا تھا ، اب بھی ایسی صورت ہے کہ اس کے آثار باقی ہیں ، بخار جسے آجائے پورے زور سے بالکل نچڑجاتا ہے، پیلا ہوجاتا ہے،(ہجرت سے) پہلے بہت زیادہ تھا۔جب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم وہاں تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ کو بخار ہوگیا، حضرت بلال رضی اللّٰہ عنہ کو بخار ہوگیا اور سب ایک طرح کی گھبراہٹ میں جیسے مبتلا ہوں یہ حال تھا ! اور گھبراہٹ میں مکہ مکرمہ کو یاد کرتے تھے ! اپنا وطن یاد آتا تھا ! حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ بھی یاد کرتے تھے ! حضرت بلال رضی اللّٰہ عنہ بھی یاد کرتے تھے ! وہ بھی شعر پڑھتے تھے اور یہ بھی شعر پڑھتے تھے ! رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کو بھی(مکہ سے) اتنی ہی محبت تھی ! مکہ مکرمہ فتح کرنے کے بعد وہاں پہنچے ہیں تو آپ نے فرمایا مَا اَطْیَبَکِ مِنْ بَلَدٍ توکتنا عمدہ شہر ہے اور اَحَبَّکِ اِلَیَّ تو بہت زیادہ مجھے پسند ہے بہت ہی محبوب ہے اگر میری قوم نے مجھے یہاں سے نہ نکالا ہوتا تو میں تیرے سوا کہیں اور نہ رہتا ! وَلَوْ لَا اَنَّ قَوْمِیْ اَخْرَجُوْنِیْ مِنْکِ مَا سَکَنْتُ غَیْرَکِ ١
لیکن بعد میں مدینہ منورہ کو جب آپ نے اپنا مُہَاجَر بنالیا جہاں آپ ہجرت فرماکر تشریف لے گئے تو پھر وہیں رہنا پسند فرمایا ! اور یہ بتایا کہ جنہوں نے ہجرت کی ہے اور خدا کے لیے کی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کا اجر اسی میں رکھ دیا ہے کہ وہ اس پر قائم رہیں ! اور مکہ مکرمہ رہنے کی انہیں اجازت بھی نہیں تھی ! بس حج کے لیے جائیں تو وہ تیرہ تاریخ کو یا چودہ تاریخ کو (واپس) روانہ ہوجائیں ،تین دن سے زیادہ پھر نہیں ٹھہرسکتے ! ایک صحابی ذرا وہاں ٹھہرگئے وہ بیمار ہوگئے، وفات ہوگئی ان کی، سعد بن خولہ ان کا نام تھا، رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم ان کا ذکر فرماتے تھے اور (ان پر) ترس فرماتے تھے !
ہجرت کا عمل برقرار رکھنے کی وجہ :
ایسا لگتا ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا اجر ڈبل کردیا، جب وہ نماز مدینہ میں پڑھتے تو انہیں مکہ کا ثواب ملتا تھا ساتھ ساتھ ! اور اگر وہ مکے چلے جائیں تو فقط مکہ کا رہ جائے گا ہجرت والا نہیں رہے گا ! اس واسطے آپ نے بالکل اجازت نہیں دی کہ وہ لوٹ کر مکہ مکرمہ جائیں ، تبلیغ اور جہاد کے لیے تو جائیں اور باہر جاکر دوسری جگہوں پر بھی رہیں ، کام وغیرہ بھی کرتے رہے ہیں ، پڑھاتے رہے ہیں دین سکھاتے رہے ہیں پھیلاتے رہے ہیں اور باہر گئے ہیں معرکوں میں وہیں شہید ہوگئے ہیں ،بہت دفعہ ایسا ہوا مگر مکہ مکرمہ دوبارہ جانے کی اجازت نہیں ! حضرت بلال رضی اللّٰہ عنہ کو ، حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ کو بھی، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا کو بھی بخار ہوا ایسا کہ ان کے بال ہی سارے اتر گئے ! !
وائرس دوسری جگہ منتقل :
رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے دعا فرمائی تھی کہ اللہ تعالیٰ یہاں سے بخار کی وبا کو دفع فرمادے !
آپ نے خواب دیکھا اس میں دیکھا کہ ایک عورت ہے اس طرح کی کہ وہ یہاں (مدینہ منورہ ) سے نکلی
١ مشکوٰة المصابیح کتاب المناسک رقم الحدیث ٢٧٢٤
اور دوسری جگہ(جُحْفَة) چلی گئی تو وہ وبا منتقل ہوگئی وہاں ١ اب یہاں (مدینہ منورہ میں ) اتنا بخار نہیں رہا !
مدینہ منورہ کی محبت :
اس کے ساتھ ساتھ بعد میں آپ نے یہ دعا بھی فرمائی اَللّٰھُمَّ حَبِّبْ اِلَیْنَا الْمَدِیْنَةَ کَحُبِّنَا مَکَّةَ اَوْ اَشَدَّ ٢ اللہ تعالیٰ ہمیں مدینے کی ایسی محبت دے دے جیسے مکہ کی بلکہ اس سے بھی زیادہ یا اس سے بھی زیادہ ! تو پھر ایسے ہی ہوگیا کہ آج تک اسی طرح ہے محبت سب کو ! ہر مسلمان کے ذہن میں ایسی ہی حالت ہے ! یہ اس دعا کا اثر ہے ! !
دعا فرمائی یہاں کے'' صاع'' میں ، یہاں کے پیمانے میں ، یہاں کے تول میں ،گویا ہر چیز میں تو برکت عطا فرما (جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لیے دعا کی تھی) میں تجھ سے اس سے دگنی برکت کی دعا کرتا ہوں ! !
مصائب پر بے صبرا ہونے کا نقصان :
تو اس (دیہاتی کو) جو بخار چڑھا تو یہ بالکل ہی پھرگیا اللہ کا بندہ ! اور مصائب پر انسان کو صبر کرنا چاہیے کوشش کرتا رہے لیکن پھر بھی اگر مصیبت پیچھا نہیں چھوڑتی تو اس کا بھی پھر علاج یہی ہے کہ خدا ہی کی طرف رجوع کرے ! بے صبرا نہ ہو، نہ ہمت ہارے کہ بیٹھ جائے اور نہ ہی یہ کہ مصیبت میں آکر بے تاب ہوجائے، نہ یہ کہ رجوع اِلی اللہ چھوڑے بلکہ رجوع اِلی اللہ جاری رکھے، اپنی کوششیں جاری رکھے اور پھر خدا کے سپرد کرے !
اور(قرآن میں ) ایسے لوگوں کے بارے میں آتا ہے ( وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرْفٍ ) (لوگوں میں کچھ ایسے ہیں کہ)وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں کنارے ہی پر ( فَاِنْ اَصَابَہ خَیْرُنِ اطْمَئَنَّ بِہ) اگر دین میں داخل ہونے کے بعد اسلام میں آنے کے بعد کوئی نفع ہوا، فائدہ ہوا تو پھر کہتا ہے
١ مشکوٰة المصابیح کتاب المناسک رقم الحدیث ٢٧٣٥ ٢ مشکوٰة المصابیح کتاب المناسک رقم الحدیث ٢٧٣٤ اس کو مھیعة بھی کہتے ہیں مکہ مکرمہ سے شمال مغرب کی طرف ١٨٣ کلو میٹر پر واقع ہے شام ، مصر اور مشرقی افریقہ سے آنے والوں کی میقات بھی ہے اس زمانہ میں یہاں یہودی آباد تھے۔ مولانا سیدمحمود میاں
یہ دین اچھا ہے ( وَاِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَةُ نِ انْقَلَبَ عَلٰی وَجْہِہ ) اور اگر کوئی تکلیف پیش آتی ہے تو وہ پیچھے ہٹنے لگتا ہے (خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ ) اگر کوئی ایسے کرے گا تو دنیا اور آخرت دونوں کا اسے نقصان ہوگا ( ذٰلِکَ ھُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ ) ١
تو یہ جب بخار میں مبتلا ہوا تو آگیا اور آکر عرض کرنے لگا اَقِلْنِیْ بَیْعَتِیْ یعنی میں آپ سے جو کل بیعت ہوا تھا یہ میری بیعت آپ توڑدیجیے واپس دے دیجیے ! رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا نہیں یہ غلط ہے ثُمَّ جَائَ ہ فَقَالَ اَقِلْنِیْ بَیْعَتِیْ پھر آکے کہنے لگا، اس کے ذہن میں یہ تھاکہ میں بیعت جو ہوا ہوں اس کی وجہ سے یہ بخار ہے ! جب آپ کہہ دیں گے کہ میں نے بیعت واپس کردی ہے تو میرا بخار ٹھیک ہوجائے گا، آپ نے فرمایا نہیں کیونکہ اس میں آخرت کا اس کے نقصان ہے فَخَرَجَ الْاَعْرَابِیُّ وہ وہاں سے چلاگیا
مدینہ منورہ کی ایک خصوصیت :
رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ایک فضیلت بتلائی مدینہ شریف کی اِنَّمَا الْمَدِیْنَةُ کَالْکِیرِ تَنْفِیْ خَبَثَھَا وَ تُنَصِّعُ طَیِّبَھَا ٢ کہ یہ مدینہ جو ہے یہ بھٹی کی طرح ہے جو اس میں خراب آجاتا ہے اس کو نکال پھینکتا ہے او ر جو عمدہ ہیں انہیں یہاں روکے رکھتا ہے !
تو جو وہاں سے چلاگیا نکل گیا وہاں سے اس کو فرمایا کہ آدمی ٹھیک نہیں تھا اور چلا ہی گیا لیکن کفر نہیں یہ کمزوری ایمان کی ہے یا نفاق تھا معاذ اللّٰہ ! اس طرف اشارہ تھا بعد میں وہ مسلمان ہوئے ہوں پھر ٹھیک ہوگئے ہوں لیکن اس وقت یہ حالت تھی ! تو مدینہ شریف کی فضیلت تو ہے ہی لیکن یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ اس طرح سے جو پریشانیاں آتی ہیں ان میں انسان بے صبرا نہ ہو اور استقامت سے تحمل سے کام لے، برداشت کرے تو اللہ مُسَبِّبُ الاَسْبَابْ ہیں وہ معاملات کو ٹھیک بھی کردیتے ہیں !
سب چیزیں ٹھیک کرتے جاتے ہیں خدا کی طرف توجہ رہنی اور جدوجہد اور اپنے اعمال درست رہنے، یہ سب سے ضروری ہے ! ! ! اللہ تعالیٰ ہم سب کو اعمالِ صالحہ کی توفیق عطا فرمائے، آمین
(مطبوعہ ماہنامہ انوارِ مدینہ فروری ١٩٩٥ئ)
١ سورة الحج : ١١ ٢ مشکوٰة المصابیح کتاب المناسک رقم الحدیث ٢٧٣٩
سیرتِ مبارکہ
٭٭٭
عرب قبلِ اسلام اپنے آئینے میں
سیّد الملة و مؤرخ الملة حضرت مولانا سیّد محمد میاں صاحب کی تصنیفِ لطیف
سیرتِ مبارکہ '' محمد رسول اللّٰہ '' صلی اللہ عليہ وسلم کے چند اوراق
٭٭٭
خصوصیاتِ عرب :
عرب قبل از اسلام (عرب جاہلیت) کی قصیدہ خوانی مقصود نہیں ہے لیکن ان حقائق سے گریز بھی درست نہیں ہے جو اُفق تاریخ پر صبح صادق کی طرح روشن ہیں سیرت مبارکہ اور تاریخ اسلام کے بھی تمام گوشے اسی وقت اجاگر ہو سکتے ہیں جب ماحول کی صحیح تصویر سامنے ہو !
تاریخ کا کوئی مبصر بھی انکار نہیں کر سکتا کہ عربی معاشرہ(سماج) میں سخاوت ، بہادری ، خوداعتمادی ، غیرت و حمیت ، خودداری ، روایات کی حفاظت ، عہد اور قول کی پابندی ، عہد شکنی اور غلط بیانی سے نفرت ، ایسے اوصاف تھے کہ کم از کم اس دور میں کوئی دوسری قوم ان کی نظیر نہیں پیش کر سکتی تھی ١ اس دعویٰ کی تصدیق کے لیے تاریخ کا وسیع دفتر جو حقائق پیش کر سکتا ہے ان میں سے چند مثالیں بطور نمونہ پیش کی جارہی ہیں
سخاوت (جود و سخا) :
سخاوت کے یہ معنٰی نہیں تھے کہ پیٹ بھرنے پر کچھ نوالے کسی فقیر کو دے دیے جائیں بلکہ سخاوت کا مطلب یہ مانا جاتا تھا کہ جذبہ یہ ہو کہ خود بھوکا رہے اور دوسرے کو شکم سیر کرے اور اسی کو وہ اپنی کامیابی سمجھے اور اس پر ایسا خوش ہو گویا اس کی مراد پوری ہو گئی
١ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی کس قدر معنی خیز ہے بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ (او کما قال صلی اللہ عليہ وسلم ) ''میں اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ مکارم(اخلاقِ عالیہ) کی تکمیل کر دوں '' اس ارشاد گرامی میں اخلاق کی نفی نہیں ہے بلکہ نہ صرف اخلاق بلکہ مکارم اخلاق(اعلیٰ اخلاق) کا اعتراف مضمر ہے البتہ ان میں افراط تفریط ہے جس کی اصلاح کی ضرورت ہے یہی تکمیل ہے واللّٰہ اعلم
نعمان بن منذر کی یہ بات صحیح تھی (جو اس نے شہنشاہ ایران کے دربار میں کہی تھی) کہ معمولی عرب جس کا کل اثاثہ ایک اونٹنی ہے اگر اس کے یہاں مہمان آجاتا تو وہ اس میں بڑی خوشی محسوس کرتا تھا کہ اپنی زندگی کی پونجی (اس اونٹنی)کو ذبح کر دے اور دل کھول کر اپنے مہمان کی مدارات کرے قبیلہ طَے کا سردار ''حاتم'' سخاوت میں مشہور تھا وہ صرف دو چیزیں محفوظ رکھتا تھا اور باقی سب کچھ بخش دیا کرتا تھا گھوڑا اور اسلحہ مگر موسم سرما میں ایک روز ایسا ہوا کہ وہ تہی دست تھا اس کے یہاں فاقہ تھا رات ہوئی تو بچوں کو بھو کے پیٹ کسی طرح لوری دے کر اور تھپک تھپک کر سلا دیا مگر جب بچے سو چکے تو خیمہ کا ایک کنارہ اٹھا اور ایک عورت اپنے بچے ساتھ لیے ہوئے خیمہ میں داخل ہوئی اور حاتم سے فریاد کی کہ وہ خود بھی بھوکی ہے بچے بھی بھوک سے تڑپ رہے ہیں رات آدھی ہو رہی ہے مگر بھوک کی وجہ سے نہ اس کو نیند آتی ہے نہ بچوں کو ! ابھی عورت کے یہ الفاظ پورے نہیں ہوئے تھے کہ حاتم اٹھا چھری ہاتھ میں لی اور اپنے محبوب گھوڑے کو ذبح کر ڈالا ١ پھر آگ جلائی اور چھری اس عورت کو دے دی کہ گوشت کے پارچے کاٹے اور خود کھائے اور بچوں کا پیٹ بھرے پھر حاتم اپنے خیمے سے نکلا اور قرب وجوار کے تمام غریب لوگوں میں گھوم آیا کہ گھوڑا ذبح ہوا ہے چلو گوشت کھاؤ چنانچہ آس پاس کے تمام لوگ آگئے ، حاتم کی بیوی کا بیان ہے کہ تھوڑی دیر میں گوشت ختم ہو گیا صرف ہڈیاں باقی رہ گئیں اور حاتم اور اس کی بیوی اور بچے جیسے پہلے بھوکے تھے اب بھی بھوکے رہے کسی کو ایک بوٹی بھی نصیب نہیں ہوئی ٢
شیخ قبیلہ رات کو اونچی جگہ پر آگ جلوا دیا کرتا تھا اس طرف سے گزرنے والے مسافر اور قافلے آگ کو دیکھ کر قبیلے میں پہنچتے شیخ قبیلہ ان کا میزبان ہوتا ٣
١ واضح رہے کہ اگرچہ فی نفسہ گھوڑا حلال جانور ہے لیکن چونکہ گھوڑا جہاد کے اہم ذرائع میں سے ایک ہے اگر اس کو بھی عام جانوروں کی طرح ذبح کیا جائے گا تو اس کے نتیجہ میں جہاد کے آلات میں کمی واقع ہوجائے گی چنانچہ فقہاء کرام نے اس خطرے کے پیش نظر گھوڑے کو ذبح کرنا مکروہ قرار دیا ہے امام ابوحنیفہ کا اسی پر فتویٰ ہے ۔ دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹائون کراچی ٢ عقد الفرید ج ١ ص ١٠٨ وغیرہ ٣ حضرت خدیجہ نے آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کے اوصاف شمار کرتے ہوئے فرمایا تھا تَقْرِیُٔ الضَّیْفَ '' آپ مہمانوں کی ضیافت کیا کرتے ہیں '' تو مہانوں سے ایسے ہی مہان مراد تھے ، تفصیل نزولِ وحی کے تذکرہ میں آگے آئے گی ان شاء اللّٰہ
لطف یہ ہے کہ یہ آنے والے مسافر اگر عرب ہوتے تو وہ اس کو اپنا حق سمجھتے تھے ١ کیو نکہ وہ خود اپنے قبیلہ میں آنے والوں کی اسی طرح مدارات کیا کرتے تھے ! ایسی ضیافتوں کے لیے ہر وقت سامان تیار رہتا تھا ایک عورت نے اپنے شوہر کی یہ خصوصیت فخریہ بیان کی تھی
'' اس کے اونٹ زیادہ اصطبل ہی میں رہتے ہیں تھوڑے سے اونٹ چرا گا ہوں میں بھیج دیے جاتے ہیں یہ اونٹ جیسے ہی باجے کی آواز سنتے ہیں یقین کر لیتے ہیں کہ اب ذبح ہو جائیں گے '' ٢
اس خاتون کے ان مختصر الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اس کے شوہر کا طریقہ یہ ہے کہ جب مہمانوں کے آنے کی اس کو اطلاع ملتی ہے تو وہ ان کے استقبال میں باجے بجواتا ہے اور جب وہ آجاتے ہیں تو اونٹ ذبح کرا کر بڑے حوصلہ سے ان کی ضیافت کرتا ہے یہ صورت گاہے گاہے نہیں ہوتی بلکہ اتنی کثرت سے ہوتی رہتی ہے کہ عقل و شعور سے محروم اونٹ بھی اس سے آشنا ہو گئے ہیں کہ جہاں وہ باجے کی آواز سنتے ہیں یقین کر لیتے ہیں کہ اب ان کا نمبر آگیا کیونکہ مہمان آئے ہیں جن کی مدارات کے لیے ان کو یقینا ذبح کر دیا جائے گا ٣ اور چونکہ مہمانوں کے آنے کا کوئی وقت مقرر نہیں اس لیے وہ اپنے اونٹ چراگاہ نہیں بھیجتا کہ وہاں سے منگوانے میں دیر ہوگی بلکہ مکان کے قریب ہی اصطبل (مبرک) میں ان کو محفوظ رکھتا ہے اور ان کے چارے کا خرچ برداشت کرتا رہتا ہے۔
١ متعدد احادیث (مثلاً حدیث عقبة بن عامر جس میں یہ ہے خُذُوْا مِنْہُمْ حَقَّ الضَّیْفِ الَّذِیْ یَنْبَغِیْ لَھُمْ (صحیح البخاری رقم الحدیث ٦١٣٧ ص ٩٠٦) نیز حدیث ابی سعید الخدری میں یہ ہے
لَقَدِ اسْتَضَفْنَاکُمْ فَلَمْ تُضَیِّفُوْنَا (صحیح البخاری رقم الحدیث ٥٧٤٩ ص ٣٠٤ ) اس حق کی طرف اشارہ کررہی ہیں اس کے علاوہ جہاں نہ کوئی بازار ہو نہ مسافروں کی سرائے وہاں انسانی ہمدردی کا تقاضا یہ ہے کہ مسافر کو مہمان مانا جائے ہندوستان میں بھی یہ رواج ہے فرق یہ ہے کہ ہمارے یہاں اجنبی مسافر کو سرپڑا مہمان سمجھا جاتا ہے اور عرب اس کو معزز مہمان سمجھتے تھے اور اس کی وہی مدارات کیا کرتے تھے جیسے مدعو مہمان کی ، سنا ہے عرب قبائل میں اب بھی یہ جذبہ ہے ٢ صحیح البخاری ص ٧٨٠ حدیث ام زرع ٣ مجمع البحار ، تحت لفظ زھر
میزبانی اور مہمانی کی تقریب کے علاوہ بڑے آدمی کی شان یہ ہوتی تھی کہ اس کے ہاں خورونوش کی مجلسیں آبا در ہیں رقص و سرود بھی رہے اور غربا پروری بھی، قومی شعراء ایسی مجالس کی تعریفوں میں رطب اللسان رہتے تھے سینکڑوں اشعار اس کی شہادت میں پیش کیے جاسکتے ہیں لیکن یہاں صرف ایک عورت کا بیان نقل کیا جارہا ہے جس سے عرب کے تمدن پر روشنی پڑتی ہے اس عورت کا نام کَبْشَة بتایا گیا ہے
زَوْجِیْ رَفِیْعُ الْعِمَادِ ، طَوِیْلُ النِّجَادِ ، عَظِیْمُ الرَّمَادِ ، قَرِیْبُ الْبَیْتِ مِنَ النَّادِ ١
اس باسلیقہ خاتون نے چار لفظ بولے ہیں مگر ہر لفظ اس دور کے تہذیب و تمدن کے پورے پورے باب کا عنوان ہے
(الف) امراء اور رء وساء (شیوخ) اپنے محل کے لیے بلند مقام تجویز کرتے تھے ٢ مکان کی چوکی بھی اونچی رکھتے تھے دروازے بڑے بڑے ،دیوان خانوں کے ستون بہت اونچے اونچے، خوش منظر اور ہوا دار ہونے کے علاوہ اس بلندی کا مقصد یہ بھی ہوتا تھا کہ باہر سے آنے والوں کو تلاش اور پوچھ گچھ کی ضرورت نہ پیش آئے !
رات کے وقت بلند مکان کی کسی بلند جگہ پر آگ جلا دیا کرتے تھے تو رہنمائی کے علاوہ صاحب ِخانہ کی طرف سے سفر کرنے والوں کے لیے قیام و طعام کی خاموش پیشکش بھی ہو جاتی تھی
کبشة نے اپنے پہلے لفظ میں اس تمام تفصیل کی طرف اشارہ کیا ہے کہ میرے شوہر کے محل کے ستون بہت بلند ہیں جن کی وجہ سے یہ محل دور سے نظر آتا ہے اور آنے والے قافلے ، وفود اور رات کو سفر کرنے والے آسانی سے وہاں پہنچ جاتے ہیں ٣
(ب) دوسرے لفظ طَوِیْلُ النِّجَادِ سے اشارہ کیا ہے کہ وہ بہادر، با وجاہت اور تلوار کا دھنی ہے
١ صحیح البخاری رقم الحدیث ٥١٨٩ ص ٧٨٠ حدیث ام زرع ٢ بڑے لوگ اپنے محلات بلند مقام پر اس لیے بناتے تھے کہ باہر سے آنے والے وفود آسانی سے پہنچ سکیں خصوصاً رات کی اندھیری میں ان کی روشنی رہنما ثابت ہو ( فتح الباری ج ٩ ص ٢١٦ ) ٣ فتح الباری ص ٢١٦ ج ٩
(ج) تیسرا لفظ عَظِیْمُ الرَّمَادِ یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اس کے یہاں مہمانوں کا تانتا بندھا رہتا ہے ہر وقت کھانے پکتے رہتے ہیں ، پکانے والوں کو اتنی فرصت بھی نہیں ملتی کہ تنوروں اور چولھوں کی راکھ صاف کر دیں اس لیے راکھ کے ڈھیر لگتے رہتے ہیں !
(د) چوتھے لفظ کا منشا یہ ہے کہ وہ عوامی لیڈر ہے دانش مند اور صاحب الرائے ہے نادی یعنی قبیلہ کی پنچایت گھر کے قریب ہی اس کو اپنی قیام گاہ اور آرام گاہ رکھنی پڑتی ہے تاکہ لوگ آسانی سے مل سکیں اور یہ ان کو مشورہ دے سکے !
اب یہ معلوم کر لینا دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا کہ بیرونی مہمانوں یا مقامی احباب کی دعوت میں بکری یا دنبے کا گوشت یا مرغ مسلم نہیں پیش کیا جاتا تھا نہ ایسے گوشت کی کوئی اہمیت اور قدر تھی صرف اونٹ کے کوہان کا گوشت ان کی نظر میں مخصوص طعام ہوتا تھا بڑے لوگوں کی میزبانی یہی ہوتی تھی کہ اونٹ کے کوہان کا گوشت اس کے پسندے اور اس کے کباب پیش کریں ظاہر ہے یہ اسراف اور فضول خرچی کی آخری حد تھی !
قریش کے بڑے بڑے سردار اور رؤساء عتبة ، امیة بن خلف ، ابوجہل وغیرہ جو جنگ بدر میں مارے گئے تھے اور جن کی لاشیں ایک پرانے کنویں میں جو اب بیکار ہو چکا تھا، ڈلوا دی گئی تھیں ان کے ہم مشرب اور ہمدرد شاعر ابو بکر بن شعوب نے ان کے مرثیہ میں کہا تھا ١
وَمَا ذَا بِالْقُلَیْبِ قُلَیْبِ بَدْرٍ مِنَ الشِّیْزٰی تَتَزَیَّنُ بِالسَّنَام
وَمَا ذَا بِالْقُلَیْبِ قُلَیْبِ بَدْرٍ مِنَ الْقَیْنَاتِ وَالشُّرْبِ الْکِرَام ٢
١ بخاری شریف ص ٥٥٨ ٢ ابن ہشام نے اس مرثیہ کے نو شعر نقل کیے ہیں مطلع یہ ہے :
تَحْیِیْ بِالسَّلَامَةِ اُمُّ بَکْرٍ وَہَلْ بَعْدَ قَوْمِیْ مِنْ سَلاَمِ '' ام بکر (بیوی کی کنیت ) مجھے سلام کرتے ہوئے سلامتی کی دعا دیتی ہے کیا سلامتی کی دعا کا کوئی موقع ہے جب میری قوم ختم ہو چکی '' دلچسپی کے لیے آخری شعر ملاحظہ فرمالیجیے
یُحَدِّثُنَا الرَّسُوْلُ بِاَنْ سَنُحْیٰی وَکَیْفَ حَیَاةُ اَصْدَائٍ وَ ہَام
''یہ جو رسول ہیں ہم سے کہتے ہیں کہ ہم عنقریب زندہ کیے جائیں گے اور حالانکہ جبکہ مرنے والوں کی رو حیں صداء اور ھام بن چکیں تو پھر وہ دوبارہ زندگی کیسے پا سکتے ہیں ''
(باقی حاشیہ اگلے صفحہ پر )
''یہ کیا ہے ؟ اس کنوئیں میں جس کو قُلیبِ بدر کہا جاتا ہے وہ سردار پڑے ہوئے ہیں جن کے یہاں آبنوس کی کشتیاں (طشت) (دعوت کے موقع پر) پیش کی جاتی تھیں جو کو ہان کے گوشت سے آراستہ ہوتی تھیں (جن پر کوہان کے پارچے اور کباب چنے ہوئے ہوتے تھے)
اور یہ کیا ہے کہ بدر کے اس اندھے کنوئیں میں ان سرداروں کو دیکھ رہا ہوں جن کے یہاں معززین کا اجتماع ہوتا تھا گانے والیاں اپنا فن دکھاتی تھیں شراب کا دور چلتا تھا ان کی محفلیں خور و نوش اور رقص و سرود سے پُر کیف رہتی تھیں '' ١
کو ہان کا گوشت اگر چہ گراں پڑتا تھا کیونکہ چند سیر گوشت کے لیے پورا اونٹ ختم کرنا ہوتا تھا مگر من چلے سردار سخاوت کی جولانیوں کو اقتصاد کے پیمانے سے نہیں ناپتے تھے معمولی سا اشارا ہوا اور کوہان حاضر !
محفل مئے میں مُغنّیہ نے حضرت حمزہ ٢ کو مخاطب کر کے کہہ دیا اَلَا یَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَائِ
( بقیہ حاشیہ ص ١٤)
ان کا عقیدہ تھا کہ جس مقتول کا قصاص نہ لیا جائے تو اس کی روح اُلو (بُوم) میں حلول کر جاتی ہے اور پکارتی پھرتی ہے کہ اَسْقُوْنِیْ اَسْقُوْنِیْ ''پیاسی ہوں مجھے پانی پلاؤ'' جب قصاص لے لیا جاتا ہے تب یہ صورت ختم ہو جاتی ہے
اُلو کو صداء اور اس قسم کی روح کو ھام کہا کرتے تھے
ھام کے معنی کھوپڑی کے بھی ہیں ان کا عقیدہ یہ بھی تھا کہ یہ روح کھوپڑی کے راستہ سے نکلتی ہے اس لیے روح کو ھام کہا کرتے تھے بخاری نے صرف یہ چار شعر نقل کیے ہیں قصیدے کی جان یہی ہیں ہمارے موضوع سے متعلق صرف یہ دو شعر تھے جو نقل کیے گئے
١ فتح الباری و مجمع البحار ٢ یہ سیّد الشہداء حمزہ رضی اللّٰہ عنہ ہیں اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی اور جب حرمت ِشراب کا اعلان ہوا تو ان ہی مئے خواروں نے جن کی گھٹی میں شراب پڑی تھی وہ مستعدی دکھائی دی جس کی نظیر نہیں مل سکتی جیسے ہی کانوں میں آواز پڑی کہ شراب حرام ہوگئی تو تحقیق کی ضرورت بھی نہیں سمجھی جو ہاتھ جام وسبو کی گردش میں مصروف تھے مٹکوں کی طرف بڑھے اور خمہا(مٹکے) ریزہ ریزہ کر دیے گئے گلی کوچوں میں شراب کا سیلاب آگیاچلنا پھرنا شکل ہوگیا (صحیح البخاری رقم الحدیث ٢٤٦٤ ص ٣٣٣ )
''ہاں ہاں حمزہ ! یہ اونچے کوہان والی فربہ اونٹنیاں '' حضرت حمزہ فوراً اٹھے دو اونٹنیاں جو صحن میں کھڑی ہوئی تھیں ان کے کو ہان تراش لیے، کو کھیں چاک کر کے ان کے جگر نکال لیے، یارانِ محفل کی خوشی کے لیے ان ہی کی ضرورت تھی ١
حجر بن خالد اپنی مہمان نوازی کی صورت یہ بیان کرتا ہے
وَیَحْلُبُ ضِرْسُ الضَّیْفِ فِیْنَا اِذَا شَتَا
سَدِیْفَ السَّنَامِ تَسْتَرِیْہِ اَصَابِعُہ ٢
یعنی موسم سرما میں جبکہ عموماً قحط ہوا کرتا ہے ہم اپنے مہمان کی مدارات اس طرح کرتے ہیں کہ کوہان کے پارچے]ٹکڑے[ اس کے سامنے رکھ دیتے ہیں وہ چربی دار بوٹیوں کو خود منتخب کرتا ہے جن کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب وہ کھاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی داڑھ دودھ دوھ رہی ہے اور اس بوٹی سے دودھ کی دھاریں پھوٹ رہی ہیں
سبرة بن عمر فقعسی ٣ نے مندرجہ ذیل شعر میں اگر چہ اپنے قبیلہ کا بجٹ پیش کیا ہے مگر واقعہ یہ ہے
کہ عرب کے ہر ایک قبیلہ کا آمد و خرچ یہی ہوا کرتا تھا
نُحَابِیْ بِہَا اَکْفَائَ نَا وَ نُہِیْنُہَا
وَ نَشْرِبُ فِیْ اَثْمَانِہَا وَ نُقَامِرُ
یعنی اونٹوں سے چار کام لیے جاتے ہیں : ہمسر اور ہم کفو(دوستوں اور رشتہ داروں ) کو بخشش میں دیے جاتے ہیں ، مہانوں کے لیے ذبح کیے جاتے ہیں ان کی جو قیمت وصول ہوتی ہے وہ شراب نوشی اور قمار بازی (جوئے) میں خرچ کر دی جاتی ہے۔
یہ سخاوت جو فضول خرچی کی حدود کو بھی پار کر جاتی تھی ان کے ضابطہ ٔ اخلاق میں صحت مندی تھی اس کے برخلاف کنجوسی کے متعلق یہ تصور تھا
وَاَیُّ دَائٍ اَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ ٤ کون سی بیماری بخل سے زیادہ خراب بیماری ہو سکتی ہے ؟
١ صحیح البخاری رقم الحدیث ٢٣٧٥ ص ٣١٩ ، ٣٢٠ ٢ دیوان حماسہ ٣ ایضًا
٤ صحیح البخاری رقم الحدیث ٤٣٨٣ ص ٤٤٢
چُستی ، مستعدی ، جفاکشی، خود اعتمادی اور بہاد ری :
خشک وبے آب و گیاہ صحرا اور گرم پہاڑوں میں ان کی قبائلی زندگی نے ان کو قدرتی طور پر جفاکش ،محنتی اور چست بنا دیا تھا، تھوڑی سی غذا پر قناعت اور ہر وقت چوکنا اور ہوشیار رہنا ان کا مزاج بن گیا تھا نوجوان کی تعریف یہ تھی
مَضْجَعُہ کَمَسَلِّ شَطْبَةٍ وَ یُشْبِعُہُ ذِرَاعُ الْجَفْرَةِ ١
یعنی پیر پھیلا کر نہیں سوتا کروٹ سے کچھ نیند لے لیتا ہے مگر سونے کے وقت بھی اس کی چستی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ کروٹ بستر پر نہیں لگتی بلکہ بستر سے الگ اٹھی ہوئی رہتی ہے جیسے برہنہ تلوار زمین پر رکھ دی جائے تو اس کے بیچ کا خمدار حصہ زمین سے اٹھا رہے گا اور اس چستی ، مستعدی اور کم خوابی کے ساتھ خوراک کی حالت یہ ہے کہ بکری کے بچہ کے صرف ایک دستی کا گوشت اس کو شکم سیر کر دیتا ہے ! !
عرب میں کوئی سلطنت نہیں تھی نہ پولیس یا فوج کا کوئی نظام تھا ہر ایک قبیلہ اپنی جگہ آزاد ملکت تھا وہ اپنی آزادی کا خود ذمہ دار اور محافظ ہوتا تھا پھر جس طرح قبیلہ کو اپنے اوپر اعتماد کرنا پڑتا تھا ایسے ہی اس کا ہر ایک فرد بھی خود اعتمادی کا پیکر ہوتا تھا وہ اپنے اشعار اور قصائد میں ان ہی اوصاف پر فخر کیا کرتے تھے تَابَّطَ شَرَّا اپنی حالت بیان کرتا ہے
قَلِیْلُ غِرَارِ النَّوْمِ اَکْبَرُ ہَمِّہ دَمُّ الثَّارِ اَوْ یَلْقٰی کَمِیًّا مُسَفَّعَا
قَلِیْلُ ادِّخَارِ الزَّادِ اِلَّا تَعِلَّةً فَقَدْ نَشَزَ الشُّرْسُوْفُ وَالْتَصَقَ الْمِعَا ٢
'' نیند کا تھوڑا سا جھپکا لے لیتا ہے (یہی اس کا معمول ہے) اس کی تمام توجہ اس میں مصروف رہتی ہے کہ دشمن سے قصاص کس طرح لے یا کسی ایسے مسلح بہادر سے ( جو ایسا جفاکش اور جنگجو ہو کہ جنگ بازی سے اس کے چہرہ کا رنگ بدل گیا ہو) مقابلہ کس طرح کرے،وہ صرف طبیعت کو بہلانے کے لیے تھوڑا سا تو شہ اپنے ساتھ رکھتا ہے اور قلت ِغذا کے سبب سے وہ ایسا دبلا ہو گیا ہے کہ پسلیوں کی ہڈیوں کے سرے اوپر کو اُبھر آئے ہیں اور انتڑیاں جڑ گئی ہیں (ایک دوسرے سے مل گئی ہیں ) ''
١ صحیح البخاری رقم الحدیث ٥١٨٩ ص ٧٨٠ ٢ دیوان الحماسہ ص ٨٤
مردوں کی طرح خود اعتمادی عورتوں میں بھی ہوتی تھی ، ازدواجی تعلقات میں بھی خود اعتمادی کی پوری جھلک ہوتی تھی بظاہر یہی سبب تھا کہ رشتہ نکاح ایک دوسرے کو عمر بھر کے لیے جکڑ بند نہیں کر دیتا تھا
جب ضرورت ہوتی طلاق کے ذریعہ یہ رشتہ توڑ دیا جاتا تھا پھر مطلقہ کے بھی طلبگار رہتے تھے نکاح اور طلاق زندگی کے معمولی واقعات سمجھے جاتے تھے ! !
پابندیٔ قول و عہد :
قول و پیمان کی پابندی، بد عہدی سے نفرت ، اپنی روایات کو زندہ رکھنا اور ضرورت پڑے تو تحفظ ِروایات کے لیے مرمٹنا عرب کے جوہری اوصاف تھے وہ شخص عرب کہلانے کا مستحق نہیں ہوتا تھا جو ان اوصاف کا حامل اور امین نہ ہو، بڑے بڑے قومی شعراء کے قصائد کا موضوع یہی اوصاف ہوا کرتے تھے اور ان ہی اوصاف کے معیار پر قبائل کی عظمت و شرافت کے مراتب قائم کیے جاتے تھے چند مثالیں ملاحظہ ہوں
(١) سیِّد البشر محمد (رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم) کا سفر ہجرت قریش مکہ کے علی الرغم ایک انقلاب انگیز مگر نہایت پُر خطر اور حد درجہ راز دارانہ اقدام تھا اس سفر کا پورا انتظام سب سے زیادہ فدا کار اور راز دار مخلص رفیق ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس رازداری کے ساتھ کیا کہ اپنے والد ماجد ابوقحافہ کو بھی اس کی خبر نہیں ہونے دی خفیہ راستوں سے سفر کی کامیابی کا مدار رہنماء سفر کی مہارت اور اس کی خیر خواہی اور دیانتداری پر ہوتا تھا ایسے ماہرین سفر کو خرّیت کہا جاتا تھا۔
سب سے زیادہ عجیب بات جو اس موقع پر عرض کرنی ہے وہ یہ ہے کہ اس نہایت پر خطر اور راز دارا نہ سفر کا خرّیت کوئی مسلمان نہیں تھا حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو منتخب کیا تھا جو کفارِ قریش کا ہم مذہب تھا ١ وہ اونٹنیاں جن پر یہ خطر ناک سفر طے کرنا تھا اسی خرّیت کے حوالے کردی گئی تھیں جس کا نام عبداللّٰہ بن اریقط تھا، آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ رات کی اندھیری میں مکہ سے روانہ ہوئے غار ثور میں روپوش ہو گئے، تین روز وہاں قیام فرمایا قریش مکہ نے ان
١ علٰی دِیْنِ کُفَّارِ قُرَیْشٍ( صحیح البخاری رقم الحدیث ٣٩٠٥ ص ٥٥٤ )
کو گرفتار کرنے والے کے لیے بڑے بڑے انعام کا اعلان کر دیا اور خدا جانے اس انعام کے لالچ میں کتنے لوگ دوڑے لیکن عبد اللّٰہ بن اریقط کو کوئی بھی لالچ متاثر نہیں کر سکا وہ طے کردہ پروگرام کے مطابق تیسرے روز ٹھیک وقت پر دونوں اوٹنیاں لے کر '' غار ثور'' پر پہنچا اور ہجرت کرنے والے رفقاء کو لے کر غیر معروف راستہ سے روانہ ہو گیا اور تقریباً تین سو میل لمبی مسافت کو چار روز میں طلے کرا کر مدینہ طیبہ پہنچا دیا ! کفار قریش کے ہم مذہب عبداللّٰہ بن اریقط کی یہ وفا داری کیا اس لیے تھی کہ وہ اپنے پیشہ خریتی (رہنمائی) میں دیانتدار تھا یا اس لیے تھی کہ وہ در پردہ اسلام کا خیر خواہ تھا ؟
اس واقعہ کی روایت کرنے والی حضرت عائشہ ابن اریقط کی وفاداری اور حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے اعتماد کی وجہ یہ بیان فرماتی ہیں
''قَدْ غَمَسَ حِلْفًا فِیْ اٰلِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ السَّہْمِیِّ وَھُوَ علٰی دِیْنِ کُفَّارِ قُرَیْشٍ فَأَمِنَاہُ اس نے عاص بن وائل السہمی کے خاندان سے وہ معاہدہ کر رکھا تھا جس کو یمین غموس ١ کہا کرتے تھے اس پر یہ دونوں مقدس بزرگ (آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم و حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ) مطمئن ہو گئے تھے''
عاص بن وائل السہمی وہی رئیس ہے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا حلیف تھا جس کا ذکر آگے آرہا ہے
(٢) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے تو پورا مکہ برا فروختہ ہو گیا (ایک بہت بڑا ہجوم ان کے مکان پر چڑھ دوڑا آپ کے صاحبزادے عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما بیان فرماتے ہیں
میں مکان کی چھت پر کھڑا ہوا دیکھ رہا تھا پورا میدان برا فروختہ ہجوم سے پٹا ہوا تھا سب طرف یہی شور تھا
صبا عمر '' عمر دین سے پھر گیا ''
حضرت عبداللّٰہ بن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ایک شخص آیا بڑی شان و شوکت کا آدمی تھا
١ بڑے پیالہ یا بادیہ میں خون یا خاص قسم کا خوشبو دار سیال جس کو'' خلوق'' کہا کرتے تھے یا رنگ دار پانی بھر کر اس میں معاہدہ کرنے والے ہاتھ ڈال کر عہد کیا کرتے تھے اس کو یمین غموس کہا کرتے تھے ہندوستان میں بھی پانی میں نمک ڈال کر معاہدہ کیا کرتے تھے کہ اگر ہم اس کی خلاف ورزی کریں تو نمک کی طرح گھل کر فنا ہو جائیں !
یمینی ازار اور چادر جو حبرہ کہلاتی تھیں زیب ِتن تھیں قمیص میں ریشمی کپڑے کی کفیں لگی ہوئی تھیں ، وہ مجمع کو چیرتا ہوا مکان کے اندر والد صاحب (حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) کے پاس پہنچا ان سے دریافت کیا کیا بات ہے ، یہ ہجوم کیسا ہے ؟ آپ کی قوم کے آدمی کہہ رہے ہیں کہ عمر کو مارڈالیں گے اس جرم میں کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں ،حضرت عمر نے جواب دیا ! اس رئیس نے برجستہ کہا ہرگز ایسا نہیں کر سکتے میں نے تم کو امن دے دیا۔یہ رئیس حضرت عمر فاروق سے یہ گفتگوکر کے باہر آیا لوگوں کو مخاطب کیا یہ ہجوم کیسا ہے ، کیا چاہتے ہو ؟ ہجوم نے جواب دیا عمر اپنے دین سے برگشتہ ہو گیا ہے ہم اس کو قتل کریں گے
رئیس : عمر میری پناہ میں ہیں تم ان کا بال بیکا نہیں کر سکتے ! !
عبداللّٰہ بن عمر فرماتے ہیں ، جیسے ہی اس شخص کی زبان سے امن اور پناہ کے الفاظ نکلے سارا مجمع کائی کی طرح چھٹ گیا، میں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا یہ شخص کون ہے ؟ مجھے بتایا گیا یہ عاص بن وائل ہے ١ قبیلہ بنوسُہیم کا سردار جو ہمارے قبیلہ کا حلیف ہے ٢
١ تاریخ اسلام کے مشہور سیاستداں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دست راست حضرت عمرو بن العاص کے والد (قسطلانی ص ٢٦ ج ٤) اور مشہور عابد و زاہد صحابی حضرت عبداللّٰہ بن عمرو بن العاص کے دادا یہ عاص بن وائل جس کو عاصی بن وائل بھی کہتے ہیں مسلمان نہیں ہوا ہجرت سے پہلے اس کا انتقال ہو گیا ان کے بیٹے عمرو بن العاص واقعہ ہجرت سے چھ سال بعد مسلمان ہوئے مگر جو معاہدات تھے وہ عاص بن وائل کے مرنے سے ختم نہیں ہوئے عبد اللّٰہ بن اریقط اسی خاندان کا حلیف تھا اور عجیب بات یہ ہے کہ عاص بن وائل ان چار مشہور افراد میں سے ایک تھا جو دہریہ اور زندیق مشہور تھے معاذ اللّٰہ خداکو بھی نہیں مانتے تھے یہ چار یہ تھے عاص بن وائل ، عقبة بن ابی معیط ، ولید بن مغیرة ، ابی بن خلف ( عینی شرح بخاری ص ٤٤٤ ج ٥)
یہی عاص بن وائل ہے کہ حضرت خبّاب بن ارت کے کچھ دام اس پر واجب تھے انہوں نے تقاضا کیا تو عاص نے جواب دیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ساتھ چھوڑ دو تو میں دام ادا کروں گا۔ حضرت خبّاب نے جواب دیا تو مر جائے مرکر زندہ ہو تب بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتا عاص کو اب مذاق سوچھا اس نے کہا جب میں مرکر زندہ ہوں گا تو میری دولت اور میری اولاد بھی مجھے ملے گی میں تمہارے دام وہاں ادا کر دوں گا ( بخاری ص ٣٠٤ )
لیکن معاہدات کا معاملہ عقائد سے جدا تھا ایک طرف اسلام کا سخت مخالف، دوسری جانب حضرت عمر کو پناہ دے رہا ہے
لَقَدْ صَدَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ عليہ وسلم اِنَّ اللّٰہَ یُؤَیِّدُ ہٰذَا الدِّیْنَ بِرَجُلٍ فَاسِقٍ ٢ صحیح البخاری ص ٥٤٥
(٣ ) ابوسفیان، قریش مکہ کا سربراہ ، اسلام اور مسلمانوں کا سخت دشمن ، جنگ احد کا بانی جو غزوہ ٔاحزاب میں مسلمانوں سے بری طرح شکست کھا چکا تھا جس کے بعد اس کی قیادت کا آفتاب بھی ڈھلنے لگا تھا وہ قریش کے تاجروں کے ساتھ شام پہنچا ہوا ہے۔ شہنشا ہ روم ''ہرقل'' بھی یروشلم کی زیارت کے لیے شام آیا ہوا ہے اسی زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب گرامی ہرقل ''عظیم الروم '' کے نام پہنچتا ہے ہرقل اس ''مدعی نبوت '' (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) کے متعلق تحقیق کرنا چاہتا ہے اور جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ عمائدین مکہ بسلسلہ تجارت یہاں آئے ہوئے ہیں تو انہیں دربار میں طلب کرتا ہے ابو سفیان امیر قافلہ تھے لہٰذا ان سے سوالات کرتا ہے
ہرقل نے اپنے طور پر ایسا انتظام کر لیا تھا کہ ابو سفیان اس پرمجبور ہوں کہ وہ ہر ایک سوال کا جواب صحیح صحیح دیں اور واقعہ یہ ہے کہ ابوسفیان نے ہر ایک سوال کا جواب نہایت معقول اور نہایت صحیح دیا مگر اس بنا پر نہیں کہ وہ ہر قل کے انتظام سے متاثر تھا بلکہ خود ابو سفیان کے الفاظ میں اس کی وجہ یہ تھی
وَاللّٰہِ لَوْ لَا الْحَیَائُ یَوْمَئِذٍ مِنْ اَنْ یَّأْثُرَ اَصْحَابِیْ عَنِّی الْکَذِبَ لَحَدَّثْتُہ عَنِّیْ حِیْنَ سَأَلَنِیْ عَنْہُ ( وَلٰکِنِّی اسْتَحْیَیْتُ اَنْ یَّأْثُرُوا الْکَذِبَ عَنِّیْ فَصَدَقْتُہ ) ١
''یعنی مجھے اس سے شرم آئی کہ میرے ساتھی یہ کہیں گے کہ میں نے غلط بیانی کی قسم بخدا اگر یہ شرم نہ ہوتی کہ میرے ساتھی میری غلط بیانی نقل کریں گے تو میں اپنی طرف سے کچھ باتیں کہہ دیتا جب وہ مجھ سے سوال کر رہا تھا( لیکن مجھے شرم آئی کہ وہ مجھ سے جھوٹ منسوب کریں اس لیے میں نے سچ کہا )
(جاری ہے )
( ماخوذ از سیرتِ مبارکہ '' محمد رسول اللّٰہ '' صلی اللہ عليہ وسلم ص ٧٣ تا ٨٦ ناشر کتابستان دہلی )
١ صحیح البخاری رقم الحدیث ٢٩٤١ ص ٤١٢
٭٭٭
مقالات حامدیہ
٭٭٭
دیانت ،محنت اور کسب ِ حلال کی اہمیت ! !
قطب الاقطاب عالمِ ربانی محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں
عنوانات ، حاشیہ و نظرثانی بتغیرِ یسیر : حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب
٭٭٭
یہ مضمون اگست ١٩٦٩ء میں ''اسلام اور عصر حاضر کے تقاضے''کے زیر عنوان لاہور میں محکمہ اوقاف کے تحت منعقد ہونے والے چار روزہ سیمینار میں پڑھا گیا۔ (ادارہ)
٭٭٭
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا
وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ !
اسلام نے کسب ِحلال اور اپنی محنت سے کمانے پر جتنا زور دیا ہے اتنا کسی مذہب میں زور نہیں دیا گیا، حدیث شریف میں ارشاد ہے :
طَلَبُ کَسْبِ الْحَلَالِ فَرِیْضَة بَعْدَ الْفَرِیْضَةِ ( مشکوة رقم الحدیث ٢٧٨١ )
''حلال کمائی طلب کرنی مسلمان پر فرض کے بعد دوسرا فرض ہے ''
یعنی اگر پہلا فرض صحیح عقائد وعبادات ہیں تو دوسرا کسب ِ حلال ہے کیونکہ بغیر کمائے نظامِ معاشِ انسانی نہیں چل سکتا اور حلال کمائی ہی تقویٰ اور طہارت کی بنیاد ہے !
٭ صِفَةُ الصَفْوَة میں ابوالفرج ابن الجوزینے ایک پسندیدہ شخصیت کا واقعہ لکھا ہے کہ
''نافع جو حضرت عبداللّٰہ ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما کے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) تھے بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ گرمیوں کے دنوں میں مدینہ منورہ کے اطراف میں ایک جگہ حضرت ابن عمر کے ساتھ گیا، ساتھ میں کچھ اور لوگ بھی تھے دستر خوان بچھایا گیا، اتنے میں ایک چرواہا گزرا ! حضرت عبداللہ (رضی اللہ عنہ)نے اسے کھانے میں شرکت کے لیے بلایا
اس نے عرض کیا کہ میں روزہ سے ہوں ! !
حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ اتنی سخت گرمی میں ان گھاٹیوں اور پہاڑوں میں بکریوں کے پیچھے پیچھے پھر رہے ہو اور روزہ سے ہو ! ! ؟
اس نے عرض کیا کہ اُبَادِرُ اَیَّامَ الْخَالِیَةِ میں نیکی میں ان دنوں سے سبقت کر رہا ہوں جو گزر ہی جائیں گے (یعنی اس وقت کو غنیمت سمجھتا ہوں جو گزر رہا ہے اور اسے کام میں لانے میں عجلت سے کام لے رہا ہوں کیونکہ یہ پتہ نہیں کہ کتنی مدت اور باقی ہے اور وقت ایسی چیز ہے جو گزر ہی جاتا ہے) ! !
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کا یہ جواب عجیب لگا ! آپ نے فرمایا کہ پھر ایسا کرو کہ ایک بکری ہمارے ہاتھ فروخت کردو ہم اسے ذبح کر کے کچھ گوشت تمہیں دے دیں گے اس سے تم افطار کر لینا ! !
اس نے کہا کہ یہ بکریاں میری نہیں ہیں میرے آقا کی ہیں (اور مجھے فروخت کرنے کا اختیار نہیں ہے)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی یہ دیانت و عبادت دیکھی تو اسے تھوڑا سا آزمانا چاہا، فرمایا کہ اگر تم اپنے آقا سے جواب میں یہ کہہ دو گے کہ اسے بھیڑیا کھا گیا تھا تو وہ کیا کہے گا ! ! ؟
اس نے یہ بات سنی اور اپنی دونوں انگلیاں آسمان کی طرف اٹھا کر کہا فَاَیْنَ اللّٰہُ ؟ پھر خدا کہاں ہے ؟ اور چلا گیا ! !
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ پر اس جواب کا بہت اثرہوا اور با ر بار دہراتے رہے قَالَ الرَّاعِیْ فَاَیْنَ اللّٰہُ ؟ چرواہا کہتا ہے ! پھراللہ کہاں ہے ؟ ''
اس واقعہ میں ایک غلام کی دیانت داری ،محنت اور کسب ِ حلال کا حال معلوم ہورہا ہے اگر وہ ساری باتیں کر لیتا لیکن کسب ِحلال نہ ہوتا توسب بیکار تھا ! ! !
حدیث پاک میں ارشاد ہے :
اِنَّ اللّٰہَ طَیِّب لاَ یَقْبَلُ اِلَّاطَیِّبًا وَاَنَّ اللّٰہَ اَمَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ بِمَا اَمَرَبِہِ الْمُرْسَلِیْنَ فَقَالَ ( یَاَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا )
وَقَالَ تَعَالٰی ( یَاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ )
ثُمَّ ذَکَرَ الرَّجُلَ یُطِیْلُ السَّفَرَ اَشْعَثَ اَغْبَرَ یَمُدُّ یَدَیْہِ اِلَی السَّمَآئِ یَارَبِّ یَارَبِّ وَ مَطْعَمُہ حَرَام وَمَشْرَبُہ حَرَام وَ مَلْبَسُہ حَرَام وَ غُذِیَ بِالْحَرَامِ فَاَنّٰی یُسْتَجَابُ لِذَالِکَ ؟ ( مشکوة المصابیح رقم الحدیث ٢٧٦٠ )
''حق تعالیٰ عیوب سے پاک ہیں اور وہ مالِ حلال ہی قبول فرماتے ہیں اور حق تعالیٰ نے مومنین کو اس بات کا حکم فرمایا ہے کہ جس کا رسولوں کو حکم فرمایا تھا
''حلال راہوں سے کھاؤ اور نیک کام کرو''
تو دوسری جگہ عام مؤمنین کو خطاب کرکے یہی بات ارشاد فرمائی
'' اے ایمان والو ! حلال چیزیں کھاؤ جوہم نے تمہیں عطا کی ہیں ''
پھر فرمایا کہ'' ایک آدمی لمبا سفر کرتا ہے پرا گندہ سر اور غبارآلود ہوتا ہے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف دراز کر کے یَارَبِّ یَارَبِّ کہتا ہے حالانکہ اس کا کھانا حرام ہے پینا حرام ہے لباس حرام ہے اور اسے (پہلے ہی سے ) حرام پر پالا گیا ہے توایسے آدمی کی دعا کہاں قبول کی جائے گی '' ! ! ؟
دیانت کا پھل :
اس غلام کی یہ محنت و دیانت رائیگاں نہیں گئی بلکہ حضرت عبداللہ مدینہ منورہ تشریف لائے تواس کے آقا کے پاس آدمی بھیجا اور اس غلام کو اور ان بکریوں کوخرید کر غلام کو آزاد کردیا اور اسے وہ بکریاں بخش دیں ! ! !
حق تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے کہ ( اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا ) ١
''جو اچھاکام کرتا ہے ہم اس کا اجر رائیگاں نہیں جانے دیتے''
ایک اور سبق آموز واقعہ !
ابن جوزی رحمة اللّٰہ علیہ ایک اسی قسم کے مقبولِ بارگاہ بندے کا ذکر کرتے ہیں جو مدینہ منورہ میں رہا کرتے تھے محمد ابن منکدر فرماتے ہیں کہ
'' میں ایک مرتبہ رات کو منبر کے سامنے دعا مانگ رہا تھا کہ ایک شخص پر نظر پڑی جو اسطوانہ (ستون) کے پاس سر اوپر اٹھا کر دعا کر رہا تھا
اے پروردگار ! قحط ، تیرے بندوں کے لیے بہت شدید ہو گیا ہے !
اے پروردگار ! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو ضرور بارش نازل فرما دے !
اس کے بعد تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ بادل آیا اور بارش شروع ہو گئی !
ابنِ منکدر اپنے دل میں سوچنے لگے کہ ایسا شخص مدینہ شریف میں موجودہے اور میں اس سے متعارف نہیں ہوں ! ؟ توجی چاہا کہ ایسے بزرگ سے ضرور واقفیت حاصل کی جائے، وہ صاحب جب نمازِ فجر سے فارغ ہوئے توانہوں نے اپنے سر پر کچھ اوڑھا اور چل دیے ! ابن منکدر نے ان کے پیچھے پیچھے جا کر ان کی رہائشگاہ دیکھ لی اور پھر دن میں دوسرے وقت وہاں ملنے کے لیے پہنچے تو اندر سے لکڑی تراشنے کی آوازآرہی تھی ! انہوں نے اجازت چاہی اندر پہنچے تودیکھاکہ وہ خود لکڑی کے پیالے تراش رہے ہیں ! !
ابنِ منکدر نے ان سے گفتگو کے دوران درخواست کی کہ اگر آپ کو اتنا دیا جائے کہ آپ یکسو ہوکر خدا کی عبادت کرتے رہیں توکیسا ہو ؟ ؟
١ سورة الکھف : ٣٠
انہوں نے انکار کر دیا اور ہدایت کی کہ اس رات کی بات کی تشہیر نہ کریں ، نہ میری زندگی بھر کسی کو بتلائیں اور نہ ہی یہاں ملنے آیا کریں ! اگر آپ آتے رہے تولوگوں میں میری شہرت ہو جائے گی '' ! ! !
اس واقعہ میں یہ سبق ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ اپنے ہاتھ سے محنت کر کے کمائے اور رزقِ حلال حاصل کرے
کمائی کا فرق :
اور اس سے پہلے مذکورہ بالا حدیث شریف میں آپ نے دیکھا کہ مالِ حرام اکٹھا کرنے والے کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اس کی دعا قبول نہیں ہوتی ! اس کے بالمقابل اس عابد ِمدینہ منورہ کی دعا کیسے قبول ہوئی بلکہ وہ کیسے مُستجاب الدعوات تھے ! ! !
انبیاء اور کمائی :
عام لوگوں کا تو ذکر ہی کیا ،اللہ کے انبیاء کبھی بھی خالی نہیں بیٹھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بکریاں چرانا توقرآنِ حکیم میں ہے ! اور سب انبیاء ِکرام کا بکریاں چرانا حدیث شریف میں مذکور ہے ! رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ''ہرنبی نے بکریاں چرائی ہیں '' ! !
ایک دفعہ ارشاد فرمایا
مَا اَکَلَ اَحَد طَعَامًا قَطُّ خَیْرًا مِنْ اَنْ یَّأْکُلَ مِنْ عَمَلِ یَدَیْہِ وَاَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ دَاودَ کَانَ یَأْکُلُ مِنْ عَمَلِ یَدَیْہِ۔ ( صحیح البخاری کتاب البیوع رقم الحدیث ٢٠٧٢ )
''اپنے ہاتھ کی محنت سے کمائے ہوئے سے بہتر رزق کسی نے کبھی نہیں کھایا اور اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی محنت سے رزق حاصل کر کے کھایا کرتے تھے'' !
حضرت رافع بن خدیج رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے سچے رسول اَیُّ الْکَسْبِ اَفْضَلُ کون سی کمائی افضل ہے ؟ ؟
قَالَ عَمَلُ الرَّجُلِ بِیَدِہ وَکُلُّ بَیْعٍ مَبْرُوْرٍ ارشاد فرمایا کہ انسان کی اپنے ہاتھ کی کمائی اور ہر وہ خریدو فروخت جو (مذہباًدرست ہو اور) اللہ کے نزدیک بھلی ہو !
جناب رسالت مآب صلی اللہ عليہ وسلم نے مکی زندگی میں تجارت کی ہے البتہ مدینہ منورہ میں حالات دوسرے تھے وہاں جہاد کاسلسلہ زیادہ رہا ! ! !
خرچ :
قرآنِ پاک ایسی ہی پاکیزہ کمائی خرچ کرنے کا مطالبہ کرتا ہے ! !
( یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ ) (سورة البقرة : ٢٦٧ )
''اے ایمان والو ! اپنی کمائی میں سے پاکیزہ چیزیں خرچ کرو''
رسالت مآب صلی اللہ عليہ وسلم نے ایک مرتبہ یہ جملہ بھی ارشاد فرمایا
عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَة ١ ''ہر مسلمان پر صدقہ دینا لازم ہے''
گویا اس طرح کمانے پر آمادہ فرمایا اور کمائی کے طریقے بھی بتلائے !
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی رسی لے کر اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھہ لاد کر لائے اور بیچ دے اور اللہ تعالیٰ (اس کے ذریعے) اس کے چہرے کو ذلت سے بچالے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ لوگوں سے سوال کرے اور لوگ دیں یا منع کریں ٢
حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب صدقہ کی آیت اتری توہم بوجھ اٹھا اٹھا کر کمایا کرتے تھے (اور صدقہ دیا کرتے تھے) ٣
حضرت حکیم بن حزام حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا کے بھتیجے ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم سے مانگا تو آپ نے عنایت فرمادیا، اسی طرح تین دفعہ ہوا، تیسری دفعہ میرے سوال کے مطابق عطا فرما کر رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے کچھ نصیحتًا ارشاد فرمایا اس میں یہ جملہ بھی تھا
اَلْیَدُ الْعُلْیَا خَیْر مِّنَ الْیَدِ السُّفْلٰی یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے ٤
رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی نصیحتوں کے بعد انہوں نے اس پر اتنی سختی سے عمل کیا کہ کبھی کسی سے کچھ نہیں لیا اپنی کمائی پر زندگی بسر کی۔
١ بخاری شریف ص ١٩٤ ٢ بخاری شریف ص ١٩٦ ٣ بخاری شریف ص ١٩٠ ٤ بخاری شریف ص ١٩٢
حضرت حکیم بن حزامنے ایک دوسری روایت میں ایک نہایت پیارا جملہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم سے نقل فرمایا ہے کہ آپ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا :
مَنْ یَّسْتَعْفِفْ یُعِفَّہُ اللّٰہُ وَمَنْ یَّسْتَغْنِ یُغْنِہِ اللّٰہُ ۔ ( صحیح البخاری ص ١٩٢)
''جو (سوال وغیرہ عیوب سے) پاک رہنا چاہے اللہ اسے پاک رکھتا ہے اور جو (لوگوں اور مخلوق سے) بے نیاز رہنا چاہے اللہ اسے بے نیاز کردیتا ہے''
غرض ایک مسلمان کو طرح طرح دیانت داری، محنت، جانفشانی اور رزقِ حلال حاصل کرنے کی تعلیم دی گئی ہے اور وعدہ کیا گیا ہے کہ اگر تم نے ایسا کیا تو خدا کی مدد تمہارے شاملِ حال ہوگی ! !
ایک اور واقعہ :
٭ آخر میں ایک واقعہ جو ابنِ جوزی نے سنداً نقل کیا ہے پیش کرتا ہوں اور اسی پر اس مضمون کو ختم کرتا ہوں ! عبداللّٰہ بن فرج نے(اپنے ساتھ پیش آنے والا) ایک سبق آموز واقعہ نقل کیا ہے کہ
''میں ایک مرتبہ گھر میں مرمت کا کام کرانے کے لیے آدمی کی تلاش میں نکلا لوگوں نے کہا کہ دیکھو وہ شخص ہے اس سے بات کر لو، میں نے دیکھا کہ ایک خوبصورت آدمی ہے جس کے پاس معماروں کا سامان ہے ! ! ١
میں نے اس سے کہا کہ کام کرو گے ؟ ؟
اس نے کہا میری اجرت ایک درہم اور ایک دانق ٢ ہوتی ہے ! اور میری یہ شرط ہے کہ جب اذان ہوگی میں کام چھوڑ دوں گا تاکہ کپڑے بدل کر بدن پاک کر کے نماز جماعت سے پڑھ سکوں ، ظہر اور عصر کے وقت میں ایسے کروں گا ! !
اس نے اس اجرت پر تین دن بڑی جفاکشی سے خاموشی کے ساتھ کام کیا ! !
اس کے بعد ایک دفعہ اورضرورت ہوئی تو میں اس کی تلاش میں نکلا ! معلوم ہوا کہ وہ ہفتہ میں فلاں دن ایک دفعہ آتا ہے ، میں اسی دن گیا اور اسے لے آیا لیکن اس دفعہ میں نے جب اس سے بات کی تو میرا جی چاہا کہ درہم کے ساتھ
١ مستریوں کے اوزار ہیں ٢ دَانِقْ 6 =/1 درہم
دانق لگانے کی وجہ معلوم کروں ! اس لیے اس نے جب کہا کہ میں ایک درہم اور ایک دانق لوں گا !
تو میں نے گول مول بات کی اور کہا کہ ہاں درہم ! !
اس نے کہا کہ درہم اور دانق !
میں نے کہا چلو !
شام کو میں نے اسے ایک درہم دیا ! !
کہنے لگا یہ کیا ہے ؟ ؟
میں نے کہا کہ درہم ہے ! !
اس نے کہا کہ میں نہیں کہا تھا کہ میں ایک درہم اور ایک دانق لوں گا
اف ! تم نے میرا نظام درہم برہم کردیا ! ! ؟
میں نے کہا کہ میں نے توایک درہم کہا تھا ! !
وہ کہنے لگا کہ میں اب کچھ نہیں لوں گا ! !
میں نے اسے درہم اور دانق دیااور کہا لو ! !
اس نے کہا سبحان اللّٰہ ؟ ! میں کہہ چکا ہوں کہ میں نہیں لوں گا اور تم اصرار کررہے ہو وہ انکار کر کے چلے گئے ! ! ؟
میں گھر آیا تو بیوی نے مجھے ملامت کی ! ! ؟
اس کے بعد ایک دفعہ میں ان کی تلاش میں پھر گیا مکان دریافت کیا اندر آنے کی اجازت چاہی دیکھا تو ان کو پیٹ کی کوئی تکلیف تھی ! اور سوائے کاریگری کے دو اوزاروں کے گھر میں کچھ نہ تھا ! ! !
میں نے سلام کیا اور عرض کیا کہ مجھے آپ سے کام ہے اور مومن کو خوش کرنے کی فضیلت آپ کو معلوم ہی ہے ،میں یہ چاہتاہوں کہ آپ میرے پاس گھر میں یہ بیماری کے دن گزارلیں ! ! ! ؟
وہ کہنے لگے کیا واقعی تم یہ چاہتے ہو ؟
میں نے کہا جی ہاں ! !
انہوں نے کہا تین شرطوں کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے ! ! !
میں نے کہا مجھے یہ بھی منظور ہے ! !
کہنے لگے کہ جب تک میں کھانے کے لیے خو د ہی نہ کہوں آپ مجھ سے کھانے کی فرمائش نہ کریں ! !
اور جب میرا انتقال ہوجائے تو مجھے میری اسی چادر اور جبہ میں دفن کردیں ! !
میں نے کہا میں ایسا ہی کروں گا ! !
کہنے لگے تیسری شرط ان سب سے زیادہ سخت ہے اور ہے بھی مشکل ! ! !
میں نے کہا کہ چاہے مشکل ہو مجھے منظور ہے ! ! !
وہ انہوں نے نہیں بتلائی مگر میں انہیں ظہر کے وقت اپنے مکان پر لے آیا ! !
رات گزری تو صبح کو انہوں نے مجھے آواز دے کر کہا کہ
یہ میرے نزع کا وقت ہے میرے جبہ کی آستین میں ایک تھیلی ہے وہ کھولو ! !
میں نے کھولی تو اس میں ایک انگوٹھی تھی اس پر سرخ نگ جڑا ہوا تھا ! !
وہ کہنے لگے میری موت کے بعد جب دفن سے فارغ ہو جاؤ تو یہ انگوٹھی ہارون کو جو امیر المؤمنین ہیں ،دے دینا اور یہ کہہ دینا کہ اس انگوٹھی والے نے یہ پیغام دیا ہے کہ
آپ اپنے اس نشۂ غفلت میں موت کے آنے سے بچیں کیونکہ اگر اسی حالت میں موت آئی تو ندامت اٹھانی پڑے گی ! ! !
جب میں ان کی تدفین سے فارغ ہوا تو میں نے معلومات حاصل کیں کہ ہارون رشید کس دن عوام سے ملاقات کرتے ہیں ! میں نے ایک پرچا لکھا اور انہیں دے دیا ! مگر بڑی تکلیف سے میں ان تک پہنچ سکا ! !
جب ہارون نے اپنے محل میں جا کر یہ رقعہ پڑھا تو مجھے بلالیا اور کچھ ڈانٹ ڈپٹ کی !
میں نے اس کے غصہ کے تیور دیکھ کر انگوٹھی نکالی ! جب اس نے انگوٹھی دیکھی تو پوچھا کہ تمہارے پاس یہ انگوٹھی کہاں سے آئی ؟ ؟ ! !
میں نے کہا کہ مجھے تو ایک معمار نے دی ہے ! ! !
اس نے بہت تعجب سے کہا معمار نے ؟ ! معمار نے ؟ ! پھر مجھے اس نے اپنے نزدیک بلالیا ! ! !
میں نے کہا ''اے امیر المومنین ! اس نے مجھے ایک وصیت بھی کی تھی'' ! !
اس نے کہا کہو کیا وصیت کی تھی ؟
میں نے کہا کہ امیر المومنین ! اس نے مجھ سے یہ کہا تھا کہ جب یہ انگوٹھی پہنچا دو تو کہنا کہ اس انگوٹھی والے نے آپ کو سلام کہا ہے اور یہ کہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کو اس نشۂ غفلت میں موت آئے کیونکہ اگر اس حالت میں موت آئے تو ندامت اٹھانی پڑے گی ! ! !
ہارون رشید یہ بات سنتے ہی کھڑا ہو گیا اور اپنے آپ کو بچھے ہوئے فرش پر زور سے گرا کر تڑپنے لگا اور زبان سے کہتا جاتا تھا کہ
'' اے پیارے بیٹے ! تو نے اپنے باپ کو( صحیح) نصیحت کی ''
میں یہ دیکھ رہا تھا اور دل میں سوچ رہا تھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کا بیٹا تھا پھر تھوڑی دیر بعد طبیعت سنبھلی تو بیٹھ گیا اور لوگ پانی لائے اس کا منہ پونچھا تو مجھ سے پوچھنے لگا کہ تمارا اس سے کیسے تعارف ہوا ؟ ؟
تو میں نے سارا واقعہ سنایا ! ! وہ پھر رونے لگا پھر اس نے خود ہی بتلایا کہ
یہ میرا سب سے پہلا لڑکا تھا میرے والد میری شادی زبیدہ سے کرنی چاہتے تھے اور میں نے ان کی اطلاع کے بغیر اس کی والدہ سے شادی کر لی تھی وہ بہت خوبصورت خاتون تھی ! اس سے یہ بچہ پیدا ہوا ! میں نے والد کا منشاء دیکھتے ہوئے ان دونوں کو بصرہ پہنچادیا ! ! اس بیوی کو یہ انگوٹھی اور دیگر اشیاء دیں اور کہا کہ اپنے آپ کو چھپائے رکھنا اور اگر میں تخت نشین ہوجاؤں تو میرے پاس آجانا ! !
اس لڑکے نے علم حاصل کیا اور قرآنِ پاک حفظ کیا، بہت اچھی صلاحیتیں تھیں !
میں نے تخت ِخلافت پر بیٹھتے ہی انہیں تلاش کیا تو معلوم ہوا کہ ان دونوں کا انتقال ہو گیا ہے اور یہ پتہ نہ چل سکا کہ لڑکا حیات ہے ! تم یہ بتلاؤ کہ اسے تم نے کہاں دفن کیا ہے ؟ ؟
میں نے کہا مقابرِ عبداللّٰہ بن مالک میں ! !
پھر ہارون ، عبداللّٰہ بن فرج کے ساتھ اس کی قبر پر گیا ،رات بھر روتا رہا، اپنے سر اور داڑھی کو قبر پر پھیرتا تھا اور بار بار کہتا تھا '' بیٹا ! تو نے اپنے باپ کو نصیحت کردی ''
میں ہارون کی اس حالت کو دیکھ کر رونے لگا صبح کے وقت واپس آیا
ہارون رشید نے عبداللّٰہ بن فرج کے لیے دس ہزار درہم کا حکم فوراً ہی دے دیا اور کہا کہ تم اور تمہارے اہل و عیال وغیرہ جن کی بھی تم پر ذمہ داری ہے سب کو اپنے گھر والوں کے ساتھ لکھے لیتا ہوں ! تم نے میرے بیٹے کی تجہیز و تکفین کی ہے، تمہارا مجھ پر حق ہے ! بلکہ میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو بھی تمہارے متعلق وصیت کر جاؤں گا'' ! !
بہرحال اس قصہ سے یہ معلوم ہو رہا ہے کہ اہل اللہ اپنی محنت اور قوتِ بازو کی کمائی پر قناعت پسند کیا کرتے تھے اور وہ اللہ کے پیارے تھے ! ! !
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی رزقِ حلال نصیب فرمائے اور اپنی رضا و توفیقِ مرضیات سے نوازے ، آمین !
٭٭٭
بنیادی مذہبی تعلیم
( حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب نور اللہ مرقدہ )
٭٭٭
انسانی دل ودماغ کی تعمیر اور اس کی ذہنی قوتوں کے نشو وارتقا کا واحد ذریعہ تعلیم و تربیت ہے پندونصیحت ،وعظ و تلقین اور تذکیر وموعظت بلا شبہ نافع اور ضروری ہیں لیکن ان سے ذہن بنایا نہیں جاسکتا ،یہ چیزیں بنے بنائے ذہن میں صرف انبساط، شگفتگی اور وسعت پیدا کرسکتی ہیں اس لیے کسی قوم کے ذہن بنانے اور دل و دماغ کسی خاص سانچے میں ڈھالنے کے لیے صرف تعلیم ہی ایک مؤثر اور پائیدار ذریعہ ثابت ہوئی ہے جس نے تاریخی طور پر ہمیشہ ہی ذہن سازی کا اثر دکھلایا ہے ! !
باری تعالیٰ خود معلم اور خود ہی ممتحن :
مسئلہ تعلیم کی اہمیت اور اوّلیت کا اندازہ صرف اسی ایک بات سے ہوسکتا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ نے خلافت کا مسئلہ اٹھا کر تخلیق ِآدم کے بعد سب سے پہلے جس مسئلے کی طرف توجہ منعطف فرمائی وہ مسئلہ تعلیم تھا اور وہ بھی اس شان سے کہ آدم کو سکھانے پڑھانے کا ذمہ بلا واسطہ خود ہی لیا، خود ہی انہیں تعلیم دی اور پھر خود ہی انہیں امتحانِ مقابلے میں بٹھلاکر کامیاب ہونے کا موقع عطا فرمایا جس سے خلافت اور تنظیمِ عالم کا مسئلہ خود بخود حل ہوگیا ! !
مقدسین کا قافلہ :
پھر انسانوں سے دنیا آباد ہو جانے پر تمام انسانی حلقوں میں ، ہر ملت میں اور ہر قوم میں انبیاء علیہم السلام مبعوث فرمائے اور کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار مقدسین کا یہ قافلہ دنیا کے اس سرے سے اس سرے تک گھمایا جو اپنے نقطہ آغاز سے لے کر نقطہ انتہا وتکمیل تک کے ہزار ہا سالہ سفر میں وقتاً فوقتاً جتھوں میں پہنچتا رہا۔ کیا اس کی غرض تعلیم وتربیت کے سوا بھی کچھ تھی ؟ نہیں ، بلکہ اس پاک گروہ کے آخری فردِ اکمل محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے نبوت کی اس بنیادی غرض و غایت (تعلیم وتربیت) پر اپنی مہر تصدیق ان الفاظ میں ثبت فرمادی کہ اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا ''میں بھیجا ہی گیا ہوں معلم بناکر'' اور بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الاَخْلَاق ''میرے بھیجے جانے کی غرض وغایت ہی تکمیل اخلاق ہے''
تعلیم وتربیت میں باری تعالیٰ کا اہتمام وتوجہ :
پس اگر بعثت انبیاء کی غرض وغایت ہی تعلیم وتربیت تھی اور بلا شبہ یہی تھی تو اندازہ کیجیے کہ رب العالمین نے مکتب عالم میں سوا لاکھ سچے معلّموں اور پاک باز استادوں کو بھیج کر مسئلہ تعلیم کو کس درجے اہم بنایا اور کس حد تک اس مسئلے پر اپنی مخصوص عنایت وعطوفت مبذول فرمائی ؟
پھر اس اہتمام وتوجہ کا عالم یہ ہے کہ ان سارے معصوم استادوں کی تعلیم کی کفالت بھی حق تعالیٰ نے بذاتِ خود ہی فرمائی اور بلا توسط کتاب واستاد بنفس کریم خود انہیں سکھا پڑھا کر دنیا کی تعلیم گاہ میں بھیجا تاکہ وہ انسانوں کی جبلی جہالت کو مٹا کر انہیں تعلیم یافتہ بنائیں اسی پربس نہیں کی گئی بلکہ ان کی سیرتوں کو بھی اپنے ہی اخلاق کا نمونہ بناکر بھیجا تاکہ وہ تعلیم بنی آدم کے ساتھ ان ہی اخلاق پر ان سارے انسانوں کی سیرتوں کو بھی ڈھالنے کی جدوجہد فرمائیں اور اس طرح تعلیم وتربیت کا نظام اس عالم میں تا ابد چلتا رہے ! !
یہ نفوس قدسیہ ہر خطہ زمین اور ہر ملت انسانی میں آفتاب ومہتاب بن کر نمایاں ہوئے اور کسی خطہ زمین کو اپنی نور کی بارش سے محروم نہیں فرمایا۔ بتصریح حافظ ابن کثیر محدث، عراق میں حضرت ابراہیم، حجاز میں حضرت ہود وحضرت صالح، شام میں حضرت عیسیٰ وحضرت یحییٰ، مصر میں حضرت موسیٰ وحضرت یوسف، مغربی دمشق میں حضرت الیاس، عبقہ دمعان میں حضرت شعیب ، روم میں حضرت ایوب، انطاکیہ میں حضرت صادق وحضرت صدوق وحضرت شلوم، آذر بائیجان میں حضرت حنظلہ ابن صفوان، موصل ونینویٰ میں حضرت یونس ، اردن کے علاقوں میں حضرت شمویل، سبا ویمن کے لیے حضرت سلیمان، ہند میں حضرت آدم وحضرت شیث، سدوم وغیرہ کے علاقوں میں حضرت لوط اور آخر میں پورے عالم کے لیے حضرت محمد صلاة اللّٰہ و سلامہ علیہم اجمعین آئے ، علمی کمالات اور عمل واخلاق کی پاکیزہ سیرتوں کے ساتھ آئے اور نوع کے اخلاقی، طبعی، ریاضی، عقلی اور الٰہیاتی علوم سے دنیا کو نوازتے ہوئے آئے جنہوں نے بنی نوع انسان کی فطری صلاحیتوں کو ابھار کر انہیں سعادت وخلافت کے بلند مقامات تک پہنچایا جس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اندھیری دنیا کا اجالا صرف مسئلہ تعلیم ہی سے وابستہ ہے ! اگر علم کا آفتاب ان انبیائے مقدسین کے آفاق سے طلوع نہ ہوتا اور یہ مقدسین روم وشام، مصر وعراق، ہندوسندھ، فارس وایران اور دنیا کی سمت سمت میں نہ چمکتے تو دنیا کی فطرتوں میں بھی چاند نانہ ہوتا اور یہ انسانوں کی بھیڑ، ڈھوروں اور ڈنگروں کا گلہ (ریوڑ) ہوکر رہ جاتی ! !
غور کرو تو خود ان انبیائے مقدسین کی عظمت اور تمام عالم بشیریت بلکہ تمام جہانوں پر فوقیت وفضیلت کا راز بھی اسی علم ہی میں پوشیدہ ہے، کیونکہ نبی کو غیر نبی پر فضیلت وحی الٰہی سے ہے اور وحی کا حاصل بجز القائے علم کے اور کیا ہے ؟ اس علم ہی سے ان کی فطری صلاحیتیں عقیدہ وعمل اور خلق وسیرت کے روپ میں چمکتی ہیں اور دنیا اس چمک سے راہ مستقیم پاتی ہے جس کا حاصل وہی علم اور تعلیم ہے !
جمعیة علماء ہند کو تحسین ومبارک باد :
بہرحال ! مقامِ نبوت سے لے کر بارگاہ الوہیت تک علم وتعلیم کا ایک غیر منقطع نظام ہے جو مختلف صورتوں سے اپنے کو نمایاں کرتا رہا ہے جس سے واضح ہے کہ بارگاہِ الٰہی کی جو توجہ اور ازلی عنایت نیز انبیاء علیہم السلام کی جو عطوفت وسعی مسئلہ تعلیم وتربیت پر منعطف رہی ہے وہ کسی اور مسئلے کے حصے میں نہیں آسکی ہے اس لیے آج کے دور میں جو جماعتیں اور جو جمعیتیں مسئلہ تعلیم کو مرکز توجہ بنائے ہوئے ہیں اور ان میں خصوصیت سے جمعیة علماء (ہند) ہماری ہر جہتی تبریک وتہنیت کی مستحق ہے جس نے اس دور میں جبکہ مسلمانانِ ہندوستان دین وعلم کے لحاظ سے بظاہر اسباب پسماندہ اور بے بس محسوس ہورہے ہیں علم اور دین کو سہارا لگا کر اپنے حقیقی فرض کو ادا کیا ہے یا بالفاظ دیگر منشائے خداوندی اور منشائے نبوت کے تقاضوں کو پورا کرنے پر اپنی ہمتیں اور مساعی مرکوز کردی ہیں حتی کہ عروس البلاد وبمبئی میں تعلیمی کنونشن کے نام سے اوروں کی ہمتوں اور مساعی کو بھی اس مسئلے پر جمع کرنے کا فیصلہ کیا ہے کوئی شبہ نہیں کہ یہ حق کی مخفی آواز پر علانیہ لبیک ہے جس کے لیے وہ تمام ملک کی طرف سے شکریہ وتحسین کی مستحق ہے ! !
١٩٤٧ء کے انقلابی ١٨٥٧ء کو سامنے رکھتے :
اگر ١٨٥٧ء کے انقلاب پر دینی نبض شناسوں نے قوم کے دل و دماغ کی تعمیر کے لیے تعلیمی مدارس کا سلسلہ جاری کر کے قوم کو سنبھالاتھا کہ اس کے بغیر اس کے سنبھلنے اور پنپنے کی کوئی دوسری صورت نہ تھی تو آج کے دور میں ان ہی بانیانِ مدارس کے اخلاف رشید کا بھی بلا شبہ یہی فریضہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ ١٩٤٧ء کے دور انقلاب میں بھی قوم کی بے بسی اور ناتوانی کا مداوا اسی علم وتعلیم کی قوت سے کریں جو ہرقوت کا سرچشمہ اور ہر طاقت کا میگزین ہے ! !
اسلام کے نونہالوں کو سنبھالنے کی ضرورت :
یہ ضرورہے کہ ١٨٥٧ء میں تعلیم نے نفس اسلام کو سنبھالا تھا جسے چہار طرف سے خطرات نے گھیر لیا تھا اور آج ١٩٤٧ء میں اسلام کے نانہالوں کو سنبھالنے اور اسلام پر باقی رکھنے کے لیے یہ جدوجہد کی جارہی ہے جن کے علم ودین پر تعلیمی لائنوں سے یلغار کاسلسلہ جاری ہے تاہم دونوں مساعی جبکہ وقت کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں ، عینی شکریے کی مستحق ہیں جن میں کفایت کافی نہیں ہوسکتی !
بمبئی کے اس ٨ جنوری (١٩٥٥ئ) والے کنونشن کا اساسی مقصد اور واحد نصب العین ''بنیادی مذہبی تعلیم'' کے نصاب اور اس کے طریق کار پر غور ہے مگر ایسے انداز سے کہ ہندوستان کے تمام مسلم فرقوں اور تمام مکاتب خیال کے افراد کے لیے یہ یکساں قابل قبول اور قابل عمل ہو اور ہو بھی اس جامعیت کے ساتھ کہ جہاں اس میں محبت اللہ ورسول، خدا پرستی، اطاعت ِ نبوی، پیروی اسوہ حسنہ اور اُخری فلاح وبہبود کا سامان ہو، وہیں تمدنی تقاضوں ، وقت کی ضرورتوں اور ملک کے مصالح کے ساتھ ہم آہنگی کے مواد بھی فراہم ہوں یعنی اس میں دین ودنیا دونوں کی کامیابی کی راہیں کھلی ہوں ، نہ وہ انقطاع پسند، متقشف قسم کے دیندار بنائے اور نہ بے دین اور بے قید قسم کے دنیا دار تیار کرے بلکہ دینی فکروعمل کے ساتھ دنیوی زندگی کے تمام گوشوں سے گزرنے اور ان میں کام کرنے کی اہلیت پیدا کردے یا بہ الفاظ دیگر دیندار اور دنیادار کی قسم مٹاکر دین وملک دونوں کا سچا حامل اور سچا خادم بناسکے
بنے بنائے قدرتی نصاب کی ضرورت ہے :
ظاہر ہے کہ ایسی ہمہ گیر اور مقبول الکل تعلیم اصول وکلیات ہی کے رنگ کی ہوسکتی ہے ورنہ جزئیات اور فروع میں پہنچ کر بہرحال اختلافات کی گنجائش پیدا ہوجاتی ہے اس لیے نصاب کی تیاری کے یہی معنیٰ ہوسکتے ہیں کہ اعتقادات، عبادات، معاملات، معاشرات، قومیات اور سیاسیات میں فروعی اور اختلافی جزئیات سے بالا تر صرف وہی حصے زیر تعلیم آئیں جو اصولی اور کلیاتی ہوں اور پھر اسی کے لازم معنی کے طور پر اس نصاب کے لیے لٹریچر اور کتابیں بھی وہی ہوں جنہیں سارے فرقوں کا کلی اعتماد حاصل ہو، ان کے مصنفوں پر سب کے سب مطمئن ہوں اور بلا تفریق مشرب ومسلک سارے ہی انہیں بلا جھجک قبول کر لیں ۔ ظاہر ہے کہ ایسا لٹریچر کتاب وسنت کے سوا اور دوسرا نہیں ہوسکتا جس کے سامنے سب کی گردنیں بھی جھکی ہوئی ہوں اور جو کامل یکسوئی کے ساتھ دین ودنیا دونوں کی بہبودی اور فلاح کی راہیں بھی کھولتا ہو۔
اس لیے بنیادی مذہبی تعلیم کے نصاب کا مطلب یہ ہوگا کہ دین کے تمام شعبوں ، اعتقادات، عبادات، اخلاق، معاشرات اور تمام قومی سیاسی اور ملکی معاملات کا تعلیمی ڈھانچہ کتاب وسنت کے اس منصوص حصے سے تیار کیا جائے جو ان ضروریات کے بارے میں اصولاً مشعل راہ ہے۔ گویا نصاب بنانے کی ضرورت نہیں بلکہ بنے بنائے قدرتی نصاب میں سے ضروریات کے مطابق اجزاء کاانتخاب کرکے انہیں فصول وابواب اور عنوانات پر ترتیب دے دیا جائے اور ان کے نیچے سادہ مگر جامع ترجمہ کردیاجائے جس سے مدلول نص کی مطلب خیز وضاحت ہو۔
معلم کاکام اتنا ہی ہوگا کہ وہ اپنے سادہ بیان کے ساتھ ان اصول وکلیات کو مثالوں سے واضح کر کے بچوں کے ذہن میں اتار دے اور ان نصوص کے مدلولات کو الفاظ پر منطبق کرتے ہوئے بچے کے دل وماغ میں پیوست کردے ! !
البتہ یہ احتمال پھر بھی رہتا ہے کہ ان نصوص ہی کی تشریح میں دو خیال ہوجائیں اور کوئی فرقہ اپنے ذہن میں ان کی کوئی دوسری شرح لیے ہوئے ہو جس سے نصاب میں پھر اسی اختلافی بنیاد کے قائم ہوجانے کا خطرہ سامنے آجائے ؟ تو اس کا حل اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ ہر فرقہ وگروہ ان آیات وروایات کی وہی شرح کرے جو اس کے مسلک اور مشرب کے مطابق ہو، مادۂ نصاب تو کم از کم ایک اور یکساں رہے گا ! !
یکساں نصاب تعلیم کامسلمانوں پر اثر :
اور ظاہر ہے کہ ایک ایسی قوم میں جس میں اس وقت گروہ بندیوں کی کمی نہیں ، نصاب تعلیم میں اتنی وحدت اور یکسانیت کا منظر عام پر آجانا کہ سادہ نصاب سب کا ایک کہلائے اور سب اس پر جمع شدہ اور متفق دیکھے جائیں ، کوئی معمولی کامیابی نہیں ہے۔ وحدت نصاب کا عنوان خود ایک وزن رکھتا ہے جس کا اثر مسلمانوں کے مستقبل پر بھی پڑے گا اور ان کی سیاسی پوزیشن بھی اس سے اچھا اثر لے گی بلکہ یہ بھی ممکن ہوگا کہ یہ اتنا قدر مشترک باہمی ربط واختلاط کا ذریعہ بن کر آئندہ اس تشریحی اختلافات کو بھی کم اور معتدل بنادے ! !
سیرتِ طیبہ کتاب وسنت کے آثار کے ساتھ نصاب میں ہو :
اس مرحلے پر غور طلب بات یہ ہے کہ منصوصات قرآن وحدیث کے اس مجموعی نصاب سے دین کا ایک ڈھانچہ تو یقیناً بچے کے ذہن میں بیٹھ جائے گا لیکن اس ڈھانچے میں رنگ بھرا جانا اور اس کے خدوخال کو مشخص بناکر نمایاں کیا جانا بغیر تاریخ کے ممکن نہیں ١ یعنی جب تک دین کے ساتھ سیرت کا پہلو شامل نہ ہو اس وقت تک دین کا حقیقی تعارف نہیں ہوسکتا ! اس لیے بنیادی مذہبی نصاب کا ایک
١ یہ لفظ ''خدوخال'' اور ''خط و خال'' دونوں طرح درست ہے۔ یہ وضاحت اس لیے کرنی پڑی کہ گزشتہ کسی مقالے میں یہ ''خط و خال'' لکھا گیا ہے جو صاحب مقالہ نے ہی لکھا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ دیکھنے اور پڑھنے والا یہ رائے قائم کرلے کہ ایک ہی مجلہ اور طرز تحریر الگ الگ ؟ ( تنویر احمد شریفی)
اہم جزویہ بھی ہونا چاہیے کہ شریعت کے ساتھ سیرت بھی متعلّموں کے ذہن میں اتادی جائے جس میں اوّلین مرتبہ سیرت نبوی اور تعامل رسالت کا ہے جس سے کلیات دین کی جزوی تشخیص ہوتی ہے اور ثانوی درجے میں صحابہ اور تابعین کی سیرتیں ہیں جن سے دین کے ڈھانچے کارنگ وروغن بھی سامنے آسکتا ہے اس کی مروجہ صورت تو یہ ہے کہ سیرت کی کوئی بڑی یا چھوٹی کتاب داخل نصاب کردی جائے لیکن میرے خیال ناقص میں شاید اس سے یہ زیادہ بہتر ہوگا کہ اس آیات وروایات کے نصاب میں ہرباب اور ہر فصل سے متعلق سیرت نبوی کا حصہ ان ہی نصوص کے تحت لایا جائے یعنی آپ کے کلمات طیبہ، افعال طاہرہ اور آپ کا پاکیزہ کردار ہر ہر تعلیمی جزو (حصے) کے ساتھ پیش کیا جائے اور پھر اسی باب سے متعلق اس سیرت ِ مقدسہ کے نیچے صحابہ وتعابعین، ائمہ مجتہدین اور صلحائے امت کے چیدہ چیدہ واقعات بھی بطورِ نظائر وشواہد کے جزو (حصہ) نصاب ہوں ! !
حاصل یہ ہے کہ سیرت نبوی اور اولیاء امت کی یہ سیرتیں استقلالی شان سے نہیں بلکہ کتاب وسنت کے آثار ولوازم کے طور پر بطور تابع کے سامنے لائی جائیں جس میں اصل موضوع وہ آیات اور روایات ہی رہیں اس سے جہاں دین کے عملی نقشے کی پوری ہیئت کذائی (موجودہ حالت) سامنے آجائے گی، وہیں دین کی تاریخ بھی اپنے اپنے موقع پر مستفید کے ذہن میں بیٹھ جائے گی اور اسی کے ساتھ بچے کے ذہن پر یہ اثر بھی پڑے گا کہ اہل اللہ نے اگر اس تعلیم کو اپنا کر جزو (حصہ) نفس بنایا تو آج ان کی اس کی بدولت ایک مثالی سیرت بن گئی جو نمونے کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کی جاتی ہے تعلیم کتاب و سنت کا ایک انقلابی تعلیم ہونا ذہن نشین ہوکر اس کا یہ انقلابی اثر ذہنوں میں بھی پیوست ہوجائے گا ! !
یہ تعلیم بلا شبہ اردو میں ہوگی اور تفہیم کاسارا بار بھی اسی مادری زبان پر رہے گا لیکن جب اصل نصاب کی تمام تربنیاد کتاب وسنت پررکھی گئی ہے جو عربیت کا مغز ہیں تو ضروری ہوگا کہ اسی ذیل میں بہت ہی لطیف اور ہلکے پیرائے میں بچوں کو عربیت آشناء بھی بنادیا جائے اور ایسا طریقہ تعلیم اختیار کیا جائے جس سے کم سے کم وقت میں بلا کسی خاص محنت وجاں فشانی کے ضمناً عربیت سے لگا ئو اور گونہ مناسبت پیدا ہوجائے جس سے بچہ کتاب وسنت کے ترجمے کو کسی قدر باضابطہ بھی سمجھنے لگے اس کے لیے اس قسم کا کوئی ایک آدھ رسالہ بھی جز و(حصہ) نصاب بنادیا جائے تو کافی ہوجائے گا ! ظاہر ہے کہ عربیت آشنائی یا عربیت کے مواد کی فراہمی کوئی اختلافی مسئلہ نہیں جس میں فرقہ واریت کا احتمال ہو بالخصوص جبکہ اس میں عربیت کے تمام قواعد کی امثلہ اور نظائر وشواہد بھی کتاب وسنت ہی سے پیش کیے جائیں تو ایک طرف عربیت کی تمرین ہوجائے گی اور دوسری طرف علوم کتاب وسنت بھی خود بخود ذہنوں میں بیٹھتے رہیں گے جو اصل مقصود ہیں ! !
حکومتی بنیادی تعلیم سے بھی فائدہ اٹھایا جائے :
ہاں اس مادۂ نصاب کی ترتیب وانتخاب میں جو کتاب وسنت سے فراہم کیا جائے یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت کی بنیادی تعلیم کے نصاب کو بھی سامنے رکھا جائے
اوّلا : اس لیے کہ اس میں جو امور ملکی بہود وفلاح کے سامنے آجائیں جو عقلاً اور تجربةً قابل قبول ہوں تو انہیں اس نصاب میں قبول کرتے ہوئے ان کے ماخذ بھی کتاب وسنت سے پیش کردیے جائیں تاکہ وہ کلمة الحکمة ضالة المومن کے مصداق بن کر جزو (حصہ ) نصاب ہوں !
ثانیاً : اس لیے کہ جن امور سے کسی بھی مذہبی عقیدہ وعمل پرزد پڑتی ہو اس کے زہر کا تریاق کتاب وسنت سے اس نصاب میں شامل ہوجائے ! حاصل یہ کہ نفیاً اور اثباتاً بنیادی تعلیم کے نصاب سے فائدہ اٹھانے کی پوری پوری کوشش کی جائے اس میں قومی اور ملکی معاملات کے سلسلے کے بہت سے عنوانات اور شقوق جوانب ایسے مل جائیں گے جو انفرادی طور پر سوچنے سے نہیں مل سکتے تھے اور جبکہ ان تمام اصولی شقوق وجوانب کے بارے میں شرعی ماخذ مہیا کر کے شامل نصاب کردیے جائیں گے تو نصاب کا معاملاتی حصہ کافی جامع اور بصیرت افراز ہوجائے گا اور ملکی معاملات کے سمجھنے میں آئندہ نسلوں کو بہت کچھ کام دے گا !
نئے مدارس قدیم مدارس کی بے رونقی کا سبب نہ بنیں :
ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ اس نصاب کو بالکل آخری چیز نہ سمجھ جائے اور نصاب خواں (پڑھنے والے) کو یہ باور نہ ہونے دیا جائے کہ اس نے دینی تعلیم مکمل کرلی اور اب اسے کسی بڑے دینی ادارے میں پہنچ کر کسی استفادے کی ضرورت نہیں رہی ہے ورنہ ان ابتدائی مکاتب کی اس ابتدائی تعلیم کو انتہائی باور کر لینے کا نتیجہ مدارسِ دینیہ سے استغنا اور تکمیل علوم سے بے نیازی کی صورت میں نکلے گا جو مدارس کی تخریب اور علماء کی پیداوار بند ہوجانے پر منتہج ہوگا اور یہ یقینا ایک خطرناک نتیجہ ہے اس لیے اس بنیادی مذہبی تعلیم کے نصاب کا ایک جزو (حصہ) تکمیل علوم اور تحصیل فضائل وکمالات کی ترغیب اور تعلیم کے ابتدائی حصے کو تشنہ تکمیل باور کرانا ہو تاکہ نئے ابتدائی مکاتب پرانے بنے بنائے مدارس کی بے رونقی کا باعث نہ بن جائیں ! !
حفظ ِقرآن کا خاص خیال رکھا جائے :
اس جدید تعلیمی سسٹم کے سلسلے میں یہ بات بھی کافی توجہ طلب ہے کہ ان جدید مکاتب سے جبری تعلیم کے بعض نقائص اور مضرات کا تدارک ضرور ہوجائے گا لیکن حفظ ِقرآن کے شخصی ، خانگی اور جماعتی مکاتب کو جودھکا لگے گا اس کا کوئی علاج اس جدید نصاب سے نہیں ہوسکتا ! چھ سے بارہ ہی سال تک کی عمر حفظ ِ قرآن کی ہے اس عمر میں جبری تعلیم میں پورا وقت دے کر اور پھر خارج میں ایک دو گھنٹے بنیادی مذہبی تعلیم میں لگا کر نا ممکن ہے کہ بچہ حفظ ِقرآن کی محنت بھی برداشت کر سکے جس کا حاصل حفظ ِقرآن کا انقطاع اور حفاظ کی پیداوار کا انسداد ہے !
ظاہر ہے کہ اس کا علاج نہ بنیادی مذہبی تعلیم کا اجرا ہے اور عمر اور وقت کا بڑھادیا جانا بھی دائرہ امکان میں نہیں ہے اس لیے یہ مسئلہ مستقلاً غوروفکر کا مستحق ہے۔ بجز اس کے کہ خصوصی طور پر حفظِ قرآن کرنے والے بچوں کو اگر کلیةً بیسک تعلیم سے مستثنا نہیں کرایا جاسکتا تو کم از کم ان کے ان چھ سالہ وقت ہی کو مستثنا کرنے کی جدوجہد کی جائے تاکہ حفظِ قرآن کے بعد جس کا سرٹیفکٹ بچے کے پاس ہونا چاہیے، بارہ سالہ عمر میں اسے بیسک تعلیم میں داخل کیا جائے ! اب گر اس حفظ ِ قرآن کی مدت میں اس کا ایک گھنٹہ یومیہ لے کر اس کی بنیادی مذہبی تعلیم ہی جاری رکھی جائے تو حفظِ قرآن کے بچوں کی حدتک یہ دونوں رہے۔ بیسک تعلیم سے پہلے پہلے نمٹ سکتے ہیں ! اندریں صورت اگر یہ مخصوص بچے بارہ سالہ عمر میں بیسک تعلیم میں لیے جائیں تو اس میں نہ توکوئی قانونی پیچیدگی پیدا ہوتی ہے اور نہ قانون کی خلاف ورزی ہی لازم آتی ہے جبکہ حکومت سے ایسی رعایتیں ان خاص بچوں کے بارے میں حاصل کرلی جائیں ! !
کاغذ اور سیاہ نقوش سے ذہن نہیں بنتا :
اب جہاں تک بنیادی مذہبی تعلیم کا تعلق ہے جس کی تفصیلات ابھی عرض کی گئیں اس سے تعلیم کا مسئلہ تو حل ہوسکتا ہے لیکن تربیت اور ذہن سازی کا منصوبہ حل طلب باقی رہ جاتا ہے کیونکہ ذہن کاغذ اور اس کے سیاہ نقوش سے نہیں بنتا بلکہ استاد کے ذہن سے بنتا ہے ! تعلیم کی راہ سے درحقیقت استاد ہی اپنا ذہنی نقشہ شاگرد کے ذہن میں فٹ کرتا ہے اس لیے نصاب سے زیادہ استاد کی شخصیت کو دیکھا گیا ہے بقول ابن سیرین
اِنَّ ھٰذَا الْعِلْمَ دِیْن فَانْظُرُوْا عَمَّنْ تَأْخُذُوْنَ دِیْنَکُمْ
''یہ علم ہی تمہارا دین ہے اس لیے پہلے اسے دکھ بھال لو جس سے یہ دین حاصل کروگے''
اور یہ سب جانتے ہیں کہ فرقوں اور گروہوں کی لائن میں معلم کی ذہنیت اپنے گروہ اور فرقے کی امانت اور نمائندہ ہوتی ہے جسے وہ خود سے کبھی تبدیل نہیں کرسکتا ! ظاہر ہے کہ اس صورت میں فرقہ وارانہ مختلف ذہنیتیں انتخابِ معلم میں نزاع واختلاف کاسبب بن سکتی ہیں اور وحدتِ نصاب مان لیے جانے کے باوجود بھی یہ بنیادی مذہبی تعلیم کا مسئلہ بدستور ایک اختلافی مسئلہ باقی رہ جاتا ہے اور وہی نزاعی صورت جوں کی توں قائم رہ سکتی ہے جس کے مٹانے کے لیے یہ ساری جدوجہد کی جارہی ہے ! !
سو اِس کے حل کی صورت یہ ہے کہ جو جو فرقہ اس مشترک نصاب کو اپنائیں وہی اس کی معلمی کے لیے اپنے اپنے حلقوں کے لیے اپنے گروہ میں سے ایسے افراد کا انتخاب کریں جو قابل ومستعد ہونے کے ساتھ معقول پسند، تحقیق دوست اور ان کے خیال میں کتاب و سنت کا فہم رکھتے ہوں اور اسی کے ساتھ ان کا کردار بھی قابل اعتماد ہو، پھر اس انتخاب معلمین کو سہل اور نافذ العمل بنانے کی موزوں تدبیر مدارسِ دینیہ ہیں جن میں فارغ التحصیل طلبہ کا ایک جم ِغفیر ہر وقت رہتا ہے جو قرآن وحدیث اور دینیات کی تعلیم سے فارغ ہوکر تکمیل فنون کے لیے مدارس میں قیام پذیر رہتے ہیں ! !
یوں بھی فضلائے مدارس کی فہرستیں اور ملازمتوں کی امیدوارانہ درخواستیں مدارس میں ہروقت جمع رہتی ہیں جن میں سے ہونہار اور قابل افراد کا انتخاب بہ آسانی کیا جاسکتا ہے جو مدارس کے لیے غیر تعلیمی اداروں کی نسبت زیادہ سہل (آسان) ہے اور ایسے مدارس یقینا ہر گروہ اور ہر فرقے کے یہاں موجود ہیں ۔اس لیے انتخاب معلمین کا مسئلہ ہر فرقہ و گروہ اور اس کے مدارس کے ہاتھ میں رہ کر بلااختلاف ونزاع چل سکتا ہے لیکن تدوینِ نصاب، قواعد تعلیم وضوابط، انتخاب معلمین وغیرہ کی مہمات اور پھر اصولی اور ہنگامی حالات کا پیش نظر رکھ کر آیا ت و روایات اور اجزائے سیرت و سوانح کا انتخاب بلا شبہ چند مفکر علما ء کے اجتما ع ہی سے حل ہوسکتا ہے ! !
اس لیے ایسے افراد کی ایک کمیٹی کا بنادیا جانا ضروری ہوگا جو عصری حالات اور شرعی روایات پر پورا پورا عبور رکھتے ہوں اور ان میں واقعات سامنے رکھ کر ان شرعی ماخذوں کے تلاش کرنے کا جوہر اور سلیقہ بھی موجود ہو، نیز ان ماخذوں کو ایک طبعی تربیت سے ابواب وفصول پرتقسیم کر کے ایسا جامع اور مختصر مجموعہ تیار کردیں جو کم از کم وقت میں زیر تعلیم لایا جاسکے ! !
امید ہے کہ مذکورہ بالا عرض داشتوں کی روشنی میں یہ مسئلہ بلا اختلاف یا کم سے کم غیر معتد بہ اختلاف کے ساتھ طے ہوجائے گا اور اس تعلیمی وحدت کے منظر عام پر آنے سے یک جہتی میں ہرجہتی اضافہ ہوگا۔
خلاصہ کلام :
خلاصہ بحث یہ ہے کہ
(١) بنیادی مذہبی تعلیم کے لیے مادہ نصاب محض کتاب وسنت ہو !
(٢) دین کے تمام شعبوں کے لیے یہ مادہ نصاب اصولی رنگ میں تیار کیا جائے !
(٣) اس کی تشریح وتوضیح میں ہر فرقہ آزاد رہے گا لیکن نصاب سب کا ایک ہوگا !
(٤) مسائل کے ہر باب میں اس کی متعلقہ سیرت نبوی اور سوانح صلحا ء جزو (حصہ) نصاب ہو !
(٥) تعلیم کے ساتھ فی الجملہ عربیت کا ذوق پیدا کرانے کی گنجائش بھی نصاب کے ساتھ رکھی جائے !
(٦) ترتیب نصاب کے سلسلے میں بیسک تعلیم کا نصاب بھی پیش نظر رکھا جائے !
(٧) اس ابتدائی تعلیم کوانتہائی تعلیم سے غفلت وبے نیازی کا ذریعہ نہ بننے دیا جائے !
(٨) حفظ ِقرآن کی راہیں مسدود ہونے سے بچائی جائیں !
(٩) انتخابِ معلمین کا تعلق مدارسِ دینیہ سے قائم کیا جائے !
(١٠) تدوین وتربیت نصاب کے لیے چندمفکر علماء کی کمیٹی بنائی جائے !
(تِلْکَ عَشَرَة کَامِلَة)
اگر بمبئی کے حوصلہ منداور اصحاب وسائل مسلمان بنیادی مذہبی تعلیم کے سلسلے میں دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں تو وہ بلا شبہ اس کے اہل ہیں اور ان کا روایتی جوش عمل کو لیے ہوئے حزم واحتیاط کے ساتھ آگے بڑھ جائیں گے اور ان کا یہ اقدام مسلمانانِ ہند کے لیے ایک مثالی نمونہ ہوگا جس کے لیے وہ یقینا امام کہلائے جانے کے مستحق ہوں گے وبا للّٰہ التوفیق !
(ماہنامہ دار العلوم دیوبند جمادی الثانی ٧٤ ١٣ھ/ فروری ١٩٥٥ء ص ٤ تا ٩)
گوشہ محمود
٭٭٭
ربیع الاوّل اور عشق ِرسول صلی اللہ عليہ وسلم کے تقاضے
( افادات : شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب )
عنوانات و نظر ثانی : ڈاکٹر محمد امجد غفرلہ
٭٭٭
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا
مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ !
ربیع الاوّل کا مہینہ چل رہا ہے اور ١٢ ربیع الاوّل حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کا یوم پیدائش ہے آپ کی جب پیدائش ہوئی تو کسی کو معلوم نہیں تھا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، آپ نبی ہیں ، یہ کوئی نہیں جانتا تھا ! آپ اللہ کے رسول ہیں اس کا پتہ چالیس سال بعد چلا تھا جب آپ نے نبوت کا اعلان فرمایا، آپ نے نبوت کا اعلان فرمایا اور دین کی دعوت دی تو لوگوں کو پتہ چلا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ! پتہ آج چلا، حالانکہ آپ پہلے ہی سے رسول تھے بلکہ پیدا ہونے سے پہلے بھی رسول ہی تھے کیونکہ اللہ کے تو علم میں ہے، جب کائنات بھی نہیں بنی تھی ! تو اللہ کو پتہ تھا کہ فلاں آدم ہے، فلاں موسیٰ ہے، فلاں عیسٰی ہے، فلاں ابراہیم ہے، فلاں محمد ہے صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوةُ وَ السَّلَامْ تو اللہ کے علم کی تو بات نہیں ہو رہی، ہمارے اور آپ کے علم کی بات ہورہی ہے۔
چالیس سال تک لاعلمی :
یہ اللہ کے نبی کی پیدائش کا دن ہے، اس کا چالیس سال کسی کو پتہ نہیں چلا یہ تو پتہ تھا کہ یہ محمد صلی اللہ عليہ وسلم ہیں اس وقت نام'' محمد'' تھا، ''احمد'' یہ قرآن میں نام لیا گیا ہے، یہ اس دن پیدا ہوئے، فلاں کے بیٹے ہیں فلاں کے پوتے ہیں یہ فلاں دن پیدا ہوئے بس اتنا معلوم تھا لیکن یہ نبی ہیں ، یہ بات تو اس وقت کوئی بھی نہیں کرتا تھا بلکہ جن کے دوست تھے نبی علیہ السلام جیسے ہم عمر ہوتے ہیں ، وہ کہتے تھے میرے یہ دوست فلاں دن پیدا ہوئے، میرے اس دوست کی عمر اب اتنی ہو گئی بس اس قسم کی باتیں کی جاتی تھیں ! تو معلوم ہوا یہ چالیس سال جو گزرے اس میں حالانکہ آپ نبی تھے لیکن بارہ ربیع الاوّل کسی نے نہیں منائی جیسے ہم مناتے ہیں ۔
نبوت کا اعلان :
پھر نبی علیہ الصلٰوة و السلام کی بعثت ہو گئی آپ نبی بن گئے اعلان ہوا تو وہ جو آپ کی توقیر اور عزت کرتے تھے، وہ بھی دشمن بن گئے، تو بارہ ربیع الاول کیسے مناتے ؟ پہلے جب سارے دوست تھے اس وقت نہیں مناتے تھے تو دشمن بننے کے بعد کیسے مناتے ؟ اب تو وہی دوست، وہی رشتہ دار دشمن تھے کوئی کوئی جسے اللہ نے ایمان کی توفیق دی وہ ایمان لے آیا باقی تو آپ کے جانی دشمن بن گئے تھے آپ کے ساتھیوں کے جانی دشمن بن گئے تھے ، تو جب دوستوں نے نہیں منائی تو دشمن کیوں منائیں گے ؟
ہجرت ِ مدینہ :
پھر رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ہجرت فرمائی، جب حالات حد سے زیادہ خراب ہو گئے، مسلمانوں پر بہت تنگی ہوگئی، کوئی حد ہی نہیں رہی اور مسلمانوں نے مکہ سے نکل کر ادھر ہجرت شروع کی، اپنے دین کو اپنے ایمان کو بچانے کے لیے، اللہ کی عبادت کے لیے تو بالآخر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے بھی ہجرت فرمائی، مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔
اب مدینہ منورہ میں کئی سال گزرے، جتنے سال مدینہ منورہ میں رہے، اتنی ہی دفعہ ربیع الاوّل کا مہینہ بھی آیا، تئیس سال آپ نبی رہے، زندگی کے تیرہ سال تقریباً مکہ مکرمہ میں اور دس سال مدینہ منورہ میں ، تئیس دفعہ ہی ربیع الاوّل بھی آیا لیکن آپ نے اس دن کو نہیں منایا جیسے ہم کرتے ہیں
نبی علیہ السلام کا وصال :
پھر نبی علیہ السلام کی وفات ہو گئی، آپ دنیا سے تشریف لے گئے، پھر دو چیزیں آنی شروع ہو گئیں ربیع الاوّل کے مہینے میں ، آپ کی پیدائش کا دن بھی آتا تھا اور آپ کی وفات کا دن بھی آتا تھا جب آپ تشریف لے گئے دنیا سے تو صحابہ کرام کے دور میں ربیع الاوّل کے مہینہ میں پیدائش کا دن بھی اور وفات کا دن بھی آتا ! تو جب پیدائش کا دن کوئی نہیں منا رہا تھا، نہ نبی علیہ الصلوة والسلام نے منایا، نہ صحابہ نے منایا ، تو اب وفات کا موقع آیا تو کسی صحابی نے ہرگز نہیں منایا۔
بارہ وفات :
اور پہلے تو بارہ ربیع الاوّل کو آپ کو یاد ہوگا ''بارہ وفات'' ہی کہتے تھے ''عید میلاد النبی'' تو اس کا نام اب رکھا گیا، پچیس تیس سال سے ورنہ اس سے پہلے ''بارہ وفات '' ہی کہتے تھے سن رکھا ہوگا آپ نے بھی، بوڑھیوں کے منہ سے نکلے گا، خاندان میں بوڑھیاں ہیں ، بوڑھے ہیں ، وہ کہتے ہیں ''بارہ وفات'' عید کوئی نہیں کہتا ! !
عیدیں دو ہیں :
کیونکہ عید یں تو دو ہی ہیں اسلام میں ، ایک ''عید الفطر'' ہے اور ایک ''عید الاضحی'' ہے ! ! اس کے علاوہ کوئی عید نہیں ہے، حدیث میں جو آیا وہ تو یہی ہے۔ ہم اور آپ مسلمان ہیں ، ہم تو قرآن اور حدیث سے باہر نہیں نکل سکتے۔ تو اس میں دو عیدوں کا ذکر آتا ہے تیسری، چوتھی، پانچویں کوئی عید نہیں ہے تو اسے ''بارہ وفات'' کہتے تھے، لیکن اب دونوں چیزیں جمع ہو گئیں ، اب بارہ ربیع الاوّل یوم وفات بھی ہے اور یوم پیدائش بھی ہے دونوں ہیں ، تو ہم نے تو پیروی نبی علیہ السلام کی کرنی ہے یا صحابہ کرام کی کرنی ہے یا صحابہ کے شاگرد جنہیں تابعین کہتے ہیں ان کی کرنی ہے بس ،یہ خیر القرون کے زمانے ہیں خَیْرُکُمْ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ١ ان کی پیروی جو کرے گا وہ کامیاب ہے ! !
ربیع الاوّل اور ہمارا ضمیر :
تو اب جو ربیع الاوّل آتا ہے اس میں جو کام ہوتے ہیں وہ جو کرتے ہیں اس وقت جوش میں کر رہے ہیں لیکن ان سے بھی اگر آپ تنہائی میں بٹھا کر پوچھیں گے کہ یہ جو تم نے کام کیا ہے، تمہارا ضمیر کیا کہتا ہے ؟ ؟ یہ جو ناچے ہو یہ صحیح کام کیا ہے ناچنے کا ؟ ؟ یہ جو بھنگڑا ڈالا تھا، یہ صحیح ہے ؟ ؟
١ صحیح البخاری کتاب الرقاق رقم الحدیث ٦٤٢٨
اگر آج کوئی یہ کہہ دے العیاذ باللّٰہ کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھنگڑا ڈالا تو وہ ناچنے والا بھی اس کا گریبان پکڑ لے گا کہ تم نے حضرت ابوبکر کو یہ بات کہہ دی، حضرت عمر کے بارے میں کہہ دے کوئی، حضرت عثمان و حضرت علی کے بارہ میں کہہ دے رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم اجمعین کہ انہوں نے بھنگڑا ڈالا، انہوں نے لوگوں کو بلا کر ایسے جلوس نکالا اور اس میں بینڈ باجے بجائے تو بینڈ باجے بجانے والے بھی پکڑلیں گے اس کو کہ یہ تو کیا کہہ رہا ہے ؟ ؟ تو گویا ہمارے کان اور آنکھوں پر پٹی بندی ہوئی ہے اگر دیکھا جائے ! اس میں ایک کام کیے چلے جا رہے ہیں بغیر تحقیق کے کہ صحیح کیا ہے ؟
نبی علیہ السلام کی محبت ایمان کا جزو ہے :
نبی علیہ الصلٰوة السلام سے محبت تو ایمان کا جزو ہے، اگر محبت نہیں ہے تو آپ مسلمان ہی نہیں رہ سکتے ! سب سے پہلے اللہ اور رسول کی محبت ! یہ نہیں ہوگی تو مسلمان نہیں ہوگا ! خود فرمایا نبی علیہ السلام نے کہ وہ کامل مومن نہیں ہے جب تک کہ میں کسی کو اس کی جان، مال، عزت، آبرو سے زیادہ عزیز نہ ہوں ، خود اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ میں عزیز نہ ہوں ! حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات نبی علیہ السلام نے فرمائی تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت آپ مجھ کو سب سے زیادہ عزیز ہیں لیکن میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہوں ، میں ایسی چیز محسوس نہیں کرتا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے آدمی نے کہی وہ کھرے لوگ تھے، وہ سچے اور صادق تھے نبی علیہ السلام کے سچے مرید، سچے اور شاگرد اور تابعدار تھے اور سچے طالب تھے علم کی سچی طلب تھی ! تو جو کیفیت تھی سچ بتائی، پوری بتائی۔ تو غالباً ایسے ہے کہ نبی علیہ السلام نے ایسے ہاتھ سینے پہ مارا یا گلے لگایا جیسے بھی روایت ہے، اس وقت صحیح بات پوری ذہن میں نہیں ہے اور پھر جب چھوڑا ان کو، وقفہ ہوا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ اب میری کیفیت یہ ہو گئی ہے کہ میری جان سے بھی آپ مجھے زیادہ عزیز ہوچکے ہیں ! یہ ہے عشقِ رسول ! !
نبی کی تعلیمات پر عمل ہی عشقِ رسول ہے :
عشق رسول نبی علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل کا نام ہے ! تعلیمات سے ہٹ کر اپنی خواہشات پر چلنے کا نام عشق رسول نہیں ! وہ تو اپنی خواہشات سے عشق کا نام ہے کہ میرا یہ دل چاہ رہا ہے، میں یہ کر رہا ہوں ، تو میں گویا اپنی خواہش کا بندہ ہوں ، اپنی خواہش سے مجھے عشق ہے تو جسے اپنی خواہش سے عشق ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اپنے آپ سے عشق ہے جبکہ اپنے آپ سے تو عشق کی نفی ہے ! دین کا تو مطلب یہی ہے کہ اپنی خواہشات کی نفی کر دو عشق اور محبت کی ، صرف نبی کی محبت رہ جائے ،اپنی نفی ہو جائے ! !
حضرت عمر کے ساتھ وہی ہوا ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا کہ اب میری یہی کیفیت ہے کہ مجھے آپ اپنے سے بھی زیادہ عزیز ہیں ، یعنی میرا اپنا عشق مجھ سے جو تھا وہ ختم ہو گیا، اس کی جگہ اب آپ کا عشق آ گیا ! آپ کا عشق آنے کا مطلب ہے آپ کی تعلیم کا بھی عشق آ گیا، آپ کے اعمال کا بھی عشق آ گیا، آپ کی جو طرز زندگی ہے، اس کا بھی عشق ہو گیا۔ دنیا میں بھی جیسے آپس میں کسی سے محبت ہوتی ہے تو اس کی چیزوں سے بھی محبت ہوتی ہے، اس کی ادائوں سے بھی محبت ہوتی ہے، اس کے کپڑوں سے بھی محبت ہونے لگتی ہے ،یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ محبت تو اس سے ہو اور کپڑے دوسروں کے اچھے لگیں ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ ! جس سے محبت ہے اسی کے کپڑے بھی اچھے لگیں گے، اسی کے جوتے بھی اچھے لگیں گے، محبت ایک سے ہے اور چیزیں دوسرے کی اچھی لگ جائیں ، یہ نہیں ہوسکتا !
محبت کا دعویٰ :
تو ہم محبت کا دعوی کریں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی اور کام وہ کریں جس طرف شیطان لگاتا ہے، ناچ، گانا، موسیقی ! یہ تو سب شیطانی چیزیں ہیں بھائی، سب مانتے ہیں ، قرآن میں آتا ہے حدیث میں آتا ہے تو دعویٰ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم سے محبت کا ہے اور چیزیں شیطان کی پسند کر رہے ہیں ، عمل اس پر کرتے ہیں تو بہت عجیب و غریب صورتحال میں مبتلا ہے بڑی تعداد !
وجہ یہ ہے کہ دین سیکھتے نہیں ، دین جانتے نہیں ، نہ سیکھتے ہیں ، نہ پڑھتے ہیں ، نہ اٹھتے بیٹھتے ہیں کہ چلو باقاعدہ نہیں پڑھا توکسی سے پوچھ لیں کچھ کرنے سے پہلے ،یہ بھی نہیں ہے جس کی وجہ سے بہت زیادہ خرابیاں پھیل رہی ہیں کوشش کریں کہ ان سے خود بھی بچیں ، اپنے عزیز و اقارب، چھوٹے بڑوں کو بھی سمجھائیں اور بچائیں اور رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کا یوم وفات ہو یا یوم ولادت ہو، اس میں عہد کریں کہ آپ کی طرز پر زندگی گزاریں گے ! !
عشق کیا ہے ؟
عشق یہ ہے کہ ہم نے سنت پر عمل کرنا ہے، دین کے مطابق زندگی گزارنی ہے اور عہد کرلیں آج سے میں دینی تعلیم سیکھوں گا ، میں بوڑھا ہوں تو بھی سیکھوں گا، جوان ہوں تو بھی سیکھوں گا اور اپنے بڑوں ، چھوٹوں اور بچوں کو بھی سکھانے پر لگائوں گا ! یہ ہے بات، اس کا تو فائدہ ہوگا، باقی چیزوں سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔
اللہ عمل کی اور سمجھ کی توفیق عطا فرمائے اور جو ہماری کوتاہیاں ہیں ان سے درگزر فرمائے، آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی شفاعت اور آپ کا ساتھ نصیب فرمائے وآخردعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین
(خطبہ جمعہ نمبر٢٣٥ ١٠ ربیع الاوّل٤٤ ١٤ھ/٧ اکتوبر ٢٠٢٢ئ)
٭٭٭
وفیات
٭٭٭
٭ ٥ اگست کو مہتمم وشیخ الحدیث دارالعلوم مدنیہ ملتان روڈ لاہور و امیر جمعیة علماء اسلام ضلع لاہور حضرت مولانا محب النبی صاحب مدظلہم کی اہلیہ طویل علالت کے بعد انتقال فرماگئیں اللہ تعالیٰ حضرت مولانا مدظلہم کو پیرانہ سالی میں اس صدمہ پر صبر جمیل کی توفیق نصیب فرمائے، آمین
٭ ٢٩ اگست کو جامعہ مدنیہ جدید کے سابق ناظم مولانا قاضی محمد یعقوب صاحب اعوان کے بیٹے قاری محمد سلیم صاحب(سابق استاذ جامعہ مدنیہ جدید شعبہ حفظ) اچانک لاہور میں انتقال فرماگئے
اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
اللہ تعالیٰ جملہ مرحومین کی مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق نصیب فرمائے۔جامعہ مدنیہ جدید اور خانقاہ حامدیہ میں جملہ مرحومین کے لیے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت کرائی گئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ، آمین۔
ربیع الاوّل ، اسوہ ٔ رسول اور ہمارا طرزِعمل
( مولانا نورالحق فیض صاحب زوبی ، فاضل جامعہ العلوم الاسلامیہ کراچی )
٭٭٭
محسن ِکائنات کی بعثت سے قبل روئے زمین پر سچے اور صحیح عقیدے کا کہیں وجود نہ تھا ! توحید کی روشنی دم توڑگئی تھی ! فتنوں کے طوفان میں حسنِ اخلاق کا چراغ بجھ گیا تھا ! بد اخلاقی عروج پر تھی، دنیا حقوق العباد کا درس بھلا چکی تھی ! حسنِ معاشرت عنقاء ہوگیا تھا، غرض دنیا کے حالات اس بات کی متقاضی تھے کہ کوئی مصلح اعظم، معلم ِاخلاق ہو جو دنیا کو گمراہی و بداخلاقی کے دلدل سے نکال کر راہِ راست پر لائے ! تو رب ِ کائنات نے حضرت محمد صلی اللہ عليہ وسلم کو دنیا کے حالات بدلنے اور انسانوں کو صراطِ مستقیم پر لانے کے لیے مبعوث فرمایا ! آپ نے کرۂ ارض پر توحید کے چراغ روشن کیے تمام انسانوں کو کلمہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے جھنڈے تلے جمع کیا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم ایک ایسی قوم میں مبعوث ہوئے جو ہر قسم کی جہالت اور گمراہی میں گھری ہوئی تھی، تعلیم دے کر ان کے ظلم وستم وتعدی کو عدل وانصاف سے اور ان کی خشونت اور درشت مزاجی کو حلم اور بردباری سے ! اور ان کی جہالت کو علم ومعرفت سے ! اور ان کی باہمی بغض اور عداوت کو محبت ا ور اُلفت سے ! اور ان کی شقاوت اور ضلالت کو سعادت اور ہدایت سے ! اور ان کی عصیان کو اطاعت سے ! اور تفرق وتشنت کو اجتماع سے ! ضعف کو قوت سے ! خیانت کو امانت سے ! اور فحش وبے حیائی کو غیرت وعفت سے ! اور احسان سے رزائل کو شمائل سے بدل دیا ! اور علوم الٰہیات اور علوم ِ نبوت، علوم معاشرت اور علومِ معاش ومعاد اور علومِ اخلاق اور علومِ عبادت، عجم معاملات ،علوم سیاست ملکیہ ومدنیہ میں رشکِ افلاطون اور استاد حکمائے عالم بنادیا ! !
انسانوں سے لے کر حیوانوں تک کے حقوق کو متعین کیا ! انسانوں کو گمراہی کی وادی سے نکال کر ہدایت کی شفاف راہ پر لائے ! انہیں قرآن و سنت کی اتباع کا حکم دیا ! امت کو بتایا کہ اسلام کے ماسوا ہر راہ گمراہی کی ہے اور بارگاہِ خداوند ہی میں خشوع وخضوع، رکوع وسجود اور سوال مغفرت ورحمت اور توبہ وانابت کے وہ طریقے بتائے کہ جن کا نہ کسی آسمانی کتاب میں پتہ ہے اور نہ زمینی کتاب میں ! ! !
شریعت ِمحمدیہ نے مکارمِ اخلاق کی ایسی تکمیل اور تتمیم کی کہ کوئی ظاہری وباطنی خلق، حسن اور خصلت ِمحمودہ ایسی نہ چھوڑی جس کی تاکید اکید نہ کی ہوجیسے حِلم و صبر، رضا وتسلیم، زہدو قناعت، اخلاص و توکل، حب ِالٰہی اور اشتیاقِ لقائے خداوندی، ذکر اور شکر، فقر اء و مساکین کے ساتھ احسان اور مواسات، ارباب ِ دنیا سے احتراز واجتناب، اکابر کی توقیر و تکریم اور اصاغر پر شفقت اور ترحم ! وعلیٰ ہذہ الاخلاقِ ذمیمہ میں سے کوئی ظاہری وباطنی خلق رذیل ایسا نہیں چھوڑا جس کے ترک کی تاکید اور اس کے ارتکاب پر تہدید اور وعید ِشدید نہ کی ہوجیسے کبرو حسد اور حب ِ مال اور حب ِجاہ ! !
بنابریں دین اسلام لوگوں کے دلوں میں رچ بس گیا اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر مرمٹنے کے لیے تیار ہوگئے۔ حضوراکرم صلی اللہ عليہ وسلم کی بتلائی ہوئی راہ ان کے لیے فلاحِ دارین کی راہ بن گئی ! !
لیکن آج معاملہ اس کے برعکس ہے، لوگ دین ِاسلام سے دور ہوتے چلے جارہے ہیں ! خاندانی و علاقائی رسم و رواج کے بندھن میں بند ہوتے چلے جارہے ہیں ! دین کے نام پر مختلف قسم کی رسومات نے جڑیں گاڑھ لی ہیں ! حسنِ اخلاق کا آفتاب اوجھل ہوتے دکھائی دے رہا ہے، دوسروں کو اذیت دینے کا منحوس چرخہ مسلسل گھوم رہا ہے خصوصاً وہ مہینہ جو ہمارے لیے خوشی کا باعث تھا جس ماہ میں نبی کریم صلی اللہ عليہ وسلم دنیا میں تشریف لائے تھے جس کے بعد غلامی کی زنجیریں ٹوٹ گئی تھیں ، دوسروں کو تکلیف دینے کا دروازہ بند ہوگیا تھا ،جس کے بعد مسلم امت اخلاق کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوگئی تھی اَلْمُؤْمِنُوْنَ کَجَسَدٍ وَّاحِدٍ کی تصویر واضح تھی ! !
لیکن افسوس صد افسوس ! آج اسی مہینے میں سب سے زیادہ بے دینی ہوتی ہے، یہی مہینہ سب سے زیادہ تکلیف دہ واَفسردہ ہے ! عشقِ رسول کے نام پر دوسروں کا جینا حرام کردیا گیا، حب النبی کے خوبصورت نعرے کی آڑ میں اپنے من کی شرارت کی جارہی ہے، وہ بازار جو ابغض جگہ تھی، آج وہاں عشق ِرسول کے نام پر مخلوط بھنگڑے ڈالے جارہے ہیں ! آپ جس موسیقی کو ختم کرنے کے لیے تشریف لائے تھے آج اسی موسیقی کو میلاد ِرسول کے نام سے پروگرام میں پوری ڈھٹائی سے عام کیا جارہا ہے ! نعت گوئی گویا ڈھول باجوں میں گم ہو کر رہ گئی ہے ! موسیقی تو موسیقی ہے یہاں تو کلمات ِ مقدسہ کی بے حرمتی کا بازار بھی عروج پر ہے ! ربیع الاوّل میں بینرر لگائے جاتے ہیں جن پر نعلین ِمبارک اور کلمہ اور درود لکھا ہوتا ہے ، ہوائیں اسے اڑاتی ہیں اور وہ تار تار ہوجاتے ہیں ، گٹروں میں گرجاتے ہیں جہاں ان کی جھاڑئیں بنالی جاتی ہیں ! اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے نام کی بڑی بے حرمتی ہوتی ہے اور ہزاروں لاکھوں روپے نالوں میں بہہ جاتا ہے ! ! !
بس ہر طرف نافرمانی اور چیخ و پکار ہے ! نہ کسی مریض کی فکر ! اور نہ کسی مجبور کا غم ! بس ہم تو ٹھہرائے عاشقِ رسول یا للعجب ! یہ کیسا عشق ہے بھلا !
کیا یہ اسوہ ٔ رسول ہے ؟ ؟ کیا یہ عشق نبی ہے ؟ ؟ کیا یہ دین ِشریعت ہے ؟ ؟ کیا خیرالقرون کا ربیع الاوّل بھی ایسا تھا ؟ نہیں ! نہیں ! ہرگز نہیں تھا ! ! !
تو خدارا اب ہمیں ان حماقتوں سے باز آجانا چاہیے ! ہمیں اپنی زندگی کو اسوۂ رسول کے سانچے میں ڈھالنا چاہیے ! اور مومن کا ہر لمحہ ربیع الاوّل ہونا چاہیے چنانچہ ہم حوضِ کوثر کے طلبگار اور شفاعت ِ محمدصلی اللہ عليہ وسلم کے امیدوار ! ! نبی کے قدم بقدم چلتے ہوئے ان تمام چیزوں کو چھوڑنا چاہیے جو نبی کے طریقے پر نہیں کیونکہ جامِ کوثر ان ہی امتیوں کو ملے گا جو آپ کی اتباع کرتے ہیں ! !
یاد رکھیے ! سنت ایک نور ہے ! بدعت ایک ظلمت ہے ! ہم نور کے ساتھی ہیں ، ظلمت تو کافروں کے لیے ہے ! ! !
٭٭٭
لاکھوں سلام
٭٭٭
تاجدار نبوت پہ لاکھوں سلام شہریار نبوت پہ لاکھوں سلام
سید الاولیں ، سید الآخرین، نایدار نبوت پہ لاکھوں سلام
فخر اولاد آدم پر اربوں درود افتخار نبوت پہ لاکھوں سلام
وہ جب آئے ، جہاں میں بہار آگئی نو بہار نبوت پہ لاکھوں سلام
جلوه گاه محمد محمد وہ غار حرا جلوہ زار نبوت پہ لاکھوں سلام
جبریل امیں ، مرحبا مرحبا راز دار نبوت پہ لاکھوں سلام
نور پایش رسالت په دائم درود نور بار نبوت پہ لاکھوں سلام
وہ جو فاران کی چوٹیوں سے اُٹھا شہسوار نبوت پہ لاکھوں سلام
جس پہ ختم نبوت کا دارو مدار اس بار نبوت پہ لاکھوں سلام
ہر نبی کی رسالت ہوئی مُعتبر سلام اعتبار نبوت پہ لاکھوں سا
روکش حسین یوسف ہے جس کا جمال اُس نگار نبوت پہ لاکھوں سلام
سدرۃ المنتہی جس کی گرد سفر راہوار نبوت پہ لاکھوں سلام
بدر میں تو نزول ملائک ہوا کار زار نبوت پہ لاکھوں سلام
کیا کہوں جو احد سے محبت رہی کو ہار نبوت ت پہ لاکھوں سلام
جو قدوم مبارک کی زینت رہا اُس عبار زیست پہ لاکھوں سلام
کوئی دیکھے رفاقت ابو بکر کی یار غار نبوت پہ لاکھوں سلام
الله الله ! فاروق کا دبدبہ ذی وقار نبوت پہ لاکھوں سلام
بہر عثمان رضواں کی بیعت ہوئی جان نثار نبوت پہ لاکھوں سلام
مرتضی باب شهر علوم نبی شاہ کار نبوت پہ لاکھوں سلام
جس کے دو پھول پیارے حسن اور حسین شاخسار نبوت پہ لاکھوں سلام
ہر صحابی نبی پر تصدق رہا، جاں سپار نبوت پہ لاکھوں سلام
ساری امت پہ ہوں ان گنت رحمتیں پاسدار نبوت پہ لاکھوں سلام
جس کو ترسا کے چشم و دل اسے نفیس
اُس دیار نبوت پہ لاکھوں سلام
۲۰ محرم الحرام ۳۱۸ الله ناچیز : نفیس الحسینی، لاہور
٭٭٭
٭٭٭
رحمن کے خاص بندے
قسط : ٣٤
( حضرت مولانا مفتی سید محمد سلمان صاحب منصور پوری، اُستاذ الحدیث دارالعلوم دیوبند )
٭٭٭
سچی توبہ کی تعریف اور شرائط :
اب سوال یہ ہے کہ سچی توبہ کا اطلاق کون سی توبہ پر ہوگا ؟ تو اس بارے میں احادیث وآثار سے معلوم ہوتاہے کہ وہ ایسی توبہ ہے جس میں اپنے برے عمل پر دل میں شرمندگی ہو اور آئندہ نہ کرنے کا عزم ہو ! اور اگر اس غلطی کا تعلق کسی بندے کے حق سے ہو تو اس کی ادائیگی بھی سچی توبہ کے لیے لازم ہے
سیّدنا حضرت اُبیٔ بن کعب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ قیامت کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ مردوں اور عورتوں میں ہم جنسی اور غیر فطری عمل عام ہوجائے گا حالانکہ یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے حرام قرار دی ہیں اور ایسے بد عمل مرد و خواتین سب اللہ کے غضب کے مستحق ہیں ! اور جب تک وہ سچی توبہ نہ کرلیں ان کی نمازیں بھی قبول نہیں ہوں گی ! ! تو حضرت اُبیٔ بن کعبسے پوچھا گیا کہ'' سچی توبہ سے کیا مراد ہے ؟ '' تو آپ نے فرمایا کہ میں نے بھی اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم سے سوال کیا تھا تو آپ نے ارشاد فرمایا تھا :
ھُوَ النَّدَمُ عَلَی الذَّنْبِ حیِْنَ یَفْرُطُ مِنْکَ فَتَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ بِنَدَامَتِکَ مِنْہُ عِنْدَالْحَاضِرِ ثُمَّ لَا تَعُوْذُ اِلَیْہِ اَبَدًا ۔ ١
''(سچی توبہ یہ ہے کہ) گناہ سرزد ہونے پر شرمندگی ہونا پھر تم اللہ تعالیٰ سے شرمندگی کے ساتھ اس گناہ پر فوراً مغفرت طلب کرو اور آئندہ اس گناہ کو دوبارہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرو''
١ تفسیر ابن کثیر ٦/٢٦٠ ، شعب الایمان ٤/٣٧٥ رقم الحدیث : ٥٤٥٧
اور تابعی جلیل سیّدنا حضرت حسن بصری سے ''توبۂ نصوح'' کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ''سچی توبہ (توبۂ نصوح) یہ ہے کہ تم گناہ سے ایسی نفرت کرو جیسا کہ پہلے اس کی طرف رغبت رکھتے تھے اور جب بھی گناہ یاد آجائے تو فوراً توبہ واستغفار کرو لہٰذا اگرکوئی شخص جرم پر توبہ کرے اور اس پر ثابت قدم رہے تو اس کی برکت سے اس کے پچھلے سب گناہ معاف ہوجائیں گے جیسا کہ ایک صحیح حدیث میں وارد ہے کہ اَلْاِسْلَامُ یَحُبُّ مَا قَبْلَہ وَالتَّوْبَةُ تَجُبُّ مَا قَبْلَھَا ١
یعنی'' اسلام پہلے کے گناہوں کو مٹادیتا ہے جبکہ توبہ پہلے کے گناہوں کو صاف کردیتی ہے''
اور علامہ قرطبی نے فرمایا کہ سچی توبہ کے لیے چار باتیں ضروری ہیں :
(١) اَلْاِسْتِغْفَارُبِاللِّسَانِ زبان سے استغفار کرنا
(٢) اَلْاِقْلَاعُ بِالاَبْدَانِ فوری طور پر اعضائِ بدن کو گناہ سے الگ کرنا
(٣) وَاِضْمَارُ تَرْکِ الْعَوْدِ بِالْجِنَانْ دل میں اس گناہ کو کبھی نہ کرنے کا عزم کرنا
(٤) وَمُھَاجَرَةُ سَیِّئِ الْاِخْوَانِ اور برے ساتھیوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا ٢
تقریباً اسی طرح کی بات مفسر قرآن سیّدنا عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے بھی منقول ہے ٣
اور حافظ ابن حجر عسقلانی اپنی شہرۂ آفاق کتاب ''فتح الباری شرح صحیح البخاری'' میں ''توبة نصوح'' کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
وَفِی الشَّرْعِ تَرْکُ الذَّنْبِ لِقُبْحِہ ، وَالنَّدَمُ عَلٰی فِعْلِہِ ، وَالْعَزْمُ عَلٰی عَدَمِ الْعَوْدِ ، وَرَدُّ الْمَظْلَمَةِ اِنْ کَانَتْ اَوْ طَلَبُ الْبَرَائَ ةِ مِنْ صَاحِبِھَا ٤
''اور شریعت کی نظر میں گناہ کو اس کی برائی کی وجہ سے ترک کرنا اور اس کے انجام دینے پر شرمندہ ہونا اور آئندہ اسے کبھی نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرنا اور کسی پر اگر ظلم کیاہو تو اسے لوٹانا یا اس سے معاف کرانا''
١ مسند احمد بحوالہ تفسیر ابن کثیر ٦ /٢٦١ ٢ تفسیر البغوی ٥/١٢٢ المکتبة الشاملة
٣ تفسیر ابن عباس ١/٤٧٧ المکتبة الشاملة
٤ فتح الباری شرح صحیح البخاری کتاب الدعوات باب التوبة ١١/ ١١٦ دار البیان العربی
اس تفصیل سے معلوم ہوگیا کہ محض زبان سے توبہ واستغفار کافی نہیں بلکہ توبہ کی سب ہی شرائط اور تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے اس کے بغیر توبہ کی قبولیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی ! ! !
اللہ تعالیٰ کی طرف سے توبہ کی دعوت :
سیّدنا ابوذر غفاری رضی اللّٰہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حوالے سے متعدد باتیں ارشاد فرمائیں جن میں سے ایک بات یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ بندوں سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
یَاعِبَادِیْ اِنَّکُمْ تُخْطِئُوْنَ بِاللَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَاَنَا اَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا فَاسْتَغْفِرُوْنِیْ اَغْفِرْ لَکُمْ ١
'' اے میرے بندو ! تم دن رات غلطیاں کرتے ہو اور میں سب گناہوں کو معاف کردیتا ہوں ! اس لیے مجھ سے ہی مغفرت طلب کرو، میں تمہیں بخش دوں گا''
اور ایک دوسری روایت کے الفاظ اس طرح ہیں :
یَا عِبَادِیْ ! کُلُّکُمْ مُذْنِب اِلَّا مَنْ عَافَیْتُ فَاسْتَغْفِرُوْنِیْ اَغْفِرْ وَمَنْ عَلِمَ اَ نِّیْ اَقْدِرُ عَلَی الْمَغْفِرَةِ فَاسْتَغْفَرَنِیْ بِقُدْرَتِیْ غَفَرْتُ لَہ وَلَا أُبَالِیْ ٢
''اے میرے بندو ! تم سب گنہگار ہو، مگر میں جسے عافیت سے نوازوں لہٰذا مجھ ہی سے مغفرت طلب کرو، میں تمہیں مغفرت سے نوازوں گا ! اور جو شخص یہ جانتے ہوئے کہ میں مغفرت پر قادر ہوں پھر مجھ سے میری قدرت کے حوالے سے مغفرت کا طالب ہوتا ہے تو میں اسے بالکل معاف کردیتا ہوں اور میں کوئی پروا نہیں کرتا''
(جاری ہے)
١ صحیح مسلم کتاب البر والصلة والادب باب تحریم الظلم ٢/ ٣١٩ رقم الحدیث : ٢٥٧٧
٢ مسند احمد مسند الانصار حدیث ابی ذر الغفاری ٣٥/٢٩٤ رقم الحدیث : ٢١٣٦٧ المکة المکرمة
٭٭٭
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی
قسط : ٢
( مولانا محمد معاذ صاحب، فاضل جامعہ مدنیہ لاہور )
٭٭٭
سند حدیث :
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی تدریس ِحدیث کے میدان میں وہ شخصیت ہیں جن کی سند حدیث مختلف کتب حدیث بالخصوص بخاری وترمذی وابو داود کے ذریعے عالم میں عام ہوئی ہے اس لیے آپ کی تعلیمی تفصیل کے ساتھ ہی کچھ سند حدیث پر بھی گفتگو کی جاتی ہے۔
سند ِ حدیث قراء ةً :
عمومی تاثر جو کتب میں ملتا ہے وہ یہی ہے کہ شیخ الہند نے حدیث کی جملہ کتب حجة الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی سے پڑھی ہیں ان کے علاوہ آپ کا قرآء تی طور پر حدیث کا کوئی اور استاذ نہیں ١
ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ تاثر غلط ہے ماقبل درج تعلیمی کوائف اور سند کے مضمون سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے مدرسہ عربی دیوبند میں نو کتب حدیث میں سے پانچ کتب مشکوة، ترمذی، نسائی، مسلم اور ابوداود پڑھی ہیں ٢ اس سے آگے کے مضمون سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ رہ جانے والی بقیہ کتب بخاری ،ابن ماجہ، موطا مالک وموطا محمد اور دیگر کتب حضرت نانوتوی سے پڑھی گئی ہوں ، عبارت یہ ہے ''باقی کتب درسیہ بخدمت جناب مولوی محمد قاسم صاحب تحصیل کیں '' ٣ البتہ تذکروں کی عمومی عبارات یہی ہیں کہ آپ نے صحاح ستہ مکمل حضرت نانوتوی سے پڑھی تھیں واللّٰہ اعلم
نانوتہ کے حضرت مولانا فخر الحسن صاحب گنگوہی کے نام تحریر کردہ مکتوب سے حضرت شیخ الہند کی بعض
١ حیات شیخ الہند مطبوعہ دارالکتب اصغریہ ص ١١ ٢ کیفیت ہشتمی سالانہ ١٢٩٠ھ ص ٢٧ ٣ کیفیت ہشتمی سالانہ ١٢٩٠ھ ص ٢٨
تعلیمی تفصیل کی ایک جھلک معلوم ہوتی ہے، مولانا نسیم احمد فریدی کا خیال ہے کہ حضرت نانوتوی نے یہ مکتوب مطبع ہاشمی میرٹھ سے تحریر کیا ہے حضرت نانوتوی رقم طراز ہیں
''نسائی شریف پرسوں ان شاء اللہ شنبہ (ہفتہ) کے دن شروع ہوگی۔ میر زاہد، امور عامہ عرصہ ہوا ختم ہوگئیں ، لیکن صحیح مسلم کے اسباق جو آخر سے باقی تھے اس اثنا میں پڑھے گئے، اس کے بعد مولوی محمود حسن (دیوبندی) مولانا احمد علی (سہارنپوری) کے نسخہ نسائی کی تلاش میں جوکہ دوسرے نسخوں کے مقابلے میں صحیح ہے سہارنپور گئے تھے اور وہاں سے دیوبند گئے، شاید دو روز وہاں مقیم رہ کر واپس آگئے ہیں شرح چغمینی بھی شروع ہوگئی ہے اس کے چند ورق پڑھے جا چکے ہیں ١
خیر حضرت نانوتوی سے آپ نے جتنا بھی پڑھا ہو سند کے مضمون اور رودادوں کی وجہ سے مدرسہ میں پڑھی گئی کتب حدیث کا انکار مشکل ہے ۔
اب رہا یہ سوال کہ مدرسہ عربی دیوبند میں اس وقت اساتذۂ حدیث کون کون تھے ؟
تو عرض یہ ہے کہ حضرت شیخ الہند کے طالب علمی بلکہ آپ کے مدرس حدیث بننے (١٢٩٣ھ) تک دو حضرات حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتوی اور حضرت مولانا ملا محمود دیوبندی مدرس حدیث تھے ، کتابیں ان دو حضرات میں بایں طور تقسیم ہوئیں کہ مولانا یعقوب صاحب بخاری ، مسلم اور ترمذی پڑھاتے تھے جبکہ ملا محمود صاحب ابو داود، نسائی، ابن ماجہ اور مؤطا پڑھاتے ٢ اس ترتیب کو اگر درست تسلیم کر لیا جائے تو شیخ الہند نے مسلم اور ترمذی مولانا یعقوب صاحب سے جبکہ نسائی اور ابوداود ملا محمود صاحب سے پڑھیں ۔
١ مولانا محمد قاسم نانوتوی دینی وملی خدمات کی ایک جھلک مضمون نگار مولانا نسیم احمد فریدی مشمولہ یاد گار ِ اکابر،
حجة الاسلام نمبر بابت جون ٢٠١٥ء مرتب محمد نعمان ارشدی ص ٤٢٠
٢ حضرت شیخ الہند کے زمانہ طالب علمی میں تقسیم یہی ہو اس کی صراحت تو نہیں ملی البتہ بعد کے ادوار کے جو تعلیمی نقشے مہیا ہوئے ہیں ان سے تاثر یہی ملتا ہے نیز مولانا سیّد احمد صاحب دہلوی مدرسہ دیوبند میں استاذ الحدیث کبھی نہیں رہے
سند ِ حدیث اجازةً :
اس عنوان کے تحت وہ ہستیاں درج ہیں جن سے حضرت شیخ الہند نے دورۂ حدیث مکمل نہیں پڑھا البتہ یا تو اجازتِ محضہ ہے یا جزوی قراء ت۔
(١) حضرت مولانا احمد علی سہارنپوری :
ان حضرات میں سب سے اہم نام استاذ الاساتذہ حضرت مولانا احمد علی سہارنپوری کی ذات بابرکات کا ہے، بعض حضرات کا خیال ہے کہ حضرت شیخ الہند نے آپ سے دورۂ حدیث مکمل پڑھا ہے یہ اشتباء حیات شیخ الہند مصنفہ حضرت مولانا میاں اصغر حسین دیوبندی کی عبارت سے ہوا جو یہ ہے
درس و تدریس اور قرا ء ت وتحدیث کے لحاظ سے آپ کی سند حدیث دو طرح حضرت شاہ ولی اللہ صاحب تک اور ان کے اساتذہ کرام کے ذریعے سے محدثین و مؤلفین کتب اور جناب سیّدالاولین والآخرین صلی اللہ عليہ وسلم تک پہنچتی ہے۔
اوّل : عن مولانا الشیخ محمد قاسم عن مولانا الشیخ عبدالغنی عن مولانا الشاہ محمد اسحاق عن مولانا الشاہ عبدالعزیز عن مولانا الشاہ ولی اللّٰہ رحمة اللّٰہ علیہم اجمعین
ثانی : عن مولانا الشیخ احمد علی السہارنفوری عن مولانا الشاہ محمد اسحاق عن مولانا الشاہ عبدالعزیز عن مولانا الشاہ ولی اللّٰہ قدس اللّٰہ اسرارھم ١
حضرت میاں اصغر حسین صاحب کی عبارت کے انداز سے بظاہر یہی تاثر مل رہا ہے کہ شیخ الہند کے قراء تِ حدیث کے دو استاذ تھے ایک حجة الاسلام حضرت نانوتوی اور دوسرے حضرت سہارنپوری
اس احتمال کی تردید حضرت شیخ الہند ہی کے محررہ خط سے ہوتی ہے، یہ خط آپ نے مالٹا جیل سے اپنے ایک شاگرد مولانا حاجی محمد احمد ساکن سملیگ ضلع سورت کو تحریر فرمایا، ہم اس میں سے سند حدیث سے متعلق حصہ نقل کرتے ہیں :
١ حیات شیخ الہند مؤلفہ مولانا سیّد اصغر حسین صاحب طبع ١٩٤٨ء دار الکتب اصغریہ دیوبند ص ٢٦
.............. سند حدیث اس وقت ارسال کرنے کا موقع نہیں خدا تعالیٰ کو منظور ہے تو دوسرے وقت آپ کے فرمانے کی تعمیل ہوجائے گی۔ آپ طلبہ کو سند دیجیے اس میں تامل نہ فرماویں ۔
بندہ کی سند یہ ہے کہ بندہ کو حضرت مولانا محمد قاسم رحمہ اللہ سے ،ان کو حضرت شاہ عبدالغنی مہاجر مدنی اور مولانا احمد علی صاحب سہارنپوری سے ان دونوں حضرات کو حضرت شاہ محمد اسحاق صاحب سے ، ان کو حضرت شاہ عبدالعزیز سے ان کو اپنے والد حضرت شاہ ولی اللہ صاحب سے رحمہم اللّٰہ علیہم اجمعین ١
یہ بات پیش نظر رہے کہ یہ نفی حضرت سہارنپوری سے دورہ حدیث پڑھنے کی ہے، نہ کہ اجازتِ حدیث کی اجازت کے ضمن میں اگر جزوئی قراء ت میں بھی شرکت ہوئی ہو تو اس کا بھی انکار نہیں حضرت شیخ الہند کے تلامذہ نے بھی حضرت سہارنپوری کی سند کو بطور اجازت ہی نقل کیا ہے۔ مولانا محمد چراغ صاحب گجرانوالہ نے العرف الشہذی کے مقدمے میں حضرت علامہ انور شاہ کشمیری کی زبانی سند یوں نقل کی ہے
قال (مولانا ومرشدنا محمود حسن مدظلہ العالی) حصل لی الاجازة من احمد علی السھارنفوری و مولانا مظھر نانوتوی ومولانا عبدالرحمن پانی پتی
وقال مولانا احمد علی ومن بعدہ اخبرنا الشیخ المشتھر فی الافاق الشاہ محمد اسحاق رحمہ اللّٰہ ۔ ٢
(٢) حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی :
حضرت شیخ الہند، حضرت گنگوہی کے مرید اور خلیفہ بھی تھے، آپ کا حضرت گنگوہی کے پاس عموماً آنا جانا ہوتا تھا اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض حضرات نے یہاں بھی یہی ارشاد فرمایا کہ آپ نے حضرت گنگوہی سے بھی دورۂ حدیث مکمل پڑھا ہے، یہ اطلاع بھی درست نہیں ، البتہ اجازت ِعامہ
١ مکتوبات شیخ الہند مشمولہ حیات شیخ الہند طبع ١٩٧٧ء ادارہ اسلامیات لاہور ص ٢٦٩
٢ مقدمہ العرف الشذی مشمولہ جامع الترمذی مولانا محمد چراغ گجرانوالہ طبع مکتبة البشریٰ کراچی ج١ ص
یا اسی کے ضمن میں جزوی سماع یا قراء ت میں شرکت ہوئی ہو تو اس کا انکار نہیں ۔ حضرت شیخ الہند کی وضاحت اور خواہش سے بھی یہی معلوم ہو رہا ہے کہ آپ کو حضرت گنگوہی سے اجازت تھی مکمل دورہ ٔ حدیث نہ پڑھا تھا حضرت تھانوی اپنے رسالہ ''ذکر محمود '' میں لکھتے ہیں :
''ذکر ١٨ : یہ بھی بعض ثقات سے سنا ہے کہ حضرت مولانا نے ارشاد فرمایا کہ بارہا حاضری گنگوہ کے وقت خیال ہوا کہ حضرت گنگوہی قدس سرہ سے حدیث کی اجازت کی درخواست کروں ، مگر معاً یہ خیال مانع آگیا کہ اگر حضرت پوچھ بیٹھیں کہ تجھ کو آتا ہی کیا ہے جو حدیث کی سند مانگتا ہے ؟ تو کیا جواب دوں گا ؟
بس یہ سوچ کر چپ رہ گیا'' ١
حضرت مولانا محمد چراغ گجرانوالہ نے بھی علامہ انور شاہ کشمیری کی زبانی اس سند کو اجازةً ہی نقل فرمایا ہے
العرف الشہذی میں درج ہے :
وقال مولانا و مرشدنا محمود حسن مدظلہ العالی حصل لی الاجازة من مرشدنا مولانا رشید احمد الجنجوہی المرحوم اخبرنا الشیخ الشاہ عبدالغنی الدھلوی رحمہ اللّٰہ ٢
(٣) حضرت مولانا قاری عبدالرحمن پانی پتی :
آپ حضرت شاہ اسحاق محدث دہلوی کے مایہ ناز شاگرد تھے آپ سے اجازت کا پس منظر حضرت قاری صاحب ہی کی سوانح میں یوں درج ہے :
''شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن صاحب : جب حضرت کی آنکھوں میں پانی اتر آیا تھا اور آپ قدح کرانے کے لیے مظفرنگر تشریف لے گئے تھے تو حضرت مولانا سب اکابر دیوبند کے ساتھ حضرت کی زیارت سے مستفید ہوئے، اس وقت
١ ذکر محمود مشمولہ میرے اکابر، مولانا اشرف علی تھانوی طبع ٢٠١٥ ء مرتبہ مولانا محمداعجاز مصطفی مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کراچی ص ١٣٦ ٢ مقدمہ العرف الشذی مشمولہ جامع الترمذی ص
حضرت مولانا دارالعلوم دیوبند کے صدر مدرس تھے، صحاح ستہ کی احادیث اطراف کا درس ہوا اور حضرت نے مولانا اور دیگر علماء کو سند حدیث دی'' ١
(٤) حضرت مولانا محمد مظہر نانوتوی :
حضرت مولانا سے اجازت ِ حدیث تو یقینی ہے مگر اس کی تفصیل مفقود ہے۔
(٥) حضرت مولانا شاہ عبدالغنی مجددی :
حضرت شاہ صاحب سے مدینہ منورہ مسجد نبوی میں حضرت نانوتوی کے اصرار پر حضرت شیخ الہند نے اجازت حدیث حاصل کی۔
مندرجہ بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ حضرت شیخ الہند کے قراء ت ِحدیث کے لحاظ سے تین استاذ ہیں
(١) حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتوی : جامع ترمذی ، صحیح مسلم
(٢) حضرت مولانا ملا محمود دیوبندی : سنن ابی داود ، سنن نسائی
(٣) حجة الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی : جمیع صحاح ستہ
جبکہ اجازت ِ حدیث وجزوی قراء ت کے لحاظ سے پانچ شیوخ ہیں
(١) حضرت مولانا احمد علی محدث سہارنپوری
(٢) حضرت مولانا محمد مظہر نانوتوی
(٣) حضرت مولانا قاری عبدالرحمن پانی پتی
(٤) حضرت مولانا شاہ عبدالغنی مجددی
(٥) حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی
(جاری ہے)
١ تذکرة الصالحین المعروف بہ تذکرۂ رحمانیہ سوانح مولانا قاری محمد عبد الرحمن محدث انصاری پانی پتی مرتبہ مولانا قاری
محمد عبدالحلیم انصاری مطبع مکتبہ نفیس جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور ص ٧٨
٭٭٭
اخبار الجامعہ
( جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد رائیونڈ روڈ لاہور )
٭٭٭
٩ اگست بروز ہفتہ بعد نماز مغرب جامعہ مدنیہ جدید کے مہتمم مولانا عکاشہ میاں صاحب مدظلہم نے محمد آباد گائوں کی جامع مسجد میں سیرت ِطیبہ کے موضوع پر مختصر بیان فرمایا۔
١٨اگست بروز پیر مولانا عکاشہ میاں صاحب، حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارن صاحب کی تعزیت کے لیے جامعہ نصرة العلوم گوجرانوالہ تشریف لے گئے جہاں آپ نے مولانا عبدالقدوس خان قارن صاحب کے بیٹے مولانا نصیر الدین خان مدظلہم اور جامعہ کے مہتمم و شیخ الحدیث حضرت مولانا حاجی فیاض خان صاحب مدظلہم سے تعزیت کی اور دلی دکھ کا اظہار فرمایا ،اس سفر میں فاضل جامعہ جدید وجامعہ الیاسیہ گوجرانوالہ کے مہتمم مولانا محمود صادق صاحب اور نعت خواں فیصل بلال حسان صاحب شریک ِسفر تھے۔
٢٣ اگست بروز ہفتہ بعد نمازِ عصر جناب اسلم غوری صاحب اور حافظ غضنفر عزیز صاحب تشریف لائے ، اس دوران مولانا اسعد محمود صاحب بھی تشریف لائے ،ان کے ساتھ حافظ نصیر احمد صاحب احرار ،محمد رضوان صاحب گورائیہ ، حافظ امیر حمزہ صاحب اور مولانا زاہد حسین صاحب بھی موجود تھے جملہ حضرات نے مولانا عکاشہ میاں صاحب سے ملاقات کی، بعدازاں مہتمم جامعہ مولانا عکاشہ میاں صاحب ،مولانا اسعد محمود صاحب کے ہمراہ جامعہ اشرفیہ کے مہتمم حضرت مولانا فضل رحیم صاحب مدظلہم کی عیادت کے لیے جامعہ اشرفیہ تشریف لے گئے جہاں مہمانوں کے اعزاز میں پُرتکلف عشائیہ دیا گیا ، بعد ازاں وحدت روڈپر قومی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت فرمائی اور کانفرنس میں شرکت کے بعد جامعہ مدنیہ جدید واپس تشریف لے آئے، والحمدللہ
اہم اعلان
٭٭٭
شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب نور اللہ مرقدہ کی شخصیت و خدمات پر انوار مدینہ کی ایک خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں معاصرین ، تلامذہ ، متعلقین ومحبین حضرات کے تاثرات بھی شامل ہوں گے ! جو حضرات اپنے مضامین و مقالات ، تاثرات ، تعزیتی پیغامات یا منظوم کلام ارسال فرمانا چاہیں ، جلد از جلد درج ذیل پتے ، ای میل یا واٹس ایپ نمبر پر ارسال فرما دیں
علاوہ ازیں اگر کسی کے پاس شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب کے ہاتھ کا لکھا ہوا مکتوب یا تحریر موجود ہو تو اسے بھی ارسال فرما دیں !
جو حضرات اپنے تاثرات زبانی بتانا چاہیں ، وہ اپنے نام ، پتے اور مکمل تعارف کے ساتھ درج ذیل نمبر پر صوتی پیغام (وائس میسج ) بھی ارسال فرما سکتے ہیں
اگر مضمون ، مقالہ ، مکتوب یا تاثرات کمپوز شدہ ہوں تو ان کی کمپیوٹر فائل بھی ای میل یا واٹس ایپ فرمادیں تو نوازش اور ادارے کے ساتھ دوہرا تعاون ہوگا
رابطہ : ڈاکٹر محمد امجدغفرلہ
خادم جامعہ مدنیہ جدید محمد آباد ١٩ کلومیٹر شارع رائیونڈ لاہور
jmj786_56@hotmail.com
dramjad71@gmail.com
923334249302+
٭٭٭
Email us your queries on jamiamadniajadeed@gmail.com you will be answered in less than 24 hours or Give us a call directly at +92 333 4249302, +92 333 4249 301.